John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah An-Nisaa

Tafsir Ibn Kathir · The Women · 176 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

محبت و مودت کا آفاقی اصول اللہ تعالیٰ اپنے تقوے کا حکم دیتا ہے کہ جسم سے اسی ایک ہی کی عبادتیں کی جائیں اور دل میں صرف اسی کا خوف رکھا جائے، پھر اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے تم سب کو ایک ہی شخص یعنی حضرت آدم ؑ سے پیدا کیا ہے، ان کی بیوی یعنی حضرت حوا (علیہما السلام) کو بھی انہی سے پیدا کیا، آپ سوئے ہوئے تھے کہ بائیں طرف کی پسلی کی پچھلی طرف سے حضرت حوا کو پیدا کیا، آپ نے بیدار ہو کر انہیں دیکھا اور اپنی طبیعت کو ان کی طرف راغب پایا اور انہیں بھی ان سے انس پیدا ہوا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں عورت مرد سے پیدا کی گئی ہے اس لئے اس کی حاجت و شہوت مرد میں رکھی گئی ہے اور مرد زمین سے پیدا کئے گئے ہیں اس لئے ان کی حاجت زمین میں رکھی گئی ہے۔ پس تم اپنی عورتوں کو روکے رکھو، صحیح حدیث میں ہے عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور سب سے بلند پسلی سب سے زیادہ ٹیڑھی ہے پس اگر تو اسے بالکل سیدھی کرنے کو جائے گا تو توڑ دے گا اور اگر اس میں کچھ کجی باقی چھوڑتے ہوئے فائدہ اٹھانا چاہے گا تو بیشک فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ پھر فرمایا ان دونوں سے یعنی آدم اور حوا سے بہت سے انسان مردو عورت چاروں طرف دنیا میں پھیلا دیئے جن کی قسمیں صفتیں رنگ روپ بول چال میں بہت کچھ اختلاف ہے، جس طرح یہ سب پہلے اللہ تعالیٰ کے قبضے میں تھے اور پھر انہیں اس نے ادھر ادھر پھیلا دیا، ایک وقت ان سب کو سمیٹ کر پھر اپنے قبضے میں کر کے ایک میدان میں جمع کرے گا۔ پس اللہ سے ڈرتے رہو اس کی اطاعت عبادت بجا لاتے رہو، اسی اللہ کے واسطے سے اور اسی کے پاک نام پر تم آپس میں ایک دوسرے سے مانگتے ہو، مثلاً یہ کہ ان میں تجھے اللہ کو یاد دلا کر اور رشتے کو یاد دلا کر یوں کہتا ہوں اسی کے نام کی قسمیں کھاتے ہو اور عہد و پیمان مضبوط کرتے ہو، اللہ جل شانہ سے ڈر کر رشتوں ناتوں کی حفاظت کرو انہیں توڑو نہیں بلکہ جوڑو صلہ رحمی نیکی اور سلوک آپس میں کرتے رہو ارحام بھی ایک قرأت میں ہے یعنی اللہ کے نام پر اور رشتے کے واسطے سے، اللہ تمہارے تمام احوال اور اعمال سے واقف ہے خوب دیکھ بھال رہا ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (واللہ علی کلی شئی شہید) اللہ ہر چیز پر گواہ اور حاضر ہے، صحیح حدیث میں ہے اللہ عزوجل کی ایسی عبادت کر کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے پس اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ ہی رہا ہے، مطلب یہ ہے کہ اس کا لحاظ رکھو جو تمہارے ہر اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے پر نگراں ہے، یہاں فرمایا گیا کہ لوگو تم سب ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہو ایک دوسرے پر شفقت کیا کرو، کمزور اور ناتواں کا ساتھ دو اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو، صحیح مسلم شریف کی ہو حدیث میں ہے کہ جب قبیلہ مضر کے چند لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس چادریں لپیٹے ہوئے آئے کیونکہ ان کے جسم پر کپڑا تک نہ تھا تو حضور ﷺ نے کھڑے ہو کر نماز ظہر کے بعد وعظ بیان فرمایا جس میں اس آیت کی تلاوت کی پھر آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ) 59۔ الحشر :18) کی تلاوت کی پھر لوگوں کو خیرات کرنے کی ترغیب دی چناچہ جس سے جو ہوسکا ان لوگوں کے لئے دیا درہم و دینار بھی اور کھجور و گیہوں بھی یہ حدیث، مسند اور سنن میں خطبہ حاجات کے بیان میں ہے پھر تین آیتیں پڑھیں جن میں سے ایک آیت یہی ہے۔

یتیموں کی نگہداشت اور چار شادیوں کی اجازت اللہ تعالیٰ یتیموں کے والیوں کو حکم دیتا ہے کہ جب یتیم بلوغت اور سمجھداری کو پہنچ جائیں تو ان کے جو مال تمہارے پاس ہو انہیں سونپ دو ، پورے پورے بغیر کمی اور خیانت کے ان کے حوالے کرو، اپنے مالوں کے ساتھ ملا کر گڈمڈ کر کے کھا جانے کی نیت نہ رکھو، حلال رزق جب اللہ رحیم تمہیں دے رہا ہے پھر حرام کی طرف کیوں منہ اٹھاؤ ؟ تقدیر کی روزی مل کر ہی رہے گی اپنے حلال مال چھوڑ کر لوگوں کے مالوں کو جو تم پر حرام ہیں نہ لو، دبلا پتلا جانور دے کر موٹا تازہ نہ لو، بوٹی دے کر بکرے کی فکر نہ کرو، ردی دے کر اچھے کی اور کھوٹا دے کر کھرے کی نیت نہ رکھو، پہلے لوگ ایسا کرلیا کرتے تھے کہ یتیموں کی بکریوں کے ریوڑ میں سے عمدہ بکری لے لی اور اپنی دبلی پتلی بکری دے کر گنتی پوری کردی، کھوٹا درہم اس کے مال میں ڈال کر کھرا نکال لیا اور پھر سمجھ لیا کہ ہم نے تو بکری کے بدلے بکری اور درہم کے بدلے درہم لیا ہے۔ ان کے مالوں میں اپنا مال خلط ملط کر کے پھر یہ حیلہ کر کے اب امتیاز کیا ہے ؟ ان کے مال تلف نہ کرو، یہ بڑا گناہ ہے، ایک ضعیف حدیث میں بھی یہی معنی آخری جملے کے مروی ہیں، ابو داؤد کی حدیث میں ایک دعا میں بھی (حوب) کا لفظ گناہ کے معنی میں آیا ہے، حضرت ابو ایوب نے جب اپنی بیوی صاحبہ کو طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا تھا کہ اس طلاق میں گناہ ہے، چناچہ وہ اپنے ارادے سے باز رہے، ایک روایت میں یہ واقعہ حضرت ابو طلحہ اور ام سلیم کا مروی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ تمہاری پرورش میں کوئی یتیم لڑکی ہو اور تم اس سے نکاح کرنا چاہتے ہو لیکن چونکہ اس کا کوئی اور نہیں اس لئے تم تو ایسا نہ کرو کہ مہر اور حقوق میں کمی کر کے اسے اپنے گھر ڈال لو اس سے باز رہو اور عورتیں بہت ہیں جس سے چاہو نکاح کرلو، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں ایک یتیم لڑکی تھی جس کے پاس مال بھی تھا اور باغ بھی جس کی پرورش میں وہ تھی اس نے صرف اس مال کے لالچ میں بغیر اس کا پورا مہر وغیرہ مقرر کرنے کے اس سے نکاح کرلیا جس پر یہ آیت اتری میرا خیال ہے کہ اس باغ اور مال میں یہ لڑکی حصہ دار تھی، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت ابن شہاب نے حضرت عائشہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا بھانجے، یہ ذکر اس یتیم لڑکی کا ہے جو اپنے ولی کے قبضہ میں ہے اس کے مال میں شریک ہے اور اسے اس کا مال و جمال اچھا لگتا ہے چاہتا ہے کہ اس سے نکاح کرلے لیکن جو مہر وغیرہ اور جگہ سے اسے ملتا ہے اتنا یہ نہیں دیتا تو اسے منع کیا جا رہا ہے کہ وہ اس اپنی نیت چھوڑ دے اور کسی دوسری عورت سے جس سے چاہے اپنا نکاح کرلے، پھر اس کے بعد لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی کی بابت دریافت کیا اور آیت (وَيَسْتَفْتُوْنَكَ فِي النِّسَاۗءِ ۭ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ) 4۔ النسآء :127) نازل ہوئی وہاں فرمایا گیا ہے کہ جب یتیم لڑکی کم مال والی اور کم جمال والی ہوتی ہے اس وقت تو اس کے والی اس سے بےرغبتی کرتے ہیں پھر کوئی وجہ نہیں کہ مال و جمال پر مائل ہو کر اس کے پورے حقوق ادا نہ کر کے اس سے اپنا نکاح کرلیں، ہاں عدل و انصاف سے پورا مہر وغیرہ مقرر کریں تو کوئی حرج نہیں، ورنہ پھر عورتوں کی کمی نہیں اور کسی سے جس سے چاہیں اظہار نکاح کرلیں دو دو عورتیں اپنے نکاح میں رکھیں اگر چاہیں تین تین رکھیں اگر چاہیں چار چار، جیسے اور جگہ یہ الفاظ ان ہی معنوں میں ہیں، فرماتا ہے آیت (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰۗىِٕكَةِ رُسُلًا اُولِيْٓ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ) 35۔ فاطر :1) یعنی جن فرشتوں کو اللہ تعالیٰ اپنا قاصد بنا کر بھیجتا ہے ان میں سے بعض دو دو پروں والے ہیں بعض تین تین پروں والے بعض چار پروں والے فرشتوں میں اس سے زیادہ پر والے فرشتے بھی ہیں کیونکہ دلیل سے یہ ثابت شدہ ہے، لیکن مرد کو ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویوں کا جمع کرنا منع ہے جیسے کہ اس آیت میں موجود ہے اور جیسے کہ حضرت ابن عباس اور جمہور کا قول ہے، یہاں اللہ تعالیٰ اپنے احسان اور انعام بیان فرما رہا ہے پس اگر چار سے زیادہ کی اجازت دینی منظور ہوتی تو ضرور فرما دیا جاتا، حضرت امام شافعی ؒ فرماتے ہیں حدیث جو قرآن کی وضاحت کرنے والی ہے اس نے بتلا دیا ہے کہ سوائے رسول اللہ ﷺ کے کسی کے لئے چار سے زیادہ بیویوں کا بیک وقت جمع کرنا جائز نہیں اسی پر علماء کرام کا اجماع ہے، البتہ بعض شیعہ کا قول ہے کہ نو تک جمع کرنی جائز ہیں، بلکہ بعض شیعہ نے تو کہا ہے کہ نو سے بھی زیادہ جمع کرلینے میں بھی کوئی حرج نہیں کوئی تعداد مقرر ہے ہی نہیں، ان کا استدلال ایک تو رسول کریم ﷺ کے فعل سے ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں آچکا ہے کہ آپ کی نو بیویاں تھیں اور بخاری شریف کی معلق حدیث کے بعض راویوں نے گیارہ کہا ہے، حضرت انس سے مروی ہے کہ آپ نے پندرہ بیویوں سے عقد کیا تیرہ کی رخصتی ہوئی ایک وقت میں گیارہ بیویاں آپ کے پاس تھیں۔ انتقال کے وقت آپ کی نو بیویاں تھیں ؓ اجمعین، ہمارے علماء کرام اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ آپ کی خصوصیت تھی امتی کو ایک وقت میں چار سے زیادہ پاس رکھنے کی اجازت نہیں، جیسے کہ یہ حدیثیں اس امر پر دلالت کرتی ہیں، حضرت غیلان بن سلمہ ثقفی ؓ جب مسلمان ہوتے ہیں تو ان کے پاس ان کی دس بیویاں تھیں۔ حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ان میں سے جنہیں چاہو چار رکھ لو باقی کو چھوڑ دو چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا پھر حضرت عمر کی خلافت کے زمانے میں اپنی ان بیویوں کو بھی طلاق دے دی اور اپنے لڑکوں کو اپنا مال بانٹ دیا، حضرت عمر ؓ کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا شاید تیرے شیطان نے بات اچک لی اور تیرے دل میں خیال جما دیا کہ تو عنقریب مرنے والا ہے اس لئے اپنی بیویوں کو تو نے الگ کردیا کہ وہ تیرا مال نہ پائیں اور اپنا مال اپنی اولاد میں تقسیم کردیا میں تجھے حکم دیتا ہوں کہ اپنی بیویوں سے رجوع کرلے اور اپنے اولاد سے مال واپس لے اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرے بعد تیری ان مطلقہ بیویوں کو بھی تیرا وارث بناؤں گا کیونکہ تو نے انہیں اسی ڈر سے طلاق دی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ تیری زندگی بھی اب ختم ہونے والی ہے اور اگر تو نے میری بات نہ مانی تو یاد رکھ میں حکم دوں گا کہ لوگ تیری قبر پر پتھر پھینکیں جیسے کہ ابو رغال کی قبر پر پتھر پھینکے جاتے ہیں (مسند احمد شافعی ترمذی ابن ماجہ دار قطنی بیہقی وغیرہ) مرفوع حدیث تک تو ان سب کتابوں میں ہے ہاں حضرت عمر ؓ والا واقعہ صرف مسند احمد میں ہی ہے لیکن یہ زیادتی حسن ہے، اگرچہ امام بخاری نے اسے ضعیف کہا ہے اور اس کی اسناد کا دوسرا طریقہ بتا کر اس طریقہ کو غیر محفوظ کہا ہے مگر اس تعلیل میں بھی اختلاف ہے واللہ اعلم اور بزرگ محدثین نے بھی اس پر کلام کیا ہے لیکن مسند احمد والی حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور شرط شیخین پر ہیں ایک اور روایت میں ہے کہ یہ دس عورتیں بھی اپنے خاوند کے ساتھ مسلمان ہوئی تھیں ملاحظہ ہو (سنن نسائی) ، اس حدیث سے صاف ظاہر ہوگیا کہ اگر چار سے زیادہ کا ایک وقت میں نکاح میں رکھنا جائز ہوتا تو حضور ﷺ ان سے یہ نہ فرماتے کہ اپنی ان دس بیویوں میں سے چار کو جنہیں تم چاہو روک لو باقی کو چھوڑ دو کیونکہ یہ سب بھی اسلام لا چکی تھیں، یہاں یہ بات بھی خیال میں رکھنی چاہئے کہ ثقفی کے ہاں تو یہ دس عورتیں بھی موجود تھی اس پر بھی آپ نے چھ علیحدہ کرا دیں پھر بھلا کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص نئے سرے سے چار سے زیادہ جمع کرے ؟ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم با الصواب چار سے زائد نہیں، وہ بھی بشرط انصاف ورنہ ایک ہی بیوی !" دوسری حدیث " ابو داؤد ابن ماجہ وغیرہ میں ہے حضرت امیرہ اسدی ؓ فرماتے ہیں میں نے جس وقت اسلام قبول کیا میرے نکاح میں آٹھ عورتیں تھیں میں نے رسول کریم ﷺ سے ذکر کیا آپ نے فرمایا ان میں سے جن چار کو چاہو رکھ لو، اس کی سند حسن ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں راویوں کے ناموں کا ہیر پھیر وغیرہ ایسی روایات میں نقصان دہ نہیں ہوتا " تیسری حدیث " مسند شافعی میں ہے حضرت نوفل بن معاویہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے جب اسلام قبول کیا اس وقت میری پانچ بیویاں تھیں مجھ سے حضور ﷺ نے فرمایا ان میں سے پسند کر کے چار کو رکھ لو اور ایک کو الگ کردو میں نے جو سب سے زیادہ عمر کی بڑھیا اور بےاولاد بیوی ساٹھ سال کی تھیں انہیں طلاق دے دی، پس یہ حدیثیں حضرت غیلان والی پہلی حدیث کی شواہد ہیں جیسے کہ حضرت امام بیہقی نے فرمایا۔ پھر فرماتا ہے ہاں اگر ایک سے زیادہ بیویوں میں عدل و انصاف نہ ہوسکنے کا خوف ہو تو صرف ایک ہی پر اکتفا کرو اور اپنی کنیزوں سے استمتاع کرو جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَنْ تَسْتَطِيْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَيْنَ النِّسَاۗءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيْلُوْا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوْھَا كَالْمُعَلَّقَةِ) 4۔ النسآء :129) یعنی گو تم چاہو لیکن تم سے نہ ہو سکے گا کہ عورتوں کے درمیان پوری طرح عدل و انصاف کو قائم رکھ سکو پس بالکل ایک ہی طرف جھک کر دوسری کو مصیبت میں نہ ڈال دو ، ہاں یاد رہے کہ لونڈیاں میں باری وغیرہ کی تقسیم واجب نہیں البتہ مستحب ہے جو کرے اس نے اچھا کیا اور جو نہ کرے اس پر حرج نہیں۔ اس کے بعد کے جملے کے مطلب میں بعض نے تو کہا ہے کہ یہ قریب ہے ان معنی کے کہ تمہارے عیال یعنی فقیری زیادہ نہ ہو جیسے اور جگہ ہے آیت (وان خفتم) یعنی اگر تمہیں فقر کا ڈر ہو، عربی شاعر کہتا ہے۔فما یدری الفقیر متی غناہ وما یدری الغنی متی یعیل یعنی فقیر نہیں جانتا کہ کب امیر ہوجائے گا، اور امیر کو معلوم نہیں کہ کب فقیر بن جائے گا، جب کوئی مسکین محتاج ہوجائے تو عرب کہتے ہیں (عال الرج) یعنی یہ شخص فقیر ہوگیا غرض اس معنی میں یہ لفظ مستعمل تو ہے لیکن یہاں یہ تفسیر کچھ زیادہ اچھی نہیں معلوم ہوتی، کیونکہ اگر آزاد عورتوں کی کثرت فقیری کا باعث بن سکتی ہے تو لونڈیوں کی کثرت بھی فقیری کا سبب ہوسکتی ہے، پس صحیح قول جمہور کا ہے کہ مرادیہ ہے کہ یہ قریب ہے اس سے کہ تم ظلم سے بچ جاؤ، عرب میں کہا جاتا ہے (عال فی الحکم) جبکہ ظلم و جور کیا ہو، ابو طالب کے مشہور قصیدے میں ہے۔ بمیزان قسط لا یخبس شعیرۃ لہ شاہدمن نفسہ غیر عائل ضمیر بہترین ترازو ہے یعنی ایسی ترازو سے تولتا ہے جو ایک جو برابر کی بھی کمی نہیں کرتا اس کے پاس اس کا گواہ خود اس کا نفس ہے جو ظالم نہیں ہے ابن جریر میں ہے کہ جب کو فیوں نے حضرت عثمان ؓ پر ایک خط کچھ الزام لکھ کر بھیجے تو ان کے جواب میں خلیفہ رسول ﷺ نے لکھا کہ (انی لست بمیزان اعول) میں ظلم کا ترازو نہیں ہوں، صحیح ابن حبان وغیرہ میں ایک مرفوع حدیث اس جملہ کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس کا معنی ہے تم ظلم نہ کرو، ابو حاتم ؒ فرماتے ہیں اس کا مرفوع ہونا تو خطا ہے ہاں یہ حضرت عائشہ کا قول ہے اسی طرح لا تعولوا کے یہی معنی میں یعنی تم ظلم نہ کرو حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عائشہ، حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ، حضرت حسن، حضرت ابو مالک، حضرت ابو زرین، حضرت نخعی، حضرت شعبی، حضرت ضحاک، حضرت عطاء خراسانی، حضرت قتادہ، حضرت سدی اور حضرت مقاتل بن حیان وغیرہ سے بھی مروی ہیں۔ حضرت عکرمہ ؒ نے بھی ابو طالب کا وہی شعر پیش کیا ہے، امام ابن جریر نے اسے روایت کیا ہے اور خود امام صاحب بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے اپنی بیویوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کردیا کرو جو بھی مقرر ہوئے ہوں اور جن کو تم نے منظور کیا ہو، ہاں اگر عورت خود اپنا سارا یا تھوڑا بہت مہر اپنی خوشی سے مرد کو معاف کر دے تو اسے اختیار ہے اور اس صورت میں بیشکل مرد کو اس کا اپنے استعمال میں لانا حلال طیب ہے، نبی ﷺ کے بعد کسی کو جائز نہیں کہ بغیر مہر واجب کے نکاح کرے نہ یہ کہ جھوٹ موٹ مہر کا نام ہی نام ہو، ابن ابی حاتم میں حضرت علی ؓ کا قول مروی ہے کہ تم میں سے جب کوئی بیمار پڑے تو اسے چاہئے کہ اپنی بیوی سے اس کے مال کے تین درہم یا کم و بیش لے ان کا شہد خرید لے اور بارش کا آسمانی پانی اس میں ملالے تو تین تین بھلائیاں مل جائیں گی آیت (ہنیأ امریأ) تو مال عورت اور شفاء شہد اور مبارک بارش کا پانی۔ حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ لوگ اپنی بیٹیوں کا مہر آپ لیتے تھے جس پر یہ آیت اتری اور انہیں اس سے روک دیا گیا (ابن ابی حاتم اور ابن جریر) اس حکم کو سن کر لوگوں نے رسول مقبول ﷺ سے پوچھا کہ ان کا مہر کیا ہونا چاہئے ؟ آپ نے فرمایا جس چیز پر بھی ان کے ولی رضامند ہوجائیں (ابن ابی حاتم) حضور ﷺ نے اپنے خطبے میں تین مرتبہ فرمایا کہ بیوہ عورتوں کا نکاح کردیا کرو، ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ ایسی صورت میں ان کا مہر کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا جس پر ان کے گھر والے راضی ہوجائیں، اس کے ایک راوی ابن سلمانی ضعیف ہیں، پھر اس میں انقطاع بھی ہے۔

یتیموں کی نگہداشت اور چار شادیوں کی اجازت اللہ تعالیٰ یتیموں کے والیوں کو حکم دیتا ہے کہ جب یتیم بلوغت اور سمجھداری کو پہنچ جائیں تو ان کے جو مال تمہارے پاس ہو انہیں سونپ دو ، پورے پورے بغیر کمی اور خیانت کے ان کے حوالے کرو، اپنے مالوں کے ساتھ ملا کر گڈمڈ کر کے کھا جانے کی نیت نہ رکھو، حلال رزق جب اللہ رحیم تمہیں دے رہا ہے پھر حرام کی طرف کیوں منہ اٹھاؤ ؟ تقدیر کی روزی مل کر ہی رہے گی اپنے حلال مال چھوڑ کر لوگوں کے مالوں کو جو تم پر حرام ہیں نہ لو، دبلا پتلا جانور دے کر موٹا تازہ نہ لو، بوٹی دے کر بکرے کی فکر نہ کرو، ردی دے کر اچھے کی اور کھوٹا دے کر کھرے کی نیت نہ رکھو، پہلے لوگ ایسا کرلیا کرتے تھے کہ یتیموں کی بکریوں کے ریوڑ میں سے عمدہ بکری لے لی اور اپنی دبلی پتلی بکری دے کر گنتی پوری کردی، کھوٹا درہم اس کے مال میں ڈال کر کھرا نکال لیا اور پھر سمجھ لیا کہ ہم نے تو بکری کے بدلے بکری اور درہم کے بدلے درہم لیا ہے۔ ان کے مالوں میں اپنا مال خلط ملط کر کے پھر یہ حیلہ کر کے اب امتیاز کیا ہے ؟ ان کے مال تلف نہ کرو، یہ بڑا گناہ ہے، ایک ضعیف حدیث میں بھی یہی معنی آخری جملے کے مروی ہیں، ابو داؤد کی حدیث میں ایک دعا میں بھی (حوب) کا لفظ گناہ کے معنی میں آیا ہے، حضرت ابو ایوب نے جب اپنی بیوی صاحبہ کو طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا تھا کہ اس طلاق میں گناہ ہے، چناچہ وہ اپنے ارادے سے باز رہے، ایک روایت میں یہ واقعہ حضرت ابو طلحہ اور ام سلیم کا مروی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ تمہاری پرورش میں کوئی یتیم لڑکی ہو اور تم اس سے نکاح کرنا چاہتے ہو لیکن چونکہ اس کا کوئی اور نہیں اس لئے تم تو ایسا نہ کرو کہ مہر اور حقوق میں کمی کر کے اسے اپنے گھر ڈال لو اس سے باز رہو اور عورتیں بہت ہیں جس سے چاہو نکاح کرلو، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں ایک یتیم لڑکی تھی جس کے پاس مال بھی تھا اور باغ بھی جس کی پرورش میں وہ تھی اس نے صرف اس مال کے لالچ میں بغیر اس کا پورا مہر وغیرہ مقرر کرنے کے اس سے نکاح کرلیا جس پر یہ آیت اتری میرا خیال ہے کہ اس باغ اور مال میں یہ لڑکی حصہ دار تھی، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت ابن شہاب نے حضرت عائشہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا بھانجے، یہ ذکر اس یتیم لڑکی کا ہے جو اپنے ولی کے قبضہ میں ہے اس کے مال میں شریک ہے اور اسے اس کا مال و جمال اچھا لگتا ہے چاہتا ہے کہ اس سے نکاح کرلے لیکن جو مہر وغیرہ اور جگہ سے اسے ملتا ہے اتنا یہ نہیں دیتا تو اسے منع کیا جا رہا ہے کہ وہ اس اپنی نیت چھوڑ دے اور کسی دوسری عورت سے جس سے چاہے اپنا نکاح کرلے، پھر اس کے بعد لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی کی بابت دریافت کیا اور آیت (وَيَسْتَفْتُوْنَكَ فِي النِّسَاۗءِ ۭ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ) 4۔ النسآء :127) نازل ہوئی وہاں فرمایا گیا ہے کہ جب یتیم لڑکی کم مال والی اور کم جمال والی ہوتی ہے اس وقت تو اس کے والی اس سے بےرغبتی کرتے ہیں پھر کوئی وجہ نہیں کہ مال و جمال پر مائل ہو کر اس کے پورے حقوق ادا نہ کر کے اس سے اپنا نکاح کرلیں، ہاں عدل و انصاف سے پورا مہر وغیرہ مقرر کریں تو کوئی حرج نہیں، ورنہ پھر عورتوں کی کمی نہیں اور کسی سے جس سے چاہیں اظہار نکاح کرلیں دو دو عورتیں اپنے نکاح میں رکھیں اگر چاہیں تین تین رکھیں اگر چاہیں چار چار، جیسے اور جگہ یہ الفاظ ان ہی معنوں میں ہیں، فرماتا ہے آیت (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰۗىِٕكَةِ رُسُلًا اُولِيْٓ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ) 35۔ فاطر :1) یعنی جن فرشتوں کو اللہ تعالیٰ اپنا قاصد بنا کر بھیجتا ہے ان میں سے بعض دو دو پروں والے ہیں بعض تین تین پروں والے بعض چار پروں والے فرشتوں میں اس سے زیادہ پر والے فرشتے بھی ہیں کیونکہ دلیل سے یہ ثابت شدہ ہے، لیکن مرد کو ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویوں کا جمع کرنا منع ہے جیسے کہ اس آیت میں موجود ہے اور جیسے کہ حضرت ابن عباس اور جمہور کا قول ہے، یہاں اللہ تعالیٰ اپنے احسان اور انعام بیان فرما رہا ہے پس اگر چار سے زیادہ کی اجازت دینی منظور ہوتی تو ضرور فرما دیا جاتا، حضرت امام شافعی ؒ فرماتے ہیں حدیث جو قرآن کی وضاحت کرنے والی ہے اس نے بتلا دیا ہے کہ سوائے رسول اللہ ﷺ کے کسی کے لئے چار سے زیادہ بیویوں کا بیک وقت جمع کرنا جائز نہیں اسی پر علماء کرام کا اجماع ہے، البتہ بعض شیعہ کا قول ہے کہ نو تک جمع کرنی جائز ہیں، بلکہ بعض شیعہ نے تو کہا ہے کہ نو سے بھی زیادہ جمع کرلینے میں بھی کوئی حرج نہیں کوئی تعداد مقرر ہے ہی نہیں، ان کا استدلال ایک تو رسول کریم ﷺ کے فعل سے ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں آچکا ہے کہ آپ کی نو بیویاں تھیں اور بخاری شریف کی معلق حدیث کے بعض راویوں نے گیارہ کہا ہے، حضرت انس سے مروی ہے کہ آپ نے پندرہ بیویوں سے عقد کیا تیرہ کی رخصتی ہوئی ایک وقت میں گیارہ بیویاں آپ کے پاس تھیں۔ انتقال کے وقت آپ کی نو بیویاں تھیں ؓ اجمعین، ہمارے علماء کرام اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ آپ کی خصوصیت تھی امتی کو ایک وقت میں چار سے زیادہ پاس رکھنے کی اجازت نہیں، جیسے کہ یہ حدیثیں اس امر پر دلالت کرتی ہیں، حضرت غیلان بن سلمہ ثقفی ؓ جب مسلمان ہوتے ہیں تو ان کے پاس ان کی دس بیویاں تھیں۔ حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ان میں سے جنہیں چاہو چار رکھ لو باقی کو چھوڑ دو چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا پھر حضرت عمر کی خلافت کے زمانے میں اپنی ان بیویوں کو بھی طلاق دے دی اور اپنے لڑکوں کو اپنا مال بانٹ دیا، حضرت عمر ؓ کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا شاید تیرے شیطان نے بات اچک لی اور تیرے دل میں خیال جما دیا کہ تو عنقریب مرنے والا ہے اس لئے اپنی بیویوں کو تو نے الگ کردیا کہ وہ تیرا مال نہ پائیں اور اپنا مال اپنی اولاد میں تقسیم کردیا میں تجھے حکم دیتا ہوں کہ اپنی بیویوں سے رجوع کرلے اور اپنے اولاد سے مال واپس لے اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرے بعد تیری ان مطلقہ بیویوں کو بھی تیرا وارث بناؤں گا کیونکہ تو نے انہیں اسی ڈر سے طلاق دی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ تیری زندگی بھی اب ختم ہونے والی ہے اور اگر تو نے میری بات نہ مانی تو یاد رکھ میں حکم دوں گا کہ لوگ تیری قبر پر پتھر پھینکیں جیسے کہ ابو رغال کی قبر پر پتھر پھینکے جاتے ہیں (مسند احمد شافعی ترمذی ابن ماجہ دار قطنی بیہقی وغیرہ) مرفوع حدیث تک تو ان سب کتابوں میں ہے ہاں حضرت عمر ؓ والا واقعہ صرف مسند احمد میں ہی ہے لیکن یہ زیادتی حسن ہے، اگرچہ امام بخاری نے اسے ضعیف کہا ہے اور اس کی اسناد کا دوسرا طریقہ بتا کر اس طریقہ کو غیر محفوظ کہا ہے مگر اس تعلیل میں بھی اختلاف ہے واللہ اعلم اور بزرگ محدثین نے بھی اس پر کلام کیا ہے لیکن مسند احمد والی حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور شرط شیخین پر ہیں ایک اور روایت میں ہے کہ یہ دس عورتیں بھی اپنے خاوند کے ساتھ مسلمان ہوئی تھیں ملاحظہ ہو (سنن نسائی) ، اس حدیث سے صاف ظاہر ہوگیا کہ اگر چار سے زیادہ کا ایک وقت میں نکاح میں رکھنا جائز ہوتا تو حضور ﷺ ان سے یہ نہ فرماتے کہ اپنی ان دس بیویوں میں سے چار کو جنہیں تم چاہو روک لو باقی کو چھوڑ دو کیونکہ یہ سب بھی اسلام لا چکی تھیں، یہاں یہ بات بھی خیال میں رکھنی چاہئے کہ ثقفی کے ہاں تو یہ دس عورتیں بھی موجود تھی اس پر بھی آپ نے چھ علیحدہ کرا دیں پھر بھلا کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص نئے سرے سے چار سے زیادہ جمع کرے ؟ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم با الصواب چار سے زائد نہیں، وہ بھی بشرط انصاف ورنہ ایک ہی بیوی !" دوسری حدیث " ابو داؤد ابن ماجہ وغیرہ میں ہے حضرت امیرہ اسدی ؓ فرماتے ہیں میں نے جس وقت اسلام قبول کیا میرے نکاح میں آٹھ عورتیں تھیں میں نے رسول کریم ﷺ سے ذکر کیا آپ نے فرمایا ان میں سے جن چار کو چاہو رکھ لو، اس کی سند حسن ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں راویوں کے ناموں کا ہیر پھیر وغیرہ ایسی روایات میں نقصان دہ نہیں ہوتا " تیسری حدیث " مسند شافعی میں ہے حضرت نوفل بن معاویہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے جب اسلام قبول کیا اس وقت میری پانچ بیویاں تھیں مجھ سے حضور ﷺ نے فرمایا ان میں سے پسند کر کے چار کو رکھ لو اور ایک کو الگ کردو میں نے جو سب سے زیادہ عمر کی بڑھیا اور بےاولاد بیوی ساٹھ سال کی تھیں انہیں طلاق دے دی، پس یہ حدیثیں حضرت غیلان والی پہلی حدیث کی شواہد ہیں جیسے کہ حضرت امام بیہقی نے فرمایا۔ پھر فرماتا ہے ہاں اگر ایک سے زیادہ بیویوں میں عدل و انصاف نہ ہوسکنے کا خوف ہو تو صرف ایک ہی پر اکتفا کرو اور اپنی کنیزوں سے استمتاع کرو جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَنْ تَسْتَطِيْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَيْنَ النِّسَاۗءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيْلُوْا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوْھَا كَالْمُعَلَّقَةِ) 4۔ النسآء :129) یعنی گو تم چاہو لیکن تم سے نہ ہو سکے گا کہ عورتوں کے درمیان پوری طرح عدل و انصاف کو قائم رکھ سکو پس بالکل ایک ہی طرف جھک کر دوسری کو مصیبت میں نہ ڈال دو ، ہاں یاد رہے کہ لونڈیاں میں باری وغیرہ کی تقسیم واجب نہیں البتہ مستحب ہے جو کرے اس نے اچھا کیا اور جو نہ کرے اس پر حرج نہیں۔ اس کے بعد کے جملے کے مطلب میں بعض نے تو کہا ہے کہ یہ قریب ہے ان معنی کے کہ تمہارے عیال یعنی فقیری زیادہ نہ ہو جیسے اور جگہ ہے آیت (وان خفتم) یعنی اگر تمہیں فقر کا ڈر ہو، عربی شاعر کہتا ہے۔فما یدری الفقیر متی غناہ وما یدری الغنی متی یعیل یعنی فقیر نہیں جانتا کہ کب امیر ہوجائے گا، اور امیر کو معلوم نہیں کہ کب فقیر بن جائے گا، جب کوئی مسکین محتاج ہوجائے تو عرب کہتے ہیں (عال الرج) یعنی یہ شخص فقیر ہوگیا غرض اس معنی میں یہ لفظ مستعمل تو ہے لیکن یہاں یہ تفسیر کچھ زیادہ اچھی نہیں معلوم ہوتی، کیونکہ اگر آزاد عورتوں کی کثرت فقیری کا باعث بن سکتی ہے تو لونڈیوں کی کثرت بھی فقیری کا سبب ہوسکتی ہے، پس صحیح قول جمہور کا ہے کہ مرادیہ ہے کہ یہ قریب ہے اس سے کہ تم ظلم سے بچ جاؤ، عرب میں کہا جاتا ہے (عال فی الحکم) جبکہ ظلم و جور کیا ہو، ابو طالب کے مشہور قصیدے میں ہے۔ بمیزان قسط لا یخبس شعیرۃ لہ شاہدمن نفسہ غیر عائل ضمیر بہترین ترازو ہے یعنی ایسی ترازو سے تولتا ہے جو ایک جو برابر کی بھی کمی نہیں کرتا اس کے پاس اس کا گواہ خود اس کا نفس ہے جو ظالم نہیں ہے ابن جریر میں ہے کہ جب کو فیوں نے حضرت عثمان ؓ پر ایک خط کچھ الزام لکھ کر بھیجے تو ان کے جواب میں خلیفہ رسول ﷺ نے لکھا کہ (انی لست بمیزان اعول) میں ظلم کا ترازو نہیں ہوں، صحیح ابن حبان وغیرہ میں ایک مرفوع حدیث اس جملہ کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس کا معنی ہے تم ظلم نہ کرو، ابو حاتم ؒ فرماتے ہیں اس کا مرفوع ہونا تو خطا ہے ہاں یہ حضرت عائشہ کا قول ہے اسی طرح لا تعولوا کے یہی معنی میں یعنی تم ظلم نہ کرو حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عائشہ، حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ، حضرت حسن، حضرت ابو مالک، حضرت ابو زرین، حضرت نخعی، حضرت شعبی، حضرت ضحاک، حضرت عطاء خراسانی، حضرت قتادہ، حضرت سدی اور حضرت مقاتل بن حیان وغیرہ سے بھی مروی ہیں۔ حضرت عکرمہ ؒ نے بھی ابو طالب کا وہی شعر پیش کیا ہے، امام ابن جریر نے اسے روایت کیا ہے اور خود امام صاحب بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے اپنی بیویوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کردیا کرو جو بھی مقرر ہوئے ہوں اور جن کو تم نے منظور کیا ہو، ہاں اگر عورت خود اپنا سارا یا تھوڑا بہت مہر اپنی خوشی سے مرد کو معاف کر دے تو اسے اختیار ہے اور اس صورت میں بیشکل مرد کو اس کا اپنے استعمال میں لانا حلال طیب ہے، نبی ﷺ کے بعد کسی کو جائز نہیں کہ بغیر مہر واجب کے نکاح کرے نہ یہ کہ جھوٹ موٹ مہر کا نام ہی نام ہو، ابن ابی حاتم میں حضرت علی ؓ کا قول مروی ہے کہ تم میں سے جب کوئی بیمار پڑے تو اسے چاہئے کہ اپنی بیوی سے اس کے مال کے تین درہم یا کم و بیش لے ان کا شہد خرید لے اور بارش کا آسمانی پانی اس میں ملالے تو تین تین بھلائیاں مل جائیں گی آیت (ہنیأ امریأ) تو مال عورت اور شفاء شہد اور مبارک بارش کا پانی۔ حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ لوگ اپنی بیٹیوں کا مہر آپ لیتے تھے جس پر یہ آیت اتری اور انہیں اس سے روک دیا گیا (ابن ابی حاتم اور ابن جریر) اس حکم کو سن کر لوگوں نے رسول مقبول ﷺ سے پوچھا کہ ان کا مہر کیا ہونا چاہئے ؟ آپ نے فرمایا جس چیز پر بھی ان کے ولی رضامند ہوجائیں (ابن ابی حاتم) حضور ﷺ نے اپنے خطبے میں تین مرتبہ فرمایا کہ بیوہ عورتوں کا نکاح کردیا کرو، ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ ایسی صورت میں ان کا مہر کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا جس پر ان کے گھر والے راضی ہوجائیں، اس کے ایک راوی ابن سلمانی ضعیف ہیں، پھر اس میں انقطاع بھی ہے۔

یتیموں کی نگہداشت اور چار شادیوں کی اجازت اللہ تعالیٰ یتیموں کے والیوں کو حکم دیتا ہے کہ جب یتیم بلوغت اور سمجھداری کو پہنچ جائیں تو ان کے جو مال تمہارے پاس ہو انہیں سونپ دو ، پورے پورے بغیر کمی اور خیانت کے ان کے حوالے کرو، اپنے مالوں کے ساتھ ملا کر گڈمڈ کر کے کھا جانے کی نیت نہ رکھو، حلال رزق جب اللہ رحیم تمہیں دے رہا ہے پھر حرام کی طرف کیوں منہ اٹھاؤ ؟ تقدیر کی روزی مل کر ہی رہے گی اپنے حلال مال چھوڑ کر لوگوں کے مالوں کو جو تم پر حرام ہیں نہ لو، دبلا پتلا جانور دے کر موٹا تازہ نہ لو، بوٹی دے کر بکرے کی فکر نہ کرو، ردی دے کر اچھے کی اور کھوٹا دے کر کھرے کی نیت نہ رکھو، پہلے لوگ ایسا کرلیا کرتے تھے کہ یتیموں کی بکریوں کے ریوڑ میں سے عمدہ بکری لے لی اور اپنی دبلی پتلی بکری دے کر گنتی پوری کردی، کھوٹا درہم اس کے مال میں ڈال کر کھرا نکال لیا اور پھر سمجھ لیا کہ ہم نے تو بکری کے بدلے بکری اور درہم کے بدلے درہم لیا ہے۔ ان کے مالوں میں اپنا مال خلط ملط کر کے پھر یہ حیلہ کر کے اب امتیاز کیا ہے ؟ ان کے مال تلف نہ کرو، یہ بڑا گناہ ہے، ایک ضعیف حدیث میں بھی یہی معنی آخری جملے کے مروی ہیں، ابو داؤد کی حدیث میں ایک دعا میں بھی (حوب) کا لفظ گناہ کے معنی میں آیا ہے، حضرت ابو ایوب نے جب اپنی بیوی صاحبہ کو طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا تھا کہ اس طلاق میں گناہ ہے، چناچہ وہ اپنے ارادے سے باز رہے، ایک روایت میں یہ واقعہ حضرت ابو طلحہ اور ام سلیم کا مروی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ تمہاری پرورش میں کوئی یتیم لڑکی ہو اور تم اس سے نکاح کرنا چاہتے ہو لیکن چونکہ اس کا کوئی اور نہیں اس لئے تم تو ایسا نہ کرو کہ مہر اور حقوق میں کمی کر کے اسے اپنے گھر ڈال لو اس سے باز رہو اور عورتیں بہت ہیں جس سے چاہو نکاح کرلو، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں ایک یتیم لڑکی تھی جس کے پاس مال بھی تھا اور باغ بھی جس کی پرورش میں وہ تھی اس نے صرف اس مال کے لالچ میں بغیر اس کا پورا مہر وغیرہ مقرر کرنے کے اس سے نکاح کرلیا جس پر یہ آیت اتری میرا خیال ہے کہ اس باغ اور مال میں یہ لڑکی حصہ دار تھی، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت ابن شہاب نے حضرت عائشہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا بھانجے، یہ ذکر اس یتیم لڑکی کا ہے جو اپنے ولی کے قبضہ میں ہے اس کے مال میں شریک ہے اور اسے اس کا مال و جمال اچھا لگتا ہے چاہتا ہے کہ اس سے نکاح کرلے لیکن جو مہر وغیرہ اور جگہ سے اسے ملتا ہے اتنا یہ نہیں دیتا تو اسے منع کیا جا رہا ہے کہ وہ اس اپنی نیت چھوڑ دے اور کسی دوسری عورت سے جس سے چاہے اپنا نکاح کرلے، پھر اس کے بعد لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی کی بابت دریافت کیا اور آیت (وَيَسْتَفْتُوْنَكَ فِي النِّسَاۗءِ ۭ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ) 4۔ النسآء :127) نازل ہوئی وہاں فرمایا گیا ہے کہ جب یتیم لڑکی کم مال والی اور کم جمال والی ہوتی ہے اس وقت تو اس کے والی اس سے بےرغبتی کرتے ہیں پھر کوئی وجہ نہیں کہ مال و جمال پر مائل ہو کر اس کے پورے حقوق ادا نہ کر کے اس سے اپنا نکاح کرلیں، ہاں عدل و انصاف سے پورا مہر وغیرہ مقرر کریں تو کوئی حرج نہیں، ورنہ پھر عورتوں کی کمی نہیں اور کسی سے جس سے چاہیں اظہار نکاح کرلیں دو دو عورتیں اپنے نکاح میں رکھیں اگر چاہیں تین تین رکھیں اگر چاہیں چار چار، جیسے اور جگہ یہ الفاظ ان ہی معنوں میں ہیں، فرماتا ہے آیت (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰۗىِٕكَةِ رُسُلًا اُولِيْٓ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ) 35۔ فاطر :1) یعنی جن فرشتوں کو اللہ تعالیٰ اپنا قاصد بنا کر بھیجتا ہے ان میں سے بعض دو دو پروں والے ہیں بعض تین تین پروں والے بعض چار پروں والے فرشتوں میں اس سے زیادہ پر والے فرشتے بھی ہیں کیونکہ دلیل سے یہ ثابت شدہ ہے، لیکن مرد کو ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویوں کا جمع کرنا منع ہے جیسے کہ اس آیت میں موجود ہے اور جیسے کہ حضرت ابن عباس اور جمہور کا قول ہے، یہاں اللہ تعالیٰ اپنے احسان اور انعام بیان فرما رہا ہے پس اگر چار سے زیادہ کی اجازت دینی منظور ہوتی تو ضرور فرما دیا جاتا، حضرت امام شافعی ؒ فرماتے ہیں حدیث جو قرآن کی وضاحت کرنے والی ہے اس نے بتلا دیا ہے کہ سوائے رسول اللہ ﷺ کے کسی کے لئے چار سے زیادہ بیویوں کا بیک وقت جمع کرنا جائز نہیں اسی پر علماء کرام کا اجماع ہے، البتہ بعض شیعہ کا قول ہے کہ نو تک جمع کرنی جائز ہیں، بلکہ بعض شیعہ نے تو کہا ہے کہ نو سے بھی زیادہ جمع کرلینے میں بھی کوئی حرج نہیں کوئی تعداد مقرر ہے ہی نہیں، ان کا استدلال ایک تو رسول کریم ﷺ کے فعل سے ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں آچکا ہے کہ آپ کی نو بیویاں تھیں اور بخاری شریف کی معلق حدیث کے بعض راویوں نے گیارہ کہا ہے، حضرت انس سے مروی ہے کہ آپ نے پندرہ بیویوں سے عقد کیا تیرہ کی رخصتی ہوئی ایک وقت میں گیارہ بیویاں آپ کے پاس تھیں۔ انتقال کے وقت آپ کی نو بیویاں تھیں ؓ اجمعین، ہمارے علماء کرام اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ آپ کی خصوصیت تھی امتی کو ایک وقت میں چار سے زیادہ پاس رکھنے کی اجازت نہیں، جیسے کہ یہ حدیثیں اس امر پر دلالت کرتی ہیں، حضرت غیلان بن سلمہ ثقفی ؓ جب مسلمان ہوتے ہیں تو ان کے پاس ان کی دس بیویاں تھیں۔ حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ان میں سے جنہیں چاہو چار رکھ لو باقی کو چھوڑ دو چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا پھر حضرت عمر کی خلافت کے زمانے میں اپنی ان بیویوں کو بھی طلاق دے دی اور اپنے لڑکوں کو اپنا مال بانٹ دیا، حضرت عمر ؓ کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا شاید تیرے شیطان نے بات اچک لی اور تیرے دل میں خیال جما دیا کہ تو عنقریب مرنے والا ہے اس لئے اپنی بیویوں کو تو نے الگ کردیا کہ وہ تیرا مال نہ پائیں اور اپنا مال اپنی اولاد میں تقسیم کردیا میں تجھے حکم دیتا ہوں کہ اپنی بیویوں سے رجوع کرلے اور اپنے اولاد سے مال واپس لے اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرے بعد تیری ان مطلقہ بیویوں کو بھی تیرا وارث بناؤں گا کیونکہ تو نے انہیں اسی ڈر سے طلاق دی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ تیری زندگی بھی اب ختم ہونے والی ہے اور اگر تو نے میری بات نہ مانی تو یاد رکھ میں حکم دوں گا کہ لوگ تیری قبر پر پتھر پھینکیں جیسے کہ ابو رغال کی قبر پر پتھر پھینکے جاتے ہیں (مسند احمد شافعی ترمذی ابن ماجہ دار قطنی بیہقی وغیرہ) مرفوع حدیث تک تو ان سب کتابوں میں ہے ہاں حضرت عمر ؓ والا واقعہ صرف مسند احمد میں ہی ہے لیکن یہ زیادتی حسن ہے، اگرچہ امام بخاری نے اسے ضعیف کہا ہے اور اس کی اسناد کا دوسرا طریقہ بتا کر اس طریقہ کو غیر محفوظ کہا ہے مگر اس تعلیل میں بھی اختلاف ہے واللہ اعلم اور بزرگ محدثین نے بھی اس پر کلام کیا ہے لیکن مسند احمد والی حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور شرط شیخین پر ہیں ایک اور روایت میں ہے کہ یہ دس عورتیں بھی اپنے خاوند کے ساتھ مسلمان ہوئی تھیں ملاحظہ ہو (سنن نسائی) ، اس حدیث سے صاف ظاہر ہوگیا کہ اگر چار سے زیادہ کا ایک وقت میں نکاح میں رکھنا جائز ہوتا تو حضور ﷺ ان سے یہ نہ فرماتے کہ اپنی ان دس بیویوں میں سے چار کو جنہیں تم چاہو روک لو باقی کو چھوڑ دو کیونکہ یہ سب بھی اسلام لا چکی تھیں، یہاں یہ بات بھی خیال میں رکھنی چاہئے کہ ثقفی کے ہاں تو یہ دس عورتیں بھی موجود تھی اس پر بھی آپ نے چھ علیحدہ کرا دیں پھر بھلا کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص نئے سرے سے چار سے زیادہ جمع کرے ؟ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم با الصواب چار سے زائد نہیں، وہ بھی بشرط انصاف ورنہ ایک ہی بیوی !" دوسری حدیث " ابو داؤد ابن ماجہ وغیرہ میں ہے حضرت امیرہ اسدی ؓ فرماتے ہیں میں نے جس وقت اسلام قبول کیا میرے نکاح میں آٹھ عورتیں تھیں میں نے رسول کریم ﷺ سے ذکر کیا آپ نے فرمایا ان میں سے جن چار کو چاہو رکھ لو، اس کی سند حسن ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں راویوں کے ناموں کا ہیر پھیر وغیرہ ایسی روایات میں نقصان دہ نہیں ہوتا " تیسری حدیث " مسند شافعی میں ہے حضرت نوفل بن معاویہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے جب اسلام قبول کیا اس وقت میری پانچ بیویاں تھیں مجھ سے حضور ﷺ نے فرمایا ان میں سے پسند کر کے چار کو رکھ لو اور ایک کو الگ کردو میں نے جو سب سے زیادہ عمر کی بڑھیا اور بےاولاد بیوی ساٹھ سال کی تھیں انہیں طلاق دے دی، پس یہ حدیثیں حضرت غیلان والی پہلی حدیث کی شواہد ہیں جیسے کہ حضرت امام بیہقی نے فرمایا۔ پھر فرماتا ہے ہاں اگر ایک سے زیادہ بیویوں میں عدل و انصاف نہ ہوسکنے کا خوف ہو تو صرف ایک ہی پر اکتفا کرو اور اپنی کنیزوں سے استمتاع کرو جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَنْ تَسْتَطِيْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَيْنَ النِّسَاۗءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيْلُوْا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوْھَا كَالْمُعَلَّقَةِ) 4۔ النسآء :129) یعنی گو تم چاہو لیکن تم سے نہ ہو سکے گا کہ عورتوں کے درمیان پوری طرح عدل و انصاف کو قائم رکھ سکو پس بالکل ایک ہی طرف جھک کر دوسری کو مصیبت میں نہ ڈال دو ، ہاں یاد رہے کہ لونڈیاں میں باری وغیرہ کی تقسیم واجب نہیں البتہ مستحب ہے جو کرے اس نے اچھا کیا اور جو نہ کرے اس پر حرج نہیں۔ اس کے بعد کے جملے کے مطلب میں بعض نے تو کہا ہے کہ یہ قریب ہے ان معنی کے کہ تمہارے عیال یعنی فقیری زیادہ نہ ہو جیسے اور جگہ ہے آیت (وان خفتم) یعنی اگر تمہیں فقر کا ڈر ہو، عربی شاعر کہتا ہے۔فما یدری الفقیر متی غناہ وما یدری الغنی متی یعیل یعنی فقیر نہیں جانتا کہ کب امیر ہوجائے گا، اور امیر کو معلوم نہیں کہ کب فقیر بن جائے گا، جب کوئی مسکین محتاج ہوجائے تو عرب کہتے ہیں (عال الرج) یعنی یہ شخص فقیر ہوگیا غرض اس معنی میں یہ لفظ مستعمل تو ہے لیکن یہاں یہ تفسیر کچھ زیادہ اچھی نہیں معلوم ہوتی، کیونکہ اگر آزاد عورتوں کی کثرت فقیری کا باعث بن سکتی ہے تو لونڈیوں کی کثرت بھی فقیری کا سبب ہوسکتی ہے، پس صحیح قول جمہور کا ہے کہ مرادیہ ہے کہ یہ قریب ہے اس سے کہ تم ظلم سے بچ جاؤ، عرب میں کہا جاتا ہے (عال فی الحکم) جبکہ ظلم و جور کیا ہو، ابو طالب کے مشہور قصیدے میں ہے۔ بمیزان قسط لا یخبس شعیرۃ لہ شاہدمن نفسہ غیر عائل ضمیر بہترین ترازو ہے یعنی ایسی ترازو سے تولتا ہے جو ایک جو برابر کی بھی کمی نہیں کرتا اس کے پاس اس کا گواہ خود اس کا نفس ہے جو ظالم نہیں ہے ابن جریر میں ہے کہ جب کو فیوں نے حضرت عثمان ؓ پر ایک خط کچھ الزام لکھ کر بھیجے تو ان کے جواب میں خلیفہ رسول ﷺ نے لکھا کہ (انی لست بمیزان اعول) میں ظلم کا ترازو نہیں ہوں، صحیح ابن حبان وغیرہ میں ایک مرفوع حدیث اس جملہ کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس کا معنی ہے تم ظلم نہ کرو، ابو حاتم ؒ فرماتے ہیں اس کا مرفوع ہونا تو خطا ہے ہاں یہ حضرت عائشہ کا قول ہے اسی طرح لا تعولوا کے یہی معنی میں یعنی تم ظلم نہ کرو حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عائشہ، حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ، حضرت حسن، حضرت ابو مالک، حضرت ابو زرین، حضرت نخعی، حضرت شعبی، حضرت ضحاک، حضرت عطاء خراسانی، حضرت قتادہ، حضرت سدی اور حضرت مقاتل بن حیان وغیرہ سے بھی مروی ہیں۔ حضرت عکرمہ ؒ نے بھی ابو طالب کا وہی شعر پیش کیا ہے، امام ابن جریر نے اسے روایت کیا ہے اور خود امام صاحب بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے اپنی بیویوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کردیا کرو جو بھی مقرر ہوئے ہوں اور جن کو تم نے منظور کیا ہو، ہاں اگر عورت خود اپنا سارا یا تھوڑا بہت مہر اپنی خوشی سے مرد کو معاف کر دے تو اسے اختیار ہے اور اس صورت میں بیشکل مرد کو اس کا اپنے استعمال میں لانا حلال طیب ہے، نبی ﷺ کے بعد کسی کو جائز نہیں کہ بغیر مہر واجب کے نکاح کرے نہ یہ کہ جھوٹ موٹ مہر کا نام ہی نام ہو، ابن ابی حاتم میں حضرت علی ؓ کا قول مروی ہے کہ تم میں سے جب کوئی بیمار پڑے تو اسے چاہئے کہ اپنی بیوی سے اس کے مال کے تین درہم یا کم و بیش لے ان کا شہد خرید لے اور بارش کا آسمانی پانی اس میں ملالے تو تین تین بھلائیاں مل جائیں گی آیت (ہنیأ امریأ) تو مال عورت اور شفاء شہد اور مبارک بارش کا پانی۔ حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ لوگ اپنی بیٹیوں کا مہر آپ لیتے تھے جس پر یہ آیت اتری اور انہیں اس سے روک دیا گیا (ابن ابی حاتم اور ابن جریر) اس حکم کو سن کر لوگوں نے رسول مقبول ﷺ سے پوچھا کہ ان کا مہر کیا ہونا چاہئے ؟ آپ نے فرمایا جس چیز پر بھی ان کے ولی رضامند ہوجائیں (ابن ابی حاتم) حضور ﷺ نے اپنے خطبے میں تین مرتبہ فرمایا کہ بیوہ عورتوں کا نکاح کردیا کرو، ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ ایسی صورت میں ان کا مہر کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا جس پر ان کے گھر والے راضی ہوجائیں، اس کے ایک راوی ابن سلمانی ضعیف ہیں، پھر اس میں انقطاع بھی ہے۔

کم عقل اور یتیموں کے بارے میں احکامات اللہ سبحانہ و تعالیٰ لوگوں کو منع فرماتا ہے کہ کم عقل بیویوں کو مال کے تصرف سے روکیں، مال کو اللہ تعالیٰ نے تجارتوں وغیرہ میں لگا کر انسان کا ذریعہ معاش بنایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ کم عقل لوگوں کو ان کے مال کے خرچ سے روک دینا چاہئے، مثلاً نابالغ بچہ ہو یا مجنون و دیوانہ ہو یا کم عقل بیوقوف ہو اور بےدین ہو بری طرح اپنے مال کو لٹا رہا ہو، اسی طرح ایسا شخص جس پر قرض بہت چڑھ گیا ہو جسے وہ اپنے کل مال سے بھی ادا نہیں کرسکتا اگر قرض خواہ حاکم وقت سے درخواست کریں تو حاکم وہ سب مال اس کے قبضے سے لے لے گا اور اسے بےدخل کر دے گا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہاں (سفہاء) سے مراد تیری اولاد اور عورتیں ہیں، اسی طرح حضرت ابن مسعود حکم بن عبینہ حسن اور ضحاک رحمتہ اللہ سے بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عورتیں اور بچے ہیں، حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں یتیم مراد ہیں، مجاہد عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے کہ عورتیں مراد ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک عورتیں بیوقوف ہیں مگر جو اپنے خاوند کی اطاعت گزار ہوں، ابن مردویہ میں بھی یہ حدیث مطول مروی ہے، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سرکش خادم ہیں۔ پھر فرماتا ہے انہیں کھلاؤ پہناؤ اور اچھی بات کہو ابن عباس فرماتے ہیں یعنی تیرا مال جس پر تیری گزر بسر موقوف ہے اسے اپنی بیوی بچوں کو نہ دے ڈال کر پھر ان کا ہاتھ تکتا پھرے بلکہ اپنا مال اپنے قبضے میں رکھ اس کی اصلاح کرتا رہ اور خود اپنے ہاتھ سے ان کے کھانے کپڑے کا بندوبست کر اور ان کے خرچ اٹھا، حضرت ابو موسیٰ ؓ فرماتے ہیں تین قسم کے لوگ ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا، ایک وہ شخص جس کی بیوی بدخلق ہو اور پھر بھی وہ اسے طلاق نہ دے دوسرا وہ شخص جو اپنا مال بیوقوف کو دے دے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے بیوقوف کو اپنا مال نہ دو تیسرا وہ شخص جس کا فرض کسی پر ہو اور اس نے اس قرض پر کسی کو گواہ نہ کیا ہو۔ ان سے بھلی بات کہو یعنی ان سے نیکی اور صلہ رحمی کرو، اس آیت سے معلوم ہوا کہ محتاجوں سے سلوک کرنا چاہئے اسے جسے بالفعل تصرف کا حق نہ ہو اس کے کھانے کپڑے کی خبر گیری کرنی چاہئے اور اس کے ساتھ نرم زبانی اور خوش خلقی سے پیش آنا چاہئے۔ پھر فرمایا یتیموں کی دیکھ بھال رکھو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائیں، یہاں نکاح سے مراد بلوغت ہے اور بلوغت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب اسے خاص قسم کے خواب آنے لگیں جن میں خاص پانی اچھل کر نکلتا ہے، حضرت علی فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان بخوبی یاد ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں اور نہ تمام دن رات چپ رہتا ہے۔ دوسری حدیث میں ہے تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، بچے سے جب تک بالغ نہ ہو، سوتے سے جب جاگ نہ جائے، مجنوں سے جب تک ہوش نہ آجائے، پس ایک تو علامت بلوغ یہ ہے دوسری علامت بلوغ بعض کے نزدیک یہ ہے کہ پندرہ سال کی عمر ہوجائے اس کی دلیل بخاری مسلم کی حضرت ابن عمر والی حدیث ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ احد والی لڑائی میں مجھے حضور ﷺ نے اپنے ساتھ اس لئے نہیں لیا تھا کہ اس وقت میری عمر چودہ سال کی تھی اور خندق کی لڑائی میں جب میں حاضر کیا گیا تو آپ نے قبول فرما لیا اس وقت میں پندرہ سال کا تھا حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کو جب یہ حدیث پہنچی تو آپ نے فرمایا نابالغ بالغ کی حد یہی ہے، تیسری علامت بلوغت کی زیر ناف کے بالوں کا نکلنا ہے، اس میں علماء کے تین قول ہیں ایک یہ کہ علامت بلوغ ہے دوسرے یہ کہ نہیں تیسرے یہ کہ مسلمانوں میں نہیں اور ذمیوں میں ہے اس لئے کہ ممکن ہے کسی دوا سے یہ بال جلد نکل آتے ہوں اور ذمی پر جواب ہوتے ہی جزیہ لگ جاتا ہے تو وہ اسے کیوں استعمال کرنے لگا ؟ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ سب کے حق میں یہ علامت بلوغت ہے کیونکہ اولاً تو جبلی امر ہے علاج معالجہ کا احتمال بہت دور کا احتمال ہے ٹھیک یہی ہے کہ یہ بال اپنے وقت پر ہی نکلتے ہیں، دوسری دلیل مسند احمد کی حدیث ہے، جس میں حضرت عطیہ قرضی کا بیان ہے کہ بنو قریظہ کی لڑائی کے بعد ہم لوگ حضور ﷺ کے سامنے پیش کئے گئے تو آپ نے حکم دیا کہ ایک شخص دیکھے جس کے یہ بال نکل آئے ہوں اسے قتل کردیا جائے اور نہ نکلے ہوں اسے چھوڑ دیا جائے چناچہ یہ بال میرے بھی نہ نکلے تھے مجھے چھوڑ دیا گیا، سنن اربعہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح فرماتے ہیں، حضرت سعد کے فیصلے پر راضی ہو کر یہ قبیلہ لڑائی سے باز آیا تھا پھر حضرت سعد نے یہ فیصلہ کیا کہ ان میں سے لڑنے والے تو قتل کر دئیے جائیں اور بچے قیدی بنا لئے جائیں غرائب ابی عبید میں ہے کہ ایک لڑکے نے ایک نوجوان لڑکی کی نسبت کہا کہ میں نے اس سے بدکاری کی ہے دراصل یہ تہمت تھی حضرت عمر نے اسے تہمت کی حد لگانی چاہی لیکن فرمایا دیکھ لو اگر اس کے زیر ناف کے بال اگ آئے ہوں تو اس پر حد جاری کردو ورنہ نہیں دیکھا تو آگے نہ تھے چناچہ اس پر سے حد ہٹا دی۔ پھر فرماتا ہے جب تم دیکھو کہ یہ اپنے دین کی صلاحیت اور مال کی حفاظت کے لائق ہوگئے ہیں تو ان کے ولیوں کو چاہئے کہ ان کے مال انہیں دے دیں۔ بغیر ضروری حاجت کے صرف اس ڈر سے کہ یہ بڑے ہوتے ہی اپنا مال ہم سے لے لیں گے تو ہم اس سے پہلے ہی ان کے مال کو ختم کردیں ان کا مال نہ کھاؤ۔ جسے ضرورت نہ ہو خود امیر ہو کھاتا پیتا ہو تو اسے تو چاہئے کہ ان کے مال میں سے کچھ بھی نہ لے، مردار اور بہے ہوئے خون کی طرح یہ مال ان پر حرام محض ہے، ہاں اگر والی مسکین محتاج ہو تو بیشک اسے جائز ہے کہ اپنی پرورش کے حق کے مطابق وقت کی حاجت اور دستور کے موجب اس مال میں سے کھا پی لے اپنی حاجت کو دیکھیئے اور اپنی محنت کو اگر حاجت محنت سے کم ہو تو حاجت کے مطابق لے اور اگر محنت حاجت سے کم ہو تو محنت کا بدلہ لے لے، پھر ایسا ولی اگر مالدار بن جائے تو اسے اس کھائے ہوئے اور لئے ہوئے مال کو واپس کرنا پڑے گا یا نہیں ؟ اس میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ واپس نہ دینا ہوگا اس لئے کہ اس نے اپنے کام کے بدلے لے لیا ہے امام شافعی کے ساتھیوں کے نزدیک یہی صحیح ہے، اس لئے کہ آیت میں بغیر بدل کے مباح قرار دیا ہے اور مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یارسول اللہ ﷺ میرے پاس مال نہیں ایک یتیم میری پرورش میں ہے تو کیا میں اس کے کھانے سے کھا سکتا ہوں آپ نے فرمایا ہاں اس یتیم کا مال اپنے کام میں لاسکتا بشرطیکہ حاجت سے زیادہ نہ اڑا نہ جمع کر نہ یہ ہو کہ اپنے مال کو تو بچا رکھے اور اس کے مال کو کھاتا چلا جائے، ابن ابی حاتم میں بھی ایسی ہی روایت ہے، ابن حبان وغیرہ میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ میں اپنے یتیم کو ادب سکھانے کے لئے ضرورتاً کس چیز سے ماروں ؟ فرمایا جس سے تو اپنے بچے کو تنبیہہ کرتا ہے اپنا مال بچا کر اس کا مال خرچ نہ کر نہ اس کے مال سے دولت مند بننے کی کوشش کر، حضرت ابن عباس سے کسی نے پوچھا کہ میرے پاس بھی اونٹ ہیں اور میرے ہاں جو یتیم پل رہے ہیں ان کے بھی اونٹ ہیں میں اپنی اونٹنیاں دودھ پینے کے لئے فقیروں کو تحفہ دے دیتا ہوں تو کیا میرے لئے جائز ہے کہ ان یتیموں کی اونٹنیوں کا دودھ پی لوں ؟ آپ نے فرمایا اگر ان یتیموں کی گم شدہ اونٹنیوں کی کو تو ڈھونڈ لاتا ہے ان کے چارے پانی کی خبر گیری رکھتا ہے ان کے حوض درست کرتا رہتا ہے اور ان کی نگہبانی کیا کرتا ہے تو بیشک دودھ سے نفع بھی اٹھا لیکن اس طرح کہ نہ ان کے بچوں کو نقصان پہنچے نہ حاجت سے زیادہ لے، (موطا مالک) حضرت عطاء بن رباح حضرت عکرمہ حضرت ابراہیم نخعی حضرت عطیہ عوفی حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہم اجمعین کا یہی قول ہے دوسرا قول یہ ہے کہ تنگ دستی کے دور ہوجانے کے بعد وہ مال یتیم کو واپس دینا پڑے گا اس لئے کہ اصل تو ممانعت ہے البتہ ایک وجہ سے جواز ہوگیا تھا جب وہ وجہ جاتی رہی تو اس کا بدل دینا پڑے گا جیسے کوئی بےبس اور مضطر ہو کر کسی غیر کا مال کھالے لیکن حاجت کے نکل جانے کے بعد اگر اچھا وقت آیا تو اسے واپس دینا ہوگا، دوسری دلیل یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ جب تخت خلافت پر بیٹھے تو اعلان فرمایا تھا کہ میری حیثیت یہاں یتیم کے والی کی حیثیت ہے اگر مجھے ضرورت ہی نہ ہوئی تو میں بیت المال سے کچھ نہ لوں گا اور اگر محتاجی ہوئی تو بطور قرض لوں گا جب آسانی ہوئی پھر واپس کر دوں گا (ابن ابی الدنیا) یہ حدیث سعید بن منصور میں بھی ہے اور اس کو اسناد صحیح ہے، بیہقی میں بھی یہ حدیث ہے، ابن عباس سے آیت کے اس جملہ کی تفسیر میں مروی ہے کہ بطور قرض کھائے اور بھی مفسرین سے یہ مروی ہے، حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں معروف سے کھانے کا مطلب یہ ہے کہ تین انگلیوں سے کھائے اور روایت میں آپ سے یہ مروی ہے کہ وہ اپنے ہی مال کو صرف اپنی ضرورت پوری ہوجانے کے لائق ہی خرچ کرے تاکہ اسے یتیم کے مال کی حاجت ہی نہ پڑے، حصرت عامر شعبی فرماتے ہیں اگر ایسی بےبسی ہو جس میں مردار کھانا جائز ہوجاتا ہے تو بیشک کھالے لیکن پھر ادا کرنا ہوگا، یحییٰ بن سعید انصار اور ربیعہ سے اس کی تفسیریوں مروی ہے کہ اگر یتیم فقیر ہو تو اس کا ولی اس کی ضرورت کے موافق دے اور پھر اس ولی کو کچھ نہ ملے گا، لیکن عبارت یہ ٹھیک نہیں بیٹھتا اس لئے کہ اس سے پہلے یہ جملہ بھی ہے کہ جو غنی ہو وہ کچھ نہ لے، یعنی جو ولی غنی ہو تو یہاں بھی یہی مطلب ہوگا جو ولی فقیر ہو نہ یہ کہ جو یتیم فقیر ہو، دوسری آیت میں ہے آیت (وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ حَتّٰي يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ) 6۔ الانعام :152) یعنی یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ ہاں بطور اصلاح کے پھر اگر تمہیں حاجت ہو تو حسب حاجت بطریق معروف اس میں سے کھاؤ پیو پھر اولیاء سے کہا جاتا ہے کہ جب وہ بلوغت کو پہنچ جائیں اور تم دیکھ لو کہ ان میں تمیز آچکی ہے تو گواہ رکھ کر ان کے مال ان کے سپرد کردو، تاکہ انکار کرنے کا وقت ہی نہ آئے، یوں تو دراصل سچا شاہد اور پورا نگراں اور باریک حساب لینے والا اللہ ہی ہے وہ خوب جانتا ہے کہ ولی نے یتیم کے مال میں نیت کیسی رکھی ؟ آیا خورد برد کیا تباہ و برباد کیا جھوٹ سچ حساب لکھا اور دیا یا صاف دل اور نیک نیتی سے نہایت چوکسی اور صفائی سے اس کے مال کا پورا پورا خیال رکھا اور حساب کتاب صاف رکھا، ان سب باتوں کا حقیقی علم تو اسی دانا و بینا نگران و نگہبان کو ہے، صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ سے فرمایا اے ابوذر میں تمہیں ناتواں پاتا ہوں اور جو اپنے لئے چاہتا ہوں وہی تیرے لئے بھی پسند کرتا ہوں خبردار ہرگز دو شخصوں کا بھی سردار اور امیر نہ بننا نہ کبھی کسی یتیم کا ولی بننا۔

وراثت کے مسائل مشرکین عرب کا دستور تھا کہ جب کوئی مرجاتا تو اس کی بڑی اولاد کو اس کا مال مل جاتا چھوٹی اولاد اور عورتیں بالکل محروم رہتیں اسلام نے یہ حکم نازل فرما کر سب کی مساویانہ حیثیت قائم کردی کہ وارث تو سب ہوں گے خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ بوجہ عقد زوجیت کے ہو یا بوجہ نسبت آزادی ہو حصہ سب کو ملے گا گو کم و بیش ہو، " ام کجہ " رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں کہ حضور میرے دو لڑکے ہیں ان کے والد فوت ہوگئے ہیں ان کے پاس اب کچھ نہیں پس یہ آیت نازل ہوئی، یہی حدیث دوسرے الفاظ سے میراث کی اور دونوں آیتوں کی تفسیر میں بھی عنقریب انشاء اللہ آئے گی واللہ اعلم، دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی مرنے والے کا ورثہ بٹنے لگے اور وہاں اس کا کوئی دور کا رشتہ دار بھی آجائے جس کا کوئی حصہ مقرر نہ ہو اور یتیم و مساکین آجائیں تو انہیں بھی کچھ نہ کچھ دے دو۔ ابتداء اسلام میں تو یہ واجب تھا اور بعض کہتے ہیں مستحب تھا اور اب بھی یہ حکم باقی ہے یا نہیں ؟ اس میں بھی دو قول ہیں، حضرت ابن عباس تو اسے باقی بتاتے ہیں حضرت مجاہد حضرت ابن مسعود حضرت ابو موسیٰ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر حضرت ابو العالیہ حضرت شعبی حضرت حسن حضرت سعید بن جیر حضرت ابن سیرین حضرت عطاء بن ابو رباح حضرت زہری حضرت یحیٰی بن معمر رحمتہ اللہ علیہم اجمعین بھی باقی بتاتے ہیں، بلکہ یہ حضرات سوائے حضرت ابن عباس کے وجوب کے قائل ہیں، حضرت عبیدہ ایک وصیت کے ولی تھے۔ انہوں نے ایک بکری ذبح کی اور تینوں قسموں کے لوگوں کو کھلائی اور فرمایا اگر یہ آیت نہ ہوتی تو یہ بھی میرا مال تھا، حضرت عروہ نے حضرت مصعب کے مال کی تقسیم کے وقت بھی دیا، حضرت زہری کا بھی قول ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں، ایک روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ وصیت پر موقوف ہے۔ چناچہ جب عبدالرحمن بن حضرت ابوبکر کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے اپنے باپ کا ورثہ تقسیم کیا اور یہ واقعہ حضرت مائی عائشہ کی موجودگی کا ہے تو گھر میں جتنے مسکین اور قرابت دار تھے سب کو دیا اور اسی آیت کی تلاوت کی، حضرت ابن عباس کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا اس نے ٹھیک نہیں کیا اس آیت سے تو مراد یہ ہے کہ جب مرنے والے نے اس کی وصیت کی ہو (ابن ابی حاتم) بعض حضرات کا قول ہے کہ یہ آیت بالکل منسوخ ہی ہے مثلاً حصرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے۔ اور ناسخ آیت (يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ) 4۔ النسآء :11) ہے، حصے مقرر ہونے سے پہلے یہ حکم تھا پھر جب حصے مقرر ہوچکے اور ہر حقدار کو خود اللہ تعالیٰ نے حق پہنچا دیا تو اب صدقہ صرف وہی رہ گیا جو مرنے والا کہہ گیا ہو حضرت سعید بن مسیب ؒ بھی یہی فرماتے ہیں کہ ہاں اگر وصیت ان لوگوں کے لئے ہو تو اور بات ہے ورنہ یہ آیت منسوخ ہے، جمہور کا اور چاروں اماموں کا یہی مذہب ہے، امام ابن جریر نے یہاں ایک عجیب قول اختیار کیا ہے ان کی لمبی اور کئی بار کی تحریر کا ماحصل یہ ہے کہ مال وصیت کی تقسیم کے وقت جب میت کے رشتہ دار آجائیں تو انہیں بھی دے دو اور یتیم مسکین جو آگئے ہوں ان سے نرم کلامی اور اچھے جواب سے پیش آؤ، لیکن اس میں نظر ہے واللہ اعلم، حضرت ابن عباس وغیرہ فرماتے ہیں تقسیم سے مراد یہاں ورثے کی تقسیم ہے، پس یہ قول امام ابن جریر ؒ کے خلاف ہے، ٹھیک مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب یہ غریب لوگ ترکے کی تقسیم کے وقت آجائیں اور تم اپنا اپنا حصہ الگ الگ کر کے لے رہے ہو اور یہ بیچارے تک رہے ہوں تو انہیں بھی خالی ہاتھ نہ پھیرو ان کا وہاں سے مایوس اور خالی ہاتھ واپس جانا اللہ تعالیٰ رؤف و رحیم کو اچھا نہیں لگتا بطور صدقہ کے راہ اللہ ان سے بھی کچھ اچھا سلوک کردو تاکہ یہ خوش ہو کر جائیں، جیسے اور جگہ فرمان باری ہے کہ کھیتی کے کٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو اور فاقہ زدہ اور مسکینوں سے چھپا کر اپنے باغ کا پھل لانے والوں کی اللہ تعالیٰ نے بڑی مذمت فرمائی ہے جیسے کہ سورة نون میں ہے کہ وہ رات کے وقت چھپ کر پوشیدگی سے کھیت اور باغ کے دانے اور پھل لانے کے لئے چلتے ہیں وہاں اللہ کا عذاب ان سے پہلے پہنچ جاتا ہے اور سارے باغ کو جلا کر خاک سیاہ کردیتا ہے دوسروں کے حق برباد کرنے والوں کا یہی حشر ہوتا ہے، حدیث شریف میں ہے جس مال میں صدقہ مل جائے یعنی جو شخص اپنے مال سے صدقہ نہ دے اس کا مال اس وجہ سے غارت ہوجاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے ڈریں وہ لوگ جو اگر اپنے پیچھے چھوڑ جائیں یعنی ایک شخص اپنی موت کے وقت وصیت کر رہا ہے اور اس میں اپنے وارثوں کو ضرر پہنچا رہا ہے تو اس وصیت کے سننے والے کو چاہئے کہ اللہ کا خوف کرے اور اسے ٹھیک بات کی رہنمائی کرے اس کے وارثوں کے لئے ایسی بھلائی چاہئے جیسے اپنے وارثوں کے ساتھ بھلائی کرانا چاہتا ہے جب کہ ان کی بربادی اور تباہی کا خوف ہو، بخاری و مسلم میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ حضرت سعد بن ابی وقاص کے پاس ان کی بیماری کے زمانے میں ان کی عیادت کو گئے اور حضرت سعد نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس مال بہت ہے اور صرف میری ایک لڑکی ہی میرے پیچھے ہے تو اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے مال کی دو تہائیاں اللہ کی راہ میں صدقہ کر دوں آپ نے فرمایا نہیں انہوں نے کہا پھر ایک تہائی کی اجازت دیجئے آپ نے فرمایا خیر لیکن ہے یہ بھی زیادہ تو اگر اپنے پیچھے اپنے وارثوں کو توانگر چھوڑ کر جائے اس سے بہتر ہے تو کہ تو انہیں فقیر چھوڑ کر جائے کہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں لوگ ایک تہائی سے بھی کم یعنی چوتھائی کی ہی وصیت کریں تو اچھا ہے اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے تہائی کو بھی زیادہ فرمایا ہے فقہاء فرماتے ہیں اگر میت کے وارث امیر ہوں تب تو خیر تہائی کی وصیت کرنا مستحب ہے اور اگر فقیر ہوں تو اس سے کم کی وصیت کرنا مستحب ہے، دوسرا مطلب اس آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ تم یتیموں کا اتنا ہی خیال رکھو جتنا تم تمہاری چھوٹی اولاد کا تمہارے مرنے کے بعد چاہتے ہو اور لوگ خیال رکھیں جس طرح تم نہیں چاہتے کہ ان کے مال دوسرے ظلم سے کھا جائیں اور وہ بالغ ہو کر فقیر رہ جائیں اسی طرح تم دوسروں کی اولادوں کے مال نہ کھا جاؤ، یہ مطلب بھی بہت عمدہ ہے اسی لئے اس کے بعد ہی یتیموں کا مال ناحق مار لینے والوں کی سزا بیان فرمائی، کہ یہ لوگ اپنے پیٹ میں انگارے بھرنے والے اور جہنم و اصل ہونے والے ہیں، بخاری و مسلم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا سات گناہوں سے بچو جو ہلاکت کا باعث ہیں پوچھا گیا کیا کیا ؟ فرمایا اللہ کے ساتھ شرک، جادو، بےوجہ قتل، سود خوری، یتیم کا مال کھا جانا، جہاد سے پیٹھ موڑنا، بھولی بھالی ناواقف عورتوں پر تہمت لگانا، ابن ابی حاتم میں ہے صحابہ نے حضور ﷺ سے معراج کی رات کا واقعہ پوچھا جس میں آپ نے فرمایا کہ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ نیچے لٹک رہے ہیں اور فرشتے انہیں گھسیٹ کر ان کا منہ خوب کھول دیتے ہیں پھر جہنم کے گرم پتھر ان میں ٹھونس دیتے ہیں جو ان کے پیٹ میں اتر کر پیچھے کے راستے سے نکل جاتے ہیں اور وہ بےطرح چیخ چلا رہے ہیں ہائے ہائے مچا رہے ہیں۔ میں نے حضرت جبرائیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا یہ یتیموں کا مال کھا جانے والے ہیں جو اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب جہنم میں جائیں گے، حضرت سدی ؒ فرماتے ہیں یتیم کا مال کھا جانے والا قیامت کے روز اپنی قبر سے اس طرح اٹھایا جائے گا کہ اس کے منہ آنکھوں نتھنوں اور روئیں روئیں سے آگ کے شعلے نکل رہے ہوں گے ہر شخص دیکھتے ہی پہچان لے گا کہ اس نے کسی یتیم کا مال ناحق کھا رکھا ہے۔ ابن مردویہ میں ایک مرفوع حدیث بھی اسی مضمون کے قریب قریب مروی ہے اور حدیث میں ہے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ان دونوں ضعیفوں کا مال پہنچا دو عورتوں کا اور یتیم کا، ان کے مال سے بچو، سورة بقرہ میں یہ روایت گزر چکی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو جن کے پاس یتیم تھے انہوں نے ان کا اناج پانی بھی الگ کردیا اب عموماً ایسا ہوتا کہ کھانے پینے کی ان کی کوئی چیز بچ رہتی تو یا تو دوسرے وقت اسی باسی چیز کو کھاتے یا سڑنے کے بعد پھینک دی جاتی گھر والوں میں سے کوئی اسی ہاتھ بھی نہ لگاتا تھا یہ بات دونوں طرف ناگوار گزری حضور ﷺ کے سامنے بھی اس کا ذکر آیا ہے اس پر آیت (وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْيَتٰمٰي ۭ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ ۭوَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُكُمْ) 2۔ البقرۃ :220) اتری جس کا مطلب یہ ہے کہ جس کام میں یتیموں کی بہتری سمجھو کرو چناچہ اس کے بعد پھر کھانا پانی ایک ساتھ ہوا۔

وراثت کے مسائل مشرکین عرب کا دستور تھا کہ جب کوئی مرجاتا تو اس کی بڑی اولاد کو اس کا مال مل جاتا چھوٹی اولاد اور عورتیں بالکل محروم رہتیں اسلام نے یہ حکم نازل فرما کر سب کی مساویانہ حیثیت قائم کردی کہ وارث تو سب ہوں گے خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ بوجہ عقد زوجیت کے ہو یا بوجہ نسبت آزادی ہو حصہ سب کو ملے گا گو کم و بیش ہو، " ام کجہ " رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں کہ حضور میرے دو لڑکے ہیں ان کے والد فوت ہوگئے ہیں ان کے پاس اب کچھ نہیں پس یہ آیت نازل ہوئی، یہی حدیث دوسرے الفاظ سے میراث کی اور دونوں آیتوں کی تفسیر میں بھی عنقریب انشاء اللہ آئے گی واللہ اعلم، دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی مرنے والے کا ورثہ بٹنے لگے اور وہاں اس کا کوئی دور کا رشتہ دار بھی آجائے جس کا کوئی حصہ مقرر نہ ہو اور یتیم و مساکین آجائیں تو انہیں بھی کچھ نہ کچھ دے دو۔ ابتداء اسلام میں تو یہ واجب تھا اور بعض کہتے ہیں مستحب تھا اور اب بھی یہ حکم باقی ہے یا نہیں ؟ اس میں بھی دو قول ہیں، حضرت ابن عباس تو اسے باقی بتاتے ہیں حضرت مجاہد حضرت ابن مسعود حضرت ابو موسیٰ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر حضرت ابو العالیہ حضرت شعبی حضرت حسن حضرت سعید بن جیر حضرت ابن سیرین حضرت عطاء بن ابو رباح حضرت زہری حضرت یحیٰی بن معمر رحمتہ اللہ علیہم اجمعین بھی باقی بتاتے ہیں، بلکہ یہ حضرات سوائے حضرت ابن عباس کے وجوب کے قائل ہیں، حضرت عبیدہ ایک وصیت کے ولی تھے۔ انہوں نے ایک بکری ذبح کی اور تینوں قسموں کے لوگوں کو کھلائی اور فرمایا اگر یہ آیت نہ ہوتی تو یہ بھی میرا مال تھا، حضرت عروہ نے حضرت مصعب کے مال کی تقسیم کے وقت بھی دیا، حضرت زہری کا بھی قول ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں، ایک روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ وصیت پر موقوف ہے۔ چناچہ جب عبدالرحمن بن حضرت ابوبکر کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے اپنے باپ کا ورثہ تقسیم کیا اور یہ واقعہ حضرت مائی عائشہ کی موجودگی کا ہے تو گھر میں جتنے مسکین اور قرابت دار تھے سب کو دیا اور اسی آیت کی تلاوت کی، حضرت ابن عباس کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا اس نے ٹھیک نہیں کیا اس آیت سے تو مراد یہ ہے کہ جب مرنے والے نے اس کی وصیت کی ہو (ابن ابی حاتم) بعض حضرات کا قول ہے کہ یہ آیت بالکل منسوخ ہی ہے مثلاً حصرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے۔ اور ناسخ آیت (يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ) 4۔ النسآء :11) ہے، حصے مقرر ہونے سے پہلے یہ حکم تھا پھر جب حصے مقرر ہوچکے اور ہر حقدار کو خود اللہ تعالیٰ نے حق پہنچا دیا تو اب صدقہ صرف وہی رہ گیا جو مرنے والا کہہ گیا ہو حضرت سعید بن مسیب ؒ بھی یہی فرماتے ہیں کہ ہاں اگر وصیت ان لوگوں کے لئے ہو تو اور بات ہے ورنہ یہ آیت منسوخ ہے، جمہور کا اور چاروں اماموں کا یہی مذہب ہے، امام ابن جریر نے یہاں ایک عجیب قول اختیار کیا ہے ان کی لمبی اور کئی بار کی تحریر کا ماحصل یہ ہے کہ مال وصیت کی تقسیم کے وقت جب میت کے رشتہ دار آجائیں تو انہیں بھی دے دو اور یتیم مسکین جو آگئے ہوں ان سے نرم کلامی اور اچھے جواب سے پیش آؤ، لیکن اس میں نظر ہے واللہ اعلم، حضرت ابن عباس وغیرہ فرماتے ہیں تقسیم سے مراد یہاں ورثے کی تقسیم ہے، پس یہ قول امام ابن جریر ؒ کے خلاف ہے، ٹھیک مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب یہ غریب لوگ ترکے کی تقسیم کے وقت آجائیں اور تم اپنا اپنا حصہ الگ الگ کر کے لے رہے ہو اور یہ بیچارے تک رہے ہوں تو انہیں بھی خالی ہاتھ نہ پھیرو ان کا وہاں سے مایوس اور خالی ہاتھ واپس جانا اللہ تعالیٰ رؤف و رحیم کو اچھا نہیں لگتا بطور صدقہ کے راہ اللہ ان سے بھی کچھ اچھا سلوک کردو تاکہ یہ خوش ہو کر جائیں، جیسے اور جگہ فرمان باری ہے کہ کھیتی کے کٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو اور فاقہ زدہ اور مسکینوں سے چھپا کر اپنے باغ کا پھل لانے والوں کی اللہ تعالیٰ نے بڑی مذمت فرمائی ہے جیسے کہ سورة نون میں ہے کہ وہ رات کے وقت چھپ کر پوشیدگی سے کھیت اور باغ کے دانے اور پھل لانے کے لئے چلتے ہیں وہاں اللہ کا عذاب ان سے پہلے پہنچ جاتا ہے اور سارے باغ کو جلا کر خاک سیاہ کردیتا ہے دوسروں کے حق برباد کرنے والوں کا یہی حشر ہوتا ہے، حدیث شریف میں ہے جس مال میں صدقہ مل جائے یعنی جو شخص اپنے مال سے صدقہ نہ دے اس کا مال اس وجہ سے غارت ہوجاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے ڈریں وہ لوگ جو اگر اپنے پیچھے چھوڑ جائیں یعنی ایک شخص اپنی موت کے وقت وصیت کر رہا ہے اور اس میں اپنے وارثوں کو ضرر پہنچا رہا ہے تو اس وصیت کے سننے والے کو چاہئے کہ اللہ کا خوف کرے اور اسے ٹھیک بات کی رہنمائی کرے اس کے وارثوں کے لئے ایسی بھلائی چاہئے جیسے اپنے وارثوں کے ساتھ بھلائی کرانا چاہتا ہے جب کہ ان کی بربادی اور تباہی کا خوف ہو، بخاری و مسلم میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ حضرت سعد بن ابی وقاص کے پاس ان کی بیماری کے زمانے میں ان کی عیادت کو گئے اور حضرت سعد نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس مال بہت ہے اور صرف میری ایک لڑکی ہی میرے پیچھے ہے تو اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے مال کی دو تہائیاں اللہ کی راہ میں صدقہ کر دوں آپ نے فرمایا نہیں انہوں نے کہا پھر ایک تہائی کی اجازت دیجئے آپ نے فرمایا خیر لیکن ہے یہ بھی زیادہ تو اگر اپنے پیچھے اپنے وارثوں کو توانگر چھوڑ کر جائے اس سے بہتر ہے تو کہ تو انہیں فقیر چھوڑ کر جائے کہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں لوگ ایک تہائی سے بھی کم یعنی چوتھائی کی ہی وصیت کریں تو اچھا ہے اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے تہائی کو بھی زیادہ فرمایا ہے فقہاء فرماتے ہیں اگر میت کے وارث امیر ہوں تب تو خیر تہائی کی وصیت کرنا مستحب ہے اور اگر فقیر ہوں تو اس سے کم کی وصیت کرنا مستحب ہے، دوسرا مطلب اس آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ تم یتیموں کا اتنا ہی خیال رکھو جتنا تم تمہاری چھوٹی اولاد کا تمہارے مرنے کے بعد چاہتے ہو اور لوگ خیال رکھیں جس طرح تم نہیں چاہتے کہ ان کے مال دوسرے ظلم سے کھا جائیں اور وہ بالغ ہو کر فقیر رہ جائیں اسی طرح تم دوسروں کی اولادوں کے مال نہ کھا جاؤ، یہ مطلب بھی بہت عمدہ ہے اسی لئے اس کے بعد ہی یتیموں کا مال ناحق مار لینے والوں کی سزا بیان فرمائی، کہ یہ لوگ اپنے پیٹ میں انگارے بھرنے والے اور جہنم و اصل ہونے والے ہیں، بخاری و مسلم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا سات گناہوں سے بچو جو ہلاکت کا باعث ہیں پوچھا گیا کیا کیا ؟ فرمایا اللہ کے ساتھ شرک، جادو، بےوجہ قتل، سود خوری، یتیم کا مال کھا جانا، جہاد سے پیٹھ موڑنا، بھولی بھالی ناواقف عورتوں پر تہمت لگانا، ابن ابی حاتم میں ہے صحابہ نے حضور ﷺ سے معراج کی رات کا واقعہ پوچھا جس میں آپ نے فرمایا کہ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ نیچے لٹک رہے ہیں اور فرشتے انہیں گھسیٹ کر ان کا منہ خوب کھول دیتے ہیں پھر جہنم کے گرم پتھر ان میں ٹھونس دیتے ہیں جو ان کے پیٹ میں اتر کر پیچھے کے راستے سے نکل جاتے ہیں اور وہ بےطرح چیخ چلا رہے ہیں ہائے ہائے مچا رہے ہیں۔ میں نے حضرت جبرائیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا یہ یتیموں کا مال کھا جانے والے ہیں جو اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب جہنم میں جائیں گے، حضرت سدی ؒ فرماتے ہیں یتیم کا مال کھا جانے والا قیامت کے روز اپنی قبر سے اس طرح اٹھایا جائے گا کہ اس کے منہ آنکھوں نتھنوں اور روئیں روئیں سے آگ کے شعلے نکل رہے ہوں گے ہر شخص دیکھتے ہی پہچان لے گا کہ اس نے کسی یتیم کا مال ناحق کھا رکھا ہے۔ ابن مردویہ میں ایک مرفوع حدیث بھی اسی مضمون کے قریب قریب مروی ہے اور حدیث میں ہے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ان دونوں ضعیفوں کا مال پہنچا دو عورتوں کا اور یتیم کا، ان کے مال سے بچو، سورة بقرہ میں یہ روایت گزر چکی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو جن کے پاس یتیم تھے انہوں نے ان کا اناج پانی بھی الگ کردیا اب عموماً ایسا ہوتا کہ کھانے پینے کی ان کی کوئی چیز بچ رہتی تو یا تو دوسرے وقت اسی باسی چیز کو کھاتے یا سڑنے کے بعد پھینک دی جاتی گھر والوں میں سے کوئی اسی ہاتھ بھی نہ لگاتا تھا یہ بات دونوں طرف ناگوار گزری حضور ﷺ کے سامنے بھی اس کا ذکر آیا ہے اس پر آیت (وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْيَتٰمٰي ۭ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ ۭوَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُكُمْ) 2۔ البقرۃ :220) اتری جس کا مطلب یہ ہے کہ جس کام میں یتیموں کی بہتری سمجھو کرو چناچہ اس کے بعد پھر کھانا پانی ایک ساتھ ہوا۔

وراثت کے مسائل مشرکین عرب کا دستور تھا کہ جب کوئی مرجاتا تو اس کی بڑی اولاد کو اس کا مال مل جاتا چھوٹی اولاد اور عورتیں بالکل محروم رہتیں اسلام نے یہ حکم نازل فرما کر سب کی مساویانہ حیثیت قائم کردی کہ وارث تو سب ہوں گے خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ بوجہ عقد زوجیت کے ہو یا بوجہ نسبت آزادی ہو حصہ سب کو ملے گا گو کم و بیش ہو، " ام کجہ " رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں کہ حضور میرے دو لڑکے ہیں ان کے والد فوت ہوگئے ہیں ان کے پاس اب کچھ نہیں پس یہ آیت نازل ہوئی، یہی حدیث دوسرے الفاظ سے میراث کی اور دونوں آیتوں کی تفسیر میں بھی عنقریب انشاء اللہ آئے گی واللہ اعلم، دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی مرنے والے کا ورثہ بٹنے لگے اور وہاں اس کا کوئی دور کا رشتہ دار بھی آجائے جس کا کوئی حصہ مقرر نہ ہو اور یتیم و مساکین آجائیں تو انہیں بھی کچھ نہ کچھ دے دو۔ ابتداء اسلام میں تو یہ واجب تھا اور بعض کہتے ہیں مستحب تھا اور اب بھی یہ حکم باقی ہے یا نہیں ؟ اس میں بھی دو قول ہیں، حضرت ابن عباس تو اسے باقی بتاتے ہیں حضرت مجاہد حضرت ابن مسعود حضرت ابو موسیٰ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر حضرت ابو العالیہ حضرت شعبی حضرت حسن حضرت سعید بن جیر حضرت ابن سیرین حضرت عطاء بن ابو رباح حضرت زہری حضرت یحیٰی بن معمر رحمتہ اللہ علیہم اجمعین بھی باقی بتاتے ہیں، بلکہ یہ حضرات سوائے حضرت ابن عباس کے وجوب کے قائل ہیں، حضرت عبیدہ ایک وصیت کے ولی تھے۔ انہوں نے ایک بکری ذبح کی اور تینوں قسموں کے لوگوں کو کھلائی اور فرمایا اگر یہ آیت نہ ہوتی تو یہ بھی میرا مال تھا، حضرت عروہ نے حضرت مصعب کے مال کی تقسیم کے وقت بھی دیا، حضرت زہری کا بھی قول ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں، ایک روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ وصیت پر موقوف ہے۔ چناچہ جب عبدالرحمن بن حضرت ابوبکر کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے اپنے باپ کا ورثہ تقسیم کیا اور یہ واقعہ حضرت مائی عائشہ کی موجودگی کا ہے تو گھر میں جتنے مسکین اور قرابت دار تھے سب کو دیا اور اسی آیت کی تلاوت کی، حضرت ابن عباس کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا اس نے ٹھیک نہیں کیا اس آیت سے تو مراد یہ ہے کہ جب مرنے والے نے اس کی وصیت کی ہو (ابن ابی حاتم) بعض حضرات کا قول ہے کہ یہ آیت بالکل منسوخ ہی ہے مثلاً حصرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے۔ اور ناسخ آیت (يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ) 4۔ النسآء :11) ہے، حصے مقرر ہونے سے پہلے یہ حکم تھا پھر جب حصے مقرر ہوچکے اور ہر حقدار کو خود اللہ تعالیٰ نے حق پہنچا دیا تو اب صدقہ صرف وہی رہ گیا جو مرنے والا کہہ گیا ہو حضرت سعید بن مسیب ؒ بھی یہی فرماتے ہیں کہ ہاں اگر وصیت ان لوگوں کے لئے ہو تو اور بات ہے ورنہ یہ آیت منسوخ ہے، جمہور کا اور چاروں اماموں کا یہی مذہب ہے، امام ابن جریر نے یہاں ایک عجیب قول اختیار کیا ہے ان کی لمبی اور کئی بار کی تحریر کا ماحصل یہ ہے کہ مال وصیت کی تقسیم کے وقت جب میت کے رشتہ دار آجائیں تو انہیں بھی دے دو اور یتیم مسکین جو آگئے ہوں ان سے نرم کلامی اور اچھے جواب سے پیش آؤ، لیکن اس میں نظر ہے واللہ اعلم، حضرت ابن عباس وغیرہ فرماتے ہیں تقسیم سے مراد یہاں ورثے کی تقسیم ہے، پس یہ قول امام ابن جریر ؒ کے خلاف ہے، ٹھیک مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب یہ غریب لوگ ترکے کی تقسیم کے وقت آجائیں اور تم اپنا اپنا حصہ الگ الگ کر کے لے رہے ہو اور یہ بیچارے تک رہے ہوں تو انہیں بھی خالی ہاتھ نہ پھیرو ان کا وہاں سے مایوس اور خالی ہاتھ واپس جانا اللہ تعالیٰ رؤف و رحیم کو اچھا نہیں لگتا بطور صدقہ کے راہ اللہ ان سے بھی کچھ اچھا سلوک کردو تاکہ یہ خوش ہو کر جائیں، جیسے اور جگہ فرمان باری ہے کہ کھیتی کے کٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو اور فاقہ زدہ اور مسکینوں سے چھپا کر اپنے باغ کا پھل لانے والوں کی اللہ تعالیٰ نے بڑی مذمت فرمائی ہے جیسے کہ سورة نون میں ہے کہ وہ رات کے وقت چھپ کر پوشیدگی سے کھیت اور باغ کے دانے اور پھل لانے کے لئے چلتے ہیں وہاں اللہ کا عذاب ان سے پہلے پہنچ جاتا ہے اور سارے باغ کو جلا کر خاک سیاہ کردیتا ہے دوسروں کے حق برباد کرنے والوں کا یہی حشر ہوتا ہے، حدیث شریف میں ہے جس مال میں صدقہ مل جائے یعنی جو شخص اپنے مال سے صدقہ نہ دے اس کا مال اس وجہ سے غارت ہوجاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے ڈریں وہ لوگ جو اگر اپنے پیچھے چھوڑ جائیں یعنی ایک شخص اپنی موت کے وقت وصیت کر رہا ہے اور اس میں اپنے وارثوں کو ضرر پہنچا رہا ہے تو اس وصیت کے سننے والے کو چاہئے کہ اللہ کا خوف کرے اور اسے ٹھیک بات کی رہنمائی کرے اس کے وارثوں کے لئے ایسی بھلائی چاہئے جیسے اپنے وارثوں کے ساتھ بھلائی کرانا چاہتا ہے جب کہ ان کی بربادی اور تباہی کا خوف ہو، بخاری و مسلم میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ حضرت سعد بن ابی وقاص کے پاس ان کی بیماری کے زمانے میں ان کی عیادت کو گئے اور حضرت سعد نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس مال بہت ہے اور صرف میری ایک لڑکی ہی میرے پیچھے ہے تو اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے مال کی دو تہائیاں اللہ کی راہ میں صدقہ کر دوں آپ نے فرمایا نہیں انہوں نے کہا پھر ایک تہائی کی اجازت دیجئے آپ نے فرمایا خیر لیکن ہے یہ بھی زیادہ تو اگر اپنے پیچھے اپنے وارثوں کو توانگر چھوڑ کر جائے اس سے بہتر ہے تو کہ تو انہیں فقیر چھوڑ کر جائے کہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں لوگ ایک تہائی سے بھی کم یعنی چوتھائی کی ہی وصیت کریں تو اچھا ہے اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے تہائی کو بھی زیادہ فرمایا ہے فقہاء فرماتے ہیں اگر میت کے وارث امیر ہوں تب تو خیر تہائی کی وصیت کرنا مستحب ہے اور اگر فقیر ہوں تو اس سے کم کی وصیت کرنا مستحب ہے، دوسرا مطلب اس آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ تم یتیموں کا اتنا ہی خیال رکھو جتنا تم تمہاری چھوٹی اولاد کا تمہارے مرنے کے بعد چاہتے ہو اور لوگ خیال رکھیں جس طرح تم نہیں چاہتے کہ ان کے مال دوسرے ظلم سے کھا جائیں اور وہ بالغ ہو کر فقیر رہ جائیں اسی طرح تم دوسروں کی اولادوں کے مال نہ کھا جاؤ، یہ مطلب بھی بہت عمدہ ہے اسی لئے اس کے بعد ہی یتیموں کا مال ناحق مار لینے والوں کی سزا بیان فرمائی، کہ یہ لوگ اپنے پیٹ میں انگارے بھرنے والے اور جہنم و اصل ہونے والے ہیں، بخاری و مسلم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا سات گناہوں سے بچو جو ہلاکت کا باعث ہیں پوچھا گیا کیا کیا ؟ فرمایا اللہ کے ساتھ شرک، جادو، بےوجہ قتل، سود خوری، یتیم کا مال کھا جانا، جہاد سے پیٹھ موڑنا، بھولی بھالی ناواقف عورتوں پر تہمت لگانا، ابن ابی حاتم میں ہے صحابہ نے حضور ﷺ سے معراج کی رات کا واقعہ پوچھا جس میں آپ نے فرمایا کہ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ نیچے لٹک رہے ہیں اور فرشتے انہیں گھسیٹ کر ان کا منہ خوب کھول دیتے ہیں پھر جہنم کے گرم پتھر ان میں ٹھونس دیتے ہیں جو ان کے پیٹ میں اتر کر پیچھے کے راستے سے نکل جاتے ہیں اور وہ بےطرح چیخ چلا رہے ہیں ہائے ہائے مچا رہے ہیں۔ میں نے حضرت جبرائیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا یہ یتیموں کا مال کھا جانے والے ہیں جو اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب جہنم میں جائیں گے، حضرت سدی ؒ فرماتے ہیں یتیم کا مال کھا جانے والا قیامت کے روز اپنی قبر سے اس طرح اٹھایا جائے گا کہ اس کے منہ آنکھوں نتھنوں اور روئیں روئیں سے آگ کے شعلے نکل رہے ہوں گے ہر شخص دیکھتے ہی پہچان لے گا کہ اس نے کسی یتیم کا مال ناحق کھا رکھا ہے۔ ابن مردویہ میں ایک مرفوع حدیث بھی اسی مضمون کے قریب قریب مروی ہے اور حدیث میں ہے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ان دونوں ضعیفوں کا مال پہنچا دو عورتوں کا اور یتیم کا، ان کے مال سے بچو، سورة بقرہ میں یہ روایت گزر چکی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو جن کے پاس یتیم تھے انہوں نے ان کا اناج پانی بھی الگ کردیا اب عموماً ایسا ہوتا کہ کھانے پینے کی ان کی کوئی چیز بچ رہتی تو یا تو دوسرے وقت اسی باسی چیز کو کھاتے یا سڑنے کے بعد پھینک دی جاتی گھر والوں میں سے کوئی اسی ہاتھ بھی نہ لگاتا تھا یہ بات دونوں طرف ناگوار گزری حضور ﷺ کے سامنے بھی اس کا ذکر آیا ہے اس پر آیت (وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْيَتٰمٰي ۭ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ ۭوَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُكُمْ) 2۔ البقرۃ :220) اتری جس کا مطلب یہ ہے کہ جس کام میں یتیموں کی بہتری سمجھو کرو چناچہ اس کے بعد پھر کھانا پانی ایک ساتھ ہوا۔

وراثت کے مسائل مشرکین عرب کا دستور تھا کہ جب کوئی مرجاتا تو اس کی بڑی اولاد کو اس کا مال مل جاتا چھوٹی اولاد اور عورتیں بالکل محروم رہتیں اسلام نے یہ حکم نازل فرما کر سب کی مساویانہ حیثیت قائم کردی کہ وارث تو سب ہوں گے خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ بوجہ عقد زوجیت کے ہو یا بوجہ نسبت آزادی ہو حصہ سب کو ملے گا گو کم و بیش ہو، " ام کجہ " رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں کہ حضور میرے دو لڑکے ہیں ان کے والد فوت ہوگئے ہیں ان کے پاس اب کچھ نہیں پس یہ آیت نازل ہوئی، یہی حدیث دوسرے الفاظ سے میراث کی اور دونوں آیتوں کی تفسیر میں بھی عنقریب انشاء اللہ آئے گی واللہ اعلم، دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی مرنے والے کا ورثہ بٹنے لگے اور وہاں اس کا کوئی دور کا رشتہ دار بھی آجائے جس کا کوئی حصہ مقرر نہ ہو اور یتیم و مساکین آجائیں تو انہیں بھی کچھ نہ کچھ دے دو۔ ابتداء اسلام میں تو یہ واجب تھا اور بعض کہتے ہیں مستحب تھا اور اب بھی یہ حکم باقی ہے یا نہیں ؟ اس میں بھی دو قول ہیں، حضرت ابن عباس تو اسے باقی بتاتے ہیں حضرت مجاہد حضرت ابن مسعود حضرت ابو موسیٰ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر حضرت ابو العالیہ حضرت شعبی حضرت حسن حضرت سعید بن جیر حضرت ابن سیرین حضرت عطاء بن ابو رباح حضرت زہری حضرت یحیٰی بن معمر رحمتہ اللہ علیہم اجمعین بھی باقی بتاتے ہیں، بلکہ یہ حضرات سوائے حضرت ابن عباس کے وجوب کے قائل ہیں، حضرت عبیدہ ایک وصیت کے ولی تھے۔ انہوں نے ایک بکری ذبح کی اور تینوں قسموں کے لوگوں کو کھلائی اور فرمایا اگر یہ آیت نہ ہوتی تو یہ بھی میرا مال تھا، حضرت عروہ نے حضرت مصعب کے مال کی تقسیم کے وقت بھی دیا، حضرت زہری کا بھی قول ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں، ایک روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ وصیت پر موقوف ہے۔ چناچہ جب عبدالرحمن بن حضرت ابوبکر کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے اپنے باپ کا ورثہ تقسیم کیا اور یہ واقعہ حضرت مائی عائشہ کی موجودگی کا ہے تو گھر میں جتنے مسکین اور قرابت دار تھے سب کو دیا اور اسی آیت کی تلاوت کی، حضرت ابن عباس کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا اس نے ٹھیک نہیں کیا اس آیت سے تو مراد یہ ہے کہ جب مرنے والے نے اس کی وصیت کی ہو (ابن ابی حاتم) بعض حضرات کا قول ہے کہ یہ آیت بالکل منسوخ ہی ہے مثلاً حصرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے۔ اور ناسخ آیت (يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ) 4۔ النسآء :11) ہے، حصے مقرر ہونے سے پہلے یہ حکم تھا پھر جب حصے مقرر ہوچکے اور ہر حقدار کو خود اللہ تعالیٰ نے حق پہنچا دیا تو اب صدقہ صرف وہی رہ گیا جو مرنے والا کہہ گیا ہو حضرت سعید بن مسیب ؒ بھی یہی فرماتے ہیں کہ ہاں اگر وصیت ان لوگوں کے لئے ہو تو اور بات ہے ورنہ یہ آیت منسوخ ہے، جمہور کا اور چاروں اماموں کا یہی مذہب ہے، امام ابن جریر نے یہاں ایک عجیب قول اختیار کیا ہے ان کی لمبی اور کئی بار کی تحریر کا ماحصل یہ ہے کہ مال وصیت کی تقسیم کے وقت جب میت کے رشتہ دار آجائیں تو انہیں بھی دے دو اور یتیم مسکین جو آگئے ہوں ان سے نرم کلامی اور اچھے جواب سے پیش آؤ، لیکن اس میں نظر ہے واللہ اعلم، حضرت ابن عباس وغیرہ فرماتے ہیں تقسیم سے مراد یہاں ورثے کی تقسیم ہے، پس یہ قول امام ابن جریر ؒ کے خلاف ہے، ٹھیک مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب یہ غریب لوگ ترکے کی تقسیم کے وقت آجائیں اور تم اپنا اپنا حصہ الگ الگ کر کے لے رہے ہو اور یہ بیچارے تک رہے ہوں تو انہیں بھی خالی ہاتھ نہ پھیرو ان کا وہاں سے مایوس اور خالی ہاتھ واپس جانا اللہ تعالیٰ رؤف و رحیم کو اچھا نہیں لگتا بطور صدقہ کے راہ اللہ ان سے بھی کچھ اچھا سلوک کردو تاکہ یہ خوش ہو کر جائیں، جیسے اور جگہ فرمان باری ہے کہ کھیتی کے کٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو اور فاقہ زدہ اور مسکینوں سے چھپا کر اپنے باغ کا پھل لانے والوں کی اللہ تعالیٰ نے بڑی مذمت فرمائی ہے جیسے کہ سورة نون میں ہے کہ وہ رات کے وقت چھپ کر پوشیدگی سے کھیت اور باغ کے دانے اور پھل لانے کے لئے چلتے ہیں وہاں اللہ کا عذاب ان سے پہلے پہنچ جاتا ہے اور سارے باغ کو جلا کر خاک سیاہ کردیتا ہے دوسروں کے حق برباد کرنے والوں کا یہی حشر ہوتا ہے، حدیث شریف میں ہے جس مال میں صدقہ مل جائے یعنی جو شخص اپنے مال سے صدقہ نہ دے اس کا مال اس وجہ سے غارت ہوجاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے ڈریں وہ لوگ جو اگر اپنے پیچھے چھوڑ جائیں یعنی ایک شخص اپنی موت کے وقت وصیت کر رہا ہے اور اس میں اپنے وارثوں کو ضرر پہنچا رہا ہے تو اس وصیت کے سننے والے کو چاہئے کہ اللہ کا خوف کرے اور اسے ٹھیک بات کی رہنمائی کرے اس کے وارثوں کے لئے ایسی بھلائی چاہئے جیسے اپنے وارثوں کے ساتھ بھلائی کرانا چاہتا ہے جب کہ ان کی بربادی اور تباہی کا خوف ہو، بخاری و مسلم میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ حضرت سعد بن ابی وقاص کے پاس ان کی بیماری کے زمانے میں ان کی عیادت کو گئے اور حضرت سعد نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس مال بہت ہے اور صرف میری ایک لڑکی ہی میرے پیچھے ہے تو اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے مال کی دو تہائیاں اللہ کی راہ میں صدقہ کر دوں آپ نے فرمایا نہیں انہوں نے کہا پھر ایک تہائی کی اجازت دیجئے آپ نے فرمایا خیر لیکن ہے یہ بھی زیادہ تو اگر اپنے پیچھے اپنے وارثوں کو توانگر چھوڑ کر جائے اس سے بہتر ہے تو کہ تو انہیں فقیر چھوڑ کر جائے کہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں لوگ ایک تہائی سے بھی کم یعنی چوتھائی کی ہی وصیت کریں تو اچھا ہے اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے تہائی کو بھی زیادہ فرمایا ہے فقہاء فرماتے ہیں اگر میت کے وارث امیر ہوں تب تو خیر تہائی کی وصیت کرنا مستحب ہے اور اگر فقیر ہوں تو اس سے کم کی وصیت کرنا مستحب ہے، دوسرا مطلب اس آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ تم یتیموں کا اتنا ہی خیال رکھو جتنا تم تمہاری چھوٹی اولاد کا تمہارے مرنے کے بعد چاہتے ہو اور لوگ خیال رکھیں جس طرح تم نہیں چاہتے کہ ان کے مال دوسرے ظلم سے کھا جائیں اور وہ بالغ ہو کر فقیر رہ جائیں اسی طرح تم دوسروں کی اولادوں کے مال نہ کھا جاؤ، یہ مطلب بھی بہت عمدہ ہے اسی لئے اس کے بعد ہی یتیموں کا مال ناحق مار لینے والوں کی سزا بیان فرمائی، کہ یہ لوگ اپنے پیٹ میں انگارے بھرنے والے اور جہنم و اصل ہونے والے ہیں، بخاری و مسلم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا سات گناہوں سے بچو جو ہلاکت کا باعث ہیں پوچھا گیا کیا کیا ؟ فرمایا اللہ کے ساتھ شرک، جادو، بےوجہ قتل، سود خوری، یتیم کا مال کھا جانا، جہاد سے پیٹھ موڑنا، بھولی بھالی ناواقف عورتوں پر تہمت لگانا، ابن ابی حاتم میں ہے صحابہ نے حضور ﷺ سے معراج کی رات کا واقعہ پوچھا جس میں آپ نے فرمایا کہ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ نیچے لٹک رہے ہیں اور فرشتے انہیں گھسیٹ کر ان کا منہ خوب کھول دیتے ہیں پھر جہنم کے گرم پتھر ان میں ٹھونس دیتے ہیں جو ان کے پیٹ میں اتر کر پیچھے کے راستے سے نکل جاتے ہیں اور وہ بےطرح چیخ چلا رہے ہیں ہائے ہائے مچا رہے ہیں۔ میں نے حضرت جبرائیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا یہ یتیموں کا مال کھا جانے والے ہیں جو اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب جہنم میں جائیں گے، حضرت سدی ؒ فرماتے ہیں یتیم کا مال کھا جانے والا قیامت کے روز اپنی قبر سے اس طرح اٹھایا جائے گا کہ اس کے منہ آنکھوں نتھنوں اور روئیں روئیں سے آگ کے شعلے نکل رہے ہوں گے ہر شخص دیکھتے ہی پہچان لے گا کہ اس نے کسی یتیم کا مال ناحق کھا رکھا ہے۔ ابن مردویہ میں ایک مرفوع حدیث بھی اسی مضمون کے قریب قریب مروی ہے اور حدیث میں ہے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ان دونوں ضعیفوں کا مال پہنچا دو عورتوں کا اور یتیم کا، ان کے مال سے بچو، سورة بقرہ میں یہ روایت گزر چکی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو جن کے پاس یتیم تھے انہوں نے ان کا اناج پانی بھی الگ کردیا اب عموماً ایسا ہوتا کہ کھانے پینے کی ان کی کوئی چیز بچ رہتی تو یا تو دوسرے وقت اسی باسی چیز کو کھاتے یا سڑنے کے بعد پھینک دی جاتی گھر والوں میں سے کوئی اسی ہاتھ بھی نہ لگاتا تھا یہ بات دونوں طرف ناگوار گزری حضور ﷺ کے سامنے بھی اس کا ذکر آیا ہے اس پر آیت (وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْيَتٰمٰي ۭ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ ۭوَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُكُمْ) 2۔ البقرۃ :220) اتری جس کا مطلب یہ ہے کہ جس کام میں یتیموں کی بہتری سمجھو کرو چناچہ اس کے بعد پھر کھانا پانی ایک ساتھ ہوا۔

وراثت کے مسائل مشرکین عرب کا دستور تھا کہ جب کوئی مرجاتا تو اس کی بڑی اولاد کو اس کا مال مل جاتا چھوٹی اولاد اور عورتیں بالکل محروم رہتیں اسلام نے یہ حکم نازل فرما کر سب کی مساویانہ حیثیت قائم کردی کہ وارث تو سب ہوں گے خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ بوجہ عقد زوجیت کے ہو یا بوجہ نسبت آزادی ہو حصہ سب کو ملے گا گو کم و بیش ہو، " ام کجہ " رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں کہ حضور میرے دو لڑکے ہیں ان کے والد فوت ہوگئے ہیں ان کے پاس اب کچھ نہیں پس یہ آیت نازل ہوئی، یہی حدیث دوسرے الفاظ سے میراث کی اور دونوں آیتوں کی تفسیر میں بھی عنقریب انشاء اللہ آئے گی واللہ اعلم، دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی مرنے والے کا ورثہ بٹنے لگے اور وہاں اس کا کوئی دور کا رشتہ دار بھی آجائے جس کا کوئی حصہ مقرر نہ ہو اور یتیم و مساکین آجائیں تو انہیں بھی کچھ نہ کچھ دے دو۔ ابتداء اسلام میں تو یہ واجب تھا اور بعض کہتے ہیں مستحب تھا اور اب بھی یہ حکم باقی ہے یا نہیں ؟ اس میں بھی دو قول ہیں، حضرت ابن عباس تو اسے باقی بتاتے ہیں حضرت مجاہد حضرت ابن مسعود حضرت ابو موسیٰ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر حضرت ابو العالیہ حضرت شعبی حضرت حسن حضرت سعید بن جیر حضرت ابن سیرین حضرت عطاء بن ابو رباح حضرت زہری حضرت یحیٰی بن معمر رحمتہ اللہ علیہم اجمعین بھی باقی بتاتے ہیں، بلکہ یہ حضرات سوائے حضرت ابن عباس کے وجوب کے قائل ہیں، حضرت عبیدہ ایک وصیت کے ولی تھے۔ انہوں نے ایک بکری ذبح کی اور تینوں قسموں کے لوگوں کو کھلائی اور فرمایا اگر یہ آیت نہ ہوتی تو یہ بھی میرا مال تھا، حضرت عروہ نے حضرت مصعب کے مال کی تقسیم کے وقت بھی دیا، حضرت زہری کا بھی قول ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں، ایک روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ وصیت پر موقوف ہے۔ چناچہ جب عبدالرحمن بن حضرت ابوبکر کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے اپنے باپ کا ورثہ تقسیم کیا اور یہ واقعہ حضرت مائی عائشہ کی موجودگی کا ہے تو گھر میں جتنے مسکین اور قرابت دار تھے سب کو دیا اور اسی آیت کی تلاوت کی، حضرت ابن عباس کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا اس نے ٹھیک نہیں کیا اس آیت سے تو مراد یہ ہے کہ جب مرنے والے نے اس کی وصیت کی ہو (ابن ابی حاتم) بعض حضرات کا قول ہے کہ یہ آیت بالکل منسوخ ہی ہے مثلاً حصرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے۔ اور ناسخ آیت (يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ) 4۔ النسآء :11) ہے، حصے مقرر ہونے سے پہلے یہ حکم تھا پھر جب حصے مقرر ہوچکے اور ہر حقدار کو خود اللہ تعالیٰ نے حق پہنچا دیا تو اب صدقہ صرف وہی رہ گیا جو مرنے والا کہہ گیا ہو حضرت سعید بن مسیب ؒ بھی یہی فرماتے ہیں کہ ہاں اگر وصیت ان لوگوں کے لئے ہو تو اور بات ہے ورنہ یہ آیت منسوخ ہے، جمہور کا اور چاروں اماموں کا یہی مذہب ہے، امام ابن جریر نے یہاں ایک عجیب قول اختیار کیا ہے ان کی لمبی اور کئی بار کی تحریر کا ماحصل یہ ہے کہ مال وصیت کی تقسیم کے وقت جب میت کے رشتہ دار آجائیں تو انہیں بھی دے دو اور یتیم مسکین جو آگئے ہوں ان سے نرم کلامی اور اچھے جواب سے پیش آؤ، لیکن اس میں نظر ہے واللہ اعلم، حضرت ابن عباس وغیرہ فرماتے ہیں تقسیم سے مراد یہاں ورثے کی تقسیم ہے، پس یہ قول امام ابن جریر ؒ کے خلاف ہے، ٹھیک مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب یہ غریب لوگ ترکے کی تقسیم کے وقت آجائیں اور تم اپنا اپنا حصہ الگ الگ کر کے لے رہے ہو اور یہ بیچارے تک رہے ہوں تو انہیں بھی خالی ہاتھ نہ پھیرو ان کا وہاں سے مایوس اور خالی ہاتھ واپس جانا اللہ تعالیٰ رؤف و رحیم کو اچھا نہیں لگتا بطور صدقہ کے راہ اللہ ان سے بھی کچھ اچھا سلوک کردو تاکہ یہ خوش ہو کر جائیں، جیسے اور جگہ فرمان باری ہے کہ کھیتی کے کٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو اور فاقہ زدہ اور مسکینوں سے چھپا کر اپنے باغ کا پھل لانے والوں کی اللہ تعالیٰ نے بڑی مذمت فرمائی ہے جیسے کہ سورة نون میں ہے کہ وہ رات کے وقت چھپ کر پوشیدگی سے کھیت اور باغ کے دانے اور پھل لانے کے لئے چلتے ہیں وہاں اللہ کا عذاب ان سے پہلے پہنچ جاتا ہے اور سارے باغ کو جلا کر خاک سیاہ کردیتا ہے دوسروں کے حق برباد کرنے والوں کا یہی حشر ہوتا ہے، حدیث شریف میں ہے جس مال میں صدقہ مل جائے یعنی جو شخص اپنے مال سے صدقہ نہ دے اس کا مال اس وجہ سے غارت ہوجاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے ڈریں وہ لوگ جو اگر اپنے پیچھے چھوڑ جائیں یعنی ایک شخص اپنی موت کے وقت وصیت کر رہا ہے اور اس میں اپنے وارثوں کو ضرر پہنچا رہا ہے تو اس وصیت کے سننے والے کو چاہئے کہ اللہ کا خوف کرے اور اسے ٹھیک بات کی رہنمائی کرے اس کے وارثوں کے لئے ایسی بھلائی چاہئے جیسے اپنے وارثوں کے ساتھ بھلائی کرانا چاہتا ہے جب کہ ان کی بربادی اور تباہی کا خوف ہو، بخاری و مسلم میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ حضرت سعد بن ابی وقاص کے پاس ان کی بیماری کے زمانے میں ان کی عیادت کو گئے اور حضرت سعد نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس مال بہت ہے اور صرف میری ایک لڑکی ہی میرے پیچھے ہے تو اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے مال کی دو تہائیاں اللہ کی راہ میں صدقہ کر دوں آپ نے فرمایا نہیں انہوں نے کہا پھر ایک تہائی کی اجازت دیجئے آپ نے فرمایا خیر لیکن ہے یہ بھی زیادہ تو اگر اپنے پیچھے اپنے وارثوں کو توانگر چھوڑ کر جائے اس سے بہتر ہے تو کہ تو انہیں فقیر چھوڑ کر جائے کہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں لوگ ایک تہائی سے بھی کم یعنی چوتھائی کی ہی وصیت کریں تو اچھا ہے اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے تہائی کو بھی زیادہ فرمایا ہے فقہاء فرماتے ہیں اگر میت کے وارث امیر ہوں تب تو خیر تہائی کی وصیت کرنا مستحب ہے اور اگر فقیر ہوں تو اس سے کم کی وصیت کرنا مستحب ہے، دوسرا مطلب اس آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ تم یتیموں کا اتنا ہی خیال رکھو جتنا تم تمہاری چھوٹی اولاد کا تمہارے مرنے کے بعد چاہتے ہو اور لوگ خیال رکھیں جس طرح تم نہیں چاہتے کہ ان کے مال دوسرے ظلم سے کھا جائیں اور وہ بالغ ہو کر فقیر رہ جائیں اسی طرح تم دوسروں کی اولادوں کے مال نہ کھا جاؤ، یہ مطلب بھی بہت عمدہ ہے اسی لئے اس کے بعد ہی یتیموں کا مال ناحق مار لینے والوں کی سزا بیان فرمائی، کہ یہ لوگ اپنے پیٹ میں انگارے بھرنے والے اور جہنم و اصل ہونے والے ہیں، بخاری و مسلم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا سات گناہوں سے بچو جو ہلاکت کا باعث ہیں پوچھا گیا کیا کیا ؟ فرمایا اللہ کے ساتھ شرک، جادو، بےوجہ قتل، سود خوری، یتیم کا مال کھا جانا، جہاد سے پیٹھ موڑنا، بھولی بھالی ناواقف عورتوں پر تہمت لگانا، ابن ابی حاتم میں ہے صحابہ نے حضور ﷺ سے معراج کی رات کا واقعہ پوچھا جس میں آپ نے فرمایا کہ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ نیچے لٹک رہے ہیں اور فرشتے انہیں گھسیٹ کر ان کا منہ خوب کھول دیتے ہیں پھر جہنم کے گرم پتھر ان میں ٹھونس دیتے ہیں جو ان کے پیٹ میں اتر کر پیچھے کے راستے سے نکل جاتے ہیں اور وہ بےطرح چیخ چلا رہے ہیں ہائے ہائے مچا رہے ہیں۔ میں نے حضرت جبرائیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا یہ یتیموں کا مال کھا جانے والے ہیں جو اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب جہنم میں جائیں گے، حضرت سدی ؒ فرماتے ہیں یتیم کا مال کھا جانے والا قیامت کے روز اپنی قبر سے اس طرح اٹھایا جائے گا کہ اس کے منہ آنکھوں نتھنوں اور روئیں روئیں سے آگ کے شعلے نکل رہے ہوں گے ہر شخص دیکھتے ہی پہچان لے گا کہ اس نے کسی یتیم کا مال ناحق کھا رکھا ہے۔ ابن مردویہ میں ایک مرفوع حدیث بھی اسی مضمون کے قریب قریب مروی ہے اور حدیث میں ہے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ان دونوں ضعیفوں کا مال پہنچا دو عورتوں کا اور یتیم کا، ان کے مال سے بچو، سورة بقرہ میں یہ روایت گزر چکی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو جن کے پاس یتیم تھے انہوں نے ان کا اناج پانی بھی الگ کردیا اب عموماً ایسا ہوتا کہ کھانے پینے کی ان کی کوئی چیز بچ رہتی تو یا تو دوسرے وقت اسی باسی چیز کو کھاتے یا سڑنے کے بعد پھینک دی جاتی گھر والوں میں سے کوئی اسی ہاتھ بھی نہ لگاتا تھا یہ بات دونوں طرف ناگوار گزری حضور ﷺ کے سامنے بھی اس کا ذکر آیا ہے اس پر آیت (وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْيَتٰمٰي ۭ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ ۭوَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُكُمْ) 2۔ البقرۃ :220) اتری جس کا مطلب یہ ہے کہ جس کام میں یتیموں کی بہتری سمجھو کرو چناچہ اس کے بعد پھر کھانا پانی ایک ساتھ ہوا۔

مزید مسائل میراث جن کا ہر مسلمان کو جاننا فرض ہے یہ آیت کریمہ اور اس کے بعد کی آیت اور اس سورت کے خاتمہ کی آیت علم فرائض کی آیتیں ہیں، یہ پورا علم ان آیتوں اور میراث کی احادیث سے استنباط کیا گیا ہے، جو حدیثیں ان آیتوں کی گویا تفسیر اور توضیح ہیں، یہاں ہم اس آیت کی تفسیر لکھتے ہیں باقی جو میراث کے مسائل کی پوری تقریر ہے اور اس میں جن دلائل کی سمجھ میں جو کچھ اختلاف ہوا ہے اس کے بیان کرنے کی مناسب جگہ احکام کی کتابیں ہیں نہ کہ تفسیر، اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے، علم فرائض سیکھنے کی رغبت میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں، ان آیتوں میں جن فرائض کا بیان ہے یہ سب سے زیادہ اہم ہیں، ابو داؤد اور ابن ماجہ میں ہے علم دراصل تین ہیں اور اس کے ماسوا فضول بھرتی ہے، آیات قرآنیہ جو مضبوط ہیں اور جن کے احکام باقی ہیں، سنت قائمہ یعنی جو احادیث ثابت شدہ ہیں اور فریضہ عادلہ یعنی مسائل میراث جو ان دو سے ثابت ہیں۔ ابن ماجہ کی دوسری ضعیف سند والی حدیث میں ہے کہ فرائض سیکھو اور دوسروں کو سکھاؤ۔ یہ نصف علم ہے اور یہ بھول بھول جاتے ہیں اور یہی پہلی وہ چیز ہے جو میری امت سے چھن جائے گی، حضرت ابن عینیہ ؒ فرماتے ہیں اسے آدھا علم اس لئے کہا گیا ہے کہ تمام لوگوں کو عموماً یہ پیش آتے ہیں، صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ میں بیمار تھا آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ میری بیمار پرسی کے لئے بنو سلمہ کے محلے میں پیادہ پا تشریف لائے میں اس وقت بیہوش تھا آپ نے پانی منگوا کر وضو کیا پھر وضو کے پانی کا چھینٹا مجھے دیا جس سے مجھے ہوش آیا، تو میں نے کہا حضور ﷺ میں اپنے مال کی تقسیم کس طرح کروں ؟ اس پر آیت شریفہ نازل ہوئی، صحیح مسلم شریف نسائی شریف وغیرہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے، ابو داؤد ترمذی ابن ماجہ مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں مروی حے کہ حضرت سعد بن ربیع ؓ کی بیوی صاحبہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ دونوں حضرت سعد کی لڑکیاں ہیں، ان کے والد آپ کے ساتھ جنگ احد میں شریک تھے اور وہیں شہید ہوئے ان کے چچا نے ان کا کل مال لے لیا ہے ان کے لئے کچھ نہیں چھوڑا اور یہ ظاہر ہے کہ ان کے نکاح بغیر مال کے نہیں ہوسکتے، آپ نے فرمایا اس کا فیصلہ خود اللہ کرے گا چناچہ آیت میراث نازل ہوئی، آپ نے ان کے چچا کے پاس آدمی بھیج کر حکم بھیجا کہ دو تہائیاں تو ان دونوں لڑکیوں کو دو اور آٹھواں حصہ ان کی ماں کو دو اور باقی مال تمہارا ہے، بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت جابر کے سوال پر اس سورت کی آخری آیت اتری ہوگی جیسے عنقریب آ رہا ہے انشاء اللہ تعالیٰ اس لئے کہ ان کی وارث صرف ان کی بہنیں ہی تھیں لڑکیاں تھیں ہی نہیں وہ تو کلالہ تھے اور یہ آیت اسی بارے میں یعنی حضرت سعد بن ربیع کے ورثے کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس کے راوی بھی خود حضرت جابر ہیں ہاں حضرت امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو اسی آیت کی تفسیر میں وارد کیا ہے اس لئے ہم نے بھی ان کی تابعداری کی، واللہ اعلم مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں عدل سکھاتا ہے، اہل جاہلیت تمام مال لڑکوں کو دیتے تھے اور لڑکیاں خالی ہاتھ رہ جاتی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کا حصہ بھی مقرر کردیا ہاں دونوں کے حصوں میں فرق رکھا، اس لئے کہ مردوں کے ذمہ جو ضروریات ہیں وہ عورتوں کے ذمہ نہیں مثلاً اپنے متعلقین کے کھانے پینے اور خرچ اخراجات کی کفالت تجارت اور کسب اور اسی طرح کی اور مشقتیں تو انہیں ان کی حاجت کے مطابق عورتوں سے دوگنا دلوایا، بعض دانا بزرگوں نے یہاں ایک نہایت باریک نکتہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہ نسبت ماں باپ کے بھی زیادہ مہربان ہے، ماں باپ کو ان کی اولادوں کے بارے میں وصیت کر رہا ہے، پس معلوم ہوا کہ ماں باپ اپنی اولاد پر اتنے مہربان نہیں جتنا مہربان ہمارا خالق اپنی مخلوق پر ہے۔ چناچہ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ قیدیوں میں سے ایک عورت کا بچہ اس سے چھوٹ گیا وہ پاگلوں کی طرح اسے ڈھونڈتی پھرتی تھی اور جیسے ہی ملا اپنے سینے سے لگا کر اسے دودھ پلانے لگی آنحضرت ﷺ نے یہ دیکھ کر اپنے اصحاب سے فرمایا بھلا بتاؤ تو کیا یہ عورت باوجود اپنے اختیار کے اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی ؟ لوگوں نے کہا یارسول اللہ ﷺ ہرگز نہیں آپ نے فرمایا اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ پہلے حصہ دار مال کا صرف لڑکا تھا، ماں باپ کو بظور وصیت کے کچھ مل جاتا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کیا اور لڑکے کو لڑکی سے دوگنا دلوایا اور ماں باپ کو چھٹا چھٹا حصہ دلوایا اور تیسرا حصہ بھی اور بیوی کو آٹھواں حصہ اور چوتھا حصہ اور خاوند کو آدھا اور پاؤ۔ فرماتے ہیں میراث کے احکام اترنے پر بعض لوگوں نے کہا یہ اچھی بات ہے کہ عورت کو چوتھا اور آٹھواں حصہ دلوایا جا رہا ہے اور لڑکی کو آدھوں آدھ دلوایا جا رہا ہے اور ننھے ننھے بچوں کا حصہ مقرر کیا جا رہا ہے حالانکہ ان میں سے کوئی بھی نہ لڑائی میں نکل سکتا ہے، نہ مال غنیمت لاسکتا ہے اچھا تم اس حدیث سے خاموشی برتو شاید رسول اللہ ﷺ کو یہ بھول جائے ہمارے کہنے کی وجہ سے آپ ان احکام کو بدل دیں، پھر انہوں نے آپ سے کہا کہ آپ لڑکی کو اس کے باپ کا آدھا مال دلوا رہے ہیں حالانکہ نہ وہ گھوڑے پر بیٹھنے کے لائق نہ دشمن سے لڑنے کے قابل، آپ بچے کو ورثہ دلا رہے ہیں بھلا وہ کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے ؟ یہ لوگ جاہلیت کے زمانہ میں ایسا ہی کرتے تھے کہ میراث صرف اسے دیتے تھے جو لڑنے مرنے کے قابل ہو سب سے بڑے لڑکے کو وارث قرار دیتے تھے (اگر مرنے والے کے لڑکے لڑکیاں دونوں ہو تو تو فرما دیا کہ لڑکی کو جتنا آئے اس سے دوگنا لڑکے کو دیا جائے یعنی ایک لڑکی ایک لڑکا ہے تو کل مال کے تین حصے کر کے دو حصے لڑکے کو اور ایک حصہ لڑکی کو دے دیا جائے اور اگر صرف لڑکی کو دے دیا جائے اب بیان فرماتا ہے کہ اگر صرف لڑکیاں ہوں تو انہیں کیا ملے گا ؟ مترجم) لفظ فوق کو بعض لوگ زائد بتاتے ہیں جیسے آیت (فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ) 8۔ الانفال :12) آیت میں لفظ فوق زائد ہے لیکن ہم یہ نہیں مانتے نہ اس آیت میں نہ اس آیت میں، کیونکہ قرآن میں کوئی ایسی زائد چیز نہیں ہے جو محض بےفائدہ ہو اللہ کے کلام میں ایسا ہونا محال ہے، پھر یہ بھی خیال فرمائیے کہ اگر ایسا ہی ہوتا تو اس کے بعد آیت (فلہن) نہ آتا بلکہ (فلہما) آتا۔ ہاں اسے ہم جانتے ہیں کہ اگر لڑکیاں دو سے زیادہ نہ ہوں یعنی صرف دو ہوں تو بھی یہی حکم ہے یعنی انہیں بھی دو ثلث ملے گا کیونکہ دوسری آیت میں دو بہنوں کو دو ثلث دلوایا گیا ہے اور جبکہ دو بہنیں دو ثلث پاتی ہیں تو دو لڑکیوں کو دو ثلث کیوں نہ ملے گا ؟ ان کے لئے تو دو تہائی بطور اولی ہونا چاہئے، اور حدیث میں آچکا ہے دو لڑکیوں کو رسول اللہ ﷺ نے دو تہائی مال ترکہ کا دلوایا جیسا کہ اس آیت کی شان نزول کے بیان میں حضرت سعد کی لڑکیوں کے ذکر میں اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے پس کتاب و سنت سے یہ ثابت ہوگیا اسی طرح اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ ایک لڑکی اگر ہو یعنی لڑکا نہ ہونے کی صورت میں تو اسے آدھوں آدھ دلوایا گیا ہے پس اگر دو کو بھی آدھا ہی دینے کا حکم کرنا مقصود ہوتا تو یہیں بیان ہوجاتا جب ایک کو الگ کردیا تو معلوم ہوا کہ دو کا حکم وہی ہے جو دو سے زائد کا ہے واللہ اعلم۔ پھر ماں باپ کا حصہ بیان ہو رہا ہے ان کے ورثے کی مختلف صورتیں ہیں، ایک تو یہ کہ مرنے والے کی اولاد ایک لڑکی سے زیادہ ہو اور ماں باپ بھی ہوں تو تو انہیں چھٹا چھٹا حصہ ملے گا یعنی چھٹا حصہ ماں کو اور چھٹا حصہ باپ کو، اگر مرنے والے کی صرف ایک لڑکی ہی ہے تو آدھا مال تو وہ لڑکی لے لے گی اور چھٹا حصہ ماں لے لے گی چھٹا حصہ باپ کو ملے گا اور چھٹا حصہ جو باقی رہا وہ بھی بطور عصبہ باپ کو مل جائے گا پس اس حالت میں باپ فرض اور تنصیب دونوں کو جمع کرلے گا یعنی مقررہ چھٹا حصہ اور بطور عصبہ بچت کا مال دوسری صورت یہ ہے کہ صرف ماں باپ ہی وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ مل جائے گا اور باقی کا کل ماں باپ کو بطور عصبہ کے مل جائے گا تو گویا دو ثلث مال اس کے ہاتھ لگے گا یعنی بہ نسبت مال کے دگنا باپ کو مل جائے گا اب اگر مرنے والی عورت کا خاوند بھی ہے مرنے والے مرد کی بیوی ہے یعنی اولاد نہیں صرف ماں باپ ہیں اور خاوند سے یا بیوی تو اس پر تو اتفاق ہے کہ خاوند کو آدھا اور بیوی کو پاؤ ملے گا، پھر علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ ماں کو اس صورت میں اس کے بعد کیا ملے گا ؟ تین قول ہیں ایک تو یہ کہ جو مال باقی رہا اس میں سے تیسرا حصہ ملے گا دونوں صورتوں میں یعنی خواہ عورت خاوند چھوڑ کر مری ہو خواہ مرد عورت چھوڑ کر مرا ہو اس لئے کہ باقی کا مال ان کی نسبت سے گویا کل مال ہے اور ماں کا حصہ باپ سے آدھا ہے تو اس باقی کے مال سے تیسرا حصہ یہ لے لے اور وہ تیسرے حصے جو باقی رہے وہ باپ لے لے گا حضرت عمر حضرت عثمان اور بہ اعتبار زیادہ صحیح روایت حضرت علی ؓ کا یہی فیصلہ ہے، حضرت ابن مسعود اور حضرت زید بن ثابت ؓ کا یہی قول ہے، ساتوں فقہاء اور چاروں اماموں اور جمہور علماء کا بھی فتویٰ ہے دوسرا قول یہ ہے کہ ان دونوں صورتوں میں بھی ماں کو کل مال کا ثلث مل جائے گا، اس لئے کہ آیت عام ہے خاوند بیوی کے ساتھ ہو تو اور نہ ہو تو عام طور پر میت کی اولاد نہ ہونے کی صورت میں ماں کو ثلث دلوایا گیا ہے، حضرت ابن عباس کا یہی قول ہے، حضرت علی اور حضرت معاذ بن جبل سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ حضرت شریح اور حضرت داؤد ظاہری بھی یہی فرماتے ہیں، حضرت ابو الحسین بن لبان بصری بھی اپنی کتاب ایجاز میں جو علم فرائض کے بارے میں ہے اسی قول کو پسند کرتے ہیں، لیکن اس قول میں نظر ہے بلکہ یہ قول ضعیف ہے کیونکہ آیت نے اس کا یہ حصہ اس وقت مقرر فرمایا ہے جبکہ کل مال کی وراثت صرف ماں باپ کو ہی پہنچتی ہو، اور جبکہ زوج یا زوجہ سے اور وہ اپنے مقررہ حصے کے مستحق ہیں تو پھر جو باقی رہ جائے گا بیشک وہ ان دونوں ہی کا حصہ ہے تو اس میں ثلث ملے گا، کیونکہ اس عورت کو کل مال کی چوتھائی ملے گی اگر کل مال کے بارہ حصے کئے جائیں تو تین حصے تو یہ لے گی اور چار حصے ماں کو ملے گا باقی بچے پانچ حصے وہ باپ لے لے گا لیکن اگر عورت مری ہے اور اس کا خاوند موجود ہے تو ماں کو باقی مال کا تیسرا حصہ ملے گا اگر کل مال کا تیسرا حصہ اس صورت میں بھی ماں کو دلوایا جائے تو اسے باپ سے بھی زیادہ پہنچ جاتا ہے مثلاً میت کے مال کے چھ حصے کئے تین تو خاوند لے گیا دو ماں لے گئی تو باپ کے پلے ایک ہی پڑے گا جو ماں سے بھی تھوڑا ہے، اس لئے اس صورت میں چھ میں سے تین تو خاوند کو دئے جائیں گے ایک ماں کو اور دو باپ کو، حضرت امام ابن سیرین ؒ کا یہی قول ہے، یوں سمجھنا چاہئے کہ یہ قول دو قولوں سے مرکب ہے، ضعیف یہ بھی ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے واللہ اعلم، ماں باپ کے احوال میں سے تیسرا حال یہ ہے کہ وہ بھائیوں کے ساتھ ہوں خواہ وہ سگے بھائی ہوں یا صرف باپ کی طرف سے یا صرف ماں کی طرف سے تو وہ باپ کے ہوتے ہوئے اپنے بھائی کے ورثے میں کچھ پائیں گے نہیں لیکن ہاں ماں کو تہائی سے ہٹا کر چھٹا حصہ دلوائیں گے اور اگر کوئی اور وارث ہی نہ ہو اور صرف ماں کے ساتھ باپ ہی ہو تو باقی مال کل کا کل باپ لے لے گا اور بھائی بھی شریعت میں بہت سے بھائیوں کے مترادف ہیں جمہور کا یہی قول ہے، ہاں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ حضرت عثمان ؓ سے کہا کہ دو بھائی ماں کو ثلث سے ہٹا کر سدس تک نہیں لے جاتے قرآن میں اخوۃ جمع کا لفظ ہے دو بھائی اگر مراد ہوتے اخوان کہا جاتا خلیفہ ثالث نے جواب دیا کہ پہلے ہی سے یہ چلا آتا ہے اور چاروں طرف یہ مسئلہ اسی طرح پہنچا ہوا ہے تمام لوگ اس کے عامل ہیں میں اسے نہیں بدل سکتا، اولاً تو یہ اثر ثابت ہی نہیں اس کے راوی حضرت شعبہ کے بارے میں حضرت امام مالک کی جرح موجود ہے پھر یہ قول ابن عباس کا نہ ہونے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ خود حضرت ابن عباس کے خاص اصحاب اور اعلی شاگرد بھی اس کے خلاف ہیں حضرت زید فرماتے ہیں دو کو بھی اخوۃ کہا جاتا ہے، الحمد للہ میں نے اس مسئلہ کو پوری طرح ایک علیحدہ رسالے میں لکھا ہے حضرت سعید بن قتادہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، ہاں میت کا اگر ایک ہی بھائی ہو تو ماں کو تیسرے حصے سے ہٹا نہیں سکتا، علماء کرام کا فرمان ہے کہ اس میں حکمت یہ ہے کہ میت کے بھائیوں کی شادیوں کا اور کھانے پینے وغیرہ کا کل خرچ باپ کے ذمہ ہے نہ کہ ماں کے ذمے اس لئے متقضائے حکمت یہی تھا کہ باپ کو زیادہ دیا جائے، یہ توجیہ بہت ہی عمدہ ہے، لیکن حضرت ابن عباس سے بہ سند صحیح مروی ہے کہ یہ چھٹا حصہ جو ماں کا کم ہوگیا انہیں دیدیا جائے گا یہ قول شاذ ہے امام ابن جریر فرماتے ہیں حضرت عبداللہ کا یہ قول تمام امت کے خلاف ہے، ابن عباس کا قول ہے کہ کلالہ اسے کہتے ہیں جس کا بیٹا اور باپ نہ ہو۔ پھر فرمایا وصیت اور قرض کے بعد تقسیم میراث ہوگی، تمام سلف خلف کا اجماع ہے کہ قرض وصیت پر مقدم ہے اور فحوائے آیت کو بھی اگر بغور دیکھا جائے تو یہی معلوم ہوتا ہے، ترمذی وغیرہ میں ہے حضرت علی بن ابو طالب ؓ فرماتے ہیں تم قرآن میں وصیت کا حکم پہلے پڑھتے ہو اور قرض کا بعد میں لیکن یاد رکھنا کہ رسول اللہ ﷺ نے قرض پہلے ادا کرایا ہے، پھر وصیت جاری کی ہے، ایک ماں زاد بھائی آپس میں وارث ہوں گے بغیر علاتی بھائیوں کے، آدمی اپنے سگے بھائی کا وارث ہوگا نہ اس کا جس کی ماں دوسری ہو، یہ حدیث صرف حضرت حارث سے مروی ہے اور ان پر بعض محدثین نے جرح کی ہے، لیکن یہ حافظ فرائض تھے اس علم میں آپ کو خاص دلچسپی اور دسترس تھی اور حساب کے بڑے ماہر تھے واللہ اعلم۔ پھر فرمایا کہ ہم نے باپ بیٹوں کو اصل میراث میں اپنا اپنا مقررہ حصہ لینے والا بنایا اور جاہلیت کی رسم ہٹا دی بلکہ اسلام میں بھی پہلے بھی ایسا ہی حکم تھا کہ مال اولاد کو مل جاتا ماں باپ کو صرف بطور وصیت کے ملتا تھا جیسے حضرت ابن عباس سے پہلے بیان ہوچکا یہ منسوخ کر کے اب یہ حکم ہوا تمہیں یہ نہیں معلوم کہ تمہیں باپ سے زیادہ نفع پہنچے گا یا اولاد نفع دے گی امید دونوں سے نفع کی ہے یقین کسی پر بھی ایک سے زیادہ نہیں، ممکن ہے باپ سے زیادہ بیٹا کام آئے اور نفع پہنچائے اور ممکن ہے بیٹے سے زیادہ باپ سے نفع پہنچے اور وہ کام آئے، پھر فرماتا ہے یہ مقررہ حصے اور میراث کے یہ احکام اللہ کی طرف سے فرض ہیں اس میں کسی کمی پیشی کی کسی امید یا کسی خوف سے گنجائش نہیں نہ کسی کو محروم کردینا لائق سے نہ کسی کو زیادہ دلوا دینا، اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے جو جس کا مستحق ہے اسے اتنا دلواتا ہے ہر چیز کی جگہ کو وہ بخوبی جانتا ہے تمہارے نفع نقصان کا اسے پورا علم ہے اس کا کوئی کام اور کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں تمہیں چاہئے کہ اس کے احکام اس کے فرمان مانتے چلے جاؤ۔

وراثت کی مزید تفصیلات اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مرد و تمہاری عورتیں جو چھوڑ کر مریں اگر ان کی اولاد نہ ہو تو اس میں سے آدھوں آدھ حصہ تمہارا ہے اور اگر ان کے بال بچے ہوں تو تمہیں چوتھائی ملے گا، وصیت اور قرض کے بعد۔ ترتیب اس طرح ہے پہلے قرض ادا کیا جائے پھر وصیت پوری کی جائے پھر ورثہ تقسیم ہو، یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر تمام علماء امت کا اجماع ہے، پوتے بھی اس مسئلہ میں حکم میں بیٹیوں کی ہی طرح ہیں بلکہ ان کی اولاد در اولاد کا بھی یہی حکم ہے کہ ان کی موجودگی میں خاوند کو چوتھائی ملے گا۔ پھر عورتوں کو حصہ بتایا کہ انہیں یا چوتھائی ملے گا یا آٹھواں حصہ چوتھائی تو اس حالت میں کہ مرنے والے خاوند کی اولاد نہ ہو، اور آٹھواں حصہ اس حالت میں کہ اولاد ہو، اس چوتھائی یا آٹھویں حصے میں مرنے والے کی سب بیویاں شامل ہیں چار ہوں تو ان میں یہ حصہ برابر برابر تقسیم ہوجائے گا تین یا دو ہوں تب بھی اور اگر ایک ہو تو اسی کا یہ حصہ ہے آیت (من بعد وصیتہ) کی تفسیر اس سے پہلی آیت میں گزر چکی ہے۔ (کلالہ) مشتق ہے اکلیل سے اکلیل کہتے ہیں اس تاج وغیرہ کو جو سر کو ہر طرف سے گھیر لے، یہاں مراد یہ ہے کہ اس کے وارث ارد گرد حاشیہ کے لوگ ہیں اصل اور فرع یعنی جڑیا شاخ نہیں، صرف ابوبکر صدیق ؓ سے کلالہ کا معنی پوچھا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں میں اپنی رائے سے جواب دیتا ہوں اگر ٹھیک ہو تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے اور اللہ اور رسول ﷺ اس سے بری الذمہ ہیں، کلالہ وہ ہے جس کا نہ لڑکا ہو نہ باپ، حضرت عمر ؓ جب خلیفہ ہوئے تو آپ نے بھی اس سے موافقت کی اور فرمایا مجھے ابوبکر کی رائے سے خلاف کرتے ہوئے شرم آتی ہے (ابن جریر وغیرہ) ابن عباس فرماتے ہیں حضرت ﷺ کا سب سے آخری زمانہ پانے والا میں ہوں میں نے آپ ﷺ سے سنا فرماتے تھے بات وہی ہے جو میں نے کہی ٹھیک اور درست یہی ہے کہ کلالہ اسے کہتے ہیں جس کا نہ ولد ہو والد، حضرت علی، ابن مسعود، ابن عباس، زید بن ثابت رضوان اللہ علیہم اجمعین، شعبی، نخعی، حسن، قتادہ، جابر بن زید، حکم رحمتہ اللہ علیہم اجمعین بھی یہی فرماتے ہیں، اہل مدینہ اہل کوفہ اہل بصرہ کا بھی یہی قول ہے ساتوں فقہاء چاروں امام اور جمہور سلف و خلف بلکہ تمام یہی فرماتے ہیں، بہت سے بزرگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی آیا ہے، ابن لباب فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ کلالہ وہ ہے جس کی اولاد نہ ہو لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور ممکن ہے کہ راوی نے مراد سمجھی ہی نہ ہو پھر فرمایا کہ اس کا بھائی یا بہن ہو یعنی ماں زاد، جیسے کہ سعد بن وقاص وغیرہ بعض سلف کی قرأت ہے، حضرت صدیق وغیرہ سے بھی یہی تفسیر مروی ہے تو ان میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے اگر زیادہ ہوں تو ایک ثلث میں سب شریک ہیں، ماں زاد بھائی باقی وارثوں سے کئی وجہ سے مختلف ہیں، ایک تو یہ کہ یہ باوجود اپنے ورثے کے دلانے والے کے بھی وارث ہوتے ہیں مثلاً ماں دوسرے یہ کہ ان کے مرد و عورت یعنی بہن بھائی میراث میں برابر ہیں تیسرے یہ کہ یہ اسی وقت وارث ہوتے ہیں جبکہ میت کلالہ ہو پس باپ دادا کی یعنی پوتے کی موجودگی میں یہ وارث نہیں ہوتے، چوتھے یہ کہ انہیں ثلث سے زیادہ نہیں ملتا تو گویہ کتنے ہی ہوں مرد ہوں یا عورت، حضرت عمر کا فیصلہ ہے کہ ماں زاد بہن بھائی کا ورثہ آپس میں اس طرح بٹے گا کہ مرد کے لئے دوہرا اور عورت کے لئے اکہرا، حضرت زہری فرماتے ہیں حضرت عمر ایسا فیصلہ نہیں کرسکتے تاوقتیکہ انہوں نے حضور ﷺ سے یہ سنا ہو، آیت میں اتنا تو صاف ہے کہ اگر اس سے زیادہ ہوں تو ثلث میں شریک ہیں، اس صورت میں علماء کا اختلاف ہے کہ اگر میت کے وارثوں میں خاوند ہو اور ماں ہو یا دادی ہو اور دو ماں زاد بھائی ہوں اور ایک یا ایک سے زیادہ باپ کی طرف سے بھائی ہوں تو جمہور تو کہتے ہیں کہ اس صورت میں خاوند کو آدھا ملے گا اور ماں یا دادی کو چھٹا حصہ ملے گا اور ماں زاد بھائی کو تہائی ملے گا اور اسی میں سگے بھائی بھی شامل ہوں گے قدر مشترک کے طور پر جو ماں زاد بھائی ہے، امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانہ میں ایک ایسی ہی صورت پیش آئی تھی تو آپ نے خاوند کو آدھا دلوایا اور ثلث ماں زاد بھائیوں کو دلوایا تو سگے بھائیوں نے بھی اپنے تئیں پیش کیا آپ نے فرمایا تم ان کے ساتھ شریک ہو، حضرت عثمان سے بھی اسی طرح شریک کردینا مروی ہے، اور دو روایتوں میں سے ایک روایت ایسی ہے ابن مسعود اور زید بن ثابت اور ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے، حضرت سعید بن مسیب، قاضی شریح، مسروق، طاؤس، محمد بن سیرین، ابراہیم نخعی، عمر بن عبدالعزیز، ثوری اور شریک رحہم اللہ کا قول بھی یہی ہے، امام مالک اور امام شافعی اور امام اسحاق بن راھویہ بھی اسی طرف گئے ہیں، ہاں حضرت علی بن ابو طالب ؓ اس میں شرکت کے قائل نہ تھے بلکہ آپ اولاد ام کو اس حالت میں ثلث دلواتے تھے اور ایک ماں باپ کی اولاد کو کچھ نہیں دلاتے تھے اس لئے کہ یہ عصبہ ہیں اور عصبہ اس وقت پاتے ہیں جب ذوی الفرض سے بچ جائے، بلکہ وکیع بن جراح کہتے ہیں حضرت علی سے اس کے خلاف مروی ہی نہیں، حضرت ابی بن کعب حضرت ابو موسیٰ اشعری کا قول بھی یہی ہے، ابن عباس سے بھی مشہور یہی ہے، شعبی، ابن ابی لیلی، ابو حنیفہ، ابو یوسف، محمد بن حسن، حسن بن زیادہ، زفر بن ہذیل، امام احمد، یحییٰ بن آدم، نعیم بن حماد، ابو ثور، داؤد ظاہری بھی اسی طرف گئے ہیں ابو الحسن بن لبان فرضی نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے، ملاحظہ ہو ان کی کتاب الایجاز پھر فرمایا یہ وصیت کے جاری کرنے کے بعد ہے، وصیت ایسی ہو جس میں خلاف عدل نہ ہو کسی کو ضرر اور نقصان نہ پہنچایا گیا ہو نہ کسی پر جبر و ظلم کیا گیا ہو، کسی وارث کا نہ ورثہ مارا گیا ہو نہ کم و بیش کیا گیا ہو، اس کے خلاف وصیت کرنے والا اور ایسی خلاف شرع وصیت میں کوشش کرنے والا اللہ کے حکم اور اس کی شریعت میں اس کے خلاف کرنے والا اور اس سے لڑنے والا ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وصیت میں کسی کو ضرر و نقصان پہنچانا کبیرہ گناہ ہے (ابن ابی حاتم) نسائی میں حضرت ابن عباس کا قول بھی اسی طرح مروی ہے بعض روایتوں میں حضرت ابن عباس سے اس فرمان کے بعد آیت کے اس ٹکڑے کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے، امام ابن جریر کے قول کی مطابق ٹھیک بات یہی ہے کہ یہ مرفوع حدیث نہیں موقوف قول ہے، ائمہ کرام کا اس میں اختلاف ہے کہ وارث کے لئے جو اقرار میت کر جائے آیا وہ صحیح ہے یا نہیں ؟ بعض کہتے ہیں صحیح نہیں ہے اس لئے کہ اس میں تہمت لگنے کی گنجائش ہے، حدیث شریف میں بہ سند صحیح آچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق پہنچا دیا ہے اب وارث کے لئے کوئی وصیت نہیں، مالک احمد بن حنبل ابوحنیفہ کا قول یہی ہے، شافعی کا بھی پہلا قول یہی تھا لیکن آخری قول یہ ہے کہ اقرار کرنا صحیح مانا جائے گا طاؤس حسن عمر بن عبدالعزیز کا قول بھی یہی ہے، حضرت امام بخاری ؒ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں اور اپنی کتاب صحیح بخاری شریف میں اسی کو ترجیح دیتے ہیں، ان کی دلیل ایک یہ روایت بھی ہے کہ حضرت رافع بن خدیج ؓ نے وصیت کی کہ فزاریہ نے جس چیز پر اپنے دروازے بند کر رکھے ہوں وہ نہ کھولے جائیں، حضرت امام بخاری ؒ نے پھر فرمایا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں بہ سبب وارثوں کے ساتھ بدگمانی کے اسکا یہ اقرار جائز نہیں، لیکن میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے تو فرمایا ہے بدگمانی سے بچو بدگمانی تو سب سے زیادہ جھوٹ ہے، قرآن کریم میں فرمان اللہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ جس کی جو امانت ہو وہ پہنچا دو ، اس وارث اور غیر وارث کی کوئی تخصیص نہیں، یہ یاد رہے کہ یہ اختلاف اس وقت ہے جب اقرار فی الواقع صحیح ہو اور نفس الامر کے مطابق ہو اور اگر صرف حیلہ سازی ہو اور بعض وارثوں کو زیادہ دینے اور بعض کو کم پہنچانے کے لئے ایک بہانہ بنا لیا ہو تو بالاجماع اسے پورا کرنا حرام ہے اور اس آیت کے صاف الفاظ بھی اس کی حرمت کا فتویٰ دیتے ہیں (اقرار فی الواقع صحیح ہونے کی صورت میں اس کا پورا کرنا ضروری ہے جیسا کہ دوسری جماعت کا قول ہے اور جیسا کہ حضرت امام بخاری ؒ کا مذہب ہے۔ مترجم) پھر فرمایا یہ اللہ عزوجل احکام ہیں اللہ عظیم و اعلیٰ علم و حلم والا ہے۔

نافرمانوں کا حشر اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے آگے نکل جائے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا جس میں ہمیشہ رہے گا ایسوں کے لئے اہانت کرنے والا عذاب ہے، یعنی یہ فرائض اور یہ مقدار جسے اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے اور میت کے وارثوں کو ان کی قرابت کی نزدیگی اور ان کی حاجت کے مطابق جتنا جسے دلوایا ہے یہ سب اللہ ذوالکرم کی حدود ہیں تم ان حدوں کو نہ توڑو نہ اس سے آگے بڑھو۔ جو شخص اللہ عزوجل کے ان احکام کو مان لے، کوئی حیلہ حوالہ کر کے کسی وارث کو کم بیش دلوانے کی کوشش نہ کرے حکم الہ اور فریضہ الہ جوں کا توں بجا لائے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اسے ہمیشہ لینے والی نہروں کی جنت میں داخل کرے گا، یہ کامیاب نصیب ور اور مقصد کو پہنچنے والا اور مراد کو پانے والا ہوگا، اور جو اللہ کے کسی حکم کو بدل دے کسی وارث کے ورثے کو کم و بیش کر دے رضائے الٰہی کو پیش نظر نہ رکھے بلکہ اس کے حکم کو رد کر دے اور اس کے خلاف عمل کرے وہ اللہ کی تقسیم کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا اور اس کے حکم کو عدل نہیں سمجھتا تو ایسا شخص ہمیشہ رہنے والی رسوائی اور اہانت والے درد ناک اور ہیبت ناک عذابوں میں مبتلا رہے گا، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک شخص ستر سال تک نیکی کے عمل کرتا رہتا ہے پھر وصیت کے وقت ظلم و ستم کرتا ہے اس کا خاتمہ برے عمل پر ہوتا ہے اور وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ایک شخص برائی کا عمل ستر سال تک کرتا رہتا ہے پھر اپنی وصیت میں عدل کرتا ہے اور خاتمہ اس کا بہتر ہوجاتا ہے تو جنت میں داخل جاتا ہے، پھر اس حدیث کے راوی حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں اس آیت کو پڑھو آیت (تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ ۭ وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ يُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَا ۭ وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ 13؀ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيْھَا ۠ وَلَهٗ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ 14؀) 4۔ النسآء :1314) سے عذاب (مہین) تک۔ سنن ابی داؤد کے باب الاضرار فی الوصیتہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک مرد یا عورت اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ساٹھ سال تک لگے رہے ہیں پھر موت کے وقت وصیت میں کوئی کمی بیشی کر جاتے ہیں تو ان کے لئے جہنم واجب ہوجاتی ہے پھر حضرت ابوہریرہ نے آیت (من بعد وصیتہ) سے آخر آیت تک پڑھی ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی اسے غریب کہتے ہیں، مسند احمد میں یہ حدیث تمام و کمال کے ساتھ موجود ہے۔

نافرمانوں کا حشر اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے آگے نکل جائے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا جس میں ہمیشہ رہے گا ایسوں کے لئے اہانت کرنے والا عذاب ہے، یعنی یہ فرائض اور یہ مقدار جسے اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے اور میت کے وارثوں کو ان کی قرابت کی نزدیگی اور ان کی حاجت کے مطابق جتنا جسے دلوایا ہے یہ سب اللہ ذوالکرم کی حدود ہیں تم ان حدوں کو نہ توڑو نہ اس سے آگے بڑھو۔ جو شخص اللہ عزوجل کے ان احکام کو مان لے، کوئی حیلہ حوالہ کر کے کسی وارث کو کم بیش دلوانے کی کوشش نہ کرے حکم الہ اور فریضہ الہ جوں کا توں بجا لائے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اسے ہمیشہ لینے والی نہروں کی جنت میں داخل کرے گا، یہ کامیاب نصیب ور اور مقصد کو پہنچنے والا اور مراد کو پانے والا ہوگا، اور جو اللہ کے کسی حکم کو بدل دے کسی وارث کے ورثے کو کم و بیش کر دے رضائے الٰہی کو پیش نظر نہ رکھے بلکہ اس کے حکم کو رد کر دے اور اس کے خلاف عمل کرے وہ اللہ کی تقسیم کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا اور اس کے حکم کو عدل نہیں سمجھتا تو ایسا شخص ہمیشہ رہنے والی رسوائی اور اہانت والے درد ناک اور ہیبت ناک عذابوں میں مبتلا رہے گا، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک شخص ستر سال تک نیکی کے عمل کرتا رہتا ہے پھر وصیت کے وقت ظلم و ستم کرتا ہے اس کا خاتمہ برے عمل پر ہوتا ہے اور وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ایک شخص برائی کا عمل ستر سال تک کرتا رہتا ہے پھر اپنی وصیت میں عدل کرتا ہے اور خاتمہ اس کا بہتر ہوجاتا ہے تو جنت میں داخل جاتا ہے، پھر اس حدیث کے راوی حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں اس آیت کو پڑھو آیت (تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ ۭ وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ يُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَا ۭ وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ 13؀ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيْھَا ۠ وَلَهٗ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ 14؀) 4۔ النسآء :1314) سے عذاب (مہین) تک۔ سنن ابی داؤد کے باب الاضرار فی الوصیتہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک مرد یا عورت اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ساٹھ سال تک لگے رہے ہیں پھر موت کے وقت وصیت میں کوئی کمی بیشی کر جاتے ہیں تو ان کے لئے جہنم واجب ہوجاتی ہے پھر حضرت ابوہریرہ نے آیت (من بعد وصیتہ) سے آخر آیت تک پڑھی ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی اسے غریب کہتے ہیں، مسند احمد میں یہ حدیث تمام و کمال کے ساتھ موجود ہے۔

سیاہ کار عورت اور اس کی سزا ابتدائے اسلام میں یہ حکم تھا کہ جب عادل گواہوں کی سچی گواہی سے کسی عورت کی سیاہ کاری ثابت ہوجائے تو اسے گھر سے باہر نہ نکلنے دیا جائے گھر میں ہی قید کردیا جائے اور جنم قید یعنی موت سے پہلے اسے چھوڑا نہ جائے، اس فیصلہ کے بعد یہ اور بات ہے کہ اللہ ان کے لئے کوئی اور راستہ پیدا کر دے، پھر جب دوسری صورت کی سزا تجویز ہوئی تو وہ منسوخ ہوگئی اور یہ حکم بھی منسوخ ہوا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جب تک سورة نور کی آیت نہیں اتری تھی زنا کار عورت کے لئے یہی حکم رہا پھر اس آیت میں شادی شدہ کو رجم کرنے یعنی پتھر مار مار کر مار ڈالنے اور بےشادی شدہ کو کوڑے مارنے کا حکم اترا، حضرت عکرمہ، حضرت سعید بن جبیر، حضرت حسن، حضرت عطاء خرسانی ٫ حضرت ابو صالح، حضرت قتادہ، حضرت زید بن اسلم اور حضرت ضحاک کا بھی یہی قول ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے، حضرت عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر جب وحی اترتی تو آپ پر اس کا بڑا اثر ہوتا اور تکلیف محسوس ہوتی اور چہرے کا رنگ بدل جاتا پس اللہ تعالیٰ نے ایک دن اپنے نبی پر وحی نازل فرمائی کیفیت وحی سے نکلے تو آپ نے فرمایا مجھ سے حکم الٰہی لو اللہ تعالیٰ نے سیاہ کار عورتوں کے لئے راستہ نکال دیا ہے اگر شادی شدہ عورت یا شادی شدہ مرد سے اس جرم کا ارتکاب ہو تو ایک سو کوڑے اور پتھروں سے مار ڈالنا اور غیر شادی شدہ ہوں تو ایک سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی (مسلم وغیرہ) ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث الفاظ کچھ تبدیلی کے ساتھ سے مروی ہے، امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں، اسی طرح ابو داؤد میں بھی، ابن مردویہ کی غریبف حدیث میں کنوارے اور بیا ہے ہوئے کے حکم کے ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ دونوں اگر بوڑھے ہوں تو انہیں رجم کردیا جائے لیکن یہ حدیث غریب ہے، طبرانی میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا سورة نساء کے اترنے کے بعد اب روک رکھنے کا یعنی عورتوں کو گھروں میں قاید رکھنے کا حکم نہیں رہا، امام احمد کا مذہب اس حدیث کے مطابق یہی ہے کہ زانی شادی شدہ کو کوڑے بھی لگائے جائیں گے اور رجم بھی کیا جائے گا اور جمہور کہتے ہیں کوڑے نہیں لگیں گے صرف رجم کیا جائے گا اس لئے کہ نبی ﷺ نے حضرت ماعز ؓ کو اور غامدیہ عورت کو رجم کیا لیکن کوڑے نہیں مارے، اسی طرح دو یہودیوں کو بھی آپ نے رجم کا حکم دیا اور رجم سے پہلے بھی انہیں کوڑے نہیں لگوائے، پھر جمہور کے اس قول کے مطابق معلوم ہوا کہ انہیں کوڑے لگانے کا حکم منسوخ ہے واللہ اعلم۔ پھر فرمایا اس بےحیائی کے کام کو دو مرد اگر آپس میں کریں انہیں ایذاء پہنچاؤ یعنی برا بھلا کہہ کر شرم وغیرہ دلا کر جوتیاں لگا کر، یہ حکم بھی اسی طرح پر رہا یہاں تک کہ اسے بھی اللہ تعالیٰ نے کوڑے اور رجم سے منسوخ فرمایا، حضرت عکرمہ عطاء حسن عبداللہ بن کثیر فرماتے ہیں اس سے مراد بھی مرد و عورت ہیں، سدی فرماتے ہیں مراد وہ نوجوان مرد ہیں جو شادی شدہ نہ ہوں حضرت مجاہد فرماتے ہیں لواطت کے بارے میں یہ آیت ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جسے تم لوطی فعل کرتے دیکھو تو فاعل مفعول دونوں کو قتل کر ڈالو، ہاں اگر یہ دونوں باز آجائیں اپنی بدکاری سے توبہ کریں اپنے اعمال کی اصلاح کرلیں اور ٹھیک ٹھاک ہوجائیں تو اب انکے ساتھ درشت کلامی اور سختی سے پیش نہ آؤ، اس لئے کہ گناہ سے توبہ کرلینے والا مثل گناہ نہ کرنے والے کے ہے۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور درگزر کرنے والا ہے، بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر کسی کی لونڈی بدکاری کرے تو اس کا مالک اسے حد لگا دے اور ڈانٹ ڈپٹ نہ کرے، یعنی حد لگ جانے کے بعد پھر اسے عار نہ دلایا کرے کیونکہ حد کفارہ ہے۔

سیاہ کار عورت اور اس کی سزا ابتدائے اسلام میں یہ حکم تھا کہ جب عادل گواہوں کی سچی گواہی سے کسی عورت کی سیاہ کاری ثابت ہوجائے تو اسے گھر سے باہر نہ نکلنے دیا جائے گھر میں ہی قید کردیا جائے اور جنم قید یعنی موت سے پہلے اسے چھوڑا نہ جائے، اس فیصلہ کے بعد یہ اور بات ہے کہ اللہ ان کے لئے کوئی اور راستہ پیدا کر دے، پھر جب دوسری صورت کی سزا تجویز ہوئی تو وہ منسوخ ہوگئی اور یہ حکم بھی منسوخ ہوا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جب تک سورة نور کی آیت نہیں اتری تھی زنا کار عورت کے لئے یہی حکم رہا پھر اس آیت میں شادی شدہ کو رجم کرنے یعنی پتھر مار مار کر مار ڈالنے اور بےشادی شدہ کو کوڑے مارنے کا حکم اترا، حضرت عکرمہ، حضرت سعید بن جبیر، حضرت حسن، حضرت عطاء خرسانی ٫ حضرت ابو صالح، حضرت قتادہ، حضرت زید بن اسلم اور حضرت ضحاک کا بھی یہی قول ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے، حضرت عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر جب وحی اترتی تو آپ پر اس کا بڑا اثر ہوتا اور تکلیف محسوس ہوتی اور چہرے کا رنگ بدل جاتا پس اللہ تعالیٰ نے ایک دن اپنے نبی پر وحی نازل فرمائی کیفیت وحی سے نکلے تو آپ نے فرمایا مجھ سے حکم الٰہی لو اللہ تعالیٰ نے سیاہ کار عورتوں کے لئے راستہ نکال دیا ہے اگر شادی شدہ عورت یا شادی شدہ مرد سے اس جرم کا ارتکاب ہو تو ایک سو کوڑے اور پتھروں سے مار ڈالنا اور غیر شادی شدہ ہوں تو ایک سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی (مسلم وغیرہ) ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث الفاظ کچھ تبدیلی کے ساتھ سے مروی ہے، امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں، اسی طرح ابو داؤد میں بھی، ابن مردویہ کی غریبف حدیث میں کنوارے اور بیا ہے ہوئے کے حکم کے ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ دونوں اگر بوڑھے ہوں تو انہیں رجم کردیا جائے لیکن یہ حدیث غریب ہے، طبرانی میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا سورة نساء کے اترنے کے بعد اب روک رکھنے کا یعنی عورتوں کو گھروں میں قاید رکھنے کا حکم نہیں رہا، امام احمد کا مذہب اس حدیث کے مطابق یہی ہے کہ زانی شادی شدہ کو کوڑے بھی لگائے جائیں گے اور رجم بھی کیا جائے گا اور جمہور کہتے ہیں کوڑے نہیں لگیں گے صرف رجم کیا جائے گا اس لئے کہ نبی ﷺ نے حضرت ماعز ؓ کو اور غامدیہ عورت کو رجم کیا لیکن کوڑے نہیں مارے، اسی طرح دو یہودیوں کو بھی آپ نے رجم کا حکم دیا اور رجم سے پہلے بھی انہیں کوڑے نہیں لگوائے، پھر جمہور کے اس قول کے مطابق معلوم ہوا کہ انہیں کوڑے لگانے کا حکم منسوخ ہے واللہ اعلم۔ پھر فرمایا اس بےحیائی کے کام کو دو مرد اگر آپس میں کریں انہیں ایذاء پہنچاؤ یعنی برا بھلا کہہ کر شرم وغیرہ دلا کر جوتیاں لگا کر، یہ حکم بھی اسی طرح پر رہا یہاں تک کہ اسے بھی اللہ تعالیٰ نے کوڑے اور رجم سے منسوخ فرمایا، حضرت عکرمہ عطاء حسن عبداللہ بن کثیر فرماتے ہیں اس سے مراد بھی مرد و عورت ہیں، سدی فرماتے ہیں مراد وہ نوجوان مرد ہیں جو شادی شدہ نہ ہوں حضرت مجاہد فرماتے ہیں لواطت کے بارے میں یہ آیت ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جسے تم لوطی فعل کرتے دیکھو تو فاعل مفعول دونوں کو قتل کر ڈالو، ہاں اگر یہ دونوں باز آجائیں اپنی بدکاری سے توبہ کریں اپنے اعمال کی اصلاح کرلیں اور ٹھیک ٹھاک ہوجائیں تو اب انکے ساتھ درشت کلامی اور سختی سے پیش نہ آؤ، اس لئے کہ گناہ سے توبہ کرلینے والا مثل گناہ نہ کرنے والے کے ہے۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور درگزر کرنے والا ہے، بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر کسی کی لونڈی بدکاری کرے تو اس کا مالک اسے حد لگا دے اور ڈانٹ ڈپٹ نہ کرے، یعنی حد لگ جانے کے بعد پھر اسے عار نہ دلایا کرے کیونکہ حد کفارہ ہے۔

عالم نزع سے پہلے توبہ ؟ مطلب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے ان بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو ناواقفیت کی وجہ سے کوئی برا کام کر بیٹھیں پھر توبہ کرلیں گو یہ توبہ فرشتہ موت کو دیکھ لینے کے بعد عالم نزع سے پہلے ہو، حضرت مجاہد وغیرہ فرماتے ہیں جو بھی قصداً یا غلطی سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے وہ جاہل ہے جب تک کہ اس سے باز نہ آجائے۔ ابو العالیہ فرماتے ہیں صحابہ کرام فرمایا کرتے تھے کہ بندہ جو گناہ کرے وہ جہالت ہے، حضرت قتادہ بھی صحابہ کے مجمع سے اس طرح کی روایت کرتے ہیں عطاء اور حضرت ابن عباس سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ توبہ جلدی کرلینے کی تفسیر میں منقول ہے کہ ملک الموت کو دیکھ لینے سے پہلے، عالم سکرات کے قریب مراد ہے، اپنی صحت میں توبہ کر لینی چاہئے، غر غرے کے وقت سے پہلے کی توبہ قبول ہے، حضرت عکرمہ فرماتے ہیں ساری دنیا قریب ہی ہے، اس کے متعلق حدیثیں سنئے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جب تک سانسوں کا ٹوٹنا شروع نہ ہو، (ترمذی) جو بھی مومن بندہ اپنی موت سے مہینہ بھر پہلے توبہ کرلے اس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتا ہے یہاں تک کہ اس کے بعد بھی بلکہ موت سے ایک دن پہلے تک بھی بلکہ ایک سانس پہلے بھی جو بھی اخلاص اور سچائی کے ساتھ اپنے رب کی طرف جھکے اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے، حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں جو اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جو مہینہ بھر پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے اور جو ہفتہ بھر پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے اور جو ایک دن پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے، یہ سن کر حضرت ایوب نے یہ آیت پڑھی تو آپ نے فرمایا وہی کہتا ہوں جو رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، مسند احمد میں ہے کہ چار صحابی جمع ہوئے ان میں سے ایک نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے جو شخص اپنی موت سے ایک دن پہلے بھی توبہ کرلے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، دوسرے نے پوچھا کیا سچ مچ تم نے حضور ﷺ سے ایسے ہی سنا ہے ؟ اس نے کہا ہاں تو دوسرے نے کہا تم نے یہ سنا ہے ؟ اس نے کہا ہاں، اس نے کہا میں نے تو حضور ﷺ سے یہاں تک سنا ہے کہ جب تک اس کے نرخرے میں روح نہ آجائے توبہ کے دروازے اس کے لئے بھی کھلے رہتے ہیں، ابن مردویہ میں مروی ہے کہ جب تک جان نکلتے ہوئے گلے سے نکلنے والی آواز شروع نہ ہو تب تک توبہ قبول ہے، کئی ایک مرسل احادیث میں بھی یہ مضمون ہے، حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب ابلیس پر لعنت نازل فرمائی تو اس نے مہلت طلب کی اور کہا تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم کہ ابن آدم کے جسم میں جب تک روح رہے گی میں اس کے دل سے نہ نکلوں گا، اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا مجھے اپنی عزت اور اپنے جلال کی قسم کہ میں بھی جب تک اس میں روح رہے گی اس کی توبہ قبول کروں گا، ایک مرفوع حدیث میں بھی اس کے قریب قریب مروی ہے پس ان تمام احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک بندہ زندہ ہے اور اسے اپنی حیاتی کی امید ہے تب تک وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور اس پر رجوع کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس علیم و حکیم ہے، ہاں جب زندگی سے مایوس ہوجائے فرشتوں کو دیکھ لے اور روح بدن سے نکل کر حلق تک پہنچ جائے سینے میں گھٹن لگے حلق میں اٹکے سانسوں سے غرغرہ شروع ہو تو اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اسی لئے اس کے بعد فرمایا کہ مرتے دم تک جو گناہوں پر اڑا رہے اور موت دیکھ کر کہنے لگے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں تو ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی، جیسے اور جگہ ہے آیت (فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ) 40۔ غافر :84) (دو آیتوں تک) مطلب یہ ہے کہ ہمارے عذابوں کا معائنہ کرلینے کے بعد ایمان کا اقرار کرنا کوئی نفع نہیں دیتا اور جگہ ہے آیت (يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِيْٓ اِيْمَانِهَا خَيْرًا ۭ قُلِ انْتَظِرُوْٓا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ) 6۔ الانعام :158) مطلب یہ ہے کہ جب مخلوق سورج کو مغرب کی طرف سے چڑھتے ہوئے دیکھ لے گی اس وقت جو ایمان لائے یا نیک عمل کرے اسے نہ اس کا عمل نفع دے گا نہ اس کا ایمان۔ پھر فرماتا ہے کہ کفر و شرک پر مرنے والے کو بھی ندامت و توبہ کوئی فائدہ نہ دے گی نہ ہی اس فدیہ اور بدلہ قبول کیا جائے گا چاہے زمین بھر کر سونا دینا چاہئے حضرت ابن عباس وغیرہ فرماتے ہیں یہ آیت اہل شرک کے بارے میں نازل ہوئی ہے، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے جب تک پردہ نہ پڑجائے پوچھا گیا پردہ پڑنے سے کیا مطلب ہے ؟ فرمایا شرک کی حالت میں جان نکل جانا۔ ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے سخت درد ناک المناک ہمیشہ رہنے والے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔

عالم نزع سے پہلے توبہ ؟ مطلب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے ان بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو ناواقفیت کی وجہ سے کوئی برا کام کر بیٹھیں پھر توبہ کرلیں گو یہ توبہ فرشتہ موت کو دیکھ لینے کے بعد عالم نزع سے پہلے ہو، حضرت مجاہد وغیرہ فرماتے ہیں جو بھی قصداً یا غلطی سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے وہ جاہل ہے جب تک کہ اس سے باز نہ آجائے۔ ابو العالیہ فرماتے ہیں صحابہ کرام فرمایا کرتے تھے کہ بندہ جو گناہ کرے وہ جہالت ہے، حضرت قتادہ بھی صحابہ کے مجمع سے اس طرح کی روایت کرتے ہیں عطاء اور حضرت ابن عباس سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ توبہ جلدی کرلینے کی تفسیر میں منقول ہے کہ ملک الموت کو دیکھ لینے سے پہلے، عالم سکرات کے قریب مراد ہے، اپنی صحت میں توبہ کر لینی چاہئے، غر غرے کے وقت سے پہلے کی توبہ قبول ہے، حضرت عکرمہ فرماتے ہیں ساری دنیا قریب ہی ہے، اس کے متعلق حدیثیں سنئے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جب تک سانسوں کا ٹوٹنا شروع نہ ہو، (ترمذی) جو بھی مومن بندہ اپنی موت سے مہینہ بھر پہلے توبہ کرلے اس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتا ہے یہاں تک کہ اس کے بعد بھی بلکہ موت سے ایک دن پہلے تک بھی بلکہ ایک سانس پہلے بھی جو بھی اخلاص اور سچائی کے ساتھ اپنے رب کی طرف جھکے اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے، حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں جو اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جو مہینہ بھر پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے اور جو ہفتہ بھر پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے اور جو ایک دن پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے، یہ سن کر حضرت ایوب نے یہ آیت پڑھی تو آپ نے فرمایا وہی کہتا ہوں جو رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، مسند احمد میں ہے کہ چار صحابی جمع ہوئے ان میں سے ایک نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے جو شخص اپنی موت سے ایک دن پہلے بھی توبہ کرلے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، دوسرے نے پوچھا کیا سچ مچ تم نے حضور ﷺ سے ایسے ہی سنا ہے ؟ اس نے کہا ہاں تو دوسرے نے کہا تم نے یہ سنا ہے ؟ اس نے کہا ہاں، اس نے کہا میں نے تو حضور ﷺ سے یہاں تک سنا ہے کہ جب تک اس کے نرخرے میں روح نہ آجائے توبہ کے دروازے اس کے لئے بھی کھلے رہتے ہیں، ابن مردویہ میں مروی ہے کہ جب تک جان نکلتے ہوئے گلے سے نکلنے والی آواز شروع نہ ہو تب تک توبہ قبول ہے، کئی ایک مرسل احادیث میں بھی یہ مضمون ہے، حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب ابلیس پر لعنت نازل فرمائی تو اس نے مہلت طلب کی اور کہا تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم کہ ابن آدم کے جسم میں جب تک روح رہے گی میں اس کے دل سے نہ نکلوں گا، اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا مجھے اپنی عزت اور اپنے جلال کی قسم کہ میں بھی جب تک اس میں روح رہے گی اس کی توبہ قبول کروں گا، ایک مرفوع حدیث میں بھی اس کے قریب قریب مروی ہے پس ان تمام احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک بندہ زندہ ہے اور اسے اپنی حیاتی کی امید ہے تب تک وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور اس پر رجوع کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس علیم و حکیم ہے، ہاں جب زندگی سے مایوس ہوجائے فرشتوں کو دیکھ لے اور روح بدن سے نکل کر حلق تک پہنچ جائے سینے میں گھٹن لگے حلق میں اٹکے سانسوں سے غرغرہ شروع ہو تو اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اسی لئے اس کے بعد فرمایا کہ مرتے دم تک جو گناہوں پر اڑا رہے اور موت دیکھ کر کہنے لگے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں تو ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی، جیسے اور جگہ ہے آیت (فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ) 40۔ غافر :84) (دو آیتوں تک) مطلب یہ ہے کہ ہمارے عذابوں کا معائنہ کرلینے کے بعد ایمان کا اقرار کرنا کوئی نفع نہیں دیتا اور جگہ ہے آیت (يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِيْٓ اِيْمَانِهَا خَيْرًا ۭ قُلِ انْتَظِرُوْٓا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ) 6۔ الانعام :158) مطلب یہ ہے کہ جب مخلوق سورج کو مغرب کی طرف سے چڑھتے ہوئے دیکھ لے گی اس وقت جو ایمان لائے یا نیک عمل کرے اسے نہ اس کا عمل نفع دے گا نہ اس کا ایمان۔ پھر فرماتا ہے کہ کفر و شرک پر مرنے والے کو بھی ندامت و توبہ کوئی فائدہ نہ دے گی نہ ہی اس فدیہ اور بدلہ قبول کیا جائے گا چاہے زمین بھر کر سونا دینا چاہئے حضرت ابن عباس وغیرہ فرماتے ہیں یہ آیت اہل شرک کے بارے میں نازل ہوئی ہے، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے جب تک پردہ نہ پڑجائے پوچھا گیا پردہ پڑنے سے کیا مطلب ہے ؟ فرمایا شرک کی حالت میں جان نکل جانا۔ ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے سخت درد ناک المناک ہمیشہ رہنے والے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔

عورت پر ظلم کا خاتمہ صحیح بخاری میں ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے حقدار سمجھے جاتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر وہ چاہتے تو دوسرے کسی کے نکاح میں دے دیتے اگر چاہتے تو نکاح ہی نہ کرنے دیتے میکے والوں سے زیادہ اس عورت کے حقدار سسرال والے ہی گنے جاتے تھے جاہلیت کی اس رسم کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی، دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کو مجبور کرتے کہ وہ مہر کے حق سے دست بردار ہوجائے یا یونہی بےنکاحی بیٹھی رہے، یہ بھی مروی ہے کہ اس عورت کا خاوند مرتے ہی کوئی بھی آ کر اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا اور وہی اس کا مختار سمجھا جاتا، تو روایت میں ہے کہ یہ کپڑا ڈالنے والا اسے حسین پاتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر یہ بدصورت ہوتی تو اسے یونہی روکے رکھتا یہاں تک کہ مرجائے پھر اس کے مال کا وارث بنتا۔ یہ بھی مروی ہے کہ مرنے والے کا کوئی گہرا دوست کپڑا ڈال دیتا پھر اگر وہ عورت کچھ فدیہ اور بدلہ دے تو وہ اسے نکاح کرنے کی اجازت دیتا ورنہ یونہی مرجاتی حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں اہل مدینہ کا یہ دستور تھا کہ وارث اس عورت کے بھی وارث بن جاتے غرض یہ لوگ عورتوں کے ساتھ بڑے بری طرح پیش آتے تھے یہاں تک کہ طلاق دیتے وقت بھی شرط کرلیتے تھے کہ جہاں میں چاہوں تیرا نکاح ہو اس طرح کی قید و بند سے رہائی پانے کی پھر یہ صورت ہوتی کہ وہ عورت کچھ دے کر جان چھڑاتی، اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس سے منع فرما دیا، ابن مردویہ میں ہے کہ جب ابو قیس بن اسلت کا انتقال ہوا تو ان کے بیٹے نے ان کی بیوی سے نکاح کرنا چاہا جیسے کہ جاہلیت میں یہ دستور تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ کسی بچے کی سنبھال پر اسے لگا دیتے تھے حضرت مجاہد فرماتے ہیں جب کوئی مرجاتا تو اس کا لڑکا اس کی بیوی کا زیادہ حقدار سمجھا جاتا اگر چاہتا خود اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرلیتا اور اگر چاہتا دوسرے کے نکاح میں دے دیتا مثلاً بھائی کے بھتیجے یا جس کو چاہے، حضرت عکرمہ کی روایت میں ہے کہ ابو قیس کی جس بیوی کا نام کبینہ تھا ؓ اس نے اس صورت کی خبر حضور ﷺ کو دی کہ یہ لوگ نہ مجھے وارثوں میں شمار کر کے میرے خاوند کا ورثہ دیتے ہیں نہ مجھے چھوڑتے ہیں کہ میں اور کہیں اپنا نکاح کرلوں اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ایک روایت میں ہے کہ کپڑا ڈالنے کی رسم سے پہلے ہی اگر کوئی عورت بھاگ کھڑی ہو اور اپنے میکے آجائے تو وہ چھوٹ جاتی تھی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں جو یتیم بچی ان کی ولایت میں ہوتی اسے یہ روکے رکھتے تھے اس امید پر کہ جب ہماری بیوی مرجائے گی ہم اس سے نکاح کرلیں گے یا اپنے لڑکے سے اس کا نکاح کرا دیں گے، ان سب اقوال سے معلوم ہوا کہ ان تمام صورتوں کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ممانعت کردی اور عورتوں کی جان اس مصیبت سے چھڑا دی واللہ اعلم۔ ارشاد ہے عورتوں کی بود و باش میں انہیں تنگ کر کے تکلیف دے دے کر مجبور نہ کرو کہ وہ اپنا سارا مہر چھوڑ دیں یا اس میں سے کچھ چھوڑ دیں یا اپنے کسی اور واجبی حق وغیرہ سے دست بردار ہونے پر آمادہ ہوجائیں کیونکہ انہیں ستایا اور مجبور کیا جا رہا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ عورت ناپسند ہے دل نہیں ملا چھوڑ دینا چاہتا ہے تو اس صورت میں حق مہر کے علاوہ بھی وغیرہ تمام حقوق دینے پڑیں گے اس صورت حال سے بچنے کے لئے اسے ستانا یا طرح طرح سے تنگ کرنا تاکہ وہ خود اپنے حقوق چھوڑ کر چلے جانے پر آمادہ ہوجائے ایسا رویہ اختیار کرنے سے قرآن پاک نے مسلمانوں کو روک دیا ابن سلمانی فرماتے ہیں ان دونوں آیتوں میں سے پہلے آیت امر جاہلیت کو ختم کرنے اور دوسری امر اسلام کی اصلاح کے لئے نازل ہوئی، ابن مبارک بھی یہی فرماتے ہیں۔ مگر اس صورت میں کہ ان سے کھلی بےحیائی کا کام صادر ہوجائے، اس سے مراد بقول اکثر مفسرین صحابہ تابعین وغیرہ زنا کاری ہے، یعنی اس صورت میں جائز ہے کہ اس سے مہر لوٹا لینا چاہئے اور اسے تنگ کرے تاکہ خلع پر رضامند ہو، جیسے سورة بقرہ کی آیت میں ہے آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَاۗءَ كَرْهًا ۭوَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ) 4۔ النسآء :19) یعنی تمہیں حلال نہیں کہ تم انہیں دیئے ہوئے میں سے کچھ بھی لے لو مگر اس حالت میں دونوں کو اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکنے کا خوف ہو۔ بعض بزرگوں نے فرمایا ہے آیت (فاحشتہ مبینتہ) سے مراد خاوند کے خلاف کام کرنا اس کی نافرمانی کرنا بد زبانی کج خلقی کرنا حقوق زوجیت اچھی طرح ادا نہ کرنا وغیرہ ہے، امام ابن جریر فرماتے ہیں آیت کے الفاظ عام ہیں زنا کو اور تمام مذکورہ عوامل بھی شامل ہیں یعنی ان تمام صورتوں میں خاوند کو مباح ہے کہ اسے تنگ کرے تاکہ وہ اپنا کل حق یا تھوڑا حق چھوڑ دے اور پھر یہ اسے الگ کر دے امام صاحب کا یہ فرمان بہت ہی مناسب ہے واللہ اعلم، یہ روایت بھی پہلے گزر چکی ہے کہ یہاں اس آیت کے اترنے کا سبب وہی جاہلیت کی رسم ہے جس سے اللہ نے منع فرما دیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا بیان جاہلیت کی رسم کو اسلام میں سے خارج کرنے کے لئے ہوا ہے، ابن زید فرماتے ہیں مکہ کے قریش میں یہ رواج تھا کہ کسی شخص نے کسی شریف عورت سے نکاح کیا موافقت نہ ہوئی تو اسے طلاق دے دی لیکن یہ شرط کرلیتا تھا کہ بغیر اس کی اجازت کے یہ دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی اس بات پر گواہ مقرر ہوجاتے اور اقرار نامہ لکھ لیا جاتا اب اگر کہیں سے پیغام آئے اور وہ عورت اراضی ہو تو یہ کہتا مجھے اتنی رقم دے تو میں تجھے نکاح کی اجازت دوں گا اگر وہ ادا کردیتی تو تو خیر ورنہ یوں نہ اسے قید رکھتا اور دوسرا نکاح نہ کرنے دیتا اس کی ممانعت اس آیت میں نازل ہوئی، بقول مجاہد ؒ یہ حکم اور سورة بقرہ کی آیت کا حکم دونوں ایک ہی ہیں۔ پھر فرمایا عورتوں کے ساتھ خوش سلوکی کا رویہ رکھو ان کے ساتھ اچھا برتاؤ برتو، نرم بات کہو نیک سلوک کرو اپنی حالت بھی اپنی طاقت کے مطابق اچھی رکھو، جیسے تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے لئے بنی سنوری ہوئی اچھی حالت میں رہے تم خود اپنی حالت بھی اچھی رکھو جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ بالْمَعْرُوْفِ ۠ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۭ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ) 2۔ البقرۃ :228) جیسے تمہارے حقوق ان پر ہیں ان کے حقوق بھی تم پر ہیں۔ بہترین زوج محترم رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کرنے والا ہو میں اپنی بیویوں سے بہت اچھا رویہ رکھتا ہوں، نبی کریم ﷺ اپنی بیویوں کے ساتھ بہت لطف و خوشی بہت نرم اخلاقی اور خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے، انہیں خوش رکھتے تھے ان سے ہنسی دل لگی کی باتیں کیا کرتے تھے، ان کے دل اپنی مٹھی میں رکھتے تھے، انہیں اچھی طرح کھانے پینے کو دیتے تھے کشادہ دلی کے ساتھ ان پر خرچ کرتے تھے ایسی خوش طبعی کی باتیں بیان فرماتے جن سے وہ ہنس دیتیں، ایسا بھی ہوا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے ساتھ آپ نے دوڑ لگائی اس دوڑ میں عائشہ صدیقہ آگے نکل گئیں کچھ مدت بعد پھر دوڑ لگی اب کے حضرت عائشہ پیچھے رہ گئیں تو آپ نے فرمایا معاملہ برابر ہوگیا، اس سے بھی آپ کا مطلب یہ تھا کہ حضرت صدیقہ خوش رہیں ان کا دل بہلے جس بیوی صاحبہ کے ہاں آپ کو رات گزارنی ہوتی وہیں آپ کی کل بیویاں جمع ہوجاتیں دو گھڑی بیٹھتیں بات چیت ہوتی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ان سب کے ساتھ ہی حضور ﷺ رات کا کھانا تناول فرماتے پھر سب اپنے اپنے گھر چلی جاتیں اور آپ وہیں آرام فرماتے جن کی باری ہوتی، اپنی بیوی صاحبہ کے ساتھ ایک ہی چادر میں سوتے کرتا نکال ڈالتے صرف تہبند بندھا ہوا ہوتا عشاء کی نماز کے بعد گھر جا کردو گھڑی ادھر ادھر کی کچھ باتیں کرتے جس سے گھر والیوں کا جی خوش ہوتا الغرض نہایت ہی محبت پیار کے ساتھ اپنی بیویوں کو آپ رکھتے تھے۔ ﷺ پس مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھی طرح راضی خوشی محبت پیار سے رہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فرماں برداری کا دوسرا نام اچھائی ہے، اس کے تفصیلی احکام کی جگہ تفسیر نہیں بلکہ اسی مضمون کی کتابیں ہیں والحمد للہ پھر فرماتا ہے کہ باوجود جی نہ چاہنے کے بھی عورتوں سے اچھی بود و باش رکھنے میں بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بھلائی عطا فرمائے، ممکن ہے نیک اولاد ہوجائے اور اس سے اللہ تعالیٰ بہت سی بھلائیاں نصیب کرے، صحیح حدیث میں ہے مومن مرد مومنہ عورت کو الگ نہ کرے اگر اس کی ایک آدھ بات سے ناراض ہوگا تو ایک آدھ خصلت اچھی بھی ہوگی۔ پھر فرماتا ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے اور اس کی جگہ دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہے تو اسے دئے ہوئے مہر میں سے کچھ بھی واپس نہ لے چاہے خزانہ کا خزانہ دیا ہوا ہو۔ حق مہر کے مسائل سورئہ آل عمران کی تفسیر میں قنطار کا پورا بیان گزر چکا ہے اس لئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہر میں بہت سارا مال دینا بھی جائز ہے، امیر المومنین حضرت عمر فاروق نے پہلے بہت لمبے چوڑے مہر سے منع فرما دیا تھا پھر اپنے قول سے رجوع کیا، جیسے کہ مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا عورتوں کے مہر باندھنے میں زیادتی نہ کرو اگر یہ دنیوی طور پر کوئی بھی چیز ہوتی یا اللہ کے نزدیک یہ تقوی کی چیز ہوتی تو تم سب سے پہلے اس پر اللہ کے رسول ﷺ عمل کرتے حضور ﷺ نے اپنی کسی بیوی کا یا کسی بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں کیا (تقریباً سوا سو روپیہ) انسان زیادہ مہر باندھ کر پھر مصیبت میں پڑجاتا ہے یہاں تک کہ رفتہ رفتہ اس کی بیوی اسے بوجھ معلوم ہونے لگتی ہے اور اس کے دل میں اس کی دشمنی بیٹھ جاتی ہے اور کہنے لگتا ہے کہ تو نے تو میرے کندھے پر مشک لٹکا دی، یہ حدیث بہت سی کتابوں میں مختلف الفاظ سے مروی ہے ایک میں ہے کہ آپ نے منبر نبوی پر کھڑے ہو کر فرمایا لوگو تم نے کیوں لمبے چوڑے مہر باندھنے شروع کر دئے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے زمانہ کے آپ کے اصحاب نے تو چار سو درہم (تقریباً سو روپیہ) مہر باندھا ہے اگر یہ تقویٰ اور کرامت کے زاد ہونے کا سبب ہوتا تو تم زیادہ حق مہر ادا کرنے میں بھی ان پر سبقت نہیں لے سکتے تھے خبردار آج سے میں نہ سنوں کہ کسی نے چار سو درہم سے زیادہ کا مہر مقرر کیا یہ فرما کر آپ نیچے اتر آئے تو ایک قریشی خاتون سامنے آئیں اور کہنے لگیں امیر المومنین کیا آپ نے چار سو درہم سے زیادہ کے حق مہر سے لوگوں کو منع فرما دیا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں کہا کیا آپ نے اللہ کا کلام جو اس نے نازل فرمایا ہے نہیں سنا ؟ کہا وہ کیا ؟ کہا سنئیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَـيْـــًٔـا ۭ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُھْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا) 4۔ النسآء :20) تم نے انہیں خزانہ دیا ہو حضرت عمر ؟ نے فرمایا اللہ مجھے معاف فرما عمر سے تو ہر شخص زیادہ سمجھدار ہے پھر واپس اسی وقت منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے فرمایا لوگو میں نے تمہیں چار سو درہم سے زیادہ کے مہر سے روک دیا تھا لیکن اب کہتا ہوں جو شخص اپنے مال میں سے مہر میں جتنا چاہے دے اپنی خوشی سے جتنا مہر مقرر کرنا چاہے کرے میں نہیں روکتا، اور ایک روایت میں اس عورت کا آیت کو اس طرح پڑھنا مروی ہے آیت (وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَـيْـــًٔـا) 4۔ النسآء :20) (من ذہب) حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرأت میں بھی اسی طرح ہے اور حضرت عمر کا یہ فرمانا بھی مروی ہے کہ ایک عورت عمر پر غالب آگئی اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا گوذی القصہ یعنی یزیدین حصین حارثی کی بیٹی ہو پھر بھی مہر اس کا زیادہ مقرر نہ کرو اور اگر تم نے ایسا کیا تو وہ زائد رقم میں بیت المال کے لئے لے لوں گا اس پر ایک دراز قد چوڑی ناک والی عورت نے کہا حضرت آپ یہ حکم نہیں دے سکتے۔ پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم اپنی بیوی کو دیا ہوا حق مہر واپس کیسے لے سکتے ہو ؟ جبکہ تم نے اس سے فائدہ اٹھایا یا ضرورت پوری کی وہ تم سے اور تم اس سے مل گئی یعنی میاں بیوی کے تعلقات بھی قائم ہوگئے، بخاری و مسلم کی اس حدیث میں ہے ایک شخص نے اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور حضور ﷺ کے سامنے پیش ہوا۔ بیوی نے بھی اپنے بےگناہ ہونے شوہر نے اپنے سچا ہونے کی قسم کھائی پھر ان دونوں کا قسمیں کھانا اور اس کے بعد آپ کا یہ فرمان کہ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ تم دونوں میں سے کون جھوٹا ہے ؟ کیا تم میں سے کوئی اب بھی توبہ کرتا ہے ؟ تین دفعہ فرمایا تو اس مرد نے کہا میں نے جو مال اس کے مہر میں دیا ہے اس کی بابت کیا فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اسی کے بدلے تو یہ تیرے لئے حلال ہوئی تھیں اب اگر تو نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے تو پھر اور ناممکن بات ہوگی اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت نفرہ نے ایک کنواری لڑکی سے نکاح کیا جب اس سے ملے تو دیکھا کہ اسے زنا کا حمل ہے حضور ﷺ سے ذکر کیا آپ نے اسے الگ کرا دیا اور مہر دلوا دیا اور عورت کو کوڑے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا جو بچہ ہوگا وہ تیرا غلام ہوگا اور مہر تو اس کی حلت کا سبب تھا (ابوداؤد) غرض آیت کا مطلب بھی یہی ہے کہ عورت اس کے بیٹے پر حرام ہوجاتی ہے اس پر اجماع ہے، حضرت ابو قیس نے ان کی بیوی سے نکاح کی خواہش کی جو ان کی سوتیلی ماں تھیں اس پر اس بیوی صاحبہ نے فرمایا بیشک تو اپنی قوم میں نیک ہے لیکن میں تو تجھے اپنا بیٹا شمار کرتی ہوں خیر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جاتی ہوں جو وہ حکم فرمائیں وہ حاضر ہوئیں اور حضور ﷺ کو ساری کیفیت بیان کی آپ نے فرمایا اپنے گھر لوٹ جاؤ پھر یہ آیت اتری کہ جس سے باپ نے نکاح کیا اس سے بیٹے کا نکاح حرام ہے، ایسے واقعات اور بھی اس وقت موجود تھے جنہیں اس ارادے سے باز رکھا گیا ایک تو یہی ابو قیس والا واقعہ ان بیوی صاحبہ کا نام ام عبید اللہ ضمرہ تھا دوسرا واقعہ خلف کا تھا ان کے گھر میں ابو طلحہ کی صاحبزادی تھیں اس کے انتقال کے بعد اس کے لڑکے صفوان نے اسے اپنے نکاح میں لانا چاہا تھا سہیلی میں لکھا ہے جاہلیت میں اس نکاح کا معمول تھا جسے باقاعدہ نکاح سمجھا جاتا تھا اور بالکل حلال گنا جاتا تھا اسی لئے یہاں بھی فرمایا گیا کہ جو پہلے گزر چکا سو گزر چکا، جیسے دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کو بیان فرما کر بھی یہی کیا گیا کنانہ بن خزیمہ نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تھا نصر اسی کے بطن سے پیدا ہوا تھا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ میری اوپر کی نسل بھی باقاعدہ نکاح سے ہی ہے نہ کہ زنا سے تو معلوم ہوا کہ یہ رسم ان میں برابر جاری تھی اور جائز تھی اور اسے نکاح شمار کرتے تھے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جاہلیت والے بھی جن جن رشتوں کو اللہ نے حرام کیا ہے، سوتیلی ماں اور دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنے کے سوا سب کو حرام ہی جانتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں ان دونوں رشتوں کو بھی حرام ٹھہرایا حضرت عطا اور حضرت قتادہ بھی یہی فرماتے ہیں یاد رہے کہ سہیلی نے کنانہ کا جو واقعہ نقل کیا ہے وہ غور طلب ہے بالکل صحیح نہیں، واللہ اعلم۔ بہر صورت یہ رشتہ امت مسلمہ پر حرام ہے اور نہایت قبیح امر ہے۔ یہاں تک کہ فرمایا یہ نہایت فحش برا کام بغض کا ہے۔ دونوں میاں بیوی میں خلوت و صحبت ہوچکی ہے پھر مہر واپس لینا کیا معنی رکھتا ہے۔ پھر فرمایا کہ عقد نکاح جو مضبوط عہد و پیمان ہے اس میں تم جکڑے جا چکے ہو، اللہ کا یہ فرمان تم سن چکے ہو کہ بساؤ تو اچھی طرح اور الگ کرو تو عمدہ طریقہ سے چناچہ حدیث میں بھی ہے کہ تم ان عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پہ لیتے ہو اور ان کو اپنے لئے اللہ تعالیٰ کا کلمہ پڑھ کر یعنی نکاح کے خطبہ تشہد سے حلال کرتے ہو، رسول اللہ ﷺ کو معراج والی رات جب بہترین انعامات عطا ہوئے، ان میں ایک یہ بھی تھا کہ آپ سے فرمایا گیا تیری امت کا کوئی خطبہ جائز نہیں جب تک وہ اس امر کی گواہی نہ دیں کہ تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے (ابن ابی حاتم)نکاح کے احکامات صحیح مسلم شریف میں حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجتہ الوداع کے خطبہ میں فرمایا تم نے عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پہ لیا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے کلمہ سے اپنے لئے حلال کیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سوتیلی ماؤں کی حرمت بیان فرماتا ہے اور ان کی تعظیم اور توقیر ظاہر کرتا ہے یہاں تک کہ باپ نے کسی عورت سے صرف نکاح کیا ابھی وہ رخصت ہو کر بھی نہیں آئی مگر طلاق ہوگئی یا باپ مرگیا وغیرہ تو بھی وہ سبب اور برا راستہ ہے اور جگہ فرما ہے آیت (وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ) 6۔ الانعام :151) یعنی کسی برائی بےحیائی اور فحش کام کے قریب بھی نہ جاؤ یا وہ بالکل ظاہر ہو خواہ پوشیدہ ہو اور فرمان ہے آیت (وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا) 17۔ الاسراء :32) زنا کے قریب نہ جاؤ یقینا وہ فحش کام اور بری راہ ہے یہاں مزید فرمایا کہ یہ کام بڑے بغض کا بھی ہے یعنی فی نفسہ بھی بڑا برا امر ہے اس سے باپ بیٹے میں عداوت پڑجاتی ہے اور دشمنی قائم ہوجاتی ہے، یہی مشاہدہ میں آیا ہے اور عموماً یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جو شخص کسی عورت سے دوسرا نکاح کرتا ہے وہ اس کے پہلے خاوند سے بغض ہی رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بیویاں امہات المومنین قرار دے گئیں اور امت پر مثل ماں کے حرام کی گئیں کیونکہ وہ نبی ﷺ کی بیویاں ہیں اور آپ مثل باپ کے ہیں، بلکہ اجماعاً ثابت ہے کہ آپ کے حق باپ دادا کے حقوق سے بھی بہت زیادہ اور بہت بڑے ہیں بلکہ آپ کی محبت خود اپنی جانوں کی محبت پر بھی مقدم ہے صلوات اللہ وسلامہ علیہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کام اللہ کے بغض کا موجب ہے اور برا راستہ ہے اب جو ایسا کام کرے وہ دین سے مرتد ہے اسے قتل کردیا جائے اور اس کا مال بیت المال میں بطور فے کے داخل کرلیا جائے، سنن اور مسند احمد میں مروی ہے کہ ایک صحابی کو رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کی طرف بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے باپ کے بعد نکاح کیا تھا کہ اسے قتل کر ڈالو اور اس کے مال پر قبضہ کرلو، حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ میرے چچا حارث بن عمیر اپنے ہاتھ میں نبی ﷺ کا دیا ہوا جھنڈا لے کر میرے پاس سے گزرے میں نے پوچھا کہ چچا حضور ﷺ نے آپ کو کہاں بھیجا ہے ؟ فرمایا اس شخص کی طرف جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا ہے مجھے حکم ہے کہ میں اس کی گردن ماروں (مسند احمد)سوتیلی ماں سے نکاح حرام ہے مسئلہ اس پر تو علماء کا اجماع ہے کہ جس عورت سے باپ نے مباشرت کرلی خواہ نکاح کر کے خواہ ملکیت میں لا کر خواہ شبہ سے وہ عورت بیٹے پر حرام ہے، ہاں اگر جماع نہ ہوا ہو تو صرف مباشرت ہوئی ہو یا وہ اعضاء دیکھے ہوں جن کا دیکھنا اجنبی ہونے کی صورت میں حلال نہ تھا تو اس میں اختلاف ہے امام احمد تو اس صورت میں بھی اس عورت کو لڑکے پر حرام بتاتے ہیں، حافظ ابن عساکر کے اس واقعہ سے بھی اس روایت کی تصدیق ہوتی ہے کہ حضرت خدیج حمصی نے جو حضرت معاویہ کے مولی تھے حضرت معاویہ کے لئے ایک لونڈی خریدی جو گورے رنگ کی اور خوبصورت تھی اسے برہنہ ان کے پاس بھیج دیا ان کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس سے اشارہ کر کے کہنے لگے اچھا نفع تھا اگر یہ ملبوس ہوتی پھر کہنے لگے اسے یزید بن معاویہ کے پاس لے جاؤ پھر کہا نہیں نہیں ٹھہرو ربیعہ بن عمرو حرسی کو میرے پاس بلا لاؤ یہ بڑے فقیہ تھے جب آئے تو حضرت معاویہ نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا کہ میں نے اس عورت کے یہ اعضاء مخصوص دیکھے ہیں، یہ برہنہ تھی۔ اب میں اسے اپنے لڑکے یزید کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں تو کیا اس کے لئے یہ حلال ہے ؟ حضرت ربیعہ نے فرمایا امیر المومنین ایسا نہ کیجئے یہ اس کے قابل نہیں رہی فرمایا تم ٹھیک کہتے ہو اچھا جاؤ عبداللہ بن مسعدہ فزاری کو بلا لاؤ وہ آئے وہ تو گندم گوں رنگ کے تھے اس سے حضرت معاویہ نے فرمایا اس لونڈی کو میں تمہیں دیتا ہوں تاکہ تمہاری اولاد سفید رنگ پیدا ہو یہ عبداللہ بن مسعدہ وہ ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ کو دیا تھا آپ نے انہیں پالا پرورش کیا پھر اللہ تعالیٰ کے نام سے آزاد کردیا پھر یہ حضرت معاویہ کے پاس چلے آئے تھے۔

عورت پر ظلم کا خاتمہ صحیح بخاری میں ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے حقدار سمجھے جاتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر وہ چاہتے تو دوسرے کسی کے نکاح میں دے دیتے اگر چاہتے تو نکاح ہی نہ کرنے دیتے میکے والوں سے زیادہ اس عورت کے حقدار سسرال والے ہی گنے جاتے تھے جاہلیت کی اس رسم کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی، دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کو مجبور کرتے کہ وہ مہر کے حق سے دست بردار ہوجائے یا یونہی بےنکاحی بیٹھی رہے، یہ بھی مروی ہے کہ اس عورت کا خاوند مرتے ہی کوئی بھی آ کر اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا اور وہی اس کا مختار سمجھا جاتا، تو روایت میں ہے کہ یہ کپڑا ڈالنے والا اسے حسین پاتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر یہ بدصورت ہوتی تو اسے یونہی روکے رکھتا یہاں تک کہ مرجائے پھر اس کے مال کا وارث بنتا۔ یہ بھی مروی ہے کہ مرنے والے کا کوئی گہرا دوست کپڑا ڈال دیتا پھر اگر وہ عورت کچھ فدیہ اور بدلہ دے تو وہ اسے نکاح کرنے کی اجازت دیتا ورنہ یونہی مرجاتی حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں اہل مدینہ کا یہ دستور تھا کہ وارث اس عورت کے بھی وارث بن جاتے غرض یہ لوگ عورتوں کے ساتھ بڑے بری طرح پیش آتے تھے یہاں تک کہ طلاق دیتے وقت بھی شرط کرلیتے تھے کہ جہاں میں چاہوں تیرا نکاح ہو اس طرح کی قید و بند سے رہائی پانے کی پھر یہ صورت ہوتی کہ وہ عورت کچھ دے کر جان چھڑاتی، اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس سے منع فرما دیا، ابن مردویہ میں ہے کہ جب ابو قیس بن اسلت کا انتقال ہوا تو ان کے بیٹے نے ان کی بیوی سے نکاح کرنا چاہا جیسے کہ جاہلیت میں یہ دستور تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ کسی بچے کی سنبھال پر اسے لگا دیتے تھے حضرت مجاہد فرماتے ہیں جب کوئی مرجاتا تو اس کا لڑکا اس کی بیوی کا زیادہ حقدار سمجھا جاتا اگر چاہتا خود اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرلیتا اور اگر چاہتا دوسرے کے نکاح میں دے دیتا مثلاً بھائی کے بھتیجے یا جس کو چاہے، حضرت عکرمہ کی روایت میں ہے کہ ابو قیس کی جس بیوی کا نام کبینہ تھا ؓ اس نے اس صورت کی خبر حضور ﷺ کو دی کہ یہ لوگ نہ مجھے وارثوں میں شمار کر کے میرے خاوند کا ورثہ دیتے ہیں نہ مجھے چھوڑتے ہیں کہ میں اور کہیں اپنا نکاح کرلوں اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ایک روایت میں ہے کہ کپڑا ڈالنے کی رسم سے پہلے ہی اگر کوئی عورت بھاگ کھڑی ہو اور اپنے میکے آجائے تو وہ چھوٹ جاتی تھی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں جو یتیم بچی ان کی ولایت میں ہوتی اسے یہ روکے رکھتے تھے اس امید پر کہ جب ہماری بیوی مرجائے گی ہم اس سے نکاح کرلیں گے یا اپنے لڑکے سے اس کا نکاح کرا دیں گے، ان سب اقوال سے معلوم ہوا کہ ان تمام صورتوں کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ممانعت کردی اور عورتوں کی جان اس مصیبت سے چھڑا دی واللہ اعلم۔ ارشاد ہے عورتوں کی بود و باش میں انہیں تنگ کر کے تکلیف دے دے کر مجبور نہ کرو کہ وہ اپنا سارا مہر چھوڑ دیں یا اس میں سے کچھ چھوڑ دیں یا اپنے کسی اور واجبی حق وغیرہ سے دست بردار ہونے پر آمادہ ہوجائیں کیونکہ انہیں ستایا اور مجبور کیا جا رہا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ عورت ناپسند ہے دل نہیں ملا چھوڑ دینا چاہتا ہے تو اس صورت میں حق مہر کے علاوہ بھی وغیرہ تمام حقوق دینے پڑیں گے اس صورت حال سے بچنے کے لئے اسے ستانا یا طرح طرح سے تنگ کرنا تاکہ وہ خود اپنے حقوق چھوڑ کر چلے جانے پر آمادہ ہوجائے ایسا رویہ اختیار کرنے سے قرآن پاک نے مسلمانوں کو روک دیا ابن سلمانی فرماتے ہیں ان دونوں آیتوں میں سے پہلے آیت امر جاہلیت کو ختم کرنے اور دوسری امر اسلام کی اصلاح کے لئے نازل ہوئی، ابن مبارک بھی یہی فرماتے ہیں۔ مگر اس صورت میں کہ ان سے کھلی بےحیائی کا کام صادر ہوجائے، اس سے مراد بقول اکثر مفسرین صحابہ تابعین وغیرہ زنا کاری ہے، یعنی اس صورت میں جائز ہے کہ اس سے مہر لوٹا لینا چاہئے اور اسے تنگ کرے تاکہ خلع پر رضامند ہو، جیسے سورة بقرہ کی آیت میں ہے آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَاۗءَ كَرْهًا ۭوَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ) 4۔ النسآء :19) یعنی تمہیں حلال نہیں کہ تم انہیں دیئے ہوئے میں سے کچھ بھی لے لو مگر اس حالت میں دونوں کو اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکنے کا خوف ہو۔ بعض بزرگوں نے فرمایا ہے آیت (فاحشتہ مبینتہ) سے مراد خاوند کے خلاف کام کرنا اس کی نافرمانی کرنا بد زبانی کج خلقی کرنا حقوق زوجیت اچھی طرح ادا نہ کرنا وغیرہ ہے، امام ابن جریر فرماتے ہیں آیت کے الفاظ عام ہیں زنا کو اور تمام مذکورہ عوامل بھی شامل ہیں یعنی ان تمام صورتوں میں خاوند کو مباح ہے کہ اسے تنگ کرے تاکہ وہ اپنا کل حق یا تھوڑا حق چھوڑ دے اور پھر یہ اسے الگ کر دے امام صاحب کا یہ فرمان بہت ہی مناسب ہے واللہ اعلم، یہ روایت بھی پہلے گزر چکی ہے کہ یہاں اس آیت کے اترنے کا سبب وہی جاہلیت کی رسم ہے جس سے اللہ نے منع فرما دیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا بیان جاہلیت کی رسم کو اسلام میں سے خارج کرنے کے لئے ہوا ہے، ابن زید فرماتے ہیں مکہ کے قریش میں یہ رواج تھا کہ کسی شخص نے کسی شریف عورت سے نکاح کیا موافقت نہ ہوئی تو اسے طلاق دے دی لیکن یہ شرط کرلیتا تھا کہ بغیر اس کی اجازت کے یہ دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی اس بات پر گواہ مقرر ہوجاتے اور اقرار نامہ لکھ لیا جاتا اب اگر کہیں سے پیغام آئے اور وہ عورت اراضی ہو تو یہ کہتا مجھے اتنی رقم دے تو میں تجھے نکاح کی اجازت دوں گا اگر وہ ادا کردیتی تو تو خیر ورنہ یوں نہ اسے قید رکھتا اور دوسرا نکاح نہ کرنے دیتا اس کی ممانعت اس آیت میں نازل ہوئی، بقول مجاہد ؒ یہ حکم اور سورة بقرہ کی آیت کا حکم دونوں ایک ہی ہیں۔ پھر فرمایا عورتوں کے ساتھ خوش سلوکی کا رویہ رکھو ان کے ساتھ اچھا برتاؤ برتو، نرم بات کہو نیک سلوک کرو اپنی حالت بھی اپنی طاقت کے مطابق اچھی رکھو، جیسے تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے لئے بنی سنوری ہوئی اچھی حالت میں رہے تم خود اپنی حالت بھی اچھی رکھو جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ بالْمَعْرُوْفِ ۠ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۭ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ) 2۔ البقرۃ :228) جیسے تمہارے حقوق ان پر ہیں ان کے حقوق بھی تم پر ہیں۔ بہترین زوج محترم رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کرنے والا ہو میں اپنی بیویوں سے بہت اچھا رویہ رکھتا ہوں، نبی کریم ﷺ اپنی بیویوں کے ساتھ بہت لطف و خوشی بہت نرم اخلاقی اور خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے، انہیں خوش رکھتے تھے ان سے ہنسی دل لگی کی باتیں کیا کرتے تھے، ان کے دل اپنی مٹھی میں رکھتے تھے، انہیں اچھی طرح کھانے پینے کو دیتے تھے کشادہ دلی کے ساتھ ان پر خرچ کرتے تھے ایسی خوش طبعی کی باتیں بیان فرماتے جن سے وہ ہنس دیتیں، ایسا بھی ہوا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے ساتھ آپ نے دوڑ لگائی اس دوڑ میں عائشہ صدیقہ آگے نکل گئیں کچھ مدت بعد پھر دوڑ لگی اب کے حضرت عائشہ پیچھے رہ گئیں تو آپ نے فرمایا معاملہ برابر ہوگیا، اس سے بھی آپ کا مطلب یہ تھا کہ حضرت صدیقہ خوش رہیں ان کا دل بہلے جس بیوی صاحبہ کے ہاں آپ کو رات گزارنی ہوتی وہیں آپ کی کل بیویاں جمع ہوجاتیں دو گھڑی بیٹھتیں بات چیت ہوتی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ان سب کے ساتھ ہی حضور ﷺ رات کا کھانا تناول فرماتے پھر سب اپنے اپنے گھر چلی جاتیں اور آپ وہیں آرام فرماتے جن کی باری ہوتی، اپنی بیوی صاحبہ کے ساتھ ایک ہی چادر میں سوتے کرتا نکال ڈالتے صرف تہبند بندھا ہوا ہوتا عشاء کی نماز کے بعد گھر جا کردو گھڑی ادھر ادھر کی کچھ باتیں کرتے جس سے گھر والیوں کا جی خوش ہوتا الغرض نہایت ہی محبت پیار کے ساتھ اپنی بیویوں کو آپ رکھتے تھے۔ ﷺ پس مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھی طرح راضی خوشی محبت پیار سے رہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فرماں برداری کا دوسرا نام اچھائی ہے، اس کے تفصیلی احکام کی جگہ تفسیر نہیں بلکہ اسی مضمون کی کتابیں ہیں والحمد للہ پھر فرماتا ہے کہ باوجود جی نہ چاہنے کے بھی عورتوں سے اچھی بود و باش رکھنے میں بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بھلائی عطا فرمائے، ممکن ہے نیک اولاد ہوجائے اور اس سے اللہ تعالیٰ بہت سی بھلائیاں نصیب کرے، صحیح حدیث میں ہے مومن مرد مومنہ عورت کو الگ نہ کرے اگر اس کی ایک آدھ بات سے ناراض ہوگا تو ایک آدھ خصلت اچھی بھی ہوگی۔ پھر فرماتا ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے اور اس کی جگہ دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہے تو اسے دئے ہوئے مہر میں سے کچھ بھی واپس نہ لے چاہے خزانہ کا خزانہ دیا ہوا ہو۔ حق مہر کے مسائل سورئہ آل عمران کی تفسیر میں قنطار کا پورا بیان گزر چکا ہے اس لئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہر میں بہت سارا مال دینا بھی جائز ہے، امیر المومنین حضرت عمر فاروق نے پہلے بہت لمبے چوڑے مہر سے منع فرما دیا تھا پھر اپنے قول سے رجوع کیا، جیسے کہ مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا عورتوں کے مہر باندھنے میں زیادتی نہ کرو اگر یہ دنیوی طور پر کوئی بھی چیز ہوتی یا اللہ کے نزدیک یہ تقوی کی چیز ہوتی تو تم سب سے پہلے اس پر اللہ کے رسول ﷺ عمل کرتے حضور ﷺ نے اپنی کسی بیوی کا یا کسی بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں کیا (تقریباً سوا سو روپیہ) انسان زیادہ مہر باندھ کر پھر مصیبت میں پڑجاتا ہے یہاں تک کہ رفتہ رفتہ اس کی بیوی اسے بوجھ معلوم ہونے لگتی ہے اور اس کے دل میں اس کی دشمنی بیٹھ جاتی ہے اور کہنے لگتا ہے کہ تو نے تو میرے کندھے پر مشک لٹکا دی، یہ حدیث بہت سی کتابوں میں مختلف الفاظ سے مروی ہے ایک میں ہے کہ آپ نے منبر نبوی پر کھڑے ہو کر فرمایا لوگو تم نے کیوں لمبے چوڑے مہر باندھنے شروع کر دئے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے زمانہ کے آپ کے اصحاب نے تو چار سو درہم (تقریباً سو روپیہ) مہر باندھا ہے اگر یہ تقویٰ اور کرامت کے زاد ہونے کا سبب ہوتا تو تم زیادہ حق مہر ادا کرنے میں بھی ان پر سبقت نہیں لے سکتے تھے خبردار آج سے میں نہ سنوں کہ کسی نے چار سو درہم سے زیادہ کا مہر مقرر کیا یہ فرما کر آپ نیچے اتر آئے تو ایک قریشی خاتون سامنے آئیں اور کہنے لگیں امیر المومنین کیا آپ نے چار سو درہم سے زیادہ کے حق مہر سے لوگوں کو منع فرما دیا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں کہا کیا آپ نے اللہ کا کلام جو اس نے نازل فرمایا ہے نہیں سنا ؟ کہا وہ کیا ؟ کہا سنئیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَـيْـــًٔـا ۭ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُھْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا) 4۔ النسآء :20) تم نے انہیں خزانہ دیا ہو حضرت عمر ؟ نے فرمایا اللہ مجھے معاف فرما عمر سے تو ہر شخص زیادہ سمجھدار ہے پھر واپس اسی وقت منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے فرمایا لوگو میں نے تمہیں چار سو درہم سے زیادہ کے مہر سے روک دیا تھا لیکن اب کہتا ہوں جو شخص اپنے مال میں سے مہر میں جتنا چاہے دے اپنی خوشی سے جتنا مہر مقرر کرنا چاہے کرے میں نہیں روکتا، اور ایک روایت میں اس عورت کا آیت کو اس طرح پڑھنا مروی ہے آیت (وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَـيْـــًٔـا) 4۔ النسآء :20) (من ذہب) حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرأت میں بھی اسی طرح ہے اور حضرت عمر کا یہ فرمانا بھی مروی ہے کہ ایک عورت عمر پر غالب آگئی اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا گوذی القصہ یعنی یزیدین حصین حارثی کی بیٹی ہو پھر بھی مہر اس کا زیادہ مقرر نہ کرو اور اگر تم نے ایسا کیا تو وہ زائد رقم میں بیت المال کے لئے لے لوں گا اس پر ایک دراز قد چوڑی ناک والی عورت نے کہا حضرت آپ یہ حکم نہیں دے سکتے۔ پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم اپنی بیوی کو دیا ہوا حق مہر واپس کیسے لے سکتے ہو ؟ جبکہ تم نے اس سے فائدہ اٹھایا یا ضرورت پوری کی وہ تم سے اور تم اس سے مل گئی یعنی میاں بیوی کے تعلقات بھی قائم ہوگئے، بخاری و مسلم کی اس حدیث میں ہے ایک شخص نے اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور حضور ﷺ کے سامنے پیش ہوا۔ بیوی نے بھی اپنے بےگناہ ہونے شوہر نے اپنے سچا ہونے کی قسم کھائی پھر ان دونوں کا قسمیں کھانا اور اس کے بعد آپ کا یہ فرمان کہ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ تم دونوں میں سے کون جھوٹا ہے ؟ کیا تم میں سے کوئی اب بھی توبہ کرتا ہے ؟ تین دفعہ فرمایا تو اس مرد نے کہا میں نے جو مال اس کے مہر میں دیا ہے اس کی بابت کیا فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اسی کے بدلے تو یہ تیرے لئے حلال ہوئی تھیں اب اگر تو نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے تو پھر اور ناممکن بات ہوگی اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت نفرہ نے ایک کنواری لڑکی سے نکاح کیا جب اس سے ملے تو دیکھا کہ اسے زنا کا حمل ہے حضور ﷺ سے ذکر کیا آپ نے اسے الگ کرا دیا اور مہر دلوا دیا اور عورت کو کوڑے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا جو بچہ ہوگا وہ تیرا غلام ہوگا اور مہر تو اس کی حلت کا سبب تھا (ابوداؤد) غرض آیت کا مطلب بھی یہی ہے کہ عورت اس کے بیٹے پر حرام ہوجاتی ہے اس پر اجماع ہے، حضرت ابو قیس نے ان کی بیوی سے نکاح کی خواہش کی جو ان کی سوتیلی ماں تھیں اس پر اس بیوی صاحبہ نے فرمایا بیشک تو اپنی قوم میں نیک ہے لیکن میں تو تجھے اپنا بیٹا شمار کرتی ہوں خیر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جاتی ہوں جو وہ حکم فرمائیں وہ حاضر ہوئیں اور حضور ﷺ کو ساری کیفیت بیان کی آپ نے فرمایا اپنے گھر لوٹ جاؤ پھر یہ آیت اتری کہ جس سے باپ نے نکاح کیا اس سے بیٹے کا نکاح حرام ہے، ایسے واقعات اور بھی اس وقت موجود تھے جنہیں اس ارادے سے باز رکھا گیا ایک تو یہی ابو قیس والا واقعہ ان بیوی صاحبہ کا نام ام عبید اللہ ضمرہ تھا دوسرا واقعہ خلف کا تھا ان کے گھر میں ابو طلحہ کی صاحبزادی تھیں اس کے انتقال کے بعد اس کے لڑکے صفوان نے اسے اپنے نکاح میں لانا چاہا تھا سہیلی میں لکھا ہے جاہلیت میں اس نکاح کا معمول تھا جسے باقاعدہ نکاح سمجھا جاتا تھا اور بالکل حلال گنا جاتا تھا اسی لئے یہاں بھی فرمایا گیا کہ جو پہلے گزر چکا سو گزر چکا، جیسے دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کو بیان فرما کر بھی یہی کیا گیا کنانہ بن خزیمہ نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تھا نصر اسی کے بطن سے پیدا ہوا تھا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ میری اوپر کی نسل بھی باقاعدہ نکاح سے ہی ہے نہ کہ زنا سے تو معلوم ہوا کہ یہ رسم ان میں برابر جاری تھی اور جائز تھی اور اسے نکاح شمار کرتے تھے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جاہلیت والے بھی جن جن رشتوں کو اللہ نے حرام کیا ہے، سوتیلی ماں اور دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنے کے سوا سب کو حرام ہی جانتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں ان دونوں رشتوں کو بھی حرام ٹھہرایا حضرت عطا اور حضرت قتادہ بھی یہی فرماتے ہیں یاد رہے کہ سہیلی نے کنانہ کا جو واقعہ نقل کیا ہے وہ غور طلب ہے بالکل صحیح نہیں، واللہ اعلم۔ بہر صورت یہ رشتہ امت مسلمہ پر حرام ہے اور نہایت قبیح امر ہے۔ یہاں تک کہ فرمایا یہ نہایت فحش برا کام بغض کا ہے۔ دونوں میاں بیوی میں خلوت و صحبت ہوچکی ہے پھر مہر واپس لینا کیا معنی رکھتا ہے۔ پھر فرمایا کہ عقد نکاح جو مضبوط عہد و پیمان ہے اس میں تم جکڑے جا چکے ہو، اللہ کا یہ فرمان تم سن چکے ہو کہ بساؤ تو اچھی طرح اور الگ کرو تو عمدہ طریقہ سے چناچہ حدیث میں بھی ہے کہ تم ان عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پہ لیتے ہو اور ان کو اپنے لئے اللہ تعالیٰ کا کلمہ پڑھ کر یعنی نکاح کے خطبہ تشہد سے حلال کرتے ہو، رسول اللہ ﷺ کو معراج والی رات جب بہترین انعامات عطا ہوئے، ان میں ایک یہ بھی تھا کہ آپ سے فرمایا گیا تیری امت کا کوئی خطبہ جائز نہیں جب تک وہ اس امر کی گواہی نہ دیں کہ تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے (ابن ابی حاتم)نکاح کے احکامات صحیح مسلم شریف میں حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجتہ الوداع کے خطبہ میں فرمایا تم نے عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پہ لیا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے کلمہ سے اپنے لئے حلال کیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سوتیلی ماؤں کی حرمت بیان فرماتا ہے اور ان کی تعظیم اور توقیر ظاہر کرتا ہے یہاں تک کہ باپ نے کسی عورت سے صرف نکاح کیا ابھی وہ رخصت ہو کر بھی نہیں آئی مگر طلاق ہوگئی یا باپ مرگیا وغیرہ تو بھی وہ سبب اور برا راستہ ہے اور جگہ فرما ہے آیت (وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ) 6۔ الانعام :151) یعنی کسی برائی بےحیائی اور فحش کام کے قریب بھی نہ جاؤ یا وہ بالکل ظاہر ہو خواہ پوشیدہ ہو اور فرمان ہے آیت (وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا) 17۔ الاسراء :32) زنا کے قریب نہ جاؤ یقینا وہ فحش کام اور بری راہ ہے یہاں مزید فرمایا کہ یہ کام بڑے بغض کا بھی ہے یعنی فی نفسہ بھی بڑا برا امر ہے اس سے باپ بیٹے میں عداوت پڑجاتی ہے اور دشمنی قائم ہوجاتی ہے، یہی مشاہدہ میں آیا ہے اور عموماً یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جو شخص کسی عورت سے دوسرا نکاح کرتا ہے وہ اس کے پہلے خاوند سے بغض ہی رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بیویاں امہات المومنین قرار دے گئیں اور امت پر مثل ماں کے حرام کی گئیں کیونکہ وہ نبی ﷺ کی بیویاں ہیں اور آپ مثل باپ کے ہیں، بلکہ اجماعاً ثابت ہے کہ آپ کے حق باپ دادا کے حقوق سے بھی بہت زیادہ اور بہت بڑے ہیں بلکہ آپ کی محبت خود اپنی جانوں کی محبت پر بھی مقدم ہے صلوات اللہ وسلامہ علیہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کام اللہ کے بغض کا موجب ہے اور برا راستہ ہے اب جو ایسا کام کرے وہ دین سے مرتد ہے اسے قتل کردیا جائے اور اس کا مال بیت المال میں بطور فے کے داخل کرلیا جائے، سنن اور مسند احمد میں مروی ہے کہ ایک صحابی کو رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کی طرف بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے باپ کے بعد نکاح کیا تھا کہ اسے قتل کر ڈالو اور اس کے مال پر قبضہ کرلو، حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ میرے چچا حارث بن عمیر اپنے ہاتھ میں نبی ﷺ کا دیا ہوا جھنڈا لے کر میرے پاس سے گزرے میں نے پوچھا کہ چچا حضور ﷺ نے آپ کو کہاں بھیجا ہے ؟ فرمایا اس شخص کی طرف جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا ہے مجھے حکم ہے کہ میں اس کی گردن ماروں (مسند احمد)سوتیلی ماں سے نکاح حرام ہے مسئلہ اس پر تو علماء کا اجماع ہے کہ جس عورت سے باپ نے مباشرت کرلی خواہ نکاح کر کے خواہ ملکیت میں لا کر خواہ شبہ سے وہ عورت بیٹے پر حرام ہے، ہاں اگر جماع نہ ہوا ہو تو صرف مباشرت ہوئی ہو یا وہ اعضاء دیکھے ہوں جن کا دیکھنا اجنبی ہونے کی صورت میں حلال نہ تھا تو اس میں اختلاف ہے امام احمد تو اس صورت میں بھی اس عورت کو لڑکے پر حرام بتاتے ہیں، حافظ ابن عساکر کے اس واقعہ سے بھی اس روایت کی تصدیق ہوتی ہے کہ حضرت خدیج حمصی نے جو حضرت معاویہ کے مولی تھے حضرت معاویہ کے لئے ایک لونڈی خریدی جو گورے رنگ کی اور خوبصورت تھی اسے برہنہ ان کے پاس بھیج دیا ان کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس سے اشارہ کر کے کہنے لگے اچھا نفع تھا اگر یہ ملبوس ہوتی پھر کہنے لگے اسے یزید بن معاویہ کے پاس لے جاؤ پھر کہا نہیں نہیں ٹھہرو ربیعہ بن عمرو حرسی کو میرے پاس بلا لاؤ یہ بڑے فقیہ تھے جب آئے تو حضرت معاویہ نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا کہ میں نے اس عورت کے یہ اعضاء مخصوص دیکھے ہیں، یہ برہنہ تھی۔ اب میں اسے اپنے لڑکے یزید کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں تو کیا اس کے لئے یہ حلال ہے ؟ حضرت ربیعہ نے فرمایا امیر المومنین ایسا نہ کیجئے یہ اس کے قابل نہیں رہی فرمایا تم ٹھیک کہتے ہو اچھا جاؤ عبداللہ بن مسعدہ فزاری کو بلا لاؤ وہ آئے وہ تو گندم گوں رنگ کے تھے اس سے حضرت معاویہ نے فرمایا اس لونڈی کو میں تمہیں دیتا ہوں تاکہ تمہاری اولاد سفید رنگ پیدا ہو یہ عبداللہ بن مسعدہ وہ ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ کو دیا تھا آپ نے انہیں پالا پرورش کیا پھر اللہ تعالیٰ کے نام سے آزاد کردیا پھر یہ حضرت معاویہ کے پاس چلے آئے تھے۔

عورت پر ظلم کا خاتمہ صحیح بخاری میں ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے حقدار سمجھے جاتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر وہ چاہتے تو دوسرے کسی کے نکاح میں دے دیتے اگر چاہتے تو نکاح ہی نہ کرنے دیتے میکے والوں سے زیادہ اس عورت کے حقدار سسرال والے ہی گنے جاتے تھے جاہلیت کی اس رسم کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی، دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کو مجبور کرتے کہ وہ مہر کے حق سے دست بردار ہوجائے یا یونہی بےنکاحی بیٹھی رہے، یہ بھی مروی ہے کہ اس عورت کا خاوند مرتے ہی کوئی بھی آ کر اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا اور وہی اس کا مختار سمجھا جاتا، تو روایت میں ہے کہ یہ کپڑا ڈالنے والا اسے حسین پاتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر یہ بدصورت ہوتی تو اسے یونہی روکے رکھتا یہاں تک کہ مرجائے پھر اس کے مال کا وارث بنتا۔ یہ بھی مروی ہے کہ مرنے والے کا کوئی گہرا دوست کپڑا ڈال دیتا پھر اگر وہ عورت کچھ فدیہ اور بدلہ دے تو وہ اسے نکاح کرنے کی اجازت دیتا ورنہ یونہی مرجاتی حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں اہل مدینہ کا یہ دستور تھا کہ وارث اس عورت کے بھی وارث بن جاتے غرض یہ لوگ عورتوں کے ساتھ بڑے بری طرح پیش آتے تھے یہاں تک کہ طلاق دیتے وقت بھی شرط کرلیتے تھے کہ جہاں میں چاہوں تیرا نکاح ہو اس طرح کی قید و بند سے رہائی پانے کی پھر یہ صورت ہوتی کہ وہ عورت کچھ دے کر جان چھڑاتی، اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس سے منع فرما دیا، ابن مردویہ میں ہے کہ جب ابو قیس بن اسلت کا انتقال ہوا تو ان کے بیٹے نے ان کی بیوی سے نکاح کرنا چاہا جیسے کہ جاہلیت میں یہ دستور تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ کسی بچے کی سنبھال پر اسے لگا دیتے تھے حضرت مجاہد فرماتے ہیں جب کوئی مرجاتا تو اس کا لڑکا اس کی بیوی کا زیادہ حقدار سمجھا جاتا اگر چاہتا خود اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرلیتا اور اگر چاہتا دوسرے کے نکاح میں دے دیتا مثلاً بھائی کے بھتیجے یا جس کو چاہے، حضرت عکرمہ کی روایت میں ہے کہ ابو قیس کی جس بیوی کا نام کبینہ تھا ؓ اس نے اس صورت کی خبر حضور ﷺ کو دی کہ یہ لوگ نہ مجھے وارثوں میں شمار کر کے میرے خاوند کا ورثہ دیتے ہیں نہ مجھے چھوڑتے ہیں کہ میں اور کہیں اپنا نکاح کرلوں اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ایک روایت میں ہے کہ کپڑا ڈالنے کی رسم سے پہلے ہی اگر کوئی عورت بھاگ کھڑی ہو اور اپنے میکے آجائے تو وہ چھوٹ جاتی تھی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں جو یتیم بچی ان کی ولایت میں ہوتی اسے یہ روکے رکھتے تھے اس امید پر کہ جب ہماری بیوی مرجائے گی ہم اس سے نکاح کرلیں گے یا اپنے لڑکے سے اس کا نکاح کرا دیں گے، ان سب اقوال سے معلوم ہوا کہ ان تمام صورتوں کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ممانعت کردی اور عورتوں کی جان اس مصیبت سے چھڑا دی واللہ اعلم۔ ارشاد ہے عورتوں کی بود و باش میں انہیں تنگ کر کے تکلیف دے دے کر مجبور نہ کرو کہ وہ اپنا سارا مہر چھوڑ دیں یا اس میں سے کچھ چھوڑ دیں یا اپنے کسی اور واجبی حق وغیرہ سے دست بردار ہونے پر آمادہ ہوجائیں کیونکہ انہیں ستایا اور مجبور کیا جا رہا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ عورت ناپسند ہے دل نہیں ملا چھوڑ دینا چاہتا ہے تو اس صورت میں حق مہر کے علاوہ بھی وغیرہ تمام حقوق دینے پڑیں گے اس صورت حال سے بچنے کے لئے اسے ستانا یا طرح طرح سے تنگ کرنا تاکہ وہ خود اپنے حقوق چھوڑ کر چلے جانے پر آمادہ ہوجائے ایسا رویہ اختیار کرنے سے قرآن پاک نے مسلمانوں کو روک دیا ابن سلمانی فرماتے ہیں ان دونوں آیتوں میں سے پہلے آیت امر جاہلیت کو ختم کرنے اور دوسری امر اسلام کی اصلاح کے لئے نازل ہوئی، ابن مبارک بھی یہی فرماتے ہیں۔ مگر اس صورت میں کہ ان سے کھلی بےحیائی کا کام صادر ہوجائے، اس سے مراد بقول اکثر مفسرین صحابہ تابعین وغیرہ زنا کاری ہے، یعنی اس صورت میں جائز ہے کہ اس سے مہر لوٹا لینا چاہئے اور اسے تنگ کرے تاکہ خلع پر رضامند ہو، جیسے سورة بقرہ کی آیت میں ہے آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَاۗءَ كَرْهًا ۭوَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ) 4۔ النسآء :19) یعنی تمہیں حلال نہیں کہ تم انہیں دیئے ہوئے میں سے کچھ بھی لے لو مگر اس حالت میں دونوں کو اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکنے کا خوف ہو۔ بعض بزرگوں نے فرمایا ہے آیت (فاحشتہ مبینتہ) سے مراد خاوند کے خلاف کام کرنا اس کی نافرمانی کرنا بد زبانی کج خلقی کرنا حقوق زوجیت اچھی طرح ادا نہ کرنا وغیرہ ہے، امام ابن جریر فرماتے ہیں آیت کے الفاظ عام ہیں زنا کو اور تمام مذکورہ عوامل بھی شامل ہیں یعنی ان تمام صورتوں میں خاوند کو مباح ہے کہ اسے تنگ کرے تاکہ وہ اپنا کل حق یا تھوڑا حق چھوڑ دے اور پھر یہ اسے الگ کر دے امام صاحب کا یہ فرمان بہت ہی مناسب ہے واللہ اعلم، یہ روایت بھی پہلے گزر چکی ہے کہ یہاں اس آیت کے اترنے کا سبب وہی جاہلیت کی رسم ہے جس سے اللہ نے منع فرما دیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا بیان جاہلیت کی رسم کو اسلام میں سے خارج کرنے کے لئے ہوا ہے، ابن زید فرماتے ہیں مکہ کے قریش میں یہ رواج تھا کہ کسی شخص نے کسی شریف عورت سے نکاح کیا موافقت نہ ہوئی تو اسے طلاق دے دی لیکن یہ شرط کرلیتا تھا کہ بغیر اس کی اجازت کے یہ دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی اس بات پر گواہ مقرر ہوجاتے اور اقرار نامہ لکھ لیا جاتا اب اگر کہیں سے پیغام آئے اور وہ عورت اراضی ہو تو یہ کہتا مجھے اتنی رقم دے تو میں تجھے نکاح کی اجازت دوں گا اگر وہ ادا کردیتی تو تو خیر ورنہ یوں نہ اسے قید رکھتا اور دوسرا نکاح نہ کرنے دیتا اس کی ممانعت اس آیت میں نازل ہوئی، بقول مجاہد ؒ یہ حکم اور سورة بقرہ کی آیت کا حکم دونوں ایک ہی ہیں۔ پھر فرمایا عورتوں کے ساتھ خوش سلوکی کا رویہ رکھو ان کے ساتھ اچھا برتاؤ برتو، نرم بات کہو نیک سلوک کرو اپنی حالت بھی اپنی طاقت کے مطابق اچھی رکھو، جیسے تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے لئے بنی سنوری ہوئی اچھی حالت میں رہے تم خود اپنی حالت بھی اچھی رکھو جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ بالْمَعْرُوْفِ ۠ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۭ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ) 2۔ البقرۃ :228) جیسے تمہارے حقوق ان پر ہیں ان کے حقوق بھی تم پر ہیں۔ بہترین زوج محترم رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کرنے والا ہو میں اپنی بیویوں سے بہت اچھا رویہ رکھتا ہوں، نبی کریم ﷺ اپنی بیویوں کے ساتھ بہت لطف و خوشی بہت نرم اخلاقی اور خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے، انہیں خوش رکھتے تھے ان سے ہنسی دل لگی کی باتیں کیا کرتے تھے، ان کے دل اپنی مٹھی میں رکھتے تھے، انہیں اچھی طرح کھانے پینے کو دیتے تھے کشادہ دلی کے ساتھ ان پر خرچ کرتے تھے ایسی خوش طبعی کی باتیں بیان فرماتے جن سے وہ ہنس دیتیں، ایسا بھی ہوا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے ساتھ آپ نے دوڑ لگائی اس دوڑ میں عائشہ صدیقہ آگے نکل گئیں کچھ مدت بعد پھر دوڑ لگی اب کے حضرت عائشہ پیچھے رہ گئیں تو آپ نے فرمایا معاملہ برابر ہوگیا، اس سے بھی آپ کا مطلب یہ تھا کہ حضرت صدیقہ خوش رہیں ان کا دل بہلے جس بیوی صاحبہ کے ہاں آپ کو رات گزارنی ہوتی وہیں آپ کی کل بیویاں جمع ہوجاتیں دو گھڑی بیٹھتیں بات چیت ہوتی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ان سب کے ساتھ ہی حضور ﷺ رات کا کھانا تناول فرماتے پھر سب اپنے اپنے گھر چلی جاتیں اور آپ وہیں آرام فرماتے جن کی باری ہوتی، اپنی بیوی صاحبہ کے ساتھ ایک ہی چادر میں سوتے کرتا نکال ڈالتے صرف تہبند بندھا ہوا ہوتا عشاء کی نماز کے بعد گھر جا کردو گھڑی ادھر ادھر کی کچھ باتیں کرتے جس سے گھر والیوں کا جی خوش ہوتا الغرض نہایت ہی محبت پیار کے ساتھ اپنی بیویوں کو آپ رکھتے تھے۔ ﷺ پس مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھی طرح راضی خوشی محبت پیار سے رہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فرماں برداری کا دوسرا نام اچھائی ہے، اس کے تفصیلی احکام کی جگہ تفسیر نہیں بلکہ اسی مضمون کی کتابیں ہیں والحمد للہ پھر فرماتا ہے کہ باوجود جی نہ چاہنے کے بھی عورتوں سے اچھی بود و باش رکھنے میں بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بھلائی عطا فرمائے، ممکن ہے نیک اولاد ہوجائے اور اس سے اللہ تعالیٰ بہت سی بھلائیاں نصیب کرے، صحیح حدیث میں ہے مومن مرد مومنہ عورت کو الگ نہ کرے اگر اس کی ایک آدھ بات سے ناراض ہوگا تو ایک آدھ خصلت اچھی بھی ہوگی۔ پھر فرماتا ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے اور اس کی جگہ دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہے تو اسے دئے ہوئے مہر میں سے کچھ بھی واپس نہ لے چاہے خزانہ کا خزانہ دیا ہوا ہو۔ حق مہر کے مسائل سورئہ آل عمران کی تفسیر میں قنطار کا پورا بیان گزر چکا ہے اس لئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہر میں بہت سارا مال دینا بھی جائز ہے، امیر المومنین حضرت عمر فاروق نے پہلے بہت لمبے چوڑے مہر سے منع فرما دیا تھا پھر اپنے قول سے رجوع کیا، جیسے کہ مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا عورتوں کے مہر باندھنے میں زیادتی نہ کرو اگر یہ دنیوی طور پر کوئی بھی چیز ہوتی یا اللہ کے نزدیک یہ تقوی کی چیز ہوتی تو تم سب سے پہلے اس پر اللہ کے رسول ﷺ عمل کرتے حضور ﷺ نے اپنی کسی بیوی کا یا کسی بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں کیا (تقریباً سوا سو روپیہ) انسان زیادہ مہر باندھ کر پھر مصیبت میں پڑجاتا ہے یہاں تک کہ رفتہ رفتہ اس کی بیوی اسے بوجھ معلوم ہونے لگتی ہے اور اس کے دل میں اس کی دشمنی بیٹھ جاتی ہے اور کہنے لگتا ہے کہ تو نے تو میرے کندھے پر مشک لٹکا دی، یہ حدیث بہت سی کتابوں میں مختلف الفاظ سے مروی ہے ایک میں ہے کہ آپ نے منبر نبوی پر کھڑے ہو کر فرمایا لوگو تم نے کیوں لمبے چوڑے مہر باندھنے شروع کر دئے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے زمانہ کے آپ کے اصحاب نے تو چار سو درہم (تقریباً سو روپیہ) مہر باندھا ہے اگر یہ تقویٰ اور کرامت کے زاد ہونے کا سبب ہوتا تو تم زیادہ حق مہر ادا کرنے میں بھی ان پر سبقت نہیں لے سکتے تھے خبردار آج سے میں نہ سنوں کہ کسی نے چار سو درہم سے زیادہ کا مہر مقرر کیا یہ فرما کر آپ نیچے اتر آئے تو ایک قریشی خاتون سامنے آئیں اور کہنے لگیں امیر المومنین کیا آپ نے چار سو درہم سے زیادہ کے حق مہر سے لوگوں کو منع فرما دیا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں کہا کیا آپ نے اللہ کا کلام جو اس نے نازل فرمایا ہے نہیں سنا ؟ کہا وہ کیا ؟ کہا سنئیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَـيْـــًٔـا ۭ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُھْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا) 4۔ النسآء :20) تم نے انہیں خزانہ دیا ہو حضرت عمر ؟ نے فرمایا اللہ مجھے معاف فرما عمر سے تو ہر شخص زیادہ سمجھدار ہے پھر واپس اسی وقت منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے فرمایا لوگو میں نے تمہیں چار سو درہم سے زیادہ کے مہر سے روک دیا تھا لیکن اب کہتا ہوں جو شخص اپنے مال میں سے مہر میں جتنا چاہے دے اپنی خوشی سے جتنا مہر مقرر کرنا چاہے کرے میں نہیں روکتا، اور ایک روایت میں اس عورت کا آیت کو اس طرح پڑھنا مروی ہے آیت (وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَـيْـــًٔـا) 4۔ النسآء :20) (من ذہب) حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرأت میں بھی اسی طرح ہے اور حضرت عمر کا یہ فرمانا بھی مروی ہے کہ ایک عورت عمر پر غالب آگئی اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا گوذی القصہ یعنی یزیدین حصین حارثی کی بیٹی ہو پھر بھی مہر اس کا زیادہ مقرر نہ کرو اور اگر تم نے ایسا کیا تو وہ زائد رقم میں بیت المال کے لئے لے لوں گا اس پر ایک دراز قد چوڑی ناک والی عورت نے کہا حضرت آپ یہ حکم نہیں دے سکتے۔ پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم اپنی بیوی کو دیا ہوا حق مہر واپس کیسے لے سکتے ہو ؟ جبکہ تم نے اس سے فائدہ اٹھایا یا ضرورت پوری کی وہ تم سے اور تم اس سے مل گئی یعنی میاں بیوی کے تعلقات بھی قائم ہوگئے، بخاری و مسلم کی اس حدیث میں ہے ایک شخص نے اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور حضور ﷺ کے سامنے پیش ہوا۔ بیوی نے بھی اپنے بےگناہ ہونے شوہر نے اپنے سچا ہونے کی قسم کھائی پھر ان دونوں کا قسمیں کھانا اور اس کے بعد آپ کا یہ فرمان کہ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ تم دونوں میں سے کون جھوٹا ہے ؟ کیا تم میں سے کوئی اب بھی توبہ کرتا ہے ؟ تین دفعہ فرمایا تو اس مرد نے کہا میں نے جو مال اس کے مہر میں دیا ہے اس کی بابت کیا فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اسی کے بدلے تو یہ تیرے لئے حلال ہوئی تھیں اب اگر تو نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے تو پھر اور ناممکن بات ہوگی اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت نفرہ نے ایک کنواری لڑکی سے نکاح کیا جب اس سے ملے تو دیکھا کہ اسے زنا کا حمل ہے حضور ﷺ سے ذکر کیا آپ نے اسے الگ کرا دیا اور مہر دلوا دیا اور عورت کو کوڑے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا جو بچہ ہوگا وہ تیرا غلام ہوگا اور مہر تو اس کی حلت کا سبب تھا (ابوداؤد) غرض آیت کا مطلب بھی یہی ہے کہ عورت اس کے بیٹے پر حرام ہوجاتی ہے اس پر اجماع ہے، حضرت ابو قیس نے ان کی بیوی سے نکاح کی خواہش کی جو ان کی سوتیلی ماں تھیں اس پر اس بیوی صاحبہ نے فرمایا بیشک تو اپنی قوم میں نیک ہے لیکن میں تو تجھے اپنا بیٹا شمار کرتی ہوں خیر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جاتی ہوں جو وہ حکم فرمائیں وہ حاضر ہوئیں اور حضور ﷺ کو ساری کیفیت بیان کی آپ نے فرمایا اپنے گھر لوٹ جاؤ پھر یہ آیت اتری کہ جس سے باپ نے نکاح کیا اس سے بیٹے کا نکاح حرام ہے، ایسے واقعات اور بھی اس وقت موجود تھے جنہیں اس ارادے سے باز رکھا گیا ایک تو یہی ابو قیس والا واقعہ ان بیوی صاحبہ کا نام ام عبید اللہ ضمرہ تھا دوسرا واقعہ خلف کا تھا ان کے گھر میں ابو طلحہ کی صاحبزادی تھیں اس کے انتقال کے بعد اس کے لڑکے صفوان نے اسے اپنے نکاح میں لانا چاہا تھا سہیلی میں لکھا ہے جاہلیت میں اس نکاح کا معمول تھا جسے باقاعدہ نکاح سمجھا جاتا تھا اور بالکل حلال گنا جاتا تھا اسی لئے یہاں بھی فرمایا گیا کہ جو پہلے گزر چکا سو گزر چکا، جیسے دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کو بیان فرما کر بھی یہی کیا گیا کنانہ بن خزیمہ نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تھا نصر اسی کے بطن سے پیدا ہوا تھا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ میری اوپر کی نسل بھی باقاعدہ نکاح سے ہی ہے نہ کہ زنا سے تو معلوم ہوا کہ یہ رسم ان میں برابر جاری تھی اور جائز تھی اور اسے نکاح شمار کرتے تھے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جاہلیت والے بھی جن جن رشتوں کو اللہ نے حرام کیا ہے، سوتیلی ماں اور دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنے کے سوا سب کو حرام ہی جانتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں ان دونوں رشتوں کو بھی حرام ٹھہرایا حضرت عطا اور حضرت قتادہ بھی یہی فرماتے ہیں یاد رہے کہ سہیلی نے کنانہ کا جو واقعہ نقل کیا ہے وہ غور طلب ہے بالکل صحیح نہیں، واللہ اعلم۔ بہر صورت یہ رشتہ امت مسلمہ پر حرام ہے اور نہایت قبیح امر ہے۔ یہاں تک کہ فرمایا یہ نہایت فحش برا کام بغض کا ہے۔ دونوں میاں بیوی میں خلوت و صحبت ہوچکی ہے پھر مہر واپس لینا کیا معنی رکھتا ہے۔ پھر فرمایا کہ عقد نکاح جو مضبوط عہد و پیمان ہے اس میں تم جکڑے جا چکے ہو، اللہ کا یہ فرمان تم سن چکے ہو کہ بساؤ تو اچھی طرح اور الگ کرو تو عمدہ طریقہ سے چناچہ حدیث میں بھی ہے کہ تم ان عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پہ لیتے ہو اور ان کو اپنے لئے اللہ تعالیٰ کا کلمہ پڑھ کر یعنی نکاح کے خطبہ تشہد سے حلال کرتے ہو، رسول اللہ ﷺ کو معراج والی رات جب بہترین انعامات عطا ہوئے، ان میں ایک یہ بھی تھا کہ آپ سے فرمایا گیا تیری امت کا کوئی خطبہ جائز نہیں جب تک وہ اس امر کی گواہی نہ دیں کہ تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے (ابن ابی حاتم)نکاح کے احکامات صحیح مسلم شریف میں حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجتہ الوداع کے خطبہ میں فرمایا تم نے عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پہ لیا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے کلمہ سے اپنے لئے حلال کیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سوتیلی ماؤں کی حرمت بیان فرماتا ہے اور ان کی تعظیم اور توقیر ظاہر کرتا ہے یہاں تک کہ باپ نے کسی عورت سے صرف نکاح کیا ابھی وہ رخصت ہو کر بھی نہیں آئی مگر طلاق ہوگئی یا باپ مرگیا وغیرہ تو بھی وہ سبب اور برا راستہ ہے اور جگہ فرما ہے آیت (وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ) 6۔ الانعام :151) یعنی کسی برائی بےحیائی اور فحش کام کے قریب بھی نہ جاؤ یا وہ بالکل ظاہر ہو خواہ پوشیدہ ہو اور فرمان ہے آیت (وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا) 17۔ الاسراء :32) زنا کے قریب نہ جاؤ یقینا وہ فحش کام اور بری راہ ہے یہاں مزید فرمایا کہ یہ کام بڑے بغض کا بھی ہے یعنی فی نفسہ بھی بڑا برا امر ہے اس سے باپ بیٹے میں عداوت پڑجاتی ہے اور دشمنی قائم ہوجاتی ہے، یہی مشاہدہ میں آیا ہے اور عموماً یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جو شخص کسی عورت سے دوسرا نکاح کرتا ہے وہ اس کے پہلے خاوند سے بغض ہی رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بیویاں امہات المومنین قرار دے گئیں اور امت پر مثل ماں کے حرام کی گئیں کیونکہ وہ نبی ﷺ کی بیویاں ہیں اور آپ مثل باپ کے ہیں، بلکہ اجماعاً ثابت ہے کہ آپ کے حق باپ دادا کے حقوق سے بھی بہت زیادہ اور بہت بڑے ہیں بلکہ آپ کی محبت خود اپنی جانوں کی محبت پر بھی مقدم ہے صلوات اللہ وسلامہ علیہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کام اللہ کے بغض کا موجب ہے اور برا راستہ ہے اب جو ایسا کام کرے وہ دین سے مرتد ہے اسے قتل کردیا جائے اور اس کا مال بیت المال میں بطور فے کے داخل کرلیا جائے، سنن اور مسند احمد میں مروی ہے کہ ایک صحابی کو رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کی طرف بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے باپ کے بعد نکاح کیا تھا کہ اسے قتل کر ڈالو اور اس کے مال پر قبضہ کرلو، حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ میرے چچا حارث بن عمیر اپنے ہاتھ میں نبی ﷺ کا دیا ہوا جھنڈا لے کر میرے پاس سے گزرے میں نے پوچھا کہ چچا حضور ﷺ نے آپ کو کہاں بھیجا ہے ؟ فرمایا اس شخص کی طرف جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا ہے مجھے حکم ہے کہ میں اس کی گردن ماروں (مسند احمد)سوتیلی ماں سے نکاح حرام ہے مسئلہ اس پر تو علماء کا اجماع ہے کہ جس عورت سے باپ نے مباشرت کرلی خواہ نکاح کر کے خواہ ملکیت میں لا کر خواہ شبہ سے وہ عورت بیٹے پر حرام ہے، ہاں اگر جماع نہ ہوا ہو تو صرف مباشرت ہوئی ہو یا وہ اعضاء دیکھے ہوں جن کا دیکھنا اجنبی ہونے کی صورت میں حلال نہ تھا تو اس میں اختلاف ہے امام احمد تو اس صورت میں بھی اس عورت کو لڑکے پر حرام بتاتے ہیں، حافظ ابن عساکر کے اس واقعہ سے بھی اس روایت کی تصدیق ہوتی ہے کہ حضرت خدیج حمصی نے جو حضرت معاویہ کے مولی تھے حضرت معاویہ کے لئے ایک لونڈی خریدی جو گورے رنگ کی اور خوبصورت تھی اسے برہنہ ان کے پاس بھیج دیا ان کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس سے اشارہ کر کے کہنے لگے اچھا نفع تھا اگر یہ ملبوس ہوتی پھر کہنے لگے اسے یزید بن معاویہ کے پاس لے جاؤ پھر کہا نہیں نہیں ٹھہرو ربیعہ بن عمرو حرسی کو میرے پاس بلا لاؤ یہ بڑے فقیہ تھے جب آئے تو حضرت معاویہ نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا کہ میں نے اس عورت کے یہ اعضاء مخصوص دیکھے ہیں، یہ برہنہ تھی۔ اب میں اسے اپنے لڑکے یزید کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں تو کیا اس کے لئے یہ حلال ہے ؟ حضرت ربیعہ نے فرمایا امیر المومنین ایسا نہ کیجئے یہ اس کے قابل نہیں رہی فرمایا تم ٹھیک کہتے ہو اچھا جاؤ عبداللہ بن مسعدہ فزاری کو بلا لاؤ وہ آئے وہ تو گندم گوں رنگ کے تھے اس سے حضرت معاویہ نے فرمایا اس لونڈی کو میں تمہیں دیتا ہوں تاکہ تمہاری اولاد سفید رنگ پیدا ہو یہ عبداللہ بن مسعدہ وہ ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ کو دیا تھا آپ نے انہیں پالا پرورش کیا پھر اللہ تعالیٰ کے نام سے آزاد کردیا پھر یہ حضرت معاویہ کے پاس چلے آئے تھے۔

عورت پر ظلم کا خاتمہ صحیح بخاری میں ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے حقدار سمجھے جاتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر وہ چاہتے تو دوسرے کسی کے نکاح میں دے دیتے اگر چاہتے تو نکاح ہی نہ کرنے دیتے میکے والوں سے زیادہ اس عورت کے حقدار سسرال والے ہی گنے جاتے تھے جاہلیت کی اس رسم کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی، دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کو مجبور کرتے کہ وہ مہر کے حق سے دست بردار ہوجائے یا یونہی بےنکاحی بیٹھی رہے، یہ بھی مروی ہے کہ اس عورت کا خاوند مرتے ہی کوئی بھی آ کر اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا اور وہی اس کا مختار سمجھا جاتا، تو روایت میں ہے کہ یہ کپڑا ڈالنے والا اسے حسین پاتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر یہ بدصورت ہوتی تو اسے یونہی روکے رکھتا یہاں تک کہ مرجائے پھر اس کے مال کا وارث بنتا۔ یہ بھی مروی ہے کہ مرنے والے کا کوئی گہرا دوست کپڑا ڈال دیتا پھر اگر وہ عورت کچھ فدیہ اور بدلہ دے تو وہ اسے نکاح کرنے کی اجازت دیتا ورنہ یونہی مرجاتی حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں اہل مدینہ کا یہ دستور تھا کہ وارث اس عورت کے بھی وارث بن جاتے غرض یہ لوگ عورتوں کے ساتھ بڑے بری طرح پیش آتے تھے یہاں تک کہ طلاق دیتے وقت بھی شرط کرلیتے تھے کہ جہاں میں چاہوں تیرا نکاح ہو اس طرح کی قید و بند سے رہائی پانے کی پھر یہ صورت ہوتی کہ وہ عورت کچھ دے کر جان چھڑاتی، اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس سے منع فرما دیا، ابن مردویہ میں ہے کہ جب ابو قیس بن اسلت کا انتقال ہوا تو ان کے بیٹے نے ان کی بیوی سے نکاح کرنا چاہا جیسے کہ جاہلیت میں یہ دستور تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ کسی بچے کی سنبھال پر اسے لگا دیتے تھے حضرت مجاہد فرماتے ہیں جب کوئی مرجاتا تو اس کا لڑکا اس کی بیوی کا زیادہ حقدار سمجھا جاتا اگر چاہتا خود اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرلیتا اور اگر چاہتا دوسرے کے نکاح میں دے دیتا مثلاً بھائی کے بھتیجے یا جس کو چاہے، حضرت عکرمہ کی روایت میں ہے کہ ابو قیس کی جس بیوی کا نام کبینہ تھا ؓ اس نے اس صورت کی خبر حضور ﷺ کو دی کہ یہ لوگ نہ مجھے وارثوں میں شمار کر کے میرے خاوند کا ورثہ دیتے ہیں نہ مجھے چھوڑتے ہیں کہ میں اور کہیں اپنا نکاح کرلوں اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ایک روایت میں ہے کہ کپڑا ڈالنے کی رسم سے پہلے ہی اگر کوئی عورت بھاگ کھڑی ہو اور اپنے میکے آجائے تو وہ چھوٹ جاتی تھی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں جو یتیم بچی ان کی ولایت میں ہوتی اسے یہ روکے رکھتے تھے اس امید پر کہ جب ہماری بیوی مرجائے گی ہم اس سے نکاح کرلیں گے یا اپنے لڑکے سے اس کا نکاح کرا دیں گے، ان سب اقوال سے معلوم ہوا کہ ان تمام صورتوں کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ممانعت کردی اور عورتوں کی جان اس مصیبت سے چھڑا دی واللہ اعلم۔ ارشاد ہے عورتوں کی بود و باش میں انہیں تنگ کر کے تکلیف دے دے کر مجبور نہ کرو کہ وہ اپنا سارا مہر چھوڑ دیں یا اس میں سے کچھ چھوڑ دیں یا اپنے کسی اور واجبی حق وغیرہ سے دست بردار ہونے پر آمادہ ہوجائیں کیونکہ انہیں ستایا اور مجبور کیا جا رہا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ عورت ناپسند ہے دل نہیں ملا چھوڑ دینا چاہتا ہے تو اس صورت میں حق مہر کے علاوہ بھی وغیرہ تمام حقوق دینے پڑیں گے اس صورت حال سے بچنے کے لئے اسے ستانا یا طرح طرح سے تنگ کرنا تاکہ وہ خود اپنے حقوق چھوڑ کر چلے جانے پر آمادہ ہوجائے ایسا رویہ اختیار کرنے سے قرآن پاک نے مسلمانوں کو روک دیا ابن سلمانی فرماتے ہیں ان دونوں آیتوں میں سے پہلے آیت امر جاہلیت کو ختم کرنے اور دوسری امر اسلام کی اصلاح کے لئے نازل ہوئی، ابن مبارک بھی یہی فرماتے ہیں۔ مگر اس صورت میں کہ ان سے کھلی بےحیائی کا کام صادر ہوجائے، اس سے مراد بقول اکثر مفسرین صحابہ تابعین وغیرہ زنا کاری ہے، یعنی اس صورت میں جائز ہے کہ اس سے مہر لوٹا لینا چاہئے اور اسے تنگ کرے تاکہ خلع پر رضامند ہو، جیسے سورة بقرہ کی آیت میں ہے آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَاۗءَ كَرْهًا ۭوَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ) 4۔ النسآء :19) یعنی تمہیں حلال نہیں کہ تم انہیں دیئے ہوئے میں سے کچھ بھی لے لو مگر اس حالت میں دونوں کو اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکنے کا خوف ہو۔ بعض بزرگوں نے فرمایا ہے آیت (فاحشتہ مبینتہ) سے مراد خاوند کے خلاف کام کرنا اس کی نافرمانی کرنا بد زبانی کج خلقی کرنا حقوق زوجیت اچھی طرح ادا نہ کرنا وغیرہ ہے، امام ابن جریر فرماتے ہیں آیت کے الفاظ عام ہیں زنا کو اور تمام مذکورہ عوامل بھی شامل ہیں یعنی ان تمام صورتوں میں خاوند کو مباح ہے کہ اسے تنگ کرے تاکہ وہ اپنا کل حق یا تھوڑا حق چھوڑ دے اور پھر یہ اسے الگ کر دے امام صاحب کا یہ فرمان بہت ہی مناسب ہے واللہ اعلم، یہ روایت بھی پہلے گزر چکی ہے کہ یہاں اس آیت کے اترنے کا سبب وہی جاہلیت کی رسم ہے جس سے اللہ نے منع فرما دیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا بیان جاہلیت کی رسم کو اسلام میں سے خارج کرنے کے لئے ہوا ہے، ابن زید فرماتے ہیں مکہ کے قریش میں یہ رواج تھا کہ کسی شخص نے کسی شریف عورت سے نکاح کیا موافقت نہ ہوئی تو اسے طلاق دے دی لیکن یہ شرط کرلیتا تھا کہ بغیر اس کی اجازت کے یہ دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی اس بات پر گواہ مقرر ہوجاتے اور اقرار نامہ لکھ لیا جاتا اب اگر کہیں سے پیغام آئے اور وہ عورت اراضی ہو تو یہ کہتا مجھے اتنی رقم دے تو میں تجھے نکاح کی اجازت دوں گا اگر وہ ادا کردیتی تو تو خیر ورنہ یوں نہ اسے قید رکھتا اور دوسرا نکاح نہ کرنے دیتا اس کی ممانعت اس آیت میں نازل ہوئی، بقول مجاہد ؒ یہ حکم اور سورة بقرہ کی آیت کا حکم دونوں ایک ہی ہیں۔ پھر فرمایا عورتوں کے ساتھ خوش سلوکی کا رویہ رکھو ان کے ساتھ اچھا برتاؤ برتو، نرم بات کہو نیک سلوک کرو اپنی حالت بھی اپنی طاقت کے مطابق اچھی رکھو، جیسے تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے لئے بنی سنوری ہوئی اچھی حالت میں رہے تم خود اپنی حالت بھی اچھی رکھو جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ بالْمَعْرُوْفِ ۠ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۭ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ) 2۔ البقرۃ :228) جیسے تمہارے حقوق ان پر ہیں ان کے حقوق بھی تم پر ہیں۔ بہترین زوج محترم رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کرنے والا ہو میں اپنی بیویوں سے بہت اچھا رویہ رکھتا ہوں، نبی کریم ﷺ اپنی بیویوں کے ساتھ بہت لطف و خوشی بہت نرم اخلاقی اور خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے، انہیں خوش رکھتے تھے ان سے ہنسی دل لگی کی باتیں کیا کرتے تھے، ان کے دل اپنی مٹھی میں رکھتے تھے، انہیں اچھی طرح کھانے پینے کو دیتے تھے کشادہ دلی کے ساتھ ان پر خرچ کرتے تھے ایسی خوش طبعی کی باتیں بیان فرماتے جن سے وہ ہنس دیتیں، ایسا بھی ہوا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے ساتھ آپ نے دوڑ لگائی اس دوڑ میں عائشہ صدیقہ آگے نکل گئیں کچھ مدت بعد پھر دوڑ لگی اب کے حضرت عائشہ پیچھے رہ گئیں تو آپ نے فرمایا معاملہ برابر ہوگیا، اس سے بھی آپ کا مطلب یہ تھا کہ حضرت صدیقہ خوش رہیں ان کا دل بہلے جس بیوی صاحبہ کے ہاں آپ کو رات گزارنی ہوتی وہیں آپ کی کل بیویاں جمع ہوجاتیں دو گھڑی بیٹھتیں بات چیت ہوتی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ان سب کے ساتھ ہی حضور ﷺ رات کا کھانا تناول فرماتے پھر سب اپنے اپنے گھر چلی جاتیں اور آپ وہیں آرام فرماتے جن کی باری ہوتی، اپنی بیوی صاحبہ کے ساتھ ایک ہی چادر میں سوتے کرتا نکال ڈالتے صرف تہبند بندھا ہوا ہوتا عشاء کی نماز کے بعد گھر جا کردو گھڑی ادھر ادھر کی کچھ باتیں کرتے جس سے گھر والیوں کا جی خوش ہوتا الغرض نہایت ہی محبت پیار کے ساتھ اپنی بیویوں کو آپ رکھتے تھے۔ ﷺ پس مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھی طرح راضی خوشی محبت پیار سے رہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فرماں برداری کا دوسرا نام اچھائی ہے، اس کے تفصیلی احکام کی جگہ تفسیر نہیں بلکہ اسی مضمون کی کتابیں ہیں والحمد للہ پھر فرماتا ہے کہ باوجود جی نہ چاہنے کے بھی عورتوں سے اچھی بود و باش رکھنے میں بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بھلائی عطا فرمائے، ممکن ہے نیک اولاد ہوجائے اور اس سے اللہ تعالیٰ بہت سی بھلائیاں نصیب کرے، صحیح حدیث میں ہے مومن مرد مومنہ عورت کو الگ نہ کرے اگر اس کی ایک آدھ بات سے ناراض ہوگا تو ایک آدھ خصلت اچھی بھی ہوگی۔ پھر فرماتا ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے اور اس کی جگہ دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہے تو اسے دئے ہوئے مہر میں سے کچھ بھی واپس نہ لے چاہے خزانہ کا خزانہ دیا ہوا ہو۔ حق مہر کے مسائل سورئہ آل عمران کی تفسیر میں قنطار کا پورا بیان گزر چکا ہے اس لئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہر میں بہت سارا مال دینا بھی جائز ہے، امیر المومنین حضرت عمر فاروق نے پہلے بہت لمبے چوڑے مہر سے منع فرما دیا تھا پھر اپنے قول سے رجوع کیا، جیسے کہ مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا عورتوں کے مہر باندھنے میں زیادتی نہ کرو اگر یہ دنیوی طور پر کوئی بھی چیز ہوتی یا اللہ کے نزدیک یہ تقوی کی چیز ہوتی تو تم سب سے پہلے اس پر اللہ کے رسول ﷺ عمل کرتے حضور ﷺ نے اپنی کسی بیوی کا یا کسی بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں کیا (تقریباً سوا سو روپیہ) انسان زیادہ مہر باندھ کر پھر مصیبت میں پڑجاتا ہے یہاں تک کہ رفتہ رفتہ اس کی بیوی اسے بوجھ معلوم ہونے لگتی ہے اور اس کے دل میں اس کی دشمنی بیٹھ جاتی ہے اور کہنے لگتا ہے کہ تو نے تو میرے کندھے پر مشک لٹکا دی، یہ حدیث بہت سی کتابوں میں مختلف الفاظ سے مروی ہے ایک میں ہے کہ آپ نے منبر نبوی پر کھڑے ہو کر فرمایا لوگو تم نے کیوں لمبے چوڑے مہر باندھنے شروع کر دئے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے زمانہ کے آپ کے اصحاب نے تو چار سو درہم (تقریباً سو روپیہ) مہر باندھا ہے اگر یہ تقویٰ اور کرامت کے زاد ہونے کا سبب ہوتا تو تم زیادہ حق مہر ادا کرنے میں بھی ان پر سبقت نہیں لے سکتے تھے خبردار آج سے میں نہ سنوں کہ کسی نے چار سو درہم سے زیادہ کا مہر مقرر کیا یہ فرما کر آپ نیچے اتر آئے تو ایک قریشی خاتون سامنے آئیں اور کہنے لگیں امیر المومنین کیا آپ نے چار سو درہم سے زیادہ کے حق مہر سے لوگوں کو منع فرما دیا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں کہا کیا آپ نے اللہ کا کلام جو اس نے نازل فرمایا ہے نہیں سنا ؟ کہا وہ کیا ؟ کہا سنئیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَـيْـــًٔـا ۭ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُھْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا) 4۔ النسآء :20) تم نے انہیں خزانہ دیا ہو حضرت عمر ؟ نے فرمایا اللہ مجھے معاف فرما عمر سے تو ہر شخص زیادہ سمجھدار ہے پھر واپس اسی وقت منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے فرمایا لوگو میں نے تمہیں چار سو درہم سے زیادہ کے مہر سے روک دیا تھا لیکن اب کہتا ہوں جو شخص اپنے مال میں سے مہر میں جتنا چاہے دے اپنی خوشی سے جتنا مہر مقرر کرنا چاہے کرے میں نہیں روکتا، اور ایک روایت میں اس عورت کا آیت کو اس طرح پڑھنا مروی ہے آیت (وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَـيْـــًٔـا) 4۔ النسآء :20) (من ذہب) حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرأت میں بھی اسی طرح ہے اور حضرت عمر کا یہ فرمانا بھی مروی ہے کہ ایک عورت عمر پر غالب آگئی اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا گوذی القصہ یعنی یزیدین حصین حارثی کی بیٹی ہو پھر بھی مہر اس کا زیادہ مقرر نہ کرو اور اگر تم نے ایسا کیا تو وہ زائد رقم میں بیت المال کے لئے لے لوں گا اس پر ایک دراز قد چوڑی ناک والی عورت نے کہا حضرت آپ یہ حکم نہیں دے سکتے۔ پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم اپنی بیوی کو دیا ہوا حق مہر واپس کیسے لے سکتے ہو ؟ جبکہ تم نے اس سے فائدہ اٹھایا یا ضرورت پوری کی وہ تم سے اور تم اس سے مل گئی یعنی میاں بیوی کے تعلقات بھی قائم ہوگئے، بخاری و مسلم کی اس حدیث میں ہے ایک شخص نے اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور حضور ﷺ کے سامنے پیش ہوا۔ بیوی نے بھی اپنے بےگناہ ہونے شوہر نے اپنے سچا ہونے کی قسم کھائی پھر ان دونوں کا قسمیں کھانا اور اس کے بعد آپ کا یہ فرمان کہ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ تم دونوں میں سے کون جھوٹا ہے ؟ کیا تم میں سے کوئی اب بھی توبہ کرتا ہے ؟ تین دفعہ فرمایا تو اس مرد نے کہا میں نے جو مال اس کے مہر میں دیا ہے اس کی بابت کیا فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اسی کے بدلے تو یہ تیرے لئے حلال ہوئی تھیں اب اگر تو نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے تو پھر اور ناممکن بات ہوگی اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت نفرہ نے ایک کنواری لڑکی سے نکاح کیا جب اس سے ملے تو دیکھا کہ اسے زنا کا حمل ہے حضور ﷺ سے ذکر کیا آپ نے اسے الگ کرا دیا اور مہر دلوا دیا اور عورت کو کوڑے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا جو بچہ ہوگا وہ تیرا غلام ہوگا اور مہر تو اس کی حلت کا سبب تھا (ابوداؤد) غرض آیت کا مطلب بھی یہی ہے کہ عورت اس کے بیٹے پر حرام ہوجاتی ہے اس پر اجماع ہے، حضرت ابو قیس نے ان کی بیوی سے نکاح کی خواہش کی جو ان کی سوتیلی ماں تھیں اس پر اس بیوی صاحبہ نے فرمایا بیشک تو اپنی قوم میں نیک ہے لیکن میں تو تجھے اپنا بیٹا شمار کرتی ہوں خیر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جاتی ہوں جو وہ حکم فرمائیں وہ حاضر ہوئیں اور حضور ﷺ کو ساری کیفیت بیان کی آپ نے فرمایا اپنے گھر لوٹ جاؤ پھر یہ آیت اتری کہ جس سے باپ نے نکاح کیا اس سے بیٹے کا نکاح حرام ہے، ایسے واقعات اور بھی اس وقت موجود تھے جنہیں اس ارادے سے باز رکھا گیا ایک تو یہی ابو قیس والا واقعہ ان بیوی صاحبہ کا نام ام عبید اللہ ضمرہ تھا دوسرا واقعہ خلف کا تھا ان کے گھر میں ابو طلحہ کی صاحبزادی تھیں اس کے انتقال کے بعد اس کے لڑکے صفوان نے اسے اپنے نکاح میں لانا چاہا تھا سہیلی میں لکھا ہے جاہلیت میں اس نکاح کا معمول تھا جسے باقاعدہ نکاح سمجھا جاتا تھا اور بالکل حلال گنا جاتا تھا اسی لئے یہاں بھی فرمایا گیا کہ جو پہلے گزر چکا سو گزر چکا، جیسے دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کو بیان فرما کر بھی یہی کیا گیا کنانہ بن خزیمہ نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تھا نصر اسی کے بطن سے پیدا ہوا تھا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ میری اوپر کی نسل بھی باقاعدہ نکاح سے ہی ہے نہ کہ زنا سے تو معلوم ہوا کہ یہ رسم ان میں برابر جاری تھی اور جائز تھی اور اسے نکاح شمار کرتے تھے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جاہلیت والے بھی جن جن رشتوں کو اللہ نے حرام کیا ہے، سوتیلی ماں اور دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنے کے سوا سب کو حرام ہی جانتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں ان دونوں رشتوں کو بھی حرام ٹھہرایا حضرت عطا اور حضرت قتادہ بھی یہی فرماتے ہیں یاد رہے کہ سہیلی نے کنانہ کا جو واقعہ نقل کیا ہے وہ غور طلب ہے بالکل صحیح نہیں، واللہ اعلم۔ بہر صورت یہ رشتہ امت مسلمہ پر حرام ہے اور نہایت قبیح امر ہے۔ یہاں تک کہ فرمایا یہ نہایت فحش برا کام بغض کا ہے۔ دونوں میاں بیوی میں خلوت و صحبت ہوچکی ہے پھر مہر واپس لینا کیا معنی رکھتا ہے۔ پھر فرمایا کہ عقد نکاح جو مضبوط عہد و پیمان ہے اس میں تم جکڑے جا چکے ہو، اللہ کا یہ فرمان تم سن چکے ہو کہ بساؤ تو اچھی طرح اور الگ کرو تو عمدہ طریقہ سے چناچہ حدیث میں بھی ہے کہ تم ان عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پہ لیتے ہو اور ان کو اپنے لئے اللہ تعالیٰ کا کلمہ پڑھ کر یعنی نکاح کے خطبہ تشہد سے حلال کرتے ہو، رسول اللہ ﷺ کو معراج والی رات جب بہترین انعامات عطا ہوئے، ان میں ایک یہ بھی تھا کہ آپ سے فرمایا گیا تیری امت کا کوئی خطبہ جائز نہیں جب تک وہ اس امر کی گواہی نہ دیں کہ تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے (ابن ابی حاتم)نکاح کے احکامات صحیح مسلم شریف میں حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجتہ الوداع کے خطبہ میں فرمایا تم نے عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پہ لیا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے کلمہ سے اپنے لئے حلال کیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سوتیلی ماؤں کی حرمت بیان فرماتا ہے اور ان کی تعظیم اور توقیر ظاہر کرتا ہے یہاں تک کہ باپ نے کسی عورت سے صرف نکاح کیا ابھی وہ رخصت ہو کر بھی نہیں آئی مگر طلاق ہوگئی یا باپ مرگیا وغیرہ تو بھی وہ سبب اور برا راستہ ہے اور جگہ فرما ہے آیت (وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ) 6۔ الانعام :151) یعنی کسی برائی بےحیائی اور فحش کام کے قریب بھی نہ جاؤ یا وہ بالکل ظاہر ہو خواہ پوشیدہ ہو اور فرمان ہے آیت (وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا) 17۔ الاسراء :32) زنا کے قریب نہ جاؤ یقینا وہ فحش کام اور بری راہ ہے یہاں مزید فرمایا کہ یہ کام بڑے بغض کا بھی ہے یعنی فی نفسہ بھی بڑا برا امر ہے اس سے باپ بیٹے میں عداوت پڑجاتی ہے اور دشمنی قائم ہوجاتی ہے، یہی مشاہدہ میں آیا ہے اور عموماً یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جو شخص کسی عورت سے دوسرا نکاح کرتا ہے وہ اس کے پہلے خاوند سے بغض ہی رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بیویاں امہات المومنین قرار دے گئیں اور امت پر مثل ماں کے حرام کی گئیں کیونکہ وہ نبی ﷺ کی بیویاں ہیں اور آپ مثل باپ کے ہیں، بلکہ اجماعاً ثابت ہے کہ آپ کے حق باپ دادا کے حقوق سے بھی بہت زیادہ اور بہت بڑے ہیں بلکہ آپ کی محبت خود اپنی جانوں کی محبت پر بھی مقدم ہے صلوات اللہ وسلامہ علیہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کام اللہ کے بغض کا موجب ہے اور برا راستہ ہے اب جو ایسا کام کرے وہ دین سے مرتد ہے اسے قتل کردیا جائے اور اس کا مال بیت المال میں بطور فے کے داخل کرلیا جائے، سنن اور مسند احمد میں مروی ہے کہ ایک صحابی کو رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کی طرف بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے باپ کے بعد نکاح کیا تھا کہ اسے قتل کر ڈالو اور اس کے مال پر قبضہ کرلو، حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ میرے چچا حارث بن عمیر اپنے ہاتھ میں نبی ﷺ کا دیا ہوا جھنڈا لے کر میرے پاس سے گزرے میں نے پوچھا کہ چچا حضور ﷺ نے آپ کو کہاں بھیجا ہے ؟ فرمایا اس شخص کی طرف جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا ہے مجھے حکم ہے کہ میں اس کی گردن ماروں (مسند احمد)سوتیلی ماں سے نکاح حرام ہے مسئلہ اس پر تو علماء کا اجماع ہے کہ جس عورت سے باپ نے مباشرت کرلی خواہ نکاح کر کے خواہ ملکیت میں لا کر خواہ شبہ سے وہ عورت بیٹے پر حرام ہے، ہاں اگر جماع نہ ہوا ہو تو صرف مباشرت ہوئی ہو یا وہ اعضاء دیکھے ہوں جن کا دیکھنا اجنبی ہونے کی صورت میں حلال نہ تھا تو اس میں اختلاف ہے امام احمد تو اس صورت میں بھی اس عورت کو لڑکے پر حرام بتاتے ہیں، حافظ ابن عساکر کے اس واقعہ سے بھی اس روایت کی تصدیق ہوتی ہے کہ حضرت خدیج حمصی نے جو حضرت معاویہ کے مولی تھے حضرت معاویہ کے لئے ایک لونڈی خریدی جو گورے رنگ کی اور خوبصورت تھی اسے برہنہ ان کے پاس بھیج دیا ان کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس سے اشارہ کر کے کہنے لگے اچھا نفع تھا اگر یہ ملبوس ہوتی پھر کہنے لگے اسے یزید بن معاویہ کے پاس لے جاؤ پھر کہا نہیں نہیں ٹھہرو ربیعہ بن عمرو حرسی کو میرے پاس بلا لاؤ یہ بڑے فقیہ تھے جب آئے تو حضرت معاویہ نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا کہ میں نے اس عورت کے یہ اعضاء مخصوص دیکھے ہیں، یہ برہنہ تھی۔ اب میں اسے اپنے لڑکے یزید کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں تو کیا اس کے لئے یہ حلال ہے ؟ حضرت ربیعہ نے فرمایا امیر المومنین ایسا نہ کیجئے یہ اس کے قابل نہیں رہی فرمایا تم ٹھیک کہتے ہو اچھا جاؤ عبداللہ بن مسعدہ فزاری کو بلا لاؤ وہ آئے وہ تو گندم گوں رنگ کے تھے اس سے حضرت معاویہ نے فرمایا اس لونڈی کو میں تمہیں دیتا ہوں تاکہ تمہاری اولاد سفید رنگ پیدا ہو یہ عبداللہ بن مسعدہ وہ ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ کو دیا تھا آپ نے انہیں پالا پرورش کیا پھر اللہ تعالیٰ کے نام سے آزاد کردیا پھر یہ حضرت معاویہ کے پاس چلے آئے تھے۔

کون سی عورتیں مردوں پر حرام ہیں ؟ نسبی، رضاعی اور سسرالی رشتے سے جو عورتیں مرد پر حرام ہیں ان کا بیان آیہ کریمہ میں ہو رہا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں سات عورتیں بوجہ نسب حرام ہیں اور سات بوجہ سسرال کے پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی جس میں بہن کی لڑکیوں تک نسبی رشتوں کا ذکر ہے جمہور علماء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ زنا سے جو لڑکی پیدا ہوئی وہ بھی اس زانی پر حرام ہے کیونکہ یہ بھی بیٹی ہے اور بیٹیاں حرام ہیں، یہی مذہب ابوحنیفہ مالک اور احمد بن حنبل کا ہے، امام شافعی سے کچھ اس کی اباحت میں بھی بحث کی گئی ہے اس لئے کہ شرعاً یہ بیٹی نہیں پس جیسے کہ ورثے کے حوالے سے یہ بیٹی کے حکم سے خارج ہے اور ورثہ نہیں پاتی اسی طرح اس آیت حرمت میں بھی وہ داخل نہیں ہے واللہ اعلم، (صحیح مذہب وہی ہے جس پر جمہور ہیں۔ (مترجم) پھر فرماتا ہے کہ جس طرح تم پر تمہاری سگی ماں حرام ہے اسی طرح رضاعی ماں بھی حرام ہے بخاری و مسلم میں ہے کہ رضاعت بھی اسے حرام کرتی ہے جسے ولادت حرام کرتی ہے صحیح مسلم میں ہے رضاعت سے بھی وہ حرام ہے جو نسب سے ہے، بعض فقہاء نے اس میں سے چار صورتیں بعض نے چھ صورتیں مخصوص کی ہیں جو احکام کی فروع کی کتابوں میں مذکور ہیں لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ اس میں سے کچھ بھی مخصوص نہیں اس لئے کہ اسی کے مانند بعض صورتیں نسبت میں بھی پائی جاتی ہیں اور ان صورتوں میں سے بعض صرف سسرالی رشتہ کی وجہ سے حرام ہیں لہذا حدیث پر اعتراض خارج از بحث ہے والحمد للہ۔ آئمہ کا اس میں بھی اختلاف ہے کہ کتنی مرتبہ دودھ پینے سے حرمت ثبات ہوتی ہے، بعض تو کہتے ہیں کہ تعداد معین نہیں دودھ پیتے ہی حرمت ثابت ہوگئی امام مالک یہی فرماتے ہیں، ابن عمر سعید بن مسیب عروہ بن زبیر اور زہری کا قول بھی یہی ہے، دلیل یہ ہے کہ رضاعت یہاں عام ہے بعض کہتے ہیں تین مرتبہ جب پئے تو حرمت ثابت ہوگئی، جیسے کہ صحیح مسلم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا ایک مرتبہ کا چوسنا یا دو مرتبہ کا پی لینا حرام نہیں کرتا یہ حدیث مختلف الفاظ سے مروی ہے، امام احمد، اسحاق بن راہویہ، ابو عبیدہ، ابو ثور بھی یہی فرماتے ہیں، حضرت علی، حضرت عائشہ، حضرت ام الفضل، حضرت ابن زبیر، سلیمان بن یسار، سعید بن جبیر رحمہم اللہ سے بھی یہی مروی ہے بعض کہتے ہیں پانچ مرتبہ کے دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے اس سے کم نہیں، اس کی دلیل صحیح مسلم کی یہ روایت ہے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتے ہیں کہ پہلے قرآن میں دس مرتبہ کی دودھ پلائی پر حرمت کا حکم اترا تھا پھر وہ منسوخ ہو کر پانچ رہ گئے حضور ﷺ کے فوت ہونے تک وہ قرآن میں پڑھا جاتا رہا دوسری دلیل سہلہ بنت سہیل کی روایت ہے کہ ان کو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ حضرت سالم کو جو حضرت ابو حذیفہ کے مولی تھے پانچ مرتبہ دودھ پلا دیں، حضرت عائشہ اسی حدیث کے مطابق جس عورت کے گھر کسی کا آنا جانا دیکھتیں اسے یہی حکم دیتیں، امام شافعی اور ان کے اصحاب کا فرمان بھی یہی ہے کہ پانچ مرتبہ دودھ پینا معتبر ہے (مترجم کی تحقیق میں بھی راجح قول یہی ہے واللہ اعلم) یہ بھی یاد رہے کہ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ یہ رضاعت دودھ چھٹنے سے پہلے یعنی دو سال کے اندر اندر کی عمر میں ہو، اس کا مفصل بیان آیت (حولین کاملین) کی تفسیر میں سورة بقرہ میں گزر چکا ہے، پھر اس میں بھی اختلاف ہے کہ اس رضاعت کا اثر رضاعی ماں کے خاوند تک بھی پہنچے گا یا نہیں ؟ تو جمہور کا اور آئمہ اربعہ کا فرمان تو یہ ہے کہ پہنچے گا اور بعض سلف کا قول ہے کہ صرف دودھ پلانے والی تک ہی رہے گا اور رضاعی باپ تک نہیں پہنچے گا اس کی تفصیل کی جگہ احکام کی بڑے بڑی کتابیں ہیں نہ کہ تفسیر (صحیح قول جمہور کا ہے واللہ اعلم۔ مترجم) پھر فرماتا ہے ساس حرام ہے جس لڑکی سے نکاح ہوا مجرد نکاح ہونے کے سبب اس کی ماں اس پر حرام ہوگئی خواہ صحبت کرے یا نہ کرے، ہاں جس عورت کے ساتھ نکاح کرتا ہے اور اس کی لڑکی اس کے اگلے خاوند سے اس کے ساتھ ہے تو اگر اس سے صحبت کی تو وہ لڑکی حرام ہوگی اگر مجامعت سے پہلے ہی اس عورت کو طلاق دے دی تو وہ لڑکی اس پر حرام نہیں، اسی لئے اس آیت میں یہ قید لگائی بعض لوگوں نے ضمیر کو ساس اور اس کی پرورش کی ہوئی لڑکیوں دونوں کی طرف لوٹایا ہے وہ کہتے ہیں کہ ساس بھی اس وقت حرام ہوتی ہے جب اس کی لڑکی سے اس کے داماد نے خلوت کی ورنہ نہیں، صرف عقد سے نہ تو عورت کی ماں حرام ہوتی ہے نہ عورت کی بیٹی، حضرت علی فرماتے ہیں کہ جس شخص نے کسی لڑکی سے نکاح کیا پھر دخول سے پہلے ہی طلاق دے دی تو وہ اس کی ماں سے نکاح کرسکتا ہے جیسے کہ ربیبہ لڑکی سے اس کی ماں کو اسی طرح کی طلاق دینے کے بعد نکاح کرسکتا ہے حضرت زید بن ثابت سے بھی یہی منقول ہے ایک اور روایت میں بھی آپ سے مروی ہے آپ فرماتے تھے جب وہ عورت غیر مدخولہ مرجائے اور یہ خاوند اس کی میراث لے لے تو پھر اس کی ماں کو لانا مکروہ ہے ہاں اگر دخول سے پہلے طلاق دے دی ہے تو اگر چاہے نکاح کرسکتا ہے حضرت ابوبکر بن کنانہ فرماتے ہیں کہ میرا نکاح میرے باپ نے طائف کی ایک عورت سے کرایا ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ اس کا باپ میرا چچا فوت ہوگیا اس کی بیوی یعنی میری ساس بیوہ ہوگئی وہ بہت مالدار تھیں میرے باپ نے مجھے مشورہ دیا کہ اس لڑکی کو چھوڑ دوں اور اس کی ماں سے نکاح کرلوں میں نے حضرت ابن عباس سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا تمہارے لئے یہ جائز ہے پھر میں نے حضرت ابن عمر سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ جائز نہیں میں نے اپنے والد سے ذکر کیا انہوں نے تو امیر معاویہ کو ہی سوال کیا حضرت امیر معاویہ نے تحریر فرمایا کہ میں نہ تو حرام کو حلال کروں نہ حلال کر حرام تم جانو اور تمہارا کام تم حالت دیکھ رہے ہو معاملہ کے تمام پہلو تمہاری نگاہوں کے سامنے ہیں۔ عورتیں اس کے علاوہ بھی بہت ہیں۔ غرض نہ اجازت دی نہ انکار کیا چناچہ میرے باپ نے اپنا خیال اس کی ماں کی طرف سے ہٹا لیا حضرت عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ عورت کی لڑکی اور عورت کی ماں کا حکم ایک ہی ہے اگر عورت سے دخول نہ کیا ہو تو یہ دونوں حلال ہیں، لیکن اس کی اسناد میں مبہم راوی ہے، حضرت مجاہد کا بھی یہی قول ہے، ابن جبیر اور حضرت ابن عباس بھی اسی طرف گئے ہیں، حضرت معاویہ نے اس میں توقف فرمایا ہے شافعیوں میں سے ابو الحسن احمد بن محمد بن صابونی سے بھی بقول رافعی یہی مروی ہے حضرت عبداللہ بن مسعود سے بھی اسی کے مثل مروی ہے لیکن پھر آپ نے اپنے اس قول سے رجوع کرلیا ہے طبرانی میں ہے کہ قبیلہ فزارہ کی شاخ قبیلہ بنو کمخ کے ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر اس کی بیوہ ماں کے حسن پر فریفتہ ہوا تو حضرت ابن مسعود سے مسئلہ پوچھا کہ کیا مجھے اس کی ماں سے نکاح کرنا جائز ہے آپ نے فرمایا ہاں چناچہ اس نے اس لڑکی کو طلاق دے کر اس کی ماں سے نکاح کرلیا اس سے اولاد بھی ہوئی پھر حضرت ابن مسعود مدینہ آئے اور اس مسئلہ کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ حلال نہیں چناچہ آپ واپس کوفے گئے اور اس سے کہا کہ اس عورت کو الگ کر دے یہ تجھ پر حرام ہے اس نے اس فرمان کی تعمیل کی اور اسے الگ کردیا جمہور علماء اس طرف ہیں لڑکی تو صرف عقد نکاح سے حرام نہیں ہوتی تاوقتیکہ اس کی ماں سے مباشرت نہ کی ہو ہاں ماں صرف لڑکی کے عقد نکاح ہوتے ہی حرام ہوجاتی ہے گو مباشرت نہ ہوئی ہو، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو دخول سے پہلے طلاق دے دے یا وہ عورت مرجائے تو اس کی ماں اس پر حلال نہیں چونکہ مبہم ہے اس لئے اسے ناپسند فرمایا، حضرت ابن مسعود، عمران بن حصین، مسروق، طاؤس، عکرمہ، عطا، حسن، مکحول، ابن سیرین، قتادہ اور زہری سے بھی اسی طرح مروی ہے، چاروں اماموں ساتوں فقہاء اور جمہور علماء سلف و خلف کا یہی مذہب ہے والحمد للہ امام ابن جریج فرماتے ہیں ٹھیک قول انہی حضرات کا ہے جو ساس کو دونوں صورتوں میں حرام بتلاتے ہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حرمت کے ساتھ دخول کی شرط نہیں لگائی جیسے کہ لڑکی کی ماں کے لئے یہ شرط لگائی ہے پھر اس پر اجماع ہے جو ایسی دلیل ہے کہ اس کا خلاف کرنا اس وقت جائز ہی نہیں جب کہ اس پر اتفاق ہو اور ایک غریب حدیث میں بھی یہ مروی ہے گو اس کی سند میں کلام ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جبکہ کوئی مرد کسی عورت سے نکاح کرے اگر اس نے اس کی ماں سے نکاح کیا ہے پھر ملنے سے پہلے ہی اسے طلاق دے دی ہے تو اگر چاہے اس کی لڑکی سے نکاح کرسکتا ہے، گو اس حدیث کی سند کمزور ہے لیکن اس مسئلہ پر اجماع ہوچکا ہے جو اس کی صحت پر ایسا گواہ ہے جس کے بعد دوسری گواہی کی ضرورت نہیں، (ٹھیک مسئلہ یہی ہے واللہ اعلم۔ مترجم) پھر فرماتا ہے تمہاری پرورش کی ہوئی وہ لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہوں وہ بھی تم پر حرام ہیں بشرطیکہ تم نے ان سوتیلی لڑکیوں کی ماں سے صحبت کی ہو جمہور کا فرمان ہے کہ خواہ گود میں پلی ہوں حرام ہیں چونکہ عموماً ایسی لڑکیاں اپنی ماں کے ساتھ ہی ہوتی ہیں اور اپنے سوتیلے باپوں کے ہاں ہی پرورش پاتی ہیں اس لئے یہ کہہ دیا گیا ہے یہ کوئی قید نہیں جیسے اس آیت میں ہے آیت (ولا تکرہوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنا) یعنی تمہاری لونڈیاں اگر پاکدامن رہنا چاہتی ہوں تو تم انہیں بدکاری پر بےبس نہ کرو، یہاں بھی یہ قید کہ اگر وہ پاکدامن رہنا چاہیں صرف بااعتبار واقعہ کے غلبہ کے ہے یہ نہیں کہ اگر وہ خود ایسی نہ ہوں تو انہیں بدکاری پر آمادہ کرو، اسی طرح اس آیت میں ہے کہ گود میں چاہے نہ ہوں پھر بھی حرام ہی ہیں۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت ام حبیبہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ میری بہن ابو سفیان کی لڑکی عزہ سے نکاح کرلیجئے۔ آپ نے فرمایا کیا تم یہ چاہتی ہو ؟ ام المومنین نے کہا ہاں میں آپ کو خالی تو رکھ نہیں سکتی پھر میں اس بھلائی میں اپنی بہن کو ہی کیوں نہ شامل کروں ؟ آپ نے فرمایا ان کی وہ بیٹی جو ام سلمہ سے ہے ؟ کہا ہاں۔ فرمایا اولاً تو وہ مجھ پر اس وجہ سے حرام ہے کہ وہ میری ربیبہ ہے جو میرے ہاں پرورش پا رہی ہے دوسری یہ کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو بھی وہ مجھ پر حرام تھیں اس لئے کہ وہ میرے دودھ شریک بھائی کی بیٹی میری بھتیجی ہیں۔ مجھے اور اس کے باپ ابو سلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے۔ خبردار اپنی بیٹیاں اور اپنی بہنیں مجھ پر پیش نہ کرو، بخاری کی روایت ہے یہ الفاظ ہیں کہ اگر میرا نکاح ام سلمہ جسے نہ ہوا ہوتا تو بھی وہ مجھ پر حلال نہ تھیں، یعنی صرف نکاح کو آپ نے حرمت کا اصل قرار دیا، یہی مذہب چاروں اماموں ساتوں فقیہوں اور جمہور سلف و خلف کا ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر وہ اس کے ہاں پر پرورش پاتی ہو تو بھی حرام ہے ورنہ نہیں، حضرت مالک بن اوس بن حدثان فرماتے ہیں میری بیوی اولاد چھوڑ کر مرگئیں مجھے ان سے بہت محبت تھی اس وجہ سے ان کی موت کا مجھے بڑا صدمہ ہوا حضرت علی سے میری اتفاقیہ ملاقات ہوئی تو آپ نے مجھے مغموم پا کر دریافت کیا کہ کیا بات ہے ؟ میں نے واقعہ سنایا تو آپ نے فرمایا تجھ سے پہلے خاوند سے بھی اس کی کوئی اولاد ہے ؟ میں نے کہا ہاں ایک لڑکی ہے اور وہ طائف میں رہتی ہے فرمایا پھر اس سے نکاح کرلو میں نے قرآن کریم کی آیت پڑھی کہ پھر اس کا کیا مطلب ہوگا ؟ آپ نے فرمایا یہ تو اس وقت ہے جبکہ اس نے تیرے ہاں پرورش پائی ہو اور وہ بقول تمہارے طائف میں رہتی ہے تیرے پاس ہے ہی نہیں گو اس کی اسناد صحیح ہے لیکن یہ قول بالکل غریب ہے، حضرت امام مالک کا بھی یہی قول بتایا ہے، ابن حزم نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے، ہمارے شیخ حافظ ابو عبداللہ نسبی نے ہم سے کہا کہ میں نے یہ بات شیخ امام تقی الدین ابن تیمیہ کے سامنے پیش کی تو آپ نے اسے بہت مشکل محسوس کیا اور توقف فرمایا واللہ اعلم۔ حجور سے مراد گھر ہے جیسے کہ حضرت ابو عبیدہ سے مروی ہے کہ ہاں جو کنیز ملکیت میں ہو اور اس کے ساتھ اس کی لڑکی ہو اس کے بارے میں حضرت عمر سے سوال ہوا کہ ایک کے بعد دوسری جائز ہوگی یا نہیں ؟ تو آپ نے فرمایا اسے پسند نہیں کرتا، اس کی سند منقطع ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے ایسے ہی سوال کے جواب میں فرمایا ہے ایک آیت سے یہ حلال معلوم ہوتی ہے دوسری آیت سے حرام اس لئے میں تو ایسا ہرگز نہ کروں، شیخ ابو عمر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ علماء میں اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں کہ کسی کو حلال نہیں کہ کسی عورت سے پھر اس کی لڑکی سے بھی اسی ملکیت کی بنا پر وطی کرے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے نکاح میں بھی حرام قرار دے دیا ہے یہ آیت ملاحظہ ہو اور علماء کے نزدیک ملکیت احکام نکاح کے تابع ہے مگر جو روایت حضرت عمر اور حضرت ابن عباس سے کی جاتی ہے لیکن آئمہ فتاویٰ اور ان کے تابعین میں سے کوئی بھی اس پر متفق نہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں ربیبہ کی لڑکی اور اس لڑکی کی لڑکی اس طرح جس قدر نیچے یہ رشتہ چلا جائے سب حرام ہیں، حضرت ابو العالیہ سے بھی اسی طرح یہ روایت قتادہ مروی ہے آیت (دخلتم بہن) سے مراد حضرت ابن عباس تو فرماتے ہیں ان سے نکاح کرنا ہے حضرت عطا فرماتے ہیں کہ وہ رخصت کر دئے جائیں کپڑا ہٹا دیا جائے چھیڑ ہوجائے اور ارادے سے مرد بیٹھ جائے ابن جریج نے سوال کیا کہ اگر یہ کام عورت ہی کے گھر میں ہوا ہو فرمایا وہاں یہاں دونوں کا حکم ایک ہی ہے ایسا اگر ہوگیا تو اس کی لڑکی اس پر حرام ہوگئی۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ صرف خلوت اور تنہائی ہوجانے سے اس کی لڑکی کی حرمت ثابت نہیں ہوتی اگر مباشرت کرنے اور ہاتھ لگانے سے اور شہوت سے اس کے عضو کی طرف دیکھنے سے پہلے ہی طلاق دے دی ہے تو تمام کے اجماع سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ لڑکی اس پر حرام نہ ہوگی تاوقتیکہ جماع نہ ہوا ہو۔ پھر فرمایا تمہاری بہوئیں بھی تم پر حرام ہیں جو تمہاری اولاد کی بیویاں ہوں یعنی لے پالک لڑکوں کی بیویاں حرام نہیں، ہاں سگے لڑکے کی بیوی یعنی بہو اپنے کسر پر حرام ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (فلما قضی زید منہا وطرا زوجنکہا لکیلا یکون علی المومنین حرج فی ازواج ادعیائہم الخ، یعنی جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کرلی تو ہم نے اسے تیرے نکاح میں دے دیا تاکہ مومنوں پر ان کے لے پالک لڑکوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے، حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ہم سنا کرتے تھے کہ جب آنحضرت ﷺ نے حضرت زید کی بیوی سے نکاح کرلیا تو مکہ کے مشرکوں نے کائیں کائیں شروع کردی اس پر یہ آیت اور آیت (وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَاۗءَكُمْ اَبْنَاۗءَكُمْ) 33۔ الاحزاب :4) اور آیت (مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ ۭ وَكَان اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا) 33۔ الاحزاب :40) نازل ہوئیں یعنی بیشک صلبی لڑکے کی بیوی حرام ہے۔ تمہارے لئے پالک لڑکے شرعاً تمہاری اولاد کے حکم میں نہیں آنحضرت ﷺ میں سے کسی مرد کے باپ نہیں، حسن بن محمد فرماتے ہیں کہ یہ آیتیں مبہم ہیں جیسے تمہارے لڑکوں کی بیویاں تمہاری ساسیں، حضرت طاؤس ابراہیم زہری اور مکحول سے بھی اسی طرح مروی ہے میرے خیال میں مبہم سے مراد عام ہیں۔ یعنی مدخول بہا اور غیر مدخول دونوں ہی شامل ہیں اور صرف نکاح کرتے ہی حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔ خواہ صحبت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو اس مسئلہ پر اتفاق ہے اگر کوئی شخص سوال کرے کہ رضاعی بیٹے کی حرمت کیسے ثابت ہوگی کیونکہ آیت میں تو صلبی بیٹے کا ذکر ہے تو جواب یہ ہے کہ وہ حرمت آنحضرت ﷺ کی اس حدیث سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا رضاعت سے وہ حرام ہے جو نسبت سے حرام ہے۔ جمہور کا مذہب یہی ہے کہ رضاعی بیٹے کی بیوی بھی حرام ہے بعض لوگوں نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ پھر فرماتا ہے دو بہنوں کا نکاح میں جمع کرنا بھی تم پر حرام ہے اسی طرح ملکیت کی لونڈیوں کا حکم ہے کہ دو بہنوں سے ایک ہی وقت وطی حرام ہے مگر جاہلیت کے زمانہ میں جو ہوچکا اس سے ہم درگزر کرتے ہیں پس معلوم ہوا کہ اب یہ کام آئندہ کسی وقت جائز نہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى ۚ وَوَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِيْمِ) 44۔ الدخان :56) یعنی وہاں موت نہیں آئے گی ہاں پہلی موت جو آنی تھی سو آچکی تو معلوم ہوا کہ اب آئندہ کبھی موت نہیں آئے گی، صحابہ تابعین ائمہ اور سلف و خلف کے علماء کرام کا اجماع ہے کہ دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا حرام ہے اور جو شخص مسلمان ہو اور اس کے نکاح میں دو بہنیں ہوں تو اسے اختیار دیا جائے گا کہ ایک کو رکھ لے اور دوسری کو طلاق دے دے اور یہ اسے کرنا ہی پڑے گا حضرت فیروز فرماتے ہیں میں جب مسلمان ہوا تو میرے نکاح میں دو عورتیں تھیں جو آپس میں بہنیں تھیں پس آنحضرت ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ ان میں سے ایک کو طلاق دے دو (مسند احمد) ابن ماجہ ابو داؤد اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے ترمذی میں بھی یہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ان میں سے جسے چاہو ایک کو رکھ لو اور ایک کو طلاق دے دو ، امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں، ابن ماجہ میں ابو خراش کا ایسا واقعہ بھی مذکور ہے ممکن ہے کہ ضحاک بن فیروز کی کنیت ابو خراش ہو اور یہ واقعہ ایک ہی ہو اور اس کے خلاف بھی ممکن ہے حضرت دیلمی نے رسول مقبول صلعم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں آپ نے فرمایا ان سے جسے چاہو ایک کو طلاق دے دو (ابن مردویہ) پس دیلمی سے مراد ضحاک بن فیروز ہیں ؓ یہ یمن کے ان سرداروں میں سے تھے جنہوں نے اسود عنسی متنبی ملعون کو قتل کیا چناچہ دو لونڈیوں کو جو آپس میں سگی بہنیں ہوں ایک ساتھ جمع کرنا ان سے وطی کرنا بھی حرام ہے، اس کی دلیل اس آیت کا عموم ہے جو بیویوں اور اور لونڈیوں پر مشتمل ہے حضرت ابن مسعود سے اس کا سوال ہوا تو آپ نے مکروہ بتایا سائل نے کہا قرآن میں جو ہے آیت (اِلَّا مَامَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ) 4۔ النسآء :24) یعنی وہ جو جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہیں اس پر حضرت ابن مسعود نے فرمایا تیرا اونٹ بھی تو تیرے داہنے ہاتھ کی ملکیت میں ہے جمہور کا قول بھی یہی مشہور ہے اور آئمہ اربعہ وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں گو بعض سلف نے اس مسئلہ میں توقف فرمایا ہے حضرت عثمان بن عفان سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ایک آیت اسے حلال کرتی ہے دوسری حرام میں تو اس سے منع کرتا سائل وہاں سے نکلا تو راستے میں ایک صحابی سے ملاقات ہوئی اس نے ان سے بھی یہی سوال کیا انہوں نے فرمایا اگر مجھے کچھ اختیار ہوتا تو میں ایسا کرنے والے کو عبرت ناک سزا دیتا، حضرت امام مالک فرماتے ہیں میرا گمان ہے کہ یہ فرمانے والے غالباً علی کا نام اس لئے نہیں لیا کہ وہ عبدالملک بن مروان کا مصاحب تھا اور ان لوگوں پر آپ کا نام بھاری پڑتا تھا حضرت الیاس بن عامر کہتے ہیں میں نے حضرت علی بن ابی طالب سے سوال کیا کہ میری ملکیت میں دو لونڈیاں ہیں دونوں آپس میں سگی بہنیں ہیں ایک سے میں نے تعلقات قائم کر رکھے ہیں اور میرے ہاں اس سے اولاد بھی ہوئی ہے اب میرا جی چاہتا ہے کہ اس کی بہن سے جو میری لونڈی ہے اپنے تعلقات قائم کروں تو فرمائیے شریعت کا اس میں کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا پہلی لونڈی کو آزاد کر کے پھر اس کی بہن سے یہ تعلقات قائم کرسکتے ہو، اس نے کہا اور لوگ تو کہتے ہیں کہ میں اس کا نکاح کرا دوں پھر اس کی بہن سے مل سکتا ہوں، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا دیکھو اس صورت میں بھی خرابی ہے وہ یہ کہ اگر اس کا خاوند اسے طلاق دے دے یا انتقال کر جائے تو وہ پھر لوٹ کر تمہاری طرف آجائے گی، اسے تو آزاد کردینے میں ہی سلامتی ہے، پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا سنو آزاد عورتوں اور لونڈیوں کے احکام حلت و حرمت کے لحاظ سے یکساں ہیں ہاں البتہ تعداد میں فرق ہے یعنی آزاد عورتیں چار سے زیادہ جمع نہیں کرسکتے اور لونڈیوں میں کوئی تعداد کی قید نہیں اور دودھ پلائی کے رشتہ سے بھی اس رشتہ کی وہ تمام عورتیں حرام ہوجاتی ہیں جو نسل اور نسب کی وجہ سے حرام ہیں (اس کے بعد تفسیر ابن کثیر کے اصل عربی نسخے میں کچھ عبارت چھوٹی ہوئی ہے بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ عبارت یوں ہوگی کہ یہ روایت ایسی ہے کہ اگر کوئی شخص مشرق سے یا مغرب سے صرف اس روایت کو سننے کے لئے سفر کر کے آئے اور سن کے جائے تو بھی اس کا سفر اس کے لئے سود مند رہے گا اور اس نے گویا بہت سستے داموں بیش بہا چیز حاصل کی۔ واللہ اعلم۔ مترجم) یہ یاد رہے کہ حصرت علی سے بھی اسی طرح مروی ہی جس طرح حصرت عثمان سے مروی ہے چناچہ ابن مردونیہ میں ہے کہ آپ نے فرمایا دو لونڈیوں کو جو آپس میں بہنیں ہوں ایک ہی وقت جمع کر کے ان سے مباشرت کرنا ایک آیت سے حرام ہوتا ہے اور دوسری سے حلال حضرت ابن عباس فرماتے ہیں لونڈیاں مجھ پر میری قرابت کی وجہ سے جو ان سے ہے بعض اور لونڈیوں کو حرام کردیتی ہیں لیکن انہیں خود آپس میں جو قرابت ہو اس سے مجھ پر حرام نہیں ہوتیں، جاہلیت والے بھی ان عورتوں کو حرام سمجھتے تھے جنہیں تم حرام سمجھتے ہو مگر اپنے باپ کی بیوی کو جو ان کی سگی ماں نہ ہو اور دو بہنوں کو ایک ساتھ ایک وقت میں نکاح میں جمع کرنا وہ حرام نہیں سمجھتے تھے لیکن اسلام نے آکر ان دونوں کو بھی حرام قرار دیا اس وجہ سے ان دونوں کی حرمت کے بیان کے ساتھ ہی فرما دیا کہ جو نکاح ہوچکے وہ ہوچکے حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جو آزاد عورتیں حرام ہیں وہی لونڈیاں بھی حرام ہیں ہاں تعداد میں حکم ایک نہیں یعنی آزاد عورتیں چار سے زیادہ جمع نہیں کرسکتے لونڈیوں کے لئے یہ حد نہیں، حضرت شعی بھی یہی فرماتے ہیں ابو عمرو فرماتے ہیں حضرت عثمان ؓ نے اس بارے میں جو فرمایا ہے وہی سلف کی ایک جماعت بھی کہتی ہے جن میں سے حضرت ابن عباس بھی ہیں لیکن اولاً تو اس کی نقل میں خود انہی حضرات سے بہت کچھ اختلاف ہوا ہے دوسرے یہ کہ اس قول کی طرف سمجھدار پختہ کار علماء کرام نے مطلقاً توجہ نہیں فرمائی اور نہ اسے قبول کیا حجاز عراق شام بلکہ مشرق و مغرب کے تمام فقہاء اس کے خلاف ہیں سوائے ان چند کے جنہوں نے الفاظ کو دیکھ، سوچ سمجھ اور غور و خوض کئے بغیر ان سے علیحدگی اختیار کی ہے اور اس اجماع کی مخالفت کی ہے کامل علم والوں اور سچی سمجھ بوجھ والوں کا تو اتفاق ہے کہ دو بہنوں کو جس طرح نکاح میں جمع نہیں کرسکتے دو لونڈیوں کو بھی جو آپس میں بہنیں ہوں بہ وجہ ملکیت کے ایک ساتھ نکاح میں نہیں لاسکتے اسی طرح مسلمانوں کا اجماع ہے کہ اس آیت میں ماں بیٹی بہن وغیرہ حرام کی گئی ہیں ان سے جس طرح نکاح حرام ہے اسی طرح اگر یہ لونڈیاں بن کر ما تحتی میں ہوں تو بھی جنسی اختلاط حرام ہے غرض نکاح اور ملکیت کے بعد کی دونوں حالتوں میں یہ سب کی سب برابر ہیں، نہ ان سے نکاح کر کے میل جول حلال نہ ملکیت کے بعد میل جول حلال اسی طرح ٹھیک یہی حکم ہے کہ دو بہنوں کے جمع کرنے ساس اور دوسرے خاوند سے اپنی عورت کی لڑکی ہو اس کے بارے میں خود ان کے جمہور کا بھی یہی مذہب ہے اور یہی دلیل ان چند مخالفین پر پوری سند اور کامل حجت ہے الغرض دو بہنوں کو ایک وقت نکاح میں رکھنا بھی حرام اور دو بہنوں کو بطور لونڈی کہہ کر ان سے ملنا جلنا بھی حرام۔

میدان جنگ سے قبضہ میں آنے والی عورتیں اور۔۔ متعہ یعنی خاوندوں والی عورتیں بھی حرام ہیں، ہاں کفار عورتیں جو میدان جنگ میں قید ہو کر تمہارے قبضے میں آئیں تو ایک حیض گزارنے کے بعد وہ تم پر حلال ہیں، مسند احمد میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ جنگ اوطاس میں قید ہو کر ایسی عورتیں آئیں جو خاوندوں والیاں تھیں تو ہم نے نبی ﷺ سے ان کی بابت سوال کیا تب یہ آیت اتری ہم پر ان سے ملنا حلال کیا گیا ترمذی ابن ماجہ اور صحیح مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، طبرانی کی روایت میں ہے کہ یہ واقعہ جنگ خیبر کا ہے، سلف کی ایک جماعت اس آیت کے عموم سے استدلال کرکے فرماتی ہے کہ لونڈی کو بیچ ڈالنا ہی اس کے خاوند کی طرف سے اسے طلاق کامل کے مترادف ہے، ابراہیم سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا تو حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا جب کوئی خاوند والی لونڈی بیچی جائے تو اس کے جسم کا زیادہ حقدار اس کا مالک ہے، حضرت ابی بن کعب حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت ابن عباس کا بھی یہی فتویٰ ہے کہ اس کا بکنا ہی اس کی طلاق ہے، ابن جریر میں ہے کہ لونڈی کی طلاقیں چھ ہیں، بیچنا بھی طلاق ہے آزاد کرنا بھی ہبہ کرنا بھی برات کرنا بھی اور اس کے خاوند کا طلاق دینا بھی (یہ پانچ صورتیں تو بیان ہوئیں چھٹی صورت نہ تفسیر ابن کثیر میں ہے نہ ابن جریر میں۔ مترجم) حضرت ابن المسیب فرماتے ہیں کہ خاوند والی عورتوں سے نکاح حرام ہے لیکن لونڈیاں ان کی طلاق ان کا بک جانا ہے، حضرت معمر اور حضرت حسن بھی یہی فرماتے ہیں ان بزرگوں کا تو یہ قول ہے لیکن جمہور ان کے مخالف ہیں وہ فرماتے ہیں کہ بیچنا طلاق نہیں اس لئے کہ خریدار بیچنے والے کا نائب ہے اور بیچنے والا اس نفع کو اپنی ملکیت سے نکال کر بیچ رہا ہے، ان کی دلیل حضرت بریرہ والی حدیث ہے جو بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے جب انہیں خرید کر آزاد کردیا تو ان کا نکاح مغیث سے فسخ نہیں ہوا بلکہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں فسخ کرنے اور باقی رکھنے کا اختیار دیا اور حضرت بریرہ نے فسخ کرنے کو پسند کیا یہ واقعہ مشہور ہے، پس اگر بک جانا ہی طلاق ہوتا جیسے ان بزرگوں کا قول ہے تو آنحضرت ﷺ حضرت بریرہ کو ان کے بک جانے کے بعد اپنے نکاح کے باقی رکھنے نہ رکھنے کا اختیار نہ دینے، اختیار دینا نکاح کے باقی رہنے کی دلیل ہے، تو آیت میں مراد صرف وہ عورتیں ہیں جو جہاد میں قبضہ میں آئیں واللہ اعلم۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ محصنات سے مراد پاک دامن عورتیں ہیں یعنی عفیفہ عورتیں جو تم پر حرام ہیں جب تک کہ تم نکاح اور گواہ اور مہر اور ولی سے ان کی عصمت کے مالک نہ بن جاؤ خواہ ایک ہو خواہ دو خواہ تین خواہ چار ابو العالیہ اور طاؤس یہی مطلب بیان فرماتے ہیں۔ عمر اور عبید فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ چار سے زائد عورتیں تم پر حرام ہیں ہاں کنیزوں میں یہ گنتی نہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ حرمت اللہ تعالیٰ نے تم پر لکھ دی ہے یعنی چار کی پس تم اس کی کتاب کو لازم پکڑو اور اس کی حد سے آگے نہ بڑھو، اس کی شریعت اور اس کے فرائض کے پابند رہو، یہ بھی کہا گیا ہے کہ حرام عورتیں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ظاہر کردیں۔ پھر فرماتا ہے کہ جن عورتوں کا حرام ہونا بیان کردیا گیا ان کے علاوہ اور سب حلال ہیں، ایک مطلب یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان چار سے کم تم پر حلال ہیں، لیکن یہ قول دور کا قول ہے اور صحیح مطلب پہلا ہی ہے اور یہی حضرت عطا کا قول ہے، حضرت قتادہ اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد لونڈیاں ہیں، یہی آیت ان لوگوں کی دلیل ہے جو دو بہنوں کے جمع کرنے کی حلت کے قائل ہیں اور ان کی بھی جو کہتے ہیں کہ ایک آیت اسے حلال کرتی ہے اور دوسری حرام۔ پھر فرمایا تم ان حلال عورتوں کو اپنے مال سے حاصل کرو چار تک تو آزاد عورتیں اور لونڈیاں بغیر تعین کے لیکن ہو بہ طریق شرع۔ اسی لئے فرمایا زنا کاری سے بچنے کے لئے اور صرف شہوت رانی مقصود نہیں ہونا چاہئے۔ پھر فرمایا کہ جن عورتوں سے تم فائدہ اٹھاؤ ان کے اس فائدہ کے مقابلہ میں مہر دے دیا کرو، جیسے اور آیت میں ہے و کیف تاخذونہ وقد افضی بعضکم الی بعض یعنی تم مہر کو عورتوں سے کیسے لو گے حالانکہ ایک دوسرے سے مل چکے ہو اور فرمایا و اتوا النساء صدقاتہن نحلتہ عورتوں کے مہر بخوشی دے دیا کرو اور جگہ فرمایا ولا یحل لکم ان تاخذوا مما اتیتمو ہن شیأا الخ، تم نے جو کچھ عورتوں کو دے دیا ہو اس میں سے واپس لینا تم پر حرام ہے، اس آیت سے نکاح متعہ پر استدلال کیا ہے بیشک متعہ ابتداء اسلام میں مشروع تھا لیکن پھر منسوخ ہوگیا، امام شافعی اور علمائے کرام کی ایک جماعت نے فرمایا ہے کہ دو مرتبہ متعہ مباح ہوا پھر منسوخ ہوا۔ بعض کہتے ہیں اس سے بھی زیادہ بار مباح اور منسوخ ہوا، اور بعض کا قول ہے کہ صرف ایک بار مباح ہوا پھر منسوخ ہوگیا پھر مباح نہیں ہوا۔ حضرت ابن عباس اور چند دیگر صحابہ سے ضرورت کے وقت اس کی اباحت مروی ہے، حضرت امام احمد بن حنبل سے بھی ایک روایت ایسی ہی مروی ہے ابن عباس ابی بن کعب سعید بن جیبر اور سدی سے منہن کے بعد الی اجل مسمی کی قرأت مروی ہے، مجاہد فرماتے ہیں یہ آیت نکاح متعہ کی بابت نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور اس کے برخلاف ہیں اور اس کا بہترین فیصلہ بخاری و مسلم کی حضرت علی والی روایت کردیتی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر والے دن نکاح متعہ سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمادیا، اس حدیث کے الفاظ کتب احکام میں مقرر ہیں، صحیح مسلم شریف میں حضرت سیرہ بن معبد جہنی ؓ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے غزوہ میں وہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھے آپ نے ارشاد فرمایا اے لوگو میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی رخصت دی تھی یاد رکھو بیشک اب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے قیامت تک کے لئے حرام کردیا ہے جس کے پاس اس قسم کی کوئی عورت ہو تو اسے چاہئے کہ اسے چھوڑ دے اور تم نے جو کچھ انہیں دے رکھا ہو اس میں سے ان سے کچھ نہ لو، صحیح مسلم شریف کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے حجتہ الوداع میں یہ فرمایا تھا، یہ حدیث کئی الفاظ سے مروی ہے، جن کی تفصیل کی جگہ احکام کی کتابیں ہیں، پھر فرمایا کہ تقرر کے بعد بھی اگر تم بہ رضامندی کچھ طے کرلو تو کوئی حرج نہیں، اگلے جملے کو متعہ پر محمول کرنے والے تو اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ جب مدت مقررہ گزرجائے پھر مدت کو بڑھا لینے اور جو دیا ہو اس کے علاوہ اور کچھ دینے میں کوئی گناہ نہیں، سدی کہتے ہیں اگر چاہے تو پہلے کے مقرر مہر کے بعد جو دے چکا ہے وقت کے ختم ہونے سے پیشتر پھر کہہ دے کہ میں اتنی اتنی مدت کے لئے پھر متعہ کرتا ہوں پس اگر اس نے رحم کی پاکیزگی سے پہلے دن بڑھا لئے تو جب مدت پوری ہوجائے تو پھر اس کا کوئی دباؤ نہیں وہ عورت الگ ہوجائے گی اور حیض تک ٹھہر کر اپنے رحم کی صفائی کرلے گی ان دونوں میں میراث نہیں نہ یہ عورت اس مرد کی وارث نہ یہ مرد اس عورت کا، اور جن حضرات نے اس جملہ کو نکاح مسنون کے مہر کی کے مصداق کہا ہے ان کے نزدیک تو مطلب صاف ہے کہ اس مہر کی ادائیگی تاکیداً بیان ہو رہی ہے جیسے فرمایا مہر بہ آسانی اور بہ خوشی دے دیا کرو، اگر مہر کے مقرر ہوجانے کے بعد عورت اپنے پورے حق کو یا تھوڑے سے حق کو چھوڑ دے صاف کر دے اس سے دست بردار ہوجائے تو میاں بیوی میں سے کسی پر کوئی گناہ نہیں، حضرت حضرمی فرماتے ہیں کہ لوگ اقرار دیتے ہیں پھر ممکن ہے کہ تنگی ہوجائے تو اگر عورت اپنا حق چھوڑ دے تو جائز ہے، امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند کرتے ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ مہر کی رقم پوری پوری اس کے حوالے کردے پھر اسے بسنے اور الگ ہونے کا پورا پورا اختیار دے، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ علیم و حکیم ہے ان کا احکام میں جو حلت و حرمت کے متعلق ہیں جو رحمتیں ہیں اور جو مصلحتیں ہیں انہیں وہی بخوبی جانتا ہے۔

آزاد عورتوں سے نکاح اور کنیزوں سے متعلق ہدایات ارشاد ہوتا ہے کہ جسے آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی وسعت قدرت نہ ہو، ربیعہ فرماتے ہیں طول سے مراد قصد و خواہش یعنی لونڈی سے نکاح کی خواہش، ابن جریر نے اس قول کو وارد کرکے پھر اسے خود ہی توڑ دیا ہے، مطلب یہ کہ ایسے حالات میں مسلمانوں کی ملکیت میں جو لونڈیاں ہیں ان سے وہ نکاح کرلیں، تمام کاموں کی حقیقت اللہ تعالیٰ پر واضح ہے، تم حقائق کو صرف سطحی نگاہ سے دیکھتے ہو، تم سب آزاد اور غلام ایمانی رشتے میں ایک ہو، لونڈی کا ولی اس کا سردار ہے اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح منعقد نہیں ہوسکتا، اسی طرح غلام بھی اپنے سردار کی رضامندی حاصل کئے بغیر اپنا نکاح نہیں کرسکتا۔ حدیث میں ہے جو غلام بغیر اپنے آقا کی اجازت کے اپنا نکاح کرلے وہ زانی ہے، ہاں اگر کسی لونڈی کی مالکہ کوئی عورت ہو تو اس کی اجازت سے اس لونڈی کا نکاح وہ کرائے جو عورت کا نکاح کراسکتا ہے، کیونکہ حدیث میں ہے عورت عورت کا نکاح نہ کرائے نہ عورت اپنا نکاح کرائے، وہ عورتیں زنا کار ہیں جو اپنا نکاح آپ کرتی ہیں۔ پھر فرمایا عورتوں کے مہر خوش دلی سے دے دیا کرو، گھٹا کر کم کرکے تکلیف پہنچا کر لونڈی سمجھ کر کمی کرکے نہ دو ، پھر فرماتا ہے کہ دیکھ لیا کرو یہ عورتیں بدکاری کی طرف از خود مائل نہ ہوں، نہ ایسی ہوں اگر کوئی ان کی طرف مائل ہو تو یہ جھک جائیں، یعنی نہ تو علانیہ زنا کار ہوں نہ خفیہ بدکردار ہوں کہ ادھر ادھر آشنائیاں کرتی پھریں اور چپ چاپ دوست آشنا بناتی پھریں، جو ایسی بد اطوار ہوں ان سے نکاح کرنے کو اللہ تعالیٰ منع فرما رہا ہے احصن کی دوسری قرأت احصن بھی ہے، کہا گیا ہے کہ دونوں کا معنی ایک ہی ہے، یہاں احصان سے مراد اسلام ہے یا نکاح والی ہوجانا ہے، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان کا احصان اسلام اور عفت ہے لیکن یہ حدیث منکر ہے اس میں ضعف بھی ہے اور ایک راوی کا نام نہیں، ایسی حدیث حجت کے لائق نہیں ہوتی، دوسرا قول یعنی احصان سے مراد نکاح ہے حضرت ابن عباس مجاہد عکرمہ طاؤس سعید بن جبیر حسن قتادہ وغیرہ کا یہی قول ہے، امام شافعی ؒ سے بھی ابو علی طبری نے اپنی کتاب ایضاح میں یہی نقل کیا ہے، مجاہد فرماتے ہیں لونڈی کا محصن ہونا یہ ہے کہ وہ کسی آزاد کے نکاح میں چلی جائے، اسی طرح غلام کا احصان یہ ہے کہ وہ کسی آزاد مسلمہ سے نکاح کرلے، ابن عباس سے بھی یہ منقول ہے، شعبی اور نخعی بھی یہی کہتے ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں قرآتوں کے اعتبار سے معنی بھی بدل جاتے ہیں، احصن سے مراد تو نکاح ہے اور احصن سے مراد اسلام ہے، امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں، لیکن بظاہر مراد یہاں نکاح کرنا ہے واللہ اعلم، اسی لئے کہ سیاق آیات کی دلالت اسی پر ہے، ایمان کا ذکر تو لفظوں میں موجود ہے بہر دو صورت جمہور کے مذہب کے مطابق آیت کے معنی میں بھی اشکال باقی ہے اس لئے کہ جمہور کا قول ہے کہ لونڈی کو زنا کی وجہ سے پچاس کوڑے لگائے جائیں گے خواہ وہ مسلمہ ہو یا کافرہ ہو شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہو باوجود یہ کہ آیت کے مفہوم کا تقاضا یہ ہے کہ غیر محصنہ لونڈی پر حد ہی نہ ہو، پس اس کے مختلف جوابات دیئے گئے ہیں، جمہور کا قول ہے کہ بیشک " جو بولا گیا " مفہوم پر مقدم ہے اس لئے ہم نے ان عام احادیث کو جن میں لونڈیوں کو حد مارنے کا بیان ہے اس آیت کے مفہوم پر مقدم کیا، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت علی نے اپنے خطبے میں فرمایا لوگو اپنی لونڈیوں پر حدیں قائم رکھو خواہ وہ محصنہ ہوں یا نہ ہوں رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنی لونڈی کے زنا پر حد مارنے کو فرمایا چونکہ وہ نفاس میں تھی اس لئے مجھے ڈر لگا کہ کہیں حد کے کوڑے لگنے سے یہ مرنہ جائے چناچہ میں نے اس وقت اسے حد نہ لگائی اور حضور ﷺ کی خدمت میں واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا تم نے اچھا کیا جب تک وہ ٹھیک ٹھاک نہ ہوجائے حد نہ مارنا، مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا جب یہ نفاس سے فارغ ہو تو اسے پچاس کوڑے لگانا۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں میں نے حضور ﷺ سے سنا فرماتے تھے جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اور زنا ظاہر ہوجائے تو اسے وہ حد مارے اور برا بھلا نہ کہے پھر اگر دوبارہ زنا کرے تو بھی حد لگائے اور ڈانٹ جھڑک نہ کرے، پھر اگر تیسری مرتبہ زنا کرے اور ظاہر ہو تو اسے بیچ ڈالے اگرچہ ایک رسی کے ٹکڑے کے بدلے ہی ہو، اور صحیح مسلم میں ہے کہ جب تین بار یہ فعل اس سے سرزد ہو تو چوتھی دفعہ فروخت کر ڈالے، عبداللہ بن عیاش بن ابو ربیعہ فحرومی فرماتے ہیں کہ ہم چند قریش نوجوانوں کو حضرت عمر فاروق ؓ نے امارت کی لونڈیوں سے کئی ایک پر حد جاری کرنے کو فرمایا ہم نے انہیں زنا کی حد میں پچاس پچاس کوڑے لگائے دوسرا جواب ان کا ہے جو اس بات کی طرف گئے ہیں کہ لونڈی پر احصان بغیر حد نہیں وہ فرماتے ہیں کہ یہ مارنا صرف بطور ادب سکھانے اور باز رکھنے کے ہے، ابن عباس اسی طرف گئے ہیں طاؤس سعید ابو عبید داؤد ظاہری کا مذہب بھی یہی ہے ان کی بڑی دلیل مفہوم آیت ہے اور یہ شرط ہے مفہوموں میں سے ہے اور اکثر کے نزدیک یہ محض حجت ہے اس لئے ان کے نزدیک ایک عموم پر مقدم ہوسکتا ہے اور ابوہریرہ اور زید بن خالد کی حدیث جس میں ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ جب لونڈی زنا کرے اور وہ محصنہ نہ ہو یعنی اس کا نکاح نہ ہوا ہو تو کیا جائے ؟ آپ نے فرمایا اگر وہ زنا کرے تو اسے حد لگاؤ پھر زنا کرے تو پھر کوڑے لگاؤ پھر بیچ ڈالو گو ایک رسی کے ٹکڑے کے قیمت پر ہی کیوں نہ بیچنا پڑے، راوی حدیث ابن شہاب فرماتے ہیں نہیں جانتا کہ تیسری مرتبہ کے بعد یہ فرمایا یا چوتھی مرتبہ کے بعد۔ پس اس حدیث کے مطابق وہ جواب دیتے ہیں کہ دیکھو یہاں کی حد کی مقدار اور کوڑوں کی تعداد بیان نہیں فرمائی جیسے کہ محصنہ کے بارے میں صاف فرما دیا ہے اور جیسے کہ قرآن میں مقرر طور پر فرمایا گیا کہ محصنات کی نسبت نصف حد ان پر ہے، پس آیت و حدیث میں اس طرح تطبیق دینا واجب ہوگئی واللہ اعلم۔ اس سے بھی زیادہ صراحت والی وہ روایت ہے جو سعید بن منصور نے بروایت ابن عباس نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی لونڈی پر حد نہیں جب تک کہ وہ احصان والی نہ ہوجائے یعنی جب تک نکاح والی نہ ہوجائے پس جب خاوند والی بن جائے تو اس پر آدھی حد ہے بہ نسبت اس حد کے جو آزاد نکاح والیوں پر ہے، یہ حدیث ابن خزیمہ میں بھی ہے لیکن وہ فرماتے ہیں اسے مرفوع کہنا خطا ہے یہ موقوف ہے یعنی حضرت ابن عباس کا قول ہے، بیہقی میں بھی یہ روایت ہے اور آپ کا بھی یہی فیصلہ ہے اور کہتے ہیں کہ حضرت علی اور حضرت عمر والی حدیثیں ایک واقعہ کا فیصلہ ہیں، اور حضرت ابوہریرہ والی حدیث دوسرے واقعہ کا فیصلہ ہیں اور حضرت ابوہریرہ والی حدیث کے بھی کئی جوابات ہیں ایک تو یہ کہ یہ محمول ہے اس لونڈی پر جو شادی شدہ ہو اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق اور جمع ہوجاتی ہے دوسرے یہ کہ اس حدیث میں لفظ حد کسی راوی کا داخل کیا ہوا ہے اور اس کی دلیل جواب کا فقرہ ہے، تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث دو صحابیوں کی ہے اور وہ حدیث صرف ایک صحابی کی ہے اور ایک والی پر دو والی مقدم ہے، اور اسی طرح یہ حدیث نسائی میں بھی مروی ہے اور مسلم کی شرط پر اس کی سند ہے کہ حضرت عباد بن تمیم اپنے چچا سے جو بدری صحابی تھے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ پھر جب زنا کرے تو کوڑے مارو پھر جب زنا کرے تو کوڑے لگاؤ پھر جب زنا کرے تو بیچ دو اگرچہ ایک رسی کے ٹکڑے کے بدلے ہی بیچنا پڑے۔ چوتھا جواب یہ ہے کہ یہ بھی بعید نہیں کہ کسی راوی نے جلد کو حد خیال کرلیا ہو یا لفظ حد کا اطلاق کردیا ہو اور اس نے جلد کو حد خیال کرلیا ہو یا لفظ حد کا اطلاق تادیب کے طور پر سزا دینے پر کردیا ہو جیسے کہ لفظ حد کا اطلاق اس سزا پر بھی کیا گیا ہے جو بیمار زانی کو کھجور کا ایک خوشہ مارا گیا تھا جس میں ایک سو چھوٹی چھوٹی شاخیں تھیں، اور جیسے کہ لفظ حد کا اطلاق اس شخص پر بھی کیا گیا ہے جس نے اپنی بیوی کو اس لونڈی کے ساتھ زنا کیا جسی بیوی نے اس کے لئے حلال کردیا تھا حالانکہ اسے سو کوڑوں کا لگنا تعزیر کے طور پر صرف ایک سزا ہے جیسے کہ امام احمد وغیرہ سلف کا خیال ہے۔ حد حقیقی صرف یہ ہے کہ کنوارے کو سو کوڑے اور شادی شدہ ہوئے کو رجم واللہ اعلم۔ ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت ٰسعید بن جبیر کا فرمان ہے کہ لونڈی نے جب تک نکاح نہیں کیا اسے زنا پر مارا نہ جائے، اس کی اسناد تو صحیح ہے لیکن معنی دو ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ بالکل مارا ہی نہ جائے نہ حد نہ اور کچھ تو یہ قول بالکل غریب ہے، ممکن ہے آیت کے الفاظ پر نظر کرکے یہ فتویٰ دے دیا ہو اور حدیث نہ پہنچی ہو، دوسرے معنی یہ ہیں کہ حد کے طور پر نہ مارا جائے اگر یہ معنی مراد لئے جائیں تو اس کے خلاف نہیں کہ اور کوئی سزا کی جائے، پس یہ قیاس حضرت ابن عباس وغیرہ کے فتوے کے مطابق ہوجائے گا واللہ اعلم۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ آیت میں دلالت ہے کہ محصنہ لونڈی پر بہ نسبت آزاد عورت کے آدھی حد ہے، لیکن محصنہ ہونے سے پہلے کتاب و سنت کے عموم میں یہ بھی شامل ہے کہ اسے بھی سو کوڑے مارے جائیں جیسے اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے (اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَ) 24۔ النور :2) یعنی زنا کار عورت زنا کار مرد کو ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو اور جیسے حدیث میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں میری بات لے لو میری بات سمجھ لو اللہ نے ان کے لئے راستہ نکال لیا اگر دونوں جانب غیر شادی شدہ ہیں تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی اور اگر دونوں طرف شادی شدہ ہیں تو سو کوڑے اور پتھروں سے رجم کردینا۔ یہ حدیث صحیح مسلم شریف کی ہے اور اسی طرح کی اور حدیثیں بھی ہیں، حضرت داؤد بن علی ظاہری کا یہی قول ہے لیکن یہ سخت ضعیف ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے محصنہ لونڈیوں کو بہ نسبت آزاد کے آدھے کوڑے مارنے کا عذاب بیان فرمایا یعنی پچاس کوڑے تو پھر جب تک وہ محصنہ نہ ہوں اس سے بھی زیادہ سزا کی سزا وار وہ کیسے ہوسکتی ہیں ؟ حالانکہ قاعدہ شریعت یہ ہے کہ احصان سے پہلے کم سزا ہے اور احصان کے بعد زیادہ سزا ہے پھر اس کے برعکس کیسے صحیح ہوسکتا ہے ؟ دیکھئے شارع ؑ سے آپ کے صحابہ غیر شادی شدہ لونڈی کے زنا کی سزا پوچھتے ہیں اور آپ انہیں جواب دیتے ہیں کہ اسے کوڑے مارو لیکن یہ نہیں فرماتے کہ ایک سو کوڑے لگاؤ پس اگر اس کا حکم وہی ہوتا جو داؤد سمجھتے ہیں تو اسے بیان کردینا حضور ﷺ پر واجب تھا اس لئے کہ ان کا یہ سوال تو صرف اسی وجہ سے تھا کہ لونڈی کے شادی شدہ ہوجانے کے بعد اسے کوڑے مارنے کا بیان نہیں ورنہ اس قید کے لگانے کی کیا ضرورت تھی کہ سوال میں کہتے وہ غیر شادی شدہ ہے کیونکہ پھر تو شادی شدہ اور غیر شادی شدہ میں کوئی فرق ہی نہ رہا اگر یہ آیت اتری ہوئی نہ ہوتی لیکن چونکہ ان دونوں صورتوں میں سے ایک کا علم تو انہیں ہوچکا تھا اس لئے دوسری کی بابت سوال کیا اور حضور ﷺ سے آپ پر درود پڑھنے کی نسبت پوچھا تو آپ نے اسے بیان فرمایا اور فرمایا سلام تو اسی طرح ہے جس طرح تم خود جانتے ہو، اور ایک روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا فرمان (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا) 33۔ الاحزاب :56) نازل ہوا اور صلوۃ وسلام آپ پر بھیجنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تو صحابہ نے کہا کہ سلام کا طریقہ اور اس کے الفاظ تو ہمیں معلوم ہیں صلوۃ کی کیفیت بیان فرمائے۔ پس ٹھیک اسی طرح یہ سوال ہے مفہوم آیت کا چوتھا جواب ابو ثور کا ہے جو داؤد کے جواب سے زیادہ بودا ہے، وہ فرماتے ہیں جب لونڈیاں شادی شدہ ہوجائیں تو ان کی زنا کاری کی حد ان پر آدھی ہے اس حد کی جو شادی شدہ آزاد عورتوں کی زنا کاری کی حد تو ظاہر ہے کہ آزاد عورتوں کی حد اس صورت میں رجم ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ رجم آدھا نہیں ہوسکتا تو لونڈی کو اس صورت میں رجم کرنا پڑے گا اور شادی سے پہلے اسے پچاس کوڑے لگیں گے، کیونکہ اس حالت میں آزاد عورت پر سو کوڑے ہیں۔ پس دراصل آیت کا مطلب سمجھنے میں اس سے خطا ہوئی اور اس میں جمہور کا بھی خلاف ہے بلکہ امام شافعی ؒ تو فرماتے ہیں کسی مسلمان کا اس میں اختلاف ہی نہیں کہ مملوک پر زنا کی سزا میں رجم ہے ہی نہیں، اس لئے کہ آیت کی دلالت کرنی ہے کہ ان پر محصنات کا نصف عذاب ہے اور محصنات کے لفظ میں جو الف لام ہے وہ عہد کا ہے یعنی وہ محصنات جن کا بیان آیت کے شروع میں ہے (وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ يَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَيٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ) 4۔ النسآء :25) میں گزرچکا ہے اور مراد صرف آزاد عورتیں ہیں۔ اس وقت یہاں آزاد عورتوں کا نکاح کے مسئلہ کی بحث نہیں بحث یہ ہے کہ پھر آگے چل کر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زنا کاری کی جو سزا تھی اس سے آدھی سزا ان لونڈیوں پر ہے تو معلوم ہوا کہ یہ اس سزا کا ذکر ہے جو آدھی ہوسکتی ہو اور وہ کوڑے ہیں کہ سو سے آدھے پچاس رہ جائیں گے رجم یعنی سنگسار کرنا ایسی سزا ہے جس کے حصے نہیں ہوسکتے واللہ اعلم، پھر مسند احمد میں ہے ایک واقعہ ہے جو ابو ثور کے مذہب کی پوری تردید کرتا ہے اس میں ہے کہ صفیہ لونڈی نے ایک غلام سے زناکاری کی اور اسی زنا سے بچہ ہوا جس کا دعویٰ زانی نے کیا مقدمہ حضرت عثمان کے پاس پہنچا آپ نے حضرت علی کو اس کا تصفیہ سونپا، حضرت علی ؓ نے فرمایا اس میں وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ ﷺ کا ہے بچہ تو اس کا سمجھا جائے گا جس کی یہ لونڈی ہے اور زانی کو پتھر مارے جائیں گے پھر ان دونوں کو پچاس پچاس کوڑے لگائے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد مفہوم سے تنبیہہ ہے اعلیٰ کے ساتھ ادنیٰ پر یعنی جب کہ وہ شادی شدہ ہوں تو ان پر بہ نسبت آزاد عورتوں کے آدھی حد ہے پس ان پر رجم تو سرے سے کسی صورت میں ہے ہی نہیں نہ قبل از نکاح نہ بعد نکاح، دونوں حالتوں میں صرف کوڑے ہیں جس کی دلیل حدیث ہے، صاحب مصباح یہی فرماتے ہیں اور حضرت امام شافعی سے بھی اسی کو ذکر کرتے ہیں، امام بیہقی اپنی کتاب سنن و آثار میں بھی اسے لائے ہیں لیکن یہ قول لفظ آیت سے بہت دور ہے اس طرح کہ آدھی حد کی دلیل صرف آیت ہے اس کے سوا کچھ نہیں پس اس کے علاوہ میں آدھا ہونا کس طرح سمجھا جائے گا ؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ شادی شدہ ہونے کی حالت میں صرف امام ہی حد قائم کرسکتا ہے اس لونڈی کا مالک اس حال میں اس پر حد جاری نہیں کرسکتا امام احمد ؒ کے مذہب میں ایک قول یہی ہے ہاں شادی سے پہلے اس کے مالک کو حد جاری کرنے کا اختیار ہے بلکہ حکم ہے لیکن دونوں صورتوں میں حد آدھی ہی آدھی رہے گی اور یہ بھی دور کی بات ہے اس لئے کہ آیت میں اس کی دلالت بھی نہیں، اگر اگر یہ آیت نہ ہوتی تو ہم نہیں جان سکتے تھے کہ لونڈیوں کے بارے میں آدھی حد ہے اور اس صورت میں انہیں بھی عموم میں داخل کرکے پوری حد یعنی سو کوڑے اور رجم ان پر بھی جاری کرنا واجب ہوجاتا جیسے کہ عام روایتوں سے ثابت ہے، حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ لوگو اپنے ماتحتوں پر حدیں جاری کرو شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ اور وہ عام حدیثیں جو پہلے گزرچکی ہیں جن میں خاوندوں والی اور خاوندوں کے بغیر کوئی تفصیل نہیں، حضرت ابوہریرہ کی روایت والی حدیث جس سے جمہور نے دلیل ] پکڑی ہے یہ ہے کہ جب تم میں سے کسی کوئی زنا کرے اور پھر اس کا زنا ظاہر ہوجائے تو اسے چاہئے کہ اس پر حد جاری کرے اور ڈانٹ ڈپٹ نہ کرے (ملخص) الغرض لونڈی کی زنا کاری کی حد میں کئی قول ہیں ایک تو یہ کہ جب تک اس کا نکاح نہیں ہوا اسے پچاس کوڑے مارے جائیں گے اور نکاح ہوجانے کے بعد بھی یہی حد رہے گی اور اسے جلاوطن بھی کیا جائے گا یا نہیں ؟ اس میں تین قول ہیں ایک یہ کہ جلا وطنی ہوگی دوسرے یہ کہ نہ ہوگی تیسرے یہ کہ جلا وطنی میں آدھے سال کو ملحوظ رکھا جائے گا یعنی چھ مہینے کا دیس نکالا دیا جائے گا پورے سال کا نہیں، پورا سال آزاد عورتوں کے لئے ہے، یہ تینوں قول امام شافعی کے مذہب میں ہیں، لیکن امام ابوحنیفہ کے نزدیک جلا وطنی تعزیر کے طور پر ہے وہ حد میں سے نہیں امام کی رائے پر موقوف ہے اگر چاہے جلا وطنی دے یا نہ دے مرد و عورت سب اسی حکم میں داخل ہیں ہاں امام مالک کے مذہب میں ہے کہ جلا وطنی صرف مردوں کے لئے ہے عورتوں پر نہیں اس لئے کہ جلا وطنی صرف اس کی حفاظت کے لئے ہے اور اگر عورت کو جلا وطن کیا گیا تو حفاظت میں سے نکل جائے گی اور مردوں یا عورتوں کے بارے میں دیس نکالے کی حدیث صرف حضرت عبادہ اور حضرت ابوہریرہ سے ہی مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس زانی کے بارے میں جس کی شادی نہیں ہوئی تھی حد مارنے اور ایک سال دیس نکالا دینے کا حکم فرمایا تھا (بخاری) اس سے معنی مراد یہی ہے کہ اس کی حفاظت رہے اور عورت کو وطن سے نکالے جانے میں یہ حفاظت بالکل ہی نہیں ہوسکتی واللہ اعلم۔ دوسرا قول یہ ہے کہ لونڈی کو اس کی زنا کاری پر شادی کے بعد پچاس کوڑے مارے جائیں گے اور ادب دکھانے کے طور پر اسے کچھ مار پیٹ کی جائے گی لیکن اس کی کوئی مقرر گنتی نہیں پہلے گزرچکا ہے کہ شادی سے پہلے اسے مارا نہ جائے گا جیسے حضرت سعید بن مسیب کا قول ہے لیکن اگر اس سے یہ مراد لی جائے کہ سرے سے کچھ مارنا ہی نہ چاہئے تو یہ محض تاویل ہی ہوگی ورنہ قول ثانی میں اسے داخل کیا جاسکتا ہے جو یہ ہے کہ شادی سے پہلے سو کوڑے اور شادی کے بعد پچاس جیسے کے داؤد کا قول ہے اور یہ تمام اقوال سے بودا قول ہے اور یہ کہ شادی سے پہلے پچاس کوڑے اور شادی کے بعد رجم جیسے کہ ابو ثور کا قول ہے لیکن یہ قول بھی بودا ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب۔ پھر فرمان ہے کہ لونڈیوں سے نکاح کرنا ان شرائط کی موجودگی میں جو بیان ہوئیں ان کے لئے جنہیں زنا میں واقع ہونے کا خطرہ ہو اور تجرد اس پر بہت شاق گزر رہا ہو اور اس کی وجہ سے سخت تکلیف میں ہو تو بیشک اسے پاکدامن لونڈیوں سے نکاح کرلینا جائز ہے گو اس حالت میں بھی اپنے نفس کو روکے رکھنا اور ان سے نکاح نہ کرنا بہت بہتر ہے اس لئے کہ اس سے جو اولاد ہوگی وہ اس کے مالک کے لونڈی غلام ہوگی ہاں اگر خاوند غریب ہو تو اس کی یہ اولاد اس کے آقا کی ملکیت امام شافعی کے قول قدیم کے مطابق نہ ہوگی۔ پھر فرمایا اگر تم صبر کرو تو تمہارے لئے افضل ہے اور اللہ غفور و رحیم ہے، جمہور علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ لونڈی سے نکاح جائز ہے لیکن یہ اس وقت جب آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی طاقت نہ ہو اور نہ ہی رکے رہنے کی طاقت ہو، بلکہ زنا واقع ہوجانے کا خوف ہو۔ کیونکہ اس میں ایک خرابی تو یہ ہے کہ اولاد غلامی میں جاتی ہے دوسرے ایک طرح ہے کہ آزاد عورت کو چھوڑ کر لونڈیوں کی طرف متوجہ ہونا۔ ہاں جمہور کے مخالف امام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھی کہتے ہیں یہ دونوں باتیں شرط نہیں بلکہ جس کے نکاح میں کوئی آزاد عورت نہ ہو اسے لونڈی سے نکاح جائز ہے وہ لونڈی خواہ مومنہ ہو خواہ اہل کتاب میں سے ہو۔ چاہے اسے آزاد عورت سے نکاح کرنے کی طاقت بھی ہو اور اسے بدکاری کا خوف بھی نہ ہو، اس کی بڑی دلیل یہ آیت والمحصنات من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم یعنی آزاد عورتیں ان میں سے جو تم سے پہلے کتاب اللہ دئے گئے۔ پس وہ کہتے ہیں یہ آیت عام ہے جس میں آزاد اور غیر آزاد سب ہی شامل ہیں اور محصنات سے مراد پاکدامن باعصمت عورتیں ہیں لیکن اس کی ظاہری دلالت بھی اسی مسئلہ پر ہے جو جمہور کا مذہب ہے۔ واللہ اعلم۔

پچاس سے پانچ نمازوں تک فرمان ہوتا ہے کہ اے مومنو اللہ تعالیٰ ارادہ کرچکا ہے کہ حلال و حرام تم پر کھول کھول کر بیان فرما دے جیسے کہ اس سورت میں اور دوسری سورتوں میں اس نے بیان فرمایا وہ چاہتا ہے کہ سابقہ لوگوں کی قابل تعریف راہیں تمہیں سمجھا دے تاکہ تم بھی اس کی اس شریعت پر عمل کرنے لگ جاؤ جو اس کی محبوب اور اس کی پسندیدہ ہیں وہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول فرمالے جس گناہ سے جس حرام کاری سے تم توبہ کرو وہ فوراً قبول فرما لیتا ہے وہ علم و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اپنی اندازے اپنے کام اور اپنے فرمان میں وہ صحیح علم اور کامل حکمت رکھتا ہے، خواہش نفسانی کے پیروکار یعنی شیطانوں کے غلام یہود و نصاریٰ اور بدکاری لوگ تمہیں حق سے ہٹانا اور باطل کی طرف جھکانا چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے حکم احکام میں یعنی روکنے اور ہٹانے میں، شریعت اور اندازہ مقرر کرنے میں تمہارے لئے آسانیاں چاہتا ہے اور اسی بنا پر چند شرائط کے ساتھ اس نے لونڈیوں سے نکاح کرلینا تم پر حلال کردیا۔ انسان چونکہ پیدائشی کمزور ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام میں کوئی سختی نہیں رکھی۔ یہ فی نفسہ بھی کمزور اس کے ارادے اور حوصلے بھی کمزور یہ عورتوں کے بارے میں بھی کمزور، یہاں آکر بالکل بیوقوف بن جانے والا۔ چناچہ جب رسول اللہ ﷺ شب معراج میں سدرۃ المنتہی سے لوٹے اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ ؑ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے دریافت کیا کہ آپ پر کیا فرض کیا گیا ؟ فرمایا ہر دن رات میں پچاس نمازیں تو کلیم اللہ نے فرمایا واپس جائیے اور اللہ کریم سے تخفیف طلب کیجئے آپ کی امت میں اس کی طاقت نہیں میں اس سے پہلے لوگوں کا تجربہ کرچکا ہوں وہ اس سے بہت کم ہیں گھبرا گئے تھے اور آپ کی امت تو کانوں آنکھوں اور دل کی کمزوری میں ان سے بھی بڑھی ہوئی ہے چناچہ آپ واپس گئے دس معاف کرا لائے پھر بھی یہی باتیں ہوئیں پھرگئے دس ہوئیں یہاں تک کہ آخری مرتبہ پانچ رہ گئیں۔

پچاس سے پانچ نمازوں تک فرمان ہوتا ہے کہ اے مومنو اللہ تعالیٰ ارادہ کرچکا ہے کہ حلال و حرام تم پر کھول کھول کر بیان فرما دے جیسے کہ اس سورت میں اور دوسری سورتوں میں اس نے بیان فرمایا وہ چاہتا ہے کہ سابقہ لوگوں کی قابل تعریف راہیں تمہیں سمجھا دے تاکہ تم بھی اس کی اس شریعت پر عمل کرنے لگ جاؤ جو اس کی محبوب اور اس کی پسندیدہ ہیں وہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول فرمالے جس گناہ سے جس حرام کاری سے تم توبہ کرو وہ فوراً قبول فرما لیتا ہے وہ علم و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اپنی اندازے اپنے کام اور اپنے فرمان میں وہ صحیح علم اور کامل حکمت رکھتا ہے، خواہش نفسانی کے پیروکار یعنی شیطانوں کے غلام یہود و نصاریٰ اور بدکاری لوگ تمہیں حق سے ہٹانا اور باطل کی طرف جھکانا چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے حکم احکام میں یعنی روکنے اور ہٹانے میں، شریعت اور اندازہ مقرر کرنے میں تمہارے لئے آسانیاں چاہتا ہے اور اسی بنا پر چند شرائط کے ساتھ اس نے لونڈیوں سے نکاح کرلینا تم پر حلال کردیا۔ انسان چونکہ پیدائشی کمزور ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام میں کوئی سختی نہیں رکھی۔ یہ فی نفسہ بھی کمزور اس کے ارادے اور حوصلے بھی کمزور یہ عورتوں کے بارے میں بھی کمزور، یہاں آکر بالکل بیوقوف بن جانے والا۔ چناچہ جب رسول اللہ ﷺ شب معراج میں سدرۃ المنتہی سے لوٹے اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ ؑ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے دریافت کیا کہ آپ پر کیا فرض کیا گیا ؟ فرمایا ہر دن رات میں پچاس نمازیں تو کلیم اللہ نے فرمایا واپس جائیے اور اللہ کریم سے تخفیف طلب کیجئے آپ کی امت میں اس کی طاقت نہیں میں اس سے پہلے لوگوں کا تجربہ کرچکا ہوں وہ اس سے بہت کم ہیں گھبرا گئے تھے اور آپ کی امت تو کانوں آنکھوں اور دل کی کمزوری میں ان سے بھی بڑھی ہوئی ہے چناچہ آپ واپس گئے دس معاف کرا لائے پھر بھی یہی باتیں ہوئیں پھرگئے دس ہوئیں یہاں تک کہ آخری مرتبہ پانچ رہ گئیں۔

پچاس سے پانچ نمازوں تک فرمان ہوتا ہے کہ اے مومنو اللہ تعالیٰ ارادہ کرچکا ہے کہ حلال و حرام تم پر کھول کھول کر بیان فرما دے جیسے کہ اس سورت میں اور دوسری سورتوں میں اس نے بیان فرمایا وہ چاہتا ہے کہ سابقہ لوگوں کی قابل تعریف راہیں تمہیں سمجھا دے تاکہ تم بھی اس کی اس شریعت پر عمل کرنے لگ جاؤ جو اس کی محبوب اور اس کی پسندیدہ ہیں وہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول فرمالے جس گناہ سے جس حرام کاری سے تم توبہ کرو وہ فوراً قبول فرما لیتا ہے وہ علم و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اپنی اندازے اپنے کام اور اپنے فرمان میں وہ صحیح علم اور کامل حکمت رکھتا ہے، خواہش نفسانی کے پیروکار یعنی شیطانوں کے غلام یہود و نصاریٰ اور بدکاری لوگ تمہیں حق سے ہٹانا اور باطل کی طرف جھکانا چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے حکم احکام میں یعنی روکنے اور ہٹانے میں، شریعت اور اندازہ مقرر کرنے میں تمہارے لئے آسانیاں چاہتا ہے اور اسی بنا پر چند شرائط کے ساتھ اس نے لونڈیوں سے نکاح کرلینا تم پر حلال کردیا۔ انسان چونکہ پیدائشی کمزور ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام میں کوئی سختی نہیں رکھی۔ یہ فی نفسہ بھی کمزور اس کے ارادے اور حوصلے بھی کمزور یہ عورتوں کے بارے میں بھی کمزور، یہاں آکر بالکل بیوقوف بن جانے والا۔ چناچہ جب رسول اللہ ﷺ شب معراج میں سدرۃ المنتہی سے لوٹے اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ ؑ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے دریافت کیا کہ آپ پر کیا فرض کیا گیا ؟ فرمایا ہر دن رات میں پچاس نمازیں تو کلیم اللہ نے فرمایا واپس جائیے اور اللہ کریم سے تخفیف طلب کیجئے آپ کی امت میں اس کی طاقت نہیں میں اس سے پہلے لوگوں کا تجربہ کرچکا ہوں وہ اس سے بہت کم ہیں گھبرا گئے تھے اور آپ کی امت تو کانوں آنکھوں اور دل کی کمزوری میں ان سے بھی بڑھی ہوئی ہے چناچہ آپ واپس گئے دس معاف کرا لائے پھر بھی یہی باتیں ہوئیں پھرگئے دس ہوئیں یہاں تک کہ آخری مرتبہ پانچ رہ گئیں۔

خریدو فروخت اور اسلامی قواعد و ضوابط ؟ اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو ایک دوسرے کے مال باطل کے ساتھ کھانے کی ممانعت فرما رہا ہے خواہ اس کمائی کی ذریعہ سے ہو جو شرعاً حرام ہے جیسے سود خواری قمار بازی اور ایسے ہی ہر طرح کی حیلہ سازی چاہے اسے جواز کی شرعی صورت دے دی ہو اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے، حضرت ابن عباس سے سوال ہوتا ہے کہ ایک شخص کپڑا خریدتا ہے اور کہتا ہے اگر مجھے پسند آیا تو تو رکھ لوں گا ورنہ کپڑا اور ایک درہم واپس کر دونگا آپ نے اس آیت کی تلاوت کردی یعنی اسے باطل مال میں شامل کیا۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں یہ آیت محکم ہے یعنی منسوخ نہیں نہ قیامت تک منسوخ ہوسکتی ہے، آپ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو مسلمانوں نے ایک دوسرے کے ہاں کھانا چھوڑ دیا جس پر یہ آیت (لَيْسَ عَلَي الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْمَرِيْضِ حَرَجٌ وَّلَا عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُيُوْتِكُمْ۔ الخ) 24۔ النور :61) اتری تجارۃ کو تجارۃ بھی پڑھا گیا ہے۔ یہ استثنا منقطع ہے گویا یوں فرمایا جارہا ہے کہ حرمت والے اسباب سے مال نہ لو ہاں شرعی طریق پر تجارت سے نفع اٹھانا جائز ہے جو خریدار اور بیچنے والے کی باہم رضامندی سے ہو۔ جیسے دوسری جگہ ہے کسی بےگناہ جان کو نہ مارو ہاں حق کے ساتھ ہو تو جائز ہے اور جیسے دوسری آیت میں ہے وہاں موت نہ چکھیں گے مگر پہلی بار کی موت۔ حضرت امام شافعی اس آیت سے استدلال کرکے فرماتے ہیں خریدو فروخت بغیر قبولیت کے صحیح نہیں ہوتی اس لئے کہ رضامندی کی پوری سند یہی ہے گو صرف لین دین کرلینا کبھی کبھی رضامندی پر پوری دلیل نہیں بن سکتا اور جمہور اس کے برخلاف ہیں، تینوں اور اماموں کا قول ہے کہ جس طرح زبانی بات چیت رضامندی کی دلیل ہے اسی طرح لین دین بھی رضامندی کی دلیل ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کم قیمت کی معمولی چیزوں میں تو صرف دینا لینا ہی کافی ہے اور اسی طرح بیوپار کا جو طریقہ بھی ہو لیکن صحیح مذہب میں احتیاطی نظر سے تو بات چیت میں قبولیت کا ہونا اور بات ہے واللہ اعلم۔ مجاہد فرماتے ہیں خریدو فروخت ہو یا بخشش ہو سب کے لئے حکم شامل ہے۔ ابن جریر کی مرفوع حدیث میں ہے تجارت ایک دوسرے کی رضامندی سے ہی لین دین کرنے کا نام ہے گویا کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ دوسرے مسلمان کو تجارت کے نام سے دھوکہ دے، یہ حدیث مرسل ہے پوری رضامندی میں مجلس کے خاتمہ تک کا اختیار بھی ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں دونوں بائع مشتری جب تک جدا نہ ہوں با اختیار ہیں۔ بخاری شریف میں ہے جب دو شخص خریدو فروخت کریں تو دونوں کو الگ الگ ہونے تک مکمل اختیار ہوتا ہے اسی حدیث کے مطابق امام احمد امام شافعی اور ان کے سب ساتھیوں جمہور سلف و خلف کا بھی یہی فتویٰ ہے اور اس پوری رضامندی میں شامل ہے خریدو فروخت کے تین دن بعد تک اختیار دینا رضامندی میں شامل ہے بلکہ یہ مدت گاؤں کی رسم کے مطابق سال بھر کی بھی ہوسکتی ہے امام مالک کے نزدیک صرف لین دین سے ہی بیع صحیح ہوجاتی ہے۔ شافعی مذہب کا بھی یہی خیال ہے اور ان میں سے بعض فرماتے ہیں کہ معمولی کم قیمت چیزوں میں جنہیں لوگ بیوپار کے لئے رکھتے ہوں صرف لین دین ہی کافی ہے۔ بعض اصحاب کا اختیار سے مراد یہی ہے جیسے کہ متفق علیہ ہے۔ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ حرام کاموں کا ارتکاب کرکے اور اس کی نافرمانیاں کرکے اور ایک دوسرے کا بیجا طور پہ مال کھا کر اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو اللہ تم پر رحیم ہے ہر حکم اور ہر ممانعت رحمت والی ہے۔ احترام زندگی مسند احمد میں ہے کہ حضرت عمرو بن عاص ؓ کو ذات السلاسل والے سال رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا آپ فرماتے ہیں مجھے ایک رات احتلام ہوگیا سردی بہت سخت تھی یہاں تک کہ مجھے نہانے میں اپنی جان جانے کا خطرہ ہوگیا تو میں نے تیمم کرکے اپنی جماعت کو صبح کی نماز پڑھادی جب وہاں سے ہم لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں واپس حاضر ہوئے تو میں نے یہ واقعہ کہہ سنایا آپ نے فرمایا کیا تو نے اپنے ساتھیوں کو جنبی ہونے کی حالت میں نماز پڑھا دی ؟ میں نے کہا حضور ﷺ جاڑا سخت تھا اور مجھے اپنی جان جانے کا اندیشہ تھا تو مجھے یاد پڑا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اپنے تئیں ہلاکت نہ کر ڈالو اللہ رحیم ہے پس میں نے تیمم کرکے نماز صبح پڑھا دی تو آپ ہنس دئیے اور مجھے کچھ نہ فرمایا۔ ایک روایت میں ہے کہ اور لوگوں نے حضور ﷺ سے یہ واقعہ بیان کیا تب آپ کے دریافت کرنے پر حضرت عمرو بن عاص نے عذر پیش کیا۔ بخاری و مسلم میں ہے جو شخص کسی لوہے سے خودکشی کرے گا وہ قیامت تک جہنم کی آگ میں لوہے سے خود کشی کرتا رہے گا، اور جو جان بوجھ کر مرجانے کی نیت سے زہر کھالے گا وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں زہر کھاتا رہے گا اور روایت میں ہے کہ جو شخص اپنے تئیں جس چیز سے قتل کرے گا وہ قیامت والے دن اسی چیز سے عذاب کیا جائے گا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم سے پہلے کے لوگوں میں سے ایک شخص کو زخم لگے اس نے چھری سے اپنا ہاتھ کاٹ ڈالا تمام خون بہ گیا اور وہ اسی میں مرگیا تو اللہ عزوجل نے فرمایا میرے بندے نے اپنے تئیں فنا کرنے میں جلدی کی اسی وجہ سے میں نے اس پر جنت کو حرام کیا اسی لئے اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے جو شخص بھی ظلم و زیادتی کے ساتھ حرام جانتے ہوئے اس کا ارتکاب کرے دلیرانہ طور سے حرام پر کار بند رہے وہ جہنمی ہے، پس ہر عقل مند کو اس سخت تنبیہہ سے ڈرنا چاہئے دل کے کان کھول کر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو سن کر حرام کاریوں سے اجتناب کرنا چاہئے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے بچتے رہو گے تو ہم تمہارے چھوٹے چھوٹے گناہ معاف فرما دیں گے اور تمہیں جنتی بنادیں گے۔ حضرت انس ؓ سے مرفوعا مروی ہے کہ اس طرح کی کوئی اور سخت وعیدیں ملی جس کی تعمیل میں تمہیں اپنے اہل و مال سے الگ ہوجانا چاہئے پھر ہم اس کے لئے اپنے اہل و مال سے جدا نہ ہوجائیں کہ وہ ہمارے کبیرہ گناہوں کے وہ ہمارے چھوٹے موٹے گناہوں سے معاف فرماتا ہے پھر اس آیت کی تلاوت کی۔ اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں بھی ہیں تھوڑی بہت ہم یہاں بیان کرتے ہیں۔ مسند احمد میں حضرت سلمان فارسی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جانتے ہو جمعہ کا دن کیا ہے ؟ میں نے جواب دیا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے باپ کو پیدا کیا آپ نے فرمایا مگر اب جو میں جانتا ہوں وہ بھی سن لو جو شخص اس دن اچھی طرح غسل کرکے نماز جمعہ کے لئے مسجد میں آئے اور نماز ختم ہونے تک خاموش رہے تو اس کا یہ عمل اگلے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے جب تک کہ وہ قتل سے بچا۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ سناتے ہوئے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے تین مرتبہ یہی فرمایا پھر سرنیچا کرلیا ہم سب نے بھی سر نیچا کرلیا اور ہم سب رونے لگے ہمارے دل کانپنے لگے کہ اللہ جانے اللہ کے رسول ﷺ نے کس چیز کے لئے قسم کھائی ہے اور پھر کیوں خاموشی اختیار کی ہے ؟ تھوڑی دیر کے بعد آپ نے سر اٹھایا اور آپ کا چہرہ بشاش تھا جس سے ہم اس قدر خوش ہوئے کہ اگر ہمیں سرخ رنگ اونٹ ملتے تو اس قدر خوش نہ ہوتے، اب آپ فرمانے لگے جو بندہ پانچوں نمازیں پڑھے، رمضان کے روزے رکھے، زکوٰۃ ادا کرتا رہے اور سات کبیرہ گناہوں سے بچا رہے اس کے لئے جنت کے سب دروازے کھل جائیں گے اور اسے کہا جائے گا کہ سلامتی کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ۔ سات کبیرہ گناہ جن سات گناہوں کا اس میں ذکر ہے ان کی تفصیل بخاری مسلم میں اس طرح ہے گناہوں سے بچو جو ہلاک کرنے والے ہیں پوچھا گیا کہ حضور ﷺ وہ کون سے گناہ ہیں ؟ فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جس کا قتل حرام ہو اسے قتل کرنا ہاں کسی شرعی وجہ سے اس کا خون حلال ہوگیا ہو تو اور بات ہے۔ جادو کرنا، سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا اور میدان جنگ سے کفار کے مقابلے میں پیٹھ دکھانا اور بھولی بھالی پاک دامن مسلمان عورتوں کو تہمت لگانا۔ ایک روایت میں جادو کے بدلے ہجرت کرکے پھر واپس اپنے دیس میں قیام کرلینا ہے۔ یہ یاد رہے کہ ان سات گناہوں کو کبیرہ کہنے سے یہ مطلب نہیں کہ کبیرہ گناہ صرف یہی ہیں جیسے کہ بعض اور لوگوں کا خیال ہے جن کے نزدیک مفہوم مخالف معتبر ہے۔ دراصل یہ بہت انتہائی بےمعنی قول اور غلط اصول ہے بالخصوص اس وقت جبکہ اس کے خلاف دلائل موجود ہوں اور یہاں تو صاف لفظوں میں اور کبیرہ گناہوں کا بھی ذکر موجود ہے۔ مندرجہ ذیل حدیثیں ملاحظہ ہوں۔ مستدرک حاکم میں ہے کہ حجتہ الوداع میں رسول مقبول ﷺ نے فرمایا لوگو سن لو اللہ تعالیٰ کے ولی صرف نمازی ہی ہیں جو پانچوں وقت کی فرض نمازوں کو باقاعدہ بجا لاتے ہیں جو رمضان شریف کے روزے رکھتے ہیں ثواب حاصل کرنے کی نیت رکھے اور فرض جان کر ہنسی خوشی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور ان تمام کبیرہ گناہوں سے دور رہتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا ہے۔ ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ وہ کبیرہ گناہ کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا شرک، قتل، میدان جنگ سے بھاگنا، مال یتیم کھانا، سود خوری، پاکدامنوں پر تہمت لگانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، بیت اللہ الحرام کی حرمت کو توڑنا جو زندگی اور موت میں تمہارا قبلہ ہے سنو جو شخص مرتے دم تک ان بڑے گناہوں سے اجتناب کرتا رہے اور نماز و زکوٰۃ کی پابندی کرتا رہے وہ نبی ﷺ کے ساتھ جنت میں سونے کے محلوں میں ہوگا۔ حضرت طیسلہ بن میامن فرماتے ہیں مجھ سے ایک گناہ ہوگیا جو میرے نزدیک کبیرہ تھا، میں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا وہ کبیرہ گناہ نہیں کبیرہ گناہ نو ہیں۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا کسی کو بلا وجہ مار ڈالنا، میدان جنگ میں دشمنان دین کو پیٹھ دکھانا، پاکدامن عورتوں کو تہمت لگانا، سود کھانا، یتیم کا مال ظلم سے کھا جانا، مسجد حرام میں الحاد پھیلانا اور ماں باپ کو نافرمانی کے سبب رلانا، حضرت طیسلہ ؒ فرماتے ہیں کہ اس بیان کے بعد بھی حضرت ابن عمر ؓ نے محسوس کیا کہ خوف کم نہیں ہوا تو فرمایا کیا تمہارے دل میں جہنم کی آگ میں داخل ہونے کا ڈر اور جنت میں جانے کی چاہت ہے ؟ میں نے کہا بہت زیادہ فرمایا کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں ؟ میں نے کہا صرف والدہ حیات ہیں، فرمایا بس تم ان سے نرم کلامی سے بولا کرو اور انہیں کھانا کھلاتے رہا کرو اور ان کبیرہ گناہوں سے بچتے رہا کرو تو تم یقینا جنت میں جاؤ گے اور روایت میں ہے کہ حضرت طیسلہ بن علی نہدی حضرت ابن عمر ؓ سے میدان عرفات میں عرفہ کے دن پیلو کے درخت تلے ملے تھے اس وقت حضرت عبداللہ ؓ اپنے سر اور چہرے پر پانی بہا رہے تھے اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضرت عبداللہ ؓ نے تہمت لگانے کا ذکر کیا تو میں نے پوچھا کیا یہ بھی مثل قتل کے بہت بڑا گناہ ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں اور ان گناہوں کے ذکر میں جادو کا ذکر بھی ہے اور روایت میں ہے کہ میری ان کی ملاقات شام کے وقت ہوئی تھی اور میں نے ان سے کبائر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ کبائر سات ہیں میں نے پوچھا کیا کیا ؟ تو فرمایا شرک اور تہمت لگانا میں نے کہا کیا یہ بھی مثل خون ناحق کے ہے ؟ فرمایا ہاں ہاں اور کسی مومن کو بےسبب مار ڈالنا، لڑائی سے بھاگنا، جادو اور سود خواری، مال یتیم کھانا، والدین کی نافرمانی اور بیت اللہ میں الحاد پھیلانا جو زندگی میں اور موت میں تمہارا قبلہ ہے، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جو اللہ کا بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے نماز قائم رکھے زکوٰۃ ادا کرے رمضان کے روزے رکھے اور کبیرہ گناہوں سے بچے وہ جنتی ہے، ایک شخص نے پوچھا کبائر کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا مسلمان کو قتل کرنا لڑائی والے دن بھاگ کھڑا ہونا۔ ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل یمن کو ایک کتاب لکھوا کر بھجوائی جس میں فرائض اور سنن کی تفصیلات تھیں دیت یعنی جرمانوں کے احکام تھے اور یہ کتاب حضرت عمرو بن حزم ؓ کے ہاتھ اہل یمن کو بھجوائی گئی تھی اس کتاب میں یہ بھی تھا کہ قیامت کے دن تمام کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ انسان اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرے اور ایماندار شخص کا قتل بغیر حق کے اور اللہ کی راہ میں جہاد کے میدان میں جا کر لڑتے ہوئے نامردی سے جان بچانے کی خاطر بھاگ کھڑا ہونا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور ناکردہ گناہ عورتوں پر الزام لگانا اور جادو سیکھنا اور سود کھانا اور مال یتیم برباد کرنا۔ ایک اور روایت میں کبیرہ گناہوں کے بیان میں جھوٹی بات یا جھوٹی شہادت بھی ہے اور حدیث میں ہے کہ کبیرہ گناہوں کے بیان کے وقت آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے لیکن جب یہ بیان فرمایا کہ جھوٹی گواہی اور جھوٹی بات اس وقت آپ تکیے سے ہٹ گئے اور بڑے زور سے اس بات کو بیان فرمایا اور بار بار اسی کو دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے دل میں سوچا کاش اب آپ نہ دہرائیں۔ بخاری مسلم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ حضور ﷺ کونسا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تو اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک کرے یہ جانتے ہوئے کہ تجھے صرف اسی نے پیدا کیا ہے ؟ میں نے پوچھا اس کے بعد ؟ فرمایا یہ کہ تو اپنے بچے کو اس ڈر سے قتل کردے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گا، میں نے پوچھا پھر کونسا گناہ بڑا ہے ؟ فرمایا یہ کہ تو اپنی پڑوسن سے بدکاری کرے پھر حضور ﷺ نے یہ (وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا 68؀ۙ يُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَيَخْلُدْ فِيْهٖ مُهَانًا 69؀ ڰ اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰۗىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَـيِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ ۭ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 70؀) 25۔ الفرقان :68 تا 70) تک پڑھی ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن ؓ مسجد الحرام میں حطیم کے اندر بیٹھے ہوئے تھے جو ایک شخص نے شراب کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا مجھ جیسا بوڑھا بڑی عمر کا آدمی اس جگہ بیٹھ کر اللہ کے رسول ﷺ پر جھوٹ نہیں بول سکتا شراب کا پینا تمام گناہوں سے بڑا گناہ ہے ؟ یہ کام تمام خباثتوں کی ماں ہے شرابی تارک نماز ہوتا ہے وہ اپنی ماں اور خالہ اور پھوپھی سے بھی بدکاری کرنے سے نہیں چوکتا یہ حدیث غریب ہے۔ ابن مردویہ میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ حضرت عمر فاروق ؓ اور دوسرے بہت سے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک مرتبہ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے وہاں کبیرہ گناہوں کا ذکر نکلا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے ؟ تو کسی کے پاس مصدقہ جواب نہ تھا اس لئے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کو بھیجا کہ تم جاکر حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے دریافت کر آؤ میں گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ سب سے بڑا گناہ شراب پینا ہے میں نے واپس آکر اس مجلس میں یہ جواب سنا دیا اس پر اہل مجلس کو تسکین نہ ہوئی اور سب حضرات اٹھ کر حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کے گھر چلے اور خود ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بیان کیا کہ لوگوں نے نبی ﷺ کے سامنے ایک واقعہ بیان کیا کہ بنی اسرائیل کے بادشاہوں میں سے ایک نے ایک شخص کو گرفتار کیا پھر اس سے کہا کہ یا تو تو اپنی جان سے ہاتھ دھو ڈال یا ان کاموں میں سے کسی ایک کو کر یعنی یا تو شراب پی یا خون ناحق کر یا زنا کر یا سور کا گوشت کھا اس غور و تفکر کے بعد اس نے جان جانے کے ڈر سے شراب کو ہلکی چیز سمجھ کر پینا منظور کرلیا جب شراب پی لی تو پھر نشہ میں وہ ان تمام کاموں کو کر گزرا جن سے وہ پہلے رکا تھا۔ حضور ﷺ نے یہ واقعہ گوش گزار فرما کر ہم سے فرمایا جو شخص شراب پیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی نمازیں چالیس رات تک قبول نہیں فرماتا اور جو شراب پینے کی عادت میں ہی مرجائے اور اس کے مثانہ میں تھوڑی سی شراب ہو اس پر اللہ جنت کو حرام کردیتا ہے۔ اگر شراب پینے کے بعد چالیس راتوں کے اندر اندر مرے تو اس کی موت جاہلیت کی موتی ہوتی ہے، یہ حدیث غریب ہے، ایک اور حدیث میں جھوٹی قسم کو بھی رسول اللہ ﷺ نے کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا ہے (بخاری وغیرہ) ابن ابی حاتم میں جھوٹی قسم کے بیان کے بعد یہ فرمان بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہے اور اس نے مچھر کے پر برابر زیادتی کی اس کے دل میں ایک سیاہ داغ ہوجاتا ہے جو قیامت تک باقی رہتا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ انسان کا اپنے ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہ ہے لوگوں نے پوچھا حضور ﷺ اپنے ماں باپ کو کیسے گالی دے گا ؟ آپ نے فرمایا اس طرح کہ اس نے دوسرے کے باپ کو گالی دی اس نے اس کے باپ کو اس نے اس کی ماں کو برا کہا اس نے اس کی ماں کو۔ بخاری شریف میں ہے سب سے بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ پر لعنت کرے لوگوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے فرمایا دوسرے کے ماں باپ کو کہہ کر اپنے ماں باپ کو کہلوانا۔ صحیح حدیث میں ہے مسلمان کو گالی دینا فاسق بنا دیتا ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ اکبر الکبائر یعنی تمام کبیرہ گناہوں میں بڑا گناہ کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے اور ایک گالی کے بدلے دو گالیاں دینا ہے۔ ترمذی میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے دو نمازوں کو عذر کے بغیر جمع کیا وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازے میں گھسا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کی کتاب جو ہمارے سامنے پڑھی گئی اس میں یہ بھی تھا کہ دو نمازوں کو بغیر شرعی عذر کے جمع کرنا کبیرہ گناہ ہے، اور لڑائی کے میدان سے بھاگ کھڑا ہونا اور لوٹ کھسوٹ کرنا بھی کبیرہ گناہ ہے، الغرض ظہر عصر یا مغرب عشاء پہلے وقت یا پچھلے وقت بغیر کسی شرعی رخصت کے جمع کرکے پڑھنا کبیرہ گناہ ہے۔ پھر جو شخص کہ بالکل ہی نہ پڑھے اس کے گناہ کا تو کیا ٹھکانہ ہے ؟ چناچہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ بندے اور شرک کے درمیان نماز کا چھوڑ دینا ہے، سنن کی ایک حدیث میں ہے کہ ہم میں اور کافر میں فرق کرنے والی چیز نماز کا چھوڑ دینا ہے، جس نے اسے چھوڑا اس نے کفر کیا اور روایت میں آپ کا یہ فرمان بھی منقول ہے کہ جس نے عصر کی نماز ترک کردی اس کے اعمال غارت ہوئے اور حدیث میں ہے جس سے عصر کی نماز فوت ہوئی گویا اس کا مال اس کا اہل و عیال بھی ہلاک ہوگئے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ کبیرہ گناہ کیا کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، اللہ کی نعمت اور اس کی رحمت سے ناامید ہونا اور اس خفیہ تدبیروں سے بےخوف ہوجانا اور یہ سب سے بڑا گناہ ہے اسی کے مثل ایک روایت اور بھی بزار میں مروی ہے لیکن زیادہ ٹھیک یہ ہے کہ وہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ پر موقوف ہے، ابن مردویہ میں ہے حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں سب سے کبیرہ گناہ اللہ عزوجل کے ساتھ بدگمانی کرنا ہے، یہ روایت بہت ہی غریب ہے، پہلے وہ حدیث بھی گزرچکی ہے جس میں ہجرت کے بعد کفرستان میں آکر بسنے کو بھی کبیرہ گناہ فرمایا ہے، یہ حدیث ابن مردویہ میں ہے، سات کبیرہ گناہوں میں اسے بھی گنا گیا ہے لیکن اس کی اسناد میں اختلاف ہے اور اسے مرفوع کہنا بالکل غلط ہے ٹھیک بات وہی ہے جو تفسیر ابن جریر میں مروی ہے کہ حضرت علی ؓ کوفے کی مسجد میں ایک مرتبہ منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ سنا رہے تھے جس میں فرمایا لوگو کبیرہ گناہ سات ہیں اسے سن کر لوگ چیخ اٹھے آپ نے اسی کو پھر دوہرایا پھر دوہرایا پھر فرمایا تم مجھ سے ان کی تفصیل کیوں نہیں پوچھتے ؟ لوگوں نے کہا امیر المومنین فرمائیے وہ کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا جس جان کو مار ڈالنا اللہ نے حرام کیا ہے اسے مار ڈالنا پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا یتیم کا مال کھانا سود خوری کرنا لڑائی کے دن پیٹھ دکھانا اور ہجرت کے بعد پھر دارالکفر میں آبسنا۔ راوی حدیث حضرت محمد بن سہل ؒ نے اپنے والد حضرت سہل بن خیثمہ ؒ سے پوچھا کہ اسے کبیرہ گناہوں میں کیسے داخل کیا تو جواب ملا کہ پیارے بچے اس سے بڑھ کر ستم کیا ہوگا ؟ کہ ایک شخص ہجرت کرکے مسلمانوں میں ملے مال غنیمت میں اس کا حصہ مقرر ہوجائے مجاہدین میں اس کا نام درج کردیا جائے پھر وہ ان تمام چیزوں کو چھوڑ کر اعرابی بن جائے اور دارالکفر میں چلا جائے اور جیسا تھا ویسا ہی ہوجائے، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے حجتہ الوداع کے خطبہ میں فرمایا خبردار خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو خون ناحق سے بچو (ہاں شرعی اجازت اور چیز ہے) زنا کاری نہ کرو چوری نہ کرو۔ وہ حدیث پہلے گزرچکی ہے جس میں ہے کہ وصیت کرنے میں کسی کو نقصان پہنچانا بھی کبیرہ گناہ ہے ابن جریر میں ہے کہ صحابہ نے ایک مرتبہ کبیرہ گناہوں کو دہرایا کہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا یتیم کا مال کھانا لڑائی سے بھاگ کھڑا ہونا، پاکدامن بےگناہ عورتوں پر تہمت لگانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا، خیانت کرنا، جادو کرنا، سود کھانا یہ سب کبیرہ گناہ ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور اس گناہ کو کیا کہو گے ؟ جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچتے پھرتے ہیں آخر آیت تک آپ نے تلاوت کی۔ اس کی اسناد میں ضعف ہے اور یہ حدیث حسن ہے، پس ان تمام احادیث میں کبیرہ گناہوں کا ذکر موجود ہے۔ اب اس بارے میں سلف صالحین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کے جو اقوال ہیں وہ ملاحظہ ہوں، ابن جریر میں منقول ہے چند لوگوں نے مصر میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے پوچھا کہ بہت سی باتیں کتاب اللہ میں ہم ایسی پاتے ہیں کہ جن پر ہمارا عمل نہیں اس لئے ہم امیر المومنین حضرت عمر ؓ سے اس بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہیں، حضرت ابن عمر ؓ انہیں لے کر مدینہ آئے اپنے والد سے ملے آپ نے پوچھا کب آئے ہو ؟ جواب دیا کہ چند دن ہوئے۔ پوچھا اجازت سے آئے ہو ؟ اس کا بھی جواب دیا پھر اپنے ساتھ آنے والے لوگوں کا ذکر اور مقصد بیان کیا آپ نے فرمایا انہیں جمع کرو سبھی کو ان کے پاس لائے اور ان میں سے ہر ایک کو حضرت عمر ؓ نے پوچھا تجھے اللہ اور اسلام حق کی قسم بتاؤ تم نے پورا قرآن کریم پڑھا ہے ؟ اس نے کہا ہاں فرمایا کیا تو نے اسے اپنے دل میں محفوظ کرلیا ہے اس نے کہا نہیں اور اگر ہاں کہتا تو حضرت عمر ؓ اسے کماحقہ دلائل سے عاجز کردیتے پھر فرمایا کیا تم سب نے قرآن حکیم کے مفہوم کو نگاہوں میں زبان میں اور اعمال میں ڈھال لیا ہے پھر ایک ایک سے یہی سوال کیا پھر فرمایا تم عمر کو اس مشقت میں ڈالنا چاہتے ہو کہ لوگوں کو بالکل کتاب اللہ کے مطابق ہی ٹھیک ٹھاک کردے، ہمارے رب کو پہلے سے ہی ہماری خطاؤں کا علم تھا پھر آپ نے آیت ان تجتنبوا الخ، کی تلاوت کی۔ پھر فرمایا کیا اہل مدینہ کو تمہارے آنے کا مقصد معلوم ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں فرمایا اگر انہیں بھی اس کا علم ہوتا تو مجھے اس بارے میں انہیں بھی وعظ کرنا پڑتا۔ اس کی اسناد حسن ہے اور متن بھی گو یہ روایت حسن کی حضرت عمر ؓ سے ہے جس میں انقطاع ہے لیکن پھر بھی اتنے سے نقصان پر اس کی پوری شہرت بھاری ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہی حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کبیرہ گناہ یہ ہیں اللہ کے ساتھ شریک کرنا، کسی کو مار ڈالنا، یتیم کا مال کھانا، پاکدامن عورتوں کو تہمت لگانا، لڑائی سے بھاگ جانا، ہجرت کے بعد دارالکفر میں قیام کرلینا، جادو کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، سود کھانا، جماعت سے جدا ہونا، خریدو فروخت کا عہد توڑ دینا، پہلے گزرچکا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں بڑے سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی وسعت رحمت سے مایوس ہونا اور اللہ کی رحمت سے ناامید ہونا ہے اور اللہ عزوجل کی پوشیدہ تدبیروں سے بےخوف ہونا ہے۔ ابن جریر میں آپ ہی سے روایت ہے کہ سورة نساء کی شروع آیت سے لے کر تیس آیتوں تک کبیرہ گناہ کا بیان ہے پھر آپ نے (اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا) 4۔ النسآء :31) کی تلاوت کی، حضرت بریدہ ؓ فرماتے ہیں کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا ماں باپ کو ناخوش کرنا آسودگی کے بعد کے بچے ہوئے پانی کو حاجت مندوں سے روک رکھنا اپنے پاس کے نر جانور کو کسی کی مادہ کے لئے بغیر کچھ لئے نہ دینا، بخاری و مسلم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے بچا ہوا پانی نہ روکا جائے اور نہ بچی ہوئی گھاس روکی جائے، اور روایت میں ہے تین قسم کے گنہگاروں کی طرف قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا اور نہ ہی ان کی فرد جرم ہٹائے گا بلکہ ان کے لئے درد ناک عذاب ہیں ایک وہ شخص جو جنگل میں بچے ہوئے پانی پر قبضہ کرکے مسافروں کو اس سے روکے۔ مسند احمد میں ہے جو شخص زائد پانی کو اور زائد گھاس کو روک رکھے اللہ قیامت کے دن اس پر اپنا فضل نہیں کرے گا۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کبیرہ گناہ وہ ہیں جو عورتوں سے بیعت لینے کے ذکر میں بیان ہوئے ہیں یعنی (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَاۗءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ عَلٰٓي اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ باللّٰهِ شَـيْـــــًٔــا وَّلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِيْنَ وَلَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَاْتِيْنَ بِبُهْتَانٍ يَّفْتَرِيْنَهٗ بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّ وَاَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 60۔ الممتحنہ :12) میں۔ حضرت انس بن مالک ؓ اس آیت کو اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان احسانوں میں بیان فرماتے ہیں اور اس پر بڑی خوشنودی کا اظہار فرماتے ہیں یعنی (اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا) 4۔ النسآء :31) کو۔ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس ؓ کے سامنے لوگوں نے کہا کبیرہ گناہ سات ہیں آپ نے کئی کئی مرتبہ فرمایا سات ہیں، دوسری روایت میں ہے آپ نے فرمایا سات ہلکا درجہ ہے ورنہ ستر ہیں، ایک اور شخص کے کہنے پر آپ نے فرمایا وہ سات سو تک ہیں اور سات بہت ہی قریب ہیں ہاں یہ یاد رکھو کہ استغفار کے بعد کبیرہ گناہ کبیرہ نہیں رہتا اور اصرار اور تکرار سے صغیرہ گناہ صغیرہ نہیں رہتا، اور سند سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا جس گناہ پر بھی جہنم کی وعید اللہ تعالیٰ کے غضب لعنت یا عذاب کی ہے وہ کبیرہ گناہ ہے اور روایت میں ہے جس کام سے اللہ منع فرمادے اس کا کرنا کبیرہ گناہ ہے یعنی کام میں بھی اللہ عزوجل کی نافرمانی ہو وہ بڑا گناہ ہے تابعین کے اقوال بھی ملاحظہ ہوں، عبیدہ ؒ فرماتے ہیں کبیرہ گناہ یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل نفس بغیر حق، میدان جہاد میں پیٹھ پھیرنا، یتیم کا مال اڑانا، سود خوری، بہتان بازی، ہجرت کے بعد وطن دوستی۔ راوی حدیث ابن عون نے اپنے استاد محمد سے پوچھا کیا جادو کبیرہ گناہ میں نہیں ؟ فرمایا یہ بہتان میں آگیا، یہ لفظ بہت سی برائیوں پر مشتمل ہے، حضرت عبید بن عمیر ؒ نے کبیرہ گناہوں پر آیات قرآنی بھی تلاوت کرکے سنائیں شرک پر (وَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاۗءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ اَوْ تَهْوِيْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ) 22۔ الحج :31) یعنی اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا گویا آسمان سے گرپڑا اور اسے پرندے لپک لے جائیں یا ہوا اسے دور دراز نامعلوم اور بدترین جگہ پھینک دے۔ یتیم کے مال پر ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما الخ، یعنی جو لوگ ظلم سے یتیموں کا مال ہڑپ کرلیتے ہیں وہ سب پیٹ میں جہنم کے انگارے بھرتے ہیں۔ سود خواری پر (اَلَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّذِيْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ) 2۔ البقرۃ :175) یعنی جو لوگ سود خواری کرتے ہیں وہ قیامت کے دن مخبوط الحواس اور پاگل بن کر کھڑے ہوں گے۔ بہتان پر (اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۠ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ) 24۔ النور :23) جو لوگ پاکدامن بیخبر باایمان عورتوں پر تہمت لگائیں۔ میدان جنگ سے بھاگنے پر یا ایہا الذین امنوا اذالقیتم الذین کفروا زحفا ایمان والو جب کافروں سے مقابلہ ہوجائے تو پیٹھ نہ دکھاؤ، ہجرت کے بعد کفرستان میں قیام کرنے پر (اِنَّ الَّذِيْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى ۙ الشَّيْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ ۭ وَاَمْلٰى لَهُمْ) 47۔ محمد :25) یعنی لوگ ہدایت کے بعد مرتد ہوجائیں، قتل مومن پر ومن یقتل مومنا متعمدا فجزا وہ جہنم خالد افیہا یعنی جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر مار ڈالے اس کی سزا جہنم کا ابدی داخلہ ہے۔ حضرت عطا ؒ سے بھی کبیرہ گناہوں کا بیان موجود ہے اور اس میں جھوٹی گواہی ہے، حضرت مغیرہ ؒ فرماتے ہیں یہ کہا جاتا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ کو برا کہنا بھی کبیرہ گناہ ہے، میں کہتا ہوں علماء کی ایک جماعت نے اسے کافر کہا ہے جو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا کہے حضرت امام مالک بن انس ؒ سے یہ مروی ہے، امام محمد بن سیرین ؒ فرماتے ہیں میں یہ باور نہیں کرسکتا کہ کسی کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت ہو اور وہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے دشمنی رکھے (ترمذی) حضرت زید بن اسلم ؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کبائر یہ ہیں۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اللہ کی آیتوں اور اس کے رسولوں سے کفر کرنا جادو کرنا اولاد کو مار ڈالنا اللہ تعالیٰ سے اولاد اور بیوی کی نسبت دینا اور اسی جیسے وہ اعمال اور وہ اقوال ہیں جن کے بعد کوئی نیکی قبول نہیں ہوتی ہاں کی ایسے گناہ ہیں جن کے ساتھ دین رہ سکتا ہے اور عمل قبول کرسکتا ہے ایسے گناہوں کو نیکی کے بدلے اللہ عزوجل معاف فرما دیتا ہے، حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مغفرت کا وعدہ ان سے کیا ہے جو کبیرہ گناہوں سے بچیں اور ہم سے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ کبیرہ گناہ سے بچو ٹھیک ٹھاک اور درست رہو اور خوش خبری سنو۔ مسند عبدالرزاق میں بہ سند صحیح رسول کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا میری شفاعت صرف متقیوں اور مومنوں کے لئے ؟ نہیں نہیں بلکہ وہ خطا کاروں اور گناہوں سے آلودہ لوگوں کے لئے بھی ہے۔ اب علماء کرام کے اقوال سنئے جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ کبیرہ گناہ کسے کہتے ہیں بعض تو کہتے ہیں کبیرہ گناہ وہ ہے جس پر حد شرعی ہو۔ بعض کہتے ہیں جس پر قرآن میں یا حدیث میں کسی سزا کا ذکر ہو۔ بعض کا قول ہے جس سے دین داری کم ہوتی ہو اور دیانت داری میں کمی واقع ہوتی ہو۔ قاضی ابو سعید ہر وی ؒ فرماتے ہیں جس کا حرام ہونا لفظوں سے ثابت ہو اور جس نافرمانی پر کوئی حد ہو جیسے قتل وغیرہ اسی طرح ہر فریضہ کا ترک اور جھوٹی گواہی اور جھوٹی روایت اور جھوٹی قسم۔ قاضی روبانی فرماتے ہیں کبائر ساتھ ہیں بےوجہ کسی کو مار ڈالنا، زنا، لواطت، شراب نوشی، چوری، غصب، تہمت اور ایک آٹھویں گواہی اور اسی کے ساتھ یہ بھی شامل کئے گئے ہیں سود خواری، رمضان کے روزے کا بلا عذر ترک کردینا، جھوٹی قسم، قطع رحمی، ماں باپ کی نافرمانی، جہاد سے بھاگنا، یتیم کا مال کھانا، ناپ تول میں خیانت کرنا نماز وقت سے پہلے یا وقت گزار کے بےعذر ادا کرنا، مسلمان کو بےوجہ مارنا، رسول اللہ ﷺ پر جان کر جھوٹ باندھنا آپ کے صحابیوں کو گالی دینا اور قدرت کے بھلی باتوں کا حکم نہ کرنا بری باتوں سے نہ روکنا، قرآن سیکھ کر بھول جانا، جاندار چیز کو آگ سے جلانا، عورت کا اپنے خاوند کے پاس بےسبب نہ آنا، رب کی رحمت سے ناامید ہوجانا، اللہ کے مکر سے بےخوف ہوجانا، اہل علم اور عاملان قرآن کی برائیاں کرنا، ظہار کرنا، سور کا گوشت کھانا، مردار کھانا، ہاں اگر بوجہ ضرورت اور اضطراب کے کھایا ہو تو ادویات کے مصداق ہے۔ امام شافعی ؒ فرماتے ہیں ان میں سے بعض میں توقف کی گنجائش ہے ؟ کبائر کے بارے میں بزرگان دین نہ بہت سی کتابیں بھی تصنیف فرمائی ہیں ہمارے شیخ حافظ ابو عبداللہ ذہبی ؒ نے بھی ایک کتاب لکھی ہے جس میں ستر کبیرہ گناہ گنوائے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کبیرہ گناہ وہ ہے جس پر شارع ؑ نے جہنم کی وعید سنائی ہے۔ اس قسم کے گناہ ہی اگر گنے جائیں تو بہت نکلیں گے اور اگر کبیرہ گناہ ہر اس کام کو کہا جائے جس سے شارع ؑ نے روک دیا ہے تو بہت ہی ہوجائیں گے۔ واللہ اعلم

خریدو فروخت اور اسلامی قواعد و ضوابط ؟ اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو ایک دوسرے کے مال باطل کے ساتھ کھانے کی ممانعت فرما رہا ہے خواہ اس کمائی کی ذریعہ سے ہو جو شرعاً حرام ہے جیسے سود خواری قمار بازی اور ایسے ہی ہر طرح کی حیلہ سازی چاہے اسے جواز کی شرعی صورت دے دی ہو اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے، حضرت ابن عباس سے سوال ہوتا ہے کہ ایک شخص کپڑا خریدتا ہے اور کہتا ہے اگر مجھے پسند آیا تو تو رکھ لوں گا ورنہ کپڑا اور ایک درہم واپس کر دونگا آپ نے اس آیت کی تلاوت کردی یعنی اسے باطل مال میں شامل کیا۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں یہ آیت محکم ہے یعنی منسوخ نہیں نہ قیامت تک منسوخ ہوسکتی ہے، آپ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو مسلمانوں نے ایک دوسرے کے ہاں کھانا چھوڑ دیا جس پر یہ آیت (لَيْسَ عَلَي الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْمَرِيْضِ حَرَجٌ وَّلَا عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُيُوْتِكُمْ۔ الخ) 24۔ النور :61) اتری تجارۃ کو تجارۃ بھی پڑھا گیا ہے۔ یہ استثنا منقطع ہے گویا یوں فرمایا جارہا ہے کہ حرمت والے اسباب سے مال نہ لو ہاں شرعی طریق پر تجارت سے نفع اٹھانا جائز ہے جو خریدار اور بیچنے والے کی باہم رضامندی سے ہو۔ جیسے دوسری جگہ ہے کسی بےگناہ جان کو نہ مارو ہاں حق کے ساتھ ہو تو جائز ہے اور جیسے دوسری آیت میں ہے وہاں موت نہ چکھیں گے مگر پہلی بار کی موت۔ حضرت امام شافعی اس آیت سے استدلال کرکے فرماتے ہیں خریدو فروخت بغیر قبولیت کے صحیح نہیں ہوتی اس لئے کہ رضامندی کی پوری سند یہی ہے گو صرف لین دین کرلینا کبھی کبھی رضامندی پر پوری دلیل نہیں بن سکتا اور جمہور اس کے برخلاف ہیں، تینوں اور اماموں کا قول ہے کہ جس طرح زبانی بات چیت رضامندی کی دلیل ہے اسی طرح لین دین بھی رضامندی کی دلیل ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کم قیمت کی معمولی چیزوں میں تو صرف دینا لینا ہی کافی ہے اور اسی طرح بیوپار کا جو طریقہ بھی ہو لیکن صحیح مذہب میں احتیاطی نظر سے تو بات چیت میں قبولیت کا ہونا اور بات ہے واللہ اعلم۔ مجاہد فرماتے ہیں خریدو فروخت ہو یا بخشش ہو سب کے لئے حکم شامل ہے۔ ابن جریر کی مرفوع حدیث میں ہے تجارت ایک دوسرے کی رضامندی سے ہی لین دین کرنے کا نام ہے گویا کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ دوسرے مسلمان کو تجارت کے نام سے دھوکہ دے، یہ حدیث مرسل ہے پوری رضامندی میں مجلس کے خاتمہ تک کا اختیار بھی ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں دونوں بائع مشتری جب تک جدا نہ ہوں با اختیار ہیں۔ بخاری شریف میں ہے جب دو شخص خریدو فروخت کریں تو دونوں کو الگ الگ ہونے تک مکمل اختیار ہوتا ہے اسی حدیث کے مطابق امام احمد امام شافعی اور ان کے سب ساتھیوں جمہور سلف و خلف کا بھی یہی فتویٰ ہے اور اس پوری رضامندی میں شامل ہے خریدو فروخت کے تین دن بعد تک اختیار دینا رضامندی میں شامل ہے بلکہ یہ مدت گاؤں کی رسم کے مطابق سال بھر کی بھی ہوسکتی ہے امام مالک کے نزدیک صرف لین دین سے ہی بیع صحیح ہوجاتی ہے۔ شافعی مذہب کا بھی یہی خیال ہے اور ان میں سے بعض فرماتے ہیں کہ معمولی کم قیمت چیزوں میں جنہیں لوگ بیوپار کے لئے رکھتے ہوں صرف لین دین ہی کافی ہے۔ بعض اصحاب کا اختیار سے مراد یہی ہے جیسے کہ متفق علیہ ہے۔ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ حرام کاموں کا ارتکاب کرکے اور اس کی نافرمانیاں کرکے اور ایک دوسرے کا بیجا طور پہ مال کھا کر اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو اللہ تم پر رحیم ہے ہر حکم اور ہر ممانعت رحمت والی ہے۔ احترام زندگی مسند احمد میں ہے کہ حضرت عمرو بن عاص ؓ کو ذات السلاسل والے سال رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا آپ فرماتے ہیں مجھے ایک رات احتلام ہوگیا سردی بہت سخت تھی یہاں تک کہ مجھے نہانے میں اپنی جان جانے کا خطرہ ہوگیا تو میں نے تیمم کرکے اپنی جماعت کو صبح کی نماز پڑھادی جب وہاں سے ہم لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں واپس حاضر ہوئے تو میں نے یہ واقعہ کہہ سنایا آپ نے فرمایا کیا تو نے اپنے ساتھیوں کو جنبی ہونے کی حالت میں نماز پڑھا دی ؟ میں نے کہا حضور ﷺ جاڑا سخت تھا اور مجھے اپنی جان جانے کا اندیشہ تھا تو مجھے یاد پڑا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اپنے تئیں ہلاکت نہ کر ڈالو اللہ رحیم ہے پس میں نے تیمم کرکے نماز صبح پڑھا دی تو آپ ہنس دئیے اور مجھے کچھ نہ فرمایا۔ ایک روایت میں ہے کہ اور لوگوں نے حضور ﷺ سے یہ واقعہ بیان کیا تب آپ کے دریافت کرنے پر حضرت عمرو بن عاص نے عذر پیش کیا۔ بخاری و مسلم میں ہے جو شخص کسی لوہے سے خودکشی کرے گا وہ قیامت تک جہنم کی آگ میں لوہے سے خود کشی کرتا رہے گا، اور جو جان بوجھ کر مرجانے کی نیت سے زہر کھالے گا وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں زہر کھاتا رہے گا اور روایت میں ہے کہ جو شخص اپنے تئیں جس چیز سے قتل کرے گا وہ قیامت والے دن اسی چیز سے عذاب کیا جائے گا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم سے پہلے کے لوگوں میں سے ایک شخص کو زخم لگے اس نے چھری سے اپنا ہاتھ کاٹ ڈالا تمام خون بہ گیا اور وہ اسی میں مرگیا تو اللہ عزوجل نے فرمایا میرے بندے نے اپنے تئیں فنا کرنے میں جلدی کی اسی وجہ سے میں نے اس پر جنت کو حرام کیا اسی لئے اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے جو شخص بھی ظلم و زیادتی کے ساتھ حرام جانتے ہوئے اس کا ارتکاب کرے دلیرانہ طور سے حرام پر کار بند رہے وہ جہنمی ہے، پس ہر عقل مند کو اس سخت تنبیہہ سے ڈرنا چاہئے دل کے کان کھول کر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو سن کر حرام کاریوں سے اجتناب کرنا چاہئے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے بچتے رہو گے تو ہم تمہارے چھوٹے چھوٹے گناہ معاف فرما دیں گے اور تمہیں جنتی بنادیں گے۔ حضرت انس ؓ سے مرفوعا مروی ہے کہ اس طرح کی کوئی اور سخت وعیدیں ملی جس کی تعمیل میں تمہیں اپنے اہل و مال سے الگ ہوجانا چاہئے پھر ہم اس کے لئے اپنے اہل و مال سے جدا نہ ہوجائیں کہ وہ ہمارے کبیرہ گناہوں کے وہ ہمارے چھوٹے موٹے گناہوں سے معاف فرماتا ہے پھر اس آیت کی تلاوت کی۔ اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں بھی ہیں تھوڑی بہت ہم یہاں بیان کرتے ہیں۔ مسند احمد میں حضرت سلمان فارسی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جانتے ہو جمعہ کا دن کیا ہے ؟ میں نے جواب دیا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے باپ کو پیدا کیا آپ نے فرمایا مگر اب جو میں جانتا ہوں وہ بھی سن لو جو شخص اس دن اچھی طرح غسل کرکے نماز جمعہ کے لئے مسجد میں آئے اور نماز ختم ہونے تک خاموش رہے تو اس کا یہ عمل اگلے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے جب تک کہ وہ قتل سے بچا۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ سناتے ہوئے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے تین مرتبہ یہی فرمایا پھر سرنیچا کرلیا ہم سب نے بھی سر نیچا کرلیا اور ہم سب رونے لگے ہمارے دل کانپنے لگے کہ اللہ جانے اللہ کے رسول ﷺ نے کس چیز کے لئے قسم کھائی ہے اور پھر کیوں خاموشی اختیار کی ہے ؟ تھوڑی دیر کے بعد آپ نے سر اٹھایا اور آپ کا چہرہ بشاش تھا جس سے ہم اس قدر خوش ہوئے کہ اگر ہمیں سرخ رنگ اونٹ ملتے تو اس قدر خوش نہ ہوتے، اب آپ فرمانے لگے جو بندہ پانچوں نمازیں پڑھے، رمضان کے روزے رکھے، زکوٰۃ ادا کرتا رہے اور سات کبیرہ گناہوں سے بچا رہے اس کے لئے جنت کے سب دروازے کھل جائیں گے اور اسے کہا جائے گا کہ سلامتی کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ۔ سات کبیرہ گناہ جن سات گناہوں کا اس میں ذکر ہے ان کی تفصیل بخاری مسلم میں اس طرح ہے گناہوں سے بچو جو ہلاک کرنے والے ہیں پوچھا گیا کہ حضور ﷺ وہ کون سے گناہ ہیں ؟ فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جس کا قتل حرام ہو اسے قتل کرنا ہاں کسی شرعی وجہ سے اس کا خون حلال ہوگیا ہو تو اور بات ہے۔ جادو کرنا، سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا اور میدان جنگ سے کفار کے مقابلے میں پیٹھ دکھانا اور بھولی بھالی پاک دامن مسلمان عورتوں کو تہمت لگانا۔ ایک روایت میں جادو کے بدلے ہجرت کرکے پھر واپس اپنے دیس میں قیام کرلینا ہے۔ یہ یاد رہے کہ ان سات گناہوں کو کبیرہ کہنے سے یہ مطلب نہیں کہ کبیرہ گناہ صرف یہی ہیں جیسے کہ بعض اور لوگوں کا خیال ہے جن کے نزدیک مفہوم مخالف معتبر ہے۔ دراصل یہ بہت انتہائی بےمعنی قول اور غلط اصول ہے بالخصوص اس وقت جبکہ اس کے خلاف دلائل موجود ہوں اور یہاں تو صاف لفظوں میں اور کبیرہ گناہوں کا بھی ذکر موجود ہے۔ مندرجہ ذیل حدیثیں ملاحظہ ہوں۔ مستدرک حاکم میں ہے کہ حجتہ الوداع میں رسول مقبول ﷺ نے فرمایا لوگو سن لو اللہ تعالیٰ کے ولی صرف نمازی ہی ہیں جو پانچوں وقت کی فرض نمازوں کو باقاعدہ بجا لاتے ہیں جو رمضان شریف کے روزے رکھتے ہیں ثواب حاصل کرنے کی نیت رکھے اور فرض جان کر ہنسی خوشی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور ان تمام کبیرہ گناہوں سے دور رہتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا ہے۔ ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ وہ کبیرہ گناہ کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا شرک، قتل، میدان جنگ سے بھاگنا، مال یتیم کھانا، سود خوری، پاکدامنوں پر تہمت لگانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، بیت اللہ الحرام کی حرمت کو توڑنا جو زندگی اور موت میں تمہارا قبلہ ہے سنو جو شخص مرتے دم تک ان بڑے گناہوں سے اجتناب کرتا رہے اور نماز و زکوٰۃ کی پابندی کرتا رہے وہ نبی ﷺ کے ساتھ جنت میں سونے کے محلوں میں ہوگا۔ حضرت طیسلہ بن میامن فرماتے ہیں مجھ سے ایک گناہ ہوگیا جو میرے نزدیک کبیرہ تھا، میں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا وہ کبیرہ گناہ نہیں کبیرہ گناہ نو ہیں۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا کسی کو بلا وجہ مار ڈالنا، میدان جنگ میں دشمنان دین کو پیٹھ دکھانا، پاکدامن عورتوں کو تہمت لگانا، سود کھانا، یتیم کا مال ظلم سے کھا جانا، مسجد حرام میں الحاد پھیلانا اور ماں باپ کو نافرمانی کے سبب رلانا، حضرت طیسلہ ؒ فرماتے ہیں کہ اس بیان کے بعد بھی حضرت ابن عمر ؓ نے محسوس کیا کہ خوف کم نہیں ہوا تو فرمایا کیا تمہارے دل میں جہنم کی آگ میں داخل ہونے کا ڈر اور جنت میں جانے کی چاہت ہے ؟ میں نے کہا بہت زیادہ فرمایا کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں ؟ میں نے کہا صرف والدہ حیات ہیں، فرمایا بس تم ان سے نرم کلامی سے بولا کرو اور انہیں کھانا کھلاتے رہا کرو اور ان کبیرہ گناہوں سے بچتے رہا کرو تو تم یقینا جنت میں جاؤ گے اور روایت میں ہے کہ حضرت طیسلہ بن علی نہدی حضرت ابن عمر ؓ سے میدان عرفات میں عرفہ کے دن پیلو کے درخت تلے ملے تھے اس وقت حضرت عبداللہ ؓ اپنے سر اور چہرے پر پانی بہا رہے تھے اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضرت عبداللہ ؓ نے تہمت لگانے کا ذکر کیا تو میں نے پوچھا کیا یہ بھی مثل قتل کے بہت بڑا گناہ ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں اور ان گناہوں کے ذکر میں جادو کا ذکر بھی ہے اور روایت میں ہے کہ میری ان کی ملاقات شام کے وقت ہوئی تھی اور میں نے ان سے کبائر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ کبائر سات ہیں میں نے پوچھا کیا کیا ؟ تو فرمایا شرک اور تہمت لگانا میں نے کہا کیا یہ بھی مثل خون ناحق کے ہے ؟ فرمایا ہاں ہاں اور کسی مومن کو بےسبب مار ڈالنا، لڑائی سے بھاگنا، جادو اور سود خواری، مال یتیم کھانا، والدین کی نافرمانی اور بیت اللہ میں الحاد پھیلانا جو زندگی میں اور موت میں تمہارا قبلہ ہے، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جو اللہ کا بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے نماز قائم رکھے زکوٰۃ ادا کرے رمضان کے روزے رکھے اور کبیرہ گناہوں سے بچے وہ جنتی ہے، ایک شخص نے پوچھا کبائر کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا مسلمان کو قتل کرنا لڑائی والے دن بھاگ کھڑا ہونا۔ ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل یمن کو ایک کتاب لکھوا کر بھجوائی جس میں فرائض اور سنن کی تفصیلات تھیں دیت یعنی جرمانوں کے احکام تھے اور یہ کتاب حضرت عمرو بن حزم ؓ کے ہاتھ اہل یمن کو بھجوائی گئی تھی اس کتاب میں یہ بھی تھا کہ قیامت کے دن تمام کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ انسان اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرے اور ایماندار شخص کا قتل بغیر حق کے اور اللہ کی راہ میں جہاد کے میدان میں جا کر لڑتے ہوئے نامردی سے جان بچانے کی خاطر بھاگ کھڑا ہونا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور ناکردہ گناہ عورتوں پر الزام لگانا اور جادو سیکھنا اور سود کھانا اور مال یتیم برباد کرنا۔ ایک اور روایت میں کبیرہ گناہوں کے بیان میں جھوٹی بات یا جھوٹی شہادت بھی ہے اور حدیث میں ہے کہ کبیرہ گناہوں کے بیان کے وقت آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے لیکن جب یہ بیان فرمایا کہ جھوٹی گواہی اور جھوٹی بات اس وقت آپ تکیے سے ہٹ گئے اور بڑے زور سے اس بات کو بیان فرمایا اور بار بار اسی کو دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے دل میں سوچا کاش اب آپ نہ دہرائیں۔ بخاری مسلم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ حضور ﷺ کونسا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تو اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک کرے یہ جانتے ہوئے کہ تجھے صرف اسی نے پیدا کیا ہے ؟ میں نے پوچھا اس کے بعد ؟ فرمایا یہ کہ تو اپنے بچے کو اس ڈر سے قتل کردے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گا، میں نے پوچھا پھر کونسا گناہ بڑا ہے ؟ فرمایا یہ کہ تو اپنی پڑوسن سے بدکاری کرے پھر حضور ﷺ نے یہ (وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا 68؀ۙ يُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَيَخْلُدْ فِيْهٖ مُهَانًا 69؀ ڰ اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰۗىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَـيِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ ۭ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 70؀) 25۔ الفرقان :68 تا 70) تک پڑھی ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن ؓ مسجد الحرام میں حطیم کے اندر بیٹھے ہوئے تھے جو ایک شخص نے شراب کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا مجھ جیسا بوڑھا بڑی عمر کا آدمی اس جگہ بیٹھ کر اللہ کے رسول ﷺ پر جھوٹ نہیں بول سکتا شراب کا پینا تمام گناہوں سے بڑا گناہ ہے ؟ یہ کام تمام خباثتوں کی ماں ہے شرابی تارک نماز ہوتا ہے وہ اپنی ماں اور خالہ اور پھوپھی سے بھی بدکاری کرنے سے نہیں چوکتا یہ حدیث غریب ہے۔ ابن مردویہ میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ حضرت عمر فاروق ؓ اور دوسرے بہت سے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک مرتبہ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے وہاں کبیرہ گناہوں کا ذکر نکلا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے ؟ تو کسی کے پاس مصدقہ جواب نہ تھا اس لئے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کو بھیجا کہ تم جاکر حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے دریافت کر آؤ میں گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ سب سے بڑا گناہ شراب پینا ہے میں نے واپس آکر اس مجلس میں یہ جواب سنا دیا اس پر اہل مجلس کو تسکین نہ ہوئی اور سب حضرات اٹھ کر حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کے گھر چلے اور خود ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بیان کیا کہ لوگوں نے نبی ﷺ کے سامنے ایک واقعہ بیان کیا کہ بنی اسرائیل کے بادشاہوں میں سے ایک نے ایک شخص کو گرفتار کیا پھر اس سے کہا کہ یا تو تو اپنی جان سے ہاتھ دھو ڈال یا ان کاموں میں سے کسی ایک کو کر یعنی یا تو شراب پی یا خون ناحق کر یا زنا کر یا سور کا گوشت کھا اس غور و تفکر کے بعد اس نے جان جانے کے ڈر سے شراب کو ہلکی چیز سمجھ کر پینا منظور کرلیا جب شراب پی لی تو پھر نشہ میں وہ ان تمام کاموں کو کر گزرا جن سے وہ پہلے رکا تھا۔ حضور ﷺ نے یہ واقعہ گوش گزار فرما کر ہم سے فرمایا جو شخص شراب پیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی نمازیں چالیس رات تک قبول نہیں فرماتا اور جو شراب پینے کی عادت میں ہی مرجائے اور اس کے مثانہ میں تھوڑی سی شراب ہو اس پر اللہ جنت کو حرام کردیتا ہے۔ اگر شراب پینے کے بعد چالیس راتوں کے اندر اندر مرے تو اس کی موت جاہلیت کی موتی ہوتی ہے، یہ حدیث غریب ہے، ایک اور حدیث میں جھوٹی قسم کو بھی رسول اللہ ﷺ نے کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا ہے (بخاری وغیرہ) ابن ابی حاتم میں جھوٹی قسم کے بیان کے بعد یہ فرمان بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہے اور اس نے مچھر کے پر برابر زیادتی کی اس کے دل میں ایک سیاہ داغ ہوجاتا ہے جو قیامت تک باقی رہتا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ انسان کا اپنے ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہ ہے لوگوں نے پوچھا حضور ﷺ اپنے ماں باپ کو کیسے گالی دے گا ؟ آپ نے فرمایا اس طرح کہ اس نے دوسرے کے باپ کو گالی دی اس نے اس کے باپ کو اس نے اس کی ماں کو برا کہا اس نے اس کی ماں کو۔ بخاری شریف میں ہے سب سے بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ پر لعنت کرے لوگوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے فرمایا دوسرے کے ماں باپ کو کہہ کر اپنے ماں باپ کو کہلوانا۔ صحیح حدیث میں ہے مسلمان کو گالی دینا فاسق بنا دیتا ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ اکبر الکبائر یعنی تمام کبیرہ گناہوں میں بڑا گناہ کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے اور ایک گالی کے بدلے دو گالیاں دینا ہے۔ ترمذی میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے دو نمازوں کو عذر کے بغیر جمع کیا وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازے میں گھسا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کی کتاب جو ہمارے سامنے پڑھی گئی اس میں یہ بھی تھا کہ دو نمازوں کو بغیر شرعی عذر کے جمع کرنا کبیرہ گناہ ہے، اور لڑائی کے میدان سے بھاگ کھڑا ہونا اور لوٹ کھسوٹ کرنا بھی کبیرہ گناہ ہے، الغرض ظہر عصر یا مغرب عشاء پہلے وقت یا پچھلے وقت بغیر کسی شرعی رخصت کے جمع کرکے پڑھنا کبیرہ گناہ ہے۔ پھر جو شخص کہ بالکل ہی نہ پڑھے اس کے گناہ کا تو کیا ٹھکانہ ہے ؟ چناچہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ بندے اور شرک کے درمیان نماز کا چھوڑ دینا ہے، سنن کی ایک حدیث میں ہے کہ ہم میں اور کافر میں فرق کرنے والی چیز نماز کا چھوڑ دینا ہے، جس نے اسے چھوڑا اس نے کفر کیا اور روایت میں آپ کا یہ فرمان بھی منقول ہے کہ جس نے عصر کی نماز ترک کردی اس کے اعمال غارت ہوئے اور حدیث میں ہے جس سے عصر کی نماز فوت ہوئی گویا اس کا مال اس کا اہل و عیال بھی ہلاک ہوگئے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ کبیرہ گناہ کیا کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، اللہ کی نعمت اور اس کی رحمت سے ناامید ہونا اور اس خفیہ تدبیروں سے بےخوف ہوجانا اور یہ سب سے بڑا گناہ ہے اسی کے مثل ایک روایت اور بھی بزار میں مروی ہے لیکن زیادہ ٹھیک یہ ہے کہ وہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ پر موقوف ہے، ابن مردویہ میں ہے حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں سب سے کبیرہ گناہ اللہ عزوجل کے ساتھ بدگمانی کرنا ہے، یہ روایت بہت ہی غریب ہے، پہلے وہ حدیث بھی گزرچکی ہے جس میں ہجرت کے بعد کفرستان میں آکر بسنے کو بھی کبیرہ گناہ فرمایا ہے، یہ حدیث ابن مردویہ میں ہے، سات کبیرہ گناہوں میں اسے بھی گنا گیا ہے لیکن اس کی اسناد میں اختلاف ہے اور اسے مرفوع کہنا بالکل غلط ہے ٹھیک بات وہی ہے جو تفسیر ابن جریر میں مروی ہے کہ حضرت علی ؓ کوفے کی مسجد میں ایک مرتبہ منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ سنا رہے تھے جس میں فرمایا لوگو کبیرہ گناہ سات ہیں اسے سن کر لوگ چیخ اٹھے آپ نے اسی کو پھر دوہرایا پھر دوہرایا پھر فرمایا تم مجھ سے ان کی تفصیل کیوں نہیں پوچھتے ؟ لوگوں نے کہا امیر المومنین فرمائیے وہ کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا جس جان کو مار ڈالنا اللہ نے حرام کیا ہے اسے مار ڈالنا پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا یتیم کا مال کھانا سود خوری کرنا لڑائی کے دن پیٹھ دکھانا اور ہجرت کے بعد پھر دارالکفر میں آبسنا۔ راوی حدیث حضرت محمد بن سہل ؒ نے اپنے والد حضرت سہل بن خیثمہ ؒ سے پوچھا کہ اسے کبیرہ گناہوں میں کیسے داخل کیا تو جواب ملا کہ پیارے بچے اس سے بڑھ کر ستم کیا ہوگا ؟ کہ ایک شخص ہجرت کرکے مسلمانوں میں ملے مال غنیمت میں اس کا حصہ مقرر ہوجائے مجاہدین میں اس کا نام درج کردیا جائے پھر وہ ان تمام چیزوں کو چھوڑ کر اعرابی بن جائے اور دارالکفر میں چلا جائے اور جیسا تھا ویسا ہی ہوجائے، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے حجتہ الوداع کے خطبہ میں فرمایا خبردار خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو خون ناحق سے بچو (ہاں شرعی اجازت اور چیز ہے) زنا کاری نہ کرو چوری نہ کرو۔ وہ حدیث پہلے گزرچکی ہے جس میں ہے کہ وصیت کرنے میں کسی کو نقصان پہنچانا بھی کبیرہ گناہ ہے ابن جریر میں ہے کہ صحابہ نے ایک مرتبہ کبیرہ گناہوں کو دہرایا کہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا یتیم کا مال کھانا لڑائی سے بھاگ کھڑا ہونا، پاکدامن بےگناہ عورتوں پر تہمت لگانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا، خیانت کرنا، جادو کرنا، سود کھانا یہ سب کبیرہ گناہ ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور اس گناہ کو کیا کہو گے ؟ جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچتے پھرتے ہیں آخر آیت تک آپ نے تلاوت کی۔ اس کی اسناد میں ضعف ہے اور یہ حدیث حسن ہے، پس ان تمام احادیث میں کبیرہ گناہوں کا ذکر موجود ہے۔ اب اس بارے میں سلف صالحین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کے جو اقوال ہیں وہ ملاحظہ ہوں، ابن جریر میں منقول ہے چند لوگوں نے مصر میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے پوچھا کہ بہت سی باتیں کتاب اللہ میں ہم ایسی پاتے ہیں کہ جن پر ہمارا عمل نہیں اس لئے ہم امیر المومنین حضرت عمر ؓ سے اس بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہیں، حضرت ابن عمر ؓ انہیں لے کر مدینہ آئے اپنے والد سے ملے آپ نے پوچھا کب آئے ہو ؟ جواب دیا کہ چند دن ہوئے۔ پوچھا اجازت سے آئے ہو ؟ اس کا بھی جواب دیا پھر اپنے ساتھ آنے والے لوگوں کا ذکر اور مقصد بیان کیا آپ نے فرمایا انہیں جمع کرو سبھی کو ان کے پاس لائے اور ان میں سے ہر ایک کو حضرت عمر ؓ نے پوچھا تجھے اللہ اور اسلام حق کی قسم بتاؤ تم نے پورا قرآن کریم پڑھا ہے ؟ اس نے کہا ہاں فرمایا کیا تو نے اسے اپنے دل میں محفوظ کرلیا ہے اس نے کہا نہیں اور اگر ہاں کہتا تو حضرت عمر ؓ اسے کماحقہ دلائل سے عاجز کردیتے پھر فرمایا کیا تم سب نے قرآن حکیم کے مفہوم کو نگاہوں میں زبان میں اور اعمال میں ڈھال لیا ہے پھر ایک ایک سے یہی سوال کیا پھر فرمایا تم عمر کو اس مشقت میں ڈالنا چاہتے ہو کہ لوگوں کو بالکل کتاب اللہ کے مطابق ہی ٹھیک ٹھاک کردے، ہمارے رب کو پہلے سے ہی ہماری خطاؤں کا علم تھا پھر آپ نے آیت ان تجتنبوا الخ، کی تلاوت کی۔ پھر فرمایا کیا اہل مدینہ کو تمہارے آنے کا مقصد معلوم ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں فرمایا اگر انہیں بھی اس کا علم ہوتا تو مجھے اس بارے میں انہیں بھی وعظ کرنا پڑتا۔ اس کی اسناد حسن ہے اور متن بھی گو یہ روایت حسن کی حضرت عمر ؓ سے ہے جس میں انقطاع ہے لیکن پھر بھی اتنے سے نقصان پر اس کی پوری شہرت بھاری ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہی حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کبیرہ گناہ یہ ہیں اللہ کے ساتھ شریک کرنا، کسی کو مار ڈالنا، یتیم کا مال کھانا، پاکدامن عورتوں کو تہمت لگانا، لڑائی سے بھاگ جانا، ہجرت کے بعد دارالکفر میں قیام کرلینا، جادو کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، سود کھانا، جماعت سے جدا ہونا، خریدو فروخت کا عہد توڑ دینا، پہلے گزرچکا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں بڑے سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی وسعت رحمت سے مایوس ہونا اور اللہ کی رحمت سے ناامید ہونا ہے اور اللہ عزوجل کی پوشیدہ تدبیروں سے بےخوف ہونا ہے۔ ابن جریر میں آپ ہی سے روایت ہے کہ سورة نساء کی شروع آیت سے لے کر تیس آیتوں تک کبیرہ گناہ کا بیان ہے پھر آپ نے (اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا) 4۔ النسآء :31) کی تلاوت کی، حضرت بریدہ ؓ فرماتے ہیں کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا ماں باپ کو ناخوش کرنا آسودگی کے بعد کے بچے ہوئے پانی کو حاجت مندوں سے روک رکھنا اپنے پاس کے نر جانور کو کسی کی مادہ کے لئے بغیر کچھ لئے نہ دینا، بخاری و مسلم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے بچا ہوا پانی نہ روکا جائے اور نہ بچی ہوئی گھاس روکی جائے، اور روایت میں ہے تین قسم کے گنہگاروں کی طرف قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا اور نہ ہی ان کی فرد جرم ہٹائے گا بلکہ ان کے لئے درد ناک عذاب ہیں ایک وہ شخص جو جنگل میں بچے ہوئے پانی پر قبضہ کرکے مسافروں کو اس سے روکے۔ مسند احمد میں ہے جو شخص زائد پانی کو اور زائد گھاس کو روک رکھے اللہ قیامت کے دن اس پر اپنا فضل نہیں کرے گا۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کبیرہ گناہ وہ ہیں جو عورتوں سے بیعت لینے کے ذکر میں بیان ہوئے ہیں یعنی (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَاۗءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ عَلٰٓي اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ باللّٰهِ شَـيْـــــًٔــا وَّلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِيْنَ وَلَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَاْتِيْنَ بِبُهْتَانٍ يَّفْتَرِيْنَهٗ بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّ وَاَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 60۔ الممتحنہ :12) میں۔ حضرت انس بن مالک ؓ اس آیت کو اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان احسانوں میں بیان فرماتے ہیں اور اس پر بڑی خوشنودی کا اظہار فرماتے ہیں یعنی (اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا) 4۔ النسآء :31) کو۔ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس ؓ کے سامنے لوگوں نے کہا کبیرہ گناہ سات ہیں آپ نے کئی کئی مرتبہ فرمایا سات ہیں، دوسری روایت میں ہے آپ نے فرمایا سات ہلکا درجہ ہے ورنہ ستر ہیں، ایک اور شخص کے کہنے پر آپ نے فرمایا وہ سات سو تک ہیں اور سات بہت ہی قریب ہیں ہاں یہ یاد رکھو کہ استغفار کے بعد کبیرہ گناہ کبیرہ نہیں رہتا اور اصرار اور تکرار سے صغیرہ گناہ صغیرہ نہیں رہتا، اور سند سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا جس گناہ پر بھی جہنم کی وعید اللہ تعالیٰ کے غضب لعنت یا عذاب کی ہے وہ کبیرہ گناہ ہے اور روایت میں ہے جس کام سے اللہ منع فرمادے اس کا کرنا کبیرہ گناہ ہے یعنی کام میں بھی اللہ عزوجل کی نافرمانی ہو وہ بڑا گناہ ہے تابعین کے اقوال بھی ملاحظہ ہوں، عبیدہ ؒ فرماتے ہیں کبیرہ گناہ یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل نفس بغیر حق، میدان جہاد میں پیٹھ پھیرنا، یتیم کا مال اڑانا، سود خوری، بہتان بازی، ہجرت کے بعد وطن دوستی۔ راوی حدیث ابن عون نے اپنے استاد محمد سے پوچھا کیا جادو کبیرہ گناہ میں نہیں ؟ فرمایا یہ بہتان میں آگیا، یہ لفظ بہت سی برائیوں پر مشتمل ہے، حضرت عبید بن عمیر ؒ نے کبیرہ گناہوں پر آیات قرآنی بھی تلاوت کرکے سنائیں شرک پر (وَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاۗءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ اَوْ تَهْوِيْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ) 22۔ الحج :31) یعنی اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا گویا آسمان سے گرپڑا اور اسے پرندے لپک لے جائیں یا ہوا اسے دور دراز نامعلوم اور بدترین جگہ پھینک دے۔ یتیم کے مال پر ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما الخ، یعنی جو لوگ ظلم سے یتیموں کا مال ہڑپ کرلیتے ہیں وہ سب پیٹ میں جہنم کے انگارے بھرتے ہیں۔ سود خواری پر (اَلَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّذِيْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ) 2۔ البقرۃ :175) یعنی جو لوگ سود خواری کرتے ہیں وہ قیامت کے دن مخبوط الحواس اور پاگل بن کر کھڑے ہوں گے۔ بہتان پر (اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۠ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ) 24۔ النور :23) جو لوگ پاکدامن بیخبر باایمان عورتوں پر تہمت لگائیں۔ میدان جنگ سے بھاگنے پر یا ایہا الذین امنوا اذالقیتم الذین کفروا زحفا ایمان والو جب کافروں سے مقابلہ ہوجائے تو پیٹھ نہ دکھاؤ، ہجرت کے بعد کفرستان میں قیام کرنے پر (اِنَّ الَّذِيْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى ۙ الشَّيْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ ۭ وَاَمْلٰى لَهُمْ) 47۔ محمد :25) یعنی لوگ ہدایت کے بعد مرتد ہوجائیں، قتل مومن پر ومن یقتل مومنا متعمدا فجزا وہ جہنم خالد افیہا یعنی جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر مار ڈالے اس کی سزا جہنم کا ابدی داخلہ ہے۔ حضرت عطا ؒ سے بھی کبیرہ گناہوں کا بیان موجود ہے اور اس میں جھوٹی گواہی ہے، حضرت مغیرہ ؒ فرماتے ہیں یہ کہا جاتا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ کو برا کہنا بھی کبیرہ گناہ ہے، میں کہتا ہوں علماء کی ایک جماعت نے اسے کافر کہا ہے جو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا کہے حضرت امام مالک بن انس ؒ سے یہ مروی ہے، امام محمد بن سیرین ؒ فرماتے ہیں میں یہ باور نہیں کرسکتا کہ کسی کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت ہو اور وہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے دشمنی رکھے (ترمذی) حضرت زید بن اسلم ؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کبائر یہ ہیں۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اللہ کی آیتوں اور اس کے رسولوں سے کفر کرنا جادو کرنا اولاد کو مار ڈالنا اللہ تعالیٰ سے اولاد اور بیوی کی نسبت دینا اور اسی جیسے وہ اعمال اور وہ اقوال ہیں جن کے بعد کوئی نیکی قبول نہیں ہوتی ہاں کی ایسے گناہ ہیں جن کے ساتھ دین رہ سکتا ہے اور عمل قبول کرسکتا ہے ایسے گناہوں کو نیکی کے بدلے اللہ عزوجل معاف فرما دیتا ہے، حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مغفرت کا وعدہ ان سے کیا ہے جو کبیرہ گناہوں سے بچیں اور ہم سے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ کبیرہ گناہ سے بچو ٹھیک ٹھاک اور درست رہو اور خوش خبری سنو۔ مسند عبدالرزاق میں بہ سند صحیح رسول کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا میری شفاعت صرف متقیوں اور مومنوں کے لئے ؟ نہیں نہیں بلکہ وہ خطا کاروں اور گناہوں سے آلودہ لوگوں کے لئے بھی ہے۔ اب علماء کرام کے اقوال سنئے جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ کبیرہ گناہ کسے کہتے ہیں بعض تو کہتے ہیں کبیرہ گناہ وہ ہے جس پر حد شرعی ہو۔ بعض کہتے ہیں جس پر قرآن میں یا حدیث میں کسی سزا کا ذکر ہو۔ بعض کا قول ہے جس سے دین داری کم ہوتی ہو اور دیانت داری میں کمی واقع ہوتی ہو۔ قاضی ابو سعید ہر وی ؒ فرماتے ہیں جس کا حرام ہونا لفظوں سے ثابت ہو اور جس نافرمانی پر کوئی حد ہو جیسے قتل وغیرہ اسی طرح ہر فریضہ کا ترک اور جھوٹی گواہی اور جھوٹی روایت اور جھوٹی قسم۔ قاضی روبانی فرماتے ہیں کبائر ساتھ ہیں بےوجہ کسی کو مار ڈالنا، زنا، لواطت، شراب نوشی، چوری، غصب، تہمت اور ایک آٹھویں گواہی اور اسی کے ساتھ یہ بھی شامل کئے گئے ہیں سود خواری، رمضان کے روزے کا بلا عذر ترک کردینا، جھوٹی قسم، قطع رحمی، ماں باپ کی نافرمانی، جہاد سے بھاگنا، یتیم کا مال کھانا، ناپ تول میں خیانت کرنا نماز وقت سے پہلے یا وقت گزار کے بےعذر ادا کرنا، مسلمان کو بےوجہ مارنا، رسول اللہ ﷺ پر جان کر جھوٹ باندھنا آپ کے صحابیوں کو گالی دینا اور قدرت کے بھلی باتوں کا حکم نہ کرنا بری باتوں سے نہ روکنا، قرآن سیکھ کر بھول جانا، جاندار چیز کو آگ سے جلانا، عورت کا اپنے خاوند کے پاس بےسبب نہ آنا، رب کی رحمت سے ناامید ہوجانا، اللہ کے مکر سے بےخوف ہوجانا، اہل علم اور عاملان قرآن کی برائیاں کرنا، ظہار کرنا، سور کا گوشت کھانا، مردار کھانا، ہاں اگر بوجہ ضرورت اور اضطراب کے کھایا ہو تو ادویات کے مصداق ہے۔ امام شافعی ؒ فرماتے ہیں ان میں سے بعض میں توقف کی گنجائش ہے ؟ کبائر کے بارے میں بزرگان دین نہ بہت سی کتابیں بھی تصنیف فرمائی ہیں ہمارے شیخ حافظ ابو عبداللہ ذہبی ؒ نے بھی ایک کتاب لکھی ہے جس میں ستر کبیرہ گناہ گنوائے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کبیرہ گناہ وہ ہے جس پر شارع ؑ نے جہنم کی وعید سنائی ہے۔ اس قسم کے گناہ ہی اگر گنے جائیں تو بہت نکلیں گے اور اگر کبیرہ گناہ ہر اس کام کو کہا جائے جس سے شارع ؑ نے روک دیا ہے تو بہت ہی ہوجائیں گے۔ واللہ اعلم

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com