Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Hud
Tafsir Ibn Kathir · Hud · 123 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
میرا پیغام اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت ہے ٭٭
آپ علیہ السلام فرماتے ہیں ”میں صرف رسول اللہ ہوں، اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت اور توحید کی طرف اس کے فرمان کے مطابق تم سب کو بلاتا ہوں۔ اس سے میری مراد تم سے مال سمیٹنا نہیں۔ ہر بڑے چھوٹے کے لیے میری دعوت عام ہے جو قبول کرے گا نجات پائے گا۔ اللہ کے خزانوں کے ہیر پھیر کی مجھ میں قدرت نہیں۔ میں غیب نہیں جانتا ہاں جو بات اللہ مجھے معلوم کرا دے معلوم ہو جاتی ہے۔ میں فرشتہ ہونے کا دعویدار نہیں ہوں۔ بلکہ ایک انسان ہوں جس کی تائید اللہ کی طرف سے معجزوں سے ہو رہی ہے۔ جنہیں تم رذیل اور ذلیل سمجھ رہے ہو۔ میں تو اس کا قائل نہیں کہ انہیں اللہ کے ہاں ان کی نیکیوں کا بدلہ نہیں ملے گا۔ ان کے باطن کا حال بھی مجھے معلوم نہیں اللہ ہی کو اس کا علم ہے۔ اگر ظاہر کی طرح باطن میں بھی ایماندار ہیں تو انہیں اللہ کے ہاں ضرور نیکیاں ملیں گی جو ان کے انجام کی برائی کو کہے اس نے ظلم کیا اور جہالت کی بات کہی۔“
صفحہ نمبر3833
قوم نوح کی عجلت پسندی کی حماقت ٭٭
قوم نوح کی عجلت بیان ہو رہی ہے کہ ” عذاب مانگ بیٹھے۔ کہنے لگے بس حجتیں تو ہم نے بہت سی سن لیں۔ آخری فیصلہ ہمارا یہ ہے کہ ہم تو تیری تابعداری نہیں کرنے کے اب اگر تو سچا ہے تو دعا کر کے ہم پر عذاب لے آؤ “۔
آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”یہ بھی میرے بس کی بات نہیں اللہ کے ہاتھ ہے۔ اسے کوئی عاجز کرنے والا نہیں اگر اللہ کا ارادہ ہی تمہاری گمراہی اور بربادی کا ہے تو پھر واقعی میری نصیحت بے سود ہے۔ سب کا مالک اللہ ہی ہے تمام کاموں کی تکمیل اسی کے ہاتھ ہے۔ متصرف، حاکم، عادل، غیر ظالم، فیصلوں کے امر کا مالک، ابتداء پیدا کرنے والا، پھر لوٹانے والا، دنیا و آخرت کا تنہا مالک وہی ہے۔ ساری مخلوق کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔“
صفحہ نمبر3834
قوم نوح کی عجلت پسندی کی حماقت ٭٭
قوم نوح کی عجلت بیان ہو رہی ہے کہ ” عذاب مانگ بیٹھے۔ کہنے لگے بس حجتیں تو ہم نے بہت سی سن لیں۔ آخری فیصلہ ہمارا یہ ہے کہ ہم تو تیری تابعداری نہیں کرنے کے اب اگر تو سچا ہے تو دعا کر کے ہم پر عذاب لے آؤ “۔
آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”یہ بھی میرے بس کی بات نہیں اللہ کے ہاتھ ہے۔ اسے کوئی عاجز کرنے والا نہیں اگر اللہ کا ارادہ ہی تمہاری گمراہی اور بربادی کا ہے تو پھر واقعی میری نصیحت بے سود ہے۔ سب کا مالک اللہ ہی ہے تمام کاموں کی تکمیل اسی کے ہاتھ ہے۔ متصرف، حاکم، عادل، غیر ظالم، فیصلوں کے امر کا مالک، ابتداء پیدا کرنے والا، پھر لوٹانے والا، دنیا و آخرت کا تنہا مالک وہی ہے۔ ساری مخلوق کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔“
صفحہ نمبر3834
قوم نوح کی عجلت پسندی کی حماقت ٭٭
قوم نوح کی عجلت بیان ہو رہی ہے کہ ” عذاب مانگ بیٹھے۔ کہنے لگے بس حجتیں تو ہم نے بہت سی سن لیں۔ آخری فیصلہ ہمارا یہ ہے کہ ہم تو تیری تابعداری نہیں کرنے کے اب اگر تو سچا ہے تو دعا کر کے ہم پر عذاب لے آؤ “۔
آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”یہ بھی میرے بس کی بات نہیں اللہ کے ہاتھ ہے۔ اسے کوئی عاجز کرنے والا نہیں اگر اللہ کا ارادہ ہی تمہاری گمراہی اور بربادی کا ہے تو پھر واقعی میری نصیحت بے سود ہے۔ سب کا مالک اللہ ہی ہے تمام کاموں کی تکمیل اسی کے ہاتھ ہے۔ متصرف، حاکم، عادل، غیر ظالم، فیصلوں کے امر کا مالک، ابتداء پیدا کرنے والا، پھر لوٹانے والا، دنیا و آخرت کا تنہا مالک وہی ہے۔ ساری مخلوق کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔“
صفحہ نمبر3834
کفار کا الزام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جواب ٭٭
یہ درمیانی کلام اس قصے کے بیچ میں اس کی تائید اور تقریر کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ” یہ کفار تجھ پر اس قرآن کے از خود گھڑ لینے کا الزام لگا رہے ہیں تو جواب دے کہ اگر ایسا ہے تو میرا گناہ مجھ پر ہے میں جانتا ہوں کہ اللہ کے عذاب کیسے کچھ ہیں؟ پھر کیسے ممکن ہے کہ میں اللہ پر جھوٹ افتراء گھڑ لوں؟ ہاں اپنے گناہوں کے ذمے دار تم آپ ہو “۔
صفحہ نمبر3837
قوم نوح کا مانگا ہوا عذاب اسے ملا ٭٭
قوم نوح نے جب عذابوں کی مانگ جلدی مچائی تو آپ نے اللہ سے دعا کی «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» [71-نوح:26] ” الٰہی زمین پر کسی کافر کو رہتا بستا نہ چھوڑ “۔ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ» [54-القمر:10] ” پرودرگار میں عاجز آ گیا ہوں، تو میری مدد کر “۔
اسی وقت وحی آئی کہ ” جو ایمان لا چکے ہیں ان کے سوا اور کوئی اب ایمان نہ لائے گا تو ان پر افسوس نہ کر نہ ان کا کوئی ایسا خاص خیال کر۔ ہمارے دیکھتے ہی ہماری تعلیم کے مطابق ایک کشتی تیار کر اور اب ظالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات چیت نہ کر، ہم ان کا ڈبو دینا مقرر کر چکے ہیں “۔
بعض سلف کہتے ہیں حکم ہوا کہ لکڑیاں کاٹ کر سکھا کر تختے بنا لو۔ اس میں ایک سو سال گزر گئے پھر مکمل تیاری میں سو سال اور نکل گئے ایک قول ہے چالیس سال لگے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
امام محمد بن اسحٰق رحمہ اللہ توراۃ سے نقل کرتے ہیں کہ ساگ کی لکڑی کی یہ کشتی تیار ہوئی اس کا طول اسی (۸۰) ہاتھ تھا اور عرض پچاس (۵۰) ہاتھ کا تھا۔ اندر باہر سے روغن کیا گیا تھا پانی کاٹنے کے پر پرزے بھی تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ لمبائی تین سو ہاتھ کی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”طول بارہ سو ہاتھ کا تھا اور چوڑائی چھ سو ہاتھ کی تھی۔“ کہا گیا ہے کہ طول دوہزار ہاتھ اور چوڑائی ایک سو ہاتھ کی تھی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس کی اندرونی اونچائی تیس ہاتھ کی تھی اس میں تین درجے تھے ہر درجہ دس ہاتھ اونچا تھا۔ سب سے نیچے کے حصے میں چوپائے اور جنگلی جانور تھے۔ درمیان کے حصے میں انسان تھے اور اوپر کے حصے میں پرندے تھے۔ ان میں چھوٹا دروازہ تھا، اوپر سے بالکل بند تھی۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے ایک غریب اثر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا ہے کہ ”حواریوں نے عیسیٰ بن مریم سے درخواست کی کہ اگر آپ بحکم الٰہی کسی ایسے مردہ کو جلاتے جس نے کشتی نوح علیہ السلام دیکھی ہو تو ہمیں اسے معلومات ہوتیں آپ علیہ السلام انہیں لے کر ایک ٹیلے پر پہنچ کر وہاں کی مٹی اٹھائی اور فرمایا ”جانتے ہو یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا کہ ”اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام کو ہی علم ہے۔“
صفحہ نمبر3838
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ پنڈلی ہے حام بن نوح علیہ السلام کی“، پھر آپ علیہ السلام نے ایک لکڑی اس ٹیلے پر مار کر فرمایا ”اللہ کے حکم سے اٹھ کھڑا ہو۔“ اسی وقت ایک بوڑھا سا آدمی اپنے سر سے مٹی جھاڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
آپ علیہ السلام نے اس سے پوچھا ”کیا تو بڑھاپے میں مرا تھا؟“ اس نے کہا نہیں مرا تو تھا جوانی میں لیکن اب دل پر دہشت بیٹھی کہ قیامت قائم ہوگئی اس دہشت نے بوڑھا کر دیا۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”اچھا نوح علیہ السلام کی کشتی کی بابت اپنی معلومات بیان کرو۔ اس نے کہا وہ بارہ سو ہاتھ لمبی اور چھ سو ہاتھ چوڑی تھی تین درجوں کی تھی۔ ایک میں جانور اور چوپائے تھے، دوسرے میں انسان، تیسرے میں پرند، جب جانوروں کا گوبر پھیل گیا تو اللہ تعالیٰ نے نوح کی طرف وحی بھیجی کہ ہاتھی کی دم ہلاؤ۔ آپ کے ہلاتے ہی اس سے خنزیر نر مادہ نکل آئے اور وہ میل کھانے لگے۔ چوہوں نے جب اس کے تختے کترنے شروع کئے تو حکم ہوا کہ شیر کی پیشانی پر انگلی لگا۔ اس سے بلی کا جوڑا نکلا اور چوہوں کی طرف لپکا۔
عیسیٰ علیہ السلام نے سوال کیا کہ ”نوح علیہ السلام کو شہروں کے غرقاب ہونے کا علم کیسے ہوگیا؟“
صفحہ نمبر3839
آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”انہوں نے کوے کو خبر لینے کے لیے بھیجا لیکن وہ ایک لاش پر بیٹھ گیا، دیر تک وہ واپس نہ آیا تو آپ علیہ السلام نے اس کے لیے ہمیشہ ڈرتے رہنے کی بد دعا کی۔ اسی لیے وہ گھروں سے مانوس نہیں ہوتا۔ پھر آپ علیہ السلام نے کبوتر کو بھیجا وہ اپنی چونچ میں زیتون کے درخت کا پتہ لے کر آیا اور اپنے پنجوں میں خشک مٹی لایا اس سے معلوم ہو گیا کہ شہر ڈوب چکے ہیں۔
آپ علیہ السلام نے اس کی گردن میں خصرہ کا طوق ڈال دیا اور اس کے لیے امن و انس کی دعا کی پس وہ گھروں میں رہتا سہتا ہے۔ حواریوں نے کہا ”اے رسول علیہ السلام! واللہ! آپ انہیں ہمارے ہاں لے چلئے کہ ہم میں بیٹھ کر اور بھی باتیں ہمیں سنائیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ تمہارے ساتھ کیسے آسکتا ہے جب کہ اس کی روزی نہیں۔“
پھر فرمایا ”اللہ کے حکم سے جیسا تھا ویسا ہی ہو جا“، وہ اسی وقت مٹی ہو گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:18151:ضعیف]
نوح علیہ السلام تو کشتی بنانے میں لگے اور کافروں کو ایک مذاق ہاتھ لگ گیا وہ چلتے پھرتے انہیں چھیڑتے اور باتیں بناتے اور طعنہ دیتے کیونکہ انہیں جھوٹا جانتے تھے اور عذاب کے وعدے پر انہیں یقین نہ تھا۔ اس کے جواب میں نوح علیہ السلام فرماتے ”اچھا دل خوش کر لو وقت آ رہا ہے کہ اس کا پورا بدلہ لے لیا جائے۔ ابھی جان لو گے کہ کون اللہ کے عذاب سے دنیا میں رسوا ہوتا ہے اور کس پر اخروی عذاب آچمٹتا ہے جو کبھی ٹالے نہ ٹلے۔“
صفحہ نمبر3840
قوم نوح کا مانگا ہوا عذاب اسے ملا ٭٭
قوم نوح نے جب عذابوں کی مانگ جلدی مچائی تو آپ نے اللہ سے دعا کی «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» [71-نوح:26] ” الٰہی زمین پر کسی کافر کو رہتا بستا نہ چھوڑ “۔ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ» [54-القمر:10] ” پرودرگار میں عاجز آ گیا ہوں، تو میری مدد کر “۔
اسی وقت وحی آئی کہ ” جو ایمان لا چکے ہیں ان کے سوا اور کوئی اب ایمان نہ لائے گا تو ان پر افسوس نہ کر نہ ان کا کوئی ایسا خاص خیال کر۔ ہمارے دیکھتے ہی ہماری تعلیم کے مطابق ایک کشتی تیار کر اور اب ظالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات چیت نہ کر، ہم ان کا ڈبو دینا مقرر کر چکے ہیں “۔
بعض سلف کہتے ہیں حکم ہوا کہ لکڑیاں کاٹ کر سکھا کر تختے بنا لو۔ اس میں ایک سو سال گزر گئے پھر مکمل تیاری میں سو سال اور نکل گئے ایک قول ہے چالیس سال لگے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
امام محمد بن اسحٰق رحمہ اللہ توراۃ سے نقل کرتے ہیں کہ ساگ کی لکڑی کی یہ کشتی تیار ہوئی اس کا طول اسی (۸۰) ہاتھ تھا اور عرض پچاس (۵۰) ہاتھ کا تھا۔ اندر باہر سے روغن کیا گیا تھا پانی کاٹنے کے پر پرزے بھی تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ لمبائی تین سو ہاتھ کی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”طول بارہ سو ہاتھ کا تھا اور چوڑائی چھ سو ہاتھ کی تھی۔“ کہا گیا ہے کہ طول دوہزار ہاتھ اور چوڑائی ایک سو ہاتھ کی تھی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس کی اندرونی اونچائی تیس ہاتھ کی تھی اس میں تین درجے تھے ہر درجہ دس ہاتھ اونچا تھا۔ سب سے نیچے کے حصے میں چوپائے اور جنگلی جانور تھے۔ درمیان کے حصے میں انسان تھے اور اوپر کے حصے میں پرندے تھے۔ ان میں چھوٹا دروازہ تھا، اوپر سے بالکل بند تھی۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے ایک غریب اثر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا ہے کہ ”حواریوں نے عیسیٰ بن مریم سے درخواست کی کہ اگر آپ بحکم الٰہی کسی ایسے مردہ کو جلاتے جس نے کشتی نوح علیہ السلام دیکھی ہو تو ہمیں اسے معلومات ہوتیں آپ علیہ السلام انہیں لے کر ایک ٹیلے پر پہنچ کر وہاں کی مٹی اٹھائی اور فرمایا ”جانتے ہو یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا کہ ”اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام کو ہی علم ہے۔“
صفحہ نمبر3838
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ پنڈلی ہے حام بن نوح علیہ السلام کی“، پھر آپ علیہ السلام نے ایک لکڑی اس ٹیلے پر مار کر فرمایا ”اللہ کے حکم سے اٹھ کھڑا ہو۔“ اسی وقت ایک بوڑھا سا آدمی اپنے سر سے مٹی جھاڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
آپ علیہ السلام نے اس سے پوچھا ”کیا تو بڑھاپے میں مرا تھا؟“ اس نے کہا نہیں مرا تو تھا جوانی میں لیکن اب دل پر دہشت بیٹھی کہ قیامت قائم ہوگئی اس دہشت نے بوڑھا کر دیا۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”اچھا نوح علیہ السلام کی کشتی کی بابت اپنی معلومات بیان کرو۔ اس نے کہا وہ بارہ سو ہاتھ لمبی اور چھ سو ہاتھ چوڑی تھی تین درجوں کی تھی۔ ایک میں جانور اور چوپائے تھے، دوسرے میں انسان، تیسرے میں پرند، جب جانوروں کا گوبر پھیل گیا تو اللہ تعالیٰ نے نوح کی طرف وحی بھیجی کہ ہاتھی کی دم ہلاؤ۔ آپ کے ہلاتے ہی اس سے خنزیر نر مادہ نکل آئے اور وہ میل کھانے لگے۔ چوہوں نے جب اس کے تختے کترنے شروع کئے تو حکم ہوا کہ شیر کی پیشانی پر انگلی لگا۔ اس سے بلی کا جوڑا نکلا اور چوہوں کی طرف لپکا۔
عیسیٰ علیہ السلام نے سوال کیا کہ ”نوح علیہ السلام کو شہروں کے غرقاب ہونے کا علم کیسے ہوگیا؟“
صفحہ نمبر3839
آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”انہوں نے کوے کو خبر لینے کے لیے بھیجا لیکن وہ ایک لاش پر بیٹھ گیا، دیر تک وہ واپس نہ آیا تو آپ علیہ السلام نے اس کے لیے ہمیشہ ڈرتے رہنے کی بد دعا کی۔ اسی لیے وہ گھروں سے مانوس نہیں ہوتا۔ پھر آپ علیہ السلام نے کبوتر کو بھیجا وہ اپنی چونچ میں زیتون کے درخت کا پتہ لے کر آیا اور اپنے پنجوں میں خشک مٹی لایا اس سے معلوم ہو گیا کہ شہر ڈوب چکے ہیں۔
آپ علیہ السلام نے اس کی گردن میں خصرہ کا طوق ڈال دیا اور اس کے لیے امن و انس کی دعا کی پس وہ گھروں میں رہتا سہتا ہے۔ حواریوں نے کہا ”اے رسول علیہ السلام! واللہ! آپ انہیں ہمارے ہاں لے چلئے کہ ہم میں بیٹھ کر اور بھی باتیں ہمیں سنائیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ تمہارے ساتھ کیسے آسکتا ہے جب کہ اس کی روزی نہیں۔“
پھر فرمایا ”اللہ کے حکم سے جیسا تھا ویسا ہی ہو جا“، وہ اسی وقت مٹی ہو گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:18151:ضعیف]
نوح علیہ السلام تو کشتی بنانے میں لگے اور کافروں کو ایک مذاق ہاتھ لگ گیا وہ چلتے پھرتے انہیں چھیڑتے اور باتیں بناتے اور طعنہ دیتے کیونکہ انہیں جھوٹا جانتے تھے اور عذاب کے وعدے پر انہیں یقین نہ تھا۔ اس کے جواب میں نوح علیہ السلام فرماتے ”اچھا دل خوش کر لو وقت آ رہا ہے کہ اس کا پورا بدلہ لے لیا جائے۔ ابھی جان لو گے کہ کون اللہ کے عذاب سے دنیا میں رسوا ہوتا ہے اور کس پر اخروی عذاب آچمٹتا ہے جو کبھی ٹالے نہ ٹلے۔“
صفحہ نمبر3840
قوم نوح کا مانگا ہوا عذاب اسے ملا ٭٭
قوم نوح نے جب عذابوں کی مانگ جلدی مچائی تو آپ نے اللہ سے دعا کی «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» [71-نوح:26] ” الٰہی زمین پر کسی کافر کو رہتا بستا نہ چھوڑ “۔ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ» [54-القمر:10] ” پرودرگار میں عاجز آ گیا ہوں، تو میری مدد کر “۔
اسی وقت وحی آئی کہ ” جو ایمان لا چکے ہیں ان کے سوا اور کوئی اب ایمان نہ لائے گا تو ان پر افسوس نہ کر نہ ان کا کوئی ایسا خاص خیال کر۔ ہمارے دیکھتے ہی ہماری تعلیم کے مطابق ایک کشتی تیار کر اور اب ظالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات چیت نہ کر، ہم ان کا ڈبو دینا مقرر کر چکے ہیں “۔
بعض سلف کہتے ہیں حکم ہوا کہ لکڑیاں کاٹ کر سکھا کر تختے بنا لو۔ اس میں ایک سو سال گزر گئے پھر مکمل تیاری میں سو سال اور نکل گئے ایک قول ہے چالیس سال لگے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
امام محمد بن اسحٰق رحمہ اللہ توراۃ سے نقل کرتے ہیں کہ ساگ کی لکڑی کی یہ کشتی تیار ہوئی اس کا طول اسی (۸۰) ہاتھ تھا اور عرض پچاس (۵۰) ہاتھ کا تھا۔ اندر باہر سے روغن کیا گیا تھا پانی کاٹنے کے پر پرزے بھی تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ لمبائی تین سو ہاتھ کی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”طول بارہ سو ہاتھ کا تھا اور چوڑائی چھ سو ہاتھ کی تھی۔“ کہا گیا ہے کہ طول دوہزار ہاتھ اور چوڑائی ایک سو ہاتھ کی تھی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس کی اندرونی اونچائی تیس ہاتھ کی تھی اس میں تین درجے تھے ہر درجہ دس ہاتھ اونچا تھا۔ سب سے نیچے کے حصے میں چوپائے اور جنگلی جانور تھے۔ درمیان کے حصے میں انسان تھے اور اوپر کے حصے میں پرندے تھے۔ ان میں چھوٹا دروازہ تھا، اوپر سے بالکل بند تھی۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے ایک غریب اثر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا ہے کہ ”حواریوں نے عیسیٰ بن مریم سے درخواست کی کہ اگر آپ بحکم الٰہی کسی ایسے مردہ کو جلاتے جس نے کشتی نوح علیہ السلام دیکھی ہو تو ہمیں اسے معلومات ہوتیں آپ علیہ السلام انہیں لے کر ایک ٹیلے پر پہنچ کر وہاں کی مٹی اٹھائی اور فرمایا ”جانتے ہو یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا کہ ”اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام کو ہی علم ہے۔“
صفحہ نمبر3838
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ پنڈلی ہے حام بن نوح علیہ السلام کی“، پھر آپ علیہ السلام نے ایک لکڑی اس ٹیلے پر مار کر فرمایا ”اللہ کے حکم سے اٹھ کھڑا ہو۔“ اسی وقت ایک بوڑھا سا آدمی اپنے سر سے مٹی جھاڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
آپ علیہ السلام نے اس سے پوچھا ”کیا تو بڑھاپے میں مرا تھا؟“ اس نے کہا نہیں مرا تو تھا جوانی میں لیکن اب دل پر دہشت بیٹھی کہ قیامت قائم ہوگئی اس دہشت نے بوڑھا کر دیا۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”اچھا نوح علیہ السلام کی کشتی کی بابت اپنی معلومات بیان کرو۔ اس نے کہا وہ بارہ سو ہاتھ لمبی اور چھ سو ہاتھ چوڑی تھی تین درجوں کی تھی۔ ایک میں جانور اور چوپائے تھے، دوسرے میں انسان، تیسرے میں پرند، جب جانوروں کا گوبر پھیل گیا تو اللہ تعالیٰ نے نوح کی طرف وحی بھیجی کہ ہاتھی کی دم ہلاؤ۔ آپ کے ہلاتے ہی اس سے خنزیر نر مادہ نکل آئے اور وہ میل کھانے لگے۔ چوہوں نے جب اس کے تختے کترنے شروع کئے تو حکم ہوا کہ شیر کی پیشانی پر انگلی لگا۔ اس سے بلی کا جوڑا نکلا اور چوہوں کی طرف لپکا۔
عیسیٰ علیہ السلام نے سوال کیا کہ ”نوح علیہ السلام کو شہروں کے غرقاب ہونے کا علم کیسے ہوگیا؟“
صفحہ نمبر3839
آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”انہوں نے کوے کو خبر لینے کے لیے بھیجا لیکن وہ ایک لاش پر بیٹھ گیا، دیر تک وہ واپس نہ آیا تو آپ علیہ السلام نے اس کے لیے ہمیشہ ڈرتے رہنے کی بد دعا کی۔ اسی لیے وہ گھروں سے مانوس نہیں ہوتا۔ پھر آپ علیہ السلام نے کبوتر کو بھیجا وہ اپنی چونچ میں زیتون کے درخت کا پتہ لے کر آیا اور اپنے پنجوں میں خشک مٹی لایا اس سے معلوم ہو گیا کہ شہر ڈوب چکے ہیں۔
آپ علیہ السلام نے اس کی گردن میں خصرہ کا طوق ڈال دیا اور اس کے لیے امن و انس کی دعا کی پس وہ گھروں میں رہتا سہتا ہے۔ حواریوں نے کہا ”اے رسول علیہ السلام! واللہ! آپ انہیں ہمارے ہاں لے چلئے کہ ہم میں بیٹھ کر اور بھی باتیں ہمیں سنائیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ تمہارے ساتھ کیسے آسکتا ہے جب کہ اس کی روزی نہیں۔“
پھر فرمایا ”اللہ کے حکم سے جیسا تھا ویسا ہی ہو جا“، وہ اسی وقت مٹی ہو گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:18151:ضعیف]
نوح علیہ السلام تو کشتی بنانے میں لگے اور کافروں کو ایک مذاق ہاتھ لگ گیا وہ چلتے پھرتے انہیں چھیڑتے اور باتیں بناتے اور طعنہ دیتے کیونکہ انہیں جھوٹا جانتے تھے اور عذاب کے وعدے پر انہیں یقین نہ تھا۔ اس کے جواب میں نوح علیہ السلام فرماتے ”اچھا دل خوش کر لو وقت آ رہا ہے کہ اس کا پورا بدلہ لے لیا جائے۔ ابھی جان لو گے کہ کون اللہ کے عذاب سے دنیا میں رسوا ہوتا ہے اور کس پر اخروی عذاب آچمٹتا ہے جو کبھی ٹالے نہ ٹلے۔“
صفحہ نمبر3840
قوم نوح کا مانگا ہوا عذاب اسے ملا ٭٭
قوم نوح نے جب عذابوں کی مانگ جلدی مچائی تو آپ نے اللہ سے دعا کی «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» [71-نوح:26] ” الٰہی زمین پر کسی کافر کو رہتا بستا نہ چھوڑ “۔ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ» [54-القمر:10] ” پرودرگار میں عاجز آ گیا ہوں، تو میری مدد کر “۔
اسی وقت وحی آئی کہ ” جو ایمان لا چکے ہیں ان کے سوا اور کوئی اب ایمان نہ لائے گا تو ان پر افسوس نہ کر نہ ان کا کوئی ایسا خاص خیال کر۔ ہمارے دیکھتے ہی ہماری تعلیم کے مطابق ایک کشتی تیار کر اور اب ظالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات چیت نہ کر، ہم ان کا ڈبو دینا مقرر کر چکے ہیں “۔
بعض سلف کہتے ہیں حکم ہوا کہ لکڑیاں کاٹ کر سکھا کر تختے بنا لو۔ اس میں ایک سو سال گزر گئے پھر مکمل تیاری میں سو سال اور نکل گئے ایک قول ہے چالیس سال لگے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
امام محمد بن اسحٰق رحمہ اللہ توراۃ سے نقل کرتے ہیں کہ ساگ کی لکڑی کی یہ کشتی تیار ہوئی اس کا طول اسی (۸۰) ہاتھ تھا اور عرض پچاس (۵۰) ہاتھ کا تھا۔ اندر باہر سے روغن کیا گیا تھا پانی کاٹنے کے پر پرزے بھی تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ لمبائی تین سو ہاتھ کی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”طول بارہ سو ہاتھ کا تھا اور چوڑائی چھ سو ہاتھ کی تھی۔“ کہا گیا ہے کہ طول دوہزار ہاتھ اور چوڑائی ایک سو ہاتھ کی تھی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس کی اندرونی اونچائی تیس ہاتھ کی تھی اس میں تین درجے تھے ہر درجہ دس ہاتھ اونچا تھا۔ سب سے نیچے کے حصے میں چوپائے اور جنگلی جانور تھے۔ درمیان کے حصے میں انسان تھے اور اوپر کے حصے میں پرندے تھے۔ ان میں چھوٹا دروازہ تھا، اوپر سے بالکل بند تھی۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے ایک غریب اثر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا ہے کہ ”حواریوں نے عیسیٰ بن مریم سے درخواست کی کہ اگر آپ بحکم الٰہی کسی ایسے مردہ کو جلاتے جس نے کشتی نوح علیہ السلام دیکھی ہو تو ہمیں اسے معلومات ہوتیں آپ علیہ السلام انہیں لے کر ایک ٹیلے پر پہنچ کر وہاں کی مٹی اٹھائی اور فرمایا ”جانتے ہو یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا کہ ”اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام کو ہی علم ہے۔“
صفحہ نمبر3838
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ پنڈلی ہے حام بن نوح علیہ السلام کی“، پھر آپ علیہ السلام نے ایک لکڑی اس ٹیلے پر مار کر فرمایا ”اللہ کے حکم سے اٹھ کھڑا ہو۔“ اسی وقت ایک بوڑھا سا آدمی اپنے سر سے مٹی جھاڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
آپ علیہ السلام نے اس سے پوچھا ”کیا تو بڑھاپے میں مرا تھا؟“ اس نے کہا نہیں مرا تو تھا جوانی میں لیکن اب دل پر دہشت بیٹھی کہ قیامت قائم ہوگئی اس دہشت نے بوڑھا کر دیا۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”اچھا نوح علیہ السلام کی کشتی کی بابت اپنی معلومات بیان کرو۔ اس نے کہا وہ بارہ سو ہاتھ لمبی اور چھ سو ہاتھ چوڑی تھی تین درجوں کی تھی۔ ایک میں جانور اور چوپائے تھے، دوسرے میں انسان، تیسرے میں پرند، جب جانوروں کا گوبر پھیل گیا تو اللہ تعالیٰ نے نوح کی طرف وحی بھیجی کہ ہاتھی کی دم ہلاؤ۔ آپ کے ہلاتے ہی اس سے خنزیر نر مادہ نکل آئے اور وہ میل کھانے لگے۔ چوہوں نے جب اس کے تختے کترنے شروع کئے تو حکم ہوا کہ شیر کی پیشانی پر انگلی لگا۔ اس سے بلی کا جوڑا نکلا اور چوہوں کی طرف لپکا۔
عیسیٰ علیہ السلام نے سوال کیا کہ ”نوح علیہ السلام کو شہروں کے غرقاب ہونے کا علم کیسے ہوگیا؟“
صفحہ نمبر3839
آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”انہوں نے کوے کو خبر لینے کے لیے بھیجا لیکن وہ ایک لاش پر بیٹھ گیا، دیر تک وہ واپس نہ آیا تو آپ علیہ السلام نے اس کے لیے ہمیشہ ڈرتے رہنے کی بد دعا کی۔ اسی لیے وہ گھروں سے مانوس نہیں ہوتا۔ پھر آپ علیہ السلام نے کبوتر کو بھیجا وہ اپنی چونچ میں زیتون کے درخت کا پتہ لے کر آیا اور اپنے پنجوں میں خشک مٹی لایا اس سے معلوم ہو گیا کہ شہر ڈوب چکے ہیں۔
آپ علیہ السلام نے اس کی گردن میں خصرہ کا طوق ڈال دیا اور اس کے لیے امن و انس کی دعا کی پس وہ گھروں میں رہتا سہتا ہے۔ حواریوں نے کہا ”اے رسول علیہ السلام! واللہ! آپ انہیں ہمارے ہاں لے چلئے کہ ہم میں بیٹھ کر اور بھی باتیں ہمیں سنائیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ تمہارے ساتھ کیسے آسکتا ہے جب کہ اس کی روزی نہیں۔“
پھر فرمایا ”اللہ کے حکم سے جیسا تھا ویسا ہی ہو جا“، وہ اسی وقت مٹی ہو گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:18151:ضعیف]
نوح علیہ السلام تو کشتی بنانے میں لگے اور کافروں کو ایک مذاق ہاتھ لگ گیا وہ چلتے پھرتے انہیں چھیڑتے اور باتیں بناتے اور طعنہ دیتے کیونکہ انہیں جھوٹا جانتے تھے اور عذاب کے وعدے پر انہیں یقین نہ تھا۔ اس کے جواب میں نوح علیہ السلام فرماتے ”اچھا دل خوش کر لو وقت آ رہا ہے کہ اس کا پورا بدلہ لے لیا جائے۔ ابھی جان لو گے کہ کون اللہ کے عذاب سے دنیا میں رسوا ہوتا ہے اور کس پر اخروی عذاب آچمٹتا ہے جو کبھی ٹالے نہ ٹلے۔“
صفحہ نمبر3840
قوم نوح پر عذاب الٰہی کا نزول ٭٭
حسب فرمان ربی «فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَىٰ أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ» [54-القمر:14-11] ” آسمان سے موسلا دھار لگاتار بارش برسنے لگی اور زمین سے بھی پانی ابلنے لگا اور ساری زمین پانی سے بھر گئی اور جہاں تک منظور رب تھا پانی بھر گیا اور نوح علیہ السلام کو رب العالمین نے اپنی نگاہوں کے سامنے چلنے والی کشتی پر سوار کر دیا۔ اور کافروں کو ان کے کیفر کردار کو پہنچا دیا “۔
تنور کے ابلنے سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب ہے کہ ”روئے زمین سے چشمے پھوٹ پڑے یہاں تک کہ آگ کی جگہ تنور میں سے بھی پانی ابل پڑا۔“ یہی قول جمہور سلف و خلف ہے کا ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”تنور صبح کا نکلنا اور فجر کا روشن ہونا ہے“، یعنی صبح کی روشنی اور فجر کی چمک لیکن زیادہ غالب پہلا قول ہے۔
مجاہد اور شعبی رحمہ اللہ علیہما کہتے ہیں یہ تنور کوفے میں تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”ہند میں ایک نہر ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جزیرہ میں ایک نہر ہے جسے «عین الوردہ» کہتے ہیں۔“ لیکن یہ سب اقوال غریب ہیں۔
الغرض ان علامتوں کے ظاہر ہوتے ہی نوح علیہ السلام کو اللہ کا حکم ہوا کہ اپنے ساتھ کشتی میں جاندار مخلوق میں سے ہر قسم کا ایک ایک جوڑا نر مادہ سوار کر لو۔ کہا گیا ہے کہ غیر جاندار کے لیے بھی یہی حکم تھا۔ جیسا نباتات۔ کہا گیا ہے کہ پرندوں میں سب سے پہلے درہ کشتی میں آیا اور سب سے آخر میں گدھا سوار ہونے لگا۔ ابلیس اس کی دم میں لٹک گیا جب اس کے دو اگلے پاؤں کشتی میں آ گئے اس کا اپنا دھڑ اٹھانا چاہا تو نہ اٹھا سکا کیونکہ دم پر اس ملعون کا بوجھ تھا۔ نوح علیہ السلام جلدی کر رہے تھے یہ بہتیرا چاہتا تھا مگر پچھلے پاؤں چڑھ نہیں سکتے تھے۔ آخر آپ علیہ السلام نے فرمایا ”آج تیرے ساتھ ابلیس بھی ہو آیا“ تب وہ چڑھ گیا اور ابلیس بھی اس کے ساتھ ہی آیا۔ بعض سلف کہتے ہیں کہ شیر کو اپنے ساتھ لے جانا مشکل ہو گیا، آخر اسے بخار چڑھ آیا تب اسے سوار کر لیا۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نوح علیہ السلام نے جب تمام مویشی اپنی کشتی میں سوار کر لیے تو لوگوں نے کہا شیر کی موجودگی میں یہ مویشی کیسے آرام سے رہ سکیں گے؟ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بخار ڈال دیا۔ اس سے پہلے زمین پر یہ بیماری نہ تھی۔ پھر لوگوں نے چوہے کی شکایت کی یہ ہمارا کھانا اور دیگر چیزیں خراب کر رہے ہیں تو اللہ کے حکم سے شیر کی چھینک میں سے ایک بلی نکلی جس سے چوہے دبک کر کونے کھدرے میں بیٹھ رہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:18154:مرسل]
صفحہ نمبر3844
نوح علیہ السلام کو حکم ہوا کہ ” اپنے گھر والوں کو بھی اپنے ساتھ کشتی میں بٹھالو مگر ان میں سے جو ایمان نہیں لائے انہیں ساتھ نہ لینا “۔
آپ علیہ السلام کا لڑکا حام بھی انہیں کافروں میں تھا وہ الگ ہو گیا۔ یا آپ علیہ السلام کی بیوی کہ وہ بھی اللہ کے رسول علیہ السلام کی منکر تھی اور ” اپنی قوم کے تمام مسلمانوں کو بھی اپنے ساتھ بٹھالے “، لیکن ان مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی۔ ساڑھے نو سو سال کے قیام کی طویل مدت میں آپ علیہ السلام پر بہت ہم کم لوگ ایمان لائے تھے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”کل اسی (80) آدمی تھے جن میں عورتیں بھی تھیں۔“ کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سب بہتر (72) اشخاص تھے۔“ ایک قول ہے ”صرف دس (10) آدمی تھے۔“ ایک قول ہے نوح علیہ السلام تھے اور ان کے تین لڑکے تھے سام، حام، یافث اور چار عورتیں تھیں۔ تین تو ان تینوں کی بیویاں اور چوتھی حام کی بیوی اور کہا گیا ہے کہ خود نوح علیہ السلام کی بیوی۔“ لیکن اس میں نظر ہے ظاہر یہ ہے نوح علیہ السلام کی بیوی ہلاک ہونے والوں میں ہلاک ہوئی۔ اس لیے کہ وہ اپنی قوم کے دین پر ہی تھی تو جس طرح لوط علیہ السلام کی بیوی قوم کے ساتھ ہلاک ہوئی اسی طرح یہ بھی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ وَأَحْكَمُ»
صفحہ نمبر3845
کشتی نوح پر کون کون سوار ہوا؟ ٭٭
نوح علیہ السلام جنہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے ان سے فرمایا کہ ”آؤ اس میں سوار ہو جاؤ اس کا پانی پر چلنا اللہ کے نام کی برکت سے ہے اور اسی طرح اس کا آخری ٹھہراؤ بھی اسی پاک نام سے ہے۔“
أبو رجاء العطاردي کی قرآت میں «بِسْمِ اللَّهِ مُجْرِيهَا وَمُرْسِيهَا» بھی ہے۔
یہی اللہ کا آپ علیہ السلام کو حکم تھا کہ ” جب تم اور تمہارے ساتھی ٹھیک طرح بیٹھ جاؤ تو کہنا «الْـحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ» [23-المؤمنون:28] اور یہ بھی دعا کرنا کہ «اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ» “ [23-المؤمنون:29] اس لیے مستحب ہے کہ تمام کاموں کے شروع میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ لی جائے خواہ کشتی پر سوار ہونا ہو، خواہ جانور پر سوار ہونا ہو۔
جیسے فرمان باری ہے کہ «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ» [43-الزخرف:12-14] ” اسی اللہ نے تمہارے لیے تمام جوڑے پیدا کئے ہیں اور کشتیاں اور چوپائے تمہاری سواری کے لیے پیدا کئے ہیں کہ تم ان کی پیٹھ پر سواری کرو “، الخ۔
حدیث میں بھی اس کی تاکید اور رغبت آئی ہے، سورۃ الزخرف میں اس کا پورا بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ طبرانی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت کے لیے ڈوبنے سے بچاؤ ان کے اس قول میں ہے سوار ہوتے ہوئے کہہ لیں «بِسْمِ اللَّهِ الْمُلْكُ»، «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ» [الزُّمَرِ: 67] «بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [11-ھود:41] اس دعا کے آخر میں اللہ کا وصف غفور و رحیم اس لیے لائے کہ کافروں کی سزا کے مقابلے میں مومنون پر رحمت و شفقت کا اظہار ہو۔
جیسے فرمان ہے «إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ» [7-الأعراف:167] ” تیرا رب جلد سزا کرنے والا اور ساتھ ہی غفور و رحیم بھی ہے “۔
اور آیت میں ہے «وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلْمِهِمْ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ الْعِقَابِ» [13-الرعد:6] یعنی ” تیرا پروردگار لوگوں کے گناہوں کو بخشنے والا بھی ہے اور سخت سزا دینے والا بھی ہے “۔
اور آیت میں ہے «إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [7-الاعراف:167] ” بیشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے “، اور بھی بہت سی آیتیں ہیں جن میں رحمت و انتقام کا بیان ملا جلا ہے۔
پانی روئے زمین پر پھر گیا ہے، کسی اونچے سے اونچے پہاڑ کی بلندی سے بلند چوٹی بھی دکھائی نہیں دیتی بلکہ پہاڑوں سے اوپر پندرہ ہاتھ اور بقول اسی میل اوپر کو ہو گیا ہے باوجود اس کے کشتی نوح علیہ السلام بحکم الٰہی برابر صحیح طور پر جا رہی ہے۔
صفحہ نمبر3846
خود اللہ اس کا محافظ ہے اور وہ خاص اس کی عنایت و مہر ہے۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:11، 12] یعنی ” پانی میں طغیانی کے وقت ہم نے آپ تمہیں کشتی میں چڑھا لیا کہ ہم اسے تمہارے لیے نصیحت بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھ لیں “۔
اور آیت میں ہے کہ «وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ وَلَقَد تَّرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ» [54-القمر:13-15] ” ہم نے تمہیں اس تختوں والی کشتی پر سوار کرایا اور اپنی حفاظت میں پار اتارا اور کافروں کو ان کے کفر کا انجام دکھا دیا اور اسے ایک نشان بنا دیا کیا اب بھی کوئی ہے جو عبرت حاصل کرے؟ “
اس وقت نوح علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے کو بلایا یہ آپ علیہ السلام کے چوتھے لڑکے تھے اس کا نام حام تھا یہ کافر تھا اسے آپ علیہ السلام نے کشتی میں سوار ہونے کے وقت ایمان کی اور اپنے ساتھ بیٹھ جانے کی ہدایت کی تاکہ ڈوبنے سے اور کافروں کے عذاب سے بچ جائے۔ مگر اس بد نیت نے جواب دیا کہ نہیں مجھے اس کی ضرورت نہیں میں پہاڑ پر چڑھ کر طوفان باراں سے بچ جاؤں گا۔ ایک اسرائیلی روایت میں ہے کہ اس نے شیشے کی کشتی بنائی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
قرآن میں تو یہ ہے کہ ” اس نے یہ سمجھا کہ یہ طوفان پہاڑوں کی چوٹیوں تک نہیں پہنچنے کا میں جب جا پہنچوں گا تو یہ پانی میرا کیا بگاڑے گا؟ “
اس پر نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”آج عذاب الٰہی سے کہیں پناہ نہیں وہی بچے گا جس پر اللہ کا رحم ہو۔“ یہاں «عَاصِمَ» «مَعْصُومٍ» کے معنی میں ہے جیسے «طَاعِمٌ» «مَطْعُومٍ» کے معنی میں اور «وَكَاسٍ» «مَكْسُوٍ» کے معنی میں آیا ہے۔ یہ باتیں ہو ہی رہی ہیں جو ایک موج آئی اور پسر نوح علیہ السلام کو لے ڈوبی۔
صفحہ نمبر3847
کشتی نوح پر کون کون سوار ہوا؟ ٭٭
نوح علیہ السلام جنہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے ان سے فرمایا کہ ”آؤ اس میں سوار ہو جاؤ اس کا پانی پر چلنا اللہ کے نام کی برکت سے ہے اور اسی طرح اس کا آخری ٹھہراؤ بھی اسی پاک نام سے ہے۔“
أبو رجاء العطاردي کی قرآت میں «بِسْمِ اللَّهِ مُجْرِيهَا وَمُرْسِيهَا» بھی ہے۔
یہی اللہ کا آپ علیہ السلام کو حکم تھا کہ ” جب تم اور تمہارے ساتھی ٹھیک طرح بیٹھ جاؤ تو کہنا «الْـحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ» [23-المؤمنون:28] اور یہ بھی دعا کرنا کہ «اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ» “ [23-المؤمنون:29] اس لیے مستحب ہے کہ تمام کاموں کے شروع میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ لی جائے خواہ کشتی پر سوار ہونا ہو، خواہ جانور پر سوار ہونا ہو۔
جیسے فرمان باری ہے کہ «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ» [43-الزخرف:12-14] ” اسی اللہ نے تمہارے لیے تمام جوڑے پیدا کئے ہیں اور کشتیاں اور چوپائے تمہاری سواری کے لیے پیدا کئے ہیں کہ تم ان کی پیٹھ پر سواری کرو “، الخ۔
حدیث میں بھی اس کی تاکید اور رغبت آئی ہے، سورۃ الزخرف میں اس کا پورا بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ طبرانی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت کے لیے ڈوبنے سے بچاؤ ان کے اس قول میں ہے سوار ہوتے ہوئے کہہ لیں «بِسْمِ اللَّهِ الْمُلْكُ»، «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ» [الزُّمَرِ: 67] «بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [11-ھود:41] اس دعا کے آخر میں اللہ کا وصف غفور و رحیم اس لیے لائے کہ کافروں کی سزا کے مقابلے میں مومنون پر رحمت و شفقت کا اظہار ہو۔
جیسے فرمان ہے «إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ» [7-الأعراف:167] ” تیرا رب جلد سزا کرنے والا اور ساتھ ہی غفور و رحیم بھی ہے “۔
اور آیت میں ہے «وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلْمِهِمْ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ الْعِقَابِ» [13-الرعد:6] یعنی ” تیرا پروردگار لوگوں کے گناہوں کو بخشنے والا بھی ہے اور سخت سزا دینے والا بھی ہے “۔
اور آیت میں ہے «إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [7-الاعراف:167] ” بیشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے “، اور بھی بہت سی آیتیں ہیں جن میں رحمت و انتقام کا بیان ملا جلا ہے۔
پانی روئے زمین پر پھر گیا ہے، کسی اونچے سے اونچے پہاڑ کی بلندی سے بلند چوٹی بھی دکھائی نہیں دیتی بلکہ پہاڑوں سے اوپر پندرہ ہاتھ اور بقول اسی میل اوپر کو ہو گیا ہے باوجود اس کے کشتی نوح علیہ السلام بحکم الٰہی برابر صحیح طور پر جا رہی ہے۔
صفحہ نمبر3846
خود اللہ اس کا محافظ ہے اور وہ خاص اس کی عنایت و مہر ہے۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:11، 12] یعنی ” پانی میں طغیانی کے وقت ہم نے آپ تمہیں کشتی میں چڑھا لیا کہ ہم اسے تمہارے لیے نصیحت بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھ لیں “۔
اور آیت میں ہے کہ «وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ وَلَقَد تَّرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ» [54-القمر:13-15] ” ہم نے تمہیں اس تختوں والی کشتی پر سوار کرایا اور اپنی حفاظت میں پار اتارا اور کافروں کو ان کے کفر کا انجام دکھا دیا اور اسے ایک نشان بنا دیا کیا اب بھی کوئی ہے جو عبرت حاصل کرے؟ “
اس وقت نوح علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے کو بلایا یہ آپ علیہ السلام کے چوتھے لڑکے تھے اس کا نام حام تھا یہ کافر تھا اسے آپ علیہ السلام نے کشتی میں سوار ہونے کے وقت ایمان کی اور اپنے ساتھ بیٹھ جانے کی ہدایت کی تاکہ ڈوبنے سے اور کافروں کے عذاب سے بچ جائے۔ مگر اس بد نیت نے جواب دیا کہ نہیں مجھے اس کی ضرورت نہیں میں پہاڑ پر چڑھ کر طوفان باراں سے بچ جاؤں گا۔ ایک اسرائیلی روایت میں ہے کہ اس نے شیشے کی کشتی بنائی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
قرآن میں تو یہ ہے کہ ” اس نے یہ سمجھا کہ یہ طوفان پہاڑوں کی چوٹیوں تک نہیں پہنچنے کا میں جب جا پہنچوں گا تو یہ پانی میرا کیا بگاڑے گا؟ “
اس پر نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”آج عذاب الٰہی سے کہیں پناہ نہیں وہی بچے گا جس پر اللہ کا رحم ہو۔“ یہاں «عَاصِمَ» «مَعْصُومٍ» کے معنی میں ہے جیسے «طَاعِمٌ» «مَطْعُومٍ» کے معنی میں اور «وَكَاسٍ» «مَكْسُوٍ» کے معنی میں آیا ہے۔ یہ باتیں ہو ہی رہی ہیں جو ایک موج آئی اور پسر نوح علیہ السلام کو لے ڈوبی۔
صفحہ نمبر3847
کشتی نوح پر کون کون سوار ہوا؟ ٭٭
نوح علیہ السلام جنہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے ان سے فرمایا کہ ”آؤ اس میں سوار ہو جاؤ اس کا پانی پر چلنا اللہ کے نام کی برکت سے ہے اور اسی طرح اس کا آخری ٹھہراؤ بھی اسی پاک نام سے ہے۔“
أبو رجاء العطاردي کی قرآت میں «بِسْمِ اللَّهِ مُجْرِيهَا وَمُرْسِيهَا» بھی ہے۔
یہی اللہ کا آپ علیہ السلام کو حکم تھا کہ ” جب تم اور تمہارے ساتھی ٹھیک طرح بیٹھ جاؤ تو کہنا «الْـحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ» [23-المؤمنون:28] اور یہ بھی دعا کرنا کہ «اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ» “ [23-المؤمنون:29] اس لیے مستحب ہے کہ تمام کاموں کے شروع میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ لی جائے خواہ کشتی پر سوار ہونا ہو، خواہ جانور پر سوار ہونا ہو۔
جیسے فرمان باری ہے کہ «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ» [43-الزخرف:12-14] ” اسی اللہ نے تمہارے لیے تمام جوڑے پیدا کئے ہیں اور کشتیاں اور چوپائے تمہاری سواری کے لیے پیدا کئے ہیں کہ تم ان کی پیٹھ پر سواری کرو “، الخ۔
حدیث میں بھی اس کی تاکید اور رغبت آئی ہے، سورۃ الزخرف میں اس کا پورا بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ طبرانی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت کے لیے ڈوبنے سے بچاؤ ان کے اس قول میں ہے سوار ہوتے ہوئے کہہ لیں «بِسْمِ اللَّهِ الْمُلْكُ»، «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ» [الزُّمَرِ: 67] «بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [11-ھود:41] اس دعا کے آخر میں اللہ کا وصف غفور و رحیم اس لیے لائے کہ کافروں کی سزا کے مقابلے میں مومنون پر رحمت و شفقت کا اظہار ہو۔
جیسے فرمان ہے «إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ» [7-الأعراف:167] ” تیرا رب جلد سزا کرنے والا اور ساتھ ہی غفور و رحیم بھی ہے “۔
اور آیت میں ہے «وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلْمِهِمْ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ الْعِقَابِ» [13-الرعد:6] یعنی ” تیرا پروردگار لوگوں کے گناہوں کو بخشنے والا بھی ہے اور سخت سزا دینے والا بھی ہے “۔
اور آیت میں ہے «إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [7-الاعراف:167] ” بیشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے “، اور بھی بہت سی آیتیں ہیں جن میں رحمت و انتقام کا بیان ملا جلا ہے۔
پانی روئے زمین پر پھر گیا ہے، کسی اونچے سے اونچے پہاڑ کی بلندی سے بلند چوٹی بھی دکھائی نہیں دیتی بلکہ پہاڑوں سے اوپر پندرہ ہاتھ اور بقول اسی میل اوپر کو ہو گیا ہے باوجود اس کے کشتی نوح علیہ السلام بحکم الٰہی برابر صحیح طور پر جا رہی ہے۔
صفحہ نمبر3846
خود اللہ اس کا محافظ ہے اور وہ خاص اس کی عنایت و مہر ہے۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:11، 12] یعنی ” پانی میں طغیانی کے وقت ہم نے آپ تمہیں کشتی میں چڑھا لیا کہ ہم اسے تمہارے لیے نصیحت بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھ لیں “۔
اور آیت میں ہے کہ «وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ وَلَقَد تَّرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ» [54-القمر:13-15] ” ہم نے تمہیں اس تختوں والی کشتی پر سوار کرایا اور اپنی حفاظت میں پار اتارا اور کافروں کو ان کے کفر کا انجام دکھا دیا اور اسے ایک نشان بنا دیا کیا اب بھی کوئی ہے جو عبرت حاصل کرے؟ “
اس وقت نوح علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے کو بلایا یہ آپ علیہ السلام کے چوتھے لڑکے تھے اس کا نام حام تھا یہ کافر تھا اسے آپ علیہ السلام نے کشتی میں سوار ہونے کے وقت ایمان کی اور اپنے ساتھ بیٹھ جانے کی ہدایت کی تاکہ ڈوبنے سے اور کافروں کے عذاب سے بچ جائے۔ مگر اس بد نیت نے جواب دیا کہ نہیں مجھے اس کی ضرورت نہیں میں پہاڑ پر چڑھ کر طوفان باراں سے بچ جاؤں گا۔ ایک اسرائیلی روایت میں ہے کہ اس نے شیشے کی کشتی بنائی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
قرآن میں تو یہ ہے کہ ” اس نے یہ سمجھا کہ یہ طوفان پہاڑوں کی چوٹیوں تک نہیں پہنچنے کا میں جب جا پہنچوں گا تو یہ پانی میرا کیا بگاڑے گا؟ “
اس پر نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”آج عذاب الٰہی سے کہیں پناہ نہیں وہی بچے گا جس پر اللہ کا رحم ہو۔“ یہاں «عَاصِمَ» «مَعْصُومٍ» کے معنی میں ہے جیسے «طَاعِمٌ» «مَطْعُومٍ» کے معنی میں اور «وَكَاسٍ» «مَكْسُوٍ» کے معنی میں آیا ہے۔ یہ باتیں ہو ہی رہی ہیں جو ایک موج آئی اور پسر نوح علیہ السلام کو لے ڈوبی۔
صفحہ نمبر3847
طوفان نوح علیہ السلام کی روداد ٭٭
روئے زمین کے سب لوگ اس طوفان میں جو درحقیقت غضب الٰہی اور مظلوم پیغمبر علیہ السلام کی بد دعا کا عذاب تھا غرق ہوگئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ عزوجل نے زمین کو اس پانی کے نگل لینے کا حکم دیا جو اس کا اگلا ہوا اور آسمان کا برسایا ہوا تھا۔ ساتھ ہی آسمان کو بھی پانی برسانے سے رک جانے کا حکم ہو گیا۔ پانی گھٹنے لگا اور کام پورا ہو گیا یعنی تمام کافر نابود ہوگئے، صرف کشتی والے مومن ہی بچے۔ کشتی بحکم ربی جودی پر رکی۔
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ”یہ جزیرہ میں ایک پہاڑ ہے سب پہاڑ ڈبو دیئے گئے تھے اور یہ پہاڑ بوجہ اپنی عاجزی اور تواضع کے غرق ہونے سے بچ رہا تھا یہیں کشتی نوح علیہ السلام لنگر انداز ہوئی۔“
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مہینے بھر تک یہیں لگی رہی اور سب اتر گئے اور کشتی لوگوں کی عبرت کے لیے یہیں ثابت و سالم رکھی رہی یہاں تک کہ اس امت کے اول لوگوں نے بھی اسے دیکھ لیا۔ حالانکہ اس کے بعد کی بہترین اور مضبوط سینکڑوں کشتیاں بنیں بگڑیں بلکہ راکھ اور خاک ہو گئیں۔“
ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں جودی نام کا پہاڑ موصل میں ہے۔“ بعض کہتے ہیں طور پہاڑ کو ہی جودی بھی کہتے ہیں۔ زربن حبیش کو ابواب کندہ سے داخل ہو کر دائیں طرف کے زاویہ میں نماز بکثرت پڑھتے ہوئے دیکھ کر نوبہ بن سالم نے پوچھا کہ ”آپ جو جمعہ کے دن برابر یہاں اکثر نماز پڑھا کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟“ تو آپ نے جواب دیا کہ ”کشتی نوح علیہ السلام یہیں لگی تھی۔“
صفحہ نمبر3850
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں بال بچوں سمیت کل اسی (80) آدمی تھے۔ ایک سو پچاس دن تک وہ سب کشتی میں ہی رہے۔ اللہ تعالیٰ نے کشتی کا منہ مکہ شریف کی طرف کر دیا۔ یہاں وہ چالیس دن تک بیت اللہ شریف کا طواف کرتی رہی۔ پھر اسے اللہ تعالیٰ نے جودی کی طرف روانہ کر دیا، وہاں وہ ٹھہر گئی۔ نوح علیہ السلام نے کوے کو بھیجا کہ وہ خشکی کی خبر لائے۔ وہ ایک مردار کے کھانے میں لگ گیا اور دیر لگا دی۔ آپ علیہ السلام نے ایک کبوتر کو بھیجا وہ اپنی چونچ میں زیتوں کے درخت کا پتہ اور پنجوں میں مٹی لے کر واپس آیا۔ اس سے نوح علیہ السلام نے سمجھ لیا کہ پانی سوکھ گیا ہے اور زمین ظاہر ہو گئی ہے۔ پس آپ علیہ السلام جودی کے نیچے اترے اور وہیں ایک بستی کی بناء ڈال دی جسے «ثمانین» کہتے ہیں۔ ایک دن صبح کو جب لوگ جاتے تو ہر ایک کی زبان بدلی ہوئی تھی۔ ایسی زبانیں بولنے لگے جن میں سب سے اعلیٰ اور بہترین عربی زبان تھی۔ ایک کو دوسرے کا کلام سمجھنا محال ہو گیا۔ نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے سب زبانیں معلوم کرا دیں، آپ علیہ السلام ان سب کے درمیان مترجم تھے۔ ایک کا مطلب دوسرے کو سمجھا دیتے تھے۔“ کعب احبار فرماتے ہیں کہ ”کشتی نوح علیہ السلام مشرق مغرب کے درمیان چل پھر رہی تھی پھر جودی پر ٹھہر گئی۔“ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”رجب کی دسویں تاریخ مسلمان اس میں سوار ہوئے تھے پانچ ماہ تک اسی میں رہے انہیں لے کر کشتی جودی پر مہینے بھر تک ٹھہری رہی۔ آخر محرم کے عاشورے کے دن وہ سب اس میں سے اترے۔“ اسی قسم کی ایک مرفوع حدیث بھی ابن جریر میں ہے، انہوں نے اس دن روزہ بھی رکھا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:18202:مرسل و ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ و علیہ وسلم نے چند یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر ان سے اس کا سبب دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتارا تھا اور فرعون اور اس کی قوم کو ڈبو دیا تھا۔ اور اسی دن کشتی نوح علیہ السلام جودی پر لگی تھی۔ پس ان دونوں پیغمبروں علیہما السلام نے شکر الٰہی کا روزہ اس دن رکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ”پھر موسیٰ علیہ السلام کا سب سے زیادہ حقدار میں ہوں اور اس دن کے روزے کا میں زیادہ مستحق ہوں۔“ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کا روزہ رکھا اور اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم میں سے جو آج روزے سے ہو وہ تو اپنا روزہ پورا کرے اور جو ناشتہ کر چکا ہو وہ بھی باقی دن کچھ نہ کھائے ۔ [مسند احمد:359/2:صحیح لغیره] یہ روایت اس سند سے تو غریب ہے لیکن اس کے بعض حصے کے شاہد صحیح حدیث میں بھی موجود ہیں۔
صفحہ نمبر3851
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” ظالموں کو خسارہ، ہلاکت اور رحمت حق سے دوری ہوئی “۔ وہ سب ہلاک ہوئے ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچا۔
تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ قوم نوح علیہ السلام میں سے کسی پر بھی رحم کرنے والا ہوتا تو اس بچے کی ماں پر رحم کرتا۔“ نوح علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک ٹھہرے آپ علیہ السلام نے ایک درخت بویا تھا جو سو سال تک بڑھتا اور بڑا ہوتا رہا پھر اسے کاٹ کر تختے بنا کر کشتی بنانی شروع کی۔ کافر لوگ مذاق اڑاتے کہ یہ اس خشکی میں کشتی کیسے چلائیں گے؟ آپ علیہ السلام جواب دیتے تھے کہ ”عنقریب اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔“ جب آپ علیہ السلام بنا چکے اور پانی زمین سے ابلنے اور آسمان سے برسنے لگا اور گلیاں اور راستے پانی سے ڈوبنے لگے تو اس بچے کی ماں جسے اپنے اس بچے سے غایت درجے کی محبت کی تھی وہ اسے لے کر پہاڑ کی طرف چلی گئی اور جلدی جلدی اس پر چڑھنا شروع کیا، تہائی حصے پر چڑھ گئی لیکن جب اس نے دیکھا کہ پانی وہاں بھی پہنچا تو اور اوپر کو چڑھی۔ دو تہائی کو پہنچی جب پانی وہاں بھی پہنچا تو اس نے چوٹی پر جا کر دم لیا لیکن پانی وہاں بھی پہنچ گیا جب گردن گردن پانی چڑھ گیا تو اس نے اپنے بچے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر اونچا اٹھا لیا لیکن پانی وہاں بھی پہنچا اور ماں بچہ دنوں غرق ہو گئے۔ پس اگر اس دن کوئی کافر بھی بچنے والا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس بچے کی ماں پر رحم کرتا۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:5985:منکر] یہ حدیث اس سند سے غریب ہے کہ کعب احبار، مجاہد اور ابن جبیر سے بھی اس بچے اور اس کی ماں کا یہی قصہ مروی ہے۔
صفحہ نمبر3852
نوح علیہ السلام کی اپنے بیٹے کے لیے نجات کی دعا اور جواب ٭٭
یاد رہے کہ یہ دعا نوح علیہ السلام کی محض اس غرض سے تھی کہ آپ علیہ السلام کو صحیح طور پر اپنے ڈوبے ہوئے لڑکے کا حال معلوم ہو جائے۔ کہتے ہیں کہ ”پروردگار یہ بھی ظاہر ہے کہ میرا لڑکا میرے اہل میں سے تھا۔ اور میرے اہل کو بچانے کا تیرا وعدہ تھا اور یہ بھی ناممکن ہے کہ تیرا وعدہ غلط ہو۔ پھر یہ میرا بچہ کفار کے ساتھ کیسے غرق کر دیا گیا؟“
جواب ملا کہ ” تیری جس اہل کو نجات دینے کا میرا وعدہ تھا ان میں تیرا یہ بچہ داخل نہ تھا، میرا یہ وعدہ ایمانداروں کی نجات کا تھا۔ میں کہہ چکا تھا کہ «وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ» [11-ھود:40] یعنی ” تیرے اہل کو بھی تو کشتی میں چڑھا لے مگر جس پر میری بات بڑھ چکی ہے، وہ بوجہ اپنے کفر کے انہیں میں سے تھا جو میرے سابق علم میں کفر والے اور ڈوبنے والے مقرر ہو چکے تھے “ “۔
یہ بھی یاد رہے کہ جن بعض لوگوں نے کہا ہے یہ دراصل نوح علیہ السلام کا لڑکا تھا ہی نہیں کیونکہ آپ علیہ السلام کے بطن سے نہ تھا۔ بلکہ بدکاری سے تھا اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آپ علیہ السلام کی بیوی کا اگلے گھر کا لڑکا تھا۔ یہ دونوں قول غلط ہیں بہت سے بزرگوں نے صاف لفظوں میں اسے غلط کہا ہے بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے سلف سے منقول ہے کہ کسی نبی علیہ السلام کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی۔ پس یہاں اس فرمان سے کہ وہ تیرے اہل میں سے نہیں یہی مطلب ہے کہ ” تیرے جس اہل کی نجات کا میرا وعدہ ہے یہ ان میں سے نہیں “۔ یہی بات سچ ہے اور یہی قول اصلی ہے۔ اس کے سوا اور طرف جانا محض غلطی ہے اور ظاہر خطا ہے۔
صفحہ نمبر3853
اللہ تعالیٰ کی غیرت اس بات کو قبول نہیں کر سکتی کہ اپنے کسی نبی علیہ السلام کے گھر میں زانیہ عورت دے۔ خیال فرمائیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت جنہوں نے بہتان بازی کی تھی ان پر اللہ تعالیٰ کس قدر غضبناک ہوا اس لڑکے کے اہل میں سے نکل جانے کی وجہ خود قرآن نے بیان فرما دی ہے کہ ” اس کے عمل نیک نہ تھے “۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک قرأت «إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» ہے
مسند کی حدیث میں ہے اسماء بنت یزید فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ» پڑھتے سنا ہے اور آیت «يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا» [39-الزمر:53] پڑھتے سنا ہے ۔ [مسند احمد:359/6:صحیح بالشواهد]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ «فَخَانَتَاهُمَا» [66-التحريم:10] کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا ”اس سے مراد زنا نہیں بلکہ نوح علیہ السلام کی بیوی کی خیانت تو یہ تھی کہ لوگوں سے کہتی تھی یہ مجنون ہے۔ اور لوط علیہ السلام کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ جو مہمان آپ علیہ السلام کے ہاں آتے اپنی قوم کو خبر کر دیتی۔“ پھر آپ نے یہ آیت «إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» پڑھی۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب نوح علیہ السلام کے لڑکے کے بارے میں سوال ہوا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”اللہ سچا ہے اس نے اسے نوح علیہ السلام کا لڑکا فرما دیا ہے۔ پس وہ یقیناً نوح علیہ السلام کا ثابت النسب لڑکا ہی تھا۔“ دیکھو اللہ فرماتا ہے کسی نبی کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی، اور یہ بھی یاد رہے کہ بعض علماء کا قول ہے کہ کسی نبی کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی ایسا ہی مجاہدرحمہ اللہ سے مروی ہے۔ اور یہی ابن جریررحمہ اللہ کا پسندیدہ ہے۔ اور فی الواقع ٹھیک اور صحیح بات بھی یہی ہے۔
صفحہ نمبر3854
نوح علیہ السلام کی اپنے بیٹے کے لیے نجات کی دعا اور جواب ٭٭
یاد رہے کہ یہ دعا نوح علیہ السلام کی محض اس غرض سے تھی کہ آپ علیہ السلام کو صحیح طور پر اپنے ڈوبے ہوئے لڑکے کا حال معلوم ہو جائے۔ کہتے ہیں کہ ”پروردگار یہ بھی ظاہر ہے کہ میرا لڑکا میرے اہل میں سے تھا۔ اور میرے اہل کو بچانے کا تیرا وعدہ تھا اور یہ بھی ناممکن ہے کہ تیرا وعدہ غلط ہو۔ پھر یہ میرا بچہ کفار کے ساتھ کیسے غرق کر دیا گیا؟“
جواب ملا کہ ” تیری جس اہل کو نجات دینے کا میرا وعدہ تھا ان میں تیرا یہ بچہ داخل نہ تھا، میرا یہ وعدہ ایمانداروں کی نجات کا تھا۔ میں کہہ چکا تھا کہ «وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ» [11-ھود:40] یعنی ” تیرے اہل کو بھی تو کشتی میں چڑھا لے مگر جس پر میری بات بڑھ چکی ہے، وہ بوجہ اپنے کفر کے انہیں میں سے تھا جو میرے سابق علم میں کفر والے اور ڈوبنے والے مقرر ہو چکے تھے “ “۔
یہ بھی یاد رہے کہ جن بعض لوگوں نے کہا ہے یہ دراصل نوح علیہ السلام کا لڑکا تھا ہی نہیں کیونکہ آپ علیہ السلام کے بطن سے نہ تھا۔ بلکہ بدکاری سے تھا اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آپ علیہ السلام کی بیوی کا اگلے گھر کا لڑکا تھا۔ یہ دونوں قول غلط ہیں بہت سے بزرگوں نے صاف لفظوں میں اسے غلط کہا ہے بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے سلف سے منقول ہے کہ کسی نبی علیہ السلام کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی۔ پس یہاں اس فرمان سے کہ وہ تیرے اہل میں سے نہیں یہی مطلب ہے کہ ” تیرے جس اہل کی نجات کا میرا وعدہ ہے یہ ان میں سے نہیں “۔ یہی بات سچ ہے اور یہی قول اصلی ہے۔ اس کے سوا اور طرف جانا محض غلطی ہے اور ظاہر خطا ہے۔
صفحہ نمبر3853
اللہ تعالیٰ کی غیرت اس بات کو قبول نہیں کر سکتی کہ اپنے کسی نبی علیہ السلام کے گھر میں زانیہ عورت دے۔ خیال فرمائیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت جنہوں نے بہتان بازی کی تھی ان پر اللہ تعالیٰ کس قدر غضبناک ہوا اس لڑکے کے اہل میں سے نکل جانے کی وجہ خود قرآن نے بیان فرما دی ہے کہ ” اس کے عمل نیک نہ تھے “۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک قرأت «إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» ہے
مسند کی حدیث میں ہے اسماء بنت یزید فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ» پڑھتے سنا ہے اور آیت «يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا» [39-الزمر:53] پڑھتے سنا ہے ۔ [مسند احمد:359/6:صحیح بالشواهد]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ «فَخَانَتَاهُمَا» [66-التحريم:10] کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا ”اس سے مراد زنا نہیں بلکہ نوح علیہ السلام کی بیوی کی خیانت تو یہ تھی کہ لوگوں سے کہتی تھی یہ مجنون ہے۔ اور لوط علیہ السلام کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ جو مہمان آپ علیہ السلام کے ہاں آتے اپنی قوم کو خبر کر دیتی۔“ پھر آپ نے یہ آیت «إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» پڑھی۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب نوح علیہ السلام کے لڑکے کے بارے میں سوال ہوا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”اللہ سچا ہے اس نے اسے نوح علیہ السلام کا لڑکا فرما دیا ہے۔ پس وہ یقیناً نوح علیہ السلام کا ثابت النسب لڑکا ہی تھا۔“ دیکھو اللہ فرماتا ہے کسی نبی کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی، اور یہ بھی یاد رہے کہ بعض علماء کا قول ہے کہ کسی نبی کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی ایسا ہی مجاہدرحمہ اللہ سے مروی ہے۔ اور یہی ابن جریررحمہ اللہ کا پسندیدہ ہے۔ اور فی الواقع ٹھیک اور صحیح بات بھی یہی ہے۔
صفحہ نمبر3854
نوح علیہ السلام کی اپنے بیٹے کے لیے نجات کی دعا اور جواب ٭٭
یاد رہے کہ یہ دعا نوح علیہ السلام کی محض اس غرض سے تھی کہ آپ علیہ السلام کو صحیح طور پر اپنے ڈوبے ہوئے لڑکے کا حال معلوم ہو جائے۔ کہتے ہیں کہ ”پروردگار یہ بھی ظاہر ہے کہ میرا لڑکا میرے اہل میں سے تھا۔ اور میرے اہل کو بچانے کا تیرا وعدہ تھا اور یہ بھی ناممکن ہے کہ تیرا وعدہ غلط ہو۔ پھر یہ میرا بچہ کفار کے ساتھ کیسے غرق کر دیا گیا؟“
جواب ملا کہ ” تیری جس اہل کو نجات دینے کا میرا وعدہ تھا ان میں تیرا یہ بچہ داخل نہ تھا، میرا یہ وعدہ ایمانداروں کی نجات کا تھا۔ میں کہہ چکا تھا کہ «وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ» [11-ھود:40] یعنی ” تیرے اہل کو بھی تو کشتی میں چڑھا لے مگر جس پر میری بات بڑھ چکی ہے، وہ بوجہ اپنے کفر کے انہیں میں سے تھا جو میرے سابق علم میں کفر والے اور ڈوبنے والے مقرر ہو چکے تھے “ “۔
یہ بھی یاد رہے کہ جن بعض لوگوں نے کہا ہے یہ دراصل نوح علیہ السلام کا لڑکا تھا ہی نہیں کیونکہ آپ علیہ السلام کے بطن سے نہ تھا۔ بلکہ بدکاری سے تھا اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آپ علیہ السلام کی بیوی کا اگلے گھر کا لڑکا تھا۔ یہ دونوں قول غلط ہیں بہت سے بزرگوں نے صاف لفظوں میں اسے غلط کہا ہے بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے سلف سے منقول ہے کہ کسی نبی علیہ السلام کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی۔ پس یہاں اس فرمان سے کہ وہ تیرے اہل میں سے نہیں یہی مطلب ہے کہ ” تیرے جس اہل کی نجات کا میرا وعدہ ہے یہ ان میں سے نہیں “۔ یہی بات سچ ہے اور یہی قول اصلی ہے۔ اس کے سوا اور طرف جانا محض غلطی ہے اور ظاہر خطا ہے۔
صفحہ نمبر3853
اللہ تعالیٰ کی غیرت اس بات کو قبول نہیں کر سکتی کہ اپنے کسی نبی علیہ السلام کے گھر میں زانیہ عورت دے۔ خیال فرمائیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت جنہوں نے بہتان بازی کی تھی ان پر اللہ تعالیٰ کس قدر غضبناک ہوا اس لڑکے کے اہل میں سے نکل جانے کی وجہ خود قرآن نے بیان فرما دی ہے کہ ” اس کے عمل نیک نہ تھے “۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک قرأت «إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» ہے
مسند کی حدیث میں ہے اسماء بنت یزید فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ» پڑھتے سنا ہے اور آیت «يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا» [39-الزمر:53] پڑھتے سنا ہے ۔ [مسند احمد:359/6:صحیح بالشواهد]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ «فَخَانَتَاهُمَا» [66-التحريم:10] کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا ”اس سے مراد زنا نہیں بلکہ نوح علیہ السلام کی بیوی کی خیانت تو یہ تھی کہ لوگوں سے کہتی تھی یہ مجنون ہے۔ اور لوط علیہ السلام کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ جو مہمان آپ علیہ السلام کے ہاں آتے اپنی قوم کو خبر کر دیتی۔“ پھر آپ نے یہ آیت «إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» پڑھی۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب نوح علیہ السلام کے لڑکے کے بارے میں سوال ہوا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”اللہ سچا ہے اس نے اسے نوح علیہ السلام کا لڑکا فرما دیا ہے۔ پس وہ یقیناً نوح علیہ السلام کا ثابت النسب لڑکا ہی تھا۔“ دیکھو اللہ فرماتا ہے کسی نبی کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی، اور یہ بھی یاد رہے کہ بعض علماء کا قول ہے کہ کسی نبی کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی ایسا ہی مجاہدرحمہ اللہ سے مروی ہے۔ اور یہی ابن جریررحمہ اللہ کا پسندیدہ ہے۔ اور فی الواقع ٹھیک اور صحیح بات بھی یہی ہے۔
صفحہ نمبر3854
طوفان نوح کا آخری منظر ٭٭
کشتی ٹھہری اور اللہ کا سلام آپ علیہ السلام پر اور آپ علیہ السلام کے تمام مومن ساتھیوں پر اور ان کی اولاد میں سے قیامت تک جو ایماندار آنے والے ہیں سب پر نازل ہوا۔ ساتھ ہی کافروں کے دنیوی فائدے سے مستفید ہونے اور پھر عذاب میں گرفتار ہونے کا بھی اعلان ہوا۔
پس یہ آیت قیامت تک کے مومنوں کی سلامتی اور برکت اور کافروں کی سزا پر مبنی ہے۔ امام ابن اسحاق کا بیان ہے کہ ”جب جناب باری جل شانہ نے طوفان بند کرنے کا ارادہ فرما لیا تو روئے زمین پر ایک ہوا بھیج دی جس نے پانی کو ساکن کر دیا اور اس کا اُبلنا بند ہو گیا ساتھ ہی آسمان کے دروازے بھی جو اب تک پانی برسا رہے تھے بند کر دئیے گئے۔ زمین کو پانی کے جذب کر لینے کا حکم ہو گیا اسی وقت پانی کم ہونا شروع ہو گیا اور بقول اہل توراۃ کے ساتویں مہینے کی سترہویں تاریخ کشتی نوح ”جودی“ پر لگی۔ دسویں مہینے کی پہلی تاریخ کو پہاڑوں کی چوٹیاں کھل گئیں۔ اس کے چالیس دن کے بعد کشتی کے روزن پانی کے اوپر دکھائی دینے لگے۔
پھر آپ علیہ السلام نے کوے کو پانی کی تحقیق کے لیے بھیجا لیکن وہ پلٹ کر نہ آیا، آپ علیہ السلام نے کبوتر کو بھیجا جو واپس آیا۔ اپنے پاؤں رکھنے کو اسے جگہ نہ ملی، آپ علیہ السلام نے اپنے ہاتھ پر لے کر اسے اندر لے لیا، پھر ساتھ دن کے بعد اسے دوبارہ بھیجا۔ شام کو وہ واپس آیا، اپنی چونچ میں زیتون کا پتہ لیے ہوئے تھا اس سے اللہ کے نبی علیہ السلام نے معلوم کر لیا کہ پانی زمین سے کچھ ہی اونچا رہ گیا ہے۔ پھر سات دن کے بعد بھیجا اب کی مرتبہ وہ نہ لوٹا تو آپ علیہ السلام نے سمجھ لیا کہ زمین بالکل خشک ہو چکی ہے۔ الغرض پورے ایک سال کے بعد نوح علیہ السلام نے کشتی کا سرپوش اٹھایا اور آواز آئی کہ اے نوح ہماری نازل کردہ سلامتی کے ساتھ اب اتر آؤ الخ۔
صفحہ نمبر3857
یہ تاریخ ماضی وحی کے ذریعے بیان کی گئی ہے ٭٭
” قصہ نوح اور اسی قسم کے گزشتہ واقعات وہ ہیں جو تیرے سامنے نہیں ہوئے لیکن بذریعہ وحی کے ہم تجھے ان کی خبر کر ہے ہیں اور تو لوگوں کے سامنے ان کی حقیقت اس طرح کھول رہا ہے کہ گویا ان کے ہونے کے وقت تو وہیں موجود تھا۔ اس سے پہلے نہ تو تجھے ہی ان کی کوئی خبر تھی نہ تیری قوم میں سے کوئی اور ان کا علم رکھتا تھا، کہ کسی کو بھی گمان ہو کہ شاید تو نے اس سے سیکھ لیے ہوں پاس صاف بات ہے کہ یہ اللہ کی وحی سے تجھے معلوم ہوئے اور ٹھیک اسی طرح جس طرح اگلی کتابوں میں موجود ہیں۔ پس اب تجھے ان کے ستانے جھٹلانے پر صبر و برداشت کرنا چاہیئے “۔
«وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» [37-الصافات:171-173] ” ہم تیری مدد پر ہیں تجھے اور تیرے تابعداروں کو ان پر غلبہ دیں گے، انجام کے لحاظ سے تم ہی غالب رہو گے، یہی طریقہ اور پیغمبروں کا بھی رہا “۔
صفحہ نمبر3858
قوم ہود کی تاریخ ٭٭
اللہ تعالیٰ نے ہود علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول علیہ السلام بنا کر بھیجا، انہوں نے قوم کو اللہ کی توحید کی دعوت دی، اور اس کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ سے روکا، اور بتلایا کہ جن کو تم پوجتے ہو ان کی پوجا خود تم نے گھڑ لی ہے۔ بلکہ ان کے نام اور وجود تمہارے خیالی ڈھکوسلے ہیں۔ ان سے کہا کہ میں اپنی نصیحت کا کوئی بدلہ اور معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ثواب میرا رب مجھے دے گا۔ جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ کیا تم یہ موٹی سی بات بھی عقل میں نہیں لاتے کہ یہ دنیا آخرت کی بھلائی کی تمہیں راہ دکھانے والا ہے اور تم سے کوئی اجرت طلب کرنے والا نہیں۔ تم استغفار میں لگ جاؤ، گذشہ گناہوں کی معافی اللہ تعالیٰ سے طلب کرو۔ اور توبہ کرو، آئندہ کے لیے گناہوں سے رک جاؤ۔ یہ دونوں باتیں جس میں ہوں اللہ تعالیٰ اس کی روزی اس پر آسان کرتا ہے۔ اس کا کام اس پر سہل کرتا ہے۔ اس کی نشانی کی حفاظت کرتا ہے۔
سنو ایسا کرنے سے «يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا» [71-نوح:11] تم پر بارشیں برابر عمدہ اور زیادہ برسیں گی اور تمہاری قوت وطاقت میں دن دونی رات چوگنی برکتیں ہوں گی۔
حدیث شریف میں ہے جو شخص استغفار کو لازم پکڑ لے اللہ تعالیٰ اسے ہر مشکل سے نجات دیتا ہے، ہر تنگی سے کشادگی عطا فرماتا ہے اور روزی تو اسی جگہ سے پہنچاتا ہے جو خود اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو۔ [سنن ابوداود:1508،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر3859
قوم ہود کی تاریخ ٭٭
اللہ تعالیٰ نے ہود علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول علیہ السلام بنا کر بھیجا، انہوں نے قوم کو اللہ کی توحید کی دعوت دی، اور اس کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ سے روکا، اور بتلایا کہ جن کو تم پوجتے ہو ان کی پوجا خود تم نے گھڑ لی ہے۔ بلکہ ان کے نام اور وجود تمہارے خیالی ڈھکوسلے ہیں۔ ان سے کہا کہ میں اپنی نصیحت کا کوئی بدلہ اور معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ثواب میرا رب مجھے دے گا۔ جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ کیا تم یہ موٹی سی بات بھی عقل میں نہیں لاتے کہ یہ دنیا آخرت کی بھلائی کی تمہیں راہ دکھانے والا ہے اور تم سے کوئی اجرت طلب کرنے والا نہیں۔ تم استغفار میں لگ جاؤ، گذشہ گناہوں کی معافی اللہ تعالیٰ سے طلب کرو۔ اور توبہ کرو، آئندہ کے لیے گناہوں سے رک جاؤ۔ یہ دونوں باتیں جس میں ہوں اللہ تعالیٰ اس کی روزی اس پر آسان کرتا ہے۔ اس کا کام اس پر سہل کرتا ہے۔ اس کی نشانی کی حفاظت کرتا ہے۔
سنو ایسا کرنے سے «يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا» [71-نوح:11] تم پر بارشیں برابر عمدہ اور زیادہ برسیں گی اور تمہاری قوت وطاقت میں دن دونی رات چوگنی برکتیں ہوں گی۔
حدیث شریف میں ہے جو شخص استغفار کو لازم پکڑ لے اللہ تعالیٰ اسے ہر مشکل سے نجات دیتا ہے، ہر تنگی سے کشادگی عطا فرماتا ہے اور روزی تو اسی جگہ سے پہنچاتا ہے جو خود اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو۔ [سنن ابوداود:1508،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر3859
قوم ہود کی تاریخ ٭٭
اللہ تعالیٰ نے ہود علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول علیہ السلام بنا کر بھیجا، انہوں نے قوم کو اللہ کی توحید کی دعوت دی، اور اس کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ سے روکا، اور بتلایا کہ جن کو تم پوجتے ہو ان کی پوجا خود تم نے گھڑ لی ہے۔ بلکہ ان کے نام اور وجود تمہارے خیالی ڈھکوسلے ہیں۔ ان سے کہا کہ میں اپنی نصیحت کا کوئی بدلہ اور معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ثواب میرا رب مجھے دے گا۔ جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ کیا تم یہ موٹی سی بات بھی عقل میں نہیں لاتے کہ یہ دنیا آخرت کی بھلائی کی تمہیں راہ دکھانے والا ہے اور تم سے کوئی اجرت طلب کرنے والا نہیں۔ تم استغفار میں لگ جاؤ، گذشہ گناہوں کی معافی اللہ تعالیٰ سے طلب کرو۔ اور توبہ کرو، آئندہ کے لیے گناہوں سے رک جاؤ۔ یہ دونوں باتیں جس میں ہوں اللہ تعالیٰ اس کی روزی اس پر آسان کرتا ہے۔ اس کا کام اس پر سہل کرتا ہے۔ اس کی نشانی کی حفاظت کرتا ہے۔
سنو ایسا کرنے سے «يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا» [71-نوح:11] تم پر بارشیں برابر عمدہ اور زیادہ برسیں گی اور تمہاری قوت وطاقت میں دن دونی رات چوگنی برکتیں ہوں گی۔
حدیث شریف میں ہے جو شخص استغفار کو لازم پکڑ لے اللہ تعالیٰ اسے ہر مشکل سے نجات دیتا ہے، ہر تنگی سے کشادگی عطا فرماتا ہے اور روزی تو اسی جگہ سے پہنچاتا ہے جو خود اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو۔ [سنن ابوداود:1508،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر3859
قوم ہود کے مطالبات ٭٭
قوم ہود نے اپنے نبی علیہ السلام کی نصیحت سن کر جواب دیا کہ آپ علیہ السلام جس چیز کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں اس کی کوئی دلیل و حجت تو ہمارے پاس آپ علیہ السلام لائے نہیں۔ اور یہ ہم کرنے سے رہے کہ آپ علیہ السلام کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دو اور ہم چھوڑ ہی دیں۔ نہ وہ آپ علیہ السلام کو سچا ماننے والے ہیں نہ آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والے۔ بلکہ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ چونکہ تو ہمیں ہمارے ان معبودوں کی عبادت سے روک رہا ہے اور انہیں عیب لگاتا ہے۔ اس لیے جھنجھلا کر ان میں سے کسی کی مار تجھ پر پڑی ہے تیری عقل چل گئی ہے۔
یہ سن کر اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اگر یہی ہے تو سنو میں نہ صرف تمہیں ہی بلکہ اللہ کو بھی گواہ کر کے اعلان کرتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا جس جس کی عبات ہو رہی ہے سب سے بری اور بیزار ہوں اب تم ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ اوروں کو بھی بلا لو اور اپنے ان سب جھوٹے معبودوں کو بھی ملا لو اور تم سے جو ہو سکے مجھے نقصان پہنچا دو۔ مجھے کوئی مہلت نہ لینے دو۔“
صفحہ نمبر3862
”نہ مجھ پر کوئی ترس کھاؤ۔ جو نقصان تمہارے بس میں ہو مجھے پہنچانے میں کمی نہ کرو۔ میرا توکل ذات رب پر ہے وہ میرا اور تمہارا سب کا مالک ہے ناممکن کہ اس کی منشاء بغیر میرا بگاڑ کوئی بھی کر سکے۔ دنیا بھر کے جاندار اس کے قبضے میں اور اس کی ملکیت میں ہیں۔ کوئی نہیں جو اس کے حکم سے باہر اس کی باشاہی سے الگ ہو۔ وہ ظالم نہیں جو تمہارے منصوبے پورے ہونے دے وہ صحیح راستے پر ہے۔ بندوں کی چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں، مومن پر وہ اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جو مہربانی ماں باپ کو اولاد پر ہوتی ہے وہ کریم ہے اس کے کرم کی کوئی حد نہیں۔ اسی وجہ سے بعض لوگ بہک جاتے ہیں اور غافل ہو جاتے ہیں۔“
ہود علیہ السلام کے اس فرمان پر دوبارہ غور کیجئے کہ آپ علیہ السلام نے عادیوں کے لیے اپنے اس قول میں توحید ربانی کی بہت سے دلیلیں بیان کر دیں۔ بتا دیا کہ جب اللہ کے سوا کوئی نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا جب اس کے سوا کسی چیز پر کسی کا قبضہ نہیں تو پھر وہی ایک مستحق عبادت ٹھہرا۔ اور جن کی عبادت تم اس کے سوا کر رہے ہو وہ سب باطل ٹھہرے۔ اللہ ان سے پاک ہے ملک تصرف قبضہ اختیار اسی کا ہے سب اسی کی ماتحتی میں ہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
صفحہ نمبر3863
قوم ہود کے مطالبات ٭٭
قوم ہود نے اپنے نبی علیہ السلام کی نصیحت سن کر جواب دیا کہ آپ علیہ السلام جس چیز کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں اس کی کوئی دلیل و حجت تو ہمارے پاس آپ علیہ السلام لائے نہیں۔ اور یہ ہم کرنے سے رہے کہ آپ علیہ السلام کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دو اور ہم چھوڑ ہی دیں۔ نہ وہ آپ علیہ السلام کو سچا ماننے والے ہیں نہ آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والے۔ بلکہ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ چونکہ تو ہمیں ہمارے ان معبودوں کی عبادت سے روک رہا ہے اور انہیں عیب لگاتا ہے۔ اس لیے جھنجھلا کر ان میں سے کسی کی مار تجھ پر پڑی ہے تیری عقل چل گئی ہے۔
یہ سن کر اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اگر یہی ہے تو سنو میں نہ صرف تمہیں ہی بلکہ اللہ کو بھی گواہ کر کے اعلان کرتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا جس جس کی عبات ہو رہی ہے سب سے بری اور بیزار ہوں اب تم ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ اوروں کو بھی بلا لو اور اپنے ان سب جھوٹے معبودوں کو بھی ملا لو اور تم سے جو ہو سکے مجھے نقصان پہنچا دو۔ مجھے کوئی مہلت نہ لینے دو۔“
صفحہ نمبر3862
”نہ مجھ پر کوئی ترس کھاؤ۔ جو نقصان تمہارے بس میں ہو مجھے پہنچانے میں کمی نہ کرو۔ میرا توکل ذات رب پر ہے وہ میرا اور تمہارا سب کا مالک ہے ناممکن کہ اس کی منشاء بغیر میرا بگاڑ کوئی بھی کر سکے۔ دنیا بھر کے جاندار اس کے قبضے میں اور اس کی ملکیت میں ہیں۔ کوئی نہیں جو اس کے حکم سے باہر اس کی باشاہی سے الگ ہو۔ وہ ظالم نہیں جو تمہارے منصوبے پورے ہونے دے وہ صحیح راستے پر ہے۔ بندوں کی چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں، مومن پر وہ اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جو مہربانی ماں باپ کو اولاد پر ہوتی ہے وہ کریم ہے اس کے کرم کی کوئی حد نہیں۔ اسی وجہ سے بعض لوگ بہک جاتے ہیں اور غافل ہو جاتے ہیں۔“
ہود علیہ السلام کے اس فرمان پر دوبارہ غور کیجئے کہ آپ علیہ السلام نے عادیوں کے لیے اپنے اس قول میں توحید ربانی کی بہت سے دلیلیں بیان کر دیں۔ بتا دیا کہ جب اللہ کے سوا کوئی نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا جب اس کے سوا کسی چیز پر کسی کا قبضہ نہیں تو پھر وہی ایک مستحق عبادت ٹھہرا۔ اور جن کی عبادت تم اس کے سوا کر رہے ہو وہ سب باطل ٹھہرے۔ اللہ ان سے پاک ہے ملک تصرف قبضہ اختیار اسی کا ہے سب اسی کی ماتحتی میں ہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
صفحہ نمبر3863
قوم ہود کے مطالبات ٭٭
قوم ہود نے اپنے نبی علیہ السلام کی نصیحت سن کر جواب دیا کہ آپ علیہ السلام جس چیز کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں اس کی کوئی دلیل و حجت تو ہمارے پاس آپ علیہ السلام لائے نہیں۔ اور یہ ہم کرنے سے رہے کہ آپ علیہ السلام کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دو اور ہم چھوڑ ہی دیں۔ نہ وہ آپ علیہ السلام کو سچا ماننے والے ہیں نہ آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والے۔ بلکہ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ چونکہ تو ہمیں ہمارے ان معبودوں کی عبادت سے روک رہا ہے اور انہیں عیب لگاتا ہے۔ اس لیے جھنجھلا کر ان میں سے کسی کی مار تجھ پر پڑی ہے تیری عقل چل گئی ہے۔
یہ سن کر اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اگر یہی ہے تو سنو میں نہ صرف تمہیں ہی بلکہ اللہ کو بھی گواہ کر کے اعلان کرتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا جس جس کی عبات ہو رہی ہے سب سے بری اور بیزار ہوں اب تم ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ اوروں کو بھی بلا لو اور اپنے ان سب جھوٹے معبودوں کو بھی ملا لو اور تم سے جو ہو سکے مجھے نقصان پہنچا دو۔ مجھے کوئی مہلت نہ لینے دو۔“
صفحہ نمبر3862
”نہ مجھ پر کوئی ترس کھاؤ۔ جو نقصان تمہارے بس میں ہو مجھے پہنچانے میں کمی نہ کرو۔ میرا توکل ذات رب پر ہے وہ میرا اور تمہارا سب کا مالک ہے ناممکن کہ اس کی منشاء بغیر میرا بگاڑ کوئی بھی کر سکے۔ دنیا بھر کے جاندار اس کے قبضے میں اور اس کی ملکیت میں ہیں۔ کوئی نہیں جو اس کے حکم سے باہر اس کی باشاہی سے الگ ہو۔ وہ ظالم نہیں جو تمہارے منصوبے پورے ہونے دے وہ صحیح راستے پر ہے۔ بندوں کی چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں، مومن پر وہ اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جو مہربانی ماں باپ کو اولاد پر ہوتی ہے وہ کریم ہے اس کے کرم کی کوئی حد نہیں۔ اسی وجہ سے بعض لوگ بہک جاتے ہیں اور غافل ہو جاتے ہیں۔“
ہود علیہ السلام کے اس فرمان پر دوبارہ غور کیجئے کہ آپ علیہ السلام نے عادیوں کے لیے اپنے اس قول میں توحید ربانی کی بہت سے دلیلیں بیان کر دیں۔ بتا دیا کہ جب اللہ کے سوا کوئی نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا جب اس کے سوا کسی چیز پر کسی کا قبضہ نہیں تو پھر وہی ایک مستحق عبادت ٹھہرا۔ اور جن کی عبادت تم اس کے سوا کر رہے ہو وہ سب باطل ٹھہرے۔ اللہ ان سے پاک ہے ملک تصرف قبضہ اختیار اسی کا ہے سب اسی کی ماتحتی میں ہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
صفحہ نمبر3863
قوم ہود کے مطالبات ٭٭
قوم ہود نے اپنے نبی علیہ السلام کی نصیحت سن کر جواب دیا کہ آپ علیہ السلام جس چیز کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں اس کی کوئی دلیل و حجت تو ہمارے پاس آپ علیہ السلام لائے نہیں۔ اور یہ ہم کرنے سے رہے کہ آپ علیہ السلام کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دو اور ہم چھوڑ ہی دیں۔ نہ وہ آپ علیہ السلام کو سچا ماننے والے ہیں نہ آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والے۔ بلکہ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ چونکہ تو ہمیں ہمارے ان معبودوں کی عبادت سے روک رہا ہے اور انہیں عیب لگاتا ہے۔ اس لیے جھنجھلا کر ان میں سے کسی کی مار تجھ پر پڑی ہے تیری عقل چل گئی ہے۔
یہ سن کر اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اگر یہی ہے تو سنو میں نہ صرف تمہیں ہی بلکہ اللہ کو بھی گواہ کر کے اعلان کرتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا جس جس کی عبات ہو رہی ہے سب سے بری اور بیزار ہوں اب تم ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ اوروں کو بھی بلا لو اور اپنے ان سب جھوٹے معبودوں کو بھی ملا لو اور تم سے جو ہو سکے مجھے نقصان پہنچا دو۔ مجھے کوئی مہلت نہ لینے دو۔“
صفحہ نمبر3862
”نہ مجھ پر کوئی ترس کھاؤ۔ جو نقصان تمہارے بس میں ہو مجھے پہنچانے میں کمی نہ کرو۔ میرا توکل ذات رب پر ہے وہ میرا اور تمہارا سب کا مالک ہے ناممکن کہ اس کی منشاء بغیر میرا بگاڑ کوئی بھی کر سکے۔ دنیا بھر کے جاندار اس کے قبضے میں اور اس کی ملکیت میں ہیں۔ کوئی نہیں جو اس کے حکم سے باہر اس کی باشاہی سے الگ ہو۔ وہ ظالم نہیں جو تمہارے منصوبے پورے ہونے دے وہ صحیح راستے پر ہے۔ بندوں کی چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں، مومن پر وہ اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جو مہربانی ماں باپ کو اولاد پر ہوتی ہے وہ کریم ہے اس کے کرم کی کوئی حد نہیں۔ اسی وجہ سے بعض لوگ بہک جاتے ہیں اور غافل ہو جاتے ہیں۔“
ہود علیہ السلام کے اس فرمان پر دوبارہ غور کیجئے کہ آپ علیہ السلام نے عادیوں کے لیے اپنے اس قول میں توحید ربانی کی بہت سے دلیلیں بیان کر دیں۔ بتا دیا کہ جب اللہ کے سوا کوئی نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا جب اس کے سوا کسی چیز پر کسی کا قبضہ نہیں تو پھر وہی ایک مستحق عبادت ٹھہرا۔ اور جن کی عبادت تم اس کے سوا کر رہے ہو وہ سب باطل ٹھہرے۔ اللہ ان سے پاک ہے ملک تصرف قبضہ اختیار اسی کا ہے سب اسی کی ماتحتی میں ہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
صفحہ نمبر3863
ہود علیہ السلام کا قوم کو جواب ٭٭
حضرت ہود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”اپنا کام تو میں پورا کر چکا، اللہ کی رسالت تمہیں پہنچا چکا، اب اگر تم منہ موڑ لو اور نہ مانو تو تمہارا وبال تم پر ہی ہے نہ کہ مجھ پر۔ اللہ کو قدرت ہے کہ وہ تمہاری جگہ انہیں دے جو اس کی توحید کو مانیں اور صرف اسی کی عبادت کریں۔ اسے تمہاری کوئی پرواہ نہیں، تمہارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں دینے کا بلکہ اس کا وبال تم پر ہی ہے۔ میرا رب بندوں پر شاہد ہے۔ ان کے اقوال افعال اس کی نگاہ میں ہیں۔“
آخر ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ گیا۔ خیر و برکت سے خالی، عذاب و سزا سے بھری ہوئی آندھیاں چلنے لگیں۔ اس وقت ہود علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی جماعت مسلمین اللہ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے نجات پاگئے۔ سزاؤں سے بچ گئے، سخت عذاب ان پر سے ہٹا لیے گئے۔ یہ تھے عادی جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا، اللہ کے پیغمبروں کی مان کر نہ دی۔ یہ یاد رہے کہ ایک نبی علیہ السلام کا نافرمان کل نبیوں علیہم السلام کا نافرمان ہے۔ یہ انہیں کی مانتے رہے جو ان میں ضدی اور سرکش تھے۔ اللہ کی اور اس کے مومن بندوں کی لعنت ان پر برس پڑی۔ اس دنیا میں بھی ان کا ذکر لعنت سے ہونے لگا اور قیامت کے دن بھی میدان محشر میں سب کے سامنے ان پر اللہ کی لعنت ہو گی۔ اور پکار دیا جائے گا کہ عادی اللہ کے منکر ہیں۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”ان کے بعد جتنے نبی علیہم السلام سب ان پر لعنت ہی کرتے آئے ان کی زبانی اللہ کی لعنتیں بھی ان پر ہوتی رہیں۔“
صفحہ نمبر3867
ہود علیہ السلام کا قوم کو جواب ٭٭
حضرت ہود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”اپنا کام تو میں پورا کر چکا، اللہ کی رسالت تمہیں پہنچا چکا، اب اگر تم منہ موڑ لو اور نہ مانو تو تمہارا وبال تم پر ہی ہے نہ کہ مجھ پر۔ اللہ کو قدرت ہے کہ وہ تمہاری جگہ انہیں دے جو اس کی توحید کو مانیں اور صرف اسی کی عبادت کریں۔ اسے تمہاری کوئی پرواہ نہیں، تمہارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں دینے کا بلکہ اس کا وبال تم پر ہی ہے۔ میرا رب بندوں پر شاہد ہے۔ ان کے اقوال افعال اس کی نگاہ میں ہیں۔“
آخر ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ گیا۔ خیر و برکت سے خالی، عذاب و سزا سے بھری ہوئی آندھیاں چلنے لگیں۔ اس وقت ہود علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی جماعت مسلمین اللہ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے نجات پاگئے۔ سزاؤں سے بچ گئے، سخت عذاب ان پر سے ہٹا لیے گئے۔ یہ تھے عادی جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا، اللہ کے پیغمبروں کی مان کر نہ دی۔ یہ یاد رہے کہ ایک نبی علیہ السلام کا نافرمان کل نبیوں علیہم السلام کا نافرمان ہے۔ یہ انہیں کی مانتے رہے جو ان میں ضدی اور سرکش تھے۔ اللہ کی اور اس کے مومن بندوں کی لعنت ان پر برس پڑی۔ اس دنیا میں بھی ان کا ذکر لعنت سے ہونے لگا اور قیامت کے دن بھی میدان محشر میں سب کے سامنے ان پر اللہ کی لعنت ہو گی۔ اور پکار دیا جائے گا کہ عادی اللہ کے منکر ہیں۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”ان کے بعد جتنے نبی علیہم السلام سب ان پر لعنت ہی کرتے آئے ان کی زبانی اللہ کی لعنتیں بھی ان پر ہوتی رہیں۔“
صفحہ نمبر3867
ہود علیہ السلام کا قوم کو جواب ٭٭
حضرت ہود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”اپنا کام تو میں پورا کر چکا، اللہ کی رسالت تمہیں پہنچا چکا، اب اگر تم منہ موڑ لو اور نہ مانو تو تمہارا وبال تم پر ہی ہے نہ کہ مجھ پر۔ اللہ کو قدرت ہے کہ وہ تمہاری جگہ انہیں دے جو اس کی توحید کو مانیں اور صرف اسی کی عبادت کریں۔ اسے تمہاری کوئی پرواہ نہیں، تمہارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں دینے کا بلکہ اس کا وبال تم پر ہی ہے۔ میرا رب بندوں پر شاہد ہے۔ ان کے اقوال افعال اس کی نگاہ میں ہیں۔“
آخر ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ گیا۔ خیر و برکت سے خالی، عذاب و سزا سے بھری ہوئی آندھیاں چلنے لگیں۔ اس وقت ہود علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی جماعت مسلمین اللہ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے نجات پاگئے۔ سزاؤں سے بچ گئے، سخت عذاب ان پر سے ہٹا لیے گئے۔ یہ تھے عادی جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا، اللہ کے پیغمبروں کی مان کر نہ دی۔ یہ یاد رہے کہ ایک نبی علیہ السلام کا نافرمان کل نبیوں علیہم السلام کا نافرمان ہے۔ یہ انہیں کی مانتے رہے جو ان میں ضدی اور سرکش تھے۔ اللہ کی اور اس کے مومن بندوں کی لعنت ان پر برس پڑی۔ اس دنیا میں بھی ان کا ذکر لعنت سے ہونے لگا اور قیامت کے دن بھی میدان محشر میں سب کے سامنے ان پر اللہ کی لعنت ہو گی۔ اور پکار دیا جائے گا کہ عادی اللہ کے منکر ہیں۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”ان کے بعد جتنے نبی علیہم السلام سب ان پر لعنت ہی کرتے آئے ان کی زبانی اللہ کی لعنتیں بھی ان پر ہوتی رہیں۔“
صفحہ نمبر3867
ہود علیہ السلام کا قوم کو جواب ٭٭
حضرت ہود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”اپنا کام تو میں پورا کر چکا، اللہ کی رسالت تمہیں پہنچا چکا، اب اگر تم منہ موڑ لو اور نہ مانو تو تمہارا وبال تم پر ہی ہے نہ کہ مجھ پر۔ اللہ کو قدرت ہے کہ وہ تمہاری جگہ انہیں دے جو اس کی توحید کو مانیں اور صرف اسی کی عبادت کریں۔ اسے تمہاری کوئی پرواہ نہیں، تمہارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں دینے کا بلکہ اس کا وبال تم پر ہی ہے۔ میرا رب بندوں پر شاہد ہے۔ ان کے اقوال افعال اس کی نگاہ میں ہیں۔“
آخر ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ گیا۔ خیر و برکت سے خالی، عذاب و سزا سے بھری ہوئی آندھیاں چلنے لگیں۔ اس وقت ہود علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی جماعت مسلمین اللہ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے نجات پاگئے۔ سزاؤں سے بچ گئے، سخت عذاب ان پر سے ہٹا لیے گئے۔ یہ تھے عادی جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا، اللہ کے پیغمبروں کی مان کر نہ دی۔ یہ یاد رہے کہ ایک نبی علیہ السلام کا نافرمان کل نبیوں علیہم السلام کا نافرمان ہے۔ یہ انہیں کی مانتے رہے جو ان میں ضدی اور سرکش تھے۔ اللہ کی اور اس کے مومن بندوں کی لعنت ان پر برس پڑی۔ اس دنیا میں بھی ان کا ذکر لعنت سے ہونے لگا اور قیامت کے دن بھی میدان محشر میں سب کے سامنے ان پر اللہ کی لعنت ہو گی۔ اور پکار دیا جائے گا کہ عادی اللہ کے منکر ہیں۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”ان کے بعد جتنے نبی علیہم السلام سب ان پر لعنت ہی کرتے آئے ان کی زبانی اللہ کی لعنتیں بھی ان پر ہوتی رہیں۔“
صفحہ نمبر3867