John Shaqi

مُحَمَّدٌ وَ كَانَ زَيْدِيّاً قَالَ كُنْتُ بِالْعَسْكَرِ فَبَلَغَنِي أَنَّ هُنَاكَ رَجُلٌ مَحْبُوسٌ أُتِيَ بِهِ مِنْ نَاحِيَةِ الشَّامِ مَكْبُولًا وَ قَالُوا إِنَّهُ تَنَبَّأَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ خَالِدٍ فَأَتَيْتُ الْبَابَ وَ دَارَيْتُ الْبَوَّابِينَ وَ الْحَجَبَةَ حَتَّى وَصَلْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا رَجُلٌ لَهُ فَهْمٌ فَقُلْتُ يَا هَذَا مَا قِصَّتُكَ وَ مَا أَمْرُكَ قَالَ إِنِّي كُنْتُ رَجُلًا بِالشَّامِ أَعْبُدُ اللَّهَ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ مَوْضِعُ رَأْسِ الْحُسَيْنِ فَبَيْنَا أَنَا فِي عِبَادَتِي إِذْ أَتَانِي شَخْصٌ فَقَالَ لِي قُمْ بِنَا فَقُمْتُ مَعَهُ فَبَيْنَا أَنَا مَعَهُ إِذَا أَنَا فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فَقَالَ لِي تَعْرِفُ هَذَا الْمَسْجِدَ فَقُلْتُ نَعَمْ هَذَا مَسْجِدُ الْكُوفَةِ قَالَ فَصَلَّى وَ صَلَّيْتُ مَعَهُ فَبَيْنَا أَنَا مَعَهُ إِذَا أَنَا فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ ( صلى الله عليه وآله ) بِالْمَدِينَةِ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) وَ سَلَّمْتُ وَ صَلَّى وَ صَلَّيْتُ مَعَهُ وَ صَلَّى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) فَبَيْنَا أَنَا مَعَهُ إِذَا أَنَا بِمَكَّةَ فَلَمْ أَزَلْ مَعَهُ حَتَّى قَضَى مَنَاسِكَهُ وَ قَضَيْتُ مَنَاسِكِي مَعَهُ فَبَيْنَا أَنَا مَعَهُ إِذَا أَنَا فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي كُنْتُ أَعْبُدُ اللَّهَ فِيهِ بِالشَّامِ وَ مَضَى الرَّجُلُ فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْقَابِلُ إِذَا أَنَا بِهِ فَعَلَ مِثْلَ فِعْلَتِهِ الْأُولَى فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ مَنَاسِكِنَا وَ رَدَّنِي إِلَى الشَّامِ وَ هَمَّ بِمُفَارَقَتِي قُلْتُ لَهُ سَأَلْتُكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَقْدَرَكَ عَلَى مَا رَأَيْتُ إِلَّا أَخْبَرْتَنِي مَنْ أَنْتَ فَقَالَ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى قَالَ فَتَرَاقَى الْخَبَرُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الزَّيَّاتِ فَبَعَثَ إِلَيَّ وَ أَخَذَنِي وَ كَبَّلَنِي فِي الْحَدِيدِ وَ حَمَلَنِي إِلَى الْعِرَاقِ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ فَارْفَعِ الْقِصَّةَ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَفَعَلَ وَ ذَكَرَ فِي قِصَّتِهِ مَا كَانَ فَوَقَّعَ فِي قِصَّتِهِ قُلْ لِلَّذِي أَخْرَجَكَ مِنَ الشَّامِ فِي لَيْلَةٍ إِلَى الْكُوفَةِ وَ مِنَ الْكُوفَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ وَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ وَ رَدَّكَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الشَّامِ أَنْ يُخْرِجَكَ مِنْ حَبْسِكَ هَذَا قَالَ عَلِيُّ بْنُ خَالِدٍ فَغَمَّنِي ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِ وَ رَقَقْتُ لَهُ وَ أَمَرْتُهُ بِالْعَزَاءِ وَ الصَّبْرِ قَالَ ثُمَّ بَكَّرْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا الْجُنْدُ وَ صَاحِبُ الْحَرَسِ وَ صَاحِبُ السِّجْنِ وَ خَلْقُ اللَّهِ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالُوا الْمَحْمُولُ مِنَ الشَّامِ الَّذِي تَنَبَّأَ افْتُقِدَ الْبَارِحَةَ فَلَا يُدْرَى أَ خَسَفَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوِ اخْتَطَفَهُ الطَّيْرُ .


اردو

احمد بن ادریس، محمد بن حسن سے، علی بن خالد سے، انہوں نے کہا: محمد—اور وہ زیدی تھا—نے کہا: میں العسکر میں تھا، تو مجھے خبر پہنچی کہ وہاں ایک آدمی قید ہے، جسے شام کے علاقے سے زنجیروں میں لایا گیا تھا، اور لوگ کہہ رہے تھے کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ علی بن خالد نے کہا: پھر میں دروازے پر گیا اور دربانوں اور محافظوں کے ساتھ تدبیر کرتا رہا یہاں تک کہ اس تک پہنچ گیا، تو وہاں ایک سمجھدار آدمی تھا۔ میں نے کہا: اے شخص! تمہارا کیا قصہ ہے اور تمہارا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا: میں شام میں ایک آدمی تھا، اس جگہ اللہ کی عبادت کرتا تھا جسے مقامِ رأس الحسین کہا جاتا ہے۔ جب میں اپنی عبادت میں تھا تو ایک شخص میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا: ہمارے ساتھ چلو۔ تو میں اس کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا، پھر اچانک میں اس کے ساتھ مسجدِ کوفہ میں تھا۔ اس نے مجھ سے کہا: کیا تم اس مسجد کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں، یہ مسجدِ کوفہ ہے۔ اس نے کہا: پھر اس نے نماز پڑھی اور میں نے اس کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر اچانک میں اس کے ساتھ رسولِ اللہ صلى الله عليه وآله کی مسجد مدینہ میں تھا۔ تو اس نے رسولِ اللہ صلى الله عليه وآله پر سلام بھیجا، اور میں نے بھی سلام بھیجا، اور اس نے نماز پڑھی اور میں نے اس کے ساتھ نماز پڑھی، اور اس نے رسولِ اللہ صلى الله عليه وآله پر درود بھیجا۔ پھر اچانک میں اس کے ساتھ مکہ میں تھا۔ میں اس کے ساتھ رہا یہاں تک کہ اس نے اپنے مناسک پورے کر لیے، اور میں نے بھی اس کے ساتھ اپنے مناسک ادا کیے۔ پھر اچانک میں اس جگہ تھا جہاں میں شام میں اللہ کی عبادت کیا کرتا تھا، اور وہ شخص چلا گیا۔ جب اگلا سال آیا تو وہ پھر وہاں تھا، اور اس نے اپنے پہلے فعل کی مانند کیا۔ جب ہم اپنے مناسک سے فارغ ہو گئے اور اس نے مجھے شام واپس پہنچا دیا اور مجھ سے جدا ہونے کا ارادہ کیا تو میں نے اس سے کہا: میں آپ سے اس حق کے واسطے سوال کرتا ہوں جس نے آپ کو وہ کرنے کی قدرت دی جو میں نے دیکھا ہے، کہ آپ مجھے بتائیں کہ آپ کون ہیں۔ تو اس نے کہا: میں محمد بن علی بن موسیٰ ہوں۔ اس نے کہا: پھر یہ خبر پھیلتی گئی یہاں تک کہ محمد بن عبد الملک الزیات تک پہنچ گئی، تو اس نے مجھے بلایا، مجھے پکڑ لیا، مجھے لوہے میں جکڑ دیا، اور مجھے عراق لے گیا۔ اس نے کہا: تو میں نے اس سے کہا: یہ قصہ محمد بن عبد الملک کے سامنے پیش کرو۔ چنانچہ اس نے ایسا کیا، اور اس نے اپنی روداد میں وہ سب ذکر کیا جو پیش آیا تھا۔ پھر اس کی روداد کے جواب میں لکھا گیا: اس شخص سے کہو جس نے تمہیں ایک ہی رات میں شام سے کوفہ، اور کوفہ سے مدینہ، اور مدینہ سے مکہ پہنچایا، اور تمہیں مکہ سے شام واپس لایا، کہ وہ تمہیں اس قید سے نکال دے۔ علی بن خالد نے کہا: اس کے معاملے نے مجھے غمگین کر دیا، اور مجھے اس پر ترس آیا اور میں نے اسے تسلی اور صبر کی تلقین کی۔ اس نے کہا: پھر میں صبح سویرے اس کے پاس گیا تو وہاں سپاہی، داروغۂ حراست، زندان کا نگہبان، اور لوگ موجود تھے۔ میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: شام سے لایا گیا وہ شخص جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا، رات کو گم پایا گیا، اور معلوم نہیں کہ زمین نے اسے نگل لیا یا پرندوں نے اسے اٹھا لیا۔


Translation

Ahmad Bin Idrees, from Muhammad Bin Hassan, from Ali Bin Khalid who said, ‘Muhammad, and he was a Zaydiite, said, ‘I was at Al-Askar and (news) reached me that over there is a male prisoner who has been brought from around Syria bound, and they were saying that he (proclaimed himself as a) Prophet’. Ali Bin Khalid said, ‘So I went over to the door and went round the doormen and guards until I arrived to him, and he turned out to be a man who had understanding for him’. So I said, ‘O you! What is your story and what is your matter?’ He said, ‘I was a man in Syria worshipping Allah<sup>azwj</sup> in the place which is called ‘The place of the head of Al-Husayn<sup>asws</sup>’. So while I was in my worship when a person came over to me and he said to me, ‘Arise with us!’ So I stood up with him, and while I was with him, (it turned out to be) that I was in Masjid Al-Kufa’. So he said to me, ‘Do you recognise this Masjid?’ So I said, ‘Yes, this is Masjid Al-Kufa’. He said, ‘So pray <span class="iTxt">Salat</span>’, and I prayed <span class="iTxt">Salat</span>. So while I was with him, when (it turned out to be) that I was in Masjid Al-Rasool<sup>saww</sup> at Al-Medina. So he greeted upon Rasool-Allah<sup>saww</sup> and I greeted, and he prayed <span class="iTxt">Salat</span> and I prayed <span class="iTxt">Salat</span> with him, and he sent Salawat upon Rasool-Allah<sup>saww</sup>. So while I was with him, when (it turned out to be) that I was at Makkah. So I did not cease to be with him until he had fulfilled his rituals and I fulfilled my rituals along with him. So while I was with him, when (it turned out to be) I was in the place which I used to worship Allah<sup>azwj</sup> in, at Syrian, and the man went away. So when it was the next year, I was with him, and he did the like of what he did formerly. So when we were free from our rituals and he returned me to Syria and thought of separating from me, I said to him, ‘I ask you by the right of the one who enabled you upon what I saw, except that you will inform me who you are’. So he said, ‘I am Muhammad<sup>asws</sup> Bin Ali<sup>asws</sup> Bin Musa<sup>asws</sup> (9<sup>th</sup> Imam<sup>asws</sup>)’. So the news spread until it ended up to Muhammad Bin Abdul Malik Al-Zayyat. So he sent (his people) to me and seized me and tied me up in iron (chains) and carried me over to Al-Iraq. He (the narrator) said, ‘So I said to him, ‘So you should raise the story to Muhammad Bin Abdul Malik’. So he did, and he mentioned in his story whatever had happened. So he signed regarding his story, ‘Tell the one who took you out from Syria during the night to Al-Kufa, and from Al-Kufa to Al-Medina, and from Al-Medina to Makkah, and returned you from Makkah to Syria, that he should take you out from this prison of yours’. Ali Bin Khalid said, ‘So that grieved me from his affair, and I sympathised for him, and I instructed him with the solace and the patience’. Then I went over to him in the morning, but there was the army and the security chief and the warden of the prison, and the creatures of Allah<sup>azwj</sup> (people). So I said, ‘What is this (happening here)?’ So they said, ‘The one who was brought from Syria who claimed to be a Prophet is missing since yesterday, so it is not known whether the earth submerged with him or the birds snatched him’.


Book (Kitab)كِتَابُ الْحُجَّةِ
Chapter (Bab)باب مَوْلِدِ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الثَّانِي ( عليه السلام )
CollectionAl-Kafi

Compiled by Shaykh Muhammad ibn Ya'qub al-Kulayni

Source

License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)

Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.