Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Ankaboot
Tafsir Ibn Kathir · The Spider · 69 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
فرشتوں کی آمد حضرت لوط ؑ کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم ؑ کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آجائیں۔ اس لئے آپ فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی ؑ ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہوگی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورتوں میں یہ حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط شش وپنج میں پڑگئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آجائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لئے ناخوش اور سنجیدہ ہوگئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کردی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لئے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا جائے گا۔ پھر حضرت جبرائیل ؑ نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کرکے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
فرشتوں کی آمد حضرت لوط ؑ کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم ؑ کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آجائیں۔ اس لئے آپ فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی ؑ ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہوگی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورتوں میں یہ حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط شش وپنج میں پڑگئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آجائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لئے ناخوش اور سنجیدہ ہوگئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کردی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لئے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا جائے گا۔ پھر حضرت جبرائیل ؑ نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کرکے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
فرشتوں کی آمد حضرت لوط ؑ کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم ؑ کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آجائیں۔ اس لئے آپ فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی ؑ ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہوگی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورتوں میں یہ حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط شش وپنج میں پڑگئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آجائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لئے ناخوش اور سنجیدہ ہوگئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کردی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لئے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا جائے گا۔ پھر حضرت جبرائیل ؑ نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کرکے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
فرشتوں کی آمد حضرت لوط ؑ کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم ؑ کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آجائیں۔ اس لئے آپ فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی ؑ ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہوگی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورتوں میں یہ حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط شش وپنج میں پڑگئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آجائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لئے ناخوش اور سنجیدہ ہوگئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کردی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لئے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا جائے گا۔ پھر حضرت جبرائیل ؑ نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کرکے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
فرشتوں کی آمد حضرت لوط ؑ کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم ؑ کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آجائیں۔ اس لئے آپ فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی ؑ ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہوگی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورتوں میں یہ حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط شش وپنج میں پڑگئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آجائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لئے ناخوش اور سنجیدہ ہوگئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کردی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لئے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا جائے گا۔ پھر حضرت جبرائیل ؑ نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کرکے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
فساد نہ کرو اللہ کے بندے اور اس کے سچے رسول حضرت شعیب ؑ نے مدین میں اپنی قوم کو وعظ کیا۔ انہیں اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کا حکم دیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے اور اس کی سزاؤں سے ڈرایا انہیں قیامت کے ہونے کا یقین دلاکر فرمایا کہ اس دن کے لئے کچھ تیاریاں کرلو اس دن کا خیال رکھو لوگوں پر ظلم و زیادتی نہ کرو اللہ کی زمین میں فساد نہ کرو برائیوں سے الگ رہو۔ ان میں ایک عیب یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے لوگوں کے حق مارتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے راستے بند کرتے تھے ساتھ ہی اللہ اور اس کے رسول سے کفر کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر کی نصیحتوں پر کان تک نہ دھرا بلکہ انہیں جھوٹا کہا اس بنا پر ان پر عذاب الٰہی برس پڑا سخت بھونچال آیا اور ساتھ ہی اتنی تیز وتند آواز آئی کہ دل اڑ گئے اور روحیں پرواز کر گئیں اور گھڑی کی گھڑی میں سب کا سب ڈھیر ہوگیا۔ ان کا پورا قصہ سورة اعراف سورة ہود اور سورة شعراء میں گزرچکا ہے۔
فساد نہ کرو اللہ کے بندے اور اس کے سچے رسول حضرت شعیب ؑ نے مدین میں اپنی قوم کو وعظ کیا۔ انہیں اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کا حکم دیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے اور اس کی سزاؤں سے ڈرایا انہیں قیامت کے ہونے کا یقین دلاکر فرمایا کہ اس دن کے لئے کچھ تیاریاں کرلو اس دن کا خیال رکھو لوگوں پر ظلم و زیادتی نہ کرو اللہ کی زمین میں فساد نہ کرو برائیوں سے الگ رہو۔ ان میں ایک عیب یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے لوگوں کے حق مارتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے راستے بند کرتے تھے ساتھ ہی اللہ اور اس کے رسول سے کفر کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر کی نصیحتوں پر کان تک نہ دھرا بلکہ انہیں جھوٹا کہا اس بنا پر ان پر عذاب الٰہی برس پڑا سخت بھونچال آیا اور ساتھ ہی اتنی تیز وتند آواز آئی کہ دل اڑ گئے اور روحیں پرواز کر گئیں اور گھڑی کی گھڑی میں سب کا سب ڈھیر ہوگیا۔ ان کا پورا قصہ سورة اعراف سورة ہود اور سورة شعراء میں گزرچکا ہے۔
احقاف کے لوگ عادی حضرت ہود ؑ کی قوم تھے۔ احقاف میں رہتے تھے جو یمن کے شہروں میں حضرموت کے قریب ہے۔ ثمودی حضرت صالح ؑ کی قوم کے لوگ تھے۔ یہ حجر میں بستے تھے جو وادی القریٰ کے قریب ہے۔ عرب کے راستے میں ان کی بستی آتی تھی جسے یہ بخوبی جانتے تھے۔ قارون ایک دولت مند شخص تھا جس کے بھرپور خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت کی جماعت اٹھاتی تھی۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور ہامان اسکا وزیر اعظم تھا۔ اسی کے زمانے میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ ؑ نبی ہو کر اس کی طرف بھیجے گئے۔ یہ دونوں قبطی کافر تھے جب ان کی سرکشی حد سے گذر گئی اللہ کی توحید کے منکر ہوگئے رسولوں کو ایذائیں دیں اور ان کی نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا۔ عادیوں پر ہوائیں بھیجیں۔ انہیں اپنی قوت وطاقت کا بڑا گھمنڈ تھا کسی کو اپنے مقابلے کا نہ جانتے تھے۔ ان پر ہوا بھیجی جو بڑی تیز وتند تھی جو ان پر زمین کے پتھر اڑا اڑا کر برسانے لگی۔ بالآخر زور پکڑتے پکڑتے یہاں تک بڑھ گئی کہ انہیں اچک لے جاتی اور آسمان کے قریب لے جاکر پھر گرا دیتی۔ سر کے بل گرتے اور سر الگ ہوجاتا دھڑ الگ ہوجاتا اور ایسے ہوجاتے جیسے کجھور کے درخت جس کے تنے الگ ہوں اور شاخیں جدا ہوں۔ ثمودیوں پر حجت الٰہی پوری ہوئی دلائل دے دئیے گئے ان کی طلب کے موافق پتھر میں سے ان کے دیکھتے ہوئے اونٹنی نکلی لیکن تاہم انہیں ایمان نصیب نہ ہوا بلکہ طغیانی میں بڑھتے رہے۔ اللہ کے نبی کو دھمکانے اور ڈرانے لگے اور ایمانداروں سے بھی کہنے لگے کہ ہمارے شہر چھوڑ دو ورنہ ہم تمہیں سنگسار کردیں گے۔ انہیں ایک چیخ سے پارہ پارہ کردیا۔ دل ہل گئے کلیجے اڑگئے اور سب کی روحیں نکل گئیں۔ قارون نے سرکشی اور تکبر کیا۔ طغیانی اور بڑائی کی رب الاعلیٰ کی نافرمانی کی زمین میں فساد مچا دیا۔ اکڑ اکڑ کر چلنے لگا اپنے ڈنٹر بل دیکھنے لگا اترانے لگا اور پھولنے لگا۔ پس اللہ نے اسے مع اس کے محلات کے زمین دوز کردیا جو آج تک دھنستا چلا جارہا ہے۔ فرعون ہامان اور ان کے لشکروں کو صبح ہی صبح ایک ساتھ ایک ہی ساعت میں دریا برد کردیا۔ ان میں سے ایک بھی نہ بچا جو ان کا نام تو کبھی لیتا۔ اللہ نے یہ جو کچھ کیا کچھ ان پر ظلم نہ تھا بلکہ ان کے ظلم کا بدلہ تھا۔ ان کے کرتوت کا پھل تھا ان کی کرنی کی بھرنی تھی۔ یہ بیان یہاں بطور لف ونشر کے ہے۔ اولا جھٹلانے والی امتوں کا ذکر ہوا ہے پھر ان میں سے ہر ایک کو عذابوں سے ہلاک کرنیکا۔ کسی نے کہا کہ سب سے پہلے جن پر پتھروں کا مینہ برسانے کا ذکر ہے ان سے مراد لوطی ہیں اور غرق کی جانے والی قوم قوم نوح ہے لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ ابن عباس سے یہ مروی تو ہے لیکن سند میں انقطاع ہے۔ ان دونوں قوموں کی حالت کا ذکر اسی صورت میں بہ تفصیل بیان ہوچکا ہے۔ پھر بہت سے فاصلے کے بعد یہ بیان ہوا ہے۔ قتادۃ سے یہ بھی مروی ہے کہ پتھروں کا مینہ جن پر برسایا گیا ان سے مراد لوطی ہیں اور جنہیں چیخ سے ہلاک کیا گیا ان سے مراد قوم شعیب ہے لیکن یہ قول بھی ان آیتوں سے دور دراز ہے واللہ اعلم۔
احقاف کے لوگ عادی حضرت ہود ؑ کی قوم تھے۔ احقاف میں رہتے تھے جو یمن کے شہروں میں حضرموت کے قریب ہے۔ ثمودی حضرت صالح ؑ کی قوم کے لوگ تھے۔ یہ حجر میں بستے تھے جو وادی القریٰ کے قریب ہے۔ عرب کے راستے میں ان کی بستی آتی تھی جسے یہ بخوبی جانتے تھے۔ قارون ایک دولت مند شخص تھا جس کے بھرپور خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت کی جماعت اٹھاتی تھی۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور ہامان اسکا وزیر اعظم تھا۔ اسی کے زمانے میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ ؑ نبی ہو کر اس کی طرف بھیجے گئے۔ یہ دونوں قبطی کافر تھے جب ان کی سرکشی حد سے گذر گئی اللہ کی توحید کے منکر ہوگئے رسولوں کو ایذائیں دیں اور ان کی نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا۔ عادیوں پر ہوائیں بھیجیں۔ انہیں اپنی قوت وطاقت کا بڑا گھمنڈ تھا کسی کو اپنے مقابلے کا نہ جانتے تھے۔ ان پر ہوا بھیجی جو بڑی تیز وتند تھی جو ان پر زمین کے پتھر اڑا اڑا کر برسانے لگی۔ بالآخر زور پکڑتے پکڑتے یہاں تک بڑھ گئی کہ انہیں اچک لے جاتی اور آسمان کے قریب لے جاکر پھر گرا دیتی۔ سر کے بل گرتے اور سر الگ ہوجاتا دھڑ الگ ہوجاتا اور ایسے ہوجاتے جیسے کجھور کے درخت جس کے تنے الگ ہوں اور شاخیں جدا ہوں۔ ثمودیوں پر حجت الٰہی پوری ہوئی دلائل دے دئیے گئے ان کی طلب کے موافق پتھر میں سے ان کے دیکھتے ہوئے اونٹنی نکلی لیکن تاہم انہیں ایمان نصیب نہ ہوا بلکہ طغیانی میں بڑھتے رہے۔ اللہ کے نبی کو دھمکانے اور ڈرانے لگے اور ایمانداروں سے بھی کہنے لگے کہ ہمارے شہر چھوڑ دو ورنہ ہم تمہیں سنگسار کردیں گے۔ انہیں ایک چیخ سے پارہ پارہ کردیا۔ دل ہل گئے کلیجے اڑگئے اور سب کی روحیں نکل گئیں۔ قارون نے سرکشی اور تکبر کیا۔ طغیانی اور بڑائی کی رب الاعلیٰ کی نافرمانی کی زمین میں فساد مچا دیا۔ اکڑ اکڑ کر چلنے لگا اپنے ڈنٹر بل دیکھنے لگا اترانے لگا اور پھولنے لگا۔ پس اللہ نے اسے مع اس کے محلات کے زمین دوز کردیا جو آج تک دھنستا چلا جارہا ہے۔ فرعون ہامان اور ان کے لشکروں کو صبح ہی صبح ایک ساتھ ایک ہی ساعت میں دریا برد کردیا۔ ان میں سے ایک بھی نہ بچا جو ان کا نام تو کبھی لیتا۔ اللہ نے یہ جو کچھ کیا کچھ ان پر ظلم نہ تھا بلکہ ان کے ظلم کا بدلہ تھا۔ ان کے کرتوت کا پھل تھا ان کی کرنی کی بھرنی تھی۔ یہ بیان یہاں بطور لف ونشر کے ہے۔ اولا جھٹلانے والی امتوں کا ذکر ہوا ہے پھر ان میں سے ہر ایک کو عذابوں سے ہلاک کرنیکا۔ کسی نے کہا کہ سب سے پہلے جن پر پتھروں کا مینہ برسانے کا ذکر ہے ان سے مراد لوطی ہیں اور غرق کی جانے والی قوم قوم نوح ہے لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ ابن عباس سے یہ مروی تو ہے لیکن سند میں انقطاع ہے۔ ان دونوں قوموں کی حالت کا ذکر اسی صورت میں بہ تفصیل بیان ہوچکا ہے۔ پھر بہت سے فاصلے کے بعد یہ بیان ہوا ہے۔ قتادۃ سے یہ بھی مروی ہے کہ پتھروں کا مینہ جن پر برسایا گیا ان سے مراد لوطی ہیں اور جنہیں چیخ سے ہلاک کیا گیا ان سے مراد قوم شعیب ہے لیکن یہ قول بھی ان آیتوں سے دور دراز ہے واللہ اعلم۔
احقاف کے لوگ عادی حضرت ہود ؑ کی قوم تھے۔ احقاف میں رہتے تھے جو یمن کے شہروں میں حضرموت کے قریب ہے۔ ثمودی حضرت صالح ؑ کی قوم کے لوگ تھے۔ یہ حجر میں بستے تھے جو وادی القریٰ کے قریب ہے۔ عرب کے راستے میں ان کی بستی آتی تھی جسے یہ بخوبی جانتے تھے۔ قارون ایک دولت مند شخص تھا جس کے بھرپور خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت کی جماعت اٹھاتی تھی۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور ہامان اسکا وزیر اعظم تھا۔ اسی کے زمانے میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ ؑ نبی ہو کر اس کی طرف بھیجے گئے۔ یہ دونوں قبطی کافر تھے جب ان کی سرکشی حد سے گذر گئی اللہ کی توحید کے منکر ہوگئے رسولوں کو ایذائیں دیں اور ان کی نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا۔ عادیوں پر ہوائیں بھیجیں۔ انہیں اپنی قوت وطاقت کا بڑا گھمنڈ تھا کسی کو اپنے مقابلے کا نہ جانتے تھے۔ ان پر ہوا بھیجی جو بڑی تیز وتند تھی جو ان پر زمین کے پتھر اڑا اڑا کر برسانے لگی۔ بالآخر زور پکڑتے پکڑتے یہاں تک بڑھ گئی کہ انہیں اچک لے جاتی اور آسمان کے قریب لے جاکر پھر گرا دیتی۔ سر کے بل گرتے اور سر الگ ہوجاتا دھڑ الگ ہوجاتا اور ایسے ہوجاتے جیسے کجھور کے درخت جس کے تنے الگ ہوں اور شاخیں جدا ہوں۔ ثمودیوں پر حجت الٰہی پوری ہوئی دلائل دے دئیے گئے ان کی طلب کے موافق پتھر میں سے ان کے دیکھتے ہوئے اونٹنی نکلی لیکن تاہم انہیں ایمان نصیب نہ ہوا بلکہ طغیانی میں بڑھتے رہے۔ اللہ کے نبی کو دھمکانے اور ڈرانے لگے اور ایمانداروں سے بھی کہنے لگے کہ ہمارے شہر چھوڑ دو ورنہ ہم تمہیں سنگسار کردیں گے۔ انہیں ایک چیخ سے پارہ پارہ کردیا۔ دل ہل گئے کلیجے اڑگئے اور سب کی روحیں نکل گئیں۔ قارون نے سرکشی اور تکبر کیا۔ طغیانی اور بڑائی کی رب الاعلیٰ کی نافرمانی کی زمین میں فساد مچا دیا۔ اکڑ اکڑ کر چلنے لگا اپنے ڈنٹر بل دیکھنے لگا اترانے لگا اور پھولنے لگا۔ پس اللہ نے اسے مع اس کے محلات کے زمین دوز کردیا جو آج تک دھنستا چلا جارہا ہے۔ فرعون ہامان اور ان کے لشکروں کو صبح ہی صبح ایک ساتھ ایک ہی ساعت میں دریا برد کردیا۔ ان میں سے ایک بھی نہ بچا جو ان کا نام تو کبھی لیتا۔ اللہ نے یہ جو کچھ کیا کچھ ان پر ظلم نہ تھا بلکہ ان کے ظلم کا بدلہ تھا۔ ان کے کرتوت کا پھل تھا ان کی کرنی کی بھرنی تھی۔ یہ بیان یہاں بطور لف ونشر کے ہے۔ اولا جھٹلانے والی امتوں کا ذکر ہوا ہے پھر ان میں سے ہر ایک کو عذابوں سے ہلاک کرنیکا۔ کسی نے کہا کہ سب سے پہلے جن پر پتھروں کا مینہ برسانے کا ذکر ہے ان سے مراد لوطی ہیں اور غرق کی جانے والی قوم قوم نوح ہے لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ ابن عباس سے یہ مروی تو ہے لیکن سند میں انقطاع ہے۔ ان دونوں قوموں کی حالت کا ذکر اسی صورت میں بہ تفصیل بیان ہوچکا ہے۔ پھر بہت سے فاصلے کے بعد یہ بیان ہوا ہے۔ قتادۃ سے یہ بھی مروی ہے کہ پتھروں کا مینہ جن پر برسایا گیا ان سے مراد لوطی ہیں اور جنہیں چیخ سے ہلاک کیا گیا ان سے مراد قوم شعیب ہے لیکن یہ قول بھی ان آیتوں سے دور دراز ہے واللہ اعلم۔
مکڑی کا جالا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کی پرستش اور پوجاپاٹ کرتے ہیں ان کی کمزوری اور بےعلمی کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ ان سے مدد روزی اور سختی میں کام آنے کے امیدوار رہتے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مکڑی کے جالے میں بارش اور دھوپ اور سردی سے پناہ چاہے۔ اگر ان میں علم ہوتا تو یہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے امیدیں وابستہ نہ کرتے۔ پس ان کا حال ایمانداروں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ایک مضبوط کڑے کو تھامے ہوئے ہیں اور یہ مکڑی کے جالے میں اپنا سرچھپائے ہوئے ہیں۔ اس کا دل اللہ کی طرف ہے اس کا جسم اعمال صالحہ کی طرف مشغول ہے اور اس کا دل مخلوق کی طرف اور جسم اس کی پرستش کی طرف جھکا ہوا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کو ڈرا رہا ہے کہ وہ ان سے ان کے شرک سے اور ان کے جھوٹے معبودوں سے خوب آگاہ ہے۔ انہیں ان کی شرارت کا ایسا مزہ چھکائے گا کہ یہ یاد کریں۔ انہیں ڈھیل دینے میں بھی اس کی مصلحت وحکمت ہے۔ نہ یہ کہ وہ علیم اللہ ان سے بیخبر ہو۔ ہم نے تو مثالوں سے بھی مسائل سمجھا دئے۔ لیکن اس کے سوچنے سمجھنے کا مادہ ان میں غور و فکر کرنے کی توفیق صرف باعمل علماء کو ہوتی ہے۔ جو اپنے علم میں پورے ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ کی بیان کردہ مثالوں کو سمجھ لینا سچے علم کی دلیل ہے۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں میں نے ایک ہزار مثالیں رسول اللہ ﷺ سے سیکھی ہیں (مسند احمد) اس سے آپ کی فضیلت اور آپ کی علمیت ظاہر ہے۔ حضرت عمرو بن مروۃ فرماتے ہیں کہ کلام اللہ شریف کی جو آیت میری تلاوت میں آئے اور اس کا تفصیلی معنوں کا مطلب میری سمجھ میں نہ آئے تو میرا دل دکھتا ہے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے اور میں ڈرنے لگتا ہوں کہ کہیں اللہ کے نزدیک میری گنتی جاہلوں میں تو نہیں ہوگئی کیونکہ فرمان اللہ یہی ہے کہ ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں لیکن سوائے عالموں کے انہیں دوسرے سمجھ نہیں سکتے۔
مکڑی کا جالا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کی پرستش اور پوجاپاٹ کرتے ہیں ان کی کمزوری اور بےعلمی کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ ان سے مدد روزی اور سختی میں کام آنے کے امیدوار رہتے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مکڑی کے جالے میں بارش اور دھوپ اور سردی سے پناہ چاہے۔ اگر ان میں علم ہوتا تو یہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے امیدیں وابستہ نہ کرتے۔ پس ان کا حال ایمانداروں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ایک مضبوط کڑے کو تھامے ہوئے ہیں اور یہ مکڑی کے جالے میں اپنا سرچھپائے ہوئے ہیں۔ اس کا دل اللہ کی طرف ہے اس کا جسم اعمال صالحہ کی طرف مشغول ہے اور اس کا دل مخلوق کی طرف اور جسم اس کی پرستش کی طرف جھکا ہوا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کو ڈرا رہا ہے کہ وہ ان سے ان کے شرک سے اور ان کے جھوٹے معبودوں سے خوب آگاہ ہے۔ انہیں ان کی شرارت کا ایسا مزہ چھکائے گا کہ یہ یاد کریں۔ انہیں ڈھیل دینے میں بھی اس کی مصلحت وحکمت ہے۔ نہ یہ کہ وہ علیم اللہ ان سے بیخبر ہو۔ ہم نے تو مثالوں سے بھی مسائل سمجھا دئے۔ لیکن اس کے سوچنے سمجھنے کا مادہ ان میں غور و فکر کرنے کی توفیق صرف باعمل علماء کو ہوتی ہے۔ جو اپنے علم میں پورے ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ کی بیان کردہ مثالوں کو سمجھ لینا سچے علم کی دلیل ہے۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں میں نے ایک ہزار مثالیں رسول اللہ ﷺ سے سیکھی ہیں (مسند احمد) اس سے آپ کی فضیلت اور آپ کی علمیت ظاہر ہے۔ حضرت عمرو بن مروۃ فرماتے ہیں کہ کلام اللہ شریف کی جو آیت میری تلاوت میں آئے اور اس کا تفصیلی معنوں کا مطلب میری سمجھ میں نہ آئے تو میرا دل دکھتا ہے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے اور میں ڈرنے لگتا ہوں کہ کہیں اللہ کے نزدیک میری گنتی جاہلوں میں تو نہیں ہوگئی کیونکہ فرمان اللہ یہی ہے کہ ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں لیکن سوائے عالموں کے انہیں دوسرے سمجھ نہیں سکتے۔
مکڑی کا جالا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کی پرستش اور پوجاپاٹ کرتے ہیں ان کی کمزوری اور بےعلمی کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ ان سے مدد روزی اور سختی میں کام آنے کے امیدوار رہتے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مکڑی کے جالے میں بارش اور دھوپ اور سردی سے پناہ چاہے۔ اگر ان میں علم ہوتا تو یہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے امیدیں وابستہ نہ کرتے۔ پس ان کا حال ایمانداروں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ایک مضبوط کڑے کو تھامے ہوئے ہیں اور یہ مکڑی کے جالے میں اپنا سرچھپائے ہوئے ہیں۔ اس کا دل اللہ کی طرف ہے اس کا جسم اعمال صالحہ کی طرف مشغول ہے اور اس کا دل مخلوق کی طرف اور جسم اس کی پرستش کی طرف جھکا ہوا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کو ڈرا رہا ہے کہ وہ ان سے ان کے شرک سے اور ان کے جھوٹے معبودوں سے خوب آگاہ ہے۔ انہیں ان کی شرارت کا ایسا مزہ چھکائے گا کہ یہ یاد کریں۔ انہیں ڈھیل دینے میں بھی اس کی مصلحت وحکمت ہے۔ نہ یہ کہ وہ علیم اللہ ان سے بیخبر ہو۔ ہم نے تو مثالوں سے بھی مسائل سمجھا دئے۔ لیکن اس کے سوچنے سمجھنے کا مادہ ان میں غور و فکر کرنے کی توفیق صرف باعمل علماء کو ہوتی ہے۔ جو اپنے علم میں پورے ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ کی بیان کردہ مثالوں کو سمجھ لینا سچے علم کی دلیل ہے۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں میں نے ایک ہزار مثالیں رسول اللہ ﷺ سے سیکھی ہیں (مسند احمد) اس سے آپ کی فضیلت اور آپ کی علمیت ظاہر ہے۔ حضرت عمرو بن مروۃ فرماتے ہیں کہ کلام اللہ شریف کی جو آیت میری تلاوت میں آئے اور اس کا تفصیلی معنوں کا مطلب میری سمجھ میں نہ آئے تو میرا دل دکھتا ہے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے اور میں ڈرنے لگتا ہوں کہ کہیں اللہ کے نزدیک میری گنتی جاہلوں میں تو نہیں ہوگئی کیونکہ فرمان اللہ یہی ہے کہ ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں لیکن سوائے عالموں کے انہیں دوسرے سمجھ نہیں سکتے۔
مقصد کائنات اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی قدرت کا بیان ہو رہا ہے کہ وہی آسمانوں کا اور زمینوں کا خالق ہے اس نے انہیں کھیل تماشے کے طور پر یا لغو و بیکار نہیں بنایا بلکہ اس لئے کہ یہاں لوگوں کو بسائے۔ پھر ان کی نیکیاں بدیاں دیکھے۔ اور قیامت کے دن ان کے اعمال کے مطابق انہیں جزا سزادے۔ بروں کو ان کی بداعمالیوں پر سزا اور نیکوں کو ان کی نیکیوں پر بہترین بدلہ۔
اخلاص خوف اور اللہ کا ذکر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو اور ایمان داروں کو حکم دے رہا ہے کہ وہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہیں اور اسے اوروں کو بھی سنائیں اور نمازوں کی نگہبانی کریں اور پابندی سے پڑھتے رہا کریں۔ نماز انسان کو ناشائستہ کاموں اور نالائق حرکتوں سے باز رکھتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ جس نمازی کی نماز نے اسے گناہوں سے اور سیاہ کاریوں سے باز نہ رکھا وہ اللہ سے بہت دور ہوجاتا ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی گئی تو آپ نے فرمایا جسے اس کی نماز بےجا اور فحش کاموں سے نہ روکے تو سمجھ لو کہ اس کی نماز اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوئی۔ اور روایت میں ہے کہ وہ اللہ سے دور ہی ہوتاچلا جائے گا۔ ایک موقوف روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ جو نمازی بھلے کاموں میں مشغول اور برے کاموں سے بچنے والا نہ ہو سمجھ لو کہ اس کی نماز اسے اللہ سے اور دور کرتی جارہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو نماز کی بات نہ مانے اس کی نماز نہیں، نماز بےحیائی سے اور بد فعلیوں سے روکتی ہے اس کی اطاعت یہ ہے کہ ان بےہودہ کاموں سے نمازی رک جائے۔ حضرت شعیب سے جب ان کی قوم نے کہا کہ شعیب کیا تمہیں تمہاری نماز حکم کرتی ہے تو حضرت سفیان نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ ہاں اللہ کی قسم نماز حکم بھی کرتی ہے اور منع بھی کرتی ہے۔ حضرت عبداللہ سے کسی نے کہا فلاں شخص بڑی لمبی نماز پڑھتا ہے آپ نے فرمایا نماز اسے نفع دیتی ہے جو اس کا کہا مانے۔ میری تحقیق میں اوپر جو مرفوع روایت بیان ہوئی ہے اس کا بھی موقوف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ بزار میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے کسی نے کہا حضور ﷺ فلاں شخص نماز پڑھتا ہے لیکن چوری نہیں چھوڑتا تو آپ ﷺ نے فرمایا عنقریب اس کی نماز اس کی یہ برائی چھڑادے گی۔ چونکہ نماز ذکر اللہ کا نام ہے اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا اللہ کی یاد بڑی چیز ہے اللہ تعالیٰ تمہاری تمام باتوں سے اور تمہارے کل کاموں سے باخبر ہے۔ حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں نماز تین چیزیں ہیں اگر یہ نہ ہوں تو نماز نماز نہیں اخلاص وخلوص خوف اللہ اور ذکر اللہ۔ اخلاص سے تو انسان نیک ہوجاتا ہے اور خوف اللہ سے انسان گناہوں کو چھوڑ دیتا ہے اور ذکر اللہ یعنی قرآن اسے بھلائی و برائی بتادیتا ہے وہ حکم بھی کرتا ہے اور منع بھی کرتا ہے۔ ابن عون انصاری فرماتے ہیں جب تو نماز میں ہو تو نیکی میں ہے اور نماز تجھے فحش اور منکر سے بچائے ہوئے ہے۔ اور اس میں جو کچھ تو ذکر اللہ کرہا ہے وہ تیرے لئے بڑے ہی فائدے کی چیز ہے۔ حماد کا قول ہے کہ کم سے کم حالت نماز میں تو برائیوں سے بچا رہے گا۔ ایک راوی سے ابن عباس کا یہ قول مروی ہے کہ جو بندہ یاد اللہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اسے یاد کرتا ہے۔ اس نے کہا ہمارے ہاں جو صاحب ہیں وہ تو کہتے ہیں کہ مطلب اس کا یہ ہے کہ جب تم اللہ کا ذکر کروگے تو وہ تمہاری یاد کرے گا اور یہ بہت بڑی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت (فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوْا لِيْ وَلَا تَكْفُرُوْنِ01502ۧ) 2۔ البقرة :152) کہ تم میری یاد کرو میں تمہاری یاد کرونگا۔ اسے سن کر آپ نے فرمایا اس نے سچ کہا یعنی دونوں مطلب درست ہیں۔ یہ بھی اور وہ بھی اور خود حضرت ابن عباس سے یہ بھی تفسیر مروی ہے۔ حضرت عبداللہ بن ربیعہ سے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عباس نے دریافت فرمایا کہ اس جملے کا مطلب جانتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں اس سے مراد نماز میں سبحان للہ، الحمدللہ، اللہ اکبر وغیرہ کہنا ہے۔ آپ نے فرمایا تو نے عجیب بات کہی یہ یوں نہیں ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ حکم کے اور منع کے وقت اللہ کا تمہیں یاد کرنا تمہارے ذکر اللہ سے بہت بڑا اور بہت اہم ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت ابو درداء حضرت سلمان فارسی وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اور اسی کو امام ابن جریر پسند فرماتے ہیں۔
غیر مسلموں کو دلائل سے قائل کرو حضرت قتادۃ وغیرہ تو فرماتے ہیں کہ یہ آیت تو جہاد کے حکم کے ساتھ منسوخ ہے اب تو یہی ہے کہ یا تو اسلام قبول کرو یا جزیہ ادا کرو یا لڑائی لڑیں۔ لیکن اور بزرگ مفسرین کا قول ہے کہ یہ حکم باقی ہے جو یہودی یا نصرانی دینی امور کو سجھنا چاہے اور اسے مہذب طریقے پر سلجھے ہوئے پیرائے سے سمجھا دینا چاہئے۔ کیا عجیب ہے کہ وہ راہ راست اختیار کرے۔ جیسے اور آیت میں عام حکم موجود ہے آیت (اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ01205) 16۔ النحل :125) اپنے رب کی راہ کی دعوت حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ لوگوں کو دو۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو جب فرعون کے طرف بھیجا جاتا ہے تو فرمان ہوتا ہے کہ آیت (فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى 44) 20۔ طه :44) یعنی اس سے نرمی سے گفتگو کرنا کیا عجب کہ وہ نصیحت قبول کرلے اور اس کا دل پگھل جائے۔ یہی قول حضرت امام ابن جریر کا پسندیدہ ہے۔ اور حضرت ابن زید سے یہی مروی ہے۔ ہاں ان میں سے جو ظلم پر اڑ جائیں اور ضد اور تعصب برتیں حق کو قبول کرنے سے انکار کردیں پھر مناظرے مباحثے بےسود ہیں پھر تو جدال و قتال کا حکم ہے۔ جیسے جناب باری عز اسمہ کا ارشاد ہے آیت (لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ 25ۧ) 57۔ الحدید :25) ہم نے رسولوں کو واضح دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ہمراہ کتاب و میزان نازل فرمائی تاکہ لوگوں میں عدل و انصاف کا قیام ہوسکے۔ اور ہم نے لوہا بھی نازل فرمایا جس میں سخت لڑائی ہے۔ پس حکم اللہ یہ ہے کہ بھلائی سے اور نرمی سے جو نہ مانے اس پر پھر سختی کی جائے۔ جو لڑے اسی سے لڑا جائے ہاں یہ اور بات ہے کہ ماتحتی میں رہ کر جزیہ ادا کرے۔ پھر تصدیق کردیا کرو ممکن ہے کسی امر حق کو تم جھٹلادو اور ممکن ہے کسی باطل کی تم تصدیق کر بیٹھو۔ پس شرط یہ ہے کہ تصدیق کرو یعنی کہہ دو کہ ہمارا اللہ کی ہر بات پر ایمان ہے اگر تمہاری پیش کردہ چیز اللہ کی نازل کردہ ہے تو ہم اسے تسلیم کرتے ہیں اور اگر تم نے تبدیل و تحریف کردی ہے تو ہم اسے نہیں مانتے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ اہل کتاب توراۃ کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور ہمارے سامنے عربی میں اس کا ترجمہ کرتے اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا نہ تم انہیں سچا کہو نہ جھوٹا بلکہ تم آیت (امنا بالذی) سے آخر آیت تک پڑھ دیاکرو۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ کے پاس ایک یہودی آیا اور کہنے لگا کیا یہ جنازے بولتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ ہی کو علم ہے۔ اس نے کہا میں جانتا ہوں یہ یقینا بولتے ہیں اس پر حضور ﷺ نے فرمایا یہ اہل کتاب جب تم سے کوئی بات بیان کریں تو تم نہ ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب بلکہ کہہ دو ہمارا اللہ پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ہے۔ یہ اس لئے کہ کہیں ایسا نہ ہو تم کسی جھوٹ کو سچا کہہ دو یا کسی سچ کو جھوٹ بتادو۔ یہاں یہ بھی خیال رہے کہ ان اہل کتاب کی اکثروبیشتر باتیں تو غلط اور جھوٹ ہی ہوتی ہیں عموما بہتان و افتراء ہوتا ہے۔ ان میں تحریف و تبدل تغیر و تاویل رواج پاچکی ہے اور صداقت ایسی رہ گئی ہے کہ گویا کچھ بھی نہیں۔ پھر ایک بات اور بھی ہے کہ بالفرض سچ بھی ہو تو ہمیں کیا فائدہ ؟ ہمارے پاس تو اللہ کی تازہ اور کامل کتاب موجود ہے۔ چناچہ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں اہل کتاب سے تم کچھ بھی نہ پوچھو۔ وہ خود جبکہ گمراہ ہیں تو تمہاری تصحیح کیا کریں گے ؟ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ ان کی کسی سچ بات کو تم جھوٹا کہہ دو۔ یا ان کی کسی جھوٹی بات کو تم سچ کہہ دو۔ یاد رکھو ہر اہل کتاب کے دل میں اپنے دین کا ایک تعصب ہے۔ جیسے کہ مال کی خواہش ہے (ابن جریر) صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں تم اہل کتاب سے سوالات کیوں کرتے ہو ؟ تم پر تو اللہ کی طرف سے ابھی ابھی کتاب نازل ہوئی ہے جو بالکل خالص ہے جس میں باطل نہ ملا نہ مل جل سکے۔ تم سے تو خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کے دین کو بدل ڈالا۔ اللہ کی کتاب میں تغیر کردیا اور اپنے ہاتھوں کی لکھی ہوئی کتابوں کو اللہ کی کتاب کہنے لگے اور دنیوی نفع حاصل کرنے لگے۔ کیوں بھلا تمہارے پاس جو علم اللہ ہے کیا وہ تمہیں کافی نہیں ؟ کہ تم ان سے دریافت کرو۔ دیکھو تو کس قدر ستم ہے کہ ان میں سے تو ایک بھی تم سے کبھی کچھ نہ پوچھے اور تم ان سے دریافت کرتے پھرو ؟ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ ؓ نے مدینے میں قریش کی ایک جماعت کے سامنے فرمایا کہ دیکھو ان تمام اہل کتاب میں اور ان کی باتیں بیان کرنے والوں میں سب سے اچھے حضرت کعب بن احبار ؓ ہے لیکن باوجود اس کے بھی ان کی باتوں میں بھی ہم کبھی کھبی جھوٹ پاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عمدا جھوٹ بولتے ہیں بلکہ جن کتابوں پر انہیں اعتماد ہے وہ خود گیلی سوکھی سب جمع کرلیتے ہیں ان میں خود سچ جھوت صحیح غلط بھرا پڑا ہے۔ ان میں مضبوط ذی علم حافظوں کی جماعت تھی ہی نہیں۔ یہ تو اسی امت مرحومہ پر اللہ کا فضل ہے کہ اس میں بہترین دل ودماغ والے اور اعلیٰ فہم وذکا والے اور عمدہ حفظ و اتقان والے لوگ اللہ نے پیدا کردیئے ہیں لیکن پھر بھی آپ دیکھئے کہ کس قدر موضوعات کا ذخیرہ جمع ہوگیا ہے ؟ اور کس طرح لوگوں نے باتیں گھڑلی ہیں۔ محدثین نے اس باطل کو حق سے بالکل جدا کردیا فالحمدللہ۔
حق تلاوت فرمان ہے کہ جیسے ہم نے اگلے انبیاء پر اپنی کتابیں نازل فرمائی تھیں اسی طرح یہ کتاب یعنی قرآن شریف ہم نے اے ہمارے آخری رسول ﷺ تم پر نازل فرمایا ہے۔ پس اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ہماری کتاب کی قدر کی اور اس کی تلاوت کا حق ادا کیا وہ جہاں اپنی کتابوں پر ایمان لائے اس پاک کتاب کو بھی مانتے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ، اور جیسے حضرت سلمان فارسی ؓ وغیرہ۔ اور ان لوگوں یعنی قریش وغیرہ میں سے بھی بعض لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں ہاں جو لوگ باطل سے حق کو چھپانے والے اور سورج کی روشنی سے آنکھیں بند کرنے والے ہیں وہ تو اسکے بھی منکر ہیں۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ تم ان میں مدت العمرتک رہ چکے ہو اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ ان میں گزار چکے ہو انہیں خوب معلوم ہے کہ آپ پڑھے لکھے نہیں، ساری قوم اور سارا ملک بخوبی علم رکھتا ہے کہ آپ محض امی ہیں نہ لکھناجانتے ہیں نہ پڑھنا۔ پھر آج جو آپ کو انوکھی فصیح وبلیغ اور پر از حکمت کتاب پڑھتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ آپ اس حالت میں ایک حرف پڑھے ہوئے نہیں خود تصنیف و تالیف کر نہیں سکتے حضور ﷺ کی یہ صفت اگلی کتابوں میں تھی جیسے قرآن ناقل ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ01507) 7۔ الاعراف :157) یعنی جو لوگ پیروی کرتے ہیں اس رسول و نبی امی کی جس کی صفات وہ اپنی کتاب توراۃ اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہیں جو انہیں نیکیوں کا حکم کرتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے۔ لطف یہ ہے کہ اللہ کے معصوم نبی ﷺ ہمشہ لکھنے سے دور ہی رکھے گئے۔ ایک سطر کے معنی، ایک حرف بھی لکھنا آپ کو نہ آتا تھا۔ آپ نے کاتب مقرر کرلئے تھے جو وحی اللہ کو لکھ لیتے تھے اور ضروت کے وقت شاہان دنیا سے خط و کتابت بھی وہی کرتے تھے پچھلے فقہاء میں قاضی ابو الولید باجی وغیرہ نے کہا کہ حدیبیہ والے دن خود رسول کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے یہ جملہ صلح نامے میں لکھا تھا کہ ھذا ماقاضی علیہ محمدا بن عبداللہ یعنی یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمد بن عبداللہ ﷺ نے فیصلہ کیا۔ لیکن یہ قول درست نہیں یہ وہم قاضی صاحب کو بخاری شریف کی اس روایت سے ہوا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ ثم اخذ فکتب یعنی پھر حضور ﷺ نے آپ لیکر لکھا۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے لکھنے کا حکم دیا۔ جیسے دوسری روایت میں صاف موجود ہے کہ ثم امر فکتب یعنی آپ نے پھر حکم دیا اور لکھا گیا۔ مشرق ومغرب کے تمام علماء کا یہی مذہب ہے بلکہ باجی وغیرہ پر انہوں نے اس قول کا بہت سخت رد کیا ہے اور اس سے بیزاری ظاہر کی ہے۔ اور اس قول کی تردید اپنے اشعار اور خطبوں میں بھی کی ہے۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ قاضی صاحب وغیرہ کا یہ خیال ہرگز نہیں کہ آپ اچھی طرح لکھنا جانتے تھے بلکہ وہ یہ کہتے تھے کہ آپ کا یہ جملہ صلح نامے پر لکھا جانا معجزہ تھا۔ جیسا کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا اور ایک روایت میں ہے کہ کر لکھا ہوا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا اگرچہ ان پڑھ ہو تب بھی اسے پڑھ لے گا۔ یہ مومن کی ایک کرامت ہوگی اسی طرح یہ فقرہ لکھ لینا اللہ کے نبی ﷺ کا ایک معجزہ تھا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ لکھنا جانتے تھے۔ یا آپ نے سیکھا تھا۔ بعض لوگ ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں ہے کہ آنحضور ﷺ کا انتقال نہ ہوا جب تک کہ آپ نے لکھنا نہ سیکھ لیا۔ یہ روایت بالکل ضعیف ہے بلکہ محض بےاصل ہے قرآن کریم کی اس آیت کو دیکھئے کس قدر تاکید کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے پڑھا ہونے کا انکار کرتی ہے اور کتنی سختی کے ساتھ پرزور الفاظ میں اس کا بھی انکار کرتی ہے کہ آپ لکھناجانتے ہوں۔ یہ جو فرمایا کہ داہنے ہاتھ سے یہ باعتبار غالب کے کہہ دیا ہے ورنہ لکھا تو دائیں ہاتھ سے ہی جاتا ہے اسی کی طرح آیت (وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ 38) 6۔ الانعام :38) میں ہے کیونکہ ہر پرند اپنے پروں سے ہی اڑتا ہے۔ پس حضور ﷺ کا ان پڑھ ہونا بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو یہ باطل پرست آپ کی نسبت شکر کرنے کی گنجائش پاتے کہ سابقہ انبیاء کی کتابوں سے پڑھ لکھ کر نقل کرلیتا ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں۔ تعجب ہے کہ باوجود ایسانہ ہونے کے پھر بھی یہ لوگ ہمارے رسول ﷺ پر یہ الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ گزرے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنہیں اس نے لکھ لیا ہے۔ وہی اس کے سامنے صبح شام پڑھی جاتی ہیں۔ باوجودیکہ خود جانتے ہیں کہ ہمارے رسول ﷺ پڑھے لکھے نہیں۔ ان کے اس قول کے جواب میں جناب باری عز اسمہ نے فرمایا انہیں جواب دو کہ اسے اس اللہ نے نازل فرمایا ہے جو زمین و آسمان کی پوشیدگیوں کو جانتا ہے۔ یہاں فرمایا بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔ خود آیات واضح صاف اور سلجھے ہوئے الفاظ میں ہیں۔ پھر علماء پر ان کا سمجھنا یاد کرنا پہنچانا سب آسان ہے جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 17) 54۔ القمر :17) یعنی ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے بالکل آسان کردیا ہے پس کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نبی کو ایسی چیز دی گئی جس کے باعث لوگ ان پر ایمان لائے مجھے ایسی چیز وحی اللہ دی گئی ہے جو اللہ نے میری طرف نازل فرمائی ہے تو مجھے ذات اللہ سے امید ہے کہ تمام نبیوں کے تابعداروں سے زیادہ میرے تابعدار ہونگے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ اے نبی ! میں تمہیں آزماؤنگا اور تمہاری وجہ سے لوگوں کی بھی آزمائش کرلونگا۔ میں تم پر ایسی کتاب نازل فرماؤنگا جسے پانی دھو نہ سکے۔ تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے حروف پانی سے دھوئے جائیں لیکن وہ ضائع ہونے سے محفوظ ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے اگر قرآن کسی چمڑے میں ہو تو اسے آگ نہیں جلائے گی۔ اس لئے کہ وہ سینوں میں محفوظ ہے، زبانوں پر آسان ہے اور دلوں میں موجود ہے۔ اور اپنے لفظ اور معنی کے اعتبار سے ایک جیتا جاگتا معجزہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ کتابوں میں اس امت کی ایک صفت یہ بھی مروی ہے کہ اناجیلھم فی صدورھم ان کی کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ امام ابن جریر اسے پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں بلکہ اس کا علم کہ تو اس کتاب سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتا تھا یہ آیات بینات اہل کتاب کے ذی علم لوگوں کے سینوں میں موجود ہیں۔ قتادۃ اور ابن جریج سے بھی یہی منقول ہے اور پہلا قول حسن بصری کا ہے اور یہی بہ روایت عوفی، ابن عباس سے منقول ہے اور یہ ضحاک نے کہا ہے اور یہی زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ہماری آیتوں کا جھٹلانا قبول نہ کرنا یہ حد سے گذرجانے والوں اور ضدی لوگوں کا ہی کام ہے جو حق ناحق کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے اگرچہ ان کے پاس نشانیاں آجائیں۔ یہاں تک کہ وہ المناک عذاب کا مشاہدہ کرلیں۔
حق تلاوت فرمان ہے کہ جیسے ہم نے اگلے انبیاء پر اپنی کتابیں نازل فرمائی تھیں اسی طرح یہ کتاب یعنی قرآن شریف ہم نے اے ہمارے آخری رسول ﷺ تم پر نازل فرمایا ہے۔ پس اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ہماری کتاب کی قدر کی اور اس کی تلاوت کا حق ادا کیا وہ جہاں اپنی کتابوں پر ایمان لائے اس پاک کتاب کو بھی مانتے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ، اور جیسے حضرت سلمان فارسی ؓ وغیرہ۔ اور ان لوگوں یعنی قریش وغیرہ میں سے بھی بعض لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں ہاں جو لوگ باطل سے حق کو چھپانے والے اور سورج کی روشنی سے آنکھیں بند کرنے والے ہیں وہ تو اسکے بھی منکر ہیں۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ تم ان میں مدت العمرتک رہ چکے ہو اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ ان میں گزار چکے ہو انہیں خوب معلوم ہے کہ آپ پڑھے لکھے نہیں، ساری قوم اور سارا ملک بخوبی علم رکھتا ہے کہ آپ محض امی ہیں نہ لکھناجانتے ہیں نہ پڑھنا۔ پھر آج جو آپ کو انوکھی فصیح وبلیغ اور پر از حکمت کتاب پڑھتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ آپ اس حالت میں ایک حرف پڑھے ہوئے نہیں خود تصنیف و تالیف کر نہیں سکتے حضور ﷺ کی یہ صفت اگلی کتابوں میں تھی جیسے قرآن ناقل ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ01507) 7۔ الاعراف :157) یعنی جو لوگ پیروی کرتے ہیں اس رسول و نبی امی کی جس کی صفات وہ اپنی کتاب توراۃ اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہیں جو انہیں نیکیوں کا حکم کرتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے۔ لطف یہ ہے کہ اللہ کے معصوم نبی ﷺ ہمشہ لکھنے سے دور ہی رکھے گئے۔ ایک سطر کے معنی، ایک حرف بھی لکھنا آپ کو نہ آتا تھا۔ آپ نے کاتب مقرر کرلئے تھے جو وحی اللہ کو لکھ لیتے تھے اور ضروت کے وقت شاہان دنیا سے خط و کتابت بھی وہی کرتے تھے پچھلے فقہاء میں قاضی ابو الولید باجی وغیرہ نے کہا کہ حدیبیہ والے دن خود رسول کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے یہ جملہ صلح نامے میں لکھا تھا کہ ھذا ماقاضی علیہ محمدا بن عبداللہ یعنی یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمد بن عبداللہ ﷺ نے فیصلہ کیا۔ لیکن یہ قول درست نہیں یہ وہم قاضی صاحب کو بخاری شریف کی اس روایت سے ہوا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ ثم اخذ فکتب یعنی پھر حضور ﷺ نے آپ لیکر لکھا۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے لکھنے کا حکم دیا۔ جیسے دوسری روایت میں صاف موجود ہے کہ ثم امر فکتب یعنی آپ نے پھر حکم دیا اور لکھا گیا۔ مشرق ومغرب کے تمام علماء کا یہی مذہب ہے بلکہ باجی وغیرہ پر انہوں نے اس قول کا بہت سخت رد کیا ہے اور اس سے بیزاری ظاہر کی ہے۔ اور اس قول کی تردید اپنے اشعار اور خطبوں میں بھی کی ہے۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ قاضی صاحب وغیرہ کا یہ خیال ہرگز نہیں کہ آپ اچھی طرح لکھنا جانتے تھے بلکہ وہ یہ کہتے تھے کہ آپ کا یہ جملہ صلح نامے پر لکھا جانا معجزہ تھا۔ جیسا کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا اور ایک روایت میں ہے کہ کر لکھا ہوا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا اگرچہ ان پڑھ ہو تب بھی اسے پڑھ لے گا۔ یہ مومن کی ایک کرامت ہوگی اسی طرح یہ فقرہ لکھ لینا اللہ کے نبی ﷺ کا ایک معجزہ تھا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ لکھنا جانتے تھے۔ یا آپ نے سیکھا تھا۔ بعض لوگ ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں ہے کہ آنحضور ﷺ کا انتقال نہ ہوا جب تک کہ آپ نے لکھنا نہ سیکھ لیا۔ یہ روایت بالکل ضعیف ہے بلکہ محض بےاصل ہے قرآن کریم کی اس آیت کو دیکھئے کس قدر تاکید کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے پڑھا ہونے کا انکار کرتی ہے اور کتنی سختی کے ساتھ پرزور الفاظ میں اس کا بھی انکار کرتی ہے کہ آپ لکھناجانتے ہوں۔ یہ جو فرمایا کہ داہنے ہاتھ سے یہ باعتبار غالب کے کہہ دیا ہے ورنہ لکھا تو دائیں ہاتھ سے ہی جاتا ہے اسی کی طرح آیت (وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ 38) 6۔ الانعام :38) میں ہے کیونکہ ہر پرند اپنے پروں سے ہی اڑتا ہے۔ پس حضور ﷺ کا ان پڑھ ہونا بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو یہ باطل پرست آپ کی نسبت شکر کرنے کی گنجائش پاتے کہ سابقہ انبیاء کی کتابوں سے پڑھ لکھ کر نقل کرلیتا ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں۔ تعجب ہے کہ باوجود ایسانہ ہونے کے پھر بھی یہ لوگ ہمارے رسول ﷺ پر یہ الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ گزرے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنہیں اس نے لکھ لیا ہے۔ وہی اس کے سامنے صبح شام پڑھی جاتی ہیں۔ باوجودیکہ خود جانتے ہیں کہ ہمارے رسول ﷺ پڑھے لکھے نہیں۔ ان کے اس قول کے جواب میں جناب باری عز اسمہ نے فرمایا انہیں جواب دو کہ اسے اس اللہ نے نازل فرمایا ہے جو زمین و آسمان کی پوشیدگیوں کو جانتا ہے۔ یہاں فرمایا بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔ خود آیات واضح صاف اور سلجھے ہوئے الفاظ میں ہیں۔ پھر علماء پر ان کا سمجھنا یاد کرنا پہنچانا سب آسان ہے جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 17) 54۔ القمر :17) یعنی ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے بالکل آسان کردیا ہے پس کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نبی کو ایسی چیز دی گئی جس کے باعث لوگ ان پر ایمان لائے مجھے ایسی چیز وحی اللہ دی گئی ہے جو اللہ نے میری طرف نازل فرمائی ہے تو مجھے ذات اللہ سے امید ہے کہ تمام نبیوں کے تابعداروں سے زیادہ میرے تابعدار ہونگے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ اے نبی ! میں تمہیں آزماؤنگا اور تمہاری وجہ سے لوگوں کی بھی آزمائش کرلونگا۔ میں تم پر ایسی کتاب نازل فرماؤنگا جسے پانی دھو نہ سکے۔ تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے حروف پانی سے دھوئے جائیں لیکن وہ ضائع ہونے سے محفوظ ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے اگر قرآن کسی چمڑے میں ہو تو اسے آگ نہیں جلائے گی۔ اس لئے کہ وہ سینوں میں محفوظ ہے، زبانوں پر آسان ہے اور دلوں میں موجود ہے۔ اور اپنے لفظ اور معنی کے اعتبار سے ایک جیتا جاگتا معجزہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ کتابوں میں اس امت کی ایک صفت یہ بھی مروی ہے کہ اناجیلھم فی صدورھم ان کی کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ امام ابن جریر اسے پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں بلکہ اس کا علم کہ تو اس کتاب سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتا تھا یہ آیات بینات اہل کتاب کے ذی علم لوگوں کے سینوں میں موجود ہیں۔ قتادۃ اور ابن جریج سے بھی یہی منقول ہے اور پہلا قول حسن بصری کا ہے اور یہی بہ روایت عوفی، ابن عباس سے منقول ہے اور یہ ضحاک نے کہا ہے اور یہی زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ہماری آیتوں کا جھٹلانا قبول نہ کرنا یہ حد سے گذرجانے والوں اور ضدی لوگوں کا ہی کام ہے جو حق ناحق کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے اگرچہ ان کے پاس نشانیاں آجائیں۔ یہاں تک کہ وہ المناک عذاب کا مشاہدہ کرلیں۔
حق تلاوت فرمان ہے کہ جیسے ہم نے اگلے انبیاء پر اپنی کتابیں نازل فرمائی تھیں اسی طرح یہ کتاب یعنی قرآن شریف ہم نے اے ہمارے آخری رسول ﷺ تم پر نازل فرمایا ہے۔ پس اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ہماری کتاب کی قدر کی اور اس کی تلاوت کا حق ادا کیا وہ جہاں اپنی کتابوں پر ایمان لائے اس پاک کتاب کو بھی مانتے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ، اور جیسے حضرت سلمان فارسی ؓ وغیرہ۔ اور ان لوگوں یعنی قریش وغیرہ میں سے بھی بعض لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں ہاں جو لوگ باطل سے حق کو چھپانے والے اور سورج کی روشنی سے آنکھیں بند کرنے والے ہیں وہ تو اسکے بھی منکر ہیں۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ تم ان میں مدت العمرتک رہ چکے ہو اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ ان میں گزار چکے ہو انہیں خوب معلوم ہے کہ آپ پڑھے لکھے نہیں، ساری قوم اور سارا ملک بخوبی علم رکھتا ہے کہ آپ محض امی ہیں نہ لکھناجانتے ہیں نہ پڑھنا۔ پھر آج جو آپ کو انوکھی فصیح وبلیغ اور پر از حکمت کتاب پڑھتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ آپ اس حالت میں ایک حرف پڑھے ہوئے نہیں خود تصنیف و تالیف کر نہیں سکتے حضور ﷺ کی یہ صفت اگلی کتابوں میں تھی جیسے قرآن ناقل ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ01507) 7۔ الاعراف :157) یعنی جو لوگ پیروی کرتے ہیں اس رسول و نبی امی کی جس کی صفات وہ اپنی کتاب توراۃ اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہیں جو انہیں نیکیوں کا حکم کرتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے۔ لطف یہ ہے کہ اللہ کے معصوم نبی ﷺ ہمشہ لکھنے سے دور ہی رکھے گئے۔ ایک سطر کے معنی، ایک حرف بھی لکھنا آپ کو نہ آتا تھا۔ آپ نے کاتب مقرر کرلئے تھے جو وحی اللہ کو لکھ لیتے تھے اور ضروت کے وقت شاہان دنیا سے خط و کتابت بھی وہی کرتے تھے پچھلے فقہاء میں قاضی ابو الولید باجی وغیرہ نے کہا کہ حدیبیہ والے دن خود رسول کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے یہ جملہ صلح نامے میں لکھا تھا کہ ھذا ماقاضی علیہ محمدا بن عبداللہ یعنی یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمد بن عبداللہ ﷺ نے فیصلہ کیا۔ لیکن یہ قول درست نہیں یہ وہم قاضی صاحب کو بخاری شریف کی اس روایت سے ہوا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ ثم اخذ فکتب یعنی پھر حضور ﷺ نے آپ لیکر لکھا۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے لکھنے کا حکم دیا۔ جیسے دوسری روایت میں صاف موجود ہے کہ ثم امر فکتب یعنی آپ نے پھر حکم دیا اور لکھا گیا۔ مشرق ومغرب کے تمام علماء کا یہی مذہب ہے بلکہ باجی وغیرہ پر انہوں نے اس قول کا بہت سخت رد کیا ہے اور اس سے بیزاری ظاہر کی ہے۔ اور اس قول کی تردید اپنے اشعار اور خطبوں میں بھی کی ہے۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ قاضی صاحب وغیرہ کا یہ خیال ہرگز نہیں کہ آپ اچھی طرح لکھنا جانتے تھے بلکہ وہ یہ کہتے تھے کہ آپ کا یہ جملہ صلح نامے پر لکھا جانا معجزہ تھا۔ جیسا کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا اور ایک روایت میں ہے کہ کر لکھا ہوا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا اگرچہ ان پڑھ ہو تب بھی اسے پڑھ لے گا۔ یہ مومن کی ایک کرامت ہوگی اسی طرح یہ فقرہ لکھ لینا اللہ کے نبی ﷺ کا ایک معجزہ تھا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ لکھنا جانتے تھے۔ یا آپ نے سیکھا تھا۔ بعض لوگ ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں ہے کہ آنحضور ﷺ کا انتقال نہ ہوا جب تک کہ آپ نے لکھنا نہ سیکھ لیا۔ یہ روایت بالکل ضعیف ہے بلکہ محض بےاصل ہے قرآن کریم کی اس آیت کو دیکھئے کس قدر تاکید کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے پڑھا ہونے کا انکار کرتی ہے اور کتنی سختی کے ساتھ پرزور الفاظ میں اس کا بھی انکار کرتی ہے کہ آپ لکھناجانتے ہوں۔ یہ جو فرمایا کہ داہنے ہاتھ سے یہ باعتبار غالب کے کہہ دیا ہے ورنہ لکھا تو دائیں ہاتھ سے ہی جاتا ہے اسی کی طرح آیت (وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ 38) 6۔ الانعام :38) میں ہے کیونکہ ہر پرند اپنے پروں سے ہی اڑتا ہے۔ پس حضور ﷺ کا ان پڑھ ہونا بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو یہ باطل پرست آپ کی نسبت شکر کرنے کی گنجائش پاتے کہ سابقہ انبیاء کی کتابوں سے پڑھ لکھ کر نقل کرلیتا ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں۔ تعجب ہے کہ باوجود ایسانہ ہونے کے پھر بھی یہ لوگ ہمارے رسول ﷺ پر یہ الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ گزرے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنہیں اس نے لکھ لیا ہے۔ وہی اس کے سامنے صبح شام پڑھی جاتی ہیں۔ باوجودیکہ خود جانتے ہیں کہ ہمارے رسول ﷺ پڑھے لکھے نہیں۔ ان کے اس قول کے جواب میں جناب باری عز اسمہ نے فرمایا انہیں جواب دو کہ اسے اس اللہ نے نازل فرمایا ہے جو زمین و آسمان کی پوشیدگیوں کو جانتا ہے۔ یہاں فرمایا بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔ خود آیات واضح صاف اور سلجھے ہوئے الفاظ میں ہیں۔ پھر علماء پر ان کا سمجھنا یاد کرنا پہنچانا سب آسان ہے جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 17) 54۔ القمر :17) یعنی ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے بالکل آسان کردیا ہے پس کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نبی کو ایسی چیز دی گئی جس کے باعث لوگ ان پر ایمان لائے مجھے ایسی چیز وحی اللہ دی گئی ہے جو اللہ نے میری طرف نازل فرمائی ہے تو مجھے ذات اللہ سے امید ہے کہ تمام نبیوں کے تابعداروں سے زیادہ میرے تابعدار ہونگے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ اے نبی ! میں تمہیں آزماؤنگا اور تمہاری وجہ سے لوگوں کی بھی آزمائش کرلونگا۔ میں تم پر ایسی کتاب نازل فرماؤنگا جسے پانی دھو نہ سکے۔ تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے حروف پانی سے دھوئے جائیں لیکن وہ ضائع ہونے سے محفوظ ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے اگر قرآن کسی چمڑے میں ہو تو اسے آگ نہیں جلائے گی۔ اس لئے کہ وہ سینوں میں محفوظ ہے، زبانوں پر آسان ہے اور دلوں میں موجود ہے۔ اور اپنے لفظ اور معنی کے اعتبار سے ایک جیتا جاگتا معجزہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ کتابوں میں اس امت کی ایک صفت یہ بھی مروی ہے کہ اناجیلھم فی صدورھم ان کی کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ امام ابن جریر اسے پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں بلکہ اس کا علم کہ تو اس کتاب سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتا تھا یہ آیات بینات اہل کتاب کے ذی علم لوگوں کے سینوں میں موجود ہیں۔ قتادۃ اور ابن جریج سے بھی یہی منقول ہے اور پہلا قول حسن بصری کا ہے اور یہی بہ روایت عوفی، ابن عباس سے منقول ہے اور یہ ضحاک نے کہا ہے اور یہی زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ہماری آیتوں کا جھٹلانا قبول نہ کرنا یہ حد سے گذرجانے والوں اور ضدی لوگوں کا ہی کام ہے جو حق ناحق کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے اگرچہ ان کے پاس نشانیاں آجائیں۔ یہاں تک کہ وہ المناک عذاب کا مشاہدہ کرلیں۔
محاسن کلام کا بےمثال جمال قرآن حکیم کافروں کی ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے ایسی ہی نشانی طلب کی جیسی کہ حضرت صالح سے ان کی قوم نے مانگی تھی۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے انہیں جواب دیجئے کہ آیتیں معجزے اور نشانات دکھانا میرے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اگر اس نے تمہاری نیک نیتیں معلوم کرلیں تو وہ معجزہ دکھائے گا اور اگر تم اپنی ضد اور انکار سے بڑھ بڑھ کر باتیں ہی بنا رہے ہو تو وہ اللہ تم سے دبا ہوا نہیں کہ اس کی چاہت تمہاری چاہت کے تابع ہوجائے تم جو مانگو وہ کر ہی دکھائے گا۔ جیسے ایک اور روایت میں ہے کہ آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس کے کہ گذشتہ لوگ بھی برابر انکار ہی کرتے رہے۔ قوم ثمود کو دیکھو ہماری نشانی اونٹنی جو ان کے پاس آئی انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ کہہ دو کہ میں تو صرف ایک مبلغ ہوں پیغمبر ہوں قاصد ہوں میرا کام تمہارے کانوں تک آواز اللہ کو پہنچا دینا ہے میں نے تو تمہیں تمہارا برا بھلا سمجھا دیا نیک بد سمجھا دیا اب تم جانو تمہارا کام جانے۔ ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے وہ اگر کسی کو گمراہ کردے تو اس کی رہبری کوئی نہیں کرسکتا۔ چناچہ ایک اور جگہ ہے تجھ پر ان کی ہدایت کا ذمہ نہیں یہ اللہ کا کام ہے اور اس کی چاہت پر موقوف ہے۔ بھلا اس فضول گوئی کو تو دیکھو کہ کتاب عزیز ان کے پاس آچکی جس کے پاس کسی طرف سے باطل پھٹک نہیں سکتا اور انہیں اب تک نشانی کی طلب ہے۔ حالانکہ یہ تو تمام معجزات سے بڑھ کر معجزہ ہے۔ تمام دنیا کے فصیح وبلیغ اس کے معارضہ سے اور اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آگئے۔ پورے قرآن کا تو معارضہ کیا کرتے ؟ دس سورتوں کا بلکہ ایک سورت کا معارضہ بھی چیلنج کے باوجود نہ کرسکے۔ تو کیا اتنا بڑا اور اتنا بھاری معجزہ انہیں کافی نہیں ؟ جو اور معجزے طلب کرنے بیٹھے ہیں۔ یہ تو وہ پاک کتاب ہے جس میں گذشتہ باتوں کی خبر ہے اور ہونے والی باتوں کی پیش گوئی ہے اور جھگڑوں کا فیصلہ ہے اور یہ اس کی زبان سے پڑھی جاتی ہے جو محض امی ہے جس نے کسی سے الف با بھی نہیں پڑھا جو ایک حرف لکھنا نہیں جانتا بلکہ اہل علم کی صحبت میں بھی کبھی نہیں بیٹھا۔ اور وہ کتاب پڑھتا ہے جس سے گزشتہ کتابوں کی بھی صحت وعدم صحت معلوم ہوتی ہے جس کے الفاظ میں حلاوت جس کی نظم میں ملاحت جس کے انداز میں فصاحت جس کے بیان میں بلاغت جس کا طرز دلربا جس کا سیاق دلچسپ جس میں دنیا بھر کی خوبیاں موجود۔ خود بنی اسرائیل کے علماء بھی اس کی تصدیق پر مجبور۔ اگلی کتابیں جس پر شاہد۔ بھلے لوگ جس کے مداح اور قائل وعامل۔ اس اتنے بڑے معجزے کی موجودگی میں کسی اور معجزہ کی طلب محض بدنیتی اور گریز ہے۔ پھر فرماتا ہے اس میں ایمان والوں کے لئے رحمت و نصیحت ہے۔ یہ قرآن حق کا ظاہر کرنے والا باطل کو برباد کرنے والا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے واقعات تمہارے سامنے رکھ کر تمہیں نصیحت وعبرت کا موقعہ دیتا ہے گنہگاروں کا انجام دکھاکر تمہیں گناہوں سے روکتا ہے۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمہاری تکذیب و سرکشی کو اور میری سچائی وخیر خواہی کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر میں اس پر جھوٹ باندھتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا وہ ایسے لوگوں کو بغیر انتقام نہیں چھوڑتا۔ جیسے خود اس کا فرمان ہے کہ اگر یہ رسول مجھ پر ایک بات بھی گھڑ لیتا تو میں اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتا اور کوئی نہ ہوتا جو اسے میرے ہاتھ سے چھڑاسکے۔ چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے اور میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی تم سے کہتا ہوں اس لئے وہ میری تائید کرتا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتا جاتا ہے اور مجھ سے معجزات پر معجزات ظاہر کراتا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے غیب کا جاننے والا ہے اس پر ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں باطل کا ماننے والے اور اللہ کو نہ ماننے والے ہی نقصان یافتہ اور ذلیل ہیں قیامت کے دن انہیں ان کی بد اعمالی کا نتیجہ بھگتنا پڑھے گا اور جو سرکشیاں دنیا میں کی ہیں سب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ بھلا اللہ کو نہ ماننا اور بتوں کو ماننا اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہوگا ؟ وہ علیم وحکیم اللہ اس کا بدلہ دیئے بغیر ہرگز نہیں رہے گا۔
محاسن کلام کا بےمثال جمال قرآن حکیم کافروں کی ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے ایسی ہی نشانی طلب کی جیسی کہ حضرت صالح سے ان کی قوم نے مانگی تھی۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے انہیں جواب دیجئے کہ آیتیں معجزے اور نشانات دکھانا میرے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اگر اس نے تمہاری نیک نیتیں معلوم کرلیں تو وہ معجزہ دکھائے گا اور اگر تم اپنی ضد اور انکار سے بڑھ بڑھ کر باتیں ہی بنا رہے ہو تو وہ اللہ تم سے دبا ہوا نہیں کہ اس کی چاہت تمہاری چاہت کے تابع ہوجائے تم جو مانگو وہ کر ہی دکھائے گا۔ جیسے ایک اور روایت میں ہے کہ آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس کے کہ گذشتہ لوگ بھی برابر انکار ہی کرتے رہے۔ قوم ثمود کو دیکھو ہماری نشانی اونٹنی جو ان کے پاس آئی انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ کہہ دو کہ میں تو صرف ایک مبلغ ہوں پیغمبر ہوں قاصد ہوں میرا کام تمہارے کانوں تک آواز اللہ کو پہنچا دینا ہے میں نے تو تمہیں تمہارا برا بھلا سمجھا دیا نیک بد سمجھا دیا اب تم جانو تمہارا کام جانے۔ ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے وہ اگر کسی کو گمراہ کردے تو اس کی رہبری کوئی نہیں کرسکتا۔ چناچہ ایک اور جگہ ہے تجھ پر ان کی ہدایت کا ذمہ نہیں یہ اللہ کا کام ہے اور اس کی چاہت پر موقوف ہے۔ بھلا اس فضول گوئی کو تو دیکھو کہ کتاب عزیز ان کے پاس آچکی جس کے پاس کسی طرف سے باطل پھٹک نہیں سکتا اور انہیں اب تک نشانی کی طلب ہے۔ حالانکہ یہ تو تمام معجزات سے بڑھ کر معجزہ ہے۔ تمام دنیا کے فصیح وبلیغ اس کے معارضہ سے اور اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آگئے۔ پورے قرآن کا تو معارضہ کیا کرتے ؟ دس سورتوں کا بلکہ ایک سورت کا معارضہ بھی چیلنج کے باوجود نہ کرسکے۔ تو کیا اتنا بڑا اور اتنا بھاری معجزہ انہیں کافی نہیں ؟ جو اور معجزے طلب کرنے بیٹھے ہیں۔ یہ تو وہ پاک کتاب ہے جس میں گذشتہ باتوں کی خبر ہے اور ہونے والی باتوں کی پیش گوئی ہے اور جھگڑوں کا فیصلہ ہے اور یہ اس کی زبان سے پڑھی جاتی ہے جو محض امی ہے جس نے کسی سے الف با بھی نہیں پڑھا جو ایک حرف لکھنا نہیں جانتا بلکہ اہل علم کی صحبت میں بھی کبھی نہیں بیٹھا۔ اور وہ کتاب پڑھتا ہے جس سے گزشتہ کتابوں کی بھی صحت وعدم صحت معلوم ہوتی ہے جس کے الفاظ میں حلاوت جس کی نظم میں ملاحت جس کے انداز میں فصاحت جس کے بیان میں بلاغت جس کا طرز دلربا جس کا سیاق دلچسپ جس میں دنیا بھر کی خوبیاں موجود۔ خود بنی اسرائیل کے علماء بھی اس کی تصدیق پر مجبور۔ اگلی کتابیں جس پر شاہد۔ بھلے لوگ جس کے مداح اور قائل وعامل۔ اس اتنے بڑے معجزے کی موجودگی میں کسی اور معجزہ کی طلب محض بدنیتی اور گریز ہے۔ پھر فرماتا ہے اس میں ایمان والوں کے لئے رحمت و نصیحت ہے۔ یہ قرآن حق کا ظاہر کرنے والا باطل کو برباد کرنے والا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے واقعات تمہارے سامنے رکھ کر تمہیں نصیحت وعبرت کا موقعہ دیتا ہے گنہگاروں کا انجام دکھاکر تمہیں گناہوں سے روکتا ہے۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمہاری تکذیب و سرکشی کو اور میری سچائی وخیر خواہی کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر میں اس پر جھوٹ باندھتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا وہ ایسے لوگوں کو بغیر انتقام نہیں چھوڑتا۔ جیسے خود اس کا فرمان ہے کہ اگر یہ رسول مجھ پر ایک بات بھی گھڑ لیتا تو میں اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتا اور کوئی نہ ہوتا جو اسے میرے ہاتھ سے چھڑاسکے۔ چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے اور میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی تم سے کہتا ہوں اس لئے وہ میری تائید کرتا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتا جاتا ہے اور مجھ سے معجزات پر معجزات ظاہر کراتا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے غیب کا جاننے والا ہے اس پر ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں باطل کا ماننے والے اور اللہ کو نہ ماننے والے ہی نقصان یافتہ اور ذلیل ہیں قیامت کے دن انہیں ان کی بد اعمالی کا نتیجہ بھگتنا پڑھے گا اور جو سرکشیاں دنیا میں کی ہیں سب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ بھلا اللہ کو نہ ماننا اور بتوں کو ماننا اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہوگا ؟ وہ علیم وحکیم اللہ اس کا بدلہ دیئے بغیر ہرگز نہیں رہے گا۔
محاسن کلام کا بےمثال جمال قرآن حکیم کافروں کی ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے ایسی ہی نشانی طلب کی جیسی کہ حضرت صالح سے ان کی قوم نے مانگی تھی۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے انہیں جواب دیجئے کہ آیتیں معجزے اور نشانات دکھانا میرے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اگر اس نے تمہاری نیک نیتیں معلوم کرلیں تو وہ معجزہ دکھائے گا اور اگر تم اپنی ضد اور انکار سے بڑھ بڑھ کر باتیں ہی بنا رہے ہو تو وہ اللہ تم سے دبا ہوا نہیں کہ اس کی چاہت تمہاری چاہت کے تابع ہوجائے تم جو مانگو وہ کر ہی دکھائے گا۔ جیسے ایک اور روایت میں ہے کہ آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس کے کہ گذشتہ لوگ بھی برابر انکار ہی کرتے رہے۔ قوم ثمود کو دیکھو ہماری نشانی اونٹنی جو ان کے پاس آئی انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ کہہ دو کہ میں تو صرف ایک مبلغ ہوں پیغمبر ہوں قاصد ہوں میرا کام تمہارے کانوں تک آواز اللہ کو پہنچا دینا ہے میں نے تو تمہیں تمہارا برا بھلا سمجھا دیا نیک بد سمجھا دیا اب تم جانو تمہارا کام جانے۔ ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے وہ اگر کسی کو گمراہ کردے تو اس کی رہبری کوئی نہیں کرسکتا۔ چناچہ ایک اور جگہ ہے تجھ پر ان کی ہدایت کا ذمہ نہیں یہ اللہ کا کام ہے اور اس کی چاہت پر موقوف ہے۔ بھلا اس فضول گوئی کو تو دیکھو کہ کتاب عزیز ان کے پاس آچکی جس کے پاس کسی طرف سے باطل پھٹک نہیں سکتا اور انہیں اب تک نشانی کی طلب ہے۔ حالانکہ یہ تو تمام معجزات سے بڑھ کر معجزہ ہے۔ تمام دنیا کے فصیح وبلیغ اس کے معارضہ سے اور اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آگئے۔ پورے قرآن کا تو معارضہ کیا کرتے ؟ دس سورتوں کا بلکہ ایک سورت کا معارضہ بھی چیلنج کے باوجود نہ کرسکے۔ تو کیا اتنا بڑا اور اتنا بھاری معجزہ انہیں کافی نہیں ؟ جو اور معجزے طلب کرنے بیٹھے ہیں۔ یہ تو وہ پاک کتاب ہے جس میں گذشتہ باتوں کی خبر ہے اور ہونے والی باتوں کی پیش گوئی ہے اور جھگڑوں کا فیصلہ ہے اور یہ اس کی زبان سے پڑھی جاتی ہے جو محض امی ہے جس نے کسی سے الف با بھی نہیں پڑھا جو ایک حرف لکھنا نہیں جانتا بلکہ اہل علم کی صحبت میں بھی کبھی نہیں بیٹھا۔ اور وہ کتاب پڑھتا ہے جس سے گزشتہ کتابوں کی بھی صحت وعدم صحت معلوم ہوتی ہے جس کے الفاظ میں حلاوت جس کی نظم میں ملاحت جس کے انداز میں فصاحت جس کے بیان میں بلاغت جس کا طرز دلربا جس کا سیاق دلچسپ جس میں دنیا بھر کی خوبیاں موجود۔ خود بنی اسرائیل کے علماء بھی اس کی تصدیق پر مجبور۔ اگلی کتابیں جس پر شاہد۔ بھلے لوگ جس کے مداح اور قائل وعامل۔ اس اتنے بڑے معجزے کی موجودگی میں کسی اور معجزہ کی طلب محض بدنیتی اور گریز ہے۔ پھر فرماتا ہے اس میں ایمان والوں کے لئے رحمت و نصیحت ہے۔ یہ قرآن حق کا ظاہر کرنے والا باطل کو برباد کرنے والا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے واقعات تمہارے سامنے رکھ کر تمہیں نصیحت وعبرت کا موقعہ دیتا ہے گنہگاروں کا انجام دکھاکر تمہیں گناہوں سے روکتا ہے۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمہاری تکذیب و سرکشی کو اور میری سچائی وخیر خواہی کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر میں اس پر جھوٹ باندھتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا وہ ایسے لوگوں کو بغیر انتقام نہیں چھوڑتا۔ جیسے خود اس کا فرمان ہے کہ اگر یہ رسول مجھ پر ایک بات بھی گھڑ لیتا تو میں اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتا اور کوئی نہ ہوتا جو اسے میرے ہاتھ سے چھڑاسکے۔ چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے اور میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی تم سے کہتا ہوں اس لئے وہ میری تائید کرتا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتا جاتا ہے اور مجھ سے معجزات پر معجزات ظاہر کراتا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے غیب کا جاننے والا ہے اس پر ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں باطل کا ماننے والے اور اللہ کو نہ ماننے والے ہی نقصان یافتہ اور ذلیل ہیں قیامت کے دن انہیں ان کی بد اعمالی کا نتیجہ بھگتنا پڑھے گا اور جو سرکشیاں دنیا میں کی ہیں سب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ بھلا اللہ کو نہ ماننا اور بتوں کو ماننا اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہوگا ؟ وہ علیم وحکیم اللہ اس کا بدلہ دیئے بغیر ہرگز نہیں رہے گا۔
موت کے بعد کفار کو عذاب اور مومنوں کو جنت مشرکوں کا اپنی جہالت سے عذاب الٰہی طلب کرنا بیان ہو رہا ہے یہ اللہ کے نبی سے بھی یہی کہتے تھے اور خود اللہ تعالیٰ سے بھی یہی دعائیں کرتے تھے کی جناب باری اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمیں اور کوئی دردناک عذاب کر۔ یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ رب العلمین یہ بات مقرر کرچکا ہے کہ ان کفار کو قیامت کے دن عذاب ہونگے اگر یہ نہ ہوتا تو انکے مانگتے ہی عذاب کے مہیب بادل ان پر برس پڑتے۔ اب بھی یہ یقین مانیں کہ یہ عذاب آئیں گے اور ضرورآئیں گے بلکہ انکی بیخبر ی میں اچانک اور یک بیک آپڑیں گے۔ یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور جہنم بھی انہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں یعنی یقینا انہیں عذاب ہوگا۔ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ وہ جہنم یہی بحر اخضر ہے ستارے اسی میں جھڑیں گے اور سورج چاند اس میں بےنور کرکے ڈال دئیے جائیں گے اور یہ بھڑک اٹھے گا اور جہنہم بن جائے گا۔ مسند احمد میں مرفوع حدیث ہے کہ سمندر ہی جہنم ہے راوی حدیث حضرت یعلی سے لوگوں نے کہا کہ کیا آپ لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت (نَارًا ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۭ 29) 18۔ الكهف :29) یعنی وہ آگ جسے قناتیں گھیرے ہوئے ہیں تو فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں یعلی کی جان ہے کہ میں اس میں ہرگز داخل نہ ہونگا جب تک اللہ کے سامنے پیش نہ کیا جاؤنگا اور مجھے اس کا ایک قطرہ بھی نہ پہنچے گا یہاں تک کہ میں اللہ کے سامنے پیش کیا جاؤں۔ یہ تفسیر بھی بہت غریب ہے اور یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ اس دن انہیں نیچے سے آگ ڈھانک لے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے (لھم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش) ان کے لئے جہنم میں اوڑھنا بچھونا ہے اور آیت میں ہے (لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَــلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَــلٌ ۭ ذٰلِكَ يُخَــوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ ۭ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ 16) 39۔ الزمر :16) یعنی ان کے اوپر نیچے سے آگ ہی کا فرش و سائبان ہوگا۔ اور مقام پر ارشاد ہے (لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حِيْنَ لَا يَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَلَا هُمْ يُنْــصَرُوْنَ 39) 21۔ الأنبیاء :39) یعنی کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیں جبکہ نہ یہ اپنے آگے سے آگ کو ہٹاسکیں گے نہ پیچھے سے ان آیتوں سے معلوم ہوگیا کہ ہر طرف سے ان کفار کو آگ کھا رہی ہوگی آگے سے پیچھے سے اوپر سے نیچے سے دائیں سے بائیں سے۔ اس پر اللہ عالم کی ڈانٹ ڈپٹ اور مصیبت ہوگی۔ ادھر ہر وقت کہا جائے گا لواب عذاب کے مزے چکھو پس ایک تو وہ ظاہری جسمانی عذاب دوسرا یہ باطنی روحانی عذاب۔ اسی کا ذکر آیت (يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ۭ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ 48) 54۔ القمر :48) یعنی جبکہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ لواب آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔ جس دن انہیں دھکے دے دے کر جہنم میں ڈالا جائے گا اور کہا جائے گا یہ وہ جہنم ہے جسے تم جھٹلاتے رہے اب بتاؤ ! یہ جادو ہے ؟ یا تم اندھے ہو ؟ جاؤ اب جہنم میں چلے جاؤ اب تمہارا صبر کرنا یا نہ کرنا یکساں ہے۔ تمہیں اپنے اعمال کا بدلہ ضرور بھگتنا ہے۔
موت کے بعد کفار کو عذاب اور مومنوں کو جنت مشرکوں کا اپنی جہالت سے عذاب الٰہی طلب کرنا بیان ہو رہا ہے یہ اللہ کے نبی سے بھی یہی کہتے تھے اور خود اللہ تعالیٰ سے بھی یہی دعائیں کرتے تھے کی جناب باری اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمیں اور کوئی دردناک عذاب کر۔ یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ رب العلمین یہ بات مقرر کرچکا ہے کہ ان کفار کو قیامت کے دن عذاب ہونگے اگر یہ نہ ہوتا تو انکے مانگتے ہی عذاب کے مہیب بادل ان پر برس پڑتے۔ اب بھی یہ یقین مانیں کہ یہ عذاب آئیں گے اور ضرورآئیں گے بلکہ انکی بیخبر ی میں اچانک اور یک بیک آپڑیں گے۔ یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور جہنم بھی انہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں یعنی یقینا انہیں عذاب ہوگا۔ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ وہ جہنم یہی بحر اخضر ہے ستارے اسی میں جھڑیں گے اور سورج چاند اس میں بےنور کرکے ڈال دئیے جائیں گے اور یہ بھڑک اٹھے گا اور جہنہم بن جائے گا۔ مسند احمد میں مرفوع حدیث ہے کہ سمندر ہی جہنم ہے راوی حدیث حضرت یعلی سے لوگوں نے کہا کہ کیا آپ لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت (نَارًا ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۭ 29) 18۔ الكهف :29) یعنی وہ آگ جسے قناتیں گھیرے ہوئے ہیں تو فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں یعلی کی جان ہے کہ میں اس میں ہرگز داخل نہ ہونگا جب تک اللہ کے سامنے پیش نہ کیا جاؤنگا اور مجھے اس کا ایک قطرہ بھی نہ پہنچے گا یہاں تک کہ میں اللہ کے سامنے پیش کیا جاؤں۔ یہ تفسیر بھی بہت غریب ہے اور یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ اس دن انہیں نیچے سے آگ ڈھانک لے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے (لھم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش) ان کے لئے جہنم میں اوڑھنا بچھونا ہے اور آیت میں ہے (لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَــلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَــلٌ ۭ ذٰلِكَ يُخَــوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ ۭ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ 16) 39۔ الزمر :16) یعنی ان کے اوپر نیچے سے آگ ہی کا فرش و سائبان ہوگا۔ اور مقام پر ارشاد ہے (لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حِيْنَ لَا يَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَلَا هُمْ يُنْــصَرُوْنَ 39) 21۔ الأنبیاء :39) یعنی کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیں جبکہ نہ یہ اپنے آگے سے آگ کو ہٹاسکیں گے نہ پیچھے سے ان آیتوں سے معلوم ہوگیا کہ ہر طرف سے ان کفار کو آگ کھا رہی ہوگی آگے سے پیچھے سے اوپر سے نیچے سے دائیں سے بائیں سے۔ اس پر اللہ عالم کی ڈانٹ ڈپٹ اور مصیبت ہوگی۔ ادھر ہر وقت کہا جائے گا لواب عذاب کے مزے چکھو پس ایک تو وہ ظاہری جسمانی عذاب دوسرا یہ باطنی روحانی عذاب۔ اسی کا ذکر آیت (يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ۭ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ 48) 54۔ القمر :48) یعنی جبکہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ لواب آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔ جس دن انہیں دھکے دے دے کر جہنم میں ڈالا جائے گا اور کہا جائے گا یہ وہ جہنم ہے جسے تم جھٹلاتے رہے اب بتاؤ ! یہ جادو ہے ؟ یا تم اندھے ہو ؟ جاؤ اب جہنم میں چلے جاؤ اب تمہارا صبر کرنا یا نہ کرنا یکساں ہے۔ تمہیں اپنے اعمال کا بدلہ ضرور بھگتنا ہے۔
موت کے بعد کفار کو عذاب اور مومنوں کو جنت مشرکوں کا اپنی جہالت سے عذاب الٰہی طلب کرنا بیان ہو رہا ہے یہ اللہ کے نبی سے بھی یہی کہتے تھے اور خود اللہ تعالیٰ سے بھی یہی دعائیں کرتے تھے کی جناب باری اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمیں اور کوئی دردناک عذاب کر۔ یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ رب العلمین یہ بات مقرر کرچکا ہے کہ ان کفار کو قیامت کے دن عذاب ہونگے اگر یہ نہ ہوتا تو انکے مانگتے ہی عذاب کے مہیب بادل ان پر برس پڑتے۔ اب بھی یہ یقین مانیں کہ یہ عذاب آئیں گے اور ضرورآئیں گے بلکہ انکی بیخبر ی میں اچانک اور یک بیک آپڑیں گے۔ یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور جہنم بھی انہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں یعنی یقینا انہیں عذاب ہوگا۔ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ وہ جہنم یہی بحر اخضر ہے ستارے اسی میں جھڑیں گے اور سورج چاند اس میں بےنور کرکے ڈال دئیے جائیں گے اور یہ بھڑک اٹھے گا اور جہنہم بن جائے گا۔ مسند احمد میں مرفوع حدیث ہے کہ سمندر ہی جہنم ہے راوی حدیث حضرت یعلی سے لوگوں نے کہا کہ کیا آپ لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت (نَارًا ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۭ 29) 18۔ الكهف :29) یعنی وہ آگ جسے قناتیں گھیرے ہوئے ہیں تو فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں یعلی کی جان ہے کہ میں اس میں ہرگز داخل نہ ہونگا جب تک اللہ کے سامنے پیش نہ کیا جاؤنگا اور مجھے اس کا ایک قطرہ بھی نہ پہنچے گا یہاں تک کہ میں اللہ کے سامنے پیش کیا جاؤں۔ یہ تفسیر بھی بہت غریب ہے اور یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ اس دن انہیں نیچے سے آگ ڈھانک لے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے (لھم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش) ان کے لئے جہنم میں اوڑھنا بچھونا ہے اور آیت میں ہے (لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَــلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَــلٌ ۭ ذٰلِكَ يُخَــوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ ۭ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ 16) 39۔ الزمر :16) یعنی ان کے اوپر نیچے سے آگ ہی کا فرش و سائبان ہوگا۔ اور مقام پر ارشاد ہے (لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حِيْنَ لَا يَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَلَا هُمْ يُنْــصَرُوْنَ 39) 21۔ الأنبیاء :39) یعنی کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیں جبکہ نہ یہ اپنے آگے سے آگ کو ہٹاسکیں گے نہ پیچھے سے ان آیتوں سے معلوم ہوگیا کہ ہر طرف سے ان کفار کو آگ کھا رہی ہوگی آگے سے پیچھے سے اوپر سے نیچے سے دائیں سے بائیں سے۔ اس پر اللہ عالم کی ڈانٹ ڈپٹ اور مصیبت ہوگی۔ ادھر ہر وقت کہا جائے گا لواب عذاب کے مزے چکھو پس ایک تو وہ ظاہری جسمانی عذاب دوسرا یہ باطنی روحانی عذاب۔ اسی کا ذکر آیت (يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ۭ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ 48) 54۔ القمر :48) یعنی جبکہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ لواب آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔ جس دن انہیں دھکے دے دے کر جہنم میں ڈالا جائے گا اور کہا جائے گا یہ وہ جہنم ہے جسے تم جھٹلاتے رہے اب بتاؤ ! یہ جادو ہے ؟ یا تم اندھے ہو ؟ جاؤ اب جہنم میں چلے جاؤ اب تمہارا صبر کرنا یا نہ کرنا یکساں ہے۔ تمہیں اپنے اعمال کا بدلہ ضرور بھگتنا ہے۔
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی نے ان کی پوری تائید ونصرت کی اور وہاں وہ بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ نے اور خود حضور ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو موت کے نیچے سے نجات نہیں پاسکتے پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جاکر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایماندار نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلندی وبالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی کہیں شراب طہور کی کہیں شہد کی کہیں دودھ کی۔ یہ چشمیں خود بخود جہاں چاہیں بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں رہیں گے نہ وہاں سے نکالیں جائیں نہ ہٹائے جائیں گے نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالا خانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی۔ اس کے دشمنوں کو ترک کیا اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات ماردی۔ ابن ابی حاتم میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں خوش کلام نرم گو ہوں۔ روزے نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوتے ہوئے ہوں۔ یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہوں یا دنیوی اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقیسم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو اسے وہ وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہوگئے اور بادشاہ بن گئے فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے وہ کسی بھی صورت اپنی مخلوق کو نہیں بھولتا۔ چینٹیوں کو ان کے سوراخوں میں پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) یعنی کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں میں رسول ﷺ کے ساتھ چلا آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کرکے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا حضور ﷺ مجھ سے تو یہ ردی کجھوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کھانا ملا ہی نہیں۔ سنو اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر وکسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر تیرا کیا حال ہوگا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہوگا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کرلیاکریں گے۔ اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودا ہوجائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے جو آیت (وکاین الخ) ، نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار ودرہم جمع کروں نہ کل کے لئے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابو العطوف جزی ضعیف ہے۔ یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر وبال سفید ہوتے ہیں یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کرکے بھاگ جاتا ہے کچھ دنوں کے بعد ان پروں کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو نفع اٹھاؤ گے روزے رکھو تندرست رہو گے جہاد کرو غنیمت ملے گی۔ ایک اور روایت میں ہے جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی نے ان کی پوری تائید ونصرت کی اور وہاں وہ بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ نے اور خود حضور ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو موت کے نیچے سے نجات نہیں پاسکتے پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جاکر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایماندار نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلندی وبالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی کہیں شراب طہور کی کہیں شہد کی کہیں دودھ کی۔ یہ چشمیں خود بخود جہاں چاہیں بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں رہیں گے نہ وہاں سے نکالیں جائیں نہ ہٹائے جائیں گے نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالا خانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی۔ اس کے دشمنوں کو ترک کیا اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات ماردی۔ ابن ابی حاتم میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں خوش کلام نرم گو ہوں۔ روزے نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوتے ہوئے ہوں۔ یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہوں یا دنیوی اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقیسم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو اسے وہ وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہوگئے اور بادشاہ بن گئے فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے وہ کسی بھی صورت اپنی مخلوق کو نہیں بھولتا۔ چینٹیوں کو ان کے سوراخوں میں پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) یعنی کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں میں رسول ﷺ کے ساتھ چلا آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کرکے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا حضور ﷺ مجھ سے تو یہ ردی کجھوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کھانا ملا ہی نہیں۔ سنو اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر وکسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر تیرا کیا حال ہوگا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہوگا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کرلیاکریں گے۔ اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودا ہوجائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے جو آیت (وکاین الخ) ، نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار ودرہم جمع کروں نہ کل کے لئے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابو العطوف جزی ضعیف ہے۔ یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر وبال سفید ہوتے ہیں یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کرکے بھاگ جاتا ہے کچھ دنوں کے بعد ان پروں کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو نفع اٹھاؤ گے روزے رکھو تندرست رہو گے جہاد کرو غنیمت ملے گی۔ ایک اور روایت میں ہے جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی نے ان کی پوری تائید ونصرت کی اور وہاں وہ بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ نے اور خود حضور ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو موت کے نیچے سے نجات نہیں پاسکتے پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جاکر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایماندار نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلندی وبالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی کہیں شراب طہور کی کہیں شہد کی کہیں دودھ کی۔ یہ چشمیں خود بخود جہاں چاہیں بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں رہیں گے نہ وہاں سے نکالیں جائیں نہ ہٹائے جائیں گے نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالا خانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی۔ اس کے دشمنوں کو ترک کیا اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات ماردی۔ ابن ابی حاتم میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں خوش کلام نرم گو ہوں۔ روزے نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوتے ہوئے ہوں۔ یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہوں یا دنیوی اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقیسم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو اسے وہ وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہوگئے اور بادشاہ بن گئے فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے وہ کسی بھی صورت اپنی مخلوق کو نہیں بھولتا۔ چینٹیوں کو ان کے سوراخوں میں پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) یعنی کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں میں رسول ﷺ کے ساتھ چلا آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کرکے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا حضور ﷺ مجھ سے تو یہ ردی کجھوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کھانا ملا ہی نہیں۔ سنو اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر وکسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر تیرا کیا حال ہوگا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہوگا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کرلیاکریں گے۔ اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودا ہوجائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے جو آیت (وکاین الخ) ، نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار ودرہم جمع کروں نہ کل کے لئے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابو العطوف جزی ضعیف ہے۔ یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر وبال سفید ہوتے ہیں یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کرکے بھاگ جاتا ہے کچھ دنوں کے بعد ان پروں کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو نفع اٹھاؤ گے روزے رکھو تندرست رہو گے جہاد کرو غنیمت ملے گی۔ ایک اور روایت میں ہے جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی نے ان کی پوری تائید ونصرت کی اور وہاں وہ بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ نے اور خود حضور ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو موت کے نیچے سے نجات نہیں پاسکتے پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جاکر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایماندار نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلندی وبالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی کہیں شراب طہور کی کہیں شہد کی کہیں دودھ کی۔ یہ چشمیں خود بخود جہاں چاہیں بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں رہیں گے نہ وہاں سے نکالیں جائیں نہ ہٹائے جائیں گے نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالا خانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی۔ اس کے دشمنوں کو ترک کیا اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات ماردی۔ ابن ابی حاتم میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں خوش کلام نرم گو ہوں۔ روزے نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوتے ہوئے ہوں۔ یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہوں یا دنیوی اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقیسم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو اسے وہ وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہوگئے اور بادشاہ بن گئے فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے وہ کسی بھی صورت اپنی مخلوق کو نہیں بھولتا۔ چینٹیوں کو ان کے سوراخوں میں پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) یعنی کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں میں رسول ﷺ کے ساتھ چلا آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کرکے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا حضور ﷺ مجھ سے تو یہ ردی کجھوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کھانا ملا ہی نہیں۔ سنو اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر وکسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر تیرا کیا حال ہوگا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہوگا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کرلیاکریں گے۔ اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودا ہوجائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے جو آیت (وکاین الخ) ، نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار ودرہم جمع کروں نہ کل کے لئے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابو العطوف جزی ضعیف ہے۔ یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر وبال سفید ہوتے ہیں یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کرکے بھاگ جاتا ہے کچھ دنوں کے بعد ان پروں کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو نفع اٹھاؤ گے روزے رکھو تندرست رہو گے جہاد کرو غنیمت ملے گی۔ ایک اور روایت میں ہے جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی نے ان کی پوری تائید ونصرت کی اور وہاں وہ بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ نے اور خود حضور ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو موت کے نیچے سے نجات نہیں پاسکتے پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جاکر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایماندار نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلندی وبالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی کہیں شراب طہور کی کہیں شہد کی کہیں دودھ کی۔ یہ چشمیں خود بخود جہاں چاہیں بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں رہیں گے نہ وہاں سے نکالیں جائیں نہ ہٹائے جائیں گے نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالا خانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی۔ اس کے دشمنوں کو ترک کیا اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات ماردی۔ ابن ابی حاتم میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں خوش کلام نرم گو ہوں۔ روزے نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوتے ہوئے ہوں۔ یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہوں یا دنیوی اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقیسم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو اسے وہ وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہوگئے اور بادشاہ بن گئے فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے وہ کسی بھی صورت اپنی مخلوق کو نہیں بھولتا۔ چینٹیوں کو ان کے سوراخوں میں پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) یعنی کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں میں رسول ﷺ کے ساتھ چلا آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کرکے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا حضور ﷺ مجھ سے تو یہ ردی کجھوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کھانا ملا ہی نہیں۔ سنو اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر وکسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر تیرا کیا حال ہوگا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہوگا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کرلیاکریں گے۔ اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودا ہوجائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے جو آیت (وکاین الخ) ، نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار ودرہم جمع کروں نہ کل کے لئے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابو العطوف جزی ضعیف ہے۔ یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر وبال سفید ہوتے ہیں یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کرکے بھاگ جاتا ہے کچھ دنوں کے بعد ان پروں کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو نفع اٹھاؤ گے روزے رکھو تندرست رہو گے جہاد کرو غنیمت ملے گی۔ ایک اور روایت میں ہے جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔