John Shaqi

كَانَ عِنْدَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) جَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مِنْهُمْ حُمْرَانُ بْنُ أَعْيَنَ وَ مُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ وَ هِشَامُ بْنُ سَالِمٍ وَ الطَّيَّارُ وَ جَمَاعَةٌ فِيهِمْ هِشَامُ بْنُ الْحَكَمِ وَ هُوَ شَابٌّ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) يَا هِشَامُ أَ لَا تُخْبِرُنِي كَيْفَ صَنَعْتَ بِعَمْرِو بْنِ عُبَيْدٍ وَ كَيْفَ سَأَلْتَهُ فَقَالَ هِشَامٌ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ إِنِّي أُجِلُّكَ وَ أَسْتَحْيِيكَ وَ لَا يَعْمَلُ لِسَانِي بَيْنَ يَدَيْكَ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْ‏ءٍ فَافْعَلُوا قَالَ هِشَامٌ بَلَغَنِي مَا كَانَ فِيهِ عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ وَ جُلُوسُهُ فِي مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ فَعَظُمَ ذَلِكَ عَلَيَّ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ وَ دَخَلْتُ الْبَصْرَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَتَيْتُ مَسْجِدَ الْبَصْرَةِ فَإِذَا أَنَا بِحَلْقَةٍ كَبِيرَةٍ فِيهَا عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ وَ عَلَيْهِ شَمْلَةٌ سَوْدَاءُ مُتَّزِراً بِهَا مِنْ صُوفٍ وَ شَمْلَةٌ مُرْتَدِياً بِهَا وَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ فَاسْتَفْرَجْتُ النَّاسَ فَأَفْرَجُوا لِي ثُمَّ قَعَدْتُ فِي آخِرِ الْقَوْمِ عَلَى رُكْبَتَيَّ ثُمَّ قُلْتُ أَيُّهَا الْعَالِمُ إِنِّي رَجُلٌ غَرِيبٌ تَأْذَنُ لِي فِي مَسْأَلَةٍ فَقَالَ لِي نَعَمْ فَقُلْتُ لَهُ أَ لَكَ عَيْنٌ فَقَالَ يَا بُنَيَّ أَيُّ شَيْ‏ءٍ هَذَا مِنَ السُّؤَالِ وَ شَيْ‏ءٌ تَرَاهُ كَيْفَ تَسْأَلُ عَنْهُ فَقُلْتُ هَكَذَا مَسْأَلَتِي فَقَالَ يَا بُنَيَّ سَلْ وَ إِنْ كَانَتْ مَسْأَلَتُكَ حَمْقَاءَ قُلْتُ أَجِبْنِي فِيهَا قَالَ لِي سَلْ قُلْتُ أَ لَكَ عَيْنٌ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَمَا تَصْنَعُ بِهَا قَالَ أَرَى بِهَا الْأَلْوَانَ وَ الْأَشْخَاصَ قُلْتُ فَلَكَ أَنْفٌ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَمَا تَصْنَعُ بِهِ قَالَ أَشَمُّ بِهِ الرَّائِحَةَ قُلْتُ أَ لَكَ فَمٌ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَمَا تَصْنَعُ بِهِ قَالَ أَذُوقُ بِهِ الطَّعْمَ قُلْتُ فَلَكَ أُذُنٌ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَمَا تَصْنَعُ بِهَا قَالَ أَسْمَعُ بِهَا الصَّوْتَ قُلْتُ أَ لَكَ قَلْبٌ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَمَا تَصْنَعُ بِهِ قَالَ أُمَيِّزُ بِهِ كُلَّ مَا وَرَدَ عَلَى هَذِهِ الْجَوَارِحِ وَ الْحَوَاسِّ قُلْتُ أَ وَ لَيْسَ فِي هَذِهِ الْجَوَارِحِ غِنًى عَنِ الْقَلْبِ فَقَالَ لَا قُلْتُ وَ كَيْفَ ذَلِكَ وَ هِيَ صَحِيحَةٌ سَلِيمَةٌ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنَّ الْجَوَارِحَ إِذَا شَكَّتْ فِي شَيْ‏ءٍ شَمَّتْهُ أَوْ رَأَتْهُ أَوْ ذَاقَتْهُ أَوْ سَمِعَتْهُ رَدَّتْهُ إِلَى الْقَلْبِ فَيَسْتَيْقِنُ الْيَقِينَ وَ يُبْطِلُ الشَّكَّ قَالَ هِشَامٌ فَقُلْتُ لَهُ فَإِنَّمَا أَقَامَ اللَّهُ الْقَلْبَ لِشَكِّ الْجَوَارِحِ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ لَا بُدَّ مِنَ الْقَلْبِ وَ إِلَّا لَمْ تَسْتَيْقِنِ الْجَوَارِحُ قَالَ نَعَمْ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا مَرْوَانَ فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لَمْ يَتْرُكْ جَوَارِحَكَ حَتَّى جَعَلَ لَهَا إِمَاماً يُصَحِّحُ لَهَا الصَّحِيحَ وَ يَتَيَقَّنُ بِهِ مَا شُكَّ فِيهِ وَ يَتْرُكُ هَذَا الْخَلْقَ كُلَّهُمْ فِي حَيْرَتِهِمْ وَ شَكِّهِمْ وَ اخْتِلَافِهِمْ لَا يُقِيمُ لَهُمْ إِمَاماً يَرُدُّونَ إِلَيْهِ شَكَّهُمْ وَ حَيْرَتَهُمْ وَ يُقِيمُ لَكَ إِمَاماً لِجَوَارِحِكَ تَرُدُّ إِلَيْهِ حَيْرَتَكَ وَ شَكَّكَ قَالَ فَسَكَتَ وَ لَمْ يَقُلْ لِي شَيْئاً ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ لِي أَنْتَ هِشَامُ بْنُ الْحَكَمِ فَقُلْتُ لَا قَالَ أَ مِنْ جُلَسَائِهِ قُلْتُ لَا قَالَ فَمِنْ أَيْنَ أَنْتَ قَالَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ قَالَ فَأَنْتَ إِذاً هُوَ ثُمَّ ضَمَّنِي إِلَيْهِ وَ أَقْعَدَنِي فِي مَجْلِسِهِ وَ زَالَ عَنْ مَجْلِسِهِ وَ مَا نَطَقَ حَتَّى قُمْتُ قَالَ فَضَحِكَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) وَ قَالَ يَا هِشَامُ مَنْ عَلَّمَكَ هَذَا قُلْتُ شَيْ‏ءٌ أَخَذْتُهُ مِنْكَ وَ أَلَّفْتُهُ فَقَالَ هَذَا وَ اللَّهِ مَكْتُوبٌ فِي صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَ مُوسَى .


اردو

ابو عبداللہ علیہ السلام کے پاس ان کے اصحاب کی ایک جماعت موجود تھی جن میں حمران بن اعین، محمد بن نعمان، ہشام بن سالم، الطیار اور ایک گروہ تھا جس میں ہشام بن الحکم بھی تھے اور وہ اس وقت نوجوان تھے۔ ابو عبداللہ علیہ السلام نے فرمایا: اے ہشام! کیا تم مجھے نہیں بتاؤ گے کہ تم نے عمرو بن عبید کے ساتھ کیا کیا اور اس سے کیسے سوال کیا؟ ہشام نے کہا: اے ابن رسول اللہ! میں آپ کی عظمت کا لحاظ کرتا ہوں اور آپ سے شرم کرتا ہوں اور آپ کے سامنے میری زبان کام نہیں کرتی۔ ابو عبداللہ نے فرمایا: جب میں تمہیں کوئی حکم دوں تو اسے بجا لاؤ۔ ہشام نے کہا: مجھے خبر پہنچی کہ عمرو بن عبید مسجد بصرہ میں بیٹھتا اور لوگوں کو اپنے گرد جمع کرتا ہے، یہ بات مجھے بہت گراں گزری۔ میں جمعہ کے دن بصرہ پہنچا، مسجد بصرہ گیا تو دیکھا کہ ایک بڑا حلقہ ہے جس میں عمرو بن عبید بیٹھا ہے، اس نے کالی اونی چادر کمر کے گرد باندھ رکھی تھی اور ایک چادر کندھوں پر اوڑھ رکھی تھی، لوگ اس سے سوال کر رہے تھے۔ میں نے لوگوں کو ہٹایا تو انہوں نے راستہ دیا، پھر میں قوم کے آخر میں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ پھر میں نے کہا: اے عالم! میں ایک اجنبی آدمی ہوں، کیا آپ مجھے ایک سوال کی اجازت دیں گے؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: کیا آپ کے پاس آنکھ ہے؟ اس نے کہا: بیٹے! یہ کیسا سوال ہے؟ یہ تو ظاہر ہے، تم اسے دیکھ رہے ہو، اس کے بارے میں کیوں پوچھتے ہو؟ میں نے کہا: میرا سوال ایسا ہی ہے۔ اس نے کہا: پوچھو، چاہے سوال بیوقوفانہ ہو۔ میں نے کہا: جواب دیجیے۔ اس نے کہا: پوچھو۔ میں نے کہا: کیا آپ کے پاس آنکھ ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: اس سے کیا کرتے ہیں؟ اس نے کہا: رنگ اور شکلیں دیکھتا ہوں۔ میں نے کہا: کیا آپ کے پاس ناک ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: اس سے کیا کرتے ہیں؟ اس نے کہا: خوشبو سونگھتا ہوں۔ میں نے کہا: کیا آپ کے پاس منہ ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: اس سے کیا کرتے ہیں؟ اس نے کہا: ذائقہ چکھتا ہوں۔ میں نے کہا: کیا آپ کے پاس کان ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: اس سے کیا کرتے ہیں؟ اس نے کہا: آواز سنتا ہوں۔ میں نے کہا: کیا آپ کے پاس دل ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: اس سے کیا کرتے ہیں؟ اس نے کہا: جو کچھ ان اعضاء اور حواس پر وارد ہوتا ہے اسے ان سے ممیز کرتا ہوں۔ میں نے کہا: کیا یہ اعضاء دل کے بغیر کام چلا سکتے ہیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: کیوں، حالانکہ یہ صحیح اور سالم ہیں؟ اس نے کہا: بیٹے! جب اعضاء کسی چیز کے بارے میں شک کریں جسے انہوں نے سونگھا، دیکھا، چکھا یا سنا ہو، تو وہ اسے دل کی طرف لوٹاتے ہیں تو دل یقین کو مستحکم کر دیتا ہے اور شک کو دور کر دیتا ہے۔ ہشام نے کہا: میں نے اس سے کہا: تو پھر اللہ نے دل کو اعضاء کے شک کے لیے قائم کیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: دل ضروری ہے، ورنہ اعضاء یقین نہ پا سکیں۔ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: اے ابو مروان! تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہارے اعضاء کو نہیں چھوڑا بلکہ ان کے لیے ایک امام مقرر کیا جو ان کے لیے صحیح کو درست کرتا ہے اور جو مشتبہ ہے اس کا یقین دلاتا ہے — پھر کیا وہ تمام خلق کو ان کی حیرت، شک اور اختلاف میں چھوڑ دے گا بغیر اس کے کہ ان کے لیے ایک امام قائم کرے جس کی طرف وہ اپنے شک اور حیرت کو لوٹائیں، جبکہ وہ تمہارے اعضاء کے لیے ایک امام قائم کرے جس کی طرف تم اپنی حیرت اور شک کو لوٹاؤ؟ وہ خاموش ہو گیا اور مجھ سے کچھ نہ کہا۔ پھر اس نے میری طرف توجہ کی اور کہا: کیا تم ہشام بن الحکم ہو؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا اس کے حلقے سے ہو؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: کہاں سے ہو؟ میں نے کہا: اہل کوفہ سے۔ اس نے کہا: تو پھر تم وہی ہو! پھر اس نے مجھے گلے لگایا، اپنی مجلس میں بٹھایا، اور اپنی جگہ سے ہٹ گیا اور میرے اٹھنے تک کچھ نہ بولا۔ راوی نے کہا: ابو عبداللہ علیہ السلام ہنسے اور فرمایا: اے ہشام! تمہیں یہ کس نے سکھایا؟ میں نے کہا: جو کچھ آپ سے لیا اور ترتیب دیا۔ فرمایا: خدا کی قسم! یہ ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں لکھا ہے۔


Translation

Ali Bin Ibrahim, from his father, from Al Hassan Bin Ibrahim, from Yunus Bin Yaqoub who said, ‘There was in the presence of Abu Abdullah<sup>asws</sup>, a group of his<sup>asws</sup> companions. From them were Humran Bin Ayn and Muhammad Bin Al-Numan, and Hisham Bin Salim, and Al-Tayyar; and (also) a group, among whom was Hisham Bin Al-Hakam, and he was a youth. So, Abu Abdullah<sup>asws</sup> said: ‘O Hisham! Can you inform me<sup>asws</sup> how you dealt with Amro Bin Ubeyd, and how you questioned him?’ So Hisham said, ‘O son<sup>asws</sup> of Rasool-Allah<sup>saww</sup>! I am prevented by your<sup>asws</sup> majesty and am too embarrassed from you<sup>asws</sup> and my tongue does not work in front of you<sup>asws</sup>’. So Abu Abdullah<sup>asws</sup> said: ‘When I<sup>asws</sup> order you with something, so do it’. Hisham said, ‘It reached me what Amro Bin Ubeyd and his (companions) would be gathering in a Masjid of Al-Basra, so that was grievous upon me. So I went out to him and entered Al-Basra on the day of Friday. So I went over to the Masjid of Al-Basra, and there I was with a big circle in which was Amro Bin Ubeyd, and upon him was a black cloth he had used as a loin cloth, and a cloth he had robed himself with, and the people were questioning him. So I cleaved (cut-through) the people and they made way for me. Then I seated myself among the last (ones) of the people (who were seated there), upon my knees. Then I said, O you scholar! I am a man who is a stranger. Will you permit me for the questioning?’ So he said to me, ‘Yes’. So I said to him, ‘Is there an eye for you?’ So he said, ‘O my son! Which thing is this from the questions, and it is a thing you see? How can you question about it?’ So I said, ‘This is how my question is’ So he said, ‘O my son! Ask, and even if your question was stupid’. I said, ‘Answer me with regards to it’. He said to me, ‘Ask’. I said, ‘Is there an eye for you?’ He<sup>asws</sup> said, ‘Yes’. I said, ‘So what do you do with it?’ He said, ‘I see the colours and the persons with it’. I said, ‘So is there a nose for you?’ He said, ‘So what do you with it?’ He said, ‘I smell the aromas with it’. I said, ‘Is there a mouth for you?’ He said, ‘Yes’. I said, ‘So what do you do with it?’ He said, ‘I taste the food by it’. I said, ‘So is there an ear for you’. He said, ‘Yes’. I said, ‘So what do you do with it’. He said, ‘I hear the sounds by it’. I said, ‘Is there a ‘قَلْبٌ’ heart for you?’ He said, ‘Yes’. I said, ‘So what do you do with it?’ He said, ‘I distinguish by it whatever is referred upon these body parts and the senses’. I said, ‘Or isn’t there with regards to these body parts a needlessness from the heart?’ So he said, ‘No’. I said, ‘And how can that be and these are (all) healthy, sound?’ He said, ‘O my son! The body part, when it is doubtful regarding something it smells, or it sees, or it tastes, or it hears, it refers it back to the heart, so it convinces it with the conviction and invalidates the doubt’. Hisham said, ‘So I said to him, ‘So rather, Allah<sup>azwj</sup> has Made the heart as a custodian for the doubts of the body parts?’. He said, ‘Yes’. I said, ‘It is inevitable from the heart, or else the body parts would not attain conviction?’. He Said, ‘Yes’. So I said to him, ‘O Abu Marwan! So Allah<sup>azwj</sup> Blessed and High did not Neglect your body parts until He<sup>azwj</sup> Made an Imam to be for these, correcting for these with the corrections and convincing these with what is doubtful with regards to it, and (you reckon that) He<sup>azwj</sup> would Neglect these creatures, all of them to be in their confusions, and their doubts, and their differing, and not Establish an Imam<sup>asws</sup> for them, to whom they should be referring their doubts and their confusion to, and He<sup>azwj</sup> did Establish an Imam for you for your body part, to which your confusions and your doubts get referred to?’ He (Hisham) said, ‘So he was silent and did not say a thing. Then he turned towards me and said to me, ‘You are Hisham Bin Al-Hakam?’ So I said, ‘No’. He said, ‘Are you from his gatherers?’ I said, ‘No’. So, where are you from?’ I said, ‘From the people of Al-Kufa’. He said, ‘So then you are him’. He then embraced me and made me sit among his gatherers, and declined from (speaking to) his gathering, and did not speak until I arose (and left)’. He (the narrator) said, ‘So Abu Abdullah<sup>asws</sup> laughed and said, ‘O Hisham! Who taught you this?’ I said, ‘Something I took from you<sup>asws</sup> and compiled it’. So he<sup>asws</sup> said: ‘This, by Allah<sup>azwj</sup>, is Written in the Parchments of Ibrahim<sup>as</sup> and Musa<sup>as</sup>’.


Book (Kitab)كِتَابُ الْحُجَّةِ
Chapter (Bab)بَابُ الِاضْطِرَارِ إِلَى الْحُجَّةِ
CollectionAl-Kafi

Compiled by Shaykh Muhammad ibn Ya'qub al-Kulayni

Source

License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)

Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.