John Shaqi

سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) يَقُولُ إِيَّاكُمْ وَ التَّنْوِيهَ أَمَا وَ اللَّهِ لَيَغِيبَنَّ إِمَامُكُمْ سِنِيناً مِنْ دَهْرِكُمْ وَ لَتُمَحَّصُنَّ حَتَّى يُقَالَ مَاتَ قُتِلَ هَلَكَ بِأَيِّ وَادٍ سَلَكَ وَ لَتَدْمَعَنَّ عَلَيْهِ عُيُونُ الْمُؤْمِنِينَ وَ لَتُكْفَؤُنَّ كَمَا تُكْفَأُ السُّفُنُ فِي أَمْوَاجِ الْبَحْرِ فَلَا يَنْجُو إِلَّا مَنْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَهُ وَ كَتَبَ فِي قَلْبِهِ الْإِيمَانَ وَ أَيَّدَهُ بِرُوحٍ مِنْهُ وَ لَتُرْفَعَنَّ اثْنَتَا عَشْرَةَ رَايَةً مُشْتَبِهَةً لَا يُدْرَى أَيٌّ مِنْ أَيٍّ قَالَ فَبَكَيْتُ ثُمَّ قُلْتُ فَكَيْفَ نَصْنَعُ قَالَ فَنَظَرَ إِلَى شَمْسٍ دَاخِلَةٍ فِي الصُّفَّةِ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ تَرَى هَذِهِ الشَّمْسَ قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ وَ اللَّهِ لَأَمْرُنَا أَبْيَنُ مِنْ هَذِهِ الشَّمْسِ .


اردو

محمد بن یحیی، احمد بن محمد سے، ابن ابی نجران سے، محمد بن الموسر سے، مفضل بن عمر سے، جنہوں نے کہا: میں نے ابو عبداللہ (علیہ السلام) کو یہ فرماتے ہوئے سنا: “اسے عام نہ کرو۔ اللہ کی قسم! تمہارا امام ضرور تمہارے زمانے کے برسوں تک غیبت میں رہے گا، اور تم ضرور آزمائے اور پاک کیے جاؤ گے یہاں تک کہ کہا جائے گا: وہ مر گیا، وہ قتل کر دیا گیا، وہ ہلاک ہو گیا، وہ کس وادی میں چلا گیا؟ اور مومنوں کی آنکھیں ضرور اس پر آنسو بہائیں گی، اور تم ضرور اس طرح الٹ دیے جاؤ گے جیسے سمندر کی موجوں میں کشتیاں الٹ دی جاتی ہیں۔” پھر کوئی نجات نہ پائے گا مگر وہ جس سے اللہ نے عہد لیا ہو، اور جس کے دل میں اس نے ایمان لکھ دیا ہو، اور جس کی اس نے اپنی طرف سے ایک روح کے ذریعے مدد کی ہو۔ اور بارہ مشتبہ پرچم ضرور بلند کیے جائیں گے، یہاں تک کہ یہ معلوم نہ ہوگا کہ کون سا کس کا ہے۔ اس نے کہا: پھر میں رو پڑا، پھر میں نے کہا: تو ہم کیا کریں؟ اس نے کہا: پھر اس نے صحن میں داخل ہوتی ہوئی دھوپ کی طرف دیکھا اور کہا: اے ابو عبداللہ، کیا تم یہ سورج دیکھتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! ہمارا معاملہ اس سورج سے زیادہ واضح ہے۔


Translation

Muhammad Bin Yahya, from Ahmad Bin Muhammad, from Ibn Abu Najran, from Muhammad Bin Al Musawir, from Al Mufazzal Bin Umar who said, ‘I heard Abu Abdullah<sup>asws</sup> saying: ‘Beware of the allusions! But, by Allah<sup>azwj</sup>! Your Imam<sup>asws</sup> would be absent (in Occultation) for years from your time. You will be Sifted until it would be said, ‘He<sup>asws</sup> died, killed, perished, (Don’t know) by which valley he<sup>asws</sup> travelled’, and the eyes of the Momineen would shed tears upon him<sup>asws</sup>, and you would be tossed around like the tossing of the ships in the waves of the sea. Thus, he would not attain salvation except the one whose Covenant Allah<sup>azwj</sup> has Taken, and Written the <span class="iTxt">Eman</span> in his heart, and Aided him by a Spirit from Him<sup>azwj</sup>. And you would be separating into twelve resembling banners, not known which one is from which’. He (the narrator) said, ‘So I wept, then I said, ‘So how should we deal with it?’ So he<sup>asws</sup> looked at the sunshine entering the pavilion and he<sup>asws</sup> said: ‘O Abu Abdullah! Do you see this sunshine?’ I said, ‘Yes’. So he<sup>asws</sup> said: ‘By Allah<sup>azwj</sup>! Our<sup>asws</sup> matter would be clearer that this sunshine’.


Book (Kitab)كِتَابُ الْحُجَّةِ
Chapter (Bab)باب فِي الْغَيْبَةِ
CollectionAl-Kafi

Compiled by Shaykh Muhammad ibn Ya'qub al-Kulayni

Source

License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)

Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.