حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْوَحْىِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لاَ يَرَى رُؤْيَا إِلاَّ جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلاَءُ، وَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ ـ وَهُوَ التَّعَبُّدُ ـ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ، فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا، حَتَّى جَاءَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ، فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ اقْرَأْ. قَالَ " مَا أَنَا بِقَارِئٍ ". قَالَ " فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ. قُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ. فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ * خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ * اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ} ". فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْجُفُ فُؤَادُهُ، فَدَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ رضى الله عنها فَقَالَ " زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي ". فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ، فَقَالَ لِخَدِيجَةَ وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ " لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي ". فَقَالَتْ خَدِيجَةُ كَلاَّ وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ. فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزّ
ہم کو یحییٰ بن بکیر نے یہ حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی ہم کو لیث نے خبر دی، لیث عقیل سے روایت کرتے ہیں۔ عقیل ابن شہاب سے، وہ عروہ بن زبیر سے، وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا ابتدائی دور اچھے سچے پاکیزہ خوابوں سے شروع ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں جو کچھ دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح صحیح اور سچا ثابت ہوتا۔ پھر من جانب قدرت آپ صلی اللہ علیہ وسلم تنہائی پسند ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار حرا میں خلوت نشینی اختیار فرمائی اور کئی کئی دن اور رات وہاں مسلسل عبادت اور یاد الٰہی و ذکر و فکر میں مشغول رہتے۔ جب تک گھر آنے کو دل نہ چاہتا توشہ ہمراہ لیے ہوئے وہاں رہتے۔ توشہ ختم ہونے پر ہی اہلیہ محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے اور کچھ توشہ ہمراہ لے کر پھر وہاں جا کر خلوت گزیں ہو جاتے، یہی طریقہ جاری رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حق منکشف ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا ہی میں قیام پذیر تھے کہ اچانک جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اے محمد! پڑھو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ فرشتے نے مجھے پکڑ کر اتنے زور سے بھینچا کہ میری طاقت جواب دے گئی، پھر مجھے چھوڑ کر کہا کہ پڑھو، میں نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس فرشتے نے مجھ کو نہایت ہی زور سے بھینچا کہ مجھ کو سخت تکلیف محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا کہ پڑھ! میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ فرشتے نے تیسری بار مجھ کو پکڑا اور تیسری مرتبہ پھر مجھ کو بھینچا پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگا کہ پڑھو اپنے رب کے نام کی مدد سے جس نے پیدا کیا اور انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا، پڑھو اور آپ کا رب بہت ہی مہربانیاں کرنے والا ہے۔ پس یہی آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام سے سن کر اس حال میں غار حرا سے واپس ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل اس انوکھے واقعہ سے کانپ رہا تھا۔
Sahih al-Bukhari 3 ↗
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاعْتَمَرْنَا مَعَهُ فَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ طَافَ وَطُفْنَا مَعَهُ، وَأَتَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ وَأَتَيْنَاهَا مَعَهُ، وَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَرْمِيَهُ أَحَدٌ. فَقَالَ لَهُ صَاحِبٌ لِي أَكَانَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ قَالَ لاَ. قَالَ فَحَدِّثْنَا مَا، قَالَ لِخَدِيجَةَ. قَالَ " بَشِّرُوا خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ ".
Narrated Isma`il:`Abdullah bin Abu `Aufa said: "Allah's Messenger (ﷺ) performed `Umra and we too performed `Umra along with him. When he entered Mecca he performed the Tawaf (of Ka`ba) and we too performed it along with him, and then he came to the As-Safa and Al-Marwa (i.e. performed the Sai) and we also came to them along with him. We were shielding him from the people of Mecca lest they may hit him with an arrow." A friend of his asked him (i.e. `Abdullah bin `Aufa), "Did the Prophet (ﷺ) enter the Ka`ba (during that `Umra)?" He replied in the negative. Then he said, "What did he (the Prophet (ﷺ) ) say about Khadija?" He (Abdullah bin `Aufa) said, "(He said) 'Give Khadija the good tidings that she will have a palace made of Qasab in Paradise and there will be neither noise nor any trouble in it
Sahih al-Bukhari 1791 ↗
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاعْتَمَرْنَا مَعَهُ فَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ طَافَ وَطُفْنَا مَعَهُ، وَأَتَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ وَأَتَيْنَاهَا مَعَهُ، وَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَرْمِيَهُ أَحَدٌ. فَقَالَ لَهُ صَاحِبٌ لِي أَكَانَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ قَالَ لاَ. قَالَ فَحَدِّثْنَا مَا، قَالَ لِخَدِيجَةَ. قَالَ " بَشِّرُوا خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ ".
Narrated Isma`il:`Abdullah bin Abu `Aufa said: "Allah's Messenger (ﷺ) performed `Umra and we too performed `Umra along with him. When he entered Mecca he performed the Tawaf (of Ka`ba) and we too performed it along with him, and then he came to the As-Safa and Al-Marwa (i.e. performed the Sai) and we also came to them along with him. We were shielding him from the people of Mecca lest they may hit him with an arrow." A friend of his asked him (i.e. `Abdullah bin `Aufa), "Did the Prophet (ﷺ) enter the Ka`ba (during that `Umra)?" He replied in the negative. Then he said, "What did he (the Prophet (ﷺ) ) say about Khadija?" He (Abdullah bin `Aufa) said, "(He said) 'Give Khadija the good tidings that she will have a palace made of Qasab in Paradise and there will be neither noise nor any trouble in it
Sahih al-Bukhari 1792 ↗
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، سَمِعْتُ عُرْوَةَ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها فَرَجَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَدِيجَةَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ إِلَى وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، وَكَانَ رَجُلاً تَنَصَّرَ يَقْرَأُ الإِنْجِيلَ بِالْعَرَبِيَّةِ. فَقَالَ وَرَقَةُ مَاذَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ. فَقَالَ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى، وَإِنْ أَدْرَكَنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا. النَّامُوسُ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي يُطْلِعُهُ بِمَا يَسْتُرُهُ عَنْ غَيْرِهِ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ انہوں نے عروہ بن زبیر سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ‘ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( غار حراء سے ) ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس لوٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل دھڑک رہا تھا۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، وہ نصرانی ہو گئے تھے اور انجیل کو عربی میں پڑھتے تھے۔ ورقہ نے پوچھا کہ آپ کیا دیکھتے ہیں؟ آپ نے انہیں بتایا تو انہوں نے کہا کہ یہی ہیں وہ «ناموس» جنہیں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا اور اگر میں تمہارے زمانے تک زندہ رہا تو میں تمہاری پوری مدد کروں گا۔ «ناموس» محرم راز کو کہتے ہیں جو ایسے راز سے بھی آگاہ ہو جو آدمی دوسروں سے چھپائے۔
Sahih al-Bukhari 3392 ↗
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ ".
مجھ سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا، ان سے ہشام، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، کہا کہ میں نے عبداللہ بن جعفر سے سنا، کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ مریم بنت عمران ( اپنے زمانہ میں ) سب سے بہترین خاتون تھیں اور اس امت کی سب سے بہترین خاتون خدیجہ ہیں ( رضی اللہ عنہا ) ۔
Sahih al-Bukhari 3432 ↗
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ح حَدَّثَنِي صَدَقَةُ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنهم ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ ".
مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو خبر دی عبدہ نے، انہیں ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن جعفر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا ( دوسری سند ) اور مجھ سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام نے ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن جعفر سے سنا انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( اپنے زمانے میں ) مریم علیہاالسلام سب سے افضل عورت تھیں اور ( اس امت میں ) خدیجہ ( رضی اللہ عنہا ) سب سے افضل ہیں۔“
Sahih al-Bukhari 3815 ↗
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ كَتَبَ إِلَىَّ هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، هَلَكَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي، لِمَا كُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْكُرُهَا، وَأَمَرَهُ اللَّهُ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ فَيُهْدِي فِي خَلاَئِلِهَا مِنْهَا مَا يَسَعُهُنَّ.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ ہشام نے میرے پاس اپنے والد ( عروہ ) سے لکھ کر بھیجا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی کے معاملہ میں، میں نے اتنی غیرت نہیں محسوس کی جتنی غیرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے معاملہ میں محسوس کرتی تھی وہ میرے نکاح سے پہلے ہی وفات پا چکی تھیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے میں ان کا ذکر سنتی رہتی تھی۔ اور اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا تھا کہ انہیں ( جنت میں ) موتی کے محل کی خوشخبری سنا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کبھی بکری ذبح کرتے تو ان سے میل محبت رکھنے والی خواتین کو اس میں سے اتنا ہدیہ بھیجتے جو ان کے لیے کافی ہو جاتا۔
Sahih al-Bukhari 3816 ↗
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، مِنْ كَثْرَةِ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِيَّاهَا. قَالَتْ وَتَزَوَّجَنِي بَعْدَهَا بِثَلاَثِ سِنِينَ، وَأَمَرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ جِبْرِيلُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے معاملہ میں، میں جتنی غیرت محسوس کرتی تھی اتنی کسی عورت کے معاملے میں نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ذکر اکثر کیا کرتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح ان کی وفات کے تین سال بعد ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا یا جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ یہ پیغام پہنچایا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جنت میں موتیوں کے ایک محل کی بشارت دے دیں۔
Sahih al-Bukhari 3817 ↗
حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَسَنٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، وَمَا رَأَيْتُهَا، وَلَكِنْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ ذِكْرَهَا، وَرُبَّمَا ذَبَحَ الشَّاةَ، ثُمَّ يُقَطِّعُهَا أَعْضَاءً، ثُمَّ يَبْعَثُهَا فِي صَدَائِقِ خَدِيجَةَ، فَرُبَّمَا قُلْتُ لَهُ كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِي الدُّنْيَا امْرَأَةٌ إِلاَّ خَدِيجَةُ. فَيَقُولُ إِنَّهَا كَانَتْ وَكَانَتْ، وَكَانَ لِي مِنْهَا وَلَدٌ.
مجھ سے عمر بن محمد بن حسن نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے حفص نے بیان کیا، ان سے ہشام نے ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آتی تھی اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی حالانکہ انہیں میں نے دیکھا بھی نہیں تھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ذکر بکثرت فرمایا کرتے تھے اور اگر کوئی بکری ذبح کرتے تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ملنے والیوں کو بھیجتے تھے۔ میں نے اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جیسے دنیا میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کے سوا کوئی عورت ہے ہی نہیں! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ وہ ایسی تھیں اور ایسی تھیں اور ان سے میرے اولاد ہے۔
Sahih al-Bukhari 3818 ↗
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنهما ـ بَشَّرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَدِيجَةَ قَالَ نَعَمْ بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کو بشارت دی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں، جنت میں موتیوں کے ایک محل کی بشارت دی تھی، جہاں نہ کوئی شور و غل ہو گا اور نہ تھکن ہو گی۔
Sahih al-Bukhari 3819 ↗
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ، فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلاَمَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي، وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ، لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ! خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس ایک برتن لیے آ رہی ہیں جس میں سالن یا ( فرمایا ) کھانا یا ( فرمایا ) پینے کی چیز ہے جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے رب کی جانب سے انہیں سلام پہنچا دیجئیے گا اور میری طرف سے بھی! اور انہیں جنت میں موتیوں کے ایک محل کی بشارت دے دیجئیے گا جہاں نہ شور و ہنگامہ ہو گا اور نہ تکلیف و تھکن ہو گی۔
Sahih al-Bukhari 3820 ↗
وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اسْتَأْذَنَتْ هَالَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ أُخْتُ خَدِيجَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَعَرَفَ اسْتِئْذَانَ خَدِيجَةَ فَارْتَاعَ لِذَلِكَ، فَقَالَ " اللَّهُمَّ هَالَةَ ". قَالَتْ فَغِرْتُ فَقُلْتُ مَا تَذْكُرُ مِنْ عَجُوزٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ، حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ، هَلَكَتْ فِي الدَّهْرِ، قَدْ، أَبْدَلَكَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا
اور اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، انہیں علی بن مسہر نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہالہ بنت خویلد نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدیجہ رضی اللہ عنہا کی اجازت لینے کی ادا یاد آ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونک اٹھے اور فرمایا ”اللہ! یہ تو ہالہ ہیں“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مجھے اس پر بڑی غیرت آئی، میں نے کہا آپ قریش کی کس بوڑھی کا ذکر کیا کرتے ہیں جس کے مسوڑوں پر بھی دانتوں کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے ( صرف سرخی باقی رہ گئی تھی ) اور جسے مرے ہوئے بھی ایک زمانہ گزر چکا ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر بیوی دے دی ہے۔
Sahih al-Bukhari 3821 ↗
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ قَبْلَ مَخْرَجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَدِينَةِ بِثَلاَثِ سِنِينَ، فَلَبِثَ سَنَتَيْنِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، وَنَكَحَ عَائِشَةَ وَهْىَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، ثُمَّ بَنَى بِهَا وَهْىَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ.
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے بیان کیا کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کو ہجرت سے تین سال پہلے ہو گئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی وفات کے تقریباً دو سال بعد عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اس وقت ان کی عمر چھ سال تھی جب رخصتی ہوئی تو وہ نو سال کی تھیں۔
Sahih al-Bukhari 3896 ↗
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَكَانَ بَيْنَهُمَا شَىْءٌ فَغَدَوْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَتُرِيدُ أَنْ تُقَاتِلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ، فَتُحِلُّ حَرَمَ اللَّهِ. فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَبَنِي أُمَيَّةَ مُحِلِّينَ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لاَ أُحِلُّهُ أَبَدًا. قَالَ قَالَ النَّاسُ بَايِعْ لاِبْنِ الزُّبَيْرِ. فَقُلْتُ وَأَيْنَ بِهَذَا الأَمْرِ عَنْهُ أَمَّا أَبُوهُ فَحَوَارِيُّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، يُرِيدُ الزُّبَيْرَ، وَأَمَّا جَدُّهُ فَصَاحِبُ الْغَارِ، يُرِيدُ أَبَا بَكْرٍ، وَأُمُّهُ فَذَاتُ النِّطَاقِ، يُرِيدُ أَسْمَاءَ، وَأَمَّا خَالَتُهُ فَأُمُّ الْمُؤْمِنِينَ، يُرِيدُ عَائِشَةَ، وَأَمَّا عَمَّتُهُ فَزَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، يُرِيدُ خَدِيجَةَ، وَأَمَّا عَمَّةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَدَّتُهُ، يُرِيدُ صَفِيَّةَ، ثُمَّ عَفِيفٌ فِي الإِسْلاَمِ، قَارِئٌ لِلْقُرْآنِ. وَاللَّهِ إِنْ وَصَلُونِي وَصَلُونِي مِنْ قَرِيبٍ، وَإِنْ رَبُّونِي رَبَّنِي أَكْفَاءٌ كِرَامٌ، فَآثَرَ التُّوَيْتَاتِ وَالأُسَامَاتِ وَالْحُمَيْدَاتِ، يُرِيدُ أَبْطُنًا مِنْ بَنِي أَسَدٍ بَنِي تُوَيْتٍ وَبَنِي أُسَامَةَ وَبَنِي أَسَدٍ، إِنَّ ابْنَ أَبِي الْعَاصِ بَرَزَ يَمْشِي الْقُدَمِيَّةَ، يَعْنِي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ، وَإِنَّهُ لَوَّى ذَنَبَهُ، يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ.
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ ابن معین نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم کے درمیان بیعت کا جھگڑا پیدا ہو گیا تھا۔ میں صبح کو ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا آپ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے جنگ کرنا چاہتے ہیں، اس کے باوجود کہ اللہ کے حرم کی بےحرمتی ہو گی؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: معاذاللہ! یہ تو اللہ تعالیٰ نے ابن زبیر اور بنو امیہ ہی کے مقدر میں لکھ دیا ہے کہ وہ حرم کی بےحرمتی کریں۔ اللہ کی قسم! میں کسی صورت میں بھی اس بےحرمتی کے لیے تیار نہیں ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ لوگوں نے مجھ سے کہا تھا کہ ابن زبیر سے بیعت کر لو۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے ان کی خلافت کو تسلیم کرنے میں کیا تامل ہو سکتا ہے، ان کے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری تھے، آپ کی مراد زبیر بن عوام سے تھی۔ ان کے نانا صاحب غار تھے، اشارہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ ان کی والدہ صاحب نطاقین تھیں یعنی اسماء رضی اللہ عنہا۔ ان کی خالہ ام المؤمنین تھیں، مراد عائشہ رضی اللہ عنہا سے تھی۔ ان کی پھوپھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ تھیں، مراد خدیجہ رضی اللہ عنہا سے تھی۔ ابن عباس کی مراد ان باتوں سے یہ تھی کہ وہ بہت سی خوبیوں کے مالک ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ان کی دادی ہیں، اشارہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ اس کے علاوہ وہ خود اسلام میں ہمیشہ صاف کردار اور پاک دامن رہے اور قرآن کے عالم ہیں اور اللہ کی قسم! اگر وہ مجھ سے اچھا برتاؤ کریں تو ان کو کرنا ہی چاہئے وہ میرے بہت قریب کے رشتہ دار ہیں اور اگر وہ مجھ پر حکومت کریں تو خیر حکومت کریں وہ ہمارے برابر کے عزت والے ہیں۔ لیکن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے تو تویت، اسامہ اور حمید کے لوگوں کو ہم پر ترجیح دی ہے۔ ان کی مراد مختلف قبائل یعنی بنو اسد، بنو تویت، بنو اسامہ اور بنو اسد سے تھی۔ ادھر ابن ابی العاص بڑی عمدگی سے چ
Sahih al-Bukhari 4665 ↗
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، دَخَلْنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَلاَ تَعْجَبُونَ لاِبْنِ الزُّبَيْرِ قَامَ فِي أَمْرِهِ هَذَا فَقُلْتُ لأُحَاسِبَنَّ نَفْسِي لَهُ مَا حَاسَبْتُهَا لأَبِي بَكْرٍ وَلاَ لِعُمَرَ، وَلَهُمَا كَانَا أَوْلَى بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْهُ، وَقُلْتُ ابْنُ عَمَّةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَابْنُ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَابْنُ أَخِي خَدِيجَةَ، وَابْنُ أُخْتِ عَائِشَةَ فَإِذَا هُوَ يَتَعَلَّى عَنِّي وَلاَ يُرِيدُ ذَلِكَ فَقُلْتُ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنِّي أَعْرِضُ هَذَا مِنْ نَفْسِي، فَيَدَعُهُ، وَمَا أُرَاهُ يُرِيدُ خَيْرًا، وَإِنْ كَانَ لاَ بُدَّ لأَنْ يَرُبَّنِي بَنُو عَمِّي أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ يَرُبَّنِي غَيْرُهُمْ.
ہم سے محمد بن عبید بن میمون نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے، ان سے عمر بن سعید نے، انہیں ابن ابی ملیکہ نے خبر دی کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ابن زبیر پر تمہیں حیرت نہیں ہوتی۔ وہ اب خلافت کے لیے کھڑے ہو گئے ہیں تو میں نے ارادہ کر لیا کہ ان کے لیے محنت مشقت کروں گا کہ ایسی محنت اور مشقت میں نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے لیے بھی نہیں کی۔ حالانکہ وہ دونوں ان سے ہر حیثیت سے بہتر تھے۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کی اولاد میں سے ہیں۔ زبیر رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نواسے، خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھائی کے بیٹے، عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہن کے بیٹے۔ لیکن عبداللہ بن زبیر نے کیا کیا وہ مجھ سے غرور کرنے لگے۔ انہوں نے نہیں چاہا کہ میں ان کے خاص مصاحبوں میں رہوں ( اپنے دل میں کہا ) مجھ کو ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ میں تو ان سے ایسی عاجزی کروں گا اور وہ اس پر بھی مجھ سے راضی نہ ہوں گے۔ خیر اب مجھے امید نہیں کہ وہ میرے ساتھ بھلائی کریں گے جو ہونا تھا وہ ہوا اب بنی امیہ جو میرے چچا زاد بھائی ہیں اگر مجھ پر حکومت کریں تو یہ مجھ کو اوروں کے حکومت کرنے سے زیادہ پسند ہے۔
Sahih al-Bukhari 4666 ↗
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَوَّلِ، مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ. قَالَ {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ} قُلْتُ يَقُولُونَ {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رضى الله عنهما عَنْ ذَلِكَ وَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ الَّذِي قُلْتَ فَقَالَ جَابِرٌ لاَ أُحَدِّثُكَ إِلاَّ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " جَاوَرْتُ بِحِرَاءٍ، فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي هَبَطْتُ فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا، وَنَظَرْتُ عَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا، وَنَظَرْتُ أَمَامِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا، وَنَظَرْتُ خَلْفِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ شَيْئًا، فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ دَثِّرُونِي وَصُبُّوا عَلَىَّ مَاءً بَارِدًا ـ قَالَ ـ فَدَثَّرُونِي وَصَبُّوا عَلَىَّ مَاءً بَارِدًا قَالَ فَنَزَلَتْ {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ * قُمْ فَأَنْذِرْ * وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ} ".
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے علی بن مبارک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے پوچھا کہ قرآن مجید کی کون سی آیت سب سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ «يا أيها المدثر» میں نے عرض کیا کہ لوگ تو کہتے ہیں کہ «اقرأ باسم ربك الذي خلق» سب سے پہلے نازل ہوئی۔ ابوسلمہ نے اس پر کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا تھا اور جو بات ابھی تم نے مجھ سے کہی وہی میں نے بھی ان سے کہی تھی لیکن جابر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ میں تم سے وہی حدیث بیان کرتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں غار حرا میں ایک مدت کے لیے خلوت نشیں تھا۔ جب میں وہ دن پورے کر کے پہاڑ سے اترا تو مجھے آواز دی گئی، میں نے اس آواز پر اپنے دائیں طرف دیکھا لیکن کوئی چیز نہیں دکھائی دی۔ پھر بائیں طرف دیکھا ادھر بھی کوئی چیز دکھائی نہیں دی، سامنے دیکھا ادھر بھی کوئی چیز نہیں دکھائی دی۔ پیچھے کی طرف دیکھا اور ادھر بھی کوئی چیز نہیں دکھائی دی۔ اب میں نے اپنا سر اوپر کی طرف اٹھایا تو مجھے ایک چیز دکھائی دی۔ پھر میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو۔ فرمایا کہ پھر انہوں نے مجھے کپڑا اوڑھا دیا اور ٹھنڈا پانی مجھ پر بہایا۔ فرمایا کہ پھر یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها المدثر * قم فأنذر * وربك فكبر» یعنی ”اے کپڑے میں لپٹنے والے! اٹھئیے پھر لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرایئے اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کیجئے۔“
Sahih al-Bukhari 4922 ↗
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ، سَلْمَوَيْهِ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لاَ يَرَى رُؤْيَا إِلاَّ جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلاَءُ فَكَانَ يَلْحَقُ بِغَارِ حِرَاءٍ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ ـ قَالَ وَالتَّحَنُّثُ التَّعَبُّدُ ـ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ بِمِثْلِهَا، حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهْوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ اقْرَأْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَنَا بِقَارِئٍ ". قَالَ " فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجُهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي. فَقَالَ اقْرَأْ. قُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيِةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجُهْدُ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي. فَقَالَ اقْرَأْ. قُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجُهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي. فَقَالَ {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ * خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ * اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ * الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ} ". الآيَاتِ إِلَى قَوْلِهِ {عَلَّمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ} فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ فَقَالَ " زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي ". فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ قَالَ ل
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے سعید بن مروان نے بیان کیا اور ان سے محمد بن عبدالعزیز بن ابی رزمہ نے، انہیں ابوصالح سلمویہ نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے عبداللہ نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے پہلے سچے خواب دکھائے جاتے تھے چنانچہ اس دور میں آپ جو خواب بھی دیکھ لیتے وہ صبح کی روشنی کی طرح بیداری میں نمودار ہوتا۔ پھر آپ کو تنہائی بھلی لگنے لگی۔ اس دور میں آپ غار حرا تنہا تشریف لے جاتے اور آپ وہاں «تحنث» کیا کرتے تھے۔ عروہ نے کہا کہ «تحنث» سے عبادت مراد ہے۔ آپ وہاں کئی کئی راتیں جاگتے، گھر میں نہ آتے اور اس کے لیے اپنے گھر سے توشہ لے جایا کرتے تھے۔ پھر جب توشہ ختم ہو جاتا پھر خدیجہ رضی اللہ عنہا کے یہاں لوٹ کر تشریف لاتے اور اتنا ہی توشہ پھر لے جاتے۔ اسی حال میں آپ غار حرا میں تھے کہ دفعتاً آپ پر وحی نازل ہوئی چنانچہ فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا پڑھئیے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ مجھے فرشتہ نے پکڑ لیا اور اتنا بھینچا کہ میں بےطاقت ہو گیا پھر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھئیے! میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ انہوں نے پھر دوسری مرتبہ مجھے پکڑ کر اس طرح بھینچا کہ میں بےطاقت ہو گیا اور چھوڑنے کے بعد کہا کہ پڑھئیے! میں نے اس مرتبہ بھی یہی کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ انہوں نے تیسری مرتبہ پھر اسی طرح مجھے پکڑ کر بھینچا کہ میں بےطاقت ہو گیا اور کہا کہ پڑھئیے! پڑھئیے! «اقرأ باسم ربك الذي خلق * خلق الإنسان من علق * اقرأ وربك الأكرم * الذي علم بالقلم» ”اپنے پروردگار کے نام کے ساتھ جس نے سب کو پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا ہے، آپ پڑھئیے اور آپ کا رب کریم ہے، جس نے قلم کے
Sahih al-Bukhari 4953 ↗
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَدِيجَةَ فَقَالَ " زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا اور ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے عروہ سے سنا، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس تشریف لائے اور فرمایا «زملوني زملوني» کہ مجھے چادر اڑھا دو، مجھے چادر اڑھا دو۔ پھر آپ نے سارا واقعہ بیان فرمایا۔
Sahih al-Bukhari 4957 ↗
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، لِكَثْرَةِ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِيَّاهَا وَثَنَائِهِ عَلَيْهَا، وَقَدْ أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ لَهَا فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ.
مجھ سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے، آپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کسی عورت پر مجھے اتنی غیرت نہیں آتی تھی جتنی ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتی تھی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ذکر بکثرت کیا کرتے تھے اور ان کی تعریف کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی گئی تھی کہ آپ خدیجہ کو جنت میں ان کے موتی کے گھر کی بشارت دے دیں۔
Sahih al-Bukhari 5229 ↗
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، وَلَقَدْ هَلَكَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي بِثَلاَثِ سِنِينَ، لِمَا كُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْكُرُهَا، وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ ثُمَّ يُهْدِي فِي خُلَّتِهَا مِنْهَا.
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مجھے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں آتا تھا جتنا خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتا تھا حالانکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے شادی سے تین سال پہلے وفات پا چکی تھیں۔ ( رشک کی وجہ یہ تھی ) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں کثرت سے ان کا ذکر کرتے سنتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے رب نے حکم دیا تھا کہ خدیجہ کو جنت میں ایک خولدار موتیوں کے گھر کی خوشخبری سنا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بکری ذبح کرتے پھر اس میں سے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو حصہ بھیجتے تھے۔
Sahih al-Bukhari 6004 ↗
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،. وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْوَحْىِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لاَ يَرَى رُؤْيَا إِلاَّ جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، فَكَانَ يَأْتِي حِرَاءً فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ ـ وَهْوَ التَّعَبُّدُ ـ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ، وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَتُزَوِّدُهُ لِمِثْلِهَا، حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهْوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فِيهِ فَقَالَ اقْرَأْ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي. فَقَالَ اقْرَأْ. فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ. فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ". حَتَّى بَلَغَ {مَا لَمْ يَعْلَمْ} فَرَجَعَ بِهَا تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ فَقَالَ " زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي ". فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ " يَا خَدِيجَةُ مَا لِي ". وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ وَقَالَ " قَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي ". فَقَالَتْ لَهُ كَلاَّ أَبْشِرْ، فَوَاللَّهِ لاَ يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ. ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل بن خالد نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابن شہاب نے بیان کیا (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) کہ مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ ان سے معمر نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء سونے کی حالت میں سچے خواب کے ذریعہ ہوئی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب بھی دیکھتے تو وہ صبح کی روشنی کی طرح سامنے آ جاتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں چلے جاتے اور اس میں تنہا اللہ کی یاد کرتے تھے چند مقررہ دنوں کے لیے ( یہاں آتے ) اور ان دنوں کا توشہ بھی ساتھ لاتے۔ پھر خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس تشریف لے جاتے اور وہ پھر اتنا ہی توشہ آپ کے ساتھ کر دیتیں یہاں تک کہ حق آپ کے پاس اچانک آ گیا اور آپ غار حرا ہی میں تھے۔ چنانچہ اس میں فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا کہ پڑھیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ آخر اس نے مجھے پکڑ لیا اور زور سے دابا اور خوب دابا جس کی وجہ سے مجھ کو بہت تکلیف ہوئی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس نے مجھے ایسا دابا کہ میں بے قابو ہو گیا یا انہوں نے اپنا زور ختم کر دیا اور پھر چھوڑ کر اس نے مجھ سے کہا کہ پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا ہے۔ الفاظ «ما لم يعلم» تک۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو آپ کے مونڈھوں کے گوشت ( ڈر کے مارے ) پھڑک رہے تھے۔ جب گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے تو فرمایا کہ مجھے چادر اڑھا دو ‘ مجھے چادر اڑھا دو، چنانچہ آپ کو چادر اڑھا دی گئی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خوف دور ہو گیا تو فرمایا کہ خدیجہ میرا حال کیا ہو گیا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سارا حال بیان کیا اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے
Sahih al-Bukhari 6982 ↗
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ.
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جس قدر مجھے خدیجہ رضی اللہ عنہا پر غیرت آتی تھی اور کسی عورت پر نہیں آتی تھی اور ان کے رب نے حکم دیا تھا کہ انہیں جنت میں ایک گھر کی بشارت دے دیں۔
Sahih al-Bukhari 7484 ↗
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ " هَذِهِ خَدِيجَةُ أَتَتْكَ بِإِنَاءٍ فِيهِ طَعَامٌ أَوْ إِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ فَأَقْرِئْهَا مِنْ رَبِّهَا السَّلاَمَ وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ ".
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ( جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یا رسول اللہ! ) یہ خدیجہ رضی اللہ عنہا جو آپ کے پاس برتن میں کھانا یا پانی لے کر آتی ہیں انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہئیے اور انہیں خولدار موتی کے ایک محل کی جنت میں خوشخبری سنائیے جس میں نہ شور ہو گا اور نہ کوئی تکلیف ہو گی۔
Sahih al-Bukhari 7497 ↗
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْوَحْىِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةَ فِي النَّوْمِ فَكَانَ لاَ يَرَى رُؤْيَا إِلاَّ جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلاَءُ فَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ يَتَحَنَّثُ فِيهِ - وَهُوَ التَّعَبُّدُ - اللَّيَالِيَ أُولاَتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ اقْرَأْ . قَالَ " مَا أَنَا بِقَارِئٍ - قَالَ - فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ . قَالَ قُلْتُ مَ�� أَنَا بِقَارِئٍ - قَالَ - فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ . فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي . فَقَالَ { اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ * خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ * اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ * الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ * عَلَّمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ} " . فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ فَقَالَ " زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي " . فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ ثُمَّ قَالَ لِخَدِيجَةَ " أَىْ خَدِيجَةُ مَا لِي " . وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ قَالَ " لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي " . قَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ كَلاَّ أَبْشِرْ فَوَاللَّهِ لاَ يُخْز
یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے حدیث سنائی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کا آغاز سب سے پہلے نیند میں سچےخواب آنے سے ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ جو خواب بھی دیکھتے اس کی تعبیر صبح کے روشن ہونے کی طرح سامنے آ جاتی ، پھر خلوت نشینی آپ کو محبوب ہو گئی ، آپ غار حراء میں خلوت اختیار فرماتے اور گھر واپس جا کر ( دوبارہ ) اسی غرض کے لیے زاد راہ لانے سے پہلے ( مقررہ ) تعداد مں راتیں تحنث میں مصروف رہتے ، تحنث عبادت گزاری کو کہتے ہیں ، ( اس کے بعد ) آپ پھر خدیجہ ؓ کے پاس واپس آ کر ، اتنی ہی راتوں کے لیے زاد ( سامان خور و نوش ) لے جاتے ، ( یہ سلسلہ چلتا رہا ) یہاں تک کہ اچانک آپ کے پاس حق ( کا پیغام ) آ گیا ، اس وقت آ پ غار حراء ہی میں تھے ، چنانچہ آپ کے فرشتہ آیا اور کہا : پڑھیے! آپ نے جواب دیا : میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں ، آپ نے فرمایا : تو اس ( فرشتے ) نے مجھے پکڑ کر زور سے بھینچا یہاں تک کہ ( اس کا دباؤ ) میری برداشت کی آخری حد کو پہنچ گیا ، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا : پڑھیے ! میں میں نے کہا : میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں ، پھر اس نے مجھے پکڑا اور دوبارہ بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی اور دوبارہ بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی ، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا : پڑھیے! میں نے کہا : میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں ، پھر اس نے تیسری دفعہ مجھے پکڑ کر پوری قوت سے بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی ، پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا : ’’اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کیا ، اس نے انسان کو گوشت کے جونک جیسے لوتھڑے سے پیدا کیا ، پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑھ کر کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے سے تعلیم دی اور انسان کو سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا ۔ ‘ ‘ رسول اللہ ﷺ ان آیات کے ساتھ واپس لوٹے ، ( اس وقت ) آپ کے کندھوں اور گردن کے درمیان کے گوشت کے حصے لرز رہے تھے یہاں تک کہ آپ خدیجہ ؓ کے پاس پہنچے اور فرمایا : ’’مجھے کپڑے اوڑھا ؤ ، مجھے کپڑا اوڑھا ؤ ۔ ‘ ‘ انہوں ( گھر وال
Sahih Muslim 403 ↗
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْوَحْىِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ . غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَوَاللَّهِ لاَ يُحْزِنُكَ اللَّهُ أَبَدًا . وَقَالَ قَالَتْ خَدِيجَةُ أَىِ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ .
ہمیں معمر نے خبر دی کہ انہوں نے کہا : مجھے عروہ نے حضرت عائشہ ؓ سے خبر دی کہ انہوں نے کہا : رسو ل اللہ ﷺ کی طرف وحی کی ابتدا...... آگے یونس کی حدیث کی طرح بیا کیا ، سوائے اس کے کہ معمر نے لايحزنك الله أبداً’’ آپ کو اللہ کبھی غمگین نہ کرے گا ‘ ‘ کہا ۔ انہوں نے ( یہ بھی ) کہا کہ حضرت خدیجہ ؓ نے یہ الفاظ کہا : ’’چچا کے بیٹے ! اپنے بھتیجے کی بات سنیں ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim 404 ↗
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَجَعَ إِلَى خَدِيجَةَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ وَمَعْمَرٍ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ حَدِيثِهِمَا مِنْ قَوْلِهِ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْوَحْىِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ . وَتَابَعَ يُونُسَ عَلَى قَوْلِهِ فَوَاللَّهِ لاَ يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا . وَذَكَرَ قَوْلَ خَدِيجَةَ أَىِ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ .
عقیل بن خالد نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے کہا : میں نے عروہ بن زبیر کو یہ کہتے ہوئے سنا : نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ حضرت خدیجہؓ کے پاس آئے ، آپ کا دل شدت سے دھڑک رہا تھا..... پھر ( عقیل نے ) یونس اور معمر کی طرح حدیث بیان کی ۔ اور ان دونوں کی روایت کا ابتدائی حصہ ، یعنی ان کا یہ قول کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کا آغاز سچے خوابوں کی صورت میں ہوا ، بیان ہیں کیا ۔ نیز عقیل بن خالد نے یونس کے ان الفاظ فوالله !لا يخزيك الله أبداً ’’ اللہ کی قسم ! اللہ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا ‘ ‘ میں متابعت کرنے کے ساتھ حضرت خدیجہ ؓ کا یہ قول بھی ذکر کیا ہے : ’’ چچا کے بیٹے ! اپنے بھتیجے کی بات سنیں ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim 405 ↗
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى، يَقُولُ سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ أَىُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ قَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ . فَقُلْتُ أَوِ اقْرَأْ . فَقَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَىُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ قَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ . فَقُلْتُ أَوِ اقْرَأْ قَالَ جَابِرٌ أُحَدِّثُكُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " جَاوَرْتُ بِحِرَاءٍ شَهْرًا فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي وَخَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا هُوَ عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَاءِ - يَعْنِي جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ - فَأَخَذَتْنِي رَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ دَثِّرُونِي . فَدَثَّرُونِي فَصَبُّوا عَلَىَّ مَاءً فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ * قُمْ فَأَنْذِرْ * وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ * وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ} " .
اوزاعی نے کہا : میں نے یحییٰ سے سنا ، کہتے تھے : میں نے ابوسلمہ سے سوال کیا : ’’ قرآن کا کون سا حصہ پہلے نازل ہوا ؟ کہا : ﴿يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ﴾ ۔ میں نے کہا : یا ﴿اِقْرَاْ﴾ ؟ ابو سلمہ نے کہا : میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : قرآن کا کون سا حصہ پہلے اتارا گیا ؟ انہوں نے جواب دیا : ﴿ يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ﴾ ۔ میں نےکہا : یا ﴿ اِقْرَاْ ﴾؟ جابر رضی اللہ عنہ نےکہا : میں تمہیں وہی بات بتاتا ہوں جوہمیں رسول اللہ ﷺ نے بتائی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ میں نے حراء میں ایک ماہ اعتکاف کیا ۔ جب میں نے اپنا اعتکاف ختم کیا تو میں اترا ، پھر میں وادی کے درمیان پہنچا تو مجھے آواز دی گئی ، اس پر میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں نظر دوڑائی تو مجھے کوئی نظر نہ آیا ، مجھے پھر آواز دی گئی میں میں نے دیکھا ، مجھے کوئی نظر نہ آیا ، پھر ( تیسری بار ) مجھے آواز دی گئی تو میں نے سر اوپر اٹھایا تو وہی ( فرشت ( فضا میں تخت ( کرسی ) پر بیٹھا ہوا تھا ( یعنی جبرییل رضی اللہ عنہ ) اس کی وجہ سے مجھ پر سخت لرزہ طاری ہو گیا ۔ میں خدیجہ ؓ کے پاس آ گیا اور کہا : مجھے کمبل اوڑھا دو ، مجھے کمبل اوڑھا دو ، انہوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا اور مجھ پرپانی ڈالا ۔ تو اس ( موقع ) پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں : ’’ اے کمبل اوڑھنے والے ! اٹھ اور ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑے پاک رکھ ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim 409 ↗
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدَ النَّاسَ جُلُوسًا بِبَابِهِ لَمْ يُؤْذَنْ لأَحَدٍ مِنْهُمْ - قَالَ - فَأُذِنَ لأَبِي بَكْرٍ فَدَخَلَ ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ فَوَجَدَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا حَوْلَهُ نِسَاؤُهُ وَاجِمًا سَاكِتًا - قَالَ - فَقَالَ لأَقُولَنَّ شَيْئًا أُضْحِكُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَ بِنْتَ خَارِجَةَ سَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَوَجَأْتُ عُنُقَهَا . فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " هُنَّ حَوْلِي كَمَا تَرَى يَسْأَلْنَنِي النَّفَقَةَ " . فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا فَقَامَ عُمَرُ إِلَى حَفْصَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا كِلاَهُمَا يَقُولُ تَسْأَلْنَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَيْسَ عِنْدَهُ . فَقُلْنَ وَاللَّهِ لاَ نَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا أَبَدًا لَيْسَ عِنْدَهُ ثُمَّ اعْتَزَلَهُنَّ شَهْرًا أَوْ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ثُمَّ نَزَلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الآيَةُ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ} حَتَّى بَلَغَ { لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا} قَالَ فَبَدَأَ بِعَائِشَةَ فَقَالَ " يَا عَائِشَةُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَعْرِضَ عَلَيْكَ أَمْرًا أُحِبُّ أَنْ لاَ تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَشِيرِي أَبَوَيْكِ " . قَالَتْ وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَتَلاَ عَلَيْهَا الآيَةَ قَالَتْ أَفِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْتَشِيرُ أَبَوَىَّ بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ وَأَسْأَلُكَ أَنْ لاَ تُخْبِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِكَ بِالَّذِي قُلْتُ . قَالَ " لاَ تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ إِلاَّ أَخْبَر
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگ رہے تھے ۔ انہوں نے لوگوں کو آپ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے پایا ۔ ان میں سے کسی کو اجازت نہیں ملی تھی ۔ کہا : ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اجازت ملی تو وہ اندر داخل ہو گئے ، پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اجازت مانگی ، انہیں بھی اجازت مل گئی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غمگین اور خاموش بیٹھے ہوئے پایا ، آپ کی بیویاں آپ کے ارد گرد تھیں ۔ کہا : تو انہوں ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں ضرور کوئی ایسی بات کروں گا جس سے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنساؤں گا ۔ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول! کاش کہ آپ بنت خارجہ کو دیکھتے جب اس نے مجھ سے نفقہ کا سوال کیا تو میں اس کی جانب بڑھا اور اس کی گردن دبا دی ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ۔ اور فرمایا : "" یہ بھی میرے اردگرد بیٹھی ہیں ، جیسے تم دیکھ رہے ہو ، اور مجھ سے نفقہ مانگ رہی ہیں ۔ "" ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جانب اٹھے اور ان کی گردن پر ضرب لگانا چاہتے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی جانب بڑھے اور وہ ان کی گردن پر مارنا چاہتے تھے ، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اس سے روک دیا ۔ مسند احمد : 3/328 ) اور دونوں کہہ رہے تھے : تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا سوال کرتی ہو جو ان کے پاس نہیں ہے ۔ وہ کہنے لگیں : اللہ کی قسم! آج کے بعد ہم کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیز کا مطالبہ نہیں کریں گی جو آپ کے پاس نہ ہو گی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ یا انتیس دن تک کے لیے ان سے علیحدگی اختیار کر لی ۔ پھر آپ پر یہ آیت نازل ہوئی : "" اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اپنی بیویوں سے کہہ دو ۔ "" حتی کہ یہاں پہنچ گئے : "" تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بڑا اجر ہے ۔ "" ( جابر رضی اللہ عنہ نے ) کہا : آپ نے ابتدا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کی اور فرمایا : "" اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک معام
Sahih Muslim 3690 ↗
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَوَكِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَاللَّفْظُ، حَدِيثُ أَبِي أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيًّا، بِالْكُوفَةِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ " . قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ وَأَشَارَ وَكِيعٌ إِلَى السَّمَاءِ وَالأَرْضِ .
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے ابو اسامہ ، ابن نمیر ، وکیع اور ابو معاویہ سے حدیث بیان کی ۔ اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں عبدہ بن سلیمان نے خبر دی ۔ ان سب نے ہشام بن عروہ سے روایت کی ۔ الفاظ حدیث ابو اسامہ کے ہیں ۔ ہشام نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نےکہا : میں نے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ، میں نے کوفہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "" ( اپنے دور کی ) تمام عورتوں میں سے بہترین مریم بنت عمران علیہ السلام ہیں اور ( اس دور کی ) تمام عورتوں میں سے بہترین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت خویلد رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں ۔ "" ابو کریب نے کہا : وکیع نے آسمان وزمین کی طرف اشارہ کرکے بتایا ( کہ ان دونوں کے درمیان بہترین خواتین یہ ہیں ۔)
Sahih Muslim 6271 ↗
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْكَ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلاَمَ مِنْ رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ وَمِنِّي وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ . وَلَمْ يَقُلْ فِي الْحَدِيثِ وَمِنِّي .
ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب اور ابن نمیر نے کہا : ہمیں ابن فضیل نے عمارہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو زرعہ سے ، انھوں نےکہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ خدیجہ ہیں ، آپ کے پاس آئی ہیں ، ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن ہے یا کھانا ہے یا مشروب ہے ، چنانچہ جب یہ آپ کے پاس آجائیں تو انھیں ان کے رب عزوجل کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہیں اور انھیں جنت میں ایک گھر کی خوش خبری دیں جو ( موتیوں کی ) لمبی چھڑیوں کا بنا ہواہے ، نہ اس میں کوئی شور ہے اور نہ تھکاوٹ کا گزر ہے ۔ ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں کہا : "" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہے ۔ "" انھوں نے "" میں نے سنا "" ( کا لفظ ) نہیں کہا اور نہ ہی حدیث میں "" اورمیری طرف سے "" ( کالفظ ) کہا ہے ۔
Sahih Muslim 6273 ↗
ہماری میزبانی کردہ کلاسیکی تاریخی کتب میں وہ ابواب جن کے عنوان میں اِس شخصیت کا ذکر ہے — براہِ راست اصل متن تک پہنچیے۔