ضَاقَ بِنَا الْأَمْرُ فَقَالَ لِي أَبِي امْضِ بِنَا حَتَّى نَصِيرَ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ يَعْنِي أَبَا مُحَمَّدٍ فَإِنَّهُ قَدْ وُصِفَ عَنْهُ سَمَاحَةٌ فَقُلْتُ تَعْرِفُهُ فَقَالَ مَا أَعْرِفُهُ وَ لَا رَأَيْتُهُ قَطُّ قَالَ فَقَصَدْنَاهُ فَقَالَ لِي أَبِي وَ هُوَ فِي طَرِيقِهِ مَا أَحْوَجَنَا إِلَى أَنْ يَأْمُرَ لَنَا بِخَمْسِمِائَةِ دِرْهَمٍ مِائَتَا دِرْهَمٍ لِلْكِسْوَةِ وَ مِائَتَا دِرْهَمٍ لِلدَّيْنِ وَ مِائَةٌ لِلنَّفَقَةِ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي لَيْتَهُ أَمَرَ لِي بِثَلَاثِمِائَةِ دِرْهَمٍ مِائَةٌ أَشْتَرِي بِهَا حِمَاراً وَ مِائَةٌ لِلنَّفَقَةِ وَ مِائَةٌ لِلْكِسْوَةِ وَ أَخْرُجَ إِلَى الْجَبَلِ قَالَ فَلَمَّا وَافَيْنَا الْبَابَ خَرَجَ إِلَيْنَا غُلَامُهُ فَقَالَ يَدْخُلُ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَ مُحَمَّدٌ ابْنُهُ فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ وَ سَلَّمْنَا قَالَ لِأَبِي يَا عَلِيُّ مَا خَلَّفَكَ عَنَّا إِلَى هَذَا الْوَقْتِ فَقَالَ يَا سَيِّدِي اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَلْقَاكَ عَلَى هَذِهِ الْحَالِ فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ جَاءَنَا غُلَامُهُ فَنَاوَلَ أَبِي صُرَّةً فَقَالَ هَذِهِ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ مِائَتَانِ لِلْكِسْوَةِ وَ مِائَتَانِ لِلدَّيْنِ وَ مِائَةٌ لِلنَّفَقَةِ وَ أَعْطَانِي صُرَّةً فَقَالَ هَذِهِ ثَلَاثُمِائَةِ دِرْهَمٍ اجْعَلْ مِائَةً فِي ثَمَنِ حِمَارٍ وَ مِائَةً لِلْكِسْوَةِ وَ مِائَةً لِلنَّفَقَةِ وَ لَا تَخْرُجْ إِلَى الْجَبَلِ وَ صِرْ إِلَى سُورَاءَ فَصَارَ إِلَى سُورَاءَ وَ تَزَوَّجَ بِامْرَأَةٍ فَدَخْلُهُ الْيَوْمَ أَلْفُ دِينَارٍ وَ مَعَ هَذَا يَقُولُ بِالْوَقْفِ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ فَقُلْتُ لَهُ وَيْحَكَ أَ تُرِيدُ أَمْراً أَبْيَنَ مِنْ هَذَا قَالَ فَقَالَ هَذَا أَمْرٌ قَدْ جَرَيْنَا عَلَيْهِ .
اردو
علی بن محمد، محمد بن ابراہیم سے، جو ابن الکردی کے نام سے معروف تھے، محمد بن علی بن ابراہیم بن موسیٰ بن جعفر سے، انہوں نے کہا: ہمارے حالات تنگ ہو گئے، تو میرے والد نے مجھ سے کہا: “ہمیں ساتھ لے چلو یہاں تک کہ ہم اس شخص کے پاس پہنچ جائیں” یعنی ابو محمد علیہ السلام، “کیونکہ ان کے بارے میں سخاوت بیان کی گئی ہے۔” تو میں نے کہا: “کیا آپ انہیں جانتے ہیں؟” انہوں نے کہا: “میں انہیں نہیں جانتا، اور نہ ہی کبھی انہیں دیکھا ہے۔” انہوں نے کہا: پھر ہم ان کی طرف روانہ ہوئے، اور میرے والد نے راستے میں مجھ سے کہا: “ہمیں کتنی ضرورت ہے کہ وہ ہمارے لیے پانچ سو درہم کا حکم دیں: دو سو درہم کپڑوں کے لیے، دو سو درہم قرض کے لیے، اور ایک سو خرچ کے لیے۔” اور میں نے اپنے دل میں کہا: “کاش وہ میرے لیے تین سو درہم کا حکم دیں: ایک سو جن سے میں ایک گدھا خریدوں، ایک سو خرچ کے لیے، اور ایک سو کپڑوں کے لیے، اور پھر میں پہاڑ کی طرف نکل جاؤں۔” انہوں نے کہا: پھر جب ہم دروازے پر پہنچے تو ان کا غلام ہمارے پاس آیا اور کہا: “علی بن ابراہیم اور ان کے بیٹے محمد اندر آئیں۔” پھر جب ہم ان کے پاس داخل ہوئے اور سلام کیا تو انہوں نے میرے والد سے کہا: “اے علی، اس وقت تک تم ہم سے کیوں رکے رہے؟” انہوں نے کہا: “میرے آقا، مجھے اس حالت میں آپ سے ملتے ہوئے شرم آئی۔” پھر جب ہم ان کی خدمت سے باہر نکلے تو ان کا غلام ہمارے پاس آیا اور میرے والد کو ایک تھیلی دی اور کہا: “یہ پانچ سو درہم ہیں: دو سو کپڑوں کے لیے، دو سو قرض کے لیے، اور ایک سو خرچ کے لیے۔” پھر اس نے مجھے بھی ایک تھیلی دی اور کہا: “یہ تین سو درہم ہیں۔ ایک سو گدھے کی قیمت میں لگاؤ، ایک سو کپڑوں کے لیے، اور ایک سو خرچ کے لیے۔ اور پہاڑ کی طرف نہ جاؤ؛ اس کے بجائے سوراء چلے جاؤ۔” چنانچہ وہ سوراء چلا گیا اور اس نے ایک عورت سے شادی کر لی، اور آج اس کی آمدنی ایک ہزار دینار ہے؛ اس کے باوجود وہ اب بھی الوقف کا قائل ہے۔ محمد بن ابراہیم نے کہا: پھر میں نے اس سے کہا، “افسوس ہے تم پر! کیا تم اس سے زیادہ واضح بات چاہتے ہو؟” اس نے کہا: اس نے جواب دیا، “یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر ہم مدت سے چلے آ رہے ہیں۔”
Translation
Ali Bin Muhammad, from Muhammad Bin Ibrahim well known as Ibn Kurdy, from Muhammad Bin Ali Bin Ibrahim Bin Musa Bin Ja’far who said, ‘The matter was constricted with us (financially), so my father said to me, ‘Come with us until we come to be to this man, meanin Abu Muhammad<sup>asws</sup> (11<sup>th</sup> Imam<sup>asws</sup>) for he<sup>asws</sup> has been described to have leniency for him<sup>asws</sup>’. So I said, ‘Do you know him<sup>asws</sup>?’ So he said, ‘I do not know him<sup>asws</sup> nor have I seen him<sup>asws</sup> at all!’. He (the narrator) said, ‘So we went out intending him<sup>asws</sup>, and my father said to me, and he was in his road, ‘How needy we are to that he<sup>asws</sup> would instruct for us with five hundred Dirham, two hundred for the clothes and two hundred for the debts, and a hundred for the expenses’. So I said within myself, ‘If only he<sup>asws</sup> would order for me with three hundred Dirham, one hundred to buy a donkey with, and one hundred for the expenses, and one hundred for the clothes, and I shall go out to the mountain’. He (the narrator) said, ‘So when we arrived at the door, his<sup>asws</sup> slave came out to us and he said, ‘Enter, Ali Bin Ibrahim and Muhammad his son!’. So when entered to see him<sup>asws</sup> and we had greeted, he<sup>asws</sup> said to my father, ‘O Ali! What made you remain behind from us<sup>asws</sup> until this time?’ So he said, ‘My Master<sup>asws</sup>! I was too embarrassed to meet you<sup>asws</sup> while being upon this state’. So when we exited from his<sup>asws</sup> presence, his<sup>asws</sup> slave came over to us and gave my father a package, and he said, ‘These are five hundred Dirhams, two hundred being for the clothing, and two hundred being for the debts, and one hundred being for the expenses’. And he gave me a package and he said, ‘These are three hundred Dirhams. Make a hundred to be regarding the price of a donkey, and one hundred for the clothes, and one hundred for the expenses. And do not go out to the mountain, and go to Sowra’a’. So he went to Sowra’a and married a woman. So today his income is a thousand Dinars, and despite this he is saying with the pausing (holding Waqifiite beliefs). Muhammad Bin Ibrahim says: ‘So I said to him, ‘Woe be unto you! Are you wanting a matter clearer than this?’ He said, ‘To this matter (Waqifite beliefs) we have got used to (and are unable to revert due to being well settle therein)’.
Compiled by Shaykh Muhammad ibn Ya'qub al-Kulayni
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.