خَرَجَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ وَ ابْنُ بَيْدِيٍّ وَ ابْنُ أَبِي مَارِيَةَ فِي سَفَرٍ وَ كَانَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ مُسْلِماً وَ ابْنُ بَيْدِيٍّ وَ ابْنُ أَبِي مَارِيَةَ نَصْرَانِيَّيْنِ وَ كَانَ مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ خُرْجٌ لَهُ فِيهِ مَتَاعٌ وَ آنِيَةٌ مَنْقُوشَةٌ بِالذَّهَبِ وَ قِلَادَةٌ أَخْرَجَهَا إِلَى بَعْضِ أَسْوَاقِ الْعَرَبِ لِلْبَيْعِ فَاعْتَلَّ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ عِلَّةً شَدِيدَةً فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ دَفَعَ مَا كَانَ مَعَهُ إِلَى ابْنِ بَيْدِيٍّ وَ ابْنِ أَبِي مَارِيَةَ وَ أَمَرَهُمَا أَنْ يُوصِلَاهُ إِلَى وَرَثَتِهِ فَقَدِمَا الْمَدِينَةَ وَ قَدْ أَخَذَا مِنَ الْمَتَاعِ الْآنِيَةَ وَ الْقِلَادَةَ وَ أَوْصَلَا سَائِرَ ذَلِكَ إِلَى وَرَثَتِهِ فَافْتَقَدَ الْقَوْمُ الْآنِيَةَ وَ الْقِلَادَةَ فَقَالَ أَهْلُ تَمِيمٍ لَهُمَا هَلْ مَرِضَ صَاحِبُنَا مَرَضاً طَوِيلًا أَنْفَقَ فِيهِ نَفَقَةً كَثِيرَةً فَقَالَا لَا مَا مَرِضَ إِلَّا أَيَّاماً قَلَائِلَ قَالُوا فَهَلْ سُرِقَ مِنْهُ شَيْءٌ فِي سَفَرِهِ هَذَا قَالَا لَا قَالُوا فَهَلِ اتَّجَرَ تِجَارَةً خَسِرَ فِيهَا قَالَا لَا قَالُوا فَقَدِ افْتَقَدْنَا أَفْضَلَ شَيْءٍ كَانَ مَعَهُ آنِيَةً مَنْقُوشَةً بِالذَّهَبِ مُكَلَّلَةً بِالْجَوْهَرِ وَ قِلَادَةً فَقَالَا مَا دَفَعَ إِلَيْنَا فَقَدْ أَدَّيْنَاهُ إِلَيْكُمْ فَقَدَّمُوهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) فَأَوْجَبَ رَسُولُ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) عَلَيْهِمَا الْيَمِينَ فَحَلَفَا فَخَلَّى عَنْهُمَا ثُمَّ ظَهَرَتْ تِلْكَ الْآنِيَةُ وَ الْقِلَادَةُ عَلَيْهِمَا فَجَاءَ أَوْلِيَاءُ تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ ظَهَرَ عَلَى ابْنِ بَيْدِيٍّ وَ ابْنِ أَبِي مَارِيَةَ مَا ادَّعَيْنَاهُ عَلَيْهِمَا فَانْتَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ الْحُكْمَ فِي ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهادَةُ بَيْنِكُمْ إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنانِ ذَوا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ آخَرانِ مِنْ غَيْرِكُمْ إِنْ أَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَأَطْلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ شَهَادَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ عَلَى الْوَصِيَّةِ فَقَطْ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ وَ لَمْ يَجِدِ الْمُسْلِمَيْنِ فَأَصابَتْكُمْ مُصِيبَةُ الْمَوْتِ تَحْبِسُونَهُما مِنْ بَعْدِ الصَّلاةِ فَيُقْسِمانِ بِاللَّهِ إِنِ ارْتَبْتُمْ لا نَشْتَرِي بِهِ ثَمَناً وَ لَوْ كانَ ذا قُرْبى وَ لا نَكْتُمُ شَهادَةَ اللَّهِ إِنَّا إِذاً لَمِنَ الْآثِمِينَ فَهَذِهِ الشَّهَادَةُ الْأُولَى الَّتِي جَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) فَإِنْ عُثِرَ عَلى أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْماً أَيْ أَنَّهُمَا حَلَفَا عَلَى كَذِبٍ فَآخَرانِ يَقُومانِ مَقامَهُما يَعْنِي مِنْ أَوْلِيَاءِ الْمُدَّعِي مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيانِ فَيُقْسِمانِ بِاللَّهِ يَحْلِفَانِ بِاللَّهِ أَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهَذِهِ الدَّعْوَى مِنْهُمَا وَ أَنَّهُمَا قَدْ كَذَبَا فِيمَا حَلَفَا بِاللَّهِ لَشَهادَتُنا أَحَقُّ مِنْ شَهادَتِهِما وَ مَا اعْتَدَيْنا إِنَّا إِذاً لَمِنَ الظَّالِمِينَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) أَوْلِيَاءَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ أَنْ يَحْلِفُوا بِاللَّهِ عَلَى مَا أَمَرَهُمْ بِهِ فَحَلَفُوا فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) الْقِلَادَةَ وَ الْآنِيَةَ مِنِ ابْنِ بَيْدِيٍّ وَ ابْنِ أَبِي مَارِيَةَ وَ رَدَّهُمَا إِلَى أَوْلِيَاءِ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ذلِكَ أَدْنى أَنْ يَأْتُوا بِالشَّهادَةِ عَلى وَجْهِها أَوْ يَخافُوا أَنْ تُرَدَّ أَيْمانٌ بَعْدَ أَيْمانِهِمْ .
اردو
علی بن ابراہیم نے اپنے رجال سے، مرفوعاً روایت کی کہ: تمیم الداری، ابن بیدی اور ابن ابی ماریہ ایک سفر پر نکلے۔ تمیم الداری مسلمان تھے اور ابن بیدی اور ابن ابی ماریہ دونوں نصرانی تھے۔ تمیم الداری کے ساتھ ایک تھیلا تھا جس میں سامان، سونے سے نقش کردہ برتن اور ایک ہار تھا جسے وہ بعض عرب بازاروں میں بیچنے کے لیے لے گئے تھے۔ تمیم الداری سخت بیمار پڑ گئے، اور جب موت قریب آئی تو انہوں نے جو کچھ ان کے پاس تھا وہ ابن بیدی اور ابن ابی ماریہ کے سپرد کردیا اور انہیں حکم دیا کہ اسے ان کے ورثا تک پہنچا دیں۔ وہ دونوں مدینہ آئے لیکن انہوں نے سامان سے برتن اور ہار لے لیے تھے اور باقی سب ورثا تک پہنچا دیا۔ قوم نے برتنوں اور ہار کو غائب پایا تو تمیم کے گھر والوں نے ان دونوں سے کہا: کیا ہمارے ساتھی بہت لمبے عرصے بیمار رہے اور انہوں نے کثیر اخراجات کیے؟ انہوں نے کہا: نہیں، وہ صرف چند دن بیمار رہے۔ انہوں نے پوچھا: کیا ان کے اس سفر میں کچھ چوری ہوا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے پوچھا: کیا انہوں نے تجارت کی اور نقصان اٹھایا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: ہم نے جو سب سے قیمتی چیز ان کے پاس تھی — سونے اور جواہر سے مزین برتن اور ہار — وہ نہیں پائی۔ انہوں نے کہا: جو کچھ ہمارے سپرد ہوا تھا وہ ہم نے آپ تک پہنچا دیا ہے۔ پس انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ رسول اللہ نے ان دونوں پر قسم لازم کی، انہوں نے قسم کھائی اور آپ نے انہیں چھوڑ دیا۔ پھر وہ برتن اور ہار ان کے پاس ظاہر ہوئے۔ تمیم کے اولیاء رسول اللہ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ابن بیدی اور ابن ابی ماریہ کے پاس وہ چیز ظاہر ہوگئی جس کا ہم نے دعویٰ کیا تھا۔ رسول اللہ نے اس معاملے میں اللہ عزوجل کے حکم کا انتظار کیا۔ تب اللہ تبارک وتعالیٰ نے نازل فرمایا: 'اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کو موت قریب آئے، وصیت کے وقت، تم میں سے دو عادل گواہ ہوں یا اگر تم زمین میں سفر پر ہو تو تمہارے علاوہ دو اور۔' چنانچہ اللہ عزوجل نے اہل کتاب کی گواہی صرف وصیت پر جائز قرار دی، جب کوئی سفر میں ہو اور مسلمان نہ ملیں۔ 'اگر تمہیں موت کی مصیبت پیش آئے، تو نماز کے بعد انہیں روکو؛ پھر اگر تمہیں شک ہو تو وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں: ہم اسے کسی قیمت پر نہیں بیچیں گے خواہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، اور ہم اللہ کی گواہی نہیں چھپائیں گے، ورنہ ہم گناہگاروں میں سے ہوں گے۔' یہ وہ پہلی شہادت ہے جو رسول اللہ نے قائم کی۔ 'پھر اگر معلوم ہو کہ ان دونوں نے گناہ کا ارتکاب کیا' — یعنی انہوں نے جھوٹی قسم کھائی — 'تو ان کی جگہ دو اور کھڑے ہوں' — یعنی مدعی کے اولیاء میں سے — 'وہ اللہ کی قسم کھائیں: ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ سچ ہے اور ہم نے حد سے تجاوز نہیں کیا، ورنہ ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔' پس رسول اللہ نے تمیم الداری کے اولیاء کو حکم دیا کہ جیسا اللہ نے انہیں حکم دیا ہے اس پر قسم کھائیں۔ انہوں نے قسم کھائی۔ رسول اللہ نے ابن بیدی اور ابن ابی ماریہ سے ہار اور برتن لے کر تمیم الداری کے اولیاء کو واپس کر دیا۔ 'یہ اس لیے بہتر ہے کہ وہ صحیح طور پر گواہی دیں یا یہ ڈریں کہ ان کی قسموں کے بعد قسمیں لوٹا دی جائیں گی۔'
Translation
Ali Bin Ibrahim, from his men, raising it, said, ‘Tameem Al-Dary, and Ibn Baydi, and Abu Mariya went out on a journey, and Tameem Al-Dary was a Muslim, and Ibn Baydi and Ibn Abu Mariya were two Christians, and there was with Tameen Al-Dary some baggage in which were utensils engraved with gold and a necklace which he had brought out to one of the Arabs markets to be sold. Tameem Al-Dary was overcome with severe illness. So when the death presented itself, he handed over whatever was with him, to Ibn Baydi and Ibn Abu Mariya, and instructed them both that they should deliver it to his inheritors. So they both proceeded to Al-Medina, and they had taken from the baggage, the utensils and the necklace, and delivered the rest of that to his inheritors. So the people missed the utensils and the necklace, so the family of the Tameem said to them both, ‘Was our companion ill for a long time for which he spent a lot of expenses?’ So they both said, ‘No, he was not sick except for a few days’. They said, ‘So was anything stolen from it during this journey of his’. They both said, ‘No’. They said, ‘So did he trade and incurred a loss in his trading?’ They both said, ‘No’. They said, ‘We are missing the best things which were with him, utensils engraved with gold and jewellery and a necklace’. So they both said, ‘Whatever he handed over to us, so we have given it to you’. So they took both of them to Rasool-Allah<sup>saww</sup>. So Rasool-Allah<sup>saww</sup> Obligated the swearing of an oath upon both of them. So they took the oath, and were released, but the utensils and the necklace were seen to be with them. So the guardians of Tameem came over to Rasool-Allah<sup>saww</sup> and said, ‘O Rasool-Allah<sup>saww</sup>! These (missing thugs) have appeared to be with Ibn Baydi and Abu Mariya, what we are claiming against the two of them!’ So, Rasool-Allah<sup>saww</sup> awaited for the Judgement from Allah<sup>azwj</sup> Mighty and Majestic with regards to that. So Allah<sup>azwj</sup> Blessed and High Revealed <span class="ibTxt"><a href="/#/books/quran:5#h106"><a href="/books/quran:5#h106">[5:106]</a></a> O you who believe! Call to witness between you when death approaches one of you, at the time of making the will, two just persons from among you, or two others from among others than you, if you are travelling in the land</span>. So, Allah<sup>azwj</sup> Mighty and Majestic Issued the testimony of the People of the Book upon the bequest only, when one was to be on a journey and does not find Muslims, <span class="ibTxt">and the calamity of death befalls you; the two (witnesses) you should detain after the Prayer; then if you doubt (them), they shall both swear by Allah, (saying): We will not take for it a price, though there be a relative, and we will not hide the testimony of Allah for then certainly we should be among the sinners</span>. So this is the first testimony which Rasool-Allah<sup style="font-weight: normal">saww</sup> made to be. <span class="ibTxt"><a href="/#/books/quran:5#h107"><a href="/books/quran:5#h107">[5:107]</a></a> Then if it becomes known that they both have been guilty of a sin, </span>i.e., they have testified falsely <span class="ibTxt">two others shall stand up in their place from among those who have a claim against them, the two nearest in kin; so they two should swear by Allah: Certainly our testimony is truer than the testimony of those two, and we have not exceeded the limit, for then most surely we should be of the unjust</span> So Rasool-Allah<sup>saww</sup> ordered the guardians of Tameem Al-Dary that they should swear by Allah<sup>azwj</sup> upon what He<sup>azwj</sup> had Commanded with. So they swore. So Rasool-Allah<sup>saww</sup> seized the necklace and the utensils from Ibn Baydi and Ibn Abu Mariya, and returned both of these to the guardians of Tameem Al-Dary. <span class="ibTxt"><a href="/#/books/quran:5#h108"><a href="/books/quran:5#h108">[5:108]</a></a> This is more proper in order that they should give testimony truly or fear that other oaths be given after their oaths</span>’.
Compiled by Shaykh Muhammad ibn Ya'qub al-Kulayni
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.