Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Ghafir
Tafsir Ibn Kathir · The Forgiver · 85 ayat · ayat 61–85 · Quran text →
احسانات و انعامات کا تذکرہ۔اللہ تعالیٰ احسان بیان فرماتا ہے کہ اس نے رات کو سکون و راحت کی چیز بنائی۔ اور دن کو روشن چمکیلا تاکہ ہر شخص کو اپنے کام کاج میں، سفر میں، طلب معاش میں سہولت ہو۔ اور دن بھر کا کسل اور تھکان رات کے سکون و آرام سے اتر جائے۔ مخلوق پر اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان چیزوں کو پیدا کرنے والا اور یہ راحت و آرام کے سامان مہیا کردینے والا ہی اللہ واحد ہے۔ جو تمام چیزوں کا خالق ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نہ اس کے سوا اور کوئی مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے۔ پھر تم کیوں اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ جو خود مخلوق ہیں۔ کسی چیز کو انہوں نے پیدا نہیں کیا۔ بلکہ جن بتوں کی تم پرستش کر رہے ہو وہ تو خود تمہارے اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے ہیں، ان سے پہلے کے مشرکین بھی اسی طرح بہکے اور بےدلیل و حجت غیر اللہ کی عبادت کرنے لگے۔ خواہش نفسانی کو سامنے رکھ کر اللہ کے دلائل کی تکذیب کی۔ اور جہالت کو آگے رکھ کر بہکتے بھٹکتے رہے اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لئے قرار گاہ بنایا۔ یعنی ٹھہری ہوئی اور فرش کی طرح بچھی ہوئی کہ اس پر تم اپنی زندگی گزارو چلو پھر آؤ جاؤ۔ پہاڑوں کو اس پر گاڑ کر اسے ٹھہرا دیا کہ اب ہل جل نہیں سکتی۔ اس نے آسمان کو چھت بنایا جو ہر طرح محفوظ ہے۔ اسی نے تمہیں بہترین صورتوں میں پیدا کیا۔ ہر جوڑ ٹھیک ٹھاک اور نظر فریب بنایا۔ موزوں قامت مناسب اعضا سڈول بدن خوبصورت چہرہ عطا فرمایا۔ نفیس اور بہتر چیزیں کھانے پینے کو دیں۔ پیدا کیا، بسایا، اس نے کھلایا پلایا، اس نے پہنایا اوڑھایا۔ پس صحیح معنی میں خالق و رازق وہی رب العالمین ہے۔ جیسے سورة بقرہ میں فرمایا۔۔ الخ، یعنی لوگو اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے اگلو کو پیدا کیا تاکہ تم بچو۔ اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے بارش نازل فرما کر اس کی وجہ سے زمین سے پھل نکال کر تمہیں روزیاں دیں پس تم ان باتوں کے جاننے کے باوجود اللہ کے شریک اوروں کو نہ بناؤ۔ یہاں بھی اپنی یہ صفتیں بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اور سارے جہان کا رب بھی وہی ہے۔ وہ بابرکت ہے۔ وہ بلندی پاکیزگی برتری اور بزرگی والا ہے، وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ وہ زندہ ہے جس پر کبھی موت نہیں۔ وہی اول و آخر ظاہر و باطن ہے۔ اس کا کوئی وصف کسی دوسرے میں نہیں۔ اس کا نظیر یا برابر کوئی نہیں۔ تمہیں چاہئے کہ اس کی توحید کو مانتے ہوئے اس سے دعائیں کرتے رہو، اور اس کی عبادت میں مشغول رہو۔ تمام تر تعریفوں کا مالک اللہ رب العالمین ہی ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اہل علم کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ لا الہ الا اللہ پڑھنے والے کو ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین بھی پڑھنا چاہئے تاکہ اس آیت پر عمل ہوجائے۔ ابن عباس سے بھی یہ مرودی ہے حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہی جب تک فادعو اللہ مخلصین لہ الدین پڑھے تو لا الہ الا اللہ کہہ لیا کر اور اس کے ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین پڑھ لیا کر۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ہر نماز کے سلام کے بعد (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک والہ الحمد وھو علی کل شی قدیر) پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ان کلمات کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ (مسلم ابو داؤد، نسائی)
احسانات و انعامات کا تذکرہ۔اللہ تعالیٰ احسان بیان فرماتا ہے کہ اس نے رات کو سکون و راحت کی چیز بنائی۔ اور دن کو روشن چمکیلا تاکہ ہر شخص کو اپنے کام کاج میں، سفر میں، طلب معاش میں سہولت ہو۔ اور دن بھر کا کسل اور تھکان رات کے سکون و آرام سے اتر جائے۔ مخلوق پر اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان چیزوں کو پیدا کرنے والا اور یہ راحت و آرام کے سامان مہیا کردینے والا ہی اللہ واحد ہے۔ جو تمام چیزوں کا خالق ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نہ اس کے سوا اور کوئی مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے۔ پھر تم کیوں اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ جو خود مخلوق ہیں۔ کسی چیز کو انہوں نے پیدا نہیں کیا۔ بلکہ جن بتوں کی تم پرستش کر رہے ہو وہ تو خود تمہارے اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے ہیں، ان سے پہلے کے مشرکین بھی اسی طرح بہکے اور بےدلیل و حجت غیر اللہ کی عبادت کرنے لگے۔ خواہش نفسانی کو سامنے رکھ کر اللہ کے دلائل کی تکذیب کی۔ اور جہالت کو آگے رکھ کر بہکتے بھٹکتے رہے اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لئے قرار گاہ بنایا۔ یعنی ٹھہری ہوئی اور فرش کی طرح بچھی ہوئی کہ اس پر تم اپنی زندگی گزارو چلو پھر آؤ جاؤ۔ پہاڑوں کو اس پر گاڑ کر اسے ٹھہرا دیا کہ اب ہل جل نہیں سکتی۔ اس نے آسمان کو چھت بنایا جو ہر طرح محفوظ ہے۔ اسی نے تمہیں بہترین صورتوں میں پیدا کیا۔ ہر جوڑ ٹھیک ٹھاک اور نظر فریب بنایا۔ موزوں قامت مناسب اعضا سڈول بدن خوبصورت چہرہ عطا فرمایا۔ نفیس اور بہتر چیزیں کھانے پینے کو دیں۔ پیدا کیا، بسایا، اس نے کھلایا پلایا، اس نے پہنایا اوڑھایا۔ پس صحیح معنی میں خالق و رازق وہی رب العالمین ہے۔ جیسے سورة بقرہ میں فرمایا۔۔ الخ، یعنی لوگو اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے اگلو کو پیدا کیا تاکہ تم بچو۔ اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے بارش نازل فرما کر اس کی وجہ سے زمین سے پھل نکال کر تمہیں روزیاں دیں پس تم ان باتوں کے جاننے کے باوجود اللہ کے شریک اوروں کو نہ بناؤ۔ یہاں بھی اپنی یہ صفتیں بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اور سارے جہان کا رب بھی وہی ہے۔ وہ بابرکت ہے۔ وہ بلندی پاکیزگی برتری اور بزرگی والا ہے، وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ وہ زندہ ہے جس پر کبھی موت نہیں۔ وہی اول و آخر ظاہر و باطن ہے۔ اس کا کوئی وصف کسی دوسرے میں نہیں۔ اس کا نظیر یا برابر کوئی نہیں۔ تمہیں چاہئے کہ اس کی توحید کو مانتے ہوئے اس سے دعائیں کرتے رہو، اور اس کی عبادت میں مشغول رہو۔ تمام تر تعریفوں کا مالک اللہ رب العالمین ہی ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اہل علم کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ لا الہ الا اللہ پڑھنے والے کو ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین بھی پڑھنا چاہئے تاکہ اس آیت پر عمل ہوجائے۔ ابن عباس سے بھی یہ مرودی ہے حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہی جب تک فادعو اللہ مخلصین لہ الدین پڑھے تو لا الہ الا اللہ کہہ لیا کر اور اس کے ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین پڑھ لیا کر۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ہر نماز کے سلام کے بعد (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک والہ الحمد وھو علی کل شی قدیر) پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ان کلمات کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ (مسلم ابو داؤد، نسائی)
احسانات و انعامات کا تذکرہ۔اللہ تعالیٰ احسان بیان فرماتا ہے کہ اس نے رات کو سکون و راحت کی چیز بنائی۔ اور دن کو روشن چمکیلا تاکہ ہر شخص کو اپنے کام کاج میں، سفر میں، طلب معاش میں سہولت ہو۔ اور دن بھر کا کسل اور تھکان رات کے سکون و آرام سے اتر جائے۔ مخلوق پر اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان چیزوں کو پیدا کرنے والا اور یہ راحت و آرام کے سامان مہیا کردینے والا ہی اللہ واحد ہے۔ جو تمام چیزوں کا خالق ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نہ اس کے سوا اور کوئی مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے۔ پھر تم کیوں اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ جو خود مخلوق ہیں۔ کسی چیز کو انہوں نے پیدا نہیں کیا۔ بلکہ جن بتوں کی تم پرستش کر رہے ہو وہ تو خود تمہارے اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے ہیں، ان سے پہلے کے مشرکین بھی اسی طرح بہکے اور بےدلیل و حجت غیر اللہ کی عبادت کرنے لگے۔ خواہش نفسانی کو سامنے رکھ کر اللہ کے دلائل کی تکذیب کی۔ اور جہالت کو آگے رکھ کر بہکتے بھٹکتے رہے اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لئے قرار گاہ بنایا۔ یعنی ٹھہری ہوئی اور فرش کی طرح بچھی ہوئی کہ اس پر تم اپنی زندگی گزارو چلو پھر آؤ جاؤ۔ پہاڑوں کو اس پر گاڑ کر اسے ٹھہرا دیا کہ اب ہل جل نہیں سکتی۔ اس نے آسمان کو چھت بنایا جو ہر طرح محفوظ ہے۔ اسی نے تمہیں بہترین صورتوں میں پیدا کیا۔ ہر جوڑ ٹھیک ٹھاک اور نظر فریب بنایا۔ موزوں قامت مناسب اعضا سڈول بدن خوبصورت چہرہ عطا فرمایا۔ نفیس اور بہتر چیزیں کھانے پینے کو دیں۔ پیدا کیا، بسایا، اس نے کھلایا پلایا، اس نے پہنایا اوڑھایا۔ پس صحیح معنی میں خالق و رازق وہی رب العالمین ہے۔ جیسے سورة بقرہ میں فرمایا۔۔ الخ، یعنی لوگو اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے اگلو کو پیدا کیا تاکہ تم بچو۔ اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے بارش نازل فرما کر اس کی وجہ سے زمین سے پھل نکال کر تمہیں روزیاں دیں پس تم ان باتوں کے جاننے کے باوجود اللہ کے شریک اوروں کو نہ بناؤ۔ یہاں بھی اپنی یہ صفتیں بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اور سارے جہان کا رب بھی وہی ہے۔ وہ بابرکت ہے۔ وہ بلندی پاکیزگی برتری اور بزرگی والا ہے، وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ وہ زندہ ہے جس پر کبھی موت نہیں۔ وہی اول و آخر ظاہر و باطن ہے۔ اس کا کوئی وصف کسی دوسرے میں نہیں۔ اس کا نظیر یا برابر کوئی نہیں۔ تمہیں چاہئے کہ اس کی توحید کو مانتے ہوئے اس سے دعائیں کرتے رہو، اور اس کی عبادت میں مشغول رہو۔ تمام تر تعریفوں کا مالک اللہ رب العالمین ہی ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اہل علم کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ لا الہ الا اللہ پڑھنے والے کو ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین بھی پڑھنا چاہئے تاکہ اس آیت پر عمل ہوجائے۔ ابن عباس سے بھی یہ مرودی ہے حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہی جب تک فادعو اللہ مخلصین لہ الدین پڑھے تو لا الہ الا اللہ کہہ لیا کر اور اس کے ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین پڑھ لیا کر۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ہر نماز کے سلام کے بعد (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک والہ الحمد وھو علی کل شی قدیر) پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ان کلمات کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ (مسلم ابو داؤد، نسائی)
احسانات و انعامات کا تذکرہ۔اللہ تعالیٰ احسان بیان فرماتا ہے کہ اس نے رات کو سکون و راحت کی چیز بنائی۔ اور دن کو روشن چمکیلا تاکہ ہر شخص کو اپنے کام کاج میں، سفر میں، طلب معاش میں سہولت ہو۔ اور دن بھر کا کسل اور تھکان رات کے سکون و آرام سے اتر جائے۔ مخلوق پر اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان چیزوں کو پیدا کرنے والا اور یہ راحت و آرام کے سامان مہیا کردینے والا ہی اللہ واحد ہے۔ جو تمام چیزوں کا خالق ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نہ اس کے سوا اور کوئی مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے۔ پھر تم کیوں اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ جو خود مخلوق ہیں۔ کسی چیز کو انہوں نے پیدا نہیں کیا۔ بلکہ جن بتوں کی تم پرستش کر رہے ہو وہ تو خود تمہارے اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے ہیں، ان سے پہلے کے مشرکین بھی اسی طرح بہکے اور بےدلیل و حجت غیر اللہ کی عبادت کرنے لگے۔ خواہش نفسانی کو سامنے رکھ کر اللہ کے دلائل کی تکذیب کی۔ اور جہالت کو آگے رکھ کر بہکتے بھٹکتے رہے اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لئے قرار گاہ بنایا۔ یعنی ٹھہری ہوئی اور فرش کی طرح بچھی ہوئی کہ اس پر تم اپنی زندگی گزارو چلو پھر آؤ جاؤ۔ پہاڑوں کو اس پر گاڑ کر اسے ٹھہرا دیا کہ اب ہل جل نہیں سکتی۔ اس نے آسمان کو چھت بنایا جو ہر طرح محفوظ ہے۔ اسی نے تمہیں بہترین صورتوں میں پیدا کیا۔ ہر جوڑ ٹھیک ٹھاک اور نظر فریب بنایا۔ موزوں قامت مناسب اعضا سڈول بدن خوبصورت چہرہ عطا فرمایا۔ نفیس اور بہتر چیزیں کھانے پینے کو دیں۔ پیدا کیا، بسایا، اس نے کھلایا پلایا، اس نے پہنایا اوڑھایا۔ پس صحیح معنی میں خالق و رازق وہی رب العالمین ہے۔ جیسے سورة بقرہ میں فرمایا۔۔ الخ، یعنی لوگو اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے اگلو کو پیدا کیا تاکہ تم بچو۔ اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے بارش نازل فرما کر اس کی وجہ سے زمین سے پھل نکال کر تمہیں روزیاں دیں پس تم ان باتوں کے جاننے کے باوجود اللہ کے شریک اوروں کو نہ بناؤ۔ یہاں بھی اپنی یہ صفتیں بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اور سارے جہان کا رب بھی وہی ہے۔ وہ بابرکت ہے۔ وہ بلندی پاکیزگی برتری اور بزرگی والا ہے، وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ وہ زندہ ہے جس پر کبھی موت نہیں۔ وہی اول و آخر ظاہر و باطن ہے۔ اس کا کوئی وصف کسی دوسرے میں نہیں۔ اس کا نظیر یا برابر کوئی نہیں۔ تمہیں چاہئے کہ اس کی توحید کو مانتے ہوئے اس سے دعائیں کرتے رہو، اور اس کی عبادت میں مشغول رہو۔ تمام تر تعریفوں کا مالک اللہ رب العالمین ہی ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اہل علم کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ لا الہ الا اللہ پڑھنے والے کو ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین بھی پڑھنا چاہئے تاکہ اس آیت پر عمل ہوجائے۔ ابن عباس سے بھی یہ مرودی ہے حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہی جب تک فادعو اللہ مخلصین لہ الدین پڑھے تو لا الہ الا اللہ کہہ لیا کر اور اس کے ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین پڑھ لیا کر۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ہر نماز کے سلام کے بعد (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک والہ الحمد وھو علی کل شی قدیر) پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ان کلمات کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ (مسلم ابو داؤد، نسائی)
احسانات و انعامات کا تذکرہ۔اللہ تعالیٰ احسان بیان فرماتا ہے کہ اس نے رات کو سکون و راحت کی چیز بنائی۔ اور دن کو روشن چمکیلا تاکہ ہر شخص کو اپنے کام کاج میں، سفر میں، طلب معاش میں سہولت ہو۔ اور دن بھر کا کسل اور تھکان رات کے سکون و آرام سے اتر جائے۔ مخلوق پر اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان چیزوں کو پیدا کرنے والا اور یہ راحت و آرام کے سامان مہیا کردینے والا ہی اللہ واحد ہے۔ جو تمام چیزوں کا خالق ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نہ اس کے سوا اور کوئی مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے۔ پھر تم کیوں اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ جو خود مخلوق ہیں۔ کسی چیز کو انہوں نے پیدا نہیں کیا۔ بلکہ جن بتوں کی تم پرستش کر رہے ہو وہ تو خود تمہارے اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے ہیں، ان سے پہلے کے مشرکین بھی اسی طرح بہکے اور بےدلیل و حجت غیر اللہ کی عبادت کرنے لگے۔ خواہش نفسانی کو سامنے رکھ کر اللہ کے دلائل کی تکذیب کی۔ اور جہالت کو آگے رکھ کر بہکتے بھٹکتے رہے اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لئے قرار گاہ بنایا۔ یعنی ٹھہری ہوئی اور فرش کی طرح بچھی ہوئی کہ اس پر تم اپنی زندگی گزارو چلو پھر آؤ جاؤ۔ پہاڑوں کو اس پر گاڑ کر اسے ٹھہرا دیا کہ اب ہل جل نہیں سکتی۔ اس نے آسمان کو چھت بنایا جو ہر طرح محفوظ ہے۔ اسی نے تمہیں بہترین صورتوں میں پیدا کیا۔ ہر جوڑ ٹھیک ٹھاک اور نظر فریب بنایا۔ موزوں قامت مناسب اعضا سڈول بدن خوبصورت چہرہ عطا فرمایا۔ نفیس اور بہتر چیزیں کھانے پینے کو دیں۔ پیدا کیا، بسایا، اس نے کھلایا پلایا، اس نے پہنایا اوڑھایا۔ پس صحیح معنی میں خالق و رازق وہی رب العالمین ہے۔ جیسے سورة بقرہ میں فرمایا۔۔ الخ، یعنی لوگو اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے اگلو کو پیدا کیا تاکہ تم بچو۔ اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے بارش نازل فرما کر اس کی وجہ سے زمین سے پھل نکال کر تمہیں روزیاں دیں پس تم ان باتوں کے جاننے کے باوجود اللہ کے شریک اوروں کو نہ بناؤ۔ یہاں بھی اپنی یہ صفتیں بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اور سارے جہان کا رب بھی وہی ہے۔ وہ بابرکت ہے۔ وہ بلندی پاکیزگی برتری اور بزرگی والا ہے، وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ وہ زندہ ہے جس پر کبھی موت نہیں۔ وہی اول و آخر ظاہر و باطن ہے۔ اس کا کوئی وصف کسی دوسرے میں نہیں۔ اس کا نظیر یا برابر کوئی نہیں۔ تمہیں چاہئے کہ اس کی توحید کو مانتے ہوئے اس سے دعائیں کرتے رہو، اور اس کی عبادت میں مشغول رہو۔ تمام تر تعریفوں کا مالک اللہ رب العالمین ہی ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اہل علم کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ لا الہ الا اللہ پڑھنے والے کو ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین بھی پڑھنا چاہئے تاکہ اس آیت پر عمل ہوجائے۔ ابن عباس سے بھی یہ مرودی ہے حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہی جب تک فادعو اللہ مخلصین لہ الدین پڑھے تو لا الہ الا اللہ کہہ لیا کر اور اس کے ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین پڑھ لیا کر۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ہر نماز کے سلام کے بعد (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک والہ الحمد وھو علی کل شی قدیر) پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ان کلمات کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ (مسلم ابو داؤد، نسائی)
رسول اللہ ﷺ کی مشرکین کو دعوت توحید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سوا ہر کسی کی عبادت سے اپنی مخلوق کو منع فرما چکا ہے۔ اس کے سوا اور کوئی مستحق عبادت نہیں۔ اس کی بہت بڑی دلیل اس کے بعد کی آیت ہے، جس میں فرمایا کہ اسی وحدہ لاشریک لہ نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کی پھٹکی سے پیدا کیا۔ اسی نے تمہیں ماں کے پیٹ سے بچے کی صورت میں نکالا۔ ان تمام حالات کو وہی بدلتا رہا پھر اسی نے بچپن سے جوانی تک تمہیں پہنچایا۔ وہی جوانی کے بعد بڑھاپے تک لے جائے گا یہ سب کام اسی ایک کے حکم تقدیر اور تدبیر ہوجاتے ہیں۔ پھر کس قدر نامرادی ہے کہ اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کی جائے ؟ بعض اس سے پہلے ہی فوت ہوجاتے ہیں۔ یعنی کچے پنے میں ہی گرجاتے ہیں۔ حمل ساقط ہوجاتا ہے۔ بعض بچین میں بعض جوانی میں بعض ادھیڑ عمر میں بڑھاپے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں۔ چناچہ اور جگہ قرآن پاک میں ہے (وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَاۗءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى) 22۔ الحج :5) یعنی ہم ماں کے پیٹ میں ٹھہراتے ہیں جب تک چاہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ تاکہ تم وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ۔ اور تم سوچو سمجھو۔ یعنی اپنی حالتوں کے اس انقلاب سے تم ایمان لے آؤ کہ اس دنیا کے بعد بھی تمہیں نئی زندگی میں ایک روز کھڑا ہونا ہے، وہی زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی موت زیست پر قادر نہیں۔ اس کے کسی حکم کو کسی فیصلے کو کسی تقرر کو کسی ارادے کو کوئی توڑنے والا نہیں، جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے اور جو وہ نہ چاہے ناممکن ہے کہ وہ ہوجائے۔
رسول اللہ ﷺ کی مشرکین کو دعوت توحید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سوا ہر کسی کی عبادت سے اپنی مخلوق کو منع فرما چکا ہے۔ اس کے سوا اور کوئی مستحق عبادت نہیں۔ اس کی بہت بڑی دلیل اس کے بعد کی آیت ہے، جس میں فرمایا کہ اسی وحدہ لاشریک لہ نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کی پھٹکی سے پیدا کیا۔ اسی نے تمہیں ماں کے پیٹ سے بچے کی صورت میں نکالا۔ ان تمام حالات کو وہی بدلتا رہا پھر اسی نے بچپن سے جوانی تک تمہیں پہنچایا۔ وہی جوانی کے بعد بڑھاپے تک لے جائے گا یہ سب کام اسی ایک کے حکم تقدیر اور تدبیر ہوجاتے ہیں۔ پھر کس قدر نامرادی ہے کہ اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کی جائے ؟ بعض اس سے پہلے ہی فوت ہوجاتے ہیں۔ یعنی کچے پنے میں ہی گرجاتے ہیں۔ حمل ساقط ہوجاتا ہے۔ بعض بچین میں بعض جوانی میں بعض ادھیڑ عمر میں بڑھاپے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں۔ چناچہ اور جگہ قرآن پاک میں ہے (وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَاۗءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى) 22۔ الحج :5) یعنی ہم ماں کے پیٹ میں ٹھہراتے ہیں جب تک چاہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ تاکہ تم وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ۔ اور تم سوچو سمجھو۔ یعنی اپنی حالتوں کے اس انقلاب سے تم ایمان لے آؤ کہ اس دنیا کے بعد بھی تمہیں نئی زندگی میں ایک روز کھڑا ہونا ہے، وہی زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی موت زیست پر قادر نہیں۔ اس کے کسی حکم کو کسی فیصلے کو کسی تقرر کو کسی ارادے کو کوئی توڑنے والا نہیں، جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے اور جو وہ نہ چاہے ناممکن ہے کہ وہ ہوجائے۔
رسول اللہ ﷺ کی مشرکین کو دعوت توحید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سوا ہر کسی کی عبادت سے اپنی مخلوق کو منع فرما چکا ہے۔ اس کے سوا اور کوئی مستحق عبادت نہیں۔ اس کی بہت بڑی دلیل اس کے بعد کی آیت ہے، جس میں فرمایا کہ اسی وحدہ لاشریک لہ نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کی پھٹکی سے پیدا کیا۔ اسی نے تمہیں ماں کے پیٹ سے بچے کی صورت میں نکالا۔ ان تمام حالات کو وہی بدلتا رہا پھر اسی نے بچپن سے جوانی تک تمہیں پہنچایا۔ وہی جوانی کے بعد بڑھاپے تک لے جائے گا یہ سب کام اسی ایک کے حکم تقدیر اور تدبیر ہوجاتے ہیں۔ پھر کس قدر نامرادی ہے کہ اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کی جائے ؟ بعض اس سے پہلے ہی فوت ہوجاتے ہیں۔ یعنی کچے پنے میں ہی گرجاتے ہیں۔ حمل ساقط ہوجاتا ہے۔ بعض بچین میں بعض جوانی میں بعض ادھیڑ عمر میں بڑھاپے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں۔ چناچہ اور جگہ قرآن پاک میں ہے (وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَاۗءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى) 22۔ الحج :5) یعنی ہم ماں کے پیٹ میں ٹھہراتے ہیں جب تک چاہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ تاکہ تم وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ۔ اور تم سوچو سمجھو۔ یعنی اپنی حالتوں کے اس انقلاب سے تم ایمان لے آؤ کہ اس دنیا کے بعد بھی تمہیں نئی زندگی میں ایک روز کھڑا ہونا ہے، وہی زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی موت زیست پر قادر نہیں۔ اس کے کسی حکم کو کسی فیصلے کو کسی تقرر کو کسی ارادے کو کوئی توڑنے والا نہیں، جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے اور جو وہ نہ چاہے ناممکن ہے کہ وہ ہوجائے۔
کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔ گرم کھولتے ہوئے پانی میں سے گھسیٹے جائیں گے۔ اور آگ جہنم میں جھلسائے جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے۔ یہ ہے وہ جہنم جسے گنہگار لوگ جھوٹا جانا کرتے تھے۔ اب یہ اس کے اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان مارے مارے پریشان پھرا کریں۔ اور آیتوں میں ان کا زقوم کھانا اور گرم پانی پینا بیان فرما کر فرمایا (ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ 68) 37۔ الصافات :68) کہ پھر ان کی بازگشت تو جہنم ہی کطرف ہے۔ سورة واقعہ میں اصحاب شمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا بائیں ہاتھ والے کس قدر برے ہیں ؟ وہ آگ میں ہیں اور گرم پانی میں اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہے نہ سود مند، آگے چل کر فرمایا، اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہوگی۔ اور جگہ فرمایا ہے (اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ 43ۙ) 44۔ الدخان :43) ، یعنی یقینا گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریر والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک جانب سے سیاہ ابر اٹھے گا جسے جہنمی دیکھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ ابر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے انداز پر کہیں گے کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ برسے وہیں اس میں سے طوق اور زنجیریں اور آگ کے انگارے برسنے لگیں گے جس کے شعلے انہیں جلائیں جھلسائیں گے اور وہ طوق و سلاسل ان کے طوق و سلاسل کے ساتھ اضافہ کردیئے جائیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں ؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے ؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا ؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہوگئے وہ تھے ہی بےسود۔ پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کردیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ 23) 6۔ الانعام :23) اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔ یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بےوجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آجاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ اب ہمیشہ یہیں پے رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی گرو گے۔ واللہ اعلم۔
کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔ گرم کھولتے ہوئے پانی میں سے گھسیٹے جائیں گے۔ اور آگ جہنم میں جھلسائے جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے۔ یہ ہے وہ جہنم جسے گنہگار لوگ جھوٹا جانا کرتے تھے۔ اب یہ اس کے اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان مارے مارے پریشان پھرا کریں۔ اور آیتوں میں ان کا زقوم کھانا اور گرم پانی پینا بیان فرما کر فرمایا (ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ 68) 37۔ الصافات :68) کہ پھر ان کی بازگشت تو جہنم ہی کطرف ہے۔ سورة واقعہ میں اصحاب شمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا بائیں ہاتھ والے کس قدر برے ہیں ؟ وہ آگ میں ہیں اور گرم پانی میں اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہے نہ سود مند، آگے چل کر فرمایا، اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہوگی۔ اور جگہ فرمایا ہے (اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ 43ۙ) 44۔ الدخان :43) ، یعنی یقینا گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریر والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک جانب سے سیاہ ابر اٹھے گا جسے جہنمی دیکھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ ابر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے انداز پر کہیں گے کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ برسے وہیں اس میں سے طوق اور زنجیریں اور آگ کے انگارے برسنے لگیں گے جس کے شعلے انہیں جلائیں جھلسائیں گے اور وہ طوق و سلاسل ان کے طوق و سلاسل کے ساتھ اضافہ کردیئے جائیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں ؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے ؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا ؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہوگئے وہ تھے ہی بےسود۔ پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کردیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ 23) 6۔ الانعام :23) اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔ یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بےوجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آجاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ اب ہمیشہ یہیں پے رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی گرو گے۔ واللہ اعلم۔
کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔ گرم کھولتے ہوئے پانی میں سے گھسیٹے جائیں گے۔ اور آگ جہنم میں جھلسائے جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے۔ یہ ہے وہ جہنم جسے گنہگار لوگ جھوٹا جانا کرتے تھے۔ اب یہ اس کے اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان مارے مارے پریشان پھرا کریں۔ اور آیتوں میں ان کا زقوم کھانا اور گرم پانی پینا بیان فرما کر فرمایا (ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ 68) 37۔ الصافات :68) کہ پھر ان کی بازگشت تو جہنم ہی کطرف ہے۔ سورة واقعہ میں اصحاب شمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا بائیں ہاتھ والے کس قدر برے ہیں ؟ وہ آگ میں ہیں اور گرم پانی میں اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہے نہ سود مند، آگے چل کر فرمایا، اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہوگی۔ اور جگہ فرمایا ہے (اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ 43ۙ) 44۔ الدخان :43) ، یعنی یقینا گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریر والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک جانب سے سیاہ ابر اٹھے گا جسے جہنمی دیکھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ ابر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے انداز پر کہیں گے کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ برسے وہیں اس میں سے طوق اور زنجیریں اور آگ کے انگارے برسنے لگیں گے جس کے شعلے انہیں جلائیں جھلسائیں گے اور وہ طوق و سلاسل ان کے طوق و سلاسل کے ساتھ اضافہ کردیئے جائیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں ؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے ؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا ؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہوگئے وہ تھے ہی بےسود۔ پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کردیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ 23) 6۔ الانعام :23) اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔ یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بےوجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آجاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ اب ہمیشہ یہیں پے رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی گرو گے۔ واللہ اعلم۔
کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔ گرم کھولتے ہوئے پانی میں سے گھسیٹے جائیں گے۔ اور آگ جہنم میں جھلسائے جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے۔ یہ ہے وہ جہنم جسے گنہگار لوگ جھوٹا جانا کرتے تھے۔ اب یہ اس کے اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان مارے مارے پریشان پھرا کریں۔ اور آیتوں میں ان کا زقوم کھانا اور گرم پانی پینا بیان فرما کر فرمایا (ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ 68) 37۔ الصافات :68) کہ پھر ان کی بازگشت تو جہنم ہی کطرف ہے۔ سورة واقعہ میں اصحاب شمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا بائیں ہاتھ والے کس قدر برے ہیں ؟ وہ آگ میں ہیں اور گرم پانی میں اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہے نہ سود مند، آگے چل کر فرمایا، اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہوگی۔ اور جگہ فرمایا ہے (اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ 43ۙ) 44۔ الدخان :43) ، یعنی یقینا گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریر والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک جانب سے سیاہ ابر اٹھے گا جسے جہنمی دیکھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ ابر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے انداز پر کہیں گے کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ برسے وہیں اس میں سے طوق اور زنجیریں اور آگ کے انگارے برسنے لگیں گے جس کے شعلے انہیں جلائیں جھلسائیں گے اور وہ طوق و سلاسل ان کے طوق و سلاسل کے ساتھ اضافہ کردیئے جائیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں ؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے ؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا ؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہوگئے وہ تھے ہی بےسود۔ پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کردیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ 23) 6۔ الانعام :23) اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔ یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بےوجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آجاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ اب ہمیشہ یہیں پے رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی گرو گے۔ واللہ اعلم۔
کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔ گرم کھولتے ہوئے پانی میں سے گھسیٹے جائیں گے۔ اور آگ جہنم میں جھلسائے جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے۔ یہ ہے وہ جہنم جسے گنہگار لوگ جھوٹا جانا کرتے تھے۔ اب یہ اس کے اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان مارے مارے پریشان پھرا کریں۔ اور آیتوں میں ان کا زقوم کھانا اور گرم پانی پینا بیان فرما کر فرمایا (ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ 68) 37۔ الصافات :68) کہ پھر ان کی بازگشت تو جہنم ہی کطرف ہے۔ سورة واقعہ میں اصحاب شمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا بائیں ہاتھ والے کس قدر برے ہیں ؟ وہ آگ میں ہیں اور گرم پانی میں اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہے نہ سود مند، آگے چل کر فرمایا، اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہوگی۔ اور جگہ فرمایا ہے (اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ 43ۙ) 44۔ الدخان :43) ، یعنی یقینا گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریر والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک جانب سے سیاہ ابر اٹھے گا جسے جہنمی دیکھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ ابر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے انداز پر کہیں گے کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ برسے وہیں اس میں سے طوق اور زنجیریں اور آگ کے انگارے برسنے لگیں گے جس کے شعلے انہیں جلائیں جھلسائیں گے اور وہ طوق و سلاسل ان کے طوق و سلاسل کے ساتھ اضافہ کردیئے جائیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں ؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے ؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا ؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہوگئے وہ تھے ہی بےسود۔ پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کردیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ 23) 6۔ الانعام :23) اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔ یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بےوجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آجاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ اب ہمیشہ یہیں پے رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی گرو گے۔ واللہ اعلم۔
کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔ گرم کھولتے ہوئے پانی میں سے گھسیٹے جائیں گے۔ اور آگ جہنم میں جھلسائے جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے۔ یہ ہے وہ جہنم جسے گنہگار لوگ جھوٹا جانا کرتے تھے۔ اب یہ اس کے اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان مارے مارے پریشان پھرا کریں۔ اور آیتوں میں ان کا زقوم کھانا اور گرم پانی پینا بیان فرما کر فرمایا (ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ 68) 37۔ الصافات :68) کہ پھر ان کی بازگشت تو جہنم ہی کطرف ہے۔ سورة واقعہ میں اصحاب شمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا بائیں ہاتھ والے کس قدر برے ہیں ؟ وہ آگ میں ہیں اور گرم پانی میں اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہے نہ سود مند، آگے چل کر فرمایا، اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہوگی۔ اور جگہ فرمایا ہے (اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ 43ۙ) 44۔ الدخان :43) ، یعنی یقینا گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریر والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک جانب سے سیاہ ابر اٹھے گا جسے جہنمی دیکھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ ابر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے انداز پر کہیں گے کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ برسے وہیں اس میں سے طوق اور زنجیریں اور آگ کے انگارے برسنے لگیں گے جس کے شعلے انہیں جلائیں جھلسائیں گے اور وہ طوق و سلاسل ان کے طوق و سلاسل کے ساتھ اضافہ کردیئے جائیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں ؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے ؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا ؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہوگئے وہ تھے ہی بےسود۔ پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کردیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ 23) 6۔ الانعام :23) اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔ یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بےوجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آجاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ اب ہمیشہ یہیں پے رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی گرو گے۔ واللہ اعلم۔
کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔ گرم کھولتے ہوئے پانی میں سے گھسیٹے جائیں گے۔ اور آگ جہنم میں جھلسائے جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے۔ یہ ہے وہ جہنم جسے گنہگار لوگ جھوٹا جانا کرتے تھے۔ اب یہ اس کے اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان مارے مارے پریشان پھرا کریں۔ اور آیتوں میں ان کا زقوم کھانا اور گرم پانی پینا بیان فرما کر فرمایا (ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ 68) 37۔ الصافات :68) کہ پھر ان کی بازگشت تو جہنم ہی کطرف ہے۔ سورة واقعہ میں اصحاب شمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا بائیں ہاتھ والے کس قدر برے ہیں ؟ وہ آگ میں ہیں اور گرم پانی میں اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہے نہ سود مند، آگے چل کر فرمایا، اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہوگی۔ اور جگہ فرمایا ہے (اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ 43ۙ) 44۔ الدخان :43) ، یعنی یقینا گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریر والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک جانب سے سیاہ ابر اٹھے گا جسے جہنمی دیکھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ ابر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے انداز پر کہیں گے کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ برسے وہیں اس میں سے طوق اور زنجیریں اور آگ کے انگارے برسنے لگیں گے جس کے شعلے انہیں جلائیں جھلسائیں گے اور وہ طوق و سلاسل ان کے طوق و سلاسل کے ساتھ اضافہ کردیئے جائیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں ؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے ؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا ؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہوگئے وہ تھے ہی بےسود۔ پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کردیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ 23) 6۔ الانعام :23) اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔ یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بےوجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آجاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ اب ہمیشہ یہیں پے رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی گرو گے۔ واللہ اعلم۔
کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔ گرم کھولتے ہوئے پانی میں سے گھسیٹے جائیں گے۔ اور آگ جہنم میں جھلسائے جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے۔ یہ ہے وہ جہنم جسے گنہگار لوگ جھوٹا جانا کرتے تھے۔ اب یہ اس کے اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان مارے مارے پریشان پھرا کریں۔ اور آیتوں میں ان کا زقوم کھانا اور گرم پانی پینا بیان فرما کر فرمایا (ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ 68) 37۔ الصافات :68) کہ پھر ان کی بازگشت تو جہنم ہی کطرف ہے۔ سورة واقعہ میں اصحاب شمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا بائیں ہاتھ والے کس قدر برے ہیں ؟ وہ آگ میں ہیں اور گرم پانی میں اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہے نہ سود مند، آگے چل کر فرمایا، اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہوگی۔ اور جگہ فرمایا ہے (اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ 43ۙ) 44۔ الدخان :43) ، یعنی یقینا گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریر والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک جانب سے سیاہ ابر اٹھے گا جسے جہنمی دیکھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ ابر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے انداز پر کہیں گے کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ برسے وہیں اس میں سے طوق اور زنجیریں اور آگ کے انگارے برسنے لگیں گے جس کے شعلے انہیں جلائیں جھلسائیں گے اور وہ طوق و سلاسل ان کے طوق و سلاسل کے ساتھ اضافہ کردیئے جائیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں ؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے ؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا ؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہوگئے وہ تھے ہی بےسود۔ پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کردیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ 23) 6۔ الانعام :23) اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔ یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بےوجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آجاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ اب ہمیشہ یہیں پے رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی گرو گے۔ واللہ اعلم۔
اللہ کے وعدے قطعاً حق ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو صبر کا حکم دیتا ہے کہ جو تیری نہیں مانتے تجھے جھوٹا کہتے ہیں تو ان کی ایذاؤں پر صبر و برداشت کر۔ ان سب پر فتح و نصرت تجھے ملے گی۔ انجام کار ہر طرح تیرے ہی حق میں بہتر رہے گا۔ تو اور تیرے یہ ماننے والے ہی تمام دنیا پر غالب ہو کر رہیں گے، اور آخرت تو صرف تمہاری ہی ہے، پس یا تو ہم اپنے وعدے کی بعض چیزیں تجھے تیری زندگی میں دکھا دیں گے، اور یہی ہوا بھی، بدر والے دن کفار کا دھڑ اور سر توڑ دیا گیا قریشیوں کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ بالاخر مکہ فتح ہوا اور آپ دنیا سے رخصت نہ ہوئے جب تک کہ تمام جزیرہ عرب آپ کے زیر نگیں نہ ہوگیا۔ اور آپ کے دشمن آپ کے سامنے ذلیل و خوار نہ ہوئے اور آپ کی آنکھیں رب نے ٹھنڈی نہ کردیں، یا اگر ہم تجھے فوت ہی کرلیں تو بھی ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے ہم انہیں آخرت کے درد ناک سخت عذاب میں مبتلا کریں گے، پھر مزید تسلی کے طور پر فرما رہا ہے کہ تجھ سے پہلے بھی ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے حالات ہم نے تیرے سامنے بیان کردیئے ہیں۔ اور بعض کے قصے ہم نے بیان بھی نہیں کئے جیسے سورة نساء میں بھی فرمایا گیا ہے۔ پس جن کے قصے مذکورہ ہیں دیکھ لو کہ قوم سے ان کی کیسی کچھ نمٹی۔ اور بعض کے واقعات ہم نے بیان نہیں کئے وہ بہ نسبت ان کے بہت زیادہ ہیں۔ جیسے کہ ہم نے سورة نساء کی تفسیر کے موقعہ پر بیان کردیا ہے۔ واللہ الحمد والمنہ۔ پھر فرمایا یہ ناممکن ہے کہ کوئی رسول اپنی مرضی سے معجزات اور خوارق عادات دکھائے ہاں اللہ عزوجل کے حکم کے بعد کیونکہ رسول کے قبضے میں کوئی چیز نہیں۔ ہاں جب اللہ کا عذاب آجاتا ہے پھر تکذیب و تردید کرنے والے کفار بچ نہیں سکتے۔ مومن نجات پالیتے ہیں اور باطل پرست باطل کار تباہ ہوجاتے ہیں۔
اللہ کے وعدے قطعاً حق ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو صبر کا حکم دیتا ہے کہ جو تیری نہیں مانتے تجھے جھوٹا کہتے ہیں تو ان کی ایذاؤں پر صبر و برداشت کر۔ ان سب پر فتح و نصرت تجھے ملے گی۔ انجام کار ہر طرح تیرے ہی حق میں بہتر رہے گا۔ تو اور تیرے یہ ماننے والے ہی تمام دنیا پر غالب ہو کر رہیں گے، اور آخرت تو صرف تمہاری ہی ہے، پس یا تو ہم اپنے وعدے کی بعض چیزیں تجھے تیری زندگی میں دکھا دیں گے، اور یہی ہوا بھی، بدر والے دن کفار کا دھڑ اور سر توڑ دیا گیا قریشیوں کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ بالاخر مکہ فتح ہوا اور آپ دنیا سے رخصت نہ ہوئے جب تک کہ تمام جزیرہ عرب آپ کے زیر نگیں نہ ہوگیا۔ اور آپ کے دشمن آپ کے سامنے ذلیل و خوار نہ ہوئے اور آپ کی آنکھیں رب نے ٹھنڈی نہ کردیں، یا اگر ہم تجھے فوت ہی کرلیں تو بھی ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے ہم انہیں آخرت کے درد ناک سخت عذاب میں مبتلا کریں گے، پھر مزید تسلی کے طور پر فرما رہا ہے کہ تجھ سے پہلے بھی ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے حالات ہم نے تیرے سامنے بیان کردیئے ہیں۔ اور بعض کے قصے ہم نے بیان بھی نہیں کئے جیسے سورة نساء میں بھی فرمایا گیا ہے۔ پس جن کے قصے مذکورہ ہیں دیکھ لو کہ قوم سے ان کی کیسی کچھ نمٹی۔ اور بعض کے واقعات ہم نے بیان نہیں کئے وہ بہ نسبت ان کے بہت زیادہ ہیں۔ جیسے کہ ہم نے سورة نساء کی تفسیر کے موقعہ پر بیان کردیا ہے۔ واللہ الحمد والمنہ۔ پھر فرمایا یہ ناممکن ہے کہ کوئی رسول اپنی مرضی سے معجزات اور خوارق عادات دکھائے ہاں اللہ عزوجل کے حکم کے بعد کیونکہ رسول کے قبضے میں کوئی چیز نہیں۔ ہاں جب اللہ کا عذاب آجاتا ہے پھر تکذیب و تردید کرنے والے کفار بچ نہیں سکتے۔ مومن نجات پالیتے ہیں اور باطل پرست باطل کار تباہ ہوجاتے ہیں۔
ہر مخلوق خالق کائنات پر دلیل ہے۔انعام یعنی اونٹ گائے بکری اللہ تعالیٰ نے انسان کے طرح طرح کے نفع کیلئے پیدا کئے ہیں سواریوں کے کام آتے ہیں کھائے جاتے ہیں۔ اونٹ سواری کا کام بھی دے کھایا بھی جائے، دودھ بھی دے، بوجھ بھی ڈھوئے اور دور دراز کے سفر بہ آسانی سے کرا دیئے۔ گائے کا گوشت کھانے کے کام بھی آئے دودھ بھی دے۔ ہل بھی جتے، بکری کا گوشت بھی کھایا جائے اور دودھ بھی پیا جائے۔ پھر ان کے سب کے بال بیسیوں کاموں میں آئیں۔ جیسے کہ سورة انعام سورة نحل وغیرہ میں بیان ہوچکا ہے۔ یہاں بھی یہ منافع بطور انعام گنوائے جا رہے ہیں، دنیا جہاں میں اور اس کے گوشے گوشے میں اور کائنات کے ذرے ذرے میں اور خود تمہاری جانوں میں اس اللہ کی نشانیاں موجود ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس کی ان گنت نشانیوں میں سے ایک کا بھی کوئی شخص صحیح معنی میں انکاری نہیں ہوسکتا یہ اور بات ہے کہ ضد اور اکڑ سے کام لے اور آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لے۔
ہر مخلوق خالق کائنات پر دلیل ہے۔انعام یعنی اونٹ گائے بکری اللہ تعالیٰ نے انسان کے طرح طرح کے نفع کیلئے پیدا کئے ہیں سواریوں کے کام آتے ہیں کھائے جاتے ہیں۔ اونٹ سواری کا کام بھی دے کھایا بھی جائے، دودھ بھی دے، بوجھ بھی ڈھوئے اور دور دراز کے سفر بہ آسانی سے کرا دیئے۔ گائے کا گوشت کھانے کے کام بھی آئے دودھ بھی دے۔ ہل بھی جتے، بکری کا گوشت بھی کھایا جائے اور دودھ بھی پیا جائے۔ پھر ان کے سب کے بال بیسیوں کاموں میں آئیں۔ جیسے کہ سورة انعام سورة نحل وغیرہ میں بیان ہوچکا ہے۔ یہاں بھی یہ منافع بطور انعام گنوائے جا رہے ہیں، دنیا جہاں میں اور اس کے گوشے گوشے میں اور کائنات کے ذرے ذرے میں اور خود تمہاری جانوں میں اس اللہ کی نشانیاں موجود ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس کی ان گنت نشانیوں میں سے ایک کا بھی کوئی شخص صحیح معنی میں انکاری نہیں ہوسکتا یہ اور بات ہے کہ ضد اور اکڑ سے کام لے اور آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لے۔
ہر مخلوق خالق کائنات پر دلیل ہے۔انعام یعنی اونٹ گائے بکری اللہ تعالیٰ نے انسان کے طرح طرح کے نفع کیلئے پیدا کئے ہیں سواریوں کے کام آتے ہیں کھائے جاتے ہیں۔ اونٹ سواری کا کام بھی دے کھایا بھی جائے، دودھ بھی دے، بوجھ بھی ڈھوئے اور دور دراز کے سفر بہ آسانی سے کرا دیئے۔ گائے کا گوشت کھانے کے کام بھی آئے دودھ بھی دے۔ ہل بھی جتے، بکری کا گوشت بھی کھایا جائے اور دودھ بھی پیا جائے۔ پھر ان کے سب کے بال بیسیوں کاموں میں آئیں۔ جیسے کہ سورة انعام سورة نحل وغیرہ میں بیان ہوچکا ہے۔ یہاں بھی یہ منافع بطور انعام گنوائے جا رہے ہیں، دنیا جہاں میں اور اس کے گوشے گوشے میں اور کائنات کے ذرے ذرے میں اور خود تمہاری جانوں میں اس اللہ کی نشانیاں موجود ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس کی ان گنت نشانیوں میں سے ایک کا بھی کوئی شخص صحیح معنی میں انکاری نہیں ہوسکتا یہ اور بات ہے کہ ضد اور اکڑ سے کام لے اور آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لے۔
نزول عذاب کے وقت کا ایمان بےفائدہ ہے۔اللہ تعالیٰ ان اگلے لوگوں کو خبر دے رہا ہے جو رسولوں کو اس سے پہلے جھٹلا چکے ہیں۔ ساتھ ہی بتاتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا کچھ انہوں نے بھگتا ؟ باوجود یکہ وہ قوی تھے زیادہ تھے زمین میں نشانات عمارتیں وغیرہ بھی زیادہ رکھنے والے تھے اور بڑے مالدار تھے۔ لیکن کوئی چیز ان کے کام نہ آئی کسی نے اللہ کے عذاب کو نہ دفع کیا نہ کم کیا نہ ٹالا نہ ہٹایا۔ یہ تھے ہی غارت کئے جانے کے قابل کیونکہ جب ان کے پاس اللہ کے قاصد صاف صاف دلیلیں، روشن حجتیں، کھلے معجزات، پاکیزہ تعلیمات لے کر آئے تو انہوں نے آنکھ بھر کر دیکھا تک نہیں اپنے پاس کے علوم پر مغرور ہوگئے۔ اور رسولوں کی تعلیم کی حقارت کرنے لگے، کہنے لگے ہم ہی زیادہ عالم ہیں حساب کتاب، عذاب ثواب کوئی چیز نہیں۔ اپنی جہالت کو علم سمجھ بیٹھے۔ پھر تو اللہ کا وہ عذاب آیا کہ ان کے بنائے کچھ نہ بنی اور جسے جھٹلاتے تھے۔ جس پر ناک بھوں چڑھاتے تھے جسے مذاق میں اڑاتے تھے اسی نے انہیں تہس نہس کردیا، پھر کس بل نکال ڈالا، تہ وبالا کردیا، روئی کی طرح دھن دیا اور بھوسی کی طرح اڑا دیا۔ اللہ کے عذابوں کو آتا ہوا بلکہ آیا ہوا دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا اور توحید تسلیم بھی کرلی۔ اور غیر اللہ جل شانہ سے صاف انکار بھی کیا، لیکن اس وقت کی نہ توبہ قبول نہ ایمان قبول نہ اسلام مسلم۔ فرعون نے بھی غرق ہوتے ہوئے کہا تھا کہ میرا اس اللہ جل شانہ پر ایمان ہے جس پر بنی اسرائیل کا ایمان ہے میں اس کے سوا کسی کو لائق عبادت نہیں مانتا میں اسلام قبول کرتا ہوں۔ اللہ جل شانہ کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ اب ایمان لانا بےسود ہے۔ بہت نافرمانیاں اور شرانگیزیاں کرچکے ہو۔ حضرت موسیٰ نے بھی اس سرکش کیلئے یہی بددعا کی تھی کہ اے اللہ جل شانہ آل فرعون کے دلوں کو اس قدر سخت کر دے کہ عذاب الیم دیکھ لینے تک انہیں ایمان نصیب نہ ہو۔ پس یہاں بھی فرمان باری ہے کہ عذابوں کا معائنہ کرنے پر ایمان کی قبولیت نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ یہ اللہ کا حکم عام ہے۔ جو بھی عذابوں کو دیکھ کر توبہ کرے اس کی توبہ نامقبول ہے۔ حدیث شریف میں ہے غرغرے سے پہلے تک کی توبہ قبول ہے۔ جب دم سینے میں انکا روح حلقوم تک پہنچ گئی فرشتوں کو دیکھ لیا اب کوئی توبہ نہیں۔ اسی لئے آخر میں ارشاد فرمایا کہ کفار ٹوٹے اور گھاٹے میں ہی ہیں۔
نزول عذاب کے وقت کا ایمان بےفائدہ ہے۔اللہ تعالیٰ ان اگلے لوگوں کو خبر دے رہا ہے جو رسولوں کو اس سے پہلے جھٹلا چکے ہیں۔ ساتھ ہی بتاتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا کچھ انہوں نے بھگتا ؟ باوجود یکہ وہ قوی تھے زیادہ تھے زمین میں نشانات عمارتیں وغیرہ بھی زیادہ رکھنے والے تھے اور بڑے مالدار تھے۔ لیکن کوئی چیز ان کے کام نہ آئی کسی نے اللہ کے عذاب کو نہ دفع کیا نہ کم کیا نہ ٹالا نہ ہٹایا۔ یہ تھے ہی غارت کئے جانے کے قابل کیونکہ جب ان کے پاس اللہ کے قاصد صاف صاف دلیلیں، روشن حجتیں، کھلے معجزات، پاکیزہ تعلیمات لے کر آئے تو انہوں نے آنکھ بھر کر دیکھا تک نہیں اپنے پاس کے علوم پر مغرور ہوگئے۔ اور رسولوں کی تعلیم کی حقارت کرنے لگے، کہنے لگے ہم ہی زیادہ عالم ہیں حساب کتاب، عذاب ثواب کوئی چیز نہیں۔ اپنی جہالت کو علم سمجھ بیٹھے۔ پھر تو اللہ کا وہ عذاب آیا کہ ان کے بنائے کچھ نہ بنی اور جسے جھٹلاتے تھے۔ جس پر ناک بھوں چڑھاتے تھے جسے مذاق میں اڑاتے تھے اسی نے انہیں تہس نہس کردیا، پھر کس بل نکال ڈالا، تہ وبالا کردیا، روئی کی طرح دھن دیا اور بھوسی کی طرح اڑا دیا۔ اللہ کے عذابوں کو آتا ہوا بلکہ آیا ہوا دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا اور توحید تسلیم بھی کرلی۔ اور غیر اللہ جل شانہ سے صاف انکار بھی کیا، لیکن اس وقت کی نہ توبہ قبول نہ ایمان قبول نہ اسلام مسلم۔ فرعون نے بھی غرق ہوتے ہوئے کہا تھا کہ میرا اس اللہ جل شانہ پر ایمان ہے جس پر بنی اسرائیل کا ایمان ہے میں اس کے سوا کسی کو لائق عبادت نہیں مانتا میں اسلام قبول کرتا ہوں۔ اللہ جل شانہ کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ اب ایمان لانا بےسود ہے۔ بہت نافرمانیاں اور شرانگیزیاں کرچکے ہو۔ حضرت موسیٰ نے بھی اس سرکش کیلئے یہی بددعا کی تھی کہ اے اللہ جل شانہ آل فرعون کے دلوں کو اس قدر سخت کر دے کہ عذاب الیم دیکھ لینے تک انہیں ایمان نصیب نہ ہو۔ پس یہاں بھی فرمان باری ہے کہ عذابوں کا معائنہ کرنے پر ایمان کی قبولیت نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ یہ اللہ کا حکم عام ہے۔ جو بھی عذابوں کو دیکھ کر توبہ کرے اس کی توبہ نامقبول ہے۔ حدیث شریف میں ہے غرغرے سے پہلے تک کی توبہ قبول ہے۔ جب دم سینے میں انکا روح حلقوم تک پہنچ گئی فرشتوں کو دیکھ لیا اب کوئی توبہ نہیں۔ اسی لئے آخر میں ارشاد فرمایا کہ کفار ٹوٹے اور گھاٹے میں ہی ہیں۔
نزول عذاب کے وقت کا ایمان بےفائدہ ہے۔اللہ تعالیٰ ان اگلے لوگوں کو خبر دے رہا ہے جو رسولوں کو اس سے پہلے جھٹلا چکے ہیں۔ ساتھ ہی بتاتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا کچھ انہوں نے بھگتا ؟ باوجود یکہ وہ قوی تھے زیادہ تھے زمین میں نشانات عمارتیں وغیرہ بھی زیادہ رکھنے والے تھے اور بڑے مالدار تھے۔ لیکن کوئی چیز ان کے کام نہ آئی کسی نے اللہ کے عذاب کو نہ دفع کیا نہ کم کیا نہ ٹالا نہ ہٹایا۔ یہ تھے ہی غارت کئے جانے کے قابل کیونکہ جب ان کے پاس اللہ کے قاصد صاف صاف دلیلیں، روشن حجتیں، کھلے معجزات، پاکیزہ تعلیمات لے کر آئے تو انہوں نے آنکھ بھر کر دیکھا تک نہیں اپنے پاس کے علوم پر مغرور ہوگئے۔ اور رسولوں کی تعلیم کی حقارت کرنے لگے، کہنے لگے ہم ہی زیادہ عالم ہیں حساب کتاب، عذاب ثواب کوئی چیز نہیں۔ اپنی جہالت کو علم سمجھ بیٹھے۔ پھر تو اللہ کا وہ عذاب آیا کہ ان کے بنائے کچھ نہ بنی اور جسے جھٹلاتے تھے۔ جس پر ناک بھوں چڑھاتے تھے جسے مذاق میں اڑاتے تھے اسی نے انہیں تہس نہس کردیا، پھر کس بل نکال ڈالا، تہ وبالا کردیا، روئی کی طرح دھن دیا اور بھوسی کی طرح اڑا دیا۔ اللہ کے عذابوں کو آتا ہوا بلکہ آیا ہوا دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا اور توحید تسلیم بھی کرلی۔ اور غیر اللہ جل شانہ سے صاف انکار بھی کیا، لیکن اس وقت کی نہ توبہ قبول نہ ایمان قبول نہ اسلام مسلم۔ فرعون نے بھی غرق ہوتے ہوئے کہا تھا کہ میرا اس اللہ جل شانہ پر ایمان ہے جس پر بنی اسرائیل کا ایمان ہے میں اس کے سوا کسی کو لائق عبادت نہیں مانتا میں اسلام قبول کرتا ہوں۔ اللہ جل شانہ کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ اب ایمان لانا بےسود ہے۔ بہت نافرمانیاں اور شرانگیزیاں کرچکے ہو۔ حضرت موسیٰ نے بھی اس سرکش کیلئے یہی بددعا کی تھی کہ اے اللہ جل شانہ آل فرعون کے دلوں کو اس قدر سخت کر دے کہ عذاب الیم دیکھ لینے تک انہیں ایمان نصیب نہ ہو۔ پس یہاں بھی فرمان باری ہے کہ عذابوں کا معائنہ کرنے پر ایمان کی قبولیت نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ یہ اللہ کا حکم عام ہے۔ جو بھی عذابوں کو دیکھ کر توبہ کرے اس کی توبہ نامقبول ہے۔ حدیث شریف میں ہے غرغرے سے پہلے تک کی توبہ قبول ہے۔ جب دم سینے میں انکا روح حلقوم تک پہنچ گئی فرشتوں کو دیکھ لیا اب کوئی توبہ نہیں۔ اسی لئے آخر میں ارشاد فرمایا کہ کفار ٹوٹے اور گھاٹے میں ہی ہیں۔
نزول عذاب کے وقت کا ایمان بےفائدہ ہے۔اللہ تعالیٰ ان اگلے لوگوں کو خبر دے رہا ہے جو رسولوں کو اس سے پہلے جھٹلا چکے ہیں۔ ساتھ ہی بتاتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا کچھ انہوں نے بھگتا ؟ باوجود یکہ وہ قوی تھے زیادہ تھے زمین میں نشانات عمارتیں وغیرہ بھی زیادہ رکھنے والے تھے اور بڑے مالدار تھے۔ لیکن کوئی چیز ان کے کام نہ آئی کسی نے اللہ کے عذاب کو نہ دفع کیا نہ کم کیا نہ ٹالا نہ ہٹایا۔ یہ تھے ہی غارت کئے جانے کے قابل کیونکہ جب ان کے پاس اللہ کے قاصد صاف صاف دلیلیں، روشن حجتیں، کھلے معجزات، پاکیزہ تعلیمات لے کر آئے تو انہوں نے آنکھ بھر کر دیکھا تک نہیں اپنے پاس کے علوم پر مغرور ہوگئے۔ اور رسولوں کی تعلیم کی حقارت کرنے لگے، کہنے لگے ہم ہی زیادہ عالم ہیں حساب کتاب، عذاب ثواب کوئی چیز نہیں۔ اپنی جہالت کو علم سمجھ بیٹھے۔ پھر تو اللہ کا وہ عذاب آیا کہ ان کے بنائے کچھ نہ بنی اور جسے جھٹلاتے تھے۔ جس پر ناک بھوں چڑھاتے تھے جسے مذاق میں اڑاتے تھے اسی نے انہیں تہس نہس کردیا، پھر کس بل نکال ڈالا، تہ وبالا کردیا، روئی کی طرح دھن دیا اور بھوسی کی طرح اڑا دیا۔ اللہ کے عذابوں کو آتا ہوا بلکہ آیا ہوا دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا اور توحید تسلیم بھی کرلی۔ اور غیر اللہ جل شانہ سے صاف انکار بھی کیا، لیکن اس وقت کی نہ توبہ قبول نہ ایمان قبول نہ اسلام مسلم۔ فرعون نے بھی غرق ہوتے ہوئے کہا تھا کہ میرا اس اللہ جل شانہ پر ایمان ہے جس پر بنی اسرائیل کا ایمان ہے میں اس کے سوا کسی کو لائق عبادت نہیں مانتا میں اسلام قبول کرتا ہوں۔ اللہ جل شانہ کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ اب ایمان لانا بےسود ہے۔ بہت نافرمانیاں اور شرانگیزیاں کرچکے ہو۔ حضرت موسیٰ نے بھی اس سرکش کیلئے یہی بددعا کی تھی کہ اے اللہ جل شانہ آل فرعون کے دلوں کو اس قدر سخت کر دے کہ عذاب الیم دیکھ لینے تک انہیں ایمان نصیب نہ ہو۔ پس یہاں بھی فرمان باری ہے کہ عذابوں کا معائنہ کرنے پر ایمان کی قبولیت نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ یہ اللہ کا حکم عام ہے۔ جو بھی عذابوں کو دیکھ کر توبہ کرے اس کی توبہ نامقبول ہے۔ حدیث شریف میں ہے غرغرے سے پہلے تک کی توبہ قبول ہے۔ جب دم سینے میں انکا روح حلقوم تک پہنچ گئی فرشتوں کو دیکھ لیا اب کوئی توبہ نہیں۔ اسی لئے آخر میں ارشاد فرمایا کہ کفار ٹوٹے اور گھاٹے میں ہی ہیں۔