Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Hud
Tafsir Ibn Kathir · Hud · 123 ayat · ayat 61–90 · Quran text →
صالح علیہ السلام اور ان کی قوم میں مکالمات ٭٭
صالح علیہ السلام ثمودیوں کی طرف اللہ کے رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ قوم کو آپ علیہ السلام نے اللہ کی عبادت کرنے کی اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت سے باز آنے کی نصحیت کی، بتلایا کہ ”انسان کی ابتدائی پیدائش اللہ تعالیٰ نے مٹی سے شروع کی ہے۔ تم سب کے باپ بابا آدم علیہ السلام اسی مٹی سے پیدا ہوئے تھے۔ اسی نے اپنے فضل سے تمہیں زمین پر بسایا ہے کہ تم اس میں گزران کر رہے ہو۔ تمہیں اللہ سے استغفار کرنا چاہیئے۔“
«وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ» [2-البقرة:186] ” اور (اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔ اس کی طرف جھکے رہنا چاہیئے۔ وہ بہت ہی قریب ہے اور قبول فرمانے والا ہے “۔
صفحہ نمبر3871
باپ دادا کے معبود ہی ہم کو پیارے ہیں ٭٭
صالح علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی قوم کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس کا بیان ہو رہا ہے وہ کہتے ہیں کہ تو یہ بات زبان سے نکال۔ اس سے پہلے تو ہماری بہت کچھ امیدیں تجھ سے وابستہ تھیں، لیکن تو نے ان سے سب پر پانی پھیر دیا۔ ہمیں پرانی روش اور باپ دادا کے طریقے اور پوجا پاٹ سے ہٹانے لگا۔ ہمیں تو تیری اس نئی رہبری میں بہت بڑا شک شبہ ہے۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”سنو میں اعلیٰ دلیل پر ہوں۔ میرے پاس رب کی نشانی ہے، مجھے اپنی سچائی پر دلی اطمینان ہے میرے پاس اللہ کی رسالت کی رحمت ہے۔ اب اگر میں تمہیں اس کی دعوت نہ دوں اور اللہ کی نافرمانی کروں اور اس کی عبادت کی طرف تمہیں نہ بلاؤں تو کون ہے جو میری مدد کر سکے اور اللہ کے عذاب سے مجھے بچا سکے؟ میرا ایمان ہے کہ مخلوق میرے کام نہیں آ سکتی تم میرے لیے محض بےسود ہو۔ سوائے میرے نقصان کے تم مجھے اور کیا دے سکتے ہو۔“
صفحہ نمبر3872
باپ دادا کے معبود ہی ہم کو پیارے ہیں ٭٭
صالح علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی قوم کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس کا بیان ہو رہا ہے وہ کہتے ہیں کہ تو یہ بات زبان سے نکال۔ اس سے پہلے تو ہماری بہت کچھ امیدیں تجھ سے وابستہ تھیں، لیکن تو نے ان سے سب پر پانی پھیر دیا۔ ہمیں پرانی روش اور باپ دادا کے طریقے اور پوجا پاٹ سے ہٹانے لگا۔ ہمیں تو تیری اس نئی رہبری میں بہت بڑا شک شبہ ہے۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”سنو میں اعلیٰ دلیل پر ہوں۔ میرے پاس رب کی نشانی ہے، مجھے اپنی سچائی پر دلی اطمینان ہے میرے پاس اللہ کی رسالت کی رحمت ہے۔ اب اگر میں تمہیں اس کی دعوت نہ دوں اور اللہ کی نافرمانی کروں اور اس کی عبادت کی طرف تمہیں نہ بلاؤں تو کون ہے جو میری مدد کر سکے اور اللہ کے عذاب سے مجھے بچا سکے؟ میرا ایمان ہے کہ مخلوق میرے کام نہیں آ سکتی تم میرے لیے محض بےسود ہو۔ سوائے میرے نقصان کے تم مجھے اور کیا دے سکتے ہو۔“
صفحہ نمبر3872
باب
ان تمام آیتوں کی پوری تفسیر اور ثمودیوں کی ہلاکت کے اور اونٹنی کے مفصل واقعات سورۃ الأعراف [7-الأعراف:] میں بیان ہو چکے ہیں یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔
صفحہ نمبر3874
باب
ان تمام آیتوں کی پوری تفسیر اور ثمودیوں کی ہلاکت کے اور اونٹنی کے مفصل واقعات سورۃ الأعراف [7-الأعراف:] میں بیان ہو چکے ہیں یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔
صفحہ نمبر3874
باب
ان تمام آیتوں کی پوری تفسیر اور ثمودیوں کی ہلاکت کے اور اونٹنی کے مفصل واقعات سورۃ الأعراف [7-الأعراف:] میں بیان ہو چکے ہیں یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔
صفحہ نمبر3874
باب
ان تمام آیتوں کی پوری تفسیر اور ثمودیوں کی ہلاکت کے اور اونٹنی کے مفصل واقعات سورۃ الأعراف [7-الأعراف:] میں بیان ہو چکے ہیں یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔
صفحہ نمبر3874
باب
ان تمام آیتوں کی پوری تفسیر اور ثمودیوں کی ہلاکت کے اور اونٹنی کے مفصل واقعات سورۃ الأعراف [7-الأعراف:] میں بیان ہو چکے ہیں یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔
صفحہ نمبر3874
ابراہیم علیہ السلام کی بشارت اولاد اور فرشتوں سے گفتگو ٭٭
ابراہیم علیہ السلام کے پاس دو فرشتے بطور مہمان بشکل انسان آتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کی خوشخبری اور ابراہیم علیہ السلام کے ہاں فرزند ہونے کی بشارت لے کر اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ وہ آ کر سلام کرتے ہیں۔ آپ علیہ السلام ان کے جواب میں سلام کہتے ہیں۔ اس لفظ کو پیش سے کہنے میں علم بیان کے مطابق ثبوت و دوام پایا جاتا ہے۔
سلام کے بعد ہی ابراہیم علیہ السلام ان کے سامنے مہمان داری پیش کرتے ہیں۔ بچھڑے کا گوشت جسے گرم پتھروں پر سینک لیا گیا تھا، لاتے ہیں۔ جب دیکھا کہ ان نو وارد مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے ہی نہیں، اس وقت ان سے کچھ بدگمان سے ہو گئے اور کچھ دل میں خوف کھانے لگے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہلاکت قوم لوط کے لیے جو فرشتے بھیجے گئے وہ بصورت نوجوان انسان زمین پر آئے۔ ابراہیم علیہ السلام کے گھر پر اترے آپ نے انہیں دیکھ کر بڑی تکریم کی، «فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ» [51-الذاريات:26،27] ” جلدی جلدی اپنا بچھڑا لے کر اس کو گرم پتھوں پر سینک کر لا حاضر کیا اور خود بھی ان کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ گئے “، آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ سارہ کھلانے پلانے کے کام کاج میں لگ گئیں۔
ظاہر ہے کہ فرشتے کھانا نہیں کھاتے۔ وہ کھانے سے رکے اور کہنے لگے ابراہیم علیہ السلام ہم جب تلک کسی کھانے کی قیمت نہ دے دیں کھایا نہیں کرتے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں قیمت دے دیجئیے انہوں نے پوچھا کیا قیمت ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا ” «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر کھانا شروع کرنا اور کھانا کھا کر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہنا یہی اس کی قیمت ہے۔“
اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے میکائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا اور دل میں کہا کہ ”فی الواقع یہ اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنا خلیل بنائے۔“ اب بھی جو انہوں نے کھانا شروع نہ کیا تو آپ علیہ السلام کے دل میں طرح طرح کے خیالات گزرنے لگے۔
صفحہ نمبر3879
سارہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ خود ابراہیم علیہ السلام ان کے اکرام میں یعنی ان کے کھانے کی خدمت میں ہیں، تاہم وہ کھانا نہیں کھاتے تو ان مہمانوں کی عجیب حالت پر انہیں بے ساختہ ہنسی آگئی۔
ابراہیم علیہ السلام کو خوف زدہ دیکھ کر فرشتوں نے کہا ”آپ علیہ السلام خوف نہ کیجئے۔“ اب دہشت دور کرنے کے لیے اصلی واقعہ کھول دیا کہ ”ہم کوئی انسان نہیں فرشتے ہیں۔ قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں کہ انہیں ہلاک کریں۔“
سارہ رضی اللہ عنہا کو قوم لوط کی ہلاکت کی خبر نے خوش کر دیا۔ اسی وقت انہیں ایک دوسری خوشخبری بھی ملی کہ اس ناامیدی کی عمر میں تمہارے ہاں بچہ ہوگا۔ انہیں عجب تھا کہ جس قوم پر اللہ کا عذاب اتر رہا ہے، وہ پوری غفلت میں ہے۔ الغرض فرشتوں نے آپ علیہ السلام کو اسحاق نامی بچہ پیدا ہونے کی بشارت دی۔ اور پھر اسحاق علیہ السلام کے ہاں یعقوب علیہ السلام کے ہونے کی بھی ساتھ ہی خوشخبری سنائی۔ اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام تھے۔ کیونکہ اسحاق علیہ السلام کی تو بشارت دی گئی تھی اور ساتھ ہی ان کے ہاں بھی اولاد ہونے کی بشارت دی گئی تھی۔ یہ سن کر سارہ علیہ السلام نے عورتوں کی عام عادت کے مطابق اس پر تعجب ظاہر کیا کہ میاں بیوی دونوں کے اس بڑھے ہوئے بڑھاپے میں اولاد کیسی؟ یہ تو سخت حیرت کی بات ہے۔ فرشتوں نے کہا ”امر اللہ میں کیا حیرت؟ تم دونوں کو اس عمر میں ہی اللہ بیٹا دے گا گو تم سے آج تک کوئی اولاد نہیں ہوئی اور تمہارے میاں کی عمر بھی ڈھل چکی ہے۔ لیکن اللہ کی قدرت میں کمی نہیں وہ جو چاہے ہو کر رہتا ہے، اے نبی علیہ السلام کے گھر والو تم پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہیں، تمہیں اس کی قدرت میں تعجب نہ کرنا چاہے۔ اللہ تعالیٰ تعریفوں والا اور بزرگ ہے۔“
صفحہ نمبر3880
ابراہیم علیہ السلام کی بشارت اولاد اور فرشتوں سے گفتگو ٭٭
ابراہیم علیہ السلام کے پاس دو فرشتے بطور مہمان بشکل انسان آتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کی خوشخبری اور ابراہیم علیہ السلام کے ہاں فرزند ہونے کی بشارت لے کر اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ وہ آ کر سلام کرتے ہیں۔ آپ علیہ السلام ان کے جواب میں سلام کہتے ہیں۔ اس لفظ کو پیش سے کہنے میں علم بیان کے مطابق ثبوت و دوام پایا جاتا ہے۔
سلام کے بعد ہی ابراہیم علیہ السلام ان کے سامنے مہمان داری پیش کرتے ہیں۔ بچھڑے کا گوشت جسے گرم پتھروں پر سینک لیا گیا تھا، لاتے ہیں۔ جب دیکھا کہ ان نو وارد مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے ہی نہیں، اس وقت ان سے کچھ بدگمان سے ہو گئے اور کچھ دل میں خوف کھانے لگے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہلاکت قوم لوط کے لیے جو فرشتے بھیجے گئے وہ بصورت نوجوان انسان زمین پر آئے۔ ابراہیم علیہ السلام کے گھر پر اترے آپ نے انہیں دیکھ کر بڑی تکریم کی، «فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ» [51-الذاريات:26،27] ” جلدی جلدی اپنا بچھڑا لے کر اس کو گرم پتھوں پر سینک کر لا حاضر کیا اور خود بھی ان کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ گئے “، آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ سارہ کھلانے پلانے کے کام کاج میں لگ گئیں۔
ظاہر ہے کہ فرشتے کھانا نہیں کھاتے۔ وہ کھانے سے رکے اور کہنے لگے ابراہیم علیہ السلام ہم جب تلک کسی کھانے کی قیمت نہ دے دیں کھایا نہیں کرتے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں قیمت دے دیجئیے انہوں نے پوچھا کیا قیمت ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا ” «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر کھانا شروع کرنا اور کھانا کھا کر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہنا یہی اس کی قیمت ہے۔“
اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے میکائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا اور دل میں کہا کہ ”فی الواقع یہ اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنا خلیل بنائے۔“ اب بھی جو انہوں نے کھانا شروع نہ کیا تو آپ علیہ السلام کے دل میں طرح طرح کے خیالات گزرنے لگے۔
صفحہ نمبر3879
سارہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ خود ابراہیم علیہ السلام ان کے اکرام میں یعنی ان کے کھانے کی خدمت میں ہیں، تاہم وہ کھانا نہیں کھاتے تو ان مہمانوں کی عجیب حالت پر انہیں بے ساختہ ہنسی آگئی۔
ابراہیم علیہ السلام کو خوف زدہ دیکھ کر فرشتوں نے کہا ”آپ علیہ السلام خوف نہ کیجئے۔“ اب دہشت دور کرنے کے لیے اصلی واقعہ کھول دیا کہ ”ہم کوئی انسان نہیں فرشتے ہیں۔ قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں کہ انہیں ہلاک کریں۔“
سارہ رضی اللہ عنہا کو قوم لوط کی ہلاکت کی خبر نے خوش کر دیا۔ اسی وقت انہیں ایک دوسری خوشخبری بھی ملی کہ اس ناامیدی کی عمر میں تمہارے ہاں بچہ ہوگا۔ انہیں عجب تھا کہ جس قوم پر اللہ کا عذاب اتر رہا ہے، وہ پوری غفلت میں ہے۔ الغرض فرشتوں نے آپ علیہ السلام کو اسحاق نامی بچہ پیدا ہونے کی بشارت دی۔ اور پھر اسحاق علیہ السلام کے ہاں یعقوب علیہ السلام کے ہونے کی بھی ساتھ ہی خوشخبری سنائی۔ اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام تھے۔ کیونکہ اسحاق علیہ السلام کی تو بشارت دی گئی تھی اور ساتھ ہی ان کے ہاں بھی اولاد ہونے کی بشارت دی گئی تھی۔ یہ سن کر سارہ علیہ السلام نے عورتوں کی عام عادت کے مطابق اس پر تعجب ظاہر کیا کہ میاں بیوی دونوں کے اس بڑھے ہوئے بڑھاپے میں اولاد کیسی؟ یہ تو سخت حیرت کی بات ہے۔ فرشتوں نے کہا ”امر اللہ میں کیا حیرت؟ تم دونوں کو اس عمر میں ہی اللہ بیٹا دے گا گو تم سے آج تک کوئی اولاد نہیں ہوئی اور تمہارے میاں کی عمر بھی ڈھل چکی ہے۔ لیکن اللہ کی قدرت میں کمی نہیں وہ جو چاہے ہو کر رہتا ہے، اے نبی علیہ السلام کے گھر والو تم پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہیں، تمہیں اس کی قدرت میں تعجب نہ کرنا چاہے۔ اللہ تعالیٰ تعریفوں والا اور بزرگ ہے۔“
صفحہ نمبر3880
ابراہیم علیہ السلام کی بشارت اولاد اور فرشتوں سے گفتگو ٭٭
ابراہیم علیہ السلام کے پاس دو فرشتے بطور مہمان بشکل انسان آتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کی خوشخبری اور ابراہیم علیہ السلام کے ہاں فرزند ہونے کی بشارت لے کر اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ وہ آ کر سلام کرتے ہیں۔ آپ علیہ السلام ان کے جواب میں سلام کہتے ہیں۔ اس لفظ کو پیش سے کہنے میں علم بیان کے مطابق ثبوت و دوام پایا جاتا ہے۔
سلام کے بعد ہی ابراہیم علیہ السلام ان کے سامنے مہمان داری پیش کرتے ہیں۔ بچھڑے کا گوشت جسے گرم پتھروں پر سینک لیا گیا تھا، لاتے ہیں۔ جب دیکھا کہ ان نو وارد مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے ہی نہیں، اس وقت ان سے کچھ بدگمان سے ہو گئے اور کچھ دل میں خوف کھانے لگے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہلاکت قوم لوط کے لیے جو فرشتے بھیجے گئے وہ بصورت نوجوان انسان زمین پر آئے۔ ابراہیم علیہ السلام کے گھر پر اترے آپ نے انہیں دیکھ کر بڑی تکریم کی، «فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ» [51-الذاريات:26،27] ” جلدی جلدی اپنا بچھڑا لے کر اس کو گرم پتھوں پر سینک کر لا حاضر کیا اور خود بھی ان کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ گئے “، آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ سارہ کھلانے پلانے کے کام کاج میں لگ گئیں۔
ظاہر ہے کہ فرشتے کھانا نہیں کھاتے۔ وہ کھانے سے رکے اور کہنے لگے ابراہیم علیہ السلام ہم جب تلک کسی کھانے کی قیمت نہ دے دیں کھایا نہیں کرتے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں قیمت دے دیجئیے انہوں نے پوچھا کیا قیمت ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا ” «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر کھانا شروع کرنا اور کھانا کھا کر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہنا یہی اس کی قیمت ہے۔“
اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے میکائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا اور دل میں کہا کہ ”فی الواقع یہ اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنا خلیل بنائے۔“ اب بھی جو انہوں نے کھانا شروع نہ کیا تو آپ علیہ السلام کے دل میں طرح طرح کے خیالات گزرنے لگے۔
صفحہ نمبر3879
سارہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ خود ابراہیم علیہ السلام ان کے اکرام میں یعنی ان کے کھانے کی خدمت میں ہیں، تاہم وہ کھانا نہیں کھاتے تو ان مہمانوں کی عجیب حالت پر انہیں بے ساختہ ہنسی آگئی۔
ابراہیم علیہ السلام کو خوف زدہ دیکھ کر فرشتوں نے کہا ”آپ علیہ السلام خوف نہ کیجئے۔“ اب دہشت دور کرنے کے لیے اصلی واقعہ کھول دیا کہ ”ہم کوئی انسان نہیں فرشتے ہیں۔ قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں کہ انہیں ہلاک کریں۔“
سارہ رضی اللہ عنہا کو قوم لوط کی ہلاکت کی خبر نے خوش کر دیا۔ اسی وقت انہیں ایک دوسری خوشخبری بھی ملی کہ اس ناامیدی کی عمر میں تمہارے ہاں بچہ ہوگا۔ انہیں عجب تھا کہ جس قوم پر اللہ کا عذاب اتر رہا ہے، وہ پوری غفلت میں ہے۔ الغرض فرشتوں نے آپ علیہ السلام کو اسحاق نامی بچہ پیدا ہونے کی بشارت دی۔ اور پھر اسحاق علیہ السلام کے ہاں یعقوب علیہ السلام کے ہونے کی بھی ساتھ ہی خوشخبری سنائی۔ اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام تھے۔ کیونکہ اسحاق علیہ السلام کی تو بشارت دی گئی تھی اور ساتھ ہی ان کے ہاں بھی اولاد ہونے کی بشارت دی گئی تھی۔ یہ سن کر سارہ علیہ السلام نے عورتوں کی عام عادت کے مطابق اس پر تعجب ظاہر کیا کہ میاں بیوی دونوں کے اس بڑھے ہوئے بڑھاپے میں اولاد کیسی؟ یہ تو سخت حیرت کی بات ہے۔ فرشتوں نے کہا ”امر اللہ میں کیا حیرت؟ تم دونوں کو اس عمر میں ہی اللہ بیٹا دے گا گو تم سے آج تک کوئی اولاد نہیں ہوئی اور تمہارے میاں کی عمر بھی ڈھل چکی ہے۔ لیکن اللہ کی قدرت میں کمی نہیں وہ جو چاہے ہو کر رہتا ہے، اے نبی علیہ السلام کے گھر والو تم پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہیں، تمہیں اس کی قدرت میں تعجب نہ کرنا چاہے۔ اللہ تعالیٰ تعریفوں والا اور بزرگ ہے۔“
صفحہ نمبر3880
ابراہیم علیہ السلام کی بشارت اولاد اور فرشتوں سے گفتگو ٭٭
ابراہیم علیہ السلام کے پاس دو فرشتے بطور مہمان بشکل انسان آتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کی خوشخبری اور ابراہیم علیہ السلام کے ہاں فرزند ہونے کی بشارت لے کر اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ وہ آ کر سلام کرتے ہیں۔ آپ علیہ السلام ان کے جواب میں سلام کہتے ہیں۔ اس لفظ کو پیش سے کہنے میں علم بیان کے مطابق ثبوت و دوام پایا جاتا ہے۔
سلام کے بعد ہی ابراہیم علیہ السلام ان کے سامنے مہمان داری پیش کرتے ہیں۔ بچھڑے کا گوشت جسے گرم پتھروں پر سینک لیا گیا تھا، لاتے ہیں۔ جب دیکھا کہ ان نو وارد مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے ہی نہیں، اس وقت ان سے کچھ بدگمان سے ہو گئے اور کچھ دل میں خوف کھانے لگے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہلاکت قوم لوط کے لیے جو فرشتے بھیجے گئے وہ بصورت نوجوان انسان زمین پر آئے۔ ابراہیم علیہ السلام کے گھر پر اترے آپ نے انہیں دیکھ کر بڑی تکریم کی، «فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ» [51-الذاريات:26،27] ” جلدی جلدی اپنا بچھڑا لے کر اس کو گرم پتھوں پر سینک کر لا حاضر کیا اور خود بھی ان کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ گئے “، آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ سارہ کھلانے پلانے کے کام کاج میں لگ گئیں۔
ظاہر ہے کہ فرشتے کھانا نہیں کھاتے۔ وہ کھانے سے رکے اور کہنے لگے ابراہیم علیہ السلام ہم جب تلک کسی کھانے کی قیمت نہ دے دیں کھایا نہیں کرتے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں قیمت دے دیجئیے انہوں نے پوچھا کیا قیمت ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا ” «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر کھانا شروع کرنا اور کھانا کھا کر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہنا یہی اس کی قیمت ہے۔“
اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے میکائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا اور دل میں کہا کہ ”فی الواقع یہ اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنا خلیل بنائے۔“ اب بھی جو انہوں نے کھانا شروع نہ کیا تو آپ علیہ السلام کے دل میں طرح طرح کے خیالات گزرنے لگے۔
صفحہ نمبر3879
سارہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ خود ابراہیم علیہ السلام ان کے اکرام میں یعنی ان کے کھانے کی خدمت میں ہیں، تاہم وہ کھانا نہیں کھاتے تو ان مہمانوں کی عجیب حالت پر انہیں بے ساختہ ہنسی آگئی۔
ابراہیم علیہ السلام کو خوف زدہ دیکھ کر فرشتوں نے کہا ”آپ علیہ السلام خوف نہ کیجئے۔“ اب دہشت دور کرنے کے لیے اصلی واقعہ کھول دیا کہ ”ہم کوئی انسان نہیں فرشتے ہیں۔ قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں کہ انہیں ہلاک کریں۔“
سارہ رضی اللہ عنہا کو قوم لوط کی ہلاکت کی خبر نے خوش کر دیا۔ اسی وقت انہیں ایک دوسری خوشخبری بھی ملی کہ اس ناامیدی کی عمر میں تمہارے ہاں بچہ ہوگا۔ انہیں عجب تھا کہ جس قوم پر اللہ کا عذاب اتر رہا ہے، وہ پوری غفلت میں ہے۔ الغرض فرشتوں نے آپ علیہ السلام کو اسحاق نامی بچہ پیدا ہونے کی بشارت دی۔ اور پھر اسحاق علیہ السلام کے ہاں یعقوب علیہ السلام کے ہونے کی بھی ساتھ ہی خوشخبری سنائی۔ اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام تھے۔ کیونکہ اسحاق علیہ السلام کی تو بشارت دی گئی تھی اور ساتھ ہی ان کے ہاں بھی اولاد ہونے کی بشارت دی گئی تھی۔ یہ سن کر سارہ علیہ السلام نے عورتوں کی عام عادت کے مطابق اس پر تعجب ظاہر کیا کہ میاں بیوی دونوں کے اس بڑھے ہوئے بڑھاپے میں اولاد کیسی؟ یہ تو سخت حیرت کی بات ہے۔ فرشتوں نے کہا ”امر اللہ میں کیا حیرت؟ تم دونوں کو اس عمر میں ہی اللہ بیٹا دے گا گو تم سے آج تک کوئی اولاد نہیں ہوئی اور تمہارے میاں کی عمر بھی ڈھل چکی ہے۔ لیکن اللہ کی قدرت میں کمی نہیں وہ جو چاہے ہو کر رہتا ہے، اے نبی علیہ السلام کے گھر والو تم پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہیں، تمہیں اس کی قدرت میں تعجب نہ کرنا چاہے۔ اللہ تعالیٰ تعریفوں والا اور بزرگ ہے۔“
صفحہ نمبر3880
ابراہیم علیہ السلام کی بشارت اولاد اور فرشتوں سے گفتگو ٭٭
ابراہیم علیہ السلام کے پاس دو فرشتے بطور مہمان بشکل انسان آتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کی خوشخبری اور ابراہیم علیہ السلام کے ہاں فرزند ہونے کی بشارت لے کر اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ وہ آ کر سلام کرتے ہیں۔ آپ علیہ السلام ان کے جواب میں سلام کہتے ہیں۔ اس لفظ کو پیش سے کہنے میں علم بیان کے مطابق ثبوت و دوام پایا جاتا ہے۔
سلام کے بعد ہی ابراہیم علیہ السلام ان کے سامنے مہمان داری پیش کرتے ہیں۔ بچھڑے کا گوشت جسے گرم پتھروں پر سینک لیا گیا تھا، لاتے ہیں۔ جب دیکھا کہ ان نو وارد مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے ہی نہیں، اس وقت ان سے کچھ بدگمان سے ہو گئے اور کچھ دل میں خوف کھانے لگے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہلاکت قوم لوط کے لیے جو فرشتے بھیجے گئے وہ بصورت نوجوان انسان زمین پر آئے۔ ابراہیم علیہ السلام کے گھر پر اترے آپ نے انہیں دیکھ کر بڑی تکریم کی، «فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ» [51-الذاريات:26،27] ” جلدی جلدی اپنا بچھڑا لے کر اس کو گرم پتھوں پر سینک کر لا حاضر کیا اور خود بھی ان کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ گئے “، آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ سارہ کھلانے پلانے کے کام کاج میں لگ گئیں۔
ظاہر ہے کہ فرشتے کھانا نہیں کھاتے۔ وہ کھانے سے رکے اور کہنے لگے ابراہیم علیہ السلام ہم جب تلک کسی کھانے کی قیمت نہ دے دیں کھایا نہیں کرتے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں قیمت دے دیجئیے انہوں نے پوچھا کیا قیمت ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا ” «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر کھانا شروع کرنا اور کھانا کھا کر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہنا یہی اس کی قیمت ہے۔“
اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے میکائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا اور دل میں کہا کہ ”فی الواقع یہ اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنا خلیل بنائے۔“ اب بھی جو انہوں نے کھانا شروع نہ کیا تو آپ علیہ السلام کے دل میں طرح طرح کے خیالات گزرنے لگے۔
صفحہ نمبر3879
سارہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ خود ابراہیم علیہ السلام ان کے اکرام میں یعنی ان کے کھانے کی خدمت میں ہیں، تاہم وہ کھانا نہیں کھاتے تو ان مہمانوں کی عجیب حالت پر انہیں بے ساختہ ہنسی آگئی۔
ابراہیم علیہ السلام کو خوف زدہ دیکھ کر فرشتوں نے کہا ”آپ علیہ السلام خوف نہ کیجئے۔“ اب دہشت دور کرنے کے لیے اصلی واقعہ کھول دیا کہ ”ہم کوئی انسان نہیں فرشتے ہیں۔ قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں کہ انہیں ہلاک کریں۔“
سارہ رضی اللہ عنہا کو قوم لوط کی ہلاکت کی خبر نے خوش کر دیا۔ اسی وقت انہیں ایک دوسری خوشخبری بھی ملی کہ اس ناامیدی کی عمر میں تمہارے ہاں بچہ ہوگا۔ انہیں عجب تھا کہ جس قوم پر اللہ کا عذاب اتر رہا ہے، وہ پوری غفلت میں ہے۔ الغرض فرشتوں نے آپ علیہ السلام کو اسحاق نامی بچہ پیدا ہونے کی بشارت دی۔ اور پھر اسحاق علیہ السلام کے ہاں یعقوب علیہ السلام کے ہونے کی بھی ساتھ ہی خوشخبری سنائی۔ اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام تھے۔ کیونکہ اسحاق علیہ السلام کی تو بشارت دی گئی تھی اور ساتھ ہی ان کے ہاں بھی اولاد ہونے کی بشارت دی گئی تھی۔ یہ سن کر سارہ علیہ السلام نے عورتوں کی عام عادت کے مطابق اس پر تعجب ظاہر کیا کہ میاں بیوی دونوں کے اس بڑھے ہوئے بڑھاپے میں اولاد کیسی؟ یہ تو سخت حیرت کی بات ہے۔ فرشتوں نے کہا ”امر اللہ میں کیا حیرت؟ تم دونوں کو اس عمر میں ہی اللہ بیٹا دے گا گو تم سے آج تک کوئی اولاد نہیں ہوئی اور تمہارے میاں کی عمر بھی ڈھل چکی ہے۔ لیکن اللہ کی قدرت میں کمی نہیں وہ جو چاہے ہو کر رہتا ہے، اے نبی علیہ السلام کے گھر والو تم پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہیں، تمہیں اس کی قدرت میں تعجب نہ کرنا چاہے۔ اللہ تعالیٰ تعریفوں والا اور بزرگ ہے۔“
صفحہ نمبر3880
ابراہیم علیہ السلام کی بردباری اور سفارش ٭٭
مہمانوں کے کھانا نہ کھانے کی وجہ سے ابراہیم علیہ السلام کے دل میں جو دہشت سمائی تھی، ان کا حل کھل جانے پر وہ دور ہو گئی۔ پھر آپ علیہ السلام نے اپنے ہاں لڑکا ہونے کی خوشخبری بھی سن لی۔
«وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَىٰ قَالُوا إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَـٰذِهِ الْقَرْيَةِ إِنَّ أَهْلَهَا كَانُوا ظَالِمِينَ» [29-العنکبوت:31] اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ فرشتے قوم لوط کی ہلاکت کے لیے بھیجے گئے ہیں تو آپ علیہ السلام فرمانے لگے کہ اگر کسی بستی میں تین سو مومن ہوں کیا پھر بھی وہ بستی ہلاک کی جائے گی؟ جبرائیل علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر پوچھا کہ اگر چالیس ہوں؟ جواب ملا پھر بھی نہیں۔ دریافت کیا اگر تیس ہوں۔ کہا گیا پھر بھی نہیں۔ یہاں تک کے تعداد گھٹاتے گھٹاتے پانچ کی بابت پوچھا تو فرشتوں نے یہی جواب دیا۔ پھر ایک ہی کی نسبت سوال کیا اور یہی جواب ملا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ» [29-العنکبوت:32] ” پھر اس بستی کو لوط علیہ السلام کی موجودگی میں تم کیسے ہلاک کرو گے؟ فرشتوں نے کہا ہمیں وہاں لوط کی موجودگی کا علم ہے اسے اور اس کے اہل خانہ کو سوائے اس کی بیوی کے ہم بچالیں گے “۔
اب آپ علیہ السلام کو اطمینان ہو اور خاموش ہوگئے۔ ابراہیم علیہ السلام بردبار، نرم دل اور رجوع رہنے والے تھے اس آیت کی تفسیر پہلے سورۃ التوبہ میں گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر علیہ السلام کی بہترین صفتیں بیان فرمائیں ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کی اس گفتگو اور سفارش کے جواب میں فرمان باری ہوا کہ ” اب آپ علیہ السلام اس سے چشم پوشی کیجئے۔ قضاء حق نافذ و جاری ہوگئی اب عذاب آئے گا اور وہ لوٹایا نہ جائے گا۔
صفحہ نمبر3885
ابراہیم علیہ السلام کی بردباری اور سفارش ٭٭
مہمانوں کے کھانا نہ کھانے کی وجہ سے ابراہیم علیہ السلام کے دل میں جو دہشت سمائی تھی، ان کا حل کھل جانے پر وہ دور ہو گئی۔ پھر آپ علیہ السلام نے اپنے ہاں لڑکا ہونے کی خوشخبری بھی سن لی۔
«وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَىٰ قَالُوا إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَـٰذِهِ الْقَرْيَةِ إِنَّ أَهْلَهَا كَانُوا ظَالِمِينَ» [29-العنکبوت:31] اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ فرشتے قوم لوط کی ہلاکت کے لیے بھیجے گئے ہیں تو آپ علیہ السلام فرمانے لگے کہ اگر کسی بستی میں تین سو مومن ہوں کیا پھر بھی وہ بستی ہلاک کی جائے گی؟ جبرائیل علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر پوچھا کہ اگر چالیس ہوں؟ جواب ملا پھر بھی نہیں۔ دریافت کیا اگر تیس ہوں۔ کہا گیا پھر بھی نہیں۔ یہاں تک کے تعداد گھٹاتے گھٹاتے پانچ کی بابت پوچھا تو فرشتوں نے یہی جواب دیا۔ پھر ایک ہی کی نسبت سوال کیا اور یہی جواب ملا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ» [29-العنکبوت:32] ” پھر اس بستی کو لوط علیہ السلام کی موجودگی میں تم کیسے ہلاک کرو گے؟ فرشتوں نے کہا ہمیں وہاں لوط کی موجودگی کا علم ہے اسے اور اس کے اہل خانہ کو سوائے اس کی بیوی کے ہم بچالیں گے “۔
اب آپ علیہ السلام کو اطمینان ہو اور خاموش ہوگئے۔ ابراہیم علیہ السلام بردبار، نرم دل اور رجوع رہنے والے تھے اس آیت کی تفسیر پہلے سورۃ التوبہ میں گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر علیہ السلام کی بہترین صفتیں بیان فرمائیں ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کی اس گفتگو اور سفارش کے جواب میں فرمان باری ہوا کہ ” اب آپ علیہ السلام اس سے چشم پوشی کیجئے۔ قضاء حق نافذ و جاری ہوگئی اب عذاب آئے گا اور وہ لوٹایا نہ جائے گا۔
صفحہ نمبر3885
ابراہیم علیہ السلام کی بردباری اور سفارش ٭٭
مہمانوں کے کھانا نہ کھانے کی وجہ سے ابراہیم علیہ السلام کے دل میں جو دہشت سمائی تھی، ان کا حل کھل جانے پر وہ دور ہو گئی۔ پھر آپ علیہ السلام نے اپنے ہاں لڑکا ہونے کی خوشخبری بھی سن لی۔
«وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَىٰ قَالُوا إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَـٰذِهِ الْقَرْيَةِ إِنَّ أَهْلَهَا كَانُوا ظَالِمِينَ» [29-العنکبوت:31] اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ فرشتے قوم لوط کی ہلاکت کے لیے بھیجے گئے ہیں تو آپ علیہ السلام فرمانے لگے کہ اگر کسی بستی میں تین سو مومن ہوں کیا پھر بھی وہ بستی ہلاک کی جائے گی؟ جبرائیل علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر پوچھا کہ اگر چالیس ہوں؟ جواب ملا پھر بھی نہیں۔ دریافت کیا اگر تیس ہوں۔ کہا گیا پھر بھی نہیں۔ یہاں تک کے تعداد گھٹاتے گھٹاتے پانچ کی بابت پوچھا تو فرشتوں نے یہی جواب دیا۔ پھر ایک ہی کی نسبت سوال کیا اور یہی جواب ملا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ» [29-العنکبوت:32] ” پھر اس بستی کو لوط علیہ السلام کی موجودگی میں تم کیسے ہلاک کرو گے؟ فرشتوں نے کہا ہمیں وہاں لوط کی موجودگی کا علم ہے اسے اور اس کے اہل خانہ کو سوائے اس کی بیوی کے ہم بچالیں گے “۔
اب آپ علیہ السلام کو اطمینان ہو اور خاموش ہوگئے۔ ابراہیم علیہ السلام بردبار، نرم دل اور رجوع رہنے والے تھے اس آیت کی تفسیر پہلے سورۃ التوبہ میں گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر علیہ السلام کی بہترین صفتیں بیان فرمائیں ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کی اس گفتگو اور سفارش کے جواب میں فرمان باری ہوا کہ ” اب آپ علیہ السلام اس سے چشم پوشی کیجئے۔ قضاء حق نافذ و جاری ہوگئی اب عذاب آئے گا اور وہ لوٹایا نہ جائے گا۔
صفحہ نمبر3885
لوط علیہ السلام کے گھر فرشتوں کا نزول ٭٭
ابراہیم علیہ السلام کو یہ فرشتے اپنا بھید بتا کر وہاں سے چل دیئے اور لوط علیہ السلام کے پاس ان کے زمین میں یا ان کے مکان میں پہنچے۔ مرد خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تھے تاکہ قوم لوط کی پوری آزمائش ہو جائے، لوط علیہ السلام ان مہمانوں کو دیکھ کر قوم کی حالت سامنے رکھ کر سٹ پٹا گئے، دل ہی دل میں پیچ و تاب کھانے لگے کہ اگر انہیں مہمان بناتا ہوں تو ممکن ہے خبر پاکر لوگ چڑھ دوڑیں اور اگر مہمان نہیں رکھتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑ جائیں گے۔ زبان سے بھی نکل گیا کہ آج کا دن بڑا ہیبت ناک دن ہے۔ قوم والے اپنی شرارت سے باز نہیں آئیں گے۔ مجھ میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ کیا ہوگا؟
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لوط علیہ السلام اپنی زمین پر تھے کہ یہ فرشتے بصورت انسان آئے اور ان کے مہمان بنے۔ شرما شرمی انکار تو نہ سکے اور انہیں لے کر گھر چلے، راستے میں صرف اس نیت سے کہ یہ اب بھی واپس چلے جائیں ان سے کہا کہ واللہ یہاں کے لوگوں سے زیادہ برے اور خبیث لوگ اور کہیں نہیں ہیں۔ کچھ دور جا کر پھر یہی کہا غرض گھر پہچنے تک چار بار یہی کہا۔ فرشتوں کو اللہ کا حکم بھی یہی تھا کہ ” جب تک ان کا نبی، ان کی برائی نہ بیان کرے انہیں ہلاک نہ کرنا “۔“
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے چل کر دوپہر کو یہ فرشتے نہر سدوم پہنچے وہاں لوط علیہ السلام کی صاحبزادی جو پانی لینے گئی تھیں، مل گئیں۔ ان سے انہوں نے پوچھا کہ یہاں ہم کہیں ٹھہر سکتے ہیں۔ اس نے کہا آپ یہیں رکیئے میں واپس آ کر جواب دوں گی۔ انہیں ڈر لگا کہ اگر قوم والوں کے ہاتھ یہ لگ گئے تو ان کی بڑی بےعزتی ہوگی۔ یہاں آ کر والد صاحب سے ذکر کیا کہ شہر کے دروازے پر چند پردیسی نوعمر لوگ ہیں، میں نے تو آج تک نہیں دیکھے، جاؤ اور انہیں ٹھہراؤ ورنہ قوم والے انہیں ستائیں گے۔
صفحہ نمبر3888
اس بستی کے لوگوں نے لوط علیہ السلام سے کہہ رکھا تھا کہ دیکھو کسی باہر والے کو تم اپنے ہاں ٹھہرایا نہ کرو۔ ہم آپ سب کچھ کر لیا کریں گے۔ آپ علیہ السلام نے جب یہ حالت سنی تو جا کر چپکے سے انہیں اپنے گھر لے آئے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔ مگر آپ علیہ السلام کی بیوی جو قوم سے ملی ہوئی تھی، اسی کے ذریعہ بات پھوٹ نکلی۔ اب کیا تھا۔ دوڑے بھاگے آ گئے، جسے دیکھو خوشیاں مناتا جلدی جلدی لپکتا چلا آتا ہے ان کی تو یہ خو خصلت ہو گئی تھی اس سیاہ کاری کو تو گویا انہوں نے عادت بنا لیا تھا۔
اس وقت اللہ کے نبی کریم علیہ السلام انہیں نصیحت کرنے لگے کہ ”تم اس بد خصلت کو چھوڑو اپنی خواہشیں عورتوں سے پوری کرو۔“ «بَنَاتِي» یعنی میری لڑکیاں۔ اس لیے فرمایا کہ ” ہر نبی اپنی امت کا گویا باپ ہوتا ہے “۔
قرآن کریم کی ایک اور آیت میں ہے کہ «قَالُوا أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعَالَمِينَ» [15-الحجر:70] ” اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ہم تو پہلے ہی آپ علیہ السلام کو منع کر چکے تھے کہ کسی کو اپنے ہاں نہ ٹھہرایا کرو “۔
لوط علیہ السلام نے انہیں سمجھایا اور دنیا آخرت کی بھلائی انہیں سجھائی اور کہا کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ» [15-الحجر:72-71] ” عورتیں ہی اس بات کے لیے موزوں ہیں، ان سے نکاح کر کے اپنی خواہش پوری کرنا ہی پاک کام ہے “۔
صفحہ نمبر3889
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی لڑکیوں کی نسبت یہ فرمایا تھا نہیں بلکہ نبی علیہ السلام اپنی پوری امت کا گویا باپ ہوتا ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔
امام ابن جریج فرماتے ہیں ”یہ بھی نہ سمجھنا چاہیئے کہ لوط علیہ السلام نے عورتوں سے بے نکاح ملاپ کرنے کو فرمایا ہو۔ نہیں مطلب آپ کا ان سے نکاح کر لینے کے حکم کا تھا۔“
فرماتے ہیں اللہ سے ڈرو میرا کہا مانو، عورتوں کی طرف رغبت کرو، ان سے نکاح کر کے حاجت روائی کرو۔ مردوں کی طرف اس رغبت سے نہ آؤ اور خصوصاً یہ تو میرے مہمان ہیں، میری عزت کا خیال کرو کیا تم میں ایک بھی سمجھدار، نیک راہ یافتہ بھلا آدمی نہیں۔ اس کے جواب میں ان سرکشوں نے کہا کہ ہمیں عورتوں سے کوئی سروکار ہی نہیں یہاں بھی «بَنَاتِكَ» یعنی تیری لڑکیاں کے لفظ سے مراد قوم کی عورتیں ہیں۔ اور تجھے معلوم ہے کہ ہمارا ارادہ کیا ہے یعنی ہمارا ارادہ ان لڑکوں سے ملنے کا ہے۔ پھر جھگڑا اور نصیحت بے سود ہے۔
صفحہ نمبر3890
لوط علیہ السلام کے گھر فرشتوں کا نزول ٭٭
ابراہیم علیہ السلام کو یہ فرشتے اپنا بھید بتا کر وہاں سے چل دیئے اور لوط علیہ السلام کے پاس ان کے زمین میں یا ان کے مکان میں پہنچے۔ مرد خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تھے تاکہ قوم لوط کی پوری آزمائش ہو جائے، لوط علیہ السلام ان مہمانوں کو دیکھ کر قوم کی حالت سامنے رکھ کر سٹ پٹا گئے، دل ہی دل میں پیچ و تاب کھانے لگے کہ اگر انہیں مہمان بناتا ہوں تو ممکن ہے خبر پاکر لوگ چڑھ دوڑیں اور اگر مہمان نہیں رکھتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑ جائیں گے۔ زبان سے بھی نکل گیا کہ آج کا دن بڑا ہیبت ناک دن ہے۔ قوم والے اپنی شرارت سے باز نہیں آئیں گے۔ مجھ میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ کیا ہوگا؟
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لوط علیہ السلام اپنی زمین پر تھے کہ یہ فرشتے بصورت انسان آئے اور ان کے مہمان بنے۔ شرما شرمی انکار تو نہ سکے اور انہیں لے کر گھر چلے، راستے میں صرف اس نیت سے کہ یہ اب بھی واپس چلے جائیں ان سے کہا کہ واللہ یہاں کے لوگوں سے زیادہ برے اور خبیث لوگ اور کہیں نہیں ہیں۔ کچھ دور جا کر پھر یہی کہا غرض گھر پہچنے تک چار بار یہی کہا۔ فرشتوں کو اللہ کا حکم بھی یہی تھا کہ ” جب تک ان کا نبی، ان کی برائی نہ بیان کرے انہیں ہلاک نہ کرنا “۔“
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے چل کر دوپہر کو یہ فرشتے نہر سدوم پہنچے وہاں لوط علیہ السلام کی صاحبزادی جو پانی لینے گئی تھیں، مل گئیں۔ ان سے انہوں نے پوچھا کہ یہاں ہم کہیں ٹھہر سکتے ہیں۔ اس نے کہا آپ یہیں رکیئے میں واپس آ کر جواب دوں گی۔ انہیں ڈر لگا کہ اگر قوم والوں کے ہاتھ یہ لگ گئے تو ان کی بڑی بےعزتی ہوگی۔ یہاں آ کر والد صاحب سے ذکر کیا کہ شہر کے دروازے پر چند پردیسی نوعمر لوگ ہیں، میں نے تو آج تک نہیں دیکھے، جاؤ اور انہیں ٹھہراؤ ورنہ قوم والے انہیں ستائیں گے۔
صفحہ نمبر3888
اس بستی کے لوگوں نے لوط علیہ السلام سے کہہ رکھا تھا کہ دیکھو کسی باہر والے کو تم اپنے ہاں ٹھہرایا نہ کرو۔ ہم آپ سب کچھ کر لیا کریں گے۔ آپ علیہ السلام نے جب یہ حالت سنی تو جا کر چپکے سے انہیں اپنے گھر لے آئے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔ مگر آپ علیہ السلام کی بیوی جو قوم سے ملی ہوئی تھی، اسی کے ذریعہ بات پھوٹ نکلی۔ اب کیا تھا۔ دوڑے بھاگے آ گئے، جسے دیکھو خوشیاں مناتا جلدی جلدی لپکتا چلا آتا ہے ان کی تو یہ خو خصلت ہو گئی تھی اس سیاہ کاری کو تو گویا انہوں نے عادت بنا لیا تھا۔
اس وقت اللہ کے نبی کریم علیہ السلام انہیں نصیحت کرنے لگے کہ ”تم اس بد خصلت کو چھوڑو اپنی خواہشیں عورتوں سے پوری کرو۔“ «بَنَاتِي» یعنی میری لڑکیاں۔ اس لیے فرمایا کہ ” ہر نبی اپنی امت کا گویا باپ ہوتا ہے “۔
قرآن کریم کی ایک اور آیت میں ہے کہ «قَالُوا أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعَالَمِينَ» [15-الحجر:70] ” اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ہم تو پہلے ہی آپ علیہ السلام کو منع کر چکے تھے کہ کسی کو اپنے ہاں نہ ٹھہرایا کرو “۔
لوط علیہ السلام نے انہیں سمجھایا اور دنیا آخرت کی بھلائی انہیں سجھائی اور کہا کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ» [15-الحجر:72-71] ” عورتیں ہی اس بات کے لیے موزوں ہیں، ان سے نکاح کر کے اپنی خواہش پوری کرنا ہی پاک کام ہے “۔
صفحہ نمبر3889
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی لڑکیوں کی نسبت یہ فرمایا تھا نہیں بلکہ نبی علیہ السلام اپنی پوری امت کا گویا باپ ہوتا ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔
امام ابن جریج فرماتے ہیں ”یہ بھی نہ سمجھنا چاہیئے کہ لوط علیہ السلام نے عورتوں سے بے نکاح ملاپ کرنے کو فرمایا ہو۔ نہیں مطلب آپ کا ان سے نکاح کر لینے کے حکم کا تھا۔“
فرماتے ہیں اللہ سے ڈرو میرا کہا مانو، عورتوں کی طرف رغبت کرو، ان سے نکاح کر کے حاجت روائی کرو۔ مردوں کی طرف اس رغبت سے نہ آؤ اور خصوصاً یہ تو میرے مہمان ہیں، میری عزت کا خیال کرو کیا تم میں ایک بھی سمجھدار، نیک راہ یافتہ بھلا آدمی نہیں۔ اس کے جواب میں ان سرکشوں نے کہا کہ ہمیں عورتوں سے کوئی سروکار ہی نہیں یہاں بھی «بَنَاتِكَ» یعنی تیری لڑکیاں کے لفظ سے مراد قوم کی عورتیں ہیں۔ اور تجھے معلوم ہے کہ ہمارا ارادہ کیا ہے یعنی ہمارا ارادہ ان لڑکوں سے ملنے کا ہے۔ پھر جھگڑا اور نصیحت بے سود ہے۔
صفحہ نمبر3890
لوط علیہ السلام کے گھر فرشتوں کا نزول ٭٭
ابراہیم علیہ السلام کو یہ فرشتے اپنا بھید بتا کر وہاں سے چل دیئے اور لوط علیہ السلام کے پاس ان کے زمین میں یا ان کے مکان میں پہنچے۔ مرد خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تھے تاکہ قوم لوط کی پوری آزمائش ہو جائے، لوط علیہ السلام ان مہمانوں کو دیکھ کر قوم کی حالت سامنے رکھ کر سٹ پٹا گئے، دل ہی دل میں پیچ و تاب کھانے لگے کہ اگر انہیں مہمان بناتا ہوں تو ممکن ہے خبر پاکر لوگ چڑھ دوڑیں اور اگر مہمان نہیں رکھتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑ جائیں گے۔ زبان سے بھی نکل گیا کہ آج کا دن بڑا ہیبت ناک دن ہے۔ قوم والے اپنی شرارت سے باز نہیں آئیں گے۔ مجھ میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ کیا ہوگا؟
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لوط علیہ السلام اپنی زمین پر تھے کہ یہ فرشتے بصورت انسان آئے اور ان کے مہمان بنے۔ شرما شرمی انکار تو نہ سکے اور انہیں لے کر گھر چلے، راستے میں صرف اس نیت سے کہ یہ اب بھی واپس چلے جائیں ان سے کہا کہ واللہ یہاں کے لوگوں سے زیادہ برے اور خبیث لوگ اور کہیں نہیں ہیں۔ کچھ دور جا کر پھر یہی کہا غرض گھر پہچنے تک چار بار یہی کہا۔ فرشتوں کو اللہ کا حکم بھی یہی تھا کہ ” جب تک ان کا نبی، ان کی برائی نہ بیان کرے انہیں ہلاک نہ کرنا “۔“
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے چل کر دوپہر کو یہ فرشتے نہر سدوم پہنچے وہاں لوط علیہ السلام کی صاحبزادی جو پانی لینے گئی تھیں، مل گئیں۔ ان سے انہوں نے پوچھا کہ یہاں ہم کہیں ٹھہر سکتے ہیں۔ اس نے کہا آپ یہیں رکیئے میں واپس آ کر جواب دوں گی۔ انہیں ڈر لگا کہ اگر قوم والوں کے ہاتھ یہ لگ گئے تو ان کی بڑی بےعزتی ہوگی۔ یہاں آ کر والد صاحب سے ذکر کیا کہ شہر کے دروازے پر چند پردیسی نوعمر لوگ ہیں، میں نے تو آج تک نہیں دیکھے، جاؤ اور انہیں ٹھہراؤ ورنہ قوم والے انہیں ستائیں گے۔
صفحہ نمبر3888
اس بستی کے لوگوں نے لوط علیہ السلام سے کہہ رکھا تھا کہ دیکھو کسی باہر والے کو تم اپنے ہاں ٹھہرایا نہ کرو۔ ہم آپ سب کچھ کر لیا کریں گے۔ آپ علیہ السلام نے جب یہ حالت سنی تو جا کر چپکے سے انہیں اپنے گھر لے آئے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔ مگر آپ علیہ السلام کی بیوی جو قوم سے ملی ہوئی تھی، اسی کے ذریعہ بات پھوٹ نکلی۔ اب کیا تھا۔ دوڑے بھاگے آ گئے، جسے دیکھو خوشیاں مناتا جلدی جلدی لپکتا چلا آتا ہے ان کی تو یہ خو خصلت ہو گئی تھی اس سیاہ کاری کو تو گویا انہوں نے عادت بنا لیا تھا۔
اس وقت اللہ کے نبی کریم علیہ السلام انہیں نصیحت کرنے لگے کہ ”تم اس بد خصلت کو چھوڑو اپنی خواہشیں عورتوں سے پوری کرو۔“ «بَنَاتِي» یعنی میری لڑکیاں۔ اس لیے فرمایا کہ ” ہر نبی اپنی امت کا گویا باپ ہوتا ہے “۔
قرآن کریم کی ایک اور آیت میں ہے کہ «قَالُوا أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعَالَمِينَ» [15-الحجر:70] ” اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ہم تو پہلے ہی آپ علیہ السلام کو منع کر چکے تھے کہ کسی کو اپنے ہاں نہ ٹھہرایا کرو “۔
لوط علیہ السلام نے انہیں سمجھایا اور دنیا آخرت کی بھلائی انہیں سجھائی اور کہا کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ» [15-الحجر:72-71] ” عورتیں ہی اس بات کے لیے موزوں ہیں، ان سے نکاح کر کے اپنی خواہش پوری کرنا ہی پاک کام ہے “۔
صفحہ نمبر3889
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی لڑکیوں کی نسبت یہ فرمایا تھا نہیں بلکہ نبی علیہ السلام اپنی پوری امت کا گویا باپ ہوتا ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔
امام ابن جریج فرماتے ہیں ”یہ بھی نہ سمجھنا چاہیئے کہ لوط علیہ السلام نے عورتوں سے بے نکاح ملاپ کرنے کو فرمایا ہو۔ نہیں مطلب آپ کا ان سے نکاح کر لینے کے حکم کا تھا۔“
فرماتے ہیں اللہ سے ڈرو میرا کہا مانو، عورتوں کی طرف رغبت کرو، ان سے نکاح کر کے حاجت روائی کرو۔ مردوں کی طرف اس رغبت سے نہ آؤ اور خصوصاً یہ تو میرے مہمان ہیں، میری عزت کا خیال کرو کیا تم میں ایک بھی سمجھدار، نیک راہ یافتہ بھلا آدمی نہیں۔ اس کے جواب میں ان سرکشوں نے کہا کہ ہمیں عورتوں سے کوئی سروکار ہی نہیں یہاں بھی «بَنَاتِكَ» یعنی تیری لڑکیاں کے لفظ سے مراد قوم کی عورتیں ہیں۔ اور تجھے معلوم ہے کہ ہمارا ارادہ کیا ہے یعنی ہمارا ارادہ ان لڑکوں سے ملنے کا ہے۔ پھر جھگڑا اور نصیحت بے سود ہے۔
صفحہ نمبر3890
لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب نازل ہوتا ہے ٭٭
لوط علیہ السلام نے جب دیکھا کہ میری نصیحت ان پر اثر نہیں کرتی تو انہیں دھمکایا کہ ”اگر مجھ میں قوت، طاقت ہوتی یا میرا کنبہ، قبیلہ زور دار ہوتا تو میں تمہیں تمہاری اس شرارت کا مزہ چکھا دیتا۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ اللہ کی رحمت ہو لوط علیہ السلام پر کہ وہ زور آور قوم کی پناہ لینا چاہتے تھے۔ مراد اس سے ذات اللہ تعالیٰ عزوجل ہے۔ آپ علیہ السلام کے بعد پھر جو پیغمبر بھیجا گیا وہ اپنے آبائی وطن میں ہی بھیجا گیا ۔ [صحیح بخاری:3372]
ان کی اس افسردگی، کامل ملال اور سخت تنگ دلی کے وقت فرشتوں نے آپ علیہ السلام کو ظاہر کر دیا کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں یہ لوگ ہم تک یا آپ علیہ السلام تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔ آپ علیہ السلام رات کے آخری حصے میں اپنے اہل و عیال کو لے کر یہاں سے نکل جائیے خود ان سب کے پیچھے رہیے۔ اور سیدھے اپنی راہ چلے جائیں قوم والوں کی آہ و بکا پر ان کے چیخنے چلانے پر تمہیں مڑ کر بھی نہ دیکھا چاہیئے۔ پھر اس اثبات سے لوط کی بیوی کا استثنا کر لیا کہ وہ اس حکم کی پابندی نہ کر سکے گی۔ وہ عذاب کے وقت قوم کی ہائے وائے سن کر مڑ کر دیکھے گی۔ اس لیے کہ رحمانی قضاء میں اس کا بھی ان کے ساتھ ہلاک ہونا طے ہو چکا ہے۔ ایک قرأت میں «إِلَّا امْرَأَتَكَ» ”ت“ کے پیش سے بھی ہے۔
جن لوگوں کے نزدیک پیش اور زبر دونوں جائز ہیں، ان کا بیان ہے کہ آپ علیہ السلام کی بیوی بھی یہاں سے نکلنے میں آپ علیہ السلام کے ساتھ تھی لیکن عذاب کے نازل ہونے پر قوم کا شور سن کر صبر نہ کر سکی اور مڑ کر ان کی طرف دیکھا اور زبان سے نکل گیا کہ ہائے میری قوم۔ اسی وقت آسمان سے ایک پتھر اس پر بھی آیا اور وہ ڈھیر ہو گئی۔ لوط علیہ السلام کی مزید تشفی کے لیے فرشتوں نے اس خبیث قوم کی ہلاکت کا وقت بھی بیان کر دیا کہ یہ صبح ہوتے ہی تباہ ہو جائے گی۔ اور صبح اب بالکل قریب ہے۔
صفحہ نمبر3893
یہ کور باطن آپ علیہ السلام کا گھر گھیرے ہوئے تھے اور ہر طرف سے لپکتے ہوئے آ پہنچے تھے۔ آیت میں ہے «وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ فَطَمَسْنَا أَعْيُنَهُمْ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ» [54-القمر:37-39] یعنی ” اور ان سے ان کے مہمانوں کو لے لینا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھیں مٹا دیں سو (اب) میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو، اور ان پر صبح سویرے ہی اٹل عذاب آ نازل ہوا، تو اب میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو “۔
لوط علیہ السلام دروازے پر کھڑے ہوئے ان لوطیوں کو روک رہے تھے، جب کسی طرح وہ نہ مانے اور جب لوط علیہ السلام آزردہ خاطر ہو کر تنگ آ گئے اس وقت جبرائیل علیہ السلام گھر میں سے نکلے اور ان کے منہ پر اپنا پر مارا جس سے ان کی آنکھیں اندھی ہو گئیں۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ خود ابراہیم علیہ السلام بھی ان لوگوں کے پاس آتے، انہیں سمجھاتے کہ دیکھو اللہ کا عذاب نہ خریدو مگر انہوں نے خلیل الرحمن علیہ السلام کی بھی نہ مانی۔ یہاں تک کہ عذاب کے آنے کا قدرتی وقت آ پہنچا۔ فرشتے لوط علیہ السلام کے پاس آئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت اپنے کھیت میں کام کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ آج کی رات ہم آپ علیہ السلام کے مہمان ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام کو فرمان رب ہو چکا تھا کہ جب تک لوط علیہ السلام تین مرتبہ ان کی بدچلنی کی شہادت نہ دے لیں۔ ان پر عذاب نہ کیا جائے۔ آپ علیہ السلام جب انہیں لے کر چلے تو چلنے کی خبر دی کہ یہاں کے لوگ بڑے بد ہیں یہ برائی ان میں گھسی ہوئی ہے۔ کچھ دور اور جانے کے بعد دوبارہ کہا کہ کیا تمہیں اس بستی کے لوگوں کی برائی کی خبر نہیں؟ میرے علم میں تو روئے زمین پر ان سے زیادہ برے لوگ نہیں، آہ میں تمہیں کہاں لے جاؤں؟ میری قوم تو تمام مخلوق سے بدتر ہے۔ اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے فرشتوں سے کہا دیکھو دو مرتبہ یہ کہہ چکے۔ جب انہیں لے کر آپ علیہ السلام اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے تو رنج افسوس سے رو دئیے اور کہنے لگے میری قوم تمام مخلوق سے بدتر ہے۔
صفحہ نمبر3894
تمہیں کیا معلوم نہیں کہ یہ کس بدی میں مبتلا ہیں؟ روئے زمین پر کوئی بستی اس بستی سے بری نہیں۔ اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے پھر فرشتوں سے فرمایا دیکھو تین مرتبہ یہ اپنی قوم کی بدچلنی کی شہادت دے چکے ہیں۔ یاد رکھنا اب عذاب ثابت ہو چکا ہے۔ گھر میں گئے اور یہاں سے آپ علیہ السلام کی بڑھیا بیوی اونچی جگہ پر چڑھ کر کپڑا ہلانے لگی جسے دیکھتے ہی بستی کے بدکار دوڑے پڑے۔
پوچھا کیا بات ہے اس نے کہا لوط کے ہاں مہمان آئے ہیں میں نے تو ان سے زیادہ خوبصورت اور ان سے زیادہ خوشبو والے لوگ کبھی دیکھے ہی نہیں۔ اب کیا تھا یہ خوشی خوشی مٹھیاں بند کئے دوڑتے بھاگتے لوط کے گھر گئے۔ چاروں طرف سے آپ کے گھر کو گھیر لیا۔ آپ نے انہیں قسمیں دیں، پند و نصائح کئے، فرمایا کہ ”عورتیں بہت ہیں۔“ لیکن وہ اپنی شرارت اور اپنے بد ارادے سے باز نہ آئے۔
اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے ان کے عذاب کی اجازت چاہی اللہ کی جانب سے اجازت مل گئی۔ آپ اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو گئے۔ آپ کے دو پر ہیں۔ جن پر موتیوں کا جڑاؤ ہے۔ آپ کے دانت صاف چمکتے ہوئے ہیں۔ آپ کی پیشانی اونچی اور بڑی ہے۔ مرجان کی طرح کے دانت ہیں لؤلؤ ہیں اور آپ کے پاؤں سبزی کی طرح ہیں۔ لوط علیہ السلام سے آپ نے فرما دیا کہ ”ہم تو تیرے پروردگار کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں، یہ لوگ تجھ تک پہنچ نہیں سکتے۔ آپ اس دروازے سے نکل جایئے۔“ یہ کہہ کر ان کے منہ پر اپنا پر مارا جس سے وہ اندھے ہو گئے۔ راستوں تک کو نہیں پہچان سکتے تھے۔ لوط علیہ السلام اپنی اہل کے لے کر راتوں رات چل دیئے یہ اللہ کا حکم بھی تھا۔ محمد بن کعب، قتادہ، سدی رحمہ اللہ علیہم وغیر کا یہی بیان ہے۔
صفحہ نمبر3895
لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب نازل ہوتا ہے ٭٭
لوط علیہ السلام نے جب دیکھا کہ میری نصیحت ان پر اثر نہیں کرتی تو انہیں دھمکایا کہ ”اگر مجھ میں قوت، طاقت ہوتی یا میرا کنبہ، قبیلہ زور دار ہوتا تو میں تمہیں تمہاری اس شرارت کا مزہ چکھا دیتا۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ اللہ کی رحمت ہو لوط علیہ السلام پر کہ وہ زور آور قوم کی پناہ لینا چاہتے تھے۔ مراد اس سے ذات اللہ تعالیٰ عزوجل ہے۔ آپ علیہ السلام کے بعد پھر جو پیغمبر بھیجا گیا وہ اپنے آبائی وطن میں ہی بھیجا گیا ۔ [صحیح بخاری:3372]
ان کی اس افسردگی، کامل ملال اور سخت تنگ دلی کے وقت فرشتوں نے آپ علیہ السلام کو ظاہر کر دیا کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں یہ لوگ ہم تک یا آپ علیہ السلام تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔ آپ علیہ السلام رات کے آخری حصے میں اپنے اہل و عیال کو لے کر یہاں سے نکل جائیے خود ان سب کے پیچھے رہیے۔ اور سیدھے اپنی راہ چلے جائیں قوم والوں کی آہ و بکا پر ان کے چیخنے چلانے پر تمہیں مڑ کر بھی نہ دیکھا چاہیئے۔ پھر اس اثبات سے لوط کی بیوی کا استثنا کر لیا کہ وہ اس حکم کی پابندی نہ کر سکے گی۔ وہ عذاب کے وقت قوم کی ہائے وائے سن کر مڑ کر دیکھے گی۔ اس لیے کہ رحمانی قضاء میں اس کا بھی ان کے ساتھ ہلاک ہونا طے ہو چکا ہے۔ ایک قرأت میں «إِلَّا امْرَأَتَكَ» ”ت“ کے پیش سے بھی ہے۔
جن لوگوں کے نزدیک پیش اور زبر دونوں جائز ہیں، ان کا بیان ہے کہ آپ علیہ السلام کی بیوی بھی یہاں سے نکلنے میں آپ علیہ السلام کے ساتھ تھی لیکن عذاب کے نازل ہونے پر قوم کا شور سن کر صبر نہ کر سکی اور مڑ کر ان کی طرف دیکھا اور زبان سے نکل گیا کہ ہائے میری قوم۔ اسی وقت آسمان سے ایک پتھر اس پر بھی آیا اور وہ ڈھیر ہو گئی۔ لوط علیہ السلام کی مزید تشفی کے لیے فرشتوں نے اس خبیث قوم کی ہلاکت کا وقت بھی بیان کر دیا کہ یہ صبح ہوتے ہی تباہ ہو جائے گی۔ اور صبح اب بالکل قریب ہے۔
صفحہ نمبر3893
یہ کور باطن آپ علیہ السلام کا گھر گھیرے ہوئے تھے اور ہر طرف سے لپکتے ہوئے آ پہنچے تھے۔ آیت میں ہے «وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ فَطَمَسْنَا أَعْيُنَهُمْ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ» [54-القمر:37-39] یعنی ” اور ان سے ان کے مہمانوں کو لے لینا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھیں مٹا دیں سو (اب) میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو، اور ان پر صبح سویرے ہی اٹل عذاب آ نازل ہوا، تو اب میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو “۔
لوط علیہ السلام دروازے پر کھڑے ہوئے ان لوطیوں کو روک رہے تھے، جب کسی طرح وہ نہ مانے اور جب لوط علیہ السلام آزردہ خاطر ہو کر تنگ آ گئے اس وقت جبرائیل علیہ السلام گھر میں سے نکلے اور ان کے منہ پر اپنا پر مارا جس سے ان کی آنکھیں اندھی ہو گئیں۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ خود ابراہیم علیہ السلام بھی ان لوگوں کے پاس آتے، انہیں سمجھاتے کہ دیکھو اللہ کا عذاب نہ خریدو مگر انہوں نے خلیل الرحمن علیہ السلام کی بھی نہ مانی۔ یہاں تک کہ عذاب کے آنے کا قدرتی وقت آ پہنچا۔ فرشتے لوط علیہ السلام کے پاس آئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت اپنے کھیت میں کام کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ آج کی رات ہم آپ علیہ السلام کے مہمان ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام کو فرمان رب ہو چکا تھا کہ جب تک لوط علیہ السلام تین مرتبہ ان کی بدچلنی کی شہادت نہ دے لیں۔ ان پر عذاب نہ کیا جائے۔ آپ علیہ السلام جب انہیں لے کر چلے تو چلنے کی خبر دی کہ یہاں کے لوگ بڑے بد ہیں یہ برائی ان میں گھسی ہوئی ہے۔ کچھ دور اور جانے کے بعد دوبارہ کہا کہ کیا تمہیں اس بستی کے لوگوں کی برائی کی خبر نہیں؟ میرے علم میں تو روئے زمین پر ان سے زیادہ برے لوگ نہیں، آہ میں تمہیں کہاں لے جاؤں؟ میری قوم تو تمام مخلوق سے بدتر ہے۔ اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے فرشتوں سے کہا دیکھو دو مرتبہ یہ کہہ چکے۔ جب انہیں لے کر آپ علیہ السلام اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے تو رنج افسوس سے رو دئیے اور کہنے لگے میری قوم تمام مخلوق سے بدتر ہے۔
صفحہ نمبر3894
تمہیں کیا معلوم نہیں کہ یہ کس بدی میں مبتلا ہیں؟ روئے زمین پر کوئی بستی اس بستی سے بری نہیں۔ اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے پھر فرشتوں سے فرمایا دیکھو تین مرتبہ یہ اپنی قوم کی بدچلنی کی شہادت دے چکے ہیں۔ یاد رکھنا اب عذاب ثابت ہو چکا ہے۔ گھر میں گئے اور یہاں سے آپ علیہ السلام کی بڑھیا بیوی اونچی جگہ پر چڑھ کر کپڑا ہلانے لگی جسے دیکھتے ہی بستی کے بدکار دوڑے پڑے۔
پوچھا کیا بات ہے اس نے کہا لوط کے ہاں مہمان آئے ہیں میں نے تو ان سے زیادہ خوبصورت اور ان سے زیادہ خوشبو والے لوگ کبھی دیکھے ہی نہیں۔ اب کیا تھا یہ خوشی خوشی مٹھیاں بند کئے دوڑتے بھاگتے لوط کے گھر گئے۔ چاروں طرف سے آپ کے گھر کو گھیر لیا۔ آپ نے انہیں قسمیں دیں، پند و نصائح کئے، فرمایا کہ ”عورتیں بہت ہیں۔“ لیکن وہ اپنی شرارت اور اپنے بد ارادے سے باز نہ آئے۔
اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے ان کے عذاب کی اجازت چاہی اللہ کی جانب سے اجازت مل گئی۔ آپ اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو گئے۔ آپ کے دو پر ہیں۔ جن پر موتیوں کا جڑاؤ ہے۔ آپ کے دانت صاف چمکتے ہوئے ہیں۔ آپ کی پیشانی اونچی اور بڑی ہے۔ مرجان کی طرح کے دانت ہیں لؤلؤ ہیں اور آپ کے پاؤں سبزی کی طرح ہیں۔ لوط علیہ السلام سے آپ نے فرما دیا کہ ”ہم تو تیرے پروردگار کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں، یہ لوگ تجھ تک پہنچ نہیں سکتے۔ آپ اس دروازے سے نکل جایئے۔“ یہ کہہ کر ان کے منہ پر اپنا پر مارا جس سے وہ اندھے ہو گئے۔ راستوں تک کو نہیں پہچان سکتے تھے۔ لوط علیہ السلام اپنی اہل کے لے کر راتوں رات چل دیئے یہ اللہ کا حکم بھی تھا۔ محمد بن کعب، قتادہ، سدی رحمہ اللہ علیہم وغیر کا یہی بیان ہے۔
صفحہ نمبر3895
آج کے ایٹم بم اس وقت کے پتھروں کی بارش ٭٭
سورج کے نکلنے کے وقت اللہ کا عذاب ان پر آ گیا۔ ان کی بستی سدوم نامی تہ و بالا ہو گئی۔ «وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَىٰ فَغَشَّاهَا مَا غَشَّىٰ» [53-النجم:53-54] ” عذاب نے اوپر تلے سے ڈھانک لیا “۔ آسمان سے پکی مٹی کے پتھر ان پر برسنے لگے۔ جو سخت، وزنی اور بہت بڑے بڑے تھے۔
صحیح بخاری شریف میں ہے «سِجِّينٍ سِجِّيلٍ» دونوں ایک ہی ہیں ۔ [صحیح بخاری:4684]
«مَّنضُودٍ» سے مراد پے در پے تہ بہ تہ ایک کے بعد ایک کے ہیں۔ ان پتھروں پر قدرتی طور پر ان لوگوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ جس کے نام کا پتھر تھا اسی پر گرتا تھا۔ وہ مثل طوق کے تھے جو سرخی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ یہ ان شہریوں پر بھی برسے اور یہاں کے جو لوگ اور گاؤں گوٹھ میں تھے ان پر بھی وہیں گرے۔ ان میں سے جو جہاں تھا وہیں پتھر سے ہلاک کیا گیا۔ کوئی کھڑا ہوا، کسی جگہ کسی سے باتیں کر رہا ہے وہیں پتھر آسمان سے آیا اور اسے ہلاک کر گیا۔ غرض ان میں سے ایک بھی نہ بچا۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جبرائیل علیہ السلام نے ان سب کو جمع کر کے ان کے مکانات اور مویشیوں سمیت اونچا اٹھا لیا یہاں تک کہ ان کے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آسمان کے فرشتوں نے سن لیں۔ آپ علیہ السلام اپنے داہنے پر کے کنارے پر ان کی بستی کو اٹھائے ہوئے تھے۔ پھر انہیں زمین پر الٹ دیا۔ ایک کو دوسرے سے ٹکرا دیا اور سب ایک ساتھ غارت ہو گئے اکے دکے جو رہ گئے تھے ان کے بھیجے آسمانی پتھروں نے پھوڑ دئیے اور محض بے نام و نشان کر دیئے گئے۔ مذکور ہے کہ ان کی چار بستیاں تھیں۔ ہربستی میں ایک لاکھ آدمیوں کی آبادی تھی۔ ایک روایت میں ہے تین بستیاں تھیں۔ بڑی بستی کا نام سدوم تھا۔ یہاں کبھی کبھی خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی آ کر وعظ نصیحت فرما جایا کرتے تھے۔ پھر فرماتا ہے ” یہ چیزیں کچھ ان سے دور نہ تھیں “۔ سنن کی حدیث میں ہے کسی اگر تم لواطت کرتا ہوا پاؤ تو اوپر والے نیچے والے دونوں کو قتل کر دو ۔ [سنن ابوداود:4462،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر3897
آج کے ایٹم بم اس وقت کے پتھروں کی بارش ٭٭
سورج کے نکلنے کے وقت اللہ کا عذاب ان پر آ گیا۔ ان کی بستی سدوم نامی تہ و بالا ہو گئی۔ «وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَىٰ فَغَشَّاهَا مَا غَشَّىٰ» [53-النجم:53-54] ” عذاب نے اوپر تلے سے ڈھانک لیا “۔ آسمان سے پکی مٹی کے پتھر ان پر برسنے لگے۔ جو سخت، وزنی اور بہت بڑے بڑے تھے۔
صحیح بخاری شریف میں ہے «سِجِّينٍ سِجِّيلٍ» دونوں ایک ہی ہیں ۔ [صحیح بخاری:4684]
«مَّنضُودٍ» سے مراد پے در پے تہ بہ تہ ایک کے بعد ایک کے ہیں۔ ان پتھروں پر قدرتی طور پر ان لوگوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ جس کے نام کا پتھر تھا اسی پر گرتا تھا۔ وہ مثل طوق کے تھے جو سرخی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ یہ ان شہریوں پر بھی برسے اور یہاں کے جو لوگ اور گاؤں گوٹھ میں تھے ان پر بھی وہیں گرے۔ ان میں سے جو جہاں تھا وہیں پتھر سے ہلاک کیا گیا۔ کوئی کھڑا ہوا، کسی جگہ کسی سے باتیں کر رہا ہے وہیں پتھر آسمان سے آیا اور اسے ہلاک کر گیا۔ غرض ان میں سے ایک بھی نہ بچا۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جبرائیل علیہ السلام نے ان سب کو جمع کر کے ان کے مکانات اور مویشیوں سمیت اونچا اٹھا لیا یہاں تک کہ ان کے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آسمان کے فرشتوں نے سن لیں۔ آپ علیہ السلام اپنے داہنے پر کے کنارے پر ان کی بستی کو اٹھائے ہوئے تھے۔ پھر انہیں زمین پر الٹ دیا۔ ایک کو دوسرے سے ٹکرا دیا اور سب ایک ساتھ غارت ہو گئے اکے دکے جو رہ گئے تھے ان کے بھیجے آسمانی پتھروں نے پھوڑ دئیے اور محض بے نام و نشان کر دیئے گئے۔ مذکور ہے کہ ان کی چار بستیاں تھیں۔ ہربستی میں ایک لاکھ آدمیوں کی آبادی تھی۔ ایک روایت میں ہے تین بستیاں تھیں۔ بڑی بستی کا نام سدوم تھا۔ یہاں کبھی کبھی خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی آ کر وعظ نصیحت فرما جایا کرتے تھے۔ پھر فرماتا ہے ” یہ چیزیں کچھ ان سے دور نہ تھیں “۔ سنن کی حدیث میں ہے کسی اگر تم لواطت کرتا ہوا پاؤ تو اوپر والے نیچے والے دونوں کو قتل کر دو ۔ [سنن ابوداود:4462،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر3897
اہل مدین کی جانب شعیب علیہ السلام کی آمد ٭٭
عرب کا قبیلہ جو حجاز و شام کے درمیان معان کے قریب رہتا تھا ان کے شہروں کا نام اور خود ان کا نام بھی مدین تھا۔ ان کی جانب اللہ تعالیٰ کے نبی شعیب علیہ السلام بھیجے گئے۔ آپ علیہ السلام ان میں شریف النسب اور اعلی خاندان کے تھے اور انہیں میں سے تھے۔ اسی لیے «أَخَاهُمْ شُعَيْبًا» کے لفظ سے بیان کیا یعنی ان کے بھائی۔
آپ علیہ السلام نے بھی انبیاء علیہم السلام کی عادت اور سنت اور اللہ کے پہلے اور تاکیدی حکم کے مطابق اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت کرنے کا حکم دیا، ساتھ ہی ناپ تول کی کمی سے روکا کہ کسی کا حق نہ مارو، اور اللہ کا یہ احسان یاد لایا کہ اس نے تمہیں فارغ البال اور آسودہ حال کر رکھا ہے۔ اور اپنا ڈر ظاہر کیا کہ اپنی مشرکانہ روش اور ظالمانہ حرکت سے اگر باز نہ آؤ گے تو تمہاری یہ اچھی حالت بد حالی سے بدل جائے گی۔
صفحہ نمبر3899
ناپ تول میں انصاف کرو ٭٭
پہلے تو اپنی قوم کو ناپ تول کی کمی سے روکا۔ اب لین دین کے دونوں وقت عدل و انصاف کے ساتھ پورے پورے ناپ تول کا حکم دیتے ہیں۔ اور زمین میں فساد اور تباہ کاری کرنے کو منع کرتے ہیں۔ ان میں رہزنی اور ڈاکے مارنے کی بد خصلت بھی تھی۔ لوگوں کے حق مار کر نفع اٹھانے سے اللہ کا دیا ہوا نفع بہت بہتر ہے۔ اللہ کی یہ وصیت تمہارے لیے خیریت لیے ہوئے ہے۔ عذاب سے جیسے ہلاکت ہوتی ہے اس کے مقابلے میں رحمت سے برکت ہوتی ہے۔ ٹھیک تول کر پورے ناپ کر حلال سے جو نفع ملے اسی میں برکت ہوتی ہے۔
«قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ» [5-المائدہ:100] ” خبیث و طیب میں کیا مساوات؟ دیکھو میں تمہیں ہر وقت دیکھ نہیں رہا۔ تمہیں برائیوں کا ترک اور نیکیوں کا فعل اللہ ہی کے لیے کرنا چاہیئے نہ کہ دنیا دکھاوے کے لیے “۔
صفحہ نمبر3900
ناپ تول میں انصاف کرو ٭٭
پہلے تو اپنی قوم کو ناپ تول کی کمی سے روکا۔ اب لین دین کے دونوں وقت عدل و انصاف کے ساتھ پورے پورے ناپ تول کا حکم دیتے ہیں۔ اور زمین میں فساد اور تباہ کاری کرنے کو منع کرتے ہیں۔ ان میں رہزنی اور ڈاکے مارنے کی بد خصلت بھی تھی۔ لوگوں کے حق مار کر نفع اٹھانے سے اللہ کا دیا ہوا نفع بہت بہتر ہے۔ اللہ کی یہ وصیت تمہارے لیے خیریت لیے ہوئے ہے۔ عذاب سے جیسے ہلاکت ہوتی ہے اس کے مقابلے میں رحمت سے برکت ہوتی ہے۔ ٹھیک تول کر پورے ناپ کر حلال سے جو نفع ملے اسی میں برکت ہوتی ہے۔
«قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ» [5-المائدہ:100] ” خبیث و طیب میں کیا مساوات؟ دیکھو میں تمہیں ہر وقت دیکھ نہیں رہا۔ تمہیں برائیوں کا ترک اور نیکیوں کا فعل اللہ ہی کے لیے کرنا چاہیئے نہ کہ دنیا دکھاوے کے لیے “۔
صفحہ نمبر3900
پرانے معبودوں سے دستبرداری سے انکار ٭٭
اعمش فرماتے ہیں صلواۃ سے مراد یہاں قرأت ہے۔ وہ لوگ ازراہ مذاق کہتے ہیں کہ واہ آپ اچھے رہے کہ آپ کو آپ کی قرآت نے حکم دیا کہ ہم باپ دادوں کی روش کو چھوڑ کر اپنے پرانے معبودوں کی عبادت سے دست بردار ہو جائیں۔ یہ اور بھی لطف ہے کہ ہم اپنے مال کے بھی مالک نہ رہیں کہ جس طرح جو چاہیں اس میں تصرف کریں کسی کو ناپ تول میں کم نہ دیں۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”واللہ واقعہ یہی ہے کہ شعیب علیہ السلام کی نماز کا حکم یہی تھا کہ آپ علیہ السلام انہیں غیر اللہ کی عبادت اور مخلوق کے حقوق کے غصب سے روکیں۔“
ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ان کے اس قول کا مطلب کہ جو ہم چاہیں، اپنے مالوں میں کریں یہ ہے کہ زکوٰۃ کیوں دیں؟ نبی اللہ علیہ السلام کو ان کا حلیم و رشید کہنا ازراہ مذاق و حقارت تھا۔“
صفحہ نمبر3902
قوم کو تبلیغ ٭٭
آپ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”دیکھو میں اپنے رب کی طرف سے کسی دلیل و حجت اور بصیرت پر قائم ہوں اور اسی کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں۔ اس نے اپنی مہربانی سے مجھے بہترین روزی دے رکھی ہے۔ یعنی نبوت یا رزق حلال یا دونوں، میری روش تم یہ نہ پاؤ گے کہ تمہیں تو بھلی بات کا حکم کروں اور خود تم سے چھپ کر اس کے برعکس کروں۔ میری مراد تو اپنی طاقت کے مطابق اصلاح کرنی ہے۔ ہاں میرے ارادہ کی کامیابی اللہ کے ہاتھ ہے۔ اسی پر میرا بھروسہ اور توکل ہے اور اسی کی جانب رجوع توجہ اور جھکنا ہے۔“
مسند امام احمد میں ہے حکیم بن معاویہ اپنے باپ سے راویت کرتے ہیں کہ اس کے بھائی مالک نے کہا کہ ”اے معاویہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پڑوسیوں کو گرفتار کر رکھا ہے، تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہاری بات چیت بھی ہو چکی ہے اور تمہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہچانتے بھی ہیں۔ پس میں اس کے ساتھ چلا۔ اس نے کہا کہ میرے پڑوسیوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رہا کر دیجئیے وہ مسلمان ہو چکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھر لیا۔ وہ غضب ناک ہو کر اُٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا واللہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا جواب دیا تو لوگ کہیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تو پڑوسیوں کے بارہ میں اور حکم دیتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کے خلاف کرتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا لوگوں نے ایسی بات زبان سے نکالی ہے؟ اگر میں ایسا کروں تو اس کا وبال مجھ پر ہی ہے ان پر تو نہیں، جاؤ اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو ۔ [مسند احمد:447/4:حسن]
صفحہ نمبر3903
اور روایت میں ہے کہ اس کی قوم کے چند لوگ کسی شبہ میں گرفتار تھے۔ اس پر قوم کا ایک آدمی خاص حاضر ہوا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ فرما رہے تھے۔ اس نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اوروں کو روکتے ہیں اور خود اسے کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا نہیں۔ اس لیے پوچھا کہ لوگ کیا کہتے ہیں؟ بہز بن حکیم کے دادا کہتے ہیں میں نے بیچ میں بولنا شروع کر دیا کہ اچھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں یہ الفاظ نہ پڑیں کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے میری قوم کے لیے کوئی بد دعا نکل جائے کہ پھر انہیں فلاح نہ ملے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر اسی کوشش میں رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سمجھ لی اور فرمانے لگے کیا انہوں نے ایسی بات زبان سے نکالی؟ یا ان میں سے کوئی اس کا قائل ہے؟ واللہ اگر میں ایسا کروں تو اس کا بوجھ بار میرے ذمے ہے ان پر کچھ نہیں۔ اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو ۔ [سنن ترمذي:1417:حسن]
اسی قبیل سے وہ حدیث بھی ہے جسے امام احمد رحمہ اللہ لائے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میری جانب سے کوئی ایسی حدیث سنو کہ تمہارے دل اس کا انکار کریں اور تمہارے بدن اور بال اس سے علیحدگی کریں یعنی متاثر نہ ہوں اور تم سمجھ لو کہ وہ تم سے بہت دور ہے تو میں اس سے اس سے بھی زیادہ دور ہوں ۔ [مسند احمد:497/3:قال الشيخ الألباني:صحیح] اس کی اسناد صحیح ہے۔
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”ایک عورت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کیا آپ رضی اللہ عنہ بالوں میں جوڑ لگانے کو منع کرتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں۔“ اس نے کہا آپ رضی اللہ عنہ کے گھر کی بعض عورتیں تو ایسا کرتی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر ایسا ہو تو میں نے اللہ کے نیک بندے کی وصیت کی حفاظت نہیں کی۔ میرا ارادہ نہیں کہ جس چیز سے تمہیں روکوں اس کے برعکس خود کروں۔“
ابو سلیمان ضبی کہتے ہیں کہ ”ہمارے پاس امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے رسالے آتے تھے جن میں «الْأَمْرُ وَالنَّهْيُ» لکھے ہوئے ہوتے تھے اور آخر میں یہ لکھا ہوتا تھا کہ میں بھی اس میں ہی ہوں جو اللہ کے نیک بندے نے فرمایا کہ ” میری توفیق اللہ ہی کے فضل سے ہے۔ اسی پر میرا توکل ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں “۔
صفحہ نمبر3904
میری عداوت میں اپنی بربادی مت مول لو ٭٭
فرماتے ہیں کہ ”میری عداوت اور بعض میں آ کر تم اپنے کفر اور اپنے گناہوں پر جم نہ جاؤ ورنہ تمہیں وہ عذاب پہنچے گا جو تم سے پہلے ایسے کاموں کا ارتکاب کرنے والوں کو پہنچا ہے۔ خصوصاً قوم لوط علیہ السلام جو تم سے قریب زمانے میں ہی گزری ہے اور قریب جگہ میں ہے تم اپنے گذشتہ گناہوں کی معافی مانگو۔ آئندہ کے لیے گناہوں سے توبہ کرو۔ ایسا کرنے والوں پر میرا رب بہت ہی مہربان ہو جاتا ہے اور ان کو اپنا پیارا بنا لیتا ہے۔“
ابو لیلی کندی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ”میں اپنے مالک کا جانور تھامے کھڑا تھا۔ لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کو گھیرے ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اوپر سے سر بلند کیا اور یہی آیت تلاوت فرمائی، اور فرمایا ”میری قوم کے لوگو مجھے قتل نہ کرو، تم اسی طرح تھے۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسری میں ڈال کر دکھائیں۔
صفحہ نمبر3905
میری عداوت میں اپنی بربادی مت مول لو ٭٭
فرماتے ہیں کہ ”میری عداوت اور بعض میں آ کر تم اپنے کفر اور اپنے گناہوں پر جم نہ جاؤ ورنہ تمہیں وہ عذاب پہنچے گا جو تم سے پہلے ایسے کاموں کا ارتکاب کرنے والوں کو پہنچا ہے۔ خصوصاً قوم لوط علیہ السلام جو تم سے قریب زمانے میں ہی گزری ہے اور قریب جگہ میں ہے تم اپنے گذشتہ گناہوں کی معافی مانگو۔ آئندہ کے لیے گناہوں سے توبہ کرو۔ ایسا کرنے والوں پر میرا رب بہت ہی مہربان ہو جاتا ہے اور ان کو اپنا پیارا بنا لیتا ہے۔“
ابو لیلی کندی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ”میں اپنے مالک کا جانور تھامے کھڑا تھا۔ لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کو گھیرے ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اوپر سے سر بلند کیا اور یہی آیت تلاوت فرمائی، اور فرمایا ”میری قوم کے لوگو مجھے قتل نہ کرو، تم اسی طرح تھے۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسری میں ڈال کر دکھائیں۔
صفحہ نمبر3905