John Shaqi

515 - وَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ: «مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فِي اَلدُّنْيَا فَيَسْتَرْجِعُ عِنْدَ مُصِيبَتِهِ وَ يَصْبِرُ حِينَ تَفْجَأُهُ اَلْمُصِيبَةُ إِلاَّ غَفَرَ اَللَّهُ لَهُ مَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِهِ إِلاَّ اَلْكَبَائِرَ اَلَّتِي أَوْجَبَ اَللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَيْهَا اَلنَّارَ وَ كُلَّمَا ذَكَرَ مُصِيبَتَهُ فِيمَا يَسْتَقْبِلُ مِنْ عُمُرِهِ فَاسْتَرْجَعَ عِنْدَهَا وَ حَمِدَ اَللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ عِنْدَهَا، غَفَرَ اَللَّهُ لَهُ كُلَّ ذَنْبٍ اِكْتَسَبَهُ فِيمَا بَيْنَ اَلاِسْتِرْجَاعِ اَلْأَوَّلِ إِلَى اَلاِسْتِرْجَاعِ اَلْأَخِيرِ إِلاَّ اَلْكَبَائِرَ مِنَ اَلذُّنُوبِ.


اردو

ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: کوئی مؤمن نہیں جو دنیا میں کسی مصیبت سے دوچار ہو، پھر اپنی مصیبت کے وقت استرجاع پڑھے اور جب مصیبت اسے پہنچے صبر کرے، مگر اللہ تعالیٰ اس کے گزرے ہوئے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے، سوائے ان کبیرہ گناہوں کے جن کے لیے اللہ عزوجل نے آگ واجب فرمائی ہے۔ اور جب بھی وہ اپنی مصیبت کو اپنی باقی عمر میں یاد کرے، پھر اس پر استرجاع پڑھے اور اللہ عزوجل کی حمد کرے، اللہ اس کے لیے پہلے استرجاع سے لے کر آخری استرجاع تک جو بھی گناہ اس نے کیے ہوں، معاف فرما دیتا ہے، سوائے کبیرہ گناہوں کے۔


Translation

Hadith.515 - Imam Muhammad ibn Ali Al-Baqir (as) said: "Whenever a believer is afflicted with a calamity in this world and responds by reciting the phrase of 'istirja' (saying 'Indeed, we belong to Allah (swt) and to Him we will return') at the moment of calamity and exhibits patience, Allah (swt) forgives their past sins, except for major sins for which Allah (swt) has decreed Hellfire. Additionally, each time the believer remembers that calamity in the future, recites 'istirja' again, and praises Allah (swt), Allah (swt) forgives all sins committed between the first instance of istirja' and the next, except for major sins."


Chapter (Bab)باب - باب التعزية والجزع عند المصيبة وزيارة القبور والنوح والمأتم

Compiled by Shaykh al-Saduq (Ibn Babawayh)

Source

License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)

Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.