John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Muminoon

Tafsir Ibn Kathir · The Believers · 118 ayat · ayat 61–90 · Quran text →

مؤمن کی تعریف فرمان ہے کہ احسان اور ایمان کے ساتھ ہی ساتھ نیک اعمال اور پھر اللہ کی ہیبت سے تھرتھرانا اور کانپتے رہنا یہ ان کی صفت ہے۔ یہ ان کی صفت ہے حسن ؒ فرماتے ہیں کہ مومن نیکی اور خوف الٰہی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ منافق برائی کے ساتھ نڈر اور بےخوف ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شرعی اور فطری آیات اور نشانیوں پر یقین رکھتے ہیں جیسے حضرت مریم (علیہا السلام) کا وصف بیان ہوا ہے کہ وہ اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کا یقین رکھتی تھیں اللہ کی قدرت قضا اور شرع کا انہیں کامل یقین تھا۔ اللہ کے ہر امر کو وہ محبوب رکھتے ہیں اللہ کے منع کردہ ہر کام کو وہ ناپسند رکھتے ہیں، ہر خبر کو وہ سچ مانتے ہیں وہ موحد ہوتے ہیں شرک سے بیزار رہتے ہیں، اللہ کو واحد اور بےنیاز جانتے ہیں اسے بےاولاد اور بیوی کے بغیر مانتے ہیں، بینظیر اور بےکفو سمجھتے ہیں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اللہ کے نام پر خیراتیں کرتے ہیں لیکن خوف زدہ رہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو قبول نہ ہوئی ہو۔ حضرت عائشہ ؓ نے حضور اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا یہ وہ لوگ ہیں جن سے زنا، چوری، اور شراب خواری ہوجاتی ہے ؟ لیکن ان کے دل میں خوف الٰہی ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اے صدیق کی لڑکی یہ نہیں بلکہ یہ وہ ہیں جو نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، صدقے کرتے ہیں، لیکن قبول نہ ہونے سے ڈرتے ہیں، یہی ہیں جو نیکیوں میں سبقت کرتے ہیں (ترمذی) اس آیت کی دوسری قرأت یاتون ما اتوا بھی ہے یعنی کرتے ہیں جو کرتے ہیں لیکن دل ان کے ڈرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کے پاس ابو عاصم گئے۔ آپ نے مرحبا کہا اور کہا برابر آتے کیوں نہیں ہو ؟ جواب دیا اس لئے کہ کہیں آپ کو تکلیف نہ ہو لیکن آج میں ایک آیت کے الفاظ کی تحقیق کے لئے حاضر ہوا ہوں آیت (وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ 60؀ۙ) 23۔ المؤمنون :60) ہیں ؟ آپ نے فرمایا کیا ہونا تمہارے لئے مناسب ہے میں نے کہا آخر کے الفاظ اگر ہوں تو گویا میں نے ساری دنیا پالی۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ خوشی مجھے ہوگی آپ نے فرمایا پھر تم خوش ہوجاؤ۔ واللہ میں نے اسی طرح انہی الفاظ کو پڑھتے ہوئے رسول ﷺ کو سنا ہے۔ اس کا ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ضعیف ہے۔ ساتوں مشہور قرأتوں اور جمہور کی قرأت میں وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے اور معنی کی رو سے بھی زیادہ ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ انہیں سابق قرار دیا ہے اور اگر دوسری قرأت کو لیں تو یہ سابق نہیں بلکہ ہیں واللہ اعلم۔

آسان شریعت اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہوگی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کردی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کررہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چناچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے کرتے جنت سے صرف ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے جو اس پر تقدیر کا لکھا غالب آجاتا اور بداعمالیاں شروع کردیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہنم واصل ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے آسودہ حال دولت مند لوگوں پر عذاب الٰہی آپڑتا ہے تو اب وہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ سورة مزمل میں فرمان ہے کہ مجھے اور ان مالدار جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجئے انہیں کچھ مہلت اور دیجئے ہمارے پاس بیڑیاں بھی ہیں اور جہنم بھی ہے اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے اور دردناک سزا ہے۔ اور آیت میں ہے (كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّلَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ) 38۔ ص :3) یعنی ہم نے ان سے پہلے اور بھی بہت سی بستیوں کو تباہ کردیا اس وقت انہوں نے واویلا شروع کی جب کہ وہ محض بےسود تھی۔ یہاں فرماتا ہے آج تم کیوں شور مچا رہے ہو ؟ کیوں فریاد کررہے ہو ؟ کوئی بھی تمہیں آج کام نہیں آسکتا تم پر عذاب الٰہی آپڑے اب چیخنا چلانا سب بےسود ہے۔ کون ہے ؟ جو میرے عذابوں کے مقالبے میں تمہاری مدد کرسکے ؟ پھر ان کا ایک بڑا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ یہ میری آیتوں کے منکر تھے انہیں سنتے تھے اور ٹال جاتے تھے، بلائے جاتے تھے لیکن انکار کردیتے تھے توحید کا انکار کرتے تھے شرک پر عقیدہ رکھتے تھے حک تو بلندوبرتر اللہ ہی کا چلتا ہے مستکبرین دال ہے ان کے حق سے ہٹنے اور حق کا انکار کرنے سے آیت ہے کہ یہ اس وقت تکبر کرتے تھے اور حق اور اہل حق کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس معنی کی رو سے بہ کے ضمیر کا مرجع یا تو حرم ہے یعنی مکہ کہ یہ اس میں بیہودہ بکواس بکتے تھے۔ یا قرآن ہے جسے یہ مذاق میں اڑاتے تھے کبھی شاعری کہتے تھے کبھی کہانت وغیرہ۔ یا خود آنحضرت ﷺ ہیں کہ راتوں کو بیکار بیٹھے ہوئے اپنی گپ شب میں حضور ﷺ کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن کہتے، کبھی جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا کہتے، کبھی مجنون بتلاتے۔ حالانکہ حرم اللہ کا گھر ہے قرآن اللہ کا کلام ہے حضور ﷺ اللہ کے رسول ہیں جہنیں اللہ نے اپنی مدد پہنچائی اور مکہ پر قابض کیا۔ ان مشرکین کو وہاں سے ذلیل وپست کرکے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے فخر کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں حالانکہ یہ خیال محض وہم تھا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ مشرکین قریش بیت اللہ پر فخر کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا مہتمم اور متولی بتلاتے تھے حالانکہ نہ اسے آباد کرتے تھے نہ اس کا صحیح ادب کرتے تھے امام ابن ابی حاتم ؒ نے یہاں پر بہت کچھ لکھا ہے حاصل سب کا یہی ہے۔

آسان شریعت اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہوگی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کردی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کررہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چناچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے کرتے جنت سے صرف ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے جو اس پر تقدیر کا لکھا غالب آجاتا اور بداعمالیاں شروع کردیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہنم واصل ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے آسودہ حال دولت مند لوگوں پر عذاب الٰہی آپڑتا ہے تو اب وہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ سورة مزمل میں فرمان ہے کہ مجھے اور ان مالدار جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجئے انہیں کچھ مہلت اور دیجئے ہمارے پاس بیڑیاں بھی ہیں اور جہنم بھی ہے اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے اور دردناک سزا ہے۔ اور آیت میں ہے (كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّلَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ) 38۔ ص :3) یعنی ہم نے ان سے پہلے اور بھی بہت سی بستیوں کو تباہ کردیا اس وقت انہوں نے واویلا شروع کی جب کہ وہ محض بےسود تھی۔ یہاں فرماتا ہے آج تم کیوں شور مچا رہے ہو ؟ کیوں فریاد کررہے ہو ؟ کوئی بھی تمہیں آج کام نہیں آسکتا تم پر عذاب الٰہی آپڑے اب چیخنا چلانا سب بےسود ہے۔ کون ہے ؟ جو میرے عذابوں کے مقالبے میں تمہاری مدد کرسکے ؟ پھر ان کا ایک بڑا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ یہ میری آیتوں کے منکر تھے انہیں سنتے تھے اور ٹال جاتے تھے، بلائے جاتے تھے لیکن انکار کردیتے تھے توحید کا انکار کرتے تھے شرک پر عقیدہ رکھتے تھے حک تو بلندوبرتر اللہ ہی کا چلتا ہے مستکبرین دال ہے ان کے حق سے ہٹنے اور حق کا انکار کرنے سے آیت ہے کہ یہ اس وقت تکبر کرتے تھے اور حق اور اہل حق کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس معنی کی رو سے بہ کے ضمیر کا مرجع یا تو حرم ہے یعنی مکہ کہ یہ اس میں بیہودہ بکواس بکتے تھے۔ یا قرآن ہے جسے یہ مذاق میں اڑاتے تھے کبھی شاعری کہتے تھے کبھی کہانت وغیرہ۔ یا خود آنحضرت ﷺ ہیں کہ راتوں کو بیکار بیٹھے ہوئے اپنی گپ شب میں حضور ﷺ کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن کہتے، کبھی جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا کہتے، کبھی مجنون بتلاتے۔ حالانکہ حرم اللہ کا گھر ہے قرآن اللہ کا کلام ہے حضور ﷺ اللہ کے رسول ہیں جہنیں اللہ نے اپنی مدد پہنچائی اور مکہ پر قابض کیا۔ ان مشرکین کو وہاں سے ذلیل وپست کرکے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے فخر کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں حالانکہ یہ خیال محض وہم تھا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ مشرکین قریش بیت اللہ پر فخر کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا مہتمم اور متولی بتلاتے تھے حالانکہ نہ اسے آباد کرتے تھے نہ اس کا صحیح ادب کرتے تھے امام ابن ابی حاتم ؒ نے یہاں پر بہت کچھ لکھا ہے حاصل سب کا یہی ہے۔

آسان شریعت اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہوگی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کردی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کررہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چناچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے کرتے جنت سے صرف ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے جو اس پر تقدیر کا لکھا غالب آجاتا اور بداعمالیاں شروع کردیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہنم واصل ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے آسودہ حال دولت مند لوگوں پر عذاب الٰہی آپڑتا ہے تو اب وہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ سورة مزمل میں فرمان ہے کہ مجھے اور ان مالدار جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجئے انہیں کچھ مہلت اور دیجئے ہمارے پاس بیڑیاں بھی ہیں اور جہنم بھی ہے اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے اور دردناک سزا ہے۔ اور آیت میں ہے (كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّلَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ) 38۔ ص :3) یعنی ہم نے ان سے پہلے اور بھی بہت سی بستیوں کو تباہ کردیا اس وقت انہوں نے واویلا شروع کی جب کہ وہ محض بےسود تھی۔ یہاں فرماتا ہے آج تم کیوں شور مچا رہے ہو ؟ کیوں فریاد کررہے ہو ؟ کوئی بھی تمہیں آج کام نہیں آسکتا تم پر عذاب الٰہی آپڑے اب چیخنا چلانا سب بےسود ہے۔ کون ہے ؟ جو میرے عذابوں کے مقالبے میں تمہاری مدد کرسکے ؟ پھر ان کا ایک بڑا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ یہ میری آیتوں کے منکر تھے انہیں سنتے تھے اور ٹال جاتے تھے، بلائے جاتے تھے لیکن انکار کردیتے تھے توحید کا انکار کرتے تھے شرک پر عقیدہ رکھتے تھے حک تو بلندوبرتر اللہ ہی کا چلتا ہے مستکبرین دال ہے ان کے حق سے ہٹنے اور حق کا انکار کرنے سے آیت ہے کہ یہ اس وقت تکبر کرتے تھے اور حق اور اہل حق کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس معنی کی رو سے بہ کے ضمیر کا مرجع یا تو حرم ہے یعنی مکہ کہ یہ اس میں بیہودہ بکواس بکتے تھے۔ یا قرآن ہے جسے یہ مذاق میں اڑاتے تھے کبھی شاعری کہتے تھے کبھی کہانت وغیرہ۔ یا خود آنحضرت ﷺ ہیں کہ راتوں کو بیکار بیٹھے ہوئے اپنی گپ شب میں حضور ﷺ کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن کہتے، کبھی جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا کہتے، کبھی مجنون بتلاتے۔ حالانکہ حرم اللہ کا گھر ہے قرآن اللہ کا کلام ہے حضور ﷺ اللہ کے رسول ہیں جہنیں اللہ نے اپنی مدد پہنچائی اور مکہ پر قابض کیا۔ ان مشرکین کو وہاں سے ذلیل وپست کرکے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے فخر کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں حالانکہ یہ خیال محض وہم تھا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ مشرکین قریش بیت اللہ پر فخر کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا مہتمم اور متولی بتلاتے تھے حالانکہ نہ اسے آباد کرتے تھے نہ اس کا صحیح ادب کرتے تھے امام ابن ابی حاتم ؒ نے یہاں پر بہت کچھ لکھا ہے حاصل سب کا یہی ہے۔

آسان شریعت اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہوگی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کردی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کررہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چناچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے کرتے جنت سے صرف ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے جو اس پر تقدیر کا لکھا غالب آجاتا اور بداعمالیاں شروع کردیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہنم واصل ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے آسودہ حال دولت مند لوگوں پر عذاب الٰہی آپڑتا ہے تو اب وہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ سورة مزمل میں فرمان ہے کہ مجھے اور ان مالدار جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجئے انہیں کچھ مہلت اور دیجئے ہمارے پاس بیڑیاں بھی ہیں اور جہنم بھی ہے اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے اور دردناک سزا ہے۔ اور آیت میں ہے (كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّلَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ) 38۔ ص :3) یعنی ہم نے ان سے پہلے اور بھی بہت سی بستیوں کو تباہ کردیا اس وقت انہوں نے واویلا شروع کی جب کہ وہ محض بےسود تھی۔ یہاں فرماتا ہے آج تم کیوں شور مچا رہے ہو ؟ کیوں فریاد کررہے ہو ؟ کوئی بھی تمہیں آج کام نہیں آسکتا تم پر عذاب الٰہی آپڑے اب چیخنا چلانا سب بےسود ہے۔ کون ہے ؟ جو میرے عذابوں کے مقالبے میں تمہاری مدد کرسکے ؟ پھر ان کا ایک بڑا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ یہ میری آیتوں کے منکر تھے انہیں سنتے تھے اور ٹال جاتے تھے، بلائے جاتے تھے لیکن انکار کردیتے تھے توحید کا انکار کرتے تھے شرک پر عقیدہ رکھتے تھے حک تو بلندوبرتر اللہ ہی کا چلتا ہے مستکبرین دال ہے ان کے حق سے ہٹنے اور حق کا انکار کرنے سے آیت ہے کہ یہ اس وقت تکبر کرتے تھے اور حق اور اہل حق کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس معنی کی رو سے بہ کے ضمیر کا مرجع یا تو حرم ہے یعنی مکہ کہ یہ اس میں بیہودہ بکواس بکتے تھے۔ یا قرآن ہے جسے یہ مذاق میں اڑاتے تھے کبھی شاعری کہتے تھے کبھی کہانت وغیرہ۔ یا خود آنحضرت ﷺ ہیں کہ راتوں کو بیکار بیٹھے ہوئے اپنی گپ شب میں حضور ﷺ کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن کہتے، کبھی جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا کہتے، کبھی مجنون بتلاتے۔ حالانکہ حرم اللہ کا گھر ہے قرآن اللہ کا کلام ہے حضور ﷺ اللہ کے رسول ہیں جہنیں اللہ نے اپنی مدد پہنچائی اور مکہ پر قابض کیا۔ ان مشرکین کو وہاں سے ذلیل وپست کرکے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے فخر کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں حالانکہ یہ خیال محض وہم تھا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ مشرکین قریش بیت اللہ پر فخر کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا مہتمم اور متولی بتلاتے تھے حالانکہ نہ اسے آباد کرتے تھے نہ اس کا صحیح ادب کرتے تھے امام ابن ابی حاتم ؒ نے یہاں پر بہت کچھ لکھا ہے حاصل سب کا یہی ہے۔

آسان شریعت اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہوگی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کردی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کررہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چناچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے کرتے جنت سے صرف ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے جو اس پر تقدیر کا لکھا غالب آجاتا اور بداعمالیاں شروع کردیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہنم واصل ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے آسودہ حال دولت مند لوگوں پر عذاب الٰہی آپڑتا ہے تو اب وہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ سورة مزمل میں فرمان ہے کہ مجھے اور ان مالدار جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجئے انہیں کچھ مہلت اور دیجئے ہمارے پاس بیڑیاں بھی ہیں اور جہنم بھی ہے اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے اور دردناک سزا ہے۔ اور آیت میں ہے (كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّلَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ) 38۔ ص :3) یعنی ہم نے ان سے پہلے اور بھی بہت سی بستیوں کو تباہ کردیا اس وقت انہوں نے واویلا شروع کی جب کہ وہ محض بےسود تھی۔ یہاں فرماتا ہے آج تم کیوں شور مچا رہے ہو ؟ کیوں فریاد کررہے ہو ؟ کوئی بھی تمہیں آج کام نہیں آسکتا تم پر عذاب الٰہی آپڑے اب چیخنا چلانا سب بےسود ہے۔ کون ہے ؟ جو میرے عذابوں کے مقالبے میں تمہاری مدد کرسکے ؟ پھر ان کا ایک بڑا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ یہ میری آیتوں کے منکر تھے انہیں سنتے تھے اور ٹال جاتے تھے، بلائے جاتے تھے لیکن انکار کردیتے تھے توحید کا انکار کرتے تھے شرک پر عقیدہ رکھتے تھے حک تو بلندوبرتر اللہ ہی کا چلتا ہے مستکبرین دال ہے ان کے حق سے ہٹنے اور حق کا انکار کرنے سے آیت ہے کہ یہ اس وقت تکبر کرتے تھے اور حق اور اہل حق کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس معنی کی رو سے بہ کے ضمیر کا مرجع یا تو حرم ہے یعنی مکہ کہ یہ اس میں بیہودہ بکواس بکتے تھے۔ یا قرآن ہے جسے یہ مذاق میں اڑاتے تھے کبھی شاعری کہتے تھے کبھی کہانت وغیرہ۔ یا خود آنحضرت ﷺ ہیں کہ راتوں کو بیکار بیٹھے ہوئے اپنی گپ شب میں حضور ﷺ کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن کہتے، کبھی جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا کہتے، کبھی مجنون بتلاتے۔ حالانکہ حرم اللہ کا گھر ہے قرآن اللہ کا کلام ہے حضور ﷺ اللہ کے رسول ہیں جہنیں اللہ نے اپنی مدد پہنچائی اور مکہ پر قابض کیا۔ ان مشرکین کو وہاں سے ذلیل وپست کرکے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے فخر کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں حالانکہ یہ خیال محض وہم تھا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ مشرکین قریش بیت اللہ پر فخر کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا مہتمم اور متولی بتلاتے تھے حالانکہ نہ اسے آباد کرتے تھے نہ اس کا صحیح ادب کرتے تھے امام ابن ابی حاتم ؒ نے یہاں پر بہت کچھ لکھا ہے حاصل سب کا یہی ہے۔

آسان شریعت اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہوگی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کردی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کررہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چناچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے کرتے جنت سے صرف ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے جو اس پر تقدیر کا لکھا غالب آجاتا اور بداعمالیاں شروع کردیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہنم واصل ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے آسودہ حال دولت مند لوگوں پر عذاب الٰہی آپڑتا ہے تو اب وہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ سورة مزمل میں فرمان ہے کہ مجھے اور ان مالدار جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجئے انہیں کچھ مہلت اور دیجئے ہمارے پاس بیڑیاں بھی ہیں اور جہنم بھی ہے اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے اور دردناک سزا ہے۔ اور آیت میں ہے (كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّلَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ) 38۔ ص :3) یعنی ہم نے ان سے پہلے اور بھی بہت سی بستیوں کو تباہ کردیا اس وقت انہوں نے واویلا شروع کی جب کہ وہ محض بےسود تھی۔ یہاں فرماتا ہے آج تم کیوں شور مچا رہے ہو ؟ کیوں فریاد کررہے ہو ؟ کوئی بھی تمہیں آج کام نہیں آسکتا تم پر عذاب الٰہی آپڑے اب چیخنا چلانا سب بےسود ہے۔ کون ہے ؟ جو میرے عذابوں کے مقالبے میں تمہاری مدد کرسکے ؟ پھر ان کا ایک بڑا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ یہ میری آیتوں کے منکر تھے انہیں سنتے تھے اور ٹال جاتے تھے، بلائے جاتے تھے لیکن انکار کردیتے تھے توحید کا انکار کرتے تھے شرک پر عقیدہ رکھتے تھے حک تو بلندوبرتر اللہ ہی کا چلتا ہے مستکبرین دال ہے ان کے حق سے ہٹنے اور حق کا انکار کرنے سے آیت ہے کہ یہ اس وقت تکبر کرتے تھے اور حق اور اہل حق کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس معنی کی رو سے بہ کے ضمیر کا مرجع یا تو حرم ہے یعنی مکہ کہ یہ اس میں بیہودہ بکواس بکتے تھے۔ یا قرآن ہے جسے یہ مذاق میں اڑاتے تھے کبھی شاعری کہتے تھے کبھی کہانت وغیرہ۔ یا خود آنحضرت ﷺ ہیں کہ راتوں کو بیکار بیٹھے ہوئے اپنی گپ شب میں حضور ﷺ کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن کہتے، کبھی جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا کہتے، کبھی مجنون بتلاتے۔ حالانکہ حرم اللہ کا گھر ہے قرآن اللہ کا کلام ہے حضور ﷺ اللہ کے رسول ہیں جہنیں اللہ نے اپنی مدد پہنچائی اور مکہ پر قابض کیا۔ ان مشرکین کو وہاں سے ذلیل وپست کرکے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے فخر کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں حالانکہ یہ خیال محض وہم تھا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ مشرکین قریش بیت اللہ پر فخر کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا مہتمم اور متولی بتلاتے تھے حالانکہ نہ اسے آباد کرتے تھے نہ اس کا صحیح ادب کرتے تھے امام ابن ابی حاتم ؒ نے یہاں پر بہت کچھ لکھا ہے حاصل سب کا یہی ہے۔

قرآن کریم سے فرار اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کررہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہے تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہوگئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کردیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہوگئے۔ کیا یہ لوگ محمد ﷺ کو جانتے نہیں ؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں ؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے ؟ دوغلے ہو رہے تھے۔ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے شاہ حبش نجاشی ؒ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابو سفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آگئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقالبے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبریہ مستانفعہ، واللہ اعلم۔ مذکور ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہوجا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص حضور ﷺ کو راستے میں ملا آپ نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ برا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا آپ نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیرآباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلوگے یا نہیں ؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔ مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتاتو ؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کروگے اس نے کہا سچے امین سے فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی ؒ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنادیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لئے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے حضور ﷺ کو حکم ہوا کہ اعلان کردو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورة یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے مسند امام احمد میں ہے حضور ﷺ سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہوگا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آرہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچادوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بےروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہوگئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہوگئی اور انھوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہا ہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی با ہوں میں سمیٹ کر تمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو ؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں ؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرسامان ہوں۔ وہاں تم اکا دکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤگے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کرلیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کرلے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں ؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لئے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہوگی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہوگا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہوگا جو اونٹ کو لئے ہوئے آئے گا جو بلبلا رہا ہوگا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد ﷺ اے محمد ﷺ ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لئے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہوگا جو ہنہنا رہا ہوگا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد ﷺ یامحمد ﷺ ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ امام علی بن مدینی ؒ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے توحسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔ آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں نکب فلان عن الطریق۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفر وعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہوگا تو کس طرح ہوگا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لئے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ تو جہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہوجاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹا بھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہوگی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو ؟ اسے اللہ جانتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔

قرآن کریم سے فرار اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کررہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہے تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہوگئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کردیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہوگئے۔ کیا یہ لوگ محمد ﷺ کو جانتے نہیں ؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں ؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے ؟ دوغلے ہو رہے تھے۔ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے شاہ حبش نجاشی ؒ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابو سفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آگئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقالبے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبریہ مستانفعہ، واللہ اعلم۔ مذکور ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہوجا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص حضور ﷺ کو راستے میں ملا آپ نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ برا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا آپ نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیرآباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلوگے یا نہیں ؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔ مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتاتو ؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کروگے اس نے کہا سچے امین سے فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی ؒ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنادیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لئے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے حضور ﷺ کو حکم ہوا کہ اعلان کردو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورة یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے مسند امام احمد میں ہے حضور ﷺ سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہوگا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آرہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچادوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بےروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہوگئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہوگئی اور انھوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہا ہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی با ہوں میں سمیٹ کر تمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو ؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں ؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرسامان ہوں۔ وہاں تم اکا دکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤگے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کرلیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کرلے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں ؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لئے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہوگی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہوگا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہوگا جو اونٹ کو لئے ہوئے آئے گا جو بلبلا رہا ہوگا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد ﷺ اے محمد ﷺ ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لئے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہوگا جو ہنہنا رہا ہوگا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد ﷺ یامحمد ﷺ ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ امام علی بن مدینی ؒ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے توحسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔ آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں نکب فلان عن الطریق۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفر وعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہوگا تو کس طرح ہوگا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لئے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ تو جہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہوجاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹا بھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہوگی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو ؟ اسے اللہ جانتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔

قرآن کریم سے فرار اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کررہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہے تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہوگئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کردیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہوگئے۔ کیا یہ لوگ محمد ﷺ کو جانتے نہیں ؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں ؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے ؟ دوغلے ہو رہے تھے۔ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے شاہ حبش نجاشی ؒ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابو سفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آگئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقالبے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبریہ مستانفعہ، واللہ اعلم۔ مذکور ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہوجا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص حضور ﷺ کو راستے میں ملا آپ نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ برا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا آپ نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیرآباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلوگے یا نہیں ؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔ مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتاتو ؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کروگے اس نے کہا سچے امین سے فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی ؒ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنادیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لئے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے حضور ﷺ کو حکم ہوا کہ اعلان کردو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورة یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے مسند امام احمد میں ہے حضور ﷺ سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہوگا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آرہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچادوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بےروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہوگئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہوگئی اور انھوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہا ہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی با ہوں میں سمیٹ کر تمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو ؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں ؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرسامان ہوں۔ وہاں تم اکا دکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤگے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کرلیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کرلے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں ؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لئے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہوگی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہوگا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہوگا جو اونٹ کو لئے ہوئے آئے گا جو بلبلا رہا ہوگا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد ﷺ اے محمد ﷺ ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لئے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہوگا جو ہنہنا رہا ہوگا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد ﷺ یامحمد ﷺ ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ امام علی بن مدینی ؒ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے توحسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔ آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں نکب فلان عن الطریق۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفر وعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہوگا تو کس طرح ہوگا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لئے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ تو جہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہوجاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹا بھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہوگی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو ؟ اسے اللہ جانتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔

قرآن کریم سے فرار اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کررہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہے تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہوگئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کردیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہوگئے۔ کیا یہ لوگ محمد ﷺ کو جانتے نہیں ؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں ؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے ؟ دوغلے ہو رہے تھے۔ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے شاہ حبش نجاشی ؒ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابو سفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آگئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقالبے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبریہ مستانفعہ، واللہ اعلم۔ مذکور ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہوجا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص حضور ﷺ کو راستے میں ملا آپ نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ برا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا آپ نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیرآباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلوگے یا نہیں ؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔ مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتاتو ؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کروگے اس نے کہا سچے امین سے فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی ؒ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنادیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لئے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے حضور ﷺ کو حکم ہوا کہ اعلان کردو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورة یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے مسند امام احمد میں ہے حضور ﷺ سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہوگا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آرہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچادوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بےروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہوگئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہوگئی اور انھوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہا ہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی با ہوں میں سمیٹ کر تمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو ؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں ؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرسامان ہوں۔ وہاں تم اکا دکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤگے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کرلیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کرلے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں ؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لئے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہوگی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہوگا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہوگا جو اونٹ کو لئے ہوئے آئے گا جو بلبلا رہا ہوگا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد ﷺ اے محمد ﷺ ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لئے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہوگا جو ہنہنا رہا ہوگا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد ﷺ یامحمد ﷺ ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ امام علی بن مدینی ؒ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے توحسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔ آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں نکب فلان عن الطریق۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفر وعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہوگا تو کس طرح ہوگا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لئے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ تو جہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہوجاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹا بھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہوگی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو ؟ اسے اللہ جانتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔

قرآن کریم سے فرار اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کررہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہے تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہوگئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کردیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہوگئے۔ کیا یہ لوگ محمد ﷺ کو جانتے نہیں ؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں ؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے ؟ دوغلے ہو رہے تھے۔ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے شاہ حبش نجاشی ؒ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابو سفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آگئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقالبے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبریہ مستانفعہ، واللہ اعلم۔ مذکور ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہوجا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص حضور ﷺ کو راستے میں ملا آپ نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ برا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا آپ نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیرآباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلوگے یا نہیں ؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔ مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتاتو ؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کروگے اس نے کہا سچے امین سے فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی ؒ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنادیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لئے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے حضور ﷺ کو حکم ہوا کہ اعلان کردو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورة یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے مسند امام احمد میں ہے حضور ﷺ سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہوگا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آرہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچادوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بےروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہوگئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہوگئی اور انھوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہا ہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی با ہوں میں سمیٹ کر تمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو ؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں ؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرسامان ہوں۔ وہاں تم اکا دکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤگے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کرلیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کرلے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں ؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لئے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہوگی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہوگا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہوگا جو اونٹ کو لئے ہوئے آئے گا جو بلبلا رہا ہوگا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد ﷺ اے محمد ﷺ ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لئے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہوگا جو ہنہنا رہا ہوگا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد ﷺ یامحمد ﷺ ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ امام علی بن مدینی ؒ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے توحسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔ آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں نکب فلان عن الطریق۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفر وعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہوگا تو کس طرح ہوگا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لئے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ تو جہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہوجاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹا بھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہوگی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو ؟ اسے اللہ جانتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔

قرآن کریم سے فرار اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کررہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہے تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہوگئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کردیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہوگئے۔ کیا یہ لوگ محمد ﷺ کو جانتے نہیں ؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں ؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے ؟ دوغلے ہو رہے تھے۔ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے شاہ حبش نجاشی ؒ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابو سفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آگئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقالبے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبریہ مستانفعہ، واللہ اعلم۔ مذکور ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہوجا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص حضور ﷺ کو راستے میں ملا آپ نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ برا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا آپ نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیرآباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلوگے یا نہیں ؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔ مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتاتو ؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کروگے اس نے کہا سچے امین سے فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی ؒ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنادیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لئے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے حضور ﷺ کو حکم ہوا کہ اعلان کردو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورة یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے مسند امام احمد میں ہے حضور ﷺ سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہوگا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آرہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچادوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بےروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہوگئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہوگئی اور انھوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہا ہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی با ہوں میں سمیٹ کر تمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو ؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں ؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرسامان ہوں۔ وہاں تم اکا دکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤگے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کرلیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کرلے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں ؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لئے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہوگی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہوگا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہوگا جو اونٹ کو لئے ہوئے آئے گا جو بلبلا رہا ہوگا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد ﷺ اے محمد ﷺ ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لئے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہوگا جو ہنہنا رہا ہوگا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد ﷺ یامحمد ﷺ ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ امام علی بن مدینی ؒ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے توحسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔ آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں نکب فلان عن الطریق۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفر وعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہوگا تو کس طرح ہوگا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لئے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ تو جہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہوجاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹا بھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہوگی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو ؟ اسے اللہ جانتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔

قرآن کریم سے فرار اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کررہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہے تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہوگئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کردیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہوگئے۔ کیا یہ لوگ محمد ﷺ کو جانتے نہیں ؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں ؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے ؟ دوغلے ہو رہے تھے۔ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے شاہ حبش نجاشی ؒ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابو سفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آگئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقالبے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبریہ مستانفعہ، واللہ اعلم۔ مذکور ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہوجا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص حضور ﷺ کو راستے میں ملا آپ نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ برا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا آپ نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیرآباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلوگے یا نہیں ؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔ مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتاتو ؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کروگے اس نے کہا سچے امین سے فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی ؒ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنادیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لئے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے حضور ﷺ کو حکم ہوا کہ اعلان کردو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورة یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے مسند امام احمد میں ہے حضور ﷺ سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہوگا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آرہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچادوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بےروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہوگئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہوگئی اور انھوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہا ہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی با ہوں میں سمیٹ کر تمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو ؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں ؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرسامان ہوں۔ وہاں تم اکا دکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤگے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کرلیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کرلے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں ؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لئے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہوگی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہوگا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہوگا جو اونٹ کو لئے ہوئے آئے گا جو بلبلا رہا ہوگا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد ﷺ اے محمد ﷺ ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لئے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہوگا جو ہنہنا رہا ہوگا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد ﷺ یامحمد ﷺ ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ امام علی بن مدینی ؒ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے توحسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔ آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں نکب فلان عن الطریق۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفر وعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہوگا تو کس طرح ہوگا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لئے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ تو جہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہوجاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹا بھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہوگی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو ؟ اسے اللہ جانتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔

قرآن کریم سے فرار اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کررہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہے تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہوگئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کردیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہوگئے۔ کیا یہ لوگ محمد ﷺ کو جانتے نہیں ؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں ؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے ؟ دوغلے ہو رہے تھے۔ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے شاہ حبش نجاشی ؒ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابو سفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آگئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقالبے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبریہ مستانفعہ، واللہ اعلم۔ مذکور ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہوجا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص حضور ﷺ کو راستے میں ملا آپ نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ برا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا آپ نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیرآباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلوگے یا نہیں ؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔ مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتاتو ؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کروگے اس نے کہا سچے امین سے فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی ؒ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنادیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لئے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے حضور ﷺ کو حکم ہوا کہ اعلان کردو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورة یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے مسند امام احمد میں ہے حضور ﷺ سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہوگا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آرہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچادوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بےروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہوگئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہوگئی اور انھوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہا ہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی با ہوں میں سمیٹ کر تمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو ؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں ؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرسامان ہوں۔ وہاں تم اکا دکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤگے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کرلیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کرلے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں ؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لئے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہوگی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہوگا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہوگا جو اونٹ کو لئے ہوئے آئے گا جو بلبلا رہا ہوگا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد ﷺ اے محمد ﷺ ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لئے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہوگا جو ہنہنا رہا ہوگا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد ﷺ یامحمد ﷺ ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ امام علی بن مدینی ؒ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے توحسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔ آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں نکب فلان عن الطریق۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفر وعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہوگا تو کس طرح ہوگا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لئے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ تو جہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہوجاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹا بھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہوگی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو ؟ اسے اللہ جانتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 43؀) 6۔ الانعام :43) ہمارا عذاب دیکھ کر یہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے ؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر حضور ﷺ کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابو سفیان رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تھے اور آپ کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ (نسائی) بخاری ومسلم میں ہے کہ قریش کی شرارتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ ﷺ نے بدعا کی تھی کہ جیسے حضرت یوسف ؑ کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت وہب بن منبہ ؒ کو قید کردیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ کو جی بہلانے کے لئے اشعار سناؤں ؟ تو آپ نے فرمایا " اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں " پھر آپ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے ؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آپہنچا اچانک وقت آگیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہوگئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور وفکر کرسکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گوحرص کر لیکن ان میں سے اکثر بےایمان ہیں پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کرکے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں ؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو ؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گذشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گذشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہوجانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے ؟ جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہوجائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کر ایک میدان میں ہمارے سامنے آجائے گی۔ سورة یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے۔ کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسر گیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا ؟ اے نبی ﷺ تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہر چیز کی پیدائش کا عالم ہے۔

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 43؀) 6۔ الانعام :43) ہمارا عذاب دیکھ کر یہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے ؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر حضور ﷺ کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابو سفیان رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تھے اور آپ کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ (نسائی) بخاری ومسلم میں ہے کہ قریش کی شرارتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ ﷺ نے بدعا کی تھی کہ جیسے حضرت یوسف ؑ کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت وہب بن منبہ ؒ کو قید کردیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ کو جی بہلانے کے لئے اشعار سناؤں ؟ تو آپ نے فرمایا " اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں " پھر آپ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے ؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آپہنچا اچانک وقت آگیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہوگئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور وفکر کرسکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گوحرص کر لیکن ان میں سے اکثر بےایمان ہیں پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کرکے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں ؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو ؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گذشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گذشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہوجانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے ؟ جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہوجائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کر ایک میدان میں ہمارے سامنے آجائے گی۔ سورة یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے۔ کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسر گیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا ؟ اے نبی ﷺ تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہر چیز کی پیدائش کا عالم ہے۔

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 43؀) 6۔ الانعام :43) ہمارا عذاب دیکھ کر یہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے ؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر حضور ﷺ کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابو سفیان رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تھے اور آپ کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ (نسائی) بخاری ومسلم میں ہے کہ قریش کی شرارتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ ﷺ نے بدعا کی تھی کہ جیسے حضرت یوسف ؑ کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت وہب بن منبہ ؒ کو قید کردیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ کو جی بہلانے کے لئے اشعار سناؤں ؟ تو آپ نے فرمایا " اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں " پھر آپ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے ؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آپہنچا اچانک وقت آگیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہوگئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور وفکر کرسکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گوحرص کر لیکن ان میں سے اکثر بےایمان ہیں پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کرکے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں ؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو ؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گذشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گذشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہوجانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے ؟ جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہوجائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کر ایک میدان میں ہمارے سامنے آجائے گی۔ سورة یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے۔ کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسر گیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا ؟ اے نبی ﷺ تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہر چیز کی پیدائش کا عالم ہے۔

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 43؀) 6۔ الانعام :43) ہمارا عذاب دیکھ کر یہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے ؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر حضور ﷺ کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابو سفیان رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تھے اور آپ کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ (نسائی) بخاری ومسلم میں ہے کہ قریش کی شرارتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ ﷺ نے بدعا کی تھی کہ جیسے حضرت یوسف ؑ کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت وہب بن منبہ ؒ کو قید کردیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ کو جی بہلانے کے لئے اشعار سناؤں ؟ تو آپ نے فرمایا " اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں " پھر آپ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے ؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آپہنچا اچانک وقت آگیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہوگئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور وفکر کرسکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گوحرص کر لیکن ان میں سے اکثر بےایمان ہیں پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کرکے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں ؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو ؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گذشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گذشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہوجانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے ؟ جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہوجائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کر ایک میدان میں ہمارے سامنے آجائے گی۔ سورة یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے۔ کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسر گیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا ؟ اے نبی ﷺ تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہر چیز کی پیدائش کا عالم ہے۔

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 43؀) 6۔ الانعام :43) ہمارا عذاب دیکھ کر یہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے ؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر حضور ﷺ کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابو سفیان رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تھے اور آپ کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ (نسائی) بخاری ومسلم میں ہے کہ قریش کی شرارتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ ﷺ نے بدعا کی تھی کہ جیسے حضرت یوسف ؑ کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت وہب بن منبہ ؒ کو قید کردیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ کو جی بہلانے کے لئے اشعار سناؤں ؟ تو آپ نے فرمایا " اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں " پھر آپ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے ؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آپہنچا اچانک وقت آگیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہوگئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور وفکر کرسکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گوحرص کر لیکن ان میں سے اکثر بےایمان ہیں پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کرکے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں ؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو ؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گذشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گذشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہوجانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے ؟ جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہوجائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کر ایک میدان میں ہمارے سامنے آجائے گی۔ سورة یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے۔ کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسر گیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا ؟ اے نبی ﷺ تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہر چیز کی پیدائش کا عالم ہے۔

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 43؀) 6۔ الانعام :43) ہمارا عذاب دیکھ کر یہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے ؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر حضور ﷺ کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابو سفیان رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تھے اور آپ کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ (نسائی) بخاری ومسلم میں ہے کہ قریش کی شرارتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ ﷺ نے بدعا کی تھی کہ جیسے حضرت یوسف ؑ کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت وہب بن منبہ ؒ کو قید کردیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ کو جی بہلانے کے لئے اشعار سناؤں ؟ تو آپ نے فرمایا " اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں " پھر آپ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے ؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آپہنچا اچانک وقت آگیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہوگئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور وفکر کرسکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گوحرص کر لیکن ان میں سے اکثر بےایمان ہیں پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کرکے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں ؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو ؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گذشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گذشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہوجانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے ؟ جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہوجائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کر ایک میدان میں ہمارے سامنے آجائے گی۔ سورة یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے۔ کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسر گیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا ؟ اے نبی ﷺ تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہر چیز کی پیدائش کا عالم ہے۔

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 43؀) 6۔ الانعام :43) ہمارا عذاب دیکھ کر یہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے ؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر حضور ﷺ کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابو سفیان رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تھے اور آپ کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ (نسائی) بخاری ومسلم میں ہے کہ قریش کی شرارتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ ﷺ نے بدعا کی تھی کہ جیسے حضرت یوسف ؑ کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت وہب بن منبہ ؒ کو قید کردیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ کو جی بہلانے کے لئے اشعار سناؤں ؟ تو آپ نے فرمایا " اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں " پھر آپ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے ؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آپہنچا اچانک وقت آگیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہوگئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور وفکر کرسکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گوحرص کر لیکن ان میں سے اکثر بےایمان ہیں پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کرکے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں ؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو ؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گذشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گذشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہوجانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے ؟ جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہوجائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کر ایک میدان میں ہمارے سامنے آجائے گی۔ سورة یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے۔ کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسر گیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا ؟ اے نبی ﷺ تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہر چیز کی پیدائش کا عالم ہے۔

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 43؀) 6۔ الانعام :43) ہمارا عذاب دیکھ کر یہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے ؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر حضور ﷺ کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابو سفیان رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تھے اور آپ کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ (نسائی) بخاری ومسلم میں ہے کہ قریش کی شرارتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ ﷺ نے بدعا کی تھی کہ جیسے حضرت یوسف ؑ کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت وہب بن منبہ ؒ کو قید کردیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ کو جی بہلانے کے لئے اشعار سناؤں ؟ تو آپ نے فرمایا " اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں " پھر آپ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے ؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آپہنچا اچانک وقت آگیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہوگئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور وفکر کرسکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گوحرص کر لیکن ان میں سے اکثر بےایمان ہیں پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کرکے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں ؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو ؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گذشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گذشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہوجانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے ؟ جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہوجائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کر ایک میدان میں ہمارے سامنے آجائے گی۔ سورة یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے۔ کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسر گیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا ؟ اے نبی ﷺ تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہر چیز کی پیدائش کا عالم ہے۔

اللہ تعالیٰ ہی معبود واحد ہے اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہیں کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو ؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے ؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنادیں گے۔ پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے ؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق ورازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند وبالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے ؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے ؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا " (ابوداؤد) ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ کعب احبار سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔ مجاہد ؒ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو ابن عباس ؓ فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کرسکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ وبالا ہے اسی لئے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ ابن مسعود ؓ کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے ؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کررہے ہو۔ کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عموما اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ " جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا ؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سماگئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کردی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، واللہ اعلم۔ دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہر چیز کا مختار کون ہے ؟ حضور ﷺ کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے ؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید ومالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے ؟ عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دے دے تو سارا قبیلہ اس کا پابند ہے لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کرلے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کرسکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بےمثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لا چار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے ؟ ایسا کونسا جادو تم پر ہوگیا ہے ؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو ؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کرچکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کردی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کردیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر وباہر ہے جسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہی معبود واحد ہے اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہیں کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو ؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے ؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنادیں گے۔ پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے ؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق ورازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند وبالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے ؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے ؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا " (ابوداؤد) ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ کعب احبار سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔ مجاہد ؒ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو ابن عباس ؓ فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کرسکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ وبالا ہے اسی لئے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ ابن مسعود ؓ کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے ؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کررہے ہو۔ کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عموما اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ " جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا ؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سماگئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کردی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، واللہ اعلم۔ دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہر چیز کا مختار کون ہے ؟ حضور ﷺ کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے ؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید ومالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے ؟ عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دے دے تو سارا قبیلہ اس کا پابند ہے لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کرلے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کرسکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بےمثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لا چار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے ؟ ایسا کونسا جادو تم پر ہوگیا ہے ؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو ؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کرچکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کردی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کردیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر وباہر ہے جسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہی معبود واحد ہے اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہیں کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو ؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے ؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنادیں گے۔ پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے ؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق ورازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند وبالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے ؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے ؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا " (ابوداؤد) ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ کعب احبار سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔ مجاہد ؒ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو ابن عباس ؓ فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کرسکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ وبالا ہے اسی لئے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ ابن مسعود ؓ کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے ؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کررہے ہو۔ کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عموما اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ " جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا ؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سماگئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کردی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، واللہ اعلم۔ دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہر چیز کا مختار کون ہے ؟ حضور ﷺ کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے ؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید ومالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے ؟ عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دے دے تو سارا قبیلہ اس کا پابند ہے لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کرلے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کرسکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بےمثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لا چار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے ؟ ایسا کونسا جادو تم پر ہوگیا ہے ؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو ؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کرچکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کردی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کردیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر وباہر ہے جسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہی معبود واحد ہے اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہیں کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو ؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے ؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنادیں گے۔ پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے ؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق ورازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند وبالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے ؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے ؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا " (ابوداؤد) ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ کعب احبار سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔ مجاہد ؒ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو ابن عباس ؓ فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کرسکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ وبالا ہے اسی لئے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ ابن مسعود ؓ کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے ؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کررہے ہو۔ کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عموما اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ " جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا ؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سماگئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کردی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، واللہ اعلم۔ دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہر چیز کا مختار کون ہے ؟ حضور ﷺ کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے ؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید ومالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے ؟ عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دے دے تو سارا قبیلہ اس کا پابند ہے لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کرلے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کرسکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بےمثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لا چار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے ؟ ایسا کونسا جادو تم پر ہوگیا ہے ؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو ؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کرچکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کردی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کردیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر وباہر ہے جسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہی معبود واحد ہے اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہیں کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو ؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے ؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنادیں گے۔ پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے ؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق ورازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند وبالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے ؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے ؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا " (ابوداؤد) ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ کعب احبار سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔ مجاہد ؒ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو ابن عباس ؓ فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کرسکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ وبالا ہے اسی لئے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ ابن مسعود ؓ کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے ؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کررہے ہو۔ کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عموما اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ " جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا ؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سماگئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کردی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، واللہ اعلم۔ دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہر چیز کا مختار کون ہے ؟ حضور ﷺ کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے ؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید ومالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے ؟ عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دے دے تو سارا قبیلہ اس کا پابند ہے لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کرلے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کرسکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بےمثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لا چار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے ؟ ایسا کونسا جادو تم پر ہوگیا ہے ؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو ؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کرچکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کردی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کردیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر وباہر ہے جسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہی معبود واحد ہے اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہیں کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو ؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے ؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنادیں گے۔ پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے ؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق ورازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند وبالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے ؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے ؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا " (ابوداؤد) ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ کعب احبار سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔ مجاہد ؒ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو ابن عباس ؓ فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کرسکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ وبالا ہے اسی لئے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ ابن مسعود ؓ کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے ؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کررہے ہو۔ کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عموما اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ " جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا ؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سماگئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کردی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، واللہ اعلم۔ دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہر چیز کا مختار کون ہے ؟ حضور ﷺ کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے ؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید ومالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے ؟ عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دے دے تو سارا قبیلہ اس کا پابند ہے لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کرلے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کرسکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بےمثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لا چار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے ؟ ایسا کونسا جادو تم پر ہوگیا ہے ؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو ؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کرچکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کردی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کردیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر وباہر ہے جسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہی معبود واحد ہے اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہیں کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو ؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے ؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنادیں گے۔ پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے ؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق ورازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند وبالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے ؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے ؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا " (ابوداؤد) ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ کعب احبار سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔ مجاہد ؒ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو ابن عباس ؓ فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کرسکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ وبالا ہے اسی لئے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ ابن مسعود ؓ کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے ؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کررہے ہو۔ کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عموما اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ " جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا ؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سماگئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کردی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، واللہ اعلم۔ دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہر چیز کا مختار کون ہے ؟ حضور ﷺ کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے ؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید ومالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے ؟ عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دے دے تو سارا قبیلہ اس کا پابند ہے لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کرلے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کرسکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بےمثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لا چار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے ؟ ایسا کونسا جادو تم پر ہوگیا ہے ؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو ؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کرچکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کردی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کردیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر وباہر ہے جسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com