: سَأَلْتُ أَبَا اَلْحَسَنِ اَلْمَاضِيَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ عَنِ اَلنُّفَسَاءِ وَ كَمْ يَجِبُ عَلَيْهَا تَرْكُ اَلصَّلاَةِ قَالَ «تَدَعُ اَلصَّلاَةَ مَا دَامَتْ تَرَى اَلدَّمَ اَلْعَبِيطَ إِلَى ثَلاَثِينَ يَوْماً فَإِذَا رَقَّ وَ كَانَتْ صُفْرَةٌ اِغْتَسَلَتْ وَ صَلَّتْ إِنْ شَاءَ اَللَّهُ تَعَالَى».
اردو
اس سند کے ساتھ، احمد بن محمد سے، حسن بن علی بن یقطین سے، ان کے بھائی حسین سے، علی بن یقطین سے، جنہوں نے کہا: میں نے ابا الحسن الماضی علیہ السلام سے نفاس والی عورت کے بارے میں اور اس پر نماز چھوڑنا کتنے عرصے واجب ہے، پوچھا۔ آپ نے فرمایا: “جب تک وہ گاڑھا تازہ خون دیکھتی رہے، وہ نماز چھوڑے رہے، تیس دن تک۔ پھر جب وہ پتلا ہو جائے اور زردی بن جائے تو وہ غسل کرے اور نماز پڑھے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے۔”
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.