أَوْصَانِي أَبُو جَعْفَرٍ ( عليه السلام ) بِحَوَائِجَ لَهُ بِالْمَدِينَةِ فَخَرَجْتُ فَبَيْنَا أَنَا بَيْنَ فَجِّ الرَّوْحَاءِ عَلَى رَاحِلَتِي إِذَا إِنْسَانٌ يَلْوِي ثَوْبَهُ قَالَ فَمِلْتُ إِلَيْهِ وَ ظَنَنْتُ أَنَّهُ عَطْشَانُ فَنَاوَلْتُهُ الْإِدَاوَةَ فَقَالَ لِي لَا حَاجَةَ لِي بِهَا وَ نَاوَلَنِي كِتَاباً طِينُهُ رَطْبٌ قَالَ فَلَمَّا نَظَرْتُ إِلَى الْخَاتَمِ إِذَا خَاتَمُ أَبِي جَعْفَرٍ ( عليه السلام ) فَقُلْتُ مَتَى عَهْدُكَ بِصَاحِبِ الْكِتَابِ قَالَ السَّاعَةَ وَ إِذَا فِي الْكِتَابِ أَشْيَاءُ يَأْمُرُنِي بِهَا ثُمَّ الْتَفَتُّ فَإِذَا لَيْسَ عِنْدِي أَحَدٌ قَالَ ثُمَّ قَدِمَ أَبُو جَعْفَرٍ ( عليه السلام ) فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ رَجُلٌ أَتَانِي بِكِتَابِكَ وَ طِينُهُ رَطْبٌ فَقَالَ يَا سَدِيرُ إِنَّ لَنَا خَدَماً مِنَ الْجِنِّ فَإِذَا أَرَدْنَا السُّرْعَةَ بَعَثْنَاهُمْ . وَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى قَالَ إِنَّ لَنَا أَتْبَاعاً مِنَ الْجِنِّ كَمَا أَنَّ لَنَا أَتْبَاعاً مِنَ الْإِنْسِ فَإِذَا أَرَدْنَا أَمْراً بَعَثْنَاهُمْ .
اردو
محمد بن یحیی، محمد بن الحسین سے، وہ ابراہیم بن ابی البلاد سے، وہ صادِر الصیرفی سے، وہ کہتے ہیں: ابو جعفر (عليه السلام) نے مجھے مدینہ میں اپنے کچھ کاموں کے بارے میں ہدایت دی، تو میں نکل پڑا۔ جب میں اپنی سواری پر الروحاء کے درے کے درمیان تھا کہ اچانک ایک شخص اپنا کپڑا ہلاتا ہوا نظر آیا۔ اس نے کہا: میں اس کی طرف مڑا اور گمان کیا کہ وہ پیاسا ہے، تو میں نے اسے مشکیزہ تھما دیا، مگر اس نے مجھ سے کہا: مجھے اس کی حاجت نہیں، اور اس نے مجھے ایک خط دیا جس کی مٹی کی مہر ابھی تر تھی۔ اس نے کہا: جب میں نے مہر کو دیکھا تو وہ ابو جعفر (عليه السلام) کی مہر تھی۔ تو میں نے کہا: تمہاری صاحبِ کتاب سے ملاقات کب ہوئی؟ اس نے کہا: ابھی ابھی۔ اور اس خط میں کچھ امور تھے جن کا مجھے حکم دیا گیا تھا کہ میں انہیں انجام دوں۔ پھر میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو میرے ساتھ کوئی نہ تھا۔ اس کے بعد ابو جعفر (عليه السلام) تشریف لائے، تو میں ان سے ملا اور عرض کیا: میں آپ پر قربان، ایک شخص آپ کا خط لے کر میرے پاس آیا تھا اور اس کی مٹی کی مہر ابھی تر تھی۔ تو انہوں نے فرمایا: اے صادِر، ہمارے پاس جنّات میں سے خادم ہیں، اور جب ہم سرعت چاہتے ہیں تو ہم انہیں بھیج دیتے ہیں۔ اور ایک دوسری روایت میں انہوں نے فرمایا: ہمارے پاس جنّات میں سے پیروکار ہیں جیسے ہمارے پاس انسانوں میں سے پیروکار ہیں، پس جب ہم کسی امر کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انہیں بھیج دیتے ہیں۔
Translation
Muhammad Bin Yahya, from Muhammad Bin Al Husayn, from Ibrahim Bin Abu Al Balad, from Sadeyr Al Sayrafi who said, ‘Abu Ja’far<sup>asws</sup> ordered me to deal with a need of his<sup>asws</sup> at Al-Medina, so I went out. So while I was between Fajj Al-Raeha upon my ride, when a person waved his cloth at me. So I inclined towards him and thought that he is thirsty. So I gave him the drinking cup, but he said to me, ‘There is no need for me with it’, and he gave me a letters, the ink of which was still wet. He (the narrator) said, ‘So when I looked at the seal, it was the seal of Abu Ja’far<sup>asws</sup>’. So I said, ‘When did he<sup>asws</sup>, the owner of the letter pact with you?’ He said, ‘Just now’. And there were things in the letter instructing me with these. Then I turned around, but there was no one in my presence. Then I proceeded to Abu Ja’far<sup>asws</sup> and met up with him<sup>asws</sup>, and I said to him<sup>asws</sup>, ‘A man came over to me with your<sup>asws</sup> letter and its ink was still wet’. So he<sup>asws</sup> said: ‘O Sadeyr! For us there are servants from the Jinn. So whenever we<sup>asws</sup> intend the quickness, we<sup>asws</sup> send them’. And in another report, he<sup>asws</sup> said: ‘For us<sup>asws</sup> there are followers from the Jinn just as there are followers from the human beings. So, whenever we<sup>asws</sup> intend a matter, we<sup>asws</sup> send them’.
Compiled by Shaykh Muhammad ibn Ya'qub al-Kulayni
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.