قُلْتُ لابِي عَبْدِ الله (عَلَيْهِ السَّلام) جُعِلْتُ فِدَاكَ مَا أَقَلَّ بَقَاءَكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَأَقْرَبَ آجَالَكُمْ بَعْضَهَا مِنْ بَعْضٍ مَعَ حَاجَةِ النَّاسِ إِلَيْكُمْ فَقَالَ إِنَّ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا صَحِيفَةً فِيهَا مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ فِي مُدَّتِهِ فَإِذَا انْقَضَى مَا فِيهَا مِمَّا أُمِرَ بِهِ عَرَفَ أَنَّ أَجَلَهُ قَدْ حَضَرَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) يَنْعَى إِلَيْهِ نَفْسَهُ وَأَخْبَرَهُ بِمَا لَهُ عِنْدَ الله وَأَنَّ الْحُسَيْنَ (عَلَيْهِ السَّلام) قَرَأَ صَحِيفَتَهُ الَّتِي أُعْطِيَهَا وَفُسِّرَ لَهُ مَا يَأْتِي بِنَعْيٍ وَبَقِيَ فِيهَا أَشْيَاءُ لَمْ تُقْضَ فَخَرَجَ لِلْقِتَالِ وَكَانَتْ تِلْكَ الامُورُ الَّتِي بَقِيَتْ أَنَّ الْمَلائِكَةَ سَأَلَتِ الله فِي نُصْرَتِهِ فَأَذِنَ لَهَا وَمَكَثَتْ تَسْتَعِدُّ لِلْقِتَالِ وَتَتَأَهَّبُ لِذَلِكَ حَتَّى قُتِلَ فَنَزَلَتْ وَقَدِ انْقَطَعَتْ مُدَّتُهُ وَقُتِلَ (عَلَيْهِ السَّلام) فَقَالَتِ الْمَلائِكَةُ يَا رَبِّ أَذِنْتَ لَنَا فِي الانْحِدَارِ وَأَذِنْتَ لَنَا فِي نُصْرَتِهِ فَانْحَدَرْنَا وَقَدْ قَبَضْتَهُ فَأَوْحَى الله إِلَيْهِمْ أَنِ الْزَمُوا قَبْرَهُ حَتَّى تَرَوْهُ وَقَدْ خَرَجَ فَانْصُرُوهُ وَابْكُوا عَلَيْهِ وَعَلَى مَا فَاتَكُمْ مِنْ نُصْرَتِهِ فَإِنَّكُمْ قَدْ خُصِّصْتُمْ بِنُصْرَتِهِ وَبِالْبُكَاءِ عَلَيْهِ فَبَكَتِ الْمَلائِكَةُ تَعَزِّياً وَحُزْناً عَلَى مَا فَاتَهُمْ مِنْ نُصْرَتِهِ فَإِذَا خَرَجَ يَكُونُونَ أَنْصَارَهُ.
اردو
علی بن ابراہیم نے اپنے والد سے، انہوں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن الاصم سے، انہوں نے ابی عبداللہ البزاز سے، انہوں نے حریز سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ابی عبداللہ علیہ السلام سے عرض کیا: “میں آپ پر قربان، آپ اہلِ بیت کا قیام کتنا کم ہے، اور لوگوں کی آپ کی حاجت کے باوجود آپ کی مدتیں ایک دوسرے کے کتنی قریب ہیں۔” انہوں نے فرمایا: “ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک صحیفہ ہے جس میں وہ سب کچھ ہے جس پر اسے اپنی مقررہ مدت میں عمل کرنا ہوتا ہے۔ جب اس میں سے وہ چیز پوری ہو جاتی ہے جس کا اسے حکم دیا گیا تھا، تو وہ جان لیتا ہے کہ اس کی اجل آ پہنچی ہے۔ پھر نبی (صلى الله عليه وآله) اس کے پاس آتے ہیں، اس کی وفات کی خبر دیتے ہیں، اور اسے بتاتے ہیں کہ اللہ کے ہاں اس کے لیے کیا ہے۔” اور الحسین علیہ السلام نے اپنی وہ صحیفہ پڑھ لی جو اسے دی گئی تھی، اور اس میں آنے والی موت کی خبر اس پر واضح کر دی گئی۔ تاہم اس میں کچھ امور ابھی باقی تھے جو مکمل نہ ہوئے تھے، تو وہ جنگ کے لیے نکلے۔ ان باقی رہنے والے امور میں سے یہ تھا کہ فرشتوں نے اس کی نصرت کے بارے میں اللہ سے سوال کیا، تو اس نے انہیں اجازت دے دی۔ وہ جنگ کے لیے تیاری کرتے رہے اور اس کے لیے آمادہ ہوتے رہے یہاں تک کہ وہ قتل کر دیے گئے۔ پھر وہ نازل ہوئے، مگر ان کی مدت پوری ہو چکی تھی اور وہ (عليه السلام) قتل کر دیے گئے تھے۔ پس فرشتوں نے کہا: ‘اے ہمارے رب! تو نے ہمیں اترنے کی اجازت دی اور تو نے ہمیں اس کی نصرت کی اجازت دی، پس ہم اتر آئے، مگر تو اسے پہلے ہی قبض کر چکا تھا۔’ پھر اللہ نے ان کی طرف وحی کی: ‘اس کی قبر کے پاس ٹھہرے رہو یہاں تک کہ جب وہ باہر آئے تو اسے دیکھ لو؛ پھر اس کی نصرت کرو۔ اور اس پر اور اس کی نصرت سے جو تم سے فوت ہو گئی اس پر گریہ کرو۔ بے شک تمہیں اس کی نصرت اور اس پر گریہ کرنے کے لیے خاص کیا گیا ہے۔’ پس فرشتے اس کی نصرت سے محروم رہ جانے پر تسلی اور غم کے ساتھ روئے۔ پھر جب وہ باہر آئے گا تو وہ اس کے مددگار ہوں گے۔
Translation
5. Ali in Ibrahim has narrated from his father from ‘Abdallah ibn ‘Abd al-Rahman al-’Assam from abu ‘Abdallah al-Bazzaz from Hariz who has said the following. “I said to abu ‘Abdallah (a.s.), “May Allah take my soul in service for your cause, why is it that you members of the family of the Prophet (s.a) live such a short lives? Your deaths are so close and soon after the other Imam even though people need you so much?” The Imam (a.s.) said, “For everyone of us there is a document that contains what he needs to do within his time. When his assignment according to the commandments therein is complete he learns that his time of death has arrived. The Prophet (s.a) comes to him to give the news of his death and informs him of all that is for him with Allah. Al-Husayn (a.s.) read the document that was given to him and the news of his death was explained to him, however, certain things were not yet complete. He came out to face the enemy and of the matters that were not yet complete was that the angels had asked Allah to grant them permission to support al-Husayn (a.s.) against his enemies which He granted them. They delayed to ready themselves and prepare to fight until he was murdered. They descended but his time was over and was killed already. The angels said, “Lord, You granted us permission to descend and to help him. We descended but You have already taken his soul away. Allah then sent them inspiration that said, “Remain on his grave until you see him come out then help him. Weep for him and for your loss of the opportunity to provide him help and support. You were certainly assigned for his support and help and to weep for him. The angels then wept in mourning and sadness for their loss of the opportunity to help and support to him. When he will come out they will be of his helpers.”
Compiled by Shaykh Muhammad ibn Ya'qub al-Kulayni
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.