John Shaqi

اَلنَّسِيئَةِ ». فَرَأَى اِبْنُ عَبَّاسٍ هَذَا اَلْخَبَرَ دَلِيلاً عَلَى أَنَّهُ لاَ رِبَا إِلاَّ فِي اَلنَّسِيئَةِ وَ يَدُلُّ أَيْضاً عَلَى أَنَّ لَفْظَةَ إِنَّمَا تُفِيدُ مَا ذَكَرْنَاهُ أَنَّ اَلصَّحَابَةَ لَمَّا تَنَازَعَتْ فِي اِلْتِقَاءِ اَلْخِتَانَيْنِ وَ اِحْتَجَّ مَنْ لَمْ يَرَ ذَلِكَ مُوجِباً لِلْغُسْلِ .


اردو

آپؐ کے اس فرمان کے ذریعے: “ربا صرف نسیئہ میں ہے۔” پس ابن عباسؓ نے اس روایت کو اس بات کی دلیل سمجھا کہ ربا صرف نسیئہ میں ہے۔ یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ لفظ “انما” وہی مفہوم دیتا ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے، یعنی جب صحابہ کرام دو ختنوں کے ملنے کے بارے میں اختلاف کرتے تھے تو جن لوگوں کے نزدیک اس سے غسل واجب نہیں ہوتا تھا، وہ اسی کو دلیل بناتے تھے۔


Chapter (Bab)4 - بَابُ صِفَةِ اَلْوُضُوءِ وَ اَلْفَرْضِ مِنْهُ وَ اَلسُّنَّةِ وَ اَلْفَضِيلَةِ فِيهِ

Compiled by Shaykh al-Tusi

Source

License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)

Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.