John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Saba

Tafsir Ibn Kathir · Sheba · 54 ayat · ayat 31–54 · Quran text →

کافروں کی سرکشی۔ کافروں کی سرکشی اور باطل کی ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ قرآن کی حقانیت کی ہزارہا دلیلیں بھی دیکھ لیں لیکن نہیں مانیں گے۔ بلکہ اس سے اگلی کتاب پر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ انہیں اپنے اس قول کا مزہ اس وقت آئے گا جب اللہ کے سامنے جہنم کے کنارے کھڑے چھوٹے بڑوں کو، بڑے چھوٹوں کو الزام دیں گے۔ ہر ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرائے گا۔ تابعدار اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ تم ہمیں نہ روکتے تو ہم ضرور ایمان لائے ہوئے ہوتے، ان کے بزرگ انہیں جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں روکا تھا ؟ ہم نے ایک بات کہی تم جانتے تھے کہ یہ سب بےدلیل ہے دوسری جانب سے دلیلیوں کی برستی ہوئی بارش تمہاری آنکھوں کے سامنے تھی پھر تم نے اس کی پیروی چھوڑ کر ہماری کیوں مان لی ؟ یہ تو تمہاری اپنی بےعقلی تھی، تم خود شہوت پرست تھے، تمہارے اپنے دل اللہ کی باتوں سے بھاگتے تھے، رسولوں کی تابعداری خود تمہاری طبیعتوں پر شاق گذرتی تھی۔ سارا قصور تمہارا اپنا ہی ہے ہمیں کیا الزام دے رہے ہو ؟ اپنے بزرگوں کی مان لینے والے یہ بےدلیل انہیں پھر جواب دیں گے کہ تمہاری دن رات کی دھوکے بازیاں، جعل سازیاں، فریب کاریاں ہمیں اطمینان دلاتیں کہ ہمارے افعال اور عقائد ٹھیک ہیں، ہم سے بار بار شرک و کفر کے نہ چھوڑنے، پرانے دین کے نہ بدلنے، باپ دادوں کی روش پر قائم رہنے کو کہنا، ہماری کمر تھپکنا۔ ہماے ایمان سے رک جانے کا یہی سبب ہوا۔ تم ہی آ آ کر ہمیں عقلی ڈھکو سلے سنا کر اسلام سے روگرداں کرتے تھے۔ دونوں الزام بھی دیں گے۔ برات بھی کریں گے۔ لیکن دل میں اپنے کئے پر پچھتا رہے ہوں گے۔ ان سب کے ہاتھوں کو گردن سے ملا کر طوق و زنجیر سے جکڑ دیا جائے گا۔ اب ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا۔ گمراہ کرنے والوں کو بھی اور گمراہ ہونے والوں کو بھی۔ ہر ایک کو پورا پورا عذاب ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جہنمی جب ہنکا کر جہنم کے پاس پہنچائے جائیں گے تو جہنم کے ایک شعلے کی لپیٹ سے سارے جسم کا گوشت جھلس کر پیروں پر آپڑے گا۔ (ابن ابی حاتم) حسن بن یحییٰ خشنی فرماتے ہیں کہ جہنم کے ہر قید خانے، ہر غار، ہر زنجیر، ہر قید پر جہنمی کا نام لکھا ہوا ہے جب حضرت سلیمان دارانی کے سامنے یہ بیان ہوا تو آپ بہت روئے اور فرمانے لگے ہائے ہائے پھر کیا حال ہوگا اس کا جس پر یہ سب عذاب جمع ہوجائیں۔ پیروں میں بیڑیاں ہوں، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہوں، گردن میں طوق ہوں پھر جہنم کے غار میں دھکیل دیا جائے۔ اللہ تو بچانا پروردگار تو ہمیں سلامت رکھنا۔ اللھم سلم اللھم سلم

کافروں کی سرکشی۔ کافروں کی سرکشی اور باطل کی ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ قرآن کی حقانیت کی ہزارہا دلیلیں بھی دیکھ لیں لیکن نہیں مانیں گے۔ بلکہ اس سے اگلی کتاب پر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ انہیں اپنے اس قول کا مزہ اس وقت آئے گا جب اللہ کے سامنے جہنم کے کنارے کھڑے چھوٹے بڑوں کو، بڑے چھوٹوں کو الزام دیں گے۔ ہر ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرائے گا۔ تابعدار اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ تم ہمیں نہ روکتے تو ہم ضرور ایمان لائے ہوئے ہوتے، ان کے بزرگ انہیں جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں روکا تھا ؟ ہم نے ایک بات کہی تم جانتے تھے کہ یہ سب بےدلیل ہے دوسری جانب سے دلیلیوں کی برستی ہوئی بارش تمہاری آنکھوں کے سامنے تھی پھر تم نے اس کی پیروی چھوڑ کر ہماری کیوں مان لی ؟ یہ تو تمہاری اپنی بےعقلی تھی، تم خود شہوت پرست تھے، تمہارے اپنے دل اللہ کی باتوں سے بھاگتے تھے، رسولوں کی تابعداری خود تمہاری طبیعتوں پر شاق گذرتی تھی۔ سارا قصور تمہارا اپنا ہی ہے ہمیں کیا الزام دے رہے ہو ؟ اپنے بزرگوں کی مان لینے والے یہ بےدلیل انہیں پھر جواب دیں گے کہ تمہاری دن رات کی دھوکے بازیاں، جعل سازیاں، فریب کاریاں ہمیں اطمینان دلاتیں کہ ہمارے افعال اور عقائد ٹھیک ہیں، ہم سے بار بار شرک و کفر کے نہ چھوڑنے، پرانے دین کے نہ بدلنے، باپ دادوں کی روش پر قائم رہنے کو کہنا، ہماری کمر تھپکنا۔ ہماے ایمان سے رک جانے کا یہی سبب ہوا۔ تم ہی آ آ کر ہمیں عقلی ڈھکو سلے سنا کر اسلام سے روگرداں کرتے تھے۔ دونوں الزام بھی دیں گے۔ برات بھی کریں گے۔ لیکن دل میں اپنے کئے پر پچھتا رہے ہوں گے۔ ان سب کے ہاتھوں کو گردن سے ملا کر طوق و زنجیر سے جکڑ دیا جائے گا۔ اب ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا۔ گمراہ کرنے والوں کو بھی اور گمراہ ہونے والوں کو بھی۔ ہر ایک کو پورا پورا عذاب ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جہنمی جب ہنکا کر جہنم کے پاس پہنچائے جائیں گے تو جہنم کے ایک شعلے کی لپیٹ سے سارے جسم کا گوشت جھلس کر پیروں پر آپڑے گا۔ (ابن ابی حاتم) حسن بن یحییٰ خشنی فرماتے ہیں کہ جہنم کے ہر قید خانے، ہر غار، ہر زنجیر، ہر قید پر جہنمی کا نام لکھا ہوا ہے جب حضرت سلیمان دارانی کے سامنے یہ بیان ہوا تو آپ بہت روئے اور فرمانے لگے ہائے ہائے پھر کیا حال ہوگا اس کا جس پر یہ سب عذاب جمع ہوجائیں۔ پیروں میں بیڑیاں ہوں، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہوں، گردن میں طوق ہوں پھر جہنم کے غار میں دھکیل دیا جائے۔ اللہ تو بچانا پروردگار تو ہمیں سلامت رکھنا۔ اللھم سلم اللھم سلم

کافروں کی سرکشی۔ کافروں کی سرکشی اور باطل کی ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ قرآن کی حقانیت کی ہزارہا دلیلیں بھی دیکھ لیں لیکن نہیں مانیں گے۔ بلکہ اس سے اگلی کتاب پر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ انہیں اپنے اس قول کا مزہ اس وقت آئے گا جب اللہ کے سامنے جہنم کے کنارے کھڑے چھوٹے بڑوں کو، بڑے چھوٹوں کو الزام دیں گے۔ ہر ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرائے گا۔ تابعدار اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ تم ہمیں نہ روکتے تو ہم ضرور ایمان لائے ہوئے ہوتے، ان کے بزرگ انہیں جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں روکا تھا ؟ ہم نے ایک بات کہی تم جانتے تھے کہ یہ سب بےدلیل ہے دوسری جانب سے دلیلیوں کی برستی ہوئی بارش تمہاری آنکھوں کے سامنے تھی پھر تم نے اس کی پیروی چھوڑ کر ہماری کیوں مان لی ؟ یہ تو تمہاری اپنی بےعقلی تھی، تم خود شہوت پرست تھے، تمہارے اپنے دل اللہ کی باتوں سے بھاگتے تھے، رسولوں کی تابعداری خود تمہاری طبیعتوں پر شاق گذرتی تھی۔ سارا قصور تمہارا اپنا ہی ہے ہمیں کیا الزام دے رہے ہو ؟ اپنے بزرگوں کی مان لینے والے یہ بےدلیل انہیں پھر جواب دیں گے کہ تمہاری دن رات کی دھوکے بازیاں، جعل سازیاں، فریب کاریاں ہمیں اطمینان دلاتیں کہ ہمارے افعال اور عقائد ٹھیک ہیں، ہم سے بار بار شرک و کفر کے نہ چھوڑنے، پرانے دین کے نہ بدلنے، باپ دادوں کی روش پر قائم رہنے کو کہنا، ہماری کمر تھپکنا۔ ہماے ایمان سے رک جانے کا یہی سبب ہوا۔ تم ہی آ آ کر ہمیں عقلی ڈھکو سلے سنا کر اسلام سے روگرداں کرتے تھے۔ دونوں الزام بھی دیں گے۔ برات بھی کریں گے۔ لیکن دل میں اپنے کئے پر پچھتا رہے ہوں گے۔ ان سب کے ہاتھوں کو گردن سے ملا کر طوق و زنجیر سے جکڑ دیا جائے گا۔ اب ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا۔ گمراہ کرنے والوں کو بھی اور گمراہ ہونے والوں کو بھی۔ ہر ایک کو پورا پورا عذاب ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جہنمی جب ہنکا کر جہنم کے پاس پہنچائے جائیں گے تو جہنم کے ایک شعلے کی لپیٹ سے سارے جسم کا گوشت جھلس کر پیروں پر آپڑے گا۔ (ابن ابی حاتم) حسن بن یحییٰ خشنی فرماتے ہیں کہ جہنم کے ہر قید خانے، ہر غار، ہر زنجیر، ہر قید پر جہنمی کا نام لکھا ہوا ہے جب حضرت سلیمان دارانی کے سامنے یہ بیان ہوا تو آپ بہت روئے اور فرمانے لگے ہائے ہائے پھر کیا حال ہوگا اس کا جس پر یہ سب عذاب جمع ہوجائیں۔ پیروں میں بیڑیاں ہوں، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہوں، گردن میں طوق ہوں پھر جہنم کے غار میں دھکیل دیا جائے۔ اللہ تو بچانا پروردگار تو ہمیں سلامت رکھنا۔ اللھم سلم اللھم سلم

نبی اکرم کے لئے تسلیاں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے اور اگلے پیغمبروں کی سی سیرت رکھنے کو فرماتا ہے۔ فرماتا ہے کہ جس بستی میں جو رسول گیا اس کا مقابلہ ہوا۔ بڑے لوگوں نے کفر کیا، ہاں غربا نے تابعداری کی جیسے کہ قوم نوح نے اپنی نبی سے کہا تھا (قَالُـوْٓا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ01101ۭ) 26۔ الشعراء :111) ہم تجھ پر کیسے ایمان لائیں تیرے ماننے والے تو سب نیچے درجے کے لوگ ہیں۔ یہی مضمون دوسری آیت (وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ 27 ؀) 11۔ ھود :27) ، میں ہے۔ قوم صالح کے متکبر لوگ ضعیفوں سے کہتے ہیں (اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭقَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ 75؀) 7۔ الاعراف :75) کیا تمہیں حضرت صالح کے نبی ہونے کا یقین ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم تو مومن ہیں۔ تو متکبرین نے صاف کہا کہ ہم نہیں مانتے۔ اور آیت میں ہے (وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاۗءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا ۭ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ 53؀) 6۔ الانعام :53) ، یعنی اسی طرح ہم نے ایک کو دو سرے سے فتنے میں ڈالا تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم سب میں سے احسان کیا۔ کیا اللہ شکر گذاروں کو جاننے والا نہیں ؟ اور فرمایا ہر بستی میں وہاں کے بڑے لوگ مجرم اور مکار ہوتے ہیں اور فرمان ہے (وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا 16؀) 17۔ الإسراء :16) جب کسی بستی کی ہلاکت کا ہم ارادہ کرتے ہیں تو اس کے سرکش لوگوں کو کچھ احکام دیتے ہیں وہ نہیں مانتے پھر ہم انہیں ہلاک کردیتے ہیں۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ہم نے جس بستی میں کوئی نبی اور رسول بھیجا وہاں کے جاہ و حشمت شان و شوکت والے رئیسوں، امیروں، سرداروں اور بڑے لوگوں نے جھٹ اپنے کفر کا اعلان کردیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابو رزین فرماتے ہیں کہ دو شخص آپس میں شریک تھے ایک تو سمندر پار چلا گیا، ایک وہیں رہا جب آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے تو اس نے اپنے ساتھی سے لکھ کر دریافت کیا کہ حضور ﷺ کا کیا حال ہے ؟ اس نے جواب میں لکھا کہ گرے پڑے لوگوں نے اس کی بات مانی ہے۔ شریف قریشیوں نے اس کی اطاعت نہیں کی۔ اس خط کو پڑھ کر وہ اپنی تجارت چھوڑ چھاڑ کر سفر کر کے اپنے شریک کے پاس پہنچا۔ یہ پڑھا لکھا آدمی تھا، کتابوں کا علم اسے حاصل تھا۔ اس سے پوچھا کہ بتاؤ حضور ﷺ کہاں ہیں ؟ معلوم کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کس چیز کی طرف بلاتے ہیں ؟ آپ نے اسلام کے ارکان اس کے سامنے بیان فرمائے۔ وہ اسے سنتے ہی ایمان لے آیا۔ آپ نے فرمایا تمہیں اس کی تصدیق کیونکر ہوگئی ؟ اس نے کہا اس بات سے کہ تمام انبیاء کے ابتدائی ماننے والے ہمیشہ ضعیف مسکین لوگ ہی ہوتے ہیں۔ اس پر یہ آیتیں اتریں اور حضور ﷺ نے آدمی بھیج کر ان سے کہلوایا کہ تمہاری بات کی سچائی اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ اسی طرح ہرقل نے کہا تھا جب کہ اس نے ابو سفیان سے ان کی جاہلیت کی حالت میں آنحضرت ﷺ کی نسبت دریافت کیا تھا کہ کیا شریف لوگوں نے ان کی تابعداری کی ہے یا ضعیفوں نے ؟ تو ابو سفیان نے جواب دیا کہ ضعیفوں نے۔ اس پر ہرقل نے کہا تھا کہ ہر رسول کی اولاً تابعداری کرنے والے یہی ضعیف لوگ ہوتے ہیں، پھر فرمایا یہ خوش حال لوگ ومال و اولاد کی کثرت پر ہی فخر کرتے ہیں اور اسے اس بات کی دلیل بناتے ہیں کہ وہ پسندیدہ ہیں اللہ کے۔ اگر اللہ کی خاص عنایت و مہربانی ان پر نہ ہوتی تو انہیں یہ نعمتیں نہ دیتا اور جب یہاں رب مہربان ہے تو آخرت میں بھی وہ مہربان ہی رہے گا۔ قرآن نے ہر جگہ اس کا رد کیا ہے ایک جگہ فرمایا (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55؀ۙ) 23۔ المؤمنون :55) کیا ان کا خیال ہے کہ مال و اولادا کی اکثریت ان کے لئے بہتر ہے ؟ نہیں بلکہ برائی ہے لیکن یہ بےشعور ہیں۔ ایک اور آیت میں ہے (وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ 85؀) 9۔ التوبہ :85) ان کی مال و اولاد تجھے دھوکے میں نہ ڈالے اس سے انہیں دنیا میں بھی سزا ہوگی اور مرتے دم تک یہ کفر پر ہی رہیں گے اور آیات میں ہے (ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا 11 ۙ) 74۔ المدثر :11) یعنی مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دے جسے بہت سے فرزند دے رکھے ہیں اور ہر طرح کا عیش اس کے لئے مہیا کردیا ہے۔ تاہم اسے طمع ہے کہ میں اور زیادہ دوں۔ ایسا نہیں یہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے۔ زمانہ جانتا ہے کہ اسے میں دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھاؤں گا۔ اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہوا ہے جس کے دو باغ تھے، مال والا پھلوں والا اولاد والا تھا۔ لیکن کسی چیز نے کوئی فائدہ نہ دیا عذاب الٰہی سے سب چیزیں دنیا میں ہی تباہ اور خاک سیاہ ہوگئیں۔ اللہ جس کی روزی کشادہ کرنا چاہے، کشادہ کردیتا ہے اور جس کی روزی تنگ کرنا چاہے، تنگ کردیتا ہے۔ دنیا میں تو وہ اپنے دوستوں دشمنوں سب کو دیتا ہے۔ غنی یا فقیر ہونا اس کی رضامندی اور ناراضگی کی دلیل نہیں۔ بلکہ اس میں اور حکمتیں ہوتی ہیں۔ جنہیں اکثر لوگ جان نہیں سکتے، مال و اولاد کو ہماری عنایت کی دلیل بنانا غلطی ہے۔ یہ کوئی ہمارے پاس مرتبہ بڑھانے والی چیز نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے۔ (مسلم) ہاں اس کے پاس درجات دلانے والی چیز ایمان اور نیک اعمال ہیں۔ ان کی نیکیوں کے بدلے انہیں بہت بڑھا چڑھا کردیئے جائیں گے۔ ایک ایک نیکی دس دس گنا بلکہ سات سات سو گنا کر کے دی جائے گی۔ جنت کی بلند ترین منزلوں میں ہر ڈر خوف سے، غم سے پر امن ہوں گے۔ کوئی دکھ درد نہ ہوگا۔ ایذاء اور صدمہ نہ ہوگا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے اور باطن ظاہر سے نظر آتا ہے۔ ایک اعرابی نے کہا یہ بالا خانے کس کے لئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا جو نرم کلامی کرے، کھانا کھلائے، بکثرت روزے رکھے اور لوگوں کی نیند کے وقت تہجد پڑھے۔ (ابن ابی حاتم) جو لوگ اللہ کی راہ سے اوروں کو روکتے ہیں، رسولوں کی تابعداری سے لوگوں کو باز رکھتے ہیں، اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہیں کرتے، وہ جہنم کی سزا میں حاضر کئے جائیں گے اور برا بدلہ پائیں گے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے مطابق جسے چاہے بہت ساری دنیا دیتا ہے اور جسے چاہے بہت کم دیتا ہے کوئی سکھ چین میں ہے کوئی دکھ درد میں مبتلا ہے۔ رب کی حکمتوں کو کوئی نہیں جان سکتا اس کی مصلحتیں وہی خوب جانتا ہے۔ جیسے فرمایا (اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا 21؀) 17۔ الإسراء :21) تو دیکھ لے کہ ہم نے کس طرح ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے اور البتہ آخرت درجوں اور فضیلتوں میں بہت بڑی ہے۔ یعنی جس طرح فقر و غنا کے ساتھ درجوں کی اونچ نیچ یہاں ہے۔ اسی طرح آخرت میں بھی اعمال کے مطابق درجات و درکات ہوں گے۔ نیک لوگ تو جنتوں کے بلند وبالا خانوں میں اور بد لوگ جہنم کے نیچے کے طبقے کے جیل خانوں میں دنیا میں سب سے بہتر شخص رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق وہ ہے جو سچا مسلمان ہو اور بقدر کفایت روزی پاتا ہو اور اللہ کی طرف سے قناعت بھی دیا گیا ہو۔ (مسلم) اللہ کے حکم یا اس کی اباحت کے ماتحت تم جو کچھ خرچ کرو گے اس کا بدلہ وہ تمہیں دونوں جہان میں دے گا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ ہر صبح ایک فرشتہ دعا کرتا ہے کہ اللہ بخیل کے مال کو تلف اور برباد کر دوسرا دعا کرتا ہے اللہ خرچ کرنے والے کو نیک بدلہ دے۔ حضرت بلال ؓ سے ایک مرتبہ حضور ﷺ نے فرمایا بلال خرچ کر اور عرش والے کی طرف سے تنگی کا خیال بھی نہ کر۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمہارے اس زمانے کے بعد ایسا زمانہ آ رہا ہے جو کاٹ کھانے الا ہوگا۔ مال ہوگا لیکن مالدار نے گویا اپنے مال پر دانت گاڑے ہوئے ہوں گے کہ کہیں خرچ نہ ہوجائے۔ پھر حضور ﷺ نے اسی آیت میں (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُهٗ ۭ وَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ02700) 2۔ البقرة :270) کی تلاوت فرمائی اور حدیث میں ہے بدترین لوگ وہ ہیں جو بےبس اور مضطر لوگوں کی چیزیں کم داموں خریدتے پھریں۔ یاد رکھو ایسی بیع حرام ہے، مضطر کی بیع حرام ہے۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اسے رسوا کرے۔ اگر تجھ سے ہو سکے تو دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک اور بھلائی کر ورنہ اس کی ہلاکت کو تو نہ بڑھا (ابو یعلی موصلی) یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور ضعیف بھی ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہیں اس آیت کا غلط مطلب نہ لے لینا۔ اپنے مال کو خرچ کرنے میں میانہ روی کرنا۔ روزیاں بٹ چکی ہیں، رزق مقسوم ہے۔

نبی اکرم کے لئے تسلیاں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے اور اگلے پیغمبروں کی سی سیرت رکھنے کو فرماتا ہے۔ فرماتا ہے کہ جس بستی میں جو رسول گیا اس کا مقابلہ ہوا۔ بڑے لوگوں نے کفر کیا، ہاں غربا نے تابعداری کی جیسے کہ قوم نوح نے اپنی نبی سے کہا تھا (قَالُـوْٓا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ01101ۭ) 26۔ الشعراء :111) ہم تجھ پر کیسے ایمان لائیں تیرے ماننے والے تو سب نیچے درجے کے لوگ ہیں۔ یہی مضمون دوسری آیت (وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ 27 ؀) 11۔ ھود :27) ، میں ہے۔ قوم صالح کے متکبر لوگ ضعیفوں سے کہتے ہیں (اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭقَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ 75؀) 7۔ الاعراف :75) کیا تمہیں حضرت صالح کے نبی ہونے کا یقین ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم تو مومن ہیں۔ تو متکبرین نے صاف کہا کہ ہم نہیں مانتے۔ اور آیت میں ہے (وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاۗءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا ۭ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ 53؀) 6۔ الانعام :53) ، یعنی اسی طرح ہم نے ایک کو دو سرے سے فتنے میں ڈالا تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم سب میں سے احسان کیا۔ کیا اللہ شکر گذاروں کو جاننے والا نہیں ؟ اور فرمایا ہر بستی میں وہاں کے بڑے لوگ مجرم اور مکار ہوتے ہیں اور فرمان ہے (وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا 16؀) 17۔ الإسراء :16) جب کسی بستی کی ہلاکت کا ہم ارادہ کرتے ہیں تو اس کے سرکش لوگوں کو کچھ احکام دیتے ہیں وہ نہیں مانتے پھر ہم انہیں ہلاک کردیتے ہیں۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ہم نے جس بستی میں کوئی نبی اور رسول بھیجا وہاں کے جاہ و حشمت شان و شوکت والے رئیسوں، امیروں، سرداروں اور بڑے لوگوں نے جھٹ اپنے کفر کا اعلان کردیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابو رزین فرماتے ہیں کہ دو شخص آپس میں شریک تھے ایک تو سمندر پار چلا گیا، ایک وہیں رہا جب آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے تو اس نے اپنے ساتھی سے لکھ کر دریافت کیا کہ حضور ﷺ کا کیا حال ہے ؟ اس نے جواب میں لکھا کہ گرے پڑے لوگوں نے اس کی بات مانی ہے۔ شریف قریشیوں نے اس کی اطاعت نہیں کی۔ اس خط کو پڑھ کر وہ اپنی تجارت چھوڑ چھاڑ کر سفر کر کے اپنے شریک کے پاس پہنچا۔ یہ پڑھا لکھا آدمی تھا، کتابوں کا علم اسے حاصل تھا۔ اس سے پوچھا کہ بتاؤ حضور ﷺ کہاں ہیں ؟ معلوم کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کس چیز کی طرف بلاتے ہیں ؟ آپ نے اسلام کے ارکان اس کے سامنے بیان فرمائے۔ وہ اسے سنتے ہی ایمان لے آیا۔ آپ نے فرمایا تمہیں اس کی تصدیق کیونکر ہوگئی ؟ اس نے کہا اس بات سے کہ تمام انبیاء کے ابتدائی ماننے والے ہمیشہ ضعیف مسکین لوگ ہی ہوتے ہیں۔ اس پر یہ آیتیں اتریں اور حضور ﷺ نے آدمی بھیج کر ان سے کہلوایا کہ تمہاری بات کی سچائی اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ اسی طرح ہرقل نے کہا تھا جب کہ اس نے ابو سفیان سے ان کی جاہلیت کی حالت میں آنحضرت ﷺ کی نسبت دریافت کیا تھا کہ کیا شریف لوگوں نے ان کی تابعداری کی ہے یا ضعیفوں نے ؟ تو ابو سفیان نے جواب دیا کہ ضعیفوں نے۔ اس پر ہرقل نے کہا تھا کہ ہر رسول کی اولاً تابعداری کرنے والے یہی ضعیف لوگ ہوتے ہیں، پھر فرمایا یہ خوش حال لوگ ومال و اولاد کی کثرت پر ہی فخر کرتے ہیں اور اسے اس بات کی دلیل بناتے ہیں کہ وہ پسندیدہ ہیں اللہ کے۔ اگر اللہ کی خاص عنایت و مہربانی ان پر نہ ہوتی تو انہیں یہ نعمتیں نہ دیتا اور جب یہاں رب مہربان ہے تو آخرت میں بھی وہ مہربان ہی رہے گا۔ قرآن نے ہر جگہ اس کا رد کیا ہے ایک جگہ فرمایا (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55؀ۙ) 23۔ المؤمنون :55) کیا ان کا خیال ہے کہ مال و اولادا کی اکثریت ان کے لئے بہتر ہے ؟ نہیں بلکہ برائی ہے لیکن یہ بےشعور ہیں۔ ایک اور آیت میں ہے (وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ 85؀) 9۔ التوبہ :85) ان کی مال و اولاد تجھے دھوکے میں نہ ڈالے اس سے انہیں دنیا میں بھی سزا ہوگی اور مرتے دم تک یہ کفر پر ہی رہیں گے اور آیات میں ہے (ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا 11 ۙ) 74۔ المدثر :11) یعنی مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دے جسے بہت سے فرزند دے رکھے ہیں اور ہر طرح کا عیش اس کے لئے مہیا کردیا ہے۔ تاہم اسے طمع ہے کہ میں اور زیادہ دوں۔ ایسا نہیں یہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے۔ زمانہ جانتا ہے کہ اسے میں دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھاؤں گا۔ اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہوا ہے جس کے دو باغ تھے، مال والا پھلوں والا اولاد والا تھا۔ لیکن کسی چیز نے کوئی فائدہ نہ دیا عذاب الٰہی سے سب چیزیں دنیا میں ہی تباہ اور خاک سیاہ ہوگئیں۔ اللہ جس کی روزی کشادہ کرنا چاہے، کشادہ کردیتا ہے اور جس کی روزی تنگ کرنا چاہے، تنگ کردیتا ہے۔ دنیا میں تو وہ اپنے دوستوں دشمنوں سب کو دیتا ہے۔ غنی یا فقیر ہونا اس کی رضامندی اور ناراضگی کی دلیل نہیں۔ بلکہ اس میں اور حکمتیں ہوتی ہیں۔ جنہیں اکثر لوگ جان نہیں سکتے، مال و اولاد کو ہماری عنایت کی دلیل بنانا غلطی ہے۔ یہ کوئی ہمارے پاس مرتبہ بڑھانے والی چیز نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے۔ (مسلم) ہاں اس کے پاس درجات دلانے والی چیز ایمان اور نیک اعمال ہیں۔ ان کی نیکیوں کے بدلے انہیں بہت بڑھا چڑھا کردیئے جائیں گے۔ ایک ایک نیکی دس دس گنا بلکہ سات سات سو گنا کر کے دی جائے گی۔ جنت کی بلند ترین منزلوں میں ہر ڈر خوف سے، غم سے پر امن ہوں گے۔ کوئی دکھ درد نہ ہوگا۔ ایذاء اور صدمہ نہ ہوگا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے اور باطن ظاہر سے نظر آتا ہے۔ ایک اعرابی نے کہا یہ بالا خانے کس کے لئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا جو نرم کلامی کرے، کھانا کھلائے، بکثرت روزے رکھے اور لوگوں کی نیند کے وقت تہجد پڑھے۔ (ابن ابی حاتم) جو لوگ اللہ کی راہ سے اوروں کو روکتے ہیں، رسولوں کی تابعداری سے لوگوں کو باز رکھتے ہیں، اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہیں کرتے، وہ جہنم کی سزا میں حاضر کئے جائیں گے اور برا بدلہ پائیں گے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے مطابق جسے چاہے بہت ساری دنیا دیتا ہے اور جسے چاہے بہت کم دیتا ہے کوئی سکھ چین میں ہے کوئی دکھ درد میں مبتلا ہے۔ رب کی حکمتوں کو کوئی نہیں جان سکتا اس کی مصلحتیں وہی خوب جانتا ہے۔ جیسے فرمایا (اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا 21؀) 17۔ الإسراء :21) تو دیکھ لے کہ ہم نے کس طرح ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے اور البتہ آخرت درجوں اور فضیلتوں میں بہت بڑی ہے۔ یعنی جس طرح فقر و غنا کے ساتھ درجوں کی اونچ نیچ یہاں ہے۔ اسی طرح آخرت میں بھی اعمال کے مطابق درجات و درکات ہوں گے۔ نیک لوگ تو جنتوں کے بلند وبالا خانوں میں اور بد لوگ جہنم کے نیچے کے طبقے کے جیل خانوں میں دنیا میں سب سے بہتر شخص رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق وہ ہے جو سچا مسلمان ہو اور بقدر کفایت روزی پاتا ہو اور اللہ کی طرف سے قناعت بھی دیا گیا ہو۔ (مسلم) اللہ کے حکم یا اس کی اباحت کے ماتحت تم جو کچھ خرچ کرو گے اس کا بدلہ وہ تمہیں دونوں جہان میں دے گا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ ہر صبح ایک فرشتہ دعا کرتا ہے کہ اللہ بخیل کے مال کو تلف اور برباد کر دوسرا دعا کرتا ہے اللہ خرچ کرنے والے کو نیک بدلہ دے۔ حضرت بلال ؓ سے ایک مرتبہ حضور ﷺ نے فرمایا بلال خرچ کر اور عرش والے کی طرف سے تنگی کا خیال بھی نہ کر۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمہارے اس زمانے کے بعد ایسا زمانہ آ رہا ہے جو کاٹ کھانے الا ہوگا۔ مال ہوگا لیکن مالدار نے گویا اپنے مال پر دانت گاڑے ہوئے ہوں گے کہ کہیں خرچ نہ ہوجائے۔ پھر حضور ﷺ نے اسی آیت میں (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُهٗ ۭ وَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ02700) 2۔ البقرة :270) کی تلاوت فرمائی اور حدیث میں ہے بدترین لوگ وہ ہیں جو بےبس اور مضطر لوگوں کی چیزیں کم داموں خریدتے پھریں۔ یاد رکھو ایسی بیع حرام ہے، مضطر کی بیع حرام ہے۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اسے رسوا کرے۔ اگر تجھ سے ہو سکے تو دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک اور بھلائی کر ورنہ اس کی ہلاکت کو تو نہ بڑھا (ابو یعلی موصلی) یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور ضعیف بھی ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہیں اس آیت کا غلط مطلب نہ لے لینا۔ اپنے مال کو خرچ کرنے میں میانہ روی کرنا۔ روزیاں بٹ چکی ہیں، رزق مقسوم ہے۔

نبی اکرم کے لئے تسلیاں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے اور اگلے پیغمبروں کی سی سیرت رکھنے کو فرماتا ہے۔ فرماتا ہے کہ جس بستی میں جو رسول گیا اس کا مقابلہ ہوا۔ بڑے لوگوں نے کفر کیا، ہاں غربا نے تابعداری کی جیسے کہ قوم نوح نے اپنی نبی سے کہا تھا (قَالُـوْٓا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ01101ۭ) 26۔ الشعراء :111) ہم تجھ پر کیسے ایمان لائیں تیرے ماننے والے تو سب نیچے درجے کے لوگ ہیں۔ یہی مضمون دوسری آیت (وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ 27 ؀) 11۔ ھود :27) ، میں ہے۔ قوم صالح کے متکبر لوگ ضعیفوں سے کہتے ہیں (اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭقَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ 75؀) 7۔ الاعراف :75) کیا تمہیں حضرت صالح کے نبی ہونے کا یقین ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم تو مومن ہیں۔ تو متکبرین نے صاف کہا کہ ہم نہیں مانتے۔ اور آیت میں ہے (وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاۗءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا ۭ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ 53؀) 6۔ الانعام :53) ، یعنی اسی طرح ہم نے ایک کو دو سرے سے فتنے میں ڈالا تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم سب میں سے احسان کیا۔ کیا اللہ شکر گذاروں کو جاننے والا نہیں ؟ اور فرمایا ہر بستی میں وہاں کے بڑے لوگ مجرم اور مکار ہوتے ہیں اور فرمان ہے (وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا 16؀) 17۔ الإسراء :16) جب کسی بستی کی ہلاکت کا ہم ارادہ کرتے ہیں تو اس کے سرکش لوگوں کو کچھ احکام دیتے ہیں وہ نہیں مانتے پھر ہم انہیں ہلاک کردیتے ہیں۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ہم نے جس بستی میں کوئی نبی اور رسول بھیجا وہاں کے جاہ و حشمت شان و شوکت والے رئیسوں، امیروں، سرداروں اور بڑے لوگوں نے جھٹ اپنے کفر کا اعلان کردیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابو رزین فرماتے ہیں کہ دو شخص آپس میں شریک تھے ایک تو سمندر پار چلا گیا، ایک وہیں رہا جب آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے تو اس نے اپنے ساتھی سے لکھ کر دریافت کیا کہ حضور ﷺ کا کیا حال ہے ؟ اس نے جواب میں لکھا کہ گرے پڑے لوگوں نے اس کی بات مانی ہے۔ شریف قریشیوں نے اس کی اطاعت نہیں کی۔ اس خط کو پڑھ کر وہ اپنی تجارت چھوڑ چھاڑ کر سفر کر کے اپنے شریک کے پاس پہنچا۔ یہ پڑھا لکھا آدمی تھا، کتابوں کا علم اسے حاصل تھا۔ اس سے پوچھا کہ بتاؤ حضور ﷺ کہاں ہیں ؟ معلوم کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کس چیز کی طرف بلاتے ہیں ؟ آپ نے اسلام کے ارکان اس کے سامنے بیان فرمائے۔ وہ اسے سنتے ہی ایمان لے آیا۔ آپ نے فرمایا تمہیں اس کی تصدیق کیونکر ہوگئی ؟ اس نے کہا اس بات سے کہ تمام انبیاء کے ابتدائی ماننے والے ہمیشہ ضعیف مسکین لوگ ہی ہوتے ہیں۔ اس پر یہ آیتیں اتریں اور حضور ﷺ نے آدمی بھیج کر ان سے کہلوایا کہ تمہاری بات کی سچائی اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ اسی طرح ہرقل نے کہا تھا جب کہ اس نے ابو سفیان سے ان کی جاہلیت کی حالت میں آنحضرت ﷺ کی نسبت دریافت کیا تھا کہ کیا شریف لوگوں نے ان کی تابعداری کی ہے یا ضعیفوں نے ؟ تو ابو سفیان نے جواب دیا کہ ضعیفوں نے۔ اس پر ہرقل نے کہا تھا کہ ہر رسول کی اولاً تابعداری کرنے والے یہی ضعیف لوگ ہوتے ہیں، پھر فرمایا یہ خوش حال لوگ ومال و اولاد کی کثرت پر ہی فخر کرتے ہیں اور اسے اس بات کی دلیل بناتے ہیں کہ وہ پسندیدہ ہیں اللہ کے۔ اگر اللہ کی خاص عنایت و مہربانی ان پر نہ ہوتی تو انہیں یہ نعمتیں نہ دیتا اور جب یہاں رب مہربان ہے تو آخرت میں بھی وہ مہربان ہی رہے گا۔ قرآن نے ہر جگہ اس کا رد کیا ہے ایک جگہ فرمایا (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55؀ۙ) 23۔ المؤمنون :55) کیا ان کا خیال ہے کہ مال و اولادا کی اکثریت ان کے لئے بہتر ہے ؟ نہیں بلکہ برائی ہے لیکن یہ بےشعور ہیں۔ ایک اور آیت میں ہے (وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ 85؀) 9۔ التوبہ :85) ان کی مال و اولاد تجھے دھوکے میں نہ ڈالے اس سے انہیں دنیا میں بھی سزا ہوگی اور مرتے دم تک یہ کفر پر ہی رہیں گے اور آیات میں ہے (ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا 11 ۙ) 74۔ المدثر :11) یعنی مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دے جسے بہت سے فرزند دے رکھے ہیں اور ہر طرح کا عیش اس کے لئے مہیا کردیا ہے۔ تاہم اسے طمع ہے کہ میں اور زیادہ دوں۔ ایسا نہیں یہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے۔ زمانہ جانتا ہے کہ اسے میں دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھاؤں گا۔ اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہوا ہے جس کے دو باغ تھے، مال والا پھلوں والا اولاد والا تھا۔ لیکن کسی چیز نے کوئی فائدہ نہ دیا عذاب الٰہی سے سب چیزیں دنیا میں ہی تباہ اور خاک سیاہ ہوگئیں۔ اللہ جس کی روزی کشادہ کرنا چاہے، کشادہ کردیتا ہے اور جس کی روزی تنگ کرنا چاہے، تنگ کردیتا ہے۔ دنیا میں تو وہ اپنے دوستوں دشمنوں سب کو دیتا ہے۔ غنی یا فقیر ہونا اس کی رضامندی اور ناراضگی کی دلیل نہیں۔ بلکہ اس میں اور حکمتیں ہوتی ہیں۔ جنہیں اکثر لوگ جان نہیں سکتے، مال و اولاد کو ہماری عنایت کی دلیل بنانا غلطی ہے۔ یہ کوئی ہمارے پاس مرتبہ بڑھانے والی چیز نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے۔ (مسلم) ہاں اس کے پاس درجات دلانے والی چیز ایمان اور نیک اعمال ہیں۔ ان کی نیکیوں کے بدلے انہیں بہت بڑھا چڑھا کردیئے جائیں گے۔ ایک ایک نیکی دس دس گنا بلکہ سات سات سو گنا کر کے دی جائے گی۔ جنت کی بلند ترین منزلوں میں ہر ڈر خوف سے، غم سے پر امن ہوں گے۔ کوئی دکھ درد نہ ہوگا۔ ایذاء اور صدمہ نہ ہوگا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے اور باطن ظاہر سے نظر آتا ہے۔ ایک اعرابی نے کہا یہ بالا خانے کس کے لئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا جو نرم کلامی کرے، کھانا کھلائے، بکثرت روزے رکھے اور لوگوں کی نیند کے وقت تہجد پڑھے۔ (ابن ابی حاتم) جو لوگ اللہ کی راہ سے اوروں کو روکتے ہیں، رسولوں کی تابعداری سے لوگوں کو باز رکھتے ہیں، اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہیں کرتے، وہ جہنم کی سزا میں حاضر کئے جائیں گے اور برا بدلہ پائیں گے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے مطابق جسے چاہے بہت ساری دنیا دیتا ہے اور جسے چاہے بہت کم دیتا ہے کوئی سکھ چین میں ہے کوئی دکھ درد میں مبتلا ہے۔ رب کی حکمتوں کو کوئی نہیں جان سکتا اس کی مصلحتیں وہی خوب جانتا ہے۔ جیسے فرمایا (اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا 21؀) 17۔ الإسراء :21) تو دیکھ لے کہ ہم نے کس طرح ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے اور البتہ آخرت درجوں اور فضیلتوں میں بہت بڑی ہے۔ یعنی جس طرح فقر و غنا کے ساتھ درجوں کی اونچ نیچ یہاں ہے۔ اسی طرح آخرت میں بھی اعمال کے مطابق درجات و درکات ہوں گے۔ نیک لوگ تو جنتوں کے بلند وبالا خانوں میں اور بد لوگ جہنم کے نیچے کے طبقے کے جیل خانوں میں دنیا میں سب سے بہتر شخص رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق وہ ہے جو سچا مسلمان ہو اور بقدر کفایت روزی پاتا ہو اور اللہ کی طرف سے قناعت بھی دیا گیا ہو۔ (مسلم) اللہ کے حکم یا اس کی اباحت کے ماتحت تم جو کچھ خرچ کرو گے اس کا بدلہ وہ تمہیں دونوں جہان میں دے گا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ ہر صبح ایک فرشتہ دعا کرتا ہے کہ اللہ بخیل کے مال کو تلف اور برباد کر دوسرا دعا کرتا ہے اللہ خرچ کرنے والے کو نیک بدلہ دے۔ حضرت بلال ؓ سے ایک مرتبہ حضور ﷺ نے فرمایا بلال خرچ کر اور عرش والے کی طرف سے تنگی کا خیال بھی نہ کر۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمہارے اس زمانے کے بعد ایسا زمانہ آ رہا ہے جو کاٹ کھانے الا ہوگا۔ مال ہوگا لیکن مالدار نے گویا اپنے مال پر دانت گاڑے ہوئے ہوں گے کہ کہیں خرچ نہ ہوجائے۔ پھر حضور ﷺ نے اسی آیت میں (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُهٗ ۭ وَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ02700) 2۔ البقرة :270) کی تلاوت فرمائی اور حدیث میں ہے بدترین لوگ وہ ہیں جو بےبس اور مضطر لوگوں کی چیزیں کم داموں خریدتے پھریں۔ یاد رکھو ایسی بیع حرام ہے، مضطر کی بیع حرام ہے۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اسے رسوا کرے۔ اگر تجھ سے ہو سکے تو دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک اور بھلائی کر ورنہ اس کی ہلاکت کو تو نہ بڑھا (ابو یعلی موصلی) یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور ضعیف بھی ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہیں اس آیت کا غلط مطلب نہ لے لینا۔ اپنے مال کو خرچ کرنے میں میانہ روی کرنا۔ روزیاں بٹ چکی ہیں، رزق مقسوم ہے۔

نبی اکرم کے لئے تسلیاں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے اور اگلے پیغمبروں کی سی سیرت رکھنے کو فرماتا ہے۔ فرماتا ہے کہ جس بستی میں جو رسول گیا اس کا مقابلہ ہوا۔ بڑے لوگوں نے کفر کیا، ہاں غربا نے تابعداری کی جیسے کہ قوم نوح نے اپنی نبی سے کہا تھا (قَالُـوْٓا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ01101ۭ) 26۔ الشعراء :111) ہم تجھ پر کیسے ایمان لائیں تیرے ماننے والے تو سب نیچے درجے کے لوگ ہیں۔ یہی مضمون دوسری آیت (وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ 27 ؀) 11۔ ھود :27) ، میں ہے۔ قوم صالح کے متکبر لوگ ضعیفوں سے کہتے ہیں (اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭقَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ 75؀) 7۔ الاعراف :75) کیا تمہیں حضرت صالح کے نبی ہونے کا یقین ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم تو مومن ہیں۔ تو متکبرین نے صاف کہا کہ ہم نہیں مانتے۔ اور آیت میں ہے (وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاۗءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا ۭ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ 53؀) 6۔ الانعام :53) ، یعنی اسی طرح ہم نے ایک کو دو سرے سے فتنے میں ڈالا تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم سب میں سے احسان کیا۔ کیا اللہ شکر گذاروں کو جاننے والا نہیں ؟ اور فرمایا ہر بستی میں وہاں کے بڑے لوگ مجرم اور مکار ہوتے ہیں اور فرمان ہے (وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا 16؀) 17۔ الإسراء :16) جب کسی بستی کی ہلاکت کا ہم ارادہ کرتے ہیں تو اس کے سرکش لوگوں کو کچھ احکام دیتے ہیں وہ نہیں مانتے پھر ہم انہیں ہلاک کردیتے ہیں۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ہم نے جس بستی میں کوئی نبی اور رسول بھیجا وہاں کے جاہ و حشمت شان و شوکت والے رئیسوں، امیروں، سرداروں اور بڑے لوگوں نے جھٹ اپنے کفر کا اعلان کردیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابو رزین فرماتے ہیں کہ دو شخص آپس میں شریک تھے ایک تو سمندر پار چلا گیا، ایک وہیں رہا جب آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے تو اس نے اپنے ساتھی سے لکھ کر دریافت کیا کہ حضور ﷺ کا کیا حال ہے ؟ اس نے جواب میں لکھا کہ گرے پڑے لوگوں نے اس کی بات مانی ہے۔ شریف قریشیوں نے اس کی اطاعت نہیں کی۔ اس خط کو پڑھ کر وہ اپنی تجارت چھوڑ چھاڑ کر سفر کر کے اپنے شریک کے پاس پہنچا۔ یہ پڑھا لکھا آدمی تھا، کتابوں کا علم اسے حاصل تھا۔ اس سے پوچھا کہ بتاؤ حضور ﷺ کہاں ہیں ؟ معلوم کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کس چیز کی طرف بلاتے ہیں ؟ آپ نے اسلام کے ارکان اس کے سامنے بیان فرمائے۔ وہ اسے سنتے ہی ایمان لے آیا۔ آپ نے فرمایا تمہیں اس کی تصدیق کیونکر ہوگئی ؟ اس نے کہا اس بات سے کہ تمام انبیاء کے ابتدائی ماننے والے ہمیشہ ضعیف مسکین لوگ ہی ہوتے ہیں۔ اس پر یہ آیتیں اتریں اور حضور ﷺ نے آدمی بھیج کر ان سے کہلوایا کہ تمہاری بات کی سچائی اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ اسی طرح ہرقل نے کہا تھا جب کہ اس نے ابو سفیان سے ان کی جاہلیت کی حالت میں آنحضرت ﷺ کی نسبت دریافت کیا تھا کہ کیا شریف لوگوں نے ان کی تابعداری کی ہے یا ضعیفوں نے ؟ تو ابو سفیان نے جواب دیا کہ ضعیفوں نے۔ اس پر ہرقل نے کہا تھا کہ ہر رسول کی اولاً تابعداری کرنے والے یہی ضعیف لوگ ہوتے ہیں، پھر فرمایا یہ خوش حال لوگ ومال و اولاد کی کثرت پر ہی فخر کرتے ہیں اور اسے اس بات کی دلیل بناتے ہیں کہ وہ پسندیدہ ہیں اللہ کے۔ اگر اللہ کی خاص عنایت و مہربانی ان پر نہ ہوتی تو انہیں یہ نعمتیں نہ دیتا اور جب یہاں رب مہربان ہے تو آخرت میں بھی وہ مہربان ہی رہے گا۔ قرآن نے ہر جگہ اس کا رد کیا ہے ایک جگہ فرمایا (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55؀ۙ) 23۔ المؤمنون :55) کیا ان کا خیال ہے کہ مال و اولادا کی اکثریت ان کے لئے بہتر ہے ؟ نہیں بلکہ برائی ہے لیکن یہ بےشعور ہیں۔ ایک اور آیت میں ہے (وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ 85؀) 9۔ التوبہ :85) ان کی مال و اولاد تجھے دھوکے میں نہ ڈالے اس سے انہیں دنیا میں بھی سزا ہوگی اور مرتے دم تک یہ کفر پر ہی رہیں گے اور آیات میں ہے (ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا 11 ۙ) 74۔ المدثر :11) یعنی مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دے جسے بہت سے فرزند دے رکھے ہیں اور ہر طرح کا عیش اس کے لئے مہیا کردیا ہے۔ تاہم اسے طمع ہے کہ میں اور زیادہ دوں۔ ایسا نہیں یہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے۔ زمانہ جانتا ہے کہ اسے میں دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھاؤں گا۔ اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہوا ہے جس کے دو باغ تھے، مال والا پھلوں والا اولاد والا تھا۔ لیکن کسی چیز نے کوئی فائدہ نہ دیا عذاب الٰہی سے سب چیزیں دنیا میں ہی تباہ اور خاک سیاہ ہوگئیں۔ اللہ جس کی روزی کشادہ کرنا چاہے، کشادہ کردیتا ہے اور جس کی روزی تنگ کرنا چاہے، تنگ کردیتا ہے۔ دنیا میں تو وہ اپنے دوستوں دشمنوں سب کو دیتا ہے۔ غنی یا فقیر ہونا اس کی رضامندی اور ناراضگی کی دلیل نہیں۔ بلکہ اس میں اور حکمتیں ہوتی ہیں۔ جنہیں اکثر لوگ جان نہیں سکتے، مال و اولاد کو ہماری عنایت کی دلیل بنانا غلطی ہے۔ یہ کوئی ہمارے پاس مرتبہ بڑھانے والی چیز نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے۔ (مسلم) ہاں اس کے پاس درجات دلانے والی چیز ایمان اور نیک اعمال ہیں۔ ان کی نیکیوں کے بدلے انہیں بہت بڑھا چڑھا کردیئے جائیں گے۔ ایک ایک نیکی دس دس گنا بلکہ سات سات سو گنا کر کے دی جائے گی۔ جنت کی بلند ترین منزلوں میں ہر ڈر خوف سے، غم سے پر امن ہوں گے۔ کوئی دکھ درد نہ ہوگا۔ ایذاء اور صدمہ نہ ہوگا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے اور باطن ظاہر سے نظر آتا ہے۔ ایک اعرابی نے کہا یہ بالا خانے کس کے لئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا جو نرم کلامی کرے، کھانا کھلائے، بکثرت روزے رکھے اور لوگوں کی نیند کے وقت تہجد پڑھے۔ (ابن ابی حاتم) جو لوگ اللہ کی راہ سے اوروں کو روکتے ہیں، رسولوں کی تابعداری سے لوگوں کو باز رکھتے ہیں، اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہیں کرتے، وہ جہنم کی سزا میں حاضر کئے جائیں گے اور برا بدلہ پائیں گے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے مطابق جسے چاہے بہت ساری دنیا دیتا ہے اور جسے چاہے بہت کم دیتا ہے کوئی سکھ چین میں ہے کوئی دکھ درد میں مبتلا ہے۔ رب کی حکمتوں کو کوئی نہیں جان سکتا اس کی مصلحتیں وہی خوب جانتا ہے۔ جیسے فرمایا (اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا 21؀) 17۔ الإسراء :21) تو دیکھ لے کہ ہم نے کس طرح ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے اور البتہ آخرت درجوں اور فضیلتوں میں بہت بڑی ہے۔ یعنی جس طرح فقر و غنا کے ساتھ درجوں کی اونچ نیچ یہاں ہے۔ اسی طرح آخرت میں بھی اعمال کے مطابق درجات و درکات ہوں گے۔ نیک لوگ تو جنتوں کے بلند وبالا خانوں میں اور بد لوگ جہنم کے نیچے کے طبقے کے جیل خانوں میں دنیا میں سب سے بہتر شخص رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق وہ ہے جو سچا مسلمان ہو اور بقدر کفایت روزی پاتا ہو اور اللہ کی طرف سے قناعت بھی دیا گیا ہو۔ (مسلم) اللہ کے حکم یا اس کی اباحت کے ماتحت تم جو کچھ خرچ کرو گے اس کا بدلہ وہ تمہیں دونوں جہان میں دے گا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ ہر صبح ایک فرشتہ دعا کرتا ہے کہ اللہ بخیل کے مال کو تلف اور برباد کر دوسرا دعا کرتا ہے اللہ خرچ کرنے والے کو نیک بدلہ دے۔ حضرت بلال ؓ سے ایک مرتبہ حضور ﷺ نے فرمایا بلال خرچ کر اور عرش والے کی طرف سے تنگی کا خیال بھی نہ کر۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمہارے اس زمانے کے بعد ایسا زمانہ آ رہا ہے جو کاٹ کھانے الا ہوگا۔ مال ہوگا لیکن مالدار نے گویا اپنے مال پر دانت گاڑے ہوئے ہوں گے کہ کہیں خرچ نہ ہوجائے۔ پھر حضور ﷺ نے اسی آیت میں (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُهٗ ۭ وَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ02700) 2۔ البقرة :270) کی تلاوت فرمائی اور حدیث میں ہے بدترین لوگ وہ ہیں جو بےبس اور مضطر لوگوں کی چیزیں کم داموں خریدتے پھریں۔ یاد رکھو ایسی بیع حرام ہے، مضطر کی بیع حرام ہے۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اسے رسوا کرے۔ اگر تجھ سے ہو سکے تو دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک اور بھلائی کر ورنہ اس کی ہلاکت کو تو نہ بڑھا (ابو یعلی موصلی) یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور ضعیف بھی ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہیں اس آیت کا غلط مطلب نہ لے لینا۔ اپنے مال کو خرچ کرنے میں میانہ روی کرنا۔ روزیاں بٹ چکی ہیں، رزق مقسوم ہے۔

نبی اکرم کے لئے تسلیاں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے اور اگلے پیغمبروں کی سی سیرت رکھنے کو فرماتا ہے۔ فرماتا ہے کہ جس بستی میں جو رسول گیا اس کا مقابلہ ہوا۔ بڑے لوگوں نے کفر کیا، ہاں غربا نے تابعداری کی جیسے کہ قوم نوح نے اپنی نبی سے کہا تھا (قَالُـوْٓا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ01101ۭ) 26۔ الشعراء :111) ہم تجھ پر کیسے ایمان لائیں تیرے ماننے والے تو سب نیچے درجے کے لوگ ہیں۔ یہی مضمون دوسری آیت (وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ 27 ؀) 11۔ ھود :27) ، میں ہے۔ قوم صالح کے متکبر لوگ ضعیفوں سے کہتے ہیں (اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭقَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ 75؀) 7۔ الاعراف :75) کیا تمہیں حضرت صالح کے نبی ہونے کا یقین ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم تو مومن ہیں۔ تو متکبرین نے صاف کہا کہ ہم نہیں مانتے۔ اور آیت میں ہے (وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاۗءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا ۭ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ 53؀) 6۔ الانعام :53) ، یعنی اسی طرح ہم نے ایک کو دو سرے سے فتنے میں ڈالا تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم سب میں سے احسان کیا۔ کیا اللہ شکر گذاروں کو جاننے والا نہیں ؟ اور فرمایا ہر بستی میں وہاں کے بڑے لوگ مجرم اور مکار ہوتے ہیں اور فرمان ہے (وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا 16؀) 17۔ الإسراء :16) جب کسی بستی کی ہلاکت کا ہم ارادہ کرتے ہیں تو اس کے سرکش لوگوں کو کچھ احکام دیتے ہیں وہ نہیں مانتے پھر ہم انہیں ہلاک کردیتے ہیں۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ہم نے جس بستی میں کوئی نبی اور رسول بھیجا وہاں کے جاہ و حشمت شان و شوکت والے رئیسوں، امیروں، سرداروں اور بڑے لوگوں نے جھٹ اپنے کفر کا اعلان کردیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابو رزین فرماتے ہیں کہ دو شخص آپس میں شریک تھے ایک تو سمندر پار چلا گیا، ایک وہیں رہا جب آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے تو اس نے اپنے ساتھی سے لکھ کر دریافت کیا کہ حضور ﷺ کا کیا حال ہے ؟ اس نے جواب میں لکھا کہ گرے پڑے لوگوں نے اس کی بات مانی ہے۔ شریف قریشیوں نے اس کی اطاعت نہیں کی۔ اس خط کو پڑھ کر وہ اپنی تجارت چھوڑ چھاڑ کر سفر کر کے اپنے شریک کے پاس پہنچا۔ یہ پڑھا لکھا آدمی تھا، کتابوں کا علم اسے حاصل تھا۔ اس سے پوچھا کہ بتاؤ حضور ﷺ کہاں ہیں ؟ معلوم کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کس چیز کی طرف بلاتے ہیں ؟ آپ نے اسلام کے ارکان اس کے سامنے بیان فرمائے۔ وہ اسے سنتے ہی ایمان لے آیا۔ آپ نے فرمایا تمہیں اس کی تصدیق کیونکر ہوگئی ؟ اس نے کہا اس بات سے کہ تمام انبیاء کے ابتدائی ماننے والے ہمیشہ ضعیف مسکین لوگ ہی ہوتے ہیں۔ اس پر یہ آیتیں اتریں اور حضور ﷺ نے آدمی بھیج کر ان سے کہلوایا کہ تمہاری بات کی سچائی اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ اسی طرح ہرقل نے کہا تھا جب کہ اس نے ابو سفیان سے ان کی جاہلیت کی حالت میں آنحضرت ﷺ کی نسبت دریافت کیا تھا کہ کیا شریف لوگوں نے ان کی تابعداری کی ہے یا ضعیفوں نے ؟ تو ابو سفیان نے جواب دیا کہ ضعیفوں نے۔ اس پر ہرقل نے کہا تھا کہ ہر رسول کی اولاً تابعداری کرنے والے یہی ضعیف لوگ ہوتے ہیں، پھر فرمایا یہ خوش حال لوگ ومال و اولاد کی کثرت پر ہی فخر کرتے ہیں اور اسے اس بات کی دلیل بناتے ہیں کہ وہ پسندیدہ ہیں اللہ کے۔ اگر اللہ کی خاص عنایت و مہربانی ان پر نہ ہوتی تو انہیں یہ نعمتیں نہ دیتا اور جب یہاں رب مہربان ہے تو آخرت میں بھی وہ مہربان ہی رہے گا۔ قرآن نے ہر جگہ اس کا رد کیا ہے ایک جگہ فرمایا (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55؀ۙ) 23۔ المؤمنون :55) کیا ان کا خیال ہے کہ مال و اولادا کی اکثریت ان کے لئے بہتر ہے ؟ نہیں بلکہ برائی ہے لیکن یہ بےشعور ہیں۔ ایک اور آیت میں ہے (وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ 85؀) 9۔ التوبہ :85) ان کی مال و اولاد تجھے دھوکے میں نہ ڈالے اس سے انہیں دنیا میں بھی سزا ہوگی اور مرتے دم تک یہ کفر پر ہی رہیں گے اور آیات میں ہے (ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا 11 ۙ) 74۔ المدثر :11) یعنی مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دے جسے بہت سے فرزند دے رکھے ہیں اور ہر طرح کا عیش اس کے لئے مہیا کردیا ہے۔ تاہم اسے طمع ہے کہ میں اور زیادہ دوں۔ ایسا نہیں یہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے۔ زمانہ جانتا ہے کہ اسے میں دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھاؤں گا۔ اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہوا ہے جس کے دو باغ تھے، مال والا پھلوں والا اولاد والا تھا۔ لیکن کسی چیز نے کوئی فائدہ نہ دیا عذاب الٰہی سے سب چیزیں دنیا میں ہی تباہ اور خاک سیاہ ہوگئیں۔ اللہ جس کی روزی کشادہ کرنا چاہے، کشادہ کردیتا ہے اور جس کی روزی تنگ کرنا چاہے، تنگ کردیتا ہے۔ دنیا میں تو وہ اپنے دوستوں دشمنوں سب کو دیتا ہے۔ غنی یا فقیر ہونا اس کی رضامندی اور ناراضگی کی دلیل نہیں۔ بلکہ اس میں اور حکمتیں ہوتی ہیں۔ جنہیں اکثر لوگ جان نہیں سکتے، مال و اولاد کو ہماری عنایت کی دلیل بنانا غلطی ہے۔ یہ کوئی ہمارے پاس مرتبہ بڑھانے والی چیز نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے۔ (مسلم) ہاں اس کے پاس درجات دلانے والی چیز ایمان اور نیک اعمال ہیں۔ ان کی نیکیوں کے بدلے انہیں بہت بڑھا چڑھا کردیئے جائیں گے۔ ایک ایک نیکی دس دس گنا بلکہ سات سات سو گنا کر کے دی جائے گی۔ جنت کی بلند ترین منزلوں میں ہر ڈر خوف سے، غم سے پر امن ہوں گے۔ کوئی دکھ درد نہ ہوگا۔ ایذاء اور صدمہ نہ ہوگا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے اور باطن ظاہر سے نظر آتا ہے۔ ایک اعرابی نے کہا یہ بالا خانے کس کے لئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا جو نرم کلامی کرے، کھانا کھلائے، بکثرت روزے رکھے اور لوگوں کی نیند کے وقت تہجد پڑھے۔ (ابن ابی حاتم) جو لوگ اللہ کی راہ سے اوروں کو روکتے ہیں، رسولوں کی تابعداری سے لوگوں کو باز رکھتے ہیں، اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہیں کرتے، وہ جہنم کی سزا میں حاضر کئے جائیں گے اور برا بدلہ پائیں گے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے مطابق جسے چاہے بہت ساری دنیا دیتا ہے اور جسے چاہے بہت کم دیتا ہے کوئی سکھ چین میں ہے کوئی دکھ درد میں مبتلا ہے۔ رب کی حکمتوں کو کوئی نہیں جان سکتا اس کی مصلحتیں وہی خوب جانتا ہے۔ جیسے فرمایا (اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا 21؀) 17۔ الإسراء :21) تو دیکھ لے کہ ہم نے کس طرح ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے اور البتہ آخرت درجوں اور فضیلتوں میں بہت بڑی ہے۔ یعنی جس طرح فقر و غنا کے ساتھ درجوں کی اونچ نیچ یہاں ہے۔ اسی طرح آخرت میں بھی اعمال کے مطابق درجات و درکات ہوں گے۔ نیک لوگ تو جنتوں کے بلند وبالا خانوں میں اور بد لوگ جہنم کے نیچے کے طبقے کے جیل خانوں میں دنیا میں سب سے بہتر شخص رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق وہ ہے جو سچا مسلمان ہو اور بقدر کفایت روزی پاتا ہو اور اللہ کی طرف سے قناعت بھی دیا گیا ہو۔ (مسلم) اللہ کے حکم یا اس کی اباحت کے ماتحت تم جو کچھ خرچ کرو گے اس کا بدلہ وہ تمہیں دونوں جہان میں دے گا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ ہر صبح ایک فرشتہ دعا کرتا ہے کہ اللہ بخیل کے مال کو تلف اور برباد کر دوسرا دعا کرتا ہے اللہ خرچ کرنے والے کو نیک بدلہ دے۔ حضرت بلال ؓ سے ایک مرتبہ حضور ﷺ نے فرمایا بلال خرچ کر اور عرش والے کی طرف سے تنگی کا خیال بھی نہ کر۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمہارے اس زمانے کے بعد ایسا زمانہ آ رہا ہے جو کاٹ کھانے الا ہوگا۔ مال ہوگا لیکن مالدار نے گویا اپنے مال پر دانت گاڑے ہوئے ہوں گے کہ کہیں خرچ نہ ہوجائے۔ پھر حضور ﷺ نے اسی آیت میں (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُهٗ ۭ وَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ02700) 2۔ البقرة :270) کی تلاوت فرمائی اور حدیث میں ہے بدترین لوگ وہ ہیں جو بےبس اور مضطر لوگوں کی چیزیں کم داموں خریدتے پھریں۔ یاد رکھو ایسی بیع حرام ہے، مضطر کی بیع حرام ہے۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اسے رسوا کرے۔ اگر تجھ سے ہو سکے تو دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک اور بھلائی کر ورنہ اس کی ہلاکت کو تو نہ بڑھا (ابو یعلی موصلی) یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور ضعیف بھی ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہیں اس آیت کا غلط مطلب نہ لے لینا۔ اپنے مال کو خرچ کرنے میں میانہ روی کرنا۔ روزیاں بٹ چکی ہیں، رزق مقسوم ہے۔

نبی اکرم کے لئے تسلیاں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے اور اگلے پیغمبروں کی سی سیرت رکھنے کو فرماتا ہے۔ فرماتا ہے کہ جس بستی میں جو رسول گیا اس کا مقابلہ ہوا۔ بڑے لوگوں نے کفر کیا، ہاں غربا نے تابعداری کی جیسے کہ قوم نوح نے اپنی نبی سے کہا تھا (قَالُـوْٓا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ01101ۭ) 26۔ الشعراء :111) ہم تجھ پر کیسے ایمان لائیں تیرے ماننے والے تو سب نیچے درجے کے لوگ ہیں۔ یہی مضمون دوسری آیت (وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ 27 ؀) 11۔ ھود :27) ، میں ہے۔ قوم صالح کے متکبر لوگ ضعیفوں سے کہتے ہیں (اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭقَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ 75؀) 7۔ الاعراف :75) کیا تمہیں حضرت صالح کے نبی ہونے کا یقین ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم تو مومن ہیں۔ تو متکبرین نے صاف کہا کہ ہم نہیں مانتے۔ اور آیت میں ہے (وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاۗءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا ۭ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ 53؀) 6۔ الانعام :53) ، یعنی اسی طرح ہم نے ایک کو دو سرے سے فتنے میں ڈالا تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم سب میں سے احسان کیا۔ کیا اللہ شکر گذاروں کو جاننے والا نہیں ؟ اور فرمایا ہر بستی میں وہاں کے بڑے لوگ مجرم اور مکار ہوتے ہیں اور فرمان ہے (وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا 16؀) 17۔ الإسراء :16) جب کسی بستی کی ہلاکت کا ہم ارادہ کرتے ہیں تو اس کے سرکش لوگوں کو کچھ احکام دیتے ہیں وہ نہیں مانتے پھر ہم انہیں ہلاک کردیتے ہیں۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ہم نے جس بستی میں کوئی نبی اور رسول بھیجا وہاں کے جاہ و حشمت شان و شوکت والے رئیسوں، امیروں، سرداروں اور بڑے لوگوں نے جھٹ اپنے کفر کا اعلان کردیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابو رزین فرماتے ہیں کہ دو شخص آپس میں شریک تھے ایک تو سمندر پار چلا گیا، ایک وہیں رہا جب آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے تو اس نے اپنے ساتھی سے لکھ کر دریافت کیا کہ حضور ﷺ کا کیا حال ہے ؟ اس نے جواب میں لکھا کہ گرے پڑے لوگوں نے اس کی بات مانی ہے۔ شریف قریشیوں نے اس کی اطاعت نہیں کی۔ اس خط کو پڑھ کر وہ اپنی تجارت چھوڑ چھاڑ کر سفر کر کے اپنے شریک کے پاس پہنچا۔ یہ پڑھا لکھا آدمی تھا، کتابوں کا علم اسے حاصل تھا۔ اس سے پوچھا کہ بتاؤ حضور ﷺ کہاں ہیں ؟ معلوم کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کس چیز کی طرف بلاتے ہیں ؟ آپ نے اسلام کے ارکان اس کے سامنے بیان فرمائے۔ وہ اسے سنتے ہی ایمان لے آیا۔ آپ نے فرمایا تمہیں اس کی تصدیق کیونکر ہوگئی ؟ اس نے کہا اس بات سے کہ تمام انبیاء کے ابتدائی ماننے والے ہمیشہ ضعیف مسکین لوگ ہی ہوتے ہیں۔ اس پر یہ آیتیں اتریں اور حضور ﷺ نے آدمی بھیج کر ان سے کہلوایا کہ تمہاری بات کی سچائی اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ اسی طرح ہرقل نے کہا تھا جب کہ اس نے ابو سفیان سے ان کی جاہلیت کی حالت میں آنحضرت ﷺ کی نسبت دریافت کیا تھا کہ کیا شریف لوگوں نے ان کی تابعداری کی ہے یا ضعیفوں نے ؟ تو ابو سفیان نے جواب دیا کہ ضعیفوں نے۔ اس پر ہرقل نے کہا تھا کہ ہر رسول کی اولاً تابعداری کرنے والے یہی ضعیف لوگ ہوتے ہیں، پھر فرمایا یہ خوش حال لوگ ومال و اولاد کی کثرت پر ہی فخر کرتے ہیں اور اسے اس بات کی دلیل بناتے ہیں کہ وہ پسندیدہ ہیں اللہ کے۔ اگر اللہ کی خاص عنایت و مہربانی ان پر نہ ہوتی تو انہیں یہ نعمتیں نہ دیتا اور جب یہاں رب مہربان ہے تو آخرت میں بھی وہ مہربان ہی رہے گا۔ قرآن نے ہر جگہ اس کا رد کیا ہے ایک جگہ فرمایا (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55؀ۙ) 23۔ المؤمنون :55) کیا ان کا خیال ہے کہ مال و اولادا کی اکثریت ان کے لئے بہتر ہے ؟ نہیں بلکہ برائی ہے لیکن یہ بےشعور ہیں۔ ایک اور آیت میں ہے (وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ 85؀) 9۔ التوبہ :85) ان کی مال و اولاد تجھے دھوکے میں نہ ڈالے اس سے انہیں دنیا میں بھی سزا ہوگی اور مرتے دم تک یہ کفر پر ہی رہیں گے اور آیات میں ہے (ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا 11 ۙ) 74۔ المدثر :11) یعنی مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دے جسے بہت سے فرزند دے رکھے ہیں اور ہر طرح کا عیش اس کے لئے مہیا کردیا ہے۔ تاہم اسے طمع ہے کہ میں اور زیادہ دوں۔ ایسا نہیں یہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے۔ زمانہ جانتا ہے کہ اسے میں دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھاؤں گا۔ اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہوا ہے جس کے دو باغ تھے، مال والا پھلوں والا اولاد والا تھا۔ لیکن کسی چیز نے کوئی فائدہ نہ دیا عذاب الٰہی سے سب چیزیں دنیا میں ہی تباہ اور خاک سیاہ ہوگئیں۔ اللہ جس کی روزی کشادہ کرنا چاہے، کشادہ کردیتا ہے اور جس کی روزی تنگ کرنا چاہے، تنگ کردیتا ہے۔ دنیا میں تو وہ اپنے دوستوں دشمنوں سب کو دیتا ہے۔ غنی یا فقیر ہونا اس کی رضامندی اور ناراضگی کی دلیل نہیں۔ بلکہ اس میں اور حکمتیں ہوتی ہیں۔ جنہیں اکثر لوگ جان نہیں سکتے، مال و اولاد کو ہماری عنایت کی دلیل بنانا غلطی ہے۔ یہ کوئی ہمارے پاس مرتبہ بڑھانے والی چیز نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے۔ (مسلم) ہاں اس کے پاس درجات دلانے والی چیز ایمان اور نیک اعمال ہیں۔ ان کی نیکیوں کے بدلے انہیں بہت بڑھا چڑھا کردیئے جائیں گے۔ ایک ایک نیکی دس دس گنا بلکہ سات سات سو گنا کر کے دی جائے گی۔ جنت کی بلند ترین منزلوں میں ہر ڈر خوف سے، غم سے پر امن ہوں گے۔ کوئی دکھ درد نہ ہوگا۔ ایذاء اور صدمہ نہ ہوگا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے اور باطن ظاہر سے نظر آتا ہے۔ ایک اعرابی نے کہا یہ بالا خانے کس کے لئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا جو نرم کلامی کرے، کھانا کھلائے، بکثرت روزے رکھے اور لوگوں کی نیند کے وقت تہجد پڑھے۔ (ابن ابی حاتم) جو لوگ اللہ کی راہ سے اوروں کو روکتے ہیں، رسولوں کی تابعداری سے لوگوں کو باز رکھتے ہیں، اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہیں کرتے، وہ جہنم کی سزا میں حاضر کئے جائیں گے اور برا بدلہ پائیں گے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے مطابق جسے چاہے بہت ساری دنیا دیتا ہے اور جسے چاہے بہت کم دیتا ہے کوئی سکھ چین میں ہے کوئی دکھ درد میں مبتلا ہے۔ رب کی حکمتوں کو کوئی نہیں جان سکتا اس کی مصلحتیں وہی خوب جانتا ہے۔ جیسے فرمایا (اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا 21؀) 17۔ الإسراء :21) تو دیکھ لے کہ ہم نے کس طرح ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے اور البتہ آخرت درجوں اور فضیلتوں میں بہت بڑی ہے۔ یعنی جس طرح فقر و غنا کے ساتھ درجوں کی اونچ نیچ یہاں ہے۔ اسی طرح آخرت میں بھی اعمال کے مطابق درجات و درکات ہوں گے۔ نیک لوگ تو جنتوں کے بلند وبالا خانوں میں اور بد لوگ جہنم کے نیچے کے طبقے کے جیل خانوں میں دنیا میں سب سے بہتر شخص رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق وہ ہے جو سچا مسلمان ہو اور بقدر کفایت روزی پاتا ہو اور اللہ کی طرف سے قناعت بھی دیا گیا ہو۔ (مسلم) اللہ کے حکم یا اس کی اباحت کے ماتحت تم جو کچھ خرچ کرو گے اس کا بدلہ وہ تمہیں دونوں جہان میں دے گا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ ہر صبح ایک فرشتہ دعا کرتا ہے کہ اللہ بخیل کے مال کو تلف اور برباد کر دوسرا دعا کرتا ہے اللہ خرچ کرنے والے کو نیک بدلہ دے۔ حضرت بلال ؓ سے ایک مرتبہ حضور ﷺ نے فرمایا بلال خرچ کر اور عرش والے کی طرف سے تنگی کا خیال بھی نہ کر۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمہارے اس زمانے کے بعد ایسا زمانہ آ رہا ہے جو کاٹ کھانے الا ہوگا۔ مال ہوگا لیکن مالدار نے گویا اپنے مال پر دانت گاڑے ہوئے ہوں گے کہ کہیں خرچ نہ ہوجائے۔ پھر حضور ﷺ نے اسی آیت میں (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُهٗ ۭ وَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ02700) 2۔ البقرة :270) کی تلاوت فرمائی اور حدیث میں ہے بدترین لوگ وہ ہیں جو بےبس اور مضطر لوگوں کی چیزیں کم داموں خریدتے پھریں۔ یاد رکھو ایسی بیع حرام ہے، مضطر کی بیع حرام ہے۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اسے رسوا کرے۔ اگر تجھ سے ہو سکے تو دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک اور بھلائی کر ورنہ اس کی ہلاکت کو تو نہ بڑھا (ابو یعلی موصلی) یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور ضعیف بھی ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہیں اس آیت کا غلط مطلب نہ لے لینا۔ اپنے مال کو خرچ کرنے میں میانہ روی کرنا۔ روزیاں بٹ چکی ہیں، رزق مقسوم ہے۔

مشرکین سے سوال۔ مشرکین کو شرمندہ لاجواب اور بےعذر کرنے کیلئے ان کے سامنے فرشتوں سے سوال ہوگا۔ جن کی مصنوعی شکلیں بنا کر یہ مشرک دنیا میں پوجتے رہے کہ وہ انہیں اللہ سے ملا دیں۔ سوال ہوگا کہ کیا تم نے انہیں اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا ؟ جیسے سورة فرقان میں ہے (ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاۗءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ 17؀ۭ) 25۔ الفرقان :17) یعنی کیا تم نے انہیں گمراہ کیا تھا ؟ یہ خود ہی بہکے ہوئے تھے ؟ حضرت عیسیٰ ؑ سے یہی سوال ہوگا کہ کیا تم لوگوں سے کہہ آئے تھے کہ اللہ کو چھوڑ کر میری اور میری ماں کی عبادت کرنا ؟ آپ جواب دیں گے کہ اللہ تیری ذات پاک ہے جو کہنا مجھے سزا وار نہ تھا، اسے میں کیسے کہہ دیتا ؟ اسی طرح فرشتے بھی اپنی برات ظاہر کریں گے اور کہیں گے تو اس سے بہت بلند اور پاک ہے تیرا کوئی شریک ہو۔ ہم تو خود تیرے بندے تھے ہم ان سے بیزار رہے اور اب بھی ان سے الگ ہیں۔ یہ شیاطین کی پرستش کرتے تھے۔ شیطانوں نے ہی ان کے لئے بتوں کی پوجا کو مزین کر رکھا تھا اور انہیں گمراہ کردیا تھا ان میں سے اکثر کا شیطان پر ہی اعتقاد تھا۔ جیسے فرمان باری ہے (اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا01107ۙ) 4۔ النسآء :117) یعنی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عورتوں کی پرستش کرتے ہیں اور سرکش شیطان کی عبادت کرتے ہیں۔ جس پر اللہ کی پھٹکار ہے، پس جن جن سے تم مشرکو ! لو (امید) لگائے ہوئے تھے، ان میں سے ایک بھی آج تمہیں کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا۔ اس شدت و کرب کے وقت یہ سارے جھوٹے معبود تم سے یک سو ہوجائیں گے کیونکہ انہیں کسی کے کسی طرح کے نفع و ضرر کا اختیار تھا ہی نہیں۔ آج ہم خود مشرکوں سے فرما دیں گے کہ لو جس عذاب جہنم کو جھٹلا رہے تھے آج اس کا مزہ چکھو۔

مشرکین سے سوال۔ مشرکین کو شرمندہ لاجواب اور بےعذر کرنے کیلئے ان کے سامنے فرشتوں سے سوال ہوگا۔ جن کی مصنوعی شکلیں بنا کر یہ مشرک دنیا میں پوجتے رہے کہ وہ انہیں اللہ سے ملا دیں۔ سوال ہوگا کہ کیا تم نے انہیں اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا ؟ جیسے سورة فرقان میں ہے (ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاۗءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ 17؀ۭ) 25۔ الفرقان :17) یعنی کیا تم نے انہیں گمراہ کیا تھا ؟ یہ خود ہی بہکے ہوئے تھے ؟ حضرت عیسیٰ ؑ سے یہی سوال ہوگا کہ کیا تم لوگوں سے کہہ آئے تھے کہ اللہ کو چھوڑ کر میری اور میری ماں کی عبادت کرنا ؟ آپ جواب دیں گے کہ اللہ تیری ذات پاک ہے جو کہنا مجھے سزا وار نہ تھا، اسے میں کیسے کہہ دیتا ؟ اسی طرح فرشتے بھی اپنی برات ظاہر کریں گے اور کہیں گے تو اس سے بہت بلند اور پاک ہے تیرا کوئی شریک ہو۔ ہم تو خود تیرے بندے تھے ہم ان سے بیزار رہے اور اب بھی ان سے الگ ہیں۔ یہ شیاطین کی پرستش کرتے تھے۔ شیطانوں نے ہی ان کے لئے بتوں کی پوجا کو مزین کر رکھا تھا اور انہیں گمراہ کردیا تھا ان میں سے اکثر کا شیطان پر ہی اعتقاد تھا۔ جیسے فرمان باری ہے (اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا01107ۙ) 4۔ النسآء :117) یعنی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عورتوں کی پرستش کرتے ہیں اور سرکش شیطان کی عبادت کرتے ہیں۔ جس پر اللہ کی پھٹکار ہے، پس جن جن سے تم مشرکو ! لو (امید) لگائے ہوئے تھے، ان میں سے ایک بھی آج تمہیں کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا۔ اس شدت و کرب کے وقت یہ سارے جھوٹے معبود تم سے یک سو ہوجائیں گے کیونکہ انہیں کسی کے کسی طرح کے نفع و ضرر کا اختیار تھا ہی نہیں۔ آج ہم خود مشرکوں سے فرما دیں گے کہ لو جس عذاب جہنم کو جھٹلا رہے تھے آج اس کا مزہ چکھو۔

مشرکین سے سوال۔ مشرکین کو شرمندہ لاجواب اور بےعذر کرنے کیلئے ان کے سامنے فرشتوں سے سوال ہوگا۔ جن کی مصنوعی شکلیں بنا کر یہ مشرک دنیا میں پوجتے رہے کہ وہ انہیں اللہ سے ملا دیں۔ سوال ہوگا کہ کیا تم نے انہیں اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا ؟ جیسے سورة فرقان میں ہے (ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاۗءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ 17؀ۭ) 25۔ الفرقان :17) یعنی کیا تم نے انہیں گمراہ کیا تھا ؟ یہ خود ہی بہکے ہوئے تھے ؟ حضرت عیسیٰ ؑ سے یہی سوال ہوگا کہ کیا تم لوگوں سے کہہ آئے تھے کہ اللہ کو چھوڑ کر میری اور میری ماں کی عبادت کرنا ؟ آپ جواب دیں گے کہ اللہ تیری ذات پاک ہے جو کہنا مجھے سزا وار نہ تھا، اسے میں کیسے کہہ دیتا ؟ اسی طرح فرشتے بھی اپنی برات ظاہر کریں گے اور کہیں گے تو اس سے بہت بلند اور پاک ہے تیرا کوئی شریک ہو۔ ہم تو خود تیرے بندے تھے ہم ان سے بیزار رہے اور اب بھی ان سے الگ ہیں۔ یہ شیاطین کی پرستش کرتے تھے۔ شیطانوں نے ہی ان کے لئے بتوں کی پوجا کو مزین کر رکھا تھا اور انہیں گمراہ کردیا تھا ان میں سے اکثر کا شیطان پر ہی اعتقاد تھا۔ جیسے فرمان باری ہے (اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا01107ۙ) 4۔ النسآء :117) یعنی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عورتوں کی پرستش کرتے ہیں اور سرکش شیطان کی عبادت کرتے ہیں۔ جس پر اللہ کی پھٹکار ہے، پس جن جن سے تم مشرکو ! لو (امید) لگائے ہوئے تھے، ان میں سے ایک بھی آج تمہیں کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا۔ اس شدت و کرب کے وقت یہ سارے جھوٹے معبود تم سے یک سو ہوجائیں گے کیونکہ انہیں کسی کے کسی طرح کے نفع و ضرر کا اختیار تھا ہی نہیں۔ آج ہم خود مشرکوں سے فرما دیں گے کہ لو جس عذاب جہنم کو جھٹلا رہے تھے آج اس کا مزہ چکھو۔

کافر عذاب الٰہی کے مستحق کیوں ٹھہرے ؟ کافروں کی وہ شرارت بیان ہو رہی ہے جس کے باعث وہ اللہ کے عذابوں کے مستحق ہوئے ہیں کہ اللہ کا کلام تازہ بتازہ اس کے افضل رسول ﷺ کی زبان سے سنتے ہیں، قبول کرنا، ماننا اس کے مطابق عمل کرنا تو ایک طرف، کہتے ہیں کہ دیکھو یہ شخص تمہیں تمہارے پرانے اچھے اور سچے دین سے روک رہا ہے اور اپنے باطل خیالات کی طرف تمہیں بلا رہا ہے یہ قرآن تو اس کا خود تراشیدہ ہے آپ ہی گھڑ لیتا ہے اور یہ تو جادو ہے اور اس کا جادو ہونا کچھ ڈھکا چھپا نہیں، بالکل ظاہر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ان عربوں کی طرف نہ تو اس سے پہلے کوئی کتاب بھیجی گئی ہے نہ آپ سے پہلے ان میں کوئی رسول آیا ہے۔ اس لئے انہیں مدتوں سے متنا تھی کہ اگر اللہ کا رسول ہم میں آتا اگر کتاب اللہ ہم میں اترتی تو ہم سب سے زیادہ مطیع اور پابند ہوجاتے۔ لیکن جب اللہ نے ان کی یہ دیرینہ آرزو پوری کی تو جھٹلانے اور انکار کرنے لگے، ان سے اگلی امتوں کے نتیجے ان کے سامنے ہیں۔ وہ قوت و طاقت، مال و متاع، اسباب دنیوی ان لوگوں سے بہت زیادہ رکھتے تھے۔ یہ تو ابھی ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے لیکن میرے عذاب کے بعد نہ مال کام آئے، نہ اولاد اور کنبے قبییل کام آئے۔ نہ قوت و طاقت نے کوئی فائدہ دیا۔ برباد کردیئے گئے جیسے فرمایا (وَلَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِيْمَآ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَةً 26؀) 46۔ الأحقاف :26) یعنی ہم نے انہیں قوت و طاقت دے رکھی تھی۔ آنکھیں اور کان بھی رکھتے تھے، دل بھی تھے لیکن میری آیتوں کے انکار پر جب عذاب آیا اس وقت کسی چیز نے کچھ فائدہ نہ دیا اور جس کے ساتھ مذاق اڑاتے تھے اس نے انہیں گھیر لیا۔ کیا یہ لوگ زمین میں چل پھر کر اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھتے جو ان سے تعداد میں زیادہ طاقت میں بڑھے ہوئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ رسولوں کے جھٹلانے کے باعث پیس دیئے گئے، جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیئے گئے۔ تم غور کرلو ! دیکھ لو کہ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کی نصرت کی اور کس طرح جھٹلانے والوں پر اپنا عذاب اتارا ؟

کافر عذاب الٰہی کے مستحق کیوں ٹھہرے ؟ کافروں کی وہ شرارت بیان ہو رہی ہے جس کے باعث وہ اللہ کے عذابوں کے مستحق ہوئے ہیں کہ اللہ کا کلام تازہ بتازہ اس کے افضل رسول ﷺ کی زبان سے سنتے ہیں، قبول کرنا، ماننا اس کے مطابق عمل کرنا تو ایک طرف، کہتے ہیں کہ دیکھو یہ شخص تمہیں تمہارے پرانے اچھے اور سچے دین سے روک رہا ہے اور اپنے باطل خیالات کی طرف تمہیں بلا رہا ہے یہ قرآن تو اس کا خود تراشیدہ ہے آپ ہی گھڑ لیتا ہے اور یہ تو جادو ہے اور اس کا جادو ہونا کچھ ڈھکا چھپا نہیں، بالکل ظاہر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ان عربوں کی طرف نہ تو اس سے پہلے کوئی کتاب بھیجی گئی ہے نہ آپ سے پہلے ان میں کوئی رسول آیا ہے۔ اس لئے انہیں مدتوں سے متنا تھی کہ اگر اللہ کا رسول ہم میں آتا اگر کتاب اللہ ہم میں اترتی تو ہم سب سے زیادہ مطیع اور پابند ہوجاتے۔ لیکن جب اللہ نے ان کی یہ دیرینہ آرزو پوری کی تو جھٹلانے اور انکار کرنے لگے، ان سے اگلی امتوں کے نتیجے ان کے سامنے ہیں۔ وہ قوت و طاقت، مال و متاع، اسباب دنیوی ان لوگوں سے بہت زیادہ رکھتے تھے۔ یہ تو ابھی ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے لیکن میرے عذاب کے بعد نہ مال کام آئے، نہ اولاد اور کنبے قبییل کام آئے۔ نہ قوت و طاقت نے کوئی فائدہ دیا۔ برباد کردیئے گئے جیسے فرمایا (وَلَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِيْمَآ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَةً 26؀) 46۔ الأحقاف :26) یعنی ہم نے انہیں قوت و طاقت دے رکھی تھی۔ آنکھیں اور کان بھی رکھتے تھے، دل بھی تھے لیکن میری آیتوں کے انکار پر جب عذاب آیا اس وقت کسی چیز نے کچھ فائدہ نہ دیا اور جس کے ساتھ مذاق اڑاتے تھے اس نے انہیں گھیر لیا۔ کیا یہ لوگ زمین میں چل پھر کر اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھتے جو ان سے تعداد میں زیادہ طاقت میں بڑھے ہوئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ رسولوں کے جھٹلانے کے باعث پیس دیئے گئے، جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیئے گئے۔ تم غور کرلو ! دیکھ لو کہ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کی نصرت کی اور کس طرح جھٹلانے والوں پر اپنا عذاب اتارا ؟

کافر عذاب الٰہی کے مستحق کیوں ٹھہرے ؟ کافروں کی وہ شرارت بیان ہو رہی ہے جس کے باعث وہ اللہ کے عذابوں کے مستحق ہوئے ہیں کہ اللہ کا کلام تازہ بتازہ اس کے افضل رسول ﷺ کی زبان سے سنتے ہیں، قبول کرنا، ماننا اس کے مطابق عمل کرنا تو ایک طرف، کہتے ہیں کہ دیکھو یہ شخص تمہیں تمہارے پرانے اچھے اور سچے دین سے روک رہا ہے اور اپنے باطل خیالات کی طرف تمہیں بلا رہا ہے یہ قرآن تو اس کا خود تراشیدہ ہے آپ ہی گھڑ لیتا ہے اور یہ تو جادو ہے اور اس کا جادو ہونا کچھ ڈھکا چھپا نہیں، بالکل ظاہر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ان عربوں کی طرف نہ تو اس سے پہلے کوئی کتاب بھیجی گئی ہے نہ آپ سے پہلے ان میں کوئی رسول آیا ہے۔ اس لئے انہیں مدتوں سے متنا تھی کہ اگر اللہ کا رسول ہم میں آتا اگر کتاب اللہ ہم میں اترتی تو ہم سب سے زیادہ مطیع اور پابند ہوجاتے۔ لیکن جب اللہ نے ان کی یہ دیرینہ آرزو پوری کی تو جھٹلانے اور انکار کرنے لگے، ان سے اگلی امتوں کے نتیجے ان کے سامنے ہیں۔ وہ قوت و طاقت، مال و متاع، اسباب دنیوی ان لوگوں سے بہت زیادہ رکھتے تھے۔ یہ تو ابھی ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے لیکن میرے عذاب کے بعد نہ مال کام آئے، نہ اولاد اور کنبے قبییل کام آئے۔ نہ قوت و طاقت نے کوئی فائدہ دیا۔ برباد کردیئے گئے جیسے فرمایا (وَلَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِيْمَآ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَةً 26؀) 46۔ الأحقاف :26) یعنی ہم نے انہیں قوت و طاقت دے رکھی تھی۔ آنکھیں اور کان بھی رکھتے تھے، دل بھی تھے لیکن میری آیتوں کے انکار پر جب عذاب آیا اس وقت کسی چیز نے کچھ فائدہ نہ دیا اور جس کے ساتھ مذاق اڑاتے تھے اس نے انہیں گھیر لیا۔ کیا یہ لوگ زمین میں چل پھر کر اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھتے جو ان سے تعداد میں زیادہ طاقت میں بڑھے ہوئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ رسولوں کے جھٹلانے کے باعث پیس دیئے گئے، جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیئے گئے۔ تم غور کرلو ! دیکھ لو کہ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کی نصرت کی اور کس طرح جھٹلانے والوں پر اپنا عذاب اتارا ؟

ضد اور ہٹ دھرمی کفار کا شیوہ۔ حکم ہوتا ہے کہ یہ کافر جو تجھے مجنوں بتا رہے ہیں، ان سے کہہ کہ ایک کام تو کرو خلوص کے ساتھ تعصب اور ضد کو چھوڑ کر ذرا سی دیر سوچو تو آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کرو کہ کیا محمد ﷺ مجنوں ہیں ؟ اور ایمانداری سے ایک دوسرے کو جواب دو۔ ہر شخص تنہا تنہا بھی غور کرے اور دوسروں سے بھی پوچھے لیکن یہ شرط ہے کہ ضد اور ہٹ کو دماغ سے نکال کر تعصب اور ہٹ دھرمی چھڑ کر غور کرے۔ تمہیں خود معلوم ہوجائے گا، تمہارے دل سے آواز اٹھے گی کہ حقیقت میں حضور ﷺ کو جنون نہیں۔ بلکہ وہ تم سب کے خیر خواہ ہیں درد مند ہیں۔ ایک آنے والے خطرے سے جس سے تم بیخبر ہو وہ تمہیں آگاہ کر رہے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے تنہا اور جماعت سے نماز پڑھنے کا مطلب سمجھا ہے اور اس کے ثبوت میں ایک حدیث بھی پیش کرتے ہیں لیکن وہ حدیث ضعیف ہے۔ اس میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا مجھے تین چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی یہ میں فخر کے طور پر نہیں کہ رہا ہوں۔ میرے لئے مال غنیمت حلال کیا گیا مجھ سے پہلے کسی کے لئے وہ حلال نہیں ہوا وہ مال غنیمت کو جمع کر کے جلا دیتے تھے اور میں ہر سرخ و سیاہ کی طرف بھیجا گیا ہوں اور ہر نبی صرف اپنی ہی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا۔ میرے لئے ساری زمین مسجد اور وضو کی چیز بنادی گئی ہے۔ تاکہ میں اس کی مٹی سے تیمم کرلوں اور جہاں بھی ہوں اور نماز کا وقت آجائے نماز ادا کرلوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ کے سامنے با ادب کھڑے ہوجایا کرو دو دو اور ایک ایک اور ایک مہینہ کی راہ تک میری مدد صرف رعب سے کی گئی ہے۔ یہ حدیث سندا ضعیف ہے اور بہت ممکن ہے کہ اس میں آیت کا ذکر اور اسے جماعت سے یا الگ نماز پڑھ لینے کے معنی میں لے لینا یہ راوی کا اپنا قول ہو اور اس طرح بیان کردیا گیا ہو کہ بہ ظاہر وہ الفاظ حدیث کے معلوم ہوتے ہیں کیونکہ حضور ﷺ کی خصوصیات کی حدیثیں بہ سند صحیح بہت سے مروی ہیں اور کسی میں بھی یہ الفاظ نہیں، واللہ اعلم۔ آپ لوگوں کو اس عذاب سے ڈرانے والے ہیں جو ان کے آگے ہے اور جس سے یہ بالکل بیخبر بےفکری سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی ﷺ ایک دن صفا پہاڑی پر چڑھ گئے اور عرب کے دستور کے مطابق یا صباحاہ کہہ کر بلند آواز کی جو علامت تھی کہ کوئی شخص کسی اہم بات کے لئے بلا رہا ہے۔ عادت کے مطابق اسے سنتے ہی لوگ جمع ہوگئے۔ آپ نے فرمایا اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن تمہاری طرف چڑھائی کر کے چلا آرہا ہے اور عجب نہیں کہ صبح شام ہی تم پر حملہ کر دے تو کیا تم مھے سچا سمجھو گے ؟ سب نے بیک زبان جواب دیا کہ ہاں بیشک ہم آپ کو سچا جانیں گے۔ آپ نے فرمایا سنو میں تمہیں اس عذاب سے ڈرا رہا ہوں جو تمہارے آگے ہے۔ یہ سن کر ابو لہب ملعون نے کہا تیرے ہاتھ ٹوٹیں کیا اسی کے لئے تو نے ہم سب کو جمع کیا تھا ؟ اس پر سورة تبت اتری۔ یہ حدیثیں (وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ02104ۙ) 26۔ الشعراء :214) کی تفسیر میں گذر چکی ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نکلے اور ہمارے پاس آ کر تین مرتبہ آواز دی۔ فرمایا لوگو ! میری اور اپنی مثال جانتے ہو ؟ انہوں نے کہا اللہ کو اور اس کے رسول ﷺ کو پورا علم ہے۔ آپ نے فرمایا میری اور تمہاری مثال اس قوم جیسی ہے جن پر دشمن حملہ کرنے والا تھا۔ انہوں نے اپنا آدمی بھیجا کہ جا کر دیکھے اور دشمن کی نقل و حرکت سے انہیں مطلع کرے۔ اس نے جب دیکھا کہ دشمن ان کی طرف چلا آ رہا ہے اور قریب پہنچ چکا ہے تو وہ لپکتا ہوا قوم کی طرف بڑھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے اطلاع پہنچانے سے پہلے ہی دشمن حملہ نہ کر دے۔ اس لئے اس نے راستے میں سے ہی اپنا کپڑا ہلانا شروع کیا کہ ہوشیار ہوجاؤ دشمن آپہنچا، ہوشیار ہوجاؤ دشمن آپہنچا، تین مرتبہ یہی کہا ایک اور حدیث میں ہے میں اور قیامت ایک ساتھ ہی بھیجے گئے قریب تھا کہ قیامت مجھ سے پہلے ہی آجاتی۔

مشرکین کو دعوت اصلاح۔ حکم ہو رہا ہے کہ مشرکوں سے فرما دیجئے کہ میں جو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں تمہیں احکام دینی پہنچتا رہا ہوں وعظ و نصیحت کرتا ہوں اس پر میں تم سے کسی بدلے کا طالب نہیں ہوں۔ بدلہ تو اللہ ہی دے گا جو تمام چیزوں کی حقیقت سے مطلع ہے میری تمہاری حالت اس پر خوب روشن ہے۔ پھر جو فرمایا اسی طرح کی آیت (رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذو الْعَرْشِ ۚ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ 15 ۙ) 40۔ غافر :15) ، ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فرمان سے حضرت جبرائیل کو جس پر چاہتا ہے اپنی وحی کے ساتھ بھیجتا ہے۔ جو حق کے ساتھ فرشتہ اتارتا ہے۔ وہ علام الغیوب ہے اس پر آسمان و زمین کی کوئی چیز مخفی نہیں، اللہ کی طرف سے حق اور مبارک شریعت آچکی۔ باطل پراگندہ بودا ہو کر برباد ہوگیا۔ جیسے فرمان ہے (بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ ۭ وَلَـكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ 18؀) 21۔ الأنبیاء :18) ہم باطل پر حق کو نازل فرما کر باطل کے ٹکڑے اڑا دیتے ہیں اور وہ چکنا چور ہوجاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ فتح مکہ والے دن جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو وہاں کے بتوں کو اپنی کمان کی لکڑی سے گراتے جاتے تھے اور زبان سے فرماتے جاتے تھے (وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا 81؀) 17۔ الإسراء :81) حق آگیا باطل مٹ گیا وہ تھا ہی مٹنے والا۔ (بخاری۔ مسلم) باطل کا اور ناحق کا دباؤ سب ختم ہوگیا۔ بعض مفسرین سے مروی ہے کہ مراد یہاں باطل سے ابلیس ہے۔ یعنی نہ اس نے کسی کو پہلے پیدا کیا نہ آئندہ کرسکے، نہ مردے کو زندہ کرسکے، نہ اسے کوئی اور ایسی قدرت حاصل ہے۔ بات تو یہ بھی سچی ہے لیکن یہاں یہ مراد نہیں۔ واللہ اعلم، پھر جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ خیر سب کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ کی بھیجی ہوئی وحی میں ہے۔ وہی سراسر حق ہے اور ہدایت وبیان و رشد ہے۔ گمراہ ہونے والے آپ ہی بگڑ رہے ہیں اور اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے جب کہ مفوضہ کا مسئلہ دریافت کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا اسے میں اپنی رائے سے بیان کرتا ہوں اگر صحیح ہو تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے اور اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس سے بری ہے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتوں کا سننے والا ہے اور قریب ہے۔ پکارنے والے کی ہر پکار کو ہر وقت سنتا اور قبول فرماتا ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے فرمایا تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکار رہے ہو وہ سمیع و قریب و مجیب ہے۔

مشرکین کو دعوت اصلاح۔ حکم ہو رہا ہے کہ مشرکوں سے فرما دیجئے کہ میں جو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں تمہیں احکام دینی پہنچتا رہا ہوں وعظ و نصیحت کرتا ہوں اس پر میں تم سے کسی بدلے کا طالب نہیں ہوں۔ بدلہ تو اللہ ہی دے گا جو تمام چیزوں کی حقیقت سے مطلع ہے میری تمہاری حالت اس پر خوب روشن ہے۔ پھر جو فرمایا اسی طرح کی آیت (رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذو الْعَرْشِ ۚ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ 15 ۙ) 40۔ غافر :15) ، ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فرمان سے حضرت جبرائیل کو جس پر چاہتا ہے اپنی وحی کے ساتھ بھیجتا ہے۔ جو حق کے ساتھ فرشتہ اتارتا ہے۔ وہ علام الغیوب ہے اس پر آسمان و زمین کی کوئی چیز مخفی نہیں، اللہ کی طرف سے حق اور مبارک شریعت آچکی۔ باطل پراگندہ بودا ہو کر برباد ہوگیا۔ جیسے فرمان ہے (بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ ۭ وَلَـكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ 18؀) 21۔ الأنبیاء :18) ہم باطل پر حق کو نازل فرما کر باطل کے ٹکڑے اڑا دیتے ہیں اور وہ چکنا چور ہوجاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ فتح مکہ والے دن جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو وہاں کے بتوں کو اپنی کمان کی لکڑی سے گراتے جاتے تھے اور زبان سے فرماتے جاتے تھے (وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا 81؀) 17۔ الإسراء :81) حق آگیا باطل مٹ گیا وہ تھا ہی مٹنے والا۔ (بخاری۔ مسلم) باطل کا اور ناحق کا دباؤ سب ختم ہوگیا۔ بعض مفسرین سے مروی ہے کہ مراد یہاں باطل سے ابلیس ہے۔ یعنی نہ اس نے کسی کو پہلے پیدا کیا نہ آئندہ کرسکے، نہ مردے کو زندہ کرسکے، نہ اسے کوئی اور ایسی قدرت حاصل ہے۔ بات تو یہ بھی سچی ہے لیکن یہاں یہ مراد نہیں۔ واللہ اعلم، پھر جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ خیر سب کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ کی بھیجی ہوئی وحی میں ہے۔ وہی سراسر حق ہے اور ہدایت وبیان و رشد ہے۔ گمراہ ہونے والے آپ ہی بگڑ رہے ہیں اور اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے جب کہ مفوضہ کا مسئلہ دریافت کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا اسے میں اپنی رائے سے بیان کرتا ہوں اگر صحیح ہو تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے اور اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس سے بری ہے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتوں کا سننے والا ہے اور قریب ہے۔ پکارنے والے کی ہر پکار کو ہر وقت سنتا اور قبول فرماتا ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے فرمایا تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکار رہے ہو وہ سمیع و قریب و مجیب ہے۔

مشرکین کو دعوت اصلاح۔ حکم ہو رہا ہے کہ مشرکوں سے فرما دیجئے کہ میں جو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں تمہیں احکام دینی پہنچتا رہا ہوں وعظ و نصیحت کرتا ہوں اس پر میں تم سے کسی بدلے کا طالب نہیں ہوں۔ بدلہ تو اللہ ہی دے گا جو تمام چیزوں کی حقیقت سے مطلع ہے میری تمہاری حالت اس پر خوب روشن ہے۔ پھر جو فرمایا اسی طرح کی آیت (رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذو الْعَرْشِ ۚ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ 15 ۙ) 40۔ غافر :15) ، ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فرمان سے حضرت جبرائیل کو جس پر چاہتا ہے اپنی وحی کے ساتھ بھیجتا ہے۔ جو حق کے ساتھ فرشتہ اتارتا ہے۔ وہ علام الغیوب ہے اس پر آسمان و زمین کی کوئی چیز مخفی نہیں، اللہ کی طرف سے حق اور مبارک شریعت آچکی۔ باطل پراگندہ بودا ہو کر برباد ہوگیا۔ جیسے فرمان ہے (بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ ۭ وَلَـكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ 18؀) 21۔ الأنبیاء :18) ہم باطل پر حق کو نازل فرما کر باطل کے ٹکڑے اڑا دیتے ہیں اور وہ چکنا چور ہوجاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ فتح مکہ والے دن جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو وہاں کے بتوں کو اپنی کمان کی لکڑی سے گراتے جاتے تھے اور زبان سے فرماتے جاتے تھے (وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا 81؀) 17۔ الإسراء :81) حق آگیا باطل مٹ گیا وہ تھا ہی مٹنے والا۔ (بخاری۔ مسلم) باطل کا اور ناحق کا دباؤ سب ختم ہوگیا۔ بعض مفسرین سے مروی ہے کہ مراد یہاں باطل سے ابلیس ہے۔ یعنی نہ اس نے کسی کو پہلے پیدا کیا نہ آئندہ کرسکے، نہ مردے کو زندہ کرسکے، نہ اسے کوئی اور ایسی قدرت حاصل ہے۔ بات تو یہ بھی سچی ہے لیکن یہاں یہ مراد نہیں۔ واللہ اعلم، پھر جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ خیر سب کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ کی بھیجی ہوئی وحی میں ہے۔ وہی سراسر حق ہے اور ہدایت وبیان و رشد ہے۔ گمراہ ہونے والے آپ ہی بگڑ رہے ہیں اور اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے جب کہ مفوضہ کا مسئلہ دریافت کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا اسے میں اپنی رائے سے بیان کرتا ہوں اگر صحیح ہو تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے اور اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس سے بری ہے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتوں کا سننے والا ہے اور قریب ہے۔ پکارنے والے کی ہر پکار کو ہر وقت سنتا اور قبول فرماتا ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے فرمایا تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکار رہے ہو وہ سمیع و قریب و مجیب ہے۔

مشرکین کو دعوت اصلاح۔ حکم ہو رہا ہے کہ مشرکوں سے فرما دیجئے کہ میں جو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں تمہیں احکام دینی پہنچتا رہا ہوں وعظ و نصیحت کرتا ہوں اس پر میں تم سے کسی بدلے کا طالب نہیں ہوں۔ بدلہ تو اللہ ہی دے گا جو تمام چیزوں کی حقیقت سے مطلع ہے میری تمہاری حالت اس پر خوب روشن ہے۔ پھر جو فرمایا اسی طرح کی آیت (رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذو الْعَرْشِ ۚ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ 15 ۙ) 40۔ غافر :15) ، ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فرمان سے حضرت جبرائیل کو جس پر چاہتا ہے اپنی وحی کے ساتھ بھیجتا ہے۔ جو حق کے ساتھ فرشتہ اتارتا ہے۔ وہ علام الغیوب ہے اس پر آسمان و زمین کی کوئی چیز مخفی نہیں، اللہ کی طرف سے حق اور مبارک شریعت آچکی۔ باطل پراگندہ بودا ہو کر برباد ہوگیا۔ جیسے فرمان ہے (بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ ۭ وَلَـكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ 18؀) 21۔ الأنبیاء :18) ہم باطل پر حق کو نازل فرما کر باطل کے ٹکڑے اڑا دیتے ہیں اور وہ چکنا چور ہوجاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ فتح مکہ والے دن جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو وہاں کے بتوں کو اپنی کمان کی لکڑی سے گراتے جاتے تھے اور زبان سے فرماتے جاتے تھے (وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا 81؀) 17۔ الإسراء :81) حق آگیا باطل مٹ گیا وہ تھا ہی مٹنے والا۔ (بخاری۔ مسلم) باطل کا اور ناحق کا دباؤ سب ختم ہوگیا۔ بعض مفسرین سے مروی ہے کہ مراد یہاں باطل سے ابلیس ہے۔ یعنی نہ اس نے کسی کو پہلے پیدا کیا نہ آئندہ کرسکے، نہ مردے کو زندہ کرسکے، نہ اسے کوئی اور ایسی قدرت حاصل ہے۔ بات تو یہ بھی سچی ہے لیکن یہاں یہ مراد نہیں۔ واللہ اعلم، پھر جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ خیر سب کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ کی بھیجی ہوئی وحی میں ہے۔ وہی سراسر حق ہے اور ہدایت وبیان و رشد ہے۔ گمراہ ہونے والے آپ ہی بگڑ رہے ہیں اور اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے جب کہ مفوضہ کا مسئلہ دریافت کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا اسے میں اپنی رائے سے بیان کرتا ہوں اگر صحیح ہو تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے اور اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس سے بری ہے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتوں کا سننے والا ہے اور قریب ہے۔ پکارنے والے کی ہر پکار کو ہر وقت سنتا اور قبول فرماتا ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے فرمایا تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکار رہے ہو وہ سمیع و قریب و مجیب ہے۔

عذاب قیامت اور کافر۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرما رہا ہے اے نبی کاش کہ آپ ان کافروں کی قیامت کے دن کی گھبراہٹ دیکھتے۔ کہ ہرچند عذاب سے چھٹکارا چاہیں گے۔ لیکن بچاؤ کی کوئی صورت نہیں پائیں گے۔ نہ بھاگ کر، نہ چھپ کر، نہ کسی کی حمایت سے، نہ کسی کی پناہ سے۔ بلکہ فوراً ہی قریب سے پکڑ لئے جائیں گے۔ ادھر قبروں سے نکلے ادھر پھانس لئے گئے۔ ادھر کھڑے ہوئے ادھر گرفتار کر لئے گئے۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ قتل و اسیر ہوئے۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ مراد قیامت کے دن کے عذاب ہیں۔ بعض کہتے ہیں بنو عباس کی خلافت کے زمانے میں مکہ مدینے کے درمیان ان لشکروں کا زمین میں دھنسایا جانا مراد ہے۔ ابن جریر نے اسے بیان کر کے اس کی دلیل میں ایک حدیث وارد کی ہے جو بالکل ہی موضوع اور گھڑی ہوئی یہ۔ لیکن تعجب سا تعجب ہے کہ امام صاحب نے اس کا موضوع ہونا بیان نہیں کیا، قیامت کے دن کہیں گے کہ ہم ایمان قبول کرتے ہیں اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ؀) 32۔ السجدة :12) ، کاش کے تو دیکھتا جبکہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے سرنگوں کھڑے ہوں گے اور شرمندگی سے کہہ رہے ہوں گے کہ اللہ نے دیکھ سن لیا، ہمیں یقین آگیا۔ اب تو ہمیں پھر سے دنیا میں بھیج دے تو ہم دل سے مانیں گے۔ لیکن کوئی شخص جس طرح بہت دور کی چیز کو لینے کے لئے دور سے ہی ہاتھ بڑھائے اور اس کے ہاتھ نہیں آسکتی۔ اسی طرح یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ آخرت میں وہ کام کرتے ہیں جو دنیا میں کرنا چاہیے تھا۔ تو آخرت میں ایمان لانا بےسود ہے۔ اب نہ دنیا میں لوٹائے جائیں نہ اس وقت کی گریہ وزاری، توبہ و فریاد، ایمان و اسلام کچھ کام آئے گا۔ اس سے پہلے دنیا میں تو منکر رہے۔ نہ اللہ کو مانا نہ رسول پر ایمان لائے نہ قیامت کے قائل ہوئے یونہی جیسے کوئی بن دیکھے اندازے سے ہی نشانے پر تیر بازی کر رہا ہو اسی طرح اللہ کی باتوں کو اپنے گمان سے ہی رد کرتے رہے۔ نبی ﷺ کو کبھی کاہن کہہ دیا کبھی شاعر بتادیا۔ کبھی جادوگر کہا اور کبھی مجنون۔ صرف اٹکل پچو کے ساتھ قیامت کو جھٹلاتے رہے اور بےدلیل اداروں کی عبادت کرتے رہے، جنت دوزخ کا مذاق اڑاتے رہے، اب ایمان اور ان میں حجاب آگیا۔ توبہ میں اور ان میں پردہ پڑگیا۔ دنیا ان سے چھوٹ گئی۔ یہ دنیا سے الگ ہوگئے۔ ابن ابی حاتم میں یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر نقل کیا ہے جسے ہم پورا ہی نقل کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ بنو اسرائیل میں ایک فاتح شخص تھا جس کے پاس مال بہت تھا۔ جب وہ مرگیا اور اس کا لڑکا اس کا وارث ہوا تو بری طرح نافرمانیوں میں مال لٹانے لگا۔ اس کے چچاؤں نے اسے ملامت کی اور سمجھایا اس نے غصے میں آ کر سب چیزیں بیچ کر روپیہ لے کر عین شجاجہ کے پاس آ کر ایک محل تعمیر کرا کر یہاں رہنے لگا۔ ایک روز زور کی آندھی اٹھی جس میں ایک بہت خوبصورت خوشبو دار عورت اس کے پاس آ گری۔ اس نے اس سے پوچھا تم کون ہو ؟ اس نے کہا بنی اسرائیلی شخص ہوں کہا یہ محل اور مال آپ کا ہے ؟ اس نے کہا ہاں۔ پوچھا آپ کی بیوی بھی ہے ؟ کہا نہیں۔ کہا پھر تم اپنی زندگی کا لطف کیا اٹھاتے ہو ؟ اب اس نے پوچھا کہ کیا تمہارا خاوند ہے ؟ اس نے کا نہیں۔ کہا پھر مجھے قبول کرو اس نے جواب دیا میں یہاں سے میل بھر دور رہتی ہوں کل تم یہاں سے اپنے ساتھ دن بھر کا کھانا پینا لے کر چلو اور میرے ہاں آؤ۔ راستے میں کچھ عجائبات دیکھو تو گھبرانا نہیں۔ اس نے قبول کیا اور دوسرے دن توشہ لے کر چلا۔ میل بھر دور جا کر ایک نہایت عالی شان محل دیکھا دستک دینے سے ایک خوبصورت نوجوان شخص آیا پوچھا آپ کون ہیں ؟ جواب دیا کہ میں بنی اسرائیلی ہوں کہا کیسے آئے ہیں ؟ کہا اس مکان کی مالکہ نے بلوایا ہے پوچھا راستے میں کچھ ہولناک چیزیں بھی دیکھیں جواب دیا ہاں اور اگر مجھے یہ کہا ہوا نہ ہوتا کہ گھبرانا مت تو میں ہول و دہشت سے ہلاک ہوگیا ہوتا۔ میں چلا ایک چوڑے راستے پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک کتیا منہ پھاڑے بیٹھی ہوئی ہے میں گھبرا کر دوڑا تو دیکھا کہ مجھ سے آگے آگے وہ ہے اور اس کے پلے (بچے) اس کے پیٹ میں ہیں اور بھونک رہے ہیں۔ اس نوجوان نے کہا تو اسے نہیں پائے گا یہ تو آخر زمانے میں ہونے والی ایک بات کی مثال تجھے دکھائی گئی ہے کہ ایک نوجوان بوڑھے بڑوں کی مجلس میں بیٹھے گا اور ان سے اپنے راز کی پوشیدہ باتیں کرے گا۔ میں اور آگے بڑھا تو دیکھا ایک سو بکریاں ہیں جن کے تھن دودھ سے پر ہیں ایک بچہ ہے جو دودھ پی رہا ہے جب دودھ ختم ہوجاتا ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ اور کچھ باقی نہیں رہا تو وہ منہ کھول دیتا ہے گویا اور مانگ رہا ہے۔ اس نوجوان دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا یہ مثال تجھے بتائی گئی ہے ان بادشاہوں کی جو آخر زمانے میں آئیں گے لوگوں سے سونا چاندی گھسیٹیں گے یہاں تک کہ سمجھ لیں گے کہ اب کسی کے پاس کچھ نہیں بچا تو بھی وہ ظلم و زیادتی کر کے منہ پھیلائے رہیں گے۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو میں نے ایک درخت نہایت ترو تازہ خوش رنگ اور خوش وضع دیکھا میں نے اس کی ایک ٹہنی توڑنی چاہی تو دوسرے درخت سے آواز آئی کہ اے بندہ الٰہی ! میری ڈالی توڑ جا پھر تو ہر ایک درخت سے یہی آواز آنے لگی دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا اس میں اشارہ ہے کہ آخر زمانے میں مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت ہوجائے گی یہاں تک کہ جب ایک مرد کی طرف سے کسی عورت کو پیغام جائے گا تو دس بیس عورتیں اسے اپنی طرف بلانے لگیں گی۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو میں نے دیکھا کہ ایک دریا کے کنارے ایک شخص کھڑا ہوا ہے اور لوگوں کو پانی بھر بھر کر دے رہا ہے پھر اپنی مشک میں ڈالتا ہے لیکن اس میں ایک قطرہ بھی نہیں ٹھہرتا۔ دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا۔ اس میں اشارہ ہے کہ آخر زمانے میں ایسے علماء اور واعظ ہوں گے جو لوگوں کو علم سکھائیں گے۔ بھلی باتیں بتائیں گے۔ لیکن خود عامل نہیں ہوں گئے۔ بلکہ خود گناہوں میں مبتلا رہے گے پھر جو میں آگے بڑھا تو میں نے دیکھا کہ ایک بکری کو بعض لوگوں نے تو اس کے پاؤں پکڑ رکھے ہیں، بعض نے دم تھام رکھی ہے، بعض نے سینگ پکڑ رکھے ہیں، بعض اس پر سوار ہیں اور بعض اس کا دودھ دھو رہے ہیں۔ اس نے کہا یہ مثال ہے دنیا کی جو اس کے پیر تھامے ہوئے ہیں۔ یہ تو وہ ہیں جو دنیا سے گرگئے جنہیں یہ نہ ملی جس نے سینگ تھام رکھے ہیں یہ وہ ہے جو اپنا گذارہ کرلیتا ہے لیکن تنگی ترشی سے دم پکڑنے والے وہ ہیں جن سے دنیا بھاگ چکی ہے۔ سوار وہ ہیں جو از خود تارک دنیا میں ہوگئے ہیں۔ ہاں دنیا سے صحیح فائدہ اٹھانے والے وہ ہیں جنہیں تم نے اس بکری کا دودھ نکالتے ہوئے دیکھا۔ انہیں خوشی ہو یہ مستحق مبارک باد ہیں۔ اس نے کہا میں اور آگے چلا تو دیکھا کہ ایک شخص ایک کنویں میں سے پانی کھینچ رہا ہے اور ایک حوض میں ڈال رہا ہے جس حوض میں سے پانی پھر کنوئیں میں چلا جاتا ہے۔ اس نے کہا یہ وہ شخص ہے جو نیک عمل کرتا ہے لیکن قبول نہیں ہوتے۔ اس نے کہا پھر میں آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک شخص نے دانے زمین میں بوئے اسی وقت کھیتی تیار ہوگئی اور بہت اچھے نفیس گیہوں نکل آئے۔ کہا یہ وہ شخص ہے جس کی نیکیاں اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک شخص چت لیٹا پڑا ہے۔ مجھ سے کہنے لگا بھائی میرا ہاتھ پکڑ کر بیٹھا دو ، واللہ جب سے پیدا ہوا ہوں، بیٹھا ہی نہیں۔ میرے ہاتھ پکڑتے ہی وہ کھڑا ہو کر تیز دوڑا یہاں تک کہ میری نظروں سے پوشیدہ ہوگیا۔ اس دربان نے کہا یہ تیری عمر تھی جو جاچکی اور ختم ہوگئی میں ملک الموت ہوں اور جس عورت سے تو ملنے آیا ہے اس کی صورت میں بھی میں ہی تھا اللہ کے حکم سے تیرے پاس آیا تھا کہ تیری روح اس جگہ قبض کروں پھر تجھے جہنم رسید کروں۔ اس کے بارے میں یہ آیت (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54؀) 34۔ سبأ :54) ، نازل ہوئی۔ یہ اثر غریب ہے اور اس کی صحت میں بھی نظر ہے۔ آیت کا مطلب ظاہر ہے کہ کافروں کی جب موت آتی ہے ان کی روح حیات دنیا کی لذتوں میں اٹکی رہتی ہے۔ لیکن موت مہلت نہیں دیتی اور ان کی خواہش اور ان کے درمیان وہ حائل ہوجاتا ہے۔ جیسے اس مغرور و مفتون شخص کا حال ہوا کہ گیا تو عورت ڈھونڈھنے کو اور ملاقات ہوئی ملک الموت سے۔ امید پوری ہونے سے پہلے روح پرواز کرگئی۔ پھر فرماتا ہے ان سے پہلے کی امتوں کے ساتھ بھی یہی کیا گیا وہ بھی موت کے وقت زندگی اور ایمان کی آرزو کرتے رہے۔ جو محض بےسود تھی۔ جیسے فرمان عالی شان ہے (فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ 84؀) 40۔ غافر :84) جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جس جس کو ہم شریک اللہ بناتے تھے ان سب سے ہم انکار کرتے ہیں لیکن اس وقت ان کے ایمان نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا ان سے پہلوؤں میں بھی یہی طریقہ جاری رہا کفار نفع سے محروم ہی ہیں۔ یہاں فرمایا کہ دنیا میں تو زندگی بھر شک شبہ میں اور تردد میں ہی رہے۔ اسی وجہ سے عذاب کے دیکھنے کے بعد کا ایمان بیکار رہا۔ حضرت قتادہ کا یہ قول آب زر سے لکھنے کے لائق ہے آپ فرماتے ہیں کہ شبہات اور شکوک سے بچو۔ اس پر جس کی موت آئی وہ قیامت کے دن بھی اسی پر اٹھایا جائے گا اور جو یقین پر مرا ہے اسے یقین پر ہی اٹھایا جائے گا۔

عذاب قیامت اور کافر۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرما رہا ہے اے نبی کاش کہ آپ ان کافروں کی قیامت کے دن کی گھبراہٹ دیکھتے۔ کہ ہرچند عذاب سے چھٹکارا چاہیں گے۔ لیکن بچاؤ کی کوئی صورت نہیں پائیں گے۔ نہ بھاگ کر، نہ چھپ کر، نہ کسی کی حمایت سے، نہ کسی کی پناہ سے۔ بلکہ فوراً ہی قریب سے پکڑ لئے جائیں گے۔ ادھر قبروں سے نکلے ادھر پھانس لئے گئے۔ ادھر کھڑے ہوئے ادھر گرفتار کر لئے گئے۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ قتل و اسیر ہوئے۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ مراد قیامت کے دن کے عذاب ہیں۔ بعض کہتے ہیں بنو عباس کی خلافت کے زمانے میں مکہ مدینے کے درمیان ان لشکروں کا زمین میں دھنسایا جانا مراد ہے۔ ابن جریر نے اسے بیان کر کے اس کی دلیل میں ایک حدیث وارد کی ہے جو بالکل ہی موضوع اور گھڑی ہوئی یہ۔ لیکن تعجب سا تعجب ہے کہ امام صاحب نے اس کا موضوع ہونا بیان نہیں کیا، قیامت کے دن کہیں گے کہ ہم ایمان قبول کرتے ہیں اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ؀) 32۔ السجدة :12) ، کاش کے تو دیکھتا جبکہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے سرنگوں کھڑے ہوں گے اور شرمندگی سے کہہ رہے ہوں گے کہ اللہ نے دیکھ سن لیا، ہمیں یقین آگیا۔ اب تو ہمیں پھر سے دنیا میں بھیج دے تو ہم دل سے مانیں گے۔ لیکن کوئی شخص جس طرح بہت دور کی چیز کو لینے کے لئے دور سے ہی ہاتھ بڑھائے اور اس کے ہاتھ نہیں آسکتی۔ اسی طرح یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ آخرت میں وہ کام کرتے ہیں جو دنیا میں کرنا چاہیے تھا۔ تو آخرت میں ایمان لانا بےسود ہے۔ اب نہ دنیا میں لوٹائے جائیں نہ اس وقت کی گریہ وزاری، توبہ و فریاد، ایمان و اسلام کچھ کام آئے گا۔ اس سے پہلے دنیا میں تو منکر رہے۔ نہ اللہ کو مانا نہ رسول پر ایمان لائے نہ قیامت کے قائل ہوئے یونہی جیسے کوئی بن دیکھے اندازے سے ہی نشانے پر تیر بازی کر رہا ہو اسی طرح اللہ کی باتوں کو اپنے گمان سے ہی رد کرتے رہے۔ نبی ﷺ کو کبھی کاہن کہہ دیا کبھی شاعر بتادیا۔ کبھی جادوگر کہا اور کبھی مجنون۔ صرف اٹکل پچو کے ساتھ قیامت کو جھٹلاتے رہے اور بےدلیل اداروں کی عبادت کرتے رہے، جنت دوزخ کا مذاق اڑاتے رہے، اب ایمان اور ان میں حجاب آگیا۔ توبہ میں اور ان میں پردہ پڑگیا۔ دنیا ان سے چھوٹ گئی۔ یہ دنیا سے الگ ہوگئے۔ ابن ابی حاتم میں یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر نقل کیا ہے جسے ہم پورا ہی نقل کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ بنو اسرائیل میں ایک فاتح شخص تھا جس کے پاس مال بہت تھا۔ جب وہ مرگیا اور اس کا لڑکا اس کا وارث ہوا تو بری طرح نافرمانیوں میں مال لٹانے لگا۔ اس کے چچاؤں نے اسے ملامت کی اور سمجھایا اس نے غصے میں آ کر سب چیزیں بیچ کر روپیہ لے کر عین شجاجہ کے پاس آ کر ایک محل تعمیر کرا کر یہاں رہنے لگا۔ ایک روز زور کی آندھی اٹھی جس میں ایک بہت خوبصورت خوشبو دار عورت اس کے پاس آ گری۔ اس نے اس سے پوچھا تم کون ہو ؟ اس نے کہا بنی اسرائیلی شخص ہوں کہا یہ محل اور مال آپ کا ہے ؟ اس نے کہا ہاں۔ پوچھا آپ کی بیوی بھی ہے ؟ کہا نہیں۔ کہا پھر تم اپنی زندگی کا لطف کیا اٹھاتے ہو ؟ اب اس نے پوچھا کہ کیا تمہارا خاوند ہے ؟ اس نے کا نہیں۔ کہا پھر مجھے قبول کرو اس نے جواب دیا میں یہاں سے میل بھر دور رہتی ہوں کل تم یہاں سے اپنے ساتھ دن بھر کا کھانا پینا لے کر چلو اور میرے ہاں آؤ۔ راستے میں کچھ عجائبات دیکھو تو گھبرانا نہیں۔ اس نے قبول کیا اور دوسرے دن توشہ لے کر چلا۔ میل بھر دور جا کر ایک نہایت عالی شان محل دیکھا دستک دینے سے ایک خوبصورت نوجوان شخص آیا پوچھا آپ کون ہیں ؟ جواب دیا کہ میں بنی اسرائیلی ہوں کہا کیسے آئے ہیں ؟ کہا اس مکان کی مالکہ نے بلوایا ہے پوچھا راستے میں کچھ ہولناک چیزیں بھی دیکھیں جواب دیا ہاں اور اگر مجھے یہ کہا ہوا نہ ہوتا کہ گھبرانا مت تو میں ہول و دہشت سے ہلاک ہوگیا ہوتا۔ میں چلا ایک چوڑے راستے پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک کتیا منہ پھاڑے بیٹھی ہوئی ہے میں گھبرا کر دوڑا تو دیکھا کہ مجھ سے آگے آگے وہ ہے اور اس کے پلے (بچے) اس کے پیٹ میں ہیں اور بھونک رہے ہیں۔ اس نوجوان نے کہا تو اسے نہیں پائے گا یہ تو آخر زمانے میں ہونے والی ایک بات کی مثال تجھے دکھائی گئی ہے کہ ایک نوجوان بوڑھے بڑوں کی مجلس میں بیٹھے گا اور ان سے اپنے راز کی پوشیدہ باتیں کرے گا۔ میں اور آگے بڑھا تو دیکھا ایک سو بکریاں ہیں جن کے تھن دودھ سے پر ہیں ایک بچہ ہے جو دودھ پی رہا ہے جب دودھ ختم ہوجاتا ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ اور کچھ باقی نہیں رہا تو وہ منہ کھول دیتا ہے گویا اور مانگ رہا ہے۔ اس نوجوان دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا یہ مثال تجھے بتائی گئی ہے ان بادشاہوں کی جو آخر زمانے میں آئیں گے لوگوں سے سونا چاندی گھسیٹیں گے یہاں تک کہ سمجھ لیں گے کہ اب کسی کے پاس کچھ نہیں بچا تو بھی وہ ظلم و زیادتی کر کے منہ پھیلائے رہیں گے۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو میں نے ایک درخت نہایت ترو تازہ خوش رنگ اور خوش وضع دیکھا میں نے اس کی ایک ٹہنی توڑنی چاہی تو دوسرے درخت سے آواز آئی کہ اے بندہ الٰہی ! میری ڈالی توڑ جا پھر تو ہر ایک درخت سے یہی آواز آنے لگی دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا اس میں اشارہ ہے کہ آخر زمانے میں مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت ہوجائے گی یہاں تک کہ جب ایک مرد کی طرف سے کسی عورت کو پیغام جائے گا تو دس بیس عورتیں اسے اپنی طرف بلانے لگیں گی۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو میں نے دیکھا کہ ایک دریا کے کنارے ایک شخص کھڑا ہوا ہے اور لوگوں کو پانی بھر بھر کر دے رہا ہے پھر اپنی مشک میں ڈالتا ہے لیکن اس میں ایک قطرہ بھی نہیں ٹھہرتا۔ دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا۔ اس میں اشارہ ہے کہ آخر زمانے میں ایسے علماء اور واعظ ہوں گے جو لوگوں کو علم سکھائیں گے۔ بھلی باتیں بتائیں گے۔ لیکن خود عامل نہیں ہوں گئے۔ بلکہ خود گناہوں میں مبتلا رہے گے پھر جو میں آگے بڑھا تو میں نے دیکھا کہ ایک بکری کو بعض لوگوں نے تو اس کے پاؤں پکڑ رکھے ہیں، بعض نے دم تھام رکھی ہے، بعض نے سینگ پکڑ رکھے ہیں، بعض اس پر سوار ہیں اور بعض اس کا دودھ دھو رہے ہیں۔ اس نے کہا یہ مثال ہے دنیا کی جو اس کے پیر تھامے ہوئے ہیں۔ یہ تو وہ ہیں جو دنیا سے گرگئے جنہیں یہ نہ ملی جس نے سینگ تھام رکھے ہیں یہ وہ ہے جو اپنا گذارہ کرلیتا ہے لیکن تنگی ترشی سے دم پکڑنے والے وہ ہیں جن سے دنیا بھاگ چکی ہے۔ سوار وہ ہیں جو از خود تارک دنیا میں ہوگئے ہیں۔ ہاں دنیا سے صحیح فائدہ اٹھانے والے وہ ہیں جنہیں تم نے اس بکری کا دودھ نکالتے ہوئے دیکھا۔ انہیں خوشی ہو یہ مستحق مبارک باد ہیں۔ اس نے کہا میں اور آگے چلا تو دیکھا کہ ایک شخص ایک کنویں میں سے پانی کھینچ رہا ہے اور ایک حوض میں ڈال رہا ہے جس حوض میں سے پانی پھر کنوئیں میں چلا جاتا ہے۔ اس نے کہا یہ وہ شخص ہے جو نیک عمل کرتا ہے لیکن قبول نہیں ہوتے۔ اس نے کہا پھر میں آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک شخص نے دانے زمین میں بوئے اسی وقت کھیتی تیار ہوگئی اور بہت اچھے نفیس گیہوں نکل آئے۔ کہا یہ وہ شخص ہے جس کی نیکیاں اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک شخص چت لیٹا پڑا ہے۔ مجھ سے کہنے لگا بھائی میرا ہاتھ پکڑ کر بیٹھا دو ، واللہ جب سے پیدا ہوا ہوں، بیٹھا ہی نہیں۔ میرے ہاتھ پکڑتے ہی وہ کھڑا ہو کر تیز دوڑا یہاں تک کہ میری نظروں سے پوشیدہ ہوگیا۔ اس دربان نے کہا یہ تیری عمر تھی جو جاچکی اور ختم ہوگئی میں ملک الموت ہوں اور جس عورت سے تو ملنے آیا ہے اس کی صورت میں بھی میں ہی تھا اللہ کے حکم سے تیرے پاس آیا تھا کہ تیری روح اس جگہ قبض کروں پھر تجھے جہنم رسید کروں۔ اس کے بارے میں یہ آیت (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54؀) 34۔ سبأ :54) ، نازل ہوئی۔ یہ اثر غریب ہے اور اس کی صحت میں بھی نظر ہے۔ آیت کا مطلب ظاہر ہے کہ کافروں کی جب موت آتی ہے ان کی روح حیات دنیا کی لذتوں میں اٹکی رہتی ہے۔ لیکن موت مہلت نہیں دیتی اور ان کی خواہش اور ان کے درمیان وہ حائل ہوجاتا ہے۔ جیسے اس مغرور و مفتون شخص کا حال ہوا کہ گیا تو عورت ڈھونڈھنے کو اور ملاقات ہوئی ملک الموت سے۔ امید پوری ہونے سے پہلے روح پرواز کرگئی۔ پھر فرماتا ہے ان سے پہلے کی امتوں کے ساتھ بھی یہی کیا گیا وہ بھی موت کے وقت زندگی اور ایمان کی آرزو کرتے رہے۔ جو محض بےسود تھی۔ جیسے فرمان عالی شان ہے (فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ 84؀) 40۔ غافر :84) جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جس جس کو ہم شریک اللہ بناتے تھے ان سب سے ہم انکار کرتے ہیں لیکن اس وقت ان کے ایمان نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا ان سے پہلوؤں میں بھی یہی طریقہ جاری رہا کفار نفع سے محروم ہی ہیں۔ یہاں فرمایا کہ دنیا میں تو زندگی بھر شک شبہ میں اور تردد میں ہی رہے۔ اسی وجہ سے عذاب کے دیکھنے کے بعد کا ایمان بیکار رہا۔ حضرت قتادہ کا یہ قول آب زر سے لکھنے کے لائق ہے آپ فرماتے ہیں کہ شبہات اور شکوک سے بچو۔ اس پر جس کی موت آئی وہ قیامت کے دن بھی اسی پر اٹھایا جائے گا اور جو یقین پر مرا ہے اسے یقین پر ہی اٹھایا جائے گا۔

عذاب قیامت اور کافر۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرما رہا ہے اے نبی کاش کہ آپ ان کافروں کی قیامت کے دن کی گھبراہٹ دیکھتے۔ کہ ہرچند عذاب سے چھٹکارا چاہیں گے۔ لیکن بچاؤ کی کوئی صورت نہیں پائیں گے۔ نہ بھاگ کر، نہ چھپ کر، نہ کسی کی حمایت سے، نہ کسی کی پناہ سے۔ بلکہ فوراً ہی قریب سے پکڑ لئے جائیں گے۔ ادھر قبروں سے نکلے ادھر پھانس لئے گئے۔ ادھر کھڑے ہوئے ادھر گرفتار کر لئے گئے۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ قتل و اسیر ہوئے۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ مراد قیامت کے دن کے عذاب ہیں۔ بعض کہتے ہیں بنو عباس کی خلافت کے زمانے میں مکہ مدینے کے درمیان ان لشکروں کا زمین میں دھنسایا جانا مراد ہے۔ ابن جریر نے اسے بیان کر کے اس کی دلیل میں ایک حدیث وارد کی ہے جو بالکل ہی موضوع اور گھڑی ہوئی یہ۔ لیکن تعجب سا تعجب ہے کہ امام صاحب نے اس کا موضوع ہونا بیان نہیں کیا، قیامت کے دن کہیں گے کہ ہم ایمان قبول کرتے ہیں اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ؀) 32۔ السجدة :12) ، کاش کے تو دیکھتا جبکہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے سرنگوں کھڑے ہوں گے اور شرمندگی سے کہہ رہے ہوں گے کہ اللہ نے دیکھ سن لیا، ہمیں یقین آگیا۔ اب تو ہمیں پھر سے دنیا میں بھیج دے تو ہم دل سے مانیں گے۔ لیکن کوئی شخص جس طرح بہت دور کی چیز کو لینے کے لئے دور سے ہی ہاتھ بڑھائے اور اس کے ہاتھ نہیں آسکتی۔ اسی طرح یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ آخرت میں وہ کام کرتے ہیں جو دنیا میں کرنا چاہیے تھا۔ تو آخرت میں ایمان لانا بےسود ہے۔ اب نہ دنیا میں لوٹائے جائیں نہ اس وقت کی گریہ وزاری، توبہ و فریاد، ایمان و اسلام کچھ کام آئے گا۔ اس سے پہلے دنیا میں تو منکر رہے۔ نہ اللہ کو مانا نہ رسول پر ایمان لائے نہ قیامت کے قائل ہوئے یونہی جیسے کوئی بن دیکھے اندازے سے ہی نشانے پر تیر بازی کر رہا ہو اسی طرح اللہ کی باتوں کو اپنے گمان سے ہی رد کرتے رہے۔ نبی ﷺ کو کبھی کاہن کہہ دیا کبھی شاعر بتادیا۔ کبھی جادوگر کہا اور کبھی مجنون۔ صرف اٹکل پچو کے ساتھ قیامت کو جھٹلاتے رہے اور بےدلیل اداروں کی عبادت کرتے رہے، جنت دوزخ کا مذاق اڑاتے رہے، اب ایمان اور ان میں حجاب آگیا۔ توبہ میں اور ان میں پردہ پڑگیا۔ دنیا ان سے چھوٹ گئی۔ یہ دنیا سے الگ ہوگئے۔ ابن ابی حاتم میں یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر نقل کیا ہے جسے ہم پورا ہی نقل کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ بنو اسرائیل میں ایک فاتح شخص تھا جس کے پاس مال بہت تھا۔ جب وہ مرگیا اور اس کا لڑکا اس کا وارث ہوا تو بری طرح نافرمانیوں میں مال لٹانے لگا۔ اس کے چچاؤں نے اسے ملامت کی اور سمجھایا اس نے غصے میں آ کر سب چیزیں بیچ کر روپیہ لے کر عین شجاجہ کے پاس آ کر ایک محل تعمیر کرا کر یہاں رہنے لگا۔ ایک روز زور کی آندھی اٹھی جس میں ایک بہت خوبصورت خوشبو دار عورت اس کے پاس آ گری۔ اس نے اس سے پوچھا تم کون ہو ؟ اس نے کہا بنی اسرائیلی شخص ہوں کہا یہ محل اور مال آپ کا ہے ؟ اس نے کہا ہاں۔ پوچھا آپ کی بیوی بھی ہے ؟ کہا نہیں۔ کہا پھر تم اپنی زندگی کا لطف کیا اٹھاتے ہو ؟ اب اس نے پوچھا کہ کیا تمہارا خاوند ہے ؟ اس نے کا نہیں۔ کہا پھر مجھے قبول کرو اس نے جواب دیا میں یہاں سے میل بھر دور رہتی ہوں کل تم یہاں سے اپنے ساتھ دن بھر کا کھانا پینا لے کر چلو اور میرے ہاں آؤ۔ راستے میں کچھ عجائبات دیکھو تو گھبرانا نہیں۔ اس نے قبول کیا اور دوسرے دن توشہ لے کر چلا۔ میل بھر دور جا کر ایک نہایت عالی شان محل دیکھا دستک دینے سے ایک خوبصورت نوجوان شخص آیا پوچھا آپ کون ہیں ؟ جواب دیا کہ میں بنی اسرائیلی ہوں کہا کیسے آئے ہیں ؟ کہا اس مکان کی مالکہ نے بلوایا ہے پوچھا راستے میں کچھ ہولناک چیزیں بھی دیکھیں جواب دیا ہاں اور اگر مجھے یہ کہا ہوا نہ ہوتا کہ گھبرانا مت تو میں ہول و دہشت سے ہلاک ہوگیا ہوتا۔ میں چلا ایک چوڑے راستے پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک کتیا منہ پھاڑے بیٹھی ہوئی ہے میں گھبرا کر دوڑا تو دیکھا کہ مجھ سے آگے آگے وہ ہے اور اس کے پلے (بچے) اس کے پیٹ میں ہیں اور بھونک رہے ہیں۔ اس نوجوان نے کہا تو اسے نہیں پائے گا یہ تو آخر زمانے میں ہونے والی ایک بات کی مثال تجھے دکھائی گئی ہے کہ ایک نوجوان بوڑھے بڑوں کی مجلس میں بیٹھے گا اور ان سے اپنے راز کی پوشیدہ باتیں کرے گا۔ میں اور آگے بڑھا تو دیکھا ایک سو بکریاں ہیں جن کے تھن دودھ سے پر ہیں ایک بچہ ہے جو دودھ پی رہا ہے جب دودھ ختم ہوجاتا ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ اور کچھ باقی نہیں رہا تو وہ منہ کھول دیتا ہے گویا اور مانگ رہا ہے۔ اس نوجوان دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا یہ مثال تجھے بتائی گئی ہے ان بادشاہوں کی جو آخر زمانے میں آئیں گے لوگوں سے سونا چاندی گھسیٹیں گے یہاں تک کہ سمجھ لیں گے کہ اب کسی کے پاس کچھ نہیں بچا تو بھی وہ ظلم و زیادتی کر کے منہ پھیلائے رہیں گے۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو میں نے ایک درخت نہایت ترو تازہ خوش رنگ اور خوش وضع دیکھا میں نے اس کی ایک ٹہنی توڑنی چاہی تو دوسرے درخت سے آواز آئی کہ اے بندہ الٰہی ! میری ڈالی توڑ جا پھر تو ہر ایک درخت سے یہی آواز آنے لگی دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا اس میں اشارہ ہے کہ آخر زمانے میں مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت ہوجائے گی یہاں تک کہ جب ایک مرد کی طرف سے کسی عورت کو پیغام جائے گا تو دس بیس عورتیں اسے اپنی طرف بلانے لگیں گی۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو میں نے دیکھا کہ ایک دریا کے کنارے ایک شخص کھڑا ہوا ہے اور لوگوں کو پانی بھر بھر کر دے رہا ہے پھر اپنی مشک میں ڈالتا ہے لیکن اس میں ایک قطرہ بھی نہیں ٹھہرتا۔ دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا۔ اس میں اشارہ ہے کہ آخر زمانے میں ایسے علماء اور واعظ ہوں گے جو لوگوں کو علم سکھائیں گے۔ بھلی باتیں بتائیں گے۔ لیکن خود عامل نہیں ہوں گئے۔ بلکہ خود گناہوں میں مبتلا رہے گے پھر جو میں آگے بڑھا تو میں نے دیکھا کہ ایک بکری کو بعض لوگوں نے تو اس کے پاؤں پکڑ رکھے ہیں، بعض نے دم تھام رکھی ہے، بعض نے سینگ پکڑ رکھے ہیں، بعض اس پر سوار ہیں اور بعض اس کا دودھ دھو رہے ہیں۔ اس نے کہا یہ مثال ہے دنیا کی جو اس کے پیر تھامے ہوئے ہیں۔ یہ تو وہ ہیں جو دنیا سے گرگئے جنہیں یہ نہ ملی جس نے سینگ تھام رکھے ہیں یہ وہ ہے جو اپنا گذارہ کرلیتا ہے لیکن تنگی ترشی سے دم پکڑنے والے وہ ہیں جن سے دنیا بھاگ چکی ہے۔ سوار وہ ہیں جو از خود تارک دنیا میں ہوگئے ہیں۔ ہاں دنیا سے صحیح فائدہ اٹھانے والے وہ ہیں جنہیں تم نے اس بکری کا دودھ نکالتے ہوئے دیکھا۔ انہیں خوشی ہو یہ مستحق مبارک باد ہیں۔ اس نے کہا میں اور آگے چلا تو دیکھا کہ ایک شخص ایک کنویں میں سے پانی کھینچ رہا ہے اور ایک حوض میں ڈال رہا ہے جس حوض میں سے پانی پھر کنوئیں میں چلا جاتا ہے۔ اس نے کہا یہ وہ شخص ہے جو نیک عمل کرتا ہے لیکن قبول نہیں ہوتے۔ اس نے کہا پھر میں آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک شخص نے دانے زمین میں بوئے اسی وقت کھیتی تیار ہوگئی اور بہت اچھے نفیس گیہوں نکل آئے۔ کہا یہ وہ شخص ہے جس کی نیکیاں اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک شخص چت لیٹا پڑا ہے۔ مجھ سے کہنے لگا بھائی میرا ہاتھ پکڑ کر بیٹھا دو ، واللہ جب سے پیدا ہوا ہوں، بیٹھا ہی نہیں۔ میرے ہاتھ پکڑتے ہی وہ کھڑا ہو کر تیز دوڑا یہاں تک کہ میری نظروں سے پوشیدہ ہوگیا۔ اس دربان نے کہا یہ تیری عمر تھی جو جاچکی اور ختم ہوگئی میں ملک الموت ہوں اور جس عورت سے تو ملنے آیا ہے اس کی صورت میں بھی میں ہی تھا اللہ کے حکم سے تیرے پاس آیا تھا کہ تیری روح اس جگہ قبض کروں پھر تجھے جہنم رسید کروں۔ اس کے بارے میں یہ آیت (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54؀) 34۔ سبأ :54) ، نازل ہوئی۔ یہ اثر غریب ہے اور اس کی صحت میں بھی نظر ہے۔ آیت کا مطلب ظاہر ہے کہ کافروں کی جب موت آتی ہے ان کی روح حیات دنیا کی لذتوں میں اٹکی رہتی ہے۔ لیکن موت مہلت نہیں دیتی اور ان کی خواہش اور ان کے درمیان وہ حائل ہوجاتا ہے۔ جیسے اس مغرور و مفتون شخص کا حال ہوا کہ گیا تو عورت ڈھونڈھنے کو اور ملاقات ہوئی ملک الموت سے۔ امید پوری ہونے سے پہلے روح پرواز کرگئی۔ پھر فرماتا ہے ان سے پہلے کی امتوں کے ساتھ بھی یہی کیا گیا وہ بھی موت کے وقت زندگی اور ایمان کی آرزو کرتے رہے۔ جو محض بےسود تھی۔ جیسے فرمان عالی شان ہے (فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ 84؀) 40۔ غافر :84) جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جس جس کو ہم شریک اللہ بناتے تھے ان سب سے ہم انکار کرتے ہیں لیکن اس وقت ان کے ایمان نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا ان سے پہلوؤں میں بھی یہی طریقہ جاری رہا کفار نفع سے محروم ہی ہیں۔ یہاں فرمایا کہ دنیا میں تو زندگی بھر شک شبہ میں اور تردد میں ہی رہے۔ اسی وجہ سے عذاب کے دیکھنے کے بعد کا ایمان بیکار رہا۔ حضرت قتادہ کا یہ قول آب زر سے لکھنے کے لائق ہے آپ فرماتے ہیں کہ شبہات اور شکوک سے بچو۔ اس پر جس کی موت آئی وہ قیامت کے دن بھی اسی پر اٹھایا جائے گا اور جو یقین پر مرا ہے اسے یقین پر ہی اٹھایا جائے گا۔

عذاب قیامت اور کافر۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرما رہا ہے اے نبی کاش کہ آپ ان کافروں کی قیامت کے دن کی گھبراہٹ دیکھتے۔ کہ ہرچند عذاب سے چھٹکارا چاہیں گے۔ لیکن بچاؤ کی کوئی صورت نہیں پائیں گے۔ نہ بھاگ کر، نہ چھپ کر، نہ کسی کی حمایت سے، نہ کسی کی پناہ سے۔ بلکہ فوراً ہی قریب سے پکڑ لئے جائیں گے۔ ادھر قبروں سے نکلے ادھر پھانس لئے گئے۔ ادھر کھڑے ہوئے ادھر گرفتار کر لئے گئے۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ قتل و اسیر ہوئے۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ مراد قیامت کے دن کے عذاب ہیں۔ بعض کہتے ہیں بنو عباس کی خلافت کے زمانے میں مکہ مدینے کے درمیان ان لشکروں کا زمین میں دھنسایا جانا مراد ہے۔ ابن جریر نے اسے بیان کر کے اس کی دلیل میں ایک حدیث وارد کی ہے جو بالکل ہی موضوع اور گھڑی ہوئی یہ۔ لیکن تعجب سا تعجب ہے کہ امام صاحب نے اس کا موضوع ہونا بیان نہیں کیا، قیامت کے دن کہیں گے کہ ہم ایمان قبول کرتے ہیں اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ؀) 32۔ السجدة :12) ، کاش کے تو دیکھتا جبکہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے سرنگوں کھڑے ہوں گے اور شرمندگی سے کہہ رہے ہوں گے کہ اللہ نے دیکھ سن لیا، ہمیں یقین آگیا۔ اب تو ہمیں پھر سے دنیا میں بھیج دے تو ہم دل سے مانیں گے۔ لیکن کوئی شخص جس طرح بہت دور کی چیز کو لینے کے لئے دور سے ہی ہاتھ بڑھائے اور اس کے ہاتھ نہیں آسکتی۔ اسی طرح یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ آخرت میں وہ کام کرتے ہیں جو دنیا میں کرنا چاہیے تھا۔ تو آخرت میں ایمان لانا بےسود ہے۔ اب نہ دنیا میں لوٹائے جائیں نہ اس وقت کی گریہ وزاری، توبہ و فریاد، ایمان و اسلام کچھ کام آئے گا۔ اس سے پہلے دنیا میں تو منکر رہے۔ نہ اللہ کو مانا نہ رسول پر ایمان لائے نہ قیامت کے قائل ہوئے یونہی جیسے کوئی بن دیکھے اندازے سے ہی نشانے پر تیر بازی کر رہا ہو اسی طرح اللہ کی باتوں کو اپنے گمان سے ہی رد کرتے رہے۔ نبی ﷺ کو کبھی کاہن کہہ دیا کبھی شاعر بتادیا۔ کبھی جادوگر کہا اور کبھی مجنون۔ صرف اٹکل پچو کے ساتھ قیامت کو جھٹلاتے رہے اور بےدلیل اداروں کی عبادت کرتے رہے، جنت دوزخ کا مذاق اڑاتے رہے، اب ایمان اور ان میں حجاب آگیا۔ توبہ میں اور ان میں پردہ پڑگیا۔ دنیا ان سے چھوٹ گئی۔ یہ دنیا سے الگ ہوگئے۔ ابن ابی حاتم میں یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر نقل کیا ہے جسے ہم پورا ہی نقل کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ بنو اسرائیل میں ایک فاتح شخص تھا جس کے پاس مال بہت تھا۔ جب وہ مرگیا اور اس کا لڑکا اس کا وارث ہوا تو بری طرح نافرمانیوں میں مال لٹانے لگا۔ اس کے چچاؤں نے اسے ملامت کی اور سمجھایا اس نے غصے میں آ کر سب چیزیں بیچ کر روپیہ لے کر عین شجاجہ کے پاس آ کر ایک محل تعمیر کرا کر یہاں رہنے لگا۔ ایک روز زور کی آندھی اٹھی جس میں ایک بہت خوبصورت خوشبو دار عورت اس کے پاس آ گری۔ اس نے اس سے پوچھا تم کون ہو ؟ اس نے کہا بنی اسرائیلی شخص ہوں کہا یہ محل اور مال آپ کا ہے ؟ اس نے کہا ہاں۔ پوچھا آپ کی بیوی بھی ہے ؟ کہا نہیں۔ کہا پھر تم اپنی زندگی کا لطف کیا اٹھاتے ہو ؟ اب اس نے پوچھا کہ کیا تمہارا خاوند ہے ؟ اس نے کا نہیں۔ کہا پھر مجھے قبول کرو اس نے جواب دیا میں یہاں سے میل بھر دور رہتی ہوں کل تم یہاں سے اپنے ساتھ دن بھر کا کھانا پینا لے کر چلو اور میرے ہاں آؤ۔ راستے میں کچھ عجائبات دیکھو تو گھبرانا نہیں۔ اس نے قبول کیا اور دوسرے دن توشہ لے کر چلا۔ میل بھر دور جا کر ایک نہایت عالی شان محل دیکھا دستک دینے سے ایک خوبصورت نوجوان شخص آیا پوچھا آپ کون ہیں ؟ جواب دیا کہ میں بنی اسرائیلی ہوں کہا کیسے آئے ہیں ؟ کہا اس مکان کی مالکہ نے بلوایا ہے پوچھا راستے میں کچھ ہولناک چیزیں بھی دیکھیں جواب دیا ہاں اور اگر مجھے یہ کہا ہوا نہ ہوتا کہ گھبرانا مت تو میں ہول و دہشت سے ہلاک ہوگیا ہوتا۔ میں چلا ایک چوڑے راستے پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک کتیا منہ پھاڑے بیٹھی ہوئی ہے میں گھبرا کر دوڑا تو دیکھا کہ مجھ سے آگے آگے وہ ہے اور اس کے پلے (بچے) اس کے پیٹ میں ہیں اور بھونک رہے ہیں۔ اس نوجوان نے کہا تو اسے نہیں پائے گا یہ تو آخر زمانے میں ہونے والی ایک بات کی مثال تجھے دکھائی گئی ہے کہ ایک نوجوان بوڑھے بڑوں کی مجلس میں بیٹھے گا اور ان سے اپنے راز کی پوشیدہ باتیں کرے گا۔ میں اور آگے بڑھا تو دیکھا ایک سو بکریاں ہیں جن کے تھن دودھ سے پر ہیں ایک بچہ ہے جو دودھ پی رہا ہے جب دودھ ختم ہوجاتا ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ اور کچھ باقی نہیں رہا تو وہ منہ کھول دیتا ہے گویا اور مانگ رہا ہے۔ اس نوجوان دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا یہ مثال تجھے بتائی گئی ہے ان بادشاہوں کی جو آخر زمانے میں آئیں گے لوگوں سے سونا چاندی گھسیٹیں گے یہاں تک کہ سمجھ لیں گے کہ اب کسی کے پاس کچھ نہیں بچا تو بھی وہ ظلم و زیادتی کر کے منہ پھیلائے رہیں گے۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو میں نے ایک درخت نہایت ترو تازہ خوش رنگ اور خوش وضع دیکھا میں نے اس کی ایک ٹہنی توڑنی چاہی تو دوسرے درخت سے آواز آئی کہ اے بندہ الٰہی ! میری ڈالی توڑ جا پھر تو ہر ایک درخت سے یہی آواز آنے لگی دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا اس میں اشارہ ہے کہ آخر زمانے میں مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت ہوجائے گی یہاں تک کہ جب ایک مرد کی طرف سے کسی عورت کو پیغام جائے گا تو دس بیس عورتیں اسے اپنی طرف بلانے لگیں گی۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو میں نے دیکھا کہ ایک دریا کے کنارے ایک شخص کھڑا ہوا ہے اور لوگوں کو پانی بھر بھر کر دے رہا ہے پھر اپنی مشک میں ڈالتا ہے لیکن اس میں ایک قطرہ بھی نہیں ٹھہرتا۔ دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا۔ اس میں اشارہ ہے کہ آخر زمانے میں ایسے علماء اور واعظ ہوں گے جو لوگوں کو علم سکھائیں گے۔ بھلی باتیں بتائیں گے۔ لیکن خود عامل نہیں ہوں گئے۔ بلکہ خود گناہوں میں مبتلا رہے گے پھر جو میں آگے بڑھا تو میں نے دیکھا کہ ایک بکری کو بعض لوگوں نے تو اس کے پاؤں پکڑ رکھے ہیں، بعض نے دم تھام رکھی ہے، بعض نے سینگ پکڑ رکھے ہیں، بعض اس پر سوار ہیں اور بعض اس کا دودھ دھو رہے ہیں۔ اس نے کہا یہ مثال ہے دنیا کی جو اس کے پیر تھامے ہوئے ہیں۔ یہ تو وہ ہیں جو دنیا سے گرگئے جنہیں یہ نہ ملی جس نے سینگ تھام رکھے ہیں یہ وہ ہے جو اپنا گذارہ کرلیتا ہے لیکن تنگی ترشی سے دم پکڑنے والے وہ ہیں جن سے دنیا بھاگ چکی ہے۔ سوار وہ ہیں جو از خود تارک دنیا میں ہوگئے ہیں۔ ہاں دنیا سے صحیح فائدہ اٹھانے والے وہ ہیں جنہیں تم نے اس بکری کا دودھ نکالتے ہوئے دیکھا۔ انہیں خوشی ہو یہ مستحق مبارک باد ہیں۔ اس نے کہا میں اور آگے چلا تو دیکھا کہ ایک شخص ایک کنویں میں سے پانی کھینچ رہا ہے اور ایک حوض میں ڈال رہا ہے جس حوض میں سے پانی پھر کنوئیں میں چلا جاتا ہے۔ اس نے کہا یہ وہ شخص ہے جو نیک عمل کرتا ہے لیکن قبول نہیں ہوتے۔ اس نے کہا پھر میں آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک شخص نے دانے زمین میں بوئے اسی وقت کھیتی تیار ہوگئی اور بہت اچھے نفیس گیہوں نکل آئے۔ کہا یہ وہ شخص ہے جس کی نیکیاں اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک شخص چت لیٹا پڑا ہے۔ مجھ سے کہنے لگا بھائی میرا ہاتھ پکڑ کر بیٹھا دو ، واللہ جب سے پیدا ہوا ہوں، بیٹھا ہی نہیں۔ میرے ہاتھ پکڑتے ہی وہ کھڑا ہو کر تیز دوڑا یہاں تک کہ میری نظروں سے پوشیدہ ہوگیا۔ اس دربان نے کہا یہ تیری عمر تھی جو جاچکی اور ختم ہوگئی میں ملک الموت ہوں اور جس عورت سے تو ملنے آیا ہے اس کی صورت میں بھی میں ہی تھا اللہ کے حکم سے تیرے پاس آیا تھا کہ تیری روح اس جگہ قبض کروں پھر تجھے جہنم رسید کروں۔ اس کے بارے میں یہ آیت (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54؀) 34۔ سبأ :54) ، نازل ہوئی۔ یہ اثر غریب ہے اور اس کی صحت میں بھی نظر ہے۔ آیت کا مطلب ظاہر ہے کہ کافروں کی جب موت آتی ہے ان کی روح حیات دنیا کی لذتوں میں اٹکی رہتی ہے۔ لیکن موت مہلت نہیں دیتی اور ان کی خواہش اور ان کے درمیان وہ حائل ہوجاتا ہے۔ جیسے اس مغرور و مفتون شخص کا حال ہوا کہ گیا تو عورت ڈھونڈھنے کو اور ملاقات ہوئی ملک الموت سے۔ امید پوری ہونے سے پہلے روح پرواز کرگئی۔ پھر فرماتا ہے ان سے پہلے کی امتوں کے ساتھ بھی یہی کیا گیا وہ بھی موت کے وقت زندگی اور ایمان کی آرزو کرتے رہے۔ جو محض بےسود تھی۔ جیسے فرمان عالی شان ہے (فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ 84؀) 40۔ غافر :84) جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جس جس کو ہم شریک اللہ بناتے تھے ان سب سے ہم انکار کرتے ہیں لیکن اس وقت ان کے ایمان نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا ان سے پہلوؤں میں بھی یہی طریقہ جاری رہا کفار نفع سے محروم ہی ہیں۔ یہاں فرمایا کہ دنیا میں تو زندگی بھر شک شبہ میں اور تردد میں ہی رہے۔ اسی وجہ سے عذاب کے دیکھنے کے بعد کا ایمان بیکار رہا۔ حضرت قتادہ کا یہ قول آب زر سے لکھنے کے لائق ہے آپ فرماتے ہیں کہ شبہات اور شکوک سے بچو۔ اس پر جس کی موت آئی وہ قیامت کے دن بھی اسی پر اٹھایا جائے گا اور جو یقین پر مرا ہے اسے یقین پر ہی اٹھایا جائے گا۔

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com