John Shaqi

243 - وَقَالَ اَلصَّادِقُ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ: «لاَ تَتَّكِ فِي اَلْحَمَّامِ فَإِنَّهُ يُذِيبُ شَحْمَ اَلْكُلْيَتَيْنِ وَ لاَ تُسَرِّحْ فِي اَلْحَمَّامِ فَإِنَّهُ يُرَقِّقُ اَلشَّعْرَ وَ لاَ تَغْسِلْ رَأْسَكَ بِالطِّينِ فَإِنَّهُ يُسَمِّجُ اَلْوَجْهَ» وَ فِي حَدِيثٍ آخَرَ «يَذْهَبُ بِالْغَيْرَةِ وَ لاَ تَدَلَّكْ بِالْخَزَفِ فَإِنَّهُ يُورِثُ اَلْبَرَصَ وَ لاَ تَمْسَحْ وَجْهَكَ بِالْإِزَارِ فَإِنَّهُ يَذْهَبُ بِمَاءِ اَلْوَجْهِ. وَ رُوِيَ «أَنَّ ذَلِكَ طِينُ مِصْرَ وَ خَزَفُ اَلشَّامِ. والسواك في الحمام يورث وباء الأسنان. ولا يجوز التطهير والغسل بغسالة الحمام.


اردو

243 - امام الصادق علیہ السلام نے فرمایا: ‘‘حمام میں نہ لیٹیں کیونکہ یہ دونوں گردوں کی چربی کو پگھلا دیتا ہے۔ حمام میں بال نہ کنگھی کریں کیونکہ یہ بالوں کو پتلا کر دیتا ہے۔ مٹی سے اپنا سر نہ دھوئیں کیونکہ یہ چہرے کو بدصورت کر دیتا ہے۔’’ اور ایک اور حدیث میں فرمایا: ‘‘یہ غیرت کو ختم کر دیتا ہے۔ مٹی کے برتن سے اپنے آپ کو نہ ملیں کیونکہ یہ جذام پیدا کرتا ہے۔ اپنی صورت کو ایزار سے نہ پونچھیں کیونکہ یہ چہرے کا پانی ختم کر دیتا ہے۔’’ اور روایت ہے: ‘‘یہ مصر کی مٹی اور شام کے مٹی کے برتن کی طرف اشارہ ہے۔ حمام میں مسواک کرنے سے دانتوں کی بیماری ہوتی ہے۔ حمام کے گندے پانی سے وضو اور غسل کرنا جائز نہیں ہے۔’’


Translation

Hadith.243 - Imam Jafar ibn Muhammad Al-Sadiq (as) said: 'Do not recline in the bathhouse, for it melts the fat around the kidneys. Do not comb your hair in the bathhouse, for it weakens the hair. Do not wash your head with clay, for it disfigures the face,' and in another narration, 'it removes protective modesty (ghayrah). Do not scrub with pottery shards (khuzfah), for it causes leprosy, And do not wipe your face with the izar (waistcloth), for it removes the glamour of the face. And it is narrated that this refers to the clay of Egypt and the khuzfah (pottery) of Sham."


Chapter (Bab)باب - غسل يوم الجمعة ودخول الحمام وآدابه وما جاء في التنظيف والزينة

Compiled by Shaykh al-Saduq (Ibn Babawayh)

Source

License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)

Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.