كُنَّا بِالْمَدِينَةِ بَعْدَ وَفَاةِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) أَنَا وَ صَاحِبُ الطَّاقِ وَ النَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ صَاحِبُ الْأَمْرِ بَعْدَ أَبِيهِ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ أَنَا وَ صَاحِبُ الطَّاقِ وَ النَّاسُ عِنْدَهُ وَ ذَلِكَ أَنَّهُمْ رَوَوْا عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الْأَمْرَ فِي الْكَبِيرِ مَا لَمْ تَكُنْ بِهِ عَاهَة فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَسْأَلُهُ عَمَّا كُنَّا نَسْأَلُ عَنْهُ أَبَاهُ فَسَأَلْنَاهُ عَنِ الزَّكَاةِ فِي كَمْ تَجِبُ فَقَالَ فِي مِائَتَيْنِ خَمْسَةٌ فَقُلْنَا فَفِي مِائَةٍ فَقَالَ دِرْهَمَانِ وَ نِصْفٌ فَقُلْنَا وَ اللَّهِ مَا تَقُولُ الْمُرْجِئَةُ هَذَا قَالَ فَرَفَعَ يَدَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ وَ اللَّهِ مَا أَدْرِي مَا تَقُولُ الْمُرْجِئَةُ قَالَ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ ضُلَّالًا لَا نَدْرِي إِلَى أَيْنَ نَتَوَجَّهُ أَنَا وَ أَبُو جَعْفَرٍ الْأَحْوَلُ فَقَعَدْنَا فِي بَعْضِ أَزِقَّةِ الْمَدِينَةِ بَاكِينَ حَيَارَى لَا نَدْرِي إِلَى أَيْنَ نَتَوَجَّهُ وَ لَا مَنْ نَقْصِدُ وَ نَقُولُ إِلَى الْمُرْجِئَةِ إِلَى الْقَدَرِيَّةِ إِلَى الزَّيْدِيَّةِ إِلَى الْمُعْتَزِلَةِ إِلَى الْخَوَارِجِ فَنَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ رَأَيْتُ رَجُلًا شَيْخاً لَا أَعْرِفُهُ يُومِئُ إِلَيَّ بِيَدِهِ فَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ عَيْناً مِنْ عُيُونِ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَنْصُورِ وَ ذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ بِالْمَدِينَةِ جَوَاسِيسُ يَنْظُرُونَ إِلَى مَنِ اتَّفَقَتْ شِيعَةُ جَعْفَرٍ ( عليه السلام ) عَلَيْهِ فَيَضْرِبُونَ عُنُقَهُ فَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ مِنْهُمْ فَقُلْتُ لِلْأَحْوَلِ تَنَحَّ فَإِنِّي خَائِفٌ عَلَى نَفْسِي وَ عَلَيْكَ وَ إِنَّمَا يُرِيدُنِي لَا يُرِيدُكَ فَتَنَحَّ عَنِّي لَا تَهْلِكْ وَ تُعِينَ عَلَى نَفْسِكَ فَتَنَحَّى غَيْرَ بَعِيدٍ وَ تَبِعْتُ الشَّيْخَ وَ ذَلِكَ أَنِّي ظَنَنْتُ أَنِّي لَا أَقْدِرُ عَلَى التَّخَلُّصِ مِنْهُ فَمَا زِلْتُ أَتْبَعُهُ وَ قَدْ عَزَمْتُ عَلَى الْمَوْتِ حَتَّى وَرَدَ بِي عَلَى بَابِ أَبِي الْحَسَنِ ( عليه السلام ) ثُمَّ خَلَّانِي وَ مَضَى فَإِذَا خَادِمٌ بِالْبَابِ فَقَالَ لِيَ ادْخُلْ رَحِمَكَ اللَّهُ فَدَخَلْتُ فَإِذَا أَبُو الْحَسَنِ مُوسَى ( عليه السلام ) فَقَالَ لِيَ ابْتِدَاءً مِنْهُ لَا إِلَى الْمُرْجِئَةِ وَ لَا إِلَى الْقَدَرِيَّةِ وَ لَا إِلَى الزَّيْدِيَّةِ وَ لَا إِلَى الْمُعْتَزِلَةِ وَ لَا إِلَى الْخَوَارِجِ إِلَيَّ إِلَيَّ فَقُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ مَضَى أَبُوكَ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ مَضَى مَوْتاً قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَمَنْ لَنَا مِنْ بَعْدِهِ فَقَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَكَ هَدَاكَ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ يَزْعُمُ أَنَّهُ مِنْ بَعْدِ أَبِيهِ قَالَ يُرِيدُ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ لَا يُعْبَدَ اللَّهُ قَالَ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ فَمَنْ لَنَا مِنْ بَعْدِهِ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَكَ هَدَاكَ قَالَ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ فَأَنْتَ هُوَ قَالَ لَا مَا أَقُولُ ذَلِكَ قَالَ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي لَمْ أُصِبْ طَرِيقَ الْمَسْأَلَةِ ثُمَّ قُلْتُ لَهُ جُعِلْتُ فِدَاكَ عَلَيْكَ إِمَامٌ قَالَ لَا فَدَاخَلَنِي شَيْءٌ لَا يَعْلَمُ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ إِعْظَاماً لَهُ وَ هَيْبَةً أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَحُلُّ بِي مِنْ أَبِيهِ إِذَا دَخَلْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ قُلْتُ لَهُ جُعِلْتُ فِدَاكَ أَسْأَلُكَ عَمَّا كُنْتُ أَسْأَلُ أَبَاكَ فَقَالَ سَلْ تُخْبَرْ وَ لَا تُذِعْ فَإِنْ أَذَعْتَ فَهُوَ الذَّبْحُ فَسَأَلْتُهُ فَإِذَا هُوَ بَحْرٌ لَا يُنْزَفُ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ شِيعَتُكَ وَ شِيعَةُ أَبِيكَ ضُلَّالٌ فَأُلْقِي إِلَيْهِمْ وَ أَدْعُوهُمْ إِلَيْكَ وَ قَدْ أَخَذْتَ عَلَيَّ الْكِتْمَانَ قَالَ مَنْ آنَسْتَ مِنْهُ رُشْداً فَأَلْقِ إِلَيْهِ وَ خُذْ عَلَيْهِ الْكِتْمَانَ فَإِنْ أَذَاعُوا فَهُوَ الذَّبْحُ وَ أَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى حَلْقِهِ قَالَ فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَلَقِيتُ أَبَا جَعْفَرٍ الْأَحْوَلَ فَقَالَ لِي مَا وَرَاءَكَ قُلْتُ الْهُدَى فَحَدَّثْتُهُ بِالْقِصَّةِ قَالَ ثُمَّ لَقِينَا الْفُضَيْلَ وَ أَبَا بَصِيرٍ فَدَخَلَا عَلَيْهِ وَ سَمِعَا كَلَامَهُ وَ سَاءَلَاهُ وَ قَطَعَا عَلَيْهِ بِالْإِمَامَةِ ثُمَّ لَقِينَا النَّاسَ أَفْوَاجاً فَكُلُّ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ قَطَعَ إِلَّا طَائِفَةَ عَمَّارٍ وَ أَصْحَابَهُ وَ بَقِيَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَدْخُلُ إِلَيْهِ إِلَّا قَلِيلٌ مِنَ النَّاسِ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ مَا حَالَ النَّاسَ فَأُخْبِرَ أَنَّ هِشَاماً صَدَّ عَنْكَ النَّاسَ قَالَ هِشَامٌ فَأَقْعَدَ لِي بِالْمَدِينَةِ غَيْرَ وَاحِدٍ لِيَضْرِبُونِي .
اردو
محمد بن یحیی، احمد بن محمد بن عیسی سے، ابو یحییٰ الواسطی سے، ہشام بن سالم سے، انہوں نے کہا: ہم مدینہ میں ابو عبداللہ (عليه السلام) کے وصال کے بعد تھے، میں اور صاحب الطاق، جبکہ لوگ عبداللہ بن جعفر کے گرد جمع تھے اور اسے اپنے والد کے بعد صاحبِ امر سمجھتے تھے۔ پھر ہم اس کے پاس داخل ہوئے، میں اور صاحب الطاق، جبکہ لوگ اس کے پاس تھے۔ یہ اس لیے تھا کہ انہوں نے ابو عبداللہ (عليه السلام) سے روایت کی تھی کہ انہوں نے فرمایا: معاملہ بڑے کے ساتھ ہے جب تک اس میں کوئی عیب نہ ہو۔ ہم اس کے پاس گئے اور اس سے وہی پوچھا جو ہم اس کے والد سے پوچھا کرتے تھے۔ پھر ہم نے اس سے زکات کے بارے میں پوچھا کہ کس مقدار پر واجب ہوتی ہے۔ اس نے کہا: دو سو پر، پانچ۔ ہم نے کہا: پھر سو پر؟ اس نے کہا: دو درہم اور نصف۔ ہم نے کہا: اللہ کی قسم، مرجئہ تو یہ بھی نہیں کہتے۔ اس نے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اٹھایا اور کہا: اللہ کی قسم، میں نہیں جانتا مرجئہ کیا کہتے ہیں۔ اس نے کہا: پس ہم اس کے پاس سے گمراہ ہو کر نکلے، یہ نہ جانتے ہوئے کہ کدھر رخ کریں، میں اور ابو جعفر الاحول۔ ہم مدینہ کی بعض گلیوں میں بیٹھ گئے، روتے ہوئے اور حیران، یہ نہ جانتے ہوئے کہ کدھر رخ کریں اور کس کی طرف جائیں۔ ہم کہہ رہے تھے: مرجئہ کی طرف؟ قدریہ کی طرف؟ زیدیہ کی طرف؟ معتزلہ کی طرف؟ خوارج کی طرف؟ ہم اسی حالت میں تھے کہ میں نے ایک بوڑھے آدمی کو دیکھا جسے میں نہیں جانتا تھا، وہ اپنے ہاتھ سے میری طرف اشارہ کر رہا تھا۔ مجھے خوف ہوا کہ کہیں وہ ابو جعفر منصور کے جاسوسوں میں سے نہ ہو، کیونکہ اس کے مدینہ میں جاسوس تھے جو دیکھتے تھے کہ جعفر (عليه السلام) کے شیعہ کس پر متفق ہوتے ہیں، پھر اس کی گردن مار دیتے تھے۔ پس مجھے خوف ہوا کہ وہ انہی میں سے ہو۔ تو میں نے الاحول سے کہا: ہٹ جاؤ، کیونکہ مجھے اپنی بھی فکر ہے اور تمہاری بھی۔ وہ صرف مجھے چاہتا ہے، تمہیں نہیں، اس لیے مجھ سے ہٹ جاؤ کہیں تم ہلاک نہ ہو جاؤ اور اپنے ہی خلاف مدد نہ کرو۔ چنانچہ وہ کچھ فاصلے پر ہٹ گیا، اور میں اس بوڑھے کے پیچھے چل پڑا، کیونکہ میں نے سمجھا کہ میں اس سے بچ نہیں سکوں گا۔ میں اس کے پیچھے چلتا رہا، موت کا ارادہ کیے ہوئے، یہاں تک کہ وہ مجھے ابو الحسن (عليه السلام) کے دروازے تک لے آیا۔ پھر وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔ دروازے پر ایک خادم تھا جس نے مجھ سے کہا: اندر آ جاؤ، اللہ تم پر رحم کرے۔ تو میں اندر داخل ہوا، اور وہاں ابو الحسن موسیٰ (عليه السلام) تھے۔ انہوں نے بات شروع کرتے ہوئے مجھ سے فرمایا: نہ مرجئہ کی طرف، نہ قدریہ کی طرف، نہ زیدیہ کی طرف، نہ معتزلہ کی طرف، نہ خوارج کی طرف؛ میری طرف، میری طرف۔ میں نے عرض کیا: میں آپ پر قربان، آپ کے والد وفات پا گئے؟ فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: کیا وہ وفات پا گئے، یعنی موت کے ساتھ؟ فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: پھر ان کے بعد ہمارے لیے کون ہے؟ فرمایا: اگر اللہ چاہے کہ تمہیں ہدایت دے تو وہ تمہیں ہدایت دے گا۔ میں نے عرض کیا: میں آپ پر قربان، عبداللہ کا گمان ہے کہ وہ اپنے والد کے بعد ہیں۔ فرمایا: عبداللہ چاہتا ہے کہ اللہ کی عبادت نہ کی جائے۔ انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا، میں آپ پر قربان، پھر ان کے بعد ہمارے لیے کون ہے؟ فرمایا: اگر اللہ چاہے کہ تمہیں ہدایت دے تو وہ تمہیں ہدایت دے گا۔ انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا، میں آپ پر قربان، تو کیا آپ ہی وہ ہیں؟ فرمایا: نہیں، میں یہ نہیں کہتا۔ انہوں نے فرمایا: تو میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں سوال کا طریقہ درست نہ پا سکا۔ پھر میں نے ان سے کہا: میں آپ پر قربان، کیا آپ پر کوئی امام ہے؟ فرمایا: نہیں۔ پھر میرے اندر ایسی ہیبت اور تعظیم پیدا ہوئی جسے اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہ اس کے باپ سے میرے دل میں آنے والی کیفیت سے بھی زیادہ تھی جب میں ان کے پاس داخل ہوتا تھا۔ پھر میں نے ان سے کہا: میں آپ پر قربان، کیا میں آپ سے وہی پوچھوں جو میں آپ کے والد سے پوچھتا تھا؟ انہوں نے فرمایا: پوچھو، تمہیں بتایا جائے گا، مگر اسے ظاہر نہ کرنا، کیونکہ اگر تم نے ظاہر کیا تو وہ ذبح ہے۔ پھر میں نے ان سے سوال کیا، تو وہ ایک ایسا سمندر تھے جو کبھی کم نہیں ہوتا۔ میں نے کہا: میں آپ پر قربان، آپ کے شیعہ اور آپ کے والد کے شیعہ گمراہ ہیں؛ کیا میں ان تک یہ بات پہنچاؤں اور انہیں آپ کی طرف بلاؤں، جبکہ آپ نے مجھ سے رازداری لی ہے؟ فرمایا: جس میں تم پختگی محسوس کرو، اس تک یہ بات پہنچاؤ، اور اس سے رازداری لے لو؛ کیونکہ اگر وہ اسے ظاہر کریں تو یہ ذبح ہے۔ اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا۔ فرمایا: پھر میں اس کے پاس سے نکلا اور ابو جعفر الاحول سے ملا۔ اس نے مجھ سے کہا: کیا خبر لائے ہو؟ میں نے کہا: ہدایت۔ پھر میں نے اسے سارا واقعہ سنایا۔ پھر ہم فضیل اور ابو بصیر سے ملے، اور وہ اس کے پاس داخل ہوئے، اس کی باتیں سنیں، اس سے سوال کیا، اور اس کی امامت پر یقین کر لیا۔ پھر ہم لوگوں سے گروہ در گروہ ملے؛ جو بھی اس کے پاس داخل ہوا وہ یقین کر لیتا، سوائے عمار اور اس کے ساتھیوں کے گروہ کے۔ عبداللہ باقی رہا، اور اس کے پاس صرف چند لوگ داخل ہوتے تھے۔ جب اس نے یہ دیکھا تو کہا: لوگوں کا کیا حال ہے؟ اسے بتایا گیا کہ ہشام نے لوگوں کو تم سے روک دیا ہے۔ ہشام نے کہا: مدینہ میں میرے لیے ایک سے زیادہ آدمی مقرر کیے گئے تھے تاکہ مجھے ماریں۔
Translation
Muhammad Bin Yahya, from Ahmad Bin Muhammad Bin Isa, from Abu Yahya Al Wasity, from Hisham Bin Salim who said, ‘We were at Al-Medina after the passing away of Abu Abdullah<sup>asws</sup>. I and Sahib Al-Taaq and the people had gathered at Abdullah son of Ja’far<sup>asws</sup>, as being the master of the command after his father<sup>asws</sup>. So, I and Sahib Al-Taaq went over to him, and the people were in his presence, and that they had been reporting from Abu Abdullah<sup>asws</sup> that he<sup>asws</sup> had said that the command is to be in the eldest (son) for as long as there does not happen to be any disability with him. So we went over to him to ask him about what we had asked his father<sup>asws</sup> about. So we asked him about the Zakat, in how much is it Obligated. So he said, ‘In two hundred and fifty’. So we said, ‘So (what about) in one hundred?’ So he said, ‘Two Dirhams and a half’. So we said, ‘By Allah<sup>azwj</sup>, the Murjiites are not saying this!’ So he raised his hands towards the sky and he said, ‘By Allah<sup>azwj</sup>! I do not know what the Murjiites are saying’. He (the narrator) said, ‘So we went out from his presence straying, not knowing to where we should be heading, I and Abu Ja’far Al-Ahowl. So we sat in one of the alleyways of Al-Medina, crying, confused, not knowing to where we should be heading nor whom we should be seeking, and we were saying, ‘(Shall we go) to the Murjiites, to the Qadiriites, to the Zaydiites, to the Mu’tazilites, to the Khawarijites?’. So we were like that when we saw an old man whom I did not recognise gestured to me by his hand. So we feared that he might happen to be a spy from the spies of Abu Ja’far Al-Mansour (the Caliph), and that he used to have spies for him at Al-Medina who were looking at whom the Shias of Ja’far<sup>asws</sup> had united upon, so they could strike off their necks. So I feared he might happen be from them. So I said to Al-Ahowl, ‘Leave me alone, for I fear upon myself and upon you, and rather, he is intending me and is not intending you. Therefore leave me and do not perish and look after yourself’. So he moved away, nor far, and I followed the old man, and that is because I thought that I would not be able to free myself from him. So I did not cease to follow him, and I had been determined upon the death until he came with me to the door of Abu Al-Hassan<sup>asws</sup>. Then he left me alone and left, and there was a servant at the door who said to me, ‘لِيَ ادْخُلْ رَحِمَكَ اللَّهُ’ ‘Enter, may Allah<sup>azwj</sup> have Mercy on you!’ So I entered, and there was Abu Al-Hassan Musa<sup>asws</sup>, and he<sup>asws</sup> said to me initiating from him<sup>asws</sup>: ‘Neither to the Murjiites, not to the Qadiriites, not to the Zaydiites, not to the Mu’tazilites, nor to the Khawarifites. To me<sup>asws</sup>, to me<sup>asws</sup>!’ So I said, ‘May I be sacrificed for you<sup>asws</sup>! Your<sup>asws</sup> father<sup>asws</sup> has expired’. He<sup>asws</sup> said: ‘Yes’. I said, ‘An expiry of death?’ He<sup>asws</sup> said: ‘Yes’. I said, ‘So who is for us from after him<sup>asws</sup>?’ So he<sup>asws</sup> said: ‘If Allah<sup>azwj</sup> so Desires to Guide you, He<sup>azwj</sup> will Guide you’. I said, ‘May I be sacrificed for you<sup>asws</sup>! Abdullah is alleging that he is the one from after his father<sup>asws</sup>’. He<sup>asws</sup> said: ‘Abdullah intends that Allah<sup>azwj</sup> is not worshipped’. He (the narrator) said, ‘I said, ‘May I be sacrificed for you<sup>asws</sup>! So who is for us from after him<sup>asws</sup>?’ He<sup>asws</sup> said: ‘If Allah<sup>azwj</sup> so Desires to Guide you, He<sup>azwj</sup> will Guide you’. I said, ‘May I be sacrificed for you<sup>asws</sup>! So you<sup>asws</sup> are him<sup>asws</sup> (the Imam<sup>asws</sup> of the time)?’ He<sup>asws</sup> said: ‘I<sup>asws</sup> am not saying that’. So I said within myself, ‘I have not been correct in the way of my questioning’. Then I said, ‘May I be sacrificed for you<sup>asws</sup>! Is there an Imam over you<sup>asws</sup>?’ He<sup>asws</sup> said: ‘No’. So there entered something into me none knows except for Allah<sup>azwj</sup> Mighty and Majestic, a reverence for him<sup>asws</sup> and awe more than what I used to be overwhelmed with from his<sup>asws</sup> father<sup>asws</sup> whenever I went over to him<sup>asws</sup>. Then I said to him<sup>asws</sup>, ‘May I be sacrificed for you<sup>asws</sup>! I (want to) ask you<sup>asws</sup> about what I<sup>asws</sup> had asked your<sup>asws</sup> father<sup>asws</sup>’. So he<sup>asws</sup> said: ‘Ask. I<sup>asws</sup> shall inform you and do not broadcast, for if you were to broadcast, so there would be the slaughter’. So I asked him<sup>asws</sup>, and he<sup>asws</sup> was an ocean, not depleting. I said, ‘May I be sacrificed for you<sup>asws</sup>! Your<sup>asws</sup> Shias and the Shias of your<sup>asws</sup> father<sup>asws</sup> are straying, so can I deliver to them and call them to you<sup>asws</sup>, and I would take it upon me for the concealment?’ He<sup>asws</sup> said: ‘The one whom you are friendly from and is rational, so deliver to him and take the (promise of) concealment upon him, for if you were to broadcast, then there would be the slaughter’, and he<sup>asws</sup> gestured by his<sup>asws</sup> hand to his<sup>asws</sup> throat. He (the narrator) said, ‘So I went out from his<sup>asws</sup> presence and met up with Abu Ja’far Al-Ahowl. So he said to me, ‘What is behind you?’ I said, ‘The Guidance’. And I narrated to him with the story. Then we met Al-Fuzayl and Abu Baseer, so they both went over to him<sup>asws</sup> and heard his<sup>asws</sup> speech, and they both asked him<sup>asws</sup>, and cut-off to him<sup>asws</sup> (from the others) with the Imamate. Then we met the people in droves. So everyone who went over to him<sup>asws</sup>, cut-off (from others) except for the group of Ammar and his companions. And there remained Abdullah, none were going to him except for a few from the people. So when he saw that, he said, ‘What is the matter with the people?’ So he was informed, ‘Hisham is blocking the people from you’. Hisham said, ‘So they laid waiting to ambush me at Al-Medina, more than once, in order to strike me’.
Compiled by Shaykh Muhammad ibn Ya'qub al-Kulayni
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.