Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Ahzaab
Tafsir Ibn Kathir · The Clans · 73 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے عدل و فضل کا بیان فرما رہا ہے اور حضور ﷺ کی ازواج مطہرات سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تمہاری اطاعت گذاری اور نیک کاری پر تمہیں دگنا اجر ہے اور تمہارے لئے جنت میں باعزت روزی ہے۔ کیونکہ یہ اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ آپ کی منزل میں ہوں گی اور حضور ﷺ کی منزل اعلیٰ علیین میں ہے جو تمام لوگوں سے بالا تر ہے۔ اسی کا نام وسیلہ ہے۔ یہ جنت کی سب سے اعلیٰ اور سب سے اونچی منزل ہے جس کی چھت عرش اللہ ہے۔
ارشادات الٰہی کی روشنی میں اسوہ امہات المومنین اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کی بیویوں کو آداب سکھاتا ہے اور چونکہ تمام عورتیں انہی کے ماتحت ہیں۔ اس لئے یہ احکام سب مسلمان عورتوں کے لئے ہیں پس فرمایا کہ تم میں سے جو پرہیزگاری کریں وہ بہت بڑی فضیلت اور مرتبے والی ہیں۔ مردوں سے جب تمہیں کوئی بات کرنی پڑے تو آواز بنا کر بات نہ کرو کہ جن کے دلوں میں روگ ہے انہیں طمع پیدا ہو۔ بلکہ بات اچھی اور مطابق دستور کرو۔ پس عورتوں کو غیر مردوں سے نزاکت کے ساتھ خوش آوازی سے باتیں کرنی منع ہیں۔ گھل مل کر وہ صرف اپنے خاوندوں سے ہی کلام کرسکتی ہیں۔ پھر فرمایا بغیر کسی ضروری کام کے گھر سے باہر نہ نکلو۔ مسجد میں نماز کے لئے آنا بھی شرعی ضرورت ہے جیسے کہ حدیث میں ہے اللہ کی لونڈیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو۔ لیکن انہیں چاہئے کہ سادگی سے جس طرح گھروں میں رہتی ہیں اسی طرح آئیں۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے لئے ان کے گھر بہتر ہیں۔ بزار میں ہے کہ عورتوں نے حاضر ہو کر رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ جہاد وغیرہ کی کل فضیلتیں مرد ہی لے گئے۔ اب آپ ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے ہم مجاہدین کی فضیلت کو پاسکیں۔ آپ نے فرمایا تم میں سے جو اپنے گھر میں پردے اور عصمت کے ساتھ بیٹھی رہے وہ جہاد کی فضیلت پالے گی۔ ترمذی وغیرہ میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں عورت سر تا پا پردے کی چیز ہے۔ یہ جب گھر سے باہر قدم نکالتی ہے تو شیطان جھانکنے لگتا ہے۔ یہ سب سے زیادہ اللہ کے قریب اس وقت ہوتی ہے جب یہ اپنے گھر کے اندرونی حجرے میں ہو۔ ابو داؤد وغیرہ میں ہے عورت کی اپنے گھر کی اندرونی کوٹھڑی کی نماز گھر کی نماز سے افضل ہے اور گھر کی نماز صحن کی نماز سے بہتر ہے۔ جاہلیت میں عورتیں بےپردہ پھرا کرتی تھیں اب اسلام بےپردگی کو حرام قرار دیتا ہے۔ ناز سے اٹھلا کر چلنا ممنوع ہے۔ دوپٹہ گلے میں ڈال لیا لیکن اسے لپیٹا نہیں جس سے گردن اور کانوں کے زیور دوسروں کو نظر آئیں، یہ جاہلیت کا بناؤ سنگھار تھا جس سے اس آیت میں روکا گیا ہے۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت نوح اور حضرت ادریس کی دو نسلیں آباد تھیں۔ ایک تو پہاڑ پر دوسرے نرم زمین پر۔ پہاڑیوں کے مرد خوش شکل تھے عورتیں سیاہ فام تھیں اور زمین والوں کی عورتیں خوبصورت تھیں اور مردوں کے رنگ سانولے تھے۔ ابلیس انسانی صورت اختیار کر کے انہیں بہکانے کے لئے نرم زمین والوں کے پاس آیا اور ایک شخص کا غلام بن کر رہنے لگا۔ پھر اس نے بانسری وضع کی ایک چیز بنائی اور اسے بجانے لگا اس کی آواز پر لوگ لٹو ہوگئے اور پھر بھیڑ لگنے لگی اور ایک دن میلے کا مقرر ہوگیا جس میں ہزارہا مرد و عورت جمع ہونے لگے۔ اتفاقاً ایک دن ایک پہاڑی آدمی بھی آگیا اور ان کی عورتوں کو دیکھ کر واپس جا کر اپنے قبیلے والوں میں اس کے حسن کا چرچا کرنے لگا۔ اب وہ لوگ بکثرت آنے لگے اور آہستہ آہستہ ان عورتوں مردوں میں اختلاط بڑھ گیا اور بدکاری اور زنا کاری کا عام رواج ہوگیا۔ یہی جاہلیت کا بناؤ ہے جس سے یہ آیت روک رہی ہے۔ ان کاموں سے روکنے کے بعد اب کچھ احکام بیان ہو رہے ہیں کہ اللہ کی عبادت میں سب سے بڑی عبادت نماز ہے اس کی پابندی کرو اور بہت اچھی طرح سے اسے ادا کرتی رہو۔ اسی طرح مخلوق کے ساتھ بھی نیک سلوک کرو۔ یعنی زکوٰۃ نکالتی رہو۔ ان خاص احکام کی بجا آوری کا حکم دے کر پھر عام طور پر اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا اس اہل بیت سے ہر قسم کے میل کچیل کو دور کرنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کا ہوچکا ہے وہ تمہیں بالکل پاک صاف کر دے گا۔ یہ آیت اس بات پر نص ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بیویاں ان آیتوں میں اہل بیت میں داخل ہیں۔ اس لئے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں اتری ہے۔ آیت کا شان نزول تو آیت کے حکم میں داخل ہوتا ہی ہے گو بعض کہتے ہیں کہ صرف وہی داخل ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں وہ بھی اور اس کے سوا بھی۔ اور یہ دوسرا قول ہی زیادہ صحیح ہے۔ حضرت عکرمہ ؒ تو بازاروں میں منادی کرتے پھرتے تھے کہ یہ آیت نبی ﷺ کی بیویوں ہی کے بارے میں خالصتاً نازل ہوئی ہے (ابن جریر) ابن ابی حاتم میں حضرت عکرمہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ جو چاہے مجھ سے مباہلہ کرلے۔ یہ آیت حضور ﷺ کی ازواج مطہرات ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ اس قول سے اگر یہ مطلب ہے کہ شان نزول یہی ہے اور نہیں، تو یہ تو ٹھیک ہے اور اگر اس سے مراد یہ ہے کہ اہل بیت میں اور کوئی ان کے سوا داخل ہی نہیں تو اس میں نظر ہے اس لئے کہ احادیث سے اہل بیت میں ازواج مطہرات کے سوا اوروں کا داخل ہونا بھی پایا جاتا ہے۔ مسند احمد اور ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز کے لئے جب نکلتے تو حضرت فاطمہ ؓ کے دروازے پر پہنچ کر فرماتے اے اہل بیت نماز کا وقت آگیا ہے پھر اسی آیت تطہیر کی تلاوت کرتے۔ امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک اسی حدیث میں سات مہینے کا بیان ہے۔ اس میں ایک راوی ابو داؤد اعمی نفیع بن حارث کذاب ہے۔ یہ روایت ٹھیک نہیں۔ مسند میں ہے شد اد بن عمار کہتے ہیں میں ایک دن حضرت واثلہ بن اسقع ؓ کے پاس گیا اس وقت وہاں کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت علی کا ذکر ہو رہا تھا۔ وہ آپ کو برا بھلا کہہ رہے تھے میں نے بھی ان کا ساتھ دیا جب وہ لوگ گئے تو مجھ سے سے حضرت واثلہ نے فرمایا تو نے بھی حضرت علی کی شان میں گستا خانہ الفاظ کہے ؟ میں نے کہا ہاں میں نے بھی سب کی زبان میں زبان ملائی۔ تو فرمایا سن میں نے جو دیکھا ہے تجھے سناتا ہوں۔ میں ایک مرتبہ حضرت علی کے گھر گیا تو معلوم ہوا کہ آپ ؓ حضور ﷺ کی مجلس میں گئے ہوئے ہیں۔ میں ان کے انتظار میں بیٹھا رہا تھوڑی دیر میں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ آ رہے ہیں اور آپ کے ساتھ حضرت علی ؓ اور حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ بھی ہیں دونوں بچے آپ کی انگلی تھامے ہوئے تھے آپ نے حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کو تو اپنے سامنے بٹھا لیا اور دونوں نواسوں کو اپنے گھٹنوں پر بٹھا لیا اور ایک کپڑے سے ڈھک لیا پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت اور میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں۔ دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ حضرت واثلہ ؓ کہتے ہیں میں نے یہ دیکھ کر کہا یا رسول اللہ ﷺ میں بھی آپ کی اہل بیت میں سے ہوں ؟ آپ نے فرمایا تو بھی میرے اہل میں سے ہے۔ حضرت واثلہ ؓ فرماتے ہیں حضور ﷺ کا یہ فرمان میرے لئے بہت ہی بڑی امید کا ہے اور روایت میں ہے حضرت واثلہ ؓ فرماتے ہیں میں حضور ﷺ کے پاس تھا جب حضرت علی حضرت فاطمہ حضرت حسن حضرت حسین ؓ اجمعین آئے آپ نے اپنی چادر ان پر ڈال کر فرمایا اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں یا اللہ ان سے ناپاکی کو دور فرما اور انہیں پاک کر دے۔ میں نے کہا میں بھی ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو بھی۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ میرا مضبوط عمل یہی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں حضور ﷺ میرے گھر میں تھے جب حضرت فاطمہ ؓ حریرے کی ایک پتیلی بھری ہوئی لائیں۔ آپ نے فرمایا اپنے میاں کو اور اپنے دونوں بچوں کو بھی بلا لو۔ چناچہ وہ بھی آگئے اور کھانا شروع ہوا آپ اپنے بستر پر تھے۔ خیبر کی ایک چادر آپ کے نیچے بچھی ہوئی تھی۔ میں حجرے میں نماز ادا کر رہی تھی جب یہ آیت اتری۔ پس حضور ﷺ نے چادر انہیں اڑھا دی اور چادر میں سے ایک ہاتھ نکال کر آسمان کی طرف اٹھا کر یہ دعا کی کہ الٰہی یہ میرے اہل بیت اور حمایتی ہیں تو ان سے ناپاکی دور کر اور انہیں ظاہر کر میں نے اپنا سر گھر میں سے نکال کر کہا یا رسول اللہ ﷺ میں بھی آپ سب کے ساتھ ہوں آپ نے فرمایا یقینا تو بہتری کی طرف ہے فی الواقع تو خیر کی طرف ہے۔ اس روایت کے روایوں میں عطا کے استاد کا نام نہیں جو معلم ہو سکے کہ وہ کیسے راوی ہیں باقی راوی ثقہ ہیں۔ دوسری سند سے انہی حضرت ام سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے ساتھ حضرت علی ؓ کا ذکر آیا تو آپنے فرمایا آیت تطہیر تو میرے گھر میں اتری ہے۔ آپ میرے ہاں آئے اور فرمایا کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دینا۔ تھوڑی دیر میں حضرت فاطمہ ؓ آئیں۔ اب بھلا میں بیٹی کو باپ سے کیسے روکتی ؟ پھر حضرت حسن ؓ آئے تو نواسے کو نانا سے کون روکے ؟ پھر حضرت حسین ؓ آئے میں نے انہیں بھی نہ روکا۔ پھر حضرت علی ؓ آئے میں انہیں بھی نہ روک سکی۔ جب یہ سب جمع ہوگئے تو جو چادر حضور ﷺ اوڑھے ہوئے تھے اسی میں ان سب کو لے لیا اور کہا الٰہی یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں خوب پاک کر دے۔ پس یہ آیت اس وقت اتری جبکہ یہ چادر میں جمع ہوچکے تھے میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں بھی ؟ لیکن اللہ جانتا ہے آپ اس پر خوش نہ ہوئے اور فرمایا تو خیر کی طرف ہے۔ مسند کی اور روایت میں ہے کہ میرے گھر میں حضور ﷺ تھے جب خادم نے آ کر خبر کی کہ فاطمہ ؓ اور علی ؓ آگئے ہیں تو آپ نے مجھ سے فرمایا ایک طرف ہوجاؤ میرے اہل بیت آگئے ہیں۔ میں گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئی جب دونوں ننھے بچے اور یہ دونوں صاحب تشریف لائے۔ آپ نے دونوں بچوں کو گودی میں لے لیا اور پیار کیا پھر ایک ہاتھ حضرت علی ؓ کی گردن میں دوسرا حضرت فاطمہ ؓ کی گردن میں ڈال کر ان دونوں کو بھی پیار کیا اور ایک سیاہ چادر سب پر ڈال کر فرمایا یا اللہ تیری طرف نہ کہ آگ کی طرف میں اور میری اہل بیت۔ میں نے کہا میں بھی ؟ فرمایا ہاں تو بھی۔ اور روایت میں ہے کہ میں اس وقت گھر کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی اور میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا تو بھلائی کی طرف ہے اور نبی ﷺ کی بیویوں میں سے ہے اور روایت میں ہے میں نے کہا مجھے بھی ان کے ساتھ شامل کرلیجئے تو فرمایا تو میری اہل ہے۔ حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ سیاہ چادر اوڑھے ہوئے ایک دن صبح ہی صبح نکلے اور ان چاروں کو اپنی چادر تلے لے کر یہ آیت پڑھی (مسلم وغیرہ) حضرت عائشہ ؓ سے ایک مرتبہ کسی نے حضرت علی ؓ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا وہ سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے محبوب تھے ان کے گھر میں آپ کی صاحبزادی تھیں جو سب سے زیادہ آپ کی محبوب تھیں۔ پھر چادر کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا میں نے قریب جا کر کہا یا رسول اللہ میں بھی آپ کے اہل بیت سے ہوں آپ نے فرمایا دور رہو تم یقیناً خیر پر ہو (ابن ابی حاتم) حضرت سعید ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا میرے اور ان چاروں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ اور سند سے یہ ابو سعید ؓ کا اپنا قول ہونا مروی ہے۔ واللہ اعلم۔ حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں جب حضور ﷺ پر وحی اتری تو آپ نے ان چاروں کو اپنے کپڑے تلے لے کر فرمایا یارب یہ میرے اہل ہیں اور میرے اہل بیت ہیں (ابن جریر) صحیح مسلم شریف میں ہے حضرت یزید بن حبان فرماتے ہیں میں اور حصین بن سیرہ اور عمر بن مسلمہ مل کر حضرت زید بن ارقم ؓ کے پاس گئے۔ حصین کہنے لگے اے زید آپ کو تو بہت سی بھلائیاں مل گئیں۔ آپ نے حضور ﷺ کی زیارت کی، آپ کی حدیثیں سنیں، آپ کے ساتھ جہاد کئے، آ پکے پیچھے نمازیں پڑھیں غرض آپ نے بہت خیر و برکت پا لیا اچھا ہمیں کوئی حدیث تو سناؤ۔ آپ نے فرمایا بھتیجے اب میری عمر بڑی ہوگئی۔ حضور ﷺ کا زمانہ دور ہوگیا۔ بعض باتیں ذہن سے جاتی رہیں۔ اب تم ایسا کرو جو باتیں میں از خود بیان کروں انہیں تم قبول کرلو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو۔ سنو ! مکہ اور مدینے کے درمیان ایک پانی کی جگہ پر جسے خم کہا جاتا ہے حضور ﷺ نے کھڑے ہو کر ہمیں ایک خطبہ سنایا۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور وعظ و پند کے بعد فرمایا میں ایک انسان ہوں۔ بہت ممکن ہے کہ میرے پاس میرے رب کا قاصد آئے اور میں اس کی مان لوں میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ پہلی تو کتاب اللہ جس پر ہدایت و نور ہے۔ تم اللہ کی کتابوں کو لو اور اسے مضبوطی سے تھام لو پھر تو آپ نے کتاب اللہ کی بڑی رغبت دلائی اور اس کی طرف ہمیں خوب متوجہ فرمایا۔ پھر فرمایا اور میری اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں تین مرتبہ یہی کلمہ فرمایا۔ تو حصین نے حضرت زید ؓ سے پوچھا آپ کے اہل بیت کون ہیں ؟ کیا آپ کی بیویاں آپ کی اہل بیت نہیں ہیں ؟ فرمایا آپ کی بیویاں تو آپ کی اہل بیت ہیں ہی۔ لیکن آپ کی اہل بیت وہ ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ کھانا حرام ہے، پوچھا وہ کون ہیں ؟ فرمایا آل علی، آل عقیل، آل جعفر، آل عباس ؓ۔ پوچھا کیا ان سب پر آپ کے بعد صدقہ حرام ہے ؟ کہا ہاں ! دوسری سند سے یہ بھی مروی ہے کہ میں نے پوچھا کیا آپ کی بیویاں بھی اہل بیت میں داخل ہیں ؟ کہا نہیں قسم ہے اللہ کی بیوی کا تو یہ حال ہے کہ وہ اپنے خاوند کے پاس گو عرصہ دراز سے ہو لیکن پھر اگر وہ طلاق دے دے تو اپنے میکے میں اور اپنی قوم میں چلی جاتی ہے۔ آپ کے اہل بیت آپ کی اصل اور عصبہ ہیں جن پر آپکے بعد صدقہ حرام ہے۔ اس روایت میں یہی ہے لیکن پہلی روایت ہی اولیٰ ہے اور اسی کو لینا ٹھیک ہے اور اس دوسری میں جو ہے اس سے مراد صرف حدیث میں جن اہل بیت کا ذکر ہے وہ ہے کیونکہ وہاں وہ آل مراد ہے جن پر صدقہ خوری حرام ہے یا یہ کہ مراد صرف بیویاں نہیں ہیں بلکہ وہ مع آپ کی اور آل کے ہیں۔ یہی بات زیادہ راحج ہے اور اس سے اس روایت اور اس سے پہلے کی روایت میں جمع بھی ہوجاتی ہے اور قرآن اور پہلی احادیث میں بھی جمع ہوجاتی ہے لیکن یہ اس صورت میں کہ ان احادیث کی صحت کو تسلیم کرلیا جائے۔ کیونکہ ان کی بعض اسنادوں میں نظر ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔ جس شخص کو نور معرفت حاصل ہو اور قرآن میں تدبر کرنے کی عادت ہو وہ یقینا بیک نگاہ جان لے گا کہ اس آیت میں حضور ﷺ کی بیویاں بلاشبک و شبہ داخل ہیں اس لئے کہ اوپر سے کلام ہی ان کے ساتھ اور انہی کے بارے میں چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ہی فرمایا کہ اللہ کی آیتیں اور رسول ﷺ کی باتیں جن کا درس تمہارے گھروں میں ہو رہا ہے انہیں یاد رکھو اور ان پر عمل کرو۔ پس اللہ کی آیات اور حکمت سے مراد بقول حضرت قتادہ وغیرہ کتاب و سنت ہے۔ پس یہ خاص خصوصیت ہے جو ان کے سوا کسی اور کو نہیں ملی کہ ان کے گھروں میں اللہ کی وحی اور رحمت الٰہی نازل ہوا کرتی ہے اور ان میں بھی یہ شرف حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ کو بطور اولیٰ اور سب سے زیادہ حاصل ہے کیونکہ حدیث شریف میں صاف وارد ہے کہ کسی عورت کے بستر پر حضور ﷺ کی طرف وحی نہیں آتی بجز آپ ﷺ کے بسترے کے یہ اس لئے بھی کہ حضور ﷺ نے آپ کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا تھا۔ ان کا بستر بجز رسول اللہ ﷺ کے اور کسی کے لئے نہ تھا۔ پس اس زیادتی درجہ اور بلندی مرتبہ کی وہ صحیح طور پر مستحق تھیں۔ ہاں جبکہ آپ کی بیویاں آپ کے اہل بیت ہوئیں تو آپ کے قریبی رشتے دار بطور اولیٰ آپ کی اہل بیت ہیں۔ جیسے حدیث میں گذر چکا کہ میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں۔ اس کی مثال میں یہ آیت ٹھیک طور پر پیش ہوسکتی ہے۔ (لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ ۭ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا ۭوَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ01008) 9۔ التوبہ :108) کہ یہ اتری تو ہے مسجد قبا کے بارے میں جیسا کہ صاف صاف احادیث میں موجود ہے۔ لیکن صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ اس مسجد سے کون سی مسجد مراد ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ میری ہی مسجد ہے یعنی مسجد نبوی۔ پس جو صفت مسجد قبا میں تھی وہی صفت چونکہ مسجد نبوی میں بھی ہے اس لئے اس مسجد کو بھی اسی نام سے اس آیت کے تحت داخل کردیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت علی ؓ کی شہادت کے بعد حضرت حسن ؓ کو خلیفہ بنایا گیا۔ آپ ایک مرتبہ نماز پڑھا رہے تھے کہ بنو اسد کا ایک شخص کود کر آیا اور سجدے کی حالت میں آپ کے جسم میں خنجر گھونپ دیا جو آپ کے نرم گوشت میں لگا جس سے آپ کئی مہینے بیمار رہے جب اچھے ہوگئے تو مسجد میں آئے منبر پر بیٹھ کر خطبہ پڑھا جس میں فرمایا اے عراقیو ! ہمارے بارے میں اللہ کا خوف کیا کرو ہم تمہارے حاکم ہیں، تمہارے مہمان ہیں، ہم اہل بیت ہیں جن کے بارے میں آیت (وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى وَاَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيْنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا 33ۚ) 33۔ الأحزاب :33) اتری ہے۔ اس پر آپ نے خوب زور دیا اور اس مضمون کو بار بار ادا کیا جس سے مسجد والے رونے لگے۔ ایک مرتبہ آپ نے ایک شامی سے فرمایا تھا کیا تو نے سورة احزاب کی آیت تطہیر نہیں پڑھی ؟ اس نے کہا ہاں کیا اس سے مراد تم ہو ؟ فرمایا ہاں ! اللہ تعالیٰ بڑے لطف و کرم والا، بڑے علم اور پوری خبر والا ہے۔ اس نے جان لیا کہ تم اس کے لطف کے اہل ہو، اس لیے اس نے تمہیں یہ نعمتیں عطا فرمائیں اور یہ فضیلتیں تمہیں دیں۔ پس اس آیت کے معنی مطابق تفسیر ابن جریر یہ ہوئے کہ اے نبی کی بیویو ! اللہ کی جو نعمت تم پر ہے اسے تم یاد کرو کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں کیا جہاں اللہ کی آیات اور حکمت پڑھی جاتی ہے تمہیں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر اس کا شکر کرنا چاہئے اور اس کی حمد پڑھنی چاہئے کہ تم پر اللہ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں آباد کیا۔ حکمت سے مراد سنت و حدیث ہے۔ اللہ انجام تک سے خبردار ہے۔ اس نے اپنے پورے اور صحیح علم سے جانچ کر تمہیں اپنے نبی ﷺ کی بیویاں بننے کے لئے منتخب کرلیا۔ پس دراصل یہ بھی اللہ کا تم پر احسان ہے جو لطیف وخبیر ہے ہر چیز کے جزوکل سے۔
ارشادات الٰہی کی روشنی میں اسوہ امہات المومنین اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کی بیویوں کو آداب سکھاتا ہے اور چونکہ تمام عورتیں انہی کے ماتحت ہیں۔ اس لئے یہ احکام سب مسلمان عورتوں کے لئے ہیں پس فرمایا کہ تم میں سے جو پرہیزگاری کریں وہ بہت بڑی فضیلت اور مرتبے والی ہیں۔ مردوں سے جب تمہیں کوئی بات کرنی پڑے تو آواز بنا کر بات نہ کرو کہ جن کے دلوں میں روگ ہے انہیں طمع پیدا ہو۔ بلکہ بات اچھی اور مطابق دستور کرو۔ پس عورتوں کو غیر مردوں سے نزاکت کے ساتھ خوش آوازی سے باتیں کرنی منع ہیں۔ گھل مل کر وہ صرف اپنے خاوندوں سے ہی کلام کرسکتی ہیں۔ پھر فرمایا بغیر کسی ضروری کام کے گھر سے باہر نہ نکلو۔ مسجد میں نماز کے لئے آنا بھی شرعی ضرورت ہے جیسے کہ حدیث میں ہے اللہ کی لونڈیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو۔ لیکن انہیں چاہئے کہ سادگی سے جس طرح گھروں میں رہتی ہیں اسی طرح آئیں۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے لئے ان کے گھر بہتر ہیں۔ بزار میں ہے کہ عورتوں نے حاضر ہو کر رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ جہاد وغیرہ کی کل فضیلتیں مرد ہی لے گئے۔ اب آپ ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے ہم مجاہدین کی فضیلت کو پاسکیں۔ آپ نے فرمایا تم میں سے جو اپنے گھر میں پردے اور عصمت کے ساتھ بیٹھی رہے وہ جہاد کی فضیلت پالے گی۔ ترمذی وغیرہ میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں عورت سر تا پا پردے کی چیز ہے۔ یہ جب گھر سے باہر قدم نکالتی ہے تو شیطان جھانکنے لگتا ہے۔ یہ سب سے زیادہ اللہ کے قریب اس وقت ہوتی ہے جب یہ اپنے گھر کے اندرونی حجرے میں ہو۔ ابو داؤد وغیرہ میں ہے عورت کی اپنے گھر کی اندرونی کوٹھڑی کی نماز گھر کی نماز سے افضل ہے اور گھر کی نماز صحن کی نماز سے بہتر ہے۔ جاہلیت میں عورتیں بےپردہ پھرا کرتی تھیں اب اسلام بےپردگی کو حرام قرار دیتا ہے۔ ناز سے اٹھلا کر چلنا ممنوع ہے۔ دوپٹہ گلے میں ڈال لیا لیکن اسے لپیٹا نہیں جس سے گردن اور کانوں کے زیور دوسروں کو نظر آئیں، یہ جاہلیت کا بناؤ سنگھار تھا جس سے اس آیت میں روکا گیا ہے۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت نوح اور حضرت ادریس کی دو نسلیں آباد تھیں۔ ایک تو پہاڑ پر دوسرے نرم زمین پر۔ پہاڑیوں کے مرد خوش شکل تھے عورتیں سیاہ فام تھیں اور زمین والوں کی عورتیں خوبصورت تھیں اور مردوں کے رنگ سانولے تھے۔ ابلیس انسانی صورت اختیار کر کے انہیں بہکانے کے لئے نرم زمین والوں کے پاس آیا اور ایک شخص کا غلام بن کر رہنے لگا۔ پھر اس نے بانسری وضع کی ایک چیز بنائی اور اسے بجانے لگا اس کی آواز پر لوگ لٹو ہوگئے اور پھر بھیڑ لگنے لگی اور ایک دن میلے کا مقرر ہوگیا جس میں ہزارہا مرد و عورت جمع ہونے لگے۔ اتفاقاً ایک دن ایک پہاڑی آدمی بھی آگیا اور ان کی عورتوں کو دیکھ کر واپس جا کر اپنے قبیلے والوں میں اس کے حسن کا چرچا کرنے لگا۔ اب وہ لوگ بکثرت آنے لگے اور آہستہ آہستہ ان عورتوں مردوں میں اختلاط بڑھ گیا اور بدکاری اور زنا کاری کا عام رواج ہوگیا۔ یہی جاہلیت کا بناؤ ہے جس سے یہ آیت روک رہی ہے۔ ان کاموں سے روکنے کے بعد اب کچھ احکام بیان ہو رہے ہیں کہ اللہ کی عبادت میں سب سے بڑی عبادت نماز ہے اس کی پابندی کرو اور بہت اچھی طرح سے اسے ادا کرتی رہو۔ اسی طرح مخلوق کے ساتھ بھی نیک سلوک کرو۔ یعنی زکوٰۃ نکالتی رہو۔ ان خاص احکام کی بجا آوری کا حکم دے کر پھر عام طور پر اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا اس اہل بیت سے ہر قسم کے میل کچیل کو دور کرنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کا ہوچکا ہے وہ تمہیں بالکل پاک صاف کر دے گا۔ یہ آیت اس بات پر نص ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بیویاں ان آیتوں میں اہل بیت میں داخل ہیں۔ اس لئے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں اتری ہے۔ آیت کا شان نزول تو آیت کے حکم میں داخل ہوتا ہی ہے گو بعض کہتے ہیں کہ صرف وہی داخل ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں وہ بھی اور اس کے سوا بھی۔ اور یہ دوسرا قول ہی زیادہ صحیح ہے۔ حضرت عکرمہ ؒ تو بازاروں میں منادی کرتے پھرتے تھے کہ یہ آیت نبی ﷺ کی بیویوں ہی کے بارے میں خالصتاً نازل ہوئی ہے (ابن جریر) ابن ابی حاتم میں حضرت عکرمہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ جو چاہے مجھ سے مباہلہ کرلے۔ یہ آیت حضور ﷺ کی ازواج مطہرات ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ اس قول سے اگر یہ مطلب ہے کہ شان نزول یہی ہے اور نہیں، تو یہ تو ٹھیک ہے اور اگر اس سے مراد یہ ہے کہ اہل بیت میں اور کوئی ان کے سوا داخل ہی نہیں تو اس میں نظر ہے اس لئے کہ احادیث سے اہل بیت میں ازواج مطہرات کے سوا اوروں کا داخل ہونا بھی پایا جاتا ہے۔ مسند احمد اور ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز کے لئے جب نکلتے تو حضرت فاطمہ ؓ کے دروازے پر پہنچ کر فرماتے اے اہل بیت نماز کا وقت آگیا ہے پھر اسی آیت تطہیر کی تلاوت کرتے۔ امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک اسی حدیث میں سات مہینے کا بیان ہے۔ اس میں ایک راوی ابو داؤد اعمی نفیع بن حارث کذاب ہے۔ یہ روایت ٹھیک نہیں۔ مسند میں ہے شد اد بن عمار کہتے ہیں میں ایک دن حضرت واثلہ بن اسقع ؓ کے پاس گیا اس وقت وہاں کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت علی کا ذکر ہو رہا تھا۔ وہ آپ کو برا بھلا کہہ رہے تھے میں نے بھی ان کا ساتھ دیا جب وہ لوگ گئے تو مجھ سے سے حضرت واثلہ نے فرمایا تو نے بھی حضرت علی کی شان میں گستا خانہ الفاظ کہے ؟ میں نے کہا ہاں میں نے بھی سب کی زبان میں زبان ملائی۔ تو فرمایا سن میں نے جو دیکھا ہے تجھے سناتا ہوں۔ میں ایک مرتبہ حضرت علی کے گھر گیا تو معلوم ہوا کہ آپ ؓ حضور ﷺ کی مجلس میں گئے ہوئے ہیں۔ میں ان کے انتظار میں بیٹھا رہا تھوڑی دیر میں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ آ رہے ہیں اور آپ کے ساتھ حضرت علی ؓ اور حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ بھی ہیں دونوں بچے آپ کی انگلی تھامے ہوئے تھے آپ نے حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کو تو اپنے سامنے بٹھا لیا اور دونوں نواسوں کو اپنے گھٹنوں پر بٹھا لیا اور ایک کپڑے سے ڈھک لیا پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت اور میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں۔ دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ حضرت واثلہ ؓ کہتے ہیں میں نے یہ دیکھ کر کہا یا رسول اللہ ﷺ میں بھی آپ کی اہل بیت میں سے ہوں ؟ آپ نے فرمایا تو بھی میرے اہل میں سے ہے۔ حضرت واثلہ ؓ فرماتے ہیں حضور ﷺ کا یہ فرمان میرے لئے بہت ہی بڑی امید کا ہے اور روایت میں ہے حضرت واثلہ ؓ فرماتے ہیں میں حضور ﷺ کے پاس تھا جب حضرت علی حضرت فاطمہ حضرت حسن حضرت حسین ؓ اجمعین آئے آپ نے اپنی چادر ان پر ڈال کر فرمایا اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں یا اللہ ان سے ناپاکی کو دور فرما اور انہیں پاک کر دے۔ میں نے کہا میں بھی ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو بھی۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ میرا مضبوط عمل یہی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں حضور ﷺ میرے گھر میں تھے جب حضرت فاطمہ ؓ حریرے کی ایک پتیلی بھری ہوئی لائیں۔ آپ نے فرمایا اپنے میاں کو اور اپنے دونوں بچوں کو بھی بلا لو۔ چناچہ وہ بھی آگئے اور کھانا شروع ہوا آپ اپنے بستر پر تھے۔ خیبر کی ایک چادر آپ کے نیچے بچھی ہوئی تھی۔ میں حجرے میں نماز ادا کر رہی تھی جب یہ آیت اتری۔ پس حضور ﷺ نے چادر انہیں اڑھا دی اور چادر میں سے ایک ہاتھ نکال کر آسمان کی طرف اٹھا کر یہ دعا کی کہ الٰہی یہ میرے اہل بیت اور حمایتی ہیں تو ان سے ناپاکی دور کر اور انہیں ظاہر کر میں نے اپنا سر گھر میں سے نکال کر کہا یا رسول اللہ ﷺ میں بھی آپ سب کے ساتھ ہوں آپ نے فرمایا یقینا تو بہتری کی طرف ہے فی الواقع تو خیر کی طرف ہے۔ اس روایت کے روایوں میں عطا کے استاد کا نام نہیں جو معلم ہو سکے کہ وہ کیسے راوی ہیں باقی راوی ثقہ ہیں۔ دوسری سند سے انہی حضرت ام سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے ساتھ حضرت علی ؓ کا ذکر آیا تو آپنے فرمایا آیت تطہیر تو میرے گھر میں اتری ہے۔ آپ میرے ہاں آئے اور فرمایا کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دینا۔ تھوڑی دیر میں حضرت فاطمہ ؓ آئیں۔ اب بھلا میں بیٹی کو باپ سے کیسے روکتی ؟ پھر حضرت حسن ؓ آئے تو نواسے کو نانا سے کون روکے ؟ پھر حضرت حسین ؓ آئے میں نے انہیں بھی نہ روکا۔ پھر حضرت علی ؓ آئے میں انہیں بھی نہ روک سکی۔ جب یہ سب جمع ہوگئے تو جو چادر حضور ﷺ اوڑھے ہوئے تھے اسی میں ان سب کو لے لیا اور کہا الٰہی یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں خوب پاک کر دے۔ پس یہ آیت اس وقت اتری جبکہ یہ چادر میں جمع ہوچکے تھے میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں بھی ؟ لیکن اللہ جانتا ہے آپ اس پر خوش نہ ہوئے اور فرمایا تو خیر کی طرف ہے۔ مسند کی اور روایت میں ہے کہ میرے گھر میں حضور ﷺ تھے جب خادم نے آ کر خبر کی کہ فاطمہ ؓ اور علی ؓ آگئے ہیں تو آپ نے مجھ سے فرمایا ایک طرف ہوجاؤ میرے اہل بیت آگئے ہیں۔ میں گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئی جب دونوں ننھے بچے اور یہ دونوں صاحب تشریف لائے۔ آپ نے دونوں بچوں کو گودی میں لے لیا اور پیار کیا پھر ایک ہاتھ حضرت علی ؓ کی گردن میں دوسرا حضرت فاطمہ ؓ کی گردن میں ڈال کر ان دونوں کو بھی پیار کیا اور ایک سیاہ چادر سب پر ڈال کر فرمایا یا اللہ تیری طرف نہ کہ آگ کی طرف میں اور میری اہل بیت۔ میں نے کہا میں بھی ؟ فرمایا ہاں تو بھی۔ اور روایت میں ہے کہ میں اس وقت گھر کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی اور میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا تو بھلائی کی طرف ہے اور نبی ﷺ کی بیویوں میں سے ہے اور روایت میں ہے میں نے کہا مجھے بھی ان کے ساتھ شامل کرلیجئے تو فرمایا تو میری اہل ہے۔ حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ سیاہ چادر اوڑھے ہوئے ایک دن صبح ہی صبح نکلے اور ان چاروں کو اپنی چادر تلے لے کر یہ آیت پڑھی (مسلم وغیرہ) حضرت عائشہ ؓ سے ایک مرتبہ کسی نے حضرت علی ؓ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا وہ سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے محبوب تھے ان کے گھر میں آپ کی صاحبزادی تھیں جو سب سے زیادہ آپ کی محبوب تھیں۔ پھر چادر کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا میں نے قریب جا کر کہا یا رسول اللہ میں بھی آپ کے اہل بیت سے ہوں آپ نے فرمایا دور رہو تم یقیناً خیر پر ہو (ابن ابی حاتم) حضرت سعید ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا میرے اور ان چاروں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ اور سند سے یہ ابو سعید ؓ کا اپنا قول ہونا مروی ہے۔ واللہ اعلم۔ حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں جب حضور ﷺ پر وحی اتری تو آپ نے ان چاروں کو اپنے کپڑے تلے لے کر فرمایا یارب یہ میرے اہل ہیں اور میرے اہل بیت ہیں (ابن جریر) صحیح مسلم شریف میں ہے حضرت یزید بن حبان فرماتے ہیں میں اور حصین بن سیرہ اور عمر بن مسلمہ مل کر حضرت زید بن ارقم ؓ کے پاس گئے۔ حصین کہنے لگے اے زید آپ کو تو بہت سی بھلائیاں مل گئیں۔ آپ نے حضور ﷺ کی زیارت کی، آپ کی حدیثیں سنیں، آپ کے ساتھ جہاد کئے، آ پکے پیچھے نمازیں پڑھیں غرض آپ نے بہت خیر و برکت پا لیا اچھا ہمیں کوئی حدیث تو سناؤ۔ آپ نے فرمایا بھتیجے اب میری عمر بڑی ہوگئی۔ حضور ﷺ کا زمانہ دور ہوگیا۔ بعض باتیں ذہن سے جاتی رہیں۔ اب تم ایسا کرو جو باتیں میں از خود بیان کروں انہیں تم قبول کرلو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو۔ سنو ! مکہ اور مدینے کے درمیان ایک پانی کی جگہ پر جسے خم کہا جاتا ہے حضور ﷺ نے کھڑے ہو کر ہمیں ایک خطبہ سنایا۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور وعظ و پند کے بعد فرمایا میں ایک انسان ہوں۔ بہت ممکن ہے کہ میرے پاس میرے رب کا قاصد آئے اور میں اس کی مان لوں میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ پہلی تو کتاب اللہ جس پر ہدایت و نور ہے۔ تم اللہ کی کتابوں کو لو اور اسے مضبوطی سے تھام لو پھر تو آپ نے کتاب اللہ کی بڑی رغبت دلائی اور اس کی طرف ہمیں خوب متوجہ فرمایا۔ پھر فرمایا اور میری اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں تین مرتبہ یہی کلمہ فرمایا۔ تو حصین نے حضرت زید ؓ سے پوچھا آپ کے اہل بیت کون ہیں ؟ کیا آپ کی بیویاں آپ کی اہل بیت نہیں ہیں ؟ فرمایا آپ کی بیویاں تو آپ کی اہل بیت ہیں ہی۔ لیکن آپ کی اہل بیت وہ ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ کھانا حرام ہے، پوچھا وہ کون ہیں ؟ فرمایا آل علی، آل عقیل، آل جعفر، آل عباس ؓ۔ پوچھا کیا ان سب پر آپ کے بعد صدقہ حرام ہے ؟ کہا ہاں ! دوسری سند سے یہ بھی مروی ہے کہ میں نے پوچھا کیا آپ کی بیویاں بھی اہل بیت میں داخل ہیں ؟ کہا نہیں قسم ہے اللہ کی بیوی کا تو یہ حال ہے کہ وہ اپنے خاوند کے پاس گو عرصہ دراز سے ہو لیکن پھر اگر وہ طلاق دے دے تو اپنے میکے میں اور اپنی قوم میں چلی جاتی ہے۔ آپ کے اہل بیت آپ کی اصل اور عصبہ ہیں جن پر آپکے بعد صدقہ حرام ہے۔ اس روایت میں یہی ہے لیکن پہلی روایت ہی اولیٰ ہے اور اسی کو لینا ٹھیک ہے اور اس دوسری میں جو ہے اس سے مراد صرف حدیث میں جن اہل بیت کا ذکر ہے وہ ہے کیونکہ وہاں وہ آل مراد ہے جن پر صدقہ خوری حرام ہے یا یہ کہ مراد صرف بیویاں نہیں ہیں بلکہ وہ مع آپ کی اور آل کے ہیں۔ یہی بات زیادہ راحج ہے اور اس سے اس روایت اور اس سے پہلے کی روایت میں جمع بھی ہوجاتی ہے اور قرآن اور پہلی احادیث میں بھی جمع ہوجاتی ہے لیکن یہ اس صورت میں کہ ان احادیث کی صحت کو تسلیم کرلیا جائے۔ کیونکہ ان کی بعض اسنادوں میں نظر ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔ جس شخص کو نور معرفت حاصل ہو اور قرآن میں تدبر کرنے کی عادت ہو وہ یقینا بیک نگاہ جان لے گا کہ اس آیت میں حضور ﷺ کی بیویاں بلاشبک و شبہ داخل ہیں اس لئے کہ اوپر سے کلام ہی ان کے ساتھ اور انہی کے بارے میں چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ہی فرمایا کہ اللہ کی آیتیں اور رسول ﷺ کی باتیں جن کا درس تمہارے گھروں میں ہو رہا ہے انہیں یاد رکھو اور ان پر عمل کرو۔ پس اللہ کی آیات اور حکمت سے مراد بقول حضرت قتادہ وغیرہ کتاب و سنت ہے۔ پس یہ خاص خصوصیت ہے جو ان کے سوا کسی اور کو نہیں ملی کہ ان کے گھروں میں اللہ کی وحی اور رحمت الٰہی نازل ہوا کرتی ہے اور ان میں بھی یہ شرف حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ کو بطور اولیٰ اور سب سے زیادہ حاصل ہے کیونکہ حدیث شریف میں صاف وارد ہے کہ کسی عورت کے بستر پر حضور ﷺ کی طرف وحی نہیں آتی بجز آپ ﷺ کے بسترے کے یہ اس لئے بھی کہ حضور ﷺ نے آپ کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا تھا۔ ان کا بستر بجز رسول اللہ ﷺ کے اور کسی کے لئے نہ تھا۔ پس اس زیادتی درجہ اور بلندی مرتبہ کی وہ صحیح طور پر مستحق تھیں۔ ہاں جبکہ آپ کی بیویاں آپ کے اہل بیت ہوئیں تو آپ کے قریبی رشتے دار بطور اولیٰ آپ کی اہل بیت ہیں۔ جیسے حدیث میں گذر چکا کہ میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں۔ اس کی مثال میں یہ آیت ٹھیک طور پر پیش ہوسکتی ہے۔ (لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ ۭ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا ۭوَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ01008) 9۔ التوبہ :108) کہ یہ اتری تو ہے مسجد قبا کے بارے میں جیسا کہ صاف صاف احادیث میں موجود ہے۔ لیکن صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ اس مسجد سے کون سی مسجد مراد ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ میری ہی مسجد ہے یعنی مسجد نبوی۔ پس جو صفت مسجد قبا میں تھی وہی صفت چونکہ مسجد نبوی میں بھی ہے اس لئے اس مسجد کو بھی اسی نام سے اس آیت کے تحت داخل کردیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت علی ؓ کی شہادت کے بعد حضرت حسن ؓ کو خلیفہ بنایا گیا۔ آپ ایک مرتبہ نماز پڑھا رہے تھے کہ بنو اسد کا ایک شخص کود کر آیا اور سجدے کی حالت میں آپ کے جسم میں خنجر گھونپ دیا جو آپ کے نرم گوشت میں لگا جس سے آپ کئی مہینے بیمار رہے جب اچھے ہوگئے تو مسجد میں آئے منبر پر بیٹھ کر خطبہ پڑھا جس میں فرمایا اے عراقیو ! ہمارے بارے میں اللہ کا خوف کیا کرو ہم تمہارے حاکم ہیں، تمہارے مہمان ہیں، ہم اہل بیت ہیں جن کے بارے میں آیت (وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى وَاَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيْنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا 33ۚ) 33۔ الأحزاب :33) اتری ہے۔ اس پر آپ نے خوب زور دیا اور اس مضمون کو بار بار ادا کیا جس سے مسجد والے رونے لگے۔ ایک مرتبہ آپ نے ایک شامی سے فرمایا تھا کیا تو نے سورة احزاب کی آیت تطہیر نہیں پڑھی ؟ اس نے کہا ہاں کیا اس سے مراد تم ہو ؟ فرمایا ہاں ! اللہ تعالیٰ بڑے لطف و کرم والا، بڑے علم اور پوری خبر والا ہے۔ اس نے جان لیا کہ تم اس کے لطف کے اہل ہو، اس لیے اس نے تمہیں یہ نعمتیں عطا فرمائیں اور یہ فضیلتیں تمہیں دیں۔ پس اس آیت کے معنی مطابق تفسیر ابن جریر یہ ہوئے کہ اے نبی کی بیویو ! اللہ کی جو نعمت تم پر ہے اسے تم یاد کرو کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں کیا جہاں اللہ کی آیات اور حکمت پڑھی جاتی ہے تمہیں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر اس کا شکر کرنا چاہئے اور اس کی حمد پڑھنی چاہئے کہ تم پر اللہ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں آباد کیا۔ حکمت سے مراد سنت و حدیث ہے۔ اللہ انجام تک سے خبردار ہے۔ اس نے اپنے پورے اور صحیح علم سے جانچ کر تمہیں اپنے نبی ﷺ کی بیویاں بننے کے لئے منتخب کرلیا۔ پس دراصل یہ بھی اللہ کا تم پر احسان ہے جو لطیف وخبیر ہے ہر چیز کے جزوکل سے۔
ارشادات الٰہی کی روشنی میں اسوہ امہات المومنین اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کی بیویوں کو آداب سکھاتا ہے اور چونکہ تمام عورتیں انہی کے ماتحت ہیں۔ اس لئے یہ احکام سب مسلمان عورتوں کے لئے ہیں پس فرمایا کہ تم میں سے جو پرہیزگاری کریں وہ بہت بڑی فضیلت اور مرتبے والی ہیں۔ مردوں سے جب تمہیں کوئی بات کرنی پڑے تو آواز بنا کر بات نہ کرو کہ جن کے دلوں میں روگ ہے انہیں طمع پیدا ہو۔ بلکہ بات اچھی اور مطابق دستور کرو۔ پس عورتوں کو غیر مردوں سے نزاکت کے ساتھ خوش آوازی سے باتیں کرنی منع ہیں۔ گھل مل کر وہ صرف اپنے خاوندوں سے ہی کلام کرسکتی ہیں۔ پھر فرمایا بغیر کسی ضروری کام کے گھر سے باہر نہ نکلو۔ مسجد میں نماز کے لئے آنا بھی شرعی ضرورت ہے جیسے کہ حدیث میں ہے اللہ کی لونڈیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو۔ لیکن انہیں چاہئے کہ سادگی سے جس طرح گھروں میں رہتی ہیں اسی طرح آئیں۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے لئے ان کے گھر بہتر ہیں۔ بزار میں ہے کہ عورتوں نے حاضر ہو کر رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ جہاد وغیرہ کی کل فضیلتیں مرد ہی لے گئے۔ اب آپ ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے ہم مجاہدین کی فضیلت کو پاسکیں۔ آپ نے فرمایا تم میں سے جو اپنے گھر میں پردے اور عصمت کے ساتھ بیٹھی رہے وہ جہاد کی فضیلت پالے گی۔ ترمذی وغیرہ میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں عورت سر تا پا پردے کی چیز ہے۔ یہ جب گھر سے باہر قدم نکالتی ہے تو شیطان جھانکنے لگتا ہے۔ یہ سب سے زیادہ اللہ کے قریب اس وقت ہوتی ہے جب یہ اپنے گھر کے اندرونی حجرے میں ہو۔ ابو داؤد وغیرہ میں ہے عورت کی اپنے گھر کی اندرونی کوٹھڑی کی نماز گھر کی نماز سے افضل ہے اور گھر کی نماز صحن کی نماز سے بہتر ہے۔ جاہلیت میں عورتیں بےپردہ پھرا کرتی تھیں اب اسلام بےپردگی کو حرام قرار دیتا ہے۔ ناز سے اٹھلا کر چلنا ممنوع ہے۔ دوپٹہ گلے میں ڈال لیا لیکن اسے لپیٹا نہیں جس سے گردن اور کانوں کے زیور دوسروں کو نظر آئیں، یہ جاہلیت کا بناؤ سنگھار تھا جس سے اس آیت میں روکا گیا ہے۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت نوح اور حضرت ادریس کی دو نسلیں آباد تھیں۔ ایک تو پہاڑ پر دوسرے نرم زمین پر۔ پہاڑیوں کے مرد خوش شکل تھے عورتیں سیاہ فام تھیں اور زمین والوں کی عورتیں خوبصورت تھیں اور مردوں کے رنگ سانولے تھے۔ ابلیس انسانی صورت اختیار کر کے انہیں بہکانے کے لئے نرم زمین والوں کے پاس آیا اور ایک شخص کا غلام بن کر رہنے لگا۔ پھر اس نے بانسری وضع کی ایک چیز بنائی اور اسے بجانے لگا اس کی آواز پر لوگ لٹو ہوگئے اور پھر بھیڑ لگنے لگی اور ایک دن میلے کا مقرر ہوگیا جس میں ہزارہا مرد و عورت جمع ہونے لگے۔ اتفاقاً ایک دن ایک پہاڑی آدمی بھی آگیا اور ان کی عورتوں کو دیکھ کر واپس جا کر اپنے قبیلے والوں میں اس کے حسن کا چرچا کرنے لگا۔ اب وہ لوگ بکثرت آنے لگے اور آہستہ آہستہ ان عورتوں مردوں میں اختلاط بڑھ گیا اور بدکاری اور زنا کاری کا عام رواج ہوگیا۔ یہی جاہلیت کا بناؤ ہے جس سے یہ آیت روک رہی ہے۔ ان کاموں سے روکنے کے بعد اب کچھ احکام بیان ہو رہے ہیں کہ اللہ کی عبادت میں سب سے بڑی عبادت نماز ہے اس کی پابندی کرو اور بہت اچھی طرح سے اسے ادا کرتی رہو۔ اسی طرح مخلوق کے ساتھ بھی نیک سلوک کرو۔ یعنی زکوٰۃ نکالتی رہو۔ ان خاص احکام کی بجا آوری کا حکم دے کر پھر عام طور پر اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا اس اہل بیت سے ہر قسم کے میل کچیل کو دور کرنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کا ہوچکا ہے وہ تمہیں بالکل پاک صاف کر دے گا۔ یہ آیت اس بات پر نص ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بیویاں ان آیتوں میں اہل بیت میں داخل ہیں۔ اس لئے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں اتری ہے۔ آیت کا شان نزول تو آیت کے حکم میں داخل ہوتا ہی ہے گو بعض کہتے ہیں کہ صرف وہی داخل ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں وہ بھی اور اس کے سوا بھی۔ اور یہ دوسرا قول ہی زیادہ صحیح ہے۔ حضرت عکرمہ ؒ تو بازاروں میں منادی کرتے پھرتے تھے کہ یہ آیت نبی ﷺ کی بیویوں ہی کے بارے میں خالصتاً نازل ہوئی ہے (ابن جریر) ابن ابی حاتم میں حضرت عکرمہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ جو چاہے مجھ سے مباہلہ کرلے۔ یہ آیت حضور ﷺ کی ازواج مطہرات ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ اس قول سے اگر یہ مطلب ہے کہ شان نزول یہی ہے اور نہیں، تو یہ تو ٹھیک ہے اور اگر اس سے مراد یہ ہے کہ اہل بیت میں اور کوئی ان کے سوا داخل ہی نہیں تو اس میں نظر ہے اس لئے کہ احادیث سے اہل بیت میں ازواج مطہرات کے سوا اوروں کا داخل ہونا بھی پایا جاتا ہے۔ مسند احمد اور ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز کے لئے جب نکلتے تو حضرت فاطمہ ؓ کے دروازے پر پہنچ کر فرماتے اے اہل بیت نماز کا وقت آگیا ہے پھر اسی آیت تطہیر کی تلاوت کرتے۔ امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک اسی حدیث میں سات مہینے کا بیان ہے۔ اس میں ایک راوی ابو داؤد اعمی نفیع بن حارث کذاب ہے۔ یہ روایت ٹھیک نہیں۔ مسند میں ہے شد اد بن عمار کہتے ہیں میں ایک دن حضرت واثلہ بن اسقع ؓ کے پاس گیا اس وقت وہاں کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت علی کا ذکر ہو رہا تھا۔ وہ آپ کو برا بھلا کہہ رہے تھے میں نے بھی ان کا ساتھ دیا جب وہ لوگ گئے تو مجھ سے سے حضرت واثلہ نے فرمایا تو نے بھی حضرت علی کی شان میں گستا خانہ الفاظ کہے ؟ میں نے کہا ہاں میں نے بھی سب کی زبان میں زبان ملائی۔ تو فرمایا سن میں نے جو دیکھا ہے تجھے سناتا ہوں۔ میں ایک مرتبہ حضرت علی کے گھر گیا تو معلوم ہوا کہ آپ ؓ حضور ﷺ کی مجلس میں گئے ہوئے ہیں۔ میں ان کے انتظار میں بیٹھا رہا تھوڑی دیر میں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ آ رہے ہیں اور آپ کے ساتھ حضرت علی ؓ اور حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ بھی ہیں دونوں بچے آپ کی انگلی تھامے ہوئے تھے آپ نے حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کو تو اپنے سامنے بٹھا لیا اور دونوں نواسوں کو اپنے گھٹنوں پر بٹھا لیا اور ایک کپڑے سے ڈھک لیا پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت اور میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں۔ دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ حضرت واثلہ ؓ کہتے ہیں میں نے یہ دیکھ کر کہا یا رسول اللہ ﷺ میں بھی آپ کی اہل بیت میں سے ہوں ؟ آپ نے فرمایا تو بھی میرے اہل میں سے ہے۔ حضرت واثلہ ؓ فرماتے ہیں حضور ﷺ کا یہ فرمان میرے لئے بہت ہی بڑی امید کا ہے اور روایت میں ہے حضرت واثلہ ؓ فرماتے ہیں میں حضور ﷺ کے پاس تھا جب حضرت علی حضرت فاطمہ حضرت حسن حضرت حسین ؓ اجمعین آئے آپ نے اپنی چادر ان پر ڈال کر فرمایا اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں یا اللہ ان سے ناپاکی کو دور فرما اور انہیں پاک کر دے۔ میں نے کہا میں بھی ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو بھی۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ میرا مضبوط عمل یہی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں حضور ﷺ میرے گھر میں تھے جب حضرت فاطمہ ؓ حریرے کی ایک پتیلی بھری ہوئی لائیں۔ آپ نے فرمایا اپنے میاں کو اور اپنے دونوں بچوں کو بھی بلا لو۔ چناچہ وہ بھی آگئے اور کھانا شروع ہوا آپ اپنے بستر پر تھے۔ خیبر کی ایک چادر آپ کے نیچے بچھی ہوئی تھی۔ میں حجرے میں نماز ادا کر رہی تھی جب یہ آیت اتری۔ پس حضور ﷺ نے چادر انہیں اڑھا دی اور چادر میں سے ایک ہاتھ نکال کر آسمان کی طرف اٹھا کر یہ دعا کی کہ الٰہی یہ میرے اہل بیت اور حمایتی ہیں تو ان سے ناپاکی دور کر اور انہیں ظاہر کر میں نے اپنا سر گھر میں سے نکال کر کہا یا رسول اللہ ﷺ میں بھی آپ سب کے ساتھ ہوں آپ نے فرمایا یقینا تو بہتری کی طرف ہے فی الواقع تو خیر کی طرف ہے۔ اس روایت کے روایوں میں عطا کے استاد کا نام نہیں جو معلم ہو سکے کہ وہ کیسے راوی ہیں باقی راوی ثقہ ہیں۔ دوسری سند سے انہی حضرت ام سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے ساتھ حضرت علی ؓ کا ذکر آیا تو آپنے فرمایا آیت تطہیر تو میرے گھر میں اتری ہے۔ آپ میرے ہاں آئے اور فرمایا کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دینا۔ تھوڑی دیر میں حضرت فاطمہ ؓ آئیں۔ اب بھلا میں بیٹی کو باپ سے کیسے روکتی ؟ پھر حضرت حسن ؓ آئے تو نواسے کو نانا سے کون روکے ؟ پھر حضرت حسین ؓ آئے میں نے انہیں بھی نہ روکا۔ پھر حضرت علی ؓ آئے میں انہیں بھی نہ روک سکی۔ جب یہ سب جمع ہوگئے تو جو چادر حضور ﷺ اوڑھے ہوئے تھے اسی میں ان سب کو لے لیا اور کہا الٰہی یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں خوب پاک کر دے۔ پس یہ آیت اس وقت اتری جبکہ یہ چادر میں جمع ہوچکے تھے میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں بھی ؟ لیکن اللہ جانتا ہے آپ اس پر خوش نہ ہوئے اور فرمایا تو خیر کی طرف ہے۔ مسند کی اور روایت میں ہے کہ میرے گھر میں حضور ﷺ تھے جب خادم نے آ کر خبر کی کہ فاطمہ ؓ اور علی ؓ آگئے ہیں تو آپ نے مجھ سے فرمایا ایک طرف ہوجاؤ میرے اہل بیت آگئے ہیں۔ میں گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئی جب دونوں ننھے بچے اور یہ دونوں صاحب تشریف لائے۔ آپ نے دونوں بچوں کو گودی میں لے لیا اور پیار کیا پھر ایک ہاتھ حضرت علی ؓ کی گردن میں دوسرا حضرت فاطمہ ؓ کی گردن میں ڈال کر ان دونوں کو بھی پیار کیا اور ایک سیاہ چادر سب پر ڈال کر فرمایا یا اللہ تیری طرف نہ کہ آگ کی طرف میں اور میری اہل بیت۔ میں نے کہا میں بھی ؟ فرمایا ہاں تو بھی۔ اور روایت میں ہے کہ میں اس وقت گھر کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی اور میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا تو بھلائی کی طرف ہے اور نبی ﷺ کی بیویوں میں سے ہے اور روایت میں ہے میں نے کہا مجھے بھی ان کے ساتھ شامل کرلیجئے تو فرمایا تو میری اہل ہے۔ حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ سیاہ چادر اوڑھے ہوئے ایک دن صبح ہی صبح نکلے اور ان چاروں کو اپنی چادر تلے لے کر یہ آیت پڑھی (مسلم وغیرہ) حضرت عائشہ ؓ سے ایک مرتبہ کسی نے حضرت علی ؓ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا وہ سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے محبوب تھے ان کے گھر میں آپ کی صاحبزادی تھیں جو سب سے زیادہ آپ کی محبوب تھیں۔ پھر چادر کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا میں نے قریب جا کر کہا یا رسول اللہ میں بھی آپ کے اہل بیت سے ہوں آپ نے فرمایا دور رہو تم یقیناً خیر پر ہو (ابن ابی حاتم) حضرت سعید ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا میرے اور ان چاروں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ اور سند سے یہ ابو سعید ؓ کا اپنا قول ہونا مروی ہے۔ واللہ اعلم۔ حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں جب حضور ﷺ پر وحی اتری تو آپ نے ان چاروں کو اپنے کپڑے تلے لے کر فرمایا یارب یہ میرے اہل ہیں اور میرے اہل بیت ہیں (ابن جریر) صحیح مسلم شریف میں ہے حضرت یزید بن حبان فرماتے ہیں میں اور حصین بن سیرہ اور عمر بن مسلمہ مل کر حضرت زید بن ارقم ؓ کے پاس گئے۔ حصین کہنے لگے اے زید آپ کو تو بہت سی بھلائیاں مل گئیں۔ آپ نے حضور ﷺ کی زیارت کی، آپ کی حدیثیں سنیں، آپ کے ساتھ جہاد کئے، آ پکے پیچھے نمازیں پڑھیں غرض آپ نے بہت خیر و برکت پا لیا اچھا ہمیں کوئی حدیث تو سناؤ۔ آپ نے فرمایا بھتیجے اب میری عمر بڑی ہوگئی۔ حضور ﷺ کا زمانہ دور ہوگیا۔ بعض باتیں ذہن سے جاتی رہیں۔ اب تم ایسا کرو جو باتیں میں از خود بیان کروں انہیں تم قبول کرلو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو۔ سنو ! مکہ اور مدینے کے درمیان ایک پانی کی جگہ پر جسے خم کہا جاتا ہے حضور ﷺ نے کھڑے ہو کر ہمیں ایک خطبہ سنایا۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور وعظ و پند کے بعد فرمایا میں ایک انسان ہوں۔ بہت ممکن ہے کہ میرے پاس میرے رب کا قاصد آئے اور میں اس کی مان لوں میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ پہلی تو کتاب اللہ جس پر ہدایت و نور ہے۔ تم اللہ کی کتابوں کو لو اور اسے مضبوطی سے تھام لو پھر تو آپ نے کتاب اللہ کی بڑی رغبت دلائی اور اس کی طرف ہمیں خوب متوجہ فرمایا۔ پھر فرمایا اور میری اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں تین مرتبہ یہی کلمہ فرمایا۔ تو حصین نے حضرت زید ؓ سے پوچھا آپ کے اہل بیت کون ہیں ؟ کیا آپ کی بیویاں آپ کی اہل بیت نہیں ہیں ؟ فرمایا آپ کی بیویاں تو آپ کی اہل بیت ہیں ہی۔ لیکن آپ کی اہل بیت وہ ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ کھانا حرام ہے، پوچھا وہ کون ہیں ؟ فرمایا آل علی، آل عقیل، آل جعفر، آل عباس ؓ۔ پوچھا کیا ان سب پر آپ کے بعد صدقہ حرام ہے ؟ کہا ہاں ! دوسری سند سے یہ بھی مروی ہے کہ میں نے پوچھا کیا آپ کی بیویاں بھی اہل بیت میں داخل ہیں ؟ کہا نہیں قسم ہے اللہ کی بیوی کا تو یہ حال ہے کہ وہ اپنے خاوند کے پاس گو عرصہ دراز سے ہو لیکن پھر اگر وہ طلاق دے دے تو اپنے میکے میں اور اپنی قوم میں چلی جاتی ہے۔ آپ کے اہل بیت آپ کی اصل اور عصبہ ہیں جن پر آپکے بعد صدقہ حرام ہے۔ اس روایت میں یہی ہے لیکن پہلی روایت ہی اولیٰ ہے اور اسی کو لینا ٹھیک ہے اور اس دوسری میں جو ہے اس سے مراد صرف حدیث میں جن اہل بیت کا ذکر ہے وہ ہے کیونکہ وہاں وہ آل مراد ہے جن پر صدقہ خوری حرام ہے یا یہ کہ مراد صرف بیویاں نہیں ہیں بلکہ وہ مع آپ کی اور آل کے ہیں۔ یہی بات زیادہ راحج ہے اور اس سے اس روایت اور اس سے پہلے کی روایت میں جمع بھی ہوجاتی ہے اور قرآن اور پہلی احادیث میں بھی جمع ہوجاتی ہے لیکن یہ اس صورت میں کہ ان احادیث کی صحت کو تسلیم کرلیا جائے۔ کیونکہ ان کی بعض اسنادوں میں نظر ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔ جس شخص کو نور معرفت حاصل ہو اور قرآن میں تدبر کرنے کی عادت ہو وہ یقینا بیک نگاہ جان لے گا کہ اس آیت میں حضور ﷺ کی بیویاں بلاشبک و شبہ داخل ہیں اس لئے کہ اوپر سے کلام ہی ان کے ساتھ اور انہی کے بارے میں چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ہی فرمایا کہ اللہ کی آیتیں اور رسول ﷺ کی باتیں جن کا درس تمہارے گھروں میں ہو رہا ہے انہیں یاد رکھو اور ان پر عمل کرو۔ پس اللہ کی آیات اور حکمت سے مراد بقول حضرت قتادہ وغیرہ کتاب و سنت ہے۔ پس یہ خاص خصوصیت ہے جو ان کے سوا کسی اور کو نہیں ملی کہ ان کے گھروں میں اللہ کی وحی اور رحمت الٰہی نازل ہوا کرتی ہے اور ان میں بھی یہ شرف حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ کو بطور اولیٰ اور سب سے زیادہ حاصل ہے کیونکہ حدیث شریف میں صاف وارد ہے کہ کسی عورت کے بستر پر حضور ﷺ کی طرف وحی نہیں آتی بجز آپ ﷺ کے بسترے کے یہ اس لئے بھی کہ حضور ﷺ نے آپ کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا تھا۔ ان کا بستر بجز رسول اللہ ﷺ کے اور کسی کے لئے نہ تھا۔ پس اس زیادتی درجہ اور بلندی مرتبہ کی وہ صحیح طور پر مستحق تھیں۔ ہاں جبکہ آپ کی بیویاں آپ کے اہل بیت ہوئیں تو آپ کے قریبی رشتے دار بطور اولیٰ آپ کی اہل بیت ہیں۔ جیسے حدیث میں گذر چکا کہ میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں۔ اس کی مثال میں یہ آیت ٹھیک طور پر پیش ہوسکتی ہے۔ (لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ ۭ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا ۭوَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ01008) 9۔ التوبہ :108) کہ یہ اتری تو ہے مسجد قبا کے بارے میں جیسا کہ صاف صاف احادیث میں موجود ہے۔ لیکن صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ اس مسجد سے کون سی مسجد مراد ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ میری ہی مسجد ہے یعنی مسجد نبوی۔ پس جو صفت مسجد قبا میں تھی وہی صفت چونکہ مسجد نبوی میں بھی ہے اس لئے اس مسجد کو بھی اسی نام سے اس آیت کے تحت داخل کردیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت علی ؓ کی شہادت کے بعد حضرت حسن ؓ کو خلیفہ بنایا گیا۔ آپ ایک مرتبہ نماز پڑھا رہے تھے کہ بنو اسد کا ایک شخص کود کر آیا اور سجدے کی حالت میں آپ کے جسم میں خنجر گھونپ دیا جو آپ کے نرم گوشت میں لگا جس سے آپ کئی مہینے بیمار رہے جب اچھے ہوگئے تو مسجد میں آئے منبر پر بیٹھ کر خطبہ پڑھا جس میں فرمایا اے عراقیو ! ہمارے بارے میں اللہ کا خوف کیا کرو ہم تمہارے حاکم ہیں، تمہارے مہمان ہیں، ہم اہل بیت ہیں جن کے بارے میں آیت (وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى وَاَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيْنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا 33ۚ) 33۔ الأحزاب :33) اتری ہے۔ اس پر آپ نے خوب زور دیا اور اس مضمون کو بار بار ادا کیا جس سے مسجد والے رونے لگے۔ ایک مرتبہ آپ نے ایک شامی سے فرمایا تھا کیا تو نے سورة احزاب کی آیت تطہیر نہیں پڑھی ؟ اس نے کہا ہاں کیا اس سے مراد تم ہو ؟ فرمایا ہاں ! اللہ تعالیٰ بڑے لطف و کرم والا، بڑے علم اور پوری خبر والا ہے۔ اس نے جان لیا کہ تم اس کے لطف کے اہل ہو، اس لیے اس نے تمہیں یہ نعمتیں عطا فرمائیں اور یہ فضیلتیں تمہیں دیں۔ پس اس آیت کے معنی مطابق تفسیر ابن جریر یہ ہوئے کہ اے نبی کی بیویو ! اللہ کی جو نعمت تم پر ہے اسے تم یاد کرو کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں کیا جہاں اللہ کی آیات اور حکمت پڑھی جاتی ہے تمہیں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر اس کا شکر کرنا چاہئے اور اس کی حمد پڑھنی چاہئے کہ تم پر اللہ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں آباد کیا۔ حکمت سے مراد سنت و حدیث ہے۔ اللہ انجام تک سے خبردار ہے۔ اس نے اپنے پورے اور صحیح علم سے جانچ کر تمہیں اپنے نبی ﷺ کی بیویاں بننے کے لئے منتخب کرلیا۔ پس دراصل یہ بھی اللہ کا تم پر احسان ہے جو لطیف وخبیر ہے ہر چیز کے جزوکل سے۔
اسلام اور ایمان میں فرق اور ذکر الٰہی۔ ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ مردوں کا ذکر تو قرآن میں آتا رہتا ہے لیکن عورتوں کا تو ذکر ہی نہیں کیا جاتا۔ ایک دن میں اپنے گھر میں بیٹھی اپنے سر کے بال سلجھا رہی تھی جب میں نے حضور ﷺ کی آواز منبر پر سنی میں نے بالوں کو تو یونہی لپیٹ لیا اور حجرے میں آ کر آپ کی باتیں سننے لگی تو آپ اس وقت یہی آیت تلاوت فرما رہے تھے۔ نسائی وغیرہ۔ اور بہت سی روایتیں آپ سے مختصراً مروی ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ چند عورتوں نے حضور ﷺ سے یہ کہا تھا اور روایت میں ہے کہ عورتوں نے ازواج مطہرات سے یہ کہا تھا۔ اسلام و ایمان کو الگ الگ بیان کرنا دلیل ہے اس بات کی کہ ایمان اسلام کا غیر ہے اور ایمان اسلام سے مخصوص و ممتاز ہے (قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا 14) 49۔ الحجرات :14) والی آیت اور بخاری و مسلم کی حدیث کہ زانی زنا کے وقت مومن نہیں ہوتا پھر اس پر اجماع کہ زنا سے کفر لازم نہیں آتا۔ یہ اس پر دلیل ہے اور ہم شرح بخاری کی ابتداء میں اسے ثابت کرچکے ہیں۔ (یہ یاد رہے کہ ان میں فرق اس وقت ہے جب اسلام حقیقی نہ ہو جیسے کہ امام المحدثین حضرت امام بخاری ؒ نے صحیح بخاری کتاب الایمان میں بدلائل کثیرہ ثابت کیا ہے، واللہ اعلم، مترجم) قنوت سے مراد سکون کے ساتھ کی اطاعت گذاری ہے جیسے (اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَّقَاۗىِٕمًا يَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ ۭ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ ۧ) 39۔ الزمر :9) ، میں ہے اور فرمان ہے (وَلَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ 26) 30۔ الروم :26) یعنی آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کی فرماں بردار ہے اور فرماتا ہے (يٰمَرْيَمُ اقْنُتِىْ لِرَبِّكِ وَاسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ 43 ) 3۔ آل عمران :43) ، اور فرماتا ہے (وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ02308) 2۔ البقرة :238) یعنی اللہ کے سامنے با ادب فرماں برداری کی صورت میں کھڑے ہوا کرو۔ پس اسلام کے اوپر کا مرتبہ ایمان ہے اور ان کے اجتماع سے انسان میں فرماں برداری اور اطاعت گذاری پیدا ہوجاتی ہے۔ باتوں کی سچائی اللہ کو بہت ہی محبوب ہے اور یہ عادت ہر طرح محمود ہے۔ صحابہ کبار میں تو وہ بزرگ بھی تھے جنہوں نے جاہلیت کے زمانے میں بھی کوئی جھوٹ نہیں بولا تھا، سچائی ایمان کی نشانی ہے اور جھوٹ نفاق کی علامت ہے۔ سچا نجات پاتا ہے۔ سچ ہی بولا کرو۔ سچائی نیکی کی طرف رہبری کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف۔ جھوٹ سے بچو۔ جھوٹ بدکاری کی طرف رہبری کرتا ہے اور فسق و فجور انسان کو جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ انسان سچ بولتے بولتے اور سچائی کا قصد کرتے کرتے اللہ کے ہاں صدیق لکھ لیا جاتا ہے اور جھوٹ بولتے ہوئے اور جھوٹ کا قصد کرتے ہوئے اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ لیا جاتا ہے اور بھی اس بارے کی بہت سی حدیثیں ہیں۔ صبر ثابت قدمی کا نتیجہ ہے۔ مصیبتوں پر صبر ہوتا ہے اس علم پر کہ تقدیر کا لکھا ٹلتا نہیں۔ سب سے زیادہ سخت صبر صدمے کے ابتدائی وقت پر ہے اور اسی کا اجر زیادہ ہے۔ پھر تو جوں جوں زمانہ گذرتا ہے خواہ مخواہ ہی صبر آجاتا ہے۔ خشوع سے مراد تسکین دلجمعی تواضح فروتنی اور عاجزی ہے۔ یہ انسان میں اس وقت آتی ہے جبکہ دل میں اللہ کا خوف اور رب کو ہر وقت حاضر ناظر جانتا ہو اور اس طرح اللہ کی عبادت کرتا ہو جیسے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے اور یہ نہیں تو کم از کم اس درجے پر وہ ضرور ہو کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ صدقے سے مراد محتاج ضعیفوں کو جن کی کوئی کمائی نہ ہو نہ جن کا کوئی کمانے والا ہو انہیں اپنا فالتو مال دینا اس نیت سے کہ اللہ کی اطاعت ہو اور اس کی مخلوق کا کام بنے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے عرش تلے سایہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ان میں ایک وہ بھی ہے جو صدقہ دیتا ہے لیکن اسطرح پوشیدہ طور پر کہ داہنے ہاتھ کے خرچ کی بائیں ہاتھ کو خبر نہیں لگتی اور حدیث میں ہے صدقہ خطاؤں کو اسطرح مٹا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور بھی اس بارے کی بہت سی حدیثیں ہیں جو اپنی اپنی جگہ موجود ہیں۔ روزے کی بابت حدیث میں ہے کہ یہ بدن کی زکوٰۃ ہے یعنی اسے پاک صاف کردیتا ہے اور طبی طور پر بھی ردی اخلاط کو مٹا دیتا ہے۔ حضرت سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں رمضان کے روزے رکھ کر جس نے ہر مہینے میں تین روزے رکھ لئے وہ (وَالصَّاۗىِٕـمِيْنَ وَالـﮩـىِٕمٰتِ وَالْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَالذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذّٰكِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا 35) 33۔ الأحزاب :35) ، میں داخل ہوگیا۔ روزہ شہوت کو بھی جھکا دینے والا ہے۔ حدیث میں ہے اے نوجوانو تم میں سے جسے طاقت ہو وہ تو اپنا نکاح کرلے تاکہ اس سے نگاہیں نیچی رہیں اور پاک دامنی حاصل ہوجائے اور جسے اپنے نکاح کی طاقت نہ ہو وہ روزے رکھے، یہی اس کے لئے گویا خصی ہونا ہے۔ اسی لئے روزوں کے ذکر کے بعد ہی بدکاری سے بچنے کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ایسے مسلمان مرد و عورت حرام سے اور گناہ کے کاموں سے بچتے رہتے ہیں۔ اپنی اس خاص قوت کو جائز جگہ صرف کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ یہ لوگ اپنے بدن کو روکے رہتے ہیں۔ مگر اپنی بیویوں سے اور لونڈیوں سے ان پر کوئی ملامت نہیں۔ ہاں اس کے سوا جو اور کچھ طلب کرے وہ حد سے گذر جانے والا ہے۔ ذکر اللہ کی نسبت ایک حدیث میں ہے کہ جب میاں اپنی بیوی کو رات کے وقت جگا کردو رکعت نماز دونوں پڑھ لیں تو وہ اللہ کا ذکر کرنے والوں میں لکھ لئے جاتے ہیں (ملاحظہ ہو ابو داؤد وغیرہ) حضرت ابو سعید خدری ؓ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ سب سے بڑے درجے والا بندہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک کون ہے ؟ آپ نے فرمایا کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ کی راہ کے مجاہد سے بھی ؟ آپ نے فرمایا اگرچہ وہ کافروں پر تلوار چلائے یہاں تک کہ تلوار ٹوٹ جائے اور وہ خون میں رنگ جائے تب بھی اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرنے والا اس سے افضل ہی رہے گا۔ (مسند احمد) مسند ہی میں ہے کہ حضور ﷺ مکہ کے راستے میں جا رہے تھے جمدان پر پہنچ کر فرمایا یہ جمدان ہے مفرد بن کر چلو۔ آگے بڑھنے والوں نے پوچھا مفرد سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ ذکر کرنے والے۔ پھر فرمایا اے اللہ حج و عمرے میں اپنا سر منڈوانے والوں پر رحم فرما ! لوگوں نے کہا بال کتروانے والوں کے لئے بھی دعا کیجئے آپ نے فرمایا یا اللہ سر منڈوانے والوں کو بخش۔ لوگوں نے پھر کتروانے الوں کے لئے درخواست کی تو آپ نے فرمایا کتروانے والے بھی۔ آپ کا فرمان ہے کہ اللہ کے عذابوں سے نجات دینے والا کوئی عمل اللہ کے ذکر سے بڑا نہیں۔ ایک مرتبہ آپ نے فرمایا میں تمہیں سب سے بہتر سب سے پاک اور سب سے بلند درجے کا عمل نہ بتاؤں جو تمہارے حق میں سونا چاندی اللہ کی راہ میں لٹانے سے بھی بہتر ہو اور اس سے بھی افضل ہو جب تم کل دشمن سے ملو گے اور ان کی گردنیں مارو گے اور وہ تمہاری گردنیں ماریں گے۔ لوگوں نے کہا حضور ﷺ ضرور بتلائے فرمایا اللہ عزوجل کا ذکر۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کون سا مجاہد افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والا۔ اس نے پھر روزے دار کی نسبت پوچھا یہی جواب ملا پھر نماز، زکوٰۃ، حج صدقہ، سب کی بابت پوچھا اور حضور ﷺ نے سب کا یہی جواب دیا تو حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت عمر ؓ سے کہا پھر اللہ کا ذکر کرنے والے تو بہت ہی بڑھ گئے حضور ﷺ نے فرمایا ہاں۔ کثرت ذکر اللہ کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔ اسی سورت کی آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِيْرًا 41ۙ) 33۔ الأحزاب :41) کی تفسیر میں ہم ان احادیث کو بیان کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرمایا یہ نیک صفتیں جن میں ہوں ہم نے ان کے لئے مغفرت تیار کر رکھی ہے اور اجر عظیم یعنی جنت
حضور ﷺ کے پیغام کو رد کرنا گناہ عظیم ہے۔ رسول اللہ ﷺ حضرت زید بن حارث ؓ کا پیغام لے کر حضرت زینب بنت جحش ؓ کے پاس گئے۔ انہوں نے کہا " میں اس سے نکاح نہیں کروں گی آپ نے فرمایا ! ایسا نہ کہو اور ان سے نکاح کرلو۔ حضرت زینب ؓ نے جواب دیا کہ اچھا پھر کچھ مہلت دیجئے میں سوچ لوں۔ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ وحی نازل ہوئی اور یہ آیت اتری۔ اسے سن کر حضرت زینب ؓ نے فرمایا۔ یا رسول اللہ ! کیا آپ اس نکاح سے رضامند ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ تو حضرت زینب ؓ نے جواب دیا کہ بس پھر مجھے کوئی انکار نہیں، میں اللہ کے رسول ﷺ کی نافرمانی نہیں کروں گی۔ میں نے اپنا نفس ان کے نکاح میں دے دیا اور روایت میں ہے کہ وجہ انکار یہ تھی کہ نسب کے اعتبار سے یہ بہ نسبت حضرت زید کے زیادہ شریف تھیں۔ حضرت زید رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت عقبہ بن ابو معیط کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ صلح حدیبیہ کے بعد سب سے پہلے مہاجر عورت یہی تھی۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ حضور ﷺ میں اپنا نفس آپ کو ہبہ کرتی ہوں۔ آپ نے فرمایا مجھے قبول ہے۔ پھر حضرت زید بن حارث ؓ سے ان کا نکاح کرا دیا۔ غالباً یہ نکاح حضرت زینب ؓ کی علیحدگی کے بعد ہوا ہوگا۔ اس سے حضرت ام کلثوم ناراض ہوئیں اور ان کے بھائی بھی بگڑ بیٹھے کہ ہمارا اپنا ارادہ خود حضور ﷺ سے نکاح کا تھا نہ کہ آپ کے غلام سے نکاح کرنے کا، اس پر یہ آیت اتری بلکہ اس سے بھی زیادہ معاملہ صاف کردیا گیا اور فرما دیا گیا کہ (اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰۗىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا ۭ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا) 33۔ الأحزاب :6) نبی ﷺ مومنوں کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ اولیٰ ہیں۔ پس آیت (وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا 36ۭ) 33۔ الأحزاب :36) خاص ہے اور اس سے بھی جامع آیت یہ ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک انصاری کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اپنی لڑکی کا نکاح جلیبیب ؓ سے کردو۔ انہوں نے جواب دیا کہ اچھی بات ہے۔ میں اس کی ماں سے بھی مشورہ کرلوں۔ جا کر ان سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا یہ نہیں ہوسکتا، ہم نے فلاں فلاں ان سے بڑے بڑے آدمیوں کے پیغام کو رد کردیا اور اب جلیبیب ؓ سے نکاح کردیں۔ انصاری اپنی بیوی کا یہ جواب سن کر حضور ﷺ کی خدمت میں جانا چاہتے ہی تھے کہ لڑکی جو پردے کے پیچھے سے یہ تمام گفتگو سن رہی تھی بول پڑی کہ تم رسول اللہ ﷺ کی بات کو رد کرتے ہو ؟ جب حضور اس سے خوش ہیں تو تمہیں انکار نہ کرنا چاہیے۔ اب دونوں نے کہا کہ بچی ٹھیک کہہ رہی ہے۔ بیچ میں رسول اللہ ﷺ ہیں اس نکاح سے انکار کرنا گویا حضور ﷺ کے پیغام اور خواہش کو رد کرنا ہے، یہ ٹھیک نہیں۔ چناچہ انصاری سیدھے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ کیا آپ اس بات سے خوش ہیں ؟ آپ نے فرمایا ! ہاں میں تو اس سے رضامند ہوں۔ کہا پھر آپ کو اختیار ہے آپ نکاح کر دیجئے، چناچہ نکاح ہوگیا۔ ایک مرتبہ اہل اسلام مدینہ والے دشمنوں کے مقابلے کے لئے نکلے، لڑائی ہوئی جس میں حضرت جلیبیب ؓ شہید ہوگئے انہوں نے بھی بہت سے کافروں کو قتل کیا تھا جن کی لاشیں ان کے آس پاس پڑی ہوئی تھیں۔ حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ میں نے خود دیکھا ان کا گھر بڑا آسودہ حال تھا۔ تمام مدینے میں ان سے زیادہ خرچیلا کوئی نہ تھا۔ ایک اور روایت میں حضرت ابو بردہ اسلمی ؓ کا بیان ہے کہ حضرت جلیبیب ؓ کی طبیعت خوش مذاق تھی اس لئے میں نے اپنے گھر میں کہہ دیا تھا کہ یہ تمہارے پاس نہ آئیں۔ انصاریوں کی عادت تھی کہ وہ کسی عورت کا نکاح نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ یہ معلوم کرلیں کہ حضور ﷺ ان کی بابت کچھ نہیں فرماتے۔ پھر وہ واقعہ بیان فرمایا جو اوپر مذکور ہوا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت جلیبیب ؓ نے سات کافروں کو اس غزوے میں قتل کیا تھا۔ پھر کافروں نے یک مشت ہو کر آپ کو شہید کردیا۔ حضور ﷺ ان کو تلاش کرتے ہوئے جب ان کی نعش کے پاس آئے تو فرمایا سات کو مار کر پھر شہید ہوئے ہیں۔ یہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں۔ دو یا تین مرتبہ یہی فرمایا پھر قبر کھدوا کر اپنے ہاتھوں پر انہیں اٹھا کر قبر میں اتارا۔ رسول اللہ ﷺ کا دست مبارک ہی ان کا جنازہ تھا اور کوئی چار پائی وغیرہ نہ تھی۔ یہ بھی مذکور نہیں کہ انہیں غسل دیا گیا ہو۔ اس نیک بخت انصاریہ عورت کے لئے جنہوں نے حضور ﷺ کی بات کی عزت رکھ کر اپنے ماں باپ کو سمجھایا تھا کہ انکار نہ کرو۔ اللہ کے رسول ﷺ نے یہ دعا کی تھی کہ اللہ اس پر اپنی رحمتوں کی بارش برسا اور اسے زندگی کے پورے لطف عطا فرما۔ تمام انصار میں ان سے زیادہ خرچ کرنے والی عورت نہ تھی۔ انہوں نے جب پردے کے پیچھے سے اپنے والدین سے کہا تھا کہ حضور ﷺ کی بات رد نہ کرو اس وقت یہ آیت (وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا 36ۭ) 33۔ الأحزاب :36) نازل ہوئی تھی۔ حضرت ابن عباس ؓ سے حضرت طاؤس نے پوچھا کہ عصر کے بعد دو رکعت پڑھ سکتے ہیں ؟ آپ نے منع فرمایا اور اسی آیت کی تلاوت کی پس یہ آیت گو شان نزول کے اعتبار سے مخصوص ہے لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے ہوتے ہوئے نہ تو کوئی مخالفت کرسکتا ہے نہ اسے ماننے نہ ماننے کا اختیار کسی کو باقی رہتا ہے۔ نہ رائے اور قیاس کرنے کا حق، نہ کسی اور بات کا۔ جیسے فرمایا (فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا 65) 4۔ النسآء :65) ، یعنی قسم ہے تیرے رب کی لوگ ایمان دار نہ ہوں گے جب تک کہ وہ آپس کے تمام اختلافات میں تجھے حاکم نہ مان لیں۔ پھر تیرے فرمان سے اپنے دل میں کسی قسم کی تنگی نہ رکھیں بلکہ کھلے دل سے تسلیم کرلیا۔ صحیح حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوگا جب تک کہ اس کی خواہش اس چیز کی تابعدار نہ بن جائے جسے میں لایا ہوں۔ اسی لئے یہاں بھی اس کی نافرمانی کی برائی بیان فرما دی کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرنے والا کھلم کھلا گمراہ ہے۔ جیسے فرمان ہے (فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖٓ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 63) 24۔ النور :63) یعنی جو لوگ ارشاد نبی ﷺ کا خلاف کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہئے کہ ایسا نہ ہو ان پر کوئی فتنہ آپڑے یا انہیں درد ناک عذاب ہو۔
عظمت زید بن حارثہ ؓ۔ اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کے نبی ﷺ نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ کو ہر طرح سمجھایا۔ ان پر اللہ کا انعام تھا کہ اسلام اور متابعت رسول ﷺ کی توفیق دی۔ اور حضور ﷺ کا بھی ان پر احسان تھا کہ انہیں غلامی سے آزاد کردیا۔ یہ بڑی شان والے تھے اور حضور ﷺ کو بہت ہی پیارے تھے یہاں تک کہ انہیں سب مسلمان حب الرسول کہتے تھے۔ ان کے صاحبزادے اسامہ کو بھی حب بن حب کہتے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ کا فرمان ہے کہ جس لشکر میں انہیں حضور ﷺ بھیجتے تھے اس لشکر کا سردارانہی کو بناتے تھے۔ اگر یہ زندہ رہتے تو رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ بن جاتے (احمد) بزار میں ہے حضرت اسامہ ؓ فرماتے ہیں میں مسجد میں تھا میرے پاس حضرت عباس اور حضرت علی ؓ آئے اور مجھ سے کہا جاؤ حضور ﷺ سے ہمارے لیے اجازت طلب کرو۔ میں نے آپ کو خبر کی آپ نے فرمایا جانتے ہو وہ کیوں آئے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں ! آپ نے فرمایا لیکن میں جانتا ہوں جاؤ بلا لاؤ یہ آئے اور کہا یارسول اللہ ﷺ ذرا بتایے آپ کو اپنے اہل میں سب سے زیادہ کون محبوب ہے ؟ آپ نے فرمایا میری بیٹی فاطمہ۔ انہوں نے کہا ہم حضرت فاطمہ کے بارے میں نہیں پوچھتے۔ آپ نے فرمایا پھر اسامہ بن زید بن حارثہ ؓ جن پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے بھی۔ حضور ﷺ نے ان کا نکاح اپنی پھوپھی امیمہ بنت جحش اسدیہ سے کرادیا تھا۔ دس دینار اور سات درہم مہر دیا تھا، ایک ڈوپٹہ ایک چادر ایک کرتا پچاس مد اناج اور دس مد کھجوریں دی تھیں۔ ایک سال یا کچھ اوپر تک تو یہ گھر بسا لیکن پھر ناچاقی شروع ہوگئی۔ حضرت زید نے حضور ﷺ کے پاس آکر شکایت شروع کی تو آپ انہیں سمجھانے لگے کہ گھر نہ توڑو اللہ سے ڈرو۔ ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے اس جگہ بہت سے غیر صحیح آثار نقل کئے ہیں جن کا نقل کرنا ہم نامناسب جان کر ترک کرتے ہیں کیونکہ ان میں سے ایک بھی ثابت اور صحیح نہیں۔ مسند احمد میں بھی ایک روایت حضرت انس سے ہے لیکن اس میں بھی بڑی غرابت ہے اس لئے ہم نے اسے بھی وارد نہیں کیا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ یہ آیت حضرت زینب بنت جحش اور حضرت زید بن حارثہ ؓ کے بارے میں اتری ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے اپنے نبی ﷺ کو خبر دے دی تھی کہ حضرت زینب ؓ آپ کے نکاح میں آئیں گی۔ یہی بات تھی جسے آپ نے ظاہر نہ فرمایا اور حضرت زید کو سمجھایا کہ وہ اپنی بیوی کو الگ نہ کریں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں حضور ﷺ اگر اللہ کی وحی کتاب اللہ میں سے ایک آیت بھی چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپالیتے۔ وطر کے معنی حاجت کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب زید ان سے سیر ہوگئے اور باوجود سمجھانے بجھانے کے بھی میل ملاپ قائم نہ رہ سکا بلکہ طلاق ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت زینب کو اپنے نبی کے نکاح میں دے دیا۔ اس لئے ولی کے ایجاب و قبول سے مہر اور گواہوں کی ضرورت نہ رہی۔ مسند احمد میں ہے حضرت زینب کی عدت پوری ہوچکی تو رسول ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ سے کہا کہ تم جاؤ اور انہیں مجھ سے نکاح کرنے کا پیغام پہنچاؤ۔ حضرت زید گئے اس وقت آپ آٹاگوندھ رہی تھیں۔ حضرت زید پر ان کی عظمت اس قدر چھائی کہ سامنے پڑ کر بات نہ کرسکے منہ پھیر کر بیٹھ گئے اور ذکر کیا۔ حضرت زینب نے فرمایا ٹھہرو ! میں اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرلوں۔ یہ تو کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگیں ادھر رسول ﷺ پر وحی اتری جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے ان کا نکاح تجھ سے کردیا۔ چناچہ اسی وقت حضور ﷺ بےاطلاع چلے آئے پھر ولیمے کی دعوت میں آپ نے ہم سب کو گوشت روٹی کھلائی۔ لوگ کھا پی کر چلے گئے مگر چند آدمی وہیں بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ آپ باہر نکل کر اپنی بیویوں کے حجرے کے پاس گئے۔ آپ انہیں السلام علیک کرتے تھے اور وہ آپ سے دریافت کرتی تھیں کہ فرمائیے بیوی صاحبہ سے خوش تو ہیں ؟ مجھے یہ یاد نہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو خبر دی یا آپ خبر دیئے گئے کہ لوگ وہاں سے چلے گئے۔ اس کے بعد آپ اس گھر کی طرف تشریف لے گئے میں بھی آپ کے ہمراہ تھا میں نے آپ کے ساتھ ہی جانے کا ارادہ کیا لیکن آپ نے پردہ گرا دیا اور میرے اور آپ کے درمیان حجاب ہوگیا اور پردے کی آیتیں اتریں اور صحابہ کو نصیحت کی گئی اور فرما دیا گیا کہ نبی کے گھروں میں بےاجازت نہ جاؤ۔ (مسلم وغیرہ) صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت زینب ؓ اور ازواج مطہرات سے فخر اً کہا کرتی تھیں کہ تم سب کے نکاح تمہارے ولی وارثوں نے کئے اور میرا نکاح خود اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان پر کرا دیا۔ سورة نور کی تفسیر میں ہم یہ روایت بیان کرچکے ہیں کہ حضرت زینب نے کہا میرا نکاح آسمان سے اترا اور ان کے مقابلے پر حضرت عائشہ نے فرمایا میری برات کی آیتیں آسمان سے اتریں جس کا حضرت زینب نے اقرار کیا۔ ابن جریر میں ہے حضرت زینب نے رسول ﷺ سے ایک مرتبہ کہا مجھ میں اللہ تعالیٰ نے تین خصوصیتیں رکھی ہیں جو آپ کی اور بیویوں میں نہیں ایک تو یہ کہ میرا اور آپ کا دادا ایک ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے مجھے آپ کے نکاح میں دیا۔ تیسرے یہ کہ ہمارے درمیان سفیر حضرت جبرائیل ؑ تھے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے ان سے نکاح کرنا تیرے لئے جائز کردیا تاکہ مسلمانوں پر ان کے لے پالک لڑکوں کو بیویوں کے بارے میں جب انہیں طلاق دے دی جائے کوئی حرج نہ رہے۔ یعنی وہ اگر چاہیں ان سے نکاح کرسکیں۔ حضور ﷺ نے نبوت سے پہلے حضرت زید کو اپنا متنبی بنا رکھا تھا۔ عام طور پر انہیں زید بن محمد ﷺ کہا جاتا تھا۔ قرآن نے اس نسبت سے بھی ممانعت کردی اور حکم دیا کہ انہیں اپنے حقیقی باپ کی طرف نسبت کر کے پکارا کرو پھر حضرت زید نے جب حضرت زینب کو طلاق دے دی تو اللہ پاک نے انہیں اپنے نبی ﷺ کے نکاح میں دے کر یہ بات بھی ہٹادی۔ جس آیت میں حرام عورتوں کا ذکر کیا ہے وہاں بھی یہی فرمایا کہ تمہارے اپنے صلبی لڑکوں کی بیویاں تم پر حرام ہیں۔ تاکہ لے پالک لڑکوں کی لڑکیاں اس حکم سے خارج رہیں۔ کیونکہ ایسے لڑکے عرب میں بہت تھے۔ یہ امر اللہ کے نزدیک مقرر ہوچکا تھا۔ اس کا ہونا حتمی، یقینی اور ضروری تھا۔ اور حضرت زینب کو یہ شرف ملنا پہلے ہی سے لکھا جا چکا تھا کہ وہ ازواج مطہرات امہات المومنین میں داخل ہوں ؓ۔
لے پالک کی بیوی سے متعلق حکم۔ فرماتا ہے کہ جب اللہ کے نزدیک اپنے لے پالک متبنی کی بیوی سے اس کی طلاق کے بعد نکاح کرنا حلال ہے پھر اس میں نبی ﷺ پر کیا حرج ہے اگلے نبیوں پر جو جو حکم اللہ نازل فرماتے تھے۔ ان پر عمل کرنے میں ان پر کوئی حرج نہ تھا۔ اس سے منافقوں کے اس قول کا رد کرنا ہے کہ دیکھو اپنے آزاد کردہ غلام اور لے پالک لڑکے کی بیوی سے نکاح کرلیا۔ اس اللہ کے مقدر کردہ امور ہو کر ہی رہتے ہیں، وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔
امی خاتم الانبیاء ﷺ۔ ان کی تعریف ہو رہی ہے جو اللہ کی مخلوق کو اللہ کے پیغام پہنچاتے ہیں اور امانت اللہ کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے رہتے ہیں اور سوائے اللہ کے کسی کا خوف نہیں کرتے، کسی کی سطوت و شان سے مرعوب ہو کر پیغام اللہ کا پہنچانے میں خوف نہیں کھاتے۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد کافی ہے۔ اس منصب کی ادائیگی میں سب کے پیشوا بلکہ ہر اک امر میں سب کے سردار حضرت محمد ﷺ ہیں۔ خیال فرمائیے کہ مشرق و مغرب کے ہر ایک بنی آدم کو حضور ﷺ نے اللہ کے دین کی تبلیغ کی۔ اور جب تک اللہ کا دین چار دانگ عالم میں پھیل نہ گیا، آپ مسلسل مشقت کے ساتھ اللہ کے دین کی اشاعت میں مصروف رہے۔ آپ سے پہلے تمام انبیاء (علیہم السلام) اپنی اپنی قوم ہی کی طرف آتے رہے لیکن حضور ﷺ ساری دنیا کی طرف اللہ کے رسول بن کر آئے تھے۔ قرآن میں فرمان الٰہی ہے کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں سلام علیہ۔ پھر آپ کے بعد منصب تبلیغ آپ کی امت کو ملا۔ ان میں سب کے سردار آپ کے صحابہ ہیں رضوان اللہ علیہم۔ جو کچھ انہوں نے حضور ﷺ سے سیکھا تھا، سب کچھ بعد والوں کو سکھا دیا۔ تمام اقوال و افعال جو احوال دن اور رات کے، سفر و حضر کے، ظاہر و پوشیدہ دنیا کے سامنے رکھ دئیے۔ اللہ ان پر اپنی رضامندی نازل فرمائے۔ پھر ان کے بعد والے ان کے وارث ہوئے اور اسی طرح پھر بعد والے اپنے سے پہلے والوں کے وارث بنے اور اللہ کا دین ان سے پھیلتا رہا۔ اور قرآن و حدیث لوگوں تک پہنچتے رہے ہدایت والے ان کی اقتدا سے منور ہوتے رہے اور توفیق خیر والے ان کے مسلک پر چلتے رہے۔ اللہ کریم سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی ان میں سے کر دے۔ مسند احمد میں ہے تم میں سے کوئی اپنا آپ ذلیل نہ کرے۔ لوگوں نے کہا حضور ﷺ یہ کیسے ! فرمایا خلاف شرع کام دیکھ کر، لوگوں کے خوف کے مارے خاموش ہو رہے۔ قیامت کے دن اس سے باز پرس ہوگی کہ تو کیوں خاموش رہا ؟ یہ کہے گا کہ لوگوں کے ڈر سے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا سب سے زیادہ خوف رکھنے کے قابل تو میری ذات تھی، پھر اللہ تعالیٰ منع فرماتا ہے کہ کسی کو حضور ﷺ کا صاحبزادہ کہا جائے۔ لوگ جو زید بن محمد کہتے تھے جس کا بیان اوپر گذر چکا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضور ﷺ زید کے والد نہیں۔ یہی ہوا کہ حضور ﷺ کی کوئی نرینہ اولاد بلوغت کو پہنچی ہی نہیں۔ قاسم، طیب اور طاہر تین بچے حضرت خدیجہ ؓ کے بطن سے، حضرت ماریہ قبطیہ ؓ سے ایک بچہ ہوا جس کا نام حضرت ابراہیم لیکن یہ بھی دودھ پلانے کے زمانے میں ہی انتقال کر گئے۔ آپ کی لڑکیاں حضرت خدیجہ سے چار تھیں زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ ؓ اجمعین ان میں سے تین تو آپ کی زندگی میں ہی رحلت فرما گئیں صرف حضرت فاطمہ ؓ کا انتقال آپ کے چھ ماہ بعد ہوا۔ پھر فرماتا ہے بلکہ آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں جیسے فرمایا اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھتا ہے۔ یہ آیت نص ہے اس امر پر کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور جب نبی ہی نہیں تو رسول کہاں ؟ کوئی نبی، رسول آپ کے بعد نہیں آئے گا۔ رسالت تو نبوت سے بھی خاص چیز ہے۔ ہر رسول نبی ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں۔ متواتر احادیث سے بھی حضور ﷺ کا ختم الانبیاء ہونا ثابت ہے۔ بہت سے صحابہ سے یہ حدیثیں روایت کی گئی ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ میری مثال نبیوں میں ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک بہت اچھا اور پورا مکان بنایا لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی جہاں کچھ نہ رکھا لوگ اسے چاروں طرف سے دیکھتے بھالتے اور اس کی بناوٹ سے خوش ہوتے لیکن کہتے کیا اچھا ہو تاکہ اس اینٹ کی جگہ پُر کرلی جاتی۔ پس میں نبیوں میں اسی اینٹ کی جگہ ہوں۔ امام ترمذی بھی اس حدیث کو لائے ہیں اور اسے حسن صحیح کہا ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول ﷺ فرماتے ہیں رسالت اور نبوت ختم ہوگئی، میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ نبی۔ صحابہ ؓ پر یہ بات گراں گذری تو آپ نے فرمایا لیکن خوش خبریاں دینے والے۔ صحابہ نے پوچھا خوشخبریاں دینے والے کیا ہیں۔ فرمایا مسلمانوں کے خواب جو نبوت کے اجزا میں سے ایک جز ہیں۔ یہ حدیث بھی ترمذی شریف میں ہے اور امام ترمذی اسے صحیح غریب کہتے ہیں محل کی مثال والی حدیث ابو داؤد طیالسی میں بھی ہے۔ اس کے آخر میں یہ ہے کہ میں اس اینٹ کی جگہ ہوں مجھ سے انبیا علیہم الصلوۃ السلام ختم کئے گئے۔ اسے بخاری مسلم اور ترمذی بھی لائے ہیں۔ مسند کی اس حدیث کی ایک سند میں ہے کہ میں آیا اور میں نے اس خالی اینٹ کی جگہ پر کردی۔ مسند میں ہے میرے بعد نبوت نہیں مگر خوشخبری والے۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ وہ کیا ہیں ؟ فرمایا اچھے خواب یا فرمایا نیک خواب۔ عبدالرزاق وغیرہ میں محل کی اینٹ کی مثال والی حدیث میں ہے کہ لوگ اسے دیکھ کر محل والے سے کہتے ہیں کہ تو نے اس اینٹ کی جگہ کیوں چھوڑ دی ؟ پس میں وہ اینٹ ہوں۔ صحیح مسلم شریف میں ہے رسول ﷺ فرماتے ہیں مجھے تمام انبیاء پر چھ فضیلتیں دی گئی ہیں، مجھے جامع کلمات عطا فرمائے گئے ہیں۔ صرف رعب سے میری مدد کی گئی ہے۔ میرے لئے غنیمت کا مال حلال کیا گیا۔ میرے لئے ساری زمین مسجد اور وضو بنائی گئی، میں ساری مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اور میرے ساتھ نبیوں کو ختم کردیا گیا۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ صحیح مسلم وغیرہ میں محل مثال والی روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ میں آیا اور میں نے اس اینٹ کی جگہ پوری کردی۔ مسند میں ہے میں اللہ کے نزدیک نبیوں کا علم کرنے والا تھا اس وقت جبکہ آدم پوری طور پر پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اور حدیث میں ہے میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی ہوں اللہ تعالیٰ میری وجہ سے کفر کو مٹادے گا اور میں حاشر ہوں تمام لوگوں کا حشر میرے قدموں تلے ہوگا اور میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں (بخاری و مسلم) حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں ایک روز حضور ﷺ ہمارے پاس آئے گویا کہ آپ رخصت کر رہے ہیں اور تین مرتبہ فرمایا میں امی نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ میں فاتح کلمات دیا گیا ہوں جو نہایت جامع اور پورے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ جہنم کے داروغے کتنے ہیں اور عرش کے اٹھانے والے کتنے ہیں۔ میرا اپنی امت سے تعارف کرایا گیا ہے۔ جب تک میں تم میں ہوں میری سنتے رہو اور مانتے چلے جاؤ۔ جب میں رخصت ہوجاؤں تو کتاب اللہ کو مضبوط تھام لو اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھو (مسندامام احمد) اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس وسیع رحمت پر اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے اپنے رحم وکرم سے ایسے عظیم رسول ﷺ کو ہماری طرف بھیجا اور انہیں ختم المرسلین اور خاتم الانبیاء بنایا اور یکسوئی والا، آسان، سچا اور سہل دین آپ کے ہاتھوں کمال کو پہنچایا۔ رب العالمین نے اپنی کتاب میں اور رحمتہ للعامین نے اپنی متواتر احادیث میں یہ خبر دی کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ پس جو شخص بھی آپ کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، مفتری، دجال، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے۔ گو وہ شعبدے دکھائے اور جادوگری کرے اور بڑے کمالات اور عقل کو حیران کردینے والی چیزیں پیش کرے اور طرح طرح کی بیرنگیاں دکھائے لیکن عقلمند جانتے ہیں کہ یہ سب فریب دکھوکہ اور مکاری ہے۔ یمن کے مدعی نبوت عنسی اور یمانہ کے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کو دیکھ لو کہ دنیا نے انہیں جیسے یہ تھے سمجھ لیا اور ان کی اصلیت سب پر ظاہر ہوگئ۔ یہی حال ہوگا ہر اس شخص کا جو قیامت تک اس دعوے سے مخلوق کے سامنے آئے گا کہ اس کا جھوٹ اور اس کی گمراہی سب پر کھل جائے گی۔ یہاں تک کہ سب سے آخری دجال مسیح آئے گا۔ اس کی علامتوں سے بھی ہر عالم اور ہر مومن اس کا کذاب ہونا جان لے گا پس یہ بھی اللہ کی ایک نعمت ہے کہ ایسے جھوٹے دعوے داروں کو یہ نصیب ہی نہیں ہوتا کہ وہ نیکی کے احکام دیں اور برائی سے روکیں۔ ہاں جن احکام میں ان کا اپنا کوئی مقصد ہوتا ہے ان پر بہت زورر دیتے ہیں۔ ان کے اقوال، افعال افترا اور فجور والے ہوتے۔ جیسے فرمان باری ہے۔ (هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰي مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيٰطِيْنُ02201ۭ) 26۔ الشعراء :221) یعنی کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطن کن کے پاس آتے ہیں ؟ ہر ایک بہتان باز گنہگار کے پاس۔ سچے نبیوں کا حال اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے وہ نہایت نیکی والے، بہت سچے ہدایت والے، استقامت والے، قول و فعل کے اچھے، نیکیوں کا حکم دینے والے، برائیوں سے روکنے والے ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی اللہ کی طرف سے ان کی تائید ہوتی ہے۔ معجزوں سے اور خارق عادت چیزوں سے ان کی سچائی اور زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔ اور اس قدر ظاہر واضح اور صاف دلیلیں ان کی نبوت پر ہوتی ہیں کہ ہر قلب سلیم ان کے ماننے پر مجبور ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے تمام سچے نبیوں پر قیامت تک درود سلام نازل فرماتا رہے۔
امی خاتم الانبیاء ﷺ۔ ان کی تعریف ہو رہی ہے جو اللہ کی مخلوق کو اللہ کے پیغام پہنچاتے ہیں اور امانت اللہ کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے رہتے ہیں اور سوائے اللہ کے کسی کا خوف نہیں کرتے، کسی کی سطوت و شان سے مرعوب ہو کر پیغام اللہ کا پہنچانے میں خوف نہیں کھاتے۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد کافی ہے۔ اس منصب کی ادائیگی میں سب کے پیشوا بلکہ ہر اک امر میں سب کے سردار حضرت محمد ﷺ ہیں۔ خیال فرمائیے کہ مشرق و مغرب کے ہر ایک بنی آدم کو حضور ﷺ نے اللہ کے دین کی تبلیغ کی۔ اور جب تک اللہ کا دین چار دانگ عالم میں پھیل نہ گیا، آپ مسلسل مشقت کے ساتھ اللہ کے دین کی اشاعت میں مصروف رہے۔ آپ سے پہلے تمام انبیاء (علیہم السلام) اپنی اپنی قوم ہی کی طرف آتے رہے لیکن حضور ﷺ ساری دنیا کی طرف اللہ کے رسول بن کر آئے تھے۔ قرآن میں فرمان الٰہی ہے کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں سلام علیہ۔ پھر آپ کے بعد منصب تبلیغ آپ کی امت کو ملا۔ ان میں سب کے سردار آپ کے صحابہ ہیں رضوان اللہ علیہم۔ جو کچھ انہوں نے حضور ﷺ سے سیکھا تھا، سب کچھ بعد والوں کو سکھا دیا۔ تمام اقوال و افعال جو احوال دن اور رات کے، سفر و حضر کے، ظاہر و پوشیدہ دنیا کے سامنے رکھ دئیے۔ اللہ ان پر اپنی رضامندی نازل فرمائے۔ پھر ان کے بعد والے ان کے وارث ہوئے اور اسی طرح پھر بعد والے اپنے سے پہلے والوں کے وارث بنے اور اللہ کا دین ان سے پھیلتا رہا۔ اور قرآن و حدیث لوگوں تک پہنچتے رہے ہدایت والے ان کی اقتدا سے منور ہوتے رہے اور توفیق خیر والے ان کے مسلک پر چلتے رہے۔ اللہ کریم سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی ان میں سے کر دے۔ مسند احمد میں ہے تم میں سے کوئی اپنا آپ ذلیل نہ کرے۔ لوگوں نے کہا حضور ﷺ یہ کیسے ! فرمایا خلاف شرع کام دیکھ کر، لوگوں کے خوف کے مارے خاموش ہو رہے۔ قیامت کے دن اس سے باز پرس ہوگی کہ تو کیوں خاموش رہا ؟ یہ کہے گا کہ لوگوں کے ڈر سے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا سب سے زیادہ خوف رکھنے کے قابل تو میری ذات تھی، پھر اللہ تعالیٰ منع فرماتا ہے کہ کسی کو حضور ﷺ کا صاحبزادہ کہا جائے۔ لوگ جو زید بن محمد کہتے تھے جس کا بیان اوپر گذر چکا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضور ﷺ زید کے والد نہیں۔ یہی ہوا کہ حضور ﷺ کی کوئی نرینہ اولاد بلوغت کو پہنچی ہی نہیں۔ قاسم، طیب اور طاہر تین بچے حضرت خدیجہ ؓ کے بطن سے، حضرت ماریہ قبطیہ ؓ سے ایک بچہ ہوا جس کا نام حضرت ابراہیم لیکن یہ بھی دودھ پلانے کے زمانے میں ہی انتقال کر گئے۔ آپ کی لڑکیاں حضرت خدیجہ سے چار تھیں زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ ؓ اجمعین ان میں سے تین تو آپ کی زندگی میں ہی رحلت فرما گئیں صرف حضرت فاطمہ ؓ کا انتقال آپ کے چھ ماہ بعد ہوا۔ پھر فرماتا ہے بلکہ آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں جیسے فرمایا اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھتا ہے۔ یہ آیت نص ہے اس امر پر کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور جب نبی ہی نہیں تو رسول کہاں ؟ کوئی نبی، رسول آپ کے بعد نہیں آئے گا۔ رسالت تو نبوت سے بھی خاص چیز ہے۔ ہر رسول نبی ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں۔ متواتر احادیث سے بھی حضور ﷺ کا ختم الانبیاء ہونا ثابت ہے۔ بہت سے صحابہ سے یہ حدیثیں روایت کی گئی ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ میری مثال نبیوں میں ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک بہت اچھا اور پورا مکان بنایا لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی جہاں کچھ نہ رکھا لوگ اسے چاروں طرف سے دیکھتے بھالتے اور اس کی بناوٹ سے خوش ہوتے لیکن کہتے کیا اچھا ہو تاکہ اس اینٹ کی جگہ پُر کرلی جاتی۔ پس میں نبیوں میں اسی اینٹ کی جگہ ہوں۔ امام ترمذی بھی اس حدیث کو لائے ہیں اور اسے حسن صحیح کہا ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول ﷺ فرماتے ہیں رسالت اور نبوت ختم ہوگئی، میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ نبی۔ صحابہ ؓ پر یہ بات گراں گذری تو آپ نے فرمایا لیکن خوش خبریاں دینے والے۔ صحابہ نے پوچھا خوشخبریاں دینے والے کیا ہیں۔ فرمایا مسلمانوں کے خواب جو نبوت کے اجزا میں سے ایک جز ہیں۔ یہ حدیث بھی ترمذی شریف میں ہے اور امام ترمذی اسے صحیح غریب کہتے ہیں محل کی مثال والی حدیث ابو داؤد طیالسی میں بھی ہے۔ اس کے آخر میں یہ ہے کہ میں اس اینٹ کی جگہ ہوں مجھ سے انبیا علیہم الصلوۃ السلام ختم کئے گئے۔ اسے بخاری مسلم اور ترمذی بھی لائے ہیں۔ مسند کی اس حدیث کی ایک سند میں ہے کہ میں آیا اور میں نے اس خالی اینٹ کی جگہ پر کردی۔ مسند میں ہے میرے بعد نبوت نہیں مگر خوشخبری والے۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ وہ کیا ہیں ؟ فرمایا اچھے خواب یا فرمایا نیک خواب۔ عبدالرزاق وغیرہ میں محل کی اینٹ کی مثال والی حدیث میں ہے کہ لوگ اسے دیکھ کر محل والے سے کہتے ہیں کہ تو نے اس اینٹ کی جگہ کیوں چھوڑ دی ؟ پس میں وہ اینٹ ہوں۔ صحیح مسلم شریف میں ہے رسول ﷺ فرماتے ہیں مجھے تمام انبیاء پر چھ فضیلتیں دی گئی ہیں، مجھے جامع کلمات عطا فرمائے گئے ہیں۔ صرف رعب سے میری مدد کی گئی ہے۔ میرے لئے غنیمت کا مال حلال کیا گیا۔ میرے لئے ساری زمین مسجد اور وضو بنائی گئی، میں ساری مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اور میرے ساتھ نبیوں کو ختم کردیا گیا۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ صحیح مسلم وغیرہ میں محل مثال والی روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ میں آیا اور میں نے اس اینٹ کی جگہ پوری کردی۔ مسند میں ہے میں اللہ کے نزدیک نبیوں کا علم کرنے والا تھا اس وقت جبکہ آدم پوری طور پر پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اور حدیث میں ہے میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی ہوں اللہ تعالیٰ میری وجہ سے کفر کو مٹادے گا اور میں حاشر ہوں تمام لوگوں کا حشر میرے قدموں تلے ہوگا اور میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں (بخاری و مسلم) حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں ایک روز حضور ﷺ ہمارے پاس آئے گویا کہ آپ رخصت کر رہے ہیں اور تین مرتبہ فرمایا میں امی نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ میں فاتح کلمات دیا گیا ہوں جو نہایت جامع اور پورے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ جہنم کے داروغے کتنے ہیں اور عرش کے اٹھانے والے کتنے ہیں۔ میرا اپنی امت سے تعارف کرایا گیا ہے۔ جب تک میں تم میں ہوں میری سنتے رہو اور مانتے چلے جاؤ۔ جب میں رخصت ہوجاؤں تو کتاب اللہ کو مضبوط تھام لو اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھو (مسندامام احمد) اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس وسیع رحمت پر اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے اپنے رحم وکرم سے ایسے عظیم رسول ﷺ کو ہماری طرف بھیجا اور انہیں ختم المرسلین اور خاتم الانبیاء بنایا اور یکسوئی والا، آسان، سچا اور سہل دین آپ کے ہاتھوں کمال کو پہنچایا۔ رب العالمین نے اپنی کتاب میں اور رحمتہ للعامین نے اپنی متواتر احادیث میں یہ خبر دی کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ پس جو شخص بھی آپ کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، مفتری، دجال، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے۔ گو وہ شعبدے دکھائے اور جادوگری کرے اور بڑے کمالات اور عقل کو حیران کردینے والی چیزیں پیش کرے اور طرح طرح کی بیرنگیاں دکھائے لیکن عقلمند جانتے ہیں کہ یہ سب فریب دکھوکہ اور مکاری ہے۔ یمن کے مدعی نبوت عنسی اور یمانہ کے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کو دیکھ لو کہ دنیا نے انہیں جیسے یہ تھے سمجھ لیا اور ان کی اصلیت سب پر ظاہر ہوگئ۔ یہی حال ہوگا ہر اس شخص کا جو قیامت تک اس دعوے سے مخلوق کے سامنے آئے گا کہ اس کا جھوٹ اور اس کی گمراہی سب پر کھل جائے گی۔ یہاں تک کہ سب سے آخری دجال مسیح آئے گا۔ اس کی علامتوں سے بھی ہر عالم اور ہر مومن اس کا کذاب ہونا جان لے گا پس یہ بھی اللہ کی ایک نعمت ہے کہ ایسے جھوٹے دعوے داروں کو یہ نصیب ہی نہیں ہوتا کہ وہ نیکی کے احکام دیں اور برائی سے روکیں۔ ہاں جن احکام میں ان کا اپنا کوئی مقصد ہوتا ہے ان پر بہت زورر دیتے ہیں۔ ان کے اقوال، افعال افترا اور فجور والے ہوتے۔ جیسے فرمان باری ہے۔ (هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰي مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيٰطِيْنُ02201ۭ) 26۔ الشعراء :221) یعنی کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطن کن کے پاس آتے ہیں ؟ ہر ایک بہتان باز گنہگار کے پاس۔ سچے نبیوں کا حال اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے وہ نہایت نیکی والے، بہت سچے ہدایت والے، استقامت والے، قول و فعل کے اچھے، نیکیوں کا حکم دینے والے، برائیوں سے روکنے والے ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی اللہ کی طرف سے ان کی تائید ہوتی ہے۔ معجزوں سے اور خارق عادت چیزوں سے ان کی سچائی اور زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔ اور اس قدر ظاہر واضح اور صاف دلیلیں ان کی نبوت پر ہوتی ہیں کہ ہر قلب سلیم ان کے ماننے پر مجبور ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے تمام سچے نبیوں پر قیامت تک درود سلام نازل فرماتا رہے۔
بہترین دعا۔ بہت سی نعمتوں کے انعام کرنے والے اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ہمیں اس کا بکثرت ذکر کرنا چاہئے اور اس پر بھی ہمیں نعمتوں اور بڑے اجرو ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ رسول ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہارے بہتر عمل اور بہت ہی زیادہ پاکیزہ کام اور سب سے بڑے درجے کی نیکی اور سونے چاندی کو راہ اللہ خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر اور جہاد سے بھی افضل کام نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے پوچھا حضور ﷺ وہ کیا ہے ؟ فرمایا اللہ عزوجل کا ذکر (ترمذی ابن ماجہ وغیرہ) یہ حدیث پہلے والذاکرین کی تفسیر میں بھی گذر چکی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں۔ میں نے رسول ﷺ سے یہ دعا سنی ہے جسے میں کسی وقت ترک نہیں کرتا۔ دعا یہ ہے (اللہم اجعلنی اعظم شکرک واتبع نصیحتک واکثر ذکرک واحفظ وصیتک) یعنی اے اللہ تو مجھے اپنا بہت بڑا شکر گزار، فرماں بردار، بکثرت ذکر کرنے والا اور تیرے احکام کی حفاظت کرنے والا بنا دے۔ (ترمذی وغیرہ) دو اعرابی رسول مقبول ﷺ کے پاس آئے۔ ایک نے پوچھا سب سے اچھا شخص کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو لمبی عمر پائے، اور نیک اعمال کرے۔ دوسرے نے پوچھاحضور ﷺ احکام اسلام تو بہت سارے ہیں مجھے کوئی چوٹی کا حکم بتا دیجئے کہ اس میں چمٹ جاؤں آپ نے فرمایا ذکر اللہ میں ہر وقت اپنی زبان کو تر رکھ (ترمذی) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر میں ہر وقت مشغول رہو یہاں تک کہ لوگ تمہیں مجنوں کہنے لگیں (مسند احمد) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو یہاں تک کہ منافق تمہیں ریا کار کہنے لگیں۔ (طبرانی) فرماتے ہیں جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کریں وہ مجلس قیامت کے دن ان پر حسرت افسوس کا باعث بنے گی۔ (مسند) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ما فرماتے ہیں ہر فرض کام کی کوئی حد ہے۔ پھر عذر کی حالت میں وہ معاف بھی ہے لیکن ذکر اللہ کی کوئی حد نہیں نہ وہ کسی وقت ٹلتا ہے۔ ہاں کوئی دیوانہ ہو تو اور بات ہے۔ کھڑے بیٹھے لیٹے رات کو دن کو خشکی میں تری میں سفر میں حضر میں غنا میں فقر میں صحت میں بیماری پوشیدگی میں ظاہر میں غرض ہر حال میں ذکر اللہ کرنا چاہیے۔ صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کرنی چاہیے۔ تم جب یہ کرو گے تو اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا اور فرشتے تمہارے لئے ہر وقت دعاگو رہیں گے۔ اس بارے میں اور بھی بہت سی احادیث و آثار ہیں۔ اس آیت میں بھی بکثرت ذکر اللہ کرنے کی ہدایت ہو رہی ہے۔ بزرگوں نے ذکر اللہ اور وظائف کی بہت سی مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جیسے امام نسائی امام معمری وغیرہ۔ ان سب میں بہترین کتاب اس موضوع پر حضرت امام نووی ؒ کی ہے، صبح شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ جیسے فرمایا (فسبحان اللہ حین (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17) 30۔ الروم :17) اللہ کے لئے پاکی ہے۔ جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو، اسی کے لئے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور بعد از زوال اور ظہر کے وقت، پھر اس کی فضیلت بیان کرنے اور اس کی طرف رغبت دلانے کے لئے فرماتا ہے وہ خود تم پر رحمت بھیج رہا ہے۔ یعنی جب وہ تمہاری یاد رکھتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ تم اس کے ذکر سے غفلت کرو ؟ جیسے فرمایا (كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ01501ړ) 2۔ البقرة :151) جس طرح ہم نے تم میں خود تمہی میں سے رسول بھیجا جو تم پر ہماری کتاب پڑھتا ہے اور وہ سکھاتا ہے جسے تم جانتے ہی نہ تھے۔ پس تم میرا ذکر کرو میں تمہاری یاد کروں گا اور تم میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔ حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اور جو مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے جماعت میں یاد کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے بہتر ہوتی ہے۔ صلوۃ جب اللہ کی طرف مضاف ہو تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھلائی اپنے فرشتوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ اور قول میں ہے مراد اس کی رحمت ہے۔ اور دونوں قولوں کا انجام ایک ہی ہے۔ فرشتوں کی صلوۃ ان کی دعا اور استغفار ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ) 40۔ غافر :7) ، عرش کے اٹھانے والے اور اس کے آس پاس والے اپنے رب کی حمد و تسبیح بیان کرتے ہیں، اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومن بندوں کے لئے استغفار کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے ہر چیز کو رحمت و علم سے گھیر لیا ہے۔ اے اللہ تو انہیں بخش جو توبہ کرتے ہیں اور تیری راہ پر چلتے ہیں۔ انہیں عذاب جہنم سے بھی نجات دے۔ انہیں ان جنتوں میں لے جا جن کا تو ان سے وعدہ کرچکا ہے۔ اور انہیں بھی ان کے ساتھ پہنچا جو ان کے باپ دادوں بیویوں اور اولادوں میں سے نیک ہیں، انہیں برائیوں سے بچا لے۔ وہ اللہ اپنی رحمت کو تم پر نازل فرما کر اپنے فرشتوں کی دعا کو تمہارے حق میں قبول فرما کر تمہیں جہالت و ضلالت کی اندھیریوں سے نکال کر ھدایت و یقین کے نور کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں مومنوں پر رحیم و کریم ہے۔ دنیا میں حق کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور روزیاں عطا فرماتا ہے اور آخرت میں گھبراہٹ اور ڈر خوف سے بچا لے گا۔ فرشتے آکر انہیں بشارت دیں گے کہ تم جہنم سے آزاد ہو اور جنتی ہو۔ کیونکہ ان فرشتوں کے دل مومنوں کی محبت و الفت سے پُر ہیں۔ حضور ﷺ ایک مرتبہ اپنے اصحاب کے ساتھ راستے سے گزر رہے تھے۔ ایک چھوٹا بچہ راستے میں تھا اس کی ماں نے ایک جماعت کو آتے ہوئے دیکھا تو میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی اور بچے کو گود میں لے کر ایک طرف ہٹ گئی۔ ماں کی اس محبت کو دیکھ کر صحابہ نے کہا یارسول اللہ ﷺ خیال تو فرمائیے کیا یہ اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی ؟ حضور ﷺ ان کے مطلب کو سمجھ کر فرمانے لگے قسم اللہ کی ! اللہ تعالیٰ بھی اپنے دوستوں کو آگ میں نہیں ڈالے گا۔ (مسند احمد) صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک قیدی عورت کو دیکھا کہ اس نے اپنے بچے کو دیکھتے ہی اٹھا لیا اور اپنے کلیجے سے لگا کر اسے دودھ پلانے لگی آپ نے فرمایا بتاؤ تو اگر اس کے اختیار میں ہو تو کیا یہ اپنی خوشی سے اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی ؟ صحابہ نے کہا ہرگز نہیں آپ نے فرمایا قسم ہے اللہ کی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے، اللہ کی طرف سے ان کا ثمرہ جس دن یہ اس سے ملیں گے سلام ہوگا۔ جیسے فرمایا (سلام قولا من رب رحیم) قتادہ ؓ فرماتے ہیں آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرے گا۔ اس کی تائید بھی آیت (دَعْوٰىھُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَتَحِيَّتُھُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ ۚ وَاٰخِرُ دَعْوٰىھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ0010 ) 10۔ یونس :10) ، سے ہوتی ہے۔ اللہ نے ان کے لئے اجر کریم یعنی جنت مع اس کی تمام نعمتوں کے تیار کر رکھی ہے۔ جن میں سے ہر نعمت کھانا پینا پہننا اوڑھنا عورتیں لذتیں منظر وغیرہ ایسی ہیں کہ آج تو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتیں۔ چہ جائیکہ دیکھنے میں یا سننے میں آئیں۔
بہترین دعا۔ بہت سی نعمتوں کے انعام کرنے والے اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ہمیں اس کا بکثرت ذکر کرنا چاہئے اور اس پر بھی ہمیں نعمتوں اور بڑے اجرو ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ رسول ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہارے بہتر عمل اور بہت ہی زیادہ پاکیزہ کام اور سب سے بڑے درجے کی نیکی اور سونے چاندی کو راہ اللہ خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر اور جہاد سے بھی افضل کام نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے پوچھا حضور ﷺ وہ کیا ہے ؟ فرمایا اللہ عزوجل کا ذکر (ترمذی ابن ماجہ وغیرہ) یہ حدیث پہلے والذاکرین کی تفسیر میں بھی گذر چکی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں۔ میں نے رسول ﷺ سے یہ دعا سنی ہے جسے میں کسی وقت ترک نہیں کرتا۔ دعا یہ ہے (اللہم اجعلنی اعظم شکرک واتبع نصیحتک واکثر ذکرک واحفظ وصیتک) یعنی اے اللہ تو مجھے اپنا بہت بڑا شکر گزار، فرماں بردار، بکثرت ذکر کرنے والا اور تیرے احکام کی حفاظت کرنے والا بنا دے۔ (ترمذی وغیرہ) دو اعرابی رسول مقبول ﷺ کے پاس آئے۔ ایک نے پوچھا سب سے اچھا شخص کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو لمبی عمر پائے، اور نیک اعمال کرے۔ دوسرے نے پوچھاحضور ﷺ احکام اسلام تو بہت سارے ہیں مجھے کوئی چوٹی کا حکم بتا دیجئے کہ اس میں چمٹ جاؤں آپ نے فرمایا ذکر اللہ میں ہر وقت اپنی زبان کو تر رکھ (ترمذی) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر میں ہر وقت مشغول رہو یہاں تک کہ لوگ تمہیں مجنوں کہنے لگیں (مسند احمد) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو یہاں تک کہ منافق تمہیں ریا کار کہنے لگیں۔ (طبرانی) فرماتے ہیں جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کریں وہ مجلس قیامت کے دن ان پر حسرت افسوس کا باعث بنے گی۔ (مسند) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ما فرماتے ہیں ہر فرض کام کی کوئی حد ہے۔ پھر عذر کی حالت میں وہ معاف بھی ہے لیکن ذکر اللہ کی کوئی حد نہیں نہ وہ کسی وقت ٹلتا ہے۔ ہاں کوئی دیوانہ ہو تو اور بات ہے۔ کھڑے بیٹھے لیٹے رات کو دن کو خشکی میں تری میں سفر میں حضر میں غنا میں فقر میں صحت میں بیماری پوشیدگی میں ظاہر میں غرض ہر حال میں ذکر اللہ کرنا چاہیے۔ صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کرنی چاہیے۔ تم جب یہ کرو گے تو اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا اور فرشتے تمہارے لئے ہر وقت دعاگو رہیں گے۔ اس بارے میں اور بھی بہت سی احادیث و آثار ہیں۔ اس آیت میں بھی بکثرت ذکر اللہ کرنے کی ہدایت ہو رہی ہے۔ بزرگوں نے ذکر اللہ اور وظائف کی بہت سی مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جیسے امام نسائی امام معمری وغیرہ۔ ان سب میں بہترین کتاب اس موضوع پر حضرت امام نووی ؒ کی ہے، صبح شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ جیسے فرمایا (فسبحان اللہ حین (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17) 30۔ الروم :17) اللہ کے لئے پاکی ہے۔ جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو، اسی کے لئے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور بعد از زوال اور ظہر کے وقت، پھر اس کی فضیلت بیان کرنے اور اس کی طرف رغبت دلانے کے لئے فرماتا ہے وہ خود تم پر رحمت بھیج رہا ہے۔ یعنی جب وہ تمہاری یاد رکھتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ تم اس کے ذکر سے غفلت کرو ؟ جیسے فرمایا (كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ01501ړ) 2۔ البقرة :151) جس طرح ہم نے تم میں خود تمہی میں سے رسول بھیجا جو تم پر ہماری کتاب پڑھتا ہے اور وہ سکھاتا ہے جسے تم جانتے ہی نہ تھے۔ پس تم میرا ذکر کرو میں تمہاری یاد کروں گا اور تم میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔ حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اور جو مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے جماعت میں یاد کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے بہتر ہوتی ہے۔ صلوۃ جب اللہ کی طرف مضاف ہو تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھلائی اپنے فرشتوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ اور قول میں ہے مراد اس کی رحمت ہے۔ اور دونوں قولوں کا انجام ایک ہی ہے۔ فرشتوں کی صلوۃ ان کی دعا اور استغفار ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ) 40۔ غافر :7) ، عرش کے اٹھانے والے اور اس کے آس پاس والے اپنے رب کی حمد و تسبیح بیان کرتے ہیں، اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومن بندوں کے لئے استغفار کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے ہر چیز کو رحمت و علم سے گھیر لیا ہے۔ اے اللہ تو انہیں بخش جو توبہ کرتے ہیں اور تیری راہ پر چلتے ہیں۔ انہیں عذاب جہنم سے بھی نجات دے۔ انہیں ان جنتوں میں لے جا جن کا تو ان سے وعدہ کرچکا ہے۔ اور انہیں بھی ان کے ساتھ پہنچا جو ان کے باپ دادوں بیویوں اور اولادوں میں سے نیک ہیں، انہیں برائیوں سے بچا لے۔ وہ اللہ اپنی رحمت کو تم پر نازل فرما کر اپنے فرشتوں کی دعا کو تمہارے حق میں قبول فرما کر تمہیں جہالت و ضلالت کی اندھیریوں سے نکال کر ھدایت و یقین کے نور کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں مومنوں پر رحیم و کریم ہے۔ دنیا میں حق کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور روزیاں عطا فرماتا ہے اور آخرت میں گھبراہٹ اور ڈر خوف سے بچا لے گا۔ فرشتے آکر انہیں بشارت دیں گے کہ تم جہنم سے آزاد ہو اور جنتی ہو۔ کیونکہ ان فرشتوں کے دل مومنوں کی محبت و الفت سے پُر ہیں۔ حضور ﷺ ایک مرتبہ اپنے اصحاب کے ساتھ راستے سے گزر رہے تھے۔ ایک چھوٹا بچہ راستے میں تھا اس کی ماں نے ایک جماعت کو آتے ہوئے دیکھا تو میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی اور بچے کو گود میں لے کر ایک طرف ہٹ گئی۔ ماں کی اس محبت کو دیکھ کر صحابہ نے کہا یارسول اللہ ﷺ خیال تو فرمائیے کیا یہ اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی ؟ حضور ﷺ ان کے مطلب کو سمجھ کر فرمانے لگے قسم اللہ کی ! اللہ تعالیٰ بھی اپنے دوستوں کو آگ میں نہیں ڈالے گا۔ (مسند احمد) صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک قیدی عورت کو دیکھا کہ اس نے اپنے بچے کو دیکھتے ہی اٹھا لیا اور اپنے کلیجے سے لگا کر اسے دودھ پلانے لگی آپ نے فرمایا بتاؤ تو اگر اس کے اختیار میں ہو تو کیا یہ اپنی خوشی سے اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی ؟ صحابہ نے کہا ہرگز نہیں آپ نے فرمایا قسم ہے اللہ کی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے، اللہ کی طرف سے ان کا ثمرہ جس دن یہ اس سے ملیں گے سلام ہوگا۔ جیسے فرمایا (سلام قولا من رب رحیم) قتادہ ؓ فرماتے ہیں آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرے گا۔ اس کی تائید بھی آیت (دَعْوٰىھُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَتَحِيَّتُھُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ ۚ وَاٰخِرُ دَعْوٰىھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ0010 ) 10۔ یونس :10) ، سے ہوتی ہے۔ اللہ نے ان کے لئے اجر کریم یعنی جنت مع اس کی تمام نعمتوں کے تیار کر رکھی ہے۔ جن میں سے ہر نعمت کھانا پینا پہننا اوڑھنا عورتیں لذتیں منظر وغیرہ ایسی ہیں کہ آج تو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتیں۔ چہ جائیکہ دیکھنے میں یا سننے میں آئیں۔
بہترین دعا۔ بہت سی نعمتوں کے انعام کرنے والے اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ہمیں اس کا بکثرت ذکر کرنا چاہئے اور اس پر بھی ہمیں نعمتوں اور بڑے اجرو ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ رسول ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہارے بہتر عمل اور بہت ہی زیادہ پاکیزہ کام اور سب سے بڑے درجے کی نیکی اور سونے چاندی کو راہ اللہ خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر اور جہاد سے بھی افضل کام نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے پوچھا حضور ﷺ وہ کیا ہے ؟ فرمایا اللہ عزوجل کا ذکر (ترمذی ابن ماجہ وغیرہ) یہ حدیث پہلے والذاکرین کی تفسیر میں بھی گذر چکی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں۔ میں نے رسول ﷺ سے یہ دعا سنی ہے جسے میں کسی وقت ترک نہیں کرتا۔ دعا یہ ہے (اللہم اجعلنی اعظم شکرک واتبع نصیحتک واکثر ذکرک واحفظ وصیتک) یعنی اے اللہ تو مجھے اپنا بہت بڑا شکر گزار، فرماں بردار، بکثرت ذکر کرنے والا اور تیرے احکام کی حفاظت کرنے والا بنا دے۔ (ترمذی وغیرہ) دو اعرابی رسول مقبول ﷺ کے پاس آئے۔ ایک نے پوچھا سب سے اچھا شخص کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو لمبی عمر پائے، اور نیک اعمال کرے۔ دوسرے نے پوچھاحضور ﷺ احکام اسلام تو بہت سارے ہیں مجھے کوئی چوٹی کا حکم بتا دیجئے کہ اس میں چمٹ جاؤں آپ نے فرمایا ذکر اللہ میں ہر وقت اپنی زبان کو تر رکھ (ترمذی) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر میں ہر وقت مشغول رہو یہاں تک کہ لوگ تمہیں مجنوں کہنے لگیں (مسند احمد) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو یہاں تک کہ منافق تمہیں ریا کار کہنے لگیں۔ (طبرانی) فرماتے ہیں جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کریں وہ مجلس قیامت کے دن ان پر حسرت افسوس کا باعث بنے گی۔ (مسند) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ما فرماتے ہیں ہر فرض کام کی کوئی حد ہے۔ پھر عذر کی حالت میں وہ معاف بھی ہے لیکن ذکر اللہ کی کوئی حد نہیں نہ وہ کسی وقت ٹلتا ہے۔ ہاں کوئی دیوانہ ہو تو اور بات ہے۔ کھڑے بیٹھے لیٹے رات کو دن کو خشکی میں تری میں سفر میں حضر میں غنا میں فقر میں صحت میں بیماری پوشیدگی میں ظاہر میں غرض ہر حال میں ذکر اللہ کرنا چاہیے۔ صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کرنی چاہیے۔ تم جب یہ کرو گے تو اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا اور فرشتے تمہارے لئے ہر وقت دعاگو رہیں گے۔ اس بارے میں اور بھی بہت سی احادیث و آثار ہیں۔ اس آیت میں بھی بکثرت ذکر اللہ کرنے کی ہدایت ہو رہی ہے۔ بزرگوں نے ذکر اللہ اور وظائف کی بہت سی مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جیسے امام نسائی امام معمری وغیرہ۔ ان سب میں بہترین کتاب اس موضوع پر حضرت امام نووی ؒ کی ہے، صبح شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ جیسے فرمایا (فسبحان اللہ حین (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17) 30۔ الروم :17) اللہ کے لئے پاکی ہے۔ جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو، اسی کے لئے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور بعد از زوال اور ظہر کے وقت، پھر اس کی فضیلت بیان کرنے اور اس کی طرف رغبت دلانے کے لئے فرماتا ہے وہ خود تم پر رحمت بھیج رہا ہے۔ یعنی جب وہ تمہاری یاد رکھتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ تم اس کے ذکر سے غفلت کرو ؟ جیسے فرمایا (كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ01501ړ) 2۔ البقرة :151) جس طرح ہم نے تم میں خود تمہی میں سے رسول بھیجا جو تم پر ہماری کتاب پڑھتا ہے اور وہ سکھاتا ہے جسے تم جانتے ہی نہ تھے۔ پس تم میرا ذکر کرو میں تمہاری یاد کروں گا اور تم میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔ حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اور جو مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے جماعت میں یاد کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے بہتر ہوتی ہے۔ صلوۃ جب اللہ کی طرف مضاف ہو تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھلائی اپنے فرشتوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ اور قول میں ہے مراد اس کی رحمت ہے۔ اور دونوں قولوں کا انجام ایک ہی ہے۔ فرشتوں کی صلوۃ ان کی دعا اور استغفار ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ) 40۔ غافر :7) ، عرش کے اٹھانے والے اور اس کے آس پاس والے اپنے رب کی حمد و تسبیح بیان کرتے ہیں، اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومن بندوں کے لئے استغفار کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے ہر چیز کو رحمت و علم سے گھیر لیا ہے۔ اے اللہ تو انہیں بخش جو توبہ کرتے ہیں اور تیری راہ پر چلتے ہیں۔ انہیں عذاب جہنم سے بھی نجات دے۔ انہیں ان جنتوں میں لے جا جن کا تو ان سے وعدہ کرچکا ہے۔ اور انہیں بھی ان کے ساتھ پہنچا جو ان کے باپ دادوں بیویوں اور اولادوں میں سے نیک ہیں، انہیں برائیوں سے بچا لے۔ وہ اللہ اپنی رحمت کو تم پر نازل فرما کر اپنے فرشتوں کی دعا کو تمہارے حق میں قبول فرما کر تمہیں جہالت و ضلالت کی اندھیریوں سے نکال کر ھدایت و یقین کے نور کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں مومنوں پر رحیم و کریم ہے۔ دنیا میں حق کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور روزیاں عطا فرماتا ہے اور آخرت میں گھبراہٹ اور ڈر خوف سے بچا لے گا۔ فرشتے آکر انہیں بشارت دیں گے کہ تم جہنم سے آزاد ہو اور جنتی ہو۔ کیونکہ ان فرشتوں کے دل مومنوں کی محبت و الفت سے پُر ہیں۔ حضور ﷺ ایک مرتبہ اپنے اصحاب کے ساتھ راستے سے گزر رہے تھے۔ ایک چھوٹا بچہ راستے میں تھا اس کی ماں نے ایک جماعت کو آتے ہوئے دیکھا تو میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی اور بچے کو گود میں لے کر ایک طرف ہٹ گئی۔ ماں کی اس محبت کو دیکھ کر صحابہ نے کہا یارسول اللہ ﷺ خیال تو فرمائیے کیا یہ اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی ؟ حضور ﷺ ان کے مطلب کو سمجھ کر فرمانے لگے قسم اللہ کی ! اللہ تعالیٰ بھی اپنے دوستوں کو آگ میں نہیں ڈالے گا۔ (مسند احمد) صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک قیدی عورت کو دیکھا کہ اس نے اپنے بچے کو دیکھتے ہی اٹھا لیا اور اپنے کلیجے سے لگا کر اسے دودھ پلانے لگی آپ نے فرمایا بتاؤ تو اگر اس کے اختیار میں ہو تو کیا یہ اپنی خوشی سے اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی ؟ صحابہ نے کہا ہرگز نہیں آپ نے فرمایا قسم ہے اللہ کی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے، اللہ کی طرف سے ان کا ثمرہ جس دن یہ اس سے ملیں گے سلام ہوگا۔ جیسے فرمایا (سلام قولا من رب رحیم) قتادہ ؓ فرماتے ہیں آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرے گا۔ اس کی تائید بھی آیت (دَعْوٰىھُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَتَحِيَّتُھُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ ۚ وَاٰخِرُ دَعْوٰىھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ0010 ) 10۔ یونس :10) ، سے ہوتی ہے۔ اللہ نے ان کے لئے اجر کریم یعنی جنت مع اس کی تمام نعمتوں کے تیار کر رکھی ہے۔ جن میں سے ہر نعمت کھانا پینا پہننا اوڑھنا عورتیں لذتیں منظر وغیرہ ایسی ہیں کہ آج تو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتیں۔ چہ جائیکہ دیکھنے میں یا سننے میں آئیں۔
بہترین دعا۔ بہت سی نعمتوں کے انعام کرنے والے اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ہمیں اس کا بکثرت ذکر کرنا چاہئے اور اس پر بھی ہمیں نعمتوں اور بڑے اجرو ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ رسول ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہارے بہتر عمل اور بہت ہی زیادہ پاکیزہ کام اور سب سے بڑے درجے کی نیکی اور سونے چاندی کو راہ اللہ خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر اور جہاد سے بھی افضل کام نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے پوچھا حضور ﷺ وہ کیا ہے ؟ فرمایا اللہ عزوجل کا ذکر (ترمذی ابن ماجہ وغیرہ) یہ حدیث پہلے والذاکرین کی تفسیر میں بھی گذر چکی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں۔ میں نے رسول ﷺ سے یہ دعا سنی ہے جسے میں کسی وقت ترک نہیں کرتا۔ دعا یہ ہے (اللہم اجعلنی اعظم شکرک واتبع نصیحتک واکثر ذکرک واحفظ وصیتک) یعنی اے اللہ تو مجھے اپنا بہت بڑا شکر گزار، فرماں بردار، بکثرت ذکر کرنے والا اور تیرے احکام کی حفاظت کرنے والا بنا دے۔ (ترمذی وغیرہ) دو اعرابی رسول مقبول ﷺ کے پاس آئے۔ ایک نے پوچھا سب سے اچھا شخص کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو لمبی عمر پائے، اور نیک اعمال کرے۔ دوسرے نے پوچھاحضور ﷺ احکام اسلام تو بہت سارے ہیں مجھے کوئی چوٹی کا حکم بتا دیجئے کہ اس میں چمٹ جاؤں آپ نے فرمایا ذکر اللہ میں ہر وقت اپنی زبان کو تر رکھ (ترمذی) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر میں ہر وقت مشغول رہو یہاں تک کہ لوگ تمہیں مجنوں کہنے لگیں (مسند احمد) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو یہاں تک کہ منافق تمہیں ریا کار کہنے لگیں۔ (طبرانی) فرماتے ہیں جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کریں وہ مجلس قیامت کے دن ان پر حسرت افسوس کا باعث بنے گی۔ (مسند) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ما فرماتے ہیں ہر فرض کام کی کوئی حد ہے۔ پھر عذر کی حالت میں وہ معاف بھی ہے لیکن ذکر اللہ کی کوئی حد نہیں نہ وہ کسی وقت ٹلتا ہے۔ ہاں کوئی دیوانہ ہو تو اور بات ہے۔ کھڑے بیٹھے لیٹے رات کو دن کو خشکی میں تری میں سفر میں حضر میں غنا میں فقر میں صحت میں بیماری پوشیدگی میں ظاہر میں غرض ہر حال میں ذکر اللہ کرنا چاہیے۔ صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کرنی چاہیے۔ تم جب یہ کرو گے تو اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا اور فرشتے تمہارے لئے ہر وقت دعاگو رہیں گے۔ اس بارے میں اور بھی بہت سی احادیث و آثار ہیں۔ اس آیت میں بھی بکثرت ذکر اللہ کرنے کی ہدایت ہو رہی ہے۔ بزرگوں نے ذکر اللہ اور وظائف کی بہت سی مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جیسے امام نسائی امام معمری وغیرہ۔ ان سب میں بہترین کتاب اس موضوع پر حضرت امام نووی ؒ کی ہے، صبح شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ جیسے فرمایا (فسبحان اللہ حین (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17) 30۔ الروم :17) اللہ کے لئے پاکی ہے۔ جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو، اسی کے لئے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور بعد از زوال اور ظہر کے وقت، پھر اس کی فضیلت بیان کرنے اور اس کی طرف رغبت دلانے کے لئے فرماتا ہے وہ خود تم پر رحمت بھیج رہا ہے۔ یعنی جب وہ تمہاری یاد رکھتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ تم اس کے ذکر سے غفلت کرو ؟ جیسے فرمایا (كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ01501ړ) 2۔ البقرة :151) جس طرح ہم نے تم میں خود تمہی میں سے رسول بھیجا جو تم پر ہماری کتاب پڑھتا ہے اور وہ سکھاتا ہے جسے تم جانتے ہی نہ تھے۔ پس تم میرا ذکر کرو میں تمہاری یاد کروں گا اور تم میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔ حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اور جو مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے جماعت میں یاد کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے بہتر ہوتی ہے۔ صلوۃ جب اللہ کی طرف مضاف ہو تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھلائی اپنے فرشتوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ اور قول میں ہے مراد اس کی رحمت ہے۔ اور دونوں قولوں کا انجام ایک ہی ہے۔ فرشتوں کی صلوۃ ان کی دعا اور استغفار ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ) 40۔ غافر :7) ، عرش کے اٹھانے والے اور اس کے آس پاس والے اپنے رب کی حمد و تسبیح بیان کرتے ہیں، اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومن بندوں کے لئے استغفار کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے ہر چیز کو رحمت و علم سے گھیر لیا ہے۔ اے اللہ تو انہیں بخش جو توبہ کرتے ہیں اور تیری راہ پر چلتے ہیں۔ انہیں عذاب جہنم سے بھی نجات دے۔ انہیں ان جنتوں میں لے جا جن کا تو ان سے وعدہ کرچکا ہے۔ اور انہیں بھی ان کے ساتھ پہنچا جو ان کے باپ دادوں بیویوں اور اولادوں میں سے نیک ہیں، انہیں برائیوں سے بچا لے۔ وہ اللہ اپنی رحمت کو تم پر نازل فرما کر اپنے فرشتوں کی دعا کو تمہارے حق میں قبول فرما کر تمہیں جہالت و ضلالت کی اندھیریوں سے نکال کر ھدایت و یقین کے نور کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں مومنوں پر رحیم و کریم ہے۔ دنیا میں حق کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور روزیاں عطا فرماتا ہے اور آخرت میں گھبراہٹ اور ڈر خوف سے بچا لے گا۔ فرشتے آکر انہیں بشارت دیں گے کہ تم جہنم سے آزاد ہو اور جنتی ہو۔ کیونکہ ان فرشتوں کے دل مومنوں کی محبت و الفت سے پُر ہیں۔ حضور ﷺ ایک مرتبہ اپنے اصحاب کے ساتھ راستے سے گزر رہے تھے۔ ایک چھوٹا بچہ راستے میں تھا اس کی ماں نے ایک جماعت کو آتے ہوئے دیکھا تو میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی اور بچے کو گود میں لے کر ایک طرف ہٹ گئی۔ ماں کی اس محبت کو دیکھ کر صحابہ نے کہا یارسول اللہ ﷺ خیال تو فرمائیے کیا یہ اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی ؟ حضور ﷺ ان کے مطلب کو سمجھ کر فرمانے لگے قسم اللہ کی ! اللہ تعالیٰ بھی اپنے دوستوں کو آگ میں نہیں ڈالے گا۔ (مسند احمد) صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک قیدی عورت کو دیکھا کہ اس نے اپنے بچے کو دیکھتے ہی اٹھا لیا اور اپنے کلیجے سے لگا کر اسے دودھ پلانے لگی آپ نے فرمایا بتاؤ تو اگر اس کے اختیار میں ہو تو کیا یہ اپنی خوشی سے اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی ؟ صحابہ نے کہا ہرگز نہیں آپ نے فرمایا قسم ہے اللہ کی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے، اللہ کی طرف سے ان کا ثمرہ جس دن یہ اس سے ملیں گے سلام ہوگا۔ جیسے فرمایا (سلام قولا من رب رحیم) قتادہ ؓ فرماتے ہیں آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرے گا۔ اس کی تائید بھی آیت (دَعْوٰىھُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَتَحِيَّتُھُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ ۚ وَاٰخِرُ دَعْوٰىھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ0010 ) 10۔ یونس :10) ، سے ہوتی ہے۔ اللہ نے ان کے لئے اجر کریم یعنی جنت مع اس کی تمام نعمتوں کے تیار کر رکھی ہے۔ جن میں سے ہر نعمت کھانا پینا پہننا اوڑھنا عورتیں لذتیں منظر وغیرہ ایسی ہیں کہ آج تو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتیں۔ چہ جائیکہ دیکھنے میں یا سننے میں آئیں۔
تورات میں نبی اکرم ﷺ کی صفات۔ عطابن یسار فرماتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے کہا کہ حضور ﷺ کی صفتیں تورات میں کیا ہیں ؟ فرمایا جو صفتیں آپ کی قرآن میں ہیں انہی میں بعض اوصاف آپ کے تورات میں بھی ہیں۔ تورات میں ہے اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور خوشی سنانے والا، ڈرانے والا امتیوں کو بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے تو بدگو اور فحش کلام نہیں ہے، نہ بازاروں میں شور مچانے والا۔ وہ برائی کے بدلے برائی نہیں کرتا بلکہ درگذر کرتا ہے۔ اور معاف فرماتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ قبض نہیں کرے گا۔ جب تک لوگوں کو ٹیڑھا کر دئیے ہوئے دین کو اس کی ذات سے بالکل سیدھا نہ کر دے اور وہ لا الہ الا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں۔ جس سے اندھی آنکھیں روشن ہوجائیں۔ اور بہرے کان سننے والے بن جائیں۔ اور پردوں والے دلوں کے زنگ چھوٹ جائیں (بخاری) ابن ابی حاتم میں ہے حضرت وہیب بن منبہ فرماتے ہیں بنی اسرائیل کے ایک نبی حضرت شعیا ؑ پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ اپنی قوم بنی اسرائیل میں کھڑے ہوجاؤ، میں تمہاری زبان سے اپنی باتیں کہلواؤں گا۔ میں امیوں میں سے ایک نبی امی کو بھیجنے والا ہوں جو نہ بدخلق ہے نہ بد گو۔ نہ بازاروں میں شوروغل کرنے والا۔ اس قدر سکون و امن کا حامل ہے کہ اگر چراغ کے پاس سے بھی گذر جائے تو وہ نہ بجھے اور اگر بانسوں پر بھی چلے تو پیر کی چاپ نہ معلوم ہو۔ میں اسے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجوں گا۔ جو حق گو ہوگا اور میں اس کی وجہ سے اندھی آنکھوں کو کھول دوں گا اور بہرے کانوں کو سننے والا کروں گا اور زنگ آلود دلوں کو صاف کر دوں گا۔ ہر بھلائی کی طرف اس کی ضمیر ہوگی۔ حکمت اس کی گویائی ہوگی۔ صدق و وفا اس کی عادت ہوگی۔ عفو درگذر اس کا خلق ہوگا۔ حق اس کی شریعت ہوگی۔ عدل اس کی سیرت ہوگی۔ ہدایت اس کی امام ہوگی اسلام اس کا دین ہوگا۔ احمد اس کا نام ہوگا۔ گمراہوں کو میں اس کی وجہ سے ہدایت دوں گا۔ جاہلوں کو اس کی بدولت علماء بنادوں گا۔ تنزل والوں کو ترقی پر پہنچا دوں گا۔ ان جانوں کو مشہور و معروف کر دوں گا۔ مختلف اور متضاد دلوں کو متفق اور متحد کر دوں گا۔ جداگانہ خواہشوں کو یکسو کر دوں گا۔ دنیا کو اس کی وجہ سے ہلاکت سے بچا لوں گا۔ تمام امتوں سے اس کی امت کو اعلیٰ اور افضل بنادوں گا۔ وہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے دنیا میں پیدا کئے جائیں گے۔ ہر ایک کو نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ وہ موحد ہوں گے، مومن ہوں گے، اخلاص والے ہوں گے، رسولوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے سب کو سچ ماننے والے ہوں گے۔ وہ اپنی مسجدوں مجلسوں اور بستروں پر چلتے پھرتے بیٹھے اٹھتے میری تسبیح حمد و ثنا بزرگی اور بڑائی بیان کرتے رہیں گے۔ کھڑے اور بیٹھے نمازیں ادا کرتے رہیں گے۔ دشمنان اللہ سے صفیں باندھ کر حملہ کر کے جہاد کریں گے۔ ان میں سے ہزارہا لوگ میری رضامندی کی جستجو میں اپنا گھر بار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوں گے۔ منہ ہاتھ وضو میں دھویا کریں گے۔ تہمد آدھی پنڈلی تک باندھیں گے۔ میری راہ میں قربانیاں دیں گے۔ میری کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ راتوں کو عابد اور دنوں کو مجاہد ہوں گے۔ میں اس نبی کی اہل بیت اور اولاد میں سبقت کرنے والے صدیق شہید اور صالح لوگ پیدا کردوں گا۔ اس کی امت اس کے بعد دنیا کو حق کی ہدایت کرے گی، اور حق کے ساتھ عدل و انصاف کرے گی۔ ان کی امداد کرنے والوں کو میں عزت والا کروں گا۔ اور ان کو بلانے والوں کی مدد کروں گا۔ ان کے مخالفین اور ان کے باغی اور ان کے بدخواہوں پر میں برے دن لاؤں گا۔ میں انہیں ان کے نبی کے وارث کردوں گا۔ جو اپنے زب کی طرف لوگوں کو دعوت دیں گے۔ نیکیوں کی باتیں بتائیں گے، برائیوں سے روکیں گے، نماز ادا کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، وعدے پورے کریں گے، اس خیر کو میں ان کے ہاتھوں پوری کروں گا جو ان سے شروع ہوئی تھی۔ یہ ہے میرا فضل جسے چاہوں دوں۔ اور میں بہت بڑے فضل و کرم کا مالک ہوں، ابن ابی خاتم میں ہے کہ آپ حضرت علی ؓ اور حضرت معاذ ؓ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیج رہے تھے جب یہ آیت اتری تو آپ نے انہیں فرمایا جاؤ خوشخبریاں سنانا نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا سختی نہ کرنا، دیکھو مجھ پر یہ آیت اتری ہے۔ طبرانی میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا مجھ پر یہ اترا ہے کہ اے نبی ہم نے تجھے تیری امت پر گواہ بنا کر جنت کی خوشخبری دینے والا بنا کر جہنم سے ڈرانے والا بنا کر اور اللہ کے حکم سے اس کی توحید کی شہادت کی طرف لوگوں کو بلانے والا بنا کر اور روشن چراغ قرآن کے ساتھ بنا کر بھیجا پس آپ اللہ کی وحدانیت پر کہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں گواہ ہیں۔ اور قیامت کے دن آپ لوگوں کے اعمال پر گواہ ہوں گے۔ جیسے ارشاد ہے (وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا 41ڲ) 4۔ النسآء :41) یعنی ہم تجھے ان پر گواہ بنا کر لائیں گے۔ اور آیت میں ہے کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور تم پر یہ رسول ﷺ گواہ ہیں۔ آپ مومنوں کو بہترین اجر کی بشارت سنانے والے اور کافروں کو بدترین عذاب کا ڈر سنانے والے ہیں۔ اور چونکہ اللہ کا حکم ہے اس کی بجا آوری کے ماتحت آپ مخلوق کو خالق کی عبادت کی طرف بلانے والے ہیں۔ آپ کی سچائی اس طرح ظاہر ہے جیسے سورج کی روشنی۔ ہاں کوئی ضدی اڑ جائے تو اور بات ہے، اے نبی ! کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو نہ ان کی طرف کان لگاؤ اور ان سے درگذر کرو۔ یہ جو ایذائیں پہنچاتے ہیں انہیں خیال میں بھی نہ لاؤ اور اللہ پر پورا بھروسہ کرو وہ کافی ہے۔
تورات میں نبی اکرم ﷺ کی صفات۔ عطابن یسار فرماتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے کہا کہ حضور ﷺ کی صفتیں تورات میں کیا ہیں ؟ فرمایا جو صفتیں آپ کی قرآن میں ہیں انہی میں بعض اوصاف آپ کے تورات میں بھی ہیں۔ تورات میں ہے اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور خوشی سنانے والا، ڈرانے والا امتیوں کو بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے تو بدگو اور فحش کلام نہیں ہے، نہ بازاروں میں شور مچانے والا۔ وہ برائی کے بدلے برائی نہیں کرتا بلکہ درگذر کرتا ہے۔ اور معاف فرماتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ قبض نہیں کرے گا۔ جب تک لوگوں کو ٹیڑھا کر دئیے ہوئے دین کو اس کی ذات سے بالکل سیدھا نہ کر دے اور وہ لا الہ الا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں۔ جس سے اندھی آنکھیں روشن ہوجائیں۔ اور بہرے کان سننے والے بن جائیں۔ اور پردوں والے دلوں کے زنگ چھوٹ جائیں (بخاری) ابن ابی حاتم میں ہے حضرت وہیب بن منبہ فرماتے ہیں بنی اسرائیل کے ایک نبی حضرت شعیا ؑ پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ اپنی قوم بنی اسرائیل میں کھڑے ہوجاؤ، میں تمہاری زبان سے اپنی باتیں کہلواؤں گا۔ میں امیوں میں سے ایک نبی امی کو بھیجنے والا ہوں جو نہ بدخلق ہے نہ بد گو۔ نہ بازاروں میں شوروغل کرنے والا۔ اس قدر سکون و امن کا حامل ہے کہ اگر چراغ کے پاس سے بھی گذر جائے تو وہ نہ بجھے اور اگر بانسوں پر بھی چلے تو پیر کی چاپ نہ معلوم ہو۔ میں اسے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجوں گا۔ جو حق گو ہوگا اور میں اس کی وجہ سے اندھی آنکھوں کو کھول دوں گا اور بہرے کانوں کو سننے والا کروں گا اور زنگ آلود دلوں کو صاف کر دوں گا۔ ہر بھلائی کی طرف اس کی ضمیر ہوگی۔ حکمت اس کی گویائی ہوگی۔ صدق و وفا اس کی عادت ہوگی۔ عفو درگذر اس کا خلق ہوگا۔ حق اس کی شریعت ہوگی۔ عدل اس کی سیرت ہوگی۔ ہدایت اس کی امام ہوگی اسلام اس کا دین ہوگا۔ احمد اس کا نام ہوگا۔ گمراہوں کو میں اس کی وجہ سے ہدایت دوں گا۔ جاہلوں کو اس کی بدولت علماء بنادوں گا۔ تنزل والوں کو ترقی پر پہنچا دوں گا۔ ان جانوں کو مشہور و معروف کر دوں گا۔ مختلف اور متضاد دلوں کو متفق اور متحد کر دوں گا۔ جداگانہ خواہشوں کو یکسو کر دوں گا۔ دنیا کو اس کی وجہ سے ہلاکت سے بچا لوں گا۔ تمام امتوں سے اس کی امت کو اعلیٰ اور افضل بنادوں گا۔ وہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے دنیا میں پیدا کئے جائیں گے۔ ہر ایک کو نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ وہ موحد ہوں گے، مومن ہوں گے، اخلاص والے ہوں گے، رسولوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے سب کو سچ ماننے والے ہوں گے۔ وہ اپنی مسجدوں مجلسوں اور بستروں پر چلتے پھرتے بیٹھے اٹھتے میری تسبیح حمد و ثنا بزرگی اور بڑائی بیان کرتے رہیں گے۔ کھڑے اور بیٹھے نمازیں ادا کرتے رہیں گے۔ دشمنان اللہ سے صفیں باندھ کر حملہ کر کے جہاد کریں گے۔ ان میں سے ہزارہا لوگ میری رضامندی کی جستجو میں اپنا گھر بار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوں گے۔ منہ ہاتھ وضو میں دھویا کریں گے۔ تہمد آدھی پنڈلی تک باندھیں گے۔ میری راہ میں قربانیاں دیں گے۔ میری کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ راتوں کو عابد اور دنوں کو مجاہد ہوں گے۔ میں اس نبی کی اہل بیت اور اولاد میں سبقت کرنے والے صدیق شہید اور صالح لوگ پیدا کردوں گا۔ اس کی امت اس کے بعد دنیا کو حق کی ہدایت کرے گی، اور حق کے ساتھ عدل و انصاف کرے گی۔ ان کی امداد کرنے والوں کو میں عزت والا کروں گا۔ اور ان کو بلانے والوں کی مدد کروں گا۔ ان کے مخالفین اور ان کے باغی اور ان کے بدخواہوں پر میں برے دن لاؤں گا۔ میں انہیں ان کے نبی کے وارث کردوں گا۔ جو اپنے زب کی طرف لوگوں کو دعوت دیں گے۔ نیکیوں کی باتیں بتائیں گے، برائیوں سے روکیں گے، نماز ادا کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، وعدے پورے کریں گے، اس خیر کو میں ان کے ہاتھوں پوری کروں گا جو ان سے شروع ہوئی تھی۔ یہ ہے میرا فضل جسے چاہوں دوں۔ اور میں بہت بڑے فضل و کرم کا مالک ہوں، ابن ابی خاتم میں ہے کہ آپ حضرت علی ؓ اور حضرت معاذ ؓ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیج رہے تھے جب یہ آیت اتری تو آپ نے انہیں فرمایا جاؤ خوشخبریاں سنانا نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا سختی نہ کرنا، دیکھو مجھ پر یہ آیت اتری ہے۔ طبرانی میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا مجھ پر یہ اترا ہے کہ اے نبی ہم نے تجھے تیری امت پر گواہ بنا کر جنت کی خوشخبری دینے والا بنا کر جہنم سے ڈرانے والا بنا کر اور اللہ کے حکم سے اس کی توحید کی شہادت کی طرف لوگوں کو بلانے والا بنا کر اور روشن چراغ قرآن کے ساتھ بنا کر بھیجا پس آپ اللہ کی وحدانیت پر کہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں گواہ ہیں۔ اور قیامت کے دن آپ لوگوں کے اعمال پر گواہ ہوں گے۔ جیسے ارشاد ہے (وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا 41ڲ) 4۔ النسآء :41) یعنی ہم تجھے ان پر گواہ بنا کر لائیں گے۔ اور آیت میں ہے کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور تم پر یہ رسول ﷺ گواہ ہیں۔ آپ مومنوں کو بہترین اجر کی بشارت سنانے والے اور کافروں کو بدترین عذاب کا ڈر سنانے والے ہیں۔ اور چونکہ اللہ کا حکم ہے اس کی بجا آوری کے ماتحت آپ مخلوق کو خالق کی عبادت کی طرف بلانے والے ہیں۔ آپ کی سچائی اس طرح ظاہر ہے جیسے سورج کی روشنی۔ ہاں کوئی ضدی اڑ جائے تو اور بات ہے، اے نبی ! کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو نہ ان کی طرف کان لگاؤ اور ان سے درگذر کرو۔ یہ جو ایذائیں پہنچاتے ہیں انہیں خیال میں بھی نہ لاؤ اور اللہ پر پورا بھروسہ کرو وہ کافی ہے۔
تورات میں نبی اکرم ﷺ کی صفات۔ عطابن یسار فرماتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے کہا کہ حضور ﷺ کی صفتیں تورات میں کیا ہیں ؟ فرمایا جو صفتیں آپ کی قرآن میں ہیں انہی میں بعض اوصاف آپ کے تورات میں بھی ہیں۔ تورات میں ہے اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور خوشی سنانے والا، ڈرانے والا امتیوں کو بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے تو بدگو اور فحش کلام نہیں ہے، نہ بازاروں میں شور مچانے والا۔ وہ برائی کے بدلے برائی نہیں کرتا بلکہ درگذر کرتا ہے۔ اور معاف فرماتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ قبض نہیں کرے گا۔ جب تک لوگوں کو ٹیڑھا کر دئیے ہوئے دین کو اس کی ذات سے بالکل سیدھا نہ کر دے اور وہ لا الہ الا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں۔ جس سے اندھی آنکھیں روشن ہوجائیں۔ اور بہرے کان سننے والے بن جائیں۔ اور پردوں والے دلوں کے زنگ چھوٹ جائیں (بخاری) ابن ابی حاتم میں ہے حضرت وہیب بن منبہ فرماتے ہیں بنی اسرائیل کے ایک نبی حضرت شعیا ؑ پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ اپنی قوم بنی اسرائیل میں کھڑے ہوجاؤ، میں تمہاری زبان سے اپنی باتیں کہلواؤں گا۔ میں امیوں میں سے ایک نبی امی کو بھیجنے والا ہوں جو نہ بدخلق ہے نہ بد گو۔ نہ بازاروں میں شوروغل کرنے والا۔ اس قدر سکون و امن کا حامل ہے کہ اگر چراغ کے پاس سے بھی گذر جائے تو وہ نہ بجھے اور اگر بانسوں پر بھی چلے تو پیر کی چاپ نہ معلوم ہو۔ میں اسے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجوں گا۔ جو حق گو ہوگا اور میں اس کی وجہ سے اندھی آنکھوں کو کھول دوں گا اور بہرے کانوں کو سننے والا کروں گا اور زنگ آلود دلوں کو صاف کر دوں گا۔ ہر بھلائی کی طرف اس کی ضمیر ہوگی۔ حکمت اس کی گویائی ہوگی۔ صدق و وفا اس کی عادت ہوگی۔ عفو درگذر اس کا خلق ہوگا۔ حق اس کی شریعت ہوگی۔ عدل اس کی سیرت ہوگی۔ ہدایت اس کی امام ہوگی اسلام اس کا دین ہوگا۔ احمد اس کا نام ہوگا۔ گمراہوں کو میں اس کی وجہ سے ہدایت دوں گا۔ جاہلوں کو اس کی بدولت علماء بنادوں گا۔ تنزل والوں کو ترقی پر پہنچا دوں گا۔ ان جانوں کو مشہور و معروف کر دوں گا۔ مختلف اور متضاد دلوں کو متفق اور متحد کر دوں گا۔ جداگانہ خواہشوں کو یکسو کر دوں گا۔ دنیا کو اس کی وجہ سے ہلاکت سے بچا لوں گا۔ تمام امتوں سے اس کی امت کو اعلیٰ اور افضل بنادوں گا۔ وہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے دنیا میں پیدا کئے جائیں گے۔ ہر ایک کو نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ وہ موحد ہوں گے، مومن ہوں گے، اخلاص والے ہوں گے، رسولوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے سب کو سچ ماننے والے ہوں گے۔ وہ اپنی مسجدوں مجلسوں اور بستروں پر چلتے پھرتے بیٹھے اٹھتے میری تسبیح حمد و ثنا بزرگی اور بڑائی بیان کرتے رہیں گے۔ کھڑے اور بیٹھے نمازیں ادا کرتے رہیں گے۔ دشمنان اللہ سے صفیں باندھ کر حملہ کر کے جہاد کریں گے۔ ان میں سے ہزارہا لوگ میری رضامندی کی جستجو میں اپنا گھر بار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوں گے۔ منہ ہاتھ وضو میں دھویا کریں گے۔ تہمد آدھی پنڈلی تک باندھیں گے۔ میری راہ میں قربانیاں دیں گے۔ میری کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ راتوں کو عابد اور دنوں کو مجاہد ہوں گے۔ میں اس نبی کی اہل بیت اور اولاد میں سبقت کرنے والے صدیق شہید اور صالح لوگ پیدا کردوں گا۔ اس کی امت اس کے بعد دنیا کو حق کی ہدایت کرے گی، اور حق کے ساتھ عدل و انصاف کرے گی۔ ان کی امداد کرنے والوں کو میں عزت والا کروں گا۔ اور ان کو بلانے والوں کی مدد کروں گا۔ ان کے مخالفین اور ان کے باغی اور ان کے بدخواہوں پر میں برے دن لاؤں گا۔ میں انہیں ان کے نبی کے وارث کردوں گا۔ جو اپنے زب کی طرف لوگوں کو دعوت دیں گے۔ نیکیوں کی باتیں بتائیں گے، برائیوں سے روکیں گے، نماز ادا کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، وعدے پورے کریں گے، اس خیر کو میں ان کے ہاتھوں پوری کروں گا جو ان سے شروع ہوئی تھی۔ یہ ہے میرا فضل جسے چاہوں دوں۔ اور میں بہت بڑے فضل و کرم کا مالک ہوں، ابن ابی خاتم میں ہے کہ آپ حضرت علی ؓ اور حضرت معاذ ؓ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیج رہے تھے جب یہ آیت اتری تو آپ نے انہیں فرمایا جاؤ خوشخبریاں سنانا نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا سختی نہ کرنا، دیکھو مجھ پر یہ آیت اتری ہے۔ طبرانی میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا مجھ پر یہ اترا ہے کہ اے نبی ہم نے تجھے تیری امت پر گواہ بنا کر جنت کی خوشخبری دینے والا بنا کر جہنم سے ڈرانے والا بنا کر اور اللہ کے حکم سے اس کی توحید کی شہادت کی طرف لوگوں کو بلانے والا بنا کر اور روشن چراغ قرآن کے ساتھ بنا کر بھیجا پس آپ اللہ کی وحدانیت پر کہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں گواہ ہیں۔ اور قیامت کے دن آپ لوگوں کے اعمال پر گواہ ہوں گے۔ جیسے ارشاد ہے (وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا 41ڲ) 4۔ النسآء :41) یعنی ہم تجھے ان پر گواہ بنا کر لائیں گے۔ اور آیت میں ہے کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور تم پر یہ رسول ﷺ گواہ ہیں۔ آپ مومنوں کو بہترین اجر کی بشارت سنانے والے اور کافروں کو بدترین عذاب کا ڈر سنانے والے ہیں۔ اور چونکہ اللہ کا حکم ہے اس کی بجا آوری کے ماتحت آپ مخلوق کو خالق کی عبادت کی طرف بلانے والے ہیں۔ آپ کی سچائی اس طرح ظاہر ہے جیسے سورج کی روشنی۔ ہاں کوئی ضدی اڑ جائے تو اور بات ہے، اے نبی ! کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو نہ ان کی طرف کان لگاؤ اور ان سے درگذر کرو۔ یہ جو ایذائیں پہنچاتے ہیں انہیں خیال میں بھی نہ لاؤ اور اللہ پر پورا بھروسہ کرو وہ کافی ہے۔
تورات میں نبی اکرم ﷺ کی صفات۔ عطابن یسار فرماتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے کہا کہ حضور ﷺ کی صفتیں تورات میں کیا ہیں ؟ فرمایا جو صفتیں آپ کی قرآن میں ہیں انہی میں بعض اوصاف آپ کے تورات میں بھی ہیں۔ تورات میں ہے اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور خوشی سنانے والا، ڈرانے والا امتیوں کو بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے تو بدگو اور فحش کلام نہیں ہے، نہ بازاروں میں شور مچانے والا۔ وہ برائی کے بدلے برائی نہیں کرتا بلکہ درگذر کرتا ہے۔ اور معاف فرماتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ قبض نہیں کرے گا۔ جب تک لوگوں کو ٹیڑھا کر دئیے ہوئے دین کو اس کی ذات سے بالکل سیدھا نہ کر دے اور وہ لا الہ الا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں۔ جس سے اندھی آنکھیں روشن ہوجائیں۔ اور بہرے کان سننے والے بن جائیں۔ اور پردوں والے دلوں کے زنگ چھوٹ جائیں (بخاری) ابن ابی حاتم میں ہے حضرت وہیب بن منبہ فرماتے ہیں بنی اسرائیل کے ایک نبی حضرت شعیا ؑ پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ اپنی قوم بنی اسرائیل میں کھڑے ہوجاؤ، میں تمہاری زبان سے اپنی باتیں کہلواؤں گا۔ میں امیوں میں سے ایک نبی امی کو بھیجنے والا ہوں جو نہ بدخلق ہے نہ بد گو۔ نہ بازاروں میں شوروغل کرنے والا۔ اس قدر سکون و امن کا حامل ہے کہ اگر چراغ کے پاس سے بھی گذر جائے تو وہ نہ بجھے اور اگر بانسوں پر بھی چلے تو پیر کی چاپ نہ معلوم ہو۔ میں اسے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجوں گا۔ جو حق گو ہوگا اور میں اس کی وجہ سے اندھی آنکھوں کو کھول دوں گا اور بہرے کانوں کو سننے والا کروں گا اور زنگ آلود دلوں کو صاف کر دوں گا۔ ہر بھلائی کی طرف اس کی ضمیر ہوگی۔ حکمت اس کی گویائی ہوگی۔ صدق و وفا اس کی عادت ہوگی۔ عفو درگذر اس کا خلق ہوگا۔ حق اس کی شریعت ہوگی۔ عدل اس کی سیرت ہوگی۔ ہدایت اس کی امام ہوگی اسلام اس کا دین ہوگا۔ احمد اس کا نام ہوگا۔ گمراہوں کو میں اس کی وجہ سے ہدایت دوں گا۔ جاہلوں کو اس کی بدولت علماء بنادوں گا۔ تنزل والوں کو ترقی پر پہنچا دوں گا۔ ان جانوں کو مشہور و معروف کر دوں گا۔ مختلف اور متضاد دلوں کو متفق اور متحد کر دوں گا۔ جداگانہ خواہشوں کو یکسو کر دوں گا۔ دنیا کو اس کی وجہ سے ہلاکت سے بچا لوں گا۔ تمام امتوں سے اس کی امت کو اعلیٰ اور افضل بنادوں گا۔ وہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے دنیا میں پیدا کئے جائیں گے۔ ہر ایک کو نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ وہ موحد ہوں گے، مومن ہوں گے، اخلاص والے ہوں گے، رسولوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے سب کو سچ ماننے والے ہوں گے۔ وہ اپنی مسجدوں مجلسوں اور بستروں پر چلتے پھرتے بیٹھے اٹھتے میری تسبیح حمد و ثنا بزرگی اور بڑائی بیان کرتے رہیں گے۔ کھڑے اور بیٹھے نمازیں ادا کرتے رہیں گے۔ دشمنان اللہ سے صفیں باندھ کر حملہ کر کے جہاد کریں گے۔ ان میں سے ہزارہا لوگ میری رضامندی کی جستجو میں اپنا گھر بار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوں گے۔ منہ ہاتھ وضو میں دھویا کریں گے۔ تہمد آدھی پنڈلی تک باندھیں گے۔ میری راہ میں قربانیاں دیں گے۔ میری کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ راتوں کو عابد اور دنوں کو مجاہد ہوں گے۔ میں اس نبی کی اہل بیت اور اولاد میں سبقت کرنے والے صدیق شہید اور صالح لوگ پیدا کردوں گا۔ اس کی امت اس کے بعد دنیا کو حق کی ہدایت کرے گی، اور حق کے ساتھ عدل و انصاف کرے گی۔ ان کی امداد کرنے والوں کو میں عزت والا کروں گا۔ اور ان کو بلانے والوں کی مدد کروں گا۔ ان کے مخالفین اور ان کے باغی اور ان کے بدخواہوں پر میں برے دن لاؤں گا۔ میں انہیں ان کے نبی کے وارث کردوں گا۔ جو اپنے زب کی طرف لوگوں کو دعوت دیں گے۔ نیکیوں کی باتیں بتائیں گے، برائیوں سے روکیں گے، نماز ادا کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، وعدے پورے کریں گے، اس خیر کو میں ان کے ہاتھوں پوری کروں گا جو ان سے شروع ہوئی تھی۔ یہ ہے میرا فضل جسے چاہوں دوں۔ اور میں بہت بڑے فضل و کرم کا مالک ہوں، ابن ابی خاتم میں ہے کہ آپ حضرت علی ؓ اور حضرت معاذ ؓ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیج رہے تھے جب یہ آیت اتری تو آپ نے انہیں فرمایا جاؤ خوشخبریاں سنانا نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا سختی نہ کرنا، دیکھو مجھ پر یہ آیت اتری ہے۔ طبرانی میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا مجھ پر یہ اترا ہے کہ اے نبی ہم نے تجھے تیری امت پر گواہ بنا کر جنت کی خوشخبری دینے والا بنا کر جہنم سے ڈرانے والا بنا کر اور اللہ کے حکم سے اس کی توحید کی شہادت کی طرف لوگوں کو بلانے والا بنا کر اور روشن چراغ قرآن کے ساتھ بنا کر بھیجا پس آپ اللہ کی وحدانیت پر کہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں گواہ ہیں۔ اور قیامت کے دن آپ لوگوں کے اعمال پر گواہ ہوں گے۔ جیسے ارشاد ہے (وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا 41ڲ) 4۔ النسآء :41) یعنی ہم تجھے ان پر گواہ بنا کر لائیں گے۔ اور آیت میں ہے کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور تم پر یہ رسول ﷺ گواہ ہیں۔ آپ مومنوں کو بہترین اجر کی بشارت سنانے والے اور کافروں کو بدترین عذاب کا ڈر سنانے والے ہیں۔ اور چونکہ اللہ کا حکم ہے اس کی بجا آوری کے ماتحت آپ مخلوق کو خالق کی عبادت کی طرف بلانے والے ہیں۔ آپ کی سچائی اس طرح ظاہر ہے جیسے سورج کی روشنی۔ ہاں کوئی ضدی اڑ جائے تو اور بات ہے، اے نبی ! کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو نہ ان کی طرف کان لگاؤ اور ان سے درگذر کرو۔ یہ جو ایذائیں پہنچاتے ہیں انہیں خیال میں بھی نہ لاؤ اور اللہ پر پورا بھروسہ کرو وہ کافی ہے۔
نکاح کی حقیقت۔ اس آیت میں بہت سے احکام ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف عقد پر بھی نکاح کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس کے ثبوت میں اس سے زیادہ صراحت والی آیت اور نہیں۔ اس میں اختلاف ہے کہ لفظ نکاح حقیقت میں صرف ایجاب و قبول کے لئے ہے ؟ یا صرف جماع کے لئے ہے ؟ یا ان دونوں کے مجموعے کے لئے ؟ قرآن کریم میں اس کا اطلاق عقد و وطی دونوں پر ہی ہوا ہے۔ لیکن اس آیت میں صرف عقد پر ہی اطلاق ہے۔ اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دخول سے پہلے بھی خاوند اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ مومنات کا ذکر یہاں پر بوجہ غلبہ کے ہے ورنہ حکم کتابیہ عورت کا بھی یہی ہے۔ سلف کی ایک بڑی جماعت نے اس آیت سے استدلال کر کے کہا ہے کہ طلاق اسی وقت واقع ہوتی ہے جب اس سے پہلے نکاح ہوگیا ہو اس آیت میں نکاح کے بعد طلاق کو فرمایا ہے پس معلوم ہوا ہے کہ نکاح سے پہلے نہ طلاق صحیح ہے نہ وہ واقع ہوتی ہے۔ امام شافعی اور امام احمد اور بہت بڑی جماعت سلف و خلف کا یہی مذہب ہے۔ مالک اور ابو حنفیہ کا خیال ہے کہ نکاح سے پہلے بھی طلاق درست ہوجاتی ہے۔ مثلاً کسی نے کہا کہ اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے۔ تو اب جب بھی اس سے نکاح کرے گا طلاق پڑجائے گی۔ پھر مالک اور ابوحنیفہ میں اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو کہے کہ جس عورت سے میں نکاح کروں اس پر طلاق ہے تو امام ابوحنیفہ کہتے ہیں پس وہ جس سے نکاح کرے گا اس پر طلاق پڑجائے گی اور امام مالک کا قول ہے کہ نہیں پڑے گی کیونکہ ابن عباس سے پوچھا گیا کہ اگر کسی شخص نے نکاح سے پہلے یہ کہا ہو کہ میں جس عورت سے نکاح کروں اس پر طلاق ہے تو کیا حکم ہے ؟ آپ نے یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا اس عورت کو طلاق نہیں ہوگی۔ کیونکہ اللہ عزوجل نے طلاق کو نکاح کے بعد فرمایا ہے۔ پس نکاح سے پہلے کی طلاق کوئی چیز نہیں۔ مسند احمد ابو داؤد ترمذی ابن ماجہ میں ہے رسول ﷺ فرماتے ہیں۔ ابن آدم جس کا مالک نہ ہو اس میں طلاق نہیں۔ اور حدیث میں ہے جو طلاق نکاح سے پہلے کی ہو وہ کسی شمار میں نہیں۔ (ابن ماجہ) پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم عورتوں کو نکاح کے بعد ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر کوئی عدت نہیں بلکہ وہ جس سے چاہیں اسی وقت نکاح کرسکتی ہیں۔ ہاں اگر ایسی حالت میں ان کا خاوند فوت ہوگیا ہو تو یہ حکم نہیں اسے چار ماہ دس دن کی عدت گذارنی پڑے گی۔ علماء کا اس پر اتفاق ہے۔ پس نکاح کے بعد ہی میاں نے بیوی کو اس سے پہلے ہی اگر طلاق دے دی ہے تو اگر مہر مقرر ہوچکا ہے تو اس کا آدھا دینا پڑے گا۔ ورنہ تھوڑا بہت دے دینا کافی ہے۔ اور آیت میں ہے (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَسَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا 49) 33۔ الأحزاب :49) یعنی اگر مہر مقرر ہوچکا ہے اور ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دی تو آدھے مہر کی وہ مستحق ہے۔ اور آیت میں ارشاد ہے (لَاجُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ مَالَمْ تَمَسُّوْھُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَھُنَّ فَرِيْضَةً ښ وَّمَتِّعُوْھُنَّ ۚ عَلَي الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَعَلَي الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ ۚ مَتَاعًۢا بالْمَعْرُوْفِ ۚ حَقًّا عَلَي الْمُحْسِـنِيْنَ02306) 2۔ البقرة :236) یعنی اگر تم اپنی بیویوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو یہ کچھ گناہ کی بات نہیں۔ اگر ان کا مہر مقرر نہ ہوا ہو تو تم انہیں کچھ نہ کچھ دے دو۔ اپنی اپنی طاقت کے مطابق، امیر و غریب دستور کے مطابق ان سے سلوک کریں اور بھلے لوگوں پر یہ ضروری ہے۔ چناچہ ایسا ایک واقعہ خود حضور ﷺ کے ساتھ بھی گذرا۔ کہ آپ نے امیمہ بنت شرجیل سے نکاح کیا یہ رخصت ہو کر آگئیں آپ گئے ہاتھ بڑھایا تو گویا اس نے اسے پسند نہ کیا آپ نے حضرت ابو اسید کو حکم دیا کہ ان کا سامان تیار کردیں اور دو کپڑے ارزقیہ کے انہیں دے دیں۔ پس سراح جمیل یعنی اچھائی سے رخصت کردینا یہی ہے کہ اس صورت میں اگر مہر مقرر ہے تو آدھا دے دے۔ اور اگر مقرر نہیں تو اپنی طاقت کے مطابق اس کے ساتھ کچھ سلوک کر دے۔
حق مہر اور بصورت علیحدگی کے احکامات۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی جن بیویوں کو مہر ادا کیا ہے وہ سب آپ پر حلال ہیں۔ آپ کی تمام ازواج مطہرات کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ تھا جس کے پانچ سو درہم ہوتے ہیں۔ ہاں ام المومنین حضرت حبیبہ بنت ابی سفیان عنہا کا مہر حضرت نجاشی ؒ نے اپنے پاس سے چار سو دینار دیا تھا۔ اور اسی طرح ام المومنین حضرت صفیہ بنت حیی ؓ کا مہر صرف ان کی آزادی تھی۔ خیبر کے قیدیوں میں آپ بھی تھیں پھر آپ نے انہیں آزاد کردیا اور اور اسی آزادی کو مہر قرار دیا اور نکاح کرلیا۔ اور حضرت جویریہ بنت حارث مصطلقیہ نے جتنی رقم پر مکاتبہ کیا تھا وہ پوری رقم آپ نے حضرت ثابت بن قیس بن شماس کو ادا کر کے ان سے عقد باندھا تھا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی تمام ازواج مطہرات پر اپنی رضامندی نازل فرمائے۔ اسی طرح جو لونڈیاں غنیمت میں آپ کے قبضے میں آئیں وہ بھی آپ پر حلال ہیں۔ صفیہ اور جویریہ کے مالک آپ ہوگئے تھے پھر آپ نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا۔ ریحانہ بنت شمعون نصریہ اور ماریہ قبطیہ ؓ بھی آپ کی ملکیت میں آئی تھیں۔ حضرت ماریہ ؓ سے آپ کو فرزند بھی ہوا۔ جن کا نام حضرت ابراہیم تھا۔ چونکہ نکاح کے بارے میں نصرانیوں نے افراط اور یہودیوں نے تفریط سے کام لیا تھا اس لئے اس عدل و انصاف والی سہل اور صاف شریعت نے درمیانہ راہ حق کو ظاہر کردیا۔ نصرانی تو سات پشتوں تک جس عورت مرد کا نسب نہ ملتا ہو۔ ان کا نکاح جائز جانتے تھے اور یہودی بہن اور بھائی کی لڑکی سے بھی نکاح کرلیتے تھے۔ پس اسلام نے بھانجی بھتیجی سے نکاح کرنے کو روکا۔ اور چچا کی لڑکی پھوپھی کی لڑکی ماموں کی لڑکی اور خالہ کی لڑکی سے نکاح کو مباح قرار دیا۔ اس آیت کے الفاظ کی خوبی پر نظر ڈالئے کہ عم اور خال چچا اور ماموں کے لفظ کو تو واحد لائے اور عمات اور خلات یعنی پھوپھی اور خالہ کے لفظ کو جمع لائے۔ جس میں مردوں کی ایک قسم کی فضیلت عورتوں پر ثابت ہو رہی ہے۔ جیسے (يُخْرِجُوْنَـھُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ02507ۧ) 2۔ البقرة :257) اور جیسے (وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ) 6۔ الانعام :1) یہاں بھی چونکہ ظلمات اور نور یعنی اندھیرے اور اجالے کا ذکر تھا اور اجالے کو اندھیرے پر فضیلت ہے اس لئے وہ لفظ ظلمات جمع لائے۔ اور لفظ نور مفرد لائے۔ اس کی اور بھی بہت سی نظیریں دی جاسکتی ہیں، پھر فرمایا جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے۔ حضرت ام ہانی ؓ فرماتی ہیں میرے پاس حضور ﷺ کا مانگا آیا تو میں نے اپنی معذوری ظاہر کی جسے آپ نے تسلیم کرلیا۔ اور یہ آیت اتری میں ہجرت کرنے والیوں میں نہ تھی بلکہ فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والیوں میں تھی۔ مفسرین نے بھی یہی کہا ہے کہ مراد ہے کہ جنہوں نے مدینے کی طرف آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو۔ قتادہ سے ایک روایت میں اس سے مراد اسلام لانا بھی مروی ہے۔ ابن مسعود کی قرائت میں (وَامْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا للنَّبِيِّ اِنْ اَرَاد النَّبِيُّ اَنْ يَّسْتَنْكِحَهَا ۤ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِيْٓ اَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُوْنَ عَلَيْكَ حَرَجٌ ۭ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 50) 33۔ الأحزاب :50) پھر فرمایا اور وہ مومنہ عورت جو اپنا نفس اپنے نبی کے لئے ہبہ کردیے۔ اور نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہیں۔ تو بغیر مہر دیے اسے نکاح میں لاسکتے ہیں۔ پس یہ حکم دو شرطوں کے ساتھ ہے جیسے آیت (وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِيْٓ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَان اللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يُّغْوِيَكُمْ ۭ هُوَ رَبُّكُمْ ۣ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 34ۭ) 11۔ ھود :34) میں۔ یعنی حضرت نوح ؑ اپنی قوم سے فرماتے ہیں اگر میں تمہیں نصیحت کرنا چاہوں اور اگر اللہ تمہیں اس نصیحت سے مفید کرنا نہ چاہے تو میری نصیحت تمہیں کوئی نفع نہیں دے سکتی۔ اور جیسے حضرت موسیٰ ؑ کے اس فرمان میں (يٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ باللّٰهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِيْنَ 84) 10۔ یونس :84) یعنی اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو۔ اور اگر تم مسلمان ہوگئے ہو تو تمہیں اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ پس جیسے ان آیتوں میں دو دو شرائط ہیں اسی طرح اس آیت میں بھی دو شرائط ہیں۔ ایک تو اس کا اپنا نفس ہبہ کرنا دوسرے آپ کا بھی اسے اپنے نکاح میں لانے کا ارادہ کرنا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ کے پاس ایک عورت آئی اور کہا کہ میں اپنا نفس آپ کے لئے ہبہ کرتی ہوں۔ پھر وہ دیر تک کھڑی رہیں۔ تو ایک صحابی نے کھڑے ہو کر کہا رسول اللہ ﷺ اگر آپ ان سے نکاح کا ارادہ نہ رکھتے ہوں تو میرے نکاح میں دے دیجئے۔ آپ نے فرمایا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ جو انہیں مہر میں دیں ؟ جواب دیا کہ اس تہمد کی سوا اور کچھ نہیں۔ آپ نے فرمایا یہ اگر تم انہیں دے دو گے تو خود بغیر تہمد کے رہ جاؤ گے کچھ اور تلاش کرو۔ اس نے کہا میں اور کچھ نہیں پاتا۔ آپ نے فرمایا تلاش تو کرو گو لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے۔ انہوں نے ہرچند دیکھ بھال کی لیکن کچھ نہ پایا۔ آپ نے فرمایا قرآن کی کچھ سورتیں بھی تمہیں یاد ہیں ؟ اس نے کہا فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ آپ نے فرمایا بس انہی سورتوں پر میں نے انہیں تمہارے نکاح میں دیا۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی۔ حضرت انس جب یہ واقعہ بیان کرنے لگے تو ان کی صاحبزادی بھی سن رہی تھیں۔ کہنے لگیں اس عورت میں بہت ہی کم حیا تھی۔ تو آپ نے فرمایا تم سے وہ بہتر تھیں کہ حضور ﷺ کی خدمت کی رغبت کر رہی تھیں اور آپ پر اپنا نفس پیش کر رہی تھیں (بخاری) مسند احمد میں ہے کہ ایک عورت حضور ﷺ کے پاس آئیں اور اپنی بیٹی کی بہت سی تعریفیں کر کے کہنے لگیں کے حضور میری مراد یہ ہے کہ آپ اس سے نکاح کرلیں۔ آپ نے قبول فرما لیا اور وہ پھر بھی تعریف کرتی رہیں۔ یہاں تک کہ کہا حضور نہ وہ کبھی وہ بیمار پڑیں نہ سر میں درد ہوا یہ سن کر آپ نے فرمایا پھر مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں۔ حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ اپنے نفس کو ہبہ کرنے والی بیوی صاحبہ حضرت خولہ بنت حکیم ؓ تھیں۔ اور روایت میں ہے یہ قبلہ بنو سلیم میں سے تھیں۔ اور روایت میں ہے یہ بڑی نیک بخت عورت تھیں۔ ممکن ہے ام سلیم ہی حضرت خولہ ہوں ؓ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دوسری کوئی عورت ہوں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ نے تیرہ عورتوں سے نکاح کیا جن میں سے چھ تو قریشی تھیں۔ خدیجہ، عائشہ، حفصہ، ام حبیبہ، سودہ و ام سلمہ ؓ اجمعین اور تین بنو عامر بن صعصعہ کے قبیلے میں سے تھیں اور دو عورتیں قبیلہ بنوہلال بن عامر میں سے تھیں اور حضرت میمونہ بنت حارث ؓ۔ یہی وہ ہیں جنہوں نے اپنا نفس رسول اللہ کو ہبہ کیا تھا اور حضرت زینب ؓ جن کی کنیت ام المساکین تھی۔ اور ایک عورت بنو ابی بکرین کلاب سے۔ یہ وہی ہے جس نے دنیا کو اختیار کیا تھا اور بنو جون میں سے ایک عورت جس نے پناہ طلب کی تھی، اور ایک عورت اسدیہ جن کا نام زینب بنت جحش ہے ؓ۔ دو کنزیں تھیں۔ صفیہ بنت حی بن اخطب اور جویریہ بنت حارث بن عمرو بن مصطلق خزاعیہ۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ اپنے نفس کو ہبہ کرنے والی عورت حضرت میمونہ بنت حارث تھیں لیکن اس میں انقطاع ہے۔ اور یہ روایت مرسل ہے۔ یہ مشہور بات ہے کہ حضرت زینب جن کی کنیت ام المساکین تھی، یہ زینب بنت خزیمہ تھیں، فبیلہ انصار میں سے تھیں اور حضور ﷺ کی حیات میں ہی انتقال کر گئیں۔ ؓ۔ واللہ اعلم، مقصد یہ ہے کہ وہ عورتیں جنہوں نے اپنے نفس کا اختیار آپ کو دیا تھا چناچہ صحیح بخاری شریف میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں ان عورتوں پر غیرت کیا کرتی تھی جو اپنا نفس حضور ﷺ کو ہبہ کردیتی تھیں اور مجھے بڑا تعجب معلوم ہوتا تھا کہ عورتیں اپنا نفس ہبہ کرتی ہیں۔ جب یہ آیت اتری کہ (تُرْجِيْ مَنْ تَشَاۗءُ مِنْهُنَّ وَ تُـــــْٔوِيْٓ اِلَيْكَ مَنْ تَشَاۗءُ ۭ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ اٰتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ وَكَان اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَلِــيْمًا 51) 33۔ الأحزاب :51) الخ، تو ان میں سے جسے چاہے اس سے نہ کر اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے اور جن سے تو نے یکسوئی کرلی ہے انہیں بھی اگر تم لے آؤ تو تم پر کوئی حرج نہیں۔ تو میں نے کہا بس اب تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر خوب وسعت و کشادگی کردی۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ کوئی عورت حضور ﷺ کے پاس نہ تھی جس نے اپنا نفس آپ کو ہبہ کیا ہو۔ حضرت یونس بن بکیر فرماتے ہیں گو آپ کے لئے یہ مباح تھا کہ جو عورت اپنے تئیں آپ کو سونپ دے آپ اسے اپنے گھر میں رکھ لیں لیکن آپ نے ایسا کیا نہیں۔ کیونکہ یہ امر آپ کی مرضی پر رکھا گیا تھا۔ یہ بات کسی اور کے لئے جائز نہیں ہاں مہر ادا کر دے تو بیشک جائز ہے۔ چناچہ حضرت بروع بنت واشق کے بارے میں جنہوں نے اپنا نفس سونپ دیا تھا جب ان کے شوہر انتقال کر گئے تو رسول ﷺ نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ ان کے خاندان کی اور عورتوں کے مثل انہیں مہر دیا جائے۔ جس طرح موت مہر کو مقرر کردیتی ہے اسی طرح صرف دخول سے بھی مہر و اجب ہوجاتا ہے۔ ہاں حضور ﷺ اس حکم سے مستثنیٰ تھے۔ ایسی عورتوں کو کچھ دینا آپ پر واجب نہ تھا گو اسے شرف بھی حاصل ہوچکا ہو۔ اس لئے کہ آپ کو بغیر مہر کے اور بغیر ولی کے اور بغیر گواہوں کے نکاح کرلینے کا اختیار تھا جیسا کہ حضرت زینب بنت جحش ؓ کے قصے میں ہے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کسی عورت کو یہ جائز نہیں کہ اپنے آپ کو بغیر ولی اور بغیر مہر کے کسی کے نکاح میں دے دے۔ ہاں صرف رسول اللہ ﷺ کے لئے یہ تھا۔ اور مومنوں پر جو ہم نے مقرر کردیا ہے اسے ہم خوب جانتے ہیں یعنی وہ چار سے زیادہ بیویاں ایک ساتھ رکھ نہیں سکتے۔ ہاں ان کے علاوہ لونڈیاں رکھ سکتے ہیں۔ اور ان کی کوئی تعداد مقرر نہیں۔ اسی طرح ولی کی مہر کی گواہوں کی بھی شرط ہے۔ پس امت کا تو یہ حکم ہے اور آپ پر اس کی پابندیاں نہیں۔ تاکہ آپ کو کوئی حرج نہ ہو۔ اللہ بڑا غفور ورحیم ہے۔
روایات و احکامات بخاری شریف میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ میں ان عورتوں پر عار رکھا کرتی تھی جو اپنا نفس حضور ﷺ کو ہبہ کریں اور کہتی تھیں کہ عورتیں بغیر مہر کے اپنے آپ کو حضور ﷺ کے حوالے کرنے میں شرماتی ہیں ؟ یہاں تک کہ یہ آیت اتری تو میں نے کہا کہ آپ کا رب آپ کے لئے کشادگی کرتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ آیت سے مراد یہی عورتیں ہیں۔ ان کے بارے میں اللہ کے نبی کو اختیار ہے کہ جسے چاہیں قبول کریں اور جسے چاہیں قبول نہ فرمائیں۔ پھر اس کے بعد یہ بھی آپ کے اختیار میں ہے کہ جنہیں قبول نہ فرمایا ہو انہیں جب چاہیں نواز دیں عامر شعبی سے مروی ہے کہ جنہیں موخر کر رکھا تھا ان میں حضرت ام شریک تھی۔ ایک مطلب اس جملے کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ کی بیویوں کے بارے میں آپ کو اختیار تھا کہ اگر چاہیں تقسیم کریں چاہیں نہ کریں جسے چاہیں مقدم کریں جسے چاہیں موخر کریں۔ اسی طرح خاص بات چیت میں بھی۔ لیکن یہ یاد رہے کہ حضور ﷺ اپنی پوری عمر برابر اپنی ازواج مطہرات میں عدل کے ساتھ برابری کی تقسیم کرتے رہے۔ بعض فقہاء شافعیہ کا قول ہے کہ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ اس آیت کے نازل ہو چکنے کے بعد بھی اللہ کے نبی ﷺ ہم سے اجازت لیا کرتے تھے۔ مجھ سے تو جب دریافت فرماتے میں کہتی اگر میرے بس میں ہو تو میں کسی اور کے پاس آپ کو ہرگز نہ جانے دوں۔ پس صحیح بات جو بہت اچھی ہے اور جس سے ان اقوال میں مطابقت بھی ہوجاتی ہے وہ یہ ہے کہ آیت عام ہے۔ اپنے نفس سونپنے والیوں اور آپ کی بیویوں سب کو شامل ہے۔ ہبہ کرنے والیوں کے بارے میں نکاح کرنے نہ کرنے اور نکاح والیوں میں تقسیم کرنے نہ کرنے کا آپ کو اختیار تھا۔ پھر فرماتا ہے کہ یہی حکم بالکل مناسب ہے اور ازواج رسول ﷺ کے لئے سہولت والا ہے۔ جب وہ جان لیں گی کہ آپ باریوں کے مکلف نہیں ہیں۔ پھر بھی مساوات قائم رکھتے ہیں تو انہیں بہت خوشی ہوگی۔ اور ممنون و مشکور ہوں گی اور آپ کے انصاف و عدل کی داددیں گی۔ اللہ دلوں کی حالتوں سے واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کسے کس کی طرف زیادہ رغبت ہے۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ اپنے طور پر صحیح تقسیم اور پورے عدل کے بعد اللہ سے عرض کیا کرتے تھے کہ الہ العالمین جہاں تک میرے بس میں تھا میں نے انصاف کردیا۔ اب جو میرے بس میں نہیں اس پر تو مجھے ملامت نہ کرنا یعنی دل کے رجوع کرنے کا اختیار مجھے نہیں۔ اللہ سینوں کی باتوں کا عالم ہے۔ لیکن حلم و کرم والا ہے۔ چشم پوشی کرتا ہے معاف فرماتا ہے۔
ازواج مطہرات کا عہد و فا۔ پہلی آیتوں میں گذر چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ازواج مطہرات کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو حضور ﷺ کی زوجیت میں رہیں اور اگر چاہیں تو آپ سے علیحدہ ہوجائیں۔ لیکن امہات المومنین نے دامن رسول کو چھوڑنا پسند نہ فرمایا۔ اس پر انہیں اللہ کی طرف سے ایک دنیاوی بدلہ یہ بھی ملا کہ حضور ﷺ کو اس آیت میں حکم ہوا کہ اب اس کے سوا کسی اور عورت سے نکاح نہیں کرسکتے نہ آپ ان میں سے کسی کو چھوڑ کر اس کے بدلے دوسری لاسکتے ہیں گو وہ کتنی ہی خوش شکل کیوں نہ ہو ؟ ہاں لونڈیوں اور کنیزوں کی اور بات ہے اس کے بعد پھر رب العالمین نے یہ تنگی آپ پر سے اٹھالی اور نکاح کی اجازت دے دی لیکن خود حضور ﷺ نے پھر سے کوئی اور نکاح کیا ہی نہیں۔ اس حرج کے اٹھانے میں اور پھر عمل کے نہ ہونے میں بہت بڑی مصلحت یہ تھی کہ حضور ﷺ کا یہ احسان اپنی بیویوں پر رہے۔ چناچہ حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ آپ کے انتقال سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے اور عورتیں بھی حلال کردی تھیں (ترمذی نسائی وغیرہ) حضرت ام سلمہ سے بھی مروی ہے۔ حلال کرنے والی آیت (تُرْجِيْ مَنْ تَشَاۗءُ مِنْهُنَّ وَ تُـــــْٔوِيْٓ اِلَيْكَ مَنْ تَشَاۗءُ ۭ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ اٰتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ وَكَان اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَلِــيْمًا 51) 33۔ الأحزاب :51) ، ہے جو اس آیت سے پہلے گذر چکی ہے بیان میں وہ پہلے ہے اور اترنے میں وہ پیچھے ہے۔ سورة بقرہ میں بھی اس طرح عدت وفات کی پچھلی آیت منسوخ ہے اور پہلی آیت اس کی ناسخ ہے۔ واللہ اعلم۔ اس آیت کے ایک اور معنی بھی بہت سے حضرات سے مروی ہیں۔ وہ کہتے ہیں مطلب اس سے یہ ہے کہ جن عورتوں کا ذکر اس سے پہلے ہے ان کے سوا اور حلال نہیں جن میں یہ صفتیں ہوں وہ ان کے علاوہ بھی حلال ہیں۔ چناچہ حضرت ابی بن کعب سے سوال ہوا کہ کیا حضور ﷺ کی جو بیویاں تھیں اگر وہ آپ کی موجودگی میں انتقال کرجائیں تو آپ اور عورتوں سے نکاح نہیں کرسکتے تھے ؟ آپ نے فرمایا یہ کیوں ؟ تو سائل نے لایحل والی آیت پڑھی۔ یہ سن کر حضرت ابی نے فرمایا اس آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ عورتوں کی جو قسمیں اس سے پہلے بیان ہوئی ہیں یعنی نکاحتا بیویاں، لونڈیاں، چچا کی، پھوپیوں کی، مامو اور خالاؤں کی بیٹیاں ہبہ کرنے والی عورتیں۔ ان کے سوا جو اور قسم کی ہوں جن میں یہ اوصاف نہ ہوں وہ آپ پر حلال نہیں ہیں۔ (ابن جریر) ابن عباس سے مروی ہے کہ سوائے ان مہاجرات مومنات کے اور عورتوں سے نکاح کرنے کی آپ کو ممانعت کردی گئی۔ غیر مسلم عورتوں سے نکاح حرام کردیا گیا قرآن میں ہے (وَمَنْ يَّكْفُرْ بالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ ۡ وَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ۧ) 5۔ المآئدہ :5) یعنی ایمان کے بعد کفر کرنے والے کے اعمال غارت ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِيْٓ اٰتَيْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ مِمَّآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلَيْكَ وَبَنٰتِ عَمِّكَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَبَنٰتِ خَالِكَ وَبَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِيْ هَاجَرْنَ مَعَكَ ۡ وَامْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا للنَّبِيِّ اِنْ اَرَاد النَّبِيُّ اَنْ يَّسْتَنْكِحَهَا ۤ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِيْٓ اَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُوْنَ عَلَيْكَ حَرَجٌ ۭ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 50) 33۔ الأحزاب :50) ، میں عورتوں کی جن قسموں کا ذکر کیا وہ تو حلال ہیں ان کے ماسوا اور حرام ہیں۔ مجاہد فرماتے ہیں ان کے سوا ہر قسم کی عورتیں خواہ وہ مسلمان ہوں خواہ یہودیہ ہوں خواہ نصرانیہ سب حرام ہیں۔ ابو صالح فرماتے ہیں ان کے سوا ہر قسم کی عورتیں خواہ وہ مسلمان ہوں خواہ یہودیہ ہوں خواہ نصرانیہ سب حرام ہیں۔ ابو صالح فرماتے ہیں کہ اعرابیہ اور انجان عورتوں سے نکاح سے روک دیئے گئے۔ لیکن جو عورتیں حلال تھیں ان میں سے اگر چاہیں سینکڑوں کرلیں حلال ہیں۔ الغرض آیت عام ہے ان عورتوں کو جو آپ کے گھر میں تھیں اور ان عورتوں کو جن کی اقسام بیان ہوئیں سب کو شامل ہے اور جن لوگوں سے اس کے خلاف مروی ہے ان سے اس کے مطابق بھی مروی ہے۔ لہذا کوئی منفی نہیں۔ ہاں اس پر ایک بات باقی رہ جاتی ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت حفصہ کو طلاق دے دی تھی پھر ان سے رجوع کرلیا تھا اور حضرت سودہ کے فراق کا بھی ارادہ کیا تھا جس پر انہوں نے اپنی باری کا دن حضرت عائشہ کو دے دیا تھا۔ اس کا جواب امام ابن جریر نے یہ دیا ہے کہ یہ واقعہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ بات یہی ہے لیکن ہم کہتے ہیں اس جواب کی بھی ضرورت نہیں۔ اس لئے کہ آیت میں ان کے سوا دوسریوں سے نکاح کرنے اور انہیں نکال کر اوروں کو لانے کی ممانعت ہے نہ کہ طلاق دینے کی، واللہ اعلم۔ سودہ والے واقعہ میں آیت (وَاِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۭ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ۭوَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ۭوَاِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا01208) 4۔ النسآء :128) اتری ہے اور حضرت حفصہ ؓ والا واقعہ ابو داؤد وغیرہ میں مروی ہے۔ ابو یعلی میں ہے کہ حضرت عمر ؓ اپنی صاحبزادی حضرت حفصہ کے پاس ایک دن آئے دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں پوچھا کہ شاید تمہیں حضور ﷺ نے طلاق دے دی۔ سنو اگر رجوع ہوگیا اور پھر یہی موقعہ پیش آیا تو قسم اللہ کی میں مرتے دم تک تم سے کلام نہ کروں گا۔ آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو زیادہ کرنے سے اور کسی کو نکال کر اس کے بدلے دوسری کو لانے سے منع کیا ہے۔ مگر لونڈیاں حلال رکھی گئیں۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت میں ایک خبیث رواج یہ بھی تھا کہ لوگ آپس میں بیویوں کا تبادلہ کرلیا کرتے تھے یہ اپنی اسے دے دیتا تھا اور وہ اپنی اسے دے دیتا تھا۔ اسلام نے اس گندے طریقے سے مسلمانوں کو روک دیا۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ عینیہ بن حصن فزاری حضور ﷺ کے پاس آئے۔ اور اپنی جاہلیت کی عادت کے مطابق بغیر اجازت لئے چلے آئے۔ اس وقت آپ کے پاس حضرت عائشہ ؓ بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ نے فرمایا تم بغیر اجازت کیوں چلے آئے ؟ اس نے کہا واہ ! میں نے تو آج تک قبیلہ مفر کے خاندان کے کسی شخص سے اجازت مانگی ہی نہیں۔ پھر کہنے لگا یہاں آپ کے پاس کون سی عورت بیٹھی ہوئی تھیں ؟ آپ نے فرمایا یہ ام المومنین حضرت عائشہ تھیں۔ تو کہنے لگا حضور ﷺ انہیں چھوڑ دیں میں ان کے بدلے اپنی بیوی آپ کو دیتا ہوں جو خوبصورتی میں بےمثل ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنا حرام کردیا ہے۔ جب وہ چلے گئے تو مائی صاحبہ نے دریافت فرمایا کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ کون تھا ؟ آپ نے فرمایا ایک احمق سردار تھا۔ تم نے ان کی باتیں سنیں ؟ اس پر بھی یہ اپنی قوم کا سردار ہے۔ اس روایت کا ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بالکل گرے ہوئے درجے کا ہے۔
احکامات پردہ۔ اس آیت میں پردے کا حکم ہے اور شرعی آداب و احکام کا بیان ہے۔ حضرت عمر ؓ کے قول کے مطابق جو آیتیں اتری ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے۔ بخاری مسلم میں آپ سے مروی ہے کہ تین باتیں میں نے کہیں جن کے مطابق ہی رب العالمین کے احکام نازل ہوئے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! اگر آپ مقام ابراہیم کو قبلہ بنائیں تو بہتر ہو۔ اللہ تعالیٰ کا بھی یہی حکم اترا کہ (وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى01205) 2۔ البقرة :125) میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھے تو یہ اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ گھر میں ہر کوئی یعنی چھوٹا بڑا آجائے آپ اپنی بیویوں کو پردے کا حکم دیں تو اچھا ہو پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے پردے کا حکم نازل ہوا۔ جب حضور ﷺ کی ازواج مطہرات غیرت کی وجہ سے کچھ کہنے سننے لگیں تو میں نے کہا کسی غرور میں نہ رہنا اگر حضور ﷺ تمہیں چھوڑ دیں تو اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ کو دلوائے گا چناچہ یہی آیت قرآن میں نازل ہوئی۔ صحیح مسلم میں ایک چوتھی موافقت بھی مذکور ہے وہ بدر کے قیدیوں کا فیصلہ ہے اور روایت میں ہے سنہ 5 ھ ماہ ذی قعدہ میں جبکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب بنت جحش ؓ سے نکاح کیا ہے۔ جو نکاح خود اللہ تعالیٰ نے کرایا تھا اسی صبح کو پردے کی آیت نازل ہوئی ہے۔ بعض حضرات کہتے ہیں یہ واقعہ سن تین ہجری کا ہے۔ واللہ اعلم۔ صحیح بخاری شریف میں حضور ﷺ نے جب حضرت زینب بنت جحش ؓ سے نکاح کیا تو لوگوں کی دعوت کی وہ کھا پی کر باتوں میں بیٹھے رہے آپ نے اٹھنے کی تیاری بھی کی۔ پھر بھی وہ نہ اٹھے یہ دیکھ کر آپ کھڑے ہوگئے آپ کے ساتھ ہی کچھ لوگ تو اٹھ کر چل دیئے لیکن پھر بھی تین شخص وہیں بیٹھے رہ گئے اور باتیں کرتے رہے۔ حضور ﷺ پلٹ کر آئے تو دیکھا کہ وہ ابھی تک باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ پھر لوٹ گئے۔ جب یہ لوگ چلے گئے تو حضرت انس نے حضور ﷺ کو خبر دی۔ اب آپ آئے گھر میں تشریف لے گئے حضرت انس فرماتے ہیں میں نے بھی جانا چاہا تو آپ نے اپنے اور میرے درمیان پردہ کرلیا اور یہ آیت اتری اور روایت میں ہے کہ حضور نے اس موقعہ پر گوشت روٹی کھلائی تھی اور حضرت انس کو بھیجا تھا کہ لوگوں کو بلا لائیں لوگ آتے تھے کھاتے تھے اور واپس جاتے تھے۔ جب ایک بھی ایسا نہ بچا کہ جیسے حضرت انس بلاتے تو آپ کو خبر دی آپ نے فرمایا اب دستر خوان بڑھا دو لوگ سب چلے گئے مگر تین شخص باتوں میں لگے رہے۔ حضور ﷺ یہاں سے نکل کر حضرت عائشہ کے پاس گئے اور فرمایا اسلام علیکم اہل البیست و رحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ انہوں نے جواب دیا وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ فرمایئے حضور ﷺ بیوی صاحبہ سے خوش تو ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ تمہیں برکت دے۔ اسی طرح آپ اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے اور سب جگہ یہی باتیں ہوئیں۔ اب لوٹ کر جو آئے تو دیکھا کہ وہ تینوں صاحب اب تک گئے نہیں۔ چونکہ آپ میں شرم و حیا لحاظ و مروت بیحد تھا اس لئے آپ کچھ فرما نہ سکے اور پھر سے حضرت عائشہ کے حجرے کی طرف چلے اب نہ جانے میں نے خبر دی یا آپ کو خود خبردار کردیا گیا کہ وہ تینوں بھی چلے گئے ہیں تو آپ پھر آئے اور چوکھٹ میں ایک قدم رکھتے ہی آپ نے پردہ ڈال دیا اور پردے کی آیت نازل ہوئی۔ ایک روایت میں بجائے تین شخصوں کے دو کا ذکر ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ آپ کے کسی نئے نکاح پر حضرت ام سلیم نے مالیدہ بنا کر ایک برتن میں رکھ کر حضرت انس سے کہا اسے اللہ کے رسول ﷺ کو پہنچاؤ اور کہہ دینا کہ یہ تھوڑا سا تحفہ ہماری طرف سے قبول فرمایئے اور میرا سلام بھی کہہ دینا۔ اس وقت لوگ تھے بھی تنگی میں۔ میں نے جا کر حضور ﷺ کو سلام کیا ام المومنین کا سلام پہنچایا اور پیغام بھی۔ آپ نے اسے دیکھا اور فرمایا اچھا اسے رکھ دو۔ میں نے گھر کے ایک کونے میں رکھ دیا پھر فرمایا جاؤ فلاں اور فلاں کو بلا لاؤ بہت سے لوگوں کے نام لئے اور پھر فرمایا ان کے علاوہ جو مسلمان مل جائے میں نے یہی کیا۔ جو ملا اسے حضور ﷺ کے ہاں کھانے کے لئے بھیجتا رہا واپس لوٹا تو دیکھا کہ گھر اور انگنائی اور بیٹھک سب لوگوں سے بھرے ہوئے ہے تقریباً تین سو آدمی جمع ہوگئے تھے اب مجھ سے آپ نے فرمایا آؤ وہ پیالہ اٹھا لاؤ میں لایا تو آپ نے اپنا ہاتھ اس پر رکھ کر دعا کی اور جو اللہ نے چاہا۔ آپ نے زبان سے کہا پھر فرمایا چلو دس دس آدمی حلقہ کر کے بیٹھ جاؤ اور ہر ایک بسم اللہ کہہ کر اپنے اپنے آگے سے کھانا شروع کرو۔ اسی طرح کھانا شروع ہوا اور سب کے سب کھاچکے تو آپ نے فرمایا پیالہ اٹھالو حضرت انس فرماتے ہیں میں نے پیالہ اٹھا کر دیکھا تو میں نہیں کہہ سکتا کہ جس وقت رکھا اس وقت اس میں زیادہ کھانا تھا یا اب ؟ چند لوگ آپ کے گھر میں ٹھہر گئے ان میں باتیں ہو رہی تھیں اور ام المومنین دیوار کی طرف منہ پھیرے بیٹھی ہوئی تھیں ان کا اتنی دیر تک نہ ہٹنا حضور ﷺ پر شاق گذر رہا تھا لیکن شرم ولحاظ کی وجہ سے کچھ فرماتے نہ تھے اگر انہیں اس بات کا علم ہوجاتا تو وہ نکل جاتے لیکن وہ بےفکری سے بیٹھتے ہی رہے۔ آپ گھر سے نکل کر اور ازواج مطہرات کے حجروں کے پاس چلے گئے پھر واپس آئے تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو یہ بھی سمجھ گئے بڑے نادم ہوئے اور جلدی سے نکل لئے آپ اندر بڑھے اور پردہ لٹکا دیا۔ میں بھی حجرے میں ہی تھا جب یہ آیت اتری اور آپ اس کی تلاوت کرتے ہوئے باہر آئے سب سے پہلے اس آیت کو عورتوں نے سنا اور میں تو سب سے اول ان کا سننے والا ہوں۔ پہلے حضرت زینب کے پاس آپ کا مانگا لے جانے کی روایت آیت (فلما قضی زید) الخ، کی تفسیر میں گذر چکی ہے اس کے آخر میں بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ پھر لوگوں کو نصیحت کی گئی اور ہاشم کی اس حدیث میں اس آیت کا بیان بھی ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ رات کے وقت ازواج مطہرات قضائے حاجت کے لئے جنگل کو جایا کرتی تھیں۔ حضرت عمر ؓ کو یہ پسند نہ تھا آپ فرمایا کرتے تھے کہ انہیں اس طرح نہ جانے دیجئے۔ حضور ﷺ اس پر توجہ نہیں فرماتے تھے ایک مرتبہ حضرت سودہ بنت زمعہ ؓ نکلیں تو چونکہ فاروق اعظم کی منشا یہ تھی کہ کسی طرح ازواج مطہرات کا یہ نکلنا بند ہو اس لئے انہیں ان کے قدو قامت کی وجہ سے پہچان کر با آواز بلند کہا کہ ہم نے تمہیں اے سودہ پہچان لیا۔ اس کے بعد پردے کی آیتیں اتریں۔ اس روایت میں یونہی ہے لیکن مشہور یہ ہے کہ یہ واقعہ نزول حجاب کے بعد کا ہے۔ چناچہ مسند احمد میں حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ حجاب کے حکم کے بعد حضرت سودہ نکلیں اس میں یہ بھی ہے کہ یہ اسی وقت واپس آگئیں آنحضرت ﷺ شام کا کھانا تناول فرما رہے تھے۔ ایک ہڈی ہاتھ میں تھی آ کر واقعہ بیان کیا اسی وقت وحی نازل ہوئی جب ختم ہوئی اس وقت بھی ہڈی ہاتھ میں ہی تھی اسے چھوڑی ہی نہ تھی۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری ضرورتوں کی بناء پر باہر نکلنے کی اجازت دیتا ہے۔ آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس عادت سے روکتا ہے جو جاہلیت میں اور ابتداء اسلام میں ان میں تھی کہ بغیر اجازت دوسرے کے گھر میں چلے جانا۔ پس اللہ تعالیٰ اس امت کا اکرام کرتے ہوئے اسے یہ ادب سکھاتا ہے۔ چناچہ ایک حدیث میں بھی یہ مضمون ہے کہ خبردار عورتوں کے پاس نہ جاؤ۔ پھر اللہ نے انہیں مستثنیٰ کرلیا جنہیں اجازت دے دی جائے۔ تو فرمایا مگر یہ کہ تمہیں اجازت دیجائے۔ کھانے کے لئے ایسے وقت پر نہ جاؤ کہ تم اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو۔ مجاہد اور قتادہ فرماتے ہیں کہ کھانے کے پکنے اور اس کے تیار ہونے کے وقت ہی نہ پہنچو۔ جب سمجھا کہ کھانا تیار ہوگا۔ جا گھسے یہ خصلت اللہ کو پسند نہیں۔ یہ دلیل ہے طفیلی بننے کی حرمت پر۔ امام خطیب بغدادی نے اس کی مذمت میں پوری ایک کتاب لکھی ہے۔ پھر فرمایا جب بلائے جاؤ تم پھر جاؤ اور جب کھا چکو تو نکل جاؤ۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ تم میں سے کسی کو جب اس کا بھائی بلائے تو اسے دعوت قبول کرنی چاہئے خواہ نکاح کی ہو یا کوئی اور اور حدیث میں ہے اگر مجھے فقط ایک کھر کی دعوت دی جائے تو بھی میں اسے قبول کروں گا۔ دستور دعوت بھی بیان فرمایا کہ جب کھا چکو تو اب میزبان کے ہاں چوکڑی مار کر نہ بیٹھ جاؤ۔ بلکہ وہاں سے چلے جاؤ۔ باتوں میں مشغول نہ ہوجایا کرو۔ جیسے ان تین شخصوں نے کیا تھا۔ جس سے حضور ﷺ کو تکلیف ہوئی لیکن شرمندگی اور لحاظ سے آپ کچھ نہ بولے، اسی طرح مطلب یہ بھی ہے کہ تمہارا بےاجازت آنحضرت ﷺ کے گھروں میں چلے جانا آپ پر شاق گذرتا ہے لیکن آپ بوجہ شرم و حیا کے تم سے کہہ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ تم سے صاف صاف فرما رہا ہے کہ اب سے ایسا نہ کرنا۔ وہ حق حکم سے حیا نہیں کرتا۔ تمہیں جس طرح بےاجازت آپ کی بیویوں کے پاس جانا منع ہے اسی طرح ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی حرام ہے۔ اگر تمہیں ان سے کوئی ضروری چیز لینی دینی بھی ہو تو پس پردہ لین دین ہو۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ ایک مرتبہ مالیدہ کھا رہے تھے حضرت عمر کو بھی بلا لیا آپ بھی کھانے بیٹھ گئے۔ حضرت صدیقہ پہلے ہی سے کھانے میں شریک تھیں حضرت عمر ازواج مطہرات کے پردے کی تمنا میں تھے کھاتے ہوئے انگلیوں سے انگلیاں لگ گئیں تو بےساختہ فرمانے لگے کاش کہ میری مان لی جاتی اور پردہ کرایا جاتا تو کسی کی نگاہ بھی نہ پڑتی اس وقت پردے کا حکم اترا۔ پھر پردے کی تعریف فرما رہا ہے کہ مردوں عورتوں کے دلوں کی پاکیزگی کا یہ ذریعہ ہے۔ کسی شخص نے آپ کی کسی بیوی سے آپ کے بعد نکاح کرنے کا ارادہ کیا ہوگا اس آیت میں یہ حرام قرار دیا گیا۔ چونکہ حضور ﷺ کی بیویاں زندگی میں اور جنت میں بھی آپ کی بیویاں ہیں اور جملہ مسلمانوں کی وہ مائیں ہیں اس لئے مسلمانوں پر ان سے نکاح کرنا محض حرام ہے۔ یہ حکم ان بیویوں کے لئے جو آپ کے گھر میں آپ کے انتقال کے وقت تھیں سب کے نزدیک اجماعاً ہے لیکن جس بیوی کو آپ نے اپنی زندگی میں طلاق دے دی اور اس سے میل ہوچکا ہو تو اس سے کوئی اور نکاح کرسکتا ہے یا نہیں ؟ اس میں دو مذہب میں اور جس سے دخول نہ کیا اور طلاق دے دی ہو اس سے دوسرے لوگ نکاح کرسکتے ہیں۔ قیلہ بنت اشعث بن قیس حضور ﷺ کی ملکیت میں آگئی تھی آپ کے انتقال کے بعد اس نے عکرمہ بن ابو جہل سے نکاح کرلیا۔ حضرت ابوبکر پر یہ گراں گذرا لیکن حضرت عمر نے سمجھایا کہ اے خلیفہ رسول یہ حضور ﷺ کی بیوی نہ تھی نہ اسے حضور ﷺ نے اختیار دیا نہ اسے پردہ کا حکم دیا اور اس کی قوم کے ارتداد کے ساتھ ہیں اس کے ارتداد کی وجہ سے اللہ نے اسے حضور ﷺ سے بری کردیا یہ سن کر حضرت صدیق کا اطمینان ہوگیا۔ پس ان دونوں باتوں کی برائی بیان فرماتا ہے کہ رسول ﷺ کو ایذاء دینا ان کی بیویوں سے ان کے بعد نکاح کرلینا یہ دونوں گناہ اللہ کے نزدیک بہت بڑے ہیں، تمہاری پوشیدگیاں اور علانیہ باتیں سب اللہ پر ظاہر ہیں، اس پر کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔ آنکھوں کی خیانت کو، سینے میں چھپی ہوئی باتوں اور دل کے ارادوں کو وہ جانتا ہے۔
احکامات پردہ۔ اس آیت میں پردے کا حکم ہے اور شرعی آداب و احکام کا بیان ہے۔ حضرت عمر ؓ کے قول کے مطابق جو آیتیں اتری ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے۔ بخاری مسلم میں آپ سے مروی ہے کہ تین باتیں میں نے کہیں جن کے مطابق ہی رب العالمین کے احکام نازل ہوئے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! اگر آپ مقام ابراہیم کو قبلہ بنائیں تو بہتر ہو۔ اللہ تعالیٰ کا بھی یہی حکم اترا کہ (وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى01205) 2۔ البقرة :125) میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھے تو یہ اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ گھر میں ہر کوئی یعنی چھوٹا بڑا آجائے آپ اپنی بیویوں کو پردے کا حکم دیں تو اچھا ہو پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے پردے کا حکم نازل ہوا۔ جب حضور ﷺ کی ازواج مطہرات غیرت کی وجہ سے کچھ کہنے سننے لگیں تو میں نے کہا کسی غرور میں نہ رہنا اگر حضور ﷺ تمہیں چھوڑ دیں تو اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ کو دلوائے گا چناچہ یہی آیت قرآن میں نازل ہوئی۔ صحیح مسلم میں ایک چوتھی موافقت بھی مذکور ہے وہ بدر کے قیدیوں کا فیصلہ ہے اور روایت میں ہے سنہ 5 ھ ماہ ذی قعدہ میں جبکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب بنت جحش ؓ سے نکاح کیا ہے۔ جو نکاح خود اللہ تعالیٰ نے کرایا تھا اسی صبح کو پردے کی آیت نازل ہوئی ہے۔ بعض حضرات کہتے ہیں یہ واقعہ سن تین ہجری کا ہے۔ واللہ اعلم۔ صحیح بخاری شریف میں حضور ﷺ نے جب حضرت زینب بنت جحش ؓ سے نکاح کیا تو لوگوں کی دعوت کی وہ کھا پی کر باتوں میں بیٹھے رہے آپ نے اٹھنے کی تیاری بھی کی۔ پھر بھی وہ نہ اٹھے یہ دیکھ کر آپ کھڑے ہوگئے آپ کے ساتھ ہی کچھ لوگ تو اٹھ کر چل دیئے لیکن پھر بھی تین شخص وہیں بیٹھے رہ گئے اور باتیں کرتے رہے۔ حضور ﷺ پلٹ کر آئے تو دیکھا کہ وہ ابھی تک باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ پھر لوٹ گئے۔ جب یہ لوگ چلے گئے تو حضرت انس نے حضور ﷺ کو خبر دی۔ اب آپ آئے گھر میں تشریف لے گئے حضرت انس فرماتے ہیں میں نے بھی جانا چاہا تو آپ نے اپنے اور میرے درمیان پردہ کرلیا اور یہ آیت اتری اور روایت میں ہے کہ حضور نے اس موقعہ پر گوشت روٹی کھلائی تھی اور حضرت انس کو بھیجا تھا کہ لوگوں کو بلا لائیں لوگ آتے تھے کھاتے تھے اور واپس جاتے تھے۔ جب ایک بھی ایسا نہ بچا کہ جیسے حضرت انس بلاتے تو آپ کو خبر دی آپ نے فرمایا اب دستر خوان بڑھا دو لوگ سب چلے گئے مگر تین شخص باتوں میں لگے رہے۔ حضور ﷺ یہاں سے نکل کر حضرت عائشہ کے پاس گئے اور فرمایا اسلام علیکم اہل البیست و رحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ انہوں نے جواب دیا وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ فرمایئے حضور ﷺ بیوی صاحبہ سے خوش تو ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ تمہیں برکت دے۔ اسی طرح آپ اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے اور سب جگہ یہی باتیں ہوئیں۔ اب لوٹ کر جو آئے تو دیکھا کہ وہ تینوں صاحب اب تک گئے نہیں۔ چونکہ آپ میں شرم و حیا لحاظ و مروت بیحد تھا اس لئے آپ کچھ فرما نہ سکے اور پھر سے حضرت عائشہ کے حجرے کی طرف چلے اب نہ جانے میں نے خبر دی یا آپ کو خود خبردار کردیا گیا کہ وہ تینوں بھی چلے گئے ہیں تو آپ پھر آئے اور چوکھٹ میں ایک قدم رکھتے ہی آپ نے پردہ ڈال دیا اور پردے کی آیت نازل ہوئی۔ ایک روایت میں بجائے تین شخصوں کے دو کا ذکر ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ آپ کے کسی نئے نکاح پر حضرت ام سلیم نے مالیدہ بنا کر ایک برتن میں رکھ کر حضرت انس سے کہا اسے اللہ کے رسول ﷺ کو پہنچاؤ اور کہہ دینا کہ یہ تھوڑا سا تحفہ ہماری طرف سے قبول فرمایئے اور میرا سلام بھی کہہ دینا۔ اس وقت لوگ تھے بھی تنگی میں۔ میں نے جا کر حضور ﷺ کو سلام کیا ام المومنین کا سلام پہنچایا اور پیغام بھی۔ آپ نے اسے دیکھا اور فرمایا اچھا اسے رکھ دو۔ میں نے گھر کے ایک کونے میں رکھ دیا پھر فرمایا جاؤ فلاں اور فلاں کو بلا لاؤ بہت سے لوگوں کے نام لئے اور پھر فرمایا ان کے علاوہ جو مسلمان مل جائے میں نے یہی کیا۔ جو ملا اسے حضور ﷺ کے ہاں کھانے کے لئے بھیجتا رہا واپس لوٹا تو دیکھا کہ گھر اور انگنائی اور بیٹھک سب لوگوں سے بھرے ہوئے ہے تقریباً تین سو آدمی جمع ہوگئے تھے اب مجھ سے آپ نے فرمایا آؤ وہ پیالہ اٹھا لاؤ میں لایا تو آپ نے اپنا ہاتھ اس پر رکھ کر دعا کی اور جو اللہ نے چاہا۔ آپ نے زبان سے کہا پھر فرمایا چلو دس دس آدمی حلقہ کر کے بیٹھ جاؤ اور ہر ایک بسم اللہ کہہ کر اپنے اپنے آگے سے کھانا شروع کرو۔ اسی طرح کھانا شروع ہوا اور سب کے سب کھاچکے تو آپ نے فرمایا پیالہ اٹھالو حضرت انس فرماتے ہیں میں نے پیالہ اٹھا کر دیکھا تو میں نہیں کہہ سکتا کہ جس وقت رکھا اس وقت اس میں زیادہ کھانا تھا یا اب ؟ چند لوگ آپ کے گھر میں ٹھہر گئے ان میں باتیں ہو رہی تھیں اور ام المومنین دیوار کی طرف منہ پھیرے بیٹھی ہوئی تھیں ان کا اتنی دیر تک نہ ہٹنا حضور ﷺ پر شاق گذر رہا تھا لیکن شرم ولحاظ کی وجہ سے کچھ فرماتے نہ تھے اگر انہیں اس بات کا علم ہوجاتا تو وہ نکل جاتے لیکن وہ بےفکری سے بیٹھتے ہی رہے۔ آپ گھر سے نکل کر اور ازواج مطہرات کے حجروں کے پاس چلے گئے پھر واپس آئے تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو یہ بھی سمجھ گئے بڑے نادم ہوئے اور جلدی سے نکل لئے آپ اندر بڑھے اور پردہ لٹکا دیا۔ میں بھی حجرے میں ہی تھا جب یہ آیت اتری اور آپ اس کی تلاوت کرتے ہوئے باہر آئے سب سے پہلے اس آیت کو عورتوں نے سنا اور میں تو سب سے اول ان کا سننے والا ہوں۔ پہلے حضرت زینب کے پاس آپ کا مانگا لے جانے کی روایت آیت (فلما قضی زید) الخ، کی تفسیر میں گذر چکی ہے اس کے آخر میں بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ پھر لوگوں کو نصیحت کی گئی اور ہاشم کی اس حدیث میں اس آیت کا بیان بھی ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ رات کے وقت ازواج مطہرات قضائے حاجت کے لئے جنگل کو جایا کرتی تھیں۔ حضرت عمر ؓ کو یہ پسند نہ تھا آپ فرمایا کرتے تھے کہ انہیں اس طرح نہ جانے دیجئے۔ حضور ﷺ اس پر توجہ نہیں فرماتے تھے ایک مرتبہ حضرت سودہ بنت زمعہ ؓ نکلیں تو چونکہ فاروق اعظم کی منشا یہ تھی کہ کسی طرح ازواج مطہرات کا یہ نکلنا بند ہو اس لئے انہیں ان کے قدو قامت کی وجہ سے پہچان کر با آواز بلند کہا کہ ہم نے تمہیں اے سودہ پہچان لیا۔ اس کے بعد پردے کی آیتیں اتریں۔ اس روایت میں یونہی ہے لیکن مشہور یہ ہے کہ یہ واقعہ نزول حجاب کے بعد کا ہے۔ چناچہ مسند احمد میں حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ حجاب کے حکم کے بعد حضرت سودہ نکلیں اس میں یہ بھی ہے کہ یہ اسی وقت واپس آگئیں آنحضرت ﷺ شام کا کھانا تناول فرما رہے تھے۔ ایک ہڈی ہاتھ میں تھی آ کر واقعہ بیان کیا اسی وقت وحی نازل ہوئی جب ختم ہوئی اس وقت بھی ہڈی ہاتھ میں ہی تھی اسے چھوڑی ہی نہ تھی۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری ضرورتوں کی بناء پر باہر نکلنے کی اجازت دیتا ہے۔ آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس عادت سے روکتا ہے جو جاہلیت میں اور ابتداء اسلام میں ان میں تھی کہ بغیر اجازت دوسرے کے گھر میں چلے جانا۔ پس اللہ تعالیٰ اس امت کا اکرام کرتے ہوئے اسے یہ ادب سکھاتا ہے۔ چناچہ ایک حدیث میں بھی یہ مضمون ہے کہ خبردار عورتوں کے پاس نہ جاؤ۔ پھر اللہ نے انہیں مستثنیٰ کرلیا جنہیں اجازت دے دی جائے۔ تو فرمایا مگر یہ کہ تمہیں اجازت دیجائے۔ کھانے کے لئے ایسے وقت پر نہ جاؤ کہ تم اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو۔ مجاہد اور قتادہ فرماتے ہیں کہ کھانے کے پکنے اور اس کے تیار ہونے کے وقت ہی نہ پہنچو۔ جب سمجھا کہ کھانا تیار ہوگا۔ جا گھسے یہ خصلت اللہ کو پسند نہیں۔ یہ دلیل ہے طفیلی بننے کی حرمت پر۔ امام خطیب بغدادی نے اس کی مذمت میں پوری ایک کتاب لکھی ہے۔ پھر فرمایا جب بلائے جاؤ تم پھر جاؤ اور جب کھا چکو تو نکل جاؤ۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ تم میں سے کسی کو جب اس کا بھائی بلائے تو اسے دعوت قبول کرنی چاہئے خواہ نکاح کی ہو یا کوئی اور اور حدیث میں ہے اگر مجھے فقط ایک کھر کی دعوت دی جائے تو بھی میں اسے قبول کروں گا۔ دستور دعوت بھی بیان فرمایا کہ جب کھا چکو تو اب میزبان کے ہاں چوکڑی مار کر نہ بیٹھ جاؤ۔ بلکہ وہاں سے چلے جاؤ۔ باتوں میں مشغول نہ ہوجایا کرو۔ جیسے ان تین شخصوں نے کیا تھا۔ جس سے حضور ﷺ کو تکلیف ہوئی لیکن شرمندگی اور لحاظ سے آپ کچھ نہ بولے، اسی طرح مطلب یہ بھی ہے کہ تمہارا بےاجازت آنحضرت ﷺ کے گھروں میں چلے جانا آپ پر شاق گذرتا ہے لیکن آپ بوجہ شرم و حیا کے تم سے کہہ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ تم سے صاف صاف فرما رہا ہے کہ اب سے ایسا نہ کرنا۔ وہ حق حکم سے حیا نہیں کرتا۔ تمہیں جس طرح بےاجازت آپ کی بیویوں کے پاس جانا منع ہے اسی طرح ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی حرام ہے۔ اگر تمہیں ان سے کوئی ضروری چیز لینی دینی بھی ہو تو پس پردہ لین دین ہو۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ ایک مرتبہ مالیدہ کھا رہے تھے حضرت عمر کو بھی بلا لیا آپ بھی کھانے بیٹھ گئے۔ حضرت صدیقہ پہلے ہی سے کھانے میں شریک تھیں حضرت عمر ازواج مطہرات کے پردے کی تمنا میں تھے کھاتے ہوئے انگلیوں سے انگلیاں لگ گئیں تو بےساختہ فرمانے لگے کاش کہ میری مان لی جاتی اور پردہ کرایا جاتا تو کسی کی نگاہ بھی نہ پڑتی اس وقت پردے کا حکم اترا۔ پھر پردے کی تعریف فرما رہا ہے کہ مردوں عورتوں کے دلوں کی پاکیزگی کا یہ ذریعہ ہے۔ کسی شخص نے آپ کی کسی بیوی سے آپ کے بعد نکاح کرنے کا ارادہ کیا ہوگا اس آیت میں یہ حرام قرار دیا گیا۔ چونکہ حضور ﷺ کی بیویاں زندگی میں اور جنت میں بھی آپ کی بیویاں ہیں اور جملہ مسلمانوں کی وہ مائیں ہیں اس لئے مسلمانوں پر ان سے نکاح کرنا محض حرام ہے۔ یہ حکم ان بیویوں کے لئے جو آپ کے گھر میں آپ کے انتقال کے وقت تھیں سب کے نزدیک اجماعاً ہے لیکن جس بیوی کو آپ نے اپنی زندگی میں طلاق دے دی اور اس سے میل ہوچکا ہو تو اس سے کوئی اور نکاح کرسکتا ہے یا نہیں ؟ اس میں دو مذہب میں اور جس سے دخول نہ کیا اور طلاق دے دی ہو اس سے دوسرے لوگ نکاح کرسکتے ہیں۔ قیلہ بنت اشعث بن قیس حضور ﷺ کی ملکیت میں آگئی تھی آپ کے انتقال کے بعد اس نے عکرمہ بن ابو جہل سے نکاح کرلیا۔ حضرت ابوبکر پر یہ گراں گذرا لیکن حضرت عمر نے سمجھایا کہ اے خلیفہ رسول یہ حضور ﷺ کی بیوی نہ تھی نہ اسے حضور ﷺ نے اختیار دیا نہ اسے پردہ کا حکم دیا اور اس کی قوم کے ارتداد کے ساتھ ہیں اس کے ارتداد کی وجہ سے اللہ نے اسے حضور ﷺ سے بری کردیا یہ سن کر حضرت صدیق کا اطمینان ہوگیا۔ پس ان دونوں باتوں کی برائی بیان فرماتا ہے کہ رسول ﷺ کو ایذاء دینا ان کی بیویوں سے ان کے بعد نکاح کرلینا یہ دونوں گناہ اللہ کے نزدیک بہت بڑے ہیں، تمہاری پوشیدگیاں اور علانیہ باتیں سب اللہ پر ظاہر ہیں، اس پر کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔ آنکھوں کی خیانت کو، سینے میں چھپی ہوئی باتوں اور دل کے ارادوں کو وہ جانتا ہے۔
پردہ کی تفصیلات چونکہ اوپر کی آیتوں میں اجنبیوں سے پردے کا حکم ہوا تھا اس لئے جن قریبی رشتہ داروں سے پردہ نہ تھا ان کا بیان اس آیت میں کردیا۔ سورة نور میں بھی اسی طرح فرمایا کہ عورتیں اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں، باپوں، سسروں، لڑکوں، خاوند کے لڑکوں، بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں، عورتوں اور ملکیت جن کی ان کے ہاتھوں میں ہو۔ ان کے سامنے یا کام کاج کرنے والے غیر خواہشمند مردوں یا کمسن بچوں کے سامنے۔ اس کی پوری تفسیر اس آیت کے تحت میں گذر چکی ہے۔ چچا اور ماموں کا ذکر یہاں اس لئے نہیں کیا گیا کہ ممکن ہے وہ اپنے لڑکوں کے سامنے ان کے اوصاف بیان کریں۔ حضرت شعبی اور حضرت عکرمہ تو ان دونوں کے سامنے عورت کا دوپٹہ اتارنا مکروہ جانتے تھے۔ نسائھن سے مراد مومن عورتیں ہیں۔ ماتحت سے مراد لونڈی غلام ہیں۔ جیسے کہ پہلے ان کا بیان گذر چکا ہے اور حدیث بھی ہم وہیں وارد کرچکے ہیں۔ سعید بن مسیب فرماتے ہیں اس سے مراد صرف لونڈیاں ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہو۔ اللہ ہر چیز پر شاہد ہے۔ چھپا کھلا سب اسے معلوم ہے۔ اس موجود اور حاضر کا خوف رکھو اور اس کا لحاظ کرتی رہو۔
صلوۃ وسلام کی فضیلت۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت ابو العالیہ سے مروی ہے کہ اللہ کا اپنے نبی ﷺ پر درود بھیجنا اپنے فرشتوں کے سامنے آپ کی ثناء و صفت کا بیان کرنا ہے اور فرشتوں کا درود آپ کے لئے دعا کرنا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یعنی برکت کی دعا۔ اکثر اہل علم کا قول ہے کہ اللہ کا درود رحمت ہے فرشتوں کا درود استغفار ہے۔ عطا فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کی صلوۃ سبوح قدوس سبقت رحمتی غضبی ہے۔ مقصود اس آیت شریفہ سے یہ ہے کہ حضور ﷺ کی قدر و منزلت عزت و مرتبت لوگوں کی نگاہوں میں جچ جائے وہ جان لیں کہ خود اللہ تعالیٰ آپ کا ثناء خواں ہے اور اس کے فرشتے آپ پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ ملاء اعلیٰ کی یہ خبر دے کر اب زمین والوں کو حکم دیتا ہے کہ تم بھی آپ پر درود وسلام بھیجا کرو تاکہ عالم علوی اور عالم سفلی کے لوگوں کا اس پر اجتماع ہوجائے۔ حضرت موسیٰ ؑ سے بنی اسرائیل نے پوچھا تھا کہ کیا اللہ تم پر صلوۃ بھیجتا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ ان سے کہہ دو کہ ہاں اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں اور رسولوں پر رحمت بھیجتا رہتا ہے۔ اسی کی طرف اس آیت میں بھی اشارہ ہے دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ یہی رحمت اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر بھی نازل فرماتا ہے ارشاد ہے۔ (هُوَ الَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْكُمْ وَمَلٰۗىِٕكَتُهٗ لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ۭ وَكَان بالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا 43) 33۔ الأحزاب :43) ، یعنی اے ایمان والو تم اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرتے رہا کرو اور صبح شام اس کی تسبیح بیان کیا کرو وہ خود تم پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی اور کہا گیا حضور ﷺ سے ہم آپ پر سلام کہنا تو جانتے ہیں درود سکھا دیجئے تو آپ نے فرمایا یوں کہو (اللھم اجعل صلواتک ورحمتک وبرکاتک علی محمد وعلی ال محمد کما جعلتھا علی ابراہیم وال ابراہیم انک حمید مجید) اس کا ایک راوی ابو داؤد اعمیٰ جس کا نام نفیع بن حارث ہے وہ متروک ہے۔ حضرت علی سے لوگوں کو اس دعا کا سکھانا بھی مروی ہے۔ (اللھم داحی المدحوات وباری المسموکات وجبار القلوب علی فطر تھا شقی تھا وسعیدھا اجعل شرائف صلواتک ونواحی برکاتک و فضائل الائک علی محمد عبدک و رسولک الفاتح لما اغلق والخاتم لما سبق والمعلن الحق بالحق والدامغ لجیشات الاباطیل کما حمل فاضطلع بامرک بطاعتک مستوفزا فی مرضاتک غیر نکل فی قدم ولا وھن فی عزم واعیا لوحیک حافظا لعھدک ماضیا علی نفاذ أمرک حتی اور یٰ قبسا لقب اس الاء اللہ تصل باھلہ اسبابہ بہ ھدیت القلوب بعد خوضات الفتن والاثم وابھج موضحات الاعلام ونائرات الاحکام ومنیرات الاسلام فھو امینک المامون وخازن علمک المخزون وشھیدک یوم الدین وبعیثک نعمتہ و رسولک بالحق رحمتہ اللھم افسح لہ فی عدنک واجزہ مضاعفات الخیر من فضلک لہ مھنات غیر مکدرات من فوز ثوابک المعلول وجزیل عطائک المحلول اللھم أعل علی بناء الناس بناء ہ واکرم مثواہ لدیک ونزلہ واثمم لہ نورہ واجزہ من ابطغائک لہ مقبول الشھادۃ مرضی المقالتہ ذا منطق عدل وخطتہ فصل وحجتہ وبرھان عظیم) مگر اس کی سند ٹھیک نہیں اس کا راوی ابو الحجاج مزی سلامہ کندی نہ تو معروف ہے نہ اس کی علامات حضرت علی سے ثابت ہے۔ ابن ماجہ میں ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں جب تم حضور ﷺ پر درود بھیجو تو بہت اچھا درود پڑھا کرو۔ بہت ممکن ہے کہ تمہارا یہ درود حضور ﷺ پر پیش کیا جائے۔ لوگوں نے کہا پھر آپ ہی ہمیں کوئی ایسا درود سکھائیے آپ نے فرمایا بہتر ہے یہ پڑھو (اللھم اجعل صلوتک ورحمتک وبرکاتک علی سید المرسلین وامام المتقین وخاتم النبیین محمد عبدک و رسولک امام الخیر وقائد الخیر و رسول الرحمۃ اللھم ابعثہ مقاما محمودا یغبطہ بہ الاولون ولاخرون) اس کے بعد التحیات کے بعد کے دونوں درود ہیں۔ یہ روایت بھی موقف ہے۔ ابن جریر کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت یونس بن خباب نے اپنے فارس کے ایک خطبے میں اس آیت کی تلاوت کی۔ پھر لوگوں کے درود کے طریقے کے سوال کو بیان فرما کر حضور ﷺ کے جواب میں وارحم محمدا وال محمد کما رحمت ال ابراہیم کو بھی بیان فرمایا ہے۔ اس سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ آپ کے لئے رحم کی دعا بھی ہے۔ جمہور کا یہی مذہب ہے۔ اس کی مزید تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ ایک اعربی نے اپنی دعا میں کہا تھا اے اللہ مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم کر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کر تو آپ نے اسے فرمایا تو نے بہت ہی زیادہ کشادہ چیز تنگ کردی۔ قاضی عیاض نے جمہور مالکیہ سے اس کا عدم جواز نقل کیا ہے۔ ابو محمد بن ابو زید بھی اس کے جواز کی طرف گئے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جب تک کوئی شخص مجھ پر درد بھیجتا رہتا ہے تب تک فرشتے بھی اس کے لئے دعا رحم کرتے رہتے ہیں۔ اب تمہیں اختیار ہے کہ کمی کرو یا زیادتی کرو۔ (ابن ماجہ) فرماتے ہیں سب سے قریب روز قیامت مجھ سے وہ ہوگا جو سب سے زیادہ مجھ پر درود پڑھا کرتا تھا۔ (ترمذی) فرمان ہے مجھ پر جو ایک مرتبہ درود بھیجے اللہ تعالیٰ اس پر اپنی دس رحمتیں بھیجتا ہے اس پر ایک شخص نے کہا پھر میں اپنی دعا کا آدھا وقت درود میں ہی خرچ کروں گا۔ فرمایا جیسی تیری مرضی اس نے کہا پھر میں دو تہائیاں کرلوں ؟ آپ نے فرمایا اگر چاہے اس نے کہا پھر تو میں اپنا سارا وقت اس کے لئے ہی کردیتا ہوں آپ نے فرمایا اس وقت اللہ تعالیٰ تجھے دین و دنیا کے غم سے نجات دے دے گا اور تیرے گناہ معاف فرما دے گا۔ (ترمذی) ابی بن کعب ؓ کا بیان ہے کہ آدھی رات کو حضور ﷺ باہر نکلتے اور فرماتے ہیں ہلا دینے والی آرہی ہے اور اس کے پیچھے ہی پیچھے لگنے والی بھی ہے۔ حضرت ابی نے ایک مرتبہ کہا حضور ﷺ میں رات کو کچھ نماز پڑھا کرتا ہوں۔ تو اس کا تہائی حصہ آپ پر درود پڑھتا رہوں ؟ آپ نے فرمایا آدھا حصہ۔ انہوں نے کہا کہ آدھا کرلوں ؟ فرمایا دو تہائی کہا اچھا میں پورا وقت اسی میں گذاروں گا۔ آپ نے فرمایا تب تو اللہ تیرے تمام گناہ معاف فرما دے گا (ترمذی) اسی روایت کی ایک اور سند میں ہے دو تہائی رات گذرنے کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا لوگو اللہ کی یاد کرو۔ لوگو ذکر الٰہی کرو۔ دیکھو کپکپا دینے والی آرہی ہے اور اس کے پیچھے ہی پیچھے لگنے والی آرہی ہے۔ موت اپنے ساتھ کی کل مصیبتوں اور آفتوں کو لئے ہوئے چلی آرہی ہے۔ حضرت ابی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں آپ پر بکثرت درود پڑھتا ہوں پس کتنا وقت اس میں گذاروں ؟ آپ نے فرمایا جتنا تو چاہے۔ کہا چوتھائی ؟ فرمایا جتنا چاہو اور زیادہ کرو تو اور اچھا ہے۔ کہا آدھا تو یہی جواب دیا پوچھا دو تہائی تو یہی جواب ملا۔ کہا تو بس میں سارا ہی وقت اس میں گذاروں گا فرمایا پھر اللہ تعالیٰ تجھے تیرے تمام ہم و غم سے بچا لے گا اور تیرے گناہ معاف فرما دے گا۔ (ترمذی) ایک شخص نے آپ سے کہا حضور ﷺ اگر میں اپنی تمام تر صلوۃ آپ ہی پر کر دوں تو ؟ آپ نے فرمایا دنیا اور آخرت کے تمام مقاصد پورے ہوجائیں گے (مسند احمد) حضرت عبدالرحمٰن بن عوف فرماتے ہیں آپ ایک مرتبہ گھر سے نکلے۔ میں ساتھ ہو لیا آپ کھجوروں کے ایک باغ میں گئے وہاں جا کر سجدے میں گرگئے اور اتنا لمبا سجدہ کیا، اس قدر دیر لگائی کہ مجھے تو یہ کھٹکا گذرا کہ کہیں آپ کی روح پرواز نہ کرگئی ہو۔ قریب جا کر غور سے دیکھنے لگا اتنے میں آپ نے سر اٹھایا مجھ سے پوچھا کیا بات ہے ؟ تو میں نے اپنی حالت ظاہر کی۔ فرمایا بات یہ تھی کہ جبرائیل ؑ میرے پاس آئے اور مجھ سے فرمایا تمہیں بشارت سناتا ہوں کہ جناب باری عزاسمہ فرماتا ہے جو تجھ پر درود بھیجے گا میں بھی اس پر درود بھیجوں گا اور جو تجھ پر سلام بھیجے گا میں بھی اس پر سلام بھیجوں گا۔ (مسند احمد بن حنبل) اور روایت میں ہے کہ یہ سجدہ اس امر پر اللہ کے شکریے کا تھا۔ ایک مرتبہ حضور ﷺ اپنے کسی کام کے لئے نکلے کوئی نہ تھا جو آپ کے ساتھ جاتا تو حضرت عمر ﷺ عنہ جلدی سے پیچھے پیچھے گئے۔ دیکھا کہ آپ سجدے میں ہیں، دور ہٹ کر کھڑے ہوگئے۔ آپ نے سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھ کر فرمایا تم نے یہ بہت اچھا کیا کہ مجھے سجدے میں دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے۔ سنو میرے پاس جبرائیل آئے اور فرمایا آپ کی امت میں سے جو ایک مرتبہ آپ پر درود بھیجے گا۔ اللہ اس پر دس رحمتیں اتارے گا اور اس کے دس درجے بلند کرے گا۔ (طبرانی) ایک مرتبہ آپ اپنے صحابہ کے پاس آئے۔ چہرے سے خوشی ظاہر ہو رہی تھی۔ صحابہ نے سبب دریافت کیا تو فرمایا ایک فرشتے نے آ کر مجھے یہ بشارت دی کہ میرا امتی جب مجھ پر درود بھیجے گا تو اللہ تعالیٰ کی دس رحمتیں اس پر اتریں گی۔ اسی طرح ایک سلام کے بدلے دس سلام (نسائی) اور روایت میں ہے کہ ایک درود کے بدلے دس نیکیاں ملیں گی، دس گناہ معاف ہوں گے، دس درجے بڑھیں گے اور اسی کے مثل اس پر لوٹایا جائے گا (مسند) جو شخص مجھ پر ایک درود بھیجے گا اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا (مسلم وغیرہ) فرماتے ہیں مجھ پر درود بھیجا کرو وہ تمہارے لئے زکوٰۃ ہے اور میرے لئے وسیلہ طلب کیا کرو وہ جنت میں ایک اعلیٰ درجہ ہے جو ایک شخص کو ہی ملے گا کیا عجب کہ وہ میں ہی ہوں (احمد) حضرت عبد اللہ بن عمرو کا قول ہے کہ حضور ﷺ پر جو درود بھیجتا ہے اللہ اور اس کے فرشتے اس پر ستر درود بھیجتے ہیں۔ اب جو چاہے کم کرے اور جو چاہے اس میں زیادتی کرے سنو ایک مرتبہ حضور ﷺ ہمارے پاس آئے ایسے کہ گویا کوئی کسی کو رخصت کر رہا ہو۔ تین بار فرمایا کہ میں امی نبی محمد ﷺ ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ مجھے نہایت کھلا بہت جامع اور ختم کردینے والا کلام دیا گیا ہے۔ مجھے جہنم کے داروغوں کی عرش کے اٹھانے والوں کی گنتی بتادی گئی ہے۔ مجھ پر خاص عنایت کی گئی ہے اور مجھے اور میری امت کو عافیت عطا فرمائی گئی ہے۔ جب تک میں تم میں موجود ہوں سنتے اور مانتے رہو۔ جب مجھے میرا رب لے جائے تو تم کتاب اللہ کو مضبوط تھامے رہنا اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھنا۔ (مسند احمد) فرماتے ہیں جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اسے چاہئے کہ مجھ پر درود بھیجے۔ ایک مرتبہ کے درود بھیجنے سے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ (ابوداؤد طیالسی) ایک درود دس رحمتیں دلواتا ہے اور دس گناہ معاف کراتا ہے (مسند) بخیل ہے وہ جس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ پڑھا۔ (ترمذی) اور روایت میں ہے ایسا شخص سب سے بڑا بخیل ہے۔ ایک مرسل حدیث میں ہے انسان کو یہ بخل کافی ہے کہ میرا نام سن کر درود نہ پڑھے۔ فرماتے ہیں وہ شخص برباد ہوا جس کے پاس میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا۔ وہ برباد ہوا جس کی زندگی میں رمضان آیا اور نکل جانے تک اس کے گناہ معاف نہ ہوئے۔ وہ بھی برباد ہوا جس نے اپنے ماں باپ کے بڑھاپے کے زمانے کو پا لیا پھر بھی انہوں نے اسے جنت میں نہ پہنچایا۔ (ترمذی) یہ حدیثیں دلیل ہیں اس امر پر کہ حضور ﷺ پر درود پڑھنا واجب ہے۔ علماء کی ایک جماعت کا بھی یہی قول ہے۔ جیسے طحاوی حلیمی وغیرہ۔ ابن ماجہ میں ہے جو مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا اس نے جنت کی راہ سے خطا کی۔ یہ حدیث مرسل ہے۔ لیکن پہلی احادیث سے اس کی پوری تقویت ہوجاتی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں مجلس میں ایک دفعہ تو واجب ہے پھر مستحب ہے۔ چناچہ ترمذی کی ایک حدیث میں ہے جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اللہ کے ذکر اور درود کے بغیر اٹھ کھڑے ہوں وہ مجلس قیامت کے دن ان پر وبال ہوجائے گی۔ اگر اللہ چاہے تو انہیں عذاب کرے چاہے معاف کر دے اور روایت میں ذکر اللہ کا ذکر نہیں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ گو وہ جنت میں جائیں لیکن محرومی ثواب کے باعث انہیں سخت افسوس رہے گا۔ بعض کا قول ہے کہ عمر بھر میں ایک مرتبہ آپ پر درود واجب ہے پھر مستحب ہے تاکہ آیت کی تعمیل ہوجائے۔ قاضی عیاض نے حضور ﷺ پر درود بھیجنے کے وجوب کو بیان فرما کر اسی قول کی تائید کی ہے۔ لیکن طبری فرماتے ہیں کہ آیت سے تو استحاب ہی ثابت ہوتا ہے اور اس پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ان کا مطلب بھی یہی ہو کہ ایک مرتبہ واجب پھر مستحب جیسے آپ کی نبوت کی گواہی۔ لیکن میں کہتا ہوں بہت سے ایسے اوقات ہیں جن میں حضور ﷺ پر درود پڑھنے کا ہمیں حکم ملا ہے لیکن بعض وقت واجب ہے اور بعض جگہ واجب نہیں۔ چناچہ (1) اذان سن کر۔ دیکھئے مسند کی حدیث میں ہے جب تم اذان سنو تو جو موذن کہہ رہا ہو تم بھی کہو پھر مجھ پر درود بھیجو ایک کے بدلے دس درود اللہ تم پر بھیجے گا پھر میرے لئے وسیلہ مانگو جو جنت کی ایک منزل ہے اور ایک ہی بندہ اس کا مستحق ہے مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں سنو جو میرے لئے وسیلہ کی دعا کرتا ہے اس کے لئے میری شفاعت حلال ہوجاتی ہے۔ پہلے درود کے زکوٰۃ ہونے کی حدیث میں بھی اس کا بیان گذر چکا ہے۔ فرمان ہے کہ جو شخص درود بھیجے اور کہے اللھم انزلہ المقعد المقرب عندک یوم القیامتہ اس کے لئے میری شفاعت قیامت کے دن واجب ہوجائے گی۔ (مسند) ابن عباس سے یہ دعا منقول ہے (2) مسجد میں جانے اور مسجد سے نکلنے کے وقت۔ چناچہ مسند میں ہے۔ حضرت فاطمہ فرماتی ہیں جب آنحضرت ﷺ مسجد میں جاتے تو درود وسلام پڑھ کر اللھم اغفرلی ذنوبی وافتح لی ابو اب رحمتک پڑھتے اور جب مسجد سے نکلتے تو درود وسلام کے بعد اللھم اغفرلی ذنوبی وافتح لی ابو اب رحمتک پڑھتے۔ حضرت علی ؓ کا فرمان ہے جب مسجدوں میں جاؤ تو نبی ﷺ پر درود پڑھا کرو۔ (3) نماز کے آخری قعدہ میں التحیات کا دورد۔ اس کی بحث پہلی گذر چکی۔ ہاں اول تشہد میں اسے کسی نے واجب نہیں کہا۔ البتہ مستحب ہونے کا ایک قول شافعی کا ہے۔ گو دوسرا قول اس کے خلاف بھی انہی سے مروی ہے۔(4) جنازے کی نماز میں آپ پر درود پڑھنا۔ چناچہ سنت طریقہ یہ ہے کہ پہلی تکبیر میں سورة فاتحہ پڑھے۔ دوسری میں درود پڑھ۔ تیسری میں میت کے لئے دعا کرے چوتھی میں اللھم لاتحرمنا اجرہ ولاتفتنا بعدہ الخ، پڑھے۔ ایک صحابی کا قول ہے کہ مسنون نماز جنازہ یوں ہے کہ امام تکبیر کہہ کر آہستہ سلام پھیر دے۔ (نسائی) (5) عید کی نماز میں۔ حضرت ابن مسعود، حضرت ابو موسیٰ اور حضرت حذیفہ کے پاس آ کر ولید بن عقبہ کہتا ہے عید کا دن ہے بتلاؤ تکبیروں کی کیا کفیت ہے ؟ عبد اللہ نے فرمایا تکبیر تحریمہ کہہ کر اللہ کی حمد کر اپنے نبی ﷺ پر دود بھیج دعا مانگ پھر تکبیر کہہ کر یہی کر۔ پھر تکبیر کہہ کر یہی کر۔ پھر تکبیر کہہ کر یہی کر۔ پھر تکبیر کہہ کر یہی کر پھر قرأت کر پھر تکبیر کہہ کر رکوع کر پھر کھڑا ہو کر پڑھ اور اپنے رب کی حمد بیان کر اور حضور پر صلوۃ پڑھ اور دعا کر اور تکبیر کہہ اور اسی طرح کر پھر رکوع میں جا۔ حضرت حذیفہ اور حضرت ابو موسیٰ نے بھی اس کی تصدیق کی۔ (6) دعا کے خاتمے پر۔ ترمذی میں حضرت عمر کا قول ہے کہ دعا آسمان و زمین میں معلق رہتی ہے یہاں تک کہ تو درود پڑھے تب چڑھتی ہے۔ ایک روایت مرفوع بھی اسی طرح کی آئی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ دعا کے اول میں، درمیان میں اور آخر میں درود پڑھ لیا کرو۔ ایک غریب اور ضعیف حدیث میں ہے کہ مجھے سوار کے پیالے کی طرح نہ کرلو کہ جب وہ اپنی تمام ضروری چیزیں لے لیتا ہے تو پانی کا کٹورہ بھی بھر لیتا ہے اگر وضو کی ضرورت پڑی تو وضو کرلیا، پیاس لگی تو پانی پی لیا ورنہ پانی بہاد دیا۔ دعا کی ابتداء میں دعا کے درمیان میں اور دعا کے آخر میں مجھ پر درود پڑھا کرو۔ خصوصاً دعائے قنوت میں درود کی زیادہ تاکید ہے۔ حضرت حسن فرماتے ہیں مجھے حضور ﷺ نے کچھ کلمات سکھائے جنہیں میں وتروں میں پڑھا کرتا ہوں۔ اللھم اھدنی فیمن ھدیت وعافنی فیمن عافیت وتولنیفیمن تولیت وبارک لی فیما اعطیت وقنی شر ماقضیت فانک تقضی ولا یقضی علیک انہ لا یذل من والیت ولا یعز من عادیت تبارکت ربنا وتعالیت (اہل السنن) نسائی کی روایت میں آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ وصل اللہ علی النبی (7) جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات میں۔ مسند احمد میں ہے سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے، اسی میں حضرت آدم پیدا کئے گئے، اسی میں قبض کئے گئے، اسی میں نفحہ ہے، اسی میں بیہوشی ہے۔ پس تم اس دن مجھ پر بکثرت درود پڑھا کرو۔ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں۔ صحابہ نے پوچھا آپ تو زمین میں دفنا دیئے گئے ہوں گے پھر ہمارے درود آپ پر کیس پیش کئے جائیں گے ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے نبیوں کے جسموں کا کھانا زمین پر حرام کردیا۔ ابو داؤد نسائی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ ابن ماجہ میں ہے جمعہ کے دن بکثرت درود پڑھو اس دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ جب کوئی مجھ پر درود پڑھتا ہے اس کا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے جب تک کہ وہ فارغ ہو پوچھا گیا موت کے بعد بھی ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین پر نبیوں کے جسموں کا گلانا سڑانا حرام کردیا ہے نبی اللہ زندہ ہیں روزی دیئے جاتے ہیں۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس میں انتقطاع ہے۔ عبادہ بن نسی نے حضرت ابو الدرداء کو پایا نہیں۔ واللہ اعلم۔ بیہقی میں بھی حدیث ہے کہ جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات مجھ پر بکثرت درود بھیجو لیکن وہ بھی ضعیف ہے۔ ایک روایت میں ہے اس کا جسم زمین نہیں کھاتی جس سے روح القدس نے کلام کیا ہو۔ لیکن یہ حدیث مرسل ہے۔ ایک مرسل حدیث میں بھی جمعہ کے دن اور رات میں درود کی کثرت کا حکم ہے۔ (8) اسی طرح خطیب پر بھی دونوں خطبوں میں درود و واجب ہے اس کے بغیر صحیح نہ ہوں گے اس لئے کہ یہ عبادت ہے اور اس میں ذکر اللہ واجب ہے پس ذکر رسول ﷺ بھی واجب ہوگا۔ جیسے اذان و نماز شافعی اور احمد کا یہی مذہب ہے (9) آپ کی قبر شریف کی زیارت کے وقت ابو داؤد میں ہے جو مسلمان مجھ پر سلام پڑھتا ہے۔ اللہ میری روح کو لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دوں۔ ابو داؤد میں ہے اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ میری قبر پر عرس میلہ نہ لگاؤ۔ ہاں مجھ پر درود پڑھو گو تم کہیں بھی ہو لیکن تمہارا درود مجھ تک پہنچایا جاتا ہے۔ قاضی اسماعیل بن اسحاق اپنی کتاب فضل الصلوۃ میں ایک روایت لائے ہیں کہ ایک شخص ہر صبح روضہ رسول ﷺ پر آتا تھا اور درود سلام پڑھتا تھا۔ ایک دن اس سے حضرت علی بن حسین بن علی نے کہا تم روز ایسا کیوں کرتے ہو ؟ اس نے جواب دیا کہ حضور ﷺ پر سلام کرنا مجھے بہت مرغوب ہے۔ آپ نے فرمایا سنو میں تمہیں ایک حدیث سناؤں میں نے اپنے باپ سے انہوں نے میرے دادا سے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ " میری قبر کو عید نہ بناؤ۔ نہ اپنے گھروں کو قبریں بناؤ جہاں کہیں تم ہو وہیں سے مجھ پر درود وسلام بھیجو وہ مجھے پہنچ جاتے ہیں۔ " اس کی اسناد میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام مذکور نہیں اور سند سے یہ روایت مرسل مروی ہے۔ حسن بن حسن بن علی سے مروی ہے کہ انہوں نے آپ کی قبر کے پاس کچھ لوگوں کو دیکھ کر انہیں یہ حدیث سنائی کہ آپ کی قبر پر میلہ لگانے سے آپ نے روک دیا ہے۔ ممکن ہے ان کی کسی بےادبی کی وجہ سے یہ حدیث آپ کو سنانے کی ضرورت پڑی ہو مثلاً وہ بلند آواز سے بول رہے ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے ایک شخص کو حضور ﷺ کے روضہ پر پے درپے آتے ہوئے دیکھ کر فرمایا کہ تو اور جو شخص اندلس میں ہے جہاں کہیں تم ہو وہیں سے سلام بھیجو تمہارے سلام مجھے پہنچا دیئے جاتے ہیں۔ طبرانی میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ یہ خاص راز ہے اگر تم مجھ سے نہ پوچھتے تو میں بھی نہ بتاتا۔ سنو میرے ساتھ دو فرشتے مقرر ہیں جب میرا ذکر کسی مسلمان کے سامنے کیا جاتا ہے اور وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے تو وہ فرشتے کہتے ہیں اللہ تجھے بخشے۔ اور خود اللہ اور اس کے فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کی سند بہت ہی ضعیف ہے۔ مسند احمد میں ہے اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں جو زمین میں چلتے پھرتے رہتے ہیں میری امت کے سلام مجھ تک پہنچاتے رہتے ہیں۔ نسائی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جو میری قبر کے پاس سے مجھ پر سلام پڑھتا ہے اسے میں سنتا ہوں اور جو دور سے سلام بھیجتا ہے اسے میں پہنچایا جاتا ہوں۔ یہ حدیث سنداً صحیح نہیں محمد بن مروان سدی صغیر متروک ہے۔ 0100 ہمارے ساتھیوں کا قول ہے کہ احرام والا جب لبیک پکارے تو اسے بھی درود پڑھنآ چاہئے۔ دارقطنی وغیرہ میں قاسم بن محمد بن اببوکر صدیق کا فرمان مروی ہے کہ لوگوں کو اس بات کا حکم کیا جاتا تھا۔ صحیح سند سے حضرت فاروق اعظم کا قول مروی ہے کہ جب تم مکہ پہنچو تو سات مرتبہ طواف کرو، مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز ادا کرو۔ پھر صفا پر چڑھو اتنا کہ وہاں سے بیت اللہ نظر آئے وہاں کھڑے رہ کر سات تکبیریں کہو ان کے درمیان اللہ کی حمد وثناء بیان کرو اور درود پڑھو۔ اور اپنے لئے دعا کرو پھر مروہ پر بھی اسی طرح کرو۔ 0101 ہمارے ساتھیوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ذبح کے وقت بھی اللہ کے نام کے ساتھ درود پڑھنا چاہئے۔ آیت ورفعنا لک ذکرک سے انہوں نے تائید چاہی ہے کیونکہ اس کی تفسیر میں ہے کہ جہاں اللہ کا ذکر کیا جائے وہیں آپ کا نام بھی لیا جائے گا جمہور اس کے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں یہاں صرف ذکر اللہ کافی ہے۔ جیسے کھانے کے وقت اور جماع کے وقت وغیرہ وغیرہ کہ ان اوقات میں درود کا پڑھنا سنت سے ثابت نہیں ہوا۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے تمام انبیاء اور رسولوں پر بھی صلوٰۃ وسلام بھیجو وہ بھی میری طرح اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں لیکن اس کی سند میں دو ضعیف راوی ہیں عمر بن ہارون اور ان کے استاد۔ کان کی سنسناہٹ کے وقت بھی درود پڑھنآ ایک حدیث میں ہے۔ اگر اس کی اسناد صحیح ثابت ہوجائے تو صحیح ابن خزیمہ میں ہے جب تم میں سے کسی کے کان میں سرسراہٹ ہو تو مجھے ذکر کرکے درود پڑھے اور کہے کہ جس نے مجھے بھلائی سے یاد کیا اسے اللہ بھی یاد کرے اس کی سند غریب ہے اور اس کے ثبوت میں نظر ہے۔ مسئلہ :اہل کتاب اس بات کو مستحب جانتے ہیں کہ کاتب جب کبھی حضور ﷺ کا نام لکھے ﷺ لکھے۔ ایک حدیث میں ہے جو شخص کسی کتاب میں مجھ پر درود لکھے اس کے درود کا ثواب اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک وہ کتاب رہے لیکن کئی وجہ سے یہ حدیث صحیح نہیں بلکہ امام ذہبی کے استاد تو اسے موضوع کہتے ہیں۔ یہ حدیث بہت سے طریق سے مروی ہے لیکن ایک سند بھی صحیح نہیں۔ امام خطیب بغدادی ؒ اپنی کتاب آداب الرادی والسامع میں لکھتے ہیں میں نے امام احمد کی دستی لکھی ہوئی کتاب میں بہت جگہ رسول اللہ ﷺ کا نام دیکھا جہاں درود لکھا ہوا نہ تھا آپ زبانی درود پڑھ لیا کرتے تھے۔ فصل :نبیوں کے سوا غیر نبیوں پر صلوٰۃ بھیجنا اگر تبعاً ہو تو بیشک جائز ہے۔ جیسے حدیث میں ہے اللھم صل علی محمد والہ وازواجہ و ذریتہ۔ ہاں صرف غیر نبیوں پر صلوٰۃ بھیجنے میں اختلاف ہے۔ بعض تو اسے جائز بتاتے ہیں اور دلیل میں آیت ھوالذی یصلی علیکم الخ اور اولئک علیھم صلوات اور وصل علیھم پیش کرتے ہیں اور یہ حدیث بھی کہ جب رسول اللہ ﷺ کے پاس کسی قوم کا صدقہ آتا تو آپ فرماتے اللھم صل علیھم چناچہ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی فرماتے ہیں " جب میرے والد آپ کے پاس اپنا صدقے کا مال لائے تو آپ نے فرمایا اللھم صل علی ال ابی اوفی " بخاری و مسلم۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک عورت نے کہا یارسول اللہ ﷺ مجھ پر اور میرے خاوند پر صلوت بھیجئے تو آپ نے فرمایا صلی اللہ علیہ و علی زوجک لیکن جمہور علماء اس کے خلاف ہیں اور کہتے ہیں کہ انبیاء کے سوا اوروں پر خاصتہ صلوٰۃ بھیجنا ممنوع ہے۔ اس لئے کہ اس لفظ کا استعمال انبیاء علیہم الصلوٰۃ السلام کیلئے اس قدر بکثرت ہوگیا ہے کہ سنتے ہی ذہن میں یہی خیال آتا ہے کہ یہ نام کسی نبی کا ہے تو احتیاط اسی میں ہے کہ غیر نبی کیلئے یہ الفاظ نہ کہے جائیں۔ مثلاً ابوبکر صل اللہ علیہ یا علی صلی اللہ علیہ نہ کہا جائے گو معنی اس میں کوئی قباحت نہیں جیسے محمد عزوجل نہیں کہا جاتا۔ حالانکہ ذی عزت اور ذی مرتبہ آپ بھی ہیں اس لئے کہ یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کی ذات کیلئے مشہور ہوچکے ہیں اور کتاب و سنت میں صلوٰۃ کا جو استعمال غیر انبیاء کیلئے ہوا ہے وہ بطور دعا کے ہے۔ اسی وجہ سے آل ابی اوفی کو اس کے بعد کسی نے ان الفاظ سے یاد نہیں کیا نہ حضرت جابر اور ان کی بیوی کو۔ یہی مسلک ہمیں بھی اچھا لگتا ہے، واللہ اعلم۔ بعض ایک اور وجہ بھی بیان کرتے ہیں یعنی یہ کہ غیر انبیاء کیلئے یہ الفاظ صلوٰۃ استعمال کرنا بددینوں کا شیوہ ہوگیا ہے۔ وہ اپنے بزرگوں کے حق میں یہی الفاظ استعمال کرتے ہیں پاس ان کی اقتدا ہمیں نہ کرنی چاہئے۔ اس میں بھی اختلاف ہے کہ یہ مخالفت کس درجے کی ہے حرمت کے طور پر یا کراہیت کے طور پر یا خلاف اولیٰ۔ صحیح یہ ہے کہ یہ مکروہ تنزیہی ہے۔ اس لئے کہ بدعتیوں کا طریقہ ہے جس پر ہمیں کاربند ہونا ٹھیک نہیں اور مکروہ وہی ہوتا ہے جس میں نہی مقصود ہو۔ زیادہ تر اعتبار اس میں اسی پر ہے کہ صلوٰۃ کا لفظ سلف میں نبیوں پر ہی بولا جاتا رہا جیسے کہ عزوجل کا لفظ اللہ تعالیٰ ہی کیلئے بولا جاتا رہا۔ اب رہا سلام سو اس کے بارے میں شیخ ابو محمد جوینی فرماتے ہیں کہ یہ بھی صلوٰۃ کے معنی میں ہے پس غائب پر اس کا استعمال نہ کیا جائے اور جو نبی نہ وہ اس کیلئے خاصتہً اسے بھی نہ بولا جائے۔ پس علی ؑ نہ کہا جائے۔ زندوں اور مردوں کا یہی حکم ہے۔ ہاں جو سامنے موجود ہو اس سے خطاب کرکے سلام علیک یا سلام علیکم یا السلام علیک یا علیکم کہنا جائز ہے اور اس پر اجماع ہے۔ یہاں پر یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ عموماً مصنفین کے قلم سے علی ؑ نکلتا ہے یا علی کرم اللہ وجہہ نکلتا ہے گو معنی اس میں کوئی حرج نہ ہو لیکن اس سے اور صحابہ کی جناب میں ایک طرح کی سوء ادبی پائی جاتی ہے۔ ہمیں سب صحابہ کے ساتھ حسن عقیدت رکھنی چاہئے۔ یہ الفاظ تعظیم و تکریم کے ہیں اس لئے حضرت علی سے زیادہ مستحق ان کے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر اور حضرت عثمان ؓ اجمعین ہیں۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے سوا کسی اور پر صلوٰۃ نہ بھیجنی چاہئے۔ ہاں مسلمان مردوں عورتوں کیلئے دعا مغفرت کرنی چاہئے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے اپنے ایک خط میں لکھا تھا کہ بعض لوگ آخرت کے اعمال سے دنیا کے جمع کرنے کی فکر میں ہیں اور بعض مولوی واعظ اپنے خلیفوں اور امیروں کیلئے صلوٰۃ کے ہی الفاظ بولتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کیلئے تھے۔ جب تیرے پاس میرا یہ خط پہنچے تو انہیں کہہ دینا کہ صلوٰۃ صرف نبیوں کیلئے ہیں اور عام مسلمانوں کیلئے اس کے سوا جو چاہیں دعا کریں۔ حضرت کعب کہتے ہیں ہر صبح ستر ہزار فرشتے اتر کر قبر رسول ﷺ کو گھیر لیتے ہیں اور اپنے پر سمیٹ کر حضور ﷺ کیلئے دعا رحمت کرتے رہتے ہیں اور ستر ہزار رات کو آتے ہیں یہاں تک کہ قیامت کے دن جب آپ کی قبر مبارک شق ہوگی تو آپ کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے (فرعو) امام نووی فرماتے ہیں کہ حضور پر صلوٰۃ وسلام ایک ساتھ بھیجنے چاہئیں صرف ﷺ یا صرف ؑ نہ کہے۔ اس آیت میں بھی دونوں ہی کا حکم ہے پس اولیٰ یہ ہے کہ یوں کہا جائے ﷺ تسلیما۔
ملعون و معذب لوگ۔جو لوگ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرکے اس کے روکے ہوئے کاموں سے نہ رک کر اس کی نافرمانیوں پر جم کر اسے ناراض کر رہے ہیں اور اس کے رسول ﷺ کے ذمے طرح طرح کے بہتان باندھتے ہیں وہ ملعون اور معذب ہیں۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اس سے مراد تصویریں بنانے والے ہیں۔ بخاری و مسلم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ زمانے کو گالیاں دیتا ہے اور زمانہ میں ہوں میں ہی دن رات کا تغیر و تبدل کر رہا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ جاہلیت والے کہا کرتے تھے ہائے زمانے کی ہلاکت اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور یوں کیا۔ پس اللہ کے افعال کو زمانے کی طرف منسوب کرکے پھر زمانے کو برا کہتے تھے گویا افعال کے فاعل یعنی خود اللہ کو برا کہتے تھے۔ حضرت صفیہ ؓ سے جب حضور ﷺ نے نکاح کیا تو اس پر بھی بعض لوگوں نے باتیں بنانا شروع کی تھیں۔ بقول ابن عباس یہ آیت اس بارے میں اتری۔ آیت عام ہے کسی طرح بھی اللہ کے رسول ﷺ کو تکلیف دے وہ اس آیت کے ماتحت ملعون اور معذب ہے۔ اس لئے کہ رسول اللہ کو ایذاء دینی گویا اللہ کو ایذاء دینی ہے۔ جس طرح آپ کی اطاعت عین اطاعت الٰہی ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں تمہیں اللہ کو یاد دلاتا ہوں دیکھو اللہ کو بیچ میں رکھ کر تم سے کہتا ہوں کہ میرے اصحاب کو میرے بعد نشانہ نہ بنالینا میری محبت کی وجہ سے ان سے بھی محبت رکھنا ان سے بغض دبیر رکھنے والا مجھ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ انہیں جس نے ایذاء دی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی یقین مانو کہ اللہ اس کی بھوسی اڑا دے گا۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے۔ جو لوگ ایمانداروں کی طرف ان برائیوں کو منسوب کرتے ہیں۔ جن سے وہ بری ہیں وہ بڑے بہتان باز اور زبردست گناہ گار ہیں۔ اس وعید میں سب سے پہلے تو کفار داخل ہیں پھر رافضی شیعہ جو صحابہ پر عیب گیری کرتے ہیں اور اللہ نے جن کی تعریفیں کی ہیں یہ انہیں برا کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ انصار و مہاجرین سے خوش ہے۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ ان کی مدح و ستائش موجود ہے۔ لیکن یہ بیخبر کند ذہن انہیں برا کہتے ہیں ان کی مذمت کرتے ہیں اور ان میں وہ باتیں بتاتے ہیں جن سے وہ بالکل الگ ہیں۔ حق یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کے دل اوندھے ہوگئے ہیں اس لئے ان کی زبانیں بھی الٹی چلتی ہیں۔ قابل مدح لوگوں کی مذمت کرتے ہیں اور مذمت والوں کی تعریفیں کرتے ہیں۔ حضور ﷺ سے سوال ہوتا ہے کہ غیبت کسے کہتے ہیں ؟ آپ فرماتے ہیں تیرا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا جسے اگر وہ سنے تو اسے برا معلوم ہو۔ آپ سے سوال ہوا کہ اگر وہ بات اس میں ہو تب ؟ آپ نے فرمایا جبھی تو غیبت ہے ورنہ بہتان ہے۔ (ترمذی) ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے سوال کیا کہ سب سے بڑی سود خواری کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ جانے اور اللہ کا رسول۔ آپ نے فرمایا سب سے بڑا سود اللہ کے نزدیک کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔
ملعون و معذب لوگ۔جو لوگ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرکے اس کے روکے ہوئے کاموں سے نہ رک کر اس کی نافرمانیوں پر جم کر اسے ناراض کر رہے ہیں اور اس کے رسول ﷺ کے ذمے طرح طرح کے بہتان باندھتے ہیں وہ ملعون اور معذب ہیں۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اس سے مراد تصویریں بنانے والے ہیں۔ بخاری و مسلم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ زمانے کو گالیاں دیتا ہے اور زمانہ میں ہوں میں ہی دن رات کا تغیر و تبدل کر رہا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ جاہلیت والے کہا کرتے تھے ہائے زمانے کی ہلاکت اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور یوں کیا۔ پس اللہ کے افعال کو زمانے کی طرف منسوب کرکے پھر زمانے کو برا کہتے تھے گویا افعال کے فاعل یعنی خود اللہ کو برا کہتے تھے۔ حضرت صفیہ ؓ سے جب حضور ﷺ نے نکاح کیا تو اس پر بھی بعض لوگوں نے باتیں بنانا شروع کی تھیں۔ بقول ابن عباس یہ آیت اس بارے میں اتری۔ آیت عام ہے کسی طرح بھی اللہ کے رسول ﷺ کو تکلیف دے وہ اس آیت کے ماتحت ملعون اور معذب ہے۔ اس لئے کہ رسول اللہ کو ایذاء دینی گویا اللہ کو ایذاء دینی ہے۔ جس طرح آپ کی اطاعت عین اطاعت الٰہی ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں تمہیں اللہ کو یاد دلاتا ہوں دیکھو اللہ کو بیچ میں رکھ کر تم سے کہتا ہوں کہ میرے اصحاب کو میرے بعد نشانہ نہ بنالینا میری محبت کی وجہ سے ان سے بھی محبت رکھنا ان سے بغض دبیر رکھنے والا مجھ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ انہیں جس نے ایذاء دی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی یقین مانو کہ اللہ اس کی بھوسی اڑا دے گا۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے۔ جو لوگ ایمانداروں کی طرف ان برائیوں کو منسوب کرتے ہیں۔ جن سے وہ بری ہیں وہ بڑے بہتان باز اور زبردست گناہ گار ہیں۔ اس وعید میں سب سے پہلے تو کفار داخل ہیں پھر رافضی شیعہ جو صحابہ پر عیب گیری کرتے ہیں اور اللہ نے جن کی تعریفیں کی ہیں یہ انہیں برا کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ انصار و مہاجرین سے خوش ہے۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ ان کی مدح و ستائش موجود ہے۔ لیکن یہ بیخبر کند ذہن انہیں برا کہتے ہیں ان کی مذمت کرتے ہیں اور ان میں وہ باتیں بتاتے ہیں جن سے وہ بالکل الگ ہیں۔ حق یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کے دل اوندھے ہوگئے ہیں اس لئے ان کی زبانیں بھی الٹی چلتی ہیں۔ قابل مدح لوگوں کی مذمت کرتے ہیں اور مذمت والوں کی تعریفیں کرتے ہیں۔ حضور ﷺ سے سوال ہوتا ہے کہ غیبت کسے کہتے ہیں ؟ آپ فرماتے ہیں تیرا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا جسے اگر وہ سنے تو اسے برا معلوم ہو۔ آپ سے سوال ہوا کہ اگر وہ بات اس میں ہو تب ؟ آپ نے فرمایا جبھی تو غیبت ہے ورنہ بہتان ہے۔ (ترمذی) ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے سوال کیا کہ سب سے بڑی سود خواری کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ جانے اور اللہ کا رسول۔ آپ نے فرمایا سب سے بڑا سود اللہ کے نزدیک کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔
تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل کون ؟ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ تسلیما کو فرماتا ہے کہ آپ مومن عورتوں سے فرما دیں بالخصوص اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں سے کیونکہ وہ تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل ہیں کہ وہ اپنی چادریں قدریں لٹکالیا کریں تاکہ جاہلیت کی عورتوں سے ممتاز ہوجائیں اسی طرح لونڈیوں سے بھی آزاد عورتوں کی پہچان ہوجائے۔ جلباب اس چادر کو کہتے ہیں جو عورتیں اپنی دوپٹیا کے اوپر ڈالتی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ جب وہ اپنے کسی کام کاج کیلئے باہر نکلیں تو جو چادر وہ اوڑھتی ہیں اسے سر پر سے جھکا کر منہ ڈھک لیا کریں، صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں۔ امام محمد بن سیرین ؒ کے سوال پر حضرت عبیدہ سلمانی ؒ نے اپنا چہرہ اور سر ڈھانک کر اور بائیں آنکھ کھلی رکھ کر بتادیا کہ یہ مطلب اس آیت کا ہے۔ حضرت عکرمہ ؒ کا قول ہے کہ اپنی چادر سے اپنا گلا تک ڈھانپ لے۔ حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں اس آیت کے اترنے کے بعد انصار کی عورتیں جب نکلتی تھیں تو اس طرح لکی چھپی چلتی تھیں گویا ان کے سروں پر پرند ہیں سیاہ چادریں اپنے اوپر ڈال لیا کرتی تھیں۔ حضرت زہری سے سوال ہوا کہ کیا لونڈیاں بھی چادر اوڑھیں ؟ خواہ خاوندوں والیاں ہوں یا بےخاوند کی ہوں ؟ فرمایا دوپٹیا تو ضرور اوڑھیں اگر وہ خاوندوں والیاں ہوں اور چادر نہ اوڑھیں تاکہ ان میں اور آزاد عورتوں میں فرق رہے حضرت سفیان ثوری سے منقول ہے کہ ذمی کافروں کی عورتوں کی زینت کا دیکھنا صرف خوف زنا کی وجہ سے ممنوع ہے نہ کہ ان کی حرمت و عزت کی وجہ سے کیونکہ آیت میں مومنوں کی عورتوں کا ذکر ہے۔ چادر کا لٹکانا چونکہ علامت ہے آزاد پاک دامن عورتوں کی اس لئے یہ چادر کے لٹکانے سے پہچان لی جائیں گی کہ یہ نہ واہی عورتیں ہیں نہ لونڈیاں ہیں۔ سدی کا قول ہے کہ فاسق لوگ اندھیری راتوں میں راستے سے گزرنے والی عورتوں پر آوازے کستے تھے اس لئے یہ نشان ہوگیا کہ گھر گر ہست عورتوں اور لونڈیوں بانڈیوں وغیرہ میں تمیز ہوجائے اور ان پاک دامن عورتوں پر کوئی لب نہ ہلاسکے۔ پھر فرمایا کہ جاہلیت کے زمانے میں جو بےپردگی کی رسم تھی جب تم اللہ کے اس حکم کے عامل بن جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمام اگلی خطاؤں سے درگزر فرمالے گا اور تم پر مہر و کرم کرے گا، پھر فرماتا ہے کہ اگر منافق لوگ اور بدکار اور جھوٹی افواہیں دشمنوں کی چڑھائی وغیرہ کی اڑانے والے اب بھی باز نہ آئے اور حق کے طرفدار نہ ہوئے تو ہم اے نبی تجھے ان پر غالب اور مسلط کردیں گے۔ پھر تو وہ مدینے میں ٹھہر ہی نہیں سکیں گے۔ بہت جلد تباہ کردیے جائیں گے اور جو کچھ دن ان کے مدینے کی اقامت سے گزریں گے وہ بھی لعنت و پھٹکار میں ذلت اور مار میں گزریں گے۔ ہر طرف سے دھتکارے جائیں گے، راندہ درگاہ ہوجائیں گے، جہاں جائیں گے گرفتار کئے جائیں گے اور بری طرح قتل کئے جائیں گے۔ ایسے کفار و منافقین پر جبکہ وہ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں مسلمانوں کو غلبہ دینا ہماری قدیمی سنت ہے جس میں نہ کبھی تغیر و تبدل ہوا نہ اب ہو۔
تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل کون ؟ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ تسلیما کو فرماتا ہے کہ آپ مومن عورتوں سے فرما دیں بالخصوص اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں سے کیونکہ وہ تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل ہیں کہ وہ اپنی چادریں قدریں لٹکالیا کریں تاکہ جاہلیت کی عورتوں سے ممتاز ہوجائیں اسی طرح لونڈیوں سے بھی آزاد عورتوں کی پہچان ہوجائے۔ جلباب اس چادر کو کہتے ہیں جو عورتیں اپنی دوپٹیا کے اوپر ڈالتی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ جب وہ اپنے کسی کام کاج کیلئے باہر نکلیں تو جو چادر وہ اوڑھتی ہیں اسے سر پر سے جھکا کر منہ ڈھک لیا کریں، صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں۔ امام محمد بن سیرین ؒ کے سوال پر حضرت عبیدہ سلمانی ؒ نے اپنا چہرہ اور سر ڈھانک کر اور بائیں آنکھ کھلی رکھ کر بتادیا کہ یہ مطلب اس آیت کا ہے۔ حضرت عکرمہ ؒ کا قول ہے کہ اپنی چادر سے اپنا گلا تک ڈھانپ لے۔ حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں اس آیت کے اترنے کے بعد انصار کی عورتیں جب نکلتی تھیں تو اس طرح لکی چھپی چلتی تھیں گویا ان کے سروں پر پرند ہیں سیاہ چادریں اپنے اوپر ڈال لیا کرتی تھیں۔ حضرت زہری سے سوال ہوا کہ کیا لونڈیاں بھی چادر اوڑھیں ؟ خواہ خاوندوں والیاں ہوں یا بےخاوند کی ہوں ؟ فرمایا دوپٹیا تو ضرور اوڑھیں اگر وہ خاوندوں والیاں ہوں اور چادر نہ اوڑھیں تاکہ ان میں اور آزاد عورتوں میں فرق رہے حضرت سفیان ثوری سے منقول ہے کہ ذمی کافروں کی عورتوں کی زینت کا دیکھنا صرف خوف زنا کی وجہ سے ممنوع ہے نہ کہ ان کی حرمت و عزت کی وجہ سے کیونکہ آیت میں مومنوں کی عورتوں کا ذکر ہے۔ چادر کا لٹکانا چونکہ علامت ہے آزاد پاک دامن عورتوں کی اس لئے یہ چادر کے لٹکانے سے پہچان لی جائیں گی کہ یہ نہ واہی عورتیں ہیں نہ لونڈیاں ہیں۔ سدی کا قول ہے کہ فاسق لوگ اندھیری راتوں میں راستے سے گزرنے والی عورتوں پر آوازے کستے تھے اس لئے یہ نشان ہوگیا کہ گھر گر ہست عورتوں اور لونڈیوں بانڈیوں وغیرہ میں تمیز ہوجائے اور ان پاک دامن عورتوں پر کوئی لب نہ ہلاسکے۔ پھر فرمایا کہ جاہلیت کے زمانے میں جو بےپردگی کی رسم تھی جب تم اللہ کے اس حکم کے عامل بن جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمام اگلی خطاؤں سے درگزر فرمالے گا اور تم پر مہر و کرم کرے گا، پھر فرماتا ہے کہ اگر منافق لوگ اور بدکار اور جھوٹی افواہیں دشمنوں کی چڑھائی وغیرہ کی اڑانے والے اب بھی باز نہ آئے اور حق کے طرفدار نہ ہوئے تو ہم اے نبی تجھے ان پر غالب اور مسلط کردیں گے۔ پھر تو وہ مدینے میں ٹھہر ہی نہیں سکیں گے۔ بہت جلد تباہ کردیے جائیں گے اور جو کچھ دن ان کے مدینے کی اقامت سے گزریں گے وہ بھی لعنت و پھٹکار میں ذلت اور مار میں گزریں گے۔ ہر طرف سے دھتکارے جائیں گے، راندہ درگاہ ہوجائیں گے، جہاں جائیں گے گرفتار کئے جائیں گے اور بری طرح قتل کئے جائیں گے۔ ایسے کفار و منافقین پر جبکہ وہ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں مسلمانوں کو غلبہ دینا ہماری قدیمی سنت ہے جس میں نہ کبھی تغیر و تبدل ہوا نہ اب ہو۔