John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Qaaf

Tafsir Ibn Kathir · The letter Qaaf · 45 ayat · ayat 31–45 · Quran text →

متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لئے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہوگئی ؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس۔ مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا، صحیح بخاری میں ہے جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لئے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لئے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ مجھ میں جبر کرنے والے تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے مسند ابو یعلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا۔ میں سجدے میں گر پڑوں گا اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوگا پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہوجائے گا پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گذرنے لگے گی بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہوجائیں گے بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہوجائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گذر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہوگا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہوگی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔ لوگوں نے کہا حوض کیا ہے ؟ فرمایا اللہ کی قسم اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کرسکے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے ؟ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے ؟ میں بھر گئی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے ؟ امام ابن جریر پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آسکے ؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہوگئی۔ حضرت عوفی حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہوگا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لئے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔ (اواب) کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔ (حفیظ) کے معنی وعدوں کا پابند۔ حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں (اواب حفیظ) وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کرلے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔ حدیث میں ہے وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہ نکلیں اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ خلود کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لئے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔ پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گذرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی حضرت کثیر فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہوجائے گا مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہوجائے گی، امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہوجائے گا اور آیت میں ہے آیت (للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ) صہیب بن سنان رومی فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہوگا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے حضرت جبرائیل ؑ ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا حضور ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں تمہارے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی تمہارے لئے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام یوم المزید ہے، حضور ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ فرمایا تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء ؑ رونق افروز ہوتے ہیں یہ منبر سونے کے ہیں جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضامندی مطلوب ہے اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہوگیا اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہش مند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن حضرت آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی اسی طرح اسے حضرت امام شافعی نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہوگی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہوگی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہوگا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہوجائے وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو ؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں " مزید " کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے لیکن تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہوگا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کردینے کے لئے کافی ہے۔

متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لئے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہوگئی ؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس۔ مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا، صحیح بخاری میں ہے جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لئے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لئے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ مجھ میں جبر کرنے والے تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے مسند ابو یعلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا۔ میں سجدے میں گر پڑوں گا اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوگا پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہوجائے گا پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گذرنے لگے گی بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہوجائیں گے بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہوجائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گذر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہوگا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہوگی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔ لوگوں نے کہا حوض کیا ہے ؟ فرمایا اللہ کی قسم اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کرسکے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے ؟ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے ؟ میں بھر گئی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے ؟ امام ابن جریر پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آسکے ؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہوگئی۔ حضرت عوفی حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہوگا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لئے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔ (اواب) کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔ (حفیظ) کے معنی وعدوں کا پابند۔ حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں (اواب حفیظ) وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کرلے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔ حدیث میں ہے وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہ نکلیں اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ خلود کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لئے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔ پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گذرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی حضرت کثیر فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہوجائے گا مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہوجائے گی، امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہوجائے گا اور آیت میں ہے آیت (للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ) صہیب بن سنان رومی فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہوگا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے حضرت جبرائیل ؑ ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا حضور ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں تمہارے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی تمہارے لئے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام یوم المزید ہے، حضور ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ فرمایا تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء ؑ رونق افروز ہوتے ہیں یہ منبر سونے کے ہیں جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضامندی مطلوب ہے اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہوگیا اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہش مند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن حضرت آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی اسی طرح اسے حضرت امام شافعی نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہوگی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہوگی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہوگا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہوجائے وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو ؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں " مزید " کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے لیکن تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہوگا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کردینے کے لئے کافی ہے۔

متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لئے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہوگئی ؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس۔ مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا، صحیح بخاری میں ہے جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لئے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لئے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ مجھ میں جبر کرنے والے تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے مسند ابو یعلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا۔ میں سجدے میں گر پڑوں گا اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوگا پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہوجائے گا پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گذرنے لگے گی بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہوجائیں گے بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہوجائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گذر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہوگا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہوگی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔ لوگوں نے کہا حوض کیا ہے ؟ فرمایا اللہ کی قسم اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کرسکے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے ؟ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے ؟ میں بھر گئی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے ؟ امام ابن جریر پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آسکے ؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہوگئی۔ حضرت عوفی حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہوگا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لئے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔ (اواب) کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔ (حفیظ) کے معنی وعدوں کا پابند۔ حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں (اواب حفیظ) وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کرلے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔ حدیث میں ہے وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہ نکلیں اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ خلود کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لئے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔ پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گذرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی حضرت کثیر فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہوجائے گا مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہوجائے گی، امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہوجائے گا اور آیت میں ہے آیت (للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ) صہیب بن سنان رومی فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہوگا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے حضرت جبرائیل ؑ ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا حضور ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں تمہارے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی تمہارے لئے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام یوم المزید ہے، حضور ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ فرمایا تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء ؑ رونق افروز ہوتے ہیں یہ منبر سونے کے ہیں جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضامندی مطلوب ہے اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہوگیا اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہش مند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن حضرت آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی اسی طرح اسے حضرت امام شافعی نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہوگی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہوگی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہوگا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہوجائے وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو ؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں " مزید " کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے لیکن تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہوگا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کردینے کے لئے کافی ہے۔

متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لئے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہوگئی ؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس۔ مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا، صحیح بخاری میں ہے جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لئے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لئے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ مجھ میں جبر کرنے والے تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے مسند ابو یعلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا۔ میں سجدے میں گر پڑوں گا اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوگا پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہوجائے گا پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گذرنے لگے گی بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہوجائیں گے بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہوجائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گذر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہوگا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہوگی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔ لوگوں نے کہا حوض کیا ہے ؟ فرمایا اللہ کی قسم اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کرسکے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے ؟ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے ؟ میں بھر گئی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے ؟ امام ابن جریر پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آسکے ؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہوگئی۔ حضرت عوفی حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہوگا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لئے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔ (اواب) کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔ (حفیظ) کے معنی وعدوں کا پابند۔ حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں (اواب حفیظ) وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کرلے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔ حدیث میں ہے وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہ نکلیں اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ خلود کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لئے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔ پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گذرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی حضرت کثیر فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہوجائے گا مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہوجائے گی، امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہوجائے گا اور آیت میں ہے آیت (للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ) صہیب بن سنان رومی فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہوگا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے حضرت جبرائیل ؑ ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا حضور ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں تمہارے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی تمہارے لئے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام یوم المزید ہے، حضور ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ فرمایا تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء ؑ رونق افروز ہوتے ہیں یہ منبر سونے کے ہیں جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضامندی مطلوب ہے اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہوگیا اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہش مند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن حضرت آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی اسی طرح اسے حضرت امام شافعی نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہوگی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہوگی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہوگا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہوجائے وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو ؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں " مزید " کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے لیکن تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہوگا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کردینے کے لئے کافی ہے۔

متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لئے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہوگئی ؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس۔ مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا، صحیح بخاری میں ہے جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لئے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لئے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ مجھ میں جبر کرنے والے تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے مسند ابو یعلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا۔ میں سجدے میں گر پڑوں گا اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوگا پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہوجائے گا پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گذرنے لگے گی بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہوجائیں گے بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہوجائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گذر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہوگا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہوگی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔ لوگوں نے کہا حوض کیا ہے ؟ فرمایا اللہ کی قسم اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کرسکے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے ؟ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے ؟ میں بھر گئی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے ؟ امام ابن جریر پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آسکے ؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہوگئی۔ حضرت عوفی حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہوگا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لئے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔ (اواب) کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔ (حفیظ) کے معنی وعدوں کا پابند۔ حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں (اواب حفیظ) وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کرلے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔ حدیث میں ہے وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہ نکلیں اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ خلود کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لئے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔ پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گذرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی حضرت کثیر فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہوجائے گا مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہوجائے گی، امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہوجائے گا اور آیت میں ہے آیت (للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ) صہیب بن سنان رومی فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہوگا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے حضرت جبرائیل ؑ ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا حضور ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں تمہارے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی تمہارے لئے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام یوم المزید ہے، حضور ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ فرمایا تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء ؑ رونق افروز ہوتے ہیں یہ منبر سونے کے ہیں جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضامندی مطلوب ہے اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہوگیا اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہش مند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن حضرت آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی اسی طرح اسے حضرت امام شافعی نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہوگی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہوگی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہوگا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہوجائے وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو ؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں " مزید " کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے لیکن تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہوگا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کردینے کے لئے کافی ہے۔

بےسود کوشش ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں ؟ ان سے بہت زیادہ قوت وطاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ وبالا کرچکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں زمین میں خوب فساد کیا۔ لمبے لمبے سفر کرتے تھے ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی اللہ کی قضا و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا ؟ پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آگیا بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لئے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ دھیان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پاسکتا ہے یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے۔ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو زمین کو اور اسکے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کردیا اور وہ تھکا نہیں اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کرچکا ہے اس پر مردوں کا جلانا کیا بھاری ہے ؟ حضرت قتادہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتویں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے یوم الراحت رکھ چھوڑا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا ؟ جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 33؀) 46۔ الأحقاف :33) ، یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا ؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں ؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے اور آیت میں ہے آیت (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57؀) 40۔ غافر :57) البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے اور آیت میں ہے آیت (ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاۗءُ ۭ بَنٰىهَا 27؀۪) 79۔ النازعات :27) کیا تمہاری پیدائش سے زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی اسے اللہ نے بنایا ہے۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور رات کی تہجد آپ پر اور آپ کی امت پر ایک سال تک واجب رہی اس کے بعد رہی اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہوگیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے مسند احمد میں ہے ہم حضور ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہوجایا کرو، پھر آپ نے آیت (وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا ۚ وَمِنْ اٰنَاۗئِ الَّيْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَاف النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى01300) 20۔ طه :130) پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا آیت (وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا 79؀) 17۔ الإسراء :79) ، یعنی رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لئے ہی ہے تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے سندوں کے پیچھے سے مراد بقول حضرت ابن عباس نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔ بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یارسول اللہ ﷺ مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کرچکے آپ نے فرمایا یہ کیسے ؟ جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کرسکتے آپ نے فرمایا آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، الحمد اللہ، اللہ اکبر پڑھ لیا کرو پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ ہمارے مال دار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں۔ حضرت عمر حضرت علی حضرت حسن بن علی حضرت ابن عباس حضرت ابوہریرہ حضرت ابو امامہ ؓ کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے حضرت مجاہد حضرت عکرمہ حضرت شعبی حضرت نخعی حضرت قتادہ رحھم اللہ وغیرہ کا۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے عبدالرحمن فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ہاں گذاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا اے ابن عباس فجر کے پہلے کی دو رکعت (وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ 49؀) 52۔ الطور :49) ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت (وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ 40؀) 50۔ ق :40) ہیں۔ یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات حضرت عبداللہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ حضرت میمونہ کی باری تھی۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے۔ ممکن ہے کہ پچھلا کلام حضرت ابن عباس کا اپنا ہو۔ واللہ اعلم۔

بےسود کوشش ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں ؟ ان سے بہت زیادہ قوت وطاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ وبالا کرچکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں زمین میں خوب فساد کیا۔ لمبے لمبے سفر کرتے تھے ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی اللہ کی قضا و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا ؟ پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آگیا بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لئے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ دھیان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پاسکتا ہے یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے۔ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو زمین کو اور اسکے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کردیا اور وہ تھکا نہیں اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کرچکا ہے اس پر مردوں کا جلانا کیا بھاری ہے ؟ حضرت قتادہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتویں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے یوم الراحت رکھ چھوڑا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا ؟ جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 33؀) 46۔ الأحقاف :33) ، یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا ؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں ؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے اور آیت میں ہے آیت (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57؀) 40۔ غافر :57) البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے اور آیت میں ہے آیت (ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاۗءُ ۭ بَنٰىهَا 27؀۪) 79۔ النازعات :27) کیا تمہاری پیدائش سے زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی اسے اللہ نے بنایا ہے۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور رات کی تہجد آپ پر اور آپ کی امت پر ایک سال تک واجب رہی اس کے بعد رہی اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہوگیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے مسند احمد میں ہے ہم حضور ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہوجایا کرو، پھر آپ نے آیت (وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا ۚ وَمِنْ اٰنَاۗئِ الَّيْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَاف النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى01300) 20۔ طه :130) پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا آیت (وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا 79؀) 17۔ الإسراء :79) ، یعنی رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لئے ہی ہے تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے سندوں کے پیچھے سے مراد بقول حضرت ابن عباس نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔ بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یارسول اللہ ﷺ مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کرچکے آپ نے فرمایا یہ کیسے ؟ جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کرسکتے آپ نے فرمایا آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، الحمد اللہ، اللہ اکبر پڑھ لیا کرو پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ ہمارے مال دار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں۔ حضرت عمر حضرت علی حضرت حسن بن علی حضرت ابن عباس حضرت ابوہریرہ حضرت ابو امامہ ؓ کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے حضرت مجاہد حضرت عکرمہ حضرت شعبی حضرت نخعی حضرت قتادہ رحھم اللہ وغیرہ کا۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے عبدالرحمن فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ہاں گذاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا اے ابن عباس فجر کے پہلے کی دو رکعت (وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ 49؀) 52۔ الطور :49) ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت (وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ 40؀) 50۔ ق :40) ہیں۔ یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات حضرت عبداللہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ حضرت میمونہ کی باری تھی۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے۔ ممکن ہے کہ پچھلا کلام حضرت ابن عباس کا اپنا ہو۔ واللہ اعلم۔

بےسود کوشش ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں ؟ ان سے بہت زیادہ قوت وطاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ وبالا کرچکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں زمین میں خوب فساد کیا۔ لمبے لمبے سفر کرتے تھے ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی اللہ کی قضا و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا ؟ پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آگیا بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لئے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ دھیان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پاسکتا ہے یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے۔ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو زمین کو اور اسکے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کردیا اور وہ تھکا نہیں اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کرچکا ہے اس پر مردوں کا جلانا کیا بھاری ہے ؟ حضرت قتادہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتویں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے یوم الراحت رکھ چھوڑا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا ؟ جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 33؀) 46۔ الأحقاف :33) ، یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا ؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں ؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے اور آیت میں ہے آیت (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57؀) 40۔ غافر :57) البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے اور آیت میں ہے آیت (ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاۗءُ ۭ بَنٰىهَا 27؀۪) 79۔ النازعات :27) کیا تمہاری پیدائش سے زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی اسے اللہ نے بنایا ہے۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور رات کی تہجد آپ پر اور آپ کی امت پر ایک سال تک واجب رہی اس کے بعد رہی اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہوگیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے مسند احمد میں ہے ہم حضور ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہوجایا کرو، پھر آپ نے آیت (وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا ۚ وَمِنْ اٰنَاۗئِ الَّيْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَاف النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى01300) 20۔ طه :130) پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا آیت (وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا 79؀) 17۔ الإسراء :79) ، یعنی رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لئے ہی ہے تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے سندوں کے پیچھے سے مراد بقول حضرت ابن عباس نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔ بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یارسول اللہ ﷺ مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کرچکے آپ نے فرمایا یہ کیسے ؟ جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کرسکتے آپ نے فرمایا آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، الحمد اللہ، اللہ اکبر پڑھ لیا کرو پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ ہمارے مال دار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں۔ حضرت عمر حضرت علی حضرت حسن بن علی حضرت ابن عباس حضرت ابوہریرہ حضرت ابو امامہ ؓ کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے حضرت مجاہد حضرت عکرمہ حضرت شعبی حضرت نخعی حضرت قتادہ رحھم اللہ وغیرہ کا۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے عبدالرحمن فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ہاں گذاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا اے ابن عباس فجر کے پہلے کی دو رکعت (وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ 49؀) 52۔ الطور :49) ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت (وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ 40؀) 50۔ ق :40) ہیں۔ یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات حضرت عبداللہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ حضرت میمونہ کی باری تھی۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے۔ ممکن ہے کہ پچھلا کلام حضرت ابن عباس کا اپنا ہو۔ واللہ اعلم۔

بےسود کوشش ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں ؟ ان سے بہت زیادہ قوت وطاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ وبالا کرچکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں زمین میں خوب فساد کیا۔ لمبے لمبے سفر کرتے تھے ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی اللہ کی قضا و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا ؟ پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آگیا بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لئے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ دھیان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پاسکتا ہے یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے۔ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو زمین کو اور اسکے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کردیا اور وہ تھکا نہیں اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کرچکا ہے اس پر مردوں کا جلانا کیا بھاری ہے ؟ حضرت قتادہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتویں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے یوم الراحت رکھ چھوڑا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا ؟ جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 33؀) 46۔ الأحقاف :33) ، یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا ؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں ؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے اور آیت میں ہے آیت (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57؀) 40۔ غافر :57) البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے اور آیت میں ہے آیت (ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاۗءُ ۭ بَنٰىهَا 27؀۪) 79۔ النازعات :27) کیا تمہاری پیدائش سے زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی اسے اللہ نے بنایا ہے۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور رات کی تہجد آپ پر اور آپ کی امت پر ایک سال تک واجب رہی اس کے بعد رہی اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہوگیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے مسند احمد میں ہے ہم حضور ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہوجایا کرو، پھر آپ نے آیت (وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا ۚ وَمِنْ اٰنَاۗئِ الَّيْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَاف النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى01300) 20۔ طه :130) پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا آیت (وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا 79؀) 17۔ الإسراء :79) ، یعنی رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لئے ہی ہے تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے سندوں کے پیچھے سے مراد بقول حضرت ابن عباس نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔ بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یارسول اللہ ﷺ مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کرچکے آپ نے فرمایا یہ کیسے ؟ جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کرسکتے آپ نے فرمایا آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، الحمد اللہ، اللہ اکبر پڑھ لیا کرو پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ ہمارے مال دار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں۔ حضرت عمر حضرت علی حضرت حسن بن علی حضرت ابن عباس حضرت ابوہریرہ حضرت ابو امامہ ؓ کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے حضرت مجاہد حضرت عکرمہ حضرت شعبی حضرت نخعی حضرت قتادہ رحھم اللہ وغیرہ کا۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے عبدالرحمن فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ہاں گذاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا اے ابن عباس فجر کے پہلے کی دو رکعت (وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ 49؀) 52۔ الطور :49) ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت (وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ 40؀) 50۔ ق :40) ہیں۔ یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات حضرت عبداللہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ حضرت میمونہ کی باری تھی۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے۔ ممکن ہے کہ پچھلا کلام حضرت ابن عباس کا اپنا ہو۔ واللہ اعلم۔

بےسود کوشش ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں ؟ ان سے بہت زیادہ قوت وطاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ وبالا کرچکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں زمین میں خوب فساد کیا۔ لمبے لمبے سفر کرتے تھے ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی اللہ کی قضا و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا ؟ پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آگیا بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لئے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ دھیان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پاسکتا ہے یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے۔ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو زمین کو اور اسکے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کردیا اور وہ تھکا نہیں اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کرچکا ہے اس پر مردوں کا جلانا کیا بھاری ہے ؟ حضرت قتادہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتویں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے یوم الراحت رکھ چھوڑا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا ؟ جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 33؀) 46۔ الأحقاف :33) ، یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا ؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں ؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے اور آیت میں ہے آیت (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57؀) 40۔ غافر :57) البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے اور آیت میں ہے آیت (ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاۗءُ ۭ بَنٰىهَا 27؀۪) 79۔ النازعات :27) کیا تمہاری پیدائش سے زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی اسے اللہ نے بنایا ہے۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور رات کی تہجد آپ پر اور آپ کی امت پر ایک سال تک واجب رہی اس کے بعد رہی اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہوگیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے مسند احمد میں ہے ہم حضور ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہوجایا کرو، پھر آپ نے آیت (وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا ۚ وَمِنْ اٰنَاۗئِ الَّيْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَاف النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى01300) 20۔ طه :130) پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا آیت (وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا 79؀) 17۔ الإسراء :79) ، یعنی رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لئے ہی ہے تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے سندوں کے پیچھے سے مراد بقول حضرت ابن عباس نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔ بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یارسول اللہ ﷺ مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کرچکے آپ نے فرمایا یہ کیسے ؟ جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کرسکتے آپ نے فرمایا آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، الحمد اللہ، اللہ اکبر پڑھ لیا کرو پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ ہمارے مال دار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں۔ حضرت عمر حضرت علی حضرت حسن بن علی حضرت ابن عباس حضرت ابوہریرہ حضرت ابو امامہ ؓ کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے حضرت مجاہد حضرت عکرمہ حضرت شعبی حضرت نخعی حضرت قتادہ رحھم اللہ وغیرہ کا۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے عبدالرحمن فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ہاں گذاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا اے ابن عباس فجر کے پہلے کی دو رکعت (وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ 49؀) 52۔ الطور :49) ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت (وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ 40؀) 50۔ ق :40) ہیں۔ یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات حضرت عبداللہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ حضرت میمونہ کی باری تھی۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے۔ ممکن ہے کہ پچھلا کلام حضرت ابن عباس کا اپنا ہو۔ واللہ اعلم۔

جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیو اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ اللہ تمہیں جمع ہوجانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہوگا ابتداءً ًیہ پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹا لانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پالے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہوجائے گی تو اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہوجائے گی یہ وقت ہوگا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہوگا۔ فرمان باری ہے آیت (يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52؀) 17۔ الإسراء :52) ، یعنی جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے۔ صحیح مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہوگی۔ فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا آیت (وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ 50؀) 54۔ القمر :50) یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہوجائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا اور آیت میں ہے آیت (مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 28؀) 31۔ لقمان :28) ، یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ يَضِيْقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُوْلُوْنَ 97؀ۙ) 15۔ الحجر :97) ، واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہیے اور نمازوں میں رہیے اور موت آجانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہیے۔ پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لاسکتا نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہوجائیے جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آجائے گا جیسے فرمایا ہے آیت (وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ 40۔) 13۔ الرعد :40) یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے اور آیت میں ہے آیت (فَذَكِّرْ ڜ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ 21؀ۭ) 88۔ الغاشية :21) تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں۔ اور جگہ ہے تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے اور جگہ ہے آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ 56؀) 28۔ القصص :56) ، یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے۔ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔ حضرت قتادہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے (اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم) یعنی اے اللہ تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔ سورة ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ والحمد للہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل۔

جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیو اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ اللہ تمہیں جمع ہوجانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہوگا ابتداءً ًیہ پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹا لانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پالے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہوجائے گی تو اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہوجائے گی یہ وقت ہوگا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہوگا۔ فرمان باری ہے آیت (يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52؀) 17۔ الإسراء :52) ، یعنی جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے۔ صحیح مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہوگی۔ فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا آیت (وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ 50؀) 54۔ القمر :50) یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہوجائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا اور آیت میں ہے آیت (مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 28؀) 31۔ لقمان :28) ، یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ يَضِيْقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُوْلُوْنَ 97؀ۙ) 15۔ الحجر :97) ، واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہیے اور نمازوں میں رہیے اور موت آجانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہیے۔ پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لاسکتا نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہوجائیے جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آجائے گا جیسے فرمایا ہے آیت (وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ 40۔) 13۔ الرعد :40) یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے اور آیت میں ہے آیت (فَذَكِّرْ ڜ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ 21؀ۭ) 88۔ الغاشية :21) تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں۔ اور جگہ ہے تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے اور جگہ ہے آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ 56؀) 28۔ القصص :56) ، یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے۔ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔ حضرت قتادہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے (اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم) یعنی اے اللہ تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔ سورة ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ والحمد للہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل۔

جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیو اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ اللہ تمہیں جمع ہوجانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہوگا ابتداءً ًیہ پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹا لانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پالے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہوجائے گی تو اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہوجائے گی یہ وقت ہوگا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہوگا۔ فرمان باری ہے آیت (يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52؀) 17۔ الإسراء :52) ، یعنی جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے۔ صحیح مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہوگی۔ فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا آیت (وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ 50؀) 54۔ القمر :50) یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہوجائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا اور آیت میں ہے آیت (مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 28؀) 31۔ لقمان :28) ، یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ يَضِيْقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُوْلُوْنَ 97؀ۙ) 15۔ الحجر :97) ، واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہیے اور نمازوں میں رہیے اور موت آجانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہیے۔ پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لاسکتا نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہوجائیے جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آجائے گا جیسے فرمایا ہے آیت (وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ 40۔) 13۔ الرعد :40) یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے اور آیت میں ہے آیت (فَذَكِّرْ ڜ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ 21؀ۭ) 88۔ الغاشية :21) تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں۔ اور جگہ ہے تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے اور جگہ ہے آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ 56؀) 28۔ القصص :56) ، یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے۔ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔ حضرت قتادہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے (اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم) یعنی اے اللہ تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔ سورة ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ والحمد للہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل۔

جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیو اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ اللہ تمہیں جمع ہوجانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہوگا ابتداءً ًیہ پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹا لانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پالے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہوجائے گی تو اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہوجائے گی یہ وقت ہوگا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہوگا۔ فرمان باری ہے آیت (يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52؀) 17۔ الإسراء :52) ، یعنی جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے۔ صحیح مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہوگی۔ فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا آیت (وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ 50؀) 54۔ القمر :50) یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہوجائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا اور آیت میں ہے آیت (مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 28؀) 31۔ لقمان :28) ، یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ يَضِيْقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُوْلُوْنَ 97؀ۙ) 15۔ الحجر :97) ، واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہیے اور نمازوں میں رہیے اور موت آجانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہیے۔ پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لاسکتا نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہوجائیے جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آجائے گا جیسے فرمایا ہے آیت (وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ 40۔) 13۔ الرعد :40) یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے اور آیت میں ہے آیت (فَذَكِّرْ ڜ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ 21؀ۭ) 88۔ الغاشية :21) تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں۔ اور جگہ ہے تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے اور جگہ ہے آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ 56؀) 28۔ القصص :56) ، یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے۔ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔ حضرت قتادہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے (اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم) یعنی اے اللہ تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔ سورة ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ والحمد للہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل۔

جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیو اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ اللہ تمہیں جمع ہوجانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہوگا ابتداءً ًیہ پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹا لانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پالے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہوجائے گی تو اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہوجائے گی یہ وقت ہوگا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہوگا۔ فرمان باری ہے آیت (يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52؀) 17۔ الإسراء :52) ، یعنی جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے۔ صحیح مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہوگی۔ فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا آیت (وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ 50؀) 54۔ القمر :50) یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہوجائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا اور آیت میں ہے آیت (مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 28؀) 31۔ لقمان :28) ، یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ يَضِيْقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُوْلُوْنَ 97؀ۙ) 15۔ الحجر :97) ، واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہیے اور نمازوں میں رہیے اور موت آجانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہیے۔ پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لاسکتا نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہوجائیے جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آجائے گا جیسے فرمایا ہے آیت (وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ 40۔) 13۔ الرعد :40) یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے اور آیت میں ہے آیت (فَذَكِّرْ ڜ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ 21؀ۭ) 88۔ الغاشية :21) تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں۔ اور جگہ ہے تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے اور جگہ ہے آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ 56؀) 28۔ القصص :56) ، یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے۔ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔ حضرت قتادہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے (اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم) یعنی اے اللہ تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔ سورة ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ والحمد للہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل۔

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com