John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Az-Zukhruf

Tafsir Ibn Kathir · Ornaments of gold · 89 ayat · ayat 61–89 · Quran text →

قیامت کے قریب نزول عیسیٰ ؑ (یصدون) کے معنی حضرت ابن عباس مجاہد عکرمہ اور ضحاک نے کئے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے یعنی اس سے انہیں تعجب معلوم ہوا۔ قتادہ فرماتے ہیں گھبرا کر بول پڑے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے منہ پھیرنے لگے اس کی وجہ جو امام محمد بن اسحاق نے اپنی سیرت میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ولید بن مغیرہ وغیرہ قریشیوں کے پاس تشریف فرما تھے جو نضر بن حارث آگیا اور آپ سے کچھ باتیں کرنے لگا جس میں وہ لاجواب ہوگیا پھر حضور ﷺ نے قرآن کریم کی آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98؀) 21۔ الأنبیاء :98) ، آیتوں تک پڑھ کر سنائیں یعنی تم اور تمہارے معبود سب جہنم میں جھونک دئیے جاؤ گے پھر حضور ﷺ وہاں سے چلے گئے تھوڑی ہی دیر میں عبداللہ بن زہیری تمیمی آیا تو ولید بن مغیرہ نے اس سے کہا نضر بن حارث تو ابن عبدالمطلب سے ہار گیا اور بالآخر ابن عبدالمطلب ہمیں اور ہمارے معبودوں کو جہنم کا ایندھن کہتے ہوئے چلے گئے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو خود انہیں لاجواب کردیتا جاؤ ذرا ان سے پوچھو تو کہ جب ہم اور ہمارے سارے معبود دوزخی ہیں تو لازم آیا کہ سارے فرشتے اور حضرت عزیر اور حضرت مسیح بھی جہنم میں جائیں گے کیونکہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود حضرت عزیر کی پرستش کرتے ہیں نصرانی حضرت عیسیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔ اس پر مجلس کے کفار بہت خوش ہوئے اور کہا ہاں یہ جواب بہت ٹھیک ہے۔ لیکن جب حضور ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا ہر وہ شخص جو غیر اللہ کی عبادت کرے اور ہر وہ شخص جو اپنی عبادت اپنی خوشی سے کرائے یہ دونوں عابد و معبود جہنمی ہیں۔ فرشتوں یا نبیوں نے نہ اپنی عبادت کا حکم دیا نہ وہ اس سے خوش۔ ان کے نام سے دراصل یہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں وہی انہیں شرک کا حکم دیتا ہے۔ اور یہ بجا لاتے ہیں اس پر آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ01001ۙ) 21۔ الأنبیاء :101) ، نازل ہوئی یعنی حضرت عیسیٰ ، حضرت عزیر، اور ان کے علاوہ جن احبارو رہبان کی پرستش یہ لوگ کرتے ہیں اور خود وہ اللہ کی اطاعت پر تھے شرک سے بیزار اور اس سے روکنے والے تھے اور ان کے بعد گمراہوں جاہلوں نے انہیں معبود بنا لیا تو وہ محض بےقصور ہیں اور فرشتوں کو جو مشرکین اللہ کی بیٹیاں مان کر پوجتے تھے ان کی تردید میں آیت (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا 88؀ۭ) 19۔ مریم :88) ، سے کئی آیتوں تک نازل ہوئیں اور ان کے اس باطل عقیدے کی پوری تردید کردی اور حضرت عیسیٰ کے بارے میں اس نے جو جواب دیا تھا جس پر مشرکین خوش ہوئے تھے یہ آیتیں اتریں کہ اس قول کو سنتے ہی کہ معبودان باطل بھی اپنے عابدوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے انہوں نے جھٹ سے حضرت عیسیٰ کی ذات گرامی کو پیش کردیا اور یہ سنتے ہی مارے خوشی کے آپ کی قوم کے مشرک اچھل پڑے اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگے کہ ہم نے دبا لیا۔ ان سے کہو کہ حضرت عیسیٰ نے کسی سے اپنی یا کسی اور کی پرستش نہیں کرائی وہ تو خود برابر ہماری غلامی میں لگے رہے اور ہم نے بھی انہیں اپنی بہترین نعمتیں عطا فرمائیں۔ ان کے ہاتھوں جو معجزات دنیا کو دکھائے وہ قیامت کی دلیل تھے حضرت ابن عباس سے ابن جریر میں ہے کہ مشرکین نے اپنے معبودوں کا جہنمی ہونا حضور ﷺ کی زبانی سن کر کہا کہ پھر آپ ابن مریم کی نسبت کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اب کوئی جواب ان کے پاس نہ رہا تو کہنے لگے واللہ یہ تو چاہتے ہیں کہ جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کو اللہ مان لیا ہے ہم بھی انہیں رب مان لیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تو صرف بکواس ہے کھسیانے ہو کر بےتکی باتیں کرنے لگے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ قرآن میں ایک آیت ہے مجھ سے کسی نے اس کی تفسیر نہیں پوچھی۔ میں نہیں جانتا کہ کیا ہر ایک اسے جانتا ہے یا نہ جان کر پھر بھی جاننے کی کوشش نہیں کرتے ؟ پھر اور باتیں بیان فرماتے رہے یہاں تک کہ مجلس ختم ہوئی اور آپ چلے گئے۔ اب ہمیں بڑا افسوس ہونے لگا کہ وہ آیت تو پھر بھی رہ گئی اور ہم میں سے کسی نے دریافت ہی نہ کیا۔ اس پر ابن عقیل انصاری کے مولیٰ ابو یحییٰ نے کہا کہ اچھا کل صبح جب تشریف لائیں گے تو میں پوچھ لوں گا۔ دوسرے دن جو آئے تو میں نے ان کی کل کی بات دہرائی اور ان سے دریافت کیا کہ وہ کونسی آیت ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں سنو ! حضور ﷺ نے ایک مرتبہ قریش سے فرمایا کوئی ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کے سوا کی جاتی ہو اور اس میں خیر ہو۔ اس پر قریش نے کہا کیا عیسائی حضرت عیسیٰ کی عبادت نہیں کرتے ؟ اور کیا آپ حضرت عیسیٰ کو اللہ کا نبی اور اس کا برگذیدہ نیک بندہ نہیں مانتے ؟ پھر اس کا کیا مطلب ہوا کہ اللہ کے سوا جس کی عبادت کی جاتی ہے وہ خیر سے خالی ہے ؟ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ کہ جب عیسیٰ بن مریم کا ذکر آیا تو لوگ ہنسنے لگے۔ وہ قیامت کا علم ہیں یعنی عیسیٰ بن مریم کا قیامت کے دن سے پہلے نکلنا ابن ابی حاتم میں بھی یہ روایت پچھلے جملے کے علاوہ ہے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں ان کے اس قول کا کہ کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے معبود محمد ﷺ سے بہترے ہیں یہ تو اپنے آپ کو پجوانا چاہتے ہیں، ابن مسعود کی قرأت میں (ام ھذا) ہے۔ اللہ فرماتا ہے یہ ان کا مناظرہ نہیں بلکہ مجادلہ اور مکابرہ ہے یعنی بےدلیل جھگڑا اور بےوجہ حجت بازی ہے خود یہ جانتے ہیں کہ نہ یہ مطلب ہے نہ ہمارا یہ اعتراض اس پر وارد ہوتا ہے۔ اس لئے اولاً تو آیت میں لفظ (ما) ہے جو غیر ذوی العقول کے لئے ہے دوسرے یہ کہ آیت میں خطاب کفار قریش سے ہے جو اصنام و انداد یعنی بتوں اور پتھروں کو پوجتے تھے وہ مسیح کے پجاری نہ تھے جو یہ اعتراض برمحل مانا جائے پس یہ صرف جدل ہے یعنی وہ بات کہتے ہیں جس کے غیر صحیح ہونے کو ان کے اپنے دل کو بھی یقین ہے۔ ترمذی وغیرہ میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ کوئی قوم اس وقت تک ہلاک نہیں ہوتی جب تک بےدلیل حجت بازی اس میں نہ آجائے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی ابن ابی حاتم میں اس حدیث کے شروع میں یہ بھی ہے کہ ہر امت کی گمراہی کی پہلی بات اپنے نبی کے بعد تقدیر کا انکار کرنا ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک بار حضور ﷺ صحابہ کے مجمع میں آئے اس وقت وہ قرآن کی آیتوں میں بحث کر رہے تھے۔ آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا اس طرح اللہ کی کتاب کی آیتوں کو ایک دوسری کے ساتھ ٹکراؤ نہیں یاد رکھو جھگڑے کی اسی عادت نے اگلے لوگوں کو گمراہ کردیا۔ پھر آپ نے آیت (مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا ۭ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ 58؀) 43۔ الزخرف :58) کی تلاوت فرمائی پھر ارشاد ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ اللہ عزوجل کے بندوں میں سے ایک بندے تھے۔ جن پر نبوت و رسالت کا انعام باری تعالیٰ ہوا تھا اور انہیں اللہ کی قدرت کی نشانی بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین بنا کر فرشتوں کو اس زمین میں آباد کردیتے۔ یا یہ کہ جس طرح تم ایک دوسرے کے جانشین ہوتے ہو یہی بات ان میں کردیتے مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں یعنی بجائے تمہارے زمین کی آبادی ان سے ہوتی ہے اس کے بعد جو فرمایا ہے کہ وہ قیامت کی نشانی ہے اس کا مطلب جو ابن اسحاق نے بیان کیا ہے وہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ دور کی بات یہ ہے کہ بقول قتادہ حضرت حسن بصری اور حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہہ کی ضمیر کا مرجع عائد ہے حضرت عیسیٰ پر۔ یعنی حضرت عیسیٰ قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ اس لئے کہ اوپر سے ہی آپ کا بیان چلا آرہا ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ مراد یہاں حضرت عیسیٰ کا قیامت سے پہلے کا نازل ہونا ہے جیسے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا آیت (وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا01509ۚ) 4۔ النسآء :159) یعنی ان کی موت سے پہلے ایک ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا۔ یعنی حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے قیامت کے دن یہ ان پر گواہ ہوں گے۔ اس مطلب کی پوری وضاحت اسی آیت کی دوسری قرأت سے ہوتی ہے جس میں ہے (وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ 61؀) 43۔ الزخرف :61) یعنی جناب روح اللہ قیامت کے قائم ہونے کا نشان اور علامت ہیں۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ نشان ہیں قیامت کے لئے حضرت عیسیٰ بن مریم کا قیامت سے پہلے آنا۔ اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے اور حضرت عباس سے اور یہی مروی ہے ابو لعالیہ، ابو مالک، عکرمہ، حسن، قتادہ ضحاک وغیرہ سے رحم اللہ تعالیٰ۔ اور متواتر احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے کہ قیامت کے دن سے پہلے حضرت عیسیٰ امام عادل اور حاکم باانصاف ہو کر نازل ہوں گے۔ پس تم قیامت کا آنا یقینی جانو اس میں شک شبہ نہ کرو اور جو خبریں تمہیں دے رہا ہوں اس میں میری تابعداری کرو یہی صراط مستقیم ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان جو تمہارا کھلا دشمن ہے تمہیں صحیح راہ سے اور میری واجب اتباع سے روک دے حضرت عیسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ میں حکمت یعنی نبوت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں اور دینی امور میں جو اختلافات تم نے ڈال رکھے ہیں۔ میں اس میں جو حق ہے اسے ظاہر کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ ابن جریر یہی فرماتے ہیں اور یہی قول بہتر اور پختہ ہے پھر امام صاحب نے ان لوگوں کے قول کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ بعض کا لفظ یہاں پر کل کے معنی میں ہے اور اس کی دلیل میں بعید شاعر کا ایک شعر پیش کرتے ہیں۔ لیکن وہاں بھی بعض سے مراد قائل کا خود اپنا نفس ہے نہ کہ سب نفس۔ امام صاحب نے شعر کا جو مطلب بیان کیا ہے یہ بھی ممکن ہے۔ پھر فرمایا جو میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں اللہ کا لحاظ رکھو اس سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت گذاری کرو جو لایا ہوں اسے مانو یقین مانو کہ تم سب اور خود میں اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے در کے فقیر ہیں اس کی عبادت ہم سب پر فرض ہے وہ واحد لاشریک ہے۔ بس یہی توحید کی راہ راہ مستقیم ہے اب لوگ آپس میں متفرق ہوگئے بعض تو کلمۃ اللہ کو اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہتے تھے اور یہی حق والی جماعت تھی اور بعض نے ان کی نسبت دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کے فرزند ہیں۔ اور بعض نے کہا آپ ہی اللہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں دعوں سے پاک ہے اور بلندو برتر ہے۔ اسی لئے ارشاد فرماتا ہے کہ ان ظالموں کے لئے خرابی ہے قیامت والے دن انہیں المناک عذاب اور دردناک سزائیں ہوں گی۔

قیامت کے قریب نزول عیسیٰ ؑ (یصدون) کے معنی حضرت ابن عباس مجاہد عکرمہ اور ضحاک نے کئے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے یعنی اس سے انہیں تعجب معلوم ہوا۔ قتادہ فرماتے ہیں گھبرا کر بول پڑے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے منہ پھیرنے لگے اس کی وجہ جو امام محمد بن اسحاق نے اپنی سیرت میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ولید بن مغیرہ وغیرہ قریشیوں کے پاس تشریف فرما تھے جو نضر بن حارث آگیا اور آپ سے کچھ باتیں کرنے لگا جس میں وہ لاجواب ہوگیا پھر حضور ﷺ نے قرآن کریم کی آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98؀) 21۔ الأنبیاء :98) ، آیتوں تک پڑھ کر سنائیں یعنی تم اور تمہارے معبود سب جہنم میں جھونک دئیے جاؤ گے پھر حضور ﷺ وہاں سے چلے گئے تھوڑی ہی دیر میں عبداللہ بن زہیری تمیمی آیا تو ولید بن مغیرہ نے اس سے کہا نضر بن حارث تو ابن عبدالمطلب سے ہار گیا اور بالآخر ابن عبدالمطلب ہمیں اور ہمارے معبودوں کو جہنم کا ایندھن کہتے ہوئے چلے گئے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو خود انہیں لاجواب کردیتا جاؤ ذرا ان سے پوچھو تو کہ جب ہم اور ہمارے سارے معبود دوزخی ہیں تو لازم آیا کہ سارے فرشتے اور حضرت عزیر اور حضرت مسیح بھی جہنم میں جائیں گے کیونکہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود حضرت عزیر کی پرستش کرتے ہیں نصرانی حضرت عیسیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔ اس پر مجلس کے کفار بہت خوش ہوئے اور کہا ہاں یہ جواب بہت ٹھیک ہے۔ لیکن جب حضور ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا ہر وہ شخص جو غیر اللہ کی عبادت کرے اور ہر وہ شخص جو اپنی عبادت اپنی خوشی سے کرائے یہ دونوں عابد و معبود جہنمی ہیں۔ فرشتوں یا نبیوں نے نہ اپنی عبادت کا حکم دیا نہ وہ اس سے خوش۔ ان کے نام سے دراصل یہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں وہی انہیں شرک کا حکم دیتا ہے۔ اور یہ بجا لاتے ہیں اس پر آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ01001ۙ) 21۔ الأنبیاء :101) ، نازل ہوئی یعنی حضرت عیسیٰ ، حضرت عزیر، اور ان کے علاوہ جن احبارو رہبان کی پرستش یہ لوگ کرتے ہیں اور خود وہ اللہ کی اطاعت پر تھے شرک سے بیزار اور اس سے روکنے والے تھے اور ان کے بعد گمراہوں جاہلوں نے انہیں معبود بنا لیا تو وہ محض بےقصور ہیں اور فرشتوں کو جو مشرکین اللہ کی بیٹیاں مان کر پوجتے تھے ان کی تردید میں آیت (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا 88؀ۭ) 19۔ مریم :88) ، سے کئی آیتوں تک نازل ہوئیں اور ان کے اس باطل عقیدے کی پوری تردید کردی اور حضرت عیسیٰ کے بارے میں اس نے جو جواب دیا تھا جس پر مشرکین خوش ہوئے تھے یہ آیتیں اتریں کہ اس قول کو سنتے ہی کہ معبودان باطل بھی اپنے عابدوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے انہوں نے جھٹ سے حضرت عیسیٰ کی ذات گرامی کو پیش کردیا اور یہ سنتے ہی مارے خوشی کے آپ کی قوم کے مشرک اچھل پڑے اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگے کہ ہم نے دبا لیا۔ ان سے کہو کہ حضرت عیسیٰ نے کسی سے اپنی یا کسی اور کی پرستش نہیں کرائی وہ تو خود برابر ہماری غلامی میں لگے رہے اور ہم نے بھی انہیں اپنی بہترین نعمتیں عطا فرمائیں۔ ان کے ہاتھوں جو معجزات دنیا کو دکھائے وہ قیامت کی دلیل تھے حضرت ابن عباس سے ابن جریر میں ہے کہ مشرکین نے اپنے معبودوں کا جہنمی ہونا حضور ﷺ کی زبانی سن کر کہا کہ پھر آپ ابن مریم کی نسبت کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اب کوئی جواب ان کے پاس نہ رہا تو کہنے لگے واللہ یہ تو چاہتے ہیں کہ جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کو اللہ مان لیا ہے ہم بھی انہیں رب مان لیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تو صرف بکواس ہے کھسیانے ہو کر بےتکی باتیں کرنے لگے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ قرآن میں ایک آیت ہے مجھ سے کسی نے اس کی تفسیر نہیں پوچھی۔ میں نہیں جانتا کہ کیا ہر ایک اسے جانتا ہے یا نہ جان کر پھر بھی جاننے کی کوشش نہیں کرتے ؟ پھر اور باتیں بیان فرماتے رہے یہاں تک کہ مجلس ختم ہوئی اور آپ چلے گئے۔ اب ہمیں بڑا افسوس ہونے لگا کہ وہ آیت تو پھر بھی رہ گئی اور ہم میں سے کسی نے دریافت ہی نہ کیا۔ اس پر ابن عقیل انصاری کے مولیٰ ابو یحییٰ نے کہا کہ اچھا کل صبح جب تشریف لائیں گے تو میں پوچھ لوں گا۔ دوسرے دن جو آئے تو میں نے ان کی کل کی بات دہرائی اور ان سے دریافت کیا کہ وہ کونسی آیت ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں سنو ! حضور ﷺ نے ایک مرتبہ قریش سے فرمایا کوئی ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کے سوا کی جاتی ہو اور اس میں خیر ہو۔ اس پر قریش نے کہا کیا عیسائی حضرت عیسیٰ کی عبادت نہیں کرتے ؟ اور کیا آپ حضرت عیسیٰ کو اللہ کا نبی اور اس کا برگذیدہ نیک بندہ نہیں مانتے ؟ پھر اس کا کیا مطلب ہوا کہ اللہ کے سوا جس کی عبادت کی جاتی ہے وہ خیر سے خالی ہے ؟ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ کہ جب عیسیٰ بن مریم کا ذکر آیا تو لوگ ہنسنے لگے۔ وہ قیامت کا علم ہیں یعنی عیسیٰ بن مریم کا قیامت کے دن سے پہلے نکلنا ابن ابی حاتم میں بھی یہ روایت پچھلے جملے کے علاوہ ہے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں ان کے اس قول کا کہ کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے معبود محمد ﷺ سے بہترے ہیں یہ تو اپنے آپ کو پجوانا چاہتے ہیں، ابن مسعود کی قرأت میں (ام ھذا) ہے۔ اللہ فرماتا ہے یہ ان کا مناظرہ نہیں بلکہ مجادلہ اور مکابرہ ہے یعنی بےدلیل جھگڑا اور بےوجہ حجت بازی ہے خود یہ جانتے ہیں کہ نہ یہ مطلب ہے نہ ہمارا یہ اعتراض اس پر وارد ہوتا ہے۔ اس لئے اولاً تو آیت میں لفظ (ما) ہے جو غیر ذوی العقول کے لئے ہے دوسرے یہ کہ آیت میں خطاب کفار قریش سے ہے جو اصنام و انداد یعنی بتوں اور پتھروں کو پوجتے تھے وہ مسیح کے پجاری نہ تھے جو یہ اعتراض برمحل مانا جائے پس یہ صرف جدل ہے یعنی وہ بات کہتے ہیں جس کے غیر صحیح ہونے کو ان کے اپنے دل کو بھی یقین ہے۔ ترمذی وغیرہ میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ کوئی قوم اس وقت تک ہلاک نہیں ہوتی جب تک بےدلیل حجت بازی اس میں نہ آجائے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی ابن ابی حاتم میں اس حدیث کے شروع میں یہ بھی ہے کہ ہر امت کی گمراہی کی پہلی بات اپنے نبی کے بعد تقدیر کا انکار کرنا ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک بار حضور ﷺ صحابہ کے مجمع میں آئے اس وقت وہ قرآن کی آیتوں میں بحث کر رہے تھے۔ آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا اس طرح اللہ کی کتاب کی آیتوں کو ایک دوسری کے ساتھ ٹکراؤ نہیں یاد رکھو جھگڑے کی اسی عادت نے اگلے لوگوں کو گمراہ کردیا۔ پھر آپ نے آیت (مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا ۭ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ 58؀) 43۔ الزخرف :58) کی تلاوت فرمائی پھر ارشاد ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ اللہ عزوجل کے بندوں میں سے ایک بندے تھے۔ جن پر نبوت و رسالت کا انعام باری تعالیٰ ہوا تھا اور انہیں اللہ کی قدرت کی نشانی بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین بنا کر فرشتوں کو اس زمین میں آباد کردیتے۔ یا یہ کہ جس طرح تم ایک دوسرے کے جانشین ہوتے ہو یہی بات ان میں کردیتے مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں یعنی بجائے تمہارے زمین کی آبادی ان سے ہوتی ہے اس کے بعد جو فرمایا ہے کہ وہ قیامت کی نشانی ہے اس کا مطلب جو ابن اسحاق نے بیان کیا ہے وہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ دور کی بات یہ ہے کہ بقول قتادہ حضرت حسن بصری اور حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہہ کی ضمیر کا مرجع عائد ہے حضرت عیسیٰ پر۔ یعنی حضرت عیسیٰ قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ اس لئے کہ اوپر سے ہی آپ کا بیان چلا آرہا ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ مراد یہاں حضرت عیسیٰ کا قیامت سے پہلے کا نازل ہونا ہے جیسے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا آیت (وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا01509ۚ) 4۔ النسآء :159) یعنی ان کی موت سے پہلے ایک ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا۔ یعنی حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے قیامت کے دن یہ ان پر گواہ ہوں گے۔ اس مطلب کی پوری وضاحت اسی آیت کی دوسری قرأت سے ہوتی ہے جس میں ہے (وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ 61؀) 43۔ الزخرف :61) یعنی جناب روح اللہ قیامت کے قائم ہونے کا نشان اور علامت ہیں۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ نشان ہیں قیامت کے لئے حضرت عیسیٰ بن مریم کا قیامت سے پہلے آنا۔ اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے اور حضرت عباس سے اور یہی مروی ہے ابو لعالیہ، ابو مالک، عکرمہ، حسن، قتادہ ضحاک وغیرہ سے رحم اللہ تعالیٰ۔ اور متواتر احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے کہ قیامت کے دن سے پہلے حضرت عیسیٰ امام عادل اور حاکم باانصاف ہو کر نازل ہوں گے۔ پس تم قیامت کا آنا یقینی جانو اس میں شک شبہ نہ کرو اور جو خبریں تمہیں دے رہا ہوں اس میں میری تابعداری کرو یہی صراط مستقیم ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان جو تمہارا کھلا دشمن ہے تمہیں صحیح راہ سے اور میری واجب اتباع سے روک دے حضرت عیسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ میں حکمت یعنی نبوت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں اور دینی امور میں جو اختلافات تم نے ڈال رکھے ہیں۔ میں اس میں جو حق ہے اسے ظاہر کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ ابن جریر یہی فرماتے ہیں اور یہی قول بہتر اور پختہ ہے پھر امام صاحب نے ان لوگوں کے قول کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ بعض کا لفظ یہاں پر کل کے معنی میں ہے اور اس کی دلیل میں بعید شاعر کا ایک شعر پیش کرتے ہیں۔ لیکن وہاں بھی بعض سے مراد قائل کا خود اپنا نفس ہے نہ کہ سب نفس۔ امام صاحب نے شعر کا جو مطلب بیان کیا ہے یہ بھی ممکن ہے۔ پھر فرمایا جو میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں اللہ کا لحاظ رکھو اس سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت گذاری کرو جو لایا ہوں اسے مانو یقین مانو کہ تم سب اور خود میں اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے در کے فقیر ہیں اس کی عبادت ہم سب پر فرض ہے وہ واحد لاشریک ہے۔ بس یہی توحید کی راہ راہ مستقیم ہے اب لوگ آپس میں متفرق ہوگئے بعض تو کلمۃ اللہ کو اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہتے تھے اور یہی حق والی جماعت تھی اور بعض نے ان کی نسبت دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کے فرزند ہیں۔ اور بعض نے کہا آپ ہی اللہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں دعوں سے پاک ہے اور بلندو برتر ہے۔ اسی لئے ارشاد فرماتا ہے کہ ان ظالموں کے لئے خرابی ہے قیامت والے دن انہیں المناک عذاب اور دردناک سزائیں ہوں گی۔

قیامت کے قریب نزول عیسیٰ ؑ (یصدون) کے معنی حضرت ابن عباس مجاہد عکرمہ اور ضحاک نے کئے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے یعنی اس سے انہیں تعجب معلوم ہوا۔ قتادہ فرماتے ہیں گھبرا کر بول پڑے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے منہ پھیرنے لگے اس کی وجہ جو امام محمد بن اسحاق نے اپنی سیرت میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ولید بن مغیرہ وغیرہ قریشیوں کے پاس تشریف فرما تھے جو نضر بن حارث آگیا اور آپ سے کچھ باتیں کرنے لگا جس میں وہ لاجواب ہوگیا پھر حضور ﷺ نے قرآن کریم کی آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98؀) 21۔ الأنبیاء :98) ، آیتوں تک پڑھ کر سنائیں یعنی تم اور تمہارے معبود سب جہنم میں جھونک دئیے جاؤ گے پھر حضور ﷺ وہاں سے چلے گئے تھوڑی ہی دیر میں عبداللہ بن زہیری تمیمی آیا تو ولید بن مغیرہ نے اس سے کہا نضر بن حارث تو ابن عبدالمطلب سے ہار گیا اور بالآخر ابن عبدالمطلب ہمیں اور ہمارے معبودوں کو جہنم کا ایندھن کہتے ہوئے چلے گئے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو خود انہیں لاجواب کردیتا جاؤ ذرا ان سے پوچھو تو کہ جب ہم اور ہمارے سارے معبود دوزخی ہیں تو لازم آیا کہ سارے فرشتے اور حضرت عزیر اور حضرت مسیح بھی جہنم میں جائیں گے کیونکہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود حضرت عزیر کی پرستش کرتے ہیں نصرانی حضرت عیسیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔ اس پر مجلس کے کفار بہت خوش ہوئے اور کہا ہاں یہ جواب بہت ٹھیک ہے۔ لیکن جب حضور ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا ہر وہ شخص جو غیر اللہ کی عبادت کرے اور ہر وہ شخص جو اپنی عبادت اپنی خوشی سے کرائے یہ دونوں عابد و معبود جہنمی ہیں۔ فرشتوں یا نبیوں نے نہ اپنی عبادت کا حکم دیا نہ وہ اس سے خوش۔ ان کے نام سے دراصل یہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں وہی انہیں شرک کا حکم دیتا ہے۔ اور یہ بجا لاتے ہیں اس پر آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ01001ۙ) 21۔ الأنبیاء :101) ، نازل ہوئی یعنی حضرت عیسیٰ ، حضرت عزیر، اور ان کے علاوہ جن احبارو رہبان کی پرستش یہ لوگ کرتے ہیں اور خود وہ اللہ کی اطاعت پر تھے شرک سے بیزار اور اس سے روکنے والے تھے اور ان کے بعد گمراہوں جاہلوں نے انہیں معبود بنا لیا تو وہ محض بےقصور ہیں اور فرشتوں کو جو مشرکین اللہ کی بیٹیاں مان کر پوجتے تھے ان کی تردید میں آیت (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا 88؀ۭ) 19۔ مریم :88) ، سے کئی آیتوں تک نازل ہوئیں اور ان کے اس باطل عقیدے کی پوری تردید کردی اور حضرت عیسیٰ کے بارے میں اس نے جو جواب دیا تھا جس پر مشرکین خوش ہوئے تھے یہ آیتیں اتریں کہ اس قول کو سنتے ہی کہ معبودان باطل بھی اپنے عابدوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے انہوں نے جھٹ سے حضرت عیسیٰ کی ذات گرامی کو پیش کردیا اور یہ سنتے ہی مارے خوشی کے آپ کی قوم کے مشرک اچھل پڑے اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگے کہ ہم نے دبا لیا۔ ان سے کہو کہ حضرت عیسیٰ نے کسی سے اپنی یا کسی اور کی پرستش نہیں کرائی وہ تو خود برابر ہماری غلامی میں لگے رہے اور ہم نے بھی انہیں اپنی بہترین نعمتیں عطا فرمائیں۔ ان کے ہاتھوں جو معجزات دنیا کو دکھائے وہ قیامت کی دلیل تھے حضرت ابن عباس سے ابن جریر میں ہے کہ مشرکین نے اپنے معبودوں کا جہنمی ہونا حضور ﷺ کی زبانی سن کر کہا کہ پھر آپ ابن مریم کی نسبت کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اب کوئی جواب ان کے پاس نہ رہا تو کہنے لگے واللہ یہ تو چاہتے ہیں کہ جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کو اللہ مان لیا ہے ہم بھی انہیں رب مان لیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تو صرف بکواس ہے کھسیانے ہو کر بےتکی باتیں کرنے لگے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ قرآن میں ایک آیت ہے مجھ سے کسی نے اس کی تفسیر نہیں پوچھی۔ میں نہیں جانتا کہ کیا ہر ایک اسے جانتا ہے یا نہ جان کر پھر بھی جاننے کی کوشش نہیں کرتے ؟ پھر اور باتیں بیان فرماتے رہے یہاں تک کہ مجلس ختم ہوئی اور آپ چلے گئے۔ اب ہمیں بڑا افسوس ہونے لگا کہ وہ آیت تو پھر بھی رہ گئی اور ہم میں سے کسی نے دریافت ہی نہ کیا۔ اس پر ابن عقیل انصاری کے مولیٰ ابو یحییٰ نے کہا کہ اچھا کل صبح جب تشریف لائیں گے تو میں پوچھ لوں گا۔ دوسرے دن جو آئے تو میں نے ان کی کل کی بات دہرائی اور ان سے دریافت کیا کہ وہ کونسی آیت ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں سنو ! حضور ﷺ نے ایک مرتبہ قریش سے فرمایا کوئی ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کے سوا کی جاتی ہو اور اس میں خیر ہو۔ اس پر قریش نے کہا کیا عیسائی حضرت عیسیٰ کی عبادت نہیں کرتے ؟ اور کیا آپ حضرت عیسیٰ کو اللہ کا نبی اور اس کا برگذیدہ نیک بندہ نہیں مانتے ؟ پھر اس کا کیا مطلب ہوا کہ اللہ کے سوا جس کی عبادت کی جاتی ہے وہ خیر سے خالی ہے ؟ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ کہ جب عیسیٰ بن مریم کا ذکر آیا تو لوگ ہنسنے لگے۔ وہ قیامت کا علم ہیں یعنی عیسیٰ بن مریم کا قیامت کے دن سے پہلے نکلنا ابن ابی حاتم میں بھی یہ روایت پچھلے جملے کے علاوہ ہے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں ان کے اس قول کا کہ کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے معبود محمد ﷺ سے بہترے ہیں یہ تو اپنے آپ کو پجوانا چاہتے ہیں، ابن مسعود کی قرأت میں (ام ھذا) ہے۔ اللہ فرماتا ہے یہ ان کا مناظرہ نہیں بلکہ مجادلہ اور مکابرہ ہے یعنی بےدلیل جھگڑا اور بےوجہ حجت بازی ہے خود یہ جانتے ہیں کہ نہ یہ مطلب ہے نہ ہمارا یہ اعتراض اس پر وارد ہوتا ہے۔ اس لئے اولاً تو آیت میں لفظ (ما) ہے جو غیر ذوی العقول کے لئے ہے دوسرے یہ کہ آیت میں خطاب کفار قریش سے ہے جو اصنام و انداد یعنی بتوں اور پتھروں کو پوجتے تھے وہ مسیح کے پجاری نہ تھے جو یہ اعتراض برمحل مانا جائے پس یہ صرف جدل ہے یعنی وہ بات کہتے ہیں جس کے غیر صحیح ہونے کو ان کے اپنے دل کو بھی یقین ہے۔ ترمذی وغیرہ میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ کوئی قوم اس وقت تک ہلاک نہیں ہوتی جب تک بےدلیل حجت بازی اس میں نہ آجائے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی ابن ابی حاتم میں اس حدیث کے شروع میں یہ بھی ہے کہ ہر امت کی گمراہی کی پہلی بات اپنے نبی کے بعد تقدیر کا انکار کرنا ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک بار حضور ﷺ صحابہ کے مجمع میں آئے اس وقت وہ قرآن کی آیتوں میں بحث کر رہے تھے۔ آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا اس طرح اللہ کی کتاب کی آیتوں کو ایک دوسری کے ساتھ ٹکراؤ نہیں یاد رکھو جھگڑے کی اسی عادت نے اگلے لوگوں کو گمراہ کردیا۔ پھر آپ نے آیت (مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا ۭ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ 58؀) 43۔ الزخرف :58) کی تلاوت فرمائی پھر ارشاد ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ اللہ عزوجل کے بندوں میں سے ایک بندے تھے۔ جن پر نبوت و رسالت کا انعام باری تعالیٰ ہوا تھا اور انہیں اللہ کی قدرت کی نشانی بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین بنا کر فرشتوں کو اس زمین میں آباد کردیتے۔ یا یہ کہ جس طرح تم ایک دوسرے کے جانشین ہوتے ہو یہی بات ان میں کردیتے مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں یعنی بجائے تمہارے زمین کی آبادی ان سے ہوتی ہے اس کے بعد جو فرمایا ہے کہ وہ قیامت کی نشانی ہے اس کا مطلب جو ابن اسحاق نے بیان کیا ہے وہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ دور کی بات یہ ہے کہ بقول قتادہ حضرت حسن بصری اور حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہہ کی ضمیر کا مرجع عائد ہے حضرت عیسیٰ پر۔ یعنی حضرت عیسیٰ قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ اس لئے کہ اوپر سے ہی آپ کا بیان چلا آرہا ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ مراد یہاں حضرت عیسیٰ کا قیامت سے پہلے کا نازل ہونا ہے جیسے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا آیت (وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا01509ۚ) 4۔ النسآء :159) یعنی ان کی موت سے پہلے ایک ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا۔ یعنی حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے قیامت کے دن یہ ان پر گواہ ہوں گے۔ اس مطلب کی پوری وضاحت اسی آیت کی دوسری قرأت سے ہوتی ہے جس میں ہے (وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ 61؀) 43۔ الزخرف :61) یعنی جناب روح اللہ قیامت کے قائم ہونے کا نشان اور علامت ہیں۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ نشان ہیں قیامت کے لئے حضرت عیسیٰ بن مریم کا قیامت سے پہلے آنا۔ اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے اور حضرت عباس سے اور یہی مروی ہے ابو لعالیہ، ابو مالک، عکرمہ، حسن، قتادہ ضحاک وغیرہ سے رحم اللہ تعالیٰ۔ اور متواتر احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے کہ قیامت کے دن سے پہلے حضرت عیسیٰ امام عادل اور حاکم باانصاف ہو کر نازل ہوں گے۔ پس تم قیامت کا آنا یقینی جانو اس میں شک شبہ نہ کرو اور جو خبریں تمہیں دے رہا ہوں اس میں میری تابعداری کرو یہی صراط مستقیم ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان جو تمہارا کھلا دشمن ہے تمہیں صحیح راہ سے اور میری واجب اتباع سے روک دے حضرت عیسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ میں حکمت یعنی نبوت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں اور دینی امور میں جو اختلافات تم نے ڈال رکھے ہیں۔ میں اس میں جو حق ہے اسے ظاہر کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ ابن جریر یہی فرماتے ہیں اور یہی قول بہتر اور پختہ ہے پھر امام صاحب نے ان لوگوں کے قول کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ بعض کا لفظ یہاں پر کل کے معنی میں ہے اور اس کی دلیل میں بعید شاعر کا ایک شعر پیش کرتے ہیں۔ لیکن وہاں بھی بعض سے مراد قائل کا خود اپنا نفس ہے نہ کہ سب نفس۔ امام صاحب نے شعر کا جو مطلب بیان کیا ہے یہ بھی ممکن ہے۔ پھر فرمایا جو میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں اللہ کا لحاظ رکھو اس سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت گذاری کرو جو لایا ہوں اسے مانو یقین مانو کہ تم سب اور خود میں اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے در کے فقیر ہیں اس کی عبادت ہم سب پر فرض ہے وہ واحد لاشریک ہے۔ بس یہی توحید کی راہ راہ مستقیم ہے اب لوگ آپس میں متفرق ہوگئے بعض تو کلمۃ اللہ کو اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہتے تھے اور یہی حق والی جماعت تھی اور بعض نے ان کی نسبت دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کے فرزند ہیں۔ اور بعض نے کہا آپ ہی اللہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں دعوں سے پاک ہے اور بلندو برتر ہے۔ اسی لئے ارشاد فرماتا ہے کہ ان ظالموں کے لئے خرابی ہے قیامت والے دن انہیں المناک عذاب اور دردناک سزائیں ہوں گی۔

قیامت کے قریب نزول عیسیٰ ؑ (یصدون) کے معنی حضرت ابن عباس مجاہد عکرمہ اور ضحاک نے کئے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے یعنی اس سے انہیں تعجب معلوم ہوا۔ قتادہ فرماتے ہیں گھبرا کر بول پڑے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے منہ پھیرنے لگے اس کی وجہ جو امام محمد بن اسحاق نے اپنی سیرت میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ولید بن مغیرہ وغیرہ قریشیوں کے پاس تشریف فرما تھے جو نضر بن حارث آگیا اور آپ سے کچھ باتیں کرنے لگا جس میں وہ لاجواب ہوگیا پھر حضور ﷺ نے قرآن کریم کی آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98؀) 21۔ الأنبیاء :98) ، آیتوں تک پڑھ کر سنائیں یعنی تم اور تمہارے معبود سب جہنم میں جھونک دئیے جاؤ گے پھر حضور ﷺ وہاں سے چلے گئے تھوڑی ہی دیر میں عبداللہ بن زہیری تمیمی آیا تو ولید بن مغیرہ نے اس سے کہا نضر بن حارث تو ابن عبدالمطلب سے ہار گیا اور بالآخر ابن عبدالمطلب ہمیں اور ہمارے معبودوں کو جہنم کا ایندھن کہتے ہوئے چلے گئے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو خود انہیں لاجواب کردیتا جاؤ ذرا ان سے پوچھو تو کہ جب ہم اور ہمارے سارے معبود دوزخی ہیں تو لازم آیا کہ سارے فرشتے اور حضرت عزیر اور حضرت مسیح بھی جہنم میں جائیں گے کیونکہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود حضرت عزیر کی پرستش کرتے ہیں نصرانی حضرت عیسیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔ اس پر مجلس کے کفار بہت خوش ہوئے اور کہا ہاں یہ جواب بہت ٹھیک ہے۔ لیکن جب حضور ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا ہر وہ شخص جو غیر اللہ کی عبادت کرے اور ہر وہ شخص جو اپنی عبادت اپنی خوشی سے کرائے یہ دونوں عابد و معبود جہنمی ہیں۔ فرشتوں یا نبیوں نے نہ اپنی عبادت کا حکم دیا نہ وہ اس سے خوش۔ ان کے نام سے دراصل یہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں وہی انہیں شرک کا حکم دیتا ہے۔ اور یہ بجا لاتے ہیں اس پر آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ01001ۙ) 21۔ الأنبیاء :101) ، نازل ہوئی یعنی حضرت عیسیٰ ، حضرت عزیر، اور ان کے علاوہ جن احبارو رہبان کی پرستش یہ لوگ کرتے ہیں اور خود وہ اللہ کی اطاعت پر تھے شرک سے بیزار اور اس سے روکنے والے تھے اور ان کے بعد گمراہوں جاہلوں نے انہیں معبود بنا لیا تو وہ محض بےقصور ہیں اور فرشتوں کو جو مشرکین اللہ کی بیٹیاں مان کر پوجتے تھے ان کی تردید میں آیت (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا 88؀ۭ) 19۔ مریم :88) ، سے کئی آیتوں تک نازل ہوئیں اور ان کے اس باطل عقیدے کی پوری تردید کردی اور حضرت عیسیٰ کے بارے میں اس نے جو جواب دیا تھا جس پر مشرکین خوش ہوئے تھے یہ آیتیں اتریں کہ اس قول کو سنتے ہی کہ معبودان باطل بھی اپنے عابدوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے انہوں نے جھٹ سے حضرت عیسیٰ کی ذات گرامی کو پیش کردیا اور یہ سنتے ہی مارے خوشی کے آپ کی قوم کے مشرک اچھل پڑے اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگے کہ ہم نے دبا لیا۔ ان سے کہو کہ حضرت عیسیٰ نے کسی سے اپنی یا کسی اور کی پرستش نہیں کرائی وہ تو خود برابر ہماری غلامی میں لگے رہے اور ہم نے بھی انہیں اپنی بہترین نعمتیں عطا فرمائیں۔ ان کے ہاتھوں جو معجزات دنیا کو دکھائے وہ قیامت کی دلیل تھے حضرت ابن عباس سے ابن جریر میں ہے کہ مشرکین نے اپنے معبودوں کا جہنمی ہونا حضور ﷺ کی زبانی سن کر کہا کہ پھر آپ ابن مریم کی نسبت کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اب کوئی جواب ان کے پاس نہ رہا تو کہنے لگے واللہ یہ تو چاہتے ہیں کہ جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کو اللہ مان لیا ہے ہم بھی انہیں رب مان لیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تو صرف بکواس ہے کھسیانے ہو کر بےتکی باتیں کرنے لگے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ قرآن میں ایک آیت ہے مجھ سے کسی نے اس کی تفسیر نہیں پوچھی۔ میں نہیں جانتا کہ کیا ہر ایک اسے جانتا ہے یا نہ جان کر پھر بھی جاننے کی کوشش نہیں کرتے ؟ پھر اور باتیں بیان فرماتے رہے یہاں تک کہ مجلس ختم ہوئی اور آپ چلے گئے۔ اب ہمیں بڑا افسوس ہونے لگا کہ وہ آیت تو پھر بھی رہ گئی اور ہم میں سے کسی نے دریافت ہی نہ کیا۔ اس پر ابن عقیل انصاری کے مولیٰ ابو یحییٰ نے کہا کہ اچھا کل صبح جب تشریف لائیں گے تو میں پوچھ لوں گا۔ دوسرے دن جو آئے تو میں نے ان کی کل کی بات دہرائی اور ان سے دریافت کیا کہ وہ کونسی آیت ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں سنو ! حضور ﷺ نے ایک مرتبہ قریش سے فرمایا کوئی ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کے سوا کی جاتی ہو اور اس میں خیر ہو۔ اس پر قریش نے کہا کیا عیسائی حضرت عیسیٰ کی عبادت نہیں کرتے ؟ اور کیا آپ حضرت عیسیٰ کو اللہ کا نبی اور اس کا برگذیدہ نیک بندہ نہیں مانتے ؟ پھر اس کا کیا مطلب ہوا کہ اللہ کے سوا جس کی عبادت کی جاتی ہے وہ خیر سے خالی ہے ؟ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ کہ جب عیسیٰ بن مریم کا ذکر آیا تو لوگ ہنسنے لگے۔ وہ قیامت کا علم ہیں یعنی عیسیٰ بن مریم کا قیامت کے دن سے پہلے نکلنا ابن ابی حاتم میں بھی یہ روایت پچھلے جملے کے علاوہ ہے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں ان کے اس قول کا کہ کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے معبود محمد ﷺ سے بہترے ہیں یہ تو اپنے آپ کو پجوانا چاہتے ہیں، ابن مسعود کی قرأت میں (ام ھذا) ہے۔ اللہ فرماتا ہے یہ ان کا مناظرہ نہیں بلکہ مجادلہ اور مکابرہ ہے یعنی بےدلیل جھگڑا اور بےوجہ حجت بازی ہے خود یہ جانتے ہیں کہ نہ یہ مطلب ہے نہ ہمارا یہ اعتراض اس پر وارد ہوتا ہے۔ اس لئے اولاً تو آیت میں لفظ (ما) ہے جو غیر ذوی العقول کے لئے ہے دوسرے یہ کہ آیت میں خطاب کفار قریش سے ہے جو اصنام و انداد یعنی بتوں اور پتھروں کو پوجتے تھے وہ مسیح کے پجاری نہ تھے جو یہ اعتراض برمحل مانا جائے پس یہ صرف جدل ہے یعنی وہ بات کہتے ہیں جس کے غیر صحیح ہونے کو ان کے اپنے دل کو بھی یقین ہے۔ ترمذی وغیرہ میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ کوئی قوم اس وقت تک ہلاک نہیں ہوتی جب تک بےدلیل حجت بازی اس میں نہ آجائے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی ابن ابی حاتم میں اس حدیث کے شروع میں یہ بھی ہے کہ ہر امت کی گمراہی کی پہلی بات اپنے نبی کے بعد تقدیر کا انکار کرنا ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک بار حضور ﷺ صحابہ کے مجمع میں آئے اس وقت وہ قرآن کی آیتوں میں بحث کر رہے تھے۔ آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا اس طرح اللہ کی کتاب کی آیتوں کو ایک دوسری کے ساتھ ٹکراؤ نہیں یاد رکھو جھگڑے کی اسی عادت نے اگلے لوگوں کو گمراہ کردیا۔ پھر آپ نے آیت (مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا ۭ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ 58؀) 43۔ الزخرف :58) کی تلاوت فرمائی پھر ارشاد ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ اللہ عزوجل کے بندوں میں سے ایک بندے تھے۔ جن پر نبوت و رسالت کا انعام باری تعالیٰ ہوا تھا اور انہیں اللہ کی قدرت کی نشانی بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین بنا کر فرشتوں کو اس زمین میں آباد کردیتے۔ یا یہ کہ جس طرح تم ایک دوسرے کے جانشین ہوتے ہو یہی بات ان میں کردیتے مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں یعنی بجائے تمہارے زمین کی آبادی ان سے ہوتی ہے اس کے بعد جو فرمایا ہے کہ وہ قیامت کی نشانی ہے اس کا مطلب جو ابن اسحاق نے بیان کیا ہے وہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ دور کی بات یہ ہے کہ بقول قتادہ حضرت حسن بصری اور حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہہ کی ضمیر کا مرجع عائد ہے حضرت عیسیٰ پر۔ یعنی حضرت عیسیٰ قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ اس لئے کہ اوپر سے ہی آپ کا بیان چلا آرہا ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ مراد یہاں حضرت عیسیٰ کا قیامت سے پہلے کا نازل ہونا ہے جیسے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا آیت (وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا01509ۚ) 4۔ النسآء :159) یعنی ان کی موت سے پہلے ایک ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا۔ یعنی حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے قیامت کے دن یہ ان پر گواہ ہوں گے۔ اس مطلب کی پوری وضاحت اسی آیت کی دوسری قرأت سے ہوتی ہے جس میں ہے (وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ 61؀) 43۔ الزخرف :61) یعنی جناب روح اللہ قیامت کے قائم ہونے کا نشان اور علامت ہیں۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ نشان ہیں قیامت کے لئے حضرت عیسیٰ بن مریم کا قیامت سے پہلے آنا۔ اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے اور حضرت عباس سے اور یہی مروی ہے ابو لعالیہ، ابو مالک، عکرمہ، حسن، قتادہ ضحاک وغیرہ سے رحم اللہ تعالیٰ۔ اور متواتر احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے کہ قیامت کے دن سے پہلے حضرت عیسیٰ امام عادل اور حاکم باانصاف ہو کر نازل ہوں گے۔ پس تم قیامت کا آنا یقینی جانو اس میں شک شبہ نہ کرو اور جو خبریں تمہیں دے رہا ہوں اس میں میری تابعداری کرو یہی صراط مستقیم ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان جو تمہارا کھلا دشمن ہے تمہیں صحیح راہ سے اور میری واجب اتباع سے روک دے حضرت عیسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ میں حکمت یعنی نبوت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں اور دینی امور میں جو اختلافات تم نے ڈال رکھے ہیں۔ میں اس میں جو حق ہے اسے ظاہر کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ ابن جریر یہی فرماتے ہیں اور یہی قول بہتر اور پختہ ہے پھر امام صاحب نے ان لوگوں کے قول کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ بعض کا لفظ یہاں پر کل کے معنی میں ہے اور اس کی دلیل میں بعید شاعر کا ایک شعر پیش کرتے ہیں۔ لیکن وہاں بھی بعض سے مراد قائل کا خود اپنا نفس ہے نہ کہ سب نفس۔ امام صاحب نے شعر کا جو مطلب بیان کیا ہے یہ بھی ممکن ہے۔ پھر فرمایا جو میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں اللہ کا لحاظ رکھو اس سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت گذاری کرو جو لایا ہوں اسے مانو یقین مانو کہ تم سب اور خود میں اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے در کے فقیر ہیں اس کی عبادت ہم سب پر فرض ہے وہ واحد لاشریک ہے۔ بس یہی توحید کی راہ راہ مستقیم ہے اب لوگ آپس میں متفرق ہوگئے بعض تو کلمۃ اللہ کو اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہتے تھے اور یہی حق والی جماعت تھی اور بعض نے ان کی نسبت دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کے فرزند ہیں۔ اور بعض نے کہا آپ ہی اللہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں دعوں سے پاک ہے اور بلندو برتر ہے۔ اسی لئے ارشاد فرماتا ہے کہ ان ظالموں کے لئے خرابی ہے قیامت والے دن انہیں المناک عذاب اور دردناک سزائیں ہوں گی۔

قیامت کے قریب نزول عیسیٰ ؑ (یصدون) کے معنی حضرت ابن عباس مجاہد عکرمہ اور ضحاک نے کئے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے یعنی اس سے انہیں تعجب معلوم ہوا۔ قتادہ فرماتے ہیں گھبرا کر بول پڑے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے منہ پھیرنے لگے اس کی وجہ جو امام محمد بن اسحاق نے اپنی سیرت میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ولید بن مغیرہ وغیرہ قریشیوں کے پاس تشریف فرما تھے جو نضر بن حارث آگیا اور آپ سے کچھ باتیں کرنے لگا جس میں وہ لاجواب ہوگیا پھر حضور ﷺ نے قرآن کریم کی آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98؀) 21۔ الأنبیاء :98) ، آیتوں تک پڑھ کر سنائیں یعنی تم اور تمہارے معبود سب جہنم میں جھونک دئیے جاؤ گے پھر حضور ﷺ وہاں سے چلے گئے تھوڑی ہی دیر میں عبداللہ بن زہیری تمیمی آیا تو ولید بن مغیرہ نے اس سے کہا نضر بن حارث تو ابن عبدالمطلب سے ہار گیا اور بالآخر ابن عبدالمطلب ہمیں اور ہمارے معبودوں کو جہنم کا ایندھن کہتے ہوئے چلے گئے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو خود انہیں لاجواب کردیتا جاؤ ذرا ان سے پوچھو تو کہ جب ہم اور ہمارے سارے معبود دوزخی ہیں تو لازم آیا کہ سارے فرشتے اور حضرت عزیر اور حضرت مسیح بھی جہنم میں جائیں گے کیونکہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود حضرت عزیر کی پرستش کرتے ہیں نصرانی حضرت عیسیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔ اس پر مجلس کے کفار بہت خوش ہوئے اور کہا ہاں یہ جواب بہت ٹھیک ہے۔ لیکن جب حضور ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا ہر وہ شخص جو غیر اللہ کی عبادت کرے اور ہر وہ شخص جو اپنی عبادت اپنی خوشی سے کرائے یہ دونوں عابد و معبود جہنمی ہیں۔ فرشتوں یا نبیوں نے نہ اپنی عبادت کا حکم دیا نہ وہ اس سے خوش۔ ان کے نام سے دراصل یہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں وہی انہیں شرک کا حکم دیتا ہے۔ اور یہ بجا لاتے ہیں اس پر آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ01001ۙ) 21۔ الأنبیاء :101) ، نازل ہوئی یعنی حضرت عیسیٰ ، حضرت عزیر، اور ان کے علاوہ جن احبارو رہبان کی پرستش یہ لوگ کرتے ہیں اور خود وہ اللہ کی اطاعت پر تھے شرک سے بیزار اور اس سے روکنے والے تھے اور ان کے بعد گمراہوں جاہلوں نے انہیں معبود بنا لیا تو وہ محض بےقصور ہیں اور فرشتوں کو جو مشرکین اللہ کی بیٹیاں مان کر پوجتے تھے ان کی تردید میں آیت (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا 88؀ۭ) 19۔ مریم :88) ، سے کئی آیتوں تک نازل ہوئیں اور ان کے اس باطل عقیدے کی پوری تردید کردی اور حضرت عیسیٰ کے بارے میں اس نے جو جواب دیا تھا جس پر مشرکین خوش ہوئے تھے یہ آیتیں اتریں کہ اس قول کو سنتے ہی کہ معبودان باطل بھی اپنے عابدوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے انہوں نے جھٹ سے حضرت عیسیٰ کی ذات گرامی کو پیش کردیا اور یہ سنتے ہی مارے خوشی کے آپ کی قوم کے مشرک اچھل پڑے اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگے کہ ہم نے دبا لیا۔ ان سے کہو کہ حضرت عیسیٰ نے کسی سے اپنی یا کسی اور کی پرستش نہیں کرائی وہ تو خود برابر ہماری غلامی میں لگے رہے اور ہم نے بھی انہیں اپنی بہترین نعمتیں عطا فرمائیں۔ ان کے ہاتھوں جو معجزات دنیا کو دکھائے وہ قیامت کی دلیل تھے حضرت ابن عباس سے ابن جریر میں ہے کہ مشرکین نے اپنے معبودوں کا جہنمی ہونا حضور ﷺ کی زبانی سن کر کہا کہ پھر آپ ابن مریم کی نسبت کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اب کوئی جواب ان کے پاس نہ رہا تو کہنے لگے واللہ یہ تو چاہتے ہیں کہ جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کو اللہ مان لیا ہے ہم بھی انہیں رب مان لیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تو صرف بکواس ہے کھسیانے ہو کر بےتکی باتیں کرنے لگے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ قرآن میں ایک آیت ہے مجھ سے کسی نے اس کی تفسیر نہیں پوچھی۔ میں نہیں جانتا کہ کیا ہر ایک اسے جانتا ہے یا نہ جان کر پھر بھی جاننے کی کوشش نہیں کرتے ؟ پھر اور باتیں بیان فرماتے رہے یہاں تک کہ مجلس ختم ہوئی اور آپ چلے گئے۔ اب ہمیں بڑا افسوس ہونے لگا کہ وہ آیت تو پھر بھی رہ گئی اور ہم میں سے کسی نے دریافت ہی نہ کیا۔ اس پر ابن عقیل انصاری کے مولیٰ ابو یحییٰ نے کہا کہ اچھا کل صبح جب تشریف لائیں گے تو میں پوچھ لوں گا۔ دوسرے دن جو آئے تو میں نے ان کی کل کی بات دہرائی اور ان سے دریافت کیا کہ وہ کونسی آیت ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں سنو ! حضور ﷺ نے ایک مرتبہ قریش سے فرمایا کوئی ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کے سوا کی جاتی ہو اور اس میں خیر ہو۔ اس پر قریش نے کہا کیا عیسائی حضرت عیسیٰ کی عبادت نہیں کرتے ؟ اور کیا آپ حضرت عیسیٰ کو اللہ کا نبی اور اس کا برگذیدہ نیک بندہ نہیں مانتے ؟ پھر اس کا کیا مطلب ہوا کہ اللہ کے سوا جس کی عبادت کی جاتی ہے وہ خیر سے خالی ہے ؟ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ کہ جب عیسیٰ بن مریم کا ذکر آیا تو لوگ ہنسنے لگے۔ وہ قیامت کا علم ہیں یعنی عیسیٰ بن مریم کا قیامت کے دن سے پہلے نکلنا ابن ابی حاتم میں بھی یہ روایت پچھلے جملے کے علاوہ ہے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں ان کے اس قول کا کہ کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے معبود محمد ﷺ سے بہترے ہیں یہ تو اپنے آپ کو پجوانا چاہتے ہیں، ابن مسعود کی قرأت میں (ام ھذا) ہے۔ اللہ فرماتا ہے یہ ان کا مناظرہ نہیں بلکہ مجادلہ اور مکابرہ ہے یعنی بےدلیل جھگڑا اور بےوجہ حجت بازی ہے خود یہ جانتے ہیں کہ نہ یہ مطلب ہے نہ ہمارا یہ اعتراض اس پر وارد ہوتا ہے۔ اس لئے اولاً تو آیت میں لفظ (ما) ہے جو غیر ذوی العقول کے لئے ہے دوسرے یہ کہ آیت میں خطاب کفار قریش سے ہے جو اصنام و انداد یعنی بتوں اور پتھروں کو پوجتے تھے وہ مسیح کے پجاری نہ تھے جو یہ اعتراض برمحل مانا جائے پس یہ صرف جدل ہے یعنی وہ بات کہتے ہیں جس کے غیر صحیح ہونے کو ان کے اپنے دل کو بھی یقین ہے۔ ترمذی وغیرہ میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ کوئی قوم اس وقت تک ہلاک نہیں ہوتی جب تک بےدلیل حجت بازی اس میں نہ آجائے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی ابن ابی حاتم میں اس حدیث کے شروع میں یہ بھی ہے کہ ہر امت کی گمراہی کی پہلی بات اپنے نبی کے بعد تقدیر کا انکار کرنا ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک بار حضور ﷺ صحابہ کے مجمع میں آئے اس وقت وہ قرآن کی آیتوں میں بحث کر رہے تھے۔ آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا اس طرح اللہ کی کتاب کی آیتوں کو ایک دوسری کے ساتھ ٹکراؤ نہیں یاد رکھو جھگڑے کی اسی عادت نے اگلے لوگوں کو گمراہ کردیا۔ پھر آپ نے آیت (مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا ۭ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ 58؀) 43۔ الزخرف :58) کی تلاوت فرمائی پھر ارشاد ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ اللہ عزوجل کے بندوں میں سے ایک بندے تھے۔ جن پر نبوت و رسالت کا انعام باری تعالیٰ ہوا تھا اور انہیں اللہ کی قدرت کی نشانی بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین بنا کر فرشتوں کو اس زمین میں آباد کردیتے۔ یا یہ کہ جس طرح تم ایک دوسرے کے جانشین ہوتے ہو یہی بات ان میں کردیتے مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں یعنی بجائے تمہارے زمین کی آبادی ان سے ہوتی ہے اس کے بعد جو فرمایا ہے کہ وہ قیامت کی نشانی ہے اس کا مطلب جو ابن اسحاق نے بیان کیا ہے وہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ دور کی بات یہ ہے کہ بقول قتادہ حضرت حسن بصری اور حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہہ کی ضمیر کا مرجع عائد ہے حضرت عیسیٰ پر۔ یعنی حضرت عیسیٰ قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ اس لئے کہ اوپر سے ہی آپ کا بیان چلا آرہا ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ مراد یہاں حضرت عیسیٰ کا قیامت سے پہلے کا نازل ہونا ہے جیسے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا آیت (وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا01509ۚ) 4۔ النسآء :159) یعنی ان کی موت سے پہلے ایک ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا۔ یعنی حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے قیامت کے دن یہ ان پر گواہ ہوں گے۔ اس مطلب کی پوری وضاحت اسی آیت کی دوسری قرأت سے ہوتی ہے جس میں ہے (وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ 61؀) 43۔ الزخرف :61) یعنی جناب روح اللہ قیامت کے قائم ہونے کا نشان اور علامت ہیں۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ نشان ہیں قیامت کے لئے حضرت عیسیٰ بن مریم کا قیامت سے پہلے آنا۔ اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے اور حضرت عباس سے اور یہی مروی ہے ابو لعالیہ، ابو مالک، عکرمہ، حسن، قتادہ ضحاک وغیرہ سے رحم اللہ تعالیٰ۔ اور متواتر احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے کہ قیامت کے دن سے پہلے حضرت عیسیٰ امام عادل اور حاکم باانصاف ہو کر نازل ہوں گے۔ پس تم قیامت کا آنا یقینی جانو اس میں شک شبہ نہ کرو اور جو خبریں تمہیں دے رہا ہوں اس میں میری تابعداری کرو یہی صراط مستقیم ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان جو تمہارا کھلا دشمن ہے تمہیں صحیح راہ سے اور میری واجب اتباع سے روک دے حضرت عیسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ میں حکمت یعنی نبوت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں اور دینی امور میں جو اختلافات تم نے ڈال رکھے ہیں۔ میں اس میں جو حق ہے اسے ظاہر کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ ابن جریر یہی فرماتے ہیں اور یہی قول بہتر اور پختہ ہے پھر امام صاحب نے ان لوگوں کے قول کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ بعض کا لفظ یہاں پر کل کے معنی میں ہے اور اس کی دلیل میں بعید شاعر کا ایک شعر پیش کرتے ہیں۔ لیکن وہاں بھی بعض سے مراد قائل کا خود اپنا نفس ہے نہ کہ سب نفس۔ امام صاحب نے شعر کا جو مطلب بیان کیا ہے یہ بھی ممکن ہے۔ پھر فرمایا جو میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں اللہ کا لحاظ رکھو اس سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت گذاری کرو جو لایا ہوں اسے مانو یقین مانو کہ تم سب اور خود میں اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے در کے فقیر ہیں اس کی عبادت ہم سب پر فرض ہے وہ واحد لاشریک ہے۔ بس یہی توحید کی راہ راہ مستقیم ہے اب لوگ آپس میں متفرق ہوگئے بعض تو کلمۃ اللہ کو اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہتے تھے اور یہی حق والی جماعت تھی اور بعض نے ان کی نسبت دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کے فرزند ہیں۔ اور بعض نے کہا آپ ہی اللہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں دعوں سے پاک ہے اور بلندو برتر ہے۔ اسی لئے ارشاد فرماتا ہے کہ ان ظالموں کے لئے خرابی ہے قیامت والے دن انہیں المناک عذاب اور دردناک سزائیں ہوں گی۔

جنت میں جنت کے حقدار اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لئے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بیخبر ی کی حالت میں آجائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقینا آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لئے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی۔ جیسے خلیل الرحمن ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہوگا اور کوئی نہ ہوگا جو تمہاری امداد پر آئے ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوش خبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہوجائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لئے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا حضرت ابن عباس اور حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لئے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔ حضرت معتمر بن سلیمان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بےچینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ اے میرے بندو ! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہوجائیں گے وہیں منادی کہے گا وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہوجائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ سورة روم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے چاروں طرف سے ان کے سامنے طرح طرح کے ملذذ مرغن خوش ذائقہ مرغوب کھانوں کی طشتریاں رکابیاں اور پیالیاں پیش ہوں گی اور چھلکتے ہوئے جام ہاتھوں میں لئے غلمان ادھر ادھر گردش کر رہے ہوں گے آیت (تشتھیہ الانفس) اور (تشتھی الانفس) دونوں قرأتیں ہیں۔ یونہی انہیں مزیدار خوشبو والے اچھی رنگت والے من مانے کھانے پینے ملیں گے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سب سے نیچے درجے کا جنتی جو سب سے آخر میں جنت میں جائے گا اس کی نگاہ سو سال کے راستے تک جاتی ہوگی لیکن برابر وہاں تک اسے اپنے ہی ڈیرے اور محل سونے کے زمرد کے نظر آئیں گے جو تمام کے تمام قسم قسم اور رنگ برنگ کے سازو سامان سے پر ہوں گے صبح شام ستر ستر ہزار رکابیاں پیالے الگ الگ وضع کے کھانے سے پر اس کے سامنے رکھے جائیں گے جن میں سے ہر ایک اس کی خواہش کے مطابق ہوگا۔ اور اول سے آخر تک اس کے اشتہاء برابر اور یکساں رہے گی۔ اگر وہ روئے زمین والوں کی دعوت کر دے تو سب کو کفایت ہوجائے اور کچھ نہ گھٹے (عبدالرزاق) ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جنتی ایک لقمہ اٹھائے گا اور اس کے دل میں خیال آئے گا کہ فلاں قسم کا کھانا ہوتا تو اچھا ہوتا چناچہ وہ نوالہ اس کے منہ میں وہ چیز بن جائے گا جس کی اس نے خواہش کی تھی پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ مسند احمد میں ہے اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں سب سے ادنیٰ مرتبے کے جنتی کے بالا خانے کی سات منزلیں ہوں گی یہ چھٹی منزل میں ہوگا اور اس کے اوپر ساتویں ہوگی اس کے تیس خادم ہوں گے جو صبح شام تین سو سونے کے برتنوں میں اس کے طعام و شراب پیش کریں گے ہر ایک میں الگ الگ قسم کا عجیب و غریب اور نہایت لذیز کھانا ہوگا اول سے آخر تک اسے کھانے کی اشتہاء ویسی ہی رہے گی۔ اسی طرح تین سو سونے کے پیالوں اور کٹوروں اور گلاسوں میں اسے پینے کی چیزیں دی جائیں گی۔ وہ بھی ایک سے ایک سوا ہوگی یہ کہے گا کہ اے اللہ اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام جنتیوں کی دعوت کروں۔ سب بھی اگر میرے ہاں کھا جائیں تو بھی میرے کھانے میں کمی نہیں آسکتی اور اس کی بہتر بیویاں حور عین میں سے ہوں گی۔ اور دنیا کی بیویاں الگ ہوں گی۔ ان میں سے ایک ایک میل میل بھر کی جگہ میں بیٹھے گی پھر ساتھ ہی ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتیں بھی ہمیشہ رہنے والی ہیں اور تم بھی یہاں ہمیشہ رہو گے۔ نہ موت آئے نہ گھاٹا آئے نہ جگہ بدلے نہ تکلیف پہنچے پھر ان پر اپنا فضل و احسان بتایا جاتا ہے کہ تمہارے اعمال کا بدلہ میں نے اپنی وسیع رحمت سے تمہیں یہ دیا ہے۔ کیونکہ کوئی شخص بغیر رحمت اللہ کے صرف اپنے اعمال کی بناء پر جنت میں نہیں جاسکتا۔ البتہ جنت کے درجوں میں تفاوت جو ہوگا وہ نیک اعمال کے تفاوت کی وجہ سے ہوگا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جہنمی اپنی جنت کی جگہ جہنم میں دیکھیں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت کرتا تو میں بھی متقیوں میں ہوجاتا۔ اور ہر ایک جنتی بھی اپنی جہنم کی جگہ جنت میں سے دیکھے گا اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہے گا کہ ہم خود اپنے طور پر راہ راست کے حاصل کرنے پر قادر نہ تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے خود ہماری رہنمائی نہ کرتا۔ آپ فرماتے ہیں ہر ہر شخص کی ایک جگہ جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں۔ پس کافر مومن کی جہنم کی جگہ کا وارث ہوگا۔ اور مومن کافر کی جنت کی جگہ کا وارث ہوگا یہی فرمان باری ہے اس جنت کے وارث تم بہ سبب اپنے اعمال کے بنائے گئے ہو کھانے پینے کے ذکر کے بعد اب میووں اور ترکاریوں کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ بھی بہ کثرت مرغوب طبع انہیں ملیں گی۔ جس قسم کی یہ چاہیں اور ان کی خواہش ہو۔ غرض بھرپور نعمتوں کے ساتھ رب کے رضامندی کے گھر میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین۔

جنت میں جنت کے حقدار اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لئے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بیخبر ی کی حالت میں آجائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقینا آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لئے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی۔ جیسے خلیل الرحمن ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہوگا اور کوئی نہ ہوگا جو تمہاری امداد پر آئے ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوش خبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہوجائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لئے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا حضرت ابن عباس اور حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لئے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔ حضرت معتمر بن سلیمان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بےچینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ اے میرے بندو ! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہوجائیں گے وہیں منادی کہے گا وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہوجائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ سورة روم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے چاروں طرف سے ان کے سامنے طرح طرح کے ملذذ مرغن خوش ذائقہ مرغوب کھانوں کی طشتریاں رکابیاں اور پیالیاں پیش ہوں گی اور چھلکتے ہوئے جام ہاتھوں میں لئے غلمان ادھر ادھر گردش کر رہے ہوں گے آیت (تشتھیہ الانفس) اور (تشتھی الانفس) دونوں قرأتیں ہیں۔ یونہی انہیں مزیدار خوشبو والے اچھی رنگت والے من مانے کھانے پینے ملیں گے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سب سے نیچے درجے کا جنتی جو سب سے آخر میں جنت میں جائے گا اس کی نگاہ سو سال کے راستے تک جاتی ہوگی لیکن برابر وہاں تک اسے اپنے ہی ڈیرے اور محل سونے کے زمرد کے نظر آئیں گے جو تمام کے تمام قسم قسم اور رنگ برنگ کے سازو سامان سے پر ہوں گے صبح شام ستر ستر ہزار رکابیاں پیالے الگ الگ وضع کے کھانے سے پر اس کے سامنے رکھے جائیں گے جن میں سے ہر ایک اس کی خواہش کے مطابق ہوگا۔ اور اول سے آخر تک اس کے اشتہاء برابر اور یکساں رہے گی۔ اگر وہ روئے زمین والوں کی دعوت کر دے تو سب کو کفایت ہوجائے اور کچھ نہ گھٹے (عبدالرزاق) ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جنتی ایک لقمہ اٹھائے گا اور اس کے دل میں خیال آئے گا کہ فلاں قسم کا کھانا ہوتا تو اچھا ہوتا چناچہ وہ نوالہ اس کے منہ میں وہ چیز بن جائے گا جس کی اس نے خواہش کی تھی پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ مسند احمد میں ہے اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں سب سے ادنیٰ مرتبے کے جنتی کے بالا خانے کی سات منزلیں ہوں گی یہ چھٹی منزل میں ہوگا اور اس کے اوپر ساتویں ہوگی اس کے تیس خادم ہوں گے جو صبح شام تین سو سونے کے برتنوں میں اس کے طعام و شراب پیش کریں گے ہر ایک میں الگ الگ قسم کا عجیب و غریب اور نہایت لذیز کھانا ہوگا اول سے آخر تک اسے کھانے کی اشتہاء ویسی ہی رہے گی۔ اسی طرح تین سو سونے کے پیالوں اور کٹوروں اور گلاسوں میں اسے پینے کی چیزیں دی جائیں گی۔ وہ بھی ایک سے ایک سوا ہوگی یہ کہے گا کہ اے اللہ اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام جنتیوں کی دعوت کروں۔ سب بھی اگر میرے ہاں کھا جائیں تو بھی میرے کھانے میں کمی نہیں آسکتی اور اس کی بہتر بیویاں حور عین میں سے ہوں گی۔ اور دنیا کی بیویاں الگ ہوں گی۔ ان میں سے ایک ایک میل میل بھر کی جگہ میں بیٹھے گی پھر ساتھ ہی ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتیں بھی ہمیشہ رہنے والی ہیں اور تم بھی یہاں ہمیشہ رہو گے۔ نہ موت آئے نہ گھاٹا آئے نہ جگہ بدلے نہ تکلیف پہنچے پھر ان پر اپنا فضل و احسان بتایا جاتا ہے کہ تمہارے اعمال کا بدلہ میں نے اپنی وسیع رحمت سے تمہیں یہ دیا ہے۔ کیونکہ کوئی شخص بغیر رحمت اللہ کے صرف اپنے اعمال کی بناء پر جنت میں نہیں جاسکتا۔ البتہ جنت کے درجوں میں تفاوت جو ہوگا وہ نیک اعمال کے تفاوت کی وجہ سے ہوگا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جہنمی اپنی جنت کی جگہ جہنم میں دیکھیں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت کرتا تو میں بھی متقیوں میں ہوجاتا۔ اور ہر ایک جنتی بھی اپنی جہنم کی جگہ جنت میں سے دیکھے گا اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہے گا کہ ہم خود اپنے طور پر راہ راست کے حاصل کرنے پر قادر نہ تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے خود ہماری رہنمائی نہ کرتا۔ آپ فرماتے ہیں ہر ہر شخص کی ایک جگہ جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں۔ پس کافر مومن کی جہنم کی جگہ کا وارث ہوگا۔ اور مومن کافر کی جنت کی جگہ کا وارث ہوگا یہی فرمان باری ہے اس جنت کے وارث تم بہ سبب اپنے اعمال کے بنائے گئے ہو کھانے پینے کے ذکر کے بعد اب میووں اور ترکاریوں کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ بھی بہ کثرت مرغوب طبع انہیں ملیں گی۔ جس قسم کی یہ چاہیں اور ان کی خواہش ہو۔ غرض بھرپور نعمتوں کے ساتھ رب کے رضامندی کے گھر میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین۔

جنت میں جنت کے حقدار اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لئے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بیخبر ی کی حالت میں آجائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقینا آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لئے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی۔ جیسے خلیل الرحمن ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہوگا اور کوئی نہ ہوگا جو تمہاری امداد پر آئے ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوش خبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہوجائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لئے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا حضرت ابن عباس اور حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لئے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔ حضرت معتمر بن سلیمان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بےچینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ اے میرے بندو ! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہوجائیں گے وہیں منادی کہے گا وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہوجائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ سورة روم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے چاروں طرف سے ان کے سامنے طرح طرح کے ملذذ مرغن خوش ذائقہ مرغوب کھانوں کی طشتریاں رکابیاں اور پیالیاں پیش ہوں گی اور چھلکتے ہوئے جام ہاتھوں میں لئے غلمان ادھر ادھر گردش کر رہے ہوں گے آیت (تشتھیہ الانفس) اور (تشتھی الانفس) دونوں قرأتیں ہیں۔ یونہی انہیں مزیدار خوشبو والے اچھی رنگت والے من مانے کھانے پینے ملیں گے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سب سے نیچے درجے کا جنتی جو سب سے آخر میں جنت میں جائے گا اس کی نگاہ سو سال کے راستے تک جاتی ہوگی لیکن برابر وہاں تک اسے اپنے ہی ڈیرے اور محل سونے کے زمرد کے نظر آئیں گے جو تمام کے تمام قسم قسم اور رنگ برنگ کے سازو سامان سے پر ہوں گے صبح شام ستر ستر ہزار رکابیاں پیالے الگ الگ وضع کے کھانے سے پر اس کے سامنے رکھے جائیں گے جن میں سے ہر ایک اس کی خواہش کے مطابق ہوگا۔ اور اول سے آخر تک اس کے اشتہاء برابر اور یکساں رہے گی۔ اگر وہ روئے زمین والوں کی دعوت کر دے تو سب کو کفایت ہوجائے اور کچھ نہ گھٹے (عبدالرزاق) ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جنتی ایک لقمہ اٹھائے گا اور اس کے دل میں خیال آئے گا کہ فلاں قسم کا کھانا ہوتا تو اچھا ہوتا چناچہ وہ نوالہ اس کے منہ میں وہ چیز بن جائے گا جس کی اس نے خواہش کی تھی پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ مسند احمد میں ہے اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں سب سے ادنیٰ مرتبے کے جنتی کے بالا خانے کی سات منزلیں ہوں گی یہ چھٹی منزل میں ہوگا اور اس کے اوپر ساتویں ہوگی اس کے تیس خادم ہوں گے جو صبح شام تین سو سونے کے برتنوں میں اس کے طعام و شراب پیش کریں گے ہر ایک میں الگ الگ قسم کا عجیب و غریب اور نہایت لذیز کھانا ہوگا اول سے آخر تک اسے کھانے کی اشتہاء ویسی ہی رہے گی۔ اسی طرح تین سو سونے کے پیالوں اور کٹوروں اور گلاسوں میں اسے پینے کی چیزیں دی جائیں گی۔ وہ بھی ایک سے ایک سوا ہوگی یہ کہے گا کہ اے اللہ اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام جنتیوں کی دعوت کروں۔ سب بھی اگر میرے ہاں کھا جائیں تو بھی میرے کھانے میں کمی نہیں آسکتی اور اس کی بہتر بیویاں حور عین میں سے ہوں گی۔ اور دنیا کی بیویاں الگ ہوں گی۔ ان میں سے ایک ایک میل میل بھر کی جگہ میں بیٹھے گی پھر ساتھ ہی ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتیں بھی ہمیشہ رہنے والی ہیں اور تم بھی یہاں ہمیشہ رہو گے۔ نہ موت آئے نہ گھاٹا آئے نہ جگہ بدلے نہ تکلیف پہنچے پھر ان پر اپنا فضل و احسان بتایا جاتا ہے کہ تمہارے اعمال کا بدلہ میں نے اپنی وسیع رحمت سے تمہیں یہ دیا ہے۔ کیونکہ کوئی شخص بغیر رحمت اللہ کے صرف اپنے اعمال کی بناء پر جنت میں نہیں جاسکتا۔ البتہ جنت کے درجوں میں تفاوت جو ہوگا وہ نیک اعمال کے تفاوت کی وجہ سے ہوگا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جہنمی اپنی جنت کی جگہ جہنم میں دیکھیں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت کرتا تو میں بھی متقیوں میں ہوجاتا۔ اور ہر ایک جنتی بھی اپنی جہنم کی جگہ جنت میں سے دیکھے گا اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہے گا کہ ہم خود اپنے طور پر راہ راست کے حاصل کرنے پر قادر نہ تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے خود ہماری رہنمائی نہ کرتا۔ آپ فرماتے ہیں ہر ہر شخص کی ایک جگہ جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں۔ پس کافر مومن کی جہنم کی جگہ کا وارث ہوگا۔ اور مومن کافر کی جنت کی جگہ کا وارث ہوگا یہی فرمان باری ہے اس جنت کے وارث تم بہ سبب اپنے اعمال کے بنائے گئے ہو کھانے پینے کے ذکر کے بعد اب میووں اور ترکاریوں کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ بھی بہ کثرت مرغوب طبع انہیں ملیں گی۔ جس قسم کی یہ چاہیں اور ان کی خواہش ہو۔ غرض بھرپور نعمتوں کے ساتھ رب کے رضامندی کے گھر میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین۔

جنت میں جنت کے حقدار اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لئے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بیخبر ی کی حالت میں آجائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقینا آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لئے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی۔ جیسے خلیل الرحمن ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہوگا اور کوئی نہ ہوگا جو تمہاری امداد پر آئے ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوش خبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہوجائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لئے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا حضرت ابن عباس اور حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لئے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔ حضرت معتمر بن سلیمان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بےچینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ اے میرے بندو ! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہوجائیں گے وہیں منادی کہے گا وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہوجائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ سورة روم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے چاروں طرف سے ان کے سامنے طرح طرح کے ملذذ مرغن خوش ذائقہ مرغوب کھانوں کی طشتریاں رکابیاں اور پیالیاں پیش ہوں گی اور چھلکتے ہوئے جام ہاتھوں میں لئے غلمان ادھر ادھر گردش کر رہے ہوں گے آیت (تشتھیہ الانفس) اور (تشتھی الانفس) دونوں قرأتیں ہیں۔ یونہی انہیں مزیدار خوشبو والے اچھی رنگت والے من مانے کھانے پینے ملیں گے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سب سے نیچے درجے کا جنتی جو سب سے آخر میں جنت میں جائے گا اس کی نگاہ سو سال کے راستے تک جاتی ہوگی لیکن برابر وہاں تک اسے اپنے ہی ڈیرے اور محل سونے کے زمرد کے نظر آئیں گے جو تمام کے تمام قسم قسم اور رنگ برنگ کے سازو سامان سے پر ہوں گے صبح شام ستر ستر ہزار رکابیاں پیالے الگ الگ وضع کے کھانے سے پر اس کے سامنے رکھے جائیں گے جن میں سے ہر ایک اس کی خواہش کے مطابق ہوگا۔ اور اول سے آخر تک اس کے اشتہاء برابر اور یکساں رہے گی۔ اگر وہ روئے زمین والوں کی دعوت کر دے تو سب کو کفایت ہوجائے اور کچھ نہ گھٹے (عبدالرزاق) ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جنتی ایک لقمہ اٹھائے گا اور اس کے دل میں خیال آئے گا کہ فلاں قسم کا کھانا ہوتا تو اچھا ہوتا چناچہ وہ نوالہ اس کے منہ میں وہ چیز بن جائے گا جس کی اس نے خواہش کی تھی پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ مسند احمد میں ہے اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں سب سے ادنیٰ مرتبے کے جنتی کے بالا خانے کی سات منزلیں ہوں گی یہ چھٹی منزل میں ہوگا اور اس کے اوپر ساتویں ہوگی اس کے تیس خادم ہوں گے جو صبح شام تین سو سونے کے برتنوں میں اس کے طعام و شراب پیش کریں گے ہر ایک میں الگ الگ قسم کا عجیب و غریب اور نہایت لذیز کھانا ہوگا اول سے آخر تک اسے کھانے کی اشتہاء ویسی ہی رہے گی۔ اسی طرح تین سو سونے کے پیالوں اور کٹوروں اور گلاسوں میں اسے پینے کی چیزیں دی جائیں گی۔ وہ بھی ایک سے ایک سوا ہوگی یہ کہے گا کہ اے اللہ اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام جنتیوں کی دعوت کروں۔ سب بھی اگر میرے ہاں کھا جائیں تو بھی میرے کھانے میں کمی نہیں آسکتی اور اس کی بہتر بیویاں حور عین میں سے ہوں گی۔ اور دنیا کی بیویاں الگ ہوں گی۔ ان میں سے ایک ایک میل میل بھر کی جگہ میں بیٹھے گی پھر ساتھ ہی ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتیں بھی ہمیشہ رہنے والی ہیں اور تم بھی یہاں ہمیشہ رہو گے۔ نہ موت آئے نہ گھاٹا آئے نہ جگہ بدلے نہ تکلیف پہنچے پھر ان پر اپنا فضل و احسان بتایا جاتا ہے کہ تمہارے اعمال کا بدلہ میں نے اپنی وسیع رحمت سے تمہیں یہ دیا ہے۔ کیونکہ کوئی شخص بغیر رحمت اللہ کے صرف اپنے اعمال کی بناء پر جنت میں نہیں جاسکتا۔ البتہ جنت کے درجوں میں تفاوت جو ہوگا وہ نیک اعمال کے تفاوت کی وجہ سے ہوگا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جہنمی اپنی جنت کی جگہ جہنم میں دیکھیں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت کرتا تو میں بھی متقیوں میں ہوجاتا۔ اور ہر ایک جنتی بھی اپنی جہنم کی جگہ جنت میں سے دیکھے گا اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہے گا کہ ہم خود اپنے طور پر راہ راست کے حاصل کرنے پر قادر نہ تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے خود ہماری رہنمائی نہ کرتا۔ آپ فرماتے ہیں ہر ہر شخص کی ایک جگہ جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں۔ پس کافر مومن کی جہنم کی جگہ کا وارث ہوگا۔ اور مومن کافر کی جنت کی جگہ کا وارث ہوگا یہی فرمان باری ہے اس جنت کے وارث تم بہ سبب اپنے اعمال کے بنائے گئے ہو کھانے پینے کے ذکر کے بعد اب میووں اور ترکاریوں کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ بھی بہ کثرت مرغوب طبع انہیں ملیں گی۔ جس قسم کی یہ چاہیں اور ان کی خواہش ہو۔ غرض بھرپور نعمتوں کے ساتھ رب کے رضامندی کے گھر میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین۔

جنت میں جنت کے حقدار اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لئے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بیخبر ی کی حالت میں آجائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقینا آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لئے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی۔ جیسے خلیل الرحمن ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہوگا اور کوئی نہ ہوگا جو تمہاری امداد پر آئے ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوش خبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہوجائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لئے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا حضرت ابن عباس اور حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لئے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔ حضرت معتمر بن سلیمان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بےچینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ اے میرے بندو ! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہوجائیں گے وہیں منادی کہے گا وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہوجائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ سورة روم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے چاروں طرف سے ان کے سامنے طرح طرح کے ملذذ مرغن خوش ذائقہ مرغوب کھانوں کی طشتریاں رکابیاں اور پیالیاں پیش ہوں گی اور چھلکتے ہوئے جام ہاتھوں میں لئے غلمان ادھر ادھر گردش کر رہے ہوں گے آیت (تشتھیہ الانفس) اور (تشتھی الانفس) دونوں قرأتیں ہیں۔ یونہی انہیں مزیدار خوشبو والے اچھی رنگت والے من مانے کھانے پینے ملیں گے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سب سے نیچے درجے کا جنتی جو سب سے آخر میں جنت میں جائے گا اس کی نگاہ سو سال کے راستے تک جاتی ہوگی لیکن برابر وہاں تک اسے اپنے ہی ڈیرے اور محل سونے کے زمرد کے نظر آئیں گے جو تمام کے تمام قسم قسم اور رنگ برنگ کے سازو سامان سے پر ہوں گے صبح شام ستر ستر ہزار رکابیاں پیالے الگ الگ وضع کے کھانے سے پر اس کے سامنے رکھے جائیں گے جن میں سے ہر ایک اس کی خواہش کے مطابق ہوگا۔ اور اول سے آخر تک اس کے اشتہاء برابر اور یکساں رہے گی۔ اگر وہ روئے زمین والوں کی دعوت کر دے تو سب کو کفایت ہوجائے اور کچھ نہ گھٹے (عبدالرزاق) ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جنتی ایک لقمہ اٹھائے گا اور اس کے دل میں خیال آئے گا کہ فلاں قسم کا کھانا ہوتا تو اچھا ہوتا چناچہ وہ نوالہ اس کے منہ میں وہ چیز بن جائے گا جس کی اس نے خواہش کی تھی پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ مسند احمد میں ہے اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں سب سے ادنیٰ مرتبے کے جنتی کے بالا خانے کی سات منزلیں ہوں گی یہ چھٹی منزل میں ہوگا اور اس کے اوپر ساتویں ہوگی اس کے تیس خادم ہوں گے جو صبح شام تین سو سونے کے برتنوں میں اس کے طعام و شراب پیش کریں گے ہر ایک میں الگ الگ قسم کا عجیب و غریب اور نہایت لذیز کھانا ہوگا اول سے آخر تک اسے کھانے کی اشتہاء ویسی ہی رہے گی۔ اسی طرح تین سو سونے کے پیالوں اور کٹوروں اور گلاسوں میں اسے پینے کی چیزیں دی جائیں گی۔ وہ بھی ایک سے ایک سوا ہوگی یہ کہے گا کہ اے اللہ اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام جنتیوں کی دعوت کروں۔ سب بھی اگر میرے ہاں کھا جائیں تو بھی میرے کھانے میں کمی نہیں آسکتی اور اس کی بہتر بیویاں حور عین میں سے ہوں گی۔ اور دنیا کی بیویاں الگ ہوں گی۔ ان میں سے ایک ایک میل میل بھر کی جگہ میں بیٹھے گی پھر ساتھ ہی ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتیں بھی ہمیشہ رہنے والی ہیں اور تم بھی یہاں ہمیشہ رہو گے۔ نہ موت آئے نہ گھاٹا آئے نہ جگہ بدلے نہ تکلیف پہنچے پھر ان پر اپنا فضل و احسان بتایا جاتا ہے کہ تمہارے اعمال کا بدلہ میں نے اپنی وسیع رحمت سے تمہیں یہ دیا ہے۔ کیونکہ کوئی شخص بغیر رحمت اللہ کے صرف اپنے اعمال کی بناء پر جنت میں نہیں جاسکتا۔ البتہ جنت کے درجوں میں تفاوت جو ہوگا وہ نیک اعمال کے تفاوت کی وجہ سے ہوگا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جہنمی اپنی جنت کی جگہ جہنم میں دیکھیں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت کرتا تو میں بھی متقیوں میں ہوجاتا۔ اور ہر ایک جنتی بھی اپنی جہنم کی جگہ جنت میں سے دیکھے گا اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہے گا کہ ہم خود اپنے طور پر راہ راست کے حاصل کرنے پر قادر نہ تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے خود ہماری رہنمائی نہ کرتا۔ آپ فرماتے ہیں ہر ہر شخص کی ایک جگہ جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں۔ پس کافر مومن کی جہنم کی جگہ کا وارث ہوگا۔ اور مومن کافر کی جنت کی جگہ کا وارث ہوگا یہی فرمان باری ہے اس جنت کے وارث تم بہ سبب اپنے اعمال کے بنائے گئے ہو کھانے پینے کے ذکر کے بعد اب میووں اور ترکاریوں کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ بھی بہ کثرت مرغوب طبع انہیں ملیں گی۔ جس قسم کی یہ چاہیں اور ان کی خواہش ہو۔ غرض بھرپور نعمتوں کے ساتھ رب کے رضامندی کے گھر میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین۔

جنت میں جنت کے حقدار اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لئے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بیخبر ی کی حالت میں آجائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقینا آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لئے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی۔ جیسے خلیل الرحمن ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہوگا اور کوئی نہ ہوگا جو تمہاری امداد پر آئے ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوش خبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہوجائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لئے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا حضرت ابن عباس اور حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لئے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔ حضرت معتمر بن سلیمان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بےچینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ اے میرے بندو ! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہوجائیں گے وہیں منادی کہے گا وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہوجائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ سورة روم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے چاروں طرف سے ان کے سامنے طرح طرح کے ملذذ مرغن خوش ذائقہ مرغوب کھانوں کی طشتریاں رکابیاں اور پیالیاں پیش ہوں گی اور چھلکتے ہوئے جام ہاتھوں میں لئے غلمان ادھر ادھر گردش کر رہے ہوں گے آیت (تشتھیہ الانفس) اور (تشتھی الانفس) دونوں قرأتیں ہیں۔ یونہی انہیں مزیدار خوشبو والے اچھی رنگت والے من مانے کھانے پینے ملیں گے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سب سے نیچے درجے کا جنتی جو سب سے آخر میں جنت میں جائے گا اس کی نگاہ سو سال کے راستے تک جاتی ہوگی لیکن برابر وہاں تک اسے اپنے ہی ڈیرے اور محل سونے کے زمرد کے نظر آئیں گے جو تمام کے تمام قسم قسم اور رنگ برنگ کے سازو سامان سے پر ہوں گے صبح شام ستر ستر ہزار رکابیاں پیالے الگ الگ وضع کے کھانے سے پر اس کے سامنے رکھے جائیں گے جن میں سے ہر ایک اس کی خواہش کے مطابق ہوگا۔ اور اول سے آخر تک اس کے اشتہاء برابر اور یکساں رہے گی۔ اگر وہ روئے زمین والوں کی دعوت کر دے تو سب کو کفایت ہوجائے اور کچھ نہ گھٹے (عبدالرزاق) ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جنتی ایک لقمہ اٹھائے گا اور اس کے دل میں خیال آئے گا کہ فلاں قسم کا کھانا ہوتا تو اچھا ہوتا چناچہ وہ نوالہ اس کے منہ میں وہ چیز بن جائے گا جس کی اس نے خواہش کی تھی پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ مسند احمد میں ہے اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں سب سے ادنیٰ مرتبے کے جنتی کے بالا خانے کی سات منزلیں ہوں گی یہ چھٹی منزل میں ہوگا اور اس کے اوپر ساتویں ہوگی اس کے تیس خادم ہوں گے جو صبح شام تین سو سونے کے برتنوں میں اس کے طعام و شراب پیش کریں گے ہر ایک میں الگ الگ قسم کا عجیب و غریب اور نہایت لذیز کھانا ہوگا اول سے آخر تک اسے کھانے کی اشتہاء ویسی ہی رہے گی۔ اسی طرح تین سو سونے کے پیالوں اور کٹوروں اور گلاسوں میں اسے پینے کی چیزیں دی جائیں گی۔ وہ بھی ایک سے ایک سوا ہوگی یہ کہے گا کہ اے اللہ اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام جنتیوں کی دعوت کروں۔ سب بھی اگر میرے ہاں کھا جائیں تو بھی میرے کھانے میں کمی نہیں آسکتی اور اس کی بہتر بیویاں حور عین میں سے ہوں گی۔ اور دنیا کی بیویاں الگ ہوں گی۔ ان میں سے ایک ایک میل میل بھر کی جگہ میں بیٹھے گی پھر ساتھ ہی ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتیں بھی ہمیشہ رہنے والی ہیں اور تم بھی یہاں ہمیشہ رہو گے۔ نہ موت آئے نہ گھاٹا آئے نہ جگہ بدلے نہ تکلیف پہنچے پھر ان پر اپنا فضل و احسان بتایا جاتا ہے کہ تمہارے اعمال کا بدلہ میں نے اپنی وسیع رحمت سے تمہیں یہ دیا ہے۔ کیونکہ کوئی شخص بغیر رحمت اللہ کے صرف اپنے اعمال کی بناء پر جنت میں نہیں جاسکتا۔ البتہ جنت کے درجوں میں تفاوت جو ہوگا وہ نیک اعمال کے تفاوت کی وجہ سے ہوگا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جہنمی اپنی جنت کی جگہ جہنم میں دیکھیں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت کرتا تو میں بھی متقیوں میں ہوجاتا۔ اور ہر ایک جنتی بھی اپنی جہنم کی جگہ جنت میں سے دیکھے گا اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہے گا کہ ہم خود اپنے طور پر راہ راست کے حاصل کرنے پر قادر نہ تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے خود ہماری رہنمائی نہ کرتا۔ آپ فرماتے ہیں ہر ہر شخص کی ایک جگہ جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں۔ پس کافر مومن کی جہنم کی جگہ کا وارث ہوگا۔ اور مومن کافر کی جنت کی جگہ کا وارث ہوگا یہی فرمان باری ہے اس جنت کے وارث تم بہ سبب اپنے اعمال کے بنائے گئے ہو کھانے پینے کے ذکر کے بعد اب میووں اور ترکاریوں کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ بھی بہ کثرت مرغوب طبع انہیں ملیں گی۔ جس قسم کی یہ چاہیں اور ان کی خواہش ہو۔ غرض بھرپور نعمتوں کے ساتھ رب کے رضامندی کے گھر میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین۔

جنت میں جنت کے حقدار اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لئے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بیخبر ی کی حالت میں آجائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقینا آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لئے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی۔ جیسے خلیل الرحمن ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہوگا اور کوئی نہ ہوگا جو تمہاری امداد پر آئے ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوش خبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہوجائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لئے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا حضرت ابن عباس اور حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لئے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔ حضرت معتمر بن سلیمان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بےچینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ اے میرے بندو ! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہوجائیں گے وہیں منادی کہے گا وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہوجائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ سورة روم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے چاروں طرف سے ان کے سامنے طرح طرح کے ملذذ مرغن خوش ذائقہ مرغوب کھانوں کی طشتریاں رکابیاں اور پیالیاں پیش ہوں گی اور چھلکتے ہوئے جام ہاتھوں میں لئے غلمان ادھر ادھر گردش کر رہے ہوں گے آیت (تشتھیہ الانفس) اور (تشتھی الانفس) دونوں قرأتیں ہیں۔ یونہی انہیں مزیدار خوشبو والے اچھی رنگت والے من مانے کھانے پینے ملیں گے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سب سے نیچے درجے کا جنتی جو سب سے آخر میں جنت میں جائے گا اس کی نگاہ سو سال کے راستے تک جاتی ہوگی لیکن برابر وہاں تک اسے اپنے ہی ڈیرے اور محل سونے کے زمرد کے نظر آئیں گے جو تمام کے تمام قسم قسم اور رنگ برنگ کے سازو سامان سے پر ہوں گے صبح شام ستر ستر ہزار رکابیاں پیالے الگ الگ وضع کے کھانے سے پر اس کے سامنے رکھے جائیں گے جن میں سے ہر ایک اس کی خواہش کے مطابق ہوگا۔ اور اول سے آخر تک اس کے اشتہاء برابر اور یکساں رہے گی۔ اگر وہ روئے زمین والوں کی دعوت کر دے تو سب کو کفایت ہوجائے اور کچھ نہ گھٹے (عبدالرزاق) ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جنتی ایک لقمہ اٹھائے گا اور اس کے دل میں خیال آئے گا کہ فلاں قسم کا کھانا ہوتا تو اچھا ہوتا چناچہ وہ نوالہ اس کے منہ میں وہ چیز بن جائے گا جس کی اس نے خواہش کی تھی پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ مسند احمد میں ہے اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں سب سے ادنیٰ مرتبے کے جنتی کے بالا خانے کی سات منزلیں ہوں گی یہ چھٹی منزل میں ہوگا اور اس کے اوپر ساتویں ہوگی اس کے تیس خادم ہوں گے جو صبح شام تین سو سونے کے برتنوں میں اس کے طعام و شراب پیش کریں گے ہر ایک میں الگ الگ قسم کا عجیب و غریب اور نہایت لذیز کھانا ہوگا اول سے آخر تک اسے کھانے کی اشتہاء ویسی ہی رہے گی۔ اسی طرح تین سو سونے کے پیالوں اور کٹوروں اور گلاسوں میں اسے پینے کی چیزیں دی جائیں گی۔ وہ بھی ایک سے ایک سوا ہوگی یہ کہے گا کہ اے اللہ اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام جنتیوں کی دعوت کروں۔ سب بھی اگر میرے ہاں کھا جائیں تو بھی میرے کھانے میں کمی نہیں آسکتی اور اس کی بہتر بیویاں حور عین میں سے ہوں گی۔ اور دنیا کی بیویاں الگ ہوں گی۔ ان میں سے ایک ایک میل میل بھر کی جگہ میں بیٹھے گی پھر ساتھ ہی ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتیں بھی ہمیشہ رہنے والی ہیں اور تم بھی یہاں ہمیشہ رہو گے۔ نہ موت آئے نہ گھاٹا آئے نہ جگہ بدلے نہ تکلیف پہنچے پھر ان پر اپنا فضل و احسان بتایا جاتا ہے کہ تمہارے اعمال کا بدلہ میں نے اپنی وسیع رحمت سے تمہیں یہ دیا ہے۔ کیونکہ کوئی شخص بغیر رحمت اللہ کے صرف اپنے اعمال کی بناء پر جنت میں نہیں جاسکتا۔ البتہ جنت کے درجوں میں تفاوت جو ہوگا وہ نیک اعمال کے تفاوت کی وجہ سے ہوگا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جہنمی اپنی جنت کی جگہ جہنم میں دیکھیں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت کرتا تو میں بھی متقیوں میں ہوجاتا۔ اور ہر ایک جنتی بھی اپنی جہنم کی جگہ جنت میں سے دیکھے گا اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہے گا کہ ہم خود اپنے طور پر راہ راست کے حاصل کرنے پر قادر نہ تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے خود ہماری رہنمائی نہ کرتا۔ آپ فرماتے ہیں ہر ہر شخص کی ایک جگہ جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں۔ پس کافر مومن کی جہنم کی جگہ کا وارث ہوگا۔ اور مومن کافر کی جنت کی جگہ کا وارث ہوگا یہی فرمان باری ہے اس جنت کے وارث تم بہ سبب اپنے اعمال کے بنائے گئے ہو کھانے پینے کے ذکر کے بعد اب میووں اور ترکاریوں کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ بھی بہ کثرت مرغوب طبع انہیں ملیں گی۔ جس قسم کی یہ چاہیں اور ان کی خواہش ہو۔ غرض بھرپور نعمتوں کے ساتھ رب کے رضامندی کے گھر میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین۔

جنت میں جنت کے حقدار اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لئے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بیخبر ی کی حالت میں آجائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقینا آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لئے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی۔ جیسے خلیل الرحمن ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہوگا اور کوئی نہ ہوگا جو تمہاری امداد پر آئے ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوش خبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہوجائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لئے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا حضرت ابن عباس اور حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لئے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔ حضرت معتمر بن سلیمان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بےچینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ اے میرے بندو ! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہوجائیں گے وہیں منادی کہے گا وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہوجائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ سورة روم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے چاروں طرف سے ان کے سامنے طرح طرح کے ملذذ مرغن خوش ذائقہ مرغوب کھانوں کی طشتریاں رکابیاں اور پیالیاں پیش ہوں گی اور چھلکتے ہوئے جام ہاتھوں میں لئے غلمان ادھر ادھر گردش کر رہے ہوں گے آیت (تشتھیہ الانفس) اور (تشتھی الانفس) دونوں قرأتیں ہیں۔ یونہی انہیں مزیدار خوشبو والے اچھی رنگت والے من مانے کھانے پینے ملیں گے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سب سے نیچے درجے کا جنتی جو سب سے آخر میں جنت میں جائے گا اس کی نگاہ سو سال کے راستے تک جاتی ہوگی لیکن برابر وہاں تک اسے اپنے ہی ڈیرے اور محل سونے کے زمرد کے نظر آئیں گے جو تمام کے تمام قسم قسم اور رنگ برنگ کے سازو سامان سے پر ہوں گے صبح شام ستر ستر ہزار رکابیاں پیالے الگ الگ وضع کے کھانے سے پر اس کے سامنے رکھے جائیں گے جن میں سے ہر ایک اس کی خواہش کے مطابق ہوگا۔ اور اول سے آخر تک اس کے اشتہاء برابر اور یکساں رہے گی۔ اگر وہ روئے زمین والوں کی دعوت کر دے تو سب کو کفایت ہوجائے اور کچھ نہ گھٹے (عبدالرزاق) ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جنتی ایک لقمہ اٹھائے گا اور اس کے دل میں خیال آئے گا کہ فلاں قسم کا کھانا ہوتا تو اچھا ہوتا چناچہ وہ نوالہ اس کے منہ میں وہ چیز بن جائے گا جس کی اس نے خواہش کی تھی پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ مسند احمد میں ہے اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں سب سے ادنیٰ مرتبے کے جنتی کے بالا خانے کی سات منزلیں ہوں گی یہ چھٹی منزل میں ہوگا اور اس کے اوپر ساتویں ہوگی اس کے تیس خادم ہوں گے جو صبح شام تین سو سونے کے برتنوں میں اس کے طعام و شراب پیش کریں گے ہر ایک میں الگ الگ قسم کا عجیب و غریب اور نہایت لذیز کھانا ہوگا اول سے آخر تک اسے کھانے کی اشتہاء ویسی ہی رہے گی۔ اسی طرح تین سو سونے کے پیالوں اور کٹوروں اور گلاسوں میں اسے پینے کی چیزیں دی جائیں گی۔ وہ بھی ایک سے ایک سوا ہوگی یہ کہے گا کہ اے اللہ اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام جنتیوں کی دعوت کروں۔ سب بھی اگر میرے ہاں کھا جائیں تو بھی میرے کھانے میں کمی نہیں آسکتی اور اس کی بہتر بیویاں حور عین میں سے ہوں گی۔ اور دنیا کی بیویاں الگ ہوں گی۔ ان میں سے ایک ایک میل میل بھر کی جگہ میں بیٹھے گی پھر ساتھ ہی ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتیں بھی ہمیشہ رہنے والی ہیں اور تم بھی یہاں ہمیشہ رہو گے۔ نہ موت آئے نہ گھاٹا آئے نہ جگہ بدلے نہ تکلیف پہنچے پھر ان پر اپنا فضل و احسان بتایا جاتا ہے کہ تمہارے اعمال کا بدلہ میں نے اپنی وسیع رحمت سے تمہیں یہ دیا ہے۔ کیونکہ کوئی شخص بغیر رحمت اللہ کے صرف اپنے اعمال کی بناء پر جنت میں نہیں جاسکتا۔ البتہ جنت کے درجوں میں تفاوت جو ہوگا وہ نیک اعمال کے تفاوت کی وجہ سے ہوگا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جہنمی اپنی جنت کی جگہ جہنم میں دیکھیں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت کرتا تو میں بھی متقیوں میں ہوجاتا۔ اور ہر ایک جنتی بھی اپنی جہنم کی جگہ جنت میں سے دیکھے گا اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہے گا کہ ہم خود اپنے طور پر راہ راست کے حاصل کرنے پر قادر نہ تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے خود ہماری رہنمائی نہ کرتا۔ آپ فرماتے ہیں ہر ہر شخص کی ایک جگہ جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں۔ پس کافر مومن کی جہنم کی جگہ کا وارث ہوگا۔ اور مومن کافر کی جنت کی جگہ کا وارث ہوگا یہی فرمان باری ہے اس جنت کے وارث تم بہ سبب اپنے اعمال کے بنائے گئے ہو کھانے پینے کے ذکر کے بعد اب میووں اور ترکاریوں کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ بھی بہ کثرت مرغوب طبع انہیں ملیں گی۔ جس قسم کی یہ چاہیں اور ان کی خواہش ہو۔ غرض بھرپور نعمتوں کے ساتھ رب کے رضامندی کے گھر میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین۔

دوزخ اور دوزخیوں کی درگت : اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لئے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہوگی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہوجائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کردی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے، صحیح بخاری میں ہے حضور ﷺ نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ (وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ 36؀ۚ) 35۔ فاطر :36) یعنی نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہوگی اور فرمان باری ہے آیت (وَيَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَى 11 ۙ) 87۔ الأعلی :11) یعنی وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہوجائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا۔ پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کردیا واضح کردیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بےفائدہ ہے پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا حضرت مجاہد کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے (وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ 50؀) 27۔ النمل :50) یعنی انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا۔ مشرکین حق کو ٹالنے کے لئے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آگیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے ؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو انکی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں۔

دوزخ اور دوزخیوں کی درگت : اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لئے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہوگی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہوجائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کردی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے، صحیح بخاری میں ہے حضور ﷺ نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ (وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ 36؀ۚ) 35۔ فاطر :36) یعنی نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہوگی اور فرمان باری ہے آیت (وَيَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَى 11 ۙ) 87۔ الأعلی :11) یعنی وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہوجائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا۔ پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کردیا واضح کردیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بےفائدہ ہے پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا حضرت مجاہد کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے (وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ 50؀) 27۔ النمل :50) یعنی انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا۔ مشرکین حق کو ٹالنے کے لئے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آگیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے ؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو انکی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں۔

دوزخ اور دوزخیوں کی درگت : اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لئے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہوگی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہوجائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کردی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے، صحیح بخاری میں ہے حضور ﷺ نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ (وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ 36؀ۚ) 35۔ فاطر :36) یعنی نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہوگی اور فرمان باری ہے آیت (وَيَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَى 11 ۙ) 87۔ الأعلی :11) یعنی وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہوجائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا۔ پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کردیا واضح کردیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بےفائدہ ہے پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا حضرت مجاہد کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے (وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ 50؀) 27۔ النمل :50) یعنی انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا۔ مشرکین حق کو ٹالنے کے لئے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آگیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے ؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو انکی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں۔

دوزخ اور دوزخیوں کی درگت : اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لئے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہوگی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہوجائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کردی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے، صحیح بخاری میں ہے حضور ﷺ نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ (وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ 36؀ۚ) 35۔ فاطر :36) یعنی نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہوگی اور فرمان باری ہے آیت (وَيَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَى 11 ۙ) 87۔ الأعلی :11) یعنی وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہوجائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا۔ پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کردیا واضح کردیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بےفائدہ ہے پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا حضرت مجاہد کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے (وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ 50؀) 27۔ النمل :50) یعنی انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا۔ مشرکین حق کو ٹالنے کے لئے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آگیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے ؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو انکی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں۔

دوزخ اور دوزخیوں کی درگت : اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لئے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہوگی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہوجائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کردی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے، صحیح بخاری میں ہے حضور ﷺ نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ (وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ 36؀ۚ) 35۔ فاطر :36) یعنی نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہوگی اور فرمان باری ہے آیت (وَيَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَى 11 ۙ) 87۔ الأعلی :11) یعنی وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہوجائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا۔ پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کردیا واضح کردیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بےفائدہ ہے پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا حضرت مجاہد کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے (وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ 50؀) 27۔ النمل :50) یعنی انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا۔ مشرکین حق کو ٹالنے کے لئے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آگیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے ؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو انکی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں۔

دوزخ اور دوزخیوں کی درگت : اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لئے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہوگی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہوجائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کردی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے، صحیح بخاری میں ہے حضور ﷺ نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ (وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ 36؀ۚ) 35۔ فاطر :36) یعنی نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہوگی اور فرمان باری ہے آیت (وَيَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَى 11 ۙ) 87۔ الأعلی :11) یعنی وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہوجائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا۔ پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کردیا واضح کردیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بےفائدہ ہے پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا حضرت مجاہد کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے (وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ 50؀) 27۔ النمل :50) یعنی انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا۔ مشرکین حق کو ٹالنے کے لئے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آگیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے ؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو انکی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں۔

دوزخ اور دوزخیوں کی درگت : اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لئے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہوگی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہوجائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کردی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے، صحیح بخاری میں ہے حضور ﷺ نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ (وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ 36؀ۚ) 35۔ فاطر :36) یعنی نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہوگی اور فرمان باری ہے آیت (وَيَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَى 11 ۙ) 87۔ الأعلی :11) یعنی وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہوجائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا۔ پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کردیا واضح کردیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بےفائدہ ہے پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا حضرت مجاہد کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے (وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ 50؀) 27۔ النمل :50) یعنی انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا۔ مشرکین حق کو ٹالنے کے لئے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آگیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے ؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو انکی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں۔

جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے اے نبی آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے ؟ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر :4) ، یعنی اگر حضرت حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے بعض مفسریں نے (عابدین) کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ (عابدین) سے مراد یہاں (اول الجاحدین) ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ (عبد یعبد) کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وہ (عبد یعبد) سے ہوتا ہے۔ اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا حضرت عثمان نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن حضرت علی نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت (وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا 15؀) 46۔ الأحقاف :15) یعنی حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے۔ اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت (وفصالہ فی عامین) دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے حضرت عثمان ان کا انکار نہ کرسکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو یہاں بھی لفظ (عبد) ہے یعنی انکار نہ کرسکے۔ ابن وہب کہتے ہیں (عبد) کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے۔ شاعر کے شعر میں بھی (عبد) انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔ لیکن اس قول میں نر ہے اس لئے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہوگا کہ اگر رحمان کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں۔ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ (ان) شرط کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ نفی کے لئے ہے جیسے کہ ابن عباس سے منقول بھی ہے۔ تو اب مضمون کلام یہ ہوگا کہ چونکہ رحمان کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں حضرت قتادہ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی نہ رحمان کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد۔ ابو صخر فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں مجاہد فرماتے ہیں میں اس کا پہلا عبادت گذار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔ امام بخاری فرماتے ہیں میں پہلا انکاری ہوں یہ دونوں لغت میں (عابد) اور (عبد) اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن۔ سدی فرماتے ہیں اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ (ان) کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں اسی لئے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں ارشاد ہوتا ہے کہ نبی انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کرلیں پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے۔ وہ خبیر وعلیم ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ زمین و آسمان میں اللہ وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو اور تمہارے ہر ہر عمل کو جانتا ہے وہ سب کا خالق ومالک سب کو بسانے اور بنانے والا سب پر حکومت اور سلطنت رکھنے والا بڑی برکتوں والا ہے۔ وہ تمام عیبوں سے کل نقصانات سے پاک ہے وہ سب کا مالک ہے بلندیوں اور عظمتوں والا ہے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے کوئی نہیں جو اس کی مرضی بدل سکے ہر ایک پر قابض وہی ہے ہر ایک کام اس کی قدرت کے ماتحت ہے قیامت آنے کے وقت کو وہی جانتا ہے اس کے سوا کسی کو اس کے آنے کے ٹھیک وقت کا علم نہیں ساری مخلوق اسی کی طرف لوٹائی جائے گی وہ ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ دے گا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کافروں کے معبودان باطل جنہیں یہ اپنا سفارشی خیال کئے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی بھی سفارش کے لئے آگے بڑھ نہیں سکتا کسی کی شفاعت انہیں کام نہ آئے گی اسکے بعد استثناء منقطع ہے یعنی لیکن جو شخص حق کا اقراری اور شاہد ہو اور وہ خود بھی بصیرت و بصارت پر یعنی علم و معرفت والا ہو اسے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کی شفاعت کار آمد ہوگی ان سے اگر تو پوچھے کہ ان کا خالق کون ہے ؟ تو یہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی ہے افسوس کہ خالق اسی ایک کو مان کر پھر عبادت دوسروں کی بھی کرتے ہیں جو محض مجبور اور بالکل بےقدرت ہیں اور کبھی اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے کہ جب پیدا اسی ایک نے کیا تو ہم دوسرے کی عبادت کیوں کریں ؟ جہالت و خباثت کند ذہنی اور بےوقوفی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایسی سیدھی سی بات مرتے دم تک سمجھ نہ آئی۔ بلکہ سمجھانے سے بھی نہ سمجھا اسی لئے تعجب سے ارشاد ہوا کہ اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہوجاتے ہو ؟ پھر ارشاد ہے کہ محمد ﷺ نے اپنا یہ کہنا کہا یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے جیسے اور آیت میں ہے (وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا 30؀) 25۔ الفرقان :30) یعنی رسول ﷺ کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہوگی کہ میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ امام ابن جریر بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں امام بخاری فرماتے ہیں ابن مسعود کی قرأت لام کے زیر کیساتھ بھی نقل کی ہے اس کی ایک توجیہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ آیت (اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ ۭ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ 80؀) 43۔ الزخرف :80) پر معطوف ہے دوسرے یہ کہ یہاں فعل مقدر مانا جائے یعنی (قال) کو مقدر مانا جائے۔ دوسری قرأت یعنی لام کے زیر کیساتھ جب ہو تو یہ عجب ہوگا آیت (وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 85 ؀) 43۔ الزخرف :85) پر تو تقدیر یوں ہوگی۔ کہ قیامت کا علم اور اس قول کا علم اس کے پاس ہے ختم سورة پر ارشاد ہوتا ہے کہ مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بدزبانی کا بد کالمی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے۔ انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہوجائے گی۔ اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا۔ کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حضرت حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند وبالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مومن اور مسلم بندوں کو قوی کردیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کردیا اللہ کے دین میں بیشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا فالحمدللہ۔ واللہ اعلم۔

جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے اے نبی آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے ؟ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر :4) ، یعنی اگر حضرت حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے بعض مفسریں نے (عابدین) کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ (عابدین) سے مراد یہاں (اول الجاحدین) ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ (عبد یعبد) کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وہ (عبد یعبد) سے ہوتا ہے۔ اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا حضرت عثمان نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن حضرت علی نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت (وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا 15؀) 46۔ الأحقاف :15) یعنی حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے۔ اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت (وفصالہ فی عامین) دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے حضرت عثمان ان کا انکار نہ کرسکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو یہاں بھی لفظ (عبد) ہے یعنی انکار نہ کرسکے۔ ابن وہب کہتے ہیں (عبد) کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے۔ شاعر کے شعر میں بھی (عبد) انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔ لیکن اس قول میں نر ہے اس لئے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہوگا کہ اگر رحمان کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں۔ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ (ان) شرط کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ نفی کے لئے ہے جیسے کہ ابن عباس سے منقول بھی ہے۔ تو اب مضمون کلام یہ ہوگا کہ چونکہ رحمان کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں حضرت قتادہ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی نہ رحمان کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد۔ ابو صخر فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں مجاہد فرماتے ہیں میں اس کا پہلا عبادت گذار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔ امام بخاری فرماتے ہیں میں پہلا انکاری ہوں یہ دونوں لغت میں (عابد) اور (عبد) اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن۔ سدی فرماتے ہیں اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ (ان) کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں اسی لئے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں ارشاد ہوتا ہے کہ نبی انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کرلیں پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے۔ وہ خبیر وعلیم ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ زمین و آسمان میں اللہ وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو اور تمہارے ہر ہر عمل کو جانتا ہے وہ سب کا خالق ومالک سب کو بسانے اور بنانے والا سب پر حکومت اور سلطنت رکھنے والا بڑی برکتوں والا ہے۔ وہ تمام عیبوں سے کل نقصانات سے پاک ہے وہ سب کا مالک ہے بلندیوں اور عظمتوں والا ہے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے کوئی نہیں جو اس کی مرضی بدل سکے ہر ایک پر قابض وہی ہے ہر ایک کام اس کی قدرت کے ماتحت ہے قیامت آنے کے وقت کو وہی جانتا ہے اس کے سوا کسی کو اس کے آنے کے ٹھیک وقت کا علم نہیں ساری مخلوق اسی کی طرف لوٹائی جائے گی وہ ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ دے گا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کافروں کے معبودان باطل جنہیں یہ اپنا سفارشی خیال کئے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی بھی سفارش کے لئے آگے بڑھ نہیں سکتا کسی کی شفاعت انہیں کام نہ آئے گی اسکے بعد استثناء منقطع ہے یعنی لیکن جو شخص حق کا اقراری اور شاہد ہو اور وہ خود بھی بصیرت و بصارت پر یعنی علم و معرفت والا ہو اسے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کی شفاعت کار آمد ہوگی ان سے اگر تو پوچھے کہ ان کا خالق کون ہے ؟ تو یہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی ہے افسوس کہ خالق اسی ایک کو مان کر پھر عبادت دوسروں کی بھی کرتے ہیں جو محض مجبور اور بالکل بےقدرت ہیں اور کبھی اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے کہ جب پیدا اسی ایک نے کیا تو ہم دوسرے کی عبادت کیوں کریں ؟ جہالت و خباثت کند ذہنی اور بےوقوفی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایسی سیدھی سی بات مرتے دم تک سمجھ نہ آئی۔ بلکہ سمجھانے سے بھی نہ سمجھا اسی لئے تعجب سے ارشاد ہوا کہ اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہوجاتے ہو ؟ پھر ارشاد ہے کہ محمد ﷺ نے اپنا یہ کہنا کہا یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے جیسے اور آیت میں ہے (وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا 30؀) 25۔ الفرقان :30) یعنی رسول ﷺ کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہوگی کہ میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ امام ابن جریر بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں امام بخاری فرماتے ہیں ابن مسعود کی قرأت لام کے زیر کیساتھ بھی نقل کی ہے اس کی ایک توجیہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ آیت (اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ ۭ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ 80؀) 43۔ الزخرف :80) پر معطوف ہے دوسرے یہ کہ یہاں فعل مقدر مانا جائے یعنی (قال) کو مقدر مانا جائے۔ دوسری قرأت یعنی لام کے زیر کیساتھ جب ہو تو یہ عجب ہوگا آیت (وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 85 ؀) 43۔ الزخرف :85) پر تو تقدیر یوں ہوگی۔ کہ قیامت کا علم اور اس قول کا علم اس کے پاس ہے ختم سورة پر ارشاد ہوتا ہے کہ مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بدزبانی کا بد کالمی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے۔ انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہوجائے گی۔ اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا۔ کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حضرت حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند وبالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مومن اور مسلم بندوں کو قوی کردیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کردیا اللہ کے دین میں بیشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا فالحمدللہ۔ واللہ اعلم۔

جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے اے نبی آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے ؟ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر :4) ، یعنی اگر حضرت حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے بعض مفسریں نے (عابدین) کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ (عابدین) سے مراد یہاں (اول الجاحدین) ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ (عبد یعبد) کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وہ (عبد یعبد) سے ہوتا ہے۔ اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا حضرت عثمان نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن حضرت علی نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت (وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا 15؀) 46۔ الأحقاف :15) یعنی حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے۔ اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت (وفصالہ فی عامین) دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے حضرت عثمان ان کا انکار نہ کرسکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو یہاں بھی لفظ (عبد) ہے یعنی انکار نہ کرسکے۔ ابن وہب کہتے ہیں (عبد) کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے۔ شاعر کے شعر میں بھی (عبد) انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔ لیکن اس قول میں نر ہے اس لئے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہوگا کہ اگر رحمان کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں۔ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ (ان) شرط کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ نفی کے لئے ہے جیسے کہ ابن عباس سے منقول بھی ہے۔ تو اب مضمون کلام یہ ہوگا کہ چونکہ رحمان کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں حضرت قتادہ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی نہ رحمان کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد۔ ابو صخر فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں مجاہد فرماتے ہیں میں اس کا پہلا عبادت گذار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔ امام بخاری فرماتے ہیں میں پہلا انکاری ہوں یہ دونوں لغت میں (عابد) اور (عبد) اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن۔ سدی فرماتے ہیں اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ (ان) کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں اسی لئے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں ارشاد ہوتا ہے کہ نبی انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کرلیں پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے۔ وہ خبیر وعلیم ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ زمین و آسمان میں اللہ وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو اور تمہارے ہر ہر عمل کو جانتا ہے وہ سب کا خالق ومالک سب کو بسانے اور بنانے والا سب پر حکومت اور سلطنت رکھنے والا بڑی برکتوں والا ہے۔ وہ تمام عیبوں سے کل نقصانات سے پاک ہے وہ سب کا مالک ہے بلندیوں اور عظمتوں والا ہے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے کوئی نہیں جو اس کی مرضی بدل سکے ہر ایک پر قابض وہی ہے ہر ایک کام اس کی قدرت کے ماتحت ہے قیامت آنے کے وقت کو وہی جانتا ہے اس کے سوا کسی کو اس کے آنے کے ٹھیک وقت کا علم نہیں ساری مخلوق اسی کی طرف لوٹائی جائے گی وہ ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ دے گا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کافروں کے معبودان باطل جنہیں یہ اپنا سفارشی خیال کئے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی بھی سفارش کے لئے آگے بڑھ نہیں سکتا کسی کی شفاعت انہیں کام نہ آئے گی اسکے بعد استثناء منقطع ہے یعنی لیکن جو شخص حق کا اقراری اور شاہد ہو اور وہ خود بھی بصیرت و بصارت پر یعنی علم و معرفت والا ہو اسے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کی شفاعت کار آمد ہوگی ان سے اگر تو پوچھے کہ ان کا خالق کون ہے ؟ تو یہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی ہے افسوس کہ خالق اسی ایک کو مان کر پھر عبادت دوسروں کی بھی کرتے ہیں جو محض مجبور اور بالکل بےقدرت ہیں اور کبھی اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے کہ جب پیدا اسی ایک نے کیا تو ہم دوسرے کی عبادت کیوں کریں ؟ جہالت و خباثت کند ذہنی اور بےوقوفی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایسی سیدھی سی بات مرتے دم تک سمجھ نہ آئی۔ بلکہ سمجھانے سے بھی نہ سمجھا اسی لئے تعجب سے ارشاد ہوا کہ اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہوجاتے ہو ؟ پھر ارشاد ہے کہ محمد ﷺ نے اپنا یہ کہنا کہا یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے جیسے اور آیت میں ہے (وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا 30؀) 25۔ الفرقان :30) یعنی رسول ﷺ کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہوگی کہ میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ امام ابن جریر بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں امام بخاری فرماتے ہیں ابن مسعود کی قرأت لام کے زیر کیساتھ بھی نقل کی ہے اس کی ایک توجیہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ آیت (اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ ۭ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ 80؀) 43۔ الزخرف :80) پر معطوف ہے دوسرے یہ کہ یہاں فعل مقدر مانا جائے یعنی (قال) کو مقدر مانا جائے۔ دوسری قرأت یعنی لام کے زیر کیساتھ جب ہو تو یہ عجب ہوگا آیت (وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 85 ؀) 43۔ الزخرف :85) پر تو تقدیر یوں ہوگی۔ کہ قیامت کا علم اور اس قول کا علم اس کے پاس ہے ختم سورة پر ارشاد ہوتا ہے کہ مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بدزبانی کا بد کالمی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے۔ انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہوجائے گی۔ اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا۔ کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حضرت حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند وبالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مومن اور مسلم بندوں کو قوی کردیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کردیا اللہ کے دین میں بیشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا فالحمدللہ۔ واللہ اعلم۔

جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے اے نبی آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے ؟ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر :4) ، یعنی اگر حضرت حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے بعض مفسریں نے (عابدین) کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ (عابدین) سے مراد یہاں (اول الجاحدین) ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ (عبد یعبد) کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وہ (عبد یعبد) سے ہوتا ہے۔ اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا حضرت عثمان نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن حضرت علی نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت (وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا 15؀) 46۔ الأحقاف :15) یعنی حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے۔ اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت (وفصالہ فی عامین) دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے حضرت عثمان ان کا انکار نہ کرسکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو یہاں بھی لفظ (عبد) ہے یعنی انکار نہ کرسکے۔ ابن وہب کہتے ہیں (عبد) کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے۔ شاعر کے شعر میں بھی (عبد) انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔ لیکن اس قول میں نر ہے اس لئے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہوگا کہ اگر رحمان کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں۔ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ (ان) شرط کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ نفی کے لئے ہے جیسے کہ ابن عباس سے منقول بھی ہے۔ تو اب مضمون کلام یہ ہوگا کہ چونکہ رحمان کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں حضرت قتادہ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی نہ رحمان کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد۔ ابو صخر فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں مجاہد فرماتے ہیں میں اس کا پہلا عبادت گذار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔ امام بخاری فرماتے ہیں میں پہلا انکاری ہوں یہ دونوں لغت میں (عابد) اور (عبد) اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن۔ سدی فرماتے ہیں اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ (ان) کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں اسی لئے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں ارشاد ہوتا ہے کہ نبی انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کرلیں پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے۔ وہ خبیر وعلیم ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ زمین و آسمان میں اللہ وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو اور تمہارے ہر ہر عمل کو جانتا ہے وہ سب کا خالق ومالک سب کو بسانے اور بنانے والا سب پر حکومت اور سلطنت رکھنے والا بڑی برکتوں والا ہے۔ وہ تمام عیبوں سے کل نقصانات سے پاک ہے وہ سب کا مالک ہے بلندیوں اور عظمتوں والا ہے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے کوئی نہیں جو اس کی مرضی بدل سکے ہر ایک پر قابض وہی ہے ہر ایک کام اس کی قدرت کے ماتحت ہے قیامت آنے کے وقت کو وہی جانتا ہے اس کے سوا کسی کو اس کے آنے کے ٹھیک وقت کا علم نہیں ساری مخلوق اسی کی طرف لوٹائی جائے گی وہ ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ دے گا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کافروں کے معبودان باطل جنہیں یہ اپنا سفارشی خیال کئے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی بھی سفارش کے لئے آگے بڑھ نہیں سکتا کسی کی شفاعت انہیں کام نہ آئے گی اسکے بعد استثناء منقطع ہے یعنی لیکن جو شخص حق کا اقراری اور شاہد ہو اور وہ خود بھی بصیرت و بصارت پر یعنی علم و معرفت والا ہو اسے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کی شفاعت کار آمد ہوگی ان سے اگر تو پوچھے کہ ان کا خالق کون ہے ؟ تو یہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی ہے افسوس کہ خالق اسی ایک کو مان کر پھر عبادت دوسروں کی بھی کرتے ہیں جو محض مجبور اور بالکل بےقدرت ہیں اور کبھی اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے کہ جب پیدا اسی ایک نے کیا تو ہم دوسرے کی عبادت کیوں کریں ؟ جہالت و خباثت کند ذہنی اور بےوقوفی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایسی سیدھی سی بات مرتے دم تک سمجھ نہ آئی۔ بلکہ سمجھانے سے بھی نہ سمجھا اسی لئے تعجب سے ارشاد ہوا کہ اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہوجاتے ہو ؟ پھر ارشاد ہے کہ محمد ﷺ نے اپنا یہ کہنا کہا یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے جیسے اور آیت میں ہے (وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا 30؀) 25۔ الفرقان :30) یعنی رسول ﷺ کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہوگی کہ میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ امام ابن جریر بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں امام بخاری فرماتے ہیں ابن مسعود کی قرأت لام کے زیر کیساتھ بھی نقل کی ہے اس کی ایک توجیہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ آیت (اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ ۭ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ 80؀) 43۔ الزخرف :80) پر معطوف ہے دوسرے یہ کہ یہاں فعل مقدر مانا جائے یعنی (قال) کو مقدر مانا جائے۔ دوسری قرأت یعنی لام کے زیر کیساتھ جب ہو تو یہ عجب ہوگا آیت (وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 85 ؀) 43۔ الزخرف :85) پر تو تقدیر یوں ہوگی۔ کہ قیامت کا علم اور اس قول کا علم اس کے پاس ہے ختم سورة پر ارشاد ہوتا ہے کہ مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بدزبانی کا بد کالمی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے۔ انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہوجائے گی۔ اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا۔ کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حضرت حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند وبالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مومن اور مسلم بندوں کو قوی کردیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کردیا اللہ کے دین میں بیشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا فالحمدللہ۔ واللہ اعلم۔

جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے اے نبی آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے ؟ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر :4) ، یعنی اگر حضرت حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے بعض مفسریں نے (عابدین) کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ (عابدین) سے مراد یہاں (اول الجاحدین) ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ (عبد یعبد) کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وہ (عبد یعبد) سے ہوتا ہے۔ اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا حضرت عثمان نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن حضرت علی نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت (وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا 15؀) 46۔ الأحقاف :15) یعنی حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے۔ اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت (وفصالہ فی عامین) دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے حضرت عثمان ان کا انکار نہ کرسکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو یہاں بھی لفظ (عبد) ہے یعنی انکار نہ کرسکے۔ ابن وہب کہتے ہیں (عبد) کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے۔ شاعر کے شعر میں بھی (عبد) انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔ لیکن اس قول میں نر ہے اس لئے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہوگا کہ اگر رحمان کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں۔ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ (ان) شرط کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ نفی کے لئے ہے جیسے کہ ابن عباس سے منقول بھی ہے۔ تو اب مضمون کلام یہ ہوگا کہ چونکہ رحمان کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں حضرت قتادہ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی نہ رحمان کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد۔ ابو صخر فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں مجاہد فرماتے ہیں میں اس کا پہلا عبادت گذار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔ امام بخاری فرماتے ہیں میں پہلا انکاری ہوں یہ دونوں لغت میں (عابد) اور (عبد) اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن۔ سدی فرماتے ہیں اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ (ان) کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں اسی لئے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں ارشاد ہوتا ہے کہ نبی انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کرلیں پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے۔ وہ خبیر وعلیم ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ زمین و آسمان میں اللہ وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو اور تمہارے ہر ہر عمل کو جانتا ہے وہ سب کا خالق ومالک سب کو بسانے اور بنانے والا سب پر حکومت اور سلطنت رکھنے والا بڑی برکتوں والا ہے۔ وہ تمام عیبوں سے کل نقصانات سے پاک ہے وہ سب کا مالک ہے بلندیوں اور عظمتوں والا ہے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے کوئی نہیں جو اس کی مرضی بدل سکے ہر ایک پر قابض وہی ہے ہر ایک کام اس کی قدرت کے ماتحت ہے قیامت آنے کے وقت کو وہی جانتا ہے اس کے سوا کسی کو اس کے آنے کے ٹھیک وقت کا علم نہیں ساری مخلوق اسی کی طرف لوٹائی جائے گی وہ ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ دے گا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کافروں کے معبودان باطل جنہیں یہ اپنا سفارشی خیال کئے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی بھی سفارش کے لئے آگے بڑھ نہیں سکتا کسی کی شفاعت انہیں کام نہ آئے گی اسکے بعد استثناء منقطع ہے یعنی لیکن جو شخص حق کا اقراری اور شاہد ہو اور وہ خود بھی بصیرت و بصارت پر یعنی علم و معرفت والا ہو اسے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کی شفاعت کار آمد ہوگی ان سے اگر تو پوچھے کہ ان کا خالق کون ہے ؟ تو یہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی ہے افسوس کہ خالق اسی ایک کو مان کر پھر عبادت دوسروں کی بھی کرتے ہیں جو محض مجبور اور بالکل بےقدرت ہیں اور کبھی اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے کہ جب پیدا اسی ایک نے کیا تو ہم دوسرے کی عبادت کیوں کریں ؟ جہالت و خباثت کند ذہنی اور بےوقوفی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایسی سیدھی سی بات مرتے دم تک سمجھ نہ آئی۔ بلکہ سمجھانے سے بھی نہ سمجھا اسی لئے تعجب سے ارشاد ہوا کہ اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہوجاتے ہو ؟ پھر ارشاد ہے کہ محمد ﷺ نے اپنا یہ کہنا کہا یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے جیسے اور آیت میں ہے (وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا 30؀) 25۔ الفرقان :30) یعنی رسول ﷺ کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہوگی کہ میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ امام ابن جریر بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں امام بخاری فرماتے ہیں ابن مسعود کی قرأت لام کے زیر کیساتھ بھی نقل کی ہے اس کی ایک توجیہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ آیت (اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ ۭ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ 80؀) 43۔ الزخرف :80) پر معطوف ہے دوسرے یہ کہ یہاں فعل مقدر مانا جائے یعنی (قال) کو مقدر مانا جائے۔ دوسری قرأت یعنی لام کے زیر کیساتھ جب ہو تو یہ عجب ہوگا آیت (وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 85 ؀) 43۔ الزخرف :85) پر تو تقدیر یوں ہوگی۔ کہ قیامت کا علم اور اس قول کا علم اس کے پاس ہے ختم سورة پر ارشاد ہوتا ہے کہ مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بدزبانی کا بد کالمی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے۔ انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہوجائے گی۔ اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا۔ کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حضرت حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند وبالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مومن اور مسلم بندوں کو قوی کردیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کردیا اللہ کے دین میں بیشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا فالحمدللہ۔ واللہ اعلم۔

جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے اے نبی آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے ؟ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر :4) ، یعنی اگر حضرت حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے بعض مفسریں نے (عابدین) کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ (عابدین) سے مراد یہاں (اول الجاحدین) ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ (عبد یعبد) کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وہ (عبد یعبد) سے ہوتا ہے۔ اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا حضرت عثمان نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن حضرت علی نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت (وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا 15؀) 46۔ الأحقاف :15) یعنی حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے۔ اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت (وفصالہ فی عامین) دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے حضرت عثمان ان کا انکار نہ کرسکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو یہاں بھی لفظ (عبد) ہے یعنی انکار نہ کرسکے۔ ابن وہب کہتے ہیں (عبد) کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے۔ شاعر کے شعر میں بھی (عبد) انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔ لیکن اس قول میں نر ہے اس لئے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہوگا کہ اگر رحمان کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں۔ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ (ان) شرط کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ نفی کے لئے ہے جیسے کہ ابن عباس سے منقول بھی ہے۔ تو اب مضمون کلام یہ ہوگا کہ چونکہ رحمان کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں حضرت قتادہ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی نہ رحمان کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد۔ ابو صخر فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں مجاہد فرماتے ہیں میں اس کا پہلا عبادت گذار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔ امام بخاری فرماتے ہیں میں پہلا انکاری ہوں یہ دونوں لغت میں (عابد) اور (عبد) اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن۔ سدی فرماتے ہیں اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ (ان) کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں اسی لئے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں ارشاد ہوتا ہے کہ نبی انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کرلیں پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے۔ وہ خبیر وعلیم ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ زمین و آسمان میں اللہ وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو اور تمہارے ہر ہر عمل کو جانتا ہے وہ سب کا خالق ومالک سب کو بسانے اور بنانے والا سب پر حکومت اور سلطنت رکھنے والا بڑی برکتوں والا ہے۔ وہ تمام عیبوں سے کل نقصانات سے پاک ہے وہ سب کا مالک ہے بلندیوں اور عظمتوں والا ہے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے کوئی نہیں جو اس کی مرضی بدل سکے ہر ایک پر قابض وہی ہے ہر ایک کام اس کی قدرت کے ماتحت ہے قیامت آنے کے وقت کو وہی جانتا ہے اس کے سوا کسی کو اس کے آنے کے ٹھیک وقت کا علم نہیں ساری مخلوق اسی کی طرف لوٹائی جائے گی وہ ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ دے گا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کافروں کے معبودان باطل جنہیں یہ اپنا سفارشی خیال کئے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی بھی سفارش کے لئے آگے بڑھ نہیں سکتا کسی کی شفاعت انہیں کام نہ آئے گی اسکے بعد استثناء منقطع ہے یعنی لیکن جو شخص حق کا اقراری اور شاہد ہو اور وہ خود بھی بصیرت و بصارت پر یعنی علم و معرفت والا ہو اسے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کی شفاعت کار آمد ہوگی ان سے اگر تو پوچھے کہ ان کا خالق کون ہے ؟ تو یہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی ہے افسوس کہ خالق اسی ایک کو مان کر پھر عبادت دوسروں کی بھی کرتے ہیں جو محض مجبور اور بالکل بےقدرت ہیں اور کبھی اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے کہ جب پیدا اسی ایک نے کیا تو ہم دوسرے کی عبادت کیوں کریں ؟ جہالت و خباثت کند ذہنی اور بےوقوفی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایسی سیدھی سی بات مرتے دم تک سمجھ نہ آئی۔ بلکہ سمجھانے سے بھی نہ سمجھا اسی لئے تعجب سے ارشاد ہوا کہ اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہوجاتے ہو ؟ پھر ارشاد ہے کہ محمد ﷺ نے اپنا یہ کہنا کہا یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے جیسے اور آیت میں ہے (وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا 30؀) 25۔ الفرقان :30) یعنی رسول ﷺ کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہوگی کہ میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ امام ابن جریر بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں امام بخاری فرماتے ہیں ابن مسعود کی قرأت لام کے زیر کیساتھ بھی نقل کی ہے اس کی ایک توجیہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ آیت (اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ ۭ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ 80؀) 43۔ الزخرف :80) پر معطوف ہے دوسرے یہ کہ یہاں فعل مقدر مانا جائے یعنی (قال) کو مقدر مانا جائے۔ دوسری قرأت یعنی لام کے زیر کیساتھ جب ہو تو یہ عجب ہوگا آیت (وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 85 ؀) 43۔ الزخرف :85) پر تو تقدیر یوں ہوگی۔ کہ قیامت کا علم اور اس قول کا علم اس کے پاس ہے ختم سورة پر ارشاد ہوتا ہے کہ مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بدزبانی کا بد کالمی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے۔ انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہوجائے گی۔ اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا۔ کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حضرت حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند وبالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مومن اور مسلم بندوں کو قوی کردیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کردیا اللہ کے دین میں بیشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا فالحمدللہ۔ واللہ اعلم۔

جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے اے نبی آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے ؟ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر :4) ، یعنی اگر حضرت حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے بعض مفسریں نے (عابدین) کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ (عابدین) سے مراد یہاں (اول الجاحدین) ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ (عبد یعبد) کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وہ (عبد یعبد) سے ہوتا ہے۔ اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا حضرت عثمان نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن حضرت علی نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت (وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا 15؀) 46۔ الأحقاف :15) یعنی حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے۔ اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت (وفصالہ فی عامین) دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے حضرت عثمان ان کا انکار نہ کرسکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو یہاں بھی لفظ (عبد) ہے یعنی انکار نہ کرسکے۔ ابن وہب کہتے ہیں (عبد) کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے۔ شاعر کے شعر میں بھی (عبد) انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔ لیکن اس قول میں نر ہے اس لئے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہوگا کہ اگر رحمان کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں۔ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ (ان) شرط کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ نفی کے لئے ہے جیسے کہ ابن عباس سے منقول بھی ہے۔ تو اب مضمون کلام یہ ہوگا کہ چونکہ رحمان کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں حضرت قتادہ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی نہ رحمان کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد۔ ابو صخر فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں مجاہد فرماتے ہیں میں اس کا پہلا عبادت گذار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔ امام بخاری فرماتے ہیں میں پہلا انکاری ہوں یہ دونوں لغت میں (عابد) اور (عبد) اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن۔ سدی فرماتے ہیں اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ (ان) کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں اسی لئے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں ارشاد ہوتا ہے کہ نبی انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کرلیں پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے۔ وہ خبیر وعلیم ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ زمین و آسمان میں اللہ وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو اور تمہارے ہر ہر عمل کو جانتا ہے وہ سب کا خالق ومالک سب کو بسانے اور بنانے والا سب پر حکومت اور سلطنت رکھنے والا بڑی برکتوں والا ہے۔ وہ تمام عیبوں سے کل نقصانات سے پاک ہے وہ سب کا مالک ہے بلندیوں اور عظمتوں والا ہے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے کوئی نہیں جو اس کی مرضی بدل سکے ہر ایک پر قابض وہی ہے ہر ایک کام اس کی قدرت کے ماتحت ہے قیامت آنے کے وقت کو وہی جانتا ہے اس کے سوا کسی کو اس کے آنے کے ٹھیک وقت کا علم نہیں ساری مخلوق اسی کی طرف لوٹائی جائے گی وہ ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ دے گا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کافروں کے معبودان باطل جنہیں یہ اپنا سفارشی خیال کئے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی بھی سفارش کے لئے آگے بڑھ نہیں سکتا کسی کی شفاعت انہیں کام نہ آئے گی اسکے بعد استثناء منقطع ہے یعنی لیکن جو شخص حق کا اقراری اور شاہد ہو اور وہ خود بھی بصیرت و بصارت پر یعنی علم و معرفت والا ہو اسے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کی شفاعت کار آمد ہوگی ان سے اگر تو پوچھے کہ ان کا خالق کون ہے ؟ تو یہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی ہے افسوس کہ خالق اسی ایک کو مان کر پھر عبادت دوسروں کی بھی کرتے ہیں جو محض مجبور اور بالکل بےقدرت ہیں اور کبھی اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے کہ جب پیدا اسی ایک نے کیا تو ہم دوسرے کی عبادت کیوں کریں ؟ جہالت و خباثت کند ذہنی اور بےوقوفی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایسی سیدھی سی بات مرتے دم تک سمجھ نہ آئی۔ بلکہ سمجھانے سے بھی نہ سمجھا اسی لئے تعجب سے ارشاد ہوا کہ اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہوجاتے ہو ؟ پھر ارشاد ہے کہ محمد ﷺ نے اپنا یہ کہنا کہا یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے جیسے اور آیت میں ہے (وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا 30؀) 25۔ الفرقان :30) یعنی رسول ﷺ کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہوگی کہ میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ امام ابن جریر بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں امام بخاری فرماتے ہیں ابن مسعود کی قرأت لام کے زیر کیساتھ بھی نقل کی ہے اس کی ایک توجیہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ آیت (اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ ۭ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ 80؀) 43۔ الزخرف :80) پر معطوف ہے دوسرے یہ کہ یہاں فعل مقدر مانا جائے یعنی (قال) کو مقدر مانا جائے۔ دوسری قرأت یعنی لام کے زیر کیساتھ جب ہو تو یہ عجب ہوگا آیت (وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 85 ؀) 43۔ الزخرف :85) پر تو تقدیر یوں ہوگی۔ کہ قیامت کا علم اور اس قول کا علم اس کے پاس ہے ختم سورة پر ارشاد ہوتا ہے کہ مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بدزبانی کا بد کالمی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے۔ انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہوجائے گی۔ اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا۔ کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حضرت حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند وبالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مومن اور مسلم بندوں کو قوی کردیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کردیا اللہ کے دین میں بیشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا فالحمدللہ۔ واللہ اعلم۔

جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے اے نبی آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے ؟ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر :4) ، یعنی اگر حضرت حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے بعض مفسریں نے (عابدین) کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ (عابدین) سے مراد یہاں (اول الجاحدین) ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ (عبد یعبد) کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وہ (عبد یعبد) سے ہوتا ہے۔ اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا حضرت عثمان نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن حضرت علی نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت (وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا 15؀) 46۔ الأحقاف :15) یعنی حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے۔ اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت (وفصالہ فی عامین) دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے حضرت عثمان ان کا انکار نہ کرسکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو یہاں بھی لفظ (عبد) ہے یعنی انکار نہ کرسکے۔ ابن وہب کہتے ہیں (عبد) کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے۔ شاعر کے شعر میں بھی (عبد) انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔ لیکن اس قول میں نر ہے اس لئے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہوگا کہ اگر رحمان کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں۔ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ (ان) شرط کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ نفی کے لئے ہے جیسے کہ ابن عباس سے منقول بھی ہے۔ تو اب مضمون کلام یہ ہوگا کہ چونکہ رحمان کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں حضرت قتادہ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی نہ رحمان کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد۔ ابو صخر فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں مجاہد فرماتے ہیں میں اس کا پہلا عبادت گذار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔ امام بخاری فرماتے ہیں میں پہلا انکاری ہوں یہ دونوں لغت میں (عابد) اور (عبد) اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن۔ سدی فرماتے ہیں اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ (ان) کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں اسی لئے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں ارشاد ہوتا ہے کہ نبی انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کرلیں پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے۔ وہ خبیر وعلیم ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ زمین و آسمان میں اللہ وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو اور تمہارے ہر ہر عمل کو جانتا ہے وہ سب کا خالق ومالک سب کو بسانے اور بنانے والا سب پر حکومت اور سلطنت رکھنے والا بڑی برکتوں والا ہے۔ وہ تمام عیبوں سے کل نقصانات سے پاک ہے وہ سب کا مالک ہے بلندیوں اور عظمتوں والا ہے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے کوئی نہیں جو اس کی مرضی بدل سکے ہر ایک پر قابض وہی ہے ہر ایک کام اس کی قدرت کے ماتحت ہے قیامت آنے کے وقت کو وہی جانتا ہے اس کے سوا کسی کو اس کے آنے کے ٹھیک وقت کا علم نہیں ساری مخلوق اسی کی طرف لوٹائی جائے گی وہ ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ دے گا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کافروں کے معبودان باطل جنہیں یہ اپنا سفارشی خیال کئے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی بھی سفارش کے لئے آگے بڑھ نہیں سکتا کسی کی شفاعت انہیں کام نہ آئے گی اسکے بعد استثناء منقطع ہے یعنی لیکن جو شخص حق کا اقراری اور شاہد ہو اور وہ خود بھی بصیرت و بصارت پر یعنی علم و معرفت والا ہو اسے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کی شفاعت کار آمد ہوگی ان سے اگر تو پوچھے کہ ان کا خالق کون ہے ؟ تو یہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی ہے افسوس کہ خالق اسی ایک کو مان کر پھر عبادت دوسروں کی بھی کرتے ہیں جو محض مجبور اور بالکل بےقدرت ہیں اور کبھی اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے کہ جب پیدا اسی ایک نے کیا تو ہم دوسرے کی عبادت کیوں کریں ؟ جہالت و خباثت کند ذہنی اور بےوقوفی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایسی سیدھی سی بات مرتے دم تک سمجھ نہ آئی۔ بلکہ سمجھانے سے بھی نہ سمجھا اسی لئے تعجب سے ارشاد ہوا کہ اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہوجاتے ہو ؟ پھر ارشاد ہے کہ محمد ﷺ نے اپنا یہ کہنا کہا یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے جیسے اور آیت میں ہے (وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا 30؀) 25۔ الفرقان :30) یعنی رسول ﷺ کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہوگی کہ میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ امام ابن جریر بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں امام بخاری فرماتے ہیں ابن مسعود کی قرأت لام کے زیر کیساتھ بھی نقل کی ہے اس کی ایک توجیہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ آیت (اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ ۭ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ 80؀) 43۔ الزخرف :80) پر معطوف ہے دوسرے یہ کہ یہاں فعل مقدر مانا جائے یعنی (قال) کو مقدر مانا جائے۔ دوسری قرأت یعنی لام کے زیر کیساتھ جب ہو تو یہ عجب ہوگا آیت (وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 85 ؀) 43۔ الزخرف :85) پر تو تقدیر یوں ہوگی۔ کہ قیامت کا علم اور اس قول کا علم اس کے پاس ہے ختم سورة پر ارشاد ہوتا ہے کہ مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بدزبانی کا بد کالمی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے۔ انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہوجائے گی۔ اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا۔ کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حضرت حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند وبالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مومن اور مسلم بندوں کو قوی کردیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کردیا اللہ کے دین میں بیشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا فالحمدللہ۔ واللہ اعلم۔

جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے اے نبی آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے ؟ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر :4) ، یعنی اگر حضرت حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے بعض مفسریں نے (عابدین) کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ (عابدین) سے مراد یہاں (اول الجاحدین) ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ (عبد یعبد) کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وہ (عبد یعبد) سے ہوتا ہے۔ اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا حضرت عثمان نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن حضرت علی نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت (وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا 15؀) 46۔ الأحقاف :15) یعنی حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے۔ اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت (وفصالہ فی عامین) دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے حضرت عثمان ان کا انکار نہ کرسکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو یہاں بھی لفظ (عبد) ہے یعنی انکار نہ کرسکے۔ ابن وہب کہتے ہیں (عبد) کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے۔ شاعر کے شعر میں بھی (عبد) انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔ لیکن اس قول میں نر ہے اس لئے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہوگا کہ اگر رحمان کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں۔ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ (ان) شرط کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ نفی کے لئے ہے جیسے کہ ابن عباس سے منقول بھی ہے۔ تو اب مضمون کلام یہ ہوگا کہ چونکہ رحمان کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں حضرت قتادہ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی نہ رحمان کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد۔ ابو صخر فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں مجاہد فرماتے ہیں میں اس کا پہلا عبادت گذار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔ امام بخاری فرماتے ہیں میں پہلا انکاری ہوں یہ دونوں لغت میں (عابد) اور (عبد) اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن۔ سدی فرماتے ہیں اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ (ان) کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں اسی لئے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں ارشاد ہوتا ہے کہ نبی انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کرلیں پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے۔ وہ خبیر وعلیم ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ زمین و آسمان میں اللہ وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو اور تمہارے ہر ہر عمل کو جانتا ہے وہ سب کا خالق ومالک سب کو بسانے اور بنانے والا سب پر حکومت اور سلطنت رکھنے والا بڑی برکتوں والا ہے۔ وہ تمام عیبوں سے کل نقصانات سے پاک ہے وہ سب کا مالک ہے بلندیوں اور عظمتوں والا ہے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے کوئی نہیں جو اس کی مرضی بدل سکے ہر ایک پر قابض وہی ہے ہر ایک کام اس کی قدرت کے ماتحت ہے قیامت آنے کے وقت کو وہی جانتا ہے اس کے سوا کسی کو اس کے آنے کے ٹھیک وقت کا علم نہیں ساری مخلوق اسی کی طرف لوٹائی جائے گی وہ ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ دے گا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کافروں کے معبودان باطل جنہیں یہ اپنا سفارشی خیال کئے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی بھی سفارش کے لئے آگے بڑھ نہیں سکتا کسی کی شفاعت انہیں کام نہ آئے گی اسکے بعد استثناء منقطع ہے یعنی لیکن جو شخص حق کا اقراری اور شاہد ہو اور وہ خود بھی بصیرت و بصارت پر یعنی علم و معرفت والا ہو اسے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کی شفاعت کار آمد ہوگی ان سے اگر تو پوچھے کہ ان کا خالق کون ہے ؟ تو یہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی ہے افسوس کہ خالق اسی ایک کو مان کر پھر عبادت دوسروں کی بھی کرتے ہیں جو محض مجبور اور بالکل بےقدرت ہیں اور کبھی اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے کہ جب پیدا اسی ایک نے کیا تو ہم دوسرے کی عبادت کیوں کریں ؟ جہالت و خباثت کند ذہنی اور بےوقوفی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایسی سیدھی سی بات مرتے دم تک سمجھ نہ آئی۔ بلکہ سمجھانے سے بھی نہ سمجھا اسی لئے تعجب سے ارشاد ہوا کہ اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہوجاتے ہو ؟ پھر ارشاد ہے کہ محمد ﷺ نے اپنا یہ کہنا کہا یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے جیسے اور آیت میں ہے (وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا 30؀) 25۔ الفرقان :30) یعنی رسول ﷺ کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہوگی کہ میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ امام ابن جریر بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں امام بخاری فرماتے ہیں ابن مسعود کی قرأت لام کے زیر کیساتھ بھی نقل کی ہے اس کی ایک توجیہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ آیت (اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ ۭ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ 80؀) 43۔ الزخرف :80) پر معطوف ہے دوسرے یہ کہ یہاں فعل مقدر مانا جائے یعنی (قال) کو مقدر مانا جائے۔ دوسری قرأت یعنی لام کے زیر کیساتھ جب ہو تو یہ عجب ہوگا آیت (وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 85 ؀) 43۔ الزخرف :85) پر تو تقدیر یوں ہوگی۔ کہ قیامت کا علم اور اس قول کا علم اس کے پاس ہے ختم سورة پر ارشاد ہوتا ہے کہ مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بدزبانی کا بد کالمی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے۔ انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہوجائے گی۔ اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا۔ کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حضرت حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند وبالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مومن اور مسلم بندوں کو قوی کردیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کردیا اللہ کے دین میں بیشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا فالحمدللہ۔ واللہ اعلم۔

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com