John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-An'aam

Tafsir Ibn Kathir · The Cattle · 165 ayat · ayat 121–150 · Quran text →

سدھائے ہوئے کتوں کا شکار یہی آیت ہے جس سے بعض علماء نے یہ سمجھا ہے کہ گو کسی مسلمان نے ہی ذبح کیا ہو لیکن اگر بوقت ذبح اللہ کا نام نہیں لیا تو اس ذبیحہ کا کھانا حرام ہے، اس بارے میں علماء کے تین قول ہیں ایک تو وہی جو مذکور ہوا، خواہ جان بوجھ کر اللہ کا نام نہ لیا ہو یا بھول کر، اس کی دلیل آیت (فَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ) 5۔ المائدہ :4) ہے یعنی جس شکار کو تمہارے شکاری کتے روک رکھیں تم اسے کھالو اور اللہ کا نام اس پر لو، اس آیت میں اسی کی تاکید کی اور فرمایا کہ یہ کھلی نافرمانی ہے یعنی اس کا کھانا یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنا، احادیث میں بھی شکار کے اور ذبیحہ کے متعلق حکم وارد ہوا ہے آپ فرماتے ہیں جب تو اپنے سدھائے ہوئے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑے جس جانور کو وہ تیرے لئے پکڑ کر روک لے تو اسے کھالے اور حدیث میں ہے جو چیز خون بہا دے اور اللہ کا نام بھی اس پر لیا گیا ہو اسے کھالیا کرو، جنوں سے حضور نے فرمایا تھا تمہارے لئے ہر وہ ہڈی غذا ہے جس پر اللہ کا نام لیا جائے، عید کی قربانی کے متعلق آپ کا ارشاد مروی ہے کہ جس نے نماز عید پڑھنے سے پہلے ہی ذبح کرلیا وہ اس کے بدلے دوسرا جانور ذبح کرلے اور جس نے قربانی نہیں کی وہ ہمارے ساتھ عید کی نماز پڑھے پھر اللہ کا نام لے کر اپنی قربانی کے جانور کو ذبح کرے، چند لوگوں نے حضور سے پوچھا کہ بعض نو مسلم ہمیں گوشت دیتے ہیں کیا خبر انہوں نے ان جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت اللہ کا نام بھی لیا یا نہیں ؟ تو آپ نے فرمایا تم ان پر اللہ کا نام لو اور کھالو، الغرض اس حدیث سے بھی یہ مذہب قومی ہوتا ہے کیونکہ صحابہ نے بھی سمجھا کر بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے اور یہ لوگ احکام اسلام سے صحیح طور پر واقف نہیں ابھی ابھی مسلمان ہوئے ہیں کیا خبر اللہ کا نام لیتے بھی ہیں یا نہیں ؟ تو حضور نے انہیں بطور مزید احتیاط فرما دیا کہ تم خود اللہ کا نام لے لو تاکہ بالفرض انہوں نے نہ بھی لیا ہو تو یہ اس کا بدلہ ہوجائے، ورنہ ہر مسلمان پر ظاہر احسن ظن ہی ہوگا، دوسرا قول اس مسئلہ میں یہ ہے کہ بوقت ذبح بسم اللہ کا پڑھنا شرط نہیں بلکہ مستحب ہے اگر چھوٹ جائے گوہ عمداً ہو یا بھول کر، کوئی حرج نہیں۔ اس آیت میں جو فرمایا گیا ہے کہ یہ فسق ہے اس کا مطلب یہ لوگ یہ لیتے ہیں کہ اس سے مراد غیر اللہ کے لئے ذبح کیا ہوا جانور ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ) 6۔ الانعام :145) بقول عطا ان جانوروں سے روکا گیا ہے جنہیں کفار اپنے معبودوں کے نام ذبح کرتے تھے اور مجوسیوں کے ذبیحہ سے بھی ممکن کی گئی، اس کا جواب بعض متأخرین نے یہ بھی دیا ہے کہ (وانہ) میں واؤ حالیہ یہ۔ تو فسق فعلیہ حالیہ پر لازم آئے گا، لیکن یہ دلیل اس کے بعد کے جملے (وان الشیاطین) سے ہی ٹوٹ جاتی ہے اس لئے کہ وہ تو یقینا عاطفہ جملہ ہے۔ تو جس اگلے واؤ کو حالیہ کہا گیا ہے اگر اسے حالیہ مان لیا جائے تو پھر اس پر اس جملے کا عطف ناجائز ہوگا اور اگر اسے پہلے کے حالیہ جملے پر عطف ڈالا جائے تو جو اعتراض یہ دوسرے پر وارد کر رہے تھے وہی ان پر پڑے گا ہاں اگر اس واؤ کو حالیہ نہ مانا جائے تو یہ اعتراض ہٹ سکتا ہے لیکن جو بات اور دعویٰ تھا وہ سرے سے باطل ہوجائے گا۔ واللہ اعلم۔ ابن عباس کا قول ہے مراد اس سے مردار جانور ہے جو اپنی موت آپ مرگیا ہو۔ اس مذہب کی تائید ابو داؤد کی ایک مرسل حدیث سے بھی ہوسکتی ہے جس میں حضور کا فرمان ہے کہ مسلمان کا ذبیحہ حلال ہے اس نے اللہ کا نام لیا ہو یا نہ لیا ہو کیونکہ اگر وہ لیتا تو اللہ کا نام ہی لیتا۔ اس کی مضبوطی دار قطنی کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا جب مسلمان ذبح کرے اور اللہ کا نام نہ ذکر کرے تو کھالیا کرو کیونکہ مسلمان اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، اسی مذہب کی دلیل میں وہ حدیث بھی پیش ہوسکتی ہے جو پہلے بیان ہوچکی ہے کہ نو مسلموں کے ذبیحہ کے کھانے کی جس میں دونوں اہتمال تھے آپ نے اجازت دی تو اگر بم اللہ کا کہنا شرط اور لازم ہوتا تو حضور تحقیق کرنے کا حکم دیتے، تیسرا قول یہ ہے کہ اگر بسم اللہ کہنا بوقت ذبح بھول گیا ہے تو ذبیحہ پر عمداً بسم اللہ نہ کہی جائے وہ حرام ہے اسی لئے امام ابو یوسف اور مشائخ نے کہا ہے کہ اگر کوئی حاکم اسے بچنے کا حکم بھی دے تو وہ حکم جاری نہیں ہوسکتا کیونکہ اجماع کے خلاف ہے لیکن صاحب ہدایہ کا یہ قول محض غلط ہے، امام شافعی سے پہلے بھی بہت سے ائمہ اس کے خلاف تھے چناچہ اوپر جو دوسرا مذہب بیان ہوا ہے کہ بسم اللہ پڑھنا شرط نہیں بلکہ مستحب ہے یہ امام شافعی کا ان کے سب ساتھیوں کا اور ایک روایت میں امام احمد کا اور امام مالک کا اور اشہب بن عبدالعزیز کا مذہب ہے اور یہی بیان کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس حضرت ابوہریرہ حضرت عطاء بن ابی رباح کا اس سے اختلاف ہے۔ پھر اجماع کا دعویٰ کرنا کیسے درست ہوسکتا ہے واللہ اعلم۔ امام ابو جعفر بن جریر ؒ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے بوقت ذبح بسم اللہ بھول کر نہ کہے جانے پر بھی ذبیحہ حرام کہا ہے انہوں نے اور دلائل سے اس حدیث کی بھی مخالفت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلم کو اس کا نام ہی کافی ہے اگر وہ ذبح کے وقت اللہ کا نام ذکر کرنا بھول گیا تو اللہ کا نام لے اور کھالے۔ یہ حدیث بیہقی میں ہے لیکن اس کا مرفوع روایت کرنا خطا ہے اور یہ خطا معقل بن عبید اللہ خرزمی کی ہے، ہیں تو یہ صحیح مسلم کے راویوں میں سے مگر سعید بن منصور اور عبداللہ بن زبیر حمیری اسے عبداللہ بن عباس سے موقوف روایت کرتے ہیں۔ بقول امام بہیقی یہ روایت سب سے زیادہ صحیح ہے۔ شعبی اور محمد بن سیرین اس جانور کا کھانا مکروہ جانتے تھے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو گو بھول سے ہی رہ گیا ہو۔ ظاہر ہے کہ سلف کراہئیت کا اطلاق حرمت پر کرتے تھے۔ واللہ اعلم۔ ہاں یہ یاد رہے کہ امام ابن جریر کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ ان دو ایک قولوں کو کوئی چیز نہیں سمجھتے جو جمہور کے مخالف ہوں اور اسے اجماع شمار کرتے ہیں۔ واللہ الموفق۔ امام حسن بصری ؒ سے ایک شخص نے مسئلہ پوچھا کہ میرے پاس بہت سے پرند ذبح شدہ آئے ہیں ان سے بعض کے ذبح کے وقت بسم اللہ پڑھی گئی ہے اور بعض پر بھول سے رہ گئی ہے اور سب غلط ملط ہوگئے ہیں آپ نے فتوی دیا کہ سب کھالو، پھر محمد بن سیرین سے یہی سوال ہوا تو آپ نے فرمایا جن پر اللہ کا نام ذکر نہیں کیا گیا انہیں نہ کھاؤ۔ اس تیسرے مذہب کی دلیل میں یہ حدیث بھی پیش کی جاتی ہے کہحضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطاء کو بھول کو اور جس کام پر زبردستی کی جائے اس کو معاف فرما دیا ہے لیکن اس میں ضعف ہے ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ بتائیے تو ہم میں سے کوئی شخص ذبح کرے اور بسم اللہ کہنا بھول جائے ؟ آپ نے فرمایا اللہ کا نام ہر مسلمان کی زبان پر ہے (یعنی وہ حلال ہے) لیکن اس کی اسناد ضعیف ہے، مردان بن سالم ابو عبداللہ شامی اس حدیث کا راوی ہے اور ان پر بہت سے ائمہ نے جرح کی ہے، واللہ اعلم، میں نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے اس میں تمام مذاہب اور ان کے دلائل وغیرہ تفصیل سے لکھے ہیں اور پوری بحث کی ہے، بظاہر دلیلوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ذبح کے وقت بسم اللہ کہنا ضروری ہے لیکن اگر کسی مسلمان کی زبان سے جلدی میں یا بھولے سے یا کسی اور وجہ سے نہ نکلے اور ذبح ہوگیا تو وہ حرما نہیں ہوتا (واللہ اعلم مترجم) عام اہل علم تو کہتے ہیں کہ اس آیت کا کوئی حصہ منسوخ نہیں لیکن بعض حضرات کہتے ہیں اس میں اہل کتاب کے ذبیحہ کا استثناء کرلیا گیا ہے اور ان کا ذبح کیا ہوا حلال جانور کھا لینا ہمارے ہاں حلال ہے تو گو وہ اپنی اصطلاح میں اسے نسخ سے تعبیر کریں لیکن دراصل یہ ایک مخصوص صورت ہے پھر فرمایا کہ شیطان اپنے ولیوں کی طرف وحی کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر سے جب کہا گیا کہ مختار گمان کرتا ہے کہ اس کے پاس وحی آتی ہے تو آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرما کر فرمایا وہ ٹھیک کہتا ہے۔ شیطان بھی اپنے دوستوں کی طرف وحی کرتے ہیں اور روایت میں ہے کہ اس وقت مختار حج کو آیا ہوا تھا۔ ابن عباس کے اس جواب سے کہ وہ سچا ہے اس شخص کو سخت تعجب ہوا اس وقت آپ نے تفصیل بیان فرمائی کہ ایک تو اللہ کی وحی جو آنحضرت کی طرف آئی اور ایک شیطانی وحی ہے جو شیطان کے دوستوں کی طرف آتی ہے۔ شیطانی وساوس کو لے کر لشکر شیطان اللہ والوں سے جھگڑتے ہیں۔ چناچہ یہودیوں نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ یہ کیا اندھیر ہے ؟ کہ ہم اپنے ہاتھ سے مارا ہوا جانور تو کھا لیں اور جسے اللہ مار دے یعنی اپنی موت آپ مرجائے اسے نہ کھائیں ؟ اس پر یہ آیت اتری اور بیان فرمایا کہ وجہ حلت اللہ کے نام کا ذکر ہے لیکن ہے یہ قصہ غور طلب اولاً اس وجہ سے کہ یہودی از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں جانتے تھے دوسرے اس وجہ سے بھی کہ یہودی تو مدینے میں تھے اور یہ پوری سورت مکہ میں اتری ہے۔ تیسرے یہ کہ یہ حدیث ترمذی میں مروی تو ہے لیکن مرسل طبرانی میں ہے کہ اس حکم کے نازل ہونے کے بعد کہ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اسے کھالو اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے نہ کھاؤ تو اہل فارس نے قریشوں سے کہلوا بھیجا کہ آنحضرت ﷺ سے وہ جھگڑیں اور کہیں کہ جسے تم اپنی چھری سے ذبح کرو وہ تو حلال اور جسے اللہ تعالیٰ سونے کی چھری سے خود ذبح کرے وہ حرام ؟ یعنی میتہ از خود مرا ہوا جانور۔ اس پر یہ آیت اتری، پس شیاطین سے مراد فارسی ہیں اور ان کے اولیاء قریش ہیں اور بھی اس طرح کی بہت سی روایتیں کئی ایک سندوں سے مروی ہیں لیکن کسی میں بھی یہود کا ذکر نہیں پس صحیح یہی ہے کیونکہ آیت مکی ہے اور یہود مدینے میں تھے اور اس لئے بھی کہ یہودی خود مردار خوار نہ تھے۔ ابن عباس فرماتے ہیں جسے تم نے ذبح کیا یہ تو وہ ہے جس پر اللہ کا نام لیا گیا اور جو از خود مرگیا وہ وہ ہے جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا، مشرکین قریش فارسیوں سے خط و کتابت کر رہے تھے اور رومیوں کے خلاف انہیں مشورے اور امداد پہنچاتے تھے اور فارسی قریشیوں سے خط و کتابت رکھتے تھے اور آنحضرت ﷺ کے خلاف انہیں اکساتے اور ان کی امداد کرتے تھے، اسی میں انہوں نے مشرکین کی طرف یہ اعتراض بھی بھیجا تھا اور مشرکین نے صحابہ سے یہی اعتراض کیا اور بعض صحابہ کے دل میں بھی یہ بات کھٹکی اس پر یہ آیت اتری۔ پھر فرمایا اگر تم نے ان کی تابعداری کی تو تم مشرک ہوجاؤ گے کہ تم نے اللہ کی شریعت اور فرمان قرآن کے خلاف دوسرے کی مان لی اور یہی شرک ہے کہ اللہ کے قول کے مقابل دوسرے کا قول مان لیا چناچہ قرآن کریم میں ہے آیت (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ ۚ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــهًا وَّاحِدًا ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭسُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) 9۔ التوبہ :31) یعنی انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو الہ بنا لیا ہے، ترمذی میں ہے کہ جب حضرت عدی بن حاتم نے رسول ﷺ سے کہا کہ حضور انہوں نے ان کی عبادت نہیں کی تو آپ نے فرمایا انہوں نے حرام کو حلال کہا اور حلال کو حرام کہا اور انہوں نے ان کا کہنا مانا یہی عبادت ہے۔

مومن اور کافر کا تقابلی جائزہ مومن اور کافر کی مثال بیان ہو رہی ہے ایک تو وہ جو پہلے مردہ تھا یعنی کفر و گمراہی کی حالت میں حیران و سرگشتہ تھا اللہ نے اسے زندہ کیا، ایمان و ہدایت بخشی اتباع رسول کا چسکا دیا قرآن جیسا نور عطا فرمایا جس کے منور احکام کی روشنی میں وہ اپنی زندگی گزارتا ہے اسلام کی نورانیت اس کے دل میں رچ گئی ہے، دوسرا وہ جو جہالت و ضلالت کی تاریکیوں میں گھرا ہوا ہے جو ان میں سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں پاتا کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ اسی طرح مسلم و کافر میں بھی تفاوت ہے نور و ظلمت کا فرق اور ایمان و کفر کا فرق ظاہر ہے اور آیت میں ہے (اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۙيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ) 2۔ البقرۃ :257) ایمان داروں کا ولی اللہ تعالیٰ ہے وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور کافروں کے ولی طاغوت ہیں جو انہیں نور سے ہٹا کر اندھیروں میں لے جاتے ہیں یہ ابدی جہنمی ہیں اور آیت میں ہے (افمن یمشی مکبا علی وجھہ) یعنی خمیدہ قامت والا ٹیڑھی راہ چلنے والا اور سیدھے قامت والا سیدھی راہ چلنے والا کیا برابر ہے ؟ اور آیت میں ہے ان دونوں فرقوں کی مثال اندھے بہرے اور سنتے دیکھتے کی طرح ہے کہ دونوں میں فرق نمایاں ہے افسوس پھر بھی تم عبرت حاصل نہیں کرتے اور جگہ فرمان ہے اندھا اور بینا، اندھیرا اور روشنی، سایہ اور دوپ، زندے اور مردے برابر نہیں۔ اللہ جسے چاہے سنا دے لیکن تو قبر والوں کو سنا نہیں سکتا تو تو صرف آگاہ کردینے والا ہے اور بھی آیتیں اس مضمون کی بہت سی ہیں اس سورت کے شروع میں ظلمات اور نور کا ذکر تھا اسی مناسبت سے یہاں بھی مومن اور کافر کی یہی مثال بیان فرمائی گئی بعض کہتے ہیں مراد اس سے وہ خاص معین شخص ہیں جیسے حضرت عمر بن خطاب ؓ کہ یہ پہلے گمراہ تھے اللہ نے انہیں اسلامی زندگی بخشی اور انہیں نور عطا فرمایا جسے لے کر لوگوں میں چلتے پھرتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد حضرت عمار بن یاسر ؓ ہیں اور ظلمات میں جو پھنسا ہوا ہے اس سے مراد ابو جہل ہے۔ صحیح یہی ہے کہ آیت عام ہے ہر مومن اور کافر کی مثال ہے، کافروں کی نگاہ میں ان کی اپنی جہالت و ضلالت اسی طرح آراستہ و پیراستہ کر کے دکھائی جاتی ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر ہے کہ وہ اپنی برائیوں کو ہی اچھائیاں سمجھتے ہیں۔ مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کر کے پھر اپنا نور ان پر ڈالا جسے اس نور کا حصہ ملا اس نے دنیا میں آ کر راہ پائی اور جو وہاں محروم رہا وہ یہاں بھی بہکا ہی رہا، جیسے فرمان ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جاتا ہے اور جیسے فرمان ہے اندھا اور دیکھتا اور اندھیرا اور روشنی برابر نہیں۔

بستیوں کے رئیس گمراہ ہوجائیں تو تباہی کی علامت ہوتے ہیں ان آیتوں میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی تسکین فرماتا ہے اور ساتھ ہی کفار کو ہوشیار کرتا ہے، فرماتا ہے کہ جیسے آپ کی اس بستی میں روسائے کفر موجود ہیں جو دوسروں کو بھی دین برحق سے روکتے ہیں اسی طرح ہر پیغمبر کے زمانے میں اس کی بستی میں کفر کے ستون اور مرکز رہے ہیں لیکن آخر کار و غارت اور تباہ ہوتے ہیں اور نتیجہ ہمیشہ نبیوں کا ہی اچھا رہتا ہے جیسے فرمایا کہ ہر نبی کے دشمن ان کے زمانے کے گنہگار رہے اور آیت میں ہے ہم جب کسی بستی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے رئیسوں کو کچھ حکم احکام دیتے ہیں جس میں وہ کھلم کھلا ہماری نافرمانی کرتے ہیں پس اطاعت سے گریز کرنے پر عذابوں میں گھر جاتے ہیں، وہاں کے شریر لوگ اوج پر آجاتے ہیں پھر بستی ہلاک ہوتی ہے اور قسمت کا ان مٹ لکھا سامنے آجاتا ہے، چناچہ اور آیتوں میں ہے کہ جہاں کہیں کوئی پیغمبر آیا وہاں کے رئیسوں اور بڑے لوگوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ ہم تمہارے رسالت کے منکر ہیں، مال میں اولاد میں ہم تم سے زیادہ ہیں اور ہم اسے بھی مانتے نہیں کہ ہمیں سزا ہو اور آیت میں ہے کہ ہم نے جس بستی میں جس رسول کو بھیجا وہاں کے بڑے لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے تو جس طریقے پر اپنے بڑوں کو پایا ہے ہم تو اسی پر چلے چلیں گے، مکر سے مراد گمراہی کی طرف بلانا ہے اور اپنی چکنی چپڑی باتوں میں لوگوں کو پھنسانا ہے جیسے کہ قوم نوح کے بارے میں ہے آیت (وَمَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًا) 71۔ نوح :22) قیامت کے دن بھی جبکہ یہ ظالم اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرائیں گے جھوٹے لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم تو مسلمان ہوجاتے وہ جواب دیں گے کہ ہم نے تمہیں ہدایت سے کب روکا تھا ؟ تم تو خود گنہگار تھے، یہ کہیں گے تمہاری دن رات کی فتنہ انگیزیوں نے اور کفر و شرک کی دعوت نے ہمیں گمراہ کردیا، مکر کے معنی حضرت سفیان نے ہر جگہ عمل کے کئے ہیں پھر فرماتا ہے کہ ان کے مکر کا وبال انہی پر پڑے گا لیکن انہیں اس کا شعور نہیں، جن لوگوں کو انہوں نے بہکایا ان کا وبال بھی انہیں کے دوش پر ہوگا جیسے فرمان ہے آیت (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ) 29۔ العنکبوت :13) یعنی اپنے بوجھ کے ساتھ ان کے بوجھ بھی ڈھوئیں گے، جن کو بےعلمی کے ساتھ انہوں نے بہکایا تھا۔ جب کوئی نشان اور دلیل دیکھتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جب تک اللہ کا پیغام فرشتے کی معرفت خود ہمیں نہ آئے ہم تو باور کرنے والے نہیں۔ کہا کرتے تھے کہ ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں ہوتے ؟ اللہ ہمیں اپنا دیدار کیوں نہیں دکھاتا ؟ حالانکہ رسالت کے مستحق کی اصلی جگہ کو اللہ ہی جانتا ہے۔ ان کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ ان دونوں بستیوں میں کسی بڑے رئیس پر یہ قرآن کیوں نہ اترا ؟ جس کے جواب میں اللہ عز وجل نے فرمایا کیا تیرے رب کی رحمت کے تقسیم کرنے والے وہ ہیں ؟ پس مکہ یا طائف کے کسی رئیس پر قرآن کے نازل نہ ہونے سے وہ آنحضرت کی تحقیر کا ارادہ کرتے تھے اور یہ صرف ضد اور تکبر کی بنا پر تھا، جیسے فرمان ہے کہ تجھے دیکھتے ہی یہ لوگ مذاق اڑاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ کیا یہی ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کیا کرتا ہے ؟ یہ لوگ ذکر رحمن کے منکر ہیں، کہا کرتے تھے کہ اچھا یہی ہیں جنہیں اللہ نے اپنا رسول بنایا ؟ نتیجہ یہ ہوا کہ ان مسخروں کا مسخرا پن انہی پر الٹا پڑا، انہیں ماننا ہی پڑا تھا کہ آپ شریف النسب ہیں آپ سچے اور امین ہیں یہاں تک کہ نبوت سے پہلے قوم کی طرف سے آپ کو امین کا خطاب ملا تھا۔ ابو سفیان جیسے ان کافر قریشیوں کے سردار نے بھی دربار ہرقل میں بھی حضور کے عالی نسب ہونے اور سچے ہونے کی شہادت دی تھی۔ جس سے شاہ روم نے حضور کی صداقت طہارت نبوت وغیرہ کو مان لیا تھا، مسند کی حدیث میں ہے حضور فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اولاد ابراہیم سے اسمعیل کو پسند فرمایا۔ اولاد اسماعیل سے بنو کنانہ کو پسند فرمایا۔ بنو کنانہ سے قریش کو قریش میں سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھے۔ فرمان ہے کہ یکے بعد دیگرے قرنوں میں سے میں سب سے بہتر زمانے میں پیغمبر بنایا گیا۔ ایک مرتبہ جبکہ آپ کو لوگوں کی بعض کہی ہوئی باتیں پہنچیں تو آپ منبر پر تشریف لائے اور لوگوں سے پوچھا میں کون ہوں ؟ انہوں نے کہا آپ اللہ کے رسول ہیں۔ فرمایا میں محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب ہوں اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق میں مجھے بہتر بنایا ہے مخلوق کو جب دو حصوں میں تقسیم کیا تو مجھے ان دونوں میں جو بہتر حصہ تھا اس میں کیا پھر قبیلوں کی تقسیم کے وقت مجھے سب سے بہتر قیبلے میں کیا پھر جب گھرداریوں میں تقسیم کیا تو مجھے سب سے اچھے گھرانے میں بنایا پس میں گھرانے کے اعتبار سے اور ذات کے اعتبار سے تم سب سے بہتر ہوں صلوات اللہ وسلامیہ علیہ حضرت جبرائیل نے ایک مرتبہ آپ سے فرمایا میں نے تمام مشرق و مغرب ٹٹول لیا لیکن آپ سے زیادہ افضل کسی کو نہیں پایا (حاکم بہیقی) مسند احمد میں ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں کو دیکھا اور سب سے بہتر دل حضرت محمد ﷺ کا پایا۔ پھر مخلوق کے دلوں پر نگاہ ڈالی تو سب سے بہتر دل والے اصہاب رسول پائے پس حضور کو اپنا خاص چیدہ رسول بنایا اور اصہاب کو آپ کا وزیر بنایا جو آپ کے دین کے دشمنوں کے دشمن ہیں۔ پس یہ مسلمان جس چیز کو بہتر سمجھیں وہ اللہ وحدہ لاشریک کے نزدیک بھی بہتر ہے اور جسے یہ برا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے۔ ایک باہر کے شخص نے حضرت عبداللہ بن عباس کو مسجد کے دروازے سے آتا ہوا دیکھ کر مرعوب ہو کر لوگوں سے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں ؟ لوگوں نے کہا یہ رسول کریم ﷺ کے چچا کے لڑکے حضرت عبداللہ بن عباس ہیں ؓ۔ تو ان کے منہ سے بےساختہ یہ آیت نکلی کہ نبویت کی جگہ کو اللہ ہی بخوبی جانتا ہے، پھر فرماتا ہے کہ جو لوگ اس عظیم الشان نبی کی نبوت میں شک شبہ کر رہے ہیں اطاعت سے منہ پھیر رہے ہیں انہیں اللہ کے سامنے قیامت کے دن بڑی ذلت اٹھانی پڑے گی دنیا کے تکبر کی سزا خواری کی صورت میں انہیں ملے گی جو ان پر دائمی ہوگی۔ جیسے فرمان ہے کہ جو لوگ میری عبادت سے جی چراتے ہیں وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ انہیں ان کے مکر کی سزا اور سخت سزا ملے گی چونکہ مکاروں کی چالیں خفیہ اور ہلکی ہوتی ہیں اس کے بدلے میں عذاب علانیہ اور سخت ہوں گے۔ یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ ان کا پورا بدلہ ہے اس دن ساری چھپی عیاریاں کھل جائیں گی حضور کا ارشاد ہے کہ ہر بد عہد کی رانوں کے پاس قیامت کے دن ایک جھنڈا لہراتا ہوگا اور اعلان ہوتا ہوگا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے پس اس دنیا کی پوشیدگی اس طرح قیامت کے دن ظاہر ہوگی۔ اللہ ہمیں بچائے۔

بستیوں کے رئیس گمراہ ہوجائیں تو تباہی کی علامت ہوتے ہیں ان آیتوں میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی تسکین فرماتا ہے اور ساتھ ہی کفار کو ہوشیار کرتا ہے، فرماتا ہے کہ جیسے آپ کی اس بستی میں روسائے کفر موجود ہیں جو دوسروں کو بھی دین برحق سے روکتے ہیں اسی طرح ہر پیغمبر کے زمانے میں اس کی بستی میں کفر کے ستون اور مرکز رہے ہیں لیکن آخر کار و غارت اور تباہ ہوتے ہیں اور نتیجہ ہمیشہ نبیوں کا ہی اچھا رہتا ہے جیسے فرمایا کہ ہر نبی کے دشمن ان کے زمانے کے گنہگار رہے اور آیت میں ہے ہم جب کسی بستی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے رئیسوں کو کچھ حکم احکام دیتے ہیں جس میں وہ کھلم کھلا ہماری نافرمانی کرتے ہیں پس اطاعت سے گریز کرنے پر عذابوں میں گھر جاتے ہیں، وہاں کے شریر لوگ اوج پر آجاتے ہیں پھر بستی ہلاک ہوتی ہے اور قسمت کا ان مٹ لکھا سامنے آجاتا ہے، چناچہ اور آیتوں میں ہے کہ جہاں کہیں کوئی پیغمبر آیا وہاں کے رئیسوں اور بڑے لوگوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ ہم تمہارے رسالت کے منکر ہیں، مال میں اولاد میں ہم تم سے زیادہ ہیں اور ہم اسے بھی مانتے نہیں کہ ہمیں سزا ہو اور آیت میں ہے کہ ہم نے جس بستی میں جس رسول کو بھیجا وہاں کے بڑے لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے تو جس طریقے پر اپنے بڑوں کو پایا ہے ہم تو اسی پر چلے چلیں گے، مکر سے مراد گمراہی کی طرف بلانا ہے اور اپنی چکنی چپڑی باتوں میں لوگوں کو پھنسانا ہے جیسے کہ قوم نوح کے بارے میں ہے آیت (وَمَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًا) 71۔ نوح :22) قیامت کے دن بھی جبکہ یہ ظالم اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرائیں گے جھوٹے لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم تو مسلمان ہوجاتے وہ جواب دیں گے کہ ہم نے تمہیں ہدایت سے کب روکا تھا ؟ تم تو خود گنہگار تھے، یہ کہیں گے تمہاری دن رات کی فتنہ انگیزیوں نے اور کفر و شرک کی دعوت نے ہمیں گمراہ کردیا، مکر کے معنی حضرت سفیان نے ہر جگہ عمل کے کئے ہیں پھر فرماتا ہے کہ ان کے مکر کا وبال انہی پر پڑے گا لیکن انہیں اس کا شعور نہیں، جن لوگوں کو انہوں نے بہکایا ان کا وبال بھی انہیں کے دوش پر ہوگا جیسے فرمان ہے آیت (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ) 29۔ العنکبوت :13) یعنی اپنے بوجھ کے ساتھ ان کے بوجھ بھی ڈھوئیں گے، جن کو بےعلمی کے ساتھ انہوں نے بہکایا تھا۔ جب کوئی نشان اور دلیل دیکھتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جب تک اللہ کا پیغام فرشتے کی معرفت خود ہمیں نہ آئے ہم تو باور کرنے والے نہیں۔ کہا کرتے تھے کہ ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں ہوتے ؟ اللہ ہمیں اپنا دیدار کیوں نہیں دکھاتا ؟ حالانکہ رسالت کے مستحق کی اصلی جگہ کو اللہ ہی جانتا ہے۔ ان کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ ان دونوں بستیوں میں کسی بڑے رئیس پر یہ قرآن کیوں نہ اترا ؟ جس کے جواب میں اللہ عز وجل نے فرمایا کیا تیرے رب کی رحمت کے تقسیم کرنے والے وہ ہیں ؟ پس مکہ یا طائف کے کسی رئیس پر قرآن کے نازل نہ ہونے سے وہ آنحضرت کی تحقیر کا ارادہ کرتے تھے اور یہ صرف ضد اور تکبر کی بنا پر تھا، جیسے فرمان ہے کہ تجھے دیکھتے ہی یہ لوگ مذاق اڑاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ کیا یہی ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کیا کرتا ہے ؟ یہ لوگ ذکر رحمن کے منکر ہیں، کہا کرتے تھے کہ اچھا یہی ہیں جنہیں اللہ نے اپنا رسول بنایا ؟ نتیجہ یہ ہوا کہ ان مسخروں کا مسخرا پن انہی پر الٹا پڑا، انہیں ماننا ہی پڑا تھا کہ آپ شریف النسب ہیں آپ سچے اور امین ہیں یہاں تک کہ نبوت سے پہلے قوم کی طرف سے آپ کو امین کا خطاب ملا تھا۔ ابو سفیان جیسے ان کافر قریشیوں کے سردار نے بھی دربار ہرقل میں بھی حضور کے عالی نسب ہونے اور سچے ہونے کی شہادت دی تھی۔ جس سے شاہ روم نے حضور کی صداقت طہارت نبوت وغیرہ کو مان لیا تھا، مسند کی حدیث میں ہے حضور فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اولاد ابراہیم سے اسمعیل کو پسند فرمایا۔ اولاد اسماعیل سے بنو کنانہ کو پسند فرمایا۔ بنو کنانہ سے قریش کو قریش میں سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھے۔ فرمان ہے کہ یکے بعد دیگرے قرنوں میں سے میں سب سے بہتر زمانے میں پیغمبر بنایا گیا۔ ایک مرتبہ جبکہ آپ کو لوگوں کی بعض کہی ہوئی باتیں پہنچیں تو آپ منبر پر تشریف لائے اور لوگوں سے پوچھا میں کون ہوں ؟ انہوں نے کہا آپ اللہ کے رسول ہیں۔ فرمایا میں محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب ہوں اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق میں مجھے بہتر بنایا ہے مخلوق کو جب دو حصوں میں تقسیم کیا تو مجھے ان دونوں میں جو بہتر حصہ تھا اس میں کیا پھر قبیلوں کی تقسیم کے وقت مجھے سب سے بہتر قیبلے میں کیا پھر جب گھرداریوں میں تقسیم کیا تو مجھے سب سے اچھے گھرانے میں بنایا پس میں گھرانے کے اعتبار سے اور ذات کے اعتبار سے تم سب سے بہتر ہوں صلوات اللہ وسلامیہ علیہ حضرت جبرائیل نے ایک مرتبہ آپ سے فرمایا میں نے تمام مشرق و مغرب ٹٹول لیا لیکن آپ سے زیادہ افضل کسی کو نہیں پایا (حاکم بہیقی) مسند احمد میں ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں کو دیکھا اور سب سے بہتر دل حضرت محمد ﷺ کا پایا۔ پھر مخلوق کے دلوں پر نگاہ ڈالی تو سب سے بہتر دل والے اصہاب رسول پائے پس حضور کو اپنا خاص چیدہ رسول بنایا اور اصہاب کو آپ کا وزیر بنایا جو آپ کے دین کے دشمنوں کے دشمن ہیں۔ پس یہ مسلمان جس چیز کو بہتر سمجھیں وہ اللہ وحدہ لاشریک کے نزدیک بھی بہتر ہے اور جسے یہ برا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے۔ ایک باہر کے شخص نے حضرت عبداللہ بن عباس کو مسجد کے دروازے سے آتا ہوا دیکھ کر مرعوب ہو کر لوگوں سے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں ؟ لوگوں نے کہا یہ رسول کریم ﷺ کے چچا کے لڑکے حضرت عبداللہ بن عباس ہیں ؓ۔ تو ان کے منہ سے بےساختہ یہ آیت نکلی کہ نبویت کی جگہ کو اللہ ہی بخوبی جانتا ہے، پھر فرماتا ہے کہ جو لوگ اس عظیم الشان نبی کی نبوت میں شک شبہ کر رہے ہیں اطاعت سے منہ پھیر رہے ہیں انہیں اللہ کے سامنے قیامت کے دن بڑی ذلت اٹھانی پڑے گی دنیا کے تکبر کی سزا خواری کی صورت میں انہیں ملے گی جو ان پر دائمی ہوگی۔ جیسے فرمان ہے کہ جو لوگ میری عبادت سے جی چراتے ہیں وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ انہیں ان کے مکر کی سزا اور سخت سزا ملے گی چونکہ مکاروں کی چالیں خفیہ اور ہلکی ہوتی ہیں اس کے بدلے میں عذاب علانیہ اور سخت ہوں گے۔ یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ ان کا پورا بدلہ ہے اس دن ساری چھپی عیاریاں کھل جائیں گی حضور کا ارشاد ہے کہ ہر بد عہد کی رانوں کے پاس قیامت کے دن ایک جھنڈا لہراتا ہوگا اور اعلان ہوتا ہوگا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے پس اس دنیا کی پوشیدگی اس طرح قیامت کے دن ظاہر ہوگی۔ اللہ ہمیں بچائے۔

جس پر اللہ کا کرم اس پہ راہ ہدایت آسان اللہ کا ارادہ جسے ہدایت کرنے کا ہوتا ہے اس پر نیکی کے راستے آسان ہوجاتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ) الخ، یعنی اللہ ان کے سینے اسلام کی طرف کھول دیتا ہے اور انہیں اپنا نور عطا فرماتا ہے اور آیت میں فرمایا آیت (وَلٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَكَرَّهَ اِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْيَانَ ۭاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَ) 49۔ الحجرات :7) اللہ نے تمہارے دلوں میں ایمان کی محبت پیدا کردی اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دار بنادیا اور کفر فسق اور نافرمانی کی تمہارے دلوں میں کراہیت ڈال دہی یہی لوگ راہ یافتہ اور نیک بخت ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس کا دل ایمان و توہید کی طرف کشادہ ہوجاتا ہے۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ دان کون سا مومن ہے ؟ فرمایا سب سے زیادہ موت کو یاد رکھنے والا اور سب سے زیادہ موت کے بعد کی زندگی کے لئے تیاریاں کرنے والا۔ حضور ﷺ سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمایا کہ اس کے دل میں ایک نور ڈال دیا جاتا ہے جس سے اس کا سینہ کھل جاتا ہے لوگوں نے اس کی نشانی درریافت کی تو فرمایا جنت کی طرف جھکنا اور اس کی جانب رغبت کام رکھنا اور دنیا کے فریب سے بھاگنا اور الگ ہونا اور موت کے آنے سے پہلے تیاریاں کرنا ضیقا کی ایک قرأت (ضیقا) بھی ہے (حرجا) کی دوسری (حرجا) بھی ہے یعنی گنہگار یا دونوں کے ایک ہی معنی یعنی تنگ جو ہدایت کے لئے نہ کھلے اور ایمان اس میں جگہ نہ پائے، ایک مرتبہ ایک بادیہ نشین بزرگ سے حضرت عمر فاروق ؓ نے حرجہ کے بارے میں دریافت فرمایا تو اس نے کہا یہ ایک درخت ہوتا ہے جس کے پاس نہ تو چرواہے جاتے ہیں نہ جانور نہ وحشی۔ آپ نے فرمایا سچ ہے ایسا ہی منافق کا دل ہوتا ہے کہ اس میں کوئی بھلائی جگہ پاتی ہی نہیں۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اسلام باوجود آسان اور کشادہ ہونے کے اسے سخت اور تنگ معلوم ہوتا ہے خود قرآن میں ہے آیت (وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ) 22۔ الحج :78) اللہ نے تمہارے دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ لیکن منافق کا شکی دل اس نعمت سے محروم رہتا ہے اسے لا الہ الا اللہ کا اقرار ایک مصیبت معلوم ہوتی ہے، جیسے کسی پر آسمان پر جڑھائی مشکل ہو، جیے وہ اس کے بس کی بات نہیں اسی طرح توحید و ایمان بھی اس کے قبضے سے باہر ہیں پس مردہ دل والے کبھی بھی اسلام قبول نہیں کرتے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بےایمانوں پر شیطان مقرر کردیتا ہے جو انہیں بہکاتے رہتے ہیں اور خیر سے ان کے دل کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔ نحوست ان پر برستی رہتی ہے اور عذاب ان پر اتر آتے ہیں۔

قرآن حکیم ہی صراط مستقیم کی تشریح ہے گمراہوں کا طریقہ بیان فرما کر اپنے اس دین حق کی نسبت فرماتا ہے کہ سیدھی اور صاف راہ جو بےروک اللہ کی طرف پہنچا دے یہی ہے (مستقیما) کا نصب حالیت کی وجہ سے ہے۔ پس شرع محمدی کلام باری تعالیٰ ہی راہ راست ہے چناچہ حدیث میں بھی قرآن کی صفت میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی سیدھی راہ اللہ کی مضبوط رسی اور حکمت والا ذکر یہی ہے (ملاحظہ ہو ترمذی مسند وغیرہ) جنہیں اللہ کی جانب سے عقل و فہم و عمل دیا گیا ہے ان کے سامنے تو وضاحت کے ساتھ اللہ کی آیتیں آچکیں۔ ان ایمانداروں کیلئے اللہ کے ہاں جنت ہے، جیسے کہ یہ سلامتی کی راہ یہاں چلے ویسے ہی قیامت کے دن سلامتی کا گھر انہیں ملے گا۔ وہی سلامتیوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے ان کا کار ساز اور دلی دوست ہے۔ حافظ و ناصر مویدو مولی ان کا وہی ہے ان کے نیک اعمال کا بدلہ یہ پاک گھر ہوگا جہاں ہمیشگی ہے اور یکسر راحت و اطمینان، سرور اور خوشی ہی خوشی ہے۔

قرآن حکیم ہی صراط مستقیم کی تشریح ہے گمراہوں کا طریقہ بیان فرما کر اپنے اس دین حق کی نسبت فرماتا ہے کہ سیدھی اور صاف راہ جو بےروک اللہ کی طرف پہنچا دے یہی ہے (مستقیما) کا نصب حالیت کی وجہ سے ہے۔ پس شرع محمدی کلام باری تعالیٰ ہی راہ راست ہے چناچہ حدیث میں بھی قرآن کی صفت میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی سیدھی راہ اللہ کی مضبوط رسی اور حکمت والا ذکر یہی ہے (ملاحظہ ہو ترمذی مسند وغیرہ) جنہیں اللہ کی جانب سے عقل و فہم و عمل دیا گیا ہے ان کے سامنے تو وضاحت کے ساتھ اللہ کی آیتیں آچکیں۔ ان ایمانداروں کیلئے اللہ کے ہاں جنت ہے، جیسے کہ یہ سلامتی کی راہ یہاں چلے ویسے ہی قیامت کے دن سلامتی کا گھر انہیں ملے گا۔ وہی سلامتیوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے ان کا کار ساز اور دلی دوست ہے۔ حافظ و ناصر مویدو مولی ان کا وہی ہے ان کے نیک اعمال کا بدلہ یہ پاک گھر ہوگا جہاں ہمیشگی ہے اور یکسر راحت و اطمینان، سرور اور خوشی ہی خوشی ہے۔

یوم حشر وہ دن بھی قریب ہے جبکہ اللہ تعالیٰ ان سب کو جمع کرے گا۔ جناب انسان عابد معبود سب ایک میدان میں کھڑے ہوں گے اس وقت جنات سے ارشاد ہوگا کہ تم نے انسانوں کو خوب بہکایا اور ورغلایا۔ انسانوں کو یاد دلایا جائے گا کہ میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ شیطان کی نہ ماننا وہ تمہارا دشمن ہے میری ہی عبادت کرتے رہنا یہی سیدھی راہ ہے لیکن تم نے سمجھ سے کام نہ لیا اور شیطانی راگ میں آگئے اس وقت جنات کے دوست انسان جواب دیں گے کہ ہاں انہوں نے حکم دیا اور ہم نے عمل کیا دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ رہے اور فائدہ حاصل کرتے رہے، جاہلیت کے زمانہ میں جو مسافر کہیں اترتا تو کہتا کہ اس وادی کے بڑے جن کی پناہ میں میں آتا ہوں۔ انسانوں سے جنات کو بھی فائدہ پہنچتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو ان کے سردار سمجھنے لگے تھے موت کے وقت تک یہی حالت رہی اس وقت انہیں کہا جائے گا کہ اچھا اب بھی تم ساتھ ہی جہنم میں جاؤ وہیں ہمیشہ پڑے رہنا۔ یہ استثناء جو ہے وہ راجع ہے برزخ کی طرف بعض کہتے ہیں دنیا کی مدت کی طرف، اس کا پورا بیان سورة ہود کی آیت (خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّكَ ۭ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ) 11۔ ہود :107) کی تفسیر میں آئے گا انشا اللہ۔ اس آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ کوئی کسی کے لئے جنت دوزخ کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ سب مشیت رب پر موقوف ہے۔

ہم مزاج ہی دوست ہوتے ہیں لوگوں کی دوستیاں اعمال پر ہوتی ہیں مومن کا دل مومن سے ہی لگتا ہے گو وہ کہیں کا ہو اور کیسا ہی ہو اور کافر کافر بھی ایک ہی ہیں گو وہ مختلف ممالک اور مختلف ذات پات کے ہوں۔ ایمان تمناؤں اور ظاہر داریوں کا نام نہیں۔ اس مطلب کے علاوہ اس آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اسی طرح یکے بعد دیگرے تمام کفار جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ مالک بن دینار کہتے ہیں میں نے زبور میں پڑھا ہے اللہ فرماتا ہے میں منافقوں سے انتقام منافقوں کے ساتھ ہی لوں گا پھر سب سے ہی انتقام لوں گا۔ اس کی تصدیق قرآن کی مندرجہ بالا آیت سے بھی ہوتی ہے کہ ہم ولی بنائیں گے بعض ظالموں کا یعنی ظالم جن اور ظالم انس۔ پھر آپ نے آیت (وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ) 43۔ الزخرف :36) کی تلاوت کی اور فرمایا کہ ہم سرکش جنوں کو سرکش انسانوں پر مسلط کردیں گے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے جو ظالم کی مدد کرے گا اللہ اسی کو اس پر مسلط کر دے گا۔ کسی شاعر کا قول ہے۔ وما من یدالا ید اللہ فوقھا وما ظالم الا سیبلی بظالم یعنی ہر ہاتھ ہر طاقت پر اللہ کا ہاتھ اور اللہ کی طاقت بالا ہے اور ہر ظالم دوسرے ظالم کے پنجے میں پھنسنے والا ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم نے جس طرح ان نقصان یافتہ انسانوں کے دوست ان بہکانے والے جنوں کو بنادیا اسی طرح ظالموں کو بعض کو بعض کا ولی بنا دیتے ہیں اور بعض بعض سے ہلاک ہوتے ہیں اور ہم ان کے ظلم و سرکشی اور بغاوت کا بدلہ بعض سے بعض کو دلا دیتے ہیں۔

جن اور انسان اور پاداش عمل یہ اور سرزنش اور ڈانت ڈپٹ ہے جو قیامت کے دن اللہ کی طرف سے انسانوں اور جنوں کو ہوگی ان سے سوال ہوگا کہ کیا تم میں سے ہی تمہارے پاس میرے بھیجے ہوئے رسول نہیں آئے تھے۔ یہ یاد رہے کہ رسول کل کے کل انسان ہی تھے کوئی جن رسول نہیں ہوا۔ ائمہ سلف خلف کا مذہب یہی ہے جنات میں نیک لوگ اور جنوں کو نیکی کی تعلیم کرتے تھے۔ بدی سے روکتے تھے لیکن رسول صرف انسانوں میں سے ہی آتے رہے۔ ضحاک بن مزاحم سے ایک روایت مروی ہے کہ جنات میں بھی رسول ہوتے ہیں اور ان کی دلیل ایک تو یہ آیت ہے سو یہ کوئی دلیل نہیں اس لئے کہ اس میں صراحت نہیں اور یہ آیت تو بالکل ویسی ہی ہے جیسے آیت (مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيٰنِ) 55۔ الرحمن :19) سے (يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ) 55۔ الرحمن :22) تک کی آیتیں صاف ظاہر ہے کہ موتی مرجان صرف کھاری پانی کے سمندروں میں نکلتے ہیں۔ میٹھے پانی سے نہیں نکلتے لیکن ان آیتوں میں دونوں قسم کے سمندروں میں سے موتیوں کا نکلنا پایا جاتا ہے کہ ان کی جنس میں سے مراد یہی ہے اس طرح اس آیت میں مراد جنوں انسانوں کی جنس میں سے ہے نہ کہ ان دونوں میں سے ہر ایک میں سے اور رسولوں کے صرف انسان ہی ہونے کی دلیل آیت (اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ كَمَآ اَوْحَيْنَآ اِلٰي نُوْحٍ وَّالنَّـبِيّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۚ وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَعِيْسٰى وَاَيُّوْبَ وَيُوْنُسَ وَهٰرُوْنَ وَسُلَيْمٰنَ ۚ وَاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا01603ۚ وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۭ وَكَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِــيْمًا01604ۚ رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ للنَّاسِ عَلَي اللّٰهِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ) 4۔ النسآء :163) اور (وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ ۚ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ) 57۔ الحدید :26) پس ثابت ہوتا ہے کہ خلیل اللہ حضرت ابراہیم ؑ کے بعد نبوت کا انحصار آپ ہی کی اولاد میں ہو رہا۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس انوکھی بات کا قائل ایک بھی نہیں کہ آپ سے پہلے نبی ہوتے تھے اور پھر ان میں سے نبوت جھین لی گئی اور آیت اس سے بھی صاف ہے فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً ۭ اَتَصْبِرُوْنَ ۚ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا) 25۔ الفرقان :20) یعنی تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں آتے جاتے تھے اور آیت میں ہے اور اس نے یہ مسئلہ بالکل صاف کردیا ہے فرماتا ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى) 12۔ یوسف :109) یعنی تجھ سے پہلے ہم نے مردوں کو ہی بھیجا ہے جو شہروں کے ہی تھے جن کی طرف ہم نے اپنی وحی نازل فرمائی تھی۔ چناچہ جنات کا یہی قول قرآن میں موجود ہے آیت (وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا ۚ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ) 46۔ الاحقاف :29) جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف پھیرا جو قرآن سنتے رہے جب سن چکے تو واپس اپنی قوم کے پاس گئے اور انہیں آگاہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم نے موسیٰ کے بعد کی نازل شدہ کتاب سنی جو اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور راہ حق دکھاتی ہے اور صراط مستقیم کی رہبری کرتی ہے، پس تم سب اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی مانو اور اس پر ایمان لاؤ تاکہ اللہ تمہارے گناہوں کو بخشے اور تمہیں المناک عذابوں سے بچائے اللہ کی طرف سے جو پکارنے والا ہے اس کی نہ ماننے والے اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے نہ اس کے سوا اپنا کوئی اور کار ساز اور والی پاسکتے ہیں بلکہ ایسے لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔ ترمذی وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ اس موقعہ پر جنات کو رسول اللہ ﷺ نے سورة الرحمن پڑھ کر سنائی تھی جس میں ایک آیت (سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَيُّهَا الثَّقَلٰنِ) 55۔ الرحمن :31) ہے یعنی اے جنو انسانوں ہم صرف تمہاری ہی طرف تمام تر توجہ کرنے کیلئے عنقریب فارغ ہوں گے۔ پھر تم اپنے رب کی کس نعمت کو جھٹلا رہے ہو ؟ الغرض انسانوں اور جنوں کو اس آیت میں نبیوں کے ان میں سے بھیجنے میں بطور خطاب کے شامل کرلیا ہے ورنہ رسول سب انسان ہی ہوتے ہیں۔ نبیوں کا کام یہی رہا کہ وہ اللہ کی آیتیں سنائیں اور قیامت کے دن سے ڈرائیں۔ اس سوال کے جواب میں سب کہیں گے کہ ہاں ہمیں اقرار ہے تیرے رسول ہمارے پاس آئے اور تیرا کلام بھی پہنچایا اور اس دن سے بھی متنبہ کردیا تھا۔ پھر جناب باری فرماتا ہے انہوں نے دنیا کی زندگی دھوکے میں گذاری رسولوں کو جھٹلاتے رہے۔ معجزوں کی مخالفت کرتے رہے دنیا کی آرائش پر جان دیتے رہے گئے۔ شہوت پرستی میں پڑے رہے قیامت کے دن اپنی زبانوں سے اپنے کفر کا اقرار کریں گے کہ ہاں بیشک ہم نے نبیوں کی نہیں مانی۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہم

حجت تمام جن اور انسانوں کی طرف رسول بھیج کر، کتابیں اتار کر ان کے عذر ختم کردیئے اس لئے کہ یہ اللہ کا اصول نہیں کہ وہ کسی بستی کے لوگوں کو اپنی منشاء معلوم کرائے بغیر چپ چاپ اپنے عذابوں میں جکڑ لے اور اپنا پیغام پہنچائے بغیر بلا وجہ ظلم کے ساتھ ہلاک کر دے، فرماتا ہے آیت (وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ) 35۔ فاطر :24) یعنی کوئی بستی ایسی نہیں جہاں کوئی آگاہ کرنے والا نہ آیا ہو اور آیت میں ہے ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اے لوگو اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے بچو اور جگہ ہے ہم رسولوں کو بھیجنے سے پہلے عذاب نہیں کیا کرتے۔ سورة تبارک میں ہے جب جہنم میں کوئی جماعت جائے گی تو وہاں کے داروغے ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس آ گاہ کرنے والے نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے آئے تھے اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں اس آیت کے پہلے جملے کے ایک معنی امام ابن جریر نے اور بھی بیان کئے ہیں اور فی الواقع وہ معنی بہت درست ہیں امام صاحب نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے یعنی یہ کہ کسی بستی والوں کے ظلم اور گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں اسی وقت ہلاک نہیں کرتا جب تک نبیوں کو بھیج کر انہیں غفلت سے بیدار نہ کر دے، ہر عامل اپنے عمل کے بدلے کا مستحق ہے۔ نیک نیکی کا اور بد بدی کا۔ خواہ انسان ہو خواہ جن ہو۔ بدکاروں کے جہنم میں درجے ان کی بدکاری کے مطابق مقرر ہیں جو لوگ خود بھی کفر کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی راہ الہیہ سے روکتے ہیں انہیں عذاب پر عذاب ہوں گے اور ان کے فساد کا بدلہ ملے گا ہر عامل کا عمل اللہ پر روشن ہے تاکہ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے کا بدلہ مل جائے۔

حجت تمام جن اور انسانوں کی طرف رسول بھیج کر، کتابیں اتار کر ان کے عذر ختم کردیئے اس لئے کہ یہ اللہ کا اصول نہیں کہ وہ کسی بستی کے لوگوں کو اپنی منشاء معلوم کرائے بغیر چپ چاپ اپنے عذابوں میں جکڑ لے اور اپنا پیغام پہنچائے بغیر بلا وجہ ظلم کے ساتھ ہلاک کر دے، فرماتا ہے آیت (وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ) 35۔ فاطر :24) یعنی کوئی بستی ایسی نہیں جہاں کوئی آگاہ کرنے والا نہ آیا ہو اور آیت میں ہے ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اے لوگو اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے بچو اور جگہ ہے ہم رسولوں کو بھیجنے سے پہلے عذاب نہیں کیا کرتے۔ سورة تبارک میں ہے جب جہنم میں کوئی جماعت جائے گی تو وہاں کے داروغے ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس آ گاہ کرنے والے نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے آئے تھے اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں اس آیت کے پہلے جملے کے ایک معنی امام ابن جریر نے اور بھی بیان کئے ہیں اور فی الواقع وہ معنی بہت درست ہیں امام صاحب نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے یعنی یہ کہ کسی بستی والوں کے ظلم اور گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں اسی وقت ہلاک نہیں کرتا جب تک نبیوں کو بھیج کر انہیں غفلت سے بیدار نہ کر دے، ہر عامل اپنے عمل کے بدلے کا مستحق ہے۔ نیک نیکی کا اور بد بدی کا۔ خواہ انسان ہو خواہ جن ہو۔ بدکاروں کے جہنم میں درجے ان کی بدکاری کے مطابق مقرر ہیں جو لوگ خود بھی کفر کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی راہ الہیہ سے روکتے ہیں انہیں عذاب پر عذاب ہوں گے اور ان کے فساد کا بدلہ ملے گا ہر عامل کا عمل اللہ پر روشن ہے تاکہ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے کا بدلہ مل جائے۔

سب سے بےنیاز اللہ اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق سے بےنیاز ہے، اسے کسی کی کوئی حاجت نہیں۔ اسے کسی سے کوئی فائدہ نہیں وہ کسی کا محتاج نہیں۔ ساری مخلوق اپنے ہر حال میں اس کی محتاج ہے۔ وہ بڑی ہی رافت و رحمت والا ہے رحم و کرم اس کی خاص صفتیں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ بالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) 2۔ البقرۃ :143) اللہ اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی اور لطف سے پیش آنے والا ہے تو جو اس کی مخالفت کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ اگر وہ چاہے تو تمہیں ایک آن میں غارت کرسکتا ہے اور تمہارے بعد ایسے لوگوں کو بسا سکتا ہے جو اس کی اطاعت کریں۔ یہ اس کی قدرت میں ہے تم دیکھ لو اس نے آخر اوروں کے قائم مقام تمہیں بھی کیا ہے۔ ایک قرن کے بعد دوسرا قرن وہی لاتا ہے ایک کو مار ڈالتا ہے دوسرے کو پیدا کردیتا ہے لانے لے جانے پر اسے مکمل قدرت ہے جیسے فرمان ہے اگر وہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو فنا کر دے اور دوسروں کو لے آئے وہ اس پر قادر ہے۔ فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ) 35۔ فاطر :15) لوگو تم سب کے سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ بےنیاز اور تعریفوں والا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور نئی مخلوق لے آئے اللہ کے لئے کوئی انوکھی بات نہیں اور فرمان ہے آیت (وَاللّٰهُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ) 47۔ محمد :38) اللہ غنی ہے اور تم سب فقیر ہو۔ فرماتا ہے اگر تم نافرمان ہوگئے تو وہ تمہیں بدل کر اور قوم لائے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ ذریت سے مراد اصل و نسل ہے، اے نبی آپ ان سے کہہ دیجئے کہ قیامت جنت دوزخ وغیرہ کے جو وعدے تم سے کئے جا رہے ہیں وہ یقینا سچے ہیں اور یہ سب کچھ ہونے والا ہے تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے وہ تمہارے اعادے پر قادر ہے۔ تم گل سڑ کر مٹی ہوجاؤ گے پھر وہ تمہیں نئی پیدائش میں پیدا کرے گا اس پر کوئی عمل مشکل نہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اے بنی آدم اگر تم میں عقل ہے تو اپنے تئیں مردوں میں شمار کرو واللہ اللہ کی فرمائی ہوئی سب باتیں بہ یقین ہونے والی ہیں کوئی نہیں جو اللہ کے ارادے میں اسے ناکام کر دے، اس کی چاہت کو نہ ہونے دے، لوگوں تم اپنی کرنی کئے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا کہ ہدایت پر کون تھا ؟ اور ضلالت پر کون تھا ؟ کون نیک انجام ہوتا ہے اور کون گھٹنوں میں سر ڈال کر روتا ہے۔ جیسے فرمایا بےایمانوں سے کہہ دو کہ تم اپنے شغل میں رہو میں بھی اپنے کام میں لگا ہوں۔ تم منتظر رہو ہم بھی انتظار میں ہیں معلوم ہوجائے گا کہ انجام کے لحاظ سے کون اچھا رہا ؟ یاد رکھو اللہ نے جو وعدے اپنے رسول سے کئے ہیں سب اٹل ہیں۔ چناچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ نبی جس کا چپہ چپہ مخالف تھا جس کا نام لینا دو بھر تھا جو یکہ وتنہا تھا جو وطن سے نکال دیا گیا تھا جس کی دشمنی ایک ایک کرتا تھا اللہ نے اسے غلبہ دیا لاکھوں دلوں پر اس کی حکومت ہوگئی اس کی زندگی میں ہی تمام جزیرہ عرب کا وہ تنہا مالک بن گیا یمن اور بحرین پر بھی اس کے سامنے اس کا جھنڈا لہرانے لگا، پھر اس کے جانشینوں نے دنیا کو کھنگال ڈالا بڑی بڑی سلطنتوں کے منہ پھیر دیئے، جہاں گئے غلبہ پایا جدھر رخ کیا، فتح حاصل کی، یہی اللہ کا وعدہ تھا کہ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے، مجھ سے زیادہ قوت وعزت کسی کی نہیں۔ فرما دیا تھا کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی مدد فرمائیں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ رسولوں کی طرف اس نے وحی بھیجی تھی کہ ہم ظالموں کو تہ وبالا کردیں گے اور ان کے بعد زمینوں کے سرتاج تمہیں بنادیں گے کیونکہ تم مجھ سے اور میرے عذابوں سے ڈرنے والے ہو۔ وہ پہلے ہی فرما چکا تھا کہ تم میں سے ایمانداروں اور نیک کاروں کو میں زمین کا سلطان بنا دوں گا جیسے کہ پہلے سے یہ دستور چلا آ رہا ہے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے دین میں مضبوطی اور کشائش دے گا جس کے دین سے وہ خوش ہے اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا کہ وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں۔ الحمد اللہ اللہ تعالیٰ نے اس امت سے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا۔ فللہ احمد والمنہ اولا و اخر او ظاہر او باطنا

سب سے بےنیاز اللہ اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق سے بےنیاز ہے، اسے کسی کی کوئی حاجت نہیں۔ اسے کسی سے کوئی فائدہ نہیں وہ کسی کا محتاج نہیں۔ ساری مخلوق اپنے ہر حال میں اس کی محتاج ہے۔ وہ بڑی ہی رافت و رحمت والا ہے رحم و کرم اس کی خاص صفتیں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ بالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) 2۔ البقرۃ :143) اللہ اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی اور لطف سے پیش آنے والا ہے تو جو اس کی مخالفت کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ اگر وہ چاہے تو تمہیں ایک آن میں غارت کرسکتا ہے اور تمہارے بعد ایسے لوگوں کو بسا سکتا ہے جو اس کی اطاعت کریں۔ یہ اس کی قدرت میں ہے تم دیکھ لو اس نے آخر اوروں کے قائم مقام تمہیں بھی کیا ہے۔ ایک قرن کے بعد دوسرا قرن وہی لاتا ہے ایک کو مار ڈالتا ہے دوسرے کو پیدا کردیتا ہے لانے لے جانے پر اسے مکمل قدرت ہے جیسے فرمان ہے اگر وہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو فنا کر دے اور دوسروں کو لے آئے وہ اس پر قادر ہے۔ فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ) 35۔ فاطر :15) لوگو تم سب کے سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ بےنیاز اور تعریفوں والا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور نئی مخلوق لے آئے اللہ کے لئے کوئی انوکھی بات نہیں اور فرمان ہے آیت (وَاللّٰهُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ) 47۔ محمد :38) اللہ غنی ہے اور تم سب فقیر ہو۔ فرماتا ہے اگر تم نافرمان ہوگئے تو وہ تمہیں بدل کر اور قوم لائے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ ذریت سے مراد اصل و نسل ہے، اے نبی آپ ان سے کہہ دیجئے کہ قیامت جنت دوزخ وغیرہ کے جو وعدے تم سے کئے جا رہے ہیں وہ یقینا سچے ہیں اور یہ سب کچھ ہونے والا ہے تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے وہ تمہارے اعادے پر قادر ہے۔ تم گل سڑ کر مٹی ہوجاؤ گے پھر وہ تمہیں نئی پیدائش میں پیدا کرے گا اس پر کوئی عمل مشکل نہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اے بنی آدم اگر تم میں عقل ہے تو اپنے تئیں مردوں میں شمار کرو واللہ اللہ کی فرمائی ہوئی سب باتیں بہ یقین ہونے والی ہیں کوئی نہیں جو اللہ کے ارادے میں اسے ناکام کر دے، اس کی چاہت کو نہ ہونے دے، لوگوں تم اپنی کرنی کئے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا کہ ہدایت پر کون تھا ؟ اور ضلالت پر کون تھا ؟ کون نیک انجام ہوتا ہے اور کون گھٹنوں میں سر ڈال کر روتا ہے۔ جیسے فرمایا بےایمانوں سے کہہ دو کہ تم اپنے شغل میں رہو میں بھی اپنے کام میں لگا ہوں۔ تم منتظر رہو ہم بھی انتظار میں ہیں معلوم ہوجائے گا کہ انجام کے لحاظ سے کون اچھا رہا ؟ یاد رکھو اللہ نے جو وعدے اپنے رسول سے کئے ہیں سب اٹل ہیں۔ چناچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ نبی جس کا چپہ چپہ مخالف تھا جس کا نام لینا دو بھر تھا جو یکہ وتنہا تھا جو وطن سے نکال دیا گیا تھا جس کی دشمنی ایک ایک کرتا تھا اللہ نے اسے غلبہ دیا لاکھوں دلوں پر اس کی حکومت ہوگئی اس کی زندگی میں ہی تمام جزیرہ عرب کا وہ تنہا مالک بن گیا یمن اور بحرین پر بھی اس کے سامنے اس کا جھنڈا لہرانے لگا، پھر اس کے جانشینوں نے دنیا کو کھنگال ڈالا بڑی بڑی سلطنتوں کے منہ پھیر دیئے، جہاں گئے غلبہ پایا جدھر رخ کیا، فتح حاصل کی، یہی اللہ کا وعدہ تھا کہ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے، مجھ سے زیادہ قوت وعزت کسی کی نہیں۔ فرما دیا تھا کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی مدد فرمائیں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ رسولوں کی طرف اس نے وحی بھیجی تھی کہ ہم ظالموں کو تہ وبالا کردیں گے اور ان کے بعد زمینوں کے سرتاج تمہیں بنادیں گے کیونکہ تم مجھ سے اور میرے عذابوں سے ڈرنے والے ہو۔ وہ پہلے ہی فرما چکا تھا کہ تم میں سے ایمانداروں اور نیک کاروں کو میں زمین کا سلطان بنا دوں گا جیسے کہ پہلے سے یہ دستور چلا آ رہا ہے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے دین میں مضبوطی اور کشائش دے گا جس کے دین سے وہ خوش ہے اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا کہ وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں۔ الحمد اللہ اللہ تعالیٰ نے اس امت سے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا۔ فللہ احمد والمنہ اولا و اخر او ظاہر او باطنا

سب سے بےنیاز اللہ اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق سے بےنیاز ہے، اسے کسی کی کوئی حاجت نہیں۔ اسے کسی سے کوئی فائدہ نہیں وہ کسی کا محتاج نہیں۔ ساری مخلوق اپنے ہر حال میں اس کی محتاج ہے۔ وہ بڑی ہی رافت و رحمت والا ہے رحم و کرم اس کی خاص صفتیں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ بالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) 2۔ البقرۃ :143) اللہ اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی اور لطف سے پیش آنے والا ہے تو جو اس کی مخالفت کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ اگر وہ چاہے تو تمہیں ایک آن میں غارت کرسکتا ہے اور تمہارے بعد ایسے لوگوں کو بسا سکتا ہے جو اس کی اطاعت کریں۔ یہ اس کی قدرت میں ہے تم دیکھ لو اس نے آخر اوروں کے قائم مقام تمہیں بھی کیا ہے۔ ایک قرن کے بعد دوسرا قرن وہی لاتا ہے ایک کو مار ڈالتا ہے دوسرے کو پیدا کردیتا ہے لانے لے جانے پر اسے مکمل قدرت ہے جیسے فرمان ہے اگر وہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو فنا کر دے اور دوسروں کو لے آئے وہ اس پر قادر ہے۔ فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ) 35۔ فاطر :15) لوگو تم سب کے سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ بےنیاز اور تعریفوں والا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور نئی مخلوق لے آئے اللہ کے لئے کوئی انوکھی بات نہیں اور فرمان ہے آیت (وَاللّٰهُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ) 47۔ محمد :38) اللہ غنی ہے اور تم سب فقیر ہو۔ فرماتا ہے اگر تم نافرمان ہوگئے تو وہ تمہیں بدل کر اور قوم لائے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ ذریت سے مراد اصل و نسل ہے، اے نبی آپ ان سے کہہ دیجئے کہ قیامت جنت دوزخ وغیرہ کے جو وعدے تم سے کئے جا رہے ہیں وہ یقینا سچے ہیں اور یہ سب کچھ ہونے والا ہے تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے وہ تمہارے اعادے پر قادر ہے۔ تم گل سڑ کر مٹی ہوجاؤ گے پھر وہ تمہیں نئی پیدائش میں پیدا کرے گا اس پر کوئی عمل مشکل نہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اے بنی آدم اگر تم میں عقل ہے تو اپنے تئیں مردوں میں شمار کرو واللہ اللہ کی فرمائی ہوئی سب باتیں بہ یقین ہونے والی ہیں کوئی نہیں جو اللہ کے ارادے میں اسے ناکام کر دے، اس کی چاہت کو نہ ہونے دے، لوگوں تم اپنی کرنی کئے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا کہ ہدایت پر کون تھا ؟ اور ضلالت پر کون تھا ؟ کون نیک انجام ہوتا ہے اور کون گھٹنوں میں سر ڈال کر روتا ہے۔ جیسے فرمایا بےایمانوں سے کہہ دو کہ تم اپنے شغل میں رہو میں بھی اپنے کام میں لگا ہوں۔ تم منتظر رہو ہم بھی انتظار میں ہیں معلوم ہوجائے گا کہ انجام کے لحاظ سے کون اچھا رہا ؟ یاد رکھو اللہ نے جو وعدے اپنے رسول سے کئے ہیں سب اٹل ہیں۔ چناچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ نبی جس کا چپہ چپہ مخالف تھا جس کا نام لینا دو بھر تھا جو یکہ وتنہا تھا جو وطن سے نکال دیا گیا تھا جس کی دشمنی ایک ایک کرتا تھا اللہ نے اسے غلبہ دیا لاکھوں دلوں پر اس کی حکومت ہوگئی اس کی زندگی میں ہی تمام جزیرہ عرب کا وہ تنہا مالک بن گیا یمن اور بحرین پر بھی اس کے سامنے اس کا جھنڈا لہرانے لگا، پھر اس کے جانشینوں نے دنیا کو کھنگال ڈالا بڑی بڑی سلطنتوں کے منہ پھیر دیئے، جہاں گئے غلبہ پایا جدھر رخ کیا، فتح حاصل کی، یہی اللہ کا وعدہ تھا کہ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے، مجھ سے زیادہ قوت وعزت کسی کی نہیں۔ فرما دیا تھا کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی مدد فرمائیں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ رسولوں کی طرف اس نے وحی بھیجی تھی کہ ہم ظالموں کو تہ وبالا کردیں گے اور ان کے بعد زمینوں کے سرتاج تمہیں بنادیں گے کیونکہ تم مجھ سے اور میرے عذابوں سے ڈرنے والے ہو۔ وہ پہلے ہی فرما چکا تھا کہ تم میں سے ایمانداروں اور نیک کاروں کو میں زمین کا سلطان بنا دوں گا جیسے کہ پہلے سے یہ دستور چلا آ رہا ہے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے دین میں مضبوطی اور کشائش دے گا جس کے دین سے وہ خوش ہے اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا کہ وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں۔ الحمد اللہ اللہ تعالیٰ نے اس امت سے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا۔ فللہ احمد والمنہ اولا و اخر او ظاہر او باطنا

ہدعت کا آغاز مشرکین کی ایک نو ایجاد (بدعت) جو کفر و شرک کا ایک طریقہ تھی بیان ہو رہی ہے کہ ہر چیز پیدا کی ہوئی تو ہماری ہے پھر یہ اس میں سے نذرانہ کا کچھ حصہ ہمارے نام کا ٹھہراتے ہیں اور کچھ اپنے گھڑے ہوئے معبودوں کا جنہیں وہ ہمارا شریک بنائے ہوئے ہیں، اسی کے ساتھ ہی یہ بھی کرتے ہیں کہ اللہ کے نام کا ٹھہرایا ہوا نذرانہ بتوں کے نام والے میں مل گیا تو وہ تو بتوں کا ہوگیا لیکن اگر بتوں کے لئے ٹھہرائے ہوئے میں سے کچھ اللہ کے نام والے میں مل گیا تو اسے جھٹ سے نکال لیتے تھے۔ کوئی ذبیحہ اپنے معبودوں کے نام کا کریں تو بھول کر بھی اس پر اللہ کا نام نہیں لیتے یہ کیسی بری تقسیم کرتے ہیں۔ اولاً تو یہ تقسیم ہی جہالت کی علامت ہے کہ سب چیزیں اللہ کی پیدا کی ہوئی اسی کی ملکیت پھر ان میں سے دوسرے کے نام کی کسی چیز کو نذر کرنے والے یہ کون ؟ جو اللہ لا شریک ہے انہیں اس کے شریک ٹھہرانے کا کیا مقصد ؟ پھر اس ظلم کو دیکھو اللہ کے حصے میں سے تو بتوں کو پہنچ جائے اور بتوں کا حصہ ہرگز اللہ کو نہ پہنچ سکے یہ کیسے بد ترین اصول ہیں۔ ایسی ہی غلطی یہ بھی تھی کہ اللہ کے لئے لڑکیاں اور اپنے لئے لڑکے تو تمہارے ہوں اور جن لڑکیوں سے تم بیزار وہ اللہ کی ہوں۔ کیسی بری تقسیم ہے۔

شیطان کے چیلے جیسے کہ شیطانوں نے انہیں راہ پر لگا دیا ہے کہ وہ اللہ کے لئے خیرات کریں تو اپنے بزرگوں کا نام کا بھی حصہ نکالیں اسی طرح انہیں شیطان نے اس راہ پر بھی لگا رکھا ہے کہ وہ اپنی اولادوں کو بےوجہ قتل کردیں۔ کوئی اس وجہ سے کہ ہم اسے کھلائیں گے کہاں سے ؟ کوئی اس وجہ سے کہ ان بیٹیوں کی بنا پر ہم کسی کے خسر بنیں گے وغیرہ۔ اس شیطانی حرکت کا نتیجہ ہلاکت اور دین کی الجھن ہے۔ یہاں تک کہ یہ بدترین طریقہ ان میں پھیل گیا تھا کہ لڑکی کے ہونے کی خبر ان کے چہرے سیاہ کردیتی تھی ان کے منہ سے یہ نکلتا نہ تھا کہ میرے ہاں لڑکی ہوئی، قرآن نے فرمایا کہ ان بےگناہ زندہ درگور کی ہوئی بچیوں سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ وہ کس گناہ پر قتل کردی گئیں پس یہ سب وسوسے شیطانی تھے لیکن یہ یاد رہے کہ رب کا ارادہ اور اختیار اس سے الگ نہ تھا اگر وہ چاہتا تو مشرک ایسا نہ کرسکتے۔ لیکن اس میں بھی اس کی حکمت ہے، اس سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا اور اس کی باز پرس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ پس اے نبی تو ان سے اور ان کی اس افترا پردازی سے علیحدگی اختیار کرلو اللہ خود ان سے نمٹ لے گا۔

اللہ کا مقرر کردہ راستہ حجر کے معنی احرام کے ہیں۔ یہ طریقے شیطانی تھے کوئی اللہ کا مقرر کردہ راستہ نہ تھا۔ اپنے معبودوں کے نام یہ چیزیں کردیتے تھے۔ پھر جسے چاہتے کھلاتے۔ جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَــعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا) 10۔ یونس :59) یعنی بتلاؤ تو یہ اللہ کے دیئے رزق میں سے تم جو اپنے طور پر حلال حرام مقرر کرلیتے ہو اس کا حکم تمہیں اللہ نے دیا ہے یا تم نے خود ہی خود پر تراش لیا ہے ؟ دوسری آیت میں صاف فرمایا آیت (مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِيْرَةٍ وَّلَا سَاۗىِٕبَةٍ وَّلَا وَصِيْلَةٍ وَّلَا حَامٍ ۙ وَّلٰكِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ ۭ وَاَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ) 5۔ المائدہ :103) یعنی یہ کافروں کی نادانی، افتراء اور جھوٹ ہے۔ بحیرہ سائبہ اور حام نام رکھ کر ان جانوروں کو اپنے معبودان باطل کے نام پر داغ دیتے تھے پھر ان سے سواری نہیں لیتے تھے، جب ان کے بچے ہوتے تھے تو انہیں ذبح کرتے تھے حج کے لئے بھی ان جانوروں پر سواری کرنا حرام جانتے تھے۔ نہ کسی کام میں ان کو لگاتے تھے نہ ان کا دودھ نکالتے تھے پھر ان کاموں کو شرعی کام قرار دیتے تھے اور اللہ کا فرمان جانتے تھے اللہ انہیں ان کے اس کرتوت کا اور بہتان بازی کا بدلہ دے گا۔

نذر نیاز ابن عباس فرماتے ہیں جاہلیت میں یہ بھی رواج تھا کہ جن چوپایوں کو وہ اپنے معبودان باطل کے نام کردیتے تھے ان کا دودھ صرف مرد پیتے تھے جب انہیں بچہ ہوتا تو اگر نر ہوتا تو صرف مرد ہی کھاتے اگر مادہ ہوتا تو اسے ذبح ہی نہ کرتے اور اگر پیٹ ہی سے مردہ نکلتا تو مرد عورت سب کھاتے اللہ نے اس فعل سے بھی روکا۔ شعبی کا قول ہے کہ بحیرہ کا دودھ صرف مرد پیتے اور اگر وہ مرجاتا تو گوشت مرد عورت سب کھاتے۔ ان کی ان جھوٹی باتوں کا بدلہ اللہ انہیں دے گا کیونکہ یہ سب ان کا جھوٹ اللہ پر باندھا ہوا تھا، فلاح و نجات اسی لئے ان سے دور کردی گئی تھی۔ یہ اپنی مرضی سے کسی کو حلال کسی کو حرام کرلیتے تھے پھر اسے رب کی طرف منسوب کردیتے تھے اللہ جیسے حکیم کا کوئی فعل کوئی قول کوئی شرع کوئی تقدیر بےحکمت نہیں تھی وہ اپنے بندوں کے خیر و شر سے دانا ہے اور انہیں بدلے دینے والا ہے۔

اولاد کے قاتل اولاد کے قاتل اللہ کے حلال کو حرام کرنے والے دونوں جہان کی بربادی اپنے اوپر لینے والے ہیں۔ دنیا کا گھاٹا تو ظاہر ہے ان کے یہ دونوں کام خود انہیں نقصان پہنچانے والے ہیں بےاولاد یہ ہوجائیں گے مال کا ایک حصہ ان کا تباہ ہوجائے گا۔ رہا آخرت کا نقصان سو چونکہ یہ مفتری ہیں، کذاب ہیں، وہاں کی بدترین جگہ انہیں ملے گی، عذابوں کے سزاوار ہوں گے جیسے فرمان ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھنے والے نجات سے محروم کامیابی سے دور ہیں یہ دنیا میں گو کچھ فائدہ اٹھا لیں لیکن آخر تو ہمارے بس میں آئیں گے پھر تو ہم انہیں سخت تر عذاب چکھائیں گے کیونکہ یہ کافر تھے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ اگر تو اسلام سے پہلے کے عربوں کی بد خصلتی معلوم کرنا چاہے تو سورة انعام کی ایک سو تیس آیات کے بعد آیت (قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَاۗءِ اللّٰهِ) 6۔ الانعام :31) والی روایت پڑھو (بخاری کتاب مناقب قریش)

مسائل زکوٰۃ اور عشر مظاہر قدرت خالق کل اللہ تعالیٰ ہی ہے کھیتیاں پھل چوپائے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں کافروں کو کوئی حق نہیں کہ حرام حلال کی تقسیم از خود کریں۔ درخت بعض تو بیل والے ہیں جیسے انگور وغیرہ کہ وہ محفوظ ہوتے ہیں بعض کھڑے جو جنگلوں اور پہاڑوں پر کھڑے ہوئے ہیں۔ دیکھنے میں ایک دورے سے ملتے جلتے مگر پھلوں کے ذائقے کے لحاظ سے الگ الگ۔ انگور کھجور یہ درخت تمہیں دیتے ہیں کہ تم کھاؤ مزہ اٹھاؤ لطف پاؤ۔ اس کا حق اس کے کٹنے اور ناپ تول ہونے کے دن ہی دو یعنی فرض زکوٰۃ جو اس میں مقرر ہو وہ ادا کردو۔ پہلے لوگ کچھ نہیں دیتے تھے شریعت نے دسواں حصہ مقرر کیا اور ویسے بھی مسکینوں اور بھوکوں کا خیال رکھنا۔ چناچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضور نے فرمان صادر فرمایا تھا کہ جس کی کھجوریں دس وسق سے زیادہ ہوں وہ چند خوشے مسجد میں لا کر لٹکا دے تاکہ مساکین کھا لیں۔ یہ بھی مراد ہے کہ زکوٰۃ کے سوا اور کچھ سلوک بھی اپنی کھیتیوں باڑیوں اور باغات کے پھلوں سے اللہ کے بندوں کے ساتھ کرتے رہو، مثلاً پھل توڑنے اور کھیت کاٹنے کے وقت عموماً مفلس لوگ پہنچ جایا کرتے ہیں انہیں کچھ چھوڑ دو تاکہ مسکینوں کے کام آئے۔ ان کے جانوروں کا چارہ ہو، زکوٰۃ سے پہلے بھی حقداروں کو کچھ نہ کچھ دیتے رہا کرو، پہلے تو یہ بطور وجوب تھا لیکن زکوٰۃ کی فرضیت کے بعد بطور نفل رہ گیا زکوٰۃ اس میں عشر یا نصف عشر مقرر کردی گئی لیکن اس سے فسخ نہ سمجھا جائے۔ پہلے کچھ دینار ہوتا تھا پھر مقدار مقرر کردی گئی زکوٰۃ کی مقدار سنہ002ہجری میں مقرر ہوئی۔ واللہ اعلم۔ کھیتی کاٹتے وقت اور پھل اتارتے وقت صدقہ نہ دینے والوں کی اللہ تعالیٰ نے مذمت بیان فرمائی سورة کہف، میں ان کا قصہ بیان فرمایا کہ ان باغ والوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہی آج کے پھل ہم اتار لیں گے اس پر انہوں نے انشاء اللہ بھی نہ کہا۔ یہ ابھی رات کو بیخبر ی کی نیند میں ہی تھے وہاں آفت ناگہانی آگئی اور سارا باع ایسا ہوگیا گویا پھل توڑ لیا گیا ہے بلکہ جلا کر خاکستر کردیا گیا ہے یہ صبح کو اٹھ کر ایک دوسرے کو جگا کر پوشیدہ طور سے چپ چاپ چلے کہ ایسا نہ ہو حسب عادت فقیر مسکین جمع ہوجائیں اور انہیں کچھ دینا پڑے یہ اپنے دلوں میں یہی سوچتے ہوئے کہ ابھی پھل توڑ لائیں گے بڑے اہتمام کے ساتھ صبح سویرے ہی وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ سارا باغ تو خاک بنا ہوا ہے اولاً تو کہنے لگے بھئی ہم راستہ بھول گئے کسی اور جگہ آگئے ہمارا باغ تو شام تک لہلہا رہا تھا پھر کہنے لگا نہیں باغ تو یہی ہے ہماری قسمت پھوٹ گئی ہم محروم ہوگئے۔ اس وقت ان میں جو باخبر شخص تھا کہنے لگا دیکھو میں تم سے نہ کہتا تھا کہ اللہ کا شکر کرو اس کی پاکیزگی بیان کرو۔ اب تو سب کے سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے یقینا ہم نے ظلم کیا پھر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہائے ہماری بدبختی کہ ہم سرکش اور حد سے گذر جانے والے بن گئے تھے۔ ہمیں اب بھی اللہ عزوجل سے امید ہے کہ وہ ہمیں اس سے بہتر عطا فرمائے گا ہم اب صرف اپنے رب سے امید رکھتے ہیں۔ ناشکری کرنے اور تنہا خوری پسند کرنے والوں پر اسی طرح ہمارے عذاب آیا کرتے ہیں اور بھی آخرت کے بڑے عذاب باقی ہیں لیکن افسوس کہ یہ سمجھ بوجھ اور علم و عقل سے کام ہی نہیں لیتے۔ یہاں اس آیت میں صدقہ دینے کا حکم فرما کر خاتمے پر فرمایا کہ فضول خرچی سے بچو فضول خرچ اللہ کا دوست نہیں۔ اپنی اوقات سے زیادہ نہ لٹا فخر دریا کے طور پر اپنا مال برباد نہ کرو۔ حضرت ثابت بن قیس بن شماس نے اپنے کھجوروں کے باغ سے کھجوریں اتاریں اور عہد کرلیا کہ آج جو لینے آئے گا میں اسے دوں گا لوگ ٹوٹ پڑے شام کو ان کے پاس ایک کھجور بھی نہ رہی۔ اس پر یہ فرمان اترا۔ ہر چیز میں اسراف منع ہے، اللہ کے حکم سے تجاوز کر جانے کا نام اسراف ہے خواہ وہ کسی بارے میں ہو۔ اپنا سارا ہی مال لٹا کر فقیر ہو کر دوسروں پر اپنا انبار ڈال دینا بھی اسراف ہے اور منع ہے، یہ بھی مطلب ہے کہ صدقہ نہ روکو جس سے اللہ کے نافرمان بن جاؤ یہ بھی اسراف ہے گویہ مطلب اس آیت کے ہیں لیکن بظاہر الفاظ یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے کھانے کا ذکر ہے تو اسراف اپنے کھانے پینے میں کرنے کی ممانعت یہاں ہے کیونکہ اس سے عقل میں اور بدن میں ضرر پہنچا ہے۔ قرآن کی اور آیت میں ہے آیت (وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا ۚ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ) 7۔ الاعراف :31) کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو۔ صحیح بخاری میں ہے کھاؤ پیو پہنو اوڑھو لیکن اسراف اور کبر سے بچوں واللہ اعلم۔ اسی اللہ نے تمہارے لئے چوپائے پیدا کئے ہیں ان میں سے بعض تو بوجھ ڈھونے والے ہیں جیسے اونٹ گھوڑے خچر گدھے وغیرہ اور بعض پستہ قد ہیں جیسے بکری وغیرہ، انہیں (فرش) اس لئے کہا گیا کہ یہ قد و قامت میں پست ہوتے ہیں زمین سے ملے رہتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ (حمولہ) سے مراد سواری کے جانور اور (فرشا) سے مراد جن کا دودھ پیا جاتا ہے اور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے جو سواری کے قابل نہیں ان کے بالوں سے لحاف اور فرش تیار ہوتے ہیں۔ یہ قول حضرت سدی کا ہے اور بہت ہی مناسب ہے خود قرآن کی سورة یاسین میں موجود ہے کہ کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی ؟ کہ ہم نے ان کے لئے چوپائے پیدا کردیئے ہیں جو ہمارے ہی ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں اور اب یہ ان کے مالک بن بیٹھے ہیں ہم نے ہی تو انہیں ان کے بس میں کردیا ہے کہ بعض سوریاں کر رہے ہیں اور بعض کو یہ کھانے کے کام میں لاتے ہیں اور آیت میں ہے آیت (وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۭ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَيْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَاۗىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ) 16۔ النحل :66) مطلب یہ ہے کہ ہم تمہیں ان چوپایوں کا دودھ پلاتے ہیں اور ان کے بال اون وغیرہ سے تمہارے اوڑھنے بچھونے اور طرح طرح کے فائدے اٹھانے کی چیزیں بناتے ہیں اور جگہ ہے اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے جانور پیدا کئے تاکہ تم ان پر سواریاں کرو انہیں کھاؤ اور بھی فائدے اٹھاؤ ان پر اپنے سفر طے کر کے اپنے کام پورے کرو اسی نے تمہاری سواری کیلئے کشتیاں بنادیں وہ تمہیں اپنی بیشمار نشانیاں دکھا رہا ہے بتاؤ تو کس کس نشانی کا انکار کرو گے ؟ پھر فرماتا ہے اللہ کی روزی کھاؤ پھل، اناج، گوشت وغیرہ۔ شیطانی راہ پر نہ چلو، اس کی تابعداری نہ رو جیسے کہ مشرکوں نے اللہ کی چیزوں میں از خود حلال حرام کی تقسیم کردی تم بھی یہ کر کے شیطان کے ساتھی نہ بنو۔ وہ تمہارا دشمن ہے، اسے دوست نہ سمجھو۔ وہ تو اپنے ساتھ تمہیں بھی اللہ کے عذابوں میں پھنسانا چاہتا ہے، دیکھو کہیں اس کے بہکانے میں نہ آجانا اسی نے تمہارے باپ آدم کو جنت سے باہر نکلوایا، اس کھلے دشمن کو بھولے سے بھی اپنا دوست نہ سمجھو۔ اس کی ذریت سے اور اس کے یاروں سے بھی بچو۔ یاد رکھو ظالموں کو برا بدلہ ملے گا۔ اس مضمون کی اور بھی آیتیں کلام اللہ شریف میں بہت سی ہیں۔

مسائل زکوٰۃ اور عشر مظاہر قدرت خالق کل اللہ تعالیٰ ہی ہے کھیتیاں پھل چوپائے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں کافروں کو کوئی حق نہیں کہ حرام حلال کی تقسیم از خود کریں۔ درخت بعض تو بیل والے ہیں جیسے انگور وغیرہ کہ وہ محفوظ ہوتے ہیں بعض کھڑے جو جنگلوں اور پہاڑوں پر کھڑے ہوئے ہیں۔ دیکھنے میں ایک دورے سے ملتے جلتے مگر پھلوں کے ذائقے کے لحاظ سے الگ الگ۔ انگور کھجور یہ درخت تمہیں دیتے ہیں کہ تم کھاؤ مزہ اٹھاؤ لطف پاؤ۔ اس کا حق اس کے کٹنے اور ناپ تول ہونے کے دن ہی دو یعنی فرض زکوٰۃ جو اس میں مقرر ہو وہ ادا کردو۔ پہلے لوگ کچھ نہیں دیتے تھے شریعت نے دسواں حصہ مقرر کیا اور ویسے بھی مسکینوں اور بھوکوں کا خیال رکھنا۔ چناچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضور نے فرمان صادر فرمایا تھا کہ جس کی کھجوریں دس وسق سے زیادہ ہوں وہ چند خوشے مسجد میں لا کر لٹکا دے تاکہ مساکین کھا لیں۔ یہ بھی مراد ہے کہ زکوٰۃ کے سوا اور کچھ سلوک بھی اپنی کھیتیوں باڑیوں اور باغات کے پھلوں سے اللہ کے بندوں کے ساتھ کرتے رہو، مثلاً پھل توڑنے اور کھیت کاٹنے کے وقت عموماً مفلس لوگ پہنچ جایا کرتے ہیں انہیں کچھ چھوڑ دو تاکہ مسکینوں کے کام آئے۔ ان کے جانوروں کا چارہ ہو، زکوٰۃ سے پہلے بھی حقداروں کو کچھ نہ کچھ دیتے رہا کرو، پہلے تو یہ بطور وجوب تھا لیکن زکوٰۃ کی فرضیت کے بعد بطور نفل رہ گیا زکوٰۃ اس میں عشر یا نصف عشر مقرر کردی گئی لیکن اس سے فسخ نہ سمجھا جائے۔ پہلے کچھ دینار ہوتا تھا پھر مقدار مقرر کردی گئی زکوٰۃ کی مقدار سنہ002ہجری میں مقرر ہوئی۔ واللہ اعلم۔ کھیتی کاٹتے وقت اور پھل اتارتے وقت صدقہ نہ دینے والوں کی اللہ تعالیٰ نے مذمت بیان فرمائی سورة کہف، میں ان کا قصہ بیان فرمایا کہ ان باغ والوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہی آج کے پھل ہم اتار لیں گے اس پر انہوں نے انشاء اللہ بھی نہ کہا۔ یہ ابھی رات کو بیخبر ی کی نیند میں ہی تھے وہاں آفت ناگہانی آگئی اور سارا باع ایسا ہوگیا گویا پھل توڑ لیا گیا ہے بلکہ جلا کر خاکستر کردیا گیا ہے یہ صبح کو اٹھ کر ایک دوسرے کو جگا کر پوشیدہ طور سے چپ چاپ چلے کہ ایسا نہ ہو حسب عادت فقیر مسکین جمع ہوجائیں اور انہیں کچھ دینا پڑے یہ اپنے دلوں میں یہی سوچتے ہوئے کہ ابھی پھل توڑ لائیں گے بڑے اہتمام کے ساتھ صبح سویرے ہی وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ سارا باغ تو خاک بنا ہوا ہے اولاً تو کہنے لگے بھئی ہم راستہ بھول گئے کسی اور جگہ آگئے ہمارا باغ تو شام تک لہلہا رہا تھا پھر کہنے لگا نہیں باغ تو یہی ہے ہماری قسمت پھوٹ گئی ہم محروم ہوگئے۔ اس وقت ان میں جو باخبر شخص تھا کہنے لگا دیکھو میں تم سے نہ کہتا تھا کہ اللہ کا شکر کرو اس کی پاکیزگی بیان کرو۔ اب تو سب کے سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے یقینا ہم نے ظلم کیا پھر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہائے ہماری بدبختی کہ ہم سرکش اور حد سے گذر جانے والے بن گئے تھے۔ ہمیں اب بھی اللہ عزوجل سے امید ہے کہ وہ ہمیں اس سے بہتر عطا فرمائے گا ہم اب صرف اپنے رب سے امید رکھتے ہیں۔ ناشکری کرنے اور تنہا خوری پسند کرنے والوں پر اسی طرح ہمارے عذاب آیا کرتے ہیں اور بھی آخرت کے بڑے عذاب باقی ہیں لیکن افسوس کہ یہ سمجھ بوجھ اور علم و عقل سے کام ہی نہیں لیتے۔ یہاں اس آیت میں صدقہ دینے کا حکم فرما کر خاتمے پر فرمایا کہ فضول خرچی سے بچو فضول خرچ اللہ کا دوست نہیں۔ اپنی اوقات سے زیادہ نہ لٹا فخر دریا کے طور پر اپنا مال برباد نہ کرو۔ حضرت ثابت بن قیس بن شماس نے اپنے کھجوروں کے باغ سے کھجوریں اتاریں اور عہد کرلیا کہ آج جو لینے آئے گا میں اسے دوں گا لوگ ٹوٹ پڑے شام کو ان کے پاس ایک کھجور بھی نہ رہی۔ اس پر یہ فرمان اترا۔ ہر چیز میں اسراف منع ہے، اللہ کے حکم سے تجاوز کر جانے کا نام اسراف ہے خواہ وہ کسی بارے میں ہو۔ اپنا سارا ہی مال لٹا کر فقیر ہو کر دوسروں پر اپنا انبار ڈال دینا بھی اسراف ہے اور منع ہے، یہ بھی مطلب ہے کہ صدقہ نہ روکو جس سے اللہ کے نافرمان بن جاؤ یہ بھی اسراف ہے گویہ مطلب اس آیت کے ہیں لیکن بظاہر الفاظ یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے کھانے کا ذکر ہے تو اسراف اپنے کھانے پینے میں کرنے کی ممانعت یہاں ہے کیونکہ اس سے عقل میں اور بدن میں ضرر پہنچا ہے۔ قرآن کی اور آیت میں ہے آیت (وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا ۚ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ) 7۔ الاعراف :31) کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو۔ صحیح بخاری میں ہے کھاؤ پیو پہنو اوڑھو لیکن اسراف اور کبر سے بچوں واللہ اعلم۔ اسی اللہ نے تمہارے لئے چوپائے پیدا کئے ہیں ان میں سے بعض تو بوجھ ڈھونے والے ہیں جیسے اونٹ گھوڑے خچر گدھے وغیرہ اور بعض پستہ قد ہیں جیسے بکری وغیرہ، انہیں (فرش) اس لئے کہا گیا کہ یہ قد و قامت میں پست ہوتے ہیں زمین سے ملے رہتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ (حمولہ) سے مراد سواری کے جانور اور (فرشا) سے مراد جن کا دودھ پیا جاتا ہے اور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے جو سواری کے قابل نہیں ان کے بالوں سے لحاف اور فرش تیار ہوتے ہیں۔ یہ قول حضرت سدی کا ہے اور بہت ہی مناسب ہے خود قرآن کی سورة یاسین میں موجود ہے کہ کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی ؟ کہ ہم نے ان کے لئے چوپائے پیدا کردیئے ہیں جو ہمارے ہی ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں اور اب یہ ان کے مالک بن بیٹھے ہیں ہم نے ہی تو انہیں ان کے بس میں کردیا ہے کہ بعض سوریاں کر رہے ہیں اور بعض کو یہ کھانے کے کام میں لاتے ہیں اور آیت میں ہے آیت (وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۭ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَيْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَاۗىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ) 16۔ النحل :66) مطلب یہ ہے کہ ہم تمہیں ان چوپایوں کا دودھ پلاتے ہیں اور ان کے بال اون وغیرہ سے تمہارے اوڑھنے بچھونے اور طرح طرح کے فائدے اٹھانے کی چیزیں بناتے ہیں اور جگہ ہے اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے جانور پیدا کئے تاکہ تم ان پر سواریاں کرو انہیں کھاؤ اور بھی فائدے اٹھاؤ ان پر اپنے سفر طے کر کے اپنے کام پورے کرو اسی نے تمہاری سواری کیلئے کشتیاں بنادیں وہ تمہیں اپنی بیشمار نشانیاں دکھا رہا ہے بتاؤ تو کس کس نشانی کا انکار کرو گے ؟ پھر فرماتا ہے اللہ کی روزی کھاؤ پھل، اناج، گوشت وغیرہ۔ شیطانی راہ پر نہ چلو، اس کی تابعداری نہ رو جیسے کہ مشرکوں نے اللہ کی چیزوں میں از خود حلال حرام کی تقسیم کردی تم بھی یہ کر کے شیطان کے ساتھی نہ بنو۔ وہ تمہارا دشمن ہے، اسے دوست نہ سمجھو۔ وہ تو اپنے ساتھ تمہیں بھی اللہ کے عذابوں میں پھنسانا چاہتا ہے، دیکھو کہیں اس کے بہکانے میں نہ آجانا اسی نے تمہارے باپ آدم کو جنت سے باہر نکلوایا، اس کھلے دشمن کو بھولے سے بھی اپنا دوست نہ سمجھو۔ اس کی ذریت سے اور اس کے یاروں سے بھی بچو۔ یاد رکھو ظالموں کو برا بدلہ ملے گا۔ اس مضمون کی اور بھی آیتیں کلام اللہ شریف میں بہت سی ہیں۔

خود ساختہ حلال و حرام جہالت کا ثمر ہے اسلام سے پہلے عربوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے چوپائے جانوروں میں تقسیم کر کے اپنے طور پر بہت سے حلال بنائے تھے اور بہت سے حرام کر لئے تھے جیسے بحیرہ، سائبہ، وسیلہ اور حام وغیرہ۔ اسی طرح کھیت اور باغات میں بھی تقسیم کر رکھی تھی۔ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ سب کا خالق اللہ ہے، کھیت ہوں باغات ہوں، چوپائے ہوں " پھر ان چوپایوں کی قسمیں بیان فرمائیں " بھیڑ، مینڈھا، بکری، بکرا، اونٹ، اونٹنی، گائے، بیل۔ اللہ نے یہ سب چیزیں تمہارے کھانے پینے، سواریاں لینے، اور دوری قسم کے فائدوں کے لئے پیدا کی ہیں " جیسے فرمان ہے آیت (وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ ۭ يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ) 39۔ الزمر :6) " اس نے تمہارے لئے آٹھ قسم کے مویشی پیدا کئے ہیں۔ بچوں کا ذکر اس لئے کیا کہ ان میں بھی کبھی وہ مردوں کیلئے مخصوص کر کے عورتوں پر حرام کردیتے تھے پھر ان سے ہی سوال ہوتا ہے کہ آخر اس حرمت کی کوئی دلیل کوئی کیفیت کوئی وجہ تو پیش کرو۔ چار قسم کے جانور اور مادہ اور نر ملا کر آٹھ قسم کے ہوگئے، ان سب کو اللہ نے حلال کیا ہے کیا تو اپنی دیکھی سنی کہہ رہے ہو ؟ اس فرمان الٰہی کے وقت تم موجود تھے ؟ کیوں جھوٹ کہہ کر افترا پردازی کر کے بغیر علم کے باتیں بنا کر اللہ کی مخلوق کی گمراہی کا بوجھ اپنے اوپر لاد کر سب سے بڑھ کر ظالم بن رہے ہو ؟ اگر یہی حال رہا تو دستور ربانی کے ماتحت ہدایت الٰہی سے محروم ہوجاؤ گے۔ سب سے پہلے یہ ناپاک رسم عمرو بن لحی بن قمعہ خبیث نے نکالی تھی اسی نے انبیاء کے دین کو سب سے پہلے بدلا اور غیر اللہ کے نام پر جانور چھوڑے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں آچکا ہے۔

خود ساختہ حلال و حرام جہالت کا ثمر ہے اسلام سے پہلے عربوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے چوپائے جانوروں میں تقسیم کر کے اپنے طور پر بہت سے حلال بنائے تھے اور بہت سے حرام کر لئے تھے جیسے بحیرہ، سائبہ، وسیلہ اور حام وغیرہ۔ اسی طرح کھیت اور باغات میں بھی تقسیم کر رکھی تھی۔ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ سب کا خالق اللہ ہے، کھیت ہوں باغات ہوں، چوپائے ہوں " پھر ان چوپایوں کی قسمیں بیان فرمائیں " بھیڑ، مینڈھا، بکری، بکرا، اونٹ، اونٹنی، گائے، بیل۔ اللہ نے یہ سب چیزیں تمہارے کھانے پینے، سواریاں لینے، اور دوری قسم کے فائدوں کے لئے پیدا کی ہیں " جیسے فرمان ہے آیت (وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ ۭ يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ) 39۔ الزمر :6) " اس نے تمہارے لئے آٹھ قسم کے مویشی پیدا کئے ہیں۔ بچوں کا ذکر اس لئے کیا کہ ان میں بھی کبھی وہ مردوں کیلئے مخصوص کر کے عورتوں پر حرام کردیتے تھے پھر ان سے ہی سوال ہوتا ہے کہ آخر اس حرمت کی کوئی دلیل کوئی کیفیت کوئی وجہ تو پیش کرو۔ چار قسم کے جانور اور مادہ اور نر ملا کر آٹھ قسم کے ہوگئے، ان سب کو اللہ نے حلال کیا ہے کیا تو اپنی دیکھی سنی کہہ رہے ہو ؟ اس فرمان الٰہی کے وقت تم موجود تھے ؟ کیوں جھوٹ کہہ کر افترا پردازی کر کے بغیر علم کے باتیں بنا کر اللہ کی مخلوق کی گمراہی کا بوجھ اپنے اوپر لاد کر سب سے بڑھ کر ظالم بن رہے ہو ؟ اگر یہی حال رہا تو دستور ربانی کے ماتحت ہدایت الٰہی سے محروم ہوجاؤ گے۔ سب سے پہلے یہ ناپاک رسم عمرو بن لحی بن قمعہ خبیث نے نکالی تھی اسی نے انبیاء کے دین کو سب سے پہلے بدلا اور غیر اللہ کے نام پر جانور چھوڑے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں آچکا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حلال و حرام اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے بندے اور نبی حضرت محمد ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان کافروں سے جو اللہ کے حلال کو اپنی طرف سے حرام کرتے ہیں فرما دیں کہ جو وحی الٰہی میرے پاس آئی ہے اس میں تو حرام صرف ان چیزوں کو کیا گیا ہے، جو میں تمہیں سناتا ہوں، اس میں وہ چیزیں حرمت والی نہیں، جن کی حرمت کو تم رائج کر رہے ہو، کسی کھانے والے پر حیوانوں میں سے سوا ان جانوروں کے جو بیان ہوئے ہیں کوئی بھی حرام نہیں۔ اس آیت کے مفہوم کا رفع کرنے والی سورة مائدہ کی آئیندہ آیتیں اور دوسری حدیثیں ہیں جن میں حرمت کا بیان ہے وہ بیان کی جائیں گی، بعض لوگ اسے نسخ کہتے ہیں اور اکثر متأخرین اسے نسخ نہیں کہتے کیونکہ اس میں تو اصلی مباح کو اٹھا دینا ہے۔ واللہ اعلم۔ خون وہ حرام ہے جو بوقت ذبح بہ جاتا ہے، رگوں میں اور گوشت میں جو خون مخلوط ہو وہ حرام نہیں۔ حضرت عائشہ ؓ گدھوں اور درندوں کا گوشت اور ہنڈیا کے اوپر جو خون کی سرخی آجائے، اس میں کوئی حرج نہیں جانتی تھیں۔ عمرو بن دینار نے حضرت جابر بن عبداللہ سے سوال کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ خیبر کے موقعہ پر پالتو گدھوں کا کھانا حرام کردیا ہے، آپ نے فرمایا، ہاں حکم بن عمر تو رسول اللہ ﷺ سے یہی روایت کرتے ہیں لیکن حضرت ابن عباس اس کا انکار کرتے ہیں اور آیت (قل لا اجد) تلاوت کرتے ہیں، ابن عباس کا فرمان ہے کہ اہل جاہلیت بعض چیزیں کھاتے تھے بعض کو بوجہ طبعی کراہیت کے چھوڑ دیتے تھے۔ اللہ نے اپنے نبی کو بھیجا، اپنی کتاب اتاری، حلال حرام کی تفصیل کردی، پس جسے حلال کردیا وہ حلال ہے اور جسے ہر ام کردیا وہ حرام ہے اور جس سے خاموش رہے وہ معاف ہے۔ پھر آپ نے اسی آیت (قل لا اجد) کی تلاوت کی۔ حضرت سودہ بنت زمعہ کی بکری مرگئی، جب حضور سے ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی ؟ جواب دیا کہ کیا مردہ بکری کی کھال اتار لینی جائز ہے ؟ آپ نے یہی آیت تلاوت فرما کر فرمایا کہ " اس کا صرف کھانا حرام ہے، لیکن تم اسے دباغت دے کر نفع حاصل کرسکتے ہوں "۔ چناچہ انہوں نے آدمی بھیج کر کھال اتروالی اور اس کی مشک بنوائی جو ان کے پاس مدتوں رہی اور کام آئی۔ (بخاری وغیرہ) حضرت ابن عمر سے قنفد (یعنی خار پشت جسے اردو میں ساہی بھی کہتے ہیں) کے کھانے کی نسبت سوال ہوا تو آپ نے یہی آیت پڑھی اس پر ایک بزرگ نے فرمایا میں نے حضرت ابوہریرہ سے سنا ہے کہ ایک مرتبہ اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ کے سامنے آیا تھا تو آپ نے فرمایا وہ خبیثوں میں سے ایک خبیث ہے اسے سن کر حضرت ابن عمر نے فرمایا اگر حضور نے یہ فرمایا ہے تو وہ یقینا ویسی ہی ہے جیسے آپ نے ارشاد فرما دیا (ابو داؤد وغیرہ) پھر فرمایا جو شخص ان حرام چیزوں کو کھانے پر مجبور ہوجائے لیکن وہ باغی اور ہد سے تجاوز کرنے والا نہ ہو تو اسے اس کا کھا لینا جائز ہے اللہ اسے بخش دے گا کیونکہ وہ غفور و رحیم ہے اس کی کامل تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے یہاں تو مشرکوں کے اس فعل کی تردید منظور ہے جو انہوں نے اللہ کے حلال کو حرام کردیا تھا اب بتادیا گیا کہ یہ چیزیں تم پر حرام ہیں اس کے علاوہ کوئی چیز حرام نہیں۔ اگر اللہ کی طرف سے وہ بھی حرام ہوتیں تو ان کا ذکر بھی آجاتا۔ پھر تم اپنی طرف سے حلال کیوں مقرر کرتے ہو ؟ اس بنا پر پھر اور چیزوں کی حرمت باقی رہتی جیسے کہ گھروں کے پالتو گدھوں کی ممانعت اور درندوں کے گوشت کی اور جنگل والے پرندوں کی جیسے کہ علماء کا مشہور مذہب ہے (یہ یاد رہے کہ ان کی حرمت قطعی ہے کیونکہ صحیح احادیث سے ثابت ہے اور قرآن نے حدیث کا ماننا بھی فرض کیا ہے۔ مترجم)

مزید تفصیل متعلقہ حلال و حرام ناخن دار جانور چوپایوں اور پرندوں میں سے وہ ہیں، جن کی انگلیاں کھلی ہوئی نہ ہوں جیسے اونٹ، شتر مرغ، بطخ وغیرہ۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ " جو کھلی انگلیوں والا نہ ہو "۔ ایک روایت میں ان سے مروی ہے کہ ہر ایک جدا انگلیوں والا اور انہی میں سے مرغ ہے۔ قتادہ کا قول ہے " جیسے اونٹ، شتر مرغ اور بہت سے پرند، مچھلیاں، بطخ اور اس جیسے جانور جن کی انگلیاں الگ الگ ہیں۔ ان کا کھانا یہودیوں پر حرام تھا۔ اسی طرح گائے بکری کی چربی بھی ان پر حرام تھی۔ یہود کا مقولہ تھا کہ اسرائیل نے اسے حرام کرلیا تھا، اس لئے ہم بھی اسے حرام کہتے ہیں۔ ہاں جو چربی پیٹھ کے ساتھ لگی ہوئی ہو، انتڑیوں کے ساتھ، اوجھڑی کے ساتھ، ہڈی کے ساتھ ہو وہ ان پر حلال تھی، یہ بھی ان کے ظلم، تکبر اور سرکشی کا بدلہ تھا اور ہماری نافرمانی کا انجام، جیسے فرمان ہے آیت (فبظلم من الذین ھادوا) یہودیوں کے ظلم وستم اور راہ حق سے روک کی وجہ سے ہم نے ان پر بعض پاکیزہ چیزیں بھی حرام کردی تھیں اور اس جزا میں ہم عادل ہی تھے اور جیسی خبر ہم نے تجھے اسے نبی دی ہے، وہی سچ اور حق ہے۔ یہودیوں کا یہ کہنا کہ حضرت اسرائیل نے اسے حرام کیا تھا، اس لئے ہم اسے اپنے آپ پر بھی حرام کرتے ہیں۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ کو جب معلوم ہوا کہ سمرہ نے شراب فروشی کی ہے تو آپ نے فرمایا اللہ اسے غارت کرے، کیا یہ نہیں جانتا کہ حضور نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر لعنت کی کہ جب ان پر چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کردیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ نے فتح مکہ والے سال فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خریدو فروخت حرام فرمائی ہے آپ سے دریافت کیا گیا کہ مردار کی چربیوں کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ اس سے چمڑے رنگے جاتے ہیں اور کشتیوں پر چڑھایا جاتا ہے اور چراغ میں جلایا جاتا ہے آپ نے فرمایا وہ بھی حرام ہے۔ پھر اس کے ساتھ ہی آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہودیوں کو غارت کرے، جب ان پر چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچ کر اس کی قیمت کھانا شروع کردی (بخاری مسلم) ایک مرتبہ آپ خانہ کعبہ میں مقام ابراہیم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور تین مرتبہ یہودیوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا ! اللہ نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے اسے بیچ کر اس کی قیمت کھائی۔ اللہ تعالیٰ جن پر جو چیز حرام کرتا ہے ان پر اس کی قیمت بھی حرام فرما دیتا ہے ایک مرتبہ آپ مسجد حرام میں حطیم کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھے ہوئے تھے آسمان کی طرف دیکھ کر ہنسے اور یہی فرمایا (ابوداؤد ابن مردویہ مسند احمد) حضرت اسامہ بن زید وغیرہ رسول اللہ ﷺ کی بیماری کے زمانے میں آپ کی عیادت کے لئے گئے اس وقت آپ عدن کی چادر اوڑھے ہوئے لیٹے تھے، آپ نے چہرہ سے چادر ہٹا کر فرمایا، اللہ یہودیوں پر لعنت کرے کہ بکریوں کی چربی کو حرام مانتے ہوئے اس کی قیمت کھاتے ہیں۔ ابو داؤد میں ابن عباس ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ جب کسی قوم پر کسی چیز کا کھانا حرام کرتا ہے تو اس کی قیمت بھی حرام فرما دیتا ہے۔

مشرک ہو یا کافر توبہ کرلے تو معاف ! اب بھی اگر تیرے مخالف یہودی اور مشرک وغیرہ تجھے جھوٹا بتائیں تو بھی تو انہیں میری رحمت سے مایوس نہ کر بلکہ انہیں رب کی رحمت کی وسعت یاد دلاتا کہ انہیں اللہ کی رضا جوئی کی تبلیغ ہوجائے، ساتھ ہی انہیں اللہ کے اٹل عذابوں سے بچنے کی طرف بھی متوجہ کر۔ پس رغبت رہبت امید ڈر دونوں ہی ایک ساتھ سنا دے۔ قرآن کریم میں امید کے ساتھ خوف اکثر بیان ہوتا ہے اسی سورت کے آخر میں فرمایا تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے اور غفور و رحیم بھی ہے اور آیت میں ہے (اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ) 43۔ فصلت :41 تیرا رب لوگوں کے گناہوں پر انہیں بخشنے والا بھی ہے اور وہ سخت تر عذاب کرنیوالا بھی ہے ایک آیت میں ارشاد ہے میرے بندوں کو میرے غفور و رحیم ہونے کی اور میرے عذابوں کے بڑے ہی درد ناک ہونے کی خبر پہنچا دے اور جگہ ہے وہ گناہوں کا بخشنے والا اور توبہ کا قبول کرنے والاے نیز کئی آیتوں میں ہے تیرے رب کی پکڑ بڑی بھاری اور نہایت سخت ہے۔ وہی ابتداء کرتا ہے اور وہی دوبارہ لوٹائے گا وہ غفور ہے، ودود ہے، بخشش کرنے والا ہے، مہربان اور محبت کرنے والا ہے اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔

غلط سوچ سے باز رہو مشرک لوگ دلیل پیش کرتے تھے کہ ہمارے شرک کا حلال کو حرام کرنے کا حال تو اللہ کو معلوم ہی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ اگر چاہے تو اس کے بدلنے پر بھی قادر ہے۔ اس طرح کہ ہمارے دل میں ایمان ڈال دے یا کفر کے کاموں کی ہمیں قدرت ہی نہ دے پھر بھی اگر وہ ہماری اس روش کو نہیں بدلتا تو ظاہر ہے کہ وہ ہمارے ان کاموں سے خوش ہے اگر وہ جاہتا تو ہم کیا ہمارے بزرگ بھی شرک نہ کرتے، جیسے ان کا یہی قول آیت (لوشاء الرحمن) میں اور سورة نحل میں ہے۔ اللہ فرماتا ہے اسی شبہ نے ان سے پہلی قوموں کو تباہ کردیا اگر یہ بات سچ ہوتی تو ان کے پہلے باپ دادا پر ہمارے عذاب کیوں آتے ؟ رسولوں کی نافرمانی اور شرک و کفر پر مصر رہنے کی وجہ سے وہ روئے زمین سے ذلت کے ساتھ یوں ہٹا دیئے جاتے ؟ اچھا تمہارے پاس اللہ کی رضامندی کا کوئی سرٹیفکیٹ ہو تو پیش کرو۔ ہم تو دیکھتے ہیں کہ تم وہم پرست ہو فاسد عقائد پر جمے ہوئے ہو اور اٹکل پچو باتیں اللہ کے ذمے گھڑ لیتے ہو۔ وہ بھی یہی کہتے تھے تم بھی یہی کہتے ہو کہ ہم ان معبودوں کی عبادت اسلئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے ملا دیں حالانکہ وہ نہ ملانے والے ہیں نہ اس کی انہیں قدرت ہے، ان سے تو اللہ نے سمجھ بوجھ چھین رکھی ہے، ہدایت و گمراہی کی تقسیم میں بھی اللہ کی حکمت اور اس کی حجت ہے، سب کام اس کے ارادے سے ہو رہے ہیں وہ مومنوں کو پسند فرماتا ہے اور کافروں سے ناخوش ہے، فرمان ہے آیت (وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَي الْهُدٰي فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ) 35۔ الانعام :6) اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو راہ حق پر جمع کردیتا اور آیت میں ہے اگر تیرے رب کی چاہت ہوتی تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کردیتا، یہ تو اختلاف سے نہیں ہٹیں گے سوائے ان لوگوں کے جن پر تیرا رب رحم کرے بلکہ انہیں اللہ نے اسی لئے پیدا کیا ہے تیرے رب کی یہ بات حق ہے کہ میں جنات اور انسان سے جہنم کو پر کر دونگا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ نافرمانوں کی کوئی حجت اللہ کے ذمہ نہیں بلکہ اللہ کی حجت بندوں پر ہے، تم نے خواہ مخواہ اپنی طرف سے جانوروں کو حرام کر رکھا ہے ان کی حرمت پر کسی کی شہادت تو پیش کردو۔ اگر یہ ایسی شہادت والے لائیں تو تو ان جھوٹے لوگوں کی ہاں میں ہاں نہ ملانا۔ ان منکرین قیامت، منکرین کلام اللہ شریف کے جھانسے میں کہیں تم بھی نہ آجانا۔

غلط سوچ سے باز رہو مشرک لوگ دلیل پیش کرتے تھے کہ ہمارے شرک کا حلال کو حرام کرنے کا حال تو اللہ کو معلوم ہی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ اگر چاہے تو اس کے بدلنے پر بھی قادر ہے۔ اس طرح کہ ہمارے دل میں ایمان ڈال دے یا کفر کے کاموں کی ہمیں قدرت ہی نہ دے پھر بھی اگر وہ ہماری اس روش کو نہیں بدلتا تو ظاہر ہے کہ وہ ہمارے ان کاموں سے خوش ہے اگر وہ جاہتا تو ہم کیا ہمارے بزرگ بھی شرک نہ کرتے، جیسے ان کا یہی قول آیت (لوشاء الرحمن) میں اور سورة نحل میں ہے۔ اللہ فرماتا ہے اسی شبہ نے ان سے پہلی قوموں کو تباہ کردیا اگر یہ بات سچ ہوتی تو ان کے پہلے باپ دادا پر ہمارے عذاب کیوں آتے ؟ رسولوں کی نافرمانی اور شرک و کفر پر مصر رہنے کی وجہ سے وہ روئے زمین سے ذلت کے ساتھ یوں ہٹا دیئے جاتے ؟ اچھا تمہارے پاس اللہ کی رضامندی کا کوئی سرٹیفکیٹ ہو تو پیش کرو۔ ہم تو دیکھتے ہیں کہ تم وہم پرست ہو فاسد عقائد پر جمے ہوئے ہو اور اٹکل پچو باتیں اللہ کے ذمے گھڑ لیتے ہو۔ وہ بھی یہی کہتے تھے تم بھی یہی کہتے ہو کہ ہم ان معبودوں کی عبادت اسلئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے ملا دیں حالانکہ وہ نہ ملانے والے ہیں نہ اس کی انہیں قدرت ہے، ان سے تو اللہ نے سمجھ بوجھ چھین رکھی ہے، ہدایت و گمراہی کی تقسیم میں بھی اللہ کی حکمت اور اس کی حجت ہے، سب کام اس کے ارادے سے ہو رہے ہیں وہ مومنوں کو پسند فرماتا ہے اور کافروں سے ناخوش ہے، فرمان ہے آیت (وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَي الْهُدٰي فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ) 35۔ الانعام :6) اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو راہ حق پر جمع کردیتا اور آیت میں ہے اگر تیرے رب کی چاہت ہوتی تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کردیتا، یہ تو اختلاف سے نہیں ہٹیں گے سوائے ان لوگوں کے جن پر تیرا رب رحم کرے بلکہ انہیں اللہ نے اسی لئے پیدا کیا ہے تیرے رب کی یہ بات حق ہے کہ میں جنات اور انسان سے جہنم کو پر کر دونگا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ نافرمانوں کی کوئی حجت اللہ کے ذمہ نہیں بلکہ اللہ کی حجت بندوں پر ہے، تم نے خواہ مخواہ اپنی طرف سے جانوروں کو حرام کر رکھا ہے ان کی حرمت پر کسی کی شہادت تو پیش کردو۔ اگر یہ ایسی شہادت والے لائیں تو تو ان جھوٹے لوگوں کی ہاں میں ہاں نہ ملانا۔ ان منکرین قیامت، منکرین کلام اللہ شریف کے جھانسے میں کہیں تم بھی نہ آجانا۔

غلط سوچ سے باز رہو مشرک لوگ دلیل پیش کرتے تھے کہ ہمارے شرک کا حلال کو حرام کرنے کا حال تو اللہ کو معلوم ہی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ اگر چاہے تو اس کے بدلنے پر بھی قادر ہے۔ اس طرح کہ ہمارے دل میں ایمان ڈال دے یا کفر کے کاموں کی ہمیں قدرت ہی نہ دے پھر بھی اگر وہ ہماری اس روش کو نہیں بدلتا تو ظاہر ہے کہ وہ ہمارے ان کاموں سے خوش ہے اگر وہ جاہتا تو ہم کیا ہمارے بزرگ بھی شرک نہ کرتے، جیسے ان کا یہی قول آیت (لوشاء الرحمن) میں اور سورة نحل میں ہے۔ اللہ فرماتا ہے اسی شبہ نے ان سے پہلی قوموں کو تباہ کردیا اگر یہ بات سچ ہوتی تو ان کے پہلے باپ دادا پر ہمارے عذاب کیوں آتے ؟ رسولوں کی نافرمانی اور شرک و کفر پر مصر رہنے کی وجہ سے وہ روئے زمین سے ذلت کے ساتھ یوں ہٹا دیئے جاتے ؟ اچھا تمہارے پاس اللہ کی رضامندی کا کوئی سرٹیفکیٹ ہو تو پیش کرو۔ ہم تو دیکھتے ہیں کہ تم وہم پرست ہو فاسد عقائد پر جمے ہوئے ہو اور اٹکل پچو باتیں اللہ کے ذمے گھڑ لیتے ہو۔ وہ بھی یہی کہتے تھے تم بھی یہی کہتے ہو کہ ہم ان معبودوں کی عبادت اسلئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے ملا دیں حالانکہ وہ نہ ملانے والے ہیں نہ اس کی انہیں قدرت ہے، ان سے تو اللہ نے سمجھ بوجھ چھین رکھی ہے، ہدایت و گمراہی کی تقسیم میں بھی اللہ کی حکمت اور اس کی حجت ہے، سب کام اس کے ارادے سے ہو رہے ہیں وہ مومنوں کو پسند فرماتا ہے اور کافروں سے ناخوش ہے، فرمان ہے آیت (وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَي الْهُدٰي فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ) 35۔ الانعام :6) اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو راہ حق پر جمع کردیتا اور آیت میں ہے اگر تیرے رب کی چاہت ہوتی تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کردیتا، یہ تو اختلاف سے نہیں ہٹیں گے سوائے ان لوگوں کے جن پر تیرا رب رحم کرے بلکہ انہیں اللہ نے اسی لئے پیدا کیا ہے تیرے رب کی یہ بات حق ہے کہ میں جنات اور انسان سے جہنم کو پر کر دونگا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ نافرمانوں کی کوئی حجت اللہ کے ذمہ نہیں بلکہ اللہ کی حجت بندوں پر ہے، تم نے خواہ مخواہ اپنی طرف سے جانوروں کو حرام کر رکھا ہے ان کی حرمت پر کسی کی شہادت تو پیش کردو۔ اگر یہ ایسی شہادت والے لائیں تو تو ان جھوٹے لوگوں کی ہاں میں ہاں نہ ملانا۔ ان منکرین قیامت، منکرین کلام اللہ شریف کے جھانسے میں کہیں تم بھی نہ آجانا۔

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com