Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Qalam
Tafsir Ibn Kathir · The Pen · 52 ayat · ayat 31–52 · Quran text →
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہوگا اور تمہاری بےجا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی ؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے ؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو۔
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہوگا اور تمہاری بےجا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی ؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے ؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو۔
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہوگا اور تمہاری بےجا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی ؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے ؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو۔
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہوگا اور تمہاری بےجا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی ؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے ؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو۔
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہوگا اور تمہاری بےجا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی ؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے ؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو۔
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہوگا اور تمہاری بےجا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی ؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے ؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو۔
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہوگا اور تمہاری بےجا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی ؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے ؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو۔
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہوگا اور تمہاری بےجا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی ؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے ؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو۔
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہوگا اوپر چونکہ بیان ہوا تھا کہ پرہیزگار لوگوں کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں اسلئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی ؟ تو فرمایا کہ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ یعنی قیامت کے دن جو دن بڑی ہولناکیوں والا زلزلوں والا امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہوگا۔ صحیح بخاری شریف میں اس جگہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گرپڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہوجائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لئے جھکا نہ جائے گا، یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے (ابن جریر) اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ ابن مسعود یا ابن عباس سے آیت (يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ 42ۙ) 68۔ القلم :42) کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے جیسے شاعر کا قول ہے (شالت الحرب عن ساق) یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد سے بھی یہی مروی ہے، حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہوگی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہوجائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آجاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے، یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں، اس کے بعد یہ حدیث ابو یعلی میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے واللہ اعلم (یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گذری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اوراقوال بھی اسطرح ٹھیک ہیں کہ اللہ عالم کی پنڈلی بھی ظاہر ہوگی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی واللہ اعلم۔ مترجم) پھر فرمایا جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہوجائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا تو رک جاتا تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کرسکتے پہلے کرسکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گرپڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کرسکیں گے کمر تختہ ہوجائے گی جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گرپڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی وہاں بھی خلاف ہی رہے گی۔ پھر فرمایا مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں آپ ان سے نپٹ لوں گا دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہوگی، جیسے اور جگہ ہے آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55ۙ) 23۔ المؤمنون :55) ، یعنی کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لئے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بےشعور ہیں اور جگہ فرمایا آیت (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44) 6۔ الانعام :44) جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہوگئیں۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے۔ بخاری مسلم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) یعنی اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے۔ پھر فرمایا تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں۔ ان دونوں جملوں کی تفسیر سورة والطور میں گذر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہوگا اوپر چونکہ بیان ہوا تھا کہ پرہیزگار لوگوں کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں اسلئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی ؟ تو فرمایا کہ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ یعنی قیامت کے دن جو دن بڑی ہولناکیوں والا زلزلوں والا امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہوگا۔ صحیح بخاری شریف میں اس جگہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گرپڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہوجائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لئے جھکا نہ جائے گا، یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے (ابن جریر) اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ ابن مسعود یا ابن عباس سے آیت (يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ 42ۙ) 68۔ القلم :42) کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے جیسے شاعر کا قول ہے (شالت الحرب عن ساق) یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد سے بھی یہی مروی ہے، حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہوگی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہوجائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آجاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے، یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں، اس کے بعد یہ حدیث ابو یعلی میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے واللہ اعلم (یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گذری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اوراقوال بھی اسطرح ٹھیک ہیں کہ اللہ عالم کی پنڈلی بھی ظاہر ہوگی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی واللہ اعلم۔ مترجم) پھر فرمایا جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہوجائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا تو رک جاتا تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کرسکتے پہلے کرسکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گرپڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کرسکیں گے کمر تختہ ہوجائے گی جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گرپڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی وہاں بھی خلاف ہی رہے گی۔ پھر فرمایا مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں آپ ان سے نپٹ لوں گا دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہوگی، جیسے اور جگہ ہے آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55ۙ) 23۔ المؤمنون :55) ، یعنی کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لئے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بےشعور ہیں اور جگہ فرمایا آیت (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44) 6۔ الانعام :44) جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہوگئیں۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے۔ بخاری مسلم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) یعنی اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے۔ پھر فرمایا تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں۔ ان دونوں جملوں کی تفسیر سورة والطور میں گذر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہوگا اوپر چونکہ بیان ہوا تھا کہ پرہیزگار لوگوں کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں اسلئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی ؟ تو فرمایا کہ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ یعنی قیامت کے دن جو دن بڑی ہولناکیوں والا زلزلوں والا امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہوگا۔ صحیح بخاری شریف میں اس جگہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گرپڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہوجائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لئے جھکا نہ جائے گا، یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے (ابن جریر) اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ ابن مسعود یا ابن عباس سے آیت (يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ 42ۙ) 68۔ القلم :42) کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے جیسے شاعر کا قول ہے (شالت الحرب عن ساق) یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد سے بھی یہی مروی ہے، حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہوگی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہوجائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آجاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے، یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں، اس کے بعد یہ حدیث ابو یعلی میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے واللہ اعلم (یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گذری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اوراقوال بھی اسطرح ٹھیک ہیں کہ اللہ عالم کی پنڈلی بھی ظاہر ہوگی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی واللہ اعلم۔ مترجم) پھر فرمایا جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہوجائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا تو رک جاتا تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کرسکتے پہلے کرسکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گرپڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کرسکیں گے کمر تختہ ہوجائے گی جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گرپڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی وہاں بھی خلاف ہی رہے گی۔ پھر فرمایا مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں آپ ان سے نپٹ لوں گا دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہوگی، جیسے اور جگہ ہے آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55ۙ) 23۔ المؤمنون :55) ، یعنی کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لئے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بےشعور ہیں اور جگہ فرمایا آیت (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44) 6۔ الانعام :44) جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہوگئیں۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے۔ بخاری مسلم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) یعنی اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے۔ پھر فرمایا تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں۔ ان دونوں جملوں کی تفسیر سورة والطور میں گذر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہوگا اوپر چونکہ بیان ہوا تھا کہ پرہیزگار لوگوں کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں اسلئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی ؟ تو فرمایا کہ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ یعنی قیامت کے دن جو دن بڑی ہولناکیوں والا زلزلوں والا امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہوگا۔ صحیح بخاری شریف میں اس جگہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گرپڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہوجائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لئے جھکا نہ جائے گا، یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے (ابن جریر) اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ ابن مسعود یا ابن عباس سے آیت (يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ 42ۙ) 68۔ القلم :42) کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے جیسے شاعر کا قول ہے (شالت الحرب عن ساق) یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد سے بھی یہی مروی ہے، حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہوگی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہوجائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آجاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے، یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں، اس کے بعد یہ حدیث ابو یعلی میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے واللہ اعلم (یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گذری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اوراقوال بھی اسطرح ٹھیک ہیں کہ اللہ عالم کی پنڈلی بھی ظاہر ہوگی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی واللہ اعلم۔ مترجم) پھر فرمایا جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہوجائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا تو رک جاتا تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کرسکتے پہلے کرسکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گرپڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کرسکیں گے کمر تختہ ہوجائے گی جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گرپڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی وہاں بھی خلاف ہی رہے گی۔ پھر فرمایا مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں آپ ان سے نپٹ لوں گا دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہوگی، جیسے اور جگہ ہے آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55ۙ) 23۔ المؤمنون :55) ، یعنی کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لئے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بےشعور ہیں اور جگہ فرمایا آیت (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44) 6۔ الانعام :44) جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہوگئیں۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے۔ بخاری مسلم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) یعنی اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے۔ پھر فرمایا تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں۔ ان دونوں جملوں کی تفسیر سورة والطور میں گذر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہوگا اوپر چونکہ بیان ہوا تھا کہ پرہیزگار لوگوں کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں اسلئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی ؟ تو فرمایا کہ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ یعنی قیامت کے دن جو دن بڑی ہولناکیوں والا زلزلوں والا امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہوگا۔ صحیح بخاری شریف میں اس جگہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گرپڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہوجائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لئے جھکا نہ جائے گا، یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے (ابن جریر) اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ ابن مسعود یا ابن عباس سے آیت (يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ 42ۙ) 68۔ القلم :42) کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے جیسے شاعر کا قول ہے (شالت الحرب عن ساق) یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد سے بھی یہی مروی ہے، حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہوگی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہوجائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آجاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے، یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں، اس کے بعد یہ حدیث ابو یعلی میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے واللہ اعلم (یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گذری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اوراقوال بھی اسطرح ٹھیک ہیں کہ اللہ عالم کی پنڈلی بھی ظاہر ہوگی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی واللہ اعلم۔ مترجم) پھر فرمایا جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہوجائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا تو رک جاتا تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کرسکتے پہلے کرسکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گرپڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کرسکیں گے کمر تختہ ہوجائے گی جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گرپڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی وہاں بھی خلاف ہی رہے گی۔ پھر فرمایا مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں آپ ان سے نپٹ لوں گا دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہوگی، جیسے اور جگہ ہے آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55ۙ) 23۔ المؤمنون :55) ، یعنی کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لئے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بےشعور ہیں اور جگہ فرمایا آیت (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44) 6۔ الانعام :44) جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہوگئیں۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے۔ بخاری مسلم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) یعنی اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے۔ پھر فرمایا تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں۔ ان دونوں جملوں کی تفسیر سورة والطور میں گذر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہوگا اوپر چونکہ بیان ہوا تھا کہ پرہیزگار لوگوں کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں اسلئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی ؟ تو فرمایا کہ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ یعنی قیامت کے دن جو دن بڑی ہولناکیوں والا زلزلوں والا امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہوگا۔ صحیح بخاری شریف میں اس جگہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گرپڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہوجائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لئے جھکا نہ جائے گا، یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے (ابن جریر) اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ ابن مسعود یا ابن عباس سے آیت (يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ 42ۙ) 68۔ القلم :42) کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے جیسے شاعر کا قول ہے (شالت الحرب عن ساق) یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد سے بھی یہی مروی ہے، حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہوگی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہوجائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آجاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے، یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں، اس کے بعد یہ حدیث ابو یعلی میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے واللہ اعلم (یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گذری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اوراقوال بھی اسطرح ٹھیک ہیں کہ اللہ عالم کی پنڈلی بھی ظاہر ہوگی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی واللہ اعلم۔ مترجم) پھر فرمایا جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہوجائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا تو رک جاتا تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کرسکتے پہلے کرسکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گرپڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کرسکیں گے کمر تختہ ہوجائے گی جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گرپڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی وہاں بھی خلاف ہی رہے گی۔ پھر فرمایا مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں آپ ان سے نپٹ لوں گا دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہوگی، جیسے اور جگہ ہے آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55ۙ) 23۔ المؤمنون :55) ، یعنی کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لئے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بےشعور ہیں اور جگہ فرمایا آیت (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44) 6۔ الانعام :44) جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہوگئیں۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے۔ بخاری مسلم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) یعنی اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے۔ پھر فرمایا تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں۔ ان دونوں جملوں کی تفسیر سورة والطور میں گذر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔
مصائب سے نجات دلانے والی دعا ، نظر، فال اور شگون اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا اس سے مراد حضرت یونس بن متی ؑ ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر کو اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا بھی پکارنا اور آیت (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) پڑھنا پھر آپ کی دعا کا قبول ہونا اس غم سے نجات پانا وغیرہ جس واقعہ کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے۔ جس کے بیان کے بعد اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم اسی طرح ایمانداروں کو نجات دیا کرتے ہیں اور فرماتا ہے کہ اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں پڑے رہتے، یہاں بھی فرمان ہے کہ جب اس نے غم اور دکھ کی حالت میں ہمیں پکارا، پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یونس ؑ کی زبان سے نکلتے ہی یہ کلمہ عرش پر پہنچا، فرشتوں نے کہا یا رب اس کمزور غیر معروف شخص کی آواز تو ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے پہلے کی سنی ہوئی ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کیا تم نے اسے پہچانا نہیں ؟ فرشتوں نے عرض کیا نہیں، جناب باری نے فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے فرشتوں نے کہا پروردگار پھر تو تیرا یہ بندہ وہ ہے جس کے اعمال صالحہ روز آسمانوں پر چڑھتے رہے جس کی دعائیں ہر وقت قبولیت کا درجہ پاتی رہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سچ ہے، فرشتوں نے کہا پھر اے ارحم الراحمین ان کی آسانیوں کے وقت کے نیک اعمال کی بنا پر انہیں اس سختی سے نجات عطا فرما، چناچہ فرمان باری ہوا کہ اے مچھلی تو انہیں اگل دے اور مچھلی نے انہیں کنارے پر آ کر اگل دیا، یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ اللہ نے اسے پھر برگزیدہ بنا لیا اور نیک کاروں میں کردیا، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو حضرت یونس بن متی سے افضل بتائے۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ حدیث ہے، اگلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ تیرے بغض و حسد کی وجہ سے یہ کفار تو اپنی آنکھوں سے گھور گھور کر تجھے پھسلا دینا چاہتے ہیں اگر اللہ کی طرف سے حمایت اور بچاؤ نہ ہوتا تو یقیناً یہ ایسا کر گذرتے، اس آیت میں دلیل ہے اس امر پر کہ نظر کا لگنا اور اس کی تاثیر کا اللہ کے حکم سے ہونا حق ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں بھی ہے جو کئی کئی سندوں سے مروی ہے، ابو داؤد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دم جھاڑا صرف نظر کا اور زہریلے جانوروں کا اور نہ تھمنے والے خون کا ہے، بعض سندوں میں نظر کا لفظ نہیں یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے اور صحیح مسلم شریف میں بھی ایک قصہ کے ساتھ موقوفاً مروی ہے، بخاری شریف اور ترمذی میں بھی ہے، ایک غریب حدیث ابو یعلی میں ہے کہ نظر میں کچھ بھی حق نہیں سب سے سچا شگون فال ہے، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب کہتے ہیں اور روایت میں ہے کہ کوئی ڈر، خوف، الو اور نظر نہیں اور نیک فالی سب سے زیادہ سچا فال ہے اور روایات میں ہے کہ نظر حق ہے، نظر حق ہے، وہ بلندی والے کو بھی اتار دیتی ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں ہے نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر کر جاتی جب تم سے غسل کرایا جائے تو غسل کرلیا کرو، عبدالرزاق میں ہے کہ آنحضرت ﷺ حضرت حسن اور حضرت حسین ان الفاظ کے ساتھ پناہ میں دیتے دعا (اعیذ کما بکلمات اللہ التامتہ من کل شیطان وھامتہ ومن کل عین لامتہ) یعنی تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے بھرپور کلمات کی پناہ میں سونپتا ہوں ہر شیطان سے اور ہر ایک زہریلے جانور سے اور ہر ایک لگ جانے والی نظر سے اور فرماتے کہ حضرت ابراہیم ؑ بھی حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کو انہی الفاظ سے اللہ کی پناہ دیا کرتے تھے، یہ حدیث سنن میں اور بخاری شریف میں بھی ہے، ابن ماجہ میں ہے کہ سہل بن حنیف غسل کر رہے تھے عامر بن ربیعہ کہنے لگے میں نے تو آج تک ایسا بدن کسی پردہ نشین کا بھی نہیں دیکھا بس ذرا سی دیر میں وہ بیہوش ہو کر گرپڑے لوگوں نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ ان کی خبر لیجئے یہ تو بیہوش ہوگئے آپ نے فرمایا کسی پر تمہارا شک بھی ہے لوگوں نے کا کہاں عامر بن ربیعہ پر، آپ نے فرمایا تم میں سے کیوں کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے کہ اسے بہت اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ اس کے لئے برکت کی دعا کرے پھر پانی منگوا کر عامر سے فرمایا تم وضو کرو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور گھٹنے اور تہمبد کے اندر کا حصہ جسم دھو ڈالو۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا برتن کو اس کی پیٹھ کے پیچھے سے اوندھا دو ، نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت موجود ہے، حضرت ابو سعید فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ جنات کی اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب سورة معوذتیں نازل ہوئیں تو آپ نے انہیں لے لیا اور سب کو چھوڑ دیا (ابن ماجہ ترمذی نسائی) مسند وغیرہ میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے نبی صاحب ﷺ کیا آپ بیمار ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو جبرائیل ﷺ نے کہا دعا (بسم اللہ ارقیک من کل شئی یوذیک من شر کل نفس وعین واللہ یشفیک بسم اللہ ارقیک) بعض روایات میں کچھ الفاظ کا ہیر پھیر بھی ہے، بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ یقیناً نظر کا لگ جانا برحق ہے، مسند کی ایک حدیث میں اس کے بعد یوں بھی ہے کہ اس کا سبب شیطان ہے اور ابن آدم کا حسد ہے، مسند کی اور روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ شگون تین چیزوں میں ہے گھر گھوڑ اور عورت تو حضرت ابوہریرہ نے فرمایا پھر تو میں رسول اللہ ﷺ پر وہ کہوں گا جو آپ نے نہیں فرمایا ہاں میں نے حضور ﷺ سے یہ تو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا سب سے سچا شگون نیک فالی ہے اور نظر کا لگنا حق ہے، ترمذی وغیرہ میں ہے کہ حضرت اسماء ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ حضرت جعفر کے بچوں کو نظر لگ جایا کرتی ہے تو کیا میں کچھ دم کرا لیا کروں آپ نے فرمایا ہاں اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کر جانے والی ہوتی تو وہ نظر تھی، حضرت عائشہ کو بھی حضور ﷺ کا نظر بد سے دم کرنے کا حکم مروی ہے (ابن ماجہ) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نظر لگانے والے کو حکم کیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے اور جس کو نظر لگی ہے اسے اس پانی سے غسل کرایا جاتا تھا (احمد) اور حدیث میں ہے، نہیں ہے الو اور نظر حق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے مسند احمد میں بھی حضرت سہل اور حضرت عامر والا قصہ جو اوپر بیان ہوا قدرے تفصیل کے ساتھ مروی ہے، بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ یہ دونوں بزرگ غسل کے ارادے سے چلے اور حضرت عامر پانی میں غسل کے لئے اترے اور ان کا بدن دیکھ کر حضرت سہل کی نظر لگ گئی اور وہ وہیں پانی میں خرخراہٹ کرنے لگے میں نے تین مرتبہ آوازیں دیں لیکن جواب نہ ملا میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور واقعہ سنایا آپ خود تشریف لائے اور تھوڑے سے پانی میں کھچ کھچ کرتے ہوئے تہمبد اونچا اٹھائے ہوئے وہاں تک پہنچے اور ان کے سینے میں ہاتھ مارا اور دعا کی (اللھم اصرف عنہ حشرھا و بردھا و وصبھا) اے اللہ تو اس سے اس کی گرمی اور سردی اور تکلیف دور کر دے۔ مسند بزار میں ہے کہ میری امت کی قضاء و قدر کے بعد اکثر موت نظر سے ہوگی، فرماتے ہیں نظر حق ہے انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا تک میری امت کی اکثر ہلاکی اسی میں ہے، ایک اور صحیح سند سے بھی یہ روایت مروی ہے، فرمان رسالت ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی اور نہ الو کی وجہ سے بربادی کا یقین کرلینا کوئی واقعیت رکھتا ہے اور نہ حسد کوئی چیز ہے، ہاں نظر سچ ہے، ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل حضور ﷺ کے پاس آئے آپ اس وقت غمزدہ تھے جب پوچھا تو فرمایا حسن اور حسین کو نظر لگ گئی ہے، فرمایا یہ سچائی کے قابل چیز ہے نظر واقعی لگتی ہے، آپ نے یہ کلمات پڑھ کر انہیں پناہ میں کیوں نہ دیا ؟ حضور ﷺ نے پوچھا وہ کلمات کیا ہیں ؟ فرمایا یوں کہو اللھم ذا السلطان العظیم ذا المن القدیم ذا الوجہ الکریم ولی الکلمات التامات والدعوت المستجابات عاف الحسن والحسین من انفس الجن واعین الانس یعنی اے اللہ اے بہت بڑی بادشاہی والے اے زبردست قدیم احسانوں والے، اے بزرگ تر چہرے والے اے پورے کلموں والے اور اے دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دینے والے تو حسن اور حسین کو تمام جنات کی ہواؤں سے اور تمام انسان کی آنکھوں سے اپنی پناہ دے، حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھی وہیں دونوں بچے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے سامنے کھیلنے کودنے لگے توحضور ﷺ نے فرمایا لوگو اپنی جانوں کو اپنی بیویوں کو اور اپنی اولاد کو اسی پناہ کے ساتھ پناہ دیا کرو، اس جیسی اور کوئی پناہ کی دعا نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ جہاں یہ کافر اپنی حقارت بھری نظریں آپ پر ڈالتے ہیں وہاں اپنی طعنہ آمیز زبان بھی آپ پر کھولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو قرآن لانے میں مجنون ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے قرآن تو اللہ ان کی طرف سے تمام عالم کے لئے نصیحت نامہ ہے۔ الحمد للہ سورة نون کی تفسیم ختم ہوئی۔
مصائب سے نجات دلانے والی دعا ، نظر، فال اور شگون اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا اس سے مراد حضرت یونس بن متی ؑ ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر کو اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا بھی پکارنا اور آیت (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) پڑھنا پھر آپ کی دعا کا قبول ہونا اس غم سے نجات پانا وغیرہ جس واقعہ کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے۔ جس کے بیان کے بعد اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم اسی طرح ایمانداروں کو نجات دیا کرتے ہیں اور فرماتا ہے کہ اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں پڑے رہتے، یہاں بھی فرمان ہے کہ جب اس نے غم اور دکھ کی حالت میں ہمیں پکارا، پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یونس ؑ کی زبان سے نکلتے ہی یہ کلمہ عرش پر پہنچا، فرشتوں نے کہا یا رب اس کمزور غیر معروف شخص کی آواز تو ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے پہلے کی سنی ہوئی ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کیا تم نے اسے پہچانا نہیں ؟ فرشتوں نے عرض کیا نہیں، جناب باری نے فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے فرشتوں نے کہا پروردگار پھر تو تیرا یہ بندہ وہ ہے جس کے اعمال صالحہ روز آسمانوں پر چڑھتے رہے جس کی دعائیں ہر وقت قبولیت کا درجہ پاتی رہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سچ ہے، فرشتوں نے کہا پھر اے ارحم الراحمین ان کی آسانیوں کے وقت کے نیک اعمال کی بنا پر انہیں اس سختی سے نجات عطا فرما، چناچہ فرمان باری ہوا کہ اے مچھلی تو انہیں اگل دے اور مچھلی نے انہیں کنارے پر آ کر اگل دیا، یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ اللہ نے اسے پھر برگزیدہ بنا لیا اور نیک کاروں میں کردیا، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو حضرت یونس بن متی سے افضل بتائے۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ حدیث ہے، اگلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ تیرے بغض و حسد کی وجہ سے یہ کفار تو اپنی آنکھوں سے گھور گھور کر تجھے پھسلا دینا چاہتے ہیں اگر اللہ کی طرف سے حمایت اور بچاؤ نہ ہوتا تو یقیناً یہ ایسا کر گذرتے، اس آیت میں دلیل ہے اس امر پر کہ نظر کا لگنا اور اس کی تاثیر کا اللہ کے حکم سے ہونا حق ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں بھی ہے جو کئی کئی سندوں سے مروی ہے، ابو داؤد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دم جھاڑا صرف نظر کا اور زہریلے جانوروں کا اور نہ تھمنے والے خون کا ہے، بعض سندوں میں نظر کا لفظ نہیں یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے اور صحیح مسلم شریف میں بھی ایک قصہ کے ساتھ موقوفاً مروی ہے، بخاری شریف اور ترمذی میں بھی ہے، ایک غریب حدیث ابو یعلی میں ہے کہ نظر میں کچھ بھی حق نہیں سب سے سچا شگون فال ہے، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب کہتے ہیں اور روایت میں ہے کہ کوئی ڈر، خوف، الو اور نظر نہیں اور نیک فالی سب سے زیادہ سچا فال ہے اور روایات میں ہے کہ نظر حق ہے، نظر حق ہے، وہ بلندی والے کو بھی اتار دیتی ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں ہے نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر کر جاتی جب تم سے غسل کرایا جائے تو غسل کرلیا کرو، عبدالرزاق میں ہے کہ آنحضرت ﷺ حضرت حسن اور حضرت حسین ان الفاظ کے ساتھ پناہ میں دیتے دعا (اعیذ کما بکلمات اللہ التامتہ من کل شیطان وھامتہ ومن کل عین لامتہ) یعنی تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے بھرپور کلمات کی پناہ میں سونپتا ہوں ہر شیطان سے اور ہر ایک زہریلے جانور سے اور ہر ایک لگ جانے والی نظر سے اور فرماتے کہ حضرت ابراہیم ؑ بھی حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کو انہی الفاظ سے اللہ کی پناہ دیا کرتے تھے، یہ حدیث سنن میں اور بخاری شریف میں بھی ہے، ابن ماجہ میں ہے کہ سہل بن حنیف غسل کر رہے تھے عامر بن ربیعہ کہنے لگے میں نے تو آج تک ایسا بدن کسی پردہ نشین کا بھی نہیں دیکھا بس ذرا سی دیر میں وہ بیہوش ہو کر گرپڑے لوگوں نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ ان کی خبر لیجئے یہ تو بیہوش ہوگئے آپ نے فرمایا کسی پر تمہارا شک بھی ہے لوگوں نے کا کہاں عامر بن ربیعہ پر، آپ نے فرمایا تم میں سے کیوں کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے کہ اسے بہت اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ اس کے لئے برکت کی دعا کرے پھر پانی منگوا کر عامر سے فرمایا تم وضو کرو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور گھٹنے اور تہمبد کے اندر کا حصہ جسم دھو ڈالو۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا برتن کو اس کی پیٹھ کے پیچھے سے اوندھا دو ، نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت موجود ہے، حضرت ابو سعید فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ جنات کی اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب سورة معوذتیں نازل ہوئیں تو آپ نے انہیں لے لیا اور سب کو چھوڑ دیا (ابن ماجہ ترمذی نسائی) مسند وغیرہ میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے نبی صاحب ﷺ کیا آپ بیمار ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو جبرائیل ﷺ نے کہا دعا (بسم اللہ ارقیک من کل شئی یوذیک من شر کل نفس وعین واللہ یشفیک بسم اللہ ارقیک) بعض روایات میں کچھ الفاظ کا ہیر پھیر بھی ہے، بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ یقیناً نظر کا لگ جانا برحق ہے، مسند کی ایک حدیث میں اس کے بعد یوں بھی ہے کہ اس کا سبب شیطان ہے اور ابن آدم کا حسد ہے، مسند کی اور روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ شگون تین چیزوں میں ہے گھر گھوڑ اور عورت تو حضرت ابوہریرہ نے فرمایا پھر تو میں رسول اللہ ﷺ پر وہ کہوں گا جو آپ نے نہیں فرمایا ہاں میں نے حضور ﷺ سے یہ تو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا سب سے سچا شگون نیک فالی ہے اور نظر کا لگنا حق ہے، ترمذی وغیرہ میں ہے کہ حضرت اسماء ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ حضرت جعفر کے بچوں کو نظر لگ جایا کرتی ہے تو کیا میں کچھ دم کرا لیا کروں آپ نے فرمایا ہاں اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کر جانے والی ہوتی تو وہ نظر تھی، حضرت عائشہ کو بھی حضور ﷺ کا نظر بد سے دم کرنے کا حکم مروی ہے (ابن ماجہ) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نظر لگانے والے کو حکم کیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے اور جس کو نظر لگی ہے اسے اس پانی سے غسل کرایا جاتا تھا (احمد) اور حدیث میں ہے، نہیں ہے الو اور نظر حق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے مسند احمد میں بھی حضرت سہل اور حضرت عامر والا قصہ جو اوپر بیان ہوا قدرے تفصیل کے ساتھ مروی ہے، بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ یہ دونوں بزرگ غسل کے ارادے سے چلے اور حضرت عامر پانی میں غسل کے لئے اترے اور ان کا بدن دیکھ کر حضرت سہل کی نظر لگ گئی اور وہ وہیں پانی میں خرخراہٹ کرنے لگے میں نے تین مرتبہ آوازیں دیں لیکن جواب نہ ملا میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور واقعہ سنایا آپ خود تشریف لائے اور تھوڑے سے پانی میں کھچ کھچ کرتے ہوئے تہمبد اونچا اٹھائے ہوئے وہاں تک پہنچے اور ان کے سینے میں ہاتھ مارا اور دعا کی (اللھم اصرف عنہ حشرھا و بردھا و وصبھا) اے اللہ تو اس سے اس کی گرمی اور سردی اور تکلیف دور کر دے۔ مسند بزار میں ہے کہ میری امت کی قضاء و قدر کے بعد اکثر موت نظر سے ہوگی، فرماتے ہیں نظر حق ہے انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا تک میری امت کی اکثر ہلاکی اسی میں ہے، ایک اور صحیح سند سے بھی یہ روایت مروی ہے، فرمان رسالت ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی اور نہ الو کی وجہ سے بربادی کا یقین کرلینا کوئی واقعیت رکھتا ہے اور نہ حسد کوئی چیز ہے، ہاں نظر سچ ہے، ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل حضور ﷺ کے پاس آئے آپ اس وقت غمزدہ تھے جب پوچھا تو فرمایا حسن اور حسین کو نظر لگ گئی ہے، فرمایا یہ سچائی کے قابل چیز ہے نظر واقعی لگتی ہے، آپ نے یہ کلمات پڑھ کر انہیں پناہ میں کیوں نہ دیا ؟ حضور ﷺ نے پوچھا وہ کلمات کیا ہیں ؟ فرمایا یوں کہو اللھم ذا السلطان العظیم ذا المن القدیم ذا الوجہ الکریم ولی الکلمات التامات والدعوت المستجابات عاف الحسن والحسین من انفس الجن واعین الانس یعنی اے اللہ اے بہت بڑی بادشاہی والے اے زبردست قدیم احسانوں والے، اے بزرگ تر چہرے والے اے پورے کلموں والے اور اے دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دینے والے تو حسن اور حسین کو تمام جنات کی ہواؤں سے اور تمام انسان کی آنکھوں سے اپنی پناہ دے، حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھی وہیں دونوں بچے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے سامنے کھیلنے کودنے لگے توحضور ﷺ نے فرمایا لوگو اپنی جانوں کو اپنی بیویوں کو اور اپنی اولاد کو اسی پناہ کے ساتھ پناہ دیا کرو، اس جیسی اور کوئی پناہ کی دعا نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ جہاں یہ کافر اپنی حقارت بھری نظریں آپ پر ڈالتے ہیں وہاں اپنی طعنہ آمیز زبان بھی آپ پر کھولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو قرآن لانے میں مجنون ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے قرآن تو اللہ ان کی طرف سے تمام عالم کے لئے نصیحت نامہ ہے۔ الحمد للہ سورة نون کی تفسیم ختم ہوئی۔
مصائب سے نجات دلانے والی دعا ، نظر، فال اور شگون اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا اس سے مراد حضرت یونس بن متی ؑ ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر کو اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا بھی پکارنا اور آیت (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) پڑھنا پھر آپ کی دعا کا قبول ہونا اس غم سے نجات پانا وغیرہ جس واقعہ کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے۔ جس کے بیان کے بعد اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم اسی طرح ایمانداروں کو نجات دیا کرتے ہیں اور فرماتا ہے کہ اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں پڑے رہتے، یہاں بھی فرمان ہے کہ جب اس نے غم اور دکھ کی حالت میں ہمیں پکارا، پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یونس ؑ کی زبان سے نکلتے ہی یہ کلمہ عرش پر پہنچا، فرشتوں نے کہا یا رب اس کمزور غیر معروف شخص کی آواز تو ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے پہلے کی سنی ہوئی ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کیا تم نے اسے پہچانا نہیں ؟ فرشتوں نے عرض کیا نہیں، جناب باری نے فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے فرشتوں نے کہا پروردگار پھر تو تیرا یہ بندہ وہ ہے جس کے اعمال صالحہ روز آسمانوں پر چڑھتے رہے جس کی دعائیں ہر وقت قبولیت کا درجہ پاتی رہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سچ ہے، فرشتوں نے کہا پھر اے ارحم الراحمین ان کی آسانیوں کے وقت کے نیک اعمال کی بنا پر انہیں اس سختی سے نجات عطا فرما، چناچہ فرمان باری ہوا کہ اے مچھلی تو انہیں اگل دے اور مچھلی نے انہیں کنارے پر آ کر اگل دیا، یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ اللہ نے اسے پھر برگزیدہ بنا لیا اور نیک کاروں میں کردیا، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو حضرت یونس بن متی سے افضل بتائے۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ حدیث ہے، اگلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ تیرے بغض و حسد کی وجہ سے یہ کفار تو اپنی آنکھوں سے گھور گھور کر تجھے پھسلا دینا چاہتے ہیں اگر اللہ کی طرف سے حمایت اور بچاؤ نہ ہوتا تو یقیناً یہ ایسا کر گذرتے، اس آیت میں دلیل ہے اس امر پر کہ نظر کا لگنا اور اس کی تاثیر کا اللہ کے حکم سے ہونا حق ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں بھی ہے جو کئی کئی سندوں سے مروی ہے، ابو داؤد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دم جھاڑا صرف نظر کا اور زہریلے جانوروں کا اور نہ تھمنے والے خون کا ہے، بعض سندوں میں نظر کا لفظ نہیں یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے اور صحیح مسلم شریف میں بھی ایک قصہ کے ساتھ موقوفاً مروی ہے، بخاری شریف اور ترمذی میں بھی ہے، ایک غریب حدیث ابو یعلی میں ہے کہ نظر میں کچھ بھی حق نہیں سب سے سچا شگون فال ہے، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب کہتے ہیں اور روایت میں ہے کہ کوئی ڈر، خوف، الو اور نظر نہیں اور نیک فالی سب سے زیادہ سچا فال ہے اور روایات میں ہے کہ نظر حق ہے، نظر حق ہے، وہ بلندی والے کو بھی اتار دیتی ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں ہے نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر کر جاتی جب تم سے غسل کرایا جائے تو غسل کرلیا کرو، عبدالرزاق میں ہے کہ آنحضرت ﷺ حضرت حسن اور حضرت حسین ان الفاظ کے ساتھ پناہ میں دیتے دعا (اعیذ کما بکلمات اللہ التامتہ من کل شیطان وھامتہ ومن کل عین لامتہ) یعنی تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے بھرپور کلمات کی پناہ میں سونپتا ہوں ہر شیطان سے اور ہر ایک زہریلے جانور سے اور ہر ایک لگ جانے والی نظر سے اور فرماتے کہ حضرت ابراہیم ؑ بھی حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کو انہی الفاظ سے اللہ کی پناہ دیا کرتے تھے، یہ حدیث سنن میں اور بخاری شریف میں بھی ہے، ابن ماجہ میں ہے کہ سہل بن حنیف غسل کر رہے تھے عامر بن ربیعہ کہنے لگے میں نے تو آج تک ایسا بدن کسی پردہ نشین کا بھی نہیں دیکھا بس ذرا سی دیر میں وہ بیہوش ہو کر گرپڑے لوگوں نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ ان کی خبر لیجئے یہ تو بیہوش ہوگئے آپ نے فرمایا کسی پر تمہارا شک بھی ہے لوگوں نے کا کہاں عامر بن ربیعہ پر، آپ نے فرمایا تم میں سے کیوں کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے کہ اسے بہت اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ اس کے لئے برکت کی دعا کرے پھر پانی منگوا کر عامر سے فرمایا تم وضو کرو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور گھٹنے اور تہمبد کے اندر کا حصہ جسم دھو ڈالو۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا برتن کو اس کی پیٹھ کے پیچھے سے اوندھا دو ، نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت موجود ہے، حضرت ابو سعید فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ جنات کی اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب سورة معوذتیں نازل ہوئیں تو آپ نے انہیں لے لیا اور سب کو چھوڑ دیا (ابن ماجہ ترمذی نسائی) مسند وغیرہ میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے نبی صاحب ﷺ کیا آپ بیمار ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو جبرائیل ﷺ نے کہا دعا (بسم اللہ ارقیک من کل شئی یوذیک من شر کل نفس وعین واللہ یشفیک بسم اللہ ارقیک) بعض روایات میں کچھ الفاظ کا ہیر پھیر بھی ہے، بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ یقیناً نظر کا لگ جانا برحق ہے، مسند کی ایک حدیث میں اس کے بعد یوں بھی ہے کہ اس کا سبب شیطان ہے اور ابن آدم کا حسد ہے، مسند کی اور روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ شگون تین چیزوں میں ہے گھر گھوڑ اور عورت تو حضرت ابوہریرہ نے فرمایا پھر تو میں رسول اللہ ﷺ پر وہ کہوں گا جو آپ نے نہیں فرمایا ہاں میں نے حضور ﷺ سے یہ تو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا سب سے سچا شگون نیک فالی ہے اور نظر کا لگنا حق ہے، ترمذی وغیرہ میں ہے کہ حضرت اسماء ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ حضرت جعفر کے بچوں کو نظر لگ جایا کرتی ہے تو کیا میں کچھ دم کرا لیا کروں آپ نے فرمایا ہاں اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کر جانے والی ہوتی تو وہ نظر تھی، حضرت عائشہ کو بھی حضور ﷺ کا نظر بد سے دم کرنے کا حکم مروی ہے (ابن ماجہ) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نظر لگانے والے کو حکم کیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے اور جس کو نظر لگی ہے اسے اس پانی سے غسل کرایا جاتا تھا (احمد) اور حدیث میں ہے، نہیں ہے الو اور نظر حق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے مسند احمد میں بھی حضرت سہل اور حضرت عامر والا قصہ جو اوپر بیان ہوا قدرے تفصیل کے ساتھ مروی ہے، بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ یہ دونوں بزرگ غسل کے ارادے سے چلے اور حضرت عامر پانی میں غسل کے لئے اترے اور ان کا بدن دیکھ کر حضرت سہل کی نظر لگ گئی اور وہ وہیں پانی میں خرخراہٹ کرنے لگے میں نے تین مرتبہ آوازیں دیں لیکن جواب نہ ملا میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور واقعہ سنایا آپ خود تشریف لائے اور تھوڑے سے پانی میں کھچ کھچ کرتے ہوئے تہمبد اونچا اٹھائے ہوئے وہاں تک پہنچے اور ان کے سینے میں ہاتھ مارا اور دعا کی (اللھم اصرف عنہ حشرھا و بردھا و وصبھا) اے اللہ تو اس سے اس کی گرمی اور سردی اور تکلیف دور کر دے۔ مسند بزار میں ہے کہ میری امت کی قضاء و قدر کے بعد اکثر موت نظر سے ہوگی، فرماتے ہیں نظر حق ہے انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا تک میری امت کی اکثر ہلاکی اسی میں ہے، ایک اور صحیح سند سے بھی یہ روایت مروی ہے، فرمان رسالت ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی اور نہ الو کی وجہ سے بربادی کا یقین کرلینا کوئی واقعیت رکھتا ہے اور نہ حسد کوئی چیز ہے، ہاں نظر سچ ہے، ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل حضور ﷺ کے پاس آئے آپ اس وقت غمزدہ تھے جب پوچھا تو فرمایا حسن اور حسین کو نظر لگ گئی ہے، فرمایا یہ سچائی کے قابل چیز ہے نظر واقعی لگتی ہے، آپ نے یہ کلمات پڑھ کر انہیں پناہ میں کیوں نہ دیا ؟ حضور ﷺ نے پوچھا وہ کلمات کیا ہیں ؟ فرمایا یوں کہو اللھم ذا السلطان العظیم ذا المن القدیم ذا الوجہ الکریم ولی الکلمات التامات والدعوت المستجابات عاف الحسن والحسین من انفس الجن واعین الانس یعنی اے اللہ اے بہت بڑی بادشاہی والے اے زبردست قدیم احسانوں والے، اے بزرگ تر چہرے والے اے پورے کلموں والے اور اے دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دینے والے تو حسن اور حسین کو تمام جنات کی ہواؤں سے اور تمام انسان کی آنکھوں سے اپنی پناہ دے، حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھی وہیں دونوں بچے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے سامنے کھیلنے کودنے لگے توحضور ﷺ نے فرمایا لوگو اپنی جانوں کو اپنی بیویوں کو اور اپنی اولاد کو اسی پناہ کے ساتھ پناہ دیا کرو، اس جیسی اور کوئی پناہ کی دعا نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ جہاں یہ کافر اپنی حقارت بھری نظریں آپ پر ڈالتے ہیں وہاں اپنی طعنہ آمیز زبان بھی آپ پر کھولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو قرآن لانے میں مجنون ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے قرآن تو اللہ ان کی طرف سے تمام عالم کے لئے نصیحت نامہ ہے۔ الحمد للہ سورة نون کی تفسیم ختم ہوئی۔
مصائب سے نجات دلانے والی دعا ، نظر، فال اور شگون اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا اس سے مراد حضرت یونس بن متی ؑ ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر کو اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا بھی پکارنا اور آیت (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) پڑھنا پھر آپ کی دعا کا قبول ہونا اس غم سے نجات پانا وغیرہ جس واقعہ کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے۔ جس کے بیان کے بعد اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم اسی طرح ایمانداروں کو نجات دیا کرتے ہیں اور فرماتا ہے کہ اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں پڑے رہتے، یہاں بھی فرمان ہے کہ جب اس نے غم اور دکھ کی حالت میں ہمیں پکارا، پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یونس ؑ کی زبان سے نکلتے ہی یہ کلمہ عرش پر پہنچا، فرشتوں نے کہا یا رب اس کمزور غیر معروف شخص کی آواز تو ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے پہلے کی سنی ہوئی ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کیا تم نے اسے پہچانا نہیں ؟ فرشتوں نے عرض کیا نہیں، جناب باری نے فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے فرشتوں نے کہا پروردگار پھر تو تیرا یہ بندہ وہ ہے جس کے اعمال صالحہ روز آسمانوں پر چڑھتے رہے جس کی دعائیں ہر وقت قبولیت کا درجہ پاتی رہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سچ ہے، فرشتوں نے کہا پھر اے ارحم الراحمین ان کی آسانیوں کے وقت کے نیک اعمال کی بنا پر انہیں اس سختی سے نجات عطا فرما، چناچہ فرمان باری ہوا کہ اے مچھلی تو انہیں اگل دے اور مچھلی نے انہیں کنارے پر آ کر اگل دیا، یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ اللہ نے اسے پھر برگزیدہ بنا لیا اور نیک کاروں میں کردیا، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو حضرت یونس بن متی سے افضل بتائے۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ حدیث ہے، اگلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ تیرے بغض و حسد کی وجہ سے یہ کفار تو اپنی آنکھوں سے گھور گھور کر تجھے پھسلا دینا چاہتے ہیں اگر اللہ کی طرف سے حمایت اور بچاؤ نہ ہوتا تو یقیناً یہ ایسا کر گذرتے، اس آیت میں دلیل ہے اس امر پر کہ نظر کا لگنا اور اس کی تاثیر کا اللہ کے حکم سے ہونا حق ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں بھی ہے جو کئی کئی سندوں سے مروی ہے، ابو داؤد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دم جھاڑا صرف نظر کا اور زہریلے جانوروں کا اور نہ تھمنے والے خون کا ہے، بعض سندوں میں نظر کا لفظ نہیں یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے اور صحیح مسلم شریف میں بھی ایک قصہ کے ساتھ موقوفاً مروی ہے، بخاری شریف اور ترمذی میں بھی ہے، ایک غریب حدیث ابو یعلی میں ہے کہ نظر میں کچھ بھی حق نہیں سب سے سچا شگون فال ہے، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب کہتے ہیں اور روایت میں ہے کہ کوئی ڈر، خوف، الو اور نظر نہیں اور نیک فالی سب سے زیادہ سچا فال ہے اور روایات میں ہے کہ نظر حق ہے، نظر حق ہے، وہ بلندی والے کو بھی اتار دیتی ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں ہے نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر کر جاتی جب تم سے غسل کرایا جائے تو غسل کرلیا کرو، عبدالرزاق میں ہے کہ آنحضرت ﷺ حضرت حسن اور حضرت حسین ان الفاظ کے ساتھ پناہ میں دیتے دعا (اعیذ کما بکلمات اللہ التامتہ من کل شیطان وھامتہ ومن کل عین لامتہ) یعنی تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے بھرپور کلمات کی پناہ میں سونپتا ہوں ہر شیطان سے اور ہر ایک زہریلے جانور سے اور ہر ایک لگ جانے والی نظر سے اور فرماتے کہ حضرت ابراہیم ؑ بھی حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کو انہی الفاظ سے اللہ کی پناہ دیا کرتے تھے، یہ حدیث سنن میں اور بخاری شریف میں بھی ہے، ابن ماجہ میں ہے کہ سہل بن حنیف غسل کر رہے تھے عامر بن ربیعہ کہنے لگے میں نے تو آج تک ایسا بدن کسی پردہ نشین کا بھی نہیں دیکھا بس ذرا سی دیر میں وہ بیہوش ہو کر گرپڑے لوگوں نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ ان کی خبر لیجئے یہ تو بیہوش ہوگئے آپ نے فرمایا کسی پر تمہارا شک بھی ہے لوگوں نے کا کہاں عامر بن ربیعہ پر، آپ نے فرمایا تم میں سے کیوں کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے کہ اسے بہت اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ اس کے لئے برکت کی دعا کرے پھر پانی منگوا کر عامر سے فرمایا تم وضو کرو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور گھٹنے اور تہمبد کے اندر کا حصہ جسم دھو ڈالو۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا برتن کو اس کی پیٹھ کے پیچھے سے اوندھا دو ، نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت موجود ہے، حضرت ابو سعید فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ جنات کی اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب سورة معوذتیں نازل ہوئیں تو آپ نے انہیں لے لیا اور سب کو چھوڑ دیا (ابن ماجہ ترمذی نسائی) مسند وغیرہ میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے نبی صاحب ﷺ کیا آپ بیمار ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو جبرائیل ﷺ نے کہا دعا (بسم اللہ ارقیک من کل شئی یوذیک من شر کل نفس وعین واللہ یشفیک بسم اللہ ارقیک) بعض روایات میں کچھ الفاظ کا ہیر پھیر بھی ہے، بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ یقیناً نظر کا لگ جانا برحق ہے، مسند کی ایک حدیث میں اس کے بعد یوں بھی ہے کہ اس کا سبب شیطان ہے اور ابن آدم کا حسد ہے، مسند کی اور روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ شگون تین چیزوں میں ہے گھر گھوڑ اور عورت تو حضرت ابوہریرہ نے فرمایا پھر تو میں رسول اللہ ﷺ پر وہ کہوں گا جو آپ نے نہیں فرمایا ہاں میں نے حضور ﷺ سے یہ تو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا سب سے سچا شگون نیک فالی ہے اور نظر کا لگنا حق ہے، ترمذی وغیرہ میں ہے کہ حضرت اسماء ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ حضرت جعفر کے بچوں کو نظر لگ جایا کرتی ہے تو کیا میں کچھ دم کرا لیا کروں آپ نے فرمایا ہاں اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کر جانے والی ہوتی تو وہ نظر تھی، حضرت عائشہ کو بھی حضور ﷺ کا نظر بد سے دم کرنے کا حکم مروی ہے (ابن ماجہ) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نظر لگانے والے کو حکم کیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے اور جس کو نظر لگی ہے اسے اس پانی سے غسل کرایا جاتا تھا (احمد) اور حدیث میں ہے، نہیں ہے الو اور نظر حق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے مسند احمد میں بھی حضرت سہل اور حضرت عامر والا قصہ جو اوپر بیان ہوا قدرے تفصیل کے ساتھ مروی ہے، بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ یہ دونوں بزرگ غسل کے ارادے سے چلے اور حضرت عامر پانی میں غسل کے لئے اترے اور ان کا بدن دیکھ کر حضرت سہل کی نظر لگ گئی اور وہ وہیں پانی میں خرخراہٹ کرنے لگے میں نے تین مرتبہ آوازیں دیں لیکن جواب نہ ملا میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور واقعہ سنایا آپ خود تشریف لائے اور تھوڑے سے پانی میں کھچ کھچ کرتے ہوئے تہمبد اونچا اٹھائے ہوئے وہاں تک پہنچے اور ان کے سینے میں ہاتھ مارا اور دعا کی (اللھم اصرف عنہ حشرھا و بردھا و وصبھا) اے اللہ تو اس سے اس کی گرمی اور سردی اور تکلیف دور کر دے۔ مسند بزار میں ہے کہ میری امت کی قضاء و قدر کے بعد اکثر موت نظر سے ہوگی، فرماتے ہیں نظر حق ہے انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا تک میری امت کی اکثر ہلاکی اسی میں ہے، ایک اور صحیح سند سے بھی یہ روایت مروی ہے، فرمان رسالت ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی اور نہ الو کی وجہ سے بربادی کا یقین کرلینا کوئی واقعیت رکھتا ہے اور نہ حسد کوئی چیز ہے، ہاں نظر سچ ہے، ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل حضور ﷺ کے پاس آئے آپ اس وقت غمزدہ تھے جب پوچھا تو فرمایا حسن اور حسین کو نظر لگ گئی ہے، فرمایا یہ سچائی کے قابل چیز ہے نظر واقعی لگتی ہے، آپ نے یہ کلمات پڑھ کر انہیں پناہ میں کیوں نہ دیا ؟ حضور ﷺ نے پوچھا وہ کلمات کیا ہیں ؟ فرمایا یوں کہو اللھم ذا السلطان العظیم ذا المن القدیم ذا الوجہ الکریم ولی الکلمات التامات والدعوت المستجابات عاف الحسن والحسین من انفس الجن واعین الانس یعنی اے اللہ اے بہت بڑی بادشاہی والے اے زبردست قدیم احسانوں والے، اے بزرگ تر چہرے والے اے پورے کلموں والے اور اے دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دینے والے تو حسن اور حسین کو تمام جنات کی ہواؤں سے اور تمام انسان کی آنکھوں سے اپنی پناہ دے، حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھی وہیں دونوں بچے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے سامنے کھیلنے کودنے لگے توحضور ﷺ نے فرمایا لوگو اپنی جانوں کو اپنی بیویوں کو اور اپنی اولاد کو اسی پناہ کے ساتھ پناہ دیا کرو، اس جیسی اور کوئی پناہ کی دعا نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ جہاں یہ کافر اپنی حقارت بھری نظریں آپ پر ڈالتے ہیں وہاں اپنی طعنہ آمیز زبان بھی آپ پر کھولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو قرآن لانے میں مجنون ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے قرآن تو اللہ ان کی طرف سے تمام عالم کے لئے نصیحت نامہ ہے۔ الحمد للہ سورة نون کی تفسیم ختم ہوئی۔
مصائب سے نجات دلانے والی دعا ، نظر، فال اور شگون اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا اس سے مراد حضرت یونس بن متی ؑ ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر کو اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا بھی پکارنا اور آیت (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) پڑھنا پھر آپ کی دعا کا قبول ہونا اس غم سے نجات پانا وغیرہ جس واقعہ کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے۔ جس کے بیان کے بعد اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم اسی طرح ایمانداروں کو نجات دیا کرتے ہیں اور فرماتا ہے کہ اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں پڑے رہتے، یہاں بھی فرمان ہے کہ جب اس نے غم اور دکھ کی حالت میں ہمیں پکارا، پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یونس ؑ کی زبان سے نکلتے ہی یہ کلمہ عرش پر پہنچا، فرشتوں نے کہا یا رب اس کمزور غیر معروف شخص کی آواز تو ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے پہلے کی سنی ہوئی ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کیا تم نے اسے پہچانا نہیں ؟ فرشتوں نے عرض کیا نہیں، جناب باری نے فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے فرشتوں نے کہا پروردگار پھر تو تیرا یہ بندہ وہ ہے جس کے اعمال صالحہ روز آسمانوں پر چڑھتے رہے جس کی دعائیں ہر وقت قبولیت کا درجہ پاتی رہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سچ ہے، فرشتوں نے کہا پھر اے ارحم الراحمین ان کی آسانیوں کے وقت کے نیک اعمال کی بنا پر انہیں اس سختی سے نجات عطا فرما، چناچہ فرمان باری ہوا کہ اے مچھلی تو انہیں اگل دے اور مچھلی نے انہیں کنارے پر آ کر اگل دیا، یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ اللہ نے اسے پھر برگزیدہ بنا لیا اور نیک کاروں میں کردیا، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو حضرت یونس بن متی سے افضل بتائے۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ حدیث ہے، اگلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ تیرے بغض و حسد کی وجہ سے یہ کفار تو اپنی آنکھوں سے گھور گھور کر تجھے پھسلا دینا چاہتے ہیں اگر اللہ کی طرف سے حمایت اور بچاؤ نہ ہوتا تو یقیناً یہ ایسا کر گذرتے، اس آیت میں دلیل ہے اس امر پر کہ نظر کا لگنا اور اس کی تاثیر کا اللہ کے حکم سے ہونا حق ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں بھی ہے جو کئی کئی سندوں سے مروی ہے، ابو داؤد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دم جھاڑا صرف نظر کا اور زہریلے جانوروں کا اور نہ تھمنے والے خون کا ہے، بعض سندوں میں نظر کا لفظ نہیں یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے اور صحیح مسلم شریف میں بھی ایک قصہ کے ساتھ موقوفاً مروی ہے، بخاری شریف اور ترمذی میں بھی ہے، ایک غریب حدیث ابو یعلی میں ہے کہ نظر میں کچھ بھی حق نہیں سب سے سچا شگون فال ہے، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب کہتے ہیں اور روایت میں ہے کہ کوئی ڈر، خوف، الو اور نظر نہیں اور نیک فالی سب سے زیادہ سچا فال ہے اور روایات میں ہے کہ نظر حق ہے، نظر حق ہے، وہ بلندی والے کو بھی اتار دیتی ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں ہے نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر کر جاتی جب تم سے غسل کرایا جائے تو غسل کرلیا کرو، عبدالرزاق میں ہے کہ آنحضرت ﷺ حضرت حسن اور حضرت حسین ان الفاظ کے ساتھ پناہ میں دیتے دعا (اعیذ کما بکلمات اللہ التامتہ من کل شیطان وھامتہ ومن کل عین لامتہ) یعنی تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے بھرپور کلمات کی پناہ میں سونپتا ہوں ہر شیطان سے اور ہر ایک زہریلے جانور سے اور ہر ایک لگ جانے والی نظر سے اور فرماتے کہ حضرت ابراہیم ؑ بھی حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کو انہی الفاظ سے اللہ کی پناہ دیا کرتے تھے، یہ حدیث سنن میں اور بخاری شریف میں بھی ہے، ابن ماجہ میں ہے کہ سہل بن حنیف غسل کر رہے تھے عامر بن ربیعہ کہنے لگے میں نے تو آج تک ایسا بدن کسی پردہ نشین کا بھی نہیں دیکھا بس ذرا سی دیر میں وہ بیہوش ہو کر گرپڑے لوگوں نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ ان کی خبر لیجئے یہ تو بیہوش ہوگئے آپ نے فرمایا کسی پر تمہارا شک بھی ہے لوگوں نے کا کہاں عامر بن ربیعہ پر، آپ نے فرمایا تم میں سے کیوں کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے کہ اسے بہت اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ اس کے لئے برکت کی دعا کرے پھر پانی منگوا کر عامر سے فرمایا تم وضو کرو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور گھٹنے اور تہمبد کے اندر کا حصہ جسم دھو ڈالو۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا برتن کو اس کی پیٹھ کے پیچھے سے اوندھا دو ، نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت موجود ہے، حضرت ابو سعید فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ جنات کی اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب سورة معوذتیں نازل ہوئیں تو آپ نے انہیں لے لیا اور سب کو چھوڑ دیا (ابن ماجہ ترمذی نسائی) مسند وغیرہ میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے نبی صاحب ﷺ کیا آپ بیمار ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو جبرائیل ﷺ نے کہا دعا (بسم اللہ ارقیک من کل شئی یوذیک من شر کل نفس وعین واللہ یشفیک بسم اللہ ارقیک) بعض روایات میں کچھ الفاظ کا ہیر پھیر بھی ہے، بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ یقیناً نظر کا لگ جانا برحق ہے، مسند کی ایک حدیث میں اس کے بعد یوں بھی ہے کہ اس کا سبب شیطان ہے اور ابن آدم کا حسد ہے، مسند کی اور روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ شگون تین چیزوں میں ہے گھر گھوڑ اور عورت تو حضرت ابوہریرہ نے فرمایا پھر تو میں رسول اللہ ﷺ پر وہ کہوں گا جو آپ نے نہیں فرمایا ہاں میں نے حضور ﷺ سے یہ تو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا سب سے سچا شگون نیک فالی ہے اور نظر کا لگنا حق ہے، ترمذی وغیرہ میں ہے کہ حضرت اسماء ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ حضرت جعفر کے بچوں کو نظر لگ جایا کرتی ہے تو کیا میں کچھ دم کرا لیا کروں آپ نے فرمایا ہاں اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کر جانے والی ہوتی تو وہ نظر تھی، حضرت عائشہ کو بھی حضور ﷺ کا نظر بد سے دم کرنے کا حکم مروی ہے (ابن ماجہ) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نظر لگانے والے کو حکم کیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے اور جس کو نظر لگی ہے اسے اس پانی سے غسل کرایا جاتا تھا (احمد) اور حدیث میں ہے، نہیں ہے الو اور نظر حق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے مسند احمد میں بھی حضرت سہل اور حضرت عامر والا قصہ جو اوپر بیان ہوا قدرے تفصیل کے ساتھ مروی ہے، بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ یہ دونوں بزرگ غسل کے ارادے سے چلے اور حضرت عامر پانی میں غسل کے لئے اترے اور ان کا بدن دیکھ کر حضرت سہل کی نظر لگ گئی اور وہ وہیں پانی میں خرخراہٹ کرنے لگے میں نے تین مرتبہ آوازیں دیں لیکن جواب نہ ملا میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور واقعہ سنایا آپ خود تشریف لائے اور تھوڑے سے پانی میں کھچ کھچ کرتے ہوئے تہمبد اونچا اٹھائے ہوئے وہاں تک پہنچے اور ان کے سینے میں ہاتھ مارا اور دعا کی (اللھم اصرف عنہ حشرھا و بردھا و وصبھا) اے اللہ تو اس سے اس کی گرمی اور سردی اور تکلیف دور کر دے۔ مسند بزار میں ہے کہ میری امت کی قضاء و قدر کے بعد اکثر موت نظر سے ہوگی، فرماتے ہیں نظر حق ہے انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا تک میری امت کی اکثر ہلاکی اسی میں ہے، ایک اور صحیح سند سے بھی یہ روایت مروی ہے، فرمان رسالت ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی اور نہ الو کی وجہ سے بربادی کا یقین کرلینا کوئی واقعیت رکھتا ہے اور نہ حسد کوئی چیز ہے، ہاں نظر سچ ہے، ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل حضور ﷺ کے پاس آئے آپ اس وقت غمزدہ تھے جب پوچھا تو فرمایا حسن اور حسین کو نظر لگ گئی ہے، فرمایا یہ سچائی کے قابل چیز ہے نظر واقعی لگتی ہے، آپ نے یہ کلمات پڑھ کر انہیں پناہ میں کیوں نہ دیا ؟ حضور ﷺ نے پوچھا وہ کلمات کیا ہیں ؟ فرمایا یوں کہو اللھم ذا السلطان العظیم ذا المن القدیم ذا الوجہ الکریم ولی الکلمات التامات والدعوت المستجابات عاف الحسن والحسین من انفس الجن واعین الانس یعنی اے اللہ اے بہت بڑی بادشاہی والے اے زبردست قدیم احسانوں والے، اے بزرگ تر چہرے والے اے پورے کلموں والے اور اے دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دینے والے تو حسن اور حسین کو تمام جنات کی ہواؤں سے اور تمام انسان کی آنکھوں سے اپنی پناہ دے، حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھی وہیں دونوں بچے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے سامنے کھیلنے کودنے لگے توحضور ﷺ نے فرمایا لوگو اپنی جانوں کو اپنی بیویوں کو اور اپنی اولاد کو اسی پناہ کے ساتھ پناہ دیا کرو، اس جیسی اور کوئی پناہ کی دعا نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ جہاں یہ کافر اپنی حقارت بھری نظریں آپ پر ڈالتے ہیں وہاں اپنی طعنہ آمیز زبان بھی آپ پر کھولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو قرآن لانے میں مجنون ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے قرآن تو اللہ ان کی طرف سے تمام عالم کے لئے نصیحت نامہ ہے۔ الحمد للہ سورة نون کی تفسیم ختم ہوئی۔