John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Yunus

Tafsir Ibn Kathir · Jonas · 109 ayat · ayat 31–60 · Quran text →

اللہ کی الوہیت کے منکر ٭٭

اللہ کی ربوبیت کو مانتے ہوئے اس کی الوہیت کا انکار کرنے والے قریشیوں پر اللہ کی حجت پوری ہو رہی ہے کہ «فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبًا وَقَضْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَفَاكِهَةً وَأَبًّا» [80-عبس:27-31] ‏ ” ان سے پوچھو کہ آسمانوں سے بارش کون برساتا ہے؟ پھر اپنی قدرت سے زمین کو پھاڑ کر کھیتی و باغ کون اُگاتا ہے؟ دانے اور پھل کون پیدا کرتا ہے؟ اس کے جواب میں یہ سب کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی “۔

«أَمَّنْ هَـٰذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ» [67-الملک:21] ‏ ” اس کے ہاتھ میں ہے چاہے روزی دے چاہے روک لے “۔ «قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّـهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم مَّنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِهِ» [6-الأنعام:46] ‏ ” کان آنکھیں بھی اس کے قبضے میں ہیں۔ دیکھنے کی سننے کی حالت بھی اسی کی دی ہوئی ہے اگر وہ چاہے اندھا بہرا بنا دے۔ پیدا کرنے والا وہی، اعضاء کا دینے والا وہی ہے۔ وہ اسی قوت کو چھین لے تو کوئی نہیں دے سکتا “۔

اس کی قدرت و عظمت کو دیکھو کہ مردے سے زندے کو پیدا کر دے، زندے سے مردے کو نکالے۔ وہی تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے۔ ہر چیز کی بادشاہت اسی کے ہاتھ ہے۔ سب کو وہی پناہ دیتا ہے اس کے مجرم کو کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ وہی متصرف و حاکم ہے کوئی اس سے بازپرس نہیں کر سکتا وہ سب پر حاکم ہے۔ «يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ» [55-الرحمن:29] ‏ ” آسمان و زمین اس کے قبضے میں ہر تر و خشک کا مالک وہی ہے عالم بالا اور سفلی اسی کا ہے “۔

کل انس و جن فرشتے اور مخلوق اس کے سامنے عاجز و بے کس ہیں۔ ہر ایک پست و لاچار ہے۔ ان سب باتوں کا ان مشرکین کو بھی اقرار ہے۔ پھر کیا بات ہے جو یہ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار نہیں کرتے۔ جہالت وغبادت سے دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر3688

فاعل خود مختار اللہ کو جانتے ہوئے رب و مالک مانتے ہوئے معبود سمجھتے ہوئے پھر بھی دوسروں کی پوجا کرتے ہیں۔ وہی ہے تم سب کا سچا معبود اللہ تعالیٰ وکیل ہے اس کے سوا تمام معبود باطل ہیں وہ اکیلا ہے بے شریک ہے۔ مستحق عبادت صرف وہی ہے۔ حق ایک ہی ہے۔ اس کے سوا سب کچھ باطل ہے۔ پس تمہیں اس کی عبادت سے ہٹ کر دوسروں کی عبادت کی طرف نہ جانا چاہیئے یاد رکھو وہی رب العلمین ہے وہی ہرچیز میں متصرف ہے۔ کافروں پر اللہ کی بات ثابت ہو چکی ہے، ان کی عقل ماری گئی ہے۔ خالق رازق متصرف مالک صرف اللہ کو مانتے ہوئے اس کے رسولوں کا خلاف کر کے اس کی توحید کو نہیں مانتے۔ اپنی بدبختی سے جہنم کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔

صفحہ نمبر3689

اللہ کی الوہیت کے منکر ٭٭

اللہ کی ربوبیت کو مانتے ہوئے اس کی الوہیت کا انکار کرنے والے قریشیوں پر اللہ کی حجت پوری ہو رہی ہے کہ «فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبًا وَقَضْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَفَاكِهَةً وَأَبًّا» [80-عبس:27-31] ‏ ” ان سے پوچھو کہ آسمانوں سے بارش کون برساتا ہے؟ پھر اپنی قدرت سے زمین کو پھاڑ کر کھیتی و باغ کون اُگاتا ہے؟ دانے اور پھل کون پیدا کرتا ہے؟ اس کے جواب میں یہ سب کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی “۔

«أَمَّنْ هَـٰذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ» [67-الملک:21] ‏ ” اس کے ہاتھ میں ہے چاہے روزی دے چاہے روک لے “۔ «قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّـهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم مَّنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِهِ» [6-الأنعام:46] ‏ ” کان آنکھیں بھی اس کے قبضے میں ہیں۔ دیکھنے کی سننے کی حالت بھی اسی کی دی ہوئی ہے اگر وہ چاہے اندھا بہرا بنا دے۔ پیدا کرنے والا وہی، اعضاء کا دینے والا وہی ہے۔ وہ اسی قوت کو چھین لے تو کوئی نہیں دے سکتا “۔

اس کی قدرت و عظمت کو دیکھو کہ مردے سے زندے کو پیدا کر دے، زندے سے مردے کو نکالے۔ وہی تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے۔ ہر چیز کی بادشاہت اسی کے ہاتھ ہے۔ سب کو وہی پناہ دیتا ہے اس کے مجرم کو کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ وہی متصرف و حاکم ہے کوئی اس سے بازپرس نہیں کر سکتا وہ سب پر حاکم ہے۔ «يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ» [55-الرحمن:29] ‏ ” آسمان و زمین اس کے قبضے میں ہر تر و خشک کا مالک وہی ہے عالم بالا اور سفلی اسی کا ہے “۔

کل انس و جن فرشتے اور مخلوق اس کے سامنے عاجز و بے کس ہیں۔ ہر ایک پست و لاچار ہے۔ ان سب باتوں کا ان مشرکین کو بھی اقرار ہے۔ پھر کیا بات ہے جو یہ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار نہیں کرتے۔ جہالت وغبادت سے دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر3688

فاعل خود مختار اللہ کو جانتے ہوئے رب و مالک مانتے ہوئے معبود سمجھتے ہوئے پھر بھی دوسروں کی پوجا کرتے ہیں۔ وہی ہے تم سب کا سچا معبود اللہ تعالیٰ وکیل ہے اس کے سوا تمام معبود باطل ہیں وہ اکیلا ہے بے شریک ہے۔ مستحق عبادت صرف وہی ہے۔ حق ایک ہی ہے۔ اس کے سوا سب کچھ باطل ہے۔ پس تمہیں اس کی عبادت سے ہٹ کر دوسروں کی عبادت کی طرف نہ جانا چاہیئے یاد رکھو وہی رب العلمین ہے وہی ہرچیز میں متصرف ہے۔ کافروں پر اللہ کی بات ثابت ہو چکی ہے، ان کی عقل ماری گئی ہے۔ خالق رازق متصرف مالک صرف اللہ کو مانتے ہوئے اس کے رسولوں کا خلاف کر کے اس کی توحید کو نہیں مانتے۔ اپنی بدبختی سے جہنم کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔

صفحہ نمبر3689

اللہ کی الوہیت کے منکر ٭٭

اللہ کی ربوبیت کو مانتے ہوئے اس کی الوہیت کا انکار کرنے والے قریشیوں پر اللہ کی حجت پوری ہو رہی ہے کہ «فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبًا وَقَضْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَفَاكِهَةً وَأَبًّا» [80-عبس:27-31] ‏ ” ان سے پوچھو کہ آسمانوں سے بارش کون برساتا ہے؟ پھر اپنی قدرت سے زمین کو پھاڑ کر کھیتی و باغ کون اُگاتا ہے؟ دانے اور پھل کون پیدا کرتا ہے؟ اس کے جواب میں یہ سب کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی “۔

«أَمَّنْ هَـٰذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ» [67-الملک:21] ‏ ” اس کے ہاتھ میں ہے چاہے روزی دے چاہے روک لے “۔ «قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّـهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم مَّنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِهِ» [6-الأنعام:46] ‏ ” کان آنکھیں بھی اس کے قبضے میں ہیں۔ دیکھنے کی سننے کی حالت بھی اسی کی دی ہوئی ہے اگر وہ چاہے اندھا بہرا بنا دے۔ پیدا کرنے والا وہی، اعضاء کا دینے والا وہی ہے۔ وہ اسی قوت کو چھین لے تو کوئی نہیں دے سکتا “۔

اس کی قدرت و عظمت کو دیکھو کہ مردے سے زندے کو پیدا کر دے، زندے سے مردے کو نکالے۔ وہی تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے۔ ہر چیز کی بادشاہت اسی کے ہاتھ ہے۔ سب کو وہی پناہ دیتا ہے اس کے مجرم کو کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ وہی متصرف و حاکم ہے کوئی اس سے بازپرس نہیں کر سکتا وہ سب پر حاکم ہے۔ «يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ» [55-الرحمن:29] ‏ ” آسمان و زمین اس کے قبضے میں ہر تر و خشک کا مالک وہی ہے عالم بالا اور سفلی اسی کا ہے “۔

کل انس و جن فرشتے اور مخلوق اس کے سامنے عاجز و بے کس ہیں۔ ہر ایک پست و لاچار ہے۔ ان سب باتوں کا ان مشرکین کو بھی اقرار ہے۔ پھر کیا بات ہے جو یہ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار نہیں کرتے۔ جہالت وغبادت سے دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر3688

فاعل خود مختار اللہ کو جانتے ہوئے رب و مالک مانتے ہوئے معبود سمجھتے ہوئے پھر بھی دوسروں کی پوجا کرتے ہیں۔ وہی ہے تم سب کا سچا معبود اللہ تعالیٰ وکیل ہے اس کے سوا تمام معبود باطل ہیں وہ اکیلا ہے بے شریک ہے۔ مستحق عبادت صرف وہی ہے۔ حق ایک ہی ہے۔ اس کے سوا سب کچھ باطل ہے۔ پس تمہیں اس کی عبادت سے ہٹ کر دوسروں کی عبادت کی طرف نہ جانا چاہیئے یاد رکھو وہی رب العلمین ہے وہی ہرچیز میں متصرف ہے۔ کافروں پر اللہ کی بات ثابت ہو چکی ہے، ان کی عقل ماری گئی ہے۔ خالق رازق متصرف مالک صرف اللہ کو مانتے ہوئے اس کے رسولوں کا خلاف کر کے اس کی توحید کو نہیں مانتے۔ اپنی بدبختی سے جہنم کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔

صفحہ نمبر3689

مصنوعی معبودوں کی حقیقت ٭٭

مشرکوں کے شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ ” بتلاؤ تمہارے معبودوں میں سے ایک بھی ایسا ہے جو آسمانوں و زمین کو اور مخلوق کو پیدا کرسکے یا بگاڑ کر بنا سکے نہ ابتداء پر کوئی قادر نہ اعادہ پر کوئی قادر۔ بلکہ اللہ ہی ابتداء کرے وہی اعادہ کرے۔ وہ اپنے تمام کاموں میں یکتا ہے۔ پس تم طریق حق سے گھوم کر راہ ضلالت کی طرف کیوں جا رہے ہو؟ کہو تو تمہارے معبود کسی بھٹکے ہوئے کی رہبری کر سکتے ہیں؟ یہ بھی ان کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ بھی اللہ کے ہاتھ ہے۔ ہادی برحق وہی ہے، وہی گمراہوں کو راہ راست دکھاتا ہے، اس کے سوا کوئی ساتھی نہیں “۔

پس جو رہبری تو کیا کرے خود ہی اندھا بہرا ہو اس کی تابعداری ٹھیک یا اس کی اطاعت اچھی جو سچا ہادی مالک کل قادر کل ہو؟ یہ ابراہیم خلیل اللہ نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ «إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا» [19-مریم:42] ‏ ” ان کی پوجا کیوں کرتا ہے؟ جو نہ سنیں نہ دیکھیں نہ کوئی فائدہ دے سکیں “۔

اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ وَاللَّـهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ» [37-الصافات:95۔96] ‏ ” تم ان کی پوجا کرتے ہو جنہیں خود اپنے ہاتھوں بناتے ہو، حالانکہ تمہارا اور تمہارے کام کی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے “۔

صفحہ نمبر3692

یہاں فرماتا ہے ” تمہاری عقلیں کیا اوندھی ہو گئیں کہ خالق مخلوق کو ایک کر دیا نیکی سے ہٹ کر بدی میں جا گرے توحید کوچھوڑ کر شرک میں پھنس گئے۔ اس کو اور اس کو پوجنے لگے۔ رب جل جلالہ مالک و حاکم و ہادی و رب سے بھٹک گئے۔ اس کی طرف خلوص دلی توجہ چھوڑ دی “۔

دلیل و برہان سے ہٹ گئے مغالطوں اور تقلید میں پھنس گئے۔ گمان اور اٹکل کے پیچھے پڑگئے۔ وہم و خیال کے بھنور میں آگئے، حالانکہ ظن و گمان فضول چیز ہے۔ حق کے سامنے وہ محض بے کار ہے تمہیں اس سے کوئی فائدہ پہنچ نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے اعمال سے باخبر ہے وہ انہیں پوری سزا دے گا۔

صفحہ نمبر3693

مصنوعی معبودوں کی حقیقت ٭٭

مشرکوں کے شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ ” بتلاؤ تمہارے معبودوں میں سے ایک بھی ایسا ہے جو آسمانوں و زمین کو اور مخلوق کو پیدا کرسکے یا بگاڑ کر بنا سکے نہ ابتداء پر کوئی قادر نہ اعادہ پر کوئی قادر۔ بلکہ اللہ ہی ابتداء کرے وہی اعادہ کرے۔ وہ اپنے تمام کاموں میں یکتا ہے۔ پس تم طریق حق سے گھوم کر راہ ضلالت کی طرف کیوں جا رہے ہو؟ کہو تو تمہارے معبود کسی بھٹکے ہوئے کی رہبری کر سکتے ہیں؟ یہ بھی ان کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ بھی اللہ کے ہاتھ ہے۔ ہادی برحق وہی ہے، وہی گمراہوں کو راہ راست دکھاتا ہے، اس کے سوا کوئی ساتھی نہیں “۔

پس جو رہبری تو کیا کرے خود ہی اندھا بہرا ہو اس کی تابعداری ٹھیک یا اس کی اطاعت اچھی جو سچا ہادی مالک کل قادر کل ہو؟ یہ ابراہیم خلیل اللہ نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ «إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا» [19-مریم:42] ‏ ” ان کی پوجا کیوں کرتا ہے؟ جو نہ سنیں نہ دیکھیں نہ کوئی فائدہ دے سکیں “۔

اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ وَاللَّـهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ» [37-الصافات:95۔96] ‏ ” تم ان کی پوجا کرتے ہو جنہیں خود اپنے ہاتھوں بناتے ہو، حالانکہ تمہارا اور تمہارے کام کی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے “۔

صفحہ نمبر3692

یہاں فرماتا ہے ” تمہاری عقلیں کیا اوندھی ہو گئیں کہ خالق مخلوق کو ایک کر دیا نیکی سے ہٹ کر بدی میں جا گرے توحید کوچھوڑ کر شرک میں پھنس گئے۔ اس کو اور اس کو پوجنے لگے۔ رب جل جلالہ مالک و حاکم و ہادی و رب سے بھٹک گئے۔ اس کی طرف خلوص دلی توجہ چھوڑ دی “۔

دلیل و برہان سے ہٹ گئے مغالطوں اور تقلید میں پھنس گئے۔ گمان اور اٹکل کے پیچھے پڑگئے۔ وہم و خیال کے بھنور میں آگئے، حالانکہ ظن و گمان فضول چیز ہے۔ حق کے سامنے وہ محض بے کار ہے تمہیں اس سے کوئی فائدہ پہنچ نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے اعمال سے باخبر ہے وہ انہیں پوری سزا دے گا۔

صفحہ نمبر3693

مصنوعی معبودوں کی حقیقت ٭٭

مشرکوں کے شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ ” بتلاؤ تمہارے معبودوں میں سے ایک بھی ایسا ہے جو آسمانوں و زمین کو اور مخلوق کو پیدا کرسکے یا بگاڑ کر بنا سکے نہ ابتداء پر کوئی قادر نہ اعادہ پر کوئی قادر۔ بلکہ اللہ ہی ابتداء کرے وہی اعادہ کرے۔ وہ اپنے تمام کاموں میں یکتا ہے۔ پس تم طریق حق سے گھوم کر راہ ضلالت کی طرف کیوں جا رہے ہو؟ کہو تو تمہارے معبود کسی بھٹکے ہوئے کی رہبری کر سکتے ہیں؟ یہ بھی ان کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ بھی اللہ کے ہاتھ ہے۔ ہادی برحق وہی ہے، وہی گمراہوں کو راہ راست دکھاتا ہے، اس کے سوا کوئی ساتھی نہیں “۔

پس جو رہبری تو کیا کرے خود ہی اندھا بہرا ہو اس کی تابعداری ٹھیک یا اس کی اطاعت اچھی جو سچا ہادی مالک کل قادر کل ہو؟ یہ ابراہیم خلیل اللہ نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ «إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا» [19-مریم:42] ‏ ” ان کی پوجا کیوں کرتا ہے؟ جو نہ سنیں نہ دیکھیں نہ کوئی فائدہ دے سکیں “۔

اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ وَاللَّـهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ» [37-الصافات:95۔96] ‏ ” تم ان کی پوجا کرتے ہو جنہیں خود اپنے ہاتھوں بناتے ہو، حالانکہ تمہارا اور تمہارے کام کی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے “۔

صفحہ نمبر3692

یہاں فرماتا ہے ” تمہاری عقلیں کیا اوندھی ہو گئیں کہ خالق مخلوق کو ایک کر دیا نیکی سے ہٹ کر بدی میں جا گرے توحید کوچھوڑ کر شرک میں پھنس گئے۔ اس کو اور اس کو پوجنے لگے۔ رب جل جلالہ مالک و حاکم و ہادی و رب سے بھٹک گئے۔ اس کی طرف خلوص دلی توجہ چھوڑ دی “۔

دلیل و برہان سے ہٹ گئے مغالطوں اور تقلید میں پھنس گئے۔ گمان اور اٹکل کے پیچھے پڑگئے۔ وہم و خیال کے بھنور میں آگئے، حالانکہ ظن و گمان فضول چیز ہے۔ حق کے سامنے وہ محض بے کار ہے تمہیں اس سے کوئی فائدہ پہنچ نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے اعمال سے باخبر ہے وہ انہیں پوری سزا دے گا۔

صفحہ نمبر3693

اعجاز قرآن حکیم ٭٭

قرآن کریم کے اعجاز کا اور قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے کا بیان ہو رہا ہے کہ کوئی اس کا بدل اور مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس جیسا قرآن بلکہ اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی کسی کے بس کی نہیں۔ یہ بے مثل قرآن بے مثل اللہ کی طرف سے ہے۔ اس کی فصاحت و بلاغت، اس کی وجاہت و حلاوت، اس کے معنوں کی بلندی، اس کے مضامین کی عمدگی بالکل بے نظیر چیز ہے۔

اور یہی دلیل ہے اس کی کہ یہ قرآن اس اللہ کی طرف سے ہے جس کی ذات بے مثل صفتیں بے مثل، جس کے اقوال بے مثل، جس کے افعال بے مثل، جس کا کلام اس چیز سے عالی اور بلند کہ مخلوق کا کلام اس کے مشابہ ہوسکے۔ یہ کلام تو رب العالمین کا ہی کلام ہے، نہ کوئی اور اسے بنا سکے، نہ یہ کسی اور کا بنایا ہوا۔ یہ تو سابقہ کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، ان پر نگہبانی کرتا ہے، ان کا اظہار کرتا ہے، ان میں جو تحریف تبدیل تاویل ہوئی ہے اسے بے حجاب کرتا ہے، حلال و حرام جائز و ناجائز غرض کل امور شرع کا شافی اور پورا بیان فرماتا ہے۔ پس اس کے کلام اللہ ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں اگلی خبریں ہیں اس میں آنے والی پیش گوئیاں ہیں اور آنے والی خبریں ہیں، سب جھگڑوں کے فیصلے ہیں سب احکام کے حکم ہیں۔ [سنن ترمذي2906، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اگر تمہیں اس کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے۔ تو اسے گھڑا ہوا سمجھتے ہو اور کہتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے کہہ لیا ہے «قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَـٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا» ‏ [17-الاسراء:88] ‏ ” تو جاؤ تم سب مل کر ایک ہی سورۃ اس جیسی بنا لاؤ اور کل انسان اور جنوں سے مدد بھی لے لو “۔

یہ تیسرا مقام ہے جہاں کفار کو مقابلے پر بلا کر عاجر کیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہوں تو اس کے مقابلے میں اسی جیسا کلام پیش کریں۔ لیکن یہ ہے ناممکن یہ خبر بھی ساتھ ہی دے دی تھی کہ انسان و جنات سب جمع ہو جائیں ایک دوسرے کا ساتھ دیں لیکن اس قرآن جیسا بنا کر پیش نہیں کرسکتے۔

صفحہ نمبر3696

اس پورے قرآن کے مقابلہ سے جب وہ عاجز و لاچار ثابت ہوچکے تو ان سے مطالبہ ہوا کہ اس جیسی صرف دس سورتیں ہی بنا کر لاؤ۔ سورۃ ھود کے شروع کی آیت «قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَيٰتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [11-ھود:13] ‏ میں یہ فرمان ہے۔

جب یہ بھی ان سے نہ ہو سکا تو اور آسانی کر دی گئی اور سورۃ البقرہ میں جو مدنی ہے فرمایا کہ «فَأْتُوا بِسُورَ‌ةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [2-البقرة:23] ‏ ” اچھا ایک ہی سورت اس جیسی بنا کر پیش کرو “۔ وہاں بھی ساتھ ہی فرمایا کہ «فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا» [2-البقرة:24] ‏ ” نہ یہ تمہارے بس کی بات ہے نہ ساری مخلوق کے بس کی بات “۔

پس اس الہامی کتاب کو جھٹلا کر عذاب الٰہی مول نہ لو۔ اس وقت کلام کی فصاحت و بلاغت پر پورا زور تھا۔ عرب اپنے مقابلے میں سارے جہاں کو عجم یعنی گونگا کہا کرتے تھے۔ اپنی زبان پر بڑا گھمنڈ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے وہ قرآن اتارا کہ سب سے پہلے انہیں شاعروں اور زبان دانوں اور عالموں کی گردنیں اس کے سامنے خم ہوئیں جیسے سب سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کے اس معجزے نے کہ مردوں کو بحکم الٰہی جِلا دینا۔ مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بحکم رب شفاء دے دینا، دنیا کے سب سے پہلے معالجوں اور اطباء کو اللہ کی راہ پر لا کھڑا کر دیا۔ کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا کہ یہ کام دوا کا نہیں اللہ کا ہے۔ جادوگروں نے سانپ کو جو موسیٰ علیہ السلام کی لکڑی تھی دیکھتے ہی آپ علیہ السلام کی نبوت کا یقین کر لیا اور عاجز و درماندہ ہو گئے۔

صفحہ نمبر3697

اسی طرح اس قرآن نے فصیح و بلیغ لوگوں کی زبانیں بند کر دیں۔ ان کے دلوں میں یقین آ گیا کہ بیشک یہ کلام انسان کا کلام نہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نبیوں کو ایسے معجزے دئیے گئے کہ ان کی وجہ سے لوگ ان پر ایمان لائے۔ میرا ایسا معجزہ قرآن ہے پس مجھے اُمید ہے کہ میرے تابعدار بہ نسبت ان کے بہت ہی زیادہ ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:4981] ‏

یہ (‏کافر) لوگ بغیر سوچے سمجھے، بغیر علم حاصل کئے اسے جھٹلانے لگے۔ اب تک تو اس کے مصداق اور حقیقت تک بھی یہ نہیں پہنچے۔ اپنی جہالت و سفاہت کی وجہ سے اس کی ہدایت اس کے علم سے محروم رہ گئے اور چلانا شروع کر دیا کہ ہم اسے نہیں مانتے۔ ان سے پہلے کی امتوں نے بھی اللہ کے کلام کو اسی طرح جھٹلا دیا تھا جس بنا پر وہ ہلاک کر دیئے گئے۔ تو آپ نے دیکھ لیا کہ ان کا کیسا برا انجام ہوا۔ کسی طرح ان کے پرخچے اڑے؟ ہمارے رسولوں کو ستانے ان کے نہ ماننے کا کبھی انجام اچھا نہیں ہوا۔ تمہیں ڈرنا چاہیئے کہیں انہیں آفتوں کا نشانہ تم بھی نہ بنو۔

تیری اُمت کے بھی بعض لوگ تو اس پر ایمان لائے تجھے رسول برحق مانا ہے۔ تیری باتوں سے نفع اٹھا رہے ہیں۔ اور بعض ایمان سے رہ گئے ہیں خیر سے خالی ہو گئے ہیں تیرا رب مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے گمراہ اور نیک اس پر ظاہر ہیں ہدایت اور ضلالت کے مستحق اس کے سامنے ہیں۔ وہ عادل ہے ظالم نہیں۔ ہر ایک کو اس کا حصہ دیتا ہے۔ وہ برکت اور بلندی والا پاک اور انتہائی حسن والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

صفحہ نمبر3698

اعجاز قرآن حکیم ٭٭

قرآن کریم کے اعجاز کا اور قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے کا بیان ہو رہا ہے کہ کوئی اس کا بدل اور مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس جیسا قرآن بلکہ اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی کسی کے بس کی نہیں۔ یہ بے مثل قرآن بے مثل اللہ کی طرف سے ہے۔ اس کی فصاحت و بلاغت، اس کی وجاہت و حلاوت، اس کے معنوں کی بلندی، اس کے مضامین کی عمدگی بالکل بے نظیر چیز ہے۔

اور یہی دلیل ہے اس کی کہ یہ قرآن اس اللہ کی طرف سے ہے جس کی ذات بے مثل صفتیں بے مثل، جس کے اقوال بے مثل، جس کے افعال بے مثل، جس کا کلام اس چیز سے عالی اور بلند کہ مخلوق کا کلام اس کے مشابہ ہوسکے۔ یہ کلام تو رب العالمین کا ہی کلام ہے، نہ کوئی اور اسے بنا سکے، نہ یہ کسی اور کا بنایا ہوا۔ یہ تو سابقہ کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، ان پر نگہبانی کرتا ہے، ان کا اظہار کرتا ہے، ان میں جو تحریف تبدیل تاویل ہوئی ہے اسے بے حجاب کرتا ہے، حلال و حرام جائز و ناجائز غرض کل امور شرع کا شافی اور پورا بیان فرماتا ہے۔ پس اس کے کلام اللہ ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں اگلی خبریں ہیں اس میں آنے والی پیش گوئیاں ہیں اور آنے والی خبریں ہیں، سب جھگڑوں کے فیصلے ہیں سب احکام کے حکم ہیں۔ [سنن ترمذي2906، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اگر تمہیں اس کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے۔ تو اسے گھڑا ہوا سمجھتے ہو اور کہتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے کہہ لیا ہے «قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَـٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا» ‏ [17-الاسراء:88] ‏ ” تو جاؤ تم سب مل کر ایک ہی سورۃ اس جیسی بنا لاؤ اور کل انسان اور جنوں سے مدد بھی لے لو “۔

یہ تیسرا مقام ہے جہاں کفار کو مقابلے پر بلا کر عاجر کیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہوں تو اس کے مقابلے میں اسی جیسا کلام پیش کریں۔ لیکن یہ ہے ناممکن یہ خبر بھی ساتھ ہی دے دی تھی کہ انسان و جنات سب جمع ہو جائیں ایک دوسرے کا ساتھ دیں لیکن اس قرآن جیسا بنا کر پیش نہیں کرسکتے۔

صفحہ نمبر3696

اس پورے قرآن کے مقابلہ سے جب وہ عاجز و لاچار ثابت ہوچکے تو ان سے مطالبہ ہوا کہ اس جیسی صرف دس سورتیں ہی بنا کر لاؤ۔ سورۃ ھود کے شروع کی آیت «قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَيٰتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [11-ھود:13] ‏ میں یہ فرمان ہے۔

جب یہ بھی ان سے نہ ہو سکا تو اور آسانی کر دی گئی اور سورۃ البقرہ میں جو مدنی ہے فرمایا کہ «فَأْتُوا بِسُورَ‌ةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [2-البقرة:23] ‏ ” اچھا ایک ہی سورت اس جیسی بنا کر پیش کرو “۔ وہاں بھی ساتھ ہی فرمایا کہ «فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا» [2-البقرة:24] ‏ ” نہ یہ تمہارے بس کی بات ہے نہ ساری مخلوق کے بس کی بات “۔

پس اس الہامی کتاب کو جھٹلا کر عذاب الٰہی مول نہ لو۔ اس وقت کلام کی فصاحت و بلاغت پر پورا زور تھا۔ عرب اپنے مقابلے میں سارے جہاں کو عجم یعنی گونگا کہا کرتے تھے۔ اپنی زبان پر بڑا گھمنڈ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے وہ قرآن اتارا کہ سب سے پہلے انہیں شاعروں اور زبان دانوں اور عالموں کی گردنیں اس کے سامنے خم ہوئیں جیسے سب سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کے اس معجزے نے کہ مردوں کو بحکم الٰہی جِلا دینا۔ مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بحکم رب شفاء دے دینا، دنیا کے سب سے پہلے معالجوں اور اطباء کو اللہ کی راہ پر لا کھڑا کر دیا۔ کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا کہ یہ کام دوا کا نہیں اللہ کا ہے۔ جادوگروں نے سانپ کو جو موسیٰ علیہ السلام کی لکڑی تھی دیکھتے ہی آپ علیہ السلام کی نبوت کا یقین کر لیا اور عاجز و درماندہ ہو گئے۔

صفحہ نمبر3697

اسی طرح اس قرآن نے فصیح و بلیغ لوگوں کی زبانیں بند کر دیں۔ ان کے دلوں میں یقین آ گیا کہ بیشک یہ کلام انسان کا کلام نہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نبیوں کو ایسے معجزے دئیے گئے کہ ان کی وجہ سے لوگ ان پر ایمان لائے۔ میرا ایسا معجزہ قرآن ہے پس مجھے اُمید ہے کہ میرے تابعدار بہ نسبت ان کے بہت ہی زیادہ ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:4981] ‏

یہ (‏کافر) لوگ بغیر سوچے سمجھے، بغیر علم حاصل کئے اسے جھٹلانے لگے۔ اب تک تو اس کے مصداق اور حقیقت تک بھی یہ نہیں پہنچے۔ اپنی جہالت و سفاہت کی وجہ سے اس کی ہدایت اس کے علم سے محروم رہ گئے اور چلانا شروع کر دیا کہ ہم اسے نہیں مانتے۔ ان سے پہلے کی امتوں نے بھی اللہ کے کلام کو اسی طرح جھٹلا دیا تھا جس بنا پر وہ ہلاک کر دیئے گئے۔ تو آپ نے دیکھ لیا کہ ان کا کیسا برا انجام ہوا۔ کسی طرح ان کے پرخچے اڑے؟ ہمارے رسولوں کو ستانے ان کے نہ ماننے کا کبھی انجام اچھا نہیں ہوا۔ تمہیں ڈرنا چاہیئے کہیں انہیں آفتوں کا نشانہ تم بھی نہ بنو۔

تیری اُمت کے بھی بعض لوگ تو اس پر ایمان لائے تجھے رسول برحق مانا ہے۔ تیری باتوں سے نفع اٹھا رہے ہیں۔ اور بعض ایمان سے رہ گئے ہیں خیر سے خالی ہو گئے ہیں تیرا رب مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے گمراہ اور نیک اس پر ظاہر ہیں ہدایت اور ضلالت کے مستحق اس کے سامنے ہیں۔ وہ عادل ہے ظالم نہیں۔ ہر ایک کو اس کا حصہ دیتا ہے۔ وہ برکت اور بلندی والا پاک اور انتہائی حسن والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

صفحہ نمبر3698

اعجاز قرآن حکیم ٭٭

قرآن کریم کے اعجاز کا اور قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے کا بیان ہو رہا ہے کہ کوئی اس کا بدل اور مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس جیسا قرآن بلکہ اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی کسی کے بس کی نہیں۔ یہ بے مثل قرآن بے مثل اللہ کی طرف سے ہے۔ اس کی فصاحت و بلاغت، اس کی وجاہت و حلاوت، اس کے معنوں کی بلندی، اس کے مضامین کی عمدگی بالکل بے نظیر چیز ہے۔

اور یہی دلیل ہے اس کی کہ یہ قرآن اس اللہ کی طرف سے ہے جس کی ذات بے مثل صفتیں بے مثل، جس کے اقوال بے مثل، جس کے افعال بے مثل، جس کا کلام اس چیز سے عالی اور بلند کہ مخلوق کا کلام اس کے مشابہ ہوسکے۔ یہ کلام تو رب العالمین کا ہی کلام ہے، نہ کوئی اور اسے بنا سکے، نہ یہ کسی اور کا بنایا ہوا۔ یہ تو سابقہ کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، ان پر نگہبانی کرتا ہے، ان کا اظہار کرتا ہے، ان میں جو تحریف تبدیل تاویل ہوئی ہے اسے بے حجاب کرتا ہے، حلال و حرام جائز و ناجائز غرض کل امور شرع کا شافی اور پورا بیان فرماتا ہے۔ پس اس کے کلام اللہ ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں اگلی خبریں ہیں اس میں آنے والی پیش گوئیاں ہیں اور آنے والی خبریں ہیں، سب جھگڑوں کے فیصلے ہیں سب احکام کے حکم ہیں۔ [سنن ترمذي2906، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اگر تمہیں اس کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے۔ تو اسے گھڑا ہوا سمجھتے ہو اور کہتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے کہہ لیا ہے «قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَـٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا» ‏ [17-الاسراء:88] ‏ ” تو جاؤ تم سب مل کر ایک ہی سورۃ اس جیسی بنا لاؤ اور کل انسان اور جنوں سے مدد بھی لے لو “۔

یہ تیسرا مقام ہے جہاں کفار کو مقابلے پر بلا کر عاجر کیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہوں تو اس کے مقابلے میں اسی جیسا کلام پیش کریں۔ لیکن یہ ہے ناممکن یہ خبر بھی ساتھ ہی دے دی تھی کہ انسان و جنات سب جمع ہو جائیں ایک دوسرے کا ساتھ دیں لیکن اس قرآن جیسا بنا کر پیش نہیں کرسکتے۔

صفحہ نمبر3696

اس پورے قرآن کے مقابلہ سے جب وہ عاجز و لاچار ثابت ہوچکے تو ان سے مطالبہ ہوا کہ اس جیسی صرف دس سورتیں ہی بنا کر لاؤ۔ سورۃ ھود کے شروع کی آیت «قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَيٰتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [11-ھود:13] ‏ میں یہ فرمان ہے۔

جب یہ بھی ان سے نہ ہو سکا تو اور آسانی کر دی گئی اور سورۃ البقرہ میں جو مدنی ہے فرمایا کہ «فَأْتُوا بِسُورَ‌ةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [2-البقرة:23] ‏ ” اچھا ایک ہی سورت اس جیسی بنا کر پیش کرو “۔ وہاں بھی ساتھ ہی فرمایا کہ «فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا» [2-البقرة:24] ‏ ” نہ یہ تمہارے بس کی بات ہے نہ ساری مخلوق کے بس کی بات “۔

پس اس الہامی کتاب کو جھٹلا کر عذاب الٰہی مول نہ لو۔ اس وقت کلام کی فصاحت و بلاغت پر پورا زور تھا۔ عرب اپنے مقابلے میں سارے جہاں کو عجم یعنی گونگا کہا کرتے تھے۔ اپنی زبان پر بڑا گھمنڈ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے وہ قرآن اتارا کہ سب سے پہلے انہیں شاعروں اور زبان دانوں اور عالموں کی گردنیں اس کے سامنے خم ہوئیں جیسے سب سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کے اس معجزے نے کہ مردوں کو بحکم الٰہی جِلا دینا۔ مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بحکم رب شفاء دے دینا، دنیا کے سب سے پہلے معالجوں اور اطباء کو اللہ کی راہ پر لا کھڑا کر دیا۔ کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا کہ یہ کام دوا کا نہیں اللہ کا ہے۔ جادوگروں نے سانپ کو جو موسیٰ علیہ السلام کی لکڑی تھی دیکھتے ہی آپ علیہ السلام کی نبوت کا یقین کر لیا اور عاجز و درماندہ ہو گئے۔

صفحہ نمبر3697

اسی طرح اس قرآن نے فصیح و بلیغ لوگوں کی زبانیں بند کر دیں۔ ان کے دلوں میں یقین آ گیا کہ بیشک یہ کلام انسان کا کلام نہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نبیوں کو ایسے معجزے دئیے گئے کہ ان کی وجہ سے لوگ ان پر ایمان لائے۔ میرا ایسا معجزہ قرآن ہے پس مجھے اُمید ہے کہ میرے تابعدار بہ نسبت ان کے بہت ہی زیادہ ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:4981] ‏

یہ (‏کافر) لوگ بغیر سوچے سمجھے، بغیر علم حاصل کئے اسے جھٹلانے لگے۔ اب تک تو اس کے مصداق اور حقیقت تک بھی یہ نہیں پہنچے۔ اپنی جہالت و سفاہت کی وجہ سے اس کی ہدایت اس کے علم سے محروم رہ گئے اور چلانا شروع کر دیا کہ ہم اسے نہیں مانتے۔ ان سے پہلے کی امتوں نے بھی اللہ کے کلام کو اسی طرح جھٹلا دیا تھا جس بنا پر وہ ہلاک کر دیئے گئے۔ تو آپ نے دیکھ لیا کہ ان کا کیسا برا انجام ہوا۔ کسی طرح ان کے پرخچے اڑے؟ ہمارے رسولوں کو ستانے ان کے نہ ماننے کا کبھی انجام اچھا نہیں ہوا۔ تمہیں ڈرنا چاہیئے کہیں انہیں آفتوں کا نشانہ تم بھی نہ بنو۔

تیری اُمت کے بھی بعض لوگ تو اس پر ایمان لائے تجھے رسول برحق مانا ہے۔ تیری باتوں سے نفع اٹھا رہے ہیں۔ اور بعض ایمان سے رہ گئے ہیں خیر سے خالی ہو گئے ہیں تیرا رب مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے گمراہ اور نیک اس پر ظاہر ہیں ہدایت اور ضلالت کے مستحق اس کے سامنے ہیں۔ وہ عادل ہے ظالم نہیں۔ ہر ایک کو اس کا حصہ دیتا ہے۔ وہ برکت اور بلندی والا پاک اور انتہائی حسن والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

صفحہ نمبر3698

اعجاز قرآن حکیم ٭٭

قرآن کریم کے اعجاز کا اور قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے کا بیان ہو رہا ہے کہ کوئی اس کا بدل اور مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس جیسا قرآن بلکہ اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی کسی کے بس کی نہیں۔ یہ بے مثل قرآن بے مثل اللہ کی طرف سے ہے۔ اس کی فصاحت و بلاغت، اس کی وجاہت و حلاوت، اس کے معنوں کی بلندی، اس کے مضامین کی عمدگی بالکل بے نظیر چیز ہے۔

اور یہی دلیل ہے اس کی کہ یہ قرآن اس اللہ کی طرف سے ہے جس کی ذات بے مثل صفتیں بے مثل، جس کے اقوال بے مثل، جس کے افعال بے مثل، جس کا کلام اس چیز سے عالی اور بلند کہ مخلوق کا کلام اس کے مشابہ ہوسکے۔ یہ کلام تو رب العالمین کا ہی کلام ہے، نہ کوئی اور اسے بنا سکے، نہ یہ کسی اور کا بنایا ہوا۔ یہ تو سابقہ کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، ان پر نگہبانی کرتا ہے، ان کا اظہار کرتا ہے، ان میں جو تحریف تبدیل تاویل ہوئی ہے اسے بے حجاب کرتا ہے، حلال و حرام جائز و ناجائز غرض کل امور شرع کا شافی اور پورا بیان فرماتا ہے۔ پس اس کے کلام اللہ ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں اگلی خبریں ہیں اس میں آنے والی پیش گوئیاں ہیں اور آنے والی خبریں ہیں، سب جھگڑوں کے فیصلے ہیں سب احکام کے حکم ہیں۔ [سنن ترمذي2906، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اگر تمہیں اس کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے۔ تو اسے گھڑا ہوا سمجھتے ہو اور کہتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے کہہ لیا ہے «قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَـٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا» ‏ [17-الاسراء:88] ‏ ” تو جاؤ تم سب مل کر ایک ہی سورۃ اس جیسی بنا لاؤ اور کل انسان اور جنوں سے مدد بھی لے لو “۔

یہ تیسرا مقام ہے جہاں کفار کو مقابلے پر بلا کر عاجر کیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہوں تو اس کے مقابلے میں اسی جیسا کلام پیش کریں۔ لیکن یہ ہے ناممکن یہ خبر بھی ساتھ ہی دے دی تھی کہ انسان و جنات سب جمع ہو جائیں ایک دوسرے کا ساتھ دیں لیکن اس قرآن جیسا بنا کر پیش نہیں کرسکتے۔

صفحہ نمبر3696

اس پورے قرآن کے مقابلہ سے جب وہ عاجز و لاچار ثابت ہوچکے تو ان سے مطالبہ ہوا کہ اس جیسی صرف دس سورتیں ہی بنا کر لاؤ۔ سورۃ ھود کے شروع کی آیت «قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَيٰتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [11-ھود:13] ‏ میں یہ فرمان ہے۔

جب یہ بھی ان سے نہ ہو سکا تو اور آسانی کر دی گئی اور سورۃ البقرہ میں جو مدنی ہے فرمایا کہ «فَأْتُوا بِسُورَ‌ةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [2-البقرة:23] ‏ ” اچھا ایک ہی سورت اس جیسی بنا کر پیش کرو “۔ وہاں بھی ساتھ ہی فرمایا کہ «فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا» [2-البقرة:24] ‏ ” نہ یہ تمہارے بس کی بات ہے نہ ساری مخلوق کے بس کی بات “۔

پس اس الہامی کتاب کو جھٹلا کر عذاب الٰہی مول نہ لو۔ اس وقت کلام کی فصاحت و بلاغت پر پورا زور تھا۔ عرب اپنے مقابلے میں سارے جہاں کو عجم یعنی گونگا کہا کرتے تھے۔ اپنی زبان پر بڑا گھمنڈ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے وہ قرآن اتارا کہ سب سے پہلے انہیں شاعروں اور زبان دانوں اور عالموں کی گردنیں اس کے سامنے خم ہوئیں جیسے سب سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کے اس معجزے نے کہ مردوں کو بحکم الٰہی جِلا دینا۔ مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بحکم رب شفاء دے دینا، دنیا کے سب سے پہلے معالجوں اور اطباء کو اللہ کی راہ پر لا کھڑا کر دیا۔ کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا کہ یہ کام دوا کا نہیں اللہ کا ہے۔ جادوگروں نے سانپ کو جو موسیٰ علیہ السلام کی لکڑی تھی دیکھتے ہی آپ علیہ السلام کی نبوت کا یقین کر لیا اور عاجز و درماندہ ہو گئے۔

صفحہ نمبر3697

اسی طرح اس قرآن نے فصیح و بلیغ لوگوں کی زبانیں بند کر دیں۔ ان کے دلوں میں یقین آ گیا کہ بیشک یہ کلام انسان کا کلام نہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نبیوں کو ایسے معجزے دئیے گئے کہ ان کی وجہ سے لوگ ان پر ایمان لائے۔ میرا ایسا معجزہ قرآن ہے پس مجھے اُمید ہے کہ میرے تابعدار بہ نسبت ان کے بہت ہی زیادہ ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:4981] ‏

یہ (‏کافر) لوگ بغیر سوچے سمجھے، بغیر علم حاصل کئے اسے جھٹلانے لگے۔ اب تک تو اس کے مصداق اور حقیقت تک بھی یہ نہیں پہنچے۔ اپنی جہالت و سفاہت کی وجہ سے اس کی ہدایت اس کے علم سے محروم رہ گئے اور چلانا شروع کر دیا کہ ہم اسے نہیں مانتے۔ ان سے پہلے کی امتوں نے بھی اللہ کے کلام کو اسی طرح جھٹلا دیا تھا جس بنا پر وہ ہلاک کر دیئے گئے۔ تو آپ نے دیکھ لیا کہ ان کا کیسا برا انجام ہوا۔ کسی طرح ان کے پرخچے اڑے؟ ہمارے رسولوں کو ستانے ان کے نہ ماننے کا کبھی انجام اچھا نہیں ہوا۔ تمہیں ڈرنا چاہیئے کہیں انہیں آفتوں کا نشانہ تم بھی نہ بنو۔

تیری اُمت کے بھی بعض لوگ تو اس پر ایمان لائے تجھے رسول برحق مانا ہے۔ تیری باتوں سے نفع اٹھا رہے ہیں۔ اور بعض ایمان سے رہ گئے ہیں خیر سے خالی ہو گئے ہیں تیرا رب مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے گمراہ اور نیک اس پر ظاہر ہیں ہدایت اور ضلالت کے مستحق اس کے سامنے ہیں۔ وہ عادل ہے ظالم نہیں۔ ہر ایک کو اس کا حصہ دیتا ہے۔ وہ برکت اور بلندی والا پاک اور انتہائی حسن والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

صفحہ نمبر3698

مشرکین سے اجتناب فرما لیجئے ٭٭

فرمان ہوتا ہے کہ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ مشرکین تجھے جھوٹا ہی بتلاتے رہیں تو تو ان سے اور ان کے کاموں سے اپنی بیزاری کا اعلان کر دے۔ اور کہہ دے کہ «فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ» تمہارے اعمال تمہارے ساتھ میرے اعمال میرے ساتھ “۔

جیسے کہ وہ سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» [109-الکافرون] ‏ میں بیان ہوا ہے، اور جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ» [60-الممتحنة:4] ‏ ” ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے بیزار ہیں، جنہیں تم نے اللہ کے سوا اپنا معبود بنا رکھا ہے “۔

ان میں سے بعض تیرا پاکیزہ کلام بھی سنتے ہیں اور خود اللہ تعالیٰ کا بلند و بالا کلام بھی ان کے کانوں میں پڑ رہا ہے۔ لیکن ہدایت نہ تیرے ہاتھ نہ ان کے ہاتھ گو یہ فصیح و صحیح کلام دلوں میں گھر کرنے والا، انسانوں کو پورا نفع دینے والا ہے۔ یہ کافی اور وافی ہے لیکن بہروں کو کون سنا سکے؟ یہ دل کے کان نہیں رکھتے۔ اللہ ہی کے ہاتھ ہدایت ہے۔ یہ تجھے دیکھتے ہیں، تیرے پاکیزہ اخلاق، تیری ستھری تعلیم تیری نبوت کی روشن دلیلیں ہر وقت ان کے سامنے ہیں لیکن ان سے بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ مومن تو انہیں دیکھ کر ایمان بڑھاتے ہیں۔ لیکن ان کے دل اندھے ہیں عقل و بصیرت ان میں نہیں ہے۔

صفحہ نمبر3702

مومن وقار کی نظر ڈالتے ہیں اور یہ حقارت کی۔ ہر وقت ہنسی مذاق اڑاتے رہتے ہیں۔ پس اپنے اندھے پن کی وجہ سے راہ ہدایت دیکھ نہیں سکتے۔ اس میں بھی اللہ کی حکمت کار ہے کہ ایک تو دیکھے اور سنے اور نفع پائے دوسرا دیکھے سنے اور نفع سے محروم رہے۔ اسے اللہ کا ظلم نہ سمجھو وہ تو سراسر عدل کرنے والا ہے، کسی پر کبھی کوئی ظلم وہ روا نہیں رکھتا۔ لوگ خود اپنا برا آپ ہی کر لیتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «‏وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّـهُ رَسُولًا إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلَا أَن صَبَرْنَا عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» ‏ [25-الفرقان:41، 42] ‏

اللہ عزوجل اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی فرماتا ہے کہ «يا عِبَادِي إني حَرَّمْتُ الظُّلْمَ على نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فلا تَظَالَمُوا، يا عِبَادِي، إنما هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ غير ذلك فلا يَلُومَنَّ إلا نَفْسَهُ» اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی اسے حرام کر دیا ہے۔ خبردار ایک دوسرے پر ظلم ہرگز نہ کرنا۔ اس کے آخر میں ہے اے میرے بندو! یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں جنہیں میں جمع کر رہا ہوں پھر تمہیں ان کا بدلہ دونگا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کا شکر بجا لائے اور جو اس کے سوا کچھ اور پائے وہ صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے ۔ [صحیح مسلم:2577] ‏

صفحہ نمبر3703

مشرکین سے اجتناب فرما لیجئے ٭٭

فرمان ہوتا ہے کہ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ مشرکین تجھے جھوٹا ہی بتلاتے رہیں تو تو ان سے اور ان کے کاموں سے اپنی بیزاری کا اعلان کر دے۔ اور کہہ دے کہ «فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ» تمہارے اعمال تمہارے ساتھ میرے اعمال میرے ساتھ “۔

جیسے کہ وہ سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» [109-الکافرون] ‏ میں بیان ہوا ہے، اور جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ» [60-الممتحنة:4] ‏ ” ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے بیزار ہیں، جنہیں تم نے اللہ کے سوا اپنا معبود بنا رکھا ہے “۔

ان میں سے بعض تیرا پاکیزہ کلام بھی سنتے ہیں اور خود اللہ تعالیٰ کا بلند و بالا کلام بھی ان کے کانوں میں پڑ رہا ہے۔ لیکن ہدایت نہ تیرے ہاتھ نہ ان کے ہاتھ گو یہ فصیح و صحیح کلام دلوں میں گھر کرنے والا، انسانوں کو پورا نفع دینے والا ہے۔ یہ کافی اور وافی ہے لیکن بہروں کو کون سنا سکے؟ یہ دل کے کان نہیں رکھتے۔ اللہ ہی کے ہاتھ ہدایت ہے۔ یہ تجھے دیکھتے ہیں، تیرے پاکیزہ اخلاق، تیری ستھری تعلیم تیری نبوت کی روشن دلیلیں ہر وقت ان کے سامنے ہیں لیکن ان سے بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ مومن تو انہیں دیکھ کر ایمان بڑھاتے ہیں۔ لیکن ان کے دل اندھے ہیں عقل و بصیرت ان میں نہیں ہے۔

صفحہ نمبر3702

مومن وقار کی نظر ڈالتے ہیں اور یہ حقارت کی۔ ہر وقت ہنسی مذاق اڑاتے رہتے ہیں۔ پس اپنے اندھے پن کی وجہ سے راہ ہدایت دیکھ نہیں سکتے۔ اس میں بھی اللہ کی حکمت کار ہے کہ ایک تو دیکھے اور سنے اور نفع پائے دوسرا دیکھے سنے اور نفع سے محروم رہے۔ اسے اللہ کا ظلم نہ سمجھو وہ تو سراسر عدل کرنے والا ہے، کسی پر کبھی کوئی ظلم وہ روا نہیں رکھتا۔ لوگ خود اپنا برا آپ ہی کر لیتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «‏وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّـهُ رَسُولًا إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلَا أَن صَبَرْنَا عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» ‏ [25-الفرقان:41، 42] ‏

اللہ عزوجل اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی فرماتا ہے کہ «يا عِبَادِي إني حَرَّمْتُ الظُّلْمَ على نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فلا تَظَالَمُوا، يا عِبَادِي، إنما هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ غير ذلك فلا يَلُومَنَّ إلا نَفْسَهُ» اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی اسے حرام کر دیا ہے۔ خبردار ایک دوسرے پر ظلم ہرگز نہ کرنا۔ اس کے آخر میں ہے اے میرے بندو! یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں جنہیں میں جمع کر رہا ہوں پھر تمہیں ان کا بدلہ دونگا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کا شکر بجا لائے اور جو اس کے سوا کچھ اور پائے وہ صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے ۔ [صحیح مسلم:2577] ‏

صفحہ نمبر3703

مشرکین سے اجتناب فرما لیجئے ٭٭

فرمان ہوتا ہے کہ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ مشرکین تجھے جھوٹا ہی بتلاتے رہیں تو تو ان سے اور ان کے کاموں سے اپنی بیزاری کا اعلان کر دے۔ اور کہہ دے کہ «فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ» تمہارے اعمال تمہارے ساتھ میرے اعمال میرے ساتھ “۔

جیسے کہ وہ سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» [109-الکافرون] ‏ میں بیان ہوا ہے، اور جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ» [60-الممتحنة:4] ‏ ” ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے بیزار ہیں، جنہیں تم نے اللہ کے سوا اپنا معبود بنا رکھا ہے “۔

ان میں سے بعض تیرا پاکیزہ کلام بھی سنتے ہیں اور خود اللہ تعالیٰ کا بلند و بالا کلام بھی ان کے کانوں میں پڑ رہا ہے۔ لیکن ہدایت نہ تیرے ہاتھ نہ ان کے ہاتھ گو یہ فصیح و صحیح کلام دلوں میں گھر کرنے والا، انسانوں کو پورا نفع دینے والا ہے۔ یہ کافی اور وافی ہے لیکن بہروں کو کون سنا سکے؟ یہ دل کے کان نہیں رکھتے۔ اللہ ہی کے ہاتھ ہدایت ہے۔ یہ تجھے دیکھتے ہیں، تیرے پاکیزہ اخلاق، تیری ستھری تعلیم تیری نبوت کی روشن دلیلیں ہر وقت ان کے سامنے ہیں لیکن ان سے بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ مومن تو انہیں دیکھ کر ایمان بڑھاتے ہیں۔ لیکن ان کے دل اندھے ہیں عقل و بصیرت ان میں نہیں ہے۔

صفحہ نمبر3702

مومن وقار کی نظر ڈالتے ہیں اور یہ حقارت کی۔ ہر وقت ہنسی مذاق اڑاتے رہتے ہیں۔ پس اپنے اندھے پن کی وجہ سے راہ ہدایت دیکھ نہیں سکتے۔ اس میں بھی اللہ کی حکمت کار ہے کہ ایک تو دیکھے اور سنے اور نفع پائے دوسرا دیکھے سنے اور نفع سے محروم رہے۔ اسے اللہ کا ظلم نہ سمجھو وہ تو سراسر عدل کرنے والا ہے، کسی پر کبھی کوئی ظلم وہ روا نہیں رکھتا۔ لوگ خود اپنا برا آپ ہی کر لیتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «‏وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّـهُ رَسُولًا إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلَا أَن صَبَرْنَا عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» ‏ [25-الفرقان:41، 42] ‏

اللہ عزوجل اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی فرماتا ہے کہ «يا عِبَادِي إني حَرَّمْتُ الظُّلْمَ على نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فلا تَظَالَمُوا، يا عِبَادِي، إنما هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ غير ذلك فلا يَلُومَنَّ إلا نَفْسَهُ» اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی اسے حرام کر دیا ہے۔ خبردار ایک دوسرے پر ظلم ہرگز نہ کرنا۔ اس کے آخر میں ہے اے میرے بندو! یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں جنہیں میں جمع کر رہا ہوں پھر تمہیں ان کا بدلہ دونگا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کا شکر بجا لائے اور جو اس کے سوا کچھ اور پائے وہ صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے ۔ [صحیح مسلم:2577] ‏

صفحہ نمبر3703

مشرکین سے اجتناب فرما لیجئے ٭٭

فرمان ہوتا ہے کہ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ مشرکین تجھے جھوٹا ہی بتلاتے رہیں تو تو ان سے اور ان کے کاموں سے اپنی بیزاری کا اعلان کر دے۔ اور کہہ دے کہ «فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ» تمہارے اعمال تمہارے ساتھ میرے اعمال میرے ساتھ “۔

جیسے کہ وہ سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» [109-الکافرون] ‏ میں بیان ہوا ہے، اور جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ» [60-الممتحنة:4] ‏ ” ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے بیزار ہیں، جنہیں تم نے اللہ کے سوا اپنا معبود بنا رکھا ہے “۔

ان میں سے بعض تیرا پاکیزہ کلام بھی سنتے ہیں اور خود اللہ تعالیٰ کا بلند و بالا کلام بھی ان کے کانوں میں پڑ رہا ہے۔ لیکن ہدایت نہ تیرے ہاتھ نہ ان کے ہاتھ گو یہ فصیح و صحیح کلام دلوں میں گھر کرنے والا، انسانوں کو پورا نفع دینے والا ہے۔ یہ کافی اور وافی ہے لیکن بہروں کو کون سنا سکے؟ یہ دل کے کان نہیں رکھتے۔ اللہ ہی کے ہاتھ ہدایت ہے۔ یہ تجھے دیکھتے ہیں، تیرے پاکیزہ اخلاق، تیری ستھری تعلیم تیری نبوت کی روشن دلیلیں ہر وقت ان کے سامنے ہیں لیکن ان سے بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ مومن تو انہیں دیکھ کر ایمان بڑھاتے ہیں۔ لیکن ان کے دل اندھے ہیں عقل و بصیرت ان میں نہیں ہے۔

صفحہ نمبر3702

مومن وقار کی نظر ڈالتے ہیں اور یہ حقارت کی۔ ہر وقت ہنسی مذاق اڑاتے رہتے ہیں۔ پس اپنے اندھے پن کی وجہ سے راہ ہدایت دیکھ نہیں سکتے۔ اس میں بھی اللہ کی حکمت کار ہے کہ ایک تو دیکھے اور سنے اور نفع پائے دوسرا دیکھے سنے اور نفع سے محروم رہے۔ اسے اللہ کا ظلم نہ سمجھو وہ تو سراسر عدل کرنے والا ہے، کسی پر کبھی کوئی ظلم وہ روا نہیں رکھتا۔ لوگ خود اپنا برا آپ ہی کر لیتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «‏وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّـهُ رَسُولًا إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلَا أَن صَبَرْنَا عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» ‏ [25-الفرقان:41، 42] ‏

اللہ عزوجل اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی فرماتا ہے کہ «يا عِبَادِي إني حَرَّمْتُ الظُّلْمَ على نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فلا تَظَالَمُوا، يا عِبَادِي، إنما هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ غير ذلك فلا يَلُومَنَّ إلا نَفْسَهُ» اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی اسے حرام کر دیا ہے۔ خبردار ایک دوسرے پر ظلم ہرگز نہ کرنا۔ اس کے آخر میں ہے اے میرے بندو! یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں جنہیں میں جمع کر رہا ہوں پھر تمہیں ان کا بدلہ دونگا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کا شکر بجا لائے اور جو اس کے سوا کچھ اور پائے وہ صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے ۔ [صحیح مسلم:2577] ‏

صفحہ نمبر3703

جب سب اپنی قبر سے اٹھیں گے ٭٭

بیان ہو رہا ہے کہ ” وہ وقت بھی آ رہا ہے جب قیامت قائم ہوگی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کی قبروں سے اٹھا کر میدان قیامت میں جمع کرے گا “۔ «كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا» [79-النازعات:46] ‏ ” اس وقت انہیں ایسا معلوم ہو گا کہ گویا گھڑی بھر دن ہم رہے تھے۔ صبح یا شام ہی تک ہمارا رہنا ہوا تھا “۔

«يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ وَنَحْشُرُ الْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ زُرْقًا يَتَخَافَتُونَ بَيْنَهُمْ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا عَشْرًا نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذْ يَقُولُ أَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا يَوْمًا» [20-طه:102-104] ‏ ” کہیں گے کہ دس روز دنیا میں گزارے ہوں گے، تو بڑے بڑے حافظے والے کہیں گے کہاں کے دس دن تم تو ایک ہی دن رہے “۔

«وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ كَذَٰلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّـهِ إِلَىٰ يَوْمِ الْبَعْثِ فَهَـٰذَا يَوْمُ الْبَعْثِ وَلَـٰكِنَّكُمْ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» [30-الروم:55-56] ‏ ” قیامت کے دن یہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ایک ساعت ہی رہے “ وغیرہ۔ ایسی آیتیں قرآن کریم میں بہت سی ہیں۔

مقصود یہ ہے کہ دنیا کی زندگی آج بہت تھوڑی معلوم ہوگی۔ سوال ہوگا کہ «قَالَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَاسْأَلِ الْعَادِّينَ» [23-المؤمنون:112-114] ‏ کتنے سال دنیا میں گزارے، جواب دیں گے کہ ایک دن بلکہ اسے بھی کم شمار والوں سے پوچھ لو۔ جواب ملے گا کہ واقعہ میں دار دنیادار آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے اور فی الحقیقت وہاں کی زندگی بہت ہی تھوڑی تھی لیکن تم نے اس کا خیال زندگی بھر نہ کیا۔ اس وقت بھی ہر ایک دوسرے کو پہچانتا ہو گا جیسے دنیا میں تھے ویسے ہی وہاں بھی ہوں گے رشتے کنبے کو، باپ بیٹوں الگ الگ پہنچان لیں گے۔ لیکن ہر ایک نفسا نفسی میں مشغول ہوگا۔

جیسے فرمان الٰہی ہے کہ «فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ» [23-المؤمنون:101] ‏ ” صور کے پھونکتے ہی حسب و نسب فنا ہو جائیں گے، کوئی دوست اپنے کسی دوست سے کچھ سوال تک نہ کرے گا “۔ «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:15] ‏ ” جو اس دن کو جھٹلاتے رہے وہ آج گھاٹے میں رہیں گے ان کے لیے ہلاکت ہو گی انہوں نے اپنا ہی برا کیا اور اپنے والوں کو بھی برباد کیا “۔ اس سے بڑھ کر خسارہ اور کیا ہوگا کہ ایک دوسرے سے دور ہے دوستوں کے درمیان تفریق ہے، حسرت و ندامت کا دن ہے۔

صفحہ نمبر3707

اللہ تعالی مقتدر اعلی ہے ٭٭

فرمان ہے کہ ” اگر تیری زندگی میں ہم ان کفار پر کوئی عذاب اتاریں یا تجھے ان عذابوں کے اتارنے سے پہلے ہی اپنے پاس بلا لیں، بہر صورت ہے تو یہ سب ہمارے قبضے میں ہی اور ٹھکانا ان کا ہمارے ہاں ہی ہے، اور ہم پر ان کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں “۔

طبرانی کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گزشتہ رات اسی حجرے کے پاس میرے سامنے میری ساری امت پیش کی گئی کسی نے پوچھا کہ اچھا موجود لوگ تو خیر لیکن جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے وہ کیسے پیش کئے گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی مٹی کے جسم پیش کئے گئے جیسے تم اپنے کسی ساتھی کو پہچانتے ہو ایسے ہی میں نے انہیں پہچان لیا ۔ [طبرانی کبیر3055:ضعیف ] ‏

ہر امت کے رسول ہیں۔ جب کسی کے پاس رسول پہنچ گیا پھر حجت پوری ہوگئی۔ اب قیامت کے دن ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ بغیر کسی ظلم کے حساب چکا دیا جائے گا۔ جیسے «وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ والی آیت میں ہے۔ ہر امت اللہ کے سامنے ہو گی، رسول موجود ہو گا، نامہ اعمال ساتھ ہو گا، گواہ فرشتے حاضر ہوں گے، ایک کے بعد دوسری امت آئے گی اس شریف امت کا فیصلہ سب سے پہلے ہو گا۔ گو دنیا میں یہ سب سے آخر میں آئی ہے۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔ ہماری فیصلے سب سے اول ہوں گے [صحیح بخاری:6624] ‏۔

اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت و شرف کی وجہ سے یہ امت بھی اللہ کے ہاں شریف و افضل ہے۔

صفحہ نمبر3708

اللہ تعالی مقتدر اعلی ہے ٭٭

فرمان ہے کہ ” اگر تیری زندگی میں ہم ان کفار پر کوئی عذاب اتاریں یا تجھے ان عذابوں کے اتارنے سے پہلے ہی اپنے پاس بلا لیں، بہر صورت ہے تو یہ سب ہمارے قبضے میں ہی اور ٹھکانا ان کا ہمارے ہاں ہی ہے، اور ہم پر ان کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں “۔

طبرانی کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گزشتہ رات اسی حجرے کے پاس میرے سامنے میری ساری امت پیش کی گئی کسی نے پوچھا کہ اچھا موجود لوگ تو خیر لیکن جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے وہ کیسے پیش کئے گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی مٹی کے جسم پیش کئے گئے جیسے تم اپنے کسی ساتھی کو پہچانتے ہو ایسے ہی میں نے انہیں پہچان لیا ۔ [طبرانی کبیر3055:ضعیف ] ‏

ہر امت کے رسول ہیں۔ جب کسی کے پاس رسول پہنچ گیا پھر حجت پوری ہوگئی۔ اب قیامت کے دن ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ بغیر کسی ظلم کے حساب چکا دیا جائے گا۔ جیسے «وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ والی آیت میں ہے۔ ہر امت اللہ کے سامنے ہو گی، رسول موجود ہو گا، نامہ اعمال ساتھ ہو گا، گواہ فرشتے حاضر ہوں گے، ایک کے بعد دوسری امت آئے گی اس شریف امت کا فیصلہ سب سے پہلے ہو گا۔ گو دنیا میں یہ سب سے آخر میں آئی ہے۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔ ہماری فیصلے سب سے اول ہوں گے [صحیح بخاری:6624] ‏۔

اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت و شرف کی وجہ سے یہ امت بھی اللہ کے ہاں شریف و افضل ہے۔

صفحہ نمبر3708

بے معنی سوال کرنے والوں کو جواب ٭٭

ان کا بے فائدہ سوال دیکھو، وعدہ کا دن کب آئے گا؟ «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ» [42-الشورى:18] ‏ ” یہ پوچھتے ہیں اور پھر وہ بھی نہ ماننے اور انکار کے بعد بطور یہ جلدی مچا رہے ہیں اور مومن خوف زدہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں “۔

وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ ” میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس کا خاص وقت بتایا نہ میں تمہیں بتا سکوں ہاں ہر زمانے کی ایک معیاد معین ہے “۔

«وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّـهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا» [63-المنافقون:11] ‏ ” جہاں اجل آئی پھر نہ ایک ساعت پیچھے نہ آگے اجل آنے کے بعد نہیں رکتی “۔

پھر فرمایا کہ ” وہ تو اچانک آنے والی ہے “ ممکن ہے رات کو آ جائے دن کو آ جائے اس کے عذاب میں دیر کیا ہے؟ پھر اس شور مچانے سے اور وقت کا تعین پوچھنے سے کیا حاصل؟ کیا جب قیامت آ جائے عذاب دیکھ لو تب ایمان لاؤ گے؟ وہ محض بے سود ہے۔

«رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» [32-السجدہ:12] ‏ ” اس وقت تو یہ سب کہیں گے کہ ہم نے دیکھ سن لیا۔ کہیں گے ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور دوسرے سے کفر کرتے ہیں “۔

«فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» [40-غافر:84-85] ‏ ” لیکن ہمارے عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان بے نفع ہے۔ اللہ کا طریقہ اپنے بندوں میں یہی رہا ہے وہاں تو کافروں کو نقصان ہی رہے گا۔ اس دن تو ان سے صاف کہہ دیا جائے گا اور بہت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہ اب تو دائمی عذاب چکھو، ہمیشہ کی مصیبت اٹھاؤ “۔

انہیں دھکے دیدے کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ یہ ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔ اب بتاؤ کہ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب اس میں چلے جاؤ اب تو صبر کرنا نہ کرنا برابر ہے اپنے اعمال کا بدلہ ضرور پاؤ گے۔

صفحہ نمبر3710

بے معنی سوال کرنے والوں کو جواب ٭٭

ان کا بے فائدہ سوال دیکھو، وعدہ کا دن کب آئے گا؟ «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ» [42-الشورى:18] ‏ ” یہ پوچھتے ہیں اور پھر وہ بھی نہ ماننے اور انکار کے بعد بطور یہ جلدی مچا رہے ہیں اور مومن خوف زدہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں “۔

وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ ” میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس کا خاص وقت بتایا نہ میں تمہیں بتا سکوں ہاں ہر زمانے کی ایک معیاد معین ہے “۔

«وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّـهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا» [63-المنافقون:11] ‏ ” جہاں اجل آئی پھر نہ ایک ساعت پیچھے نہ آگے اجل آنے کے بعد نہیں رکتی “۔

پھر فرمایا کہ ” وہ تو اچانک آنے والی ہے “ ممکن ہے رات کو آ جائے دن کو آ جائے اس کے عذاب میں دیر کیا ہے؟ پھر اس شور مچانے سے اور وقت کا تعین پوچھنے سے کیا حاصل؟ کیا جب قیامت آ جائے عذاب دیکھ لو تب ایمان لاؤ گے؟ وہ محض بے سود ہے۔

«رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» [32-السجدہ:12] ‏ ” اس وقت تو یہ سب کہیں گے کہ ہم نے دیکھ سن لیا۔ کہیں گے ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور دوسرے سے کفر کرتے ہیں “۔

«فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» [40-غافر:84-85] ‏ ” لیکن ہمارے عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان بے نفع ہے۔ اللہ کا طریقہ اپنے بندوں میں یہی رہا ہے وہاں تو کافروں کو نقصان ہی رہے گا۔ اس دن تو ان سے صاف کہہ دیا جائے گا اور بہت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہ اب تو دائمی عذاب چکھو، ہمیشہ کی مصیبت اٹھاؤ “۔

انہیں دھکے دیدے کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ یہ ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔ اب بتاؤ کہ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب اس میں چلے جاؤ اب تو صبر کرنا نہ کرنا برابر ہے اپنے اعمال کا بدلہ ضرور پاؤ گے۔

صفحہ نمبر3710

بے معنی سوال کرنے والوں کو جواب ٭٭

ان کا بے فائدہ سوال دیکھو، وعدہ کا دن کب آئے گا؟ «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ» [42-الشورى:18] ‏ ” یہ پوچھتے ہیں اور پھر وہ بھی نہ ماننے اور انکار کے بعد بطور یہ جلدی مچا رہے ہیں اور مومن خوف زدہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں “۔

وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ ” میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس کا خاص وقت بتایا نہ میں تمہیں بتا سکوں ہاں ہر زمانے کی ایک معیاد معین ہے “۔

«وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّـهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا» [63-المنافقون:11] ‏ ” جہاں اجل آئی پھر نہ ایک ساعت پیچھے نہ آگے اجل آنے کے بعد نہیں رکتی “۔

پھر فرمایا کہ ” وہ تو اچانک آنے والی ہے “ ممکن ہے رات کو آ جائے دن کو آ جائے اس کے عذاب میں دیر کیا ہے؟ پھر اس شور مچانے سے اور وقت کا تعین پوچھنے سے کیا حاصل؟ کیا جب قیامت آ جائے عذاب دیکھ لو تب ایمان لاؤ گے؟ وہ محض بے سود ہے۔

«رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» [32-السجدہ:12] ‏ ” اس وقت تو یہ سب کہیں گے کہ ہم نے دیکھ سن لیا۔ کہیں گے ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور دوسرے سے کفر کرتے ہیں “۔

«فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» [40-غافر:84-85] ‏ ” لیکن ہمارے عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان بے نفع ہے۔ اللہ کا طریقہ اپنے بندوں میں یہی رہا ہے وہاں تو کافروں کو نقصان ہی رہے گا۔ اس دن تو ان سے صاف کہہ دیا جائے گا اور بہت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہ اب تو دائمی عذاب چکھو، ہمیشہ کی مصیبت اٹھاؤ “۔

انہیں دھکے دیدے کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ یہ ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔ اب بتاؤ کہ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب اس میں چلے جاؤ اب تو صبر کرنا نہ کرنا برابر ہے اپنے اعمال کا بدلہ ضرور پاؤ گے۔

صفحہ نمبر3710

بے معنی سوال کرنے والوں کو جواب ٭٭

ان کا بے فائدہ سوال دیکھو، وعدہ کا دن کب آئے گا؟ «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ» [42-الشورى:18] ‏ ” یہ پوچھتے ہیں اور پھر وہ بھی نہ ماننے اور انکار کے بعد بطور یہ جلدی مچا رہے ہیں اور مومن خوف زدہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں “۔

وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ ” میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس کا خاص وقت بتایا نہ میں تمہیں بتا سکوں ہاں ہر زمانے کی ایک معیاد معین ہے “۔

«وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّـهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا» [63-المنافقون:11] ‏ ” جہاں اجل آئی پھر نہ ایک ساعت پیچھے نہ آگے اجل آنے کے بعد نہیں رکتی “۔

پھر فرمایا کہ ” وہ تو اچانک آنے والی ہے “ ممکن ہے رات کو آ جائے دن کو آ جائے اس کے عذاب میں دیر کیا ہے؟ پھر اس شور مچانے سے اور وقت کا تعین پوچھنے سے کیا حاصل؟ کیا جب قیامت آ جائے عذاب دیکھ لو تب ایمان لاؤ گے؟ وہ محض بے سود ہے۔

«رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» [32-السجدہ:12] ‏ ” اس وقت تو یہ سب کہیں گے کہ ہم نے دیکھ سن لیا۔ کہیں گے ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور دوسرے سے کفر کرتے ہیں “۔

«فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» [40-غافر:84-85] ‏ ” لیکن ہمارے عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان بے نفع ہے۔ اللہ کا طریقہ اپنے بندوں میں یہی رہا ہے وہاں تو کافروں کو نقصان ہی رہے گا۔ اس دن تو ان سے صاف کہہ دیا جائے گا اور بہت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہ اب تو دائمی عذاب چکھو، ہمیشہ کی مصیبت اٹھاؤ “۔

انہیں دھکے دیدے کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ یہ ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔ اب بتاؤ کہ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب اس میں چلے جاؤ اب تو صبر کرنا نہ کرنا برابر ہے اپنے اعمال کا بدلہ ضرور پاؤ گے۔

صفحہ نمبر3710

بے معنی سوال کرنے والوں کو جواب ٭٭

ان کا بے فائدہ سوال دیکھو، وعدہ کا دن کب آئے گا؟ «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ» [42-الشورى:18] ‏ ” یہ پوچھتے ہیں اور پھر وہ بھی نہ ماننے اور انکار کے بعد بطور یہ جلدی مچا رہے ہیں اور مومن خوف زدہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں “۔

وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ ” میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس کا خاص وقت بتایا نہ میں تمہیں بتا سکوں ہاں ہر زمانے کی ایک معیاد معین ہے “۔

«وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّـهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا» [63-المنافقون:11] ‏ ” جہاں اجل آئی پھر نہ ایک ساعت پیچھے نہ آگے اجل آنے کے بعد نہیں رکتی “۔

پھر فرمایا کہ ” وہ تو اچانک آنے والی ہے “ ممکن ہے رات کو آ جائے دن کو آ جائے اس کے عذاب میں دیر کیا ہے؟ پھر اس شور مچانے سے اور وقت کا تعین پوچھنے سے کیا حاصل؟ کیا جب قیامت آ جائے عذاب دیکھ لو تب ایمان لاؤ گے؟ وہ محض بے سود ہے۔

«رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» [32-السجدہ:12] ‏ ” اس وقت تو یہ سب کہیں گے کہ ہم نے دیکھ سن لیا۔ کہیں گے ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور دوسرے سے کفر کرتے ہیں “۔

«فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» [40-غافر:84-85] ‏ ” لیکن ہمارے عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان بے نفع ہے۔ اللہ کا طریقہ اپنے بندوں میں یہی رہا ہے وہاں تو کافروں کو نقصان ہی رہے گا۔ اس دن تو ان سے صاف کہہ دیا جائے گا اور بہت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہ اب تو دائمی عذاب چکھو، ہمیشہ کی مصیبت اٹھاؤ “۔

انہیں دھکے دیدے کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ یہ ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔ اب بتاؤ کہ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب اس میں چلے جاؤ اب تو صبر کرنا نہ کرنا برابر ہے اپنے اعمال کا بدلہ ضرور پاؤ گے۔

صفحہ نمبر3710

مٹی ہو نے کے بعد جینا کیسا ہے؟ ٭٭

” پوچھتے ہیں کہ کیا مٹی ہو جانے اور سڑ گل جانے کے بعد جی اُٹھنا اور قیامت کا قائم ہونا حق ہی ہے؟ تو ان کا شبہ مٹا دے اور قسم کھا کر کہہ دے کہ یہ سراسر حق ہی ہے۔ جس اللہ نے تمہیں اس وقت پیدا کیا جب کہ تم کچھ نہ تھے۔ وہ تمہیں دوبارہ جب کہ تم مٹی ہو جاؤ گے پیدا کرنے پر یقیناً قادر ہے وہ تو جو چاہتا ہے فرما دیتا ہے کہ «إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [36-يس:82] ‏ ” یوں ہو جا اسی وقت ہو جاتا ہے “ “۔ اسی مضمون کی اور دو آیتیں قرآن کریم میں ہیں۔

سورۃ سبا میں ہے «قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُم» [34-سبأ:3] ‏، سورۃ التغابن میں ہے «قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُم» [64-التغابن:7] ‏ ان دونوں میں بھی قیامت کے ہونے پر قسم کھا کر یقین دلایا گیا ہے۔ اس دن تو کفار زمین بھر کر سونا اپنے بدلے میں دے کر بھی چھٹکارا پانا پسند کریں گے۔ دلوں میں ندامت ہوگی، عذاب سامنے ہوں گے، حق کے ساتھ فیصلے ہو رہے ہوں گے، کسی پر ظلم ہرگز نہ ہوگا۔

«يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [52-الطور:13-16] ‏ ” جس دن وه دھکے دیدے کر آتش جہنم کی طرف لائیں جائیں گے، یہی وه آتش دوزخ ہے جسے تم جھوٹ بتلاتے تھے، (‏اب بتاؤ) کیا یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں ہو، جاؤ دوزخ میں اب تمہارا صبر کرنا اور نہ کرنا تمہارے لیے یکساں ہے تمہیں فقط تمہارے کیے کا بدلہ دیا جائے گا “۔

صفحہ نمبر3715

مٹی ہو نے کے بعد جینا کیسا ہے؟ ٭٭

” پوچھتے ہیں کہ کیا مٹی ہو جانے اور سڑ گل جانے کے بعد جی اُٹھنا اور قیامت کا قائم ہونا حق ہی ہے؟ تو ان کا شبہ مٹا دے اور قسم کھا کر کہہ دے کہ یہ سراسر حق ہی ہے۔ جس اللہ نے تمہیں اس وقت پیدا کیا جب کہ تم کچھ نہ تھے۔ وہ تمہیں دوبارہ جب کہ تم مٹی ہو جاؤ گے پیدا کرنے پر یقیناً قادر ہے وہ تو جو چاہتا ہے فرما دیتا ہے کہ «إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [36-يس:82] ‏ ” یوں ہو جا اسی وقت ہو جاتا ہے “ “۔ اسی مضمون کی اور دو آیتیں قرآن کریم میں ہیں۔

سورۃ سبا میں ہے «قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُم» [34-سبأ:3] ‏، سورۃ التغابن میں ہے «قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُم» [64-التغابن:7] ‏ ان دونوں میں بھی قیامت کے ہونے پر قسم کھا کر یقین دلایا گیا ہے۔ اس دن تو کفار زمین بھر کر سونا اپنے بدلے میں دے کر بھی چھٹکارا پانا پسند کریں گے۔ دلوں میں ندامت ہوگی، عذاب سامنے ہوں گے، حق کے ساتھ فیصلے ہو رہے ہوں گے، کسی پر ظلم ہرگز نہ ہوگا۔

«يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [52-الطور:13-16] ‏ ” جس دن وه دھکے دیدے کر آتش جہنم کی طرف لائیں جائیں گے، یہی وه آتش دوزخ ہے جسے تم جھوٹ بتلاتے تھے، (‏اب بتاؤ) کیا یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں ہو، جاؤ دوزخ میں اب تمہارا صبر کرنا اور نہ کرنا تمہارے لیے یکساں ہے تمہیں فقط تمہارے کیے کا بدلہ دیا جائے گا “۔

صفحہ نمبر3715

خالق کل عالم کل ہے ٭٭

مالک آسمان و زمین مختار کل کائنات اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ کے وعدے سچے ہیں وہ پورے ہو کر ہی رہیں گے۔ یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔ جلانے مارنے والا وہی ہے، سب باتوں پر وہ قادر ہے۔ جسم سے علیحدہ ہونے والی چیز کو، اس کے بکھر کر بگڑ کر ٹکڑے ہونے کو وہ جانتا ہے اس کے حصے کن جنگلوں میں کن دریاؤں میں کہاں ہیں وہ خوب جانتا ہے۔

صفحہ نمبر3717

خالق کل عالم کل ہے ٭٭

مالک آسمان و زمین مختار کل کائنات اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ کے وعدے سچے ہیں وہ پورے ہو کر ہی رہیں گے۔ یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔ جلانے مارنے والا وہی ہے، سب باتوں پر وہ قادر ہے۔ جسم سے علیحدہ ہونے والی چیز کو، اس کے بکھر کر بگڑ کر ٹکڑے ہونے کو وہ جانتا ہے اس کے حصے کن جنگلوں میں کن دریاؤں میں کہاں ہیں وہ خوب جانتا ہے۔

صفحہ نمبر3717

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کریم کے منصب عظیم کا تذکرہ ٭٭

اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن عظیم نازل فرمانے کے احسان کو اللہ رب العزت بیان فرما رہے ہیں کہ ” اللہ کا وعظ تمہارے پاس آچکا جو تمہیں بدیوں سے روک رہا ہے، جو دلوں کے شک شکوک دور کرنے والا ہے، جس سے ہدایت حاصل ہوتی ہے، جس سے اللہ کی رحمت ملتی ہے۔ جو اس سچائی کی تصدیق کریں اسے مانیں، اس پر یقین رکھیں، اس پر ایمان لائیں وہ اس سے نفع حاصل کرتے ہیں “۔

«وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا» [17-الاسراء:82] ‏ ” یہ ہمارا نازل کردہ قرآن مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے، ظالم تو اپنے نقصان میں ہی بڑھتے رہتے ہیں “۔

اور آیت میں ہے کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» [41-فصلت:44] ‏ ” کہہ دے کہ یہ تو ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے۔ اللہ کے فضل و رحمت یعنی اس قرآن کے ساتھ خوش ہونا چاہیئے۔ دنیائے فانی کے دھن دولت پر ریجھ جانے اور اس پر شادماں و فرحاں ہو جانے سے تو اس دولت کو حاصل کرنے اور اس ابدی خوشی اور دائمی مسرت کو پالینے سے بہت خوش ہونا چاہیئے “۔

ابن ابی حاتم اور طبرانی میں ہے کہ جب عراق فتح ہو گیا اور وہاں سے خراج دربار فاروق رضی اللہ عنہ میں پہنچا تو آپ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے اونٹوں کی گنتی کرنا چاہی لیکن وہ بے شمار تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرکے اسی آیت کی تلاوت کی۔ تو آپ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ عمرو نے کہا، یہ بھی تو اللہ کا فضل و رحمت ہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم نے غلط کہا یہ تمہارے ہمارے حاصل کردہ ہیں جس فضل و رحمت کا بیان اس آیت میں ہے وہ یہ نہیں۔‏“

صفحہ نمبر3719

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کریم کے منصب عظیم کا تذکرہ ٭٭

اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن عظیم نازل فرمانے کے احسان کو اللہ رب العزت بیان فرما رہے ہیں کہ ” اللہ کا وعظ تمہارے پاس آچکا جو تمہیں بدیوں سے روک رہا ہے، جو دلوں کے شک شکوک دور کرنے والا ہے، جس سے ہدایت حاصل ہوتی ہے، جس سے اللہ کی رحمت ملتی ہے۔ جو اس سچائی کی تصدیق کریں اسے مانیں، اس پر یقین رکھیں، اس پر ایمان لائیں وہ اس سے نفع حاصل کرتے ہیں “۔

«وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا» [17-الاسراء:82] ‏ ” یہ ہمارا نازل کردہ قرآن مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے، ظالم تو اپنے نقصان میں ہی بڑھتے رہتے ہیں “۔

اور آیت میں ہے کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» [41-فصلت:44] ‏ ” کہہ دے کہ یہ تو ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے۔ اللہ کے فضل و رحمت یعنی اس قرآن کے ساتھ خوش ہونا چاہیئے۔ دنیائے فانی کے دھن دولت پر ریجھ جانے اور اس پر شادماں و فرحاں ہو جانے سے تو اس دولت کو حاصل کرنے اور اس ابدی خوشی اور دائمی مسرت کو پالینے سے بہت خوش ہونا چاہیئے “۔

ابن ابی حاتم اور طبرانی میں ہے کہ جب عراق فتح ہو گیا اور وہاں سے خراج دربار فاروق رضی اللہ عنہ میں پہنچا تو آپ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے اونٹوں کی گنتی کرنا چاہی لیکن وہ بے شمار تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرکے اسی آیت کی تلاوت کی۔ تو آپ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ عمرو نے کہا، یہ بھی تو اللہ کا فضل و رحمت ہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم نے غلط کہا یہ تمہارے ہمارے حاصل کردہ ہیں جس فضل و رحمت کا بیان اس آیت میں ہے وہ یہ نہیں۔‏“

صفحہ نمبر3719

بغیر شرعی دلیل کے حلال و حرام کی مذمت ٭٭

مشرکوں نے بعض جانور مخصوص نام رکھ کر اپنے لیے حرام قرار دے رکھے تھے اس عمل کی تردید میں یہ آیتیں ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَجَعَلُوا لِلَّـهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَـٰذَا لِلَّـهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـٰذَا لِشُرَكَائِنَا» [6-الأنعام:136] ‏ ” اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور چوپایوں میں یہ کچھ نہ کچھ حصہ تو اس کا کرتے ہیں “۔

مسند احمد میں ہے عوف بن مالک بن فضلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت میری حالت یہ تھی کہ میلا کچیلا جسم بال بکھرے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا، تمہارے پاس کچھ مال بھی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کس قسم کا مال؟ میں نے کہا اونٹ، غلام، گھوڑے، بکریاں وغیرہ غرض ہر قسم کا مال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے تجھے سب کچھ دے رکھا ہے تو اس کا اثر بھی تیرے جسم پر ظاہر ہونا چاہیئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تیرے ہاں اونٹنیاں بچے بھی دیتی ہیں؟ میں نے کہا ہاں۔ فرمایا: وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہوتے ہیں پھر تو اپنے ہاتھ میں چھری لے کر کسی کا کان کاٹ کے اس کا نام بحیرہ رکھ لیتا ہے۔ کسی کی کھال کاٹ کر حرام نام رکھ لیتا ہے۔ پھر اسے اپنے اوپر اور اپنے والوں پر حرام سمجھ لیتا ہے؟ میں نے کہا ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن اللہ نے تجھے جو دیا ہے وہ حلال ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بازو تیرے بازو سے قوی ہے اور اللہ تعالیٰ کی چھری تیری چھری سے بہت زیادہ تیز ہے ۔ [سنن ابوداود:4063:صحیح] ‏

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کے فعل کی پوری مذمت بیان فرمائی ہے جو اپنی طرف سے بغیر شرعی دلیل کے کسی حرام کو حلال یا کسی حلال کو حرام ٹھہرا لیتے ہیں۔ انہیں اللہ نے قیامت کے عذاب کے سے دھمکایا ہے اور فرمایا ہے کہ ” ان کا کیا خیال ہے؟ یہ کس ہوا میں ہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ بے بس ہو کر قیامت کے دن ہمارے سامنے حاضر کئے جائیں گے “۔

صفحہ نمبر3721

اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر اپنا فضل و کرم ہی کرتا ہے، وہ دنیا میں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ اسی کا فضل ہے کہ اس نے دنیا میں بہت سی نفع کی چیزیں لوگوں کے لیے حلال کر دی ہیں، صرف انہیں چیزوں کو حرام فرمایا ہے، جو بندوں کو نقصان پہنچانے والی اور ان کے حق میں مضر ہیں۔ دنیوی طور پر یا اُخروی طور پر۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کر کے اللہ کی نعمتوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اپنی جانوں کو خود تنگی میں ڈالتے ہیں۔ مشرک لوگ اسی طرح از خود احکام گھڑ لیا کرتے تھے اور انہیں شریعت سمجھ بیٹھتے تھے۔ اہل کتاب نے بھی اپنے دین میں ایسی ہی بدعتیں ایجاد کرلی تھیں۔

تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے قیامت کے دن اولیاء اللہ کی تین قسمیں کر کے انہیں جناب باری کے سامنے لایا جائے گا۔ پہلے قسم والوں میں سے ایک سے سوال ہو گا کہ تم لوگوں نے یہ نیکیاں کیوں کیں؟ وہ جواب دیں گے کہ پروردگار تو نے جنت بنائی اس میں درخت لگائے، ان درختوں میں پھل پیدا کئے، وہاں نہریں جاری کیں، حوریں پیدا کیں اور نعمتیں تیار کیں، پس اسی جنت کے شوق میں ہم راتوں کو بیدار رہے اور دنوں کو بھوک پیاس اٹھائی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا تو تمہارے اعمال جنت کے حاصل کرنے کے لیے تھے۔ میں تمہیں جنت میں جانے کی اجازت دیتا ہوں اور یہ میرا خاص فضل ہے کہ جہنم سے تمہیں نجات دیتا ہوں۔ گو یہ بھی میرا فضل ہی ہے کہ میں تمہیں جنت میں پہنچاتا ہوں پس یہ اور اس کے سب ساتھی بہشت بریں میں داخل ہو جائیں گے۔ پھر دوسری قسم کے لوگوں میں سے ایک سے پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ نیکیاں کیسے کیں؟ وہ کہے گا پروردگار تو نے جہنم کو پیدا کیا۔ اپنے دشمنوں اور نافرمانوں کے لیے وہاں طوق و زنجیر، حرارت، آگ، گرم پانی اور گرم ہوا کا عذاب رکھا وہاں طرح طرح کے روح فرسا دکھ دینے والے عذاب تیار کئے۔

صفحہ نمبر3722

پس میں راتوں کو جاگتا رہا، دنوں کو بھوکا پیاسا رہا، صرف اس جہنم سے ڈر کر تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میں نے تجھے اس جہنم سے آزاد کیا اور تجھ پر میرا یہ خاص فضل ہے کہ تجھے اپنی جنت میں لے جاتا ہوں پس یہ اور اس کے ساتھی سب جنت میں چلے جائیں گے پھر تیسری قسم کے لوگوں میں سے ایک کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تم نے نیکیاں کیوں کیں؟ وہ جواب دے گا کہ صرف تیری محبت میں اور تیرے شوق میں۔ تیری عزت کی قسم میں راتوں کو عبادت میں جاگتا رہا اور دنوں کو روزے رکھ کر بھوک پیاس سہتا رہا، یہ سب صرف تیرے شوق اور تیری محبت کے لیے تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے یہ اعمال صرف میری محبت اور میرے اشتیاق میں ہی کئے۔ لے اب میرا دیدار کر لے۔ اسوقت اللہ تعالیٰ جل جلالہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو اپنا دیدار کرائے گا، فرمائے گا دیکھ لے، یہ ہوں میں، پھر فرمائے گا یہ میرا خاص فضل ہے کہ میں تجھے جہنم سے بچاتا ہوں اور جنت میں پہنچاتا ہوں میرے فرشتے تیرے پاس پہنچتے رہیں گے اور میں خود بھی تجھ پر سلام کہا کروں گا، پس وہ مع اپنے ساتھیوں کے جنت میں چلا جائے گا۔

صفحہ نمبر3723

بغیر شرعی دلیل کے حلال و حرام کی مذمت ٭٭

مشرکوں نے بعض جانور مخصوص نام رکھ کر اپنے لیے حرام قرار دے رکھے تھے اس عمل کی تردید میں یہ آیتیں ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَجَعَلُوا لِلَّـهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَـٰذَا لِلَّـهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـٰذَا لِشُرَكَائِنَا» [6-الأنعام:136] ‏ ” اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور چوپایوں میں یہ کچھ نہ کچھ حصہ تو اس کا کرتے ہیں “۔

مسند احمد میں ہے عوف بن مالک بن فضلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت میری حالت یہ تھی کہ میلا کچیلا جسم بال بکھرے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا، تمہارے پاس کچھ مال بھی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کس قسم کا مال؟ میں نے کہا اونٹ، غلام، گھوڑے، بکریاں وغیرہ غرض ہر قسم کا مال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے تجھے سب کچھ دے رکھا ہے تو اس کا اثر بھی تیرے جسم پر ظاہر ہونا چاہیئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تیرے ہاں اونٹنیاں بچے بھی دیتی ہیں؟ میں نے کہا ہاں۔ فرمایا: وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہوتے ہیں پھر تو اپنے ہاتھ میں چھری لے کر کسی کا کان کاٹ کے اس کا نام بحیرہ رکھ لیتا ہے۔ کسی کی کھال کاٹ کر حرام نام رکھ لیتا ہے۔ پھر اسے اپنے اوپر اور اپنے والوں پر حرام سمجھ لیتا ہے؟ میں نے کہا ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن اللہ نے تجھے جو دیا ہے وہ حلال ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بازو تیرے بازو سے قوی ہے اور اللہ تعالیٰ کی چھری تیری چھری سے بہت زیادہ تیز ہے ۔ [سنن ابوداود:4063:صحیح] ‏

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کے فعل کی پوری مذمت بیان فرمائی ہے جو اپنی طرف سے بغیر شرعی دلیل کے کسی حرام کو حلال یا کسی حلال کو حرام ٹھہرا لیتے ہیں۔ انہیں اللہ نے قیامت کے عذاب کے سے دھمکایا ہے اور فرمایا ہے کہ ” ان کا کیا خیال ہے؟ یہ کس ہوا میں ہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ بے بس ہو کر قیامت کے دن ہمارے سامنے حاضر کئے جائیں گے “۔

صفحہ نمبر3721

اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر اپنا فضل و کرم ہی کرتا ہے، وہ دنیا میں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ اسی کا فضل ہے کہ اس نے دنیا میں بہت سی نفع کی چیزیں لوگوں کے لیے حلال کر دی ہیں، صرف انہیں چیزوں کو حرام فرمایا ہے، جو بندوں کو نقصان پہنچانے والی اور ان کے حق میں مضر ہیں۔ دنیوی طور پر یا اُخروی طور پر۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کر کے اللہ کی نعمتوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اپنی جانوں کو خود تنگی میں ڈالتے ہیں۔ مشرک لوگ اسی طرح از خود احکام گھڑ لیا کرتے تھے اور انہیں شریعت سمجھ بیٹھتے تھے۔ اہل کتاب نے بھی اپنے دین میں ایسی ہی بدعتیں ایجاد کرلی تھیں۔

تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے قیامت کے دن اولیاء اللہ کی تین قسمیں کر کے انہیں جناب باری کے سامنے لایا جائے گا۔ پہلے قسم والوں میں سے ایک سے سوال ہو گا کہ تم لوگوں نے یہ نیکیاں کیوں کیں؟ وہ جواب دیں گے کہ پروردگار تو نے جنت بنائی اس میں درخت لگائے، ان درختوں میں پھل پیدا کئے، وہاں نہریں جاری کیں، حوریں پیدا کیں اور نعمتیں تیار کیں، پس اسی جنت کے شوق میں ہم راتوں کو بیدار رہے اور دنوں کو بھوک پیاس اٹھائی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا تو تمہارے اعمال جنت کے حاصل کرنے کے لیے تھے۔ میں تمہیں جنت میں جانے کی اجازت دیتا ہوں اور یہ میرا خاص فضل ہے کہ جہنم سے تمہیں نجات دیتا ہوں۔ گو یہ بھی میرا فضل ہی ہے کہ میں تمہیں جنت میں پہنچاتا ہوں پس یہ اور اس کے سب ساتھی بہشت بریں میں داخل ہو جائیں گے۔ پھر دوسری قسم کے لوگوں میں سے ایک سے پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ نیکیاں کیسے کیں؟ وہ کہے گا پروردگار تو نے جہنم کو پیدا کیا۔ اپنے دشمنوں اور نافرمانوں کے لیے وہاں طوق و زنجیر، حرارت، آگ، گرم پانی اور گرم ہوا کا عذاب رکھا وہاں طرح طرح کے روح فرسا دکھ دینے والے عذاب تیار کئے۔

صفحہ نمبر3722

پس میں راتوں کو جاگتا رہا، دنوں کو بھوکا پیاسا رہا، صرف اس جہنم سے ڈر کر تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میں نے تجھے اس جہنم سے آزاد کیا اور تجھ پر میرا یہ خاص فضل ہے کہ تجھے اپنی جنت میں لے جاتا ہوں پس یہ اور اس کے ساتھی سب جنت میں چلے جائیں گے پھر تیسری قسم کے لوگوں میں سے ایک کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تم نے نیکیاں کیوں کیں؟ وہ جواب دے گا کہ صرف تیری محبت میں اور تیرے شوق میں۔ تیری عزت کی قسم میں راتوں کو عبادت میں جاگتا رہا اور دنوں کو روزے رکھ کر بھوک پیاس سہتا رہا، یہ سب صرف تیرے شوق اور تیری محبت کے لیے تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے یہ اعمال صرف میری محبت اور میرے اشتیاق میں ہی کئے۔ لے اب میرا دیدار کر لے۔ اسوقت اللہ تعالیٰ جل جلالہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو اپنا دیدار کرائے گا، فرمائے گا دیکھ لے، یہ ہوں میں، پھر فرمائے گا یہ میرا خاص فضل ہے کہ میں تجھے جہنم سے بچاتا ہوں اور جنت میں پہنچاتا ہوں میرے فرشتے تیرے پاس پہنچتے رہیں گے اور میں خود بھی تجھ پر سلام کہا کروں گا، پس وہ مع اپنے ساتھیوں کے جنت میں چلا جائے گا۔

صفحہ نمبر3723

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com