Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Ar-Room
Tafsir Ibn Kathir · The Romans · 60 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
بچہ اور ماں باپ ملت ابراہیم حنیف پر جم جاؤ جس دین کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مقرر کردیا ہے اور جسے اے نبی آپ کے ہاتھ پر اللہ نے کمال کو پہنچایا ہے رب کی فطرت سلیمہ پر وہی قائم ہے جو اس دین اسلام کا پابند ہے۔ اسی پر یعنی توحید پر رب نے تمام انسانوں کو بنایا ہے۔ روز اول میں اسی کا سب سے اقرار کرالیا گیا تھا کہ کیا میں سب کا رب نہیں ہوں ؟ تو سب نے اقرار کیا کہ بیشک تو ہی ہمارا رب ہے۔ وہ حدیثیں عنقریب انشاء اللہ بیان ہونگی جن سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جملہ مخلوق کو اپنے سچے دین پر پیدا کیا ہے گو اس کے بعد لوگ یہودیت نصرانیت وغیرہ پر چلے گئے۔ لوگو اللہ کی اس فطرت کو نہ بدلو۔ لوگوں کو اس راہ راست سے نہ ہٹاؤ۔ تو یہ خبر معنی میں امر ہوگی جیسے آیت (وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا 97) 3۔ آل عمران :97) میں یہ معنی نہایت عمدہ اور صحیح ہیں۔ دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو فطرت سلیمہ پر یعنی دین اسلام پر پیدا کیا۔ رب کے اس دین میں کوئی تبدل تغیر نہیں۔ امام بخاری نے یہی معنی کئے ہیں کہ یہاں خلق اللہ سے مراد دین اور فطرت اسلام ہے بخاری شریف میں بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ فرمان رسول ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی اور مجوسی بنادیتے ہیں۔ جیسے بکری کا صحیح سالم بچہ ہوتا ہے جس کے کان لوگ کتر دیتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی (فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 30ڎ) 30۔ الروم :30) مسند احمد میں ہے حضرت اسود بن سریع ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا آپ کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد کیا وہاں ہم بفضل اللہ غالب آگئے اس دن لوگوں نے بہت سے کفار کو قتل کیا یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی قتل کرڈالا حضور کو پتہ چلا تو آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے یہ کیا بات ہے لوگ حد سے آگے نکل جاتے ہیں آج بچوں کو بھی قتل کردیا ہے۔ کسی نے کہا یارسول اللہ ﷺ آخر وہ بھی تو مشرکین کی ہی اولاد تھی آپ نے فرمایا نہیں نہیں۔ یاد رکھو تم میں سے بہترین لوگ مشرکین کے بچے ہیں۔ خبردار بچوں کو کبھی قتل نہ کرنا نابالغوں کے قتل سے رک جانا۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنی زبان سے کچھ کہے پھر اسکے ماں باپ اسے یہود نصرانی بنالیتے ہیں۔ جابر بن عبداللہ کی روایت سے مسند شریف میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اسے زبان آجائے۔ اب یا تو شاکر بنتا ہے یا کافر۔ مسند میں بروایت حضرت ابن عباس مروی ہے کہحضور ﷺ سے مشرکوں کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا وہ خوب جانتا تھا کہ وہ کیا اعمال کرنے والے ہیں۔ آپ سے مروی ہے کہ ایک زمانہ میں میں کہتا تھا مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کیساتھ ہے اور مشرکوں کی اولاد مشرکوں کے ساتھ ہے یہاں تک کہ فلاں شخص نے فلاں سے روایت کرکے مجھے سنایا کہ جب آنحضرت ﷺ سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ خوب عالم ہے اس چیز سے جو وہ کرتے۔ اس حدیث کو سن کر میں نے اپنا فتویٰ چھوڑ دیا حضرت عیاض بن حمار ؓ سے مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ مجھے جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ جو اس نے مجھے آج سکھایا ہے اور اس سے تم جاہل ہو وہ میں تمہیں سکھا دوں۔ فرمایا کہ جو میں نے اپنے بندوں کو دیا ہے میں نے ان کے لئے حلال کیا ہے میں نے اپنے سب بندوں کو یک طرفہ خالص دین والا بنایا ہے ان کے پاس شیطان پہنچتا ہے اور انہیں دین سے گمراہ کرتا ہے اور حلال کو ان پر حرام کرتا ہے اور انہیں میرے ساتھ شریک کرنے کو کہتا ہے جس کی کوئی دلیل نہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نگاہ ڈالی اور عرب وعجم سب کو ناپسند فرمایا سوائے چند اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے۔ وہ فرماتا ہے کہ میں نے تجھے صرف آزمائش کے لئے بھیجا ہے تیری اپنی بھی آزمائش ہوگی اور تیری وجہ سے اور سب کی بھی میں تو تجھ پر وہ کتاب اتارونگا جسے پانی دھو نہ سکے تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا۔ پھر مجھ سے جناب باری عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ میں قریش کو ہوشیار کردوں میں نے اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ کہیں وہ میرا سر کچل کر روٹی جیسا نہ بنادیں ؟ تو فرمایا سن جیسے یہ تجھے نکالیں گے میں انہیں نکالونگا تو ان سے جہاد کر میں تیرا ساتھ دونگا تو خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا۔ تو لشکر بھیج میں اس سے پانچ حصے زیادہ لشکر بھیجوں گا فرمانبرداروں کے لے اپنے نافرمانوں۔ اہل جنت تین قسم کے ہیں عادل بادشاہ توفیق خیر والا سخی۔ نرم دل ہر مسلمان کے ساتھ سلوک احسان کرنے والا پاک دامن سوال اور حرام سے بچنے والا عیالدار آدمی۔ اہل جہنم پانچ قسم کے لوگ ہیں وہ بےوقعت کمینے لوگ جو بےزر اور بےگھر ہیں جو تمہارے دامنوں میں لپٹے رہتے ہیں۔ وہ خائن جو حقیر چیزوں میں بھی خیانت کئے بغیر نہیں رہتا۔ وہ لوگ جو ہر وقت لوگوں کو ان کی جان مال اور اہل و عیال میں دھوکے میں رہتے ہیں صبح شام چالبازیوں اور مکروفریب میں لگے رہتے ہیں۔ پھر آپ نے بخیلی یا کذاب کا ذکر کیا اور فرمایا پانچوں قسم کے لوگ بد زبان بدگو ہیں (مسلم وغیرہ) یہی فطرت سلیمہ یہی شریعت کو مضبوطی سے تھامے رہنا ہی سچے اور سیدھا دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ اور اپنی اسی جہالت کی وجہ سے اللہ کے ایسے پاک دین سے دور بلکہ محروم رہ جاتے ہیں۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے گو تیری حرص ہو لیکن ان میں سے اکثر لوگ بےایمان ہی رہیں گے۔ ایک اور آیت میں ہے اگر تو اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے راہ اللہ سے بہکا دیں گے۔ تم سب اللہ کی طرف راغب رہو اسی کی جانب جھکے رہو اسی کا ڈر خوف رکھو اور اسی کا لحاظ رکھو۔ نمازوں کی پابندی کرو جو سب سے بڑی عبادت اور اطاعت ہے۔ تم مشرک نہ بنو بلکہ موحد اور خالص بن جاؤ اس کے سوا کسی اور سے کوئی مراد وابستہ نہ رکھو۔ حضرت معاذ سے حضرت عمر نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا یہ تین چیزیں ہیں اور یہی نجات کی جڑیں ہیں اول اخلاص جو فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے دوسرے نماز جو دراصل دین ہے تیسرے اطاعت جو عصمت اور بچاؤ ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا آپ نے سچ کہا۔ تمہیں مشرکوں میں نہ ملنا چاہیے تمہیں ان کا ساتھ نہ دینا چاہیے اور نہ ان جیسے فعل کرنا چاہیے جنہوں نے دین اللہ کو بدل دیا بعض باتوں کو مان لیا اور بعض سے انکار کر گئے فرقوا کی دوسری قرأت فارقوا ہے یعنی انہوں نے اپنے دین کو چھوڑ دیا۔ جیسے یہود، نصاری، مجوسی، بت پرست سے اور دوسرے باطل مذاہب والے۔ جیسے ارشاد ہے جن لوگوں نے اپنے دین میں تفریق کی اور گروہ بندی کرلی تو ان میں شامل ہی نہیں ان کا انجام سپرد اللہ ہے تم سے پہلے والی قومیں گروہ گروہ ہوگئیں تھی۔ اس امت میں بھی تفرقہ پڑا لیکن ان میں ایک حق پر ہے ہاں باقی سب گمراہی پر ہیں۔ یہ حق والی جماعت اہل سنت والجماعت ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مضبوط تھامنے والی ہے۔ جس پر سابقہ زمانے کے صحابہ تابعین اور ائمہ مسلمین تھے گذشتہ زمانے میں بھی اور اب بھی۔ جیسے مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ان سب میں نجات پانے والا فرقہ کون سا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا (من کان علی ما انا علیہ واصحابی) یعنی وہ لوگ جو اس پر ہوں جس پر آج میں اور میرے اصحاب ہیں (برادران غور فرمائیے کہ وہ چیز جس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب ؓ آپ کے زمانے میں تھے وہ وحی اللہ یعنی قرآن و حدیث ہی تھی یا کسی امام کی تقلید ؟)
بچہ اور ماں باپ ملت ابراہیم حنیف پر جم جاؤ جس دین کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مقرر کردیا ہے اور جسے اے نبی آپ کے ہاتھ پر اللہ نے کمال کو پہنچایا ہے رب کی فطرت سلیمہ پر وہی قائم ہے جو اس دین اسلام کا پابند ہے۔ اسی پر یعنی توحید پر رب نے تمام انسانوں کو بنایا ہے۔ روز اول میں اسی کا سب سے اقرار کرالیا گیا تھا کہ کیا میں سب کا رب نہیں ہوں ؟ تو سب نے اقرار کیا کہ بیشک تو ہی ہمارا رب ہے۔ وہ حدیثیں عنقریب انشاء اللہ بیان ہونگی جن سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جملہ مخلوق کو اپنے سچے دین پر پیدا کیا ہے گو اس کے بعد لوگ یہودیت نصرانیت وغیرہ پر چلے گئے۔ لوگو اللہ کی اس فطرت کو نہ بدلو۔ لوگوں کو اس راہ راست سے نہ ہٹاؤ۔ تو یہ خبر معنی میں امر ہوگی جیسے آیت (وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا 97) 3۔ آل عمران :97) میں یہ معنی نہایت عمدہ اور صحیح ہیں۔ دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو فطرت سلیمہ پر یعنی دین اسلام پر پیدا کیا۔ رب کے اس دین میں کوئی تبدل تغیر نہیں۔ امام بخاری نے یہی معنی کئے ہیں کہ یہاں خلق اللہ سے مراد دین اور فطرت اسلام ہے بخاری شریف میں بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ فرمان رسول ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی اور مجوسی بنادیتے ہیں۔ جیسے بکری کا صحیح سالم بچہ ہوتا ہے جس کے کان لوگ کتر دیتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی (فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 30ڎ) 30۔ الروم :30) مسند احمد میں ہے حضرت اسود بن سریع ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا آپ کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد کیا وہاں ہم بفضل اللہ غالب آگئے اس دن لوگوں نے بہت سے کفار کو قتل کیا یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی قتل کرڈالا حضور کو پتہ چلا تو آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے یہ کیا بات ہے لوگ حد سے آگے نکل جاتے ہیں آج بچوں کو بھی قتل کردیا ہے۔ کسی نے کہا یارسول اللہ ﷺ آخر وہ بھی تو مشرکین کی ہی اولاد تھی آپ نے فرمایا نہیں نہیں۔ یاد رکھو تم میں سے بہترین لوگ مشرکین کے بچے ہیں۔ خبردار بچوں کو کبھی قتل نہ کرنا نابالغوں کے قتل سے رک جانا۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنی زبان سے کچھ کہے پھر اسکے ماں باپ اسے یہود نصرانی بنالیتے ہیں۔ جابر بن عبداللہ کی روایت سے مسند شریف میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اسے زبان آجائے۔ اب یا تو شاکر بنتا ہے یا کافر۔ مسند میں بروایت حضرت ابن عباس مروی ہے کہحضور ﷺ سے مشرکوں کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا وہ خوب جانتا تھا کہ وہ کیا اعمال کرنے والے ہیں۔ آپ سے مروی ہے کہ ایک زمانہ میں میں کہتا تھا مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کیساتھ ہے اور مشرکوں کی اولاد مشرکوں کے ساتھ ہے یہاں تک کہ فلاں شخص نے فلاں سے روایت کرکے مجھے سنایا کہ جب آنحضرت ﷺ سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ خوب عالم ہے اس چیز سے جو وہ کرتے۔ اس حدیث کو سن کر میں نے اپنا فتویٰ چھوڑ دیا حضرت عیاض بن حمار ؓ سے مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ مجھے جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ جو اس نے مجھے آج سکھایا ہے اور اس سے تم جاہل ہو وہ میں تمہیں سکھا دوں۔ فرمایا کہ جو میں نے اپنے بندوں کو دیا ہے میں نے ان کے لئے حلال کیا ہے میں نے اپنے سب بندوں کو یک طرفہ خالص دین والا بنایا ہے ان کے پاس شیطان پہنچتا ہے اور انہیں دین سے گمراہ کرتا ہے اور حلال کو ان پر حرام کرتا ہے اور انہیں میرے ساتھ شریک کرنے کو کہتا ہے جس کی کوئی دلیل نہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نگاہ ڈالی اور عرب وعجم سب کو ناپسند فرمایا سوائے چند اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے۔ وہ فرماتا ہے کہ میں نے تجھے صرف آزمائش کے لئے بھیجا ہے تیری اپنی بھی آزمائش ہوگی اور تیری وجہ سے اور سب کی بھی میں تو تجھ پر وہ کتاب اتارونگا جسے پانی دھو نہ سکے تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا۔ پھر مجھ سے جناب باری عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ میں قریش کو ہوشیار کردوں میں نے اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ کہیں وہ میرا سر کچل کر روٹی جیسا نہ بنادیں ؟ تو فرمایا سن جیسے یہ تجھے نکالیں گے میں انہیں نکالونگا تو ان سے جہاد کر میں تیرا ساتھ دونگا تو خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا۔ تو لشکر بھیج میں اس سے پانچ حصے زیادہ لشکر بھیجوں گا فرمانبرداروں کے لے اپنے نافرمانوں۔ اہل جنت تین قسم کے ہیں عادل بادشاہ توفیق خیر والا سخی۔ نرم دل ہر مسلمان کے ساتھ سلوک احسان کرنے والا پاک دامن سوال اور حرام سے بچنے والا عیالدار آدمی۔ اہل جہنم پانچ قسم کے لوگ ہیں وہ بےوقعت کمینے لوگ جو بےزر اور بےگھر ہیں جو تمہارے دامنوں میں لپٹے رہتے ہیں۔ وہ خائن جو حقیر چیزوں میں بھی خیانت کئے بغیر نہیں رہتا۔ وہ لوگ جو ہر وقت لوگوں کو ان کی جان مال اور اہل و عیال میں دھوکے میں رہتے ہیں صبح شام چالبازیوں اور مکروفریب میں لگے رہتے ہیں۔ پھر آپ نے بخیلی یا کذاب کا ذکر کیا اور فرمایا پانچوں قسم کے لوگ بد زبان بدگو ہیں (مسلم وغیرہ) یہی فطرت سلیمہ یہی شریعت کو مضبوطی سے تھامے رہنا ہی سچے اور سیدھا دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ اور اپنی اسی جہالت کی وجہ سے اللہ کے ایسے پاک دین سے دور بلکہ محروم رہ جاتے ہیں۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے گو تیری حرص ہو لیکن ان میں سے اکثر لوگ بےایمان ہی رہیں گے۔ ایک اور آیت میں ہے اگر تو اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے راہ اللہ سے بہکا دیں گے۔ تم سب اللہ کی طرف راغب رہو اسی کی جانب جھکے رہو اسی کا ڈر خوف رکھو اور اسی کا لحاظ رکھو۔ نمازوں کی پابندی کرو جو سب سے بڑی عبادت اور اطاعت ہے۔ تم مشرک نہ بنو بلکہ موحد اور خالص بن جاؤ اس کے سوا کسی اور سے کوئی مراد وابستہ نہ رکھو۔ حضرت معاذ سے حضرت عمر نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا یہ تین چیزیں ہیں اور یہی نجات کی جڑیں ہیں اول اخلاص جو فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے دوسرے نماز جو دراصل دین ہے تیسرے اطاعت جو عصمت اور بچاؤ ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا آپ نے سچ کہا۔ تمہیں مشرکوں میں نہ ملنا چاہیے تمہیں ان کا ساتھ نہ دینا چاہیے اور نہ ان جیسے فعل کرنا چاہیے جنہوں نے دین اللہ کو بدل دیا بعض باتوں کو مان لیا اور بعض سے انکار کر گئے فرقوا کی دوسری قرأت فارقوا ہے یعنی انہوں نے اپنے دین کو چھوڑ دیا۔ جیسے یہود، نصاری، مجوسی، بت پرست سے اور دوسرے باطل مذاہب والے۔ جیسے ارشاد ہے جن لوگوں نے اپنے دین میں تفریق کی اور گروہ بندی کرلی تو ان میں شامل ہی نہیں ان کا انجام سپرد اللہ ہے تم سے پہلے والی قومیں گروہ گروہ ہوگئیں تھی۔ اس امت میں بھی تفرقہ پڑا لیکن ان میں ایک حق پر ہے ہاں باقی سب گمراہی پر ہیں۔ یہ حق والی جماعت اہل سنت والجماعت ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مضبوط تھامنے والی ہے۔ جس پر سابقہ زمانے کے صحابہ تابعین اور ائمہ مسلمین تھے گذشتہ زمانے میں بھی اور اب بھی۔ جیسے مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ان سب میں نجات پانے والا فرقہ کون سا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا (من کان علی ما انا علیہ واصحابی) یعنی وہ لوگ جو اس پر ہوں جس پر آج میں اور میرے اصحاب ہیں (برادران غور فرمائیے کہ وہ چیز جس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب ؓ آپ کے زمانے میں تھے وہ وحی اللہ یعنی قرآن و حدیث ہی تھی یا کسی امام کی تقلید ؟)
انسان کی مختلف حالتیں اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہے ہے کہ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کیساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ لیکفروا میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لئے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلوگے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کو توال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائیے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہر چیز ہے اور جس کا صرف یہ کہہ دینا ہر امر کے لئے کافی ہے۔ کہ ہوجا پھر مشرکین کا محض بےدلیل ہونا بیان فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ پھر انسان کی ایک بیہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ سوائے چند ہستیوں کے عموما حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہوجاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے مومن پر تعجب ہے اس کے لئے اللہ کی ہر قضا بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لئے نشان ہیں۔
انسان کی مختلف حالتیں اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہے ہے کہ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کیساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ لیکفروا میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لئے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلوگے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کو توال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائیے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہر چیز ہے اور جس کا صرف یہ کہہ دینا ہر امر کے لئے کافی ہے۔ کہ ہوجا پھر مشرکین کا محض بےدلیل ہونا بیان فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ پھر انسان کی ایک بیہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ سوائے چند ہستیوں کے عموما حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہوجاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے مومن پر تعجب ہے اس کے لئے اللہ کی ہر قضا بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لئے نشان ہیں۔
انسان کی مختلف حالتیں اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہے ہے کہ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کیساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ لیکفروا میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لئے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلوگے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کو توال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائیے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہر چیز ہے اور جس کا صرف یہ کہہ دینا ہر امر کے لئے کافی ہے۔ کہ ہوجا پھر مشرکین کا محض بےدلیل ہونا بیان فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ پھر انسان کی ایک بیہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ سوائے چند ہستیوں کے عموما حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہوجاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے مومن پر تعجب ہے اس کے لئے اللہ کی ہر قضا بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لئے نشان ہیں۔
انسان کی مختلف حالتیں اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہے ہے کہ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کیساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ لیکفروا میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لئے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلوگے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کو توال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائیے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہر چیز ہے اور جس کا صرف یہ کہہ دینا ہر امر کے لئے کافی ہے۔ کہ ہوجا پھر مشرکین کا محض بےدلیل ہونا بیان فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ پھر انسان کی ایک بیہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ سوائے چند ہستیوں کے عموما حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہوجاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے مومن پر تعجب ہے اس کے لئے اللہ کی ہر قضا بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لئے نشان ہیں۔
انسان کی مختلف حالتیں اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہے ہے کہ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کیساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ لیکفروا میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لئے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلوگے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کو توال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائیے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہر چیز ہے اور جس کا صرف یہ کہہ دینا ہر امر کے لئے کافی ہے۔ کہ ہوجا پھر مشرکین کا محض بےدلیل ہونا بیان فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ پھر انسان کی ایک بیہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ سوائے چند ہستیوں کے عموما حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہوجاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے مومن پر تعجب ہے اس کے لئے اللہ کی ہر قضا بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لئے نشان ہیں۔
صلہ رحمی کی تاکید قرابتداروں کے ساتھ نیکی سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسکین اسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو یا کچھ ہو لیکن بقدر کفایت نہ ہو۔ اس کے ساتھ بھی سلوک واحسان کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسافر جس کا خرچ کم پڑگیا ہو اور سفر خرچ پاس نہ رہا ہو اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن دیدار اللہ کریں حقیقت میں انسان کے لئے اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ دنیا اور آخرت میں نجات ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔ اس دوسری آیت کی تفسیر تو ابن عباس مجاہد ضحاک قتادۃ عکرمہ محمد بن کعب اور شعبی سے یہ مروی ہے کہ جو شخص کوئی عطیہ اس ارادے سے دے کہ لوگ اسے اس سے زیادہ دیں۔ تو گو اس ارادے سے ہدیہ دینا ہے تو مباح لیکن ثواب سے خالی ہے۔ اللہ کے ہاں اس کا بدلہ کچھ نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس سے بھی روک دیا اس معنی میں یہ حکم آپ کے لئے مخصوص ہوگا۔ اسی کی مشابہ آیت (وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ ۽) 74۔ المدثر :6) ہے یعنی زیادتی معاوضہ کی نیت سے کسی کے ساتھ احسان نہ کیا کرو۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سود یعنی نفع کی دو صورتیں ہیں ایک تو بیوپار تجارت میں سود یہ تو حرام محض ہے۔ دوسرا سود یعنی زیادتی جس میں کوئی حرج نہیں وہ کسی کو اس ارادہ سے ہدیہ تحفہ دینا ہے کہ یہ مجھے اس سے زیادہ دے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اللہ کے پاس ثواب تو زکوٰۃ کے ادا کرنے کا ہے۔ زکوٰۃ دینے والوں کو بہت برکتیں ہوتی ہیں صحیح حدیث میں ہے کہ جو شخص ایک کجھور بھی صدقے میں دے لیکن حلال طور سے حاصل کی ہوئی ہو تو اسے اللہ تعالیٰ رحمن ورحیم اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور اسطرح پالتا اور بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہی ایک کھجور احد پہاڑ سے بھی بڑی ہوجاتی ہے۔ اللہ ہی خالق ورازق ہے۔ انسان اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا بےعلم بےکان بےآنکھ بےطاقت نکلتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے سب چیزیں عطا فرماتا ہے۔ مال ملکیت کمائی تجارت غرض بیشمار نعمتیں عطا فرماتا ہے۔ دو صحابیوں کا بیان ہے کہ ہم حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ کسی کام میں مشغول تھے ہم نے بھی آپ کا ہاتھ بٹایا۔ آپ نے فرمایا کہ دیکھو سرہلنے لگے تب تک بھی روزی سے کوئی محروم نہیں رہتا۔ انسان ننگا بھوکا دنیا میں آتا ہے ایک چھلکا بھی اس کے بدن پر نہیں ہوتا پھر رب ہی اسے روزیاں دیتا ہے۔ اس حیات کے بعد تمہیں مار ڈالے گا پھر قیامت کے دن زندہ کرے گا۔ اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کررہے ہو ان میں سے ایک بھی ان باتوں میں سے کسی ایک پر قابو نہیں رکھتا۔ ان کاموں میں سے ایک بھی کوئی نہیں کرسکتا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی تنہا خالق رازق اور موت زندگی کا مالک ہے وہی قیامت کے دن تمام مخلوق کو جلا دے گا۔ اس کی مقدس منزہ معظم اور عزت وجلال والی ذات اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا شریک ہو یا اس جیسا ہو یا اس کے برابر ہو یا اس کی اولاد ہو یا ماں باپ ہوں وہ احد ہے صمد ہے فرد ہے ماں باپ اولاد سے پاک ہے اس کا کف کوئی نہیں۔
صلہ رحمی کی تاکید قرابتداروں کے ساتھ نیکی سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسکین اسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو یا کچھ ہو لیکن بقدر کفایت نہ ہو۔ اس کے ساتھ بھی سلوک واحسان کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسافر جس کا خرچ کم پڑگیا ہو اور سفر خرچ پاس نہ رہا ہو اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن دیدار اللہ کریں حقیقت میں انسان کے لئے اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ دنیا اور آخرت میں نجات ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔ اس دوسری آیت کی تفسیر تو ابن عباس مجاہد ضحاک قتادۃ عکرمہ محمد بن کعب اور شعبی سے یہ مروی ہے کہ جو شخص کوئی عطیہ اس ارادے سے دے کہ لوگ اسے اس سے زیادہ دیں۔ تو گو اس ارادے سے ہدیہ دینا ہے تو مباح لیکن ثواب سے خالی ہے۔ اللہ کے ہاں اس کا بدلہ کچھ نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس سے بھی روک دیا اس معنی میں یہ حکم آپ کے لئے مخصوص ہوگا۔ اسی کی مشابہ آیت (وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ ۽) 74۔ المدثر :6) ہے یعنی زیادتی معاوضہ کی نیت سے کسی کے ساتھ احسان نہ کیا کرو۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سود یعنی نفع کی دو صورتیں ہیں ایک تو بیوپار تجارت میں سود یہ تو حرام محض ہے۔ دوسرا سود یعنی زیادتی جس میں کوئی حرج نہیں وہ کسی کو اس ارادہ سے ہدیہ تحفہ دینا ہے کہ یہ مجھے اس سے زیادہ دے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اللہ کے پاس ثواب تو زکوٰۃ کے ادا کرنے کا ہے۔ زکوٰۃ دینے والوں کو بہت برکتیں ہوتی ہیں صحیح حدیث میں ہے کہ جو شخص ایک کجھور بھی صدقے میں دے لیکن حلال طور سے حاصل کی ہوئی ہو تو اسے اللہ تعالیٰ رحمن ورحیم اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور اسطرح پالتا اور بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہی ایک کھجور احد پہاڑ سے بھی بڑی ہوجاتی ہے۔ اللہ ہی خالق ورازق ہے۔ انسان اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا بےعلم بےکان بےآنکھ بےطاقت نکلتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے سب چیزیں عطا فرماتا ہے۔ مال ملکیت کمائی تجارت غرض بیشمار نعمتیں عطا فرماتا ہے۔ دو صحابیوں کا بیان ہے کہ ہم حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ کسی کام میں مشغول تھے ہم نے بھی آپ کا ہاتھ بٹایا۔ آپ نے فرمایا کہ دیکھو سرہلنے لگے تب تک بھی روزی سے کوئی محروم نہیں رہتا۔ انسان ننگا بھوکا دنیا میں آتا ہے ایک چھلکا بھی اس کے بدن پر نہیں ہوتا پھر رب ہی اسے روزیاں دیتا ہے۔ اس حیات کے بعد تمہیں مار ڈالے گا پھر قیامت کے دن زندہ کرے گا۔ اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کررہے ہو ان میں سے ایک بھی ان باتوں میں سے کسی ایک پر قابو نہیں رکھتا۔ ان کاموں میں سے ایک بھی کوئی نہیں کرسکتا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی تنہا خالق رازق اور موت زندگی کا مالک ہے وہی قیامت کے دن تمام مخلوق کو جلا دے گا۔ اس کی مقدس منزہ معظم اور عزت وجلال والی ذات اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا شریک ہو یا اس جیسا ہو یا اس کے برابر ہو یا اس کی اولاد ہو یا ماں باپ ہوں وہ احد ہے صمد ہے فرد ہے ماں باپ اولاد سے پاک ہے اس کا کف کوئی نہیں۔
صلہ رحمی کی تاکید قرابتداروں کے ساتھ نیکی سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسکین اسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو یا کچھ ہو لیکن بقدر کفایت نہ ہو۔ اس کے ساتھ بھی سلوک واحسان کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسافر جس کا خرچ کم پڑگیا ہو اور سفر خرچ پاس نہ رہا ہو اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن دیدار اللہ کریں حقیقت میں انسان کے لئے اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ دنیا اور آخرت میں نجات ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔ اس دوسری آیت کی تفسیر تو ابن عباس مجاہد ضحاک قتادۃ عکرمہ محمد بن کعب اور شعبی سے یہ مروی ہے کہ جو شخص کوئی عطیہ اس ارادے سے دے کہ لوگ اسے اس سے زیادہ دیں۔ تو گو اس ارادے سے ہدیہ دینا ہے تو مباح لیکن ثواب سے خالی ہے۔ اللہ کے ہاں اس کا بدلہ کچھ نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس سے بھی روک دیا اس معنی میں یہ حکم آپ کے لئے مخصوص ہوگا۔ اسی کی مشابہ آیت (وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ ۽) 74۔ المدثر :6) ہے یعنی زیادتی معاوضہ کی نیت سے کسی کے ساتھ احسان نہ کیا کرو۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سود یعنی نفع کی دو صورتیں ہیں ایک تو بیوپار تجارت میں سود یہ تو حرام محض ہے۔ دوسرا سود یعنی زیادتی جس میں کوئی حرج نہیں وہ کسی کو اس ارادہ سے ہدیہ تحفہ دینا ہے کہ یہ مجھے اس سے زیادہ دے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اللہ کے پاس ثواب تو زکوٰۃ کے ادا کرنے کا ہے۔ زکوٰۃ دینے والوں کو بہت برکتیں ہوتی ہیں صحیح حدیث میں ہے کہ جو شخص ایک کجھور بھی صدقے میں دے لیکن حلال طور سے حاصل کی ہوئی ہو تو اسے اللہ تعالیٰ رحمن ورحیم اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور اسطرح پالتا اور بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہی ایک کھجور احد پہاڑ سے بھی بڑی ہوجاتی ہے۔ اللہ ہی خالق ورازق ہے۔ انسان اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا بےعلم بےکان بےآنکھ بےطاقت نکلتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے سب چیزیں عطا فرماتا ہے۔ مال ملکیت کمائی تجارت غرض بیشمار نعمتیں عطا فرماتا ہے۔ دو صحابیوں کا بیان ہے کہ ہم حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ کسی کام میں مشغول تھے ہم نے بھی آپ کا ہاتھ بٹایا۔ آپ نے فرمایا کہ دیکھو سرہلنے لگے تب تک بھی روزی سے کوئی محروم نہیں رہتا۔ انسان ننگا بھوکا دنیا میں آتا ہے ایک چھلکا بھی اس کے بدن پر نہیں ہوتا پھر رب ہی اسے روزیاں دیتا ہے۔ اس حیات کے بعد تمہیں مار ڈالے گا پھر قیامت کے دن زندہ کرے گا۔ اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کررہے ہو ان میں سے ایک بھی ان باتوں میں سے کسی ایک پر قابو نہیں رکھتا۔ ان کاموں میں سے ایک بھی کوئی نہیں کرسکتا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی تنہا خالق رازق اور موت زندگی کا مالک ہے وہی قیامت کے دن تمام مخلوق کو جلا دے گا۔ اس کی مقدس منزہ معظم اور عزت وجلال والی ذات اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا شریک ہو یا اس جیسا ہو یا اس کے برابر ہو یا اس کی اولاد ہو یا ماں باپ ہوں وہ احد ہے صمد ہے فرد ہے ماں باپ اولاد سے پاک ہے اس کا کف کوئی نہیں۔
زمین کی اصلاح اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مضمر ہے ممکن ہے بر یعنی خشکی سے مراد میدان اور جنگل ہوں اور بحر یعنی تری سے مراد شہر اور دیہات ہوں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ بر کہتے ہیں خشکی کو اور بحر کہتے ہیں تری کو خشکی کے فساد سے مراد بارش کا نہ ہونا پیداوار کا نہ ہونا قحط سالیوں کا آنا۔ تری کے فساد سے مراد بارش کا رک جانا جس سے پانی کے جانور اندھے ہوجاتے ہیں۔ انسان کا قتل اور کشتیوں کا جبر چھین جھپٹ لینا یہ خشکی تری کا فساد ہے۔ بحر سے مراد جزیرے اور بر سے مراد شہر اور بستیاں ہیں۔ لیکن اول قول زیادہ ظاہر ہے اور اسی کی تائید محمد بن اسحاق کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ حضور نے ایلہ کے بادشاہ سے صلح کی اور اس کا بحر یعنی شہر اسی کے نام کردیا پھلوں کا اناج کا نقصان دراصل انسان کے گناہوں کی وجہ سے ہے اللہ کے نافرمان زمین کے بگاڑنے والے ہیں۔ آسمان و زمین کی اصلاح اللہ کی عبادت واطاعت سے ہے۔ ابو داؤد میں حدیث ہے کہ زمین پر ایک حد کا قائم ہونا زمین والوں کے حق میں چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔ یہ اس لیے کہ حد قائم ہونے سے مجرم گناہوں سے باز رہیں گے۔ اور جب گناہ نہ ہونگے تو آسمانی اور زمینی برکتیں لوگوں کو حاصل ہونگی۔ چناچہ آخر زمانے میں جب حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ اتریں گے اور اس پاک شریعت کے مطابق فیصلے کریں گے مثلا خنزیر کا قتل صلیب کی شکست جزئیے کا ترک یعنی اسلام کی قبولیت یا جنگ پھر جب آپ کے زمانے میں دجال اور اس کے مرید ہلاک ہوجائیں گے یاجوج ماجوج تباہ ہوجائیں گے تو زمین سے کہا جائیے گا کہ اپنی برکتیں لوٹادے اس دن ایک انار لوگوں کی ایک بڑی جماعت کو کافی ہوگا اتنا بڑا ہوگا کہ اس کے چھلکے تلے یہ سب لوگ سایہ حاصل کرلیں۔ ایک اونٹنی کا دودھ ایک پورے قبیلے کو کفایت کرے گا۔ یہ ساری برکتیں صرف رسول اللہ ﷺ کی شریعت کے جاری کرنے کی وجہ سے ہونگی جیسے جیسے عدل وانصاف مطابق شرع شریف بڑھے گا ویسے ویسے خیر وبرکت بڑھتی چلی جائے گی۔ اس کے برخلاف فاجر شخص کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ اس کے مرنے پر بندے شہر درخت اور جانور سب راحت پالیتے ہیں۔ مسند امام احمد بن حنبل میں ہے کہ زیاد کے زمانے میں ایک تھیلی پائی گئی جس میں کجھور کی بڑی گھٹلی جیسے گہیوں کے دانے تھے اور اس میں لکھا ہوا تھا کہ یہ اس زمانے میں اگتے تھے جس میں عدل وانصاف کو کام میں لایا جاتا تھا۔ زید بن اسلم سے مروی ہے کہ فساد سے شرک ہے لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ مال اور پیداوار کی اور پھر اناج کی کمی بطور آزمائش کے اور بطور ان کے بعض اعمال کے بدلے کے ہے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ01608) 7۔ الاعراف :168) ہم نے انہیں بھلائیوں برائیوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ لوٹ جائیں۔ تم زمین میں چل پھر کر آپ ہی دیکھ لو کہ تم سے پہلے جو مشرک تھے اس کے نتیجے کیا ہوئے ؟ رسولوں کی نہ ماننے اللہ کیساتھ کفر کرنے کا کیا وبال ان پر آیا ؟ یہ دیکھو اور عبرت حاصل کرو۔
زمین کی اصلاح اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مضمر ہے ممکن ہے بر یعنی خشکی سے مراد میدان اور جنگل ہوں اور بحر یعنی تری سے مراد شہر اور دیہات ہوں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ بر کہتے ہیں خشکی کو اور بحر کہتے ہیں تری کو خشکی کے فساد سے مراد بارش کا نہ ہونا پیداوار کا نہ ہونا قحط سالیوں کا آنا۔ تری کے فساد سے مراد بارش کا رک جانا جس سے پانی کے جانور اندھے ہوجاتے ہیں۔ انسان کا قتل اور کشتیوں کا جبر چھین جھپٹ لینا یہ خشکی تری کا فساد ہے۔ بحر سے مراد جزیرے اور بر سے مراد شہر اور بستیاں ہیں۔ لیکن اول قول زیادہ ظاہر ہے اور اسی کی تائید محمد بن اسحاق کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ حضور نے ایلہ کے بادشاہ سے صلح کی اور اس کا بحر یعنی شہر اسی کے نام کردیا پھلوں کا اناج کا نقصان دراصل انسان کے گناہوں کی وجہ سے ہے اللہ کے نافرمان زمین کے بگاڑنے والے ہیں۔ آسمان و زمین کی اصلاح اللہ کی عبادت واطاعت سے ہے۔ ابو داؤد میں حدیث ہے کہ زمین پر ایک حد کا قائم ہونا زمین والوں کے حق میں چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔ یہ اس لیے کہ حد قائم ہونے سے مجرم گناہوں سے باز رہیں گے۔ اور جب گناہ نہ ہونگے تو آسمانی اور زمینی برکتیں لوگوں کو حاصل ہونگی۔ چناچہ آخر زمانے میں جب حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ اتریں گے اور اس پاک شریعت کے مطابق فیصلے کریں گے مثلا خنزیر کا قتل صلیب کی شکست جزئیے کا ترک یعنی اسلام کی قبولیت یا جنگ پھر جب آپ کے زمانے میں دجال اور اس کے مرید ہلاک ہوجائیں گے یاجوج ماجوج تباہ ہوجائیں گے تو زمین سے کہا جائیے گا کہ اپنی برکتیں لوٹادے اس دن ایک انار لوگوں کی ایک بڑی جماعت کو کافی ہوگا اتنا بڑا ہوگا کہ اس کے چھلکے تلے یہ سب لوگ سایہ حاصل کرلیں۔ ایک اونٹنی کا دودھ ایک پورے قبیلے کو کفایت کرے گا۔ یہ ساری برکتیں صرف رسول اللہ ﷺ کی شریعت کے جاری کرنے کی وجہ سے ہونگی جیسے جیسے عدل وانصاف مطابق شرع شریف بڑھے گا ویسے ویسے خیر وبرکت بڑھتی چلی جائے گی۔ اس کے برخلاف فاجر شخص کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ اس کے مرنے پر بندے شہر درخت اور جانور سب راحت پالیتے ہیں۔ مسند امام احمد بن حنبل میں ہے کہ زیاد کے زمانے میں ایک تھیلی پائی گئی جس میں کجھور کی بڑی گھٹلی جیسے گہیوں کے دانے تھے اور اس میں لکھا ہوا تھا کہ یہ اس زمانے میں اگتے تھے جس میں عدل وانصاف کو کام میں لایا جاتا تھا۔ زید بن اسلم سے مروی ہے کہ فساد سے شرک ہے لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ مال اور پیداوار کی اور پھر اناج کی کمی بطور آزمائش کے اور بطور ان کے بعض اعمال کے بدلے کے ہے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ01608) 7۔ الاعراف :168) ہم نے انہیں بھلائیوں برائیوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ لوٹ جائیں۔ تم زمین میں چل پھر کر آپ ہی دیکھ لو کہ تم سے پہلے جو مشرک تھے اس کے نتیجے کیا ہوئے ؟ رسولوں کی نہ ماننے اللہ کیساتھ کفر کرنے کا کیا وبال ان پر آیا ؟ یہ دیکھو اور عبرت حاصل کرو۔
اللہ کے دین میں مستحکم ہوجاؤ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے۔ مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجاؤ۔ اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے۔ جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہوچکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی جماعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہوجائیں گے۔ ایک جماعت جنت میں ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے۔ لوگ اپنے کئے ہوئے نیک اعمال بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش وخرم ہونگے۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کرکے دے رہا ہوگا۔ ایک ایک نیکی دس دس بلکہ سات سات سو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ کرکے انہیں ملے گی۔ کفار اللہ کے دوست نہیں لیکن تاہم ان پر بھی ظلم نہ ہوگا۔
اللہ کے دین میں مستحکم ہوجاؤ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے۔ مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجاؤ۔ اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے۔ جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہوچکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی جماعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہوجائیں گے۔ ایک جماعت جنت میں ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے۔ لوگ اپنے کئے ہوئے نیک اعمال بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش وخرم ہونگے۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کرکے دے رہا ہوگا۔ ایک ایک نیکی دس دس بلکہ سات سات سو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ کرکے انہیں ملے گی۔ کفار اللہ کے دوست نہیں لیکن تاہم ان پر بھی ظلم نہ ہوگا۔
اللہ کے دین میں مستحکم ہوجاؤ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے۔ مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجاؤ۔ اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے۔ جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہوچکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی جماعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہوجائیں گے۔ ایک جماعت جنت میں ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے۔ لوگ اپنے کئے ہوئے نیک اعمال بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش وخرم ہونگے۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کرکے دے رہا ہوگا۔ ایک ایک نیکی دس دس بلکہ سات سات سو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ کرکے انہیں ملے گی۔ کفار اللہ کے دوست نہیں لیکن تاہم ان پر بھی ظلم نہ ہوگا۔
مسلمان بھائی کی اعانت پر جہنم سے نجات کا وعدہ بارش کے آنے سے پہلے بھینی بھینی ہواؤں کا چلنا اور لوگوں کو بارش کی امید دلانا۔ اس کے بعد مینہ برسانا تاکہ بستیاں آباد ہیں اور جاندار زندہ رہیں سمندروں اور دریاؤں میں جہاز اور کشتیاں چلیں۔ کیونکہ کشتیوں کا چلنا بھی ہوا پر موقوف ہے۔ اب تم اپنی تجارت اور کمائی دھندے کے لئے ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر جاسکو۔ پس تمہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی ان بیشمار ان گنت تعمتوں پر اس کا شکریہ ادا کرو۔ پھر اپنے نبی کو تسکین اور تسلی دینے کے لئے فرماتا ہے کہ اگر آپ کو لوگ جھٹلاتے ہیں تو آپ اسے کوئی انوکھی بات نہ سمجھیں۔ آپ سے پہلے کے رسولوں کو بھی ان کی امتوں نے ایسے ہی ٹیڑھے ترچھے فقرے سنائے ہیں۔ وہ بھی صاف روشن اور واضح دلیلیں معجزے اور احکام لائے تھے بالآخر جھٹلانے والے عذاب کے شنکجے میں کس دئیے گئے اور مومنوں کو اس وقت ہر قسم کی برائی سے نجات ملی۔ اپنے فضل سے اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے نفس کریم پر یہ بات لازم کرلی ہے کہ وہ اپنے باایمان بندوں کو مدد دے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت (كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ 54) 6۔ الانعام :54) ابن ابی حاتم میں حدیث ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی آبرو بچالے اللہ پر حق ہے کہ وہ اس سے جہنم کی آگ کو ہٹالے۔ پھر آپ نے پڑھا آیت (وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ 47) 30۔ الروم :47)
مسلمان بھائی کی اعانت پر جہنم سے نجات کا وعدہ بارش کے آنے سے پہلے بھینی بھینی ہواؤں کا چلنا اور لوگوں کو بارش کی امید دلانا۔ اس کے بعد مینہ برسانا تاکہ بستیاں آباد ہیں اور جاندار زندہ رہیں سمندروں اور دریاؤں میں جہاز اور کشتیاں چلیں۔ کیونکہ کشتیوں کا چلنا بھی ہوا پر موقوف ہے۔ اب تم اپنی تجارت اور کمائی دھندے کے لئے ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر جاسکو۔ پس تمہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی ان بیشمار ان گنت تعمتوں پر اس کا شکریہ ادا کرو۔ پھر اپنے نبی کو تسکین اور تسلی دینے کے لئے فرماتا ہے کہ اگر آپ کو لوگ جھٹلاتے ہیں تو آپ اسے کوئی انوکھی بات نہ سمجھیں۔ آپ سے پہلے کے رسولوں کو بھی ان کی امتوں نے ایسے ہی ٹیڑھے ترچھے فقرے سنائے ہیں۔ وہ بھی صاف روشن اور واضح دلیلیں معجزے اور احکام لائے تھے بالآخر جھٹلانے والے عذاب کے شنکجے میں کس دئیے گئے اور مومنوں کو اس وقت ہر قسم کی برائی سے نجات ملی۔ اپنے فضل سے اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے نفس کریم پر یہ بات لازم کرلی ہے کہ وہ اپنے باایمان بندوں کو مدد دے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت (كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ 54) 6۔ الانعام :54) ابن ابی حاتم میں حدیث ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی آبرو بچالے اللہ پر حق ہے کہ وہ اس سے جہنم کی آگ کو ہٹالے۔ پھر آپ نے پڑھا آیت (وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ 47) 30۔ الروم :47)
نا امیدی کے اندھیروں میں امید کے اجالے رحمت وزحمت کی ہوائیں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا تو سمندر پر سے یا جس طرح اور جہاں سے اللہ کا حکم ہو۔ پھر رب العالمین ابر کو آسمان پر پھیلا دیتا ہے اسے بڑھا دیتا ہے تھوڑے کو زیادہ کردیتا ہے تم نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بالشت دوبالشت کا ابر اٹھا پھر جو وہ پھیلا تو آسمان کے کنارے ڈھانپ لئے۔ اور کبھی یہ بھی دیکھا ہوگا کہ سمندروں سے پانی کے بھرے ابر اٹھتے ہیں۔ اسی مضمون کو آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ 57) 7۔ الاعراف :57) میں بیان فرمایا ہے پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے اور تہہ بتہہ کردیتا ہے۔ وہ پانی سے سیاہ ہوجاتے ہیں۔ زمین کے قریب ہوجاتے ہیں۔ پھر بارش ان بادلوں کے درمیان سے برسنے لگتی ہے جہاں برسی وہیں کے لوگوں کی باچھیں کھل گئیں۔ پھر فرماتا ہے یہی لوگ بارش سے ناامید ہوچکے تھے اور پوری ناامیدی کے وقت بلکہ ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برسیں اور جل تھل ہوگئے۔ دو دفعہ من قبل کا لفظ لانا تاکید کے لئے ہے۔ ہ کی ضمیر کا مرجع انزال ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تاسیسی دلالت ہو۔ یعنی بارش ہونے سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے وقت کے ختم ہوجانے کے قریب بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ مایوس ہوچکے تھے۔ پھر اس ناامیدی کے بعد دفعۃ ابر اٹھتا ہے اور برس جاتا ہے اور ریل پیل کردیتا ہے۔ اور ان کی خشک زمین تر ہوجاتی ہے قحط سالی ترسالی سے بدل جاتی ہے۔ یا تو زمین صاف چٹیل میدان تھی یا ہر طرف ہریاول دکھائی دینے لگتی ہے۔ دیکھ لو کہ پروردگار عالم بارش سے کس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے یاد رکھو جس رب کی یہ قدرت تم دیکھ رہے وہ ایک دن مردوں کو ان قبروں سے بھی نکالنے والا ہے حالانکہ ان کے جسم گل سڑگئے ہونگے۔ سمجھ لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے اگر ہم باد تند چلائیں اگر آندھیاں آجائیں اور ان کی لہلاتی ہوئی کھیتیاں پژمردہ ہوجائیں تو وہ پھر سے کفر کرنے لگ جاتے ہیں چناچہ سورة واقعہ میں بھی یہی بیان ہوا ہے۔ آیت (اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ 63ۭ) 56۔ الواقعة :63) سے (بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ 67) 56۔ الواقعة :67) تک حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں ہوائیں آٹھ قسم کی ہیں چار رحمت کی چار زحمت کی۔ ناشرات مبشرات مرسلات اور ذاریات تو رحمت کی ہیں۔ اور عقیم صرصر عاصف اور قاصف عذاب کی۔ ان میں پہلی دو خشکیوں کی ہیں اور آخری دو تری کی۔ حضور فرماتے ہیں ہوائیں دوسری سے مسخر ہیں یعنی دوسری زمین سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی ہلاکت کا ارادہ کیا تو ہواؤں کے داروغہ کو یہ حکم دیا اس نے دریافت کیا کہ جناب باری کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا سوراخ کردوں جتنا بیل کا نتھا ہوتا ہے ؟ تو فرمان اللہ ہوا کہ نہیں نہیں اگر ایسا ہوا تو کل زمین اور زمین کی پوری چیزیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی۔ اتنا نہیں بلکہ اتنا روزن کر جتنا انگوٹھی میں نگینہ ہوتا ہے۔ اب صرف اتنے سوراخ سے وہ ہوا چلی جو جہاں پہنچی وہاں بھس اڑادیا۔ جس چیز پر سے گذری اسے بےنشان کردیا۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا مرفوع ہونا مکروہ ہے زیادہ ظاہر یہی ہے کہ یہ خود حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کا قول ہے۔
نا امیدی کے اندھیروں میں امید کے اجالے رحمت وزحمت کی ہوائیں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا تو سمندر پر سے یا جس طرح اور جہاں سے اللہ کا حکم ہو۔ پھر رب العالمین ابر کو آسمان پر پھیلا دیتا ہے اسے بڑھا دیتا ہے تھوڑے کو زیادہ کردیتا ہے تم نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بالشت دوبالشت کا ابر اٹھا پھر جو وہ پھیلا تو آسمان کے کنارے ڈھانپ لئے۔ اور کبھی یہ بھی دیکھا ہوگا کہ سمندروں سے پانی کے بھرے ابر اٹھتے ہیں۔ اسی مضمون کو آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ 57) 7۔ الاعراف :57) میں بیان فرمایا ہے پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے اور تہہ بتہہ کردیتا ہے۔ وہ پانی سے سیاہ ہوجاتے ہیں۔ زمین کے قریب ہوجاتے ہیں۔ پھر بارش ان بادلوں کے درمیان سے برسنے لگتی ہے جہاں برسی وہیں کے لوگوں کی باچھیں کھل گئیں۔ پھر فرماتا ہے یہی لوگ بارش سے ناامید ہوچکے تھے اور پوری ناامیدی کے وقت بلکہ ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برسیں اور جل تھل ہوگئے۔ دو دفعہ من قبل کا لفظ لانا تاکید کے لئے ہے۔ ہ کی ضمیر کا مرجع انزال ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تاسیسی دلالت ہو۔ یعنی بارش ہونے سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے وقت کے ختم ہوجانے کے قریب بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ مایوس ہوچکے تھے۔ پھر اس ناامیدی کے بعد دفعۃ ابر اٹھتا ہے اور برس جاتا ہے اور ریل پیل کردیتا ہے۔ اور ان کی خشک زمین تر ہوجاتی ہے قحط سالی ترسالی سے بدل جاتی ہے۔ یا تو زمین صاف چٹیل میدان تھی یا ہر طرف ہریاول دکھائی دینے لگتی ہے۔ دیکھ لو کہ پروردگار عالم بارش سے کس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے یاد رکھو جس رب کی یہ قدرت تم دیکھ رہے وہ ایک دن مردوں کو ان قبروں سے بھی نکالنے والا ہے حالانکہ ان کے جسم گل سڑگئے ہونگے۔ سمجھ لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے اگر ہم باد تند چلائیں اگر آندھیاں آجائیں اور ان کی لہلاتی ہوئی کھیتیاں پژمردہ ہوجائیں تو وہ پھر سے کفر کرنے لگ جاتے ہیں چناچہ سورة واقعہ میں بھی یہی بیان ہوا ہے۔ آیت (اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ 63ۭ) 56۔ الواقعة :63) سے (بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ 67) 56۔ الواقعة :67) تک حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں ہوائیں آٹھ قسم کی ہیں چار رحمت کی چار زحمت کی۔ ناشرات مبشرات مرسلات اور ذاریات تو رحمت کی ہیں۔ اور عقیم صرصر عاصف اور قاصف عذاب کی۔ ان میں پہلی دو خشکیوں کی ہیں اور آخری دو تری کی۔ حضور فرماتے ہیں ہوائیں دوسری سے مسخر ہیں یعنی دوسری زمین سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی ہلاکت کا ارادہ کیا تو ہواؤں کے داروغہ کو یہ حکم دیا اس نے دریافت کیا کہ جناب باری کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا سوراخ کردوں جتنا بیل کا نتھا ہوتا ہے ؟ تو فرمان اللہ ہوا کہ نہیں نہیں اگر ایسا ہوا تو کل زمین اور زمین کی پوری چیزیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی۔ اتنا نہیں بلکہ اتنا روزن کر جتنا انگوٹھی میں نگینہ ہوتا ہے۔ اب صرف اتنے سوراخ سے وہ ہوا چلی جو جہاں پہنچی وہاں بھس اڑادیا۔ جس چیز پر سے گذری اسے بےنشان کردیا۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا مرفوع ہونا مکروہ ہے زیادہ ظاہر یہی ہے کہ یہ خود حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کا قول ہے۔
نا امیدی کے اندھیروں میں امید کے اجالے رحمت وزحمت کی ہوائیں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا تو سمندر پر سے یا جس طرح اور جہاں سے اللہ کا حکم ہو۔ پھر رب العالمین ابر کو آسمان پر پھیلا دیتا ہے اسے بڑھا دیتا ہے تھوڑے کو زیادہ کردیتا ہے تم نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بالشت دوبالشت کا ابر اٹھا پھر جو وہ پھیلا تو آسمان کے کنارے ڈھانپ لئے۔ اور کبھی یہ بھی دیکھا ہوگا کہ سمندروں سے پانی کے بھرے ابر اٹھتے ہیں۔ اسی مضمون کو آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ 57) 7۔ الاعراف :57) میں بیان فرمایا ہے پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے اور تہہ بتہہ کردیتا ہے۔ وہ پانی سے سیاہ ہوجاتے ہیں۔ زمین کے قریب ہوجاتے ہیں۔ پھر بارش ان بادلوں کے درمیان سے برسنے لگتی ہے جہاں برسی وہیں کے لوگوں کی باچھیں کھل گئیں۔ پھر فرماتا ہے یہی لوگ بارش سے ناامید ہوچکے تھے اور پوری ناامیدی کے وقت بلکہ ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برسیں اور جل تھل ہوگئے۔ دو دفعہ من قبل کا لفظ لانا تاکید کے لئے ہے۔ ہ کی ضمیر کا مرجع انزال ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تاسیسی دلالت ہو۔ یعنی بارش ہونے سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے وقت کے ختم ہوجانے کے قریب بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ مایوس ہوچکے تھے۔ پھر اس ناامیدی کے بعد دفعۃ ابر اٹھتا ہے اور برس جاتا ہے اور ریل پیل کردیتا ہے۔ اور ان کی خشک زمین تر ہوجاتی ہے قحط سالی ترسالی سے بدل جاتی ہے۔ یا تو زمین صاف چٹیل میدان تھی یا ہر طرف ہریاول دکھائی دینے لگتی ہے۔ دیکھ لو کہ پروردگار عالم بارش سے کس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے یاد رکھو جس رب کی یہ قدرت تم دیکھ رہے وہ ایک دن مردوں کو ان قبروں سے بھی نکالنے والا ہے حالانکہ ان کے جسم گل سڑگئے ہونگے۔ سمجھ لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے اگر ہم باد تند چلائیں اگر آندھیاں آجائیں اور ان کی لہلاتی ہوئی کھیتیاں پژمردہ ہوجائیں تو وہ پھر سے کفر کرنے لگ جاتے ہیں چناچہ سورة واقعہ میں بھی یہی بیان ہوا ہے۔ آیت (اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ 63ۭ) 56۔ الواقعة :63) سے (بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ 67) 56۔ الواقعة :67) تک حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں ہوائیں آٹھ قسم کی ہیں چار رحمت کی چار زحمت کی۔ ناشرات مبشرات مرسلات اور ذاریات تو رحمت کی ہیں۔ اور عقیم صرصر عاصف اور قاصف عذاب کی۔ ان میں پہلی دو خشکیوں کی ہیں اور آخری دو تری کی۔ حضور فرماتے ہیں ہوائیں دوسری سے مسخر ہیں یعنی دوسری زمین سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی ہلاکت کا ارادہ کیا تو ہواؤں کے داروغہ کو یہ حکم دیا اس نے دریافت کیا کہ جناب باری کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا سوراخ کردوں جتنا بیل کا نتھا ہوتا ہے ؟ تو فرمان اللہ ہوا کہ نہیں نہیں اگر ایسا ہوا تو کل زمین اور زمین کی پوری چیزیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی۔ اتنا نہیں بلکہ اتنا روزن کر جتنا انگوٹھی میں نگینہ ہوتا ہے۔ اب صرف اتنے سوراخ سے وہ ہوا چلی جو جہاں پہنچی وہاں بھس اڑادیا۔ جس چیز پر سے گذری اسے بےنشان کردیا۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا مرفوع ہونا مکروہ ہے زیادہ ظاہر یہی ہے کہ یہ خود حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کا قول ہے۔
نا امیدی کے اندھیروں میں امید کے اجالے رحمت وزحمت کی ہوائیں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا تو سمندر پر سے یا جس طرح اور جہاں سے اللہ کا حکم ہو۔ پھر رب العالمین ابر کو آسمان پر پھیلا دیتا ہے اسے بڑھا دیتا ہے تھوڑے کو زیادہ کردیتا ہے تم نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بالشت دوبالشت کا ابر اٹھا پھر جو وہ پھیلا تو آسمان کے کنارے ڈھانپ لئے۔ اور کبھی یہ بھی دیکھا ہوگا کہ سمندروں سے پانی کے بھرے ابر اٹھتے ہیں۔ اسی مضمون کو آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ 57) 7۔ الاعراف :57) میں بیان فرمایا ہے پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے اور تہہ بتہہ کردیتا ہے۔ وہ پانی سے سیاہ ہوجاتے ہیں۔ زمین کے قریب ہوجاتے ہیں۔ پھر بارش ان بادلوں کے درمیان سے برسنے لگتی ہے جہاں برسی وہیں کے لوگوں کی باچھیں کھل گئیں۔ پھر فرماتا ہے یہی لوگ بارش سے ناامید ہوچکے تھے اور پوری ناامیدی کے وقت بلکہ ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برسیں اور جل تھل ہوگئے۔ دو دفعہ من قبل کا لفظ لانا تاکید کے لئے ہے۔ ہ کی ضمیر کا مرجع انزال ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تاسیسی دلالت ہو۔ یعنی بارش ہونے سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے وقت کے ختم ہوجانے کے قریب بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ مایوس ہوچکے تھے۔ پھر اس ناامیدی کے بعد دفعۃ ابر اٹھتا ہے اور برس جاتا ہے اور ریل پیل کردیتا ہے۔ اور ان کی خشک زمین تر ہوجاتی ہے قحط سالی ترسالی سے بدل جاتی ہے۔ یا تو زمین صاف چٹیل میدان تھی یا ہر طرف ہریاول دکھائی دینے لگتی ہے۔ دیکھ لو کہ پروردگار عالم بارش سے کس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے یاد رکھو جس رب کی یہ قدرت تم دیکھ رہے وہ ایک دن مردوں کو ان قبروں سے بھی نکالنے والا ہے حالانکہ ان کے جسم گل سڑگئے ہونگے۔ سمجھ لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے اگر ہم باد تند چلائیں اگر آندھیاں آجائیں اور ان کی لہلاتی ہوئی کھیتیاں پژمردہ ہوجائیں تو وہ پھر سے کفر کرنے لگ جاتے ہیں چناچہ سورة واقعہ میں بھی یہی بیان ہوا ہے۔ آیت (اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ 63ۭ) 56۔ الواقعة :63) سے (بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ 67) 56۔ الواقعة :67) تک حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں ہوائیں آٹھ قسم کی ہیں چار رحمت کی چار زحمت کی۔ ناشرات مبشرات مرسلات اور ذاریات تو رحمت کی ہیں۔ اور عقیم صرصر عاصف اور قاصف عذاب کی۔ ان میں پہلی دو خشکیوں کی ہیں اور آخری دو تری کی۔ حضور فرماتے ہیں ہوائیں دوسری سے مسخر ہیں یعنی دوسری زمین سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی ہلاکت کا ارادہ کیا تو ہواؤں کے داروغہ کو یہ حکم دیا اس نے دریافت کیا کہ جناب باری کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا سوراخ کردوں جتنا بیل کا نتھا ہوتا ہے ؟ تو فرمان اللہ ہوا کہ نہیں نہیں اگر ایسا ہوا تو کل زمین اور زمین کی پوری چیزیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی۔ اتنا نہیں بلکہ اتنا روزن کر جتنا انگوٹھی میں نگینہ ہوتا ہے۔ اب صرف اتنے سوراخ سے وہ ہوا چلی جو جہاں پہنچی وہاں بھس اڑادیا۔ جس چیز پر سے گذری اسے بےنشان کردیا۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا مرفوع ہونا مکروہ ہے زیادہ ظاہر یہی ہے کہ یہ خود حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کا قول ہے۔
مسئلہ سماع موتی باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ جس طرح یہ تیری قدرت سے خارج ہے کہ مردوں کو جو قبروں میں ہوں تو اپنی آواز سنا سکے۔ اور جس طرح یہ ناممکن ہے کہ بہرے شخص کو جبکہ وہ پیٹھ پھیرے منہ موڑے جارہا ہو تو اپنی بات سنا سکے۔ اسی طرح سے جو حق سے اندھے ہیں تو ان کی رہبری ہدایت کی طرف نہیں کرسکتا۔ ہاں اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے جب وہ چاہے مردوں کو زندوں کو آواز سناسکتا ہے۔ ہدایت ضلالت اسکی طرف سے ہے۔ تو صرف انہیں سناسکتا ہے جو باایمان ہوں اور اللہ کے سامنے جھکنے والے اس کے فرمانبردار ہوں۔ یہ لوگ حق کو سنتے ہیں اور مانتے بھی ہیں یہ تو حالت مسلمان کی ہوئی اور اس سے پہلے جو حالت بیان ہوئی ہے وہ کافر کی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ ۭ وَالْمَوْتٰى يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ 36۬) 6۔ الانعام :36) تیری پکار وہی قبول کریں گے جو کان دھر کر سنیں گے مردوں کو اللہ تعالیٰ زندہ کرکے اٹھائے گا پھر سب اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان مشرکین سے جو جنگ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کئے گئے تھے اور بدر کی کھائیوں میں ان کی لاشیں پھینک دی گئی تھی ان کی موت کے تین دن بعد ان سے خطاب کرکے انہیں ڈانٹا اور غیرت دلائی۔ حضرت عمر نے یہ دیکھ کر عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ آپ ان سے خطاب کرتے ہیں جو مر کر مردہ ہوگئے، تو آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم بھی میری اس بات کو جو میں انہیں کہہ رہا ہوں اتنا نہیں سنتے جتنا یہ سن رہے ہیں۔ ہاں وہ جواب نہیں دے سکتے۔ حضرت عائشہ ؓ نے اس واقعہ کو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی زبانی سن کر فرمایا کہ آپ نے یوں فرمایا کہ وہ اب بخوبی جانتے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ حق ہے پھر آپ نے مردوں کے نہ سن سکنے پر اسی آیت سے استدالال کیا کہ آیت (اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَلَاتُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاۗءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِيْنَ 80) 27۔ النمل :80) حضرت قتادۃ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کردیا تھا یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کی یہ بات انہوں نے سن لی تاکہ انہیں پوری ندامت اور کافی شرم ساری ہو۔ لیکن علماء کے نزدیک حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت بالکل صحیح ہے کیونکہ اس کے بہت سے شواہد ہیں۔ ابن عبدالبر نے ابن عباس سے مرفوعا ایک روایت صحت کرکے وارد کی ہے کہ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی قبر کے پاس گذرتا ہے جسے یہ دنیا میں پہچانتا تھا اور اسے سلام کرتا ہے تو اللہ اسکی روح لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ جواب دے۔
مسئلہ سماع موتی باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ جس طرح یہ تیری قدرت سے خارج ہے کہ مردوں کو جو قبروں میں ہوں تو اپنی آواز سنا سکے۔ اور جس طرح یہ ناممکن ہے کہ بہرے شخص کو جبکہ وہ پیٹھ پھیرے منہ موڑے جارہا ہو تو اپنی بات سنا سکے۔ اسی طرح سے جو حق سے اندھے ہیں تو ان کی رہبری ہدایت کی طرف نہیں کرسکتا۔ ہاں اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے جب وہ چاہے مردوں کو زندوں کو آواز سناسکتا ہے۔ ہدایت ضلالت اسکی طرف سے ہے۔ تو صرف انہیں سناسکتا ہے جو باایمان ہوں اور اللہ کے سامنے جھکنے والے اس کے فرمانبردار ہوں۔ یہ لوگ حق کو سنتے ہیں اور مانتے بھی ہیں یہ تو حالت مسلمان کی ہوئی اور اس سے پہلے جو حالت بیان ہوئی ہے وہ کافر کی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ ۭ وَالْمَوْتٰى يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ 36۬) 6۔ الانعام :36) تیری پکار وہی قبول کریں گے جو کان دھر کر سنیں گے مردوں کو اللہ تعالیٰ زندہ کرکے اٹھائے گا پھر سب اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان مشرکین سے جو جنگ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کئے گئے تھے اور بدر کی کھائیوں میں ان کی لاشیں پھینک دی گئی تھی ان کی موت کے تین دن بعد ان سے خطاب کرکے انہیں ڈانٹا اور غیرت دلائی۔ حضرت عمر نے یہ دیکھ کر عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ آپ ان سے خطاب کرتے ہیں جو مر کر مردہ ہوگئے، تو آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم بھی میری اس بات کو جو میں انہیں کہہ رہا ہوں اتنا نہیں سنتے جتنا یہ سن رہے ہیں۔ ہاں وہ جواب نہیں دے سکتے۔ حضرت عائشہ ؓ نے اس واقعہ کو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی زبانی سن کر فرمایا کہ آپ نے یوں فرمایا کہ وہ اب بخوبی جانتے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ حق ہے پھر آپ نے مردوں کے نہ سن سکنے پر اسی آیت سے استدالال کیا کہ آیت (اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَلَاتُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاۗءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِيْنَ 80) 27۔ النمل :80) حضرت قتادۃ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کردیا تھا یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کی یہ بات انہوں نے سن لی تاکہ انہیں پوری ندامت اور کافی شرم ساری ہو۔ لیکن علماء کے نزدیک حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت بالکل صحیح ہے کیونکہ اس کے بہت سے شواہد ہیں۔ ابن عبدالبر نے ابن عباس سے مرفوعا ایک روایت صحت کرکے وارد کی ہے کہ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی قبر کے پاس گذرتا ہے جسے یہ دنیا میں پہچانتا تھا اور اسے سلام کرتا ہے تو اللہ اسکی روح لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ جواب دے۔
پیدائش انسان کی مرحلہ وار روداد انسان کی ترقی وتنزل اس کی اصل تو مٹی سے ہے۔ پھر نطفے سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے پھر اسے ہڈیاں پہنائی جاتی ہیں پھر ہڈیوں پر گوشت پوست پہنایا جاتا ہے پھر روح پھونکی جاتی ہے پھر ماں کے پیٹ سے ضعیف ونحیف ہو کر نکلتا ہے پھر تھوڑا تھوڑا بڑھتا ہے اور مضبوط ہوتا جاتا ہے پھر بچپن کے زمانے کی بہاریں دیکھتا ہے پھر جوانی کے قریب پہنچتا ہے پھر جوان ہوتا ہے آخر نشوونما موقوف ہوجاتی ہے۔ اب قوی پھر مضمحل ہونے شروع ہوتے ہیں طاقتیں گھٹنے لگتی ہیں ادھیڑ عمر کر پہنچتا ہے پھر بڈھا ہوتا پھونس ہوجاتا ہے طاقت کے بعد یہ کمزوری بھی قابل عبرت ہوتی ہے۔ کہ ہمت پست ہے، دیکھنا سننا چلنا پھرنا اٹھنا اچکنا پکڑنا غرض ہر طاقت گھٹ جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ بالکل جواب دے جاتی ہے اور ساری صفتیں متغیر ہوجاتی ہے۔ بدن پر جھریاں پڑجاتی ہیں۔ رخسار پچک جاتے ہیں دانت ٹوٹ جاتے ہیں بال سفید ہوجاتے ہیں۔ یہ قوت کے بعد کی ضعیفی اور بڑھاپا۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ بنانا بگاڑنا اس کی قدرت کے ادنی کرشمے ہیں۔ ساری مخلوق اس کی غلام وہ سب کا مالک وہ عالم و قادر نہ اس کا سا کسی کا علم نہ اس جیسی کسی کی قدرت۔ حضرت عطیہ عوفی کہتے ہیں میں نے اس آیت کو ضعفا تک حضرت ابن عمر ؓ کے سامنے پڑھا تو آپ نے بھی اسے تلاوت کی اور فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس آیت کو اتناہی پڑھا تھا جو آپ پڑھنے لگے جس طرح میں نے تمہاری قرأت پر قرأت شروع کردی (ابوداؤد ترمذی مسند احمد)
واپسی ناممکن ہوگی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفار دنیا اور آخرت کے کاموں سے بالکل جاہل ہیں۔ دنیا میں ان کی جہالت تو یہ ہے کہ اللہ کیساتھ اوروں کو شریک کرتے رہے اور اخرت میں یہ جہالت کریں گے کہ قسمیں کھاکر کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک ساعت ہی رہے۔ اس سے ان کا مقصد یہ ہوگا کہ اتنے تھوڑے سے وقت میں ہم پر کوئی حجت قائم نہیں ہوئی۔ ہمیں معذور سمجھا جائے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ جیسے یہاں بہکی بہکی باتیں کر رے ہیں دنیا میں یہ بہکے ہوئے ہی رہے۔ فرماتا ہے کہ علماء کرام جس طرح ان کے اس کہنے پر دنیا میں انہیں دلائل دے کر قائل معقول کرتے رہے آخرت میں بھی ان سے کہیں گے کہ تم جھوٹی قسمیں کھا رہے ہو۔ تم کتاب اللہ یعنی کتاب اعمال میں اپنی پیدائش سے لے کر جی اٹھنے تک ٹھہرے رہے لیکن تم بےعلم اور نرے جاہل لوگ ہو۔ پس قیامت کے دن ظالموں کو اپنے کرتوت سے معذرت کرنا محض بےسود رہے گا۔ اور دنیا کی طرف لوٹائے نہ جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَاِنْ يَّسْـتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَـبِيْنَ 24) 41۔ فصلت :24) یعنی اگر وہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہیں تو لوٹ نہیں سکتے۔
واپسی ناممکن ہوگی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفار دنیا اور آخرت کے کاموں سے بالکل جاہل ہیں۔ دنیا میں ان کی جہالت تو یہ ہے کہ اللہ کیساتھ اوروں کو شریک کرتے رہے اور اخرت میں یہ جہالت کریں گے کہ قسمیں کھاکر کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک ساعت ہی رہے۔ اس سے ان کا مقصد یہ ہوگا کہ اتنے تھوڑے سے وقت میں ہم پر کوئی حجت قائم نہیں ہوئی۔ ہمیں معذور سمجھا جائے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ جیسے یہاں بہکی بہکی باتیں کر رے ہیں دنیا میں یہ بہکے ہوئے ہی رہے۔ فرماتا ہے کہ علماء کرام جس طرح ان کے اس کہنے پر دنیا میں انہیں دلائل دے کر قائل معقول کرتے رہے آخرت میں بھی ان سے کہیں گے کہ تم جھوٹی قسمیں کھا رہے ہو۔ تم کتاب اللہ یعنی کتاب اعمال میں اپنی پیدائش سے لے کر جی اٹھنے تک ٹھہرے رہے لیکن تم بےعلم اور نرے جاہل لوگ ہو۔ پس قیامت کے دن ظالموں کو اپنے کرتوت سے معذرت کرنا محض بےسود رہے گا۔ اور دنیا کی طرف لوٹائے نہ جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَاِنْ يَّسْـتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَـبِيْنَ 24) 41۔ فصلت :24) یعنی اگر وہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہیں تو لوٹ نہیں سکتے۔
واپسی ناممکن ہوگی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفار دنیا اور آخرت کے کاموں سے بالکل جاہل ہیں۔ دنیا میں ان کی جہالت تو یہ ہے کہ اللہ کیساتھ اوروں کو شریک کرتے رہے اور اخرت میں یہ جہالت کریں گے کہ قسمیں کھاکر کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک ساعت ہی رہے۔ اس سے ان کا مقصد یہ ہوگا کہ اتنے تھوڑے سے وقت میں ہم پر کوئی حجت قائم نہیں ہوئی۔ ہمیں معذور سمجھا جائے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ جیسے یہاں بہکی بہکی باتیں کر رے ہیں دنیا میں یہ بہکے ہوئے ہی رہے۔ فرماتا ہے کہ علماء کرام جس طرح ان کے اس کہنے پر دنیا میں انہیں دلائل دے کر قائل معقول کرتے رہے آخرت میں بھی ان سے کہیں گے کہ تم جھوٹی قسمیں کھا رہے ہو۔ تم کتاب اللہ یعنی کتاب اعمال میں اپنی پیدائش سے لے کر جی اٹھنے تک ٹھہرے رہے لیکن تم بےعلم اور نرے جاہل لوگ ہو۔ پس قیامت کے دن ظالموں کو اپنے کرتوت سے معذرت کرنا محض بےسود رہے گا۔ اور دنیا کی طرف لوٹائے نہ جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَاِنْ يَّسْـتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَـبِيْنَ 24) 41۔ فصلت :24) یعنی اگر وہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہیں تو لوٹ نہیں سکتے۔
نماز میں مقتدی اور امام کا تعلق حق کو ہم نے اس کلام پاک میں پوری طرح واضح کردیا ہے اور مثالیں دے دے کر سمجھا دیا ہے کہ لوگوں پر حق کھل جائے اور اس کی تابعداری میں لگ جائیں۔ انکے پاس تو کوئی بھی معجزہ آجائے کیساہی نشان حق دیکھ لیں لیکن یہ جھٹ سے بلاغور علی الفور کہیں گے کہ یہ جادو ہے باطل ہے جھوٹ ہے۔ دیکھئے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ خود قرآن کریم کی آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۙ) 10۔ یونس :96) میں ہے کہ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آجائیں یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب کا معائنہ کرلیں۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ بےعلم لوگوں کے دلوں پر اسی طرح اللہ کی مہر لگ جاتی ہے۔ اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے ان کی مخالفت اور دشمنی پر درگزر کئے چلے جائیے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ ضرور تمہیں ایک دن ان پر غالب کرے گا اور تمہاری امداد فرمائے گا۔ اور دنیا اور آخرت میں تجھے اور تیرے تابعداروں کو مخالفین پر غلبہ دے گا۔ تہیں چاہیے کہ اپنے کام پر لگے رہو حق پر جم جاؤ اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو اسی میں ساری ہدایت ہے باقی سب باطل کے ڈھیر ہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی ؓ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں تھے کہ ایک خارجی نے آپ کا نام لے کر زور سے اس آیت کی تلاوت کی۔ (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 65) 39۔ الزمر :65) آپ نے خاموشی سے اس آیت کو سنا سمجھا اور نماز ہی میں اس کے جواب میں آیت (فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ 60) 30۔ الروم :60) تلاوت فرمائی۔ (ابن جریر ابن ابی حاتم) وہ حدیث جس سے اس مبارک سورة کی فضیلت اور اس کی قرأت کا صبح کی نماز میں مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے) ایک صحابی عنہ فرماتے ہیں حضور ﷺ نے ایک دن صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے اسی سورت کی قرأت کی۔ اثناء قرأت میں آپ کو وہم ساہو گیا فارغ ہو کر فرمانے لگے تم میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں لیکن باقاعدہ ٹھیک ٹھاک وضو نہیں کرتے۔ تم میں سے جو بھی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو اسے اچھی طرح وضو کرنا چائیے (مسند احمد) اس کی اسناد حسن ہے متن بھی حسن ہے اور اسمیں ایک عجیب بھید ہے اور بہت بڑی خیر ہے اور وہ یہ کہ آپ کے مقتدیوں کے وضو بالکل درست نہ ہونے کا اثر آپ پر بھی پڑا۔ پس ثابت ہوا کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ معلق ہے۔
نماز میں مقتدی اور امام کا تعلق حق کو ہم نے اس کلام پاک میں پوری طرح واضح کردیا ہے اور مثالیں دے دے کر سمجھا دیا ہے کہ لوگوں پر حق کھل جائے اور اس کی تابعداری میں لگ جائیں۔ انکے پاس تو کوئی بھی معجزہ آجائے کیساہی نشان حق دیکھ لیں لیکن یہ جھٹ سے بلاغور علی الفور کہیں گے کہ یہ جادو ہے باطل ہے جھوٹ ہے۔ دیکھئے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ خود قرآن کریم کی آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۙ) 10۔ یونس :96) میں ہے کہ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آجائیں یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب کا معائنہ کرلیں۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ بےعلم لوگوں کے دلوں پر اسی طرح اللہ کی مہر لگ جاتی ہے۔ اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے ان کی مخالفت اور دشمنی پر درگزر کئے چلے جائیے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ ضرور تمہیں ایک دن ان پر غالب کرے گا اور تمہاری امداد فرمائے گا۔ اور دنیا اور آخرت میں تجھے اور تیرے تابعداروں کو مخالفین پر غلبہ دے گا۔ تہیں چاہیے کہ اپنے کام پر لگے رہو حق پر جم جاؤ اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو اسی میں ساری ہدایت ہے باقی سب باطل کے ڈھیر ہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی ؓ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں تھے کہ ایک خارجی نے آپ کا نام لے کر زور سے اس آیت کی تلاوت کی۔ (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 65) 39۔ الزمر :65) آپ نے خاموشی سے اس آیت کو سنا سمجھا اور نماز ہی میں اس کے جواب میں آیت (فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ 60) 30۔ الروم :60) تلاوت فرمائی۔ (ابن جریر ابن ابی حاتم) وہ حدیث جس سے اس مبارک سورة کی فضیلت اور اس کی قرأت کا صبح کی نماز میں مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے) ایک صحابی عنہ فرماتے ہیں حضور ﷺ نے ایک دن صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے اسی سورت کی قرأت کی۔ اثناء قرأت میں آپ کو وہم ساہو گیا فارغ ہو کر فرمانے لگے تم میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں لیکن باقاعدہ ٹھیک ٹھاک وضو نہیں کرتے۔ تم میں سے جو بھی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو اسے اچھی طرح وضو کرنا چائیے (مسند احمد) اس کی اسناد حسن ہے متن بھی حسن ہے اور اسمیں ایک عجیب بھید ہے اور بہت بڑی خیر ہے اور وہ یہ کہ آپ کے مقتدیوں کے وضو بالکل درست نہ ہونے کا اثر آپ پر بھی پڑا۔ پس ثابت ہوا کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ معلق ہے۔
نماز میں مقتدی اور امام کا تعلق حق کو ہم نے اس کلام پاک میں پوری طرح واضح کردیا ہے اور مثالیں دے دے کر سمجھا دیا ہے کہ لوگوں پر حق کھل جائے اور اس کی تابعداری میں لگ جائیں۔ انکے پاس تو کوئی بھی معجزہ آجائے کیساہی نشان حق دیکھ لیں لیکن یہ جھٹ سے بلاغور علی الفور کہیں گے کہ یہ جادو ہے باطل ہے جھوٹ ہے۔ دیکھئے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ خود قرآن کریم کی آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۙ) 10۔ یونس :96) میں ہے کہ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آجائیں یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب کا معائنہ کرلیں۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ بےعلم لوگوں کے دلوں پر اسی طرح اللہ کی مہر لگ جاتی ہے۔ اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے ان کی مخالفت اور دشمنی پر درگزر کئے چلے جائیے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ ضرور تمہیں ایک دن ان پر غالب کرے گا اور تمہاری امداد فرمائے گا۔ اور دنیا اور آخرت میں تجھے اور تیرے تابعداروں کو مخالفین پر غلبہ دے گا۔ تہیں چاہیے کہ اپنے کام پر لگے رہو حق پر جم جاؤ اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو اسی میں ساری ہدایت ہے باقی سب باطل کے ڈھیر ہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی ؓ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں تھے کہ ایک خارجی نے آپ کا نام لے کر زور سے اس آیت کی تلاوت کی۔ (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 65) 39۔ الزمر :65) آپ نے خاموشی سے اس آیت کو سنا سمجھا اور نماز ہی میں اس کے جواب میں آیت (فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ 60) 30۔ الروم :60) تلاوت فرمائی۔ (ابن جریر ابن ابی حاتم) وہ حدیث جس سے اس مبارک سورة کی فضیلت اور اس کی قرأت کا صبح کی نماز میں مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے) ایک صحابی عنہ فرماتے ہیں حضور ﷺ نے ایک دن صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے اسی سورت کی قرأت کی۔ اثناء قرأت میں آپ کو وہم ساہو گیا فارغ ہو کر فرمانے لگے تم میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں لیکن باقاعدہ ٹھیک ٹھاک وضو نہیں کرتے۔ تم میں سے جو بھی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو اسے اچھی طرح وضو کرنا چائیے (مسند احمد) اس کی اسناد حسن ہے متن بھی حسن ہے اور اسمیں ایک عجیب بھید ہے اور بہت بڑی خیر ہے اور وہ یہ کہ آپ کے مقتدیوں کے وضو بالکل درست نہ ہونے کا اثر آپ پر بھی پڑا۔ پس ثابت ہوا کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ معلق ہے۔