Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Haaqqa
Tafsir Ibn Kathir · The Reality · 52 ayat · ayat 31–52 · Quran text →
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کردیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے، یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا حکم دے گا کہ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو ، حضرت منہال بن عمرو فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتہ بھی اس طرح اشارہ کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے، ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق ؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے، حضرت فضیل بن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہ دینے کا حکم ہوگا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول حضرت کعب احبار کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہوگا، حضرت ابن عباس اور ابن جریج فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے، حضرت عبداللہ بن عباس کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی، یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آجائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن بتاتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھلا دینے کی کسی کو رغبت دیتا تھا، یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا، اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور نبی ﷺ نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لئے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بیکار چیز کے جس کا نام (غسلین) ہے، یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام (زقوم) ہو، اور (غسلین) کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کردیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے، یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا حکم دے گا کہ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو ، حضرت منہال بن عمرو فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتہ بھی اس طرح اشارہ کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے، ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق ؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے، حضرت فضیل بن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہ دینے کا حکم ہوگا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول حضرت کعب احبار کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہوگا، حضرت ابن عباس اور ابن جریج فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے، حضرت عبداللہ بن عباس کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی، یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آجائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن بتاتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھلا دینے کی کسی کو رغبت دیتا تھا، یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا، اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور نبی ﷺ نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لئے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بیکار چیز کے جس کا نام (غسلین) ہے، یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام (زقوم) ہو، اور (غسلین) کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کردیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے، یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا حکم دے گا کہ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو ، حضرت منہال بن عمرو فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتہ بھی اس طرح اشارہ کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے، ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق ؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے، حضرت فضیل بن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہ دینے کا حکم ہوگا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول حضرت کعب احبار کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہوگا، حضرت ابن عباس اور ابن جریج فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے، حضرت عبداللہ بن عباس کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی، یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آجائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن بتاتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھلا دینے کی کسی کو رغبت دیتا تھا، یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا، اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور نبی ﷺ نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لئے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بیکار چیز کے جس کا نام (غسلین) ہے، یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام (زقوم) ہو، اور (غسلین) کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کردیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے، یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا حکم دے گا کہ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو ، حضرت منہال بن عمرو فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتہ بھی اس طرح اشارہ کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے، ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق ؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے، حضرت فضیل بن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہ دینے کا حکم ہوگا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول حضرت کعب احبار کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہوگا، حضرت ابن عباس اور ابن جریج فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے، حضرت عبداللہ بن عباس کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی، یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آجائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن بتاتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھلا دینے کی کسی کو رغبت دیتا تھا، یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا، اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور نبی ﷺ نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لئے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بیکار چیز کے جس کا نام (غسلین) ہے، یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام (زقوم) ہو، اور (غسلین) کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کردیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے، یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا حکم دے گا کہ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو ، حضرت منہال بن عمرو فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتہ بھی اس طرح اشارہ کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے، ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق ؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے، حضرت فضیل بن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہ دینے کا حکم ہوگا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول حضرت کعب احبار کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہوگا، حضرت ابن عباس اور ابن جریج فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے، حضرت عبداللہ بن عباس کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی، یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آجائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن بتاتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھلا دینے کی کسی کو رغبت دیتا تھا، یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا، اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور نبی ﷺ نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لئے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بیکار چیز کے جس کا نام (غسلین) ہے، یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام (زقوم) ہو، اور (غسلین) کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کردیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے، یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا حکم دے گا کہ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو ، حضرت منہال بن عمرو فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتہ بھی اس طرح اشارہ کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے، ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق ؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے، حضرت فضیل بن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہ دینے کا حکم ہوگا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول حضرت کعب احبار کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہوگا، حضرت ابن عباس اور ابن جریج فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے، حضرت عبداللہ بن عباس کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی، یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آجائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن بتاتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھلا دینے کی کسی کو رغبت دیتا تھا، یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا، اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور نبی ﷺ نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لئے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بیکار چیز کے جس کا نام (غسلین) ہے، یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام (زقوم) ہو، اور (غسلین) کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کردیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے، یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا حکم دے گا کہ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو ، حضرت منہال بن عمرو فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتہ بھی اس طرح اشارہ کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے، ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق ؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے، حضرت فضیل بن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہ دینے کا حکم ہوگا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول حضرت کعب احبار کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہوگا، حضرت ابن عباس اور ابن جریج فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے، حضرت عبداللہ بن عباس کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی، یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آجائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن بتاتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھلا دینے کی کسی کو رغبت دیتا تھا، یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا، اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور نبی ﷺ نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لئے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بیکار چیز کے جس کا نام (غسلین) ہے، یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام (زقوم) ہو، اور (غسلین) کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
ظاہر و باطن آیات الٰہی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول ﷺ پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لئے پسند فرما لیا ہے۔ رسول کریم سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں، اس کی اضافت حضور ﷺ کی طرف سے اس لئے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ ﷺ ہی ہیں۔ اسی لئے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورة تکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) ، یعنی یہ قول اس بزرگ رسول ﷺ کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار، اس سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں، اسی لئے اس کے بعد فرمایا تمہارے ساتھی یعنی محمد ﷺ مجنون نہیں بلکہ آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے، اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے، پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لئے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر اٰمین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے ؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے، حضرت عمر بن خطاب ؓ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کے پاس گیا دیکھا کہ آپ ﷺ مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا ہوگیا آپ ﷺ نے سورة الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ ﷺ نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ یہ قول رسول کریم کا ہے شاعر کا نہیں تم میں ایمان ہی کم ہے تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ ﷺ کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے، اب آپ ﷺ پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی، پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو حضرت عمر ؓ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ ؓ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ وللہ الحمد والمنہ
ظاہر و باطن آیات الٰہی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول ﷺ پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لئے پسند فرما لیا ہے۔ رسول کریم سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں، اس کی اضافت حضور ﷺ کی طرف سے اس لئے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ ﷺ ہی ہیں۔ اسی لئے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورة تکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) ، یعنی یہ قول اس بزرگ رسول ﷺ کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار، اس سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں، اسی لئے اس کے بعد فرمایا تمہارے ساتھی یعنی محمد ﷺ مجنون نہیں بلکہ آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے، اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے، پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لئے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر اٰمین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے ؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے، حضرت عمر بن خطاب ؓ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کے پاس گیا دیکھا کہ آپ ﷺ مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا ہوگیا آپ ﷺ نے سورة الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ ﷺ نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ یہ قول رسول کریم کا ہے شاعر کا نہیں تم میں ایمان ہی کم ہے تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ ﷺ کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے، اب آپ ﷺ پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی، پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو حضرت عمر ؓ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ ؓ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ وللہ الحمد والمنہ
ظاہر و باطن آیات الٰہی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول ﷺ پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لئے پسند فرما لیا ہے۔ رسول کریم سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں، اس کی اضافت حضور ﷺ کی طرف سے اس لئے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ ﷺ ہی ہیں۔ اسی لئے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورة تکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) ، یعنی یہ قول اس بزرگ رسول ﷺ کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار، اس سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں، اسی لئے اس کے بعد فرمایا تمہارے ساتھی یعنی محمد ﷺ مجنون نہیں بلکہ آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے، اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے، پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لئے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر اٰمین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے ؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے، حضرت عمر بن خطاب ؓ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کے پاس گیا دیکھا کہ آپ ﷺ مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا ہوگیا آپ ﷺ نے سورة الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ ﷺ نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ یہ قول رسول کریم کا ہے شاعر کا نہیں تم میں ایمان ہی کم ہے تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ ﷺ کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے، اب آپ ﷺ پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی، پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو حضرت عمر ؓ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ ؓ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ وللہ الحمد والمنہ
ظاہر و باطن آیات الٰہی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول ﷺ پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لئے پسند فرما لیا ہے۔ رسول کریم سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں، اس کی اضافت حضور ﷺ کی طرف سے اس لئے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ ﷺ ہی ہیں۔ اسی لئے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورة تکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) ، یعنی یہ قول اس بزرگ رسول ﷺ کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار، اس سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں، اسی لئے اس کے بعد فرمایا تمہارے ساتھی یعنی محمد ﷺ مجنون نہیں بلکہ آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے، اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے، پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لئے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر اٰمین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے ؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے، حضرت عمر بن خطاب ؓ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کے پاس گیا دیکھا کہ آپ ﷺ مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا ہوگیا آپ ﷺ نے سورة الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ ﷺ نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ یہ قول رسول کریم کا ہے شاعر کا نہیں تم میں ایمان ہی کم ہے تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ ﷺ کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے، اب آپ ﷺ پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی، پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو حضرت عمر ؓ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ ؓ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ وللہ الحمد والمنہ
ظاہر و باطن آیات الٰہی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول ﷺ پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لئے پسند فرما لیا ہے۔ رسول کریم سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں، اس کی اضافت حضور ﷺ کی طرف سے اس لئے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ ﷺ ہی ہیں۔ اسی لئے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورة تکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) ، یعنی یہ قول اس بزرگ رسول ﷺ کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار، اس سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں، اسی لئے اس کے بعد فرمایا تمہارے ساتھی یعنی محمد ﷺ مجنون نہیں بلکہ آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے، اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے، پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لئے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر اٰمین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے ؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے، حضرت عمر بن خطاب ؓ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کے پاس گیا دیکھا کہ آپ ﷺ مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا ہوگیا آپ ﷺ نے سورة الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ ﷺ نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ یہ قول رسول کریم کا ہے شاعر کا نہیں تم میں ایمان ہی کم ہے تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ ﷺ کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے، اب آپ ﷺ پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی، پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو حضرت عمر ؓ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ ؓ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ وللہ الحمد والمنہ
ظاہر و باطن آیات الٰہی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول ﷺ پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لئے پسند فرما لیا ہے۔ رسول کریم سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں، اس کی اضافت حضور ﷺ کی طرف سے اس لئے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ ﷺ ہی ہیں۔ اسی لئے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورة تکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) ، یعنی یہ قول اس بزرگ رسول ﷺ کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار، اس سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں، اسی لئے اس کے بعد فرمایا تمہارے ساتھی یعنی محمد ﷺ مجنون نہیں بلکہ آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے، اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے، پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لئے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر اٰمین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے ؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے، حضرت عمر بن خطاب ؓ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کے پاس گیا دیکھا کہ آپ ﷺ مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا ہوگیا آپ ﷺ نے سورة الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ ﷺ نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ یہ قول رسول کریم کا ہے شاعر کا نہیں تم میں ایمان ہی کم ہے تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ ﷺ کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے، اب آپ ﷺ پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی، پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو حضرت عمر ؓ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ ؓ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ وللہ الحمد والمنہ
ہدایت اور شفا قرآن حکیم یہاں فرمان باری ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کردیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آسکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے، پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب ﷺ سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لئے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ ﷺ کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ ﷺ کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ ﷺ کو عنایت فرما رکھی ہیں۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لئے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لئے ہدایت اور شفا ہے اور بےایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی، پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہوگی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہوگا، جیسے اور جگہ ہے، اسی طرح ہم اسے گنہگاروں کے دلوں میں اتارتے ہیں پھر وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ اور جگہ ہے (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54) 34۔ سبأ :54) ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے، پھر فرمایا یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے، پھر اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔ اللہ کے فضل سے سورة الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
ہدایت اور شفا قرآن حکیم یہاں فرمان باری ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کردیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آسکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے، پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب ﷺ سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لئے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ ﷺ کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ ﷺ کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ ﷺ کو عنایت فرما رکھی ہیں۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لئے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لئے ہدایت اور شفا ہے اور بےایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی، پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہوگی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہوگا، جیسے اور جگہ ہے، اسی طرح ہم اسے گنہگاروں کے دلوں میں اتارتے ہیں پھر وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ اور جگہ ہے (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54) 34۔ سبأ :54) ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے، پھر فرمایا یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے، پھر اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔ اللہ کے فضل سے سورة الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
ہدایت اور شفا قرآن حکیم یہاں فرمان باری ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کردیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آسکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے، پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب ﷺ سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لئے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ ﷺ کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ ﷺ کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ ﷺ کو عنایت فرما رکھی ہیں۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لئے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لئے ہدایت اور شفا ہے اور بےایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی، پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہوگی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہوگا، جیسے اور جگہ ہے، اسی طرح ہم اسے گنہگاروں کے دلوں میں اتارتے ہیں پھر وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ اور جگہ ہے (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54) 34۔ سبأ :54) ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے، پھر فرمایا یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے، پھر اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔ اللہ کے فضل سے سورة الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
ہدایت اور شفا قرآن حکیم یہاں فرمان باری ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کردیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آسکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے، پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب ﷺ سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لئے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ ﷺ کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ ﷺ کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ ﷺ کو عنایت فرما رکھی ہیں۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لئے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لئے ہدایت اور شفا ہے اور بےایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی، پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہوگی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہوگا، جیسے اور جگہ ہے، اسی طرح ہم اسے گنہگاروں کے دلوں میں اتارتے ہیں پھر وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ اور جگہ ہے (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54) 34۔ سبأ :54) ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے، پھر فرمایا یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے، پھر اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔ اللہ کے فضل سے سورة الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
ہدایت اور شفا قرآن حکیم یہاں فرمان باری ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کردیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آسکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے، پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب ﷺ سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لئے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ ﷺ کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ ﷺ کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ ﷺ کو عنایت فرما رکھی ہیں۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لئے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لئے ہدایت اور شفا ہے اور بےایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی، پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہوگی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہوگا، جیسے اور جگہ ہے، اسی طرح ہم اسے گنہگاروں کے دلوں میں اتارتے ہیں پھر وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ اور جگہ ہے (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54) 34۔ سبأ :54) ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے، پھر فرمایا یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے، پھر اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔ اللہ کے فضل سے سورة الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
ہدایت اور شفا قرآن حکیم یہاں فرمان باری ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کردیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آسکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے، پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب ﷺ سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لئے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ ﷺ کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ ﷺ کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ ﷺ کو عنایت فرما رکھی ہیں۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لئے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لئے ہدایت اور شفا ہے اور بےایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی، پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہوگی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہوگا، جیسے اور جگہ ہے، اسی طرح ہم اسے گنہگاروں کے دلوں میں اتارتے ہیں پھر وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ اور جگہ ہے (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54) 34۔ سبأ :54) ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے، پھر فرمایا یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے، پھر اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔ اللہ کے فضل سے سورة الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
ہدایت اور شفا قرآن حکیم یہاں فرمان باری ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کردیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آسکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے، پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب ﷺ سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لئے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ ﷺ کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ ﷺ کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ ﷺ کو عنایت فرما رکھی ہیں۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لئے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لئے ہدایت اور شفا ہے اور بےایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی، پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہوگی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہوگا، جیسے اور جگہ ہے، اسی طرح ہم اسے گنہگاروں کے دلوں میں اتارتے ہیں پھر وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ اور جگہ ہے (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54) 34۔ سبأ :54) ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے، پھر فرمایا یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے، پھر اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔ اللہ کے فضل سے سورة الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
ہدایت اور شفا قرآن حکیم یہاں فرمان باری ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کردیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آسکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے، پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب ﷺ سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لئے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ ﷺ کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ ﷺ کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ ﷺ کو عنایت فرما رکھی ہیں۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لئے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لئے ہدایت اور شفا ہے اور بےایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی، پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہوگی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہوگا، جیسے اور جگہ ہے، اسی طرح ہم اسے گنہگاروں کے دلوں میں اتارتے ہیں پھر وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ اور جگہ ہے (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54) 34۔ سبأ :54) ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے، پھر فرمایا یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے، پھر اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔ اللہ کے فضل سے سورة الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
ہدایت اور شفا قرآن حکیم یہاں فرمان باری ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کردیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آسکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے، پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب ﷺ سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لئے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ ﷺ کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ ﷺ کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ ﷺ کو عنایت فرما رکھی ہیں۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لئے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لئے ہدایت اور شفا ہے اور بےایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی، پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہوگی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہوگا، جیسے اور جگہ ہے، اسی طرح ہم اسے گنہگاروں کے دلوں میں اتارتے ہیں پھر وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ اور جگہ ہے (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54) 34۔ سبأ :54) ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے، پھر فرمایا یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے، پھر اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔ اللہ کے فضل سے سورة الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔