John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Waaqia

Tafsir Ibn Kathir · The Inevitable · 96 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15؀ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47؀) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۙ) 70۔ المعارج :1) سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور آیت میں ہے آیت (وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ ڛ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۭوَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ۭ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۭوَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ 73؀) 6۔ الانعام :73) جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہوجا تو ہوجائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم وخبیر ہے، قیامت کا ذبہ نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے نہ وہاں سے لوٹنا ہے نہ واپس آنا ہے۔ (کاذبہ) مصدر ہے جیسے (عاقبۃ) اور (عافیہ) وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا جو دنیا میں برے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا اعلیٰ علین ہو کر جنتی ہوجائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی پھر اونچی ہوگی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا طور و عرج زمین میں زلزلہ پڑجائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہوجائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے (اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ۙ) 99۔ الزلزلة :1) اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بری چیز ہے۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور جگہ الفاظ آیت (يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا 14؀) 73۔ المزمل :14) آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہوجائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے (ھباء) ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ (منبث) اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کردیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے ٹکڑے ہوجائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہوجائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقمس ہوجائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہوگی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو حضرت آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔ دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہوگی یہ وہ لوگ ہوں گے جو حضرت آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہوگی یہ خاص الخاص لوگ ہیں یہ اصحاب یمین سے بھی زیادہ باقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول ہیں انبیاء ہیں صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں بہت دائیں ہاتھ والوں کی نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر یہ تین قسمیں ہوجائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورة ملائیکہ میں فرمایا ہے آیت (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ 32؀ۭ) 35۔ فاطر :32) یعنی پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنا چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت (وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ01103) 37۔ الصافات :113) کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گذر چکا۔ حضرت ابن عباس وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں فرمایا قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم تین قسم پر ہوجاؤ گے، یعنی اصحاب یمین اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیا بند کرلیں اور فرمایا یہ جنتی ہیں مجھے کوئی پرواہ نہیں یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے ؟ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور رسول خوب جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں قبول تو کرلیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کردیں اور لوگوں کے لئے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لئے کرتے ہیں۔ سابقون کون لوگ ہیں ؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء اہل علین حضرت یوشع بن نون جو حضرت موسیٰ پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے وہ مومن جن کا ذکر سوۃ یاسین میں ہے جو حضرت عیسیٰ پر پہلے ایمان لائے تھے، حضرت علی بن ابی طالب جو محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقون ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ01303ۙ) 3۔ آل عمران :133) اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لئے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ فرشتوں نے درگاہ اللہ میں عرض کی کہ پروردگار تو نے ابن آدم کے لئے تو دنیا بنادی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لئے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ کن سے پیدا کیا، حضرت امام دارمی ؒ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب (الرد علی الجہمیہ) میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جیسے میں نے کہا ہوجا تو وہ ہوگیا۔

یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15؀ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47؀) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۙ) 70۔ المعارج :1) سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور آیت میں ہے آیت (وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ ڛ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۭوَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ۭ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۭوَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ 73؀) 6۔ الانعام :73) جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہوجا تو ہوجائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم وخبیر ہے، قیامت کا ذبہ نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے نہ وہاں سے لوٹنا ہے نہ واپس آنا ہے۔ (کاذبہ) مصدر ہے جیسے (عاقبۃ) اور (عافیہ) وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا جو دنیا میں برے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا اعلیٰ علین ہو کر جنتی ہوجائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی پھر اونچی ہوگی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا طور و عرج زمین میں زلزلہ پڑجائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہوجائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے (اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ۙ) 99۔ الزلزلة :1) اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بری چیز ہے۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور جگہ الفاظ آیت (يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا 14؀) 73۔ المزمل :14) آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہوجائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے (ھباء) ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ (منبث) اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کردیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے ٹکڑے ہوجائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہوجائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقمس ہوجائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہوگی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو حضرت آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔ دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہوگی یہ وہ لوگ ہوں گے جو حضرت آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہوگی یہ خاص الخاص لوگ ہیں یہ اصحاب یمین سے بھی زیادہ باقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول ہیں انبیاء ہیں صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں بہت دائیں ہاتھ والوں کی نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر یہ تین قسمیں ہوجائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورة ملائیکہ میں فرمایا ہے آیت (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ 32؀ۭ) 35۔ فاطر :32) یعنی پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنا چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت (وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ01103) 37۔ الصافات :113) کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گذر چکا۔ حضرت ابن عباس وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں فرمایا قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم تین قسم پر ہوجاؤ گے، یعنی اصحاب یمین اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیا بند کرلیں اور فرمایا یہ جنتی ہیں مجھے کوئی پرواہ نہیں یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے ؟ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور رسول خوب جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں قبول تو کرلیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کردیں اور لوگوں کے لئے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لئے کرتے ہیں۔ سابقون کون لوگ ہیں ؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء اہل علین حضرت یوشع بن نون جو حضرت موسیٰ پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے وہ مومن جن کا ذکر سوۃ یاسین میں ہے جو حضرت عیسیٰ پر پہلے ایمان لائے تھے، حضرت علی بن ابی طالب جو محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقون ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ01303ۙ) 3۔ آل عمران :133) اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لئے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ فرشتوں نے درگاہ اللہ میں عرض کی کہ پروردگار تو نے ابن آدم کے لئے تو دنیا بنادی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لئے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ کن سے پیدا کیا، حضرت امام دارمی ؒ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب (الرد علی الجہمیہ) میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جیسے میں نے کہا ہوجا تو وہ ہوگیا۔

یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15؀ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47؀) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۙ) 70۔ المعارج :1) سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور آیت میں ہے آیت (وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ ڛ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۭوَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ۭ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۭوَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ 73؀) 6۔ الانعام :73) جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہوجا تو ہوجائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم وخبیر ہے، قیامت کا ذبہ نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے نہ وہاں سے لوٹنا ہے نہ واپس آنا ہے۔ (کاذبہ) مصدر ہے جیسے (عاقبۃ) اور (عافیہ) وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا جو دنیا میں برے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا اعلیٰ علین ہو کر جنتی ہوجائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی پھر اونچی ہوگی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا طور و عرج زمین میں زلزلہ پڑجائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہوجائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے (اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ۙ) 99۔ الزلزلة :1) اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بری چیز ہے۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور جگہ الفاظ آیت (يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا 14؀) 73۔ المزمل :14) آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہوجائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے (ھباء) ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ (منبث) اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کردیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے ٹکڑے ہوجائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہوجائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقمس ہوجائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہوگی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو حضرت آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔ دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہوگی یہ وہ لوگ ہوں گے جو حضرت آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہوگی یہ خاص الخاص لوگ ہیں یہ اصحاب یمین سے بھی زیادہ باقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول ہیں انبیاء ہیں صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں بہت دائیں ہاتھ والوں کی نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر یہ تین قسمیں ہوجائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورة ملائیکہ میں فرمایا ہے آیت (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ 32؀ۭ) 35۔ فاطر :32) یعنی پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنا چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت (وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ01103) 37۔ الصافات :113) کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گذر چکا۔ حضرت ابن عباس وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں فرمایا قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم تین قسم پر ہوجاؤ گے، یعنی اصحاب یمین اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیا بند کرلیں اور فرمایا یہ جنتی ہیں مجھے کوئی پرواہ نہیں یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے ؟ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور رسول خوب جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں قبول تو کرلیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کردیں اور لوگوں کے لئے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لئے کرتے ہیں۔ سابقون کون لوگ ہیں ؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء اہل علین حضرت یوشع بن نون جو حضرت موسیٰ پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے وہ مومن جن کا ذکر سوۃ یاسین میں ہے جو حضرت عیسیٰ پر پہلے ایمان لائے تھے، حضرت علی بن ابی طالب جو محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقون ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ01303ۙ) 3۔ آل عمران :133) اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لئے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ فرشتوں نے درگاہ اللہ میں عرض کی کہ پروردگار تو نے ابن آدم کے لئے تو دنیا بنادی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لئے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ کن سے پیدا کیا، حضرت امام دارمی ؒ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب (الرد علی الجہمیہ) میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جیسے میں نے کہا ہوجا تو وہ ہوگیا۔

یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15؀ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47؀) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۙ) 70۔ المعارج :1) سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور آیت میں ہے آیت (وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ ڛ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۭوَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ۭ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۭوَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ 73؀) 6۔ الانعام :73) جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہوجا تو ہوجائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم وخبیر ہے، قیامت کا ذبہ نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے نہ وہاں سے لوٹنا ہے نہ واپس آنا ہے۔ (کاذبہ) مصدر ہے جیسے (عاقبۃ) اور (عافیہ) وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا جو دنیا میں برے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا اعلیٰ علین ہو کر جنتی ہوجائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی پھر اونچی ہوگی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا طور و عرج زمین میں زلزلہ پڑجائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہوجائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے (اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ۙ) 99۔ الزلزلة :1) اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بری چیز ہے۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور جگہ الفاظ آیت (يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا 14؀) 73۔ المزمل :14) آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہوجائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے (ھباء) ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ (منبث) اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کردیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے ٹکڑے ہوجائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہوجائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقمس ہوجائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہوگی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو حضرت آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔ دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہوگی یہ وہ لوگ ہوں گے جو حضرت آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہوگی یہ خاص الخاص لوگ ہیں یہ اصحاب یمین سے بھی زیادہ باقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول ہیں انبیاء ہیں صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں بہت دائیں ہاتھ والوں کی نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر یہ تین قسمیں ہوجائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورة ملائیکہ میں فرمایا ہے آیت (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ 32؀ۭ) 35۔ فاطر :32) یعنی پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنا چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت (وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ01103) 37۔ الصافات :113) کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گذر چکا۔ حضرت ابن عباس وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں فرمایا قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم تین قسم پر ہوجاؤ گے، یعنی اصحاب یمین اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیا بند کرلیں اور فرمایا یہ جنتی ہیں مجھے کوئی پرواہ نہیں یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے ؟ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور رسول خوب جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں قبول تو کرلیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کردیں اور لوگوں کے لئے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لئے کرتے ہیں۔ سابقون کون لوگ ہیں ؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء اہل علین حضرت یوشع بن نون جو حضرت موسیٰ پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے وہ مومن جن کا ذکر سوۃ یاسین میں ہے جو حضرت عیسیٰ پر پہلے ایمان لائے تھے، حضرت علی بن ابی طالب جو محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقون ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ01303ۙ) 3۔ آل عمران :133) اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لئے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ فرشتوں نے درگاہ اللہ میں عرض کی کہ پروردگار تو نے ابن آدم کے لئے تو دنیا بنادی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لئے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ کن سے پیدا کیا، حضرت امام دارمی ؒ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب (الرد علی الجہمیہ) میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جیسے میں نے کہا ہوجا تو وہ ہوگیا۔

یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15؀ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47؀) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۙ) 70۔ المعارج :1) سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور آیت میں ہے آیت (وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ ڛ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۭوَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ۭ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۭوَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ 73؀) 6۔ الانعام :73) جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہوجا تو ہوجائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم وخبیر ہے، قیامت کا ذبہ نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے نہ وہاں سے لوٹنا ہے نہ واپس آنا ہے۔ (کاذبہ) مصدر ہے جیسے (عاقبۃ) اور (عافیہ) وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا جو دنیا میں برے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا اعلیٰ علین ہو کر جنتی ہوجائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی پھر اونچی ہوگی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا طور و عرج زمین میں زلزلہ پڑجائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہوجائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے (اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ۙ) 99۔ الزلزلة :1) اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بری چیز ہے۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور جگہ الفاظ آیت (يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا 14؀) 73۔ المزمل :14) آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہوجائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے (ھباء) ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ (منبث) اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کردیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے ٹکڑے ہوجائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہوجائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقمس ہوجائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہوگی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو حضرت آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔ دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہوگی یہ وہ لوگ ہوں گے جو حضرت آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہوگی یہ خاص الخاص لوگ ہیں یہ اصحاب یمین سے بھی زیادہ باقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول ہیں انبیاء ہیں صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں بہت دائیں ہاتھ والوں کی نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر یہ تین قسمیں ہوجائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورة ملائیکہ میں فرمایا ہے آیت (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ 32؀ۭ) 35۔ فاطر :32) یعنی پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنا چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت (وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ01103) 37۔ الصافات :113) کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گذر چکا۔ حضرت ابن عباس وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں فرمایا قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم تین قسم پر ہوجاؤ گے، یعنی اصحاب یمین اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیا بند کرلیں اور فرمایا یہ جنتی ہیں مجھے کوئی پرواہ نہیں یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے ؟ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور رسول خوب جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں قبول تو کرلیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کردیں اور لوگوں کے لئے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لئے کرتے ہیں۔ سابقون کون لوگ ہیں ؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء اہل علین حضرت یوشع بن نون جو حضرت موسیٰ پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے وہ مومن جن کا ذکر سوۃ یاسین میں ہے جو حضرت عیسیٰ پر پہلے ایمان لائے تھے، حضرت علی بن ابی طالب جو محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقون ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ01303ۙ) 3۔ آل عمران :133) اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لئے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ فرشتوں نے درگاہ اللہ میں عرض کی کہ پروردگار تو نے ابن آدم کے لئے تو دنیا بنادی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لئے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ کن سے پیدا کیا، حضرت امام دارمی ؒ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب (الرد علی الجہمیہ) میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جیسے میں نے کہا ہوجا تو وہ ہوگیا۔

یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15؀ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47؀) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۙ) 70۔ المعارج :1) سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور آیت میں ہے آیت (وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ ڛ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۭوَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ۭ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۭوَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ 73؀) 6۔ الانعام :73) جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہوجا تو ہوجائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم وخبیر ہے، قیامت کا ذبہ نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے نہ وہاں سے لوٹنا ہے نہ واپس آنا ہے۔ (کاذبہ) مصدر ہے جیسے (عاقبۃ) اور (عافیہ) وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا جو دنیا میں برے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا اعلیٰ علین ہو کر جنتی ہوجائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی پھر اونچی ہوگی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا طور و عرج زمین میں زلزلہ پڑجائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہوجائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے (اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ۙ) 99۔ الزلزلة :1) اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بری چیز ہے۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور جگہ الفاظ آیت (يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا 14؀) 73۔ المزمل :14) آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہوجائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے (ھباء) ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ (منبث) اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کردیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے ٹکڑے ہوجائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہوجائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقمس ہوجائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہوگی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو حضرت آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔ دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہوگی یہ وہ لوگ ہوں گے جو حضرت آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہوگی یہ خاص الخاص لوگ ہیں یہ اصحاب یمین سے بھی زیادہ باقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول ہیں انبیاء ہیں صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں بہت دائیں ہاتھ والوں کی نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر یہ تین قسمیں ہوجائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورة ملائیکہ میں فرمایا ہے آیت (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ 32؀ۭ) 35۔ فاطر :32) یعنی پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنا چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت (وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ01103) 37۔ الصافات :113) کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گذر چکا۔ حضرت ابن عباس وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں فرمایا قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم تین قسم پر ہوجاؤ گے، یعنی اصحاب یمین اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیا بند کرلیں اور فرمایا یہ جنتی ہیں مجھے کوئی پرواہ نہیں یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے ؟ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور رسول خوب جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں قبول تو کرلیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کردیں اور لوگوں کے لئے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لئے کرتے ہیں۔ سابقون کون لوگ ہیں ؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء اہل علین حضرت یوشع بن نون جو حضرت موسیٰ پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے وہ مومن جن کا ذکر سوۃ یاسین میں ہے جو حضرت عیسیٰ پر پہلے ایمان لائے تھے، حضرت علی بن ابی طالب جو محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقون ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ01303ۙ) 3۔ آل عمران :133) اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لئے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ فرشتوں نے درگاہ اللہ میں عرض کی کہ پروردگار تو نے ابن آدم کے لئے تو دنیا بنادی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لئے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ کن سے پیدا کیا، حضرت امام دارمی ؒ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب (الرد علی الجہمیہ) میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جیسے میں نے کہا ہوجا تو وہ ہوگیا۔

یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15؀ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47؀) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۙ) 70۔ المعارج :1) سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور آیت میں ہے آیت (وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ ڛ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۭوَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ۭ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۭوَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ 73؀) 6۔ الانعام :73) جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہوجا تو ہوجائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم وخبیر ہے، قیامت کا ذبہ نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے نہ وہاں سے لوٹنا ہے نہ واپس آنا ہے۔ (کاذبہ) مصدر ہے جیسے (عاقبۃ) اور (عافیہ) وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا جو دنیا میں برے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا اعلیٰ علین ہو کر جنتی ہوجائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی پھر اونچی ہوگی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا طور و عرج زمین میں زلزلہ پڑجائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہوجائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے (اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ۙ) 99۔ الزلزلة :1) اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بری چیز ہے۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور جگہ الفاظ آیت (يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا 14؀) 73۔ المزمل :14) آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہوجائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے (ھباء) ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ (منبث) اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کردیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے ٹکڑے ہوجائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہوجائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقمس ہوجائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہوگی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو حضرت آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔ دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہوگی یہ وہ لوگ ہوں گے جو حضرت آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہوگی یہ خاص الخاص لوگ ہیں یہ اصحاب یمین سے بھی زیادہ باقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول ہیں انبیاء ہیں صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں بہت دائیں ہاتھ والوں کی نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر یہ تین قسمیں ہوجائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورة ملائیکہ میں فرمایا ہے آیت (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ 32؀ۭ) 35۔ فاطر :32) یعنی پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنا چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت (وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ01103) 37۔ الصافات :113) کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گذر چکا۔ حضرت ابن عباس وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں فرمایا قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم تین قسم پر ہوجاؤ گے، یعنی اصحاب یمین اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیا بند کرلیں اور فرمایا یہ جنتی ہیں مجھے کوئی پرواہ نہیں یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے ؟ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور رسول خوب جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں قبول تو کرلیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کردیں اور لوگوں کے لئے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لئے کرتے ہیں۔ سابقون کون لوگ ہیں ؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء اہل علین حضرت یوشع بن نون جو حضرت موسیٰ پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے وہ مومن جن کا ذکر سوۃ یاسین میں ہے جو حضرت عیسیٰ پر پہلے ایمان لائے تھے، حضرت علی بن ابی طالب جو محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقون ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ01303ۙ) 3۔ آل عمران :133) اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لئے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ فرشتوں نے درگاہ اللہ میں عرض کی کہ پروردگار تو نے ابن آدم کے لئے تو دنیا بنادی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لئے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ کن سے پیدا کیا، حضرت امام دارمی ؒ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب (الرد علی الجہمیہ) میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جیسے میں نے کہا ہوجا تو وہ ہوگیا۔

یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15؀ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47؀) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۙ) 70۔ المعارج :1) سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور آیت میں ہے آیت (وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ ڛ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۭوَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ۭ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۭوَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ 73؀) 6۔ الانعام :73) جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہوجا تو ہوجائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم وخبیر ہے، قیامت کا ذبہ نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے نہ وہاں سے لوٹنا ہے نہ واپس آنا ہے۔ (کاذبہ) مصدر ہے جیسے (عاقبۃ) اور (عافیہ) وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا جو دنیا میں برے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا اعلیٰ علین ہو کر جنتی ہوجائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی پھر اونچی ہوگی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا طور و عرج زمین میں زلزلہ پڑجائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہوجائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے (اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ۙ) 99۔ الزلزلة :1) اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بری چیز ہے۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور جگہ الفاظ آیت (يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا 14؀) 73۔ المزمل :14) آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہوجائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے (ھباء) ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ (منبث) اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کردیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے ٹکڑے ہوجائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہوجائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقمس ہوجائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہوگی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو حضرت آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔ دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہوگی یہ وہ لوگ ہوں گے جو حضرت آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہوگی یہ خاص الخاص لوگ ہیں یہ اصحاب یمین سے بھی زیادہ باقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول ہیں انبیاء ہیں صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں بہت دائیں ہاتھ والوں کی نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر یہ تین قسمیں ہوجائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورة ملائیکہ میں فرمایا ہے آیت (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ 32؀ۭ) 35۔ فاطر :32) یعنی پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنا چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت (وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ01103) 37۔ الصافات :113) کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گذر چکا۔ حضرت ابن عباس وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں فرمایا قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم تین قسم پر ہوجاؤ گے، یعنی اصحاب یمین اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیا بند کرلیں اور فرمایا یہ جنتی ہیں مجھے کوئی پرواہ نہیں یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے ؟ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور رسول خوب جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں قبول تو کرلیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کردیں اور لوگوں کے لئے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لئے کرتے ہیں۔ سابقون کون لوگ ہیں ؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء اہل علین حضرت یوشع بن نون جو حضرت موسیٰ پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے وہ مومن جن کا ذکر سوۃ یاسین میں ہے جو حضرت عیسیٰ پر پہلے ایمان لائے تھے، حضرت علی بن ابی طالب جو محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقون ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ01303ۙ) 3۔ آل عمران :133) اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لئے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ فرشتوں نے درگاہ اللہ میں عرض کی کہ پروردگار تو نے ابن آدم کے لئے تو دنیا بنادی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لئے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ کن سے پیدا کیا، حضرت امام دارمی ؒ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب (الرد علی الجہمیہ) میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جیسے میں نے کہا ہوجا تو وہ ہوگیا۔

یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15؀ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47؀) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۙ) 70۔ المعارج :1) سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور آیت میں ہے آیت (وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ ڛ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۭوَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ۭ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۭوَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ 73؀) 6۔ الانعام :73) جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہوجا تو ہوجائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم وخبیر ہے، قیامت کا ذبہ نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے نہ وہاں سے لوٹنا ہے نہ واپس آنا ہے۔ (کاذبہ) مصدر ہے جیسے (عاقبۃ) اور (عافیہ) وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا جو دنیا میں برے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا اعلیٰ علین ہو کر جنتی ہوجائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی پھر اونچی ہوگی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا طور و عرج زمین میں زلزلہ پڑجائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہوجائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے (اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ۙ) 99۔ الزلزلة :1) اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بری چیز ہے۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور جگہ الفاظ آیت (يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا 14؀) 73۔ المزمل :14) آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہوجائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے (ھباء) ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ (منبث) اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کردیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے ٹکڑے ہوجائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہوجائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقمس ہوجائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہوگی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو حضرت آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔ دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہوگی یہ وہ لوگ ہوں گے جو حضرت آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہوگی یہ خاص الخاص لوگ ہیں یہ اصحاب یمین سے بھی زیادہ باقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول ہیں انبیاء ہیں صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں بہت دائیں ہاتھ والوں کی نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر یہ تین قسمیں ہوجائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورة ملائیکہ میں فرمایا ہے آیت (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ 32؀ۭ) 35۔ فاطر :32) یعنی پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنا چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت (وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ01103) 37۔ الصافات :113) کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گذر چکا۔ حضرت ابن عباس وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں فرمایا قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم تین قسم پر ہوجاؤ گے، یعنی اصحاب یمین اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیا بند کرلیں اور فرمایا یہ جنتی ہیں مجھے کوئی پرواہ نہیں یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے ؟ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور رسول خوب جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں قبول تو کرلیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کردیں اور لوگوں کے لئے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لئے کرتے ہیں۔ سابقون کون لوگ ہیں ؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء اہل علین حضرت یوشع بن نون جو حضرت موسیٰ پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے وہ مومن جن کا ذکر سوۃ یاسین میں ہے جو حضرت عیسیٰ پر پہلے ایمان لائے تھے، حضرت علی بن ابی طالب جو محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقون ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ01303ۙ) 3۔ آل عمران :133) اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لئے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ فرشتوں نے درگاہ اللہ میں عرض کی کہ پروردگار تو نے ابن آدم کے لئے تو دنیا بنادی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لئے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ کن سے پیدا کیا، حضرت امام دارمی ؒ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب (الرد علی الجہمیہ) میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جیسے میں نے کہا ہوجا تو وہ ہوگیا۔

یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15؀ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47؀) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۙ) 70۔ المعارج :1) سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور آیت میں ہے آیت (وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ ڛ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۭوَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ۭ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۭوَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ 73؀) 6۔ الانعام :73) جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہوجا تو ہوجائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم وخبیر ہے، قیامت کا ذبہ نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے نہ وہاں سے لوٹنا ہے نہ واپس آنا ہے۔ (کاذبہ) مصدر ہے جیسے (عاقبۃ) اور (عافیہ) وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا جو دنیا میں برے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا اعلیٰ علین ہو کر جنتی ہوجائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی پھر اونچی ہوگی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا طور و عرج زمین میں زلزلہ پڑجائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہوجائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے (اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ۙ) 99۔ الزلزلة :1) اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بری چیز ہے۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور جگہ الفاظ آیت (يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا 14؀) 73۔ المزمل :14) آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہوجائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے (ھباء) ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ (منبث) اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کردیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے ٹکڑے ہوجائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہوجائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقمس ہوجائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہوگی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو حضرت آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔ دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہوگی یہ وہ لوگ ہوں گے جو حضرت آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہوگی یہ خاص الخاص لوگ ہیں یہ اصحاب یمین سے بھی زیادہ باقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول ہیں انبیاء ہیں صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں بہت دائیں ہاتھ والوں کی نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر یہ تین قسمیں ہوجائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورة ملائیکہ میں فرمایا ہے آیت (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ 32؀ۭ) 35۔ فاطر :32) یعنی پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنا چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت (وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ01103) 37۔ الصافات :113) کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گذر چکا۔ حضرت ابن عباس وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں فرمایا قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم تین قسم پر ہوجاؤ گے، یعنی اصحاب یمین اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیا بند کرلیں اور فرمایا یہ جنتی ہیں مجھے کوئی پرواہ نہیں یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے ؟ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور رسول خوب جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں قبول تو کرلیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کردیں اور لوگوں کے لئے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لئے کرتے ہیں۔ سابقون کون لوگ ہیں ؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء اہل علین حضرت یوشع بن نون جو حضرت موسیٰ پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے وہ مومن جن کا ذکر سوۃ یاسین میں ہے جو حضرت عیسیٰ پر پہلے ایمان لائے تھے، حضرت علی بن ابی طالب جو محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقون ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ01303ۙ) 3۔ آل عمران :133) اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لئے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ فرشتوں نے درگاہ اللہ میں عرض کی کہ پروردگار تو نے ابن آدم کے لئے تو دنیا بنادی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لئے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ کن سے پیدا کیا، حضرت امام دارمی ؒ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب (الرد علی الجہمیہ) میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جیسے میں نے کہا ہوجا تو وہ ہوگیا۔

یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15؀ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47؀) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۙ) 70۔ المعارج :1) سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور آیت میں ہے آیت (وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ ڛ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۭوَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ۭ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۭوَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ 73؀) 6۔ الانعام :73) جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہوجا تو ہوجائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم وخبیر ہے، قیامت کا ذبہ نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے نہ وہاں سے لوٹنا ہے نہ واپس آنا ہے۔ (کاذبہ) مصدر ہے جیسے (عاقبۃ) اور (عافیہ) وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا جو دنیا میں برے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا اعلیٰ علین ہو کر جنتی ہوجائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی پھر اونچی ہوگی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا طور و عرج زمین میں زلزلہ پڑجائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہوجائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے (اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ۙ) 99۔ الزلزلة :1) اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بری چیز ہے۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور جگہ الفاظ آیت (يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا 14؀) 73۔ المزمل :14) آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہوجائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے (ھباء) ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ (منبث) اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کردیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے ٹکڑے ہوجائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہوجائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقمس ہوجائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہوگی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو حضرت آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔ دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہوگی یہ وہ لوگ ہوں گے جو حضرت آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہوگی یہ خاص الخاص لوگ ہیں یہ اصحاب یمین سے بھی زیادہ باقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول ہیں انبیاء ہیں صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں بہت دائیں ہاتھ والوں کی نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر یہ تین قسمیں ہوجائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورة ملائیکہ میں فرمایا ہے آیت (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ 32؀ۭ) 35۔ فاطر :32) یعنی پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنا چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت (وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ01103) 37۔ الصافات :113) کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گذر چکا۔ حضرت ابن عباس وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں فرمایا قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم تین قسم پر ہوجاؤ گے، یعنی اصحاب یمین اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیا بند کرلیں اور فرمایا یہ جنتی ہیں مجھے کوئی پرواہ نہیں یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے ؟ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور رسول خوب جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں قبول تو کرلیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کردیں اور لوگوں کے لئے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لئے کرتے ہیں۔ سابقون کون لوگ ہیں ؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء اہل علین حضرت یوشع بن نون جو حضرت موسیٰ پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے وہ مومن جن کا ذکر سوۃ یاسین میں ہے جو حضرت عیسیٰ پر پہلے ایمان لائے تھے، حضرت علی بن ابی طالب جو محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقون ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ01303ۙ) 3۔ آل عمران :133) اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لئے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ فرشتوں نے درگاہ اللہ میں عرض کی کہ پروردگار تو نے ابن آدم کے لئے تو دنیا بنادی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لئے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ کن سے پیدا کیا، حضرت امام دارمی ؒ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب (الرد علی الجہمیہ) میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جیسے میں نے کہا ہوجا تو وہ ہوگیا۔

یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15؀ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47؀) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۙ) 70۔ المعارج :1) سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور آیت میں ہے آیت (وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ ڛ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۭوَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ۭ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۭوَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ 73؀) 6۔ الانعام :73) جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہوجا تو ہوجائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم وخبیر ہے، قیامت کا ذبہ نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے نہ وہاں سے لوٹنا ہے نہ واپس آنا ہے۔ (کاذبہ) مصدر ہے جیسے (عاقبۃ) اور (عافیہ) وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا جو دنیا میں برے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا اعلیٰ علین ہو کر جنتی ہوجائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی پھر اونچی ہوگی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا طور و عرج زمین میں زلزلہ پڑجائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہوجائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے (اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ۙ) 99۔ الزلزلة :1) اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بری چیز ہے۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور جگہ الفاظ آیت (يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا 14؀) 73۔ المزمل :14) آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہوجائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے (ھباء) ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ (منبث) اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کردیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے ٹکڑے ہوجائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہوجائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقمس ہوجائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہوگی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو حضرت آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔ دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہوگی یہ وہ لوگ ہوں گے جو حضرت آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہوگی یہ خاص الخاص لوگ ہیں یہ اصحاب یمین سے بھی زیادہ باقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول ہیں انبیاء ہیں صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں بہت دائیں ہاتھ والوں کی نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر یہ تین قسمیں ہوجائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورة ملائیکہ میں فرمایا ہے آیت (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ 32؀ۭ) 35۔ فاطر :32) یعنی پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنا چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت (وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ01103) 37۔ الصافات :113) کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گذر چکا۔ حضرت ابن عباس وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں فرمایا قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم تین قسم پر ہوجاؤ گے، یعنی اصحاب یمین اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیا بند کرلیں اور فرمایا یہ جنتی ہیں مجھے کوئی پرواہ نہیں یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے ؟ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور رسول خوب جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں قبول تو کرلیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کردیں اور لوگوں کے لئے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لئے کرتے ہیں۔ سابقون کون لوگ ہیں ؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء اہل علین حضرت یوشع بن نون جو حضرت موسیٰ پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے وہ مومن جن کا ذکر سوۃ یاسین میں ہے جو حضرت عیسیٰ پر پہلے ایمان لائے تھے، حضرت علی بن ابی طالب جو محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقون ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ01303ۙ) 3۔ آل عمران :133) اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لئے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ فرشتوں نے درگاہ اللہ میں عرض کی کہ پروردگار تو نے ابن آدم کے لئے تو دنیا بنادی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لئے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ کن سے پیدا کیا، حضرت امام دارمی ؒ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب (الرد علی الجہمیہ) میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جیسے میں نے کہا ہوجا تو وہ ہوگیا۔

مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ تہائی تم ہو بلکہ آدھوں آدھ تم ہو تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہوگی جن میں تم بھی شریک ہو۔ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ ابن عساکر میں ہے حضرت عمر نے اس آیت کو سن کر حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت حضور ﷺ نے حضرت عمر کو بلا کر کہا سنو حضرت آدم سے لے کر مجھ تک ثلہ ہے اور صرف میری امت ثلہ ہے، ہم اپنے (ثلہ) کو پورا کرنے کے لئے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ حضور ﷺ کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس الحمد اللہ یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہوسکتا ہے ؟ کہ مقربین بار گاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہوسکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکل امتوں کے مقربین سے صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہوگی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم۔ یہی قول رائج ہے۔ چناچہ حضرت حسن سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا سابقین تو گذر چکے اے اللہ تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے۔ امام ابن سیرین بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہوجاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے، چناچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد والا پھر اس کا متصل زمانہ، الخ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی، تو یہ حدیث جب کہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں اسی طرح آ کر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اول والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے اس لئے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لئے حضور ﷺ فرماتے ہیں ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کرسکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور وہ اس طرح ہوں۔ الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الیہہ بنسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہوگی کہ گویا رات آگئی زمین کے تمام کناروں کو گھیرا لے گی فرشتے کہنے لگیں گے سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد ﷺ کے ساتھ ہیں۔ مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کردی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی ؒ نے دلائل نبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا (سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ ان اللہ کان تواباً) پھر فرماتے ستر کے بدلے سات سو ہیں جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بیخبر ہے پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور چونکہ حضور ﷺ کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لئے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ابو زمل کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ ﷺ نے دریافت فرمایا تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ﷺ میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا اللہ خیر سے ملائے شر سے بچائے ہمارے لئے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لئے بدتر بنائے ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بیشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا پانی ہر سو رواں ہے سبزے سے پٹا پڑا ہے انواع و اقوام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کرلیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔ پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گذرا ان گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو پھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے میں نے یہ دیکھا لیکن میں آپ تو چلتا ہی رہا جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ ﷺ اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ ﷺ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ ﷺ کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگئے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ ﷺ اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر حضور ﷺ کا رنگ متغیر ہوگیا تھوڑی دیر میں آپ ﷺ کی یہ حالت بدل گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہر بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گذر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہوں گے نہ وہ ہمیں چمٹے گی نہ ہمارا تعلق اس سے ہوگا نہ اس کا تعلق ہم سے نہ ہم اس کی چاہت کریں گے نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہوگی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پالیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہوجائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی آیت (فانا للہ وانا الیہ راجعون)۔ اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہوجائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ حضرت موسیٰ ؑ ہیں جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہوجاتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہوچکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے تھے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ حضرت ابراہیم ؑ ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے جو میری امت پر قائم ہوگی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو حضور ﷺ تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے در و یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ فعیل معنی میں مفعول کے ہے اسی لئے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو وضین کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہوگا، وہ علماء ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے نہ بڑے ہوں نہ بوڑھے ہوں۔ نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ اکواب کہتے ہیں ان کو زوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور اباریق وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لئے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔ اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہوگی۔ شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ سر درد قی اور پیشاب، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کردی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہوجائیگا، یہ تمام چیزیں لئے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے ارد گرد گھومتے رہیں گے تاکہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے، مسند ابو یعلی موصلی میں ہے حضرت عکراش بن ذویب ؓ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم کون ہو ؟ میں نے کہا عکراش بن ذویب فرمایا اپنا نسب نامہ دور تک بیان کردو میں نے مرہ بن دبیک تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس حضور ﷺ مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کردو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ عنہہ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کچھ کھانے کو ہے ؟ جواب ملا کہ ہاں چناچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ ﷺ نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا اے عکراش یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے ایک جگہ سے کھاؤ۔ پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا ہاں رسول اللہ ﷺ سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا اے عکراش اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ جس قسم کی کھجور جس قسم کی کھجور چاہو لے لو، پھر پانی آیا پس حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لئے اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو۔ (ترمزی اور ابن ماجہ) امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ ﷺ پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر حضور ﷺ اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس آئیں کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا بارہ شخصوں کے نام لئے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر آنحضرت ﷺ نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ ﷺ نے لشکر میں بھیجا تھا شہید ہوگئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لئے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ حضور ﷺ نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا اپنا خواب دوبارہ بیان کرو اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لئے جن کے نام قاصد نے لئے تھے۔ طبرانی میں ہے کہ جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں، حضرت صدیق نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے۔ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے۔ حافظ ابو عبداللہ مصری کی کتاب صفۃ الجنت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے طوبی کا ذکر ہو پس حضور ﷺ نے حضور صدیق اکبر سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے آپ ﷺ نے فرمایا جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوا اس کے پتے بڑے چوڑے چوڑے ہیں ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں، ابوبکر نے فرمایا پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور انشاء اللہ تم بھی انہی میں سے ہو۔ حضرت قتادہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے۔ (ترمذی) امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں جنتی کے دسترخوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصانی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آجائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آجائے گا۔ حور کی دوسری قرأت رے کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لئے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے، جیسے آیت (وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ) 5۔ المآئدہ :6) میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ آیت (عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ 21؀) 76۔ الإنسان :21) ہیں۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لئے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر واللہ اعلم۔ یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورة صافات میں ہے آیت (كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37۔ الصافات :49) سورة الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گذر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بےمعنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے (لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً 11ۭ) 88۔ الغاشية :11) فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے۔ نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا آیت (تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ 23؀) 14۔ ابراھیم :23) انکا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہوگا۔ انکی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہوگی۔

مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ تہائی تم ہو بلکہ آدھوں آدھ تم ہو تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہوگی جن میں تم بھی شریک ہو۔ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ ابن عساکر میں ہے حضرت عمر نے اس آیت کو سن کر حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت حضور ﷺ نے حضرت عمر کو بلا کر کہا سنو حضرت آدم سے لے کر مجھ تک ثلہ ہے اور صرف میری امت ثلہ ہے، ہم اپنے (ثلہ) کو پورا کرنے کے لئے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ حضور ﷺ کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس الحمد اللہ یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہوسکتا ہے ؟ کہ مقربین بار گاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہوسکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکل امتوں کے مقربین سے صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہوگی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم۔ یہی قول رائج ہے۔ چناچہ حضرت حسن سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا سابقین تو گذر چکے اے اللہ تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے۔ امام ابن سیرین بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہوجاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے، چناچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد والا پھر اس کا متصل زمانہ، الخ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی، تو یہ حدیث جب کہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں اسی طرح آ کر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اول والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے اس لئے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لئے حضور ﷺ فرماتے ہیں ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کرسکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور وہ اس طرح ہوں۔ الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الیہہ بنسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہوگی کہ گویا رات آگئی زمین کے تمام کناروں کو گھیرا لے گی فرشتے کہنے لگیں گے سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد ﷺ کے ساتھ ہیں۔ مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کردی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی ؒ نے دلائل نبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا (سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ ان اللہ کان تواباً) پھر فرماتے ستر کے بدلے سات سو ہیں جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بیخبر ہے پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور چونکہ حضور ﷺ کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لئے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ابو زمل کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ ﷺ نے دریافت فرمایا تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ﷺ میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا اللہ خیر سے ملائے شر سے بچائے ہمارے لئے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لئے بدتر بنائے ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بیشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا پانی ہر سو رواں ہے سبزے سے پٹا پڑا ہے انواع و اقوام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کرلیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔ پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گذرا ان گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو پھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے میں نے یہ دیکھا لیکن میں آپ تو چلتا ہی رہا جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ ﷺ اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ ﷺ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ ﷺ کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگئے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ ﷺ اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر حضور ﷺ کا رنگ متغیر ہوگیا تھوڑی دیر میں آپ ﷺ کی یہ حالت بدل گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہر بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گذر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہوں گے نہ وہ ہمیں چمٹے گی نہ ہمارا تعلق اس سے ہوگا نہ اس کا تعلق ہم سے نہ ہم اس کی چاہت کریں گے نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہوگی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پالیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہوجائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی آیت (فانا للہ وانا الیہ راجعون)۔ اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہوجائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ حضرت موسیٰ ؑ ہیں جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہوجاتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہوچکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے تھے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ حضرت ابراہیم ؑ ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے جو میری امت پر قائم ہوگی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو حضور ﷺ تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے در و یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ فعیل معنی میں مفعول کے ہے اسی لئے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو وضین کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہوگا، وہ علماء ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے نہ بڑے ہوں نہ بوڑھے ہوں۔ نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ اکواب کہتے ہیں ان کو زوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور اباریق وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لئے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔ اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہوگی۔ شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ سر درد قی اور پیشاب، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کردی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہوجائیگا، یہ تمام چیزیں لئے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے ارد گرد گھومتے رہیں گے تاکہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے، مسند ابو یعلی موصلی میں ہے حضرت عکراش بن ذویب ؓ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم کون ہو ؟ میں نے کہا عکراش بن ذویب فرمایا اپنا نسب نامہ دور تک بیان کردو میں نے مرہ بن دبیک تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس حضور ﷺ مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کردو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ عنہہ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کچھ کھانے کو ہے ؟ جواب ملا کہ ہاں چناچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ ﷺ نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا اے عکراش یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے ایک جگہ سے کھاؤ۔ پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا ہاں رسول اللہ ﷺ سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا اے عکراش اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ جس قسم کی کھجور جس قسم کی کھجور چاہو لے لو، پھر پانی آیا پس حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لئے اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو۔ (ترمزی اور ابن ماجہ) امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ ﷺ پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر حضور ﷺ اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس آئیں کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا بارہ شخصوں کے نام لئے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر آنحضرت ﷺ نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ ﷺ نے لشکر میں بھیجا تھا شہید ہوگئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لئے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ حضور ﷺ نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا اپنا خواب دوبارہ بیان کرو اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لئے جن کے نام قاصد نے لئے تھے۔ طبرانی میں ہے کہ جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں، حضرت صدیق نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے۔ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے۔ حافظ ابو عبداللہ مصری کی کتاب صفۃ الجنت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے طوبی کا ذکر ہو پس حضور ﷺ نے حضور صدیق اکبر سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے آپ ﷺ نے فرمایا جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوا اس کے پتے بڑے چوڑے چوڑے ہیں ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں، ابوبکر نے فرمایا پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور انشاء اللہ تم بھی انہی میں سے ہو۔ حضرت قتادہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے۔ (ترمذی) امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں جنتی کے دسترخوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصانی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آجائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آجائے گا۔ حور کی دوسری قرأت رے کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لئے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے، جیسے آیت (وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ) 5۔ المآئدہ :6) میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ آیت (عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ 21؀) 76۔ الإنسان :21) ہیں۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لئے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر واللہ اعلم۔ یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورة صافات میں ہے آیت (كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37۔ الصافات :49) سورة الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گذر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بےمعنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے (لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً 11ۭ) 88۔ الغاشية :11) فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے۔ نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا آیت (تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ 23؀) 14۔ ابراھیم :23) انکا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہوگا۔ انکی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہوگی۔

مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ تہائی تم ہو بلکہ آدھوں آدھ تم ہو تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہوگی جن میں تم بھی شریک ہو۔ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ ابن عساکر میں ہے حضرت عمر نے اس آیت کو سن کر حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت حضور ﷺ نے حضرت عمر کو بلا کر کہا سنو حضرت آدم سے لے کر مجھ تک ثلہ ہے اور صرف میری امت ثلہ ہے، ہم اپنے (ثلہ) کو پورا کرنے کے لئے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ حضور ﷺ کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس الحمد اللہ یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہوسکتا ہے ؟ کہ مقربین بار گاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہوسکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکل امتوں کے مقربین سے صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہوگی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم۔ یہی قول رائج ہے۔ چناچہ حضرت حسن سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا سابقین تو گذر چکے اے اللہ تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے۔ امام ابن سیرین بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہوجاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے، چناچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد والا پھر اس کا متصل زمانہ، الخ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی، تو یہ حدیث جب کہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں اسی طرح آ کر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اول والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے اس لئے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لئے حضور ﷺ فرماتے ہیں ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کرسکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور وہ اس طرح ہوں۔ الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الیہہ بنسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہوگی کہ گویا رات آگئی زمین کے تمام کناروں کو گھیرا لے گی فرشتے کہنے لگیں گے سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد ﷺ کے ساتھ ہیں۔ مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کردی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی ؒ نے دلائل نبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا (سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ ان اللہ کان تواباً) پھر فرماتے ستر کے بدلے سات سو ہیں جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بیخبر ہے پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور چونکہ حضور ﷺ کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لئے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ابو زمل کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ ﷺ نے دریافت فرمایا تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ﷺ میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا اللہ خیر سے ملائے شر سے بچائے ہمارے لئے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لئے بدتر بنائے ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بیشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا پانی ہر سو رواں ہے سبزے سے پٹا پڑا ہے انواع و اقوام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کرلیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔ پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گذرا ان گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو پھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے میں نے یہ دیکھا لیکن میں آپ تو چلتا ہی رہا جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ ﷺ اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ ﷺ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ ﷺ کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگئے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ ﷺ اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر حضور ﷺ کا رنگ متغیر ہوگیا تھوڑی دیر میں آپ ﷺ کی یہ حالت بدل گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہر بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گذر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہوں گے نہ وہ ہمیں چمٹے گی نہ ہمارا تعلق اس سے ہوگا نہ اس کا تعلق ہم سے نہ ہم اس کی چاہت کریں گے نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہوگی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پالیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہوجائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی آیت (فانا للہ وانا الیہ راجعون)۔ اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہوجائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ حضرت موسیٰ ؑ ہیں جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہوجاتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہوچکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے تھے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ حضرت ابراہیم ؑ ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے جو میری امت پر قائم ہوگی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو حضور ﷺ تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے در و یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ فعیل معنی میں مفعول کے ہے اسی لئے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو وضین کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہوگا، وہ علماء ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے نہ بڑے ہوں نہ بوڑھے ہوں۔ نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ اکواب کہتے ہیں ان کو زوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور اباریق وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لئے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔ اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہوگی۔ شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ سر درد قی اور پیشاب، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کردی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہوجائیگا، یہ تمام چیزیں لئے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے ارد گرد گھومتے رہیں گے تاکہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے، مسند ابو یعلی موصلی میں ہے حضرت عکراش بن ذویب ؓ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم کون ہو ؟ میں نے کہا عکراش بن ذویب فرمایا اپنا نسب نامہ دور تک بیان کردو میں نے مرہ بن دبیک تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس حضور ﷺ مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کردو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ عنہہ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کچھ کھانے کو ہے ؟ جواب ملا کہ ہاں چناچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ ﷺ نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا اے عکراش یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے ایک جگہ سے کھاؤ۔ پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا ہاں رسول اللہ ﷺ سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا اے عکراش اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ جس قسم کی کھجور جس قسم کی کھجور چاہو لے لو، پھر پانی آیا پس حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لئے اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو۔ (ترمزی اور ابن ماجہ) امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ ﷺ پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر حضور ﷺ اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس آئیں کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا بارہ شخصوں کے نام لئے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر آنحضرت ﷺ نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ ﷺ نے لشکر میں بھیجا تھا شہید ہوگئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لئے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ حضور ﷺ نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا اپنا خواب دوبارہ بیان کرو اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لئے جن کے نام قاصد نے لئے تھے۔ طبرانی میں ہے کہ جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں، حضرت صدیق نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے۔ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے۔ حافظ ابو عبداللہ مصری کی کتاب صفۃ الجنت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے طوبی کا ذکر ہو پس حضور ﷺ نے حضور صدیق اکبر سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے آپ ﷺ نے فرمایا جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوا اس کے پتے بڑے چوڑے چوڑے ہیں ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں، ابوبکر نے فرمایا پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور انشاء اللہ تم بھی انہی میں سے ہو۔ حضرت قتادہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے۔ (ترمذی) امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں جنتی کے دسترخوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصانی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آجائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آجائے گا۔ حور کی دوسری قرأت رے کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لئے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے، جیسے آیت (وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ) 5۔ المآئدہ :6) میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ آیت (عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ 21؀) 76۔ الإنسان :21) ہیں۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لئے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر واللہ اعلم۔ یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورة صافات میں ہے آیت (كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37۔ الصافات :49) سورة الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گذر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بےمعنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے (لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً 11ۭ) 88۔ الغاشية :11) فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے۔ نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا آیت (تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ 23؀) 14۔ ابراھیم :23) انکا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہوگا۔ انکی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہوگی۔

مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ تہائی تم ہو بلکہ آدھوں آدھ تم ہو تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہوگی جن میں تم بھی شریک ہو۔ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ ابن عساکر میں ہے حضرت عمر نے اس آیت کو سن کر حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت حضور ﷺ نے حضرت عمر کو بلا کر کہا سنو حضرت آدم سے لے کر مجھ تک ثلہ ہے اور صرف میری امت ثلہ ہے، ہم اپنے (ثلہ) کو پورا کرنے کے لئے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ حضور ﷺ کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس الحمد اللہ یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہوسکتا ہے ؟ کہ مقربین بار گاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہوسکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکل امتوں کے مقربین سے صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہوگی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم۔ یہی قول رائج ہے۔ چناچہ حضرت حسن سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا سابقین تو گذر چکے اے اللہ تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے۔ امام ابن سیرین بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہوجاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے، چناچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد والا پھر اس کا متصل زمانہ، الخ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی، تو یہ حدیث جب کہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں اسی طرح آ کر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اول والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے اس لئے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لئے حضور ﷺ فرماتے ہیں ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کرسکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور وہ اس طرح ہوں۔ الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الیہہ بنسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہوگی کہ گویا رات آگئی زمین کے تمام کناروں کو گھیرا لے گی فرشتے کہنے لگیں گے سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد ﷺ کے ساتھ ہیں۔ مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کردی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی ؒ نے دلائل نبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا (سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ ان اللہ کان تواباً) پھر فرماتے ستر کے بدلے سات سو ہیں جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بیخبر ہے پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور چونکہ حضور ﷺ کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لئے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ابو زمل کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ ﷺ نے دریافت فرمایا تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ﷺ میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا اللہ خیر سے ملائے شر سے بچائے ہمارے لئے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لئے بدتر بنائے ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بیشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا پانی ہر سو رواں ہے سبزے سے پٹا پڑا ہے انواع و اقوام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کرلیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔ پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گذرا ان گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو پھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے میں نے یہ دیکھا لیکن میں آپ تو چلتا ہی رہا جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ ﷺ اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ ﷺ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ ﷺ کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگئے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ ﷺ اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر حضور ﷺ کا رنگ متغیر ہوگیا تھوڑی دیر میں آپ ﷺ کی یہ حالت بدل گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہر بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گذر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہوں گے نہ وہ ہمیں چمٹے گی نہ ہمارا تعلق اس سے ہوگا نہ اس کا تعلق ہم سے نہ ہم اس کی چاہت کریں گے نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہوگی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پالیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہوجائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی آیت (فانا للہ وانا الیہ راجعون)۔ اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہوجائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ حضرت موسیٰ ؑ ہیں جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہوجاتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہوچکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے تھے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ حضرت ابراہیم ؑ ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے جو میری امت پر قائم ہوگی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو حضور ﷺ تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے در و یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ فعیل معنی میں مفعول کے ہے اسی لئے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو وضین کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہوگا، وہ علماء ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے نہ بڑے ہوں نہ بوڑھے ہوں۔ نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ اکواب کہتے ہیں ان کو زوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور اباریق وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لئے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔ اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہوگی۔ شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ سر درد قی اور پیشاب، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کردی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہوجائیگا، یہ تمام چیزیں لئے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے ارد گرد گھومتے رہیں گے تاکہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے، مسند ابو یعلی موصلی میں ہے حضرت عکراش بن ذویب ؓ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم کون ہو ؟ میں نے کہا عکراش بن ذویب فرمایا اپنا نسب نامہ دور تک بیان کردو میں نے مرہ بن دبیک تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس حضور ﷺ مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کردو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ عنہہ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کچھ کھانے کو ہے ؟ جواب ملا کہ ہاں چناچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ ﷺ نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا اے عکراش یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے ایک جگہ سے کھاؤ۔ پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا ہاں رسول اللہ ﷺ سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا اے عکراش اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ جس قسم کی کھجور جس قسم کی کھجور چاہو لے لو، پھر پانی آیا پس حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لئے اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو۔ (ترمزی اور ابن ماجہ) امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ ﷺ پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر حضور ﷺ اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس آئیں کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا بارہ شخصوں کے نام لئے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر آنحضرت ﷺ نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ ﷺ نے لشکر میں بھیجا تھا شہید ہوگئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لئے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ حضور ﷺ نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا اپنا خواب دوبارہ بیان کرو اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لئے جن کے نام قاصد نے لئے تھے۔ طبرانی میں ہے کہ جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں، حضرت صدیق نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے۔ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے۔ حافظ ابو عبداللہ مصری کی کتاب صفۃ الجنت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے طوبی کا ذکر ہو پس حضور ﷺ نے حضور صدیق اکبر سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے آپ ﷺ نے فرمایا جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوا اس کے پتے بڑے چوڑے چوڑے ہیں ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں، ابوبکر نے فرمایا پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور انشاء اللہ تم بھی انہی میں سے ہو۔ حضرت قتادہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے۔ (ترمذی) امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں جنتی کے دسترخوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصانی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آجائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آجائے گا۔ حور کی دوسری قرأت رے کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لئے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے، جیسے آیت (وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ) 5۔ المآئدہ :6) میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ آیت (عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ 21؀) 76۔ الإنسان :21) ہیں۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لئے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر واللہ اعلم۔ یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورة صافات میں ہے آیت (كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37۔ الصافات :49) سورة الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گذر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بےمعنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے (لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً 11ۭ) 88۔ الغاشية :11) فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے۔ نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا آیت (تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ 23؀) 14۔ ابراھیم :23) انکا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہوگا۔ انکی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہوگی۔

مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ تہائی تم ہو بلکہ آدھوں آدھ تم ہو تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہوگی جن میں تم بھی شریک ہو۔ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ ابن عساکر میں ہے حضرت عمر نے اس آیت کو سن کر حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت حضور ﷺ نے حضرت عمر کو بلا کر کہا سنو حضرت آدم سے لے کر مجھ تک ثلہ ہے اور صرف میری امت ثلہ ہے، ہم اپنے (ثلہ) کو پورا کرنے کے لئے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ حضور ﷺ کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس الحمد اللہ یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہوسکتا ہے ؟ کہ مقربین بار گاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہوسکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکل امتوں کے مقربین سے صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہوگی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم۔ یہی قول رائج ہے۔ چناچہ حضرت حسن سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا سابقین تو گذر چکے اے اللہ تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے۔ امام ابن سیرین بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہوجاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے، چناچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد والا پھر اس کا متصل زمانہ، الخ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی، تو یہ حدیث جب کہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں اسی طرح آ کر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اول والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے اس لئے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لئے حضور ﷺ فرماتے ہیں ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کرسکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور وہ اس طرح ہوں۔ الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الیہہ بنسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہوگی کہ گویا رات آگئی زمین کے تمام کناروں کو گھیرا لے گی فرشتے کہنے لگیں گے سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد ﷺ کے ساتھ ہیں۔ مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کردی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی ؒ نے دلائل نبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا (سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ ان اللہ کان تواباً) پھر فرماتے ستر کے بدلے سات سو ہیں جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بیخبر ہے پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور چونکہ حضور ﷺ کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لئے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ابو زمل کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ ﷺ نے دریافت فرمایا تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ﷺ میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا اللہ خیر سے ملائے شر سے بچائے ہمارے لئے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لئے بدتر بنائے ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بیشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا پانی ہر سو رواں ہے سبزے سے پٹا پڑا ہے انواع و اقوام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کرلیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔ پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گذرا ان گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو پھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے میں نے یہ دیکھا لیکن میں آپ تو چلتا ہی رہا جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ ﷺ اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ ﷺ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ ﷺ کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگئے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ ﷺ اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر حضور ﷺ کا رنگ متغیر ہوگیا تھوڑی دیر میں آپ ﷺ کی یہ حالت بدل گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہر بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گذر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہوں گے نہ وہ ہمیں چمٹے گی نہ ہمارا تعلق اس سے ہوگا نہ اس کا تعلق ہم سے نہ ہم اس کی چاہت کریں گے نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہوگی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پالیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہوجائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی آیت (فانا للہ وانا الیہ راجعون)۔ اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہوجائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ حضرت موسیٰ ؑ ہیں جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہوجاتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہوچکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے تھے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ حضرت ابراہیم ؑ ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے جو میری امت پر قائم ہوگی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو حضور ﷺ تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے در و یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ فعیل معنی میں مفعول کے ہے اسی لئے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو وضین کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہوگا، وہ علماء ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے نہ بڑے ہوں نہ بوڑھے ہوں۔ نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ اکواب کہتے ہیں ان کو زوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور اباریق وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لئے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔ اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہوگی۔ شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ سر درد قی اور پیشاب، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کردی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہوجائیگا، یہ تمام چیزیں لئے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے ارد گرد گھومتے رہیں گے تاکہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے، مسند ابو یعلی موصلی میں ہے حضرت عکراش بن ذویب ؓ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم کون ہو ؟ میں نے کہا عکراش بن ذویب فرمایا اپنا نسب نامہ دور تک بیان کردو میں نے مرہ بن دبیک تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس حضور ﷺ مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کردو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ عنہہ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کچھ کھانے کو ہے ؟ جواب ملا کہ ہاں چناچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ ﷺ نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا اے عکراش یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے ایک جگہ سے کھاؤ۔ پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا ہاں رسول اللہ ﷺ سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا اے عکراش اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ جس قسم کی کھجور جس قسم کی کھجور چاہو لے لو، پھر پانی آیا پس حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لئے اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو۔ (ترمزی اور ابن ماجہ) امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ ﷺ پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر حضور ﷺ اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس آئیں کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا بارہ شخصوں کے نام لئے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر آنحضرت ﷺ نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ ﷺ نے لشکر میں بھیجا تھا شہید ہوگئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لئے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ حضور ﷺ نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا اپنا خواب دوبارہ بیان کرو اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لئے جن کے نام قاصد نے لئے تھے۔ طبرانی میں ہے کہ جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں، حضرت صدیق نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے۔ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے۔ حافظ ابو عبداللہ مصری کی کتاب صفۃ الجنت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے طوبی کا ذکر ہو پس حضور ﷺ نے حضور صدیق اکبر سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے آپ ﷺ نے فرمایا جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوا اس کے پتے بڑے چوڑے چوڑے ہیں ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں، ابوبکر نے فرمایا پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور انشاء اللہ تم بھی انہی میں سے ہو۔ حضرت قتادہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے۔ (ترمذی) امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں جنتی کے دسترخوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصانی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آجائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آجائے گا۔ حور کی دوسری قرأت رے کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لئے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے، جیسے آیت (وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ) 5۔ المآئدہ :6) میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ آیت (عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ 21؀) 76۔ الإنسان :21) ہیں۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لئے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر واللہ اعلم۔ یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورة صافات میں ہے آیت (كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37۔ الصافات :49) سورة الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گذر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بےمعنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے (لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً 11ۭ) 88۔ الغاشية :11) فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے۔ نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا آیت (تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ 23؀) 14۔ ابراھیم :23) انکا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہوگا۔ انکی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہوگی۔

مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ تہائی تم ہو بلکہ آدھوں آدھ تم ہو تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہوگی جن میں تم بھی شریک ہو۔ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ ابن عساکر میں ہے حضرت عمر نے اس آیت کو سن کر حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت حضور ﷺ نے حضرت عمر کو بلا کر کہا سنو حضرت آدم سے لے کر مجھ تک ثلہ ہے اور صرف میری امت ثلہ ہے، ہم اپنے (ثلہ) کو پورا کرنے کے لئے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ حضور ﷺ کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس الحمد اللہ یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہوسکتا ہے ؟ کہ مقربین بار گاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہوسکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکل امتوں کے مقربین سے صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہوگی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم۔ یہی قول رائج ہے۔ چناچہ حضرت حسن سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا سابقین تو گذر چکے اے اللہ تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے۔ امام ابن سیرین بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہوجاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے، چناچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد والا پھر اس کا متصل زمانہ، الخ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی، تو یہ حدیث جب کہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں اسی طرح آ کر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اول والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے اس لئے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لئے حضور ﷺ فرماتے ہیں ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کرسکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور وہ اس طرح ہوں۔ الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الیہہ بنسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہوگی کہ گویا رات آگئی زمین کے تمام کناروں کو گھیرا لے گی فرشتے کہنے لگیں گے سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد ﷺ کے ساتھ ہیں۔ مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کردی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی ؒ نے دلائل نبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا (سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ ان اللہ کان تواباً) پھر فرماتے ستر کے بدلے سات سو ہیں جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بیخبر ہے پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور چونکہ حضور ﷺ کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لئے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ابو زمل کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ ﷺ نے دریافت فرمایا تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ﷺ میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا اللہ خیر سے ملائے شر سے بچائے ہمارے لئے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لئے بدتر بنائے ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بیشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا پانی ہر سو رواں ہے سبزے سے پٹا پڑا ہے انواع و اقوام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کرلیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔ پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گذرا ان گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو پھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے میں نے یہ دیکھا لیکن میں آپ تو چلتا ہی رہا جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ ﷺ اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ ﷺ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ ﷺ کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگئے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ ﷺ اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر حضور ﷺ کا رنگ متغیر ہوگیا تھوڑی دیر میں آپ ﷺ کی یہ حالت بدل گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہر بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گذر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہوں گے نہ وہ ہمیں چمٹے گی نہ ہمارا تعلق اس سے ہوگا نہ اس کا تعلق ہم سے نہ ہم اس کی چاہت کریں گے نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہوگی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پالیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہوجائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی آیت (فانا للہ وانا الیہ راجعون)۔ اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہوجائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ حضرت موسیٰ ؑ ہیں جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہوجاتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہوچکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے تھے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ حضرت ابراہیم ؑ ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے جو میری امت پر قائم ہوگی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو حضور ﷺ تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے در و یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ فعیل معنی میں مفعول کے ہے اسی لئے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو وضین کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہوگا، وہ علماء ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے نہ بڑے ہوں نہ بوڑھے ہوں۔ نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ اکواب کہتے ہیں ان کو زوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور اباریق وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لئے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔ اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہوگی۔ شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ سر درد قی اور پیشاب، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کردی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہوجائیگا، یہ تمام چیزیں لئے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے ارد گرد گھومتے رہیں گے تاکہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے، مسند ابو یعلی موصلی میں ہے حضرت عکراش بن ذویب ؓ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم کون ہو ؟ میں نے کہا عکراش بن ذویب فرمایا اپنا نسب نامہ دور تک بیان کردو میں نے مرہ بن دبیک تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس حضور ﷺ مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کردو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ عنہہ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کچھ کھانے کو ہے ؟ جواب ملا کہ ہاں چناچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ ﷺ نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا اے عکراش یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے ایک جگہ سے کھاؤ۔ پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا ہاں رسول اللہ ﷺ سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا اے عکراش اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ جس قسم کی کھجور جس قسم کی کھجور چاہو لے لو، پھر پانی آیا پس حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لئے اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو۔ (ترمزی اور ابن ماجہ) امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ ﷺ پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر حضور ﷺ اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس آئیں کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا بارہ شخصوں کے نام لئے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر آنحضرت ﷺ نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ ﷺ نے لشکر میں بھیجا تھا شہید ہوگئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لئے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ حضور ﷺ نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا اپنا خواب دوبارہ بیان کرو اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لئے جن کے نام قاصد نے لئے تھے۔ طبرانی میں ہے کہ جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں، حضرت صدیق نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے۔ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے۔ حافظ ابو عبداللہ مصری کی کتاب صفۃ الجنت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے طوبی کا ذکر ہو پس حضور ﷺ نے حضور صدیق اکبر سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے آپ ﷺ نے فرمایا جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوا اس کے پتے بڑے چوڑے چوڑے ہیں ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں، ابوبکر نے فرمایا پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور انشاء اللہ تم بھی انہی میں سے ہو۔ حضرت قتادہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے۔ (ترمذی) امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں جنتی کے دسترخوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصانی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آجائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آجائے گا۔ حور کی دوسری قرأت رے کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لئے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے، جیسے آیت (وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ) 5۔ المآئدہ :6) میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ آیت (عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ 21؀) 76۔ الإنسان :21) ہیں۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لئے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر واللہ اعلم۔ یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورة صافات میں ہے آیت (كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37۔ الصافات :49) سورة الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گذر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بےمعنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے (لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً 11ۭ) 88۔ الغاشية :11) فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے۔ نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا آیت (تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ 23؀) 14۔ ابراھیم :23) انکا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہوگا۔ انکی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہوگی۔

مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ تہائی تم ہو بلکہ آدھوں آدھ تم ہو تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہوگی جن میں تم بھی شریک ہو۔ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ ابن عساکر میں ہے حضرت عمر نے اس آیت کو سن کر حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت حضور ﷺ نے حضرت عمر کو بلا کر کہا سنو حضرت آدم سے لے کر مجھ تک ثلہ ہے اور صرف میری امت ثلہ ہے، ہم اپنے (ثلہ) کو پورا کرنے کے لئے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ حضور ﷺ کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس الحمد اللہ یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہوسکتا ہے ؟ کہ مقربین بار گاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہوسکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکل امتوں کے مقربین سے صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہوگی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم۔ یہی قول رائج ہے۔ چناچہ حضرت حسن سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا سابقین تو گذر چکے اے اللہ تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے۔ امام ابن سیرین بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہوجاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے، چناچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد والا پھر اس کا متصل زمانہ، الخ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی، تو یہ حدیث جب کہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں اسی طرح آ کر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اول والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے اس لئے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لئے حضور ﷺ فرماتے ہیں ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کرسکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور وہ اس طرح ہوں۔ الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الیہہ بنسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہوگی کہ گویا رات آگئی زمین کے تمام کناروں کو گھیرا لے گی فرشتے کہنے لگیں گے سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد ﷺ کے ساتھ ہیں۔ مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کردی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی ؒ نے دلائل نبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا (سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ ان اللہ کان تواباً) پھر فرماتے ستر کے بدلے سات سو ہیں جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بیخبر ہے پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور چونکہ حضور ﷺ کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لئے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ابو زمل کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ ﷺ نے دریافت فرمایا تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ﷺ میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا اللہ خیر سے ملائے شر سے بچائے ہمارے لئے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لئے بدتر بنائے ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بیشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا پانی ہر سو رواں ہے سبزے سے پٹا پڑا ہے انواع و اقوام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کرلیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔ پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گذرا ان گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو پھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے میں نے یہ دیکھا لیکن میں آپ تو چلتا ہی رہا جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ ﷺ اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ ﷺ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ ﷺ کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگئے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ ﷺ اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر حضور ﷺ کا رنگ متغیر ہوگیا تھوڑی دیر میں آپ ﷺ کی یہ حالت بدل گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہر بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گذر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہوں گے نہ وہ ہمیں چمٹے گی نہ ہمارا تعلق اس سے ہوگا نہ اس کا تعلق ہم سے نہ ہم اس کی چاہت کریں گے نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہوگی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پالیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہوجائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی آیت (فانا للہ وانا الیہ راجعون)۔ اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہوجائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ حضرت موسیٰ ؑ ہیں جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہوجاتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہوچکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے تھے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ حضرت ابراہیم ؑ ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے جو میری امت پر قائم ہوگی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو حضور ﷺ تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے در و یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ فعیل معنی میں مفعول کے ہے اسی لئے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو وضین کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہوگا، وہ علماء ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے نہ بڑے ہوں نہ بوڑھے ہوں۔ نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ اکواب کہتے ہیں ان کو زوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور اباریق وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لئے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔ اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہوگی۔ شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ سر درد قی اور پیشاب، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کردی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہوجائیگا، یہ تمام چیزیں لئے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے ارد گرد گھومتے رہیں گے تاکہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے، مسند ابو یعلی موصلی میں ہے حضرت عکراش بن ذویب ؓ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم کون ہو ؟ میں نے کہا عکراش بن ذویب فرمایا اپنا نسب نامہ دور تک بیان کردو میں نے مرہ بن دبیک تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس حضور ﷺ مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کردو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ عنہہ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کچھ کھانے کو ہے ؟ جواب ملا کہ ہاں چناچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ ﷺ نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا اے عکراش یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے ایک جگہ سے کھاؤ۔ پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا ہاں رسول اللہ ﷺ سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا اے عکراش اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ جس قسم کی کھجور جس قسم کی کھجور چاہو لے لو، پھر پانی آیا پس حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لئے اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو۔ (ترمزی اور ابن ماجہ) امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ ﷺ پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر حضور ﷺ اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس آئیں کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا بارہ شخصوں کے نام لئے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر آنحضرت ﷺ نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ ﷺ نے لشکر میں بھیجا تھا شہید ہوگئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لئے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ حضور ﷺ نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا اپنا خواب دوبارہ بیان کرو اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لئے جن کے نام قاصد نے لئے تھے۔ طبرانی میں ہے کہ جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں، حضرت صدیق نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے۔ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے۔ حافظ ابو عبداللہ مصری کی کتاب صفۃ الجنت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے طوبی کا ذکر ہو پس حضور ﷺ نے حضور صدیق اکبر سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے آپ ﷺ نے فرمایا جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوا اس کے پتے بڑے چوڑے چوڑے ہیں ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں، ابوبکر نے فرمایا پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور انشاء اللہ تم بھی انہی میں سے ہو۔ حضرت قتادہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے۔ (ترمذی) امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں جنتی کے دسترخوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصانی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آجائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آجائے گا۔ حور کی دوسری قرأت رے کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لئے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے، جیسے آیت (وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ) 5۔ المآئدہ :6) میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ آیت (عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ 21؀) 76۔ الإنسان :21) ہیں۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لئے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر واللہ اعلم۔ یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورة صافات میں ہے آیت (كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37۔ الصافات :49) سورة الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گذر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بےمعنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے (لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً 11ۭ) 88۔ الغاشية :11) فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے۔ نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا آیت (تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ 23؀) 14۔ ابراھیم :23) انکا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہوگا۔ انکی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہوگی۔

مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ تہائی تم ہو بلکہ آدھوں آدھ تم ہو تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہوگی جن میں تم بھی شریک ہو۔ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ ابن عساکر میں ہے حضرت عمر نے اس آیت کو سن کر حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت حضور ﷺ نے حضرت عمر کو بلا کر کہا سنو حضرت آدم سے لے کر مجھ تک ثلہ ہے اور صرف میری امت ثلہ ہے، ہم اپنے (ثلہ) کو پورا کرنے کے لئے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ حضور ﷺ کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس الحمد اللہ یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہوسکتا ہے ؟ کہ مقربین بار گاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہوسکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکل امتوں کے مقربین سے صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہوگی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم۔ یہی قول رائج ہے۔ چناچہ حضرت حسن سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا سابقین تو گذر چکے اے اللہ تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے۔ امام ابن سیرین بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہوجاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے، چناچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد والا پھر اس کا متصل زمانہ، الخ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی، تو یہ حدیث جب کہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں اسی طرح آ کر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اول والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے اس لئے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لئے حضور ﷺ فرماتے ہیں ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کرسکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور وہ اس طرح ہوں۔ الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الیہہ بنسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہوگی کہ گویا رات آگئی زمین کے تمام کناروں کو گھیرا لے گی فرشتے کہنے لگیں گے سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد ﷺ کے ساتھ ہیں۔ مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کردی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی ؒ نے دلائل نبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا (سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ ان اللہ کان تواباً) پھر فرماتے ستر کے بدلے سات سو ہیں جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بیخبر ہے پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور چونکہ حضور ﷺ کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لئے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ابو زمل کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ ﷺ نے دریافت فرمایا تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ﷺ میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا اللہ خیر سے ملائے شر سے بچائے ہمارے لئے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لئے بدتر بنائے ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بیشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا پانی ہر سو رواں ہے سبزے سے پٹا پڑا ہے انواع و اقوام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کرلیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔ پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گذرا ان گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو پھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے میں نے یہ دیکھا لیکن میں آپ تو چلتا ہی رہا جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ ﷺ اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ ﷺ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ ﷺ کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگئے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ ﷺ اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر حضور ﷺ کا رنگ متغیر ہوگیا تھوڑی دیر میں آپ ﷺ کی یہ حالت بدل گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہر بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گذر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہوں گے نہ وہ ہمیں چمٹے گی نہ ہمارا تعلق اس سے ہوگا نہ اس کا تعلق ہم سے نہ ہم اس کی چاہت کریں گے نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہوگی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پالیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہوجائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی آیت (فانا للہ وانا الیہ راجعون)۔ اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہوجائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ حضرت موسیٰ ؑ ہیں جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہوجاتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہوچکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے تھے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ حضرت ابراہیم ؑ ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے جو میری امت پر قائم ہوگی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو حضور ﷺ تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے در و یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ فعیل معنی میں مفعول کے ہے اسی لئے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو وضین کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہوگا، وہ علماء ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے نہ بڑے ہوں نہ بوڑھے ہوں۔ نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ اکواب کہتے ہیں ان کو زوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور اباریق وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لئے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔ اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہوگی۔ شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ سر درد قی اور پیشاب، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کردی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہوجائیگا، یہ تمام چیزیں لئے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے ارد گرد گھومتے رہیں گے تاکہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے، مسند ابو یعلی موصلی میں ہے حضرت عکراش بن ذویب ؓ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم کون ہو ؟ میں نے کہا عکراش بن ذویب فرمایا اپنا نسب نامہ دور تک بیان کردو میں نے مرہ بن دبیک تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس حضور ﷺ مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کردو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ عنہہ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کچھ کھانے کو ہے ؟ جواب ملا کہ ہاں چناچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ ﷺ نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا اے عکراش یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے ایک جگہ سے کھاؤ۔ پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا ہاں رسول اللہ ﷺ سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا اے عکراش اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ جس قسم کی کھجور جس قسم کی کھجور چاہو لے لو، پھر پانی آیا پس حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لئے اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو۔ (ترمزی اور ابن ماجہ) امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ ﷺ پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر حضور ﷺ اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس آئیں کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا بارہ شخصوں کے نام لئے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر آنحضرت ﷺ نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ ﷺ نے لشکر میں بھیجا تھا شہید ہوگئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لئے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ حضور ﷺ نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا اپنا خواب دوبارہ بیان کرو اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لئے جن کے نام قاصد نے لئے تھے۔ طبرانی میں ہے کہ جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں، حضرت صدیق نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے۔ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے۔ حافظ ابو عبداللہ مصری کی کتاب صفۃ الجنت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے طوبی کا ذکر ہو پس حضور ﷺ نے حضور صدیق اکبر سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے آپ ﷺ نے فرمایا جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوا اس کے پتے بڑے چوڑے چوڑے ہیں ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں، ابوبکر نے فرمایا پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور انشاء اللہ تم بھی انہی میں سے ہو۔ حضرت قتادہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے۔ (ترمذی) امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں جنتی کے دسترخوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصانی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آجائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آجائے گا۔ حور کی دوسری قرأت رے کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لئے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے، جیسے آیت (وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ) 5۔ المآئدہ :6) میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ آیت (عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ 21؀) 76۔ الإنسان :21) ہیں۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لئے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر واللہ اعلم۔ یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورة صافات میں ہے آیت (كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37۔ الصافات :49) سورة الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گذر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بےمعنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے (لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً 11ۭ) 88۔ الغاشية :11) فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے۔ نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا آیت (تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ 23؀) 14۔ ابراھیم :23) انکا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہوگا۔ انکی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہوگی۔

مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ تہائی تم ہو بلکہ آدھوں آدھ تم ہو تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہوگی جن میں تم بھی شریک ہو۔ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ ابن عساکر میں ہے حضرت عمر نے اس آیت کو سن کر حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت حضور ﷺ نے حضرت عمر کو بلا کر کہا سنو حضرت آدم سے لے کر مجھ تک ثلہ ہے اور صرف میری امت ثلہ ہے، ہم اپنے (ثلہ) کو پورا کرنے کے لئے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ حضور ﷺ کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس الحمد اللہ یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہوسکتا ہے ؟ کہ مقربین بار گاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہوسکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکل امتوں کے مقربین سے صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہوگی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم۔ یہی قول رائج ہے۔ چناچہ حضرت حسن سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا سابقین تو گذر چکے اے اللہ تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے۔ امام ابن سیرین بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہوجاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے، چناچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد والا پھر اس کا متصل زمانہ، الخ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی، تو یہ حدیث جب کہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں اسی طرح آ کر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اول والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے اس لئے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لئے حضور ﷺ فرماتے ہیں ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کرسکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور وہ اس طرح ہوں۔ الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الیہہ بنسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہوگی کہ گویا رات آگئی زمین کے تمام کناروں کو گھیرا لے گی فرشتے کہنے لگیں گے سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد ﷺ کے ساتھ ہیں۔ مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کردی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی ؒ نے دلائل نبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا (سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ ان اللہ کان تواباً) پھر فرماتے ستر کے بدلے سات سو ہیں جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بیخبر ہے پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور چونکہ حضور ﷺ کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لئے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ابو زمل کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ ﷺ نے دریافت فرمایا تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ﷺ میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا اللہ خیر سے ملائے شر سے بچائے ہمارے لئے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لئے بدتر بنائے ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بیشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا پانی ہر سو رواں ہے سبزے سے پٹا پڑا ہے انواع و اقوام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کرلیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔ پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گذرا ان گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو پھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے میں نے یہ دیکھا لیکن میں آپ تو چلتا ہی رہا جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ ﷺ اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ ﷺ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ ﷺ کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگئے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ ﷺ اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر حضور ﷺ کا رنگ متغیر ہوگیا تھوڑی دیر میں آپ ﷺ کی یہ حالت بدل گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہر بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گذر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہوں گے نہ وہ ہمیں چمٹے گی نہ ہمارا تعلق اس سے ہوگا نہ اس کا تعلق ہم سے نہ ہم اس کی چاہت کریں گے نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہوگی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پالیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہوجائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی آیت (فانا للہ وانا الیہ راجعون)۔ اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہوجائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ حضرت موسیٰ ؑ ہیں جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہوجاتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہوچکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے تھے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ حضرت ابراہیم ؑ ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے جو میری امت پر قائم ہوگی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو حضور ﷺ تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے در و یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ فعیل معنی میں مفعول کے ہے اسی لئے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو وضین کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہوگا، وہ علماء ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے نہ بڑے ہوں نہ بوڑھے ہوں۔ نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ اکواب کہتے ہیں ان کو زوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور اباریق وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لئے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔ اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہوگی۔ شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ سر درد قی اور پیشاب، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کردی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہوجائیگا، یہ تمام چیزیں لئے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے ارد گرد گھومتے رہیں گے تاکہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے، مسند ابو یعلی موصلی میں ہے حضرت عکراش بن ذویب ؓ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم کون ہو ؟ میں نے کہا عکراش بن ذویب فرمایا اپنا نسب نامہ دور تک بیان کردو میں نے مرہ بن دبیک تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس حضور ﷺ مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کردو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ عنہہ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کچھ کھانے کو ہے ؟ جواب ملا کہ ہاں چناچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ ﷺ نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا اے عکراش یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے ایک جگہ سے کھاؤ۔ پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا ہاں رسول اللہ ﷺ سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا اے عکراش اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ جس قسم کی کھجور جس قسم کی کھجور چاہو لے لو، پھر پانی آیا پس حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لئے اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو۔ (ترمزی اور ابن ماجہ) امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ ﷺ پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر حضور ﷺ اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس آئیں کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا بارہ شخصوں کے نام لئے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر آنحضرت ﷺ نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ ﷺ نے لشکر میں بھیجا تھا شہید ہوگئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لئے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ حضور ﷺ نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا اپنا خواب دوبارہ بیان کرو اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لئے جن کے نام قاصد نے لئے تھے۔ طبرانی میں ہے کہ جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں، حضرت صدیق نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے۔ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے۔ حافظ ابو عبداللہ مصری کی کتاب صفۃ الجنت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے طوبی کا ذکر ہو پس حضور ﷺ نے حضور صدیق اکبر سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے آپ ﷺ نے فرمایا جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوا اس کے پتے بڑے چوڑے چوڑے ہیں ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں، ابوبکر نے فرمایا پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور انشاء اللہ تم بھی انہی میں سے ہو۔ حضرت قتادہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے۔ (ترمذی) امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں جنتی کے دسترخوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصانی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آجائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آجائے گا۔ حور کی دوسری قرأت رے کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لئے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے، جیسے آیت (وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ) 5۔ المآئدہ :6) میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ آیت (عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ 21؀) 76۔ الإنسان :21) ہیں۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لئے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر واللہ اعلم۔ یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورة صافات میں ہے آیت (كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37۔ الصافات :49) سورة الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گذر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بےمعنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے (لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً 11ۭ) 88۔ الغاشية :11) فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے۔ نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا آیت (تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ 23؀) 14۔ ابراھیم :23) انکا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہوگا۔ انکی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہوگی۔

مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ تہائی تم ہو بلکہ آدھوں آدھ تم ہو تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہوگی جن میں تم بھی شریک ہو۔ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ ابن عساکر میں ہے حضرت عمر نے اس آیت کو سن کر حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت حضور ﷺ نے حضرت عمر کو بلا کر کہا سنو حضرت آدم سے لے کر مجھ تک ثلہ ہے اور صرف میری امت ثلہ ہے، ہم اپنے (ثلہ) کو پورا کرنے کے لئے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ حضور ﷺ کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس الحمد اللہ یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہوسکتا ہے ؟ کہ مقربین بار گاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہوسکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکل امتوں کے مقربین سے صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہوگی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم۔ یہی قول رائج ہے۔ چناچہ حضرت حسن سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا سابقین تو گذر چکے اے اللہ تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے۔ امام ابن سیرین بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہوجاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے، چناچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد والا پھر اس کا متصل زمانہ، الخ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی، تو یہ حدیث جب کہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں اسی طرح آ کر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اول والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے اس لئے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لئے حضور ﷺ فرماتے ہیں ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کرسکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور وہ اس طرح ہوں۔ الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الیہہ بنسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہوگی کہ گویا رات آگئی زمین کے تمام کناروں کو گھیرا لے گی فرشتے کہنے لگیں گے سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد ﷺ کے ساتھ ہیں۔ مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کردی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی ؒ نے دلائل نبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا (سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ ان اللہ کان تواباً) پھر فرماتے ستر کے بدلے سات سو ہیں جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بیخبر ہے پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور چونکہ حضور ﷺ کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لئے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ابو زمل کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ ﷺ نے دریافت فرمایا تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ﷺ میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا اللہ خیر سے ملائے شر سے بچائے ہمارے لئے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لئے بدتر بنائے ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بیشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا پانی ہر سو رواں ہے سبزے سے پٹا پڑا ہے انواع و اقوام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کرلیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔ پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گذرا ان گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو پھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے میں نے یہ دیکھا لیکن میں آپ تو چلتا ہی رہا جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ ﷺ اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ ﷺ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ ﷺ کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگئے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ ﷺ اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر حضور ﷺ کا رنگ متغیر ہوگیا تھوڑی دیر میں آپ ﷺ کی یہ حالت بدل گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہر بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گذر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہوں گے نہ وہ ہمیں چمٹے گی نہ ہمارا تعلق اس سے ہوگا نہ اس کا تعلق ہم سے نہ ہم اس کی چاہت کریں گے نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہوگی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پالیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہوجائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی آیت (فانا للہ وانا الیہ راجعون)۔ اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہوجائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ حضرت موسیٰ ؑ ہیں جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہوجاتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہوچکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے تھے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ حضرت ابراہیم ؑ ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے جو میری امت پر قائم ہوگی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو حضور ﷺ تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے در و یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ فعیل معنی میں مفعول کے ہے اسی لئے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو وضین کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہوگا، وہ علماء ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے نہ بڑے ہوں نہ بوڑھے ہوں۔ نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ اکواب کہتے ہیں ان کو زوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور اباریق وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لئے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔ اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہوگی۔ شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ سر درد قی اور پیشاب، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کردی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہوجائیگا، یہ تمام چیزیں لئے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے ارد گرد گھومتے رہیں گے تاکہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے، مسند ابو یعلی موصلی میں ہے حضرت عکراش بن ذویب ؓ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم کون ہو ؟ میں نے کہا عکراش بن ذویب فرمایا اپنا نسب نامہ دور تک بیان کردو میں نے مرہ بن دبیک تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس حضور ﷺ مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کردو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ عنہہ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کچھ کھانے کو ہے ؟ جواب ملا کہ ہاں چناچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ ﷺ نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا اے عکراش یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے ایک جگہ سے کھاؤ۔ پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا ہاں رسول اللہ ﷺ سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا اے عکراش اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ جس قسم کی کھجور جس قسم کی کھجور چاہو لے لو، پھر پانی آیا پس حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لئے اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو۔ (ترمزی اور ابن ماجہ) امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ ﷺ پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر حضور ﷺ اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس آئیں کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا بارہ شخصوں کے نام لئے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر آنحضرت ﷺ نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ ﷺ نے لشکر میں بھیجا تھا شہید ہوگئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لئے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ حضور ﷺ نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا اپنا خواب دوبارہ بیان کرو اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لئے جن کے نام قاصد نے لئے تھے۔ طبرانی میں ہے کہ جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں، حضرت صدیق نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے۔ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے۔ حافظ ابو عبداللہ مصری کی کتاب صفۃ الجنت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے طوبی کا ذکر ہو پس حضور ﷺ نے حضور صدیق اکبر سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے آپ ﷺ نے فرمایا جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوا اس کے پتے بڑے چوڑے چوڑے ہیں ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں، ابوبکر نے فرمایا پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور انشاء اللہ تم بھی انہی میں سے ہو۔ حضرت قتادہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے۔ (ترمذی) امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں جنتی کے دسترخوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصانی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آجائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آجائے گا۔ حور کی دوسری قرأت رے کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لئے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے، جیسے آیت (وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ) 5۔ المآئدہ :6) میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ آیت (عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ 21؀) 76۔ الإنسان :21) ہیں۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لئے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر واللہ اعلم۔ یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورة صافات میں ہے آیت (كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37۔ الصافات :49) سورة الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گذر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بےمعنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے (لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً 11ۭ) 88۔ الغاشية :11) فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے۔ نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا آیت (تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ 23؀) 14۔ ابراھیم :23) انکا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہوگا۔ انکی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہوگی۔

مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ تہائی تم ہو بلکہ آدھوں آدھ تم ہو تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہوگی جن میں تم بھی شریک ہو۔ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ ابن عساکر میں ہے حضرت عمر نے اس آیت کو سن کر حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت حضور ﷺ نے حضرت عمر کو بلا کر کہا سنو حضرت آدم سے لے کر مجھ تک ثلہ ہے اور صرف میری امت ثلہ ہے، ہم اپنے (ثلہ) کو پورا کرنے کے لئے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ حضور ﷺ کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس الحمد اللہ یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہوسکتا ہے ؟ کہ مقربین بار گاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہوسکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکل امتوں کے مقربین سے صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہوگی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم۔ یہی قول رائج ہے۔ چناچہ حضرت حسن سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا سابقین تو گذر چکے اے اللہ تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے۔ امام ابن سیرین بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہوجاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے، چناچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد والا پھر اس کا متصل زمانہ، الخ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی، تو یہ حدیث جب کہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں اسی طرح آ کر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اول والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے اس لئے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لئے حضور ﷺ فرماتے ہیں ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کرسکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور وہ اس طرح ہوں۔ الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الیہہ بنسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہوگی کہ گویا رات آگئی زمین کے تمام کناروں کو گھیرا لے گی فرشتے کہنے لگیں گے سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد ﷺ کے ساتھ ہیں۔ مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کردی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی ؒ نے دلائل نبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا (سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ ان اللہ کان تواباً) پھر فرماتے ستر کے بدلے سات سو ہیں جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بیخبر ہے پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور چونکہ حضور ﷺ کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لئے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ابو زمل کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ ﷺ نے دریافت فرمایا تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ﷺ میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا اللہ خیر سے ملائے شر سے بچائے ہمارے لئے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لئے بدتر بنائے ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بیشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا پانی ہر سو رواں ہے سبزے سے پٹا پڑا ہے انواع و اقوام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کرلیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔ پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گذرا ان گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو پھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے میں نے یہ دیکھا لیکن میں آپ تو چلتا ہی رہا جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ ﷺ اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ ﷺ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ ﷺ کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگئے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ ﷺ اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر حضور ﷺ کا رنگ متغیر ہوگیا تھوڑی دیر میں آپ ﷺ کی یہ حالت بدل گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہر بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گذر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہوں گے نہ وہ ہمیں چمٹے گی نہ ہمارا تعلق اس سے ہوگا نہ اس کا تعلق ہم سے نہ ہم اس کی چاہت کریں گے نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہوگی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پالیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہوجائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی آیت (فانا للہ وانا الیہ راجعون)۔ اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہوجائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ حضرت موسیٰ ؑ ہیں جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہوجاتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہوچکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے تھے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ حضرت ابراہیم ؑ ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے جو میری امت پر قائم ہوگی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو حضور ﷺ تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے در و یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ فعیل معنی میں مفعول کے ہے اسی لئے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو وضین کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہوگا، وہ علماء ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے نہ بڑے ہوں نہ بوڑھے ہوں۔ نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ اکواب کہتے ہیں ان کو زوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور اباریق وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لئے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔ اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہوگی۔ شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ سر درد قی اور پیشاب، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کردی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہوجائیگا، یہ تمام چیزیں لئے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے ارد گرد گھومتے رہیں گے تاکہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے، مسند ابو یعلی موصلی میں ہے حضرت عکراش بن ذویب ؓ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم کون ہو ؟ میں نے کہا عکراش بن ذویب فرمایا اپنا نسب نامہ دور تک بیان کردو میں نے مرہ بن دبیک تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس حضور ﷺ مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کردو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ عنہہ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کچھ کھانے کو ہے ؟ جواب ملا کہ ہاں چناچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ ﷺ نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا اے عکراش یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے ایک جگہ سے کھاؤ۔ پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا ہاں رسول اللہ ﷺ سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا اے عکراش اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ جس قسم کی کھجور جس قسم کی کھجور چاہو لے لو، پھر پانی آیا پس حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لئے اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو۔ (ترمزی اور ابن ماجہ) امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ ﷺ پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر حضور ﷺ اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس آئیں کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا بارہ شخصوں کے نام لئے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر آنحضرت ﷺ نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ ﷺ نے لشکر میں بھیجا تھا شہید ہوگئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لئے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ حضور ﷺ نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا اپنا خواب دوبارہ بیان کرو اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لئے جن کے نام قاصد نے لئے تھے۔ طبرانی میں ہے کہ جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں، حضرت صدیق نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے۔ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے۔ حافظ ابو عبداللہ مصری کی کتاب صفۃ الجنت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے طوبی کا ذکر ہو پس حضور ﷺ نے حضور صدیق اکبر سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے آپ ﷺ نے فرمایا جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوا اس کے پتے بڑے چوڑے چوڑے ہیں ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں، ابوبکر نے فرمایا پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور انشاء اللہ تم بھی انہی میں سے ہو۔ حضرت قتادہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے۔ (ترمذی) امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں جنتی کے دسترخوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصانی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آجائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آجائے گا۔ حور کی دوسری قرأت رے کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لئے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے، جیسے آیت (وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ) 5۔ المآئدہ :6) میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ آیت (عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ 21؀) 76۔ الإنسان :21) ہیں۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لئے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر واللہ اعلم۔ یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورة صافات میں ہے آیت (كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37۔ الصافات :49) سورة الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گذر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بےمعنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے (لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً 11ۭ) 88۔ الغاشية :11) فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے۔ نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا آیت (تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ 23؀) 14۔ ابراھیم :23) انکا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہوگا۔ انکی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہوگی۔

مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ تہائی تم ہو بلکہ آدھوں آدھ تم ہو تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہوگی جن میں تم بھی شریک ہو۔ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ ابن عساکر میں ہے حضرت عمر نے اس آیت کو سن کر حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت حضور ﷺ نے حضرت عمر کو بلا کر کہا سنو حضرت آدم سے لے کر مجھ تک ثلہ ہے اور صرف میری امت ثلہ ہے، ہم اپنے (ثلہ) کو پورا کرنے کے لئے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ حضور ﷺ کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس الحمد اللہ یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہوسکتا ہے ؟ کہ مقربین بار گاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہوسکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکل امتوں کے مقربین سے صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہوگی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم۔ یہی قول رائج ہے۔ چناچہ حضرت حسن سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا سابقین تو گذر چکے اے اللہ تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے۔ امام ابن سیرین بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہوجاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے، چناچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد والا پھر اس کا متصل زمانہ، الخ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی، تو یہ حدیث جب کہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں اسی طرح آ کر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اول والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے اس لئے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لئے حضور ﷺ فرماتے ہیں ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کرسکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور وہ اس طرح ہوں۔ الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الیہہ بنسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہوگی کہ گویا رات آگئی زمین کے تمام کناروں کو گھیرا لے گی فرشتے کہنے لگیں گے سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد ﷺ کے ساتھ ہیں۔ مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کردی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی ؒ نے دلائل نبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا (سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ ان اللہ کان تواباً) پھر فرماتے ستر کے بدلے سات سو ہیں جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بیخبر ہے پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور چونکہ حضور ﷺ کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لئے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ابو زمل کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ ﷺ نے دریافت فرمایا تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ﷺ میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا اللہ خیر سے ملائے شر سے بچائے ہمارے لئے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لئے بدتر بنائے ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بیشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا پانی ہر سو رواں ہے سبزے سے پٹا پڑا ہے انواع و اقوام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کرلیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔ پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گذرا ان گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو پھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے میں نے یہ دیکھا لیکن میں آپ تو چلتا ہی رہا جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ ﷺ اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ ﷺ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ ﷺ کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگئے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ ﷺ اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر حضور ﷺ کا رنگ متغیر ہوگیا تھوڑی دیر میں آپ ﷺ کی یہ حالت بدل گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہر بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گذر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہوں گے نہ وہ ہمیں چمٹے گی نہ ہمارا تعلق اس سے ہوگا نہ اس کا تعلق ہم سے نہ ہم اس کی چاہت کریں گے نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہوگی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پالیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہوجائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی آیت (فانا للہ وانا الیہ راجعون)۔ اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہوجائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ حضرت موسیٰ ؑ ہیں جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہوجاتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہوچکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے تھے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ حضرت ابراہیم ؑ ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے جو میری امت پر قائم ہوگی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو حضور ﷺ تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے در و یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ فعیل معنی میں مفعول کے ہے اسی لئے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو وضین کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہوگا، وہ علماء ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے نہ بڑے ہوں نہ بوڑھے ہوں۔ نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ اکواب کہتے ہیں ان کو زوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور اباریق وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لئے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔ اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہوگی۔ شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ سر درد قی اور پیشاب، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کردی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہوجائیگا، یہ تمام چیزیں لئے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے ارد گرد گھومتے رہیں گے تاکہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے، مسند ابو یعلی موصلی میں ہے حضرت عکراش بن ذویب ؓ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم کون ہو ؟ میں نے کہا عکراش بن ذویب فرمایا اپنا نسب نامہ دور تک بیان کردو میں نے مرہ بن دبیک تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس حضور ﷺ مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کردو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ عنہہ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کچھ کھانے کو ہے ؟ جواب ملا کہ ہاں چناچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ ﷺ نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا اے عکراش یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے ایک جگہ سے کھاؤ۔ پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا ہاں رسول اللہ ﷺ سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا اے عکراش اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ جس قسم کی کھجور جس قسم کی کھجور چاہو لے لو، پھر پانی آیا پس حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لئے اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو۔ (ترمزی اور ابن ماجہ) امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ ﷺ پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر حضور ﷺ اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس آئیں کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا بارہ شخصوں کے نام لئے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر آنحضرت ﷺ نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ ﷺ نے لشکر میں بھیجا تھا شہید ہوگئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لئے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ حضور ﷺ نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا اپنا خواب دوبارہ بیان کرو اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لئے جن کے نام قاصد نے لئے تھے۔ طبرانی میں ہے کہ جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں، حضرت صدیق نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے۔ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے۔ حافظ ابو عبداللہ مصری کی کتاب صفۃ الجنت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے طوبی کا ذکر ہو پس حضور ﷺ نے حضور صدیق اکبر سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے آپ ﷺ نے فرمایا جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوا اس کے پتے بڑے چوڑے چوڑے ہیں ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں، ابوبکر نے فرمایا پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور انشاء اللہ تم بھی انہی میں سے ہو۔ حضرت قتادہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے۔ (ترمذی) امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں جنتی کے دسترخوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصانی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آجائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آجائے گا۔ حور کی دوسری قرأت رے کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لئے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے، جیسے آیت (وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ) 5۔ المآئدہ :6) میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ آیت (عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ 21؀) 76۔ الإنسان :21) ہیں۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لئے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر واللہ اعلم۔ یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورة صافات میں ہے آیت (كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37۔ الصافات :49) سورة الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گذر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بےمعنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے (لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً 11ۭ) 88۔ الغاشية :11) فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے۔ نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا آیت (تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ 23؀) 14۔ ابراھیم :23) انکا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہوگا۔ انکی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہوگی۔

مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ تہائی تم ہو بلکہ آدھوں آدھ تم ہو تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہوگی جن میں تم بھی شریک ہو۔ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ ابن عساکر میں ہے حضرت عمر نے اس آیت کو سن کر حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت حضور ﷺ نے حضرت عمر کو بلا کر کہا سنو حضرت آدم سے لے کر مجھ تک ثلہ ہے اور صرف میری امت ثلہ ہے، ہم اپنے (ثلہ) کو پورا کرنے کے لئے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ حضور ﷺ کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس الحمد اللہ یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہوسکتا ہے ؟ کہ مقربین بار گاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہوسکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکل امتوں کے مقربین سے صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہوگی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم۔ یہی قول رائج ہے۔ چناچہ حضرت حسن سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا سابقین تو گذر چکے اے اللہ تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے۔ امام ابن سیرین بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہوجاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے، چناچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد والا پھر اس کا متصل زمانہ، الخ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی، تو یہ حدیث جب کہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں اسی طرح آ کر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اول والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے اس لئے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لئے حضور ﷺ فرماتے ہیں ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کرسکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور وہ اس طرح ہوں۔ الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الیہہ بنسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہوگی کہ گویا رات آگئی زمین کے تمام کناروں کو گھیرا لے گی فرشتے کہنے لگیں گے سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد ﷺ کے ساتھ ہیں۔ مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کردی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی ؒ نے دلائل نبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا (سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ ان اللہ کان تواباً) پھر فرماتے ستر کے بدلے سات سو ہیں جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بیخبر ہے پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور چونکہ حضور ﷺ کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لئے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ابو زمل کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ ﷺ نے دریافت فرمایا تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ﷺ میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا اللہ خیر سے ملائے شر سے بچائے ہمارے لئے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لئے بدتر بنائے ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بیشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا پانی ہر سو رواں ہے سبزے سے پٹا پڑا ہے انواع و اقوام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کرلیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔ پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گذرا ان گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو پھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے میں نے یہ دیکھا لیکن میں آپ تو چلتا ہی رہا جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ ﷺ اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ ﷺ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ ﷺ کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگئے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ ﷺ اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر حضور ﷺ کا رنگ متغیر ہوگیا تھوڑی دیر میں آپ ﷺ کی یہ حالت بدل گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہر بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گذر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہوں گے نہ وہ ہمیں چمٹے گی نہ ہمارا تعلق اس سے ہوگا نہ اس کا تعلق ہم سے نہ ہم اس کی چاہت کریں گے نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہوگی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پالیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہوجائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی آیت (فانا للہ وانا الیہ راجعون)۔ اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہوجائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ حضرت موسیٰ ؑ ہیں جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہوجاتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہوچکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے تھے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ حضرت ابراہیم ؑ ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے جو میری امت پر قائم ہوگی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو حضور ﷺ تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے در و یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ فعیل معنی میں مفعول کے ہے اسی لئے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو وضین کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہوگا، وہ علماء ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے نہ بڑے ہوں نہ بوڑھے ہوں۔ نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ اکواب کہتے ہیں ان کو زوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور اباریق وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لئے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔ اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہوگی۔ شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ سر درد قی اور پیشاب، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کردی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہوجائیگا، یہ تمام چیزیں لئے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے ارد گرد گھومتے رہیں گے تاکہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے، مسند ابو یعلی موصلی میں ہے حضرت عکراش بن ذویب ؓ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم کون ہو ؟ میں نے کہا عکراش بن ذویب فرمایا اپنا نسب نامہ دور تک بیان کردو میں نے مرہ بن دبیک تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس حضور ﷺ مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کردو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ عنہہ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کچھ کھانے کو ہے ؟ جواب ملا کہ ہاں چناچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ ﷺ نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا اے عکراش یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے ایک جگہ سے کھاؤ۔ پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا ہاں رسول اللہ ﷺ سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا اے عکراش اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ جس قسم کی کھجور جس قسم کی کھجور چاہو لے لو، پھر پانی آیا پس حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لئے اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو۔ (ترمزی اور ابن ماجہ) امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ ﷺ پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر حضور ﷺ اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس آئیں کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا بارہ شخصوں کے نام لئے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر آنحضرت ﷺ نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ ﷺ نے لشکر میں بھیجا تھا شہید ہوگئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لئے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ حضور ﷺ نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا اپنا خواب دوبارہ بیان کرو اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لئے جن کے نام قاصد نے لئے تھے۔ طبرانی میں ہے کہ جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں، حضرت صدیق نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے۔ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے۔ حافظ ابو عبداللہ مصری کی کتاب صفۃ الجنت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے طوبی کا ذکر ہو پس حضور ﷺ نے حضور صدیق اکبر سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے آپ ﷺ نے فرمایا جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوا اس کے پتے بڑے چوڑے چوڑے ہیں ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں، ابوبکر نے فرمایا پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور انشاء اللہ تم بھی انہی میں سے ہو۔ حضرت قتادہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے۔ (ترمذی) امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں جنتی کے دسترخوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصانی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آجائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آجائے گا۔ حور کی دوسری قرأت رے کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لئے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے، جیسے آیت (وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ) 5۔ المآئدہ :6) میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ آیت (عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ 21؀) 76۔ الإنسان :21) ہیں۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لئے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر واللہ اعلم۔ یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورة صافات میں ہے آیت (كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37۔ الصافات :49) سورة الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گذر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بےمعنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے (لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً 11ۭ) 88۔ الغاشية :11) فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے۔ نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا آیت (تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ 23؀) 14۔ ابراھیم :23) انکا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہوگا۔ انکی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہوگی۔

مقربین کون ہیں ؟ اور اولین کون ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہوسکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول ﷺ پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ تہائی تم ہو بلکہ آدھوں آدھ تم ہو تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہوگی جن میں تم بھی شریک ہو۔ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ ابن عساکر میں ہے حضرت عمر نے اس آیت کو سن کر حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت حضور ﷺ نے حضرت عمر کو بلا کر کہا سنو حضرت آدم سے لے کر مجھ تک ثلہ ہے اور صرف میری امت ثلہ ہے، ہم اپنے (ثلہ) کو پورا کرنے کے لئے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ حضور ﷺ کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس الحمد اللہ یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہوسکتا ہے ؟ کہ مقربین بار گاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہوسکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکل امتوں کے مقربین سے صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہوگی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم۔ یہی قول رائج ہے۔ چناچہ حضرت حسن سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا سابقین تو گذر چکے اے اللہ تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے۔ امام ابن سیرین بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہوجاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے، چناچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد والا پھر اس کا متصل زمانہ، الخ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی، تو یہ حدیث جب کہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں اسی طرح آ کر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اول والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے اس لئے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لئے حضور ﷺ فرماتے ہیں ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کرسکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور وہ اس طرح ہوں۔ الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الیہہ بنسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہوگی کہ گویا رات آگئی زمین کے تمام کناروں کو گھیرا لے گی فرشتے کہنے لگیں گے سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد ﷺ کے ساتھ ہیں۔ مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کردی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی ؒ نے دلائل نبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا (سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ ان اللہ کان تواباً) پھر فرماتے ستر کے بدلے سات سو ہیں جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بیخبر ہے پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور چونکہ حضور ﷺ کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لئے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ابو زمل کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ ﷺ نے دریافت فرمایا تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ﷺ میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا اللہ خیر سے ملائے شر سے بچائے ہمارے لئے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لئے بدتر بنائے ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بیشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا پانی ہر سو رواں ہے سبزے سے پٹا پڑا ہے انواع و اقوام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کرلیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔ پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گذرا ان گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو پھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے میں نے یہ دیکھا لیکن میں آپ تو چلتا ہی رہا جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ ﷺ اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ ﷺ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ ﷺ کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگئے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ ﷺ اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر حضور ﷺ کا رنگ متغیر ہوگیا تھوڑی دیر میں آپ ﷺ کی یہ حالت بدل گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہر بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گذر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہوں گے نہ وہ ہمیں چمٹے گی نہ ہمارا تعلق اس سے ہوگا نہ اس کا تعلق ہم سے نہ ہم اس کی چاہت کریں گے نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہوگی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پالیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہوجائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی آیت (فانا للہ وانا الیہ راجعون)۔ اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہوجائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ حضرت موسیٰ ؑ ہیں جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہوجاتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہوچکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے تھے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ حضرت ابراہیم ؑ ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے جو میری امت پر قائم ہوگی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو حضور ﷺ تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے در و یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ فعیل معنی میں مفعول کے ہے اسی لئے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو وضین کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہوگا، وہ علماء ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے نہ بڑے ہوں نہ بوڑھے ہوں۔ نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ اکواب کہتے ہیں ان کو زوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور اباریق وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لئے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔ اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہوگی۔ شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ سر درد قی اور پیشاب، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کردی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہوجائیگا، یہ تمام چیزیں لئے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے ارد گرد گھومتے رہیں گے تاکہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے، مسند ابو یعلی موصلی میں ہے حضرت عکراش بن ذویب ؓ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم کون ہو ؟ میں نے کہا عکراش بن ذویب فرمایا اپنا نسب نامہ دور تک بیان کردو میں نے مرہ بن دبیک تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس حضور ﷺ مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کردو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ عنہہ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کچھ کھانے کو ہے ؟ جواب ملا کہ ہاں چناچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ ﷺ نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا اے عکراش یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے ایک جگہ سے کھاؤ۔ پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا ہاں رسول اللہ ﷺ سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا اے عکراش اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ جس قسم کی کھجور جس قسم کی کھجور چاہو لے لو، پھر پانی آیا پس حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لئے اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو۔ (ترمزی اور ابن ماجہ) امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ ﷺ پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر حضور ﷺ اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس آئیں کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا بارہ شخصوں کے نام لئے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر آنحضرت ﷺ نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ ﷺ نے لشکر میں بھیجا تھا شہید ہوگئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لئے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ حضور ﷺ نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا اپنا خواب دوبارہ بیان کرو اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لئے جن کے نام قاصد نے لئے تھے۔ طبرانی میں ہے کہ جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں، حضرت صدیق نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے۔ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے۔ حافظ ابو عبداللہ مصری کی کتاب صفۃ الجنت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے طوبی کا ذکر ہو پس حضور ﷺ نے حضور صدیق اکبر سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے آپ ﷺ نے فرمایا جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوا اس کے پتے بڑے چوڑے چوڑے ہیں ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں، ابوبکر نے فرمایا پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور انشاء اللہ تم بھی انہی میں سے ہو۔ حضرت قتادہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے۔ (ترمذی) امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں جنتی کے دسترخوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصانی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آجائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آجائے گا۔ حور کی دوسری قرأت رے کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لئے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے، جیسے آیت (وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ) 5۔ المآئدہ :6) میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ آیت (عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ 21؀) 76۔ الإنسان :21) ہیں۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لئے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر واللہ اعلم۔ یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورة صافات میں ہے آیت (كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37۔ الصافات :49) سورة الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گذر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بےمعنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے (لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً 11ۭ) 88۔ الغاشية :11) فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے۔ نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا آیت (تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ 23؀) 14۔ ابراھیم :23) انکا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہوگا۔ انکی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہوگی۔

اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں جہاں بیری کے درخت ہیں لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے حضرت ابو بر احمد بن نجار ؒ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا حضور کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا یا رسول اللہ ﷺ قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا، آپ نے پوچھا وہ کونسا اس نے کہا بیری کا درخت، آپ نے فرمایا پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ مخضود نہیں پڑھا ؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کردیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کردیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہوگا، یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ طلح ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے۔ طلح ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سرزمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چناچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے۔ (منضود) کے معنی تہ بہ تہ پھل والا، پھل سے لدا ہوا۔ ان دونوں کا ذکر اس لئے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہوگا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے۔ جوہری فرماتے ہیں طلح بھی کہتے ہیں اور طلع بھی، حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بےخاسر اور بکثرت پھلدار ہیں واللہ اعلم۔ اور حضرات نے طلح سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے، اہل یمن کیلے کو طلح کہتے ہیں اور اہل حجاز موز کہتے ہیں۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔ صحیح بخاری میں رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے۔ گا لیکن سایہ ختم نہ ہوگا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو، مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد، مسند ابو یعلی میں بھی مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ شجرۃ الخلد ہے، ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، حضرت ابوہریرہ نے جب یہ روایت بیان کی اور حضرت کعب کے کانوں تک پہنچی تو آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے تورات حضرت موسیٰ پر اور قرآن حضرت محمد ﷺ پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بڑھیا ہو کر گرجائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا، اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں۔ ابو حصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابو صالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا کیا تو ابوہریرہ کو جھٹلاتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گذرا۔ میں کہتا ہوں اس ثابت، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنہ سونے کا ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آکر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہوگا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں نہ سورج آئے نہ گرمی ستائے، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گذر چکی ہیں، جیسے آیت (وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا 57؀) 4۔ النسآء :57) اور آیت (اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا 35۔) 13۔ الرعد :35) اور آیت (اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ 41؀ۙ) 77۔ المرسلات :41) وغیرہ پانی ہوگا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہوگی، اس کی پوری تفسیر آیت (فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاۗءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ 15؀) 47۔ محمد :15) میں گذر چکی ہے۔ ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیر میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے نہ کسی کان نے سنے نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گذرا۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہی کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے، حضرت ابن عباس کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گہن ہونے کا اور حضور ﷺ کا سورج گہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ بعد فراغت آپ کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ سے پوچھا حضور ﷺ ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی ؟ آپ نے فرمایا میں نے جنت دیکھی جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے۔ ابو یعلی میں ہے ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے حضرت ابی کعب نے پوچھا کہ حضور ﷺ آگے بڑھ گئے اور ہم بھی پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر حضرت ابی کعب نے پوچھا کہ حضور ﷺ آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، آپ نے فرمایا میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تاکہ لا کر تمہیں دوں پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کردیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی۔ اسی کے مثل حضرت جابر ؓ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے، مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر آنحضرت ﷺ سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے ؟ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں پھر پوچھا وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں۔ کیا تو شام میں گیا ہے ؟ اس نے کہا نہیں، فرمایا شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں ایک ہی تنہ ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے، اس نے پوچھا جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں ؟ فرمایا کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔ وہ کہنے لگا اس درخت کا تنہ کس قدر موٹا ہے آپ نے فرمایا اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گرپڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کرسکتا۔ اس نے کہا اس میں انگور بھی لگتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں پوچھا کتنے بڑے ؟ آپ نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو ؟ اس نے کہا ہاں، فرمایا بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔ اس نے کہا پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے آپ نے فرمایا بلکہ ساری برادری کو، پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ نہ کبھی ختم ہوں نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں ندارد بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پالیں اللہ کی قدرت ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہوگی نہ دوری ہوگی نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہوگی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گذر چکا۔ ان کے فرش بلند وبالا نرم اور گدگدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہوگی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی (ترمذی) یہ حدیث غریب ہے، بعض اہل معانی نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت ابن جرید ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔ حضرت حسن سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔ اس کے بعد ضمیر لائی جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لئے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی۔ جیسے حضرت سلیمان کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور شمس کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔ لیکن ابو عبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہوچکا آیت (وَحُوْرٌ عِيْنٌ 22 ۙ) 56۔ الواقعة :22) پس فرماتا ہے کہ ہم نے ان بیویوں کو نئی پیدائش میں پیدا کیا ہے، اس کے بعد کہ وہ باکل پھوس بڑھیا تھیں ہم نے انہیں نو عمر کنواریاں کر کے ایک خاص پیدائش میں پیدا کیا۔ وہ اپنے ظفافت و ملاحت، حسن صورت و جسامت سے خوش خلقی اور حلاوت کی وجہ سے اپنے خاوندوں کی بڑی پیاریاں ہیں، بعض کہتے ہیں عرباء کہتے ہیں ناز و کرشمہ والیوں کو حدیث میں ہے کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بڑھیا تھیں اور اب جنت میں گئی ہیں تو انہیں نو عمر وغیرہ کردیا ہے اور روایت میں ہے کہ خواہ یہ عورتیں کنواری تھیں یا ثیبہ تھیں اللہ ان سب کو ایسی کر دے گا، ایک بڑھیا عورت رسول مقبول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتی ہے کہ یارسول اللہ ﷺ میرے لئے دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے آپ نے فرمایا ام فلاں جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی، وہ روتی ہوئی واپس لوٹیں تو آپ نے فرمایا جاؤ انہیں سمجھا دو ، مطلب یہ ہے کہ جب وہ جنت میں جائیں گی بڑھیا نہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم انہیں نئی پیدائش میں پیدا کریں گے پھر باکرہ کردیں گے شمائل ترمذی وغیرہ طبرانی میں ہے حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ حورعین کی خبر مجھے دیجئے آپ نے فرمایا وہ گورے رنگ کی ہیں بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں سخت سیاہ اور بڑے بڑے بالوں والی ہیں جیسے گدھ کا پر ،۔ میں نے کہا (اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ 23ۚ) 56۔ الواقعة :23) کی بابت خبر دیجئے آپ نے ارشاد فرمایا دن کی صفائی اور جوت مثل اس موتی کے ہے جو سیپ سے ابھی ابھی نکلا ہو جسے کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو، میں نے کہا خیرات حسان کی کیا تفسیر ہے ؟ فرمایا خوش خلق خوبصورت میں نے کہا (كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37۔ الصافات :49) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ان کی نذاکت اور نرمی انڈے کی اس جھلی کی مانند ہوگی جو اندر ہوتی ہے، میں نے عرباء اترابا کے معنی دریافت کئے، فرمایا اس سے مراد دنیا کی مسلمان جنتی عورتیں ہیں جو بالکل بڑھیا پھوس تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں نئے سرے سے پیدا کیا اور کنواریاں اور خاوندوں کی چہیتیاں اور خاوندوں سے عشق رکھنے والیاں اور ہم عمر بنادیں، میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ دنیا کی عورتیں افضل ہیں جیسے استر سے ابرا بہتر ہوتا ہے، میں نے کہا اس فضیلت کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا نمازیں روزے اور اللہ تعالیٰ کی عبادتیں، اللہ نے ان کے چہرے نور سے ان کے جسم ریشم سے سنوار دیئے ہیں، سفید ریشم، سبز ریشم اور زرد سنہرے ریشم اور زرد سنہرے زیور بخوردان موتی کے کنگھیاں سونے کی یہ کہتی رہیں گی نحن الخالدات فلا نموت ابدا ونحن الناعمات فلا نباس ابدا ونحن المقیمات فلا نطعن ابدا ونحن الراضیات فلا نسخط ابدا طوبی لمن کنا لہ وکان لنا یعنی ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی مریں گی نہیں، ہم ناز اور نعمت والیاں ہیں کہ کبھی سفر میں نہیں جائیں گی ہم اپنے خاوندوں سے خوش رہنے والیاں ہیں کہ کبھی روٹھیں گی نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے لئے ہم ہیں اور خوش نصیب ہیں ہم کہ ان کے لئے ہیں۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ بعض عورتوں کے دو دو تین تین چار چار خاوند ہوجاتے ہیں اس کے بعد اسے موت آتی ہے مرنے کے بعد اگر یہ جنت میں گئی اور اس کے سب خاوند بھی گئے تو یہ کسے ملے گی ؟ آپ نے فرمایا اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس کے ساتھ چاہے رہے چناچہ یہ ان میں سے اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ بہترین برتاؤ کرتا رہا ہو، اللہ تعالیٰ سے کہے گی پروردگار یہ مجھ سے بہت اچھی بودوباش رکھتا تھا اسی کے نکاح میں مجھے دے، اے ام سلمہ حسن خلق دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو لئے ہوئے ہے۔ صور کی مشہور مطول حدیث میں ہے کہ رسول ﷺ تمام مسلمانوں کو جنت میں لے جانے کی سفارش کریں گے جس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے آپ کی شفاعت قبول کی اور آپ کو انہیں جنت میں پہنچانے کی اجازت دی، آپ فرماتے ہیں پھر میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا اللہ کی قسم تم جس قدر اپنے گھر بار اور اپنی بیویوں سے واقف ہو اس سے بہت زیادہ اہل جنت اپنے گھروں اور بیویوں سے واقف ہوں گے۔ پس ایک ایک جنتی کی بہتر بہتر بیویاں ہوں گی جو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور دو دو بیویاں عورتوں میں سے ہوں گی کہ انہیں بوجہ اپنی عبادت کے ان سب عورتوں پر فضیلت حاصل ہوگی جنتی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا یہ اس بالا خانے میں ہوگی جو یاقوت کا بنا ہوا ہوگا اس پلنگ پر ہوگی جو سونے کی تاروں سے بنا ہوا ہوگا اور جڑاؤ جڑا ہوا ہوگا، ستر جوڑے پہنے ہوئے ہوں گے جو سب باریک اور سبز چمکیلے خالص ریشم کے ہوں گے، یہ بیوی اس قدر نازک نورانی ہوگی کہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سینے کی طرف سے دیکھے گا تو صاف نظر آجائے گا، کہ کپڑے گوشت ہڈی کوئی چیز روک نہ ہوگی اس قدر اس کا جسم صاف اور آئینہ نما ہوگا جس طرح مروارید میں سوراخ کر کے ڈورا ڈال دیں تو وہ ڈورا باہر سے نظر آتا ہے اسی طرح اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا۔ ایسا ہی نورانی بدن اس جنتی کا بھی ہوگا، الغرض یہ اس کا آئینہ ہوگی، اور وہ اس کا یہ اس کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول ہوگا نہ یہ تھکے نہ وہ اس کا دل بھرے نہ اس کا۔ جب کبھی نزدیکی کرے گا تو کنواری پائے گا نہ اس کا عضو سست ہو نہ اسے گراں گذرے مگر خاص پانی وہاں نہ ہوگا جس سے گھن آئے، یہ یونہی مشغول ہوگا جو کان میں ندا آئے گی کہ یہ تو ہمیں خوب معلوم ہے کہ نہ آپ کا دل ان سے بھرے گا نہ ان کا آپ سے مگر آپ کی دوسری بیویاں بھی ہیں، اب یہ یہاں سے باہر آئے گا اور ایک ایک کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا اسے دیکھ کر بےساختہ اس کے منہ سے نکل جائے گا۔ کہ رب کی قسم تجھ سے بہتر جنت میں کوئی چیز نہیں نہ میری محبت کسی سے تجھ سے زیادہ ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا جنت سے تجھ سے زیادہ ہے، حضرت ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ کیا جنت میں جنتی لوگ جماع بھی کریں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے خوب اچھی طرح بہترین طریق پر جب الگ ہوگا وہ اسی وقت پھر پاک صاف اچھوتی باکرہ بن جائے گی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں مومن کو جنت میں اتنی اتنی عورتوں کے پاس جانے کی قوت عطا کی جائے گی، حضرت انس نے پوچھا حضور ﷺ کیا اتنی طاقت رکھے گا ؟ آپ نے فرمایا ایک سو آدمیوں کے برابر اسے قوت ملے گی، طبرانی کی حدیث میں ہے ایک ایک سو کنواریوں کے پاس ایک ایک دن میں ہو آئے گا۔ حافظ عبداللہ مقدسی فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ حدیث شرط صحیح پر ہے واللہ اعلم۔ ابن عباس عربا کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ اپنے خاوندوں کی محبوبہ ہوں گی، یہ اپنے خاوندوں کی عاشق اور خاوند ان کے عاشق۔ عکرمہ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ناز و کرشمہ والی ہے اور سند سے مروی ہے کہ معنی نزاکت والی ہے، تمیم بن حدلم کہتے ہیں عربا اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند کا دل مٹھی میں رکھے۔ زید بن اسلم وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد خوش کلام ہے اپنی باتوں سے اپنے خاوندوں کا دل مول لیتی ہیں جب کچھ بولیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پھول جھڑتے ہیں اور نور برستا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ انہیں عرب اس لئے کہا گیا ہے کہ ان کی بول چال عربی زبان میں ہوگی۔ اتراب کے معنی ہیں ہم عمر عینی تینتیس برس کی اور معنی ہیں کہ خاوند کی اور ان کی طبیعت اور خلق بالکل یکساں ہے جس سے وہ خوش یہ خوش جو اسے ناپسند اسے بھی ناپسند۔ ، یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ آپس میں ان میں بیر بغض سوتیا ڈاہ حسد اور رشک نہ ہوگا۔ یہ سب آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی تاکہ بےتکلف ایک دوسری سے ملیں جلیں کھیلیں کو دیں، ترمذی کی حدیث میں ہے کہ یہ جنتی حوریں ایک روح افزا باغ میں جمع ہو کر نہایت پیارے گلے سے گانا گائیں گی کہ ایسی سریلی اور رسیلی آواز مخلوق نے کبھی نہ سنی ہوگی، ان کا گانا وہی ہوگا جو اوپر بیان ہوا ابو یعلی میں ہے ان کے گانے میں یہ بھی ہوگا (نحن خیرات حسان)۔ (خبئنا لازواج کرام) ہم پاک صاف خوش وضع خوبصورت عورتیں ہیں جو بزرگ اور ذی عزت شوہروں کے لئے چھپا کر رکھی گئی تھیں اور روایت میں خیرات کے بدلے جوار کا لفظ آیا ہے۔ پھر فرمایا یہ اصحاب یمین کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور انہی کے لئے محفوظ و مصؤن رکھی گئی تھیں۔ لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ متعلق ہے آیت (اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35 ۙ) 56۔ الواقعة :35) ، کے یعنی ہم نے انہیں ان کے لئے بنایا ہے۔ حضرت ابو سلیمان دارانی رحمتۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ میں نے ایک رات تہجد کی نماز کے بعد دعا مانگنی شروع کی، چونکہ سخت سردی تھی، بڑے زور کا پالا پڑھ رہا تھا، ہاتھ اٹھائے نہیں جاتے تھے اس لئے میں نے ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگی اور اسی حالت میں دعا مانگتے مانگتے مجھے نیند آگئی خواب میں میں نے ایک حور کو دیکھا کہ اس جیسی خوبصورت نورانی شکل کبھی میری نگاہ سے نہیں گزری اس نے مجھ سے کہا اے ابو سلیمان ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگنے لگے اور یہ خیال نہیں کہ پانچ سو سال سے اللہ تعالیٰ مجھے تمہارے لئے اپنی خاص نعمتوں میں پرورش کر رہا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لام متعلق اتراباً کے ہو یعنی ان کی ہم عمر ہوں گی جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودہویں رات جیسے روشن ہوں گے ان کے بعد والی جماعت کے بہت چمکدار ستارے جیسے روشن ہوں گے یہ پاخانے پیشاب تھوک رینٹ سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کے پسینے مشک کی خوشبو والے ہوں گے ان کی انگیٹھیاں لؤلؤ کی ہوں گی ان کی بیویاں حور عین ہوں گی ان سب کے اخلاق مثل ایک ہی شخص کے ہوں گے، یہ سب اپنے باپ حضرت آدم ؑ کی شکل پر ساٹھ ہاتھ کے لانبے قد کے ہوں گے۔ طبرانی میں ہے اہل جنت بےبال اور بےریش گورے رنگ والے خوش خلق اور خوبصورت سرمگیں آنکھوں والے تینتیس برس کی عمر کے سات ہاتھ لانبے اور سات ہاتھ چوڑے چکلے مضبوط بدن والے ہوں گے۔ اس کا کچھ حصہ ترمذی میں بھی مروی ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ گو کسی عمر میں انتقال ہوا ہو دخول جنت کے وقت تینتیس سالہ عمر کے ہوں گے اور اسی عمر میں ہمیشہ رہیں گے، اسی طرح جہنمی بھی (ترمذی) اور روایت میں ہے کہ ان کے قد سات ہاتھ فرشتے کے ہاتھ کے اعتبار سے ہوں گے قد آدم حسن یوسف عمر عیسیٰ یعنی تینتیس سال اور زبان محمد ﷺ یعنی عربی والے ہوں گے، بےبال اور سرمگیں آنکھوں والے (ابن ابی الدنیا) اور روایت میں ہے کہ دخول جنت کے ساتھ ہی انہیں ایک جنتی درخت کے پاس لایا جائے گا اور وہاں انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے ان کے کپڑے نہ گلیں نہ سڑیں نہ پرانے ہوں نہ میلے ہوں ان کی جوانی نہ ڈھلے نہ جائے نہ فنا ہو۔ اصحاب یمین گزشتہ امتوں میں سے بھی بہت ہیں اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ نے اپنے صحابہ سے بیان فرمایا میرے سامنے انبیاء مع اپنے تابعدار امتیوں کے پیش ہوئے بعض نبی گذرتے تھے اور بعض نبی کے ساتھ ایک جماعت ہوتی تھی اور بعض نبی کے ساتھ صرف تین آدمی ہوتے تھے اور بعض کے ساتھ ایک بھی تھا راوی حدیث حضرت قتادہ نے اتنا بیان فرمایا کہ یہ آیت پڑھی (اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ 78؀) 11۔ ھود :78) کیا تم میں سے ایک بھی رشد و سمجھ والا نہیں ؟ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ بن عمران ؑ گذرے جو بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت ساتھ لئے ہوئے تھے، میں نے پوچھا پروردگار یہ کون ہیں ؟ جواب ملا یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران ہیں اور ان کے ساتھ ان کی تابعداری کرنے والی امت ہے میں نے پوچھا الٰہی پھر میری امت کہاں ہے ؟ فرمایا اپنی داہنی جانب نیچے کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی لوگوں کے بکثرت چہرے دمک رہے تھے، پھر مجھ سے پوچھا کہو اب تو خوش ہو میں نے کہا ہاں الٰہی میں خوش ہوں، مجھ سے فرمایا اب اپنی بائیں جانب کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا وہ وہاں بیشمار لوگ تھے پھر مجھ سے پوچھا اب تو راضی ہوگئے ؟ میں نے کہا ہاں میرے رب میں راضی ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور سنو ان کے ساتھ ستر ہزار اور لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے یہ سن کر حضرت عکاشہ ؓ کھڑے ہوگئے، یہ قبیلہ بنو اسد سے محصن کے لڑکے تھے بدر کی لڑائی میں موجود تھے عرض کی کہ یارسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی انہی میں سے کرے آپ نے دعا کی پھر ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول میرے لئے بھی دعا کیجئے۔ آپ نے فرمایا عکاشہ تجھ پر سبقت کر گئے، پھر آپ نے فرمایا لوگوں تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر تم سے ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے بنو جو بےحساب جنت میں جائیں گے، ورنہ کم سے کم دائیں جانب والوں میں سے ہوجاؤ گے، یہ بھی نہ ہو سکے تو کنارے والوں میں سے بن جاؤ۔ میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ اپنے حال میں ہی لٹک جاتے ہیں۔ پھر فرمایا مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی چوتھائی تعداد صرف تمہاری ہی ہوگی۔ پس ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا بلکہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت کی تہائی والے ہوگے، ہم نے پھر تکبیر کہی۔ فرمایا اور سنو ! تم آدھوں آدھ اہل جنت کے ہوگے ہم نے پھر تکبیر کہی اس کے بعد حضور ﷺ نے اسی آیت (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) کی تلاوت کی۔ اب ہم میں آپس میں مذاکرہ شروع ہوگیا کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے، پھر ہم نے کہا وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور شرک کیا ہی نہیں حضور ﷺ نے فرمایا بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے اور جھاڑ پھونک نہیں کرواتے اور فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ یہ حدیث بہت سی سندوں سے صحابہ کی روایت سے بہت سی کتابوں میں صحت کے ساتھ مروی ہے۔ ابن جریر میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس آیت میں پہلوں پچھلوں سے مراد میری امت کے اگلے پچھلے ہی ہیں۔

اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں جہاں بیری کے درخت ہیں لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے حضرت ابو بر احمد بن نجار ؒ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا حضور کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا یا رسول اللہ ﷺ قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا، آپ نے پوچھا وہ کونسا اس نے کہا بیری کا درخت، آپ نے فرمایا پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ مخضود نہیں پڑھا ؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کردیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کردیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہوگا، یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ طلح ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے۔ طلح ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سرزمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چناچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے۔ (منضود) کے معنی تہ بہ تہ پھل والا، پھل سے لدا ہوا۔ ان دونوں کا ذکر اس لئے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہوگا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے۔ جوہری فرماتے ہیں طلح بھی کہتے ہیں اور طلع بھی، حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بےخاسر اور بکثرت پھلدار ہیں واللہ اعلم۔ اور حضرات نے طلح سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے، اہل یمن کیلے کو طلح کہتے ہیں اور اہل حجاز موز کہتے ہیں۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔ صحیح بخاری میں رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے۔ گا لیکن سایہ ختم نہ ہوگا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو، مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد، مسند ابو یعلی میں بھی مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ شجرۃ الخلد ہے، ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، حضرت ابوہریرہ نے جب یہ روایت بیان کی اور حضرت کعب کے کانوں تک پہنچی تو آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے تورات حضرت موسیٰ پر اور قرآن حضرت محمد ﷺ پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بڑھیا ہو کر گرجائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا، اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں۔ ابو حصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابو صالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا کیا تو ابوہریرہ کو جھٹلاتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گذرا۔ میں کہتا ہوں اس ثابت، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنہ سونے کا ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آکر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہوگا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں نہ سورج آئے نہ گرمی ستائے، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گذر چکی ہیں، جیسے آیت (وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا 57؀) 4۔ النسآء :57) اور آیت (اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا 35۔) 13۔ الرعد :35) اور آیت (اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ 41؀ۙ) 77۔ المرسلات :41) وغیرہ پانی ہوگا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہوگی، اس کی پوری تفسیر آیت (فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاۗءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ 15؀) 47۔ محمد :15) میں گذر چکی ہے۔ ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیر میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے نہ کسی کان نے سنے نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گذرا۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہی کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے، حضرت ابن عباس کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گہن ہونے کا اور حضور ﷺ کا سورج گہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ بعد فراغت آپ کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ سے پوچھا حضور ﷺ ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی ؟ آپ نے فرمایا میں نے جنت دیکھی جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے۔ ابو یعلی میں ہے ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے حضرت ابی کعب نے پوچھا کہ حضور ﷺ آگے بڑھ گئے اور ہم بھی پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر حضرت ابی کعب نے پوچھا کہ حضور ﷺ آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، آپ نے فرمایا میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تاکہ لا کر تمہیں دوں پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کردیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی۔ اسی کے مثل حضرت جابر ؓ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے، مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر آنحضرت ﷺ سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے ؟ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں پھر پوچھا وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں۔ کیا تو شام میں گیا ہے ؟ اس نے کہا نہیں، فرمایا شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں ایک ہی تنہ ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے، اس نے پوچھا جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں ؟ فرمایا کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔ وہ کہنے لگا اس درخت کا تنہ کس قدر موٹا ہے آپ نے فرمایا اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گرپڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کرسکتا۔ اس نے کہا اس میں انگور بھی لگتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں پوچھا کتنے بڑے ؟ آپ نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو ؟ اس نے کہا ہاں، فرمایا بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔ اس نے کہا پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے آپ نے فرمایا بلکہ ساری برادری کو، پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ نہ کبھی ختم ہوں نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں ندارد بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پالیں اللہ کی قدرت ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہوگی نہ دوری ہوگی نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہوگی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گذر چکا۔ ان کے فرش بلند وبالا نرم اور گدگدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہوگی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی (ترمذی) یہ حدیث غریب ہے، بعض اہل معانی نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت ابن جرید ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔ حضرت حسن سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔ اس کے بعد ضمیر لائی جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لئے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی۔ جیسے حضرت سلیمان کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور شمس کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔ لیکن ابو عبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہوچکا آیت (وَحُوْرٌ عِيْنٌ 22 ۙ) 56۔ الواقعة :22) پس فرماتا ہے کہ ہم نے ان بیویوں کو نئی پیدائش میں پیدا کیا ہے، اس کے بعد کہ وہ باکل پھوس بڑھیا تھیں ہم نے انہیں نو عمر کنواریاں کر کے ایک خاص پیدائش میں پیدا کیا۔ وہ اپنے ظفافت و ملاحت، حسن صورت و جسامت سے خوش خلقی اور حلاوت کی وجہ سے اپنے خاوندوں کی بڑی پیاریاں ہیں، بعض کہتے ہیں عرباء کہتے ہیں ناز و کرشمہ والیوں کو حدیث میں ہے کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بڑھیا تھیں اور اب جنت میں گئی ہیں تو انہیں نو عمر وغیرہ کردیا ہے اور روایت میں ہے کہ خواہ یہ عورتیں کنواری تھیں یا ثیبہ تھیں اللہ ان سب کو ایسی کر دے گا، ایک بڑھیا عورت رسول مقبول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتی ہے کہ یارسول اللہ ﷺ میرے لئے دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے آپ نے فرمایا ام فلاں جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی، وہ روتی ہوئی واپس لوٹیں تو آپ نے فرمایا جاؤ انہیں سمجھا دو ، مطلب یہ ہے کہ جب وہ جنت میں جائیں گی بڑھیا نہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم انہیں نئی پیدائش میں پیدا کریں گے پھر باکرہ کردیں گے شمائل ترمذی وغیرہ طبرانی میں ہے حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ حورعین کی خبر مجھے دیجئے آپ نے فرمایا وہ گورے رنگ کی ہیں بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں سخت سیاہ اور بڑے بڑے بالوں والی ہیں جیسے گدھ کا پر ،۔ میں نے کہا (اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ 23ۚ) 56۔ الواقعة :23) کی بابت خبر دیجئے آپ نے ارشاد فرمایا دن کی صفائی اور جوت مثل اس موتی کے ہے جو سیپ سے ابھی ابھی نکلا ہو جسے کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو، میں نے کہا خیرات حسان کی کیا تفسیر ہے ؟ فرمایا خوش خلق خوبصورت میں نے کہا (كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37۔ الصافات :49) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ان کی نذاکت اور نرمی انڈے کی اس جھلی کی مانند ہوگی جو اندر ہوتی ہے، میں نے عرباء اترابا کے معنی دریافت کئے، فرمایا اس سے مراد دنیا کی مسلمان جنتی عورتیں ہیں جو بالکل بڑھیا پھوس تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں نئے سرے سے پیدا کیا اور کنواریاں اور خاوندوں کی چہیتیاں اور خاوندوں سے عشق رکھنے والیاں اور ہم عمر بنادیں، میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ دنیا کی عورتیں افضل ہیں جیسے استر سے ابرا بہتر ہوتا ہے، میں نے کہا اس فضیلت کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا نمازیں روزے اور اللہ تعالیٰ کی عبادتیں، اللہ نے ان کے چہرے نور سے ان کے جسم ریشم سے سنوار دیئے ہیں، سفید ریشم، سبز ریشم اور زرد سنہرے ریشم اور زرد سنہرے زیور بخوردان موتی کے کنگھیاں سونے کی یہ کہتی رہیں گی نحن الخالدات فلا نموت ابدا ونحن الناعمات فلا نباس ابدا ونحن المقیمات فلا نطعن ابدا ونحن الراضیات فلا نسخط ابدا طوبی لمن کنا لہ وکان لنا یعنی ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی مریں گی نہیں، ہم ناز اور نعمت والیاں ہیں کہ کبھی سفر میں نہیں جائیں گی ہم اپنے خاوندوں سے خوش رہنے والیاں ہیں کہ کبھی روٹھیں گی نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے لئے ہم ہیں اور خوش نصیب ہیں ہم کہ ان کے لئے ہیں۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ بعض عورتوں کے دو دو تین تین چار چار خاوند ہوجاتے ہیں اس کے بعد اسے موت آتی ہے مرنے کے بعد اگر یہ جنت میں گئی اور اس کے سب خاوند بھی گئے تو یہ کسے ملے گی ؟ آپ نے فرمایا اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس کے ساتھ چاہے رہے چناچہ یہ ان میں سے اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ بہترین برتاؤ کرتا رہا ہو، اللہ تعالیٰ سے کہے گی پروردگار یہ مجھ سے بہت اچھی بودوباش رکھتا تھا اسی کے نکاح میں مجھے دے، اے ام سلمہ حسن خلق دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو لئے ہوئے ہے۔ صور کی مشہور مطول حدیث میں ہے کہ رسول ﷺ تمام مسلمانوں کو جنت میں لے جانے کی سفارش کریں گے جس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے آپ کی شفاعت قبول کی اور آپ کو انہیں جنت میں پہنچانے کی اجازت دی، آپ فرماتے ہیں پھر میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا اللہ کی قسم تم جس قدر اپنے گھر بار اور اپنی بیویوں سے واقف ہو اس سے بہت زیادہ اہل جنت اپنے گھروں اور بیویوں سے واقف ہوں گے۔ پس ایک ایک جنتی کی بہتر بہتر بیویاں ہوں گی جو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور دو دو بیویاں عورتوں میں سے ہوں گی کہ انہیں بوجہ اپنی عبادت کے ان سب عورتوں پر فضیلت حاصل ہوگی جنتی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا یہ اس بالا خانے میں ہوگی جو یاقوت کا بنا ہوا ہوگا اس پلنگ پر ہوگی جو سونے کی تاروں سے بنا ہوا ہوگا اور جڑاؤ جڑا ہوا ہوگا، ستر جوڑے پہنے ہوئے ہوں گے جو سب باریک اور سبز چمکیلے خالص ریشم کے ہوں گے، یہ بیوی اس قدر نازک نورانی ہوگی کہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سینے کی طرف سے دیکھے گا تو صاف نظر آجائے گا، کہ کپڑے گوشت ہڈی کوئی چیز روک نہ ہوگی اس قدر اس کا جسم صاف اور آئینہ نما ہوگا جس طرح مروارید میں سوراخ کر کے ڈورا ڈال دیں تو وہ ڈورا باہر سے نظر آتا ہے اسی طرح اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا۔ ایسا ہی نورانی بدن اس جنتی کا بھی ہوگا، الغرض یہ اس کا آئینہ ہوگی، اور وہ اس کا یہ اس کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول ہوگا نہ یہ تھکے نہ وہ اس کا دل بھرے نہ اس کا۔ جب کبھی نزدیکی کرے گا تو کنواری پائے گا نہ اس کا عضو سست ہو نہ اسے گراں گذرے مگر خاص پانی وہاں نہ ہوگا جس سے گھن آئے، یہ یونہی مشغول ہوگا جو کان میں ندا آئے گی کہ یہ تو ہمیں خوب معلوم ہے کہ نہ آپ کا دل ان سے بھرے گا نہ ان کا آپ سے مگر آپ کی دوسری بیویاں بھی ہیں، اب یہ یہاں سے باہر آئے گا اور ایک ایک کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا اسے دیکھ کر بےساختہ اس کے منہ سے نکل جائے گا۔ کہ رب کی قسم تجھ سے بہتر جنت میں کوئی چیز نہیں نہ میری محبت کسی سے تجھ سے زیادہ ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا جنت سے تجھ سے زیادہ ہے، حضرت ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ کیا جنت میں جنتی لوگ جماع بھی کریں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے خوب اچھی طرح بہترین طریق پر جب الگ ہوگا وہ اسی وقت پھر پاک صاف اچھوتی باکرہ بن جائے گی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں مومن کو جنت میں اتنی اتنی عورتوں کے پاس جانے کی قوت عطا کی جائے گی، حضرت انس نے پوچھا حضور ﷺ کیا اتنی طاقت رکھے گا ؟ آپ نے فرمایا ایک سو آدمیوں کے برابر اسے قوت ملے گی، طبرانی کی حدیث میں ہے ایک ایک سو کنواریوں کے پاس ایک ایک دن میں ہو آئے گا۔ حافظ عبداللہ مقدسی فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ حدیث شرط صحیح پر ہے واللہ اعلم۔ ابن عباس عربا کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ اپنے خاوندوں کی محبوبہ ہوں گی، یہ اپنے خاوندوں کی عاشق اور خاوند ان کے عاشق۔ عکرمہ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ناز و کرشمہ والی ہے اور سند سے مروی ہے کہ معنی نزاکت والی ہے، تمیم بن حدلم کہتے ہیں عربا اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند کا دل مٹھی میں رکھے۔ زید بن اسلم وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد خوش کلام ہے اپنی باتوں سے اپنے خاوندوں کا دل مول لیتی ہیں جب کچھ بولیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پھول جھڑتے ہیں اور نور برستا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ انہیں عرب اس لئے کہا گیا ہے کہ ان کی بول چال عربی زبان میں ہوگی۔ اتراب کے معنی ہیں ہم عمر عینی تینتیس برس کی اور معنی ہیں کہ خاوند کی اور ان کی طبیعت اور خلق بالکل یکساں ہے جس سے وہ خوش یہ خوش جو اسے ناپسند اسے بھی ناپسند۔ ، یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ آپس میں ان میں بیر بغض سوتیا ڈاہ حسد اور رشک نہ ہوگا۔ یہ سب آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی تاکہ بےتکلف ایک دوسری سے ملیں جلیں کھیلیں کو دیں، ترمذی کی حدیث میں ہے کہ یہ جنتی حوریں ایک روح افزا باغ میں جمع ہو کر نہایت پیارے گلے سے گانا گائیں گی کہ ایسی سریلی اور رسیلی آواز مخلوق نے کبھی نہ سنی ہوگی، ان کا گانا وہی ہوگا جو اوپر بیان ہوا ابو یعلی میں ہے ان کے گانے میں یہ بھی ہوگا (نحن خیرات حسان)۔ (خبئنا لازواج کرام) ہم پاک صاف خوش وضع خوبصورت عورتیں ہیں جو بزرگ اور ذی عزت شوہروں کے لئے چھپا کر رکھی گئی تھیں اور روایت میں خیرات کے بدلے جوار کا لفظ آیا ہے۔ پھر فرمایا یہ اصحاب یمین کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور انہی کے لئے محفوظ و مصؤن رکھی گئی تھیں۔ لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ متعلق ہے آیت (اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35 ۙ) 56۔ الواقعة :35) ، کے یعنی ہم نے انہیں ان کے لئے بنایا ہے۔ حضرت ابو سلیمان دارانی رحمتۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ میں نے ایک رات تہجد کی نماز کے بعد دعا مانگنی شروع کی، چونکہ سخت سردی تھی، بڑے زور کا پالا پڑھ رہا تھا، ہاتھ اٹھائے نہیں جاتے تھے اس لئے میں نے ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگی اور اسی حالت میں دعا مانگتے مانگتے مجھے نیند آگئی خواب میں میں نے ایک حور کو دیکھا کہ اس جیسی خوبصورت نورانی شکل کبھی میری نگاہ سے نہیں گزری اس نے مجھ سے کہا اے ابو سلیمان ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگنے لگے اور یہ خیال نہیں کہ پانچ سو سال سے اللہ تعالیٰ مجھے تمہارے لئے اپنی خاص نعمتوں میں پرورش کر رہا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لام متعلق اتراباً کے ہو یعنی ان کی ہم عمر ہوں گی جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودہویں رات جیسے روشن ہوں گے ان کے بعد والی جماعت کے بہت چمکدار ستارے جیسے روشن ہوں گے یہ پاخانے پیشاب تھوک رینٹ سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کے پسینے مشک کی خوشبو والے ہوں گے ان کی انگیٹھیاں لؤلؤ کی ہوں گی ان کی بیویاں حور عین ہوں گی ان سب کے اخلاق مثل ایک ہی شخص کے ہوں گے، یہ سب اپنے باپ حضرت آدم ؑ کی شکل پر ساٹھ ہاتھ کے لانبے قد کے ہوں گے۔ طبرانی میں ہے اہل جنت بےبال اور بےریش گورے رنگ والے خوش خلق اور خوبصورت سرمگیں آنکھوں والے تینتیس برس کی عمر کے سات ہاتھ لانبے اور سات ہاتھ چوڑے چکلے مضبوط بدن والے ہوں گے۔ اس کا کچھ حصہ ترمذی میں بھی مروی ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ گو کسی عمر میں انتقال ہوا ہو دخول جنت کے وقت تینتیس سالہ عمر کے ہوں گے اور اسی عمر میں ہمیشہ رہیں گے، اسی طرح جہنمی بھی (ترمذی) اور روایت میں ہے کہ ان کے قد سات ہاتھ فرشتے کے ہاتھ کے اعتبار سے ہوں گے قد آدم حسن یوسف عمر عیسیٰ یعنی تینتیس سال اور زبان محمد ﷺ یعنی عربی والے ہوں گے، بےبال اور سرمگیں آنکھوں والے (ابن ابی الدنیا) اور روایت میں ہے کہ دخول جنت کے ساتھ ہی انہیں ایک جنتی درخت کے پاس لایا جائے گا اور وہاں انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے ان کے کپڑے نہ گلیں نہ سڑیں نہ پرانے ہوں نہ میلے ہوں ان کی جوانی نہ ڈھلے نہ جائے نہ فنا ہو۔ اصحاب یمین گزشتہ امتوں میں سے بھی بہت ہیں اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ نے اپنے صحابہ سے بیان فرمایا میرے سامنے انبیاء مع اپنے تابعدار امتیوں کے پیش ہوئے بعض نبی گذرتے تھے اور بعض نبی کے ساتھ ایک جماعت ہوتی تھی اور بعض نبی کے ساتھ صرف تین آدمی ہوتے تھے اور بعض کے ساتھ ایک بھی تھا راوی حدیث حضرت قتادہ نے اتنا بیان فرمایا کہ یہ آیت پڑھی (اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ 78؀) 11۔ ھود :78) کیا تم میں سے ایک بھی رشد و سمجھ والا نہیں ؟ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ بن عمران ؑ گذرے جو بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت ساتھ لئے ہوئے تھے، میں نے پوچھا پروردگار یہ کون ہیں ؟ جواب ملا یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران ہیں اور ان کے ساتھ ان کی تابعداری کرنے والی امت ہے میں نے پوچھا الٰہی پھر میری امت کہاں ہے ؟ فرمایا اپنی داہنی جانب نیچے کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی لوگوں کے بکثرت چہرے دمک رہے تھے، پھر مجھ سے پوچھا کہو اب تو خوش ہو میں نے کہا ہاں الٰہی میں خوش ہوں، مجھ سے فرمایا اب اپنی بائیں جانب کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا وہ وہاں بیشمار لوگ تھے پھر مجھ سے پوچھا اب تو راضی ہوگئے ؟ میں نے کہا ہاں میرے رب میں راضی ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور سنو ان کے ساتھ ستر ہزار اور لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے یہ سن کر حضرت عکاشہ ؓ کھڑے ہوگئے، یہ قبیلہ بنو اسد سے محصن کے لڑکے تھے بدر کی لڑائی میں موجود تھے عرض کی کہ یارسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی انہی میں سے کرے آپ نے دعا کی پھر ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول میرے لئے بھی دعا کیجئے۔ آپ نے فرمایا عکاشہ تجھ پر سبقت کر گئے، پھر آپ نے فرمایا لوگوں تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر تم سے ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے بنو جو بےحساب جنت میں جائیں گے، ورنہ کم سے کم دائیں جانب والوں میں سے ہوجاؤ گے، یہ بھی نہ ہو سکے تو کنارے والوں میں سے بن جاؤ۔ میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ اپنے حال میں ہی لٹک جاتے ہیں۔ پھر فرمایا مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی چوتھائی تعداد صرف تمہاری ہی ہوگی۔ پس ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا بلکہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت کی تہائی والے ہوگے، ہم نے پھر تکبیر کہی۔ فرمایا اور سنو ! تم آدھوں آدھ اہل جنت کے ہوگے ہم نے پھر تکبیر کہی اس کے بعد حضور ﷺ نے اسی آیت (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) کی تلاوت کی۔ اب ہم میں آپس میں مذاکرہ شروع ہوگیا کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے، پھر ہم نے کہا وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور شرک کیا ہی نہیں حضور ﷺ نے فرمایا بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے اور جھاڑ پھونک نہیں کرواتے اور فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ یہ حدیث بہت سی سندوں سے صحابہ کی روایت سے بہت سی کتابوں میں صحت کے ساتھ مروی ہے۔ ابن جریر میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس آیت میں پہلوں پچھلوں سے مراد میری امت کے اگلے پچھلے ہی ہیں۔

اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں جہاں بیری کے درخت ہیں لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے حضرت ابو بر احمد بن نجار ؒ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا حضور کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا یا رسول اللہ ﷺ قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا، آپ نے پوچھا وہ کونسا اس نے کہا بیری کا درخت، آپ نے فرمایا پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ مخضود نہیں پڑھا ؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کردیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کردیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہوگا، یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ طلح ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے۔ طلح ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سرزمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چناچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے۔ (منضود) کے معنی تہ بہ تہ پھل والا، پھل سے لدا ہوا۔ ان دونوں کا ذکر اس لئے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہوگا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے۔ جوہری فرماتے ہیں طلح بھی کہتے ہیں اور طلع بھی، حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بےخاسر اور بکثرت پھلدار ہیں واللہ اعلم۔ اور حضرات نے طلح سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے، اہل یمن کیلے کو طلح کہتے ہیں اور اہل حجاز موز کہتے ہیں۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔ صحیح بخاری میں رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے۔ گا لیکن سایہ ختم نہ ہوگا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو، مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد، مسند ابو یعلی میں بھی مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ شجرۃ الخلد ہے، ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، حضرت ابوہریرہ نے جب یہ روایت بیان کی اور حضرت کعب کے کانوں تک پہنچی تو آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے تورات حضرت موسیٰ پر اور قرآن حضرت محمد ﷺ پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بڑھیا ہو کر گرجائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا، اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں۔ ابو حصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابو صالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا کیا تو ابوہریرہ کو جھٹلاتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گذرا۔ میں کہتا ہوں اس ثابت، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنہ سونے کا ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آکر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہوگا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں نہ سورج آئے نہ گرمی ستائے، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گذر چکی ہیں، جیسے آیت (وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا 57؀) 4۔ النسآء :57) اور آیت (اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا 35۔) 13۔ الرعد :35) اور آیت (اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ 41؀ۙ) 77۔ المرسلات :41) وغیرہ پانی ہوگا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہوگی، اس کی پوری تفسیر آیت (فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاۗءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ 15؀) 47۔ محمد :15) میں گذر چکی ہے۔ ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیر میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے نہ کسی کان نے سنے نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گذرا۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہی کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے، حضرت ابن عباس کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گہن ہونے کا اور حضور ﷺ کا سورج گہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ بعد فراغت آپ کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ سے پوچھا حضور ﷺ ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی ؟ آپ نے فرمایا میں نے جنت دیکھی جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے۔ ابو یعلی میں ہے ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے حضرت ابی کعب نے پوچھا کہ حضور ﷺ آگے بڑھ گئے اور ہم بھی پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر حضرت ابی کعب نے پوچھا کہ حضور ﷺ آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، آپ نے فرمایا میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تاکہ لا کر تمہیں دوں پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کردیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی۔ اسی کے مثل حضرت جابر ؓ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے، مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر آنحضرت ﷺ سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے ؟ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں پھر پوچھا وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں۔ کیا تو شام میں گیا ہے ؟ اس نے کہا نہیں، فرمایا شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں ایک ہی تنہ ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے، اس نے پوچھا جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں ؟ فرمایا کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔ وہ کہنے لگا اس درخت کا تنہ کس قدر موٹا ہے آپ نے فرمایا اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گرپڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کرسکتا۔ اس نے کہا اس میں انگور بھی لگتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں پوچھا کتنے بڑے ؟ آپ نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو ؟ اس نے کہا ہاں، فرمایا بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔ اس نے کہا پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے آپ نے فرمایا بلکہ ساری برادری کو، پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ نہ کبھی ختم ہوں نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں ندارد بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پالیں اللہ کی قدرت ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہوگی نہ دوری ہوگی نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہوگی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گذر چکا۔ ان کے فرش بلند وبالا نرم اور گدگدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہوگی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی (ترمذی) یہ حدیث غریب ہے، بعض اہل معانی نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت ابن جرید ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔ حضرت حسن سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔ اس کے بعد ضمیر لائی جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لئے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی۔ جیسے حضرت سلیمان کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور شمس کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔ لیکن ابو عبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہوچکا آیت (وَحُوْرٌ عِيْنٌ 22 ۙ) 56۔ الواقعة :22) پس فرماتا ہے کہ ہم نے ان بیویوں کو نئی پیدائش میں پیدا کیا ہے، اس کے بعد کہ وہ باکل پھوس بڑھیا تھیں ہم نے انہیں نو عمر کنواریاں کر کے ایک خاص پیدائش میں پیدا کیا۔ وہ اپنے ظفافت و ملاحت، حسن صورت و جسامت سے خوش خلقی اور حلاوت کی وجہ سے اپنے خاوندوں کی بڑی پیاریاں ہیں، بعض کہتے ہیں عرباء کہتے ہیں ناز و کرشمہ والیوں کو حدیث میں ہے کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بڑھیا تھیں اور اب جنت میں گئی ہیں تو انہیں نو عمر وغیرہ کردیا ہے اور روایت میں ہے کہ خواہ یہ عورتیں کنواری تھیں یا ثیبہ تھیں اللہ ان سب کو ایسی کر دے گا، ایک بڑھیا عورت رسول مقبول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتی ہے کہ یارسول اللہ ﷺ میرے لئے دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے آپ نے فرمایا ام فلاں جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی، وہ روتی ہوئی واپس لوٹیں تو آپ نے فرمایا جاؤ انہیں سمجھا دو ، مطلب یہ ہے کہ جب وہ جنت میں جائیں گی بڑھیا نہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم انہیں نئی پیدائش میں پیدا کریں گے پھر باکرہ کردیں گے شمائل ترمذی وغیرہ طبرانی میں ہے حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ حورعین کی خبر مجھے دیجئے آپ نے فرمایا وہ گورے رنگ کی ہیں بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں سخت سیاہ اور بڑے بڑے بالوں والی ہیں جیسے گدھ کا پر ،۔ میں نے کہا (اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ 23ۚ) 56۔ الواقعة :23) کی بابت خبر دیجئے آپ نے ارشاد فرمایا دن کی صفائی اور جوت مثل اس موتی کے ہے جو سیپ سے ابھی ابھی نکلا ہو جسے کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو، میں نے کہا خیرات حسان کی کیا تفسیر ہے ؟ فرمایا خوش خلق خوبصورت میں نے کہا (كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37۔ الصافات :49) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ان کی نذاکت اور نرمی انڈے کی اس جھلی کی مانند ہوگی جو اندر ہوتی ہے، میں نے عرباء اترابا کے معنی دریافت کئے، فرمایا اس سے مراد دنیا کی مسلمان جنتی عورتیں ہیں جو بالکل بڑھیا پھوس تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں نئے سرے سے پیدا کیا اور کنواریاں اور خاوندوں کی چہیتیاں اور خاوندوں سے عشق رکھنے والیاں اور ہم عمر بنادیں، میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ دنیا کی عورتیں افضل ہیں جیسے استر سے ابرا بہتر ہوتا ہے، میں نے کہا اس فضیلت کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا نمازیں روزے اور اللہ تعالیٰ کی عبادتیں، اللہ نے ان کے چہرے نور سے ان کے جسم ریشم سے سنوار دیئے ہیں، سفید ریشم، سبز ریشم اور زرد سنہرے ریشم اور زرد سنہرے زیور بخوردان موتی کے کنگھیاں سونے کی یہ کہتی رہیں گی نحن الخالدات فلا نموت ابدا ونحن الناعمات فلا نباس ابدا ونحن المقیمات فلا نطعن ابدا ونحن الراضیات فلا نسخط ابدا طوبی لمن کنا لہ وکان لنا یعنی ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی مریں گی نہیں، ہم ناز اور نعمت والیاں ہیں کہ کبھی سفر میں نہیں جائیں گی ہم اپنے خاوندوں سے خوش رہنے والیاں ہیں کہ کبھی روٹھیں گی نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے لئے ہم ہیں اور خوش نصیب ہیں ہم کہ ان کے لئے ہیں۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ بعض عورتوں کے دو دو تین تین چار چار خاوند ہوجاتے ہیں اس کے بعد اسے موت آتی ہے مرنے کے بعد اگر یہ جنت میں گئی اور اس کے سب خاوند بھی گئے تو یہ کسے ملے گی ؟ آپ نے فرمایا اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس کے ساتھ چاہے رہے چناچہ یہ ان میں سے اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ بہترین برتاؤ کرتا رہا ہو، اللہ تعالیٰ سے کہے گی پروردگار یہ مجھ سے بہت اچھی بودوباش رکھتا تھا اسی کے نکاح میں مجھے دے، اے ام سلمہ حسن خلق دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو لئے ہوئے ہے۔ صور کی مشہور مطول حدیث میں ہے کہ رسول ﷺ تمام مسلمانوں کو جنت میں لے جانے کی سفارش کریں گے جس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے آپ کی شفاعت قبول کی اور آپ کو انہیں جنت میں پہنچانے کی اجازت دی، آپ فرماتے ہیں پھر میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا اللہ کی قسم تم جس قدر اپنے گھر بار اور اپنی بیویوں سے واقف ہو اس سے بہت زیادہ اہل جنت اپنے گھروں اور بیویوں سے واقف ہوں گے۔ پس ایک ایک جنتی کی بہتر بہتر بیویاں ہوں گی جو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور دو دو بیویاں عورتوں میں سے ہوں گی کہ انہیں بوجہ اپنی عبادت کے ان سب عورتوں پر فضیلت حاصل ہوگی جنتی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا یہ اس بالا خانے میں ہوگی جو یاقوت کا بنا ہوا ہوگا اس پلنگ پر ہوگی جو سونے کی تاروں سے بنا ہوا ہوگا اور جڑاؤ جڑا ہوا ہوگا، ستر جوڑے پہنے ہوئے ہوں گے جو سب باریک اور سبز چمکیلے خالص ریشم کے ہوں گے، یہ بیوی اس قدر نازک نورانی ہوگی کہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سینے کی طرف سے دیکھے گا تو صاف نظر آجائے گا، کہ کپڑے گوشت ہڈی کوئی چیز روک نہ ہوگی اس قدر اس کا جسم صاف اور آئینہ نما ہوگا جس طرح مروارید میں سوراخ کر کے ڈورا ڈال دیں تو وہ ڈورا باہر سے نظر آتا ہے اسی طرح اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا۔ ایسا ہی نورانی بدن اس جنتی کا بھی ہوگا، الغرض یہ اس کا آئینہ ہوگی، اور وہ اس کا یہ اس کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول ہوگا نہ یہ تھکے نہ وہ اس کا دل بھرے نہ اس کا۔ جب کبھی نزدیکی کرے گا تو کنواری پائے گا نہ اس کا عضو سست ہو نہ اسے گراں گذرے مگر خاص پانی وہاں نہ ہوگا جس سے گھن آئے، یہ یونہی مشغول ہوگا جو کان میں ندا آئے گی کہ یہ تو ہمیں خوب معلوم ہے کہ نہ آپ کا دل ان سے بھرے گا نہ ان کا آپ سے مگر آپ کی دوسری بیویاں بھی ہیں، اب یہ یہاں سے باہر آئے گا اور ایک ایک کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا اسے دیکھ کر بےساختہ اس کے منہ سے نکل جائے گا۔ کہ رب کی قسم تجھ سے بہتر جنت میں کوئی چیز نہیں نہ میری محبت کسی سے تجھ سے زیادہ ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا جنت سے تجھ سے زیادہ ہے، حضرت ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ کیا جنت میں جنتی لوگ جماع بھی کریں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے خوب اچھی طرح بہترین طریق پر جب الگ ہوگا وہ اسی وقت پھر پاک صاف اچھوتی باکرہ بن جائے گی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں مومن کو جنت میں اتنی اتنی عورتوں کے پاس جانے کی قوت عطا کی جائے گی، حضرت انس نے پوچھا حضور ﷺ کیا اتنی طاقت رکھے گا ؟ آپ نے فرمایا ایک سو آدمیوں کے برابر اسے قوت ملے گی، طبرانی کی حدیث میں ہے ایک ایک سو کنواریوں کے پاس ایک ایک دن میں ہو آئے گا۔ حافظ عبداللہ مقدسی فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ حدیث شرط صحیح پر ہے واللہ اعلم۔ ابن عباس عربا کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ اپنے خاوندوں کی محبوبہ ہوں گی، یہ اپنے خاوندوں کی عاشق اور خاوند ان کے عاشق۔ عکرمہ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ناز و کرشمہ والی ہے اور سند سے مروی ہے کہ معنی نزاکت والی ہے، تمیم بن حدلم کہتے ہیں عربا اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند کا دل مٹھی میں رکھے۔ زید بن اسلم وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد خوش کلام ہے اپنی باتوں سے اپنے خاوندوں کا دل مول لیتی ہیں جب کچھ بولیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پھول جھڑتے ہیں اور نور برستا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ انہیں عرب اس لئے کہا گیا ہے کہ ان کی بول چال عربی زبان میں ہوگی۔ اتراب کے معنی ہیں ہم عمر عینی تینتیس برس کی اور معنی ہیں کہ خاوند کی اور ان کی طبیعت اور خلق بالکل یکساں ہے جس سے وہ خوش یہ خوش جو اسے ناپسند اسے بھی ناپسند۔ ، یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ آپس میں ان میں بیر بغض سوتیا ڈاہ حسد اور رشک نہ ہوگا۔ یہ سب آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی تاکہ بےتکلف ایک دوسری سے ملیں جلیں کھیلیں کو دیں، ترمذی کی حدیث میں ہے کہ یہ جنتی حوریں ایک روح افزا باغ میں جمع ہو کر نہایت پیارے گلے سے گانا گائیں گی کہ ایسی سریلی اور رسیلی آواز مخلوق نے کبھی نہ سنی ہوگی، ان کا گانا وہی ہوگا جو اوپر بیان ہوا ابو یعلی میں ہے ان کے گانے میں یہ بھی ہوگا (نحن خیرات حسان)۔ (خبئنا لازواج کرام) ہم پاک صاف خوش وضع خوبصورت عورتیں ہیں جو بزرگ اور ذی عزت شوہروں کے لئے چھپا کر رکھی گئی تھیں اور روایت میں خیرات کے بدلے جوار کا لفظ آیا ہے۔ پھر فرمایا یہ اصحاب یمین کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور انہی کے لئے محفوظ و مصؤن رکھی گئی تھیں۔ لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ متعلق ہے آیت (اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35 ۙ) 56۔ الواقعة :35) ، کے یعنی ہم نے انہیں ان کے لئے بنایا ہے۔ حضرت ابو سلیمان دارانی رحمتۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ میں نے ایک رات تہجد کی نماز کے بعد دعا مانگنی شروع کی، چونکہ سخت سردی تھی، بڑے زور کا پالا پڑھ رہا تھا، ہاتھ اٹھائے نہیں جاتے تھے اس لئے میں نے ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگی اور اسی حالت میں دعا مانگتے مانگتے مجھے نیند آگئی خواب میں میں نے ایک حور کو دیکھا کہ اس جیسی خوبصورت نورانی شکل کبھی میری نگاہ سے نہیں گزری اس نے مجھ سے کہا اے ابو سلیمان ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگنے لگے اور یہ خیال نہیں کہ پانچ سو سال سے اللہ تعالیٰ مجھے تمہارے لئے اپنی خاص نعمتوں میں پرورش کر رہا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لام متعلق اتراباً کے ہو یعنی ان کی ہم عمر ہوں گی جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودہویں رات جیسے روشن ہوں گے ان کے بعد والی جماعت کے بہت چمکدار ستارے جیسے روشن ہوں گے یہ پاخانے پیشاب تھوک رینٹ سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کے پسینے مشک کی خوشبو والے ہوں گے ان کی انگیٹھیاں لؤلؤ کی ہوں گی ان کی بیویاں حور عین ہوں گی ان سب کے اخلاق مثل ایک ہی شخص کے ہوں گے، یہ سب اپنے باپ حضرت آدم ؑ کی شکل پر ساٹھ ہاتھ کے لانبے قد کے ہوں گے۔ طبرانی میں ہے اہل جنت بےبال اور بےریش گورے رنگ والے خوش خلق اور خوبصورت سرمگیں آنکھوں والے تینتیس برس کی عمر کے سات ہاتھ لانبے اور سات ہاتھ چوڑے چکلے مضبوط بدن والے ہوں گے۔ اس کا کچھ حصہ ترمذی میں بھی مروی ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ گو کسی عمر میں انتقال ہوا ہو دخول جنت کے وقت تینتیس سالہ عمر کے ہوں گے اور اسی عمر میں ہمیشہ رہیں گے، اسی طرح جہنمی بھی (ترمذی) اور روایت میں ہے کہ ان کے قد سات ہاتھ فرشتے کے ہاتھ کے اعتبار سے ہوں گے قد آدم حسن یوسف عمر عیسیٰ یعنی تینتیس سال اور زبان محمد ﷺ یعنی عربی والے ہوں گے، بےبال اور سرمگیں آنکھوں والے (ابن ابی الدنیا) اور روایت میں ہے کہ دخول جنت کے ساتھ ہی انہیں ایک جنتی درخت کے پاس لایا جائے گا اور وہاں انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے ان کے کپڑے نہ گلیں نہ سڑیں نہ پرانے ہوں نہ میلے ہوں ان کی جوانی نہ ڈھلے نہ جائے نہ فنا ہو۔ اصحاب یمین گزشتہ امتوں میں سے بھی بہت ہیں اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ نے اپنے صحابہ سے بیان فرمایا میرے سامنے انبیاء مع اپنے تابعدار امتیوں کے پیش ہوئے بعض نبی گذرتے تھے اور بعض نبی کے ساتھ ایک جماعت ہوتی تھی اور بعض نبی کے ساتھ صرف تین آدمی ہوتے تھے اور بعض کے ساتھ ایک بھی تھا راوی حدیث حضرت قتادہ نے اتنا بیان فرمایا کہ یہ آیت پڑھی (اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ 78؀) 11۔ ھود :78) کیا تم میں سے ایک بھی رشد و سمجھ والا نہیں ؟ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ بن عمران ؑ گذرے جو بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت ساتھ لئے ہوئے تھے، میں نے پوچھا پروردگار یہ کون ہیں ؟ جواب ملا یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران ہیں اور ان کے ساتھ ان کی تابعداری کرنے والی امت ہے میں نے پوچھا الٰہی پھر میری امت کہاں ہے ؟ فرمایا اپنی داہنی جانب نیچے کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی لوگوں کے بکثرت چہرے دمک رہے تھے، پھر مجھ سے پوچھا کہو اب تو خوش ہو میں نے کہا ہاں الٰہی میں خوش ہوں، مجھ سے فرمایا اب اپنی بائیں جانب کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا وہ وہاں بیشمار لوگ تھے پھر مجھ سے پوچھا اب تو راضی ہوگئے ؟ میں نے کہا ہاں میرے رب میں راضی ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور سنو ان کے ساتھ ستر ہزار اور لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے یہ سن کر حضرت عکاشہ ؓ کھڑے ہوگئے، یہ قبیلہ بنو اسد سے محصن کے لڑکے تھے بدر کی لڑائی میں موجود تھے عرض کی کہ یارسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی انہی میں سے کرے آپ نے دعا کی پھر ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول میرے لئے بھی دعا کیجئے۔ آپ نے فرمایا عکاشہ تجھ پر سبقت کر گئے، پھر آپ نے فرمایا لوگوں تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر تم سے ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے بنو جو بےحساب جنت میں جائیں گے، ورنہ کم سے کم دائیں جانب والوں میں سے ہوجاؤ گے، یہ بھی نہ ہو سکے تو کنارے والوں میں سے بن جاؤ۔ میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ اپنے حال میں ہی لٹک جاتے ہیں۔ پھر فرمایا مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی چوتھائی تعداد صرف تمہاری ہی ہوگی۔ پس ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا بلکہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت کی تہائی والے ہوگے، ہم نے پھر تکبیر کہی۔ فرمایا اور سنو ! تم آدھوں آدھ اہل جنت کے ہوگے ہم نے پھر تکبیر کہی اس کے بعد حضور ﷺ نے اسی آیت (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) کی تلاوت کی۔ اب ہم میں آپس میں مذاکرہ شروع ہوگیا کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے، پھر ہم نے کہا وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور شرک کیا ہی نہیں حضور ﷺ نے فرمایا بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے اور جھاڑ پھونک نہیں کرواتے اور فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ یہ حدیث بہت سی سندوں سے صحابہ کی روایت سے بہت سی کتابوں میں صحت کے ساتھ مروی ہے۔ ابن جریر میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس آیت میں پہلوں پچھلوں سے مراد میری امت کے اگلے پچھلے ہی ہیں۔

اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں جہاں بیری کے درخت ہیں لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے حضرت ابو بر احمد بن نجار ؒ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا حضور کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا یا رسول اللہ ﷺ قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا، آپ نے پوچھا وہ کونسا اس نے کہا بیری کا درخت، آپ نے فرمایا پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ مخضود نہیں پڑھا ؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کردیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کردیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہوگا، یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ طلح ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے۔ طلح ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سرزمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چناچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے۔ (منضود) کے معنی تہ بہ تہ پھل والا، پھل سے لدا ہوا۔ ان دونوں کا ذکر اس لئے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہوگا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے۔ جوہری فرماتے ہیں طلح بھی کہتے ہیں اور طلع بھی، حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بےخاسر اور بکثرت پھلدار ہیں واللہ اعلم۔ اور حضرات نے طلح سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے، اہل یمن کیلے کو طلح کہتے ہیں اور اہل حجاز موز کہتے ہیں۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔ صحیح بخاری میں رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے۔ گا لیکن سایہ ختم نہ ہوگا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو، مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد، مسند ابو یعلی میں بھی مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ شجرۃ الخلد ہے، ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، حضرت ابوہریرہ نے جب یہ روایت بیان کی اور حضرت کعب کے کانوں تک پہنچی تو آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے تورات حضرت موسیٰ پر اور قرآن حضرت محمد ﷺ پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بڑھیا ہو کر گرجائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا، اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں۔ ابو حصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابو صالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا کیا تو ابوہریرہ کو جھٹلاتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گذرا۔ میں کہتا ہوں اس ثابت، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنہ سونے کا ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آکر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہوگا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں نہ سورج آئے نہ گرمی ستائے، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گذر چکی ہیں، جیسے آیت (وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا 57؀) 4۔ النسآء :57) اور آیت (اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا 35۔) 13۔ الرعد :35) اور آیت (اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ 41؀ۙ) 77۔ المرسلات :41) وغیرہ پانی ہوگا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہوگی، اس کی پوری تفسیر آیت (فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاۗءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ 15؀) 47۔ محمد :15) میں گذر چکی ہے۔ ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیر میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے نہ کسی کان نے سنے نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گذرا۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہی کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے، حضرت ابن عباس کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گہن ہونے کا اور حضور ﷺ کا سورج گہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ بعد فراغت آپ کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ سے پوچھا حضور ﷺ ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی ؟ آپ نے فرمایا میں نے جنت دیکھی جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے۔ ابو یعلی میں ہے ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے حضرت ابی کعب نے پوچھا کہ حضور ﷺ آگے بڑھ گئے اور ہم بھی پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر حضرت ابی کعب نے پوچھا کہ حضور ﷺ آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، آپ نے فرمایا میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تاکہ لا کر تمہیں دوں پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کردیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی۔ اسی کے مثل حضرت جابر ؓ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے، مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر آنحضرت ﷺ سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے ؟ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں پھر پوچھا وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں۔ کیا تو شام میں گیا ہے ؟ اس نے کہا نہیں، فرمایا شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں ایک ہی تنہ ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے، اس نے پوچھا جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں ؟ فرمایا کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔ وہ کہنے لگا اس درخت کا تنہ کس قدر موٹا ہے آپ نے فرمایا اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گرپڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کرسکتا۔ اس نے کہا اس میں انگور بھی لگتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں پوچھا کتنے بڑے ؟ آپ نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو ؟ اس نے کہا ہاں، فرمایا بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔ اس نے کہا پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے آپ نے فرمایا بلکہ ساری برادری کو، پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ نہ کبھی ختم ہوں نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں ندارد بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پالیں اللہ کی قدرت ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہوگی نہ دوری ہوگی نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہوگی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گذر چکا۔ ان کے فرش بلند وبالا نرم اور گدگدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہوگی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی (ترمذی) یہ حدیث غریب ہے، بعض اہل معانی نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت ابن جرید ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔ حضرت حسن سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔ اس کے بعد ضمیر لائی جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لئے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی۔ جیسے حضرت سلیمان کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور شمس کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔ لیکن ابو عبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہوچکا آیت (وَحُوْرٌ عِيْنٌ 22 ۙ) 56۔ الواقعة :22) پس فرماتا ہے کہ ہم نے ان بیویوں کو نئی پیدائش میں پیدا کیا ہے، اس کے بعد کہ وہ باکل پھوس بڑھیا تھیں ہم نے انہیں نو عمر کنواریاں کر کے ایک خاص پیدائش میں پیدا کیا۔ وہ اپنے ظفافت و ملاحت، حسن صورت و جسامت سے خوش خلقی اور حلاوت کی وجہ سے اپنے خاوندوں کی بڑی پیاریاں ہیں، بعض کہتے ہیں عرباء کہتے ہیں ناز و کرشمہ والیوں کو حدیث میں ہے کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بڑھیا تھیں اور اب جنت میں گئی ہیں تو انہیں نو عمر وغیرہ کردیا ہے اور روایت میں ہے کہ خواہ یہ عورتیں کنواری تھیں یا ثیبہ تھیں اللہ ان سب کو ایسی کر دے گا، ایک بڑھیا عورت رسول مقبول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتی ہے کہ یارسول اللہ ﷺ میرے لئے دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے آپ نے فرمایا ام فلاں جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی، وہ روتی ہوئی واپس لوٹیں تو آپ نے فرمایا جاؤ انہیں سمجھا دو ، مطلب یہ ہے کہ جب وہ جنت میں جائیں گی بڑھیا نہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم انہیں نئی پیدائش میں پیدا کریں گے پھر باکرہ کردیں گے شمائل ترمذی وغیرہ طبرانی میں ہے حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ حورعین کی خبر مجھے دیجئے آپ نے فرمایا وہ گورے رنگ کی ہیں بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں سخت سیاہ اور بڑے بڑے بالوں والی ہیں جیسے گدھ کا پر ،۔ میں نے کہا (اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ 23ۚ) 56۔ الواقعة :23) کی بابت خبر دیجئے آپ نے ارشاد فرمایا دن کی صفائی اور جوت مثل اس موتی کے ہے جو سیپ سے ابھی ابھی نکلا ہو جسے کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو، میں نے کہا خیرات حسان کی کیا تفسیر ہے ؟ فرمایا خوش خلق خوبصورت میں نے کہا (كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37۔ الصافات :49) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ان کی نذاکت اور نرمی انڈے کی اس جھلی کی مانند ہوگی جو اندر ہوتی ہے، میں نے عرباء اترابا کے معنی دریافت کئے، فرمایا اس سے مراد دنیا کی مسلمان جنتی عورتیں ہیں جو بالکل بڑھیا پھوس تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں نئے سرے سے پیدا کیا اور کنواریاں اور خاوندوں کی چہیتیاں اور خاوندوں سے عشق رکھنے والیاں اور ہم عمر بنادیں، میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ دنیا کی عورتیں افضل ہیں جیسے استر سے ابرا بہتر ہوتا ہے، میں نے کہا اس فضیلت کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا نمازیں روزے اور اللہ تعالیٰ کی عبادتیں، اللہ نے ان کے چہرے نور سے ان کے جسم ریشم سے سنوار دیئے ہیں، سفید ریشم، سبز ریشم اور زرد سنہرے ریشم اور زرد سنہرے زیور بخوردان موتی کے کنگھیاں سونے کی یہ کہتی رہیں گی نحن الخالدات فلا نموت ابدا ونحن الناعمات فلا نباس ابدا ونحن المقیمات فلا نطعن ابدا ونحن الراضیات فلا نسخط ابدا طوبی لمن کنا لہ وکان لنا یعنی ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی مریں گی نہیں، ہم ناز اور نعمت والیاں ہیں کہ کبھی سفر میں نہیں جائیں گی ہم اپنے خاوندوں سے خوش رہنے والیاں ہیں کہ کبھی روٹھیں گی نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے لئے ہم ہیں اور خوش نصیب ہیں ہم کہ ان کے لئے ہیں۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ بعض عورتوں کے دو دو تین تین چار چار خاوند ہوجاتے ہیں اس کے بعد اسے موت آتی ہے مرنے کے بعد اگر یہ جنت میں گئی اور اس کے سب خاوند بھی گئے تو یہ کسے ملے گی ؟ آپ نے فرمایا اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس کے ساتھ چاہے رہے چناچہ یہ ان میں سے اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ بہترین برتاؤ کرتا رہا ہو، اللہ تعالیٰ سے کہے گی پروردگار یہ مجھ سے بہت اچھی بودوباش رکھتا تھا اسی کے نکاح میں مجھے دے، اے ام سلمہ حسن خلق دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو لئے ہوئے ہے۔ صور کی مشہور مطول حدیث میں ہے کہ رسول ﷺ تمام مسلمانوں کو جنت میں لے جانے کی سفارش کریں گے جس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے آپ کی شفاعت قبول کی اور آپ کو انہیں جنت میں پہنچانے کی اجازت دی، آپ فرماتے ہیں پھر میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا اللہ کی قسم تم جس قدر اپنے گھر بار اور اپنی بیویوں سے واقف ہو اس سے بہت زیادہ اہل جنت اپنے گھروں اور بیویوں سے واقف ہوں گے۔ پس ایک ایک جنتی کی بہتر بہتر بیویاں ہوں گی جو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور دو دو بیویاں عورتوں میں سے ہوں گی کہ انہیں بوجہ اپنی عبادت کے ان سب عورتوں پر فضیلت حاصل ہوگی جنتی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا یہ اس بالا خانے میں ہوگی جو یاقوت کا بنا ہوا ہوگا اس پلنگ پر ہوگی جو سونے کی تاروں سے بنا ہوا ہوگا اور جڑاؤ جڑا ہوا ہوگا، ستر جوڑے پہنے ہوئے ہوں گے جو سب باریک اور سبز چمکیلے خالص ریشم کے ہوں گے، یہ بیوی اس قدر نازک نورانی ہوگی کہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سینے کی طرف سے دیکھے گا تو صاف نظر آجائے گا، کہ کپڑے گوشت ہڈی کوئی چیز روک نہ ہوگی اس قدر اس کا جسم صاف اور آئینہ نما ہوگا جس طرح مروارید میں سوراخ کر کے ڈورا ڈال دیں تو وہ ڈورا باہر سے نظر آتا ہے اسی طرح اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا۔ ایسا ہی نورانی بدن اس جنتی کا بھی ہوگا، الغرض یہ اس کا آئینہ ہوگی، اور وہ اس کا یہ اس کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول ہوگا نہ یہ تھکے نہ وہ اس کا دل بھرے نہ اس کا۔ جب کبھی نزدیکی کرے گا تو کنواری پائے گا نہ اس کا عضو سست ہو نہ اسے گراں گذرے مگر خاص پانی وہاں نہ ہوگا جس سے گھن آئے، یہ یونہی مشغول ہوگا جو کان میں ندا آئے گی کہ یہ تو ہمیں خوب معلوم ہے کہ نہ آپ کا دل ان سے بھرے گا نہ ان کا آپ سے مگر آپ کی دوسری بیویاں بھی ہیں، اب یہ یہاں سے باہر آئے گا اور ایک ایک کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا اسے دیکھ کر بےساختہ اس کے منہ سے نکل جائے گا۔ کہ رب کی قسم تجھ سے بہتر جنت میں کوئی چیز نہیں نہ میری محبت کسی سے تجھ سے زیادہ ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا جنت سے تجھ سے زیادہ ہے، حضرت ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ کیا جنت میں جنتی لوگ جماع بھی کریں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے خوب اچھی طرح بہترین طریق پر جب الگ ہوگا وہ اسی وقت پھر پاک صاف اچھوتی باکرہ بن جائے گی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں مومن کو جنت میں اتنی اتنی عورتوں کے پاس جانے کی قوت عطا کی جائے گی، حضرت انس نے پوچھا حضور ﷺ کیا اتنی طاقت رکھے گا ؟ آپ نے فرمایا ایک سو آدمیوں کے برابر اسے قوت ملے گی، طبرانی کی حدیث میں ہے ایک ایک سو کنواریوں کے پاس ایک ایک دن میں ہو آئے گا۔ حافظ عبداللہ مقدسی فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ حدیث شرط صحیح پر ہے واللہ اعلم۔ ابن عباس عربا کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ اپنے خاوندوں کی محبوبہ ہوں گی، یہ اپنے خاوندوں کی عاشق اور خاوند ان کے عاشق۔ عکرمہ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ناز و کرشمہ والی ہے اور سند سے مروی ہے کہ معنی نزاکت والی ہے، تمیم بن حدلم کہتے ہیں عربا اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند کا دل مٹھی میں رکھے۔ زید بن اسلم وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد خوش کلام ہے اپنی باتوں سے اپنے خاوندوں کا دل مول لیتی ہیں جب کچھ بولیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پھول جھڑتے ہیں اور نور برستا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ انہیں عرب اس لئے کہا گیا ہے کہ ان کی بول چال عربی زبان میں ہوگی۔ اتراب کے معنی ہیں ہم عمر عینی تینتیس برس کی اور معنی ہیں کہ خاوند کی اور ان کی طبیعت اور خلق بالکل یکساں ہے جس سے وہ خوش یہ خوش جو اسے ناپسند اسے بھی ناپسند۔ ، یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ آپس میں ان میں بیر بغض سوتیا ڈاہ حسد اور رشک نہ ہوگا۔ یہ سب آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی تاکہ بےتکلف ایک دوسری سے ملیں جلیں کھیلیں کو دیں، ترمذی کی حدیث میں ہے کہ یہ جنتی حوریں ایک روح افزا باغ میں جمع ہو کر نہایت پیارے گلے سے گانا گائیں گی کہ ایسی سریلی اور رسیلی آواز مخلوق نے کبھی نہ سنی ہوگی، ان کا گانا وہی ہوگا جو اوپر بیان ہوا ابو یعلی میں ہے ان کے گانے میں یہ بھی ہوگا (نحن خیرات حسان)۔ (خبئنا لازواج کرام) ہم پاک صاف خوش وضع خوبصورت عورتیں ہیں جو بزرگ اور ذی عزت شوہروں کے لئے چھپا کر رکھی گئی تھیں اور روایت میں خیرات کے بدلے جوار کا لفظ آیا ہے۔ پھر فرمایا یہ اصحاب یمین کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور انہی کے لئے محفوظ و مصؤن رکھی گئی تھیں۔ لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ متعلق ہے آیت (اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35 ۙ) 56۔ الواقعة :35) ، کے یعنی ہم نے انہیں ان کے لئے بنایا ہے۔ حضرت ابو سلیمان دارانی رحمتۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ میں نے ایک رات تہجد کی نماز کے بعد دعا مانگنی شروع کی، چونکہ سخت سردی تھی، بڑے زور کا پالا پڑھ رہا تھا، ہاتھ اٹھائے نہیں جاتے تھے اس لئے میں نے ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگی اور اسی حالت میں دعا مانگتے مانگتے مجھے نیند آگئی خواب میں میں نے ایک حور کو دیکھا کہ اس جیسی خوبصورت نورانی شکل کبھی میری نگاہ سے نہیں گزری اس نے مجھ سے کہا اے ابو سلیمان ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگنے لگے اور یہ خیال نہیں کہ پانچ سو سال سے اللہ تعالیٰ مجھے تمہارے لئے اپنی خاص نعمتوں میں پرورش کر رہا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لام متعلق اتراباً کے ہو یعنی ان کی ہم عمر ہوں گی جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودہویں رات جیسے روشن ہوں گے ان کے بعد والی جماعت کے بہت چمکدار ستارے جیسے روشن ہوں گے یہ پاخانے پیشاب تھوک رینٹ سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کے پسینے مشک کی خوشبو والے ہوں گے ان کی انگیٹھیاں لؤلؤ کی ہوں گی ان کی بیویاں حور عین ہوں گی ان سب کے اخلاق مثل ایک ہی شخص کے ہوں گے، یہ سب اپنے باپ حضرت آدم ؑ کی شکل پر ساٹھ ہاتھ کے لانبے قد کے ہوں گے۔ طبرانی میں ہے اہل جنت بےبال اور بےریش گورے رنگ والے خوش خلق اور خوبصورت سرمگیں آنکھوں والے تینتیس برس کی عمر کے سات ہاتھ لانبے اور سات ہاتھ چوڑے چکلے مضبوط بدن والے ہوں گے۔ اس کا کچھ حصہ ترمذی میں بھی مروی ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ گو کسی عمر میں انتقال ہوا ہو دخول جنت کے وقت تینتیس سالہ عمر کے ہوں گے اور اسی عمر میں ہمیشہ رہیں گے، اسی طرح جہنمی بھی (ترمذی) اور روایت میں ہے کہ ان کے قد سات ہاتھ فرشتے کے ہاتھ کے اعتبار سے ہوں گے قد آدم حسن یوسف عمر عیسیٰ یعنی تینتیس سال اور زبان محمد ﷺ یعنی عربی والے ہوں گے، بےبال اور سرمگیں آنکھوں والے (ابن ابی الدنیا) اور روایت میں ہے کہ دخول جنت کے ساتھ ہی انہیں ایک جنتی درخت کے پاس لایا جائے گا اور وہاں انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے ان کے کپڑے نہ گلیں نہ سڑیں نہ پرانے ہوں نہ میلے ہوں ان کی جوانی نہ ڈھلے نہ جائے نہ فنا ہو۔ اصحاب یمین گزشتہ امتوں میں سے بھی بہت ہیں اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ نے اپنے صحابہ سے بیان فرمایا میرے سامنے انبیاء مع اپنے تابعدار امتیوں کے پیش ہوئے بعض نبی گذرتے تھے اور بعض نبی کے ساتھ ایک جماعت ہوتی تھی اور بعض نبی کے ساتھ صرف تین آدمی ہوتے تھے اور بعض کے ساتھ ایک بھی تھا راوی حدیث حضرت قتادہ نے اتنا بیان فرمایا کہ یہ آیت پڑھی (اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ 78؀) 11۔ ھود :78) کیا تم میں سے ایک بھی رشد و سمجھ والا نہیں ؟ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ بن عمران ؑ گذرے جو بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت ساتھ لئے ہوئے تھے، میں نے پوچھا پروردگار یہ کون ہیں ؟ جواب ملا یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران ہیں اور ان کے ساتھ ان کی تابعداری کرنے والی امت ہے میں نے پوچھا الٰہی پھر میری امت کہاں ہے ؟ فرمایا اپنی داہنی جانب نیچے کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی لوگوں کے بکثرت چہرے دمک رہے تھے، پھر مجھ سے پوچھا کہو اب تو خوش ہو میں نے کہا ہاں الٰہی میں خوش ہوں، مجھ سے فرمایا اب اپنی بائیں جانب کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا وہ وہاں بیشمار لوگ تھے پھر مجھ سے پوچھا اب تو راضی ہوگئے ؟ میں نے کہا ہاں میرے رب میں راضی ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور سنو ان کے ساتھ ستر ہزار اور لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے یہ سن کر حضرت عکاشہ ؓ کھڑے ہوگئے، یہ قبیلہ بنو اسد سے محصن کے لڑکے تھے بدر کی لڑائی میں موجود تھے عرض کی کہ یارسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی انہی میں سے کرے آپ نے دعا کی پھر ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول میرے لئے بھی دعا کیجئے۔ آپ نے فرمایا عکاشہ تجھ پر سبقت کر گئے، پھر آپ نے فرمایا لوگوں تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر تم سے ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے بنو جو بےحساب جنت میں جائیں گے، ورنہ کم سے کم دائیں جانب والوں میں سے ہوجاؤ گے، یہ بھی نہ ہو سکے تو کنارے والوں میں سے بن جاؤ۔ میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ اپنے حال میں ہی لٹک جاتے ہیں۔ پھر فرمایا مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی چوتھائی تعداد صرف تمہاری ہی ہوگی۔ پس ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا بلکہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت کی تہائی والے ہوگے، ہم نے پھر تکبیر کہی۔ فرمایا اور سنو ! تم آدھوں آدھ اہل جنت کے ہوگے ہم نے پھر تکبیر کہی اس کے بعد حضور ﷺ نے اسی آیت (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13 ۙ) 56۔ الواقعة :13) کی تلاوت کی۔ اب ہم میں آپس میں مذاکرہ شروع ہوگیا کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے، پھر ہم نے کہا وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور شرک کیا ہی نہیں حضور ﷺ نے فرمایا بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے اور جھاڑ پھونک نہیں کرواتے اور فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ یہ حدیث بہت سی سندوں سے صحابہ کی روایت سے بہت سی کتابوں میں صحت کے ساتھ مروی ہے۔ ابن جریر میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس آیت میں پہلوں پچھلوں سے مراد میری امت کے اگلے پچھلے ہی ہیں۔

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com