Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Yunus
Tafsir Ibn Kathir · Jonas · 109 ayat · ayat 61–90 · Quran text →
اللہ تعالٰی سب کچھ جانتا ہے اور دیکھتا ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام امت کے تمام احوال ہر وقت اللہ تعالیٰ جانتا ہے، ساری مخلوق کے کل کام اس کے علم میں ہیں، اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے آسمان و زمین کا کوئی ذرہ بھی پوشیدہ نہیں۔ سب چھوٹی بڑی چیزیں ظاہر کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔
جیسے فرمان ہے «وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» [6-الأنعام:59] ” غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہ خشکی و تری کی ہر چیز کا علم رکھتا ہے ہر پتے کے جھڑنے کی اسے خبر ہے۔ زمین کے اندھیروں میں جو دانہ ہو، جو تر و خشک چیز ہو، سب کتاب مبین میں موجود ہے “۔
الغرض درختوں کا ہلنا، جمادات کا ادھر ادھر ہونا، جانداروں کا حرکت کرنا، کوئی چیز روئے زمین کی اور تمام آسمانوں کی ایسی نہیں، جس سے علیم و خبیر اللہ بے خبر ہو۔ فرمان ہے «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» [6-الانعام:38] ایک اور آیت میں ہے کہ «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» [11-ھود:6] زمین کے ہر جاندار کا روزی رساں اللہ تعالیٰ ہے۔ جب کہ درختوں، ذروں جانوروں اور تمام تر و خشک چیزوں کے حال سے اللہ عزوجل واقف ہے بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ بندوں کے اعمال سے وہ بے خبر ہو۔ جنہیں عبادت رب کی بجا آوری کا حکم دیا گیا ہے۔
چنانچہ فرمان ہے «وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ» [26-الشعراء:217-219] ” اس ذی عزت بڑے رحم و کرم والے اللہ پر تو بھروسہ رکھ جو تیرے قیام کی حالت میں تجھے دیکھتا رہتا ہے سجدہ کرنے والوں میں تیرا آنا جانا بھی دیکھ رہا ہے “۔
یہی بیان یہاں ہے کہ ” تم سب ہماری آنکھوں اور کانوں کے سامنے ہو “۔
جبرائیل علیہ السلام نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے احسان کی بابت سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے یقیناً دیکھ ہی رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:50]
صفحہ نمبر3725
اولیاء اللہ کا تعارف ٭٭
اولیا اللہ وہ ہیں جن کے دلوں میں ایمان و یقین ہو، جن کا ظاہر تقویٰ اور پرہیزگاری میں ڈوبا ہوا ہو، جتنا تقویٰ ہوگا، اتنی ہی ولایت ہوگی۔ ایسے لوگ محض نڈر اور بے خوف ہیں قیامت کے دن کی وحشت ان سے دور ہے، نہ وہ کبھی غم و رنج سے آشنا ہوں گے۔ دنیا میں جو چھوٹ جائے اس پر انہیں حسرت و افسوس نہیں ہوتا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اور بہت سے سلف صالحین فرماتے ہیں کہ ”اولیاء اللہ وہ ہیں جن کے چہرہ دیکھنے سے اللہ یاد آ جائے۔“ بزار کی مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ وہ حدیث مرسلاً بھی مروی ہے۔ [طبرانی کبیر:12325]
ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں جن پر انبیاء اور شہدا بھی رشک کریں گے لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون ہیں؟ ہمیں بتائیے تاکہ ہم بھی ان سے محبت و الفت رکھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ ہیں جو صرف اللہ کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے ہیں۔ مالی فائدے کی وجہ سے انہیں رشتے داری اور نسب کی بناء پر نہیں، صرف اللہ کے دین کی وجہ سے ان کے چہرے نورانی ہوں گے یہ نور کے منبروں پر ہوں گے۔ سب کو ڈر خوف ہو گا لیکن یہ بالکل بے خوف اور محض نڈر ہوں گے جب لوگ غمزدہ ہوں گے یہ بے غم ہوں گے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی ۔ یہی روایت منقطع سند سے ابوداؤد میں بھی ہے۔ [سنن ابوداود:3527،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر3726
مسند احمد کی ایک مطول حدیث میں ہے کہ دور دراز کے رہنے والے خاندانوں اور برادریوں سے الگ شدہ لوگ جن میں کوئی رشتہ کنبہ قوم برادری نہیں وہ محض توحید و سنت کی وجہ سے اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے کے لیے آپس میں ایک ہو گئے ہوں گے اور آپس میں میل ملاپ، محبت، مودت، دوستی اور بھائی چارہ رکھتے ہونگے، دین میں سب ایک ہوں گے، ان کے لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نورانی منبر بچھا دے گا جن پر وہ عزت سے تشریف رکھیں گے۔ لوگ پریشان ہوں گے لیکن یہ با اطمینان ہوں گے۔ یہ ہیں وہ اللہ کے اولیا جن پر کوئی خوف غم نہیں ۔ [مسند احمد343/5:ضعیف]
صفحہ نمبر3727
خوابوں کے بارے میں ٭٭
خوابوں کے بارے میں مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارتوں کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہ نیک خواب ہیں جنہیں مسلمان دیکھے یا اس کے لیے دکھائے جائیں ۔ [مسند احمد445/6، صحیح]
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے جب اس کا سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے آج مجھ سے وہ باپ پوچھی جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی سوائے اس شخص کے جس نے یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جواب کے دینے سے پہلے نہیں فرمایا تھا کہ ” تجھ سے پہلے میرے کسی امتی نے مجھ سے یہ سوال نہیں کیا “۔ خود انہی صحابی رضی اللہ عنہ سے جب سائل نے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی یہ فرما کر پھر تفسیر مرفوع حدیث سے بیان فرمائی۔
اور روایت میں ہے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ آخرت کی بشارت تو جنت ہے دنیا کی بشارت کیا ہے؟ فرمایا: نیک خواب جسے بندہ دیکھے یا اس کے لیے اوروں کو دکھائے جائیں، یہ نبوت کا چوالیسواں یا سترواں جز ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17735:ضعیف] ۔
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ انسان نیکیاں کرتا ہے پھر لوگوں میں اس کی تعریف ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی دنیوی بشارت ہے ۔ [صحیح مسلم2642]
فرماتے ہیں کہ دنیا کی بشارت نیک خواب ہیں جن سے مومن کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ یہ نبوت کا انچاسواں حصہ ہے اس کے دیکھنے والے کو اسے بیان کرنا چاہیئے اور جو اس کے سوا دیکھے وہ شیطانی خواب ہیں تاکہ اسے غم زدہ کر دے۔ چاہیئے کہ ایسے موقعہ پر تین دفعہ بائیں جانب تھتکار دے۔ اللہ کی بڑائی بیان کرے اور کسی سے اس خواب کو بیان نہ کرے ۔ [مسند احمد:219/2:صحیح لغیرہ]
اور روایت میں ہے کہ نیک خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17769:صحیح بالشواہد]
صفحہ نمبر3728
اور حدیث میں ہے دنیوی بشارت نیک خواب، اور اُخروی بشارت جنت ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17743:ضیعف] ۔
ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نبوت جاتی رہی خوشخبریاں رہ گئیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17743، ضعیف] ۔
«بُشْرَىٰ» کی یہی تفسیر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ، مجاہد رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ، ابن زبیر، یحییٰ بن ابی کثیر، ابراہیم نخعی، عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سلف صالحین سے مروی ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے وہ خوشخبری ہے جو مومن کو اس کی موت کے وقت فرشتے دیتے ہیں جس کا ذکر «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] میں ہے کہ ” سچے پکے مومنوں کے پاس فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم خوف نہ کرو، تم غم نہ کرو، تمہیں ہم اس جنت کی خوشخبری سناتے ہیں جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔ ہم دنیا و آخرت میں تمہارے کار ساز ولی ہیں۔ سنو تم جو چاہو گے جنت میں پاؤ گے، جو مانگو گے ملے گا۔ تم غفور و رحیم اللہ کے خاص مہمان بنو گے “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں ہے مومن کی موت کے وقت نورانی سفید چہرے والے پاک صاف اجلے سفید کپڑوں والے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں اے پاک روح چل کشادگی راحت تروتازگی اور خوشبو اور بھلائی کی طرف چل۔
صفحہ نمبر3729
تیرے اس پالنہار کی طرف جو تجھ سے کبھی خفا نہیں ہونے کا۔ پس اس کی روح اس بشارت کو سن کر اس کے منہ سے اتنی آسانی اور شوق سے نکلتی ہے جیسے مشک کے منہ سے پانی کا کوئی قطرہ چھو جائے۔ اور آخرت کی بشارت کا ذکر «لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰىِٕكَةُ ھٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ» [21-الأنبياء:103] میں ہے یعنی ” انہیں اس دن کی زبردست پریشانی بالکل ہی نہ گھبرائے گی ادھر ادھر سے ان کے پاس فرشتے آئے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ اس دن کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا تھا “۔
ایک آیت میں ہے «يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْيَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» [57-الحديد:12] ” جس دن تو مومن مردوں عورتوں کو دیکھے گا کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور دائیں طرف چل رہا ہوگا، لو تم خوشخبری سن لو کہ آج تمہیں وہ جنتیں ملیں گی، جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں، جہاں کی رہائش ہمیشہ کی ہوگی، یہی زبردست کامیابی ہے، اللہ کا وعدہ غلط نہیں ہوتا “۔ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا، اس نے جو فرما دیا سچ ہے، ثابت ہے، اٹل ہے یقینی اور ضروری ہے۔ یہ ہے پوری مقصد آوری، یہ ہے زبردست کامیابی، یہ ہے مراد کا ملنا اور یہ ہے گود کا بھرنا۔
صفحہ نمبر3730
اولیاء اللہ کا تعارف ٭٭
اولیا اللہ وہ ہیں جن کے دلوں میں ایمان و یقین ہو، جن کا ظاہر تقویٰ اور پرہیزگاری میں ڈوبا ہوا ہو، جتنا تقویٰ ہوگا، اتنی ہی ولایت ہوگی۔ ایسے لوگ محض نڈر اور بے خوف ہیں قیامت کے دن کی وحشت ان سے دور ہے، نہ وہ کبھی غم و رنج سے آشنا ہوں گے۔ دنیا میں جو چھوٹ جائے اس پر انہیں حسرت و افسوس نہیں ہوتا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اور بہت سے سلف صالحین فرماتے ہیں کہ ”اولیاء اللہ وہ ہیں جن کے چہرہ دیکھنے سے اللہ یاد آ جائے۔“ بزار کی مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ وہ حدیث مرسلاً بھی مروی ہے۔ [طبرانی کبیر:12325]
ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں جن پر انبیاء اور شہدا بھی رشک کریں گے لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون ہیں؟ ہمیں بتائیے تاکہ ہم بھی ان سے محبت و الفت رکھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ ہیں جو صرف اللہ کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے ہیں۔ مالی فائدے کی وجہ سے انہیں رشتے داری اور نسب کی بناء پر نہیں، صرف اللہ کے دین کی وجہ سے ان کے چہرے نورانی ہوں گے یہ نور کے منبروں پر ہوں گے۔ سب کو ڈر خوف ہو گا لیکن یہ بالکل بے خوف اور محض نڈر ہوں گے جب لوگ غمزدہ ہوں گے یہ بے غم ہوں گے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی ۔ یہی روایت منقطع سند سے ابوداؤد میں بھی ہے۔ [سنن ابوداود:3527،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر3726
مسند احمد کی ایک مطول حدیث میں ہے کہ دور دراز کے رہنے والے خاندانوں اور برادریوں سے الگ شدہ لوگ جن میں کوئی رشتہ کنبہ قوم برادری نہیں وہ محض توحید و سنت کی وجہ سے اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے کے لیے آپس میں ایک ہو گئے ہوں گے اور آپس میں میل ملاپ، محبت، مودت، دوستی اور بھائی چارہ رکھتے ہونگے، دین میں سب ایک ہوں گے، ان کے لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نورانی منبر بچھا دے گا جن پر وہ عزت سے تشریف رکھیں گے۔ لوگ پریشان ہوں گے لیکن یہ با اطمینان ہوں گے۔ یہ ہیں وہ اللہ کے اولیا جن پر کوئی خوف غم نہیں ۔ [مسند احمد343/5:ضعیف]
صفحہ نمبر3727
خوابوں کے بارے میں ٭٭
خوابوں کے بارے میں مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارتوں کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہ نیک خواب ہیں جنہیں مسلمان دیکھے یا اس کے لیے دکھائے جائیں ۔ [مسند احمد445/6، صحیح]
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے جب اس کا سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے آج مجھ سے وہ باپ پوچھی جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی سوائے اس شخص کے جس نے یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جواب کے دینے سے پہلے نہیں فرمایا تھا کہ ” تجھ سے پہلے میرے کسی امتی نے مجھ سے یہ سوال نہیں کیا “۔ خود انہی صحابی رضی اللہ عنہ سے جب سائل نے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی یہ فرما کر پھر تفسیر مرفوع حدیث سے بیان فرمائی۔
اور روایت میں ہے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ آخرت کی بشارت تو جنت ہے دنیا کی بشارت کیا ہے؟ فرمایا: نیک خواب جسے بندہ دیکھے یا اس کے لیے اوروں کو دکھائے جائیں، یہ نبوت کا چوالیسواں یا سترواں جز ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17735:ضعیف] ۔
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ انسان نیکیاں کرتا ہے پھر لوگوں میں اس کی تعریف ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی دنیوی بشارت ہے ۔ [صحیح مسلم2642]
فرماتے ہیں کہ دنیا کی بشارت نیک خواب ہیں جن سے مومن کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ یہ نبوت کا انچاسواں حصہ ہے اس کے دیکھنے والے کو اسے بیان کرنا چاہیئے اور جو اس کے سوا دیکھے وہ شیطانی خواب ہیں تاکہ اسے غم زدہ کر دے۔ چاہیئے کہ ایسے موقعہ پر تین دفعہ بائیں جانب تھتکار دے۔ اللہ کی بڑائی بیان کرے اور کسی سے اس خواب کو بیان نہ کرے ۔ [مسند احمد:219/2:صحیح لغیرہ]
اور روایت میں ہے کہ نیک خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17769:صحیح بالشواہد]
صفحہ نمبر3728
اور حدیث میں ہے دنیوی بشارت نیک خواب، اور اُخروی بشارت جنت ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17743:ضیعف] ۔
ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نبوت جاتی رہی خوشخبریاں رہ گئیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17743، ضعیف] ۔
«بُشْرَىٰ» کی یہی تفسیر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ، مجاہد رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ، ابن زبیر، یحییٰ بن ابی کثیر، ابراہیم نخعی، عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سلف صالحین سے مروی ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے وہ خوشخبری ہے جو مومن کو اس کی موت کے وقت فرشتے دیتے ہیں جس کا ذکر «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] میں ہے کہ ” سچے پکے مومنوں کے پاس فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم خوف نہ کرو، تم غم نہ کرو، تمہیں ہم اس جنت کی خوشخبری سناتے ہیں جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔ ہم دنیا و آخرت میں تمہارے کار ساز ولی ہیں۔ سنو تم جو چاہو گے جنت میں پاؤ گے، جو مانگو گے ملے گا۔ تم غفور و رحیم اللہ کے خاص مہمان بنو گے “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں ہے مومن کی موت کے وقت نورانی سفید چہرے والے پاک صاف اجلے سفید کپڑوں والے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں اے پاک روح چل کشادگی راحت تروتازگی اور خوشبو اور بھلائی کی طرف چل۔
صفحہ نمبر3729
تیرے اس پالنہار کی طرف جو تجھ سے کبھی خفا نہیں ہونے کا۔ پس اس کی روح اس بشارت کو سن کر اس کے منہ سے اتنی آسانی اور شوق سے نکلتی ہے جیسے مشک کے منہ سے پانی کا کوئی قطرہ چھو جائے۔ اور آخرت کی بشارت کا ذکر «لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰىِٕكَةُ ھٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ» [21-الأنبياء:103] میں ہے یعنی ” انہیں اس دن کی زبردست پریشانی بالکل ہی نہ گھبرائے گی ادھر ادھر سے ان کے پاس فرشتے آئے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ اس دن کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا تھا “۔
ایک آیت میں ہے «يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْيَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» [57-الحديد:12] ” جس دن تو مومن مردوں عورتوں کو دیکھے گا کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور دائیں طرف چل رہا ہوگا، لو تم خوشخبری سن لو کہ آج تمہیں وہ جنتیں ملیں گی، جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں، جہاں کی رہائش ہمیشہ کی ہوگی، یہی زبردست کامیابی ہے، اللہ کا وعدہ غلط نہیں ہوتا “۔ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا، اس نے جو فرما دیا سچ ہے، ثابت ہے، اٹل ہے یقینی اور ضروری ہے۔ یہ ہے پوری مقصد آوری، یہ ہے زبردست کامیابی، یہ ہے مراد کا ملنا اور یہ ہے گود کا بھرنا۔
صفحہ نمبر3730
اولیاء اللہ کا تعارف ٭٭
اولیا اللہ وہ ہیں جن کے دلوں میں ایمان و یقین ہو، جن کا ظاہر تقویٰ اور پرہیزگاری میں ڈوبا ہوا ہو، جتنا تقویٰ ہوگا، اتنی ہی ولایت ہوگی۔ ایسے لوگ محض نڈر اور بے خوف ہیں قیامت کے دن کی وحشت ان سے دور ہے، نہ وہ کبھی غم و رنج سے آشنا ہوں گے۔ دنیا میں جو چھوٹ جائے اس پر انہیں حسرت و افسوس نہیں ہوتا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اور بہت سے سلف صالحین فرماتے ہیں کہ ”اولیاء اللہ وہ ہیں جن کے چہرہ دیکھنے سے اللہ یاد آ جائے۔“ بزار کی مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ وہ حدیث مرسلاً بھی مروی ہے۔ [طبرانی کبیر:12325]
ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں جن پر انبیاء اور شہدا بھی رشک کریں گے لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون ہیں؟ ہمیں بتائیے تاکہ ہم بھی ان سے محبت و الفت رکھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ ہیں جو صرف اللہ کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے ہیں۔ مالی فائدے کی وجہ سے انہیں رشتے داری اور نسب کی بناء پر نہیں، صرف اللہ کے دین کی وجہ سے ان کے چہرے نورانی ہوں گے یہ نور کے منبروں پر ہوں گے۔ سب کو ڈر خوف ہو گا لیکن یہ بالکل بے خوف اور محض نڈر ہوں گے جب لوگ غمزدہ ہوں گے یہ بے غم ہوں گے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی ۔ یہی روایت منقطع سند سے ابوداؤد میں بھی ہے۔ [سنن ابوداود:3527،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر3726
مسند احمد کی ایک مطول حدیث میں ہے کہ دور دراز کے رہنے والے خاندانوں اور برادریوں سے الگ شدہ لوگ جن میں کوئی رشتہ کنبہ قوم برادری نہیں وہ محض توحید و سنت کی وجہ سے اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے کے لیے آپس میں ایک ہو گئے ہوں گے اور آپس میں میل ملاپ، محبت، مودت، دوستی اور بھائی چارہ رکھتے ہونگے، دین میں سب ایک ہوں گے، ان کے لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نورانی منبر بچھا دے گا جن پر وہ عزت سے تشریف رکھیں گے۔ لوگ پریشان ہوں گے لیکن یہ با اطمینان ہوں گے۔ یہ ہیں وہ اللہ کے اولیا جن پر کوئی خوف غم نہیں ۔ [مسند احمد343/5:ضعیف]
صفحہ نمبر3727
خوابوں کے بارے میں ٭٭
خوابوں کے بارے میں مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارتوں کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہ نیک خواب ہیں جنہیں مسلمان دیکھے یا اس کے لیے دکھائے جائیں ۔ [مسند احمد445/6، صحیح]
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے جب اس کا سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے آج مجھ سے وہ باپ پوچھی جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی سوائے اس شخص کے جس نے یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جواب کے دینے سے پہلے نہیں فرمایا تھا کہ ” تجھ سے پہلے میرے کسی امتی نے مجھ سے یہ سوال نہیں کیا “۔ خود انہی صحابی رضی اللہ عنہ سے جب سائل نے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی یہ فرما کر پھر تفسیر مرفوع حدیث سے بیان فرمائی۔
اور روایت میں ہے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ آخرت کی بشارت تو جنت ہے دنیا کی بشارت کیا ہے؟ فرمایا: نیک خواب جسے بندہ دیکھے یا اس کے لیے اوروں کو دکھائے جائیں، یہ نبوت کا چوالیسواں یا سترواں جز ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17735:ضعیف] ۔
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ انسان نیکیاں کرتا ہے پھر لوگوں میں اس کی تعریف ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی دنیوی بشارت ہے ۔ [صحیح مسلم2642]
فرماتے ہیں کہ دنیا کی بشارت نیک خواب ہیں جن سے مومن کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ یہ نبوت کا انچاسواں حصہ ہے اس کے دیکھنے والے کو اسے بیان کرنا چاہیئے اور جو اس کے سوا دیکھے وہ شیطانی خواب ہیں تاکہ اسے غم زدہ کر دے۔ چاہیئے کہ ایسے موقعہ پر تین دفعہ بائیں جانب تھتکار دے۔ اللہ کی بڑائی بیان کرے اور کسی سے اس خواب کو بیان نہ کرے ۔ [مسند احمد:219/2:صحیح لغیرہ]
اور روایت میں ہے کہ نیک خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17769:صحیح بالشواہد]
صفحہ نمبر3728
اور حدیث میں ہے دنیوی بشارت نیک خواب، اور اُخروی بشارت جنت ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17743:ضیعف] ۔
ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نبوت جاتی رہی خوشخبریاں رہ گئیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17743، ضعیف] ۔
«بُشْرَىٰ» کی یہی تفسیر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ، مجاہد رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ، ابن زبیر، یحییٰ بن ابی کثیر، ابراہیم نخعی، عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سلف صالحین سے مروی ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے وہ خوشخبری ہے جو مومن کو اس کی موت کے وقت فرشتے دیتے ہیں جس کا ذکر «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] میں ہے کہ ” سچے پکے مومنوں کے پاس فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم خوف نہ کرو، تم غم نہ کرو، تمہیں ہم اس جنت کی خوشخبری سناتے ہیں جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔ ہم دنیا و آخرت میں تمہارے کار ساز ولی ہیں۔ سنو تم جو چاہو گے جنت میں پاؤ گے، جو مانگو گے ملے گا۔ تم غفور و رحیم اللہ کے خاص مہمان بنو گے “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں ہے مومن کی موت کے وقت نورانی سفید چہرے والے پاک صاف اجلے سفید کپڑوں والے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں اے پاک روح چل کشادگی راحت تروتازگی اور خوشبو اور بھلائی کی طرف چل۔
صفحہ نمبر3729
تیرے اس پالنہار کی طرف جو تجھ سے کبھی خفا نہیں ہونے کا۔ پس اس کی روح اس بشارت کو سن کر اس کے منہ سے اتنی آسانی اور شوق سے نکلتی ہے جیسے مشک کے منہ سے پانی کا کوئی قطرہ چھو جائے۔ اور آخرت کی بشارت کا ذکر «لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰىِٕكَةُ ھٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ» [21-الأنبياء:103] میں ہے یعنی ” انہیں اس دن کی زبردست پریشانی بالکل ہی نہ گھبرائے گی ادھر ادھر سے ان کے پاس فرشتے آئے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ اس دن کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا تھا “۔
ایک آیت میں ہے «يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْيَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» [57-الحديد:12] ” جس دن تو مومن مردوں عورتوں کو دیکھے گا کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور دائیں طرف چل رہا ہوگا، لو تم خوشخبری سن لو کہ آج تمہیں وہ جنتیں ملیں گی، جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں، جہاں کی رہائش ہمیشہ کی ہوگی، یہی زبردست کامیابی ہے، اللہ کا وعدہ غلط نہیں ہوتا “۔ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا، اس نے جو فرما دیا سچ ہے، ثابت ہے، اٹل ہے یقینی اور ضروری ہے۔ یہ ہے پوری مقصد آوری، یہ ہے زبردست کامیابی، یہ ہے مراد کا ملنا اور یہ ہے گود کا بھرنا۔
صفحہ نمبر3730
عزت صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے ٭٭
ان مشرکوں کی باتوں کا کوئی رنج و غم نہ کر۔ اللہ تعالیٰ سے ان پر مدد طلب کر اس پر بھروسہ رکھ، ساری عزتیں اسی کے ہاتھ میں، وہ اپنے رسول کو اور مومنوں کو عزت دے گا۔ وہ بندوں کی باتوں کو خوب سنتا ہے وہ ان کی حالتوں سے پورا خبردار ہے۔ آسمان و زمین کا وہی مالک ہے۔ اس کے سوا جن جن کو تم پوجتے ہو ان میں سے کوئی کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا کوئی نفع نقصان ان کے بس کا نہیں۔ پھر ان کے عبادت بھی محض بے دلیل ہے۔ صرف گمان، اٹکل، جھوٹ اور افترا ہے۔ حرکت، رنج و تعب، تکلیف اور کام کاج سے راحت و آرام سکون و اطمینان حاصل کرنے کے لیے اللہ نے رات بنا دی ہے۔ دن کو اس سے روشن اور اجالے والا بنا دیا ہے تاکہ تم اس میں کام کاج کرو۔ معاش اور روزی کی فکر، سفر تجارت، کاروبار کر سکو، ان دلیلوں میں بہت کچھ عبرت ہے لیکن اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو ان آیتوں کو دیکھ کر ان خالق کی عظمت و جبروت کا تصور باندھتے اور اس خالق و مالک کی قدر عزت کرتے ہیں۔
صفحہ نمبر3733
عزت صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے ٭٭
ان مشرکوں کی باتوں کا کوئی رنج و غم نہ کر۔ اللہ تعالیٰ سے ان پر مدد طلب کر اس پر بھروسہ رکھ، ساری عزتیں اسی کے ہاتھ میں، وہ اپنے رسول کو اور مومنوں کو عزت دے گا۔ وہ بندوں کی باتوں کو خوب سنتا ہے وہ ان کی حالتوں سے پورا خبردار ہے۔ آسمان و زمین کا وہی مالک ہے۔ اس کے سوا جن جن کو تم پوجتے ہو ان میں سے کوئی کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا کوئی نفع نقصان ان کے بس کا نہیں۔ پھر ان کے عبادت بھی محض بے دلیل ہے۔ صرف گمان، اٹکل، جھوٹ اور افترا ہے۔ حرکت، رنج و تعب، تکلیف اور کام کاج سے راحت و آرام سکون و اطمینان حاصل کرنے کے لیے اللہ نے رات بنا دی ہے۔ دن کو اس سے روشن اور اجالے والا بنا دیا ہے تاکہ تم اس میں کام کاج کرو۔ معاش اور روزی کی فکر، سفر تجارت، کاروبار کر سکو، ان دلیلوں میں بہت کچھ عبرت ہے لیکن اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو ان آیتوں کو دیکھ کر ان خالق کی عظمت و جبروت کا تصور باندھتے اور اس خالق و مالک کی قدر عزت کرتے ہیں۔
صفحہ نمبر3733
عزت صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے ٭٭
ان مشرکوں کی باتوں کا کوئی رنج و غم نہ کر۔ اللہ تعالیٰ سے ان پر مدد طلب کر اس پر بھروسہ رکھ، ساری عزتیں اسی کے ہاتھ میں، وہ اپنے رسول کو اور مومنوں کو عزت دے گا۔ وہ بندوں کی باتوں کو خوب سنتا ہے وہ ان کی حالتوں سے پورا خبردار ہے۔ آسمان و زمین کا وہی مالک ہے۔ اس کے سوا جن جن کو تم پوجتے ہو ان میں سے کوئی کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا کوئی نفع نقصان ان کے بس کا نہیں۔ پھر ان کے عبادت بھی محض بے دلیل ہے۔ صرف گمان، اٹکل، جھوٹ اور افترا ہے۔ حرکت، رنج و تعب، تکلیف اور کام کاج سے راحت و آرام سکون و اطمینان حاصل کرنے کے لیے اللہ نے رات بنا دی ہے۔ دن کو اس سے روشن اور اجالے والا بنا دیا ہے تاکہ تم اس میں کام کاج کرو۔ معاش اور روزی کی فکر، سفر تجارت، کاروبار کر سکو، ان دلیلوں میں بہت کچھ عبرت ہے لیکن اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو ان آیتوں کو دیکھ کر ان خالق کی عظمت و جبروت کا تصور باندھتے اور اس خالق و مالک کی قدر عزت کرتے ہیں۔
صفحہ نمبر3733
ساری مخلوق صرف اس کی ملکیت ہے ٭٭
جو لوگ اللہ کی اولاد مانتے تھے، ان کے عقیدے کا بطلان بیان ہو رہا ہے کہ ” اللہ اس سے پاک ہے، وہ سب سے بے نیاز ہے، سب اس کے محتاج ہیں، زمین و آسمان کی ساری مخلوق اس کی ملکیت ہے، اس کی غلام ہے، پھر ان میں سے کوئی اس کی اولاد کیسے ہو جائے تمہارے اس جھوٹ اور بہتان کی خود تمہارے پاس بھی کوئی دلیل نہیں۔ تم تو اللہ پر بھی اپنی جہالت سے باتیں بنانے لگے۔ تمہارے اس کلمے سے تو ممکن ہے کہ آسمان پھٹ جائیں، زمین شق ہو جائے، پہاڑ ٹوٹ جائیں کہ «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [19-مريم:88-95] تم اللہ رحمن کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے ہو؟ بھلا اس کی اولاد کیسے ہو گی؟ اسے تو یہ لائق نہیں زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی غلامی میں حاضر ہونے والی ہے۔ سب اس کے شمار میں ہیں۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے۔ ہر ایک تنہا تنہا اس کے سامنے پیش ہونے والا ہے۔ یہ افترا پرداز گروہ ہر کامیابی سے محروم ہے۔ دنیا میں انہیں کچھ مل جائے تو وہ عذاب کا پیش خیمہ اور سزاؤں کی زیادت کا باعث ہے۔ آخر ایک وقت آئے گا جب عذاب میں گرفتار ہو جائیں گے۔ سب کا لوٹنا اور سب کا اصلی ٹھکانا تو ہمارے ہاں ہے۔ یہ کہتے تھے اللہ کا بیٹا ہے ان کے اس کفر کا ہم اس وقت ان کو بدلہ چکھائیں گے جو نہایت سخت اور بہت بدترین ہوگا “۔
صفحہ نمبر3736
ساری مخلوق صرف اس کی ملکیت ہے ٭٭
جو لوگ اللہ کی اولاد مانتے تھے، ان کے عقیدے کا بطلان بیان ہو رہا ہے کہ ” اللہ اس سے پاک ہے، وہ سب سے بے نیاز ہے، سب اس کے محتاج ہیں، زمین و آسمان کی ساری مخلوق اس کی ملکیت ہے، اس کی غلام ہے، پھر ان میں سے کوئی اس کی اولاد کیسے ہو جائے تمہارے اس جھوٹ اور بہتان کی خود تمہارے پاس بھی کوئی دلیل نہیں۔ تم تو اللہ پر بھی اپنی جہالت سے باتیں بنانے لگے۔ تمہارے اس کلمے سے تو ممکن ہے کہ آسمان پھٹ جائیں، زمین شق ہو جائے، پہاڑ ٹوٹ جائیں کہ «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [19-مريم:88-95] تم اللہ رحمن کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے ہو؟ بھلا اس کی اولاد کیسے ہو گی؟ اسے تو یہ لائق نہیں زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی غلامی میں حاضر ہونے والی ہے۔ سب اس کے شمار میں ہیں۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے۔ ہر ایک تنہا تنہا اس کے سامنے پیش ہونے والا ہے۔ یہ افترا پرداز گروہ ہر کامیابی سے محروم ہے۔ دنیا میں انہیں کچھ مل جائے تو وہ عذاب کا پیش خیمہ اور سزاؤں کی زیادت کا باعث ہے۔ آخر ایک وقت آئے گا جب عذاب میں گرفتار ہو جائیں گے۔ سب کا لوٹنا اور سب کا اصلی ٹھکانا تو ہمارے ہاں ہے۔ یہ کہتے تھے اللہ کا بیٹا ہے ان کے اس کفر کا ہم اس وقت ان کو بدلہ چکھائیں گے جو نہایت سخت اور بہت بدترین ہوگا “۔
صفحہ نمبر3736
ساری مخلوق صرف اس کی ملکیت ہے ٭٭
جو لوگ اللہ کی اولاد مانتے تھے، ان کے عقیدے کا بطلان بیان ہو رہا ہے کہ ” اللہ اس سے پاک ہے، وہ سب سے بے نیاز ہے، سب اس کے محتاج ہیں، زمین و آسمان کی ساری مخلوق اس کی ملکیت ہے، اس کی غلام ہے، پھر ان میں سے کوئی اس کی اولاد کیسے ہو جائے تمہارے اس جھوٹ اور بہتان کی خود تمہارے پاس بھی کوئی دلیل نہیں۔ تم تو اللہ پر بھی اپنی جہالت سے باتیں بنانے لگے۔ تمہارے اس کلمے سے تو ممکن ہے کہ آسمان پھٹ جائیں، زمین شق ہو جائے، پہاڑ ٹوٹ جائیں کہ «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [19-مريم:88-95] تم اللہ رحمن کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے ہو؟ بھلا اس کی اولاد کیسے ہو گی؟ اسے تو یہ لائق نہیں زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی غلامی میں حاضر ہونے والی ہے۔ سب اس کے شمار میں ہیں۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے۔ ہر ایک تنہا تنہا اس کے سامنے پیش ہونے والا ہے۔ یہ افترا پرداز گروہ ہر کامیابی سے محروم ہے۔ دنیا میں انہیں کچھ مل جائے تو وہ عذاب کا پیش خیمہ اور سزاؤں کی زیادت کا باعث ہے۔ آخر ایک وقت آئے گا جب عذاب میں گرفتار ہو جائیں گے۔ سب کا لوٹنا اور سب کا اصلی ٹھکانا تو ہمارے ہاں ہے۔ یہ کہتے تھے اللہ کا بیٹا ہے ان کے اس کفر کا ہم اس وقت ان کو بدلہ چکھائیں گے جو نہایت سخت اور بہت بدترین ہوگا “۔
صفحہ نمبر3736
نوح علیہ السلام کی قوم کا کردار ٭٭
” اے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو انہیں نوح علیہ السلام کے واقعہ کی خبر دے کہ ان کا اور ان کی قوم کا کیا حشر ہوا جس طرح کفار مکہ تجھے جھٹلاتے اور ستاتے ہیں، قوم نوح علیہ السلام نے بھی یہی وطیرہ اختیار کر رکھا تھا۔ بالآخر سب کے سب غرق کر دیئے گئے، سارے کافر دریا برد ہوگئے۔ پس انہیں بھی خبردار رہنا چاہیئے اور میری پکڑ سے بے خوف نہ ہونا چاہیئے۔ اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں “۔
نوح علیہ السلام نے ایک مرتبہ ان سے صاف فرما دیا کہ ”اگر تم پر یہ گراں گزرتا ہے کہ میں تم میں رہتا ہوں اور تمہیں اللہ کی باتیں سنا رہا ہوں، تم اس سے چڑتے ہو اور مجھے نقصان پہنچانے درپے ہو تو سنو میں صاف کہتا ہوں کہ میں تم سے نڈر ہوں۔ مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔ میں تمہیں کوئی چیز نہیں سمجھتا۔ میں تم سے مطلقاً نہیں ڈرتا۔ تم سے جو ہو سکے کر لو۔ میرا جو بگاڑ سکو بگاڑ لو۔ تم اپنے ساتھ اپنے شریکوں اور اپنے جھوٹے معبودوں کو بھی بلا لو اور مل جل کر مشورے کر کے بات کھول کر پوری قوت کے ساتھ مجھ پر حملہ کرو، تمہیں قسم ہے جو میرا بگاڑ سکتے ہو اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو، مجھے بالکل مہلت نہ دو، اچانک گھیر لو، میں بالکل بے خوف ہوں، اس لیے کہ تمہاری روش کو میں باطل جانتا ہوں۔ میں حق پر ہوں، حق کا ساتھی اللہ ہوتا ہے، میرا بھروسہ اسی کی عظیم الشان ذات پر ہے، مجھے اس کی قدرت کے بڑائی معلوم ہے۔“
یہی ہود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ «إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» [11-هود:54-56] ” اللہ کے سوا جس جس کی بھی تم پوجا کر رہے ہو۔ میں تم سے اور ان سے بالکل بری ہوں، خوب کان کھول کر سن لو، اللہ بھی سن رہا ہے تم سب مل کر میرے خلاف کوشش کرو، میں تو تم سے مہلت بھی نہیں مانگتا۔ میرا بھروسہ اپنے اور تمہارے حقیقی مربی پر ہے “۔
صفحہ نمبر3739
حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اگر تم اب بھی مجھے جھٹلاؤ میری اطاعت سے منہ پھیر لو تو میرا اجر ضائع نہیں جائے گا، کیونکہ میرا اجر دینے والا میرا مربی ہے، مجھے تم سے کچھ نہیں لینا۔ میری خیر خواہی، میری تبلیغ کسی معاوضے کی بنا پر نہیں، مجھے تو جو اللہ کا حکم ہے میں اس کی بجا آوری میں لگا ہوا ہوں، مجھے اس کی طرف سے مسلمان ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ سو «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» میں مسلمان ہوں، اللہ کا پورا فرمان بردار ہوں۔“
تمام نبیوں کا دین اول سے آخر تک صرف اسلام ہی رہا ہے، گو احکامات میں قدرے اختلاف رہا ہو، جیسے فرمان ہے «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا» [5-المائدہ:48] ” ہر ایک کے لیے راہ اور طریقہ ہے “۔ «وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» [27-النمل:91] ” دیکھئیے یہ نوح علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں “، «إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» [2-البقرة:131،132] ” یہ ہیں ابراہیم علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں۔ اللہ ان سے فرماتا ہے اسلام لا۔ وہ جواب دیتے ہیں رب العلمین کے لیے میں اسلام لایا “۔
اسی کی وصیت آپ علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام اپنی اولاد کو کرتے ہیں کہ «وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» [2-البقرۃ:132] ” اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لیے اسی دین کو پسند فرما لیا ہے۔ خبردار یاد رکھنا مسلم ہونے کی حالت میں ہی موت آئے “۔
یوسف علیہ السلام اپنی دعا میں فرماتے ہیں «تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ» [12-يوسف:101] ” اللہ مجھے اسلام کی حالت میں موت دینا “۔
موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ «يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّـهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ» [10-یونس:84] ” اگر تم مسلمان ہو تو اللہ پر توکل کرو “۔
صفحہ نمبر3740
آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر ایمان قبول کرنے والے جادوگر اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں ”تو ہمیں مسلمان اٹھانا۔“ بلقیس کہتی ہیں «رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [27-النمل:44] ” میں سلیمان علیہ السلام کے ہاتھ پر مسلمان ہوتی ہوں “۔
قرآن فرماتا ہے ہے کہ «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا» [5-المائدہ:44] ” تورات کے مطابق وہ انبیاء حکم فرماتے ہیں جو مسلمان ہیں “۔
«وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ آمِنُوا بِي وَبِرَسُولِي قَالُوا آمَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ» [5-المائدہ:111] ” حواری عیسیٰ علیہ السلام سے کہتے ہیں آپ علیہ السلام گواہ رہیے ہم مسلمان ہیں “۔
خاتم الرسل سید البشر صل اللہ علیہ وسلم نماز کے شروع کی دعا کے آخر میں فرماتے ہیں «قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» [6-الأنعام:162، 163] ” میں اول مسلمان ہوں یعنی اس امت میں “۔
ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «نَحْنُ مَعَاشِر الْأَنْبِيَاء أَوْلَاد عَلَّات دِيننَا وَاحِد» ہم انبیاء ایسے ہیں جیسے ایک باپ کی اولاد دین ایک اور بعض بعض احکام جدا گانہ ۔
پس توحید میں سب یکساں ہیں گو فروعی احکام میں علیحدگی ہو۔ جیسے وہ بھائی جن کا باپ ایک ہو مائیں جدا جدا ہوں۔ پھر فرماتا ہے ” قوم نوح نے نوح نبی کریم علیہ السلام کو نہ مانا بلکہ انہیں جھوٹا کہا آخر ہم نے انہیں غرق کر دیا۔ نوح نبی علیہ السلام کو مع ایمانداروں کے اس بدترین عذاب سے ہم نے صاف بچا لیا۔ کشتی میں سوار کر کے انہیں طوفان سے محفوظ رکھ لیا۔ وہی وہ زمین پر باقی رہے پس ہماری اس قدرت کو دیکھ لے کہ کس طرح ظالموں کا نام و نشان مٹا دیا اور کس طرح مومنوں کو بچا لیا “۔
صفحہ نمبر3741
نوح علیہ السلام کی قوم کا کردار ٭٭
” اے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو انہیں نوح علیہ السلام کے واقعہ کی خبر دے کہ ان کا اور ان کی قوم کا کیا حشر ہوا جس طرح کفار مکہ تجھے جھٹلاتے اور ستاتے ہیں، قوم نوح علیہ السلام نے بھی یہی وطیرہ اختیار کر رکھا تھا۔ بالآخر سب کے سب غرق کر دیئے گئے، سارے کافر دریا برد ہوگئے۔ پس انہیں بھی خبردار رہنا چاہیئے اور میری پکڑ سے بے خوف نہ ہونا چاہیئے۔ اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں “۔
نوح علیہ السلام نے ایک مرتبہ ان سے صاف فرما دیا کہ ”اگر تم پر یہ گراں گزرتا ہے کہ میں تم میں رہتا ہوں اور تمہیں اللہ کی باتیں سنا رہا ہوں، تم اس سے چڑتے ہو اور مجھے نقصان پہنچانے درپے ہو تو سنو میں صاف کہتا ہوں کہ میں تم سے نڈر ہوں۔ مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔ میں تمہیں کوئی چیز نہیں سمجھتا۔ میں تم سے مطلقاً نہیں ڈرتا۔ تم سے جو ہو سکے کر لو۔ میرا جو بگاڑ سکو بگاڑ لو۔ تم اپنے ساتھ اپنے شریکوں اور اپنے جھوٹے معبودوں کو بھی بلا لو اور مل جل کر مشورے کر کے بات کھول کر پوری قوت کے ساتھ مجھ پر حملہ کرو، تمہیں قسم ہے جو میرا بگاڑ سکتے ہو اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو، مجھے بالکل مہلت نہ دو، اچانک گھیر لو، میں بالکل بے خوف ہوں، اس لیے کہ تمہاری روش کو میں باطل جانتا ہوں۔ میں حق پر ہوں، حق کا ساتھی اللہ ہوتا ہے، میرا بھروسہ اسی کی عظیم الشان ذات پر ہے، مجھے اس کی قدرت کے بڑائی معلوم ہے۔“
یہی ہود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ «إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» [11-هود:54-56] ” اللہ کے سوا جس جس کی بھی تم پوجا کر رہے ہو۔ میں تم سے اور ان سے بالکل بری ہوں، خوب کان کھول کر سن لو، اللہ بھی سن رہا ہے تم سب مل کر میرے خلاف کوشش کرو، میں تو تم سے مہلت بھی نہیں مانگتا۔ میرا بھروسہ اپنے اور تمہارے حقیقی مربی پر ہے “۔
صفحہ نمبر3739
حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اگر تم اب بھی مجھے جھٹلاؤ میری اطاعت سے منہ پھیر لو تو میرا اجر ضائع نہیں جائے گا، کیونکہ میرا اجر دینے والا میرا مربی ہے، مجھے تم سے کچھ نہیں لینا۔ میری خیر خواہی، میری تبلیغ کسی معاوضے کی بنا پر نہیں، مجھے تو جو اللہ کا حکم ہے میں اس کی بجا آوری میں لگا ہوا ہوں، مجھے اس کی طرف سے مسلمان ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ سو «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» میں مسلمان ہوں، اللہ کا پورا فرمان بردار ہوں۔“
تمام نبیوں کا دین اول سے آخر تک صرف اسلام ہی رہا ہے، گو احکامات میں قدرے اختلاف رہا ہو، جیسے فرمان ہے «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا» [5-المائدہ:48] ” ہر ایک کے لیے راہ اور طریقہ ہے “۔ «وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» [27-النمل:91] ” دیکھئیے یہ نوح علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں “، «إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» [2-البقرة:131،132] ” یہ ہیں ابراہیم علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں۔ اللہ ان سے فرماتا ہے اسلام لا۔ وہ جواب دیتے ہیں رب العلمین کے لیے میں اسلام لایا “۔
اسی کی وصیت آپ علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام اپنی اولاد کو کرتے ہیں کہ «وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» [2-البقرۃ:132] ” اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لیے اسی دین کو پسند فرما لیا ہے۔ خبردار یاد رکھنا مسلم ہونے کی حالت میں ہی موت آئے “۔
یوسف علیہ السلام اپنی دعا میں فرماتے ہیں «تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ» [12-يوسف:101] ” اللہ مجھے اسلام کی حالت میں موت دینا “۔
موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ «يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّـهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ» [10-یونس:84] ” اگر تم مسلمان ہو تو اللہ پر توکل کرو “۔
صفحہ نمبر3740
آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر ایمان قبول کرنے والے جادوگر اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں ”تو ہمیں مسلمان اٹھانا۔“ بلقیس کہتی ہیں «رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [27-النمل:44] ” میں سلیمان علیہ السلام کے ہاتھ پر مسلمان ہوتی ہوں “۔
قرآن فرماتا ہے ہے کہ «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا» [5-المائدہ:44] ” تورات کے مطابق وہ انبیاء حکم فرماتے ہیں جو مسلمان ہیں “۔
«وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ آمِنُوا بِي وَبِرَسُولِي قَالُوا آمَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ» [5-المائدہ:111] ” حواری عیسیٰ علیہ السلام سے کہتے ہیں آپ علیہ السلام گواہ رہیے ہم مسلمان ہیں “۔
خاتم الرسل سید البشر صل اللہ علیہ وسلم نماز کے شروع کی دعا کے آخر میں فرماتے ہیں «قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» [6-الأنعام:162، 163] ” میں اول مسلمان ہوں یعنی اس امت میں “۔
ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «نَحْنُ مَعَاشِر الْأَنْبِيَاء أَوْلَاد عَلَّات دِيننَا وَاحِد» ہم انبیاء ایسے ہیں جیسے ایک باپ کی اولاد دین ایک اور بعض بعض احکام جدا گانہ ۔
پس توحید میں سب یکساں ہیں گو فروعی احکام میں علیحدگی ہو۔ جیسے وہ بھائی جن کا باپ ایک ہو مائیں جدا جدا ہوں۔ پھر فرماتا ہے ” قوم نوح نے نوح نبی کریم علیہ السلام کو نہ مانا بلکہ انہیں جھوٹا کہا آخر ہم نے انہیں غرق کر دیا۔ نوح نبی علیہ السلام کو مع ایمانداروں کے اس بدترین عذاب سے ہم نے صاف بچا لیا۔ کشتی میں سوار کر کے انہیں طوفان سے محفوظ رکھ لیا۔ وہی وہ زمین پر باقی رہے پس ہماری اس قدرت کو دیکھ لے کہ کس طرح ظالموں کا نام و نشان مٹا دیا اور کس طرح مومنوں کو بچا لیا “۔
صفحہ نمبر3741
نوح علیہ السلام کی قوم کا کردار ٭٭
” اے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو انہیں نوح علیہ السلام کے واقعہ کی خبر دے کہ ان کا اور ان کی قوم کا کیا حشر ہوا جس طرح کفار مکہ تجھے جھٹلاتے اور ستاتے ہیں، قوم نوح علیہ السلام نے بھی یہی وطیرہ اختیار کر رکھا تھا۔ بالآخر سب کے سب غرق کر دیئے گئے، سارے کافر دریا برد ہوگئے۔ پس انہیں بھی خبردار رہنا چاہیئے اور میری پکڑ سے بے خوف نہ ہونا چاہیئے۔ اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں “۔
نوح علیہ السلام نے ایک مرتبہ ان سے صاف فرما دیا کہ ”اگر تم پر یہ گراں گزرتا ہے کہ میں تم میں رہتا ہوں اور تمہیں اللہ کی باتیں سنا رہا ہوں، تم اس سے چڑتے ہو اور مجھے نقصان پہنچانے درپے ہو تو سنو میں صاف کہتا ہوں کہ میں تم سے نڈر ہوں۔ مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔ میں تمہیں کوئی چیز نہیں سمجھتا۔ میں تم سے مطلقاً نہیں ڈرتا۔ تم سے جو ہو سکے کر لو۔ میرا جو بگاڑ سکو بگاڑ لو۔ تم اپنے ساتھ اپنے شریکوں اور اپنے جھوٹے معبودوں کو بھی بلا لو اور مل جل کر مشورے کر کے بات کھول کر پوری قوت کے ساتھ مجھ پر حملہ کرو، تمہیں قسم ہے جو میرا بگاڑ سکتے ہو اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو، مجھے بالکل مہلت نہ دو، اچانک گھیر لو، میں بالکل بے خوف ہوں، اس لیے کہ تمہاری روش کو میں باطل جانتا ہوں۔ میں حق پر ہوں، حق کا ساتھی اللہ ہوتا ہے، میرا بھروسہ اسی کی عظیم الشان ذات پر ہے، مجھے اس کی قدرت کے بڑائی معلوم ہے۔“
یہی ہود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ «إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» [11-هود:54-56] ” اللہ کے سوا جس جس کی بھی تم پوجا کر رہے ہو۔ میں تم سے اور ان سے بالکل بری ہوں، خوب کان کھول کر سن لو، اللہ بھی سن رہا ہے تم سب مل کر میرے خلاف کوشش کرو، میں تو تم سے مہلت بھی نہیں مانگتا۔ میرا بھروسہ اپنے اور تمہارے حقیقی مربی پر ہے “۔
صفحہ نمبر3739
حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اگر تم اب بھی مجھے جھٹلاؤ میری اطاعت سے منہ پھیر لو تو میرا اجر ضائع نہیں جائے گا، کیونکہ میرا اجر دینے والا میرا مربی ہے، مجھے تم سے کچھ نہیں لینا۔ میری خیر خواہی، میری تبلیغ کسی معاوضے کی بنا پر نہیں، مجھے تو جو اللہ کا حکم ہے میں اس کی بجا آوری میں لگا ہوا ہوں، مجھے اس کی طرف سے مسلمان ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ سو «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» میں مسلمان ہوں، اللہ کا پورا فرمان بردار ہوں۔“
تمام نبیوں کا دین اول سے آخر تک صرف اسلام ہی رہا ہے، گو احکامات میں قدرے اختلاف رہا ہو، جیسے فرمان ہے «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا» [5-المائدہ:48] ” ہر ایک کے لیے راہ اور طریقہ ہے “۔ «وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» [27-النمل:91] ” دیکھئیے یہ نوح علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں “، «إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» [2-البقرة:131،132] ” یہ ہیں ابراہیم علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں۔ اللہ ان سے فرماتا ہے اسلام لا۔ وہ جواب دیتے ہیں رب العلمین کے لیے میں اسلام لایا “۔
اسی کی وصیت آپ علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام اپنی اولاد کو کرتے ہیں کہ «وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» [2-البقرۃ:132] ” اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لیے اسی دین کو پسند فرما لیا ہے۔ خبردار یاد رکھنا مسلم ہونے کی حالت میں ہی موت آئے “۔
یوسف علیہ السلام اپنی دعا میں فرماتے ہیں «تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ» [12-يوسف:101] ” اللہ مجھے اسلام کی حالت میں موت دینا “۔
موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ «يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّـهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ» [10-یونس:84] ” اگر تم مسلمان ہو تو اللہ پر توکل کرو “۔
صفحہ نمبر3740
آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر ایمان قبول کرنے والے جادوگر اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں ”تو ہمیں مسلمان اٹھانا۔“ بلقیس کہتی ہیں «رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [27-النمل:44] ” میں سلیمان علیہ السلام کے ہاتھ پر مسلمان ہوتی ہوں “۔
قرآن فرماتا ہے ہے کہ «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا» [5-المائدہ:44] ” تورات کے مطابق وہ انبیاء حکم فرماتے ہیں جو مسلمان ہیں “۔
«وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ آمِنُوا بِي وَبِرَسُولِي قَالُوا آمَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ» [5-المائدہ:111] ” حواری عیسیٰ علیہ السلام سے کہتے ہیں آپ علیہ السلام گواہ رہیے ہم مسلمان ہیں “۔
خاتم الرسل سید البشر صل اللہ علیہ وسلم نماز کے شروع کی دعا کے آخر میں فرماتے ہیں «قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» [6-الأنعام:162، 163] ” میں اول مسلمان ہوں یعنی اس امت میں “۔
ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «نَحْنُ مَعَاشِر الْأَنْبِيَاء أَوْلَاد عَلَّات دِيننَا وَاحِد» ہم انبیاء ایسے ہیں جیسے ایک باپ کی اولاد دین ایک اور بعض بعض احکام جدا گانہ ۔
پس توحید میں سب یکساں ہیں گو فروعی احکام میں علیحدگی ہو۔ جیسے وہ بھائی جن کا باپ ایک ہو مائیں جدا جدا ہوں۔ پھر فرماتا ہے ” قوم نوح نے نوح نبی کریم علیہ السلام کو نہ مانا بلکہ انہیں جھوٹا کہا آخر ہم نے انہیں غرق کر دیا۔ نوح نبی علیہ السلام کو مع ایمانداروں کے اس بدترین عذاب سے ہم نے صاف بچا لیا۔ کشتی میں سوار کر کے انہیں طوفان سے محفوظ رکھ لیا۔ وہی وہ زمین پر باقی رہے پس ہماری اس قدرت کو دیکھ لے کہ کس طرح ظالموں کا نام و نشان مٹا دیا اور کس طرح مومنوں کو بچا لیا “۔
صفحہ نمبر3741
سلسلہ رسالت کا تذکرہ ٭٭
حضرت نوح علیہ السلام کے بعد بھی رسولوں کا سلسلہ جاری رہا ہر رسول اپنی قوم کی طرف اللہ کا پیغام اور اپنی سچائی کی دلیلیں لے کر آتا رہا۔ لیکن عموماً ان سب کے ساتھ بھی لوگوں کی وہی پرانی روش رہی۔ یعنی ان کی سچائی تسلیم کو نہ کیا جیسے آیت «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [6-الأنعام:110] میں ہے۔
پس ان کے حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے جس طرح ان کے دلوں پر مہر لگ گئی۔ اسی طرح ان جیسے تمام لوگوں کے دل مہر زدہ ہو جاتے ہیں اور عذاب دیکھ لینے سے پہلے انہیں ایمان نصیب نہیں ہوتا یعنی نبیوں اور ان کے تابعداروں کو بچا لینا اور مخالفین کو ہلاک کرنا۔ نوح نبی علیہ السلام کے بعد سے برابر یہی ہوتا رہا ہے۔ آدم علیہ السلام کے زمانے میں بھی انسان زمین پر آباد تھے۔ جب ان میں بت پرستی شروع ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر نوح علیہ السلام کو ان میں بھیجا۔ یہی وجہ ہے کہ جب قیامت کے دن لوگ نوح علیہ السلام کے پاس سفارش کی درخواست لے کر جائیں گے تو کہیں گے کہ آپ پہلے رسول ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ [صحیح بخاری:3340] ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آدم علیہ السلام اور نوح علیہ السلام کے درمیان دس زمانے گزرے اور وہ سب اسلام میں ہی گزرے ہیں۔ اسی لیے فرمان اللہ ہے کہ «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» [17-الإسراء:17] ” نوح علیہ السلام کے بعد کے آنے والی قوموں کو ہم نے ان کی بد کرداریوں کے باعث ہلاک کر دیا “۔
مقصود یہ کہ ان باتوں کو سن کر مشرکین عرب ہوشیار ہو جائیں کیونکہ وہ سب سے افضل و اعلیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں۔ پس جب کہ ان کے کم مرتبہ نبیوں اور رسولوں کے جھٹلانے پر ایسے دہشت افزاء عذاب سابقہ لوگوں پر نازل ہو چکے ہیں تو اس سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے جھٹلانے پر ان سے بھی بدترین عذاب ان پر نازل ہوں گے۔
صفحہ نمبر3744
باب
ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا۔ اپنی دلیلیں اور حجتیں عطا فرما کر بھیجا۔ لیکن آل فرعون نے بھی اتباع حق سے تکبر کیا اور تھے بھی پکے مجرم اور قسمیں کھا کر کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» [27-النمل:14] حالانکہ دل قائل تھے کہ یہ حق ہے لیکن صرف اپنی بڑھی چڑھی خود داری اور ظلم کی عادت سے مجبور تھے۔
اس پر موسیٰ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ کے سچے دین کو جادو کہہ کر کیوں اپنی ہلاکت کو بلا رہے ہو؟ کہیں جادوگر بھی کامیاب ہوتے ہیں؟ ان پر اس نصیحت نے بھی اُلٹا اثر کیا اور دو اعتراض اور جڑ دئیے کہ تم تو ہمیں اپنے باپ دادا کی روش سے ہٹا رہے ہو۔ اور اس سے نیت تمہاری یہی ہے کہ اس ملک کے مالک بن جاؤ۔ سو بکتے رہو ہم تو تمہاری ماننے کے نہیں۔ اس قصے کو قرآن کریم میں باربار دہرایا گیا ہے، اس لیے کہ یہ عجیب و غریب قصہ ہے۔ فرعون موسیٰ علیہ السلام سے بہت ڈرتا بچتا رہا۔ لیکن قدرت نے موسیٰ علیہ السلام کو اسی کے ہاں پلوایا اور شاہزادوں کی طرح عزت کے گہوارے میں جھلایا۔ جب جوانی کی عمر کو پہنچے تو ایک ایسا سبب کھڑا کر دیا کہ یہاں سے آپ چلے گئے۔ پھر جناب باری نے ان سے خود کلام کیا۔ نبوت و رسالت دی اور اسی کے ہاں پھر بھیجا۔ فقط ایک ہارون علیہ السلام کو ساتھ دے کر آپ علیہ السلام نے یہاں آکے اس عظیم الشان سلطان کے رعب و دبدبے کی کوئی پرواہ نہ کر کے اسے دین حق کی دعوت دی۔ اس سرکش نے اس پر بہت برا منایا اور کمینہ پن پر اتر آیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں رسولوں کی خود ہی حفاظت کی وہ وہ معجزات اپنے نبی کے ہاتھوں میں ظاہر کئے کہ ان کے دل ان کی نبوت مان گئے۔ لیکن تاہم ان کا نفس ایمان پر آمادہ نہ ہوا اور یہ اپنے کفر سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوئے۔ «فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [6-الأنعام:45] ” آخر اللہ کا عذاب آہی گیا اور ان کی جڑیں کاٹ دی گئیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» “۔
صفحہ نمبر3745
باب
ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا۔ اپنی دلیلیں اور حجتیں عطا فرما کر بھیجا۔ لیکن آل فرعون نے بھی اتباع حق سے تکبر کیا اور تھے بھی پکے مجرم اور قسمیں کھا کر کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» [27-النمل:14] حالانکہ دل قائل تھے کہ یہ حق ہے لیکن صرف اپنی بڑھی چڑھی خود داری اور ظلم کی عادت سے مجبور تھے۔
اس پر موسیٰ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ کے سچے دین کو جادو کہہ کر کیوں اپنی ہلاکت کو بلا رہے ہو؟ کہیں جادوگر بھی کامیاب ہوتے ہیں؟ ان پر اس نصیحت نے بھی اُلٹا اثر کیا اور دو اعتراض اور جڑ دئیے کہ تم تو ہمیں اپنے باپ دادا کی روش سے ہٹا رہے ہو۔ اور اس سے نیت تمہاری یہی ہے کہ اس ملک کے مالک بن جاؤ۔ سو بکتے رہو ہم تو تمہاری ماننے کے نہیں۔ اس قصے کو قرآن کریم میں باربار دہرایا گیا ہے، اس لیے کہ یہ عجیب و غریب قصہ ہے۔ فرعون موسیٰ علیہ السلام سے بہت ڈرتا بچتا رہا۔ لیکن قدرت نے موسیٰ علیہ السلام کو اسی کے ہاں پلوایا اور شاہزادوں کی طرح عزت کے گہوارے میں جھلایا۔ جب جوانی کی عمر کو پہنچے تو ایک ایسا سبب کھڑا کر دیا کہ یہاں سے آپ چلے گئے۔ پھر جناب باری نے ان سے خود کلام کیا۔ نبوت و رسالت دی اور اسی کے ہاں پھر بھیجا۔ فقط ایک ہارون علیہ السلام کو ساتھ دے کر آپ علیہ السلام نے یہاں آکے اس عظیم الشان سلطان کے رعب و دبدبے کی کوئی پرواہ نہ کر کے اسے دین حق کی دعوت دی۔ اس سرکش نے اس پر بہت برا منایا اور کمینہ پن پر اتر آیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں رسولوں کی خود ہی حفاظت کی وہ وہ معجزات اپنے نبی کے ہاتھوں میں ظاہر کئے کہ ان کے دل ان کی نبوت مان گئے۔ لیکن تاہم ان کا نفس ایمان پر آمادہ نہ ہوا اور یہ اپنے کفر سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوئے۔ «فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [6-الأنعام:45] ” آخر اللہ کا عذاب آہی گیا اور ان کی جڑیں کاٹ دی گئیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» “۔
صفحہ نمبر3745
باب
ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا۔ اپنی دلیلیں اور حجتیں عطا فرما کر بھیجا۔ لیکن آل فرعون نے بھی اتباع حق سے تکبر کیا اور تھے بھی پکے مجرم اور قسمیں کھا کر کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» [27-النمل:14] حالانکہ دل قائل تھے کہ یہ حق ہے لیکن صرف اپنی بڑھی چڑھی خود داری اور ظلم کی عادت سے مجبور تھے۔
اس پر موسیٰ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ کے سچے دین کو جادو کہہ کر کیوں اپنی ہلاکت کو بلا رہے ہو؟ کہیں جادوگر بھی کامیاب ہوتے ہیں؟ ان پر اس نصیحت نے بھی اُلٹا اثر کیا اور دو اعتراض اور جڑ دئیے کہ تم تو ہمیں اپنے باپ دادا کی روش سے ہٹا رہے ہو۔ اور اس سے نیت تمہاری یہی ہے کہ اس ملک کے مالک بن جاؤ۔ سو بکتے رہو ہم تو تمہاری ماننے کے نہیں۔ اس قصے کو قرآن کریم میں باربار دہرایا گیا ہے، اس لیے کہ یہ عجیب و غریب قصہ ہے۔ فرعون موسیٰ علیہ السلام سے بہت ڈرتا بچتا رہا۔ لیکن قدرت نے موسیٰ علیہ السلام کو اسی کے ہاں پلوایا اور شاہزادوں کی طرح عزت کے گہوارے میں جھلایا۔ جب جوانی کی عمر کو پہنچے تو ایک ایسا سبب کھڑا کر دیا کہ یہاں سے آپ چلے گئے۔ پھر جناب باری نے ان سے خود کلام کیا۔ نبوت و رسالت دی اور اسی کے ہاں پھر بھیجا۔ فقط ایک ہارون علیہ السلام کو ساتھ دے کر آپ علیہ السلام نے یہاں آکے اس عظیم الشان سلطان کے رعب و دبدبے کی کوئی پرواہ نہ کر کے اسے دین حق کی دعوت دی۔ اس سرکش نے اس پر بہت برا منایا اور کمینہ پن پر اتر آیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں رسولوں کی خود ہی حفاظت کی وہ وہ معجزات اپنے نبی کے ہاتھوں میں ظاہر کئے کہ ان کے دل ان کی نبوت مان گئے۔ لیکن تاہم ان کا نفس ایمان پر آمادہ نہ ہوا اور یہ اپنے کفر سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوئے۔ «فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [6-الأنعام:45] ” آخر اللہ کا عذاب آہی گیا اور ان کی جڑیں کاٹ دی گئیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» “۔
صفحہ نمبر3745
باب
ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا۔ اپنی دلیلیں اور حجتیں عطا فرما کر بھیجا۔ لیکن آل فرعون نے بھی اتباع حق سے تکبر کیا اور تھے بھی پکے مجرم اور قسمیں کھا کر کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» [27-النمل:14] حالانکہ دل قائل تھے کہ یہ حق ہے لیکن صرف اپنی بڑھی چڑھی خود داری اور ظلم کی عادت سے مجبور تھے۔
اس پر موسیٰ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ کے سچے دین کو جادو کہہ کر کیوں اپنی ہلاکت کو بلا رہے ہو؟ کہیں جادوگر بھی کامیاب ہوتے ہیں؟ ان پر اس نصیحت نے بھی اُلٹا اثر کیا اور دو اعتراض اور جڑ دئیے کہ تم تو ہمیں اپنے باپ دادا کی روش سے ہٹا رہے ہو۔ اور اس سے نیت تمہاری یہی ہے کہ اس ملک کے مالک بن جاؤ۔ سو بکتے رہو ہم تو تمہاری ماننے کے نہیں۔ اس قصے کو قرآن کریم میں باربار دہرایا گیا ہے، اس لیے کہ یہ عجیب و غریب قصہ ہے۔ فرعون موسیٰ علیہ السلام سے بہت ڈرتا بچتا رہا۔ لیکن قدرت نے موسیٰ علیہ السلام کو اسی کے ہاں پلوایا اور شاہزادوں کی طرح عزت کے گہوارے میں جھلایا۔ جب جوانی کی عمر کو پہنچے تو ایک ایسا سبب کھڑا کر دیا کہ یہاں سے آپ چلے گئے۔ پھر جناب باری نے ان سے خود کلام کیا۔ نبوت و رسالت دی اور اسی کے ہاں پھر بھیجا۔ فقط ایک ہارون علیہ السلام کو ساتھ دے کر آپ علیہ السلام نے یہاں آکے اس عظیم الشان سلطان کے رعب و دبدبے کی کوئی پرواہ نہ کر کے اسے دین حق کی دعوت دی۔ اس سرکش نے اس پر بہت برا منایا اور کمینہ پن پر اتر آیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں رسولوں کی خود ہی حفاظت کی وہ وہ معجزات اپنے نبی کے ہاتھوں میں ظاہر کئے کہ ان کے دل ان کی نبوت مان گئے۔ لیکن تاہم ان کا نفس ایمان پر آمادہ نہ ہوا اور یہ اپنے کفر سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوئے۔ «فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [6-الأنعام:45] ” آخر اللہ کا عذاب آہی گیا اور ان کی جڑیں کاٹ دی گئیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» “۔
صفحہ نمبر3745
موسیٰ علیہ السلام بمقابلہ فرعونی ساحرین ٭٭
سورۃ الاعراف، سورۃ طہٰ، سورۃ الشعراء اور اس سورت میں بھی فرعونی جادو گروں اور موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ بیان فرمایا گیا ہے۔ ہم نے اس پورے واقعہ کی تفصیل سورۃ الاعراف کی تفسیر میں لکھ دی ہے۔ فرعون نے جادو گروں اور شعبدہ بازوں سے موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔ اس کے لیے انتظام کئے۔ قدرت نے بھرے میدان میں اے شکست فاش دی اور خود جادوگر حق کو مان گئے وہ سجدے میں گر کر اللہ اور اس کے دونوں نبیوں پر وہیں ایمان لائے اور اپنے ایمان کا غیر مشتبہ الفاظ میں سب کے سامنے فرعون کی موجودگی میں اعلان کر دیا «فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» [26-الشعراء:46-48] ( یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان ﻻئے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے رب پر)۔
اس وقت فرعون کا منہ کالا ہو گیا اور اللہ کے دین کا بول بالا ہوا۔ اس نے اپنی سپاہ اور جادوگروں کے جمع کرنے کا حکم دیا۔ یہ آئے، صفیں باندھ کر کھڑے ہوئے، فرعون نے ان کی کمر ٹھونکی انعام کے وعدے دیئے۔ «قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِمَّا أَن تُلْقِيَ وَإِمَّا أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَىٰ قَالَ بَلْ أَلْقُوا ۖ فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ» [20-طه:65، 66] ” انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ بولو اب ہم پہلے اپنا کرتب دکھائیں یا تم پہل کرتے ہو؟ “۔
آپ علیہ السلام نے اسی بات کو بہتر سمجھا کہ ان کے دل کی بھڑاس پہلے نکل جائے۔ لوگ ان کے تماشے اور باطل کے ہتھکنڈے پہلے دیکھ لیں۔ پھر حق آئے اور باطل کا صفایا کر جائے۔
صفحہ نمبر3749
یہ اچھا اثر ڈالے گا، اس لیے آپ علیہ السلام نے انہیں فرمایا کہ ”تمہیں جو کچھ کرنا ہے شروع کردو۔“ «أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» [7-الأعراف:116] ” انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کرکے انہیں ہیبت زدہ کرنے کا زبردست مظاہرہ کیا “۔
جس سے موسیٰ علیہ السلام کے دل میں بھی خطرہ پیدا ہو گیا فوراً اللہ کی طرف سے وحی اتری کہ «فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ وَأَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ» [20-طه:67،69] ” خبردار ڈرنا مت۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دے۔ وہ ان کے سو ڈھکوسلے صاف کر دے گی۔ یہ جادو کے مکر کی صفت ہے۔ اس میں اصلیت کہاں انہیں اوج و فلاح کیسے نصیب ہو؟ “
اب موسیٰ علیہ السلام سنبھل گئے اور زور دے کر پیشگوئی کی کہ ”تم تو یہ سب جادو کے کھلونے بنا لائے ہو دیکھنا اللہ تعالیٰ انہیں بھی درہم برہم کر دے گا۔ تم فسادیوں کے اعمال دیر پا ہو ہی نہیں سکتے۔“
لیث بن ابی سلیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ان آیتوں میں اللہ کے حکم سے جادو کی شفاء ہے۔ ایک برتن میں پانی لے کر اس پر یہ آیتیں پڑھ کر دم کر دیں جائیں اور جس پر جادو کر دیا گیا ہو اس کے سر پر وہ پانی بہا دیا جائے «فَلَمَّا أَلْقَوْا قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئْتُم بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللَّهَ سَيُبْطِلُهُ إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ» [10-یونس:81،82] تک یہ آیتیں اور «فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ فَغُلِبُوا هُنَالِكَ وَانقَلَبُوا صَاغِرِينَ وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنتُم بِهِ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ» [7-الأعراف:118-122] سے چار آیتوں تک اور «إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ» [20-طه:69] [ابن ابی حاتم]
صفحہ نمبر3750
موسیٰ علیہ السلام بمقابلہ فرعونی ساحرین ٭٭
سورۃ الاعراف، سورۃ طہٰ، سورۃ الشعراء اور اس سورت میں بھی فرعونی جادو گروں اور موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ بیان فرمایا گیا ہے۔ ہم نے اس پورے واقعہ کی تفصیل سورۃ الاعراف کی تفسیر میں لکھ دی ہے۔ فرعون نے جادو گروں اور شعبدہ بازوں سے موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔ اس کے لیے انتظام کئے۔ قدرت نے بھرے میدان میں اے شکست فاش دی اور خود جادوگر حق کو مان گئے وہ سجدے میں گر کر اللہ اور اس کے دونوں نبیوں پر وہیں ایمان لائے اور اپنے ایمان کا غیر مشتبہ الفاظ میں سب کے سامنے فرعون کی موجودگی میں اعلان کر دیا «فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» [26-الشعراء:46-48] ( یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان ﻻئے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے رب پر)۔
اس وقت فرعون کا منہ کالا ہو گیا اور اللہ کے دین کا بول بالا ہوا۔ اس نے اپنی سپاہ اور جادوگروں کے جمع کرنے کا حکم دیا۔ یہ آئے، صفیں باندھ کر کھڑے ہوئے، فرعون نے ان کی کمر ٹھونکی انعام کے وعدے دیئے۔ «قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِمَّا أَن تُلْقِيَ وَإِمَّا أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَىٰ قَالَ بَلْ أَلْقُوا ۖ فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ» [20-طه:65، 66] ” انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ بولو اب ہم پہلے اپنا کرتب دکھائیں یا تم پہل کرتے ہو؟ “۔
آپ علیہ السلام نے اسی بات کو بہتر سمجھا کہ ان کے دل کی بھڑاس پہلے نکل جائے۔ لوگ ان کے تماشے اور باطل کے ہتھکنڈے پہلے دیکھ لیں۔ پھر حق آئے اور باطل کا صفایا کر جائے۔
صفحہ نمبر3749
یہ اچھا اثر ڈالے گا، اس لیے آپ علیہ السلام نے انہیں فرمایا کہ ”تمہیں جو کچھ کرنا ہے شروع کردو۔“ «أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» [7-الأعراف:116] ” انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کرکے انہیں ہیبت زدہ کرنے کا زبردست مظاہرہ کیا “۔
جس سے موسیٰ علیہ السلام کے دل میں بھی خطرہ پیدا ہو گیا فوراً اللہ کی طرف سے وحی اتری کہ «فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ وَأَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ» [20-طه:67،69] ” خبردار ڈرنا مت۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دے۔ وہ ان کے سو ڈھکوسلے صاف کر دے گی۔ یہ جادو کے مکر کی صفت ہے۔ اس میں اصلیت کہاں انہیں اوج و فلاح کیسے نصیب ہو؟ “
اب موسیٰ علیہ السلام سنبھل گئے اور زور دے کر پیشگوئی کی کہ ”تم تو یہ سب جادو کے کھلونے بنا لائے ہو دیکھنا اللہ تعالیٰ انہیں بھی درہم برہم کر دے گا۔ تم فسادیوں کے اعمال دیر پا ہو ہی نہیں سکتے۔“
لیث بن ابی سلیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ان آیتوں میں اللہ کے حکم سے جادو کی شفاء ہے۔ ایک برتن میں پانی لے کر اس پر یہ آیتیں پڑھ کر دم کر دیں جائیں اور جس پر جادو کر دیا گیا ہو اس کے سر پر وہ پانی بہا دیا جائے «فَلَمَّا أَلْقَوْا قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئْتُم بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللَّهَ سَيُبْطِلُهُ إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ» [10-یونس:81،82] تک یہ آیتیں اور «فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ فَغُلِبُوا هُنَالِكَ وَانقَلَبُوا صَاغِرِينَ وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنتُم بِهِ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ» [7-الأعراف:118-122] سے چار آیتوں تک اور «إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ» [20-طه:69] [ابن ابی حاتم]
صفحہ نمبر3750
موسیٰ علیہ السلام بمقابلہ فرعونی ساحرین ٭٭
سورۃ الاعراف، سورۃ طہٰ، سورۃ الشعراء اور اس سورت میں بھی فرعونی جادو گروں اور موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ بیان فرمایا گیا ہے۔ ہم نے اس پورے واقعہ کی تفصیل سورۃ الاعراف کی تفسیر میں لکھ دی ہے۔ فرعون نے جادو گروں اور شعبدہ بازوں سے موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔ اس کے لیے انتظام کئے۔ قدرت نے بھرے میدان میں اے شکست فاش دی اور خود جادوگر حق کو مان گئے وہ سجدے میں گر کر اللہ اور اس کے دونوں نبیوں پر وہیں ایمان لائے اور اپنے ایمان کا غیر مشتبہ الفاظ میں سب کے سامنے فرعون کی موجودگی میں اعلان کر دیا «فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» [26-الشعراء:46-48] ( یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان ﻻئے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے رب پر)۔
اس وقت فرعون کا منہ کالا ہو گیا اور اللہ کے دین کا بول بالا ہوا۔ اس نے اپنی سپاہ اور جادوگروں کے جمع کرنے کا حکم دیا۔ یہ آئے، صفیں باندھ کر کھڑے ہوئے، فرعون نے ان کی کمر ٹھونکی انعام کے وعدے دیئے۔ «قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِمَّا أَن تُلْقِيَ وَإِمَّا أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَىٰ قَالَ بَلْ أَلْقُوا ۖ فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ» [20-طه:65، 66] ” انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ بولو اب ہم پہلے اپنا کرتب دکھائیں یا تم پہل کرتے ہو؟ “۔
آپ علیہ السلام نے اسی بات کو بہتر سمجھا کہ ان کے دل کی بھڑاس پہلے نکل جائے۔ لوگ ان کے تماشے اور باطل کے ہتھکنڈے پہلے دیکھ لیں۔ پھر حق آئے اور باطل کا صفایا کر جائے۔
صفحہ نمبر3749
یہ اچھا اثر ڈالے گا، اس لیے آپ علیہ السلام نے انہیں فرمایا کہ ”تمہیں جو کچھ کرنا ہے شروع کردو۔“ «أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» [7-الأعراف:116] ” انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کرکے انہیں ہیبت زدہ کرنے کا زبردست مظاہرہ کیا “۔
جس سے موسیٰ علیہ السلام کے دل میں بھی خطرہ پیدا ہو گیا فوراً اللہ کی طرف سے وحی اتری کہ «فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ وَأَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ» [20-طه:67،69] ” خبردار ڈرنا مت۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دے۔ وہ ان کے سو ڈھکوسلے صاف کر دے گی۔ یہ جادو کے مکر کی صفت ہے۔ اس میں اصلیت کہاں انہیں اوج و فلاح کیسے نصیب ہو؟ “
اب موسیٰ علیہ السلام سنبھل گئے اور زور دے کر پیشگوئی کی کہ ”تم تو یہ سب جادو کے کھلونے بنا لائے ہو دیکھنا اللہ تعالیٰ انہیں بھی درہم برہم کر دے گا۔ تم فسادیوں کے اعمال دیر پا ہو ہی نہیں سکتے۔“
لیث بن ابی سلیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ان آیتوں میں اللہ کے حکم سے جادو کی شفاء ہے۔ ایک برتن میں پانی لے کر اس پر یہ آیتیں پڑھ کر دم کر دیں جائیں اور جس پر جادو کر دیا گیا ہو اس کے سر پر وہ پانی بہا دیا جائے «فَلَمَّا أَلْقَوْا قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئْتُم بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللَّهَ سَيُبْطِلُهُ إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ» [10-یونس:81،82] تک یہ آیتیں اور «فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ فَغُلِبُوا هُنَالِكَ وَانقَلَبُوا صَاغِرِينَ وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنتُم بِهِ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ» [7-الأعراف:118-122] سے چار آیتوں تک اور «إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ» [20-طه:69] [ابن ابی حاتم]
صفحہ نمبر3750
موسیٰ علیہ السلام بمقابلہ فرعونی ساحرین ٭٭
سورۃ الاعراف، سورۃ طہٰ، سورۃ الشعراء اور اس سورت میں بھی فرعونی جادو گروں اور موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ بیان فرمایا گیا ہے۔ ہم نے اس پورے واقعہ کی تفصیل سورۃ الاعراف کی تفسیر میں لکھ دی ہے۔ فرعون نے جادو گروں اور شعبدہ بازوں سے موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔ اس کے لیے انتظام کئے۔ قدرت نے بھرے میدان میں اے شکست فاش دی اور خود جادوگر حق کو مان گئے وہ سجدے میں گر کر اللہ اور اس کے دونوں نبیوں پر وہیں ایمان لائے اور اپنے ایمان کا غیر مشتبہ الفاظ میں سب کے سامنے فرعون کی موجودگی میں اعلان کر دیا «فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» [26-الشعراء:46-48] ( یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان ﻻئے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے رب پر)۔
اس وقت فرعون کا منہ کالا ہو گیا اور اللہ کے دین کا بول بالا ہوا۔ اس نے اپنی سپاہ اور جادوگروں کے جمع کرنے کا حکم دیا۔ یہ آئے، صفیں باندھ کر کھڑے ہوئے، فرعون نے ان کی کمر ٹھونکی انعام کے وعدے دیئے۔ «قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِمَّا أَن تُلْقِيَ وَإِمَّا أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَىٰ قَالَ بَلْ أَلْقُوا ۖ فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ» [20-طه:65، 66] ” انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ بولو اب ہم پہلے اپنا کرتب دکھائیں یا تم پہل کرتے ہو؟ “۔
آپ علیہ السلام نے اسی بات کو بہتر سمجھا کہ ان کے دل کی بھڑاس پہلے نکل جائے۔ لوگ ان کے تماشے اور باطل کے ہتھکنڈے پہلے دیکھ لیں۔ پھر حق آئے اور باطل کا صفایا کر جائے۔
صفحہ نمبر3749
یہ اچھا اثر ڈالے گا، اس لیے آپ علیہ السلام نے انہیں فرمایا کہ ”تمہیں جو کچھ کرنا ہے شروع کردو۔“ «أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» [7-الأعراف:116] ” انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کرکے انہیں ہیبت زدہ کرنے کا زبردست مظاہرہ کیا “۔
جس سے موسیٰ علیہ السلام کے دل میں بھی خطرہ پیدا ہو گیا فوراً اللہ کی طرف سے وحی اتری کہ «فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ وَأَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ» [20-طه:67،69] ” خبردار ڈرنا مت۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دے۔ وہ ان کے سو ڈھکوسلے صاف کر دے گی۔ یہ جادو کے مکر کی صفت ہے۔ اس میں اصلیت کہاں انہیں اوج و فلاح کیسے نصیب ہو؟ “
اب موسیٰ علیہ السلام سنبھل گئے اور زور دے کر پیشگوئی کی کہ ”تم تو یہ سب جادو کے کھلونے بنا لائے ہو دیکھنا اللہ تعالیٰ انہیں بھی درہم برہم کر دے گا۔ تم فسادیوں کے اعمال دیر پا ہو ہی نہیں سکتے۔“
لیث بن ابی سلیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ان آیتوں میں اللہ کے حکم سے جادو کی شفاء ہے۔ ایک برتن میں پانی لے کر اس پر یہ آیتیں پڑھ کر دم کر دیں جائیں اور جس پر جادو کر دیا گیا ہو اس کے سر پر وہ پانی بہا دیا جائے «فَلَمَّا أَلْقَوْا قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئْتُم بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللَّهَ سَيُبْطِلُهُ إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ» [10-یونس:81،82] تک یہ آیتیں اور «فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ فَغُلِبُوا هُنَالِكَ وَانقَلَبُوا صَاغِرِينَ وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنتُم بِهِ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ» [7-الأعراف:118-122] سے چار آیتوں تک اور «إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ» [20-طه:69] [ابن ابی حاتم]
صفحہ نمبر3750
بزدلی ایمان کے درمیان دیوار بن گئی ٭٭
ان زبردست روشن دلیلوں کے اور معجزوں کے باوجود موسیٰ علیہ السلام پر بہت کم فرعونی ایمان لا سکے۔ کیونکہ ان کے دل میں فرعون کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ یہ خبیث رعب دبدبے والا بھی تھا اور ترقی پر بھی تھا۔ حق ظاہر ہو گیا تھا لیکن کسی کو اس کی مخالفت کی جرأت نہ تھی ہر ایک کا خوف تھا کہ اگر آج میں ایمان لے آیا تو کل اس کی سخت سزاؤں سے مجبور ہو کر دین حق چھوڑنا پڑے گا۔ پس بہت سے ایسے جانباز موحد جنہوں نے اس کی سلطنت اور سزا کی کوئی پرواہ نہ کی اور حق کے سامنے سر جھکا دیا۔ ان میں خصوصیت سے قابل ذکر فرعون کی بیوی تھی اس کی آل کا ایک اور شخص تھا ایک جو فرعون کا خزانچی تھا۔ اس کی بیوہ تھی وغیرہ رضی اللہ عنہم اجمعین۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے موسیٰ پر بنی اسرائیل کی تھوڑی سی تعداد کا ایمان لانا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ ذریت سے مراد قلیل ہے یعنی بہت کم لوگ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اولاد بھی مراد ہے۔ یعنی جب موسیٰ نبی بن کر آئے اس وقت جو لوگ ہیں ان کی موت کے بعد ان کی اولاد میں سے کچھ لوگ ایمان لائے۔
صفحہ نمبر3754
امام ابن جریر تو قول مجاہد رحمہ اللہ کو پسند فرماتے ہیں کہ «قَوْمِہِ» میں ضمیر کا مرجع موسیٰ علیہ السلام ہیں کیونکہ یہی نام اس سے قریب ہے۔ لیکن یہ محل نظر ہے کیونکہ ذریت کے لفظ کا تقاضا جوان اور کم عمر لوگ ہیں اور بنو اسرائیل تو سب کے سب مومن تھے جیسا کہ مشہور ہے یہ تو موسیٰ علیہ السلام کے آنے کی خوشیاں منا رہے تھے ان کی کتابوں میں موجود تھا کہ اس طرح نبی اللہ علیہ السلام آئیں گے اور ان کے ہاتھوں انہیں فرعون کی غلامی کی ذلت سے نجات ملے گی ان کی کتابوں کی یہی بات تو فرعون کے ہوش و حواس گم کئے ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس نے موسیٰ علیہ السلام کی دشمنی پر کمر کس لی تھی اور آپ علیہ السلام کی نبوت کے ظاہر ہونے سے پہلے اور آپ علیہ السلام کے آنے سے پہلے اور آپ علیہ السلام کے آجانے کے بعد ہم تو اس کے ہاتھوں بہت ہی تنگ کئے گئے ہیں۔
آپ علیہ السلام نے انہیں تسلی دی کہ «قَالُوا أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ» [7-الأعراف:129] ” جلدی نہ کرو۔ اللہ تمہارے دشمن کا ناس کرے گا، تمہیں ملک کا مالک بنائے گا پھر دیکھے گا کہ تم کیا کرتے ہو؟ “
پس یہ تو سمجھ میں نہیں آتا کہ اس آیت سے مراد قوم موسیٰ کی نئی نسل ہو، اور یہ کہ بنو اسرائیل میں سے سوائے قارون کے اور کوئی دین کا چھوڑنے والا ایسا نہ تھا جس کے فتنے میں پڑ جانے کا خوف ہو۔ قارون گو قوم موسیٰ میں سے تھا لیکن وہ باغی تھا فرعون کا دوست تھا۔ اس کے حاشیہ نشینوں میں تھا، اس سے گہرے تعلق رکھتا تھا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ «مَلَا۠ئِہِمۡ» میں ضمیر فرعون کی طرف عائد ہے اور بطور اس کے تابعداری کرنے والوں کی زیادتی کے ضمیر جمع کی لائی گئی ہے۔ یا یہ کہ فرعون سے پہلے لفظ ال جو مضاف تھا محذوف کر دیا گیا ہے۔ اور مضاف الیہ اس کے قائم مقام رکھ دیا ہے۔ ان کا قول بھی بہت دور کا ہے۔ گو امام ابن جریر نے بعض نحویوں سے بھی ان دونوں اقوال کی حکایت کی ہے اور اس سے اگلی آیت جو آ رہی ہے وہ بھی دلالت کرتی ہے کہ بنی اسرائیل سب مومن تھے۔
صفحہ نمبر3755
اللہ پر مکمل بھروسہ ایمان کی روح ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم بنی اسرائیل سے فرماتے ہیں کہ «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ» [39-الزمر:36] ” اگر تم مومن مسلمان ہو تو اللہ پر بھروسہ رکھو “، «وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَهُوَ حَسْبُهُ» [65-الطلاق:3] ” جو اس پر بھروسہ کرے وہ اسے کافی ہے “، عبادت و توکل دونوں ہم پلہ چیزیں ہیں۔
فرمان رب العالمین ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ» [11-ھود:123] ” اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ “۔
ایک اور آیت میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتا ہے کہ «قُلْ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا» [67-الملک:29] ” کہہ دے کہ رب رحمن پر ہم ایمان لائے اور اسی کی ذات پاک پر ہم نے توکل کیا “۔
فرماتا ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ” مشرق و مغرب کا رب جو عبادت کے لائق معبود ہے، جس کے سوا پرستش کے لائق اور کوئی نہیں۔ تو اسی کو اپنا وکیل و کارساز بنا لے “۔
تمام ایمانداروں کو جو سورت پانچوں نمازوں میں تلاوت کرنے کا حکم ہوا اس میں بھی ان کی زبانی اقرار کرایا گیا ہے کہ «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» [1-الفاتحة:5] ” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں “۔
بنو اسرائیل نے اپنے نبی علیہ السلام کا یہ حکم سن کر اطاعت کی اور جواباً عرض کیا کہ ”ہمارا بھروسہ اپنے رب پر ہی ہے۔ پروردگار تو ہمیں ظالموں کے لیے فتنہ نہ بنا کہ وہ ہم پر غالب رہ کر یہ سمجھنے لگیں کہ اگر یہ حق پر ہوتے اور ہم باطل پر ہوتے تو ہم ان پر غالب کیسے رہ سکتے۔“
یہ مطلب بھی اس دعا کا بیان کیا گیا ہے کہ ”اللہ ہم پر ان کے ہاتھوں عذاب مسلط نہ کرانا، نہ اپنے پاس سے کوئی عذاب ہم پر نازل فرما کہ یہ لوگ کہنے لگیں کہ اگر بنی اسرائیل حق پر ہوتے تو ہماری سزائیں کیوں بھگتتے یا اللہ کے عذاب ان پر کیوں اترتے؟
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ ہم پر غالب رہے تو ایسا نہ ہو کہ یہ کہیں ہمارے سچے دین سے ہمیں ہٹانے کے لیے کوششیں کریں۔ اور اے پروردگار ان کافروں سے جنہوں نے حق سے انکار کر دیا ہے حق کو چھپایا لیا تو ہمیں نجات دے، ہم تجھ پر ایمان لائے ہیں اور ہمارا بھروسہ صرف تیری ذات پر ہے۔
صفحہ نمبر3756
اللہ پر مکمل بھروسہ ایمان کی روح ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم بنی اسرائیل سے فرماتے ہیں کہ «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ» [39-الزمر:36] ” اگر تم مومن مسلمان ہو تو اللہ پر بھروسہ رکھو “، «وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَهُوَ حَسْبُهُ» [65-الطلاق:3] ” جو اس پر بھروسہ کرے وہ اسے کافی ہے “، عبادت و توکل دونوں ہم پلہ چیزیں ہیں۔
فرمان رب العالمین ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ» [11-ھود:123] ” اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ “۔
ایک اور آیت میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتا ہے کہ «قُلْ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا» [67-الملک:29] ” کہہ دے کہ رب رحمن پر ہم ایمان لائے اور اسی کی ذات پاک پر ہم نے توکل کیا “۔
فرماتا ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ” مشرق و مغرب کا رب جو عبادت کے لائق معبود ہے، جس کے سوا پرستش کے لائق اور کوئی نہیں۔ تو اسی کو اپنا وکیل و کارساز بنا لے “۔
تمام ایمانداروں کو جو سورت پانچوں نمازوں میں تلاوت کرنے کا حکم ہوا اس میں بھی ان کی زبانی اقرار کرایا گیا ہے کہ «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» [1-الفاتحة:5] ” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں “۔
بنو اسرائیل نے اپنے نبی علیہ السلام کا یہ حکم سن کر اطاعت کی اور جواباً عرض کیا کہ ”ہمارا بھروسہ اپنے رب پر ہی ہے۔ پروردگار تو ہمیں ظالموں کے لیے فتنہ نہ بنا کہ وہ ہم پر غالب رہ کر یہ سمجھنے لگیں کہ اگر یہ حق پر ہوتے اور ہم باطل پر ہوتے تو ہم ان پر غالب کیسے رہ سکتے۔“
یہ مطلب بھی اس دعا کا بیان کیا گیا ہے کہ ”اللہ ہم پر ان کے ہاتھوں عذاب مسلط نہ کرانا، نہ اپنے پاس سے کوئی عذاب ہم پر نازل فرما کہ یہ لوگ کہنے لگیں کہ اگر بنی اسرائیل حق پر ہوتے تو ہماری سزائیں کیوں بھگتتے یا اللہ کے عذاب ان پر کیوں اترتے؟
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ ہم پر غالب رہے تو ایسا نہ ہو کہ یہ کہیں ہمارے سچے دین سے ہمیں ہٹانے کے لیے کوششیں کریں۔ اور اے پروردگار ان کافروں سے جنہوں نے حق سے انکار کر دیا ہے حق کو چھپایا لیا تو ہمیں نجات دے، ہم تجھ پر ایمان لائے ہیں اور ہمارا بھروسہ صرف تیری ذات پر ہے۔
صفحہ نمبر3756
اللہ پر مکمل بھروسہ ایمان کی روح ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم بنی اسرائیل سے فرماتے ہیں کہ «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ» [39-الزمر:36] ” اگر تم مومن مسلمان ہو تو اللہ پر بھروسہ رکھو “، «وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَهُوَ حَسْبُهُ» [65-الطلاق:3] ” جو اس پر بھروسہ کرے وہ اسے کافی ہے “، عبادت و توکل دونوں ہم پلہ چیزیں ہیں۔
فرمان رب العالمین ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ» [11-ھود:123] ” اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ “۔
ایک اور آیت میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتا ہے کہ «قُلْ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا» [67-الملک:29] ” کہہ دے کہ رب رحمن پر ہم ایمان لائے اور اسی کی ذات پاک پر ہم نے توکل کیا “۔
فرماتا ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ” مشرق و مغرب کا رب جو عبادت کے لائق معبود ہے، جس کے سوا پرستش کے لائق اور کوئی نہیں۔ تو اسی کو اپنا وکیل و کارساز بنا لے “۔
تمام ایمانداروں کو جو سورت پانچوں نمازوں میں تلاوت کرنے کا حکم ہوا اس میں بھی ان کی زبانی اقرار کرایا گیا ہے کہ «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» [1-الفاتحة:5] ” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں “۔
بنو اسرائیل نے اپنے نبی علیہ السلام کا یہ حکم سن کر اطاعت کی اور جواباً عرض کیا کہ ”ہمارا بھروسہ اپنے رب پر ہی ہے۔ پروردگار تو ہمیں ظالموں کے لیے فتنہ نہ بنا کہ وہ ہم پر غالب رہ کر یہ سمجھنے لگیں کہ اگر یہ حق پر ہوتے اور ہم باطل پر ہوتے تو ہم ان پر غالب کیسے رہ سکتے۔“
یہ مطلب بھی اس دعا کا بیان کیا گیا ہے کہ ”اللہ ہم پر ان کے ہاتھوں عذاب مسلط نہ کرانا، نہ اپنے پاس سے کوئی عذاب ہم پر نازل فرما کہ یہ لوگ کہنے لگیں کہ اگر بنی اسرائیل حق پر ہوتے تو ہماری سزائیں کیوں بھگتتے یا اللہ کے عذاب ان پر کیوں اترتے؟
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ ہم پر غالب رہے تو ایسا نہ ہو کہ یہ کہیں ہمارے سچے دین سے ہمیں ہٹانے کے لیے کوششیں کریں۔ اور اے پروردگار ان کافروں سے جنہوں نے حق سے انکار کر دیا ہے حق کو چھپایا لیا تو ہمیں نجات دے، ہم تجھ پر ایمان لائے ہیں اور ہمارا بھروسہ صرف تیری ذات پر ہے۔
صفحہ نمبر3756
قوم فرعون سے بنی اسرائی کی نجات ٭٭
بنی اسرائیل کی فرعون اور فرعون کی قوم سے نجات پانا، اس کی کیفیت بیان ہو رہی ہے دونوں نبیوں کو اللہ کی وحی ہوئی کہ ” اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بنا لو۔ اور اپنے گھروں کو مسجدیں مقرر کر لو۔ اور خوف کے وقت گھروں میں نماز ادا کر لیا کرو “۔
چنانچہ فرعون کی سختی بہت بڑھ گئی تھی۔ اس لیے انہیں کثرت سے نماز ادا کرنے کا حکم ہوا۔ یہی حکم اس امت کو ہے کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ» [2-البقرۃ:153] ” ایمان دارو صبر اور نماز سے مدد چاہو “۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جب کوئی گھبراہٹ ہوتی فوراً نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے ۔ [سنن ابوداود1319،قال الشيخ الألباني:حسن] ۔
یہاں بھی حکم ہوتا ہے کہ ” اپنے گھروں کو قبلہ بنا لو، اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان مومنوں کو تم بشارت دو انہیں دار آخرت میں ثواب ملے گا اور دنیا میں ان کی تائید و نصرت ہوگی “۔ اسرائیلیوں نے اپنے نبی سے کہا تھا کہ فرعونیوں کے سامنے ہم اپنی نماز اعلان سے نہیں پڑھ سکتے تو اللہ نے انہیں حکم دیا کہ ” اپنے گھر قبلہ رو ہو کر وہیں نماز ادا کرسکتے ہو “ اپنے گھر آمنے سامنے بنانے کا حکم ہوگیا۔
صفحہ نمبر3759
فرعون کا تکبر اور موسیٰ علیہ السلام کی بددعا ٭٭
جب فرعون اور فرعونیوں کا تکبر، تحیر، تعصب بڑھتا ہی گیا۔ ظلم و ستم بے رحمی اور جفا کاری انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ کے صابر نبیوں نے ان کے لیے بد دعا کی کہ ”یا اللہ تو نے انہیں دنیا کی زینت و مال خوب خوب دیا اور تو بخوبی جانتا ہے کہ وہ تیرے حکم کے مطابق مال خرچ نہیں کرتے۔ یہ صرف تیری طرف سے انہیں ڈھیل اور مہلت ہے۔“
یہ مطلب تو ہے جب «لِيَضِلُّوْا» پڑھا جائے جو ایک قرأت ہے اور جب «لِیُضِلُّوْا» پڑھیں تو مطلب یہ ہے کہ یہ اس لیے کہ وہ اوروں کو گمراہ کریں جن کی گمراہی تیری چاہت میں ہے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ یہی لوگ اللہ کے محبوب ہیں ورنہ اتنی دولت مندی اور اس قدر عیش و عشرت انہیں کیوں نصیب ہوتا ہے؟ اب ہمای دعا ہے کہ ان کے یہ مال تو غارت اور تباہ کر دے۔ چنانچہ ان کے تمام مال اسی طرح پتھر بن گئے۔ سونا چاندی ہی نہیں بلکہ کھیتیاں تک پتھر کی ہو گئیں۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ اس سورۃ یونس کی تلاوت امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے کر رہے تھے جب اس آیت تک پہنچے تو خلیفۃالمسلمین نے سوال کیا کہ یہ «طْمِسْ» کیا چیز ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”ان کے مال پتھر بنا دیئے گئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا صندوقچہ منگوا کر اس میں سے سفید چنا نکال کر دکھایا جو پتھر بن گیا تھا۔ [الدر المنشور للسیوطی:566/3:ضعیف] ۔
صفحہ نمبر3760
اور دعا کی کہ ”پروردگار ان کے دل سخت کر دے ان پر مہر لگا دے کہ انہیں عذاب دیکھنے تک ایمان لانا نصیب نہ ہو۔“ یہ بد دعا صرف دینی حمیت اور دینی دل سوزی کی وجہ سے تھی یہ غصہ اللہ اور اس کے دین کی خاطر تھا۔ جب دیکھ لیا اور مایوسی کی حد آ گئی۔ نوح علیہ السلام کی دعا ہے کہ «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا» [71-نوح:26،27] ” الٰہی زمین پر کسی کافر کو زندہ نہ چھوڑ ورنہ اوروں کو بھی بہکائیں گے اور جو نسل ان کی ہو گی وہ بھی انہیں جیسی بے ایمان بدکار ہوگی “۔
جناب باری نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام دونوں بھائیوں کی یہ دعا قبول فرمائی۔ موسیٰ علیہ السلام دعا کرتے جاتے تھے اور ہارون علیہ السلام آمین کہتے جاتے تھے۔ اسی وقت وحی آئی کہ ”ہماری یہ دعا مقبول ہوگئی“ سے دلیل پکڑی گئی ہے کہ آمین کا کہنا بمنزلہ دعا کرنے کے ہے کیونکہ دعا کرنے والے صرف موسیٰ علیہ السلام تھے آمین کہنے والے ہارون علیہ السلام تھے لیکن اللہ نے دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی۔ پس مقتدی کے آمین کہہ لینے سے گویا فاتحہ کا پڑھ لینے والا ہے۔
” پس اب تم دونوں بھائی میرے حکم پر مضبوطی سے جم جاؤ۔ جو میں کہوں بجا لاؤ “۔ اسی دعا کے بعد فرعون چالیس ماہ زندہ رہا کوئی کہتا ہے چالیس دن۔
صفحہ نمبر3761
فرعون کا تکبر اور موسیٰ علیہ السلام کی بددعا ٭٭
جب فرعون اور فرعونیوں کا تکبر، تحیر، تعصب بڑھتا ہی گیا۔ ظلم و ستم بے رحمی اور جفا کاری انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ کے صابر نبیوں نے ان کے لیے بد دعا کی کہ ”یا اللہ تو نے انہیں دنیا کی زینت و مال خوب خوب دیا اور تو بخوبی جانتا ہے کہ وہ تیرے حکم کے مطابق مال خرچ نہیں کرتے۔ یہ صرف تیری طرف سے انہیں ڈھیل اور مہلت ہے۔“
یہ مطلب تو ہے جب «لِيَضِلُّوْا» پڑھا جائے جو ایک قرأت ہے اور جب «لِیُضِلُّوْا» پڑھیں تو مطلب یہ ہے کہ یہ اس لیے کہ وہ اوروں کو گمراہ کریں جن کی گمراہی تیری چاہت میں ہے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ یہی لوگ اللہ کے محبوب ہیں ورنہ اتنی دولت مندی اور اس قدر عیش و عشرت انہیں کیوں نصیب ہوتا ہے؟ اب ہمای دعا ہے کہ ان کے یہ مال تو غارت اور تباہ کر دے۔ چنانچہ ان کے تمام مال اسی طرح پتھر بن گئے۔ سونا چاندی ہی نہیں بلکہ کھیتیاں تک پتھر کی ہو گئیں۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ اس سورۃ یونس کی تلاوت امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے کر رہے تھے جب اس آیت تک پہنچے تو خلیفۃالمسلمین نے سوال کیا کہ یہ «طْمِسْ» کیا چیز ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”ان کے مال پتھر بنا دیئے گئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا صندوقچہ منگوا کر اس میں سے سفید چنا نکال کر دکھایا جو پتھر بن گیا تھا۔ [الدر المنشور للسیوطی:566/3:ضعیف] ۔
صفحہ نمبر3760
اور دعا کی کہ ”پروردگار ان کے دل سخت کر دے ان پر مہر لگا دے کہ انہیں عذاب دیکھنے تک ایمان لانا نصیب نہ ہو۔“ یہ بد دعا صرف دینی حمیت اور دینی دل سوزی کی وجہ سے تھی یہ غصہ اللہ اور اس کے دین کی خاطر تھا۔ جب دیکھ لیا اور مایوسی کی حد آ گئی۔ نوح علیہ السلام کی دعا ہے کہ «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا» [71-نوح:26،27] ” الٰہی زمین پر کسی کافر کو زندہ نہ چھوڑ ورنہ اوروں کو بھی بہکائیں گے اور جو نسل ان کی ہو گی وہ بھی انہیں جیسی بے ایمان بدکار ہوگی “۔
جناب باری نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام دونوں بھائیوں کی یہ دعا قبول فرمائی۔ موسیٰ علیہ السلام دعا کرتے جاتے تھے اور ہارون علیہ السلام آمین کہتے جاتے تھے۔ اسی وقت وحی آئی کہ ”ہماری یہ دعا مقبول ہوگئی“ سے دلیل پکڑی گئی ہے کہ آمین کا کہنا بمنزلہ دعا کرنے کے ہے کیونکہ دعا کرنے والے صرف موسیٰ علیہ السلام تھے آمین کہنے والے ہارون علیہ السلام تھے لیکن اللہ نے دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی۔ پس مقتدی کے آمین کہہ لینے سے گویا فاتحہ کا پڑھ لینے والا ہے۔
” پس اب تم دونوں بھائی میرے حکم پر مضبوطی سے جم جاؤ۔ جو میں کہوں بجا لاؤ “۔ اسی دعا کے بعد فرعون چالیس ماہ زندہ رہا کوئی کہتا ہے چالیس دن۔
صفحہ نمبر3761
دریائے نیل، فرعون اور قوم بنی اسرائیل ٭٭
فرعون اور اس کے لشکریوں کے غرق ہونے کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ بنی اسرائل جب اپنے نبی کے ساتھ چھ لاکھ کی تعداد میں جو بال بچوں کے علاوہ تھی، مصر سے نکل کھڑے ہوئے اور فرعون کو یہ خبر پہنچی تو اس نے بڑا ہی تاؤ کھایا اور زبردست لشکر جمع کرکے اپنے تمام لوگوں کو لے کر ان کے پیچھے لگا۔ اس نے تمام لاؤ لشکر کو تمام سرداروں، فوجوں، رشتے کنبے کے تمام لوگوں اور کل ارکان سلطنت کو اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ اپنے پورے ملک میں کسی صاحب حیثیت شخص کو باقی نہیں چھوڑا تھا۔
بنی اسرائیل جس راہ گئے تھے اسی راہ یہ بھی بہت تیزی سے جا رہا تھا۔ ٹھیک سورج چڑھے، اس نے انہیں اور انہوں نے اسے دیکھ لیا۔ بنی اسرائیل گھبرا گئے اور موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے «فَلَمَّا تَرَاءَى الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَىٰ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ» [26-الشعراء:61] ” لو اب پکڑ لیے گئے “ کیونکہ سامنے دریا تھا اور پیچھے لشکر فرعون نہ آگے بڑھ سکتے تھے نہ پیچھے ہٹ سکتے تھے۔ آگے بڑھتے تو ڈوب جاتے پیچھے ہٹے تو قتل ہوتے۔
موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تسکین دی اور فرمایا «كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ» [26-الشعراء:62] ” میں اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے تمہیں لے جا رہا ہوں “۔ میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ مجھے کوئی نہ کوئی نجات کی راہ بتلا دے گا، تم بے فکر رہو، وہ سختی کو آسانی سے تنگی کو فراخی سے بدلنے پر قادر ہے۔
اسی وقت وحی ربانی آئی کہ ” اپنی لکڑی دریا پر مار دے “۔ آپ علیہ السلام نے یہی کیا۔ «فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ» [26-الشعراء:63] اس وقت پانی پھٹ گیا، راستے دے دئیے اور پہاڑوں کی طرح پانی کھڑا ہوگیا۔ ان کے بارہ قبیلے تھے بارہ راستے دریا میں بن گئے۔ «فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» [20-طه:77] تیز اور سوکھی ہوائیں چل پڑیں جس نے راستے خشک کر دیئے اب نہ تو فرعونیوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہونے کا کھٹکا رہا نہ پانی میں ڈوب جانے کا۔ ساتھ ہی قدرت نے پانی کی دیواروں میں طاق اور سوراخ بنا دیئے کہ ہر قبیلہ دوسرے قبیلہ کو بھی دیکھ سکے۔ تاکہ دل میں یہ خدشہ بھی نہ رہے کہ کہیں وہ ڈوب نہ گیا ہو۔
صفحہ نمبر3763
بنو اسرائیل ان راستوں سے جانے لگے اور دریا پار اتر گئے۔ انہیں پار ہوتے ہوئے فرعونی دیکھ رہے تھے۔ جب یہ سب کے سب اس کنارے پہنچ گئے اب لشکر فرعون بڑھا اور سب کے سب دریا میں اتر گئے ان کی تعداد کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس ایک لاکھ گھوڑے تو صرف سیاہ رنگ کے تھے جو باقی رنگ کے تھے ان کی تعداد کا خیال کر لیجئے۔ فرعون بڑا کائیاں تھا۔ دل سے موسیٰ علیہ السلام کی صداقت جانتا تھا۔ اسے یہ رنگ دیکھ کر یقین ہو چکا تھا کہ یہ بھی بنی اسرائیل کی غیبی تائید ہوئی ہے وہ چاہتا تھا کہ یہاں سے واپس لوٹ جائے لیکن موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول ہو چکی تھی۔ قدرت کا قلم چل چکا تھا۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام گھوڑے پر سوار آ گئے۔ ان کے جانور کے پیچھے فرعون کا گھوڑا لگ گیا۔ آپ نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ فرعون کا گھوڑا اسے گھسیٹتا ہوا دریا میں اتر گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو آواز لگائی کہ بنی اسرائیل گزر گئے اور تم یہاں ٹھیر گئے۔ چلو ان کے پیچھے اپنے گھوڑے بھی میری طرح دریا میں ڈال دو۔ اسی وقت ساتھیوں نے بھی اپنے گھوڑوں کو مہمیز کیا۔ میکائیل علیہ السلام ان کے پیچھے تھا کیونکہ ان کے جانوروں کو ہنکائیں غرض بغیر ایک کے بھی باقی رہے سب دریا میں اتر گئے۔ جب یہ سب اندر پہنچ گئے اور ان کا سب سے آگے کا حصہ دوسرے کنارے کے قریب پہنچ چکا، اسی وقت جناب باری قادر و قیوم کا دریا کو حکم ہوا اب مل جا اور ان کو ڈبو دے۔
صفحہ نمبر3764
پانی کے پتھر بنے ہوئے پہاڑ فوراً پانی ہو گئے اور اسی وقت یہ سب غوطے کھانے لگے اور فوراً ڈوب گئے ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچا۔ پانی کی موجوں نے انہیں اوپر تلے کر کر کے ان کے جوڑ جوڑ الگ الگ کر دئیے۔ فرعون جب موجوں میں پھنس گیا اور سکرات موت کا اسے مزہ آنے لگا تو کہنے لگا کہ میں لاشریک رب واحد پر ایمان لاتا ہوں۔ جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ ظاہر ہے کہ عذاب کے دیکھ چکنے کے بعد عذاب کے آجانے کے بعد ایمان سود مند نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو فرما چکا ہے اور یہ قاعدہ جاری کر چکا ہے۔
اسی لیے فرعون کو جواب ملا کہ «فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» [40-غافر:84-85] ” اس وقت یہ کہتا ہے حالانکہ اب تک شر وفساد پر تلا رہا۔ پوری عمر اللہ کی نافرمانیاں کرتا رہا، ملک میں فساد مچاتا رہا، خود گمراہ ہو کر اوروں کو بھی راہ حق سے روکتا رہا، لوگوں کو جہنم کی طرف بلانے کا امام تھا، قیامت کے دن بے یارومددگار رہے گا “۔
فرعون کا اس وقت کا قول اللہ تعالیٰ علام الغیوب نے اپنے علم غیب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس واقعے کی خبر دیتے وقت جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا کہ کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہوتے اور دیکھتے کہ میں اس کے منہ میں کیچڑ ٹھونس رہا تھا اس خیال سے کہ کہیں اس کی بات پوری ہونے پر اللہ کی رحمت اس کی دست گیری نہ کرلے ۔ [سنن ترمذي:3107، قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ] ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ڈوبتے وقت فرعون نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر اپنے ایمان کا اقرار کرنا شروع کیا جس پر جبرائیل علیہ السلام نے اس کے منہ میں مٹی بھرنی شروع کی۔ اس فرعون کثیر بن زاذان ملعون کا منہ جبرائیل علیہ السلام اس وقت بند کر رہے تھے اور اس کے منہ کیچڑ ٹھونس رہے تھے۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر3765
کہتے ہیں کہ بعض بنی اسرائیل کو فرعون کی موت میں شک پیدا ہوگیا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ اس کی لاش بلند ٹیلے پر خشکی میں ڈال دے تاکہ یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور ان کا معائنہ کرلیں۔ چنانچہ اس کا جسم معہ اس کے لباس کے خشکی پر ڈال دیا گیا تاکہ بنی اسرائیل کو معلوم ہو جائے اور ان کے لیے نشانی اور عبرت بن جائے اور وہ جان لیں کہ غضب الٰہی کو کوئی چیز دفع نہیں کر سکتی۔ باوجود ان کھلے واقعات کے بھی اکثر لوگ ہماری آیتوں سے غفلت برتتے ہیں۔ کچھ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ ان فرعونیوں کا غرق ہونا اور موسیٰ علیہ السلام کا مع مسلمانوں کے نجات پانا عاشورے کے دن ہوا تھا۔
چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے تو یہودیوں کو اس دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا۔ وہ کہتے تھے کہ اسی دن موسیٰ علیہ السلام فرعون پر غالب آئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم تو موسیٰ علیہ السلام کے بہ نسبت ان کے زیادہ حقدار ہو تم بھی اس عاشورے کے دن کا روزہ رکھو ۔ [صحیح بخاری:1130]
صفحہ نمبر3766