John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-A'raaf

Tafsir Ibn Kathir · The Heights · 206 ayat · ayat 91–120 · Quran text →

قوم شعیب کا شوق تباہی پورا ہوا اس قوم کی سرکشی بد باطنی ملاحظہ ہو کر مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانے کیلئے انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ شعیب ؑ کی اطاعت تمہیں غارت کر دے گی بڑے نقصان میں اتر جاؤ گے۔ ان مومنوں کے دلوں کو ڈرانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمانی عذاب بصورت زلزلہ زمین سے آیا اور انہیں سچ مچ لرزادیا اور غارت و برباد ہو کر خود ہی نقصان میں پھنس گئے۔ یہاں اس طرح بیان ہوا۔ سورة ہود میں بیان ہے کہ آسمانی کڑاکے کی آواز سے یہ ہلاک کئے گئے۔ وہاں بیان ہے کہ انہوں نے اپنے وطن سے نکل جانے کی دھمکی ایمان داروں کو دی تھی تو آسمانی ڈانٹ کی آواز نے ان کی آواز پست کردی اور ہمیشہ کیلئے یہ خاموش کردیئے گئے۔ سورة شعراء میں بیان ہے کہ بادل ان پر سے عذاب بن کر برسا۔ کیونکہ وہیں ذکر ہے کہ خود انہوں نے اپنے نبی سے کہا تھا کہ اگر سجے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرادو۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ تینوں عذاب ان پر ایک ساتھ آئے۔ ادھر ابر اٹھا جس سے شعلہ باری ہونے لگی، آگ برسنے لگی۔ ادھر تند اور سخت کڑاکے کی آواز آئی، ادھر زمین پر زلزلہ آیا۔ نیچے اوپر کے عذابوں سے دیکھتے ہی دیکھتے تہ وبالا کردیئے گئے، اپنی اپنی جگہ ڈھیر ہوگئے یا وہ وقت تھا کہ یہاں سے مومنوں کو نکالنا چاہتے تھے یا یہ وقت ہے کہ یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ کسی وقت یہاں یہ لوگ آباد بھی تھے یا مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ تم نقصان میں اترو گے یا یہ ہے کہ خود برباد ہوگئے۔

قوم شعیب کا شوق تباہی پورا ہوا اس قوم کی سرکشی بد باطنی ملاحظہ ہو کر مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانے کیلئے انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ شعیب ؑ کی اطاعت تمہیں غارت کر دے گی بڑے نقصان میں اتر جاؤ گے۔ ان مومنوں کے دلوں کو ڈرانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمانی عذاب بصورت زلزلہ زمین سے آیا اور انہیں سچ مچ لرزادیا اور غارت و برباد ہو کر خود ہی نقصان میں پھنس گئے۔ یہاں اس طرح بیان ہوا۔ سورة ہود میں بیان ہے کہ آسمانی کڑاکے کی آواز سے یہ ہلاک کئے گئے۔ وہاں بیان ہے کہ انہوں نے اپنے وطن سے نکل جانے کی دھمکی ایمان داروں کو دی تھی تو آسمانی ڈانٹ کی آواز نے ان کی آواز پست کردی اور ہمیشہ کیلئے یہ خاموش کردیئے گئے۔ سورة شعراء میں بیان ہے کہ بادل ان پر سے عذاب بن کر برسا۔ کیونکہ وہیں ذکر ہے کہ خود انہوں نے اپنے نبی سے کہا تھا کہ اگر سجے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرادو۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ تینوں عذاب ان پر ایک ساتھ آئے۔ ادھر ابر اٹھا جس سے شعلہ باری ہونے لگی، آگ برسنے لگی۔ ادھر تند اور سخت کڑاکے کی آواز آئی، ادھر زمین پر زلزلہ آیا۔ نیچے اوپر کے عذابوں سے دیکھتے ہی دیکھتے تہ وبالا کردیئے گئے، اپنی اپنی جگہ ڈھیر ہوگئے یا وہ وقت تھا کہ یہاں سے مومنوں کو نکالنا چاہتے تھے یا یہ وقت ہے کہ یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ کسی وقت یہاں یہ لوگ آباد بھی تھے یا مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ تم نقصان میں اترو گے یا یہ ہے کہ خود برباد ہوگئے۔

قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آچکنے کے بعد حضرت شعیب ؑ وہاں سے چلے اور بطور ڈانٹ ڈپٹ کے فرمایا کہ میں سبکدوش ہوچکا ہوں۔ اللہ کا پیغام سنا چکا، سمجھا بجھا چکا، غم خواری ہمدردی کرچکا۔ لیکن تم کافر کے کافر ہی رہے اب مجھے کیا پڑی کہ تمہارے افسوس میں اپنی جان ہلکان کروں ؟

ادوارماضی اگلی امتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے رسول آئے اور ان کے انکار پر وہ امتیں مختلف بلاؤں میں مبتلا کی گئیں مثلاً بیماریاں، فقیری، مفلسی، تنگی۔ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اکڑنا چھوڑ دیں اور اس کے سامنے جھک جائیں۔ مصیبتوں کے ٹالنے کی دعائیں کریں اور اس کے رسول کی مان لیں۔ لیکن انہوں نے اس موقعہ کو ہاتھ سے نکال دیا باوجود بری حالت ہونے کے دل کا کفر نہ ٹوتا، اپنی ضد سے نہ ہٹے تو ہم نے دوسری طرح پھر ایک موقہ دیا۔ سختی کو نرمی سے، برائی کو بھلائی سے، بیماری کو تندرستی سے، فقیری کو امیری سے بدل دیا تاکہ شکر کریں اور ہماری حکمرانی کے قائل ہوجائیں لیکن انہوں نے اس موقعہ سے بھی فائدہ نہ اٹھایا، جیسے جیسے بڑھے ویسے ویسے کفر میں پھنسے، بد مستی میں اور بڑھے اور مغرور ہوگئے اور کہنے لگے کہ یہ زمانہ کے اتفاقات ہیں۔ پہلے سے یہی ہوتا چلا آیا ہے کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں بڑی۔ زمانہ ہمیشہ ایک حالت پر نہیں رہتا، الغرض اتفاق پر محمول کر کے معمولی سی بات سمجھ کر دونوں موقع ٹال دیئے۔ ایمان والے دونوں حالتوں میں عبرت پکڑتے ہیں۔ مصیبت پر صبر، راحت پر شکر ان کا شیوہ ہوتا ہے، بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مومن پر تعجب ہے اس کی دونوں حالتیں انجام کے لحاظ سے اس کیلئے بہتر ہوتی ہیں۔ یہ دکھ پر صبر کرتا ہے، انجام بہتر ہوتا ہے، سکھ پر شکر کرتا ہے، نیکیاں پاتا ہے، پس مومن رنج و راحت دونوں میں اپنی آزمائش کو سمجھ لیتا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے بلاؤں کی وجہ سے مومن کے گناہ بالکل دور ہوجاتے ہیں اور وہ پاک صاف ہوجاتا ہے۔ ہاں منافق کی مثال گدھے جیسی ہے جسے نہیں معلوم کہ کیوں باندھا گیا اور کیوں کھولا گیا ؟ (اوکمال قال) پس ان لوگوں کو اس کے بعد اللہ کے عذاب نے اچانک آپکڑا یہ محض بیخبر تھے اپنی خرمستیوں میں لگے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اچانک موت مومن کے لئے رحمت ہے اور کافروں کے لئے حسرت ہے۔

ادوارماضی اگلی امتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے رسول آئے اور ان کے انکار پر وہ امتیں مختلف بلاؤں میں مبتلا کی گئیں مثلاً بیماریاں، فقیری، مفلسی، تنگی۔ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اکڑنا چھوڑ دیں اور اس کے سامنے جھک جائیں۔ مصیبتوں کے ٹالنے کی دعائیں کریں اور اس کے رسول کی مان لیں۔ لیکن انہوں نے اس موقعہ کو ہاتھ سے نکال دیا باوجود بری حالت ہونے کے دل کا کفر نہ ٹوتا، اپنی ضد سے نہ ہٹے تو ہم نے دوسری طرح پھر ایک موقہ دیا۔ سختی کو نرمی سے، برائی کو بھلائی سے، بیماری کو تندرستی سے، فقیری کو امیری سے بدل دیا تاکہ شکر کریں اور ہماری حکمرانی کے قائل ہوجائیں لیکن انہوں نے اس موقعہ سے بھی فائدہ نہ اٹھایا، جیسے جیسے بڑھے ویسے ویسے کفر میں پھنسے، بد مستی میں اور بڑھے اور مغرور ہوگئے اور کہنے لگے کہ یہ زمانہ کے اتفاقات ہیں۔ پہلے سے یہی ہوتا چلا آیا ہے کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں بڑی۔ زمانہ ہمیشہ ایک حالت پر نہیں رہتا، الغرض اتفاق پر محمول کر کے معمولی سی بات سمجھ کر دونوں موقع ٹال دیئے۔ ایمان والے دونوں حالتوں میں عبرت پکڑتے ہیں۔ مصیبت پر صبر، راحت پر شکر ان کا شیوہ ہوتا ہے، بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مومن پر تعجب ہے اس کی دونوں حالتیں انجام کے لحاظ سے اس کیلئے بہتر ہوتی ہیں۔ یہ دکھ پر صبر کرتا ہے، انجام بہتر ہوتا ہے، سکھ پر شکر کرتا ہے، نیکیاں پاتا ہے، پس مومن رنج و راحت دونوں میں اپنی آزمائش کو سمجھ لیتا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے بلاؤں کی وجہ سے مومن کے گناہ بالکل دور ہوجاتے ہیں اور وہ پاک صاف ہوجاتا ہے۔ ہاں منافق کی مثال گدھے جیسی ہے جسے نہیں معلوم کہ کیوں باندھا گیا اور کیوں کھولا گیا ؟ (اوکمال قال) پس ان لوگوں کو اس کے بعد اللہ کے عذاب نے اچانک آپکڑا یہ محض بیخبر تھے اپنی خرمستیوں میں لگے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اچانک موت مومن کے لئے رحمت ہے اور کافروں کے لئے حسرت ہے۔

عوام کی فطرت لوگوں سے عام طور پر جو غلطی ہو رہی ہے اس کا ذکر ہے کہ عموماً ایمان سے اور نیک کاموں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ صرف حضرت یونس ؑ کی پوری بستی ایمان لائی تھی اور وہ بھی اس وقت جبکہ عذابوں کو دیکھ لیا اور یہ بھی صرف ان کے ساتھ ہی ہوا کہ آئے ہوئے عذاب واپس کردیئے گئے اور دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچ گئے یہ لوگ ایک لاکھ بلکہ زائد تھے۔ اپنی پوری عمر تک پہنچے اور دنیوی فائدے بھی حاصل کرتے رہے تو فرماتا ہے کہ اگر نبیوں کے آنے پر ان کے امتی صدق دل سے ان کی تابعداری کرتے، برائیوں سے رک جاتے اور نیکیاں کرنے لگتے تو ہم ان پر کشادہ طور پر بارشیں برساتے اور زمین سے پیداوار اگاتے۔ لیکن انہوں نے رسولوں کی نہ مانی بلکہ انہیں جھوٹا سمجھا اور روبرو جھوٹا کہا۔ برائیوں سے حرام کاریوں سے ایک انچ نہ ہٹے، اس وجہ سے تباہ کردیے گئے۔ کیا کافروں کو اس بات کا خوف نہیں کہ راتوں رات ان کی بیخبر ی میں ان کے سوتے ہوئے عذاب الٰہی آجائے اور یہ سوئے کے سوئے رہ جائیں ؟ کیا انہیں ڈر نہیں لگتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دن دہاڑے ان کے کھیل کود اور غفلت کی حالت میں اللہ جل جلالہ کا عذاب آجائے ؟ اللہ کے عذابوں سے، اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے، اس کی بےپایاں قدرت کے اندازے سے غافل وہی ہوتے ہیں جو اپنے آپ بربادی کی طرف بڑھے چلے جاتے ہوں۔ امام حسن بصری ؒ کا قول ہے کہ مومن نیکیاں کرتا ہے اور پھر ڈرتا رہتا ہے اور فاسق فاجر شخص برائیاں کرتا ہے اور بےخوف رہتا ہے۔ نتیجے میں مومن امن پاتا ہے اور فاجر پیس دیا جاتا ہے۔

عوام کی فطرت لوگوں سے عام طور پر جو غلطی ہو رہی ہے اس کا ذکر ہے کہ عموماً ایمان سے اور نیک کاموں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ صرف حضرت یونس ؑ کی پوری بستی ایمان لائی تھی اور وہ بھی اس وقت جبکہ عذابوں کو دیکھ لیا اور یہ بھی صرف ان کے ساتھ ہی ہوا کہ آئے ہوئے عذاب واپس کردیئے گئے اور دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچ گئے یہ لوگ ایک لاکھ بلکہ زائد تھے۔ اپنی پوری عمر تک پہنچے اور دنیوی فائدے بھی حاصل کرتے رہے تو فرماتا ہے کہ اگر نبیوں کے آنے پر ان کے امتی صدق دل سے ان کی تابعداری کرتے، برائیوں سے رک جاتے اور نیکیاں کرنے لگتے تو ہم ان پر کشادہ طور پر بارشیں برساتے اور زمین سے پیداوار اگاتے۔ لیکن انہوں نے رسولوں کی نہ مانی بلکہ انہیں جھوٹا سمجھا اور روبرو جھوٹا کہا۔ برائیوں سے حرام کاریوں سے ایک انچ نہ ہٹے، اس وجہ سے تباہ کردیے گئے۔ کیا کافروں کو اس بات کا خوف نہیں کہ راتوں رات ان کی بیخبر ی میں ان کے سوتے ہوئے عذاب الٰہی آجائے اور یہ سوئے کے سوئے رہ جائیں ؟ کیا انہیں ڈر نہیں لگتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دن دہاڑے ان کے کھیل کود اور غفلت کی حالت میں اللہ جل جلالہ کا عذاب آجائے ؟ اللہ کے عذابوں سے، اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے، اس کی بےپایاں قدرت کے اندازے سے غافل وہی ہوتے ہیں جو اپنے آپ بربادی کی طرف بڑھے چلے جاتے ہوں۔ امام حسن بصری ؒ کا قول ہے کہ مومن نیکیاں کرتا ہے اور پھر ڈرتا رہتا ہے اور فاسق فاجر شخص برائیاں کرتا ہے اور بےخوف رہتا ہے۔ نتیجے میں مومن امن پاتا ہے اور فاجر پیس دیا جاتا ہے۔

عوام کی فطرت لوگوں سے عام طور پر جو غلطی ہو رہی ہے اس کا ذکر ہے کہ عموماً ایمان سے اور نیک کاموں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ صرف حضرت یونس ؑ کی پوری بستی ایمان لائی تھی اور وہ بھی اس وقت جبکہ عذابوں کو دیکھ لیا اور یہ بھی صرف ان کے ساتھ ہی ہوا کہ آئے ہوئے عذاب واپس کردیئے گئے اور دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچ گئے یہ لوگ ایک لاکھ بلکہ زائد تھے۔ اپنی پوری عمر تک پہنچے اور دنیوی فائدے بھی حاصل کرتے رہے تو فرماتا ہے کہ اگر نبیوں کے آنے پر ان کے امتی صدق دل سے ان کی تابعداری کرتے، برائیوں سے رک جاتے اور نیکیاں کرنے لگتے تو ہم ان پر کشادہ طور پر بارشیں برساتے اور زمین سے پیداوار اگاتے۔ لیکن انہوں نے رسولوں کی نہ مانی بلکہ انہیں جھوٹا سمجھا اور روبرو جھوٹا کہا۔ برائیوں سے حرام کاریوں سے ایک انچ نہ ہٹے، اس وجہ سے تباہ کردیے گئے۔ کیا کافروں کو اس بات کا خوف نہیں کہ راتوں رات ان کی بیخبر ی میں ان کے سوتے ہوئے عذاب الٰہی آجائے اور یہ سوئے کے سوئے رہ جائیں ؟ کیا انہیں ڈر نہیں لگتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دن دہاڑے ان کے کھیل کود اور غفلت کی حالت میں اللہ جل جلالہ کا عذاب آجائے ؟ اللہ کے عذابوں سے، اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے، اس کی بےپایاں قدرت کے اندازے سے غافل وہی ہوتے ہیں جو اپنے آپ بربادی کی طرف بڑھے چلے جاتے ہوں۔ امام حسن بصری ؒ کا قول ہے کہ مومن نیکیاں کرتا ہے اور پھر ڈرتا رہتا ہے اور فاسق فاجر شخص برائیاں کرتا ہے اور بےخوف رہتا ہے۔ نتیجے میں مومن امن پاتا ہے اور فاجر پیس دیا جاتا ہے۔

عوام کی فطرت لوگوں سے عام طور پر جو غلطی ہو رہی ہے اس کا ذکر ہے کہ عموماً ایمان سے اور نیک کاموں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ صرف حضرت یونس ؑ کی پوری بستی ایمان لائی تھی اور وہ بھی اس وقت جبکہ عذابوں کو دیکھ لیا اور یہ بھی صرف ان کے ساتھ ہی ہوا کہ آئے ہوئے عذاب واپس کردیئے گئے اور دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچ گئے یہ لوگ ایک لاکھ بلکہ زائد تھے۔ اپنی پوری عمر تک پہنچے اور دنیوی فائدے بھی حاصل کرتے رہے تو فرماتا ہے کہ اگر نبیوں کے آنے پر ان کے امتی صدق دل سے ان کی تابعداری کرتے، برائیوں سے رک جاتے اور نیکیاں کرنے لگتے تو ہم ان پر کشادہ طور پر بارشیں برساتے اور زمین سے پیداوار اگاتے۔ لیکن انہوں نے رسولوں کی نہ مانی بلکہ انہیں جھوٹا سمجھا اور روبرو جھوٹا کہا۔ برائیوں سے حرام کاریوں سے ایک انچ نہ ہٹے، اس وجہ سے تباہ کردیے گئے۔ کیا کافروں کو اس بات کا خوف نہیں کہ راتوں رات ان کی بیخبر ی میں ان کے سوتے ہوئے عذاب الٰہی آجائے اور یہ سوئے کے سوئے رہ جائیں ؟ کیا انہیں ڈر نہیں لگتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دن دہاڑے ان کے کھیل کود اور غفلت کی حالت میں اللہ جل جلالہ کا عذاب آجائے ؟ اللہ کے عذابوں سے، اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے، اس کی بےپایاں قدرت کے اندازے سے غافل وہی ہوتے ہیں جو اپنے آپ بربادی کی طرف بڑھے چلے جاتے ہوں۔ امام حسن بصری ؒ کا قول ہے کہ مومن نیکیاں کرتا ہے اور پھر ڈرتا رہتا ہے اور فاسق فاجر شخص برائیاں کرتا ہے اور بےخوف رہتا ہے۔ نتیجے میں مومن امن پاتا ہے اور فاجر پیس دیا جاتا ہے۔

گناہوں میں ڈوبے لوگ ؟ ارشاد ہے کہ ایک گروہ نے ہمارا مقابلہ کیا اور ہم نے انہیں تاخت و تاراج کیا۔ دوسرا گروہ ان کے قائم مقام ہوا تو کیا اس پر بھی یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ اگر وہ بداعمالیاں کریں گے تو اپنے سے اگلوں کی طرح کھو دیئے جائیں گے جیسے فرمان ہے آیت (اَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ يَمْشُوْنَ فِيْ مَسٰكِنِهِمْ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى01208) 20۔ طه :128) یعنی کیا انہیں اب تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی آباد بستیاں اجاڑ کر رکھ دیں جن کے مکانوں میں اب یہ رہتے سہتے ہیں۔ اگر یہ عقل مند ہوتے تو ان کے لئے بہت سی عبرتیں تھیں اور اس بیان کے بعد کی آیت میں ہے کہ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ کیا یہ سن نہیں رہے ؟ ایک آیت میں فرمایا تم اس سے پہلے پورے یقین سے کہتے تھے کہ تمہیں زوال آنے کا ہی نہیں حالانکہ تم جن کے گھروں میں تھے وہ خود بھی اپنے مظالم کے سبب تباہ کردیئے گئے تھے۔ خالی گھر رہ گئے۔ ایک اور آیت میں ہے آیت (وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِءْيًا 74؀) 19۔ مریم :74) ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کردیں نہ ان میں سے اب کوئی نظر آئے نہ کسی کی آواز سنائی دے اور آیت میں ہے کہ وہ لوگ تو ان سے زیادہ مست تھے، مال دار تھے، عیش و عشرت میں تھے، راحت و آرام میں تھے، اوپر سے ابر برستا تھا نیچے سے چشمے بہتے تھے لیکن گناہوں میں ڈوبے رہے کہ آخر تہس نہس ہوگئے اور دوسرے لوگ ان کے قائم مقام آئے۔ عادیوں کی ہلاکت کا بیان فرما کر ارشاد ہوا کہ ایسے عذاب اچانک آگئے کہ ان کے وجود کی دھجیاں اڑ گئیں، کھنڈر کھڑے رہ گئے اور کسی چیز کا نام و نشان نہ بچا۔ مجرموں کا یہی حال ہوتا ہے۔ حالانکہ دنیوی وجاہت بھی ان کے پاس تھی آنکھ، کان، ھاتھ سب تھا لیکن اللہ جل شانہ کی باتوں کا تمسخر کرنے پر اور ان کے انکار پر جب عذاب آیا تو حیران و ششدر رہ گئے، نہ عقل آئی نہ اسباب بچے۔ اپنے آس پاس کی ویران بستیاں دیکھ کر عبرت حاصل کرو۔ اگلوں نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کس طرح برباد ہوئے ؟ تم تو ابھی تک ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے۔ تم سے پہلے کے منکروں پر میرے عذاب آئے انہیں غور سے سنو۔ ظالموں کی بستیاں میں نے الٹ دیں اور ان کے محلات کھنڈر بنا دیئے۔ زمین میں چل پھر کر، آنکھیں کھول کر، کان لگا کر ذرا عبرت حاصل کرو۔ جس کی آنکھیں نہ ہوں وہی اندھا نہیں بلکہ سچ مچ اندھا وہ ہے جس کی دلی آنکھیں بیکار ہوں۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی مذاق اڑائے گئے لیکن نتیجہ یہی ہوا کہ ایسے مذاق کرنے والوں کا نشان مٹ گیا۔ ایسے گھیرے آگئے کہ ایک بھی نہ بچا۔ اللہ تعالیٰ کی باتیں سچی ہیں، اس کے وعدے اٹل ہیں وہ ضرور اپنے دوستوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو نیچا دکھاتا ہے۔

عہد شکن لوگوں کی طے شدہ سزا پہلے قوم نوح، ہود، صالح، لوط اور قوم شعیب کا بیان گذر چکا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ ان سب کے پاس ہمارے رسول حق لے کر پہنچے، معجزے دکھائے، سمجھایا، بجھایا، دلیلیں دیں لیکن وہ نہ مانے اور اپنی بد عادتوں سے باز نہ آئے۔ جس کی پاداش میں ہلاک ہوگئے، صرف ماننے والے بچ گئے۔ اللہ کا طریقہ اسی طرح جاری ہے کہ جب تک رسول نہ آجائیں، خبردار نہ کردیئے جائیں عذاب نہیں دیئے جاتے، ہم ظالم نہیں لیکن جبکہ لوگ خود ظلم پر کمر کس لیں تو پھر ہمارے عذاب انہیں آ پکڑتے ہیں۔ ان سب نے جن چیزوں کا انکار کردیا تھا ان پر باوجود دلیلیں دیکھ لینے کے بھی ایمان نہ لائے۔ آیت (بما کذبوا) میں " ب " سببیہ ہے جیسے آیت (واذا سمعوا) کے پارے کے آخر میں فرمایا ہے کہ تم کیا جانو ؟ یہ لوگ تو معجزے آنے پر بھی ایمان نہ لائیں گے، ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے جیسے کہ یہ اس قرآن پر پہلی بار ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں بھٹکتے ہوئے جھوڑ دیں گے، یہاں بھی فرمان ہے کہ کفار کے دلوں پر اسی طرح ہم مہریں لگا دیا کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر بد عہد ہیں بلکہ عموماً فاسق ہیں۔ یہ عہد وہ ہے جو روز ازل میں لیا گیا اور اسی پر پیدا کئے گئے اسی فطرت اور جبلت میں رکھا گیا اسی کی تاکید انبیاء (علیہم السلام) کرتے کرتے رہے۔ لیکن انہوں نے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا یا مطلق پروا نہ کی اور اس عہد کے خلاف غیر اللہ کی پرستش شروع کردی۔ اللہ کو مالک خالق اور لائق عبادت مان کر آئے تھے لیکن یہاں اس کے سراسر خلاف کرنے لگے اور بےدلیل، خلاف عقل و نقل، خلاف فطرت اور خلاف شرع، اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت میں لگ گئے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد اور یکطرفہ پیدا کیا لیکن شیطان نے آ کر انہیں بہکا دیا اور میری حلال کردہ چیزین ان پر حرام کردیں۔ بخاری و مسلم میں ہے ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اسے اس کے ماں باپ یہودی نصرانی مجوسی بنا لیتے ہیں۔ خود قرآن کریم میں ہے ہم نے تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے تھے سب کی طرف یہی وحی کی تھی کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اے دنیا کے لوگو تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو۔ اور آیت میں ہے تو اپنے سے پہلے کے رسولوں سے دریافت کرلو کیا ہم نے اپنے سوا اور معبود ان کے لئے مقرر کئے تھے ؟ اور فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلٰلَةُ ۭ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ 36؀) 16۔ النحل :36) ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ لوگو صرف اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ اس جملے کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ چونکہ پہلے ہی سے اللہ کے علم میں یہ بات مقرر ہوگئی تھی کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا۔ یہی ہو کر رہا کہ باوجود دلائل سامنے آجانے کے ایمان نہ لائے۔ میثاق والے دن گو یہ ایمان قبول کر بیٹھے لیکن ان کے دلوں کی حالت اللہ جل شانہ کو معلوم تھی کہ ان کا ایمان جبراً اور ناخوشی سے ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ یہ اگر دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تو پھر بھی وہی کام نئے سرے سے کرنے لگیں گے جن سے انہیں روکا گیا ہے۔

عہد شکن لوگوں کی طے شدہ سزا پہلے قوم نوح، ہود، صالح، لوط اور قوم شعیب کا بیان گذر چکا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ ان سب کے پاس ہمارے رسول حق لے کر پہنچے، معجزے دکھائے، سمجھایا، بجھایا، دلیلیں دیں لیکن وہ نہ مانے اور اپنی بد عادتوں سے باز نہ آئے۔ جس کی پاداش میں ہلاک ہوگئے، صرف ماننے والے بچ گئے۔ اللہ کا طریقہ اسی طرح جاری ہے کہ جب تک رسول نہ آجائیں، خبردار نہ کردیئے جائیں عذاب نہیں دیئے جاتے، ہم ظالم نہیں لیکن جبکہ لوگ خود ظلم پر کمر کس لیں تو پھر ہمارے عذاب انہیں آ پکڑتے ہیں۔ ان سب نے جن چیزوں کا انکار کردیا تھا ان پر باوجود دلیلیں دیکھ لینے کے بھی ایمان نہ لائے۔ آیت (بما کذبوا) میں " ب " سببیہ ہے جیسے آیت (واذا سمعوا) کے پارے کے آخر میں فرمایا ہے کہ تم کیا جانو ؟ یہ لوگ تو معجزے آنے پر بھی ایمان نہ لائیں گے، ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے جیسے کہ یہ اس قرآن پر پہلی بار ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں بھٹکتے ہوئے جھوڑ دیں گے، یہاں بھی فرمان ہے کہ کفار کے دلوں پر اسی طرح ہم مہریں لگا دیا کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر بد عہد ہیں بلکہ عموماً فاسق ہیں۔ یہ عہد وہ ہے جو روز ازل میں لیا گیا اور اسی پر پیدا کئے گئے اسی فطرت اور جبلت میں رکھا گیا اسی کی تاکید انبیاء (علیہم السلام) کرتے کرتے رہے۔ لیکن انہوں نے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا یا مطلق پروا نہ کی اور اس عہد کے خلاف غیر اللہ کی پرستش شروع کردی۔ اللہ کو مالک خالق اور لائق عبادت مان کر آئے تھے لیکن یہاں اس کے سراسر خلاف کرنے لگے اور بےدلیل، خلاف عقل و نقل، خلاف فطرت اور خلاف شرع، اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت میں لگ گئے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد اور یکطرفہ پیدا کیا لیکن شیطان نے آ کر انہیں بہکا دیا اور میری حلال کردہ چیزین ان پر حرام کردیں۔ بخاری و مسلم میں ہے ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اسے اس کے ماں باپ یہودی نصرانی مجوسی بنا لیتے ہیں۔ خود قرآن کریم میں ہے ہم نے تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے تھے سب کی طرف یہی وحی کی تھی کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اے دنیا کے لوگو تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو۔ اور آیت میں ہے تو اپنے سے پہلے کے رسولوں سے دریافت کرلو کیا ہم نے اپنے سوا اور معبود ان کے لئے مقرر کئے تھے ؟ اور فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلٰلَةُ ۭ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ 36؀) 16۔ النحل :36) ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ لوگو صرف اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ اس جملے کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ چونکہ پہلے ہی سے اللہ کے علم میں یہ بات مقرر ہوگئی تھی کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا۔ یہی ہو کر رہا کہ باوجود دلائل سامنے آجانے کے ایمان نہ لائے۔ میثاق والے دن گو یہ ایمان قبول کر بیٹھے لیکن ان کے دلوں کی حالت اللہ جل شانہ کو معلوم تھی کہ ان کا ایمان جبراً اور ناخوشی سے ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ یہ اگر دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تو پھر بھی وہی کام نئے سرے سے کرنے لگیں گے جن سے انہیں روکا گیا ہے۔

نابکار لوگوں کا تذکرہ۔ انبیاء اور مومنین پر نظر کرم جن رسولون کا ذکر گذر چکا ہے یعنی نوح، ہود، صالح، لوط، شعیب صلوات اللہ وسلامہ علیھم وعلی سائر الانبیاء اجمعین کے بعد ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کو اپنی دلیلیں عطا فرما کر بادشاہ مصر (فرعون) اور اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ لیکن انہوں نے بھی جھٹلایا اور ظلم و زیادتی کی اور صاف انکار کردیا حالانکہ ان کے دلوں میں یقین گھر کرچکا تھا۔ اب آپ دیکھ لو کہ اللہ کی راہ سے رکنے والوں اور اس کے رسولوں کا انکار کرنے والوں کا کیا انجام ہوا ؟ وہ مع اپنی قوم کے ڈبو دیئے گئے اور پھر لطف یہ ہے کہ مومنوں کے سامنے بےکسی کی پکڑ میں پکڑ لئے گئے تاکہ ان کے دل ٹھنڈے ہوں اور عبرت ہو۔

موسیٰ ؑ اور فرعون حضرت موسیٰ ؑ کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم نے فرمایا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا رسول ہوں۔ جو تمام عالم کا خالق ومالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں " ب " اور " علی " یہ متعاقب ہوا کرتے ہیں جیسے رمیت بالقوس اور رمیت علی القوس وغیرہ۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں حقیقی کے معنی حریض کے ہیں۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ مجھ پر واجب اور حق ہے کہ اللہ ذوالمنین کا نام لے کر وہی خبر دوں جو حق و صداقت والی ہو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی عظمت سے واقف ہوں۔ میں اپنی صداقت کی الٰہی دلیل بھی ساتھ ہی لایا ہوں۔ تو قوم بنی اسرائیل کو اپنے مظام سے آزاد کر دے، انہیں اپنی زبردستی کی غلامی سے نکال دے، انہیں ان کے رب کی عبادت کرنے دے، یہ ایک زبردست بزرگ پیغمبر کی نسل سے ہیں یعنی حضرت یعقوب بن اسحاق بن حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اولاد ہیں۔ فرعون نے کہا میں تجھے سچا نہیں سمجھتا نہ تیری طلب پوری کروں گا اور اگر تو اپنے دعوے میں واقعہ ہی سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کر۔

موسیٰ ؑ اور فرعون حضرت موسیٰ ؑ کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم نے فرمایا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا رسول ہوں۔ جو تمام عالم کا خالق ومالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں " ب " اور " علی " یہ متعاقب ہوا کرتے ہیں جیسے رمیت بالقوس اور رمیت علی القوس وغیرہ۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں حقیقی کے معنی حریض کے ہیں۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ مجھ پر واجب اور حق ہے کہ اللہ ذوالمنین کا نام لے کر وہی خبر دوں جو حق و صداقت والی ہو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی عظمت سے واقف ہوں۔ میں اپنی صداقت کی الٰہی دلیل بھی ساتھ ہی لایا ہوں۔ تو قوم بنی اسرائیل کو اپنے مظام سے آزاد کر دے، انہیں اپنی زبردستی کی غلامی سے نکال دے، انہیں ان کے رب کی عبادت کرنے دے، یہ ایک زبردست بزرگ پیغمبر کی نسل سے ہیں یعنی حضرت یعقوب بن اسحاق بن حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اولاد ہیں۔ فرعون نے کہا میں تجھے سچا نہیں سمجھتا نہ تیری طلب پوری کروں گا اور اگر تو اپنے دعوے میں واقعہ ہی سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کر۔

موسیٰ ؑ اور فرعون حضرت موسیٰ ؑ کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم نے فرمایا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا رسول ہوں۔ جو تمام عالم کا خالق ومالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں " ب " اور " علی " یہ متعاقب ہوا کرتے ہیں جیسے رمیت بالقوس اور رمیت علی القوس وغیرہ۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں حقیقی کے معنی حریض کے ہیں۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ مجھ پر واجب اور حق ہے کہ اللہ ذوالمنین کا نام لے کر وہی خبر دوں جو حق و صداقت والی ہو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی عظمت سے واقف ہوں۔ میں اپنی صداقت کی الٰہی دلیل بھی ساتھ ہی لایا ہوں۔ تو قوم بنی اسرائیل کو اپنے مظام سے آزاد کر دے، انہیں اپنی زبردستی کی غلامی سے نکال دے، انہیں ان کے رب کی عبادت کرنے دے، یہ ایک زبردست بزرگ پیغمبر کی نسل سے ہیں یعنی حضرت یعقوب بن اسحاق بن حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اولاد ہیں۔ فرعون نے کہا میں تجھے سچا نہیں سمجھتا نہ تیری طلب پوری کروں گا اور اگر تو اپنے دعوے میں واقعہ ہی سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کر۔

عصائے موسیٰ اور فرعون آپ نے فرعون کی اس طلب پر اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دی جو بہت بڑا سانپ بن گئی اور منہ پھاڑے فرعون کی طرف لپکی، وہ مارے خوف کے تخت پر سے کود گیا اور فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ اللہ کے لئے اسے روک، اس نے اس قدر اپنا منہ کھولا تھا کہ نیچے کا جبڑا تو زمین پر تھا اور اوپر کا جبڑا محل کی بلندی پر۔ خوف کے مارے فرعون کی ہوا نکل گئی اور چیخنے لگا کہ موسیٰ اسے روک لے، میں ایمان لاتا ہوں اور اقرار کرتا ہوں کہ بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ کر دونگا۔ حضرت موسیٰ نے اسی وقت اس پر ہاتھ رکھا اور اسی وقت لکڑی جیسی لکڑی بن گیا۔ حضرت وہب فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کو دیھکتے ہی فرعون کہنے لگا میں تجھے پہچانتا ہوں۔ آپ نے فرمایا یقینا اس نے کہا تو نے بچپن ہمارے گھر کے ٹکڑوں پر ہی تو گذارا ہے۔ اس کا جواب حضرت موسیٰ دے ہی رہے تھے کہ اس نے کہا اسے گرفتار کرلو۔ آپ نے جھٹ سے اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی جس نے سانپ بن کر ان پر حملہ کردیا اس بد حواسی میں ایک دوسرے کو کچلتے اور قتل کرتے ہوئے وہ سب کے سب بھاگے چناچہ پچیس ہزار آدمی اسی ہنگامے میں ایک دوسرے کے ہاتھوں مارے گئے اور فرعون سیدھا اپنے گھر میں گھس گیا لیکن اس واقعہ کے بیان کی سند میں غرابت ہے واللہ اعلم۔ اسی طرح دوسرا معجزہ آپ نے یہ ظاہر کیا کہ اپنا ہاتھ اپنی چادر میں ڈال کر نکالا تو بغیر اس کے کہ کوئی روگ یا برص یا داغ ہو وہ سفید چمکتا ہوا بن کر نکل آیا جسے ہر ایک نے دیکھا پھر ہاتھ اندر کیا تو جیسا تھا ویسا ہی ہوگیا۔

عصائے موسیٰ اور فرعون آپ نے فرعون کی اس طلب پر اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دی جو بہت بڑا سانپ بن گئی اور منہ پھاڑے فرعون کی طرف لپکی، وہ مارے خوف کے تخت پر سے کود گیا اور فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ اللہ کے لئے اسے روک، اس نے اس قدر اپنا منہ کھولا تھا کہ نیچے کا جبڑا تو زمین پر تھا اور اوپر کا جبڑا محل کی بلندی پر۔ خوف کے مارے فرعون کی ہوا نکل گئی اور چیخنے لگا کہ موسیٰ اسے روک لے، میں ایمان لاتا ہوں اور اقرار کرتا ہوں کہ بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ کر دونگا۔ حضرت موسیٰ نے اسی وقت اس پر ہاتھ رکھا اور اسی وقت لکڑی جیسی لکڑی بن گیا۔ حضرت وہب فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کو دیھکتے ہی فرعون کہنے لگا میں تجھے پہچانتا ہوں۔ آپ نے فرمایا یقینا اس نے کہا تو نے بچپن ہمارے گھر کے ٹکڑوں پر ہی تو گذارا ہے۔ اس کا جواب حضرت موسیٰ دے ہی رہے تھے کہ اس نے کہا اسے گرفتار کرلو۔ آپ نے جھٹ سے اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی جس نے سانپ بن کر ان پر حملہ کردیا اس بد حواسی میں ایک دوسرے کو کچلتے اور قتل کرتے ہوئے وہ سب کے سب بھاگے چناچہ پچیس ہزار آدمی اسی ہنگامے میں ایک دوسرے کے ہاتھوں مارے گئے اور فرعون سیدھا اپنے گھر میں گھس گیا لیکن اس واقعہ کے بیان کی سند میں غرابت ہے واللہ اعلم۔ اسی طرح دوسرا معجزہ آپ نے یہ ظاہر کیا کہ اپنا ہاتھ اپنی چادر میں ڈال کر نکالا تو بغیر اس کے کہ کوئی روگ یا برص یا داغ ہو وہ سفید چمکتا ہوا بن کر نکل آیا جسے ہر ایک نے دیکھا پھر ہاتھ اندر کیا تو جیسا تھا ویسا ہی ہوگیا۔

درباریوں سے مشورے ہوئے ! ٭٭ جب ڈر خوف جاتا رہا فرعون پھر سے اپنے تخت پر آ بیٹھا اور درباریوں کے اوسان درست ہوگئے تو فرعون نے کہا بھئی مجھے تو یہ جادوگر لگتا ہے اور ہے بھی بڑا استاد۔ ان لوگوں نے اس کی تائید کی اور کہا حضور درست فرما رہے ہیں۔ اب مشورے کرنے لگے کہ اگر یہ معاملہ یونہی رہا تو لوگ اس کی طرف مائل ہوجائیں گے اور جب یہ قوت پکڑے گا تو ہم سے بادشاہت چھین لے گا ہمیں جلاوطن کر دے گا بتاؤ کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ کی شان ہے جس سے خوف کھایا وہی سامنے آیا۔

درباریوں سے مشورے ہوئے ! ٭٭ جب ڈر خوف جاتا رہا فرعون پھر سے اپنے تخت پر آ بیٹھا اور درباریوں کے اوسان درست ہوگئے تو فرعون نے کہا بھئی مجھے تو یہ جادوگر لگتا ہے اور ہے بھی بڑا استاد۔ ان لوگوں نے اس کی تائید کی اور کہا حضور درست فرما رہے ہیں۔ اب مشورے کرنے لگے کہ اگر یہ معاملہ یونہی رہا تو لوگ اس کی طرف مائل ہوجائیں گے اور جب یہ قوت پکڑے گا تو ہم سے بادشاہت چھین لے گا ہمیں جلاوطن کر دے گا بتاؤ کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ کی شان ہے جس سے خوف کھایا وہی سامنے آیا۔

درباریوں کا مشورہ درباریوں نے مشورہ دیا کہ ان دونوں بھائیوں کا معاملہ تو اس وقت رفع دفع کرو، اسے ملتوی رکھو اور ملک کے ہر حصے میں ہر کارے بھیج دو جو جادوگروں کو جمع کر کے آپ کے دربار میں لائیں۔ تو جب تمام استاد فن جادوگر آجائیں ان سے مقابلہ کرایا جائے تو یہ ہار جائے گا اور منہ دکھانے کے قابل نہ رہے گا، یہ اگر جادو جانتا ہے تو ہماری رعایا میں جادو گروں کی کیا کمی ہے ؟ بڑے بڑے ماہر جادوگر ہم میں موجود ہیں جو اپنے فن میں بےنظیر ہیں اور بہت چست و چالاک ہیں۔ چناچہ حضرت موسیٰ سے کہا گیا کہ ہم سمجھ گئے کہ تو جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دینے کے ارادے سے آیا ہے تو اگر تجھ میں کوئی سکت ہے تو آ ہاتھ ملا ہم تجھ سے مقابلے کا دن اور جگہ مقرر کرتے ہیں اور جگہ مقرر ہوجائے پھر جو بھاگے وہی ہارا۔ آپ نے فرمایا اجھا یہ ہوس بھی نکال لو۔ جاؤ تمہارا عید کا دن مجھے منظور ہے اور دن چڑھے اجالے کا وقت اور شرط یہ کہ یہ مقابلہ مجمع عام میں ہو۔ چنانجہ فرعون اس تیاری میں مصروف ہوگیا۔

درباریوں کا مشورہ درباریوں نے مشورہ دیا کہ ان دونوں بھائیوں کا معاملہ تو اس وقت رفع دفع کرو، اسے ملتوی رکھو اور ملک کے ہر حصے میں ہر کارے بھیج دو جو جادوگروں کو جمع کر کے آپ کے دربار میں لائیں۔ تو جب تمام استاد فن جادوگر آجائیں ان سے مقابلہ کرایا جائے تو یہ ہار جائے گا اور منہ دکھانے کے قابل نہ رہے گا، یہ اگر جادو جانتا ہے تو ہماری رعایا میں جادو گروں کی کیا کمی ہے ؟ بڑے بڑے ماہر جادوگر ہم میں موجود ہیں جو اپنے فن میں بےنظیر ہیں اور بہت چست و چالاک ہیں۔ چناچہ حضرت موسیٰ سے کہا گیا کہ ہم سمجھ گئے کہ تو جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دینے کے ارادے سے آیا ہے تو اگر تجھ میں کوئی سکت ہے تو آ ہاتھ ملا ہم تجھ سے مقابلے کا دن اور جگہ مقرر کرتے ہیں اور جگہ مقرر ہوجائے پھر جو بھاگے وہی ہارا۔ آپ نے فرمایا اجھا یہ ہوس بھی نکال لو۔ جاؤ تمہارا عید کا دن مجھے منظور ہے اور دن چڑھے اجالے کا وقت اور شرط یہ کہ یہ مقابلہ مجمع عام میں ہو۔ چنانجہ فرعون اس تیاری میں مصروف ہوگیا۔

جادو گروں نے پہلے ہی فرعون سے قول وقرار لے لیا تاکہ محنت کالی نہ جائے اور اگر ہم جیت جائیں تو خالی ہاتھ نہ رہ جائیں۔ فرعون نے وعدہ کیا کہ منہ مانگا انعام اور ہمیشہ کیلئے خاص درباریوں میں داخلہ دوں گا۔ یہ قول وقرار لے کر میدان میں اتر آئے۔

جادو گروں نے پہلے ہی فرعون سے قول وقرار لے لیا تاکہ محنت کالی نہ جائے اور اگر ہم جیت جائیں تو خالی ہاتھ نہ رہ جائیں۔ فرعون نے وعدہ کیا کہ منہ مانگا انعام اور ہمیشہ کیلئے خاص درباریوں میں داخلہ دوں گا۔ یہ قول وقرار لے کر میدان میں اتر آئے۔

جادوگروں سے مقابلہ جادوگروں کو اپنی قوت پر بڑا گھمنڈ تھا وہ سب فی الحقیقت اپنے اس فن کے لاجواب استاد تھے اس لئے انہوں نے آتے ہی حضرت موسیٰ کو چیلنج دیا کہ لو ہوشیار ہوجاؤ تمہیں اختیار ہے میدان میں اپنے کرتب پہلے دکاؤ اور اگر کہو تو پہل ہم کردیں۔ آپ نے فرمایا بہتر ہے کہ تمہارے حوصلے نکل جائیں اور لوگ تمہارا کمال فن دیکھ لیں اور پھر اللہ کی قدرت کو بھی دیکھ لیں اور حق و باطل میں دیک بھال کر فیصلہ کرسکیں وہ تو یہ چاہتے ہی تھے انہوں نے جھٹ سے اپنی رسیاں اور لکڑیاں نکال نکال کر میدان میں ڈالنی شروع کر دین ادھر وہ میدان میں پڑتے ہی چلتی پھرتی اور بنی بنائی سانپ معلوم ہونے لگیں۔ یہ صرف نظر بندی تھی۔ فی الواقع خارج میں ان کا وجود بدل نہیں گیا تھا بلکہ اس طرح لوگوں کو دکھائی دیتی تھیں کہ گویا زندہ ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ اپنے دل میں خطرہ محسوس کرنے لگے۔ اللہ کی طرف سے اسی وقت وحی آئی کہ خوف نہ کر تو ہی غالب رہے گا۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی ڈال تو سہی ان کا کیا دھرا یہ تو سب ہڑپ کر جائے گی۔ یہ سب تو جادوگری کا کرشمہ ہے بھلا جادو والے بھی کبھی کامیاب ہوئے ہیں ؟ بڑی موٹی موٹی رسیاں اور لمبی لمبی لکڑیاں انہوں نے ڈالی تھیں جو سب چلتی پھرتی دوڑتی بھاگتی معلوم ہو رہی تھیں، یہ جادوگر پندرہ ہزار یا تیس ہزار سے اوپر اوپر تھے یا ستر ہزار کی تعداد میں تھے، ہر ایک اپنے ساتھ رسیاں اور لکڑیاں لایا تھا صف بستہ کھڑے تھے اور لوگ چاروں طرف موجود تھے ہر ایک ہمہ تن شوق بنا ہوا تھا فرعون اپنے لاؤ لشکر اور درباریوں سمیت بڑے رعب سے اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا ادھر وقت ہوا ادھر سب کی نگاہوں نے دیکھا کہ ایک درویش صفت اللہ کا نبی اپنے ساتھ اپنے بھائی کو لئے ہوئے لکڑی ٹکاتے ہوئے آ رہے ہیں۔ یہ تھے جن کے مقابلے کی یہ دھوم دھام تھی۔ آپ کے آتے ہی جادوگروں نے صرف یہ دریافت کر کے کہ ابتدا کس کی طرف سے ہونی چاہئے خود ابتدا کردی۔ حضرت موسیٰ ؑ کی پھر فرعون کی پھر تماشائیوں کی آنکھوں پر جادو کر کے سب کو ہیبت زدہ کردیا۔ اب جو اپنی اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو ہزار ہا کی تعداد میں پہاڑوں کے برابر سانپ نظر آنے لگے جو اوپر تلے ایک دوسرے سے لپٹ رہے ہیں ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں میدان بھر گیا ہے انہوں نے اپنے فن کا پورا مظاہرہ کر دکھایا۔

جادوگروں سے مقابلہ جادوگروں کو اپنی قوت پر بڑا گھمنڈ تھا وہ سب فی الحقیقت اپنے اس فن کے لاجواب استاد تھے اس لئے انہوں نے آتے ہی حضرت موسیٰ کو چیلنج دیا کہ لو ہوشیار ہوجاؤ تمہیں اختیار ہے میدان میں اپنے کرتب پہلے دکاؤ اور اگر کہو تو پہل ہم کردیں۔ آپ نے فرمایا بہتر ہے کہ تمہارے حوصلے نکل جائیں اور لوگ تمہارا کمال فن دیکھ لیں اور پھر اللہ کی قدرت کو بھی دیکھ لیں اور حق و باطل میں دیک بھال کر فیصلہ کرسکیں وہ تو یہ چاہتے ہی تھے انہوں نے جھٹ سے اپنی رسیاں اور لکڑیاں نکال نکال کر میدان میں ڈالنی شروع کر دین ادھر وہ میدان میں پڑتے ہی چلتی پھرتی اور بنی بنائی سانپ معلوم ہونے لگیں۔ یہ صرف نظر بندی تھی۔ فی الواقع خارج میں ان کا وجود بدل نہیں گیا تھا بلکہ اس طرح لوگوں کو دکھائی دیتی تھیں کہ گویا زندہ ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ اپنے دل میں خطرہ محسوس کرنے لگے۔ اللہ کی طرف سے اسی وقت وحی آئی کہ خوف نہ کر تو ہی غالب رہے گا۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی ڈال تو سہی ان کا کیا دھرا یہ تو سب ہڑپ کر جائے گی۔ یہ سب تو جادوگری کا کرشمہ ہے بھلا جادو والے بھی کبھی کامیاب ہوئے ہیں ؟ بڑی موٹی موٹی رسیاں اور لمبی لمبی لکڑیاں انہوں نے ڈالی تھیں جو سب چلتی پھرتی دوڑتی بھاگتی معلوم ہو رہی تھیں، یہ جادوگر پندرہ ہزار یا تیس ہزار سے اوپر اوپر تھے یا ستر ہزار کی تعداد میں تھے، ہر ایک اپنے ساتھ رسیاں اور لکڑیاں لایا تھا صف بستہ کھڑے تھے اور لوگ چاروں طرف موجود تھے ہر ایک ہمہ تن شوق بنا ہوا تھا فرعون اپنے لاؤ لشکر اور درباریوں سمیت بڑے رعب سے اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا ادھر وقت ہوا ادھر سب کی نگاہوں نے دیکھا کہ ایک درویش صفت اللہ کا نبی اپنے ساتھ اپنے بھائی کو لئے ہوئے لکڑی ٹکاتے ہوئے آ رہے ہیں۔ یہ تھے جن کے مقابلے کی یہ دھوم دھام تھی۔ آپ کے آتے ہی جادوگروں نے صرف یہ دریافت کر کے کہ ابتدا کس کی طرف سے ہونی چاہئے خود ابتدا کردی۔ حضرت موسیٰ ؑ کی پھر فرعون کی پھر تماشائیوں کی آنکھوں پر جادو کر کے سب کو ہیبت زدہ کردیا۔ اب جو اپنی اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو ہزار ہا کی تعداد میں پہاڑوں کے برابر سانپ نظر آنے لگے جو اوپر تلے ایک دوسرے سے لپٹ رہے ہیں ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں میدان بھر گیا ہے انہوں نے اپنے فن کا پورا مظاہرہ کر دکھایا۔

جادوگر سجدہ ریز ہوگئے اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چناچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کردیا جو کجھ وہاں تھا سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نظر نہ آتی تھی۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ نے جہاں اس پہ ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہوگیا باطل دب گیا۔ تمیز ہوگئی معاملہ صاف ہوگیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہوگئے اور کہنے لگے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس جادو نہیں۔ یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کرسکے اور صفائی کردی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ حضرت قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔

جادوگر سجدہ ریز ہوگئے اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چناچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کردیا جو کجھ وہاں تھا سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نظر نہ آتی تھی۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ نے جہاں اس پہ ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہوگیا باطل دب گیا۔ تمیز ہوگئی معاملہ صاف ہوگیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہوگئے اور کہنے لگے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس جادو نہیں۔ یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کرسکے اور صفائی کردی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ حضرت قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔

جادوگر سجدہ ریز ہوگئے اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چناچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کردیا جو کجھ وہاں تھا سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نظر نہ آتی تھی۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ نے جہاں اس پہ ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہوگیا باطل دب گیا۔ تمیز ہوگئی معاملہ صاف ہوگیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہوگئے اور کہنے لگے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس جادو نہیں۔ یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کرسکے اور صفائی کردی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ حضرت قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔

جادوگر سجدہ ریز ہوگئے اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چناچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کردیا جو کجھ وہاں تھا سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نظر نہ آتی تھی۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ نے جہاں اس پہ ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہوگیا باطل دب گیا۔ تمیز ہوگئی معاملہ صاف ہوگیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہوگئے اور کہنے لگے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس جادو نہیں۔ یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کرسکے اور صفائی کردی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ حضرت قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com