Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Ar-Ra'd
Tafsir Ibn Kathir · The Thunder · 43 ayat · ayat 31–43 · Quran text →
قرآن حکیم کی صفات جلیلہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اس پاک کتاب قرآن کریم کی تعریفیں بیان فرما رہا ہے اگر ” سابقہ کتابوں میں کسی کتاب کے ساتھ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جانے والے اور زمین پھٹ جانے والی اور مردے جی اٹھنے والے ہوتے تو یہ قرآن جو تمام سابقہ کتابوں سے بڑھ چڑھ کر ہے ان سب سے زیادہ اس بات کا اہل تھا اس میں تو وہ معجز بیانی ہے کہ سارے جنات وانسان مل کر بھی اس جیسی ایک سورت نہ بنا کر لا سکے۔ یہ مشرکین اس کے بھی منکر ہیں تو معاملہ سپرد رب کرو۔ وہ مالک کل کہ، تمام کاموں کا مرجع وہی ہے، وہ جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے، جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوتا۔ اس کے بھٹکائے ہوئے کی رہبری اور اس کے راہ دکھائے ہوئے کی گمراہی کسی کے بس میں نہیں “۔ یہ یاد رہے کہ قرآن کا اطلاق اگلی الہامی کتابوں پر بھی ہوتا ہے اس لیے کہ وہ سب سے مشتق ہے۔
صفحہ نمبر4162
مسند میں ہے داؤد علیہ السلام پر قرآن اس قدر آسان کردیا گیا تھا کہ ان کے حکم سے سواری کسی جاتی اس کے تیار ہونے سے پہلے ہی وہ قرآن کو ختم کر لیتے، سوا اپنے ہاتھ کی کمائی کے وہ اور کچھ نہ کھاتے تھے ۔ [صحیح بخاری:3417] پس مراد یہاں قرآن سے زبور ہے۔
” کیا ایماندار اب تک اس سے مایوس نہیں ہوئے کہ تمام مخلوق ایمان نہیں لائے گی۔ کیا وہ مشیت الٰہی کے خلاف کچھ کر سکتے ہیں۔ رب کی یہ منشا ہی نہیں اگر ہوتی تو روئے زمین کے لوگ مسلمان ہو جاتے۔ بھلا اس قرآن کے بعد کس معجزے کی ضرورت دنیا کو رہ گئی؟ اس سے بہتر واضح، اس سے صاف، اس سے زیادہ دلوں میں گھر کرنے والا اور کون سا کلام ہوگا؟ اسے تو اگر بڑے سے بڑے پہاڑ پر اتارا جاتا تو وہ بھی خشیت الٰہی سے چکنا چور ہو جاتا “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر نبی کو ایسی چیز ملی کہ لوگ اس پر ایمان لائیں۔ میری ایسی چیز اللہ کی یہ وحی ہے پس مجھے امید ہے کہ سب نبیوں سے زیادہ تابعداروں والا میں ہو جاؤں گا ۔ [صحیح بخاری:4981]
مطلب یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے معجزے ان کے ساتھ ہی چلے گئے اور میرا یہ معجزہ جیتا جاگتا رہتی دنیا تک رہے گا، نہ اس کے عجائبات ختم ہوں نہ یہ کثرت تلاوت سے پرانا ہو نہ اس سے علماء کا پیٹ بھر جائے۔ یہ فضل ہے دل لگی نہیں۔ جو سرکش اسے چھوڑ دے گا اللہ اسے توڑ دے گا جو اس کے سوا اور میں ہدایت تلاش کرے گا اسے اللہ گمراہ کردے گا۔
صفحہ نمبر4163
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کافروں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں کے پہاڑ یہاں سے ہٹوا دیں اور یہاں کی زمین زراعت کے قابل ہو جائے اور جس طرح سیلمان علیہ السلام زمین کی کھدائی ہوا سے کراتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی کرا دیجئیے یا جس طرح عیسیٰ علیہ السلام مردوں کو زندہ کر دیتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی کر دیجئیے اس پر یہ آیت اتری ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:20398:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”اگر کسی قرآن کے ساتھ یہ امور ظاہر ہوتے تو اس تمہارے قرآن کے ساتھ بھی ہوتے سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے لیکن وہ ایسا نہیں کرتا تاکہ تم سب کو آزما لے اپنے اختیار سے ایمان لاؤ یا نہ لاؤ۔ کیا ایمان والے نہیں جانتے؟
«يَيْأَسِ» کے بدلے دوسری جگہ «يَتَبَيَّنِ» بھی ہے، ایماندار ان کی ہدایت سے مایوس ہو چکے تھے۔ ہاں اللہ کے اختیار میں کسی کا بس نہیں وہ اگر چاہے تمام مخلوق کو ہدایت پر کھڑا کر دے۔ یہ کفار برابر دیکھ رہے ہیں کہ ان کے جھٹلانے کی وجہ سے اللہ کے عذاب برابر ان پر برستے رہتے ہیں یا ان کے آس پاس آ جاتے ہیں پھر بھی یہ نصیحت حاصل نہیں کرتے؟
جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [46۔ الأحقاف:27] یعنی ” ہم نے تمہارے آس پاس کی بہت سی بستیوں کو ان کی بد کرداریوں کی وجہ سے غارت و برباد کر دیا اور طرح طرح سے اپنی نشانیاں ظاہر فرمائیں کہ لوگ برائیوں سے باز رہیں “۔
صفحہ نمبر4164
اور آیت میں ہے «أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغَالِبُونَبِ» [21-الأنبياء:44] ” کیا وہ نہیں دیکھ رہے کہ ہم زمین کو گھٹاتے چلے آ رہے ہیں کیا اب بھی اپنا ہی غلبہ مانتے چلے جائیں گے؟ “
«تَحُلُّ» کا فاعل «قَارِعَةٌ» ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:391/7:] یہی ظاہر اور مطابق روانی عبارت ہے لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «قَارِعَةٌ» پہنچے یعنی چھوٹا سا لشکر اسلامی یا تو خود ان کے شہر کے قریب اتر پڑے یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تک کہ وعدہ ربانی آ پہنچے اس سے مراد فتح مکہ ہے۔
آپ رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ «قَارِعَةٌ» سے مراد آسمانی عذاب ہے اور آس پاس اترنے سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے لشکروں سمیت ان کی حدود میں پہنچ جانا ہے اور ان سے جہاد کرنا ہے۔
ان سب کا قول ہے کہ یہاں وعدہ الٰہی سے مراد فتح مکہ ہے۔ لیکن حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ اللہ کا وعدہ اپنے رسولوں کی نصرت وامداد کا ہے وہ کبھی ٹلنے والا نہیں انہیں اور ان کے تابعداروں کو ضرور بلندی نصیب ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «فَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّـهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ» [14-ابراھیم:47] ” یہ غلط گمان ہرگز نہ کرو کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے۔ اللہ غالب ہے اور بدلہ لینے والا “۔
صفحہ نمبر4165
سچائی کا مذاق اڑانا آج بھی جاری ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کے غلط رویہ سے رنج وفکر نہ کریں آپ سے پہلے کے پیغمبروں کا بھی یونہی مذاق اڑایا گیا تھا میں نے ان کافروں کو بھی کچھ دیر تو ڈھیل دی تھی آخر بری طرح پکڑ لیا تھا اور نام و نشان تک مٹا دیا تھا۔ تجھے معلوم ہے کہ کس کیفیت سے میرے عذاب ان پر آئے؟ اور ان کا انجام کیسا کچھ ہوا؟ “
جیسے فرمان ہے «وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَيَّ الْمَصِيرُ» [22-الحج:48] ” بہت سی بستیاں ہیں جو ظلم کے باوجود ایک عرصہ سے دنیا میں مہلت لیے رہیں لیکن آخرش اپنی بداعمالیوں کی پاداش میں عذابوں کا شکار ہوئیں “۔
بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو وہ حیران رہ جاتا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [11۔ ھود:102] ، کی تلاوت کی ۔ [صحیح بخاری:4686]
صفحہ نمبر4166
عالم خیر و شر ٭٭
اللہ تعالیٰ ہر انسان کے اعمال کا محافظ ہے ہر ایک کے اعمال کو جانتا ہے، ہر نفس پر نگہبان ہے، ہر عامل کے خیر و شر کے علم سے باخبر ہے۔ کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی کام اس کی بے خبری میں نہیں ہوتا۔
ہر حالت کا اسے علم ہے ہر عمل پر وہ موجود ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا» [6-الأنعام:59] ” ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے “۔ «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» [11-ھود:6] ” ہر جاندار کی روزی اللہ کے ذمے ہے ہر ایک کے ٹھکانے کا اسے علم ہے ہر بات اس کی کتاب میں لکھی ہوئی ہے “، «يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى» [20-طه:7] ” ظاہر وباطن ہر بات کو وہ جانتا ہے “ «وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِن قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ» [10-یونس:61] ” تم جہاں ہو وہاں اللہ تمہارے ساتھ ہے تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے ان صفتوں والا اللہ کیا تمہارے ان جھوٹے معبودوں جیسا ہے؟ جو نہ سنیں، نہ دیکھیں، نہ اپنے لیے کسی چیز کے مالک، نہ کسی اور کے نفع نقصان کا انہیں اختیار “۔
اس جواب کو حذف کر دیا کیونکہ دلالت کلام موجود ہے۔ اور وہ فرمان الٰہی «وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظَاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مَكْرُهُمْ وَصُدُّوا عَنِ السَّبِيلِ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ» [13-الرعد:33] ہے، ” انہوں نے اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک ٹھہرایا اور ان کی عبادت کرنے لگے تم ذرا ان کے نام تو بتاؤ ان کے حالات تو بیان کرو تاکہ دنیا جان لے کہ وہ محض بے حقیقت ہیں کیا تم زمین کی جن چیزوں کی خبر اللہ کو دے رہے ہو جنہیں وہ نہیں جانتا یعنی جن کا وجود ہی نہیں “۔
صفحہ نمبر4167
اس لیے کہ اگر وجود ہوتا تو علم الٰہی سے باہر نہ ہوتا کیونکہ اس پر کوئی مخفی سے مخفی چیز بھی حقیقتاً مخفی نہیں یا صرف اٹکل پچو باتیں بنا رہے ہو؟ «إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّـهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَىٰ» [53-النجم:23] ” فضول گپ مار رہے ہو تم نے آپ ان کے نام گھڑ لیے، تم نے ہی انہیں نفع نقصان کا مالک قرار دیا اور تم نے ہی ان کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔ یہی تمہارے بڑے کرتے رہے “۔
نہ تو تمہارے ہاتھ میں کوئی ربانی دلیل ہے نہ اور کوئی ٹھوس دلیل یہ تو صرف وہم پرستی اور خواہش پروری ہے۔ ہدایت اللہ کی طرف سے نازل ہو چکی ہے۔ کفار کا مکر انہیں بھلے رنگ میں دکھائی دے رہا ہے وہ اپنے کفر پر اور اپنے شرک پر ہی ناز کر رہے ہیں دن رات اسی میں مشغول ہیں اور اسی کی طرف اوروں کو بلا رہے ہیں۔ جیسے فرمایا «وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاءَ فَزَيَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِيْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِيْنَ» [41۔ فصلت:25] ، ” ان کے شیطانوں نے ان کی بےڈھنگیاں ان کے سامنے دلکش بنا دی ہیں یہ راہ اللہ سے طریقہ ہدی سے روک دیئے گئے ہیں “۔
«وَصُدُّوا» ایک قرأت اس کی «وَصَدُّوْا» بھی ہے یعنی انہوں نے اسے اچھا جان کر پھر اوروں کو اس میں پھانسنا شروع کر دیا اور راہ رسول سے لوگوں کو روکنے لگے رب کے گمراہ کئے ہوئے لوگوں کو کون راہ دکھا سکے؟
جیسے فرمایا «وَمَن يُرِدِ اللَّـهُ فِتْنَتَهُ فَلَن تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّـهِ شَيْئًا» [5-المائدہ:41] ” جسے اللہ فتنے میں ڈالنا چاہے تو اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ بھی تو اختیار نہیں “۔
اور آیت میں ہے «إِن تَحْرِصْ عَلَىٰ هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي مَن يُضِلُّ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ» [16-النحل:37] ” گو تو ان کی ہدایت کا لالچی ہو لیکن اللہ ان گمراہوں کو راہ دکھانا نہیں چاہتا پھر کون ہے جو ان کی مدد کرے “۔
صفحہ نمبر4168
کافر موت مانگیں گے ٭٭
کفار کی سزا اور نیک کاروں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کافروں کا کفر و شرک بیان فرما کر ان کی سزا بیان فرمائی کہ ” وہ مومنوں کے ہاتھوں قتل و غارت ہوں گے، اس کے ساتھ ہی آخرت کے سخت تر عذابوں میں گرفتار ہوں گے جو اس دنیا کی سزا سے درجہا بدتر ہیں “۔
ملا عنہ کرنے والے میاں بیوی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہی ہلکا ہے ۔ [صحیح مسلم:1493] یہاں کا عذاب فانی وہاں کا باقی اور اس آگ کا عذاب جو یہاں کی آگ سے ستر حصے زیادہ تیز ہے پھر قید وہ جو تصور میں بھی نہ آ سکے۔
جیسے فرمان ہے «فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ» [89۔الفجر:26،25] ، ” آج اس عذاب جیسے نہ کسی کے عذاب نہ اس جیسی کسی کی قید و بند “۔
فرمان ہے «بَلْ كَذَّبُوا بِالسَّاعَةِ وَأَعْتَدْنَا لِمَن كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيرًا إِذَا رَأَتْهُم مِّن مَّكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا لَّا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا قُلْ أَذَٰلِكَ خَيْرٌ أَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ كَانَتْ لَهُمْ جَزَاءً وَمَصِيرًا» » [25-الفرقان:11-15] ، ” قیامت کے منکروں کے لیے ہم نے آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے دور سے ہی انہیں دیکھتے ہی شور و غل شروع کر دے گی وہاں کے تنگ و تاریک مکانات میں جب یہ جکڑے ہوئے ڈالے جائیں گے تو ہائے وائے کرتے ہوئے موت مانگنے لگیں گے۔ ایک ہی موت کیا مانگتے ہو بہت سے موتیں مانگو۔ اب بتاؤ کہ یہ ٹھیک ہے یا جنت خلد ٹھیک ہے جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے کہ وہ ان کا بدلہ ہے اور ان کا ہمیشہ رہنے کا ٹھکانا “۔
پھر نیکوں کا انجام بیان فرماتا ہے کہ «مَّثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ فِيهَا أَنْهَارٌ مِّن مَّاءٍ غَيْرِ آسِنٍ وَأَنْهَارٌ مِّن لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَأَنْهَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ وَأَنْهَارٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى وَلَهُمْ فِيهَا مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ» [47-محمد:15] ” ان سے جن جنتوں کا وعدہ ہے اس کی ایک صفت تو یہ ہے کہ اس کے چاروں طرف نہریں جاری ہیں جہاں چاہیں پانی لے جائیں پانی نہ بگڑنے والا پھر دودھ کی نہریں ہیں اور دودھ بہی ایسا جس کا مزہ کبھی نہ بگڑے اور شراب کی نہریں ہیں جس میں صرف لذت ہے۔ نہ بدمزگی، نہ بے ہودہ نشہ، اور صاف شہد کی نہریں ہیں اور ہر قسم کے پھل ہیں اور ساتھ ہی رب کی رحمت مالک معرفت اس کے پھل ہمیشگی والے اس کی کھانے پینے کی چیزیں کبھی فنا ہونے والی نہیں۔ (کیا یہ پرہیزگار) ان کی طرح (ہو سکتے) ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جن کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا “۔
صفحہ نمبر4169
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز پڑھی تھی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پچھلے پاؤں پیچھے کو ہٹنے لگے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں میں نے جنت کو دیکھا تھا اور چاہا تھا کہ ایک خوشہ توڑ لوں اگر لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے ۔ [صحیح بخاری:1052]
ابو یعلیٰ میں ہے کہ ایک دن ظہر کی نماز میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناگاہ آگے بڑھے اور ہم بھی بڑھے پھر ہم نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا کوئی چیز لینے کا ارادہ کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹ آئے۔ نماز کے خاتمہ کے بعد ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! آج تو ہم نے آپ کو ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا کہ آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں میرے سامنے جنت پیش کی گئی جو تروتازگی سے مہک رہی تھی میں نے چاہا کہ اس میں سے ایک خوشہ انگور کا توڑ لاؤں لیکن میرے اور اس کے درمیان آڑ کر دی گئی اگر میں اسے توڑ لاتا تو تمام دنیا پوری دنیا تک اسے کھاتی رہتی اور پھر بھی ذار سا بھی کم نہ ہوتا“ ۔ [مسند احمد:352/3:ضعیف]
ایک دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا جنت میں انگور ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے کہا کتنے بڑے خوشے ہوں گئے؟ فرمایا: ”اتنے بڑے کہ اگر کوئی کالا کوا مہینہ بھر اڑتا رہے تو بھی اس خوشے سے آگے نہ نکل سکے“ ۔ [مسند احمد:183/4:اسنادہ قابل التحسین]
اور حدیث میں ہے کہ جنتی جب کوئی پھل توڑیں گے اسی وقت اس کی جگہ دوسرا لگ جائے گا ۔ [طبرانی کبیر:1449:قال الشيخ الألباني:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جنتی خوب کھائیں پئیں گے لیکن نہ تھوک آئے گی نہ ناک آئے گی نہ پیشاب نہ پاخانہ مشک جیسی خوشبو والا پسینہ آئے گا اور اسی سے کھانا ہضم ہو جائے گا۔ جیسے سانس بے تکلف چلتا ہے اس طرح تسبیح و تقدیس الہام کی جائے گی“ ۔ [صحیح مسلم:2835]
صفحہ نمبر4170
ایک اہل کتاب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتی کھائیں پئیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ ہر شخص کو کھانے پینے، جماع اور شہوت کی اتنی قوت دی جائے گی جتنی یہاں سو آدمیوں کو مل کر ہو۔“ اس نے کہا اچھا تو جو کھائے گا پئے گا اسے پیشاب پاخانے کی بھی حاجت لگے گی پھر جنت میں گندگی کیسی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ پسینے کے راستے سب ہضم ہو جائے گا اور وہ پسینہ مشک بو ہوگا“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:11478:صحیح]
فرماتے ہیں کہ جس پرندے کی طرف کھانے کے ارادے سے جنتی نظر ڈالے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا اس کے سامنے گر پڑے گا [مسند بزار:3532:ضعیف] بعض روایتوں میں ہے کہ پھر وہ اسی طرح بحکم الٰہی زندہ ہو کر اڑ جائے گا۔
قرآن میں ہے «وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلَالُهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا» [76-الإنسان:14] ” وہاں بکثرت میوے ہوں گے کہ نہ کٹیں نہ، ٹوٹیں نہ ختم ہوں نہ گھٹیں سایے جھکے ہوئے شاخین نیچی۔ سائے بھی دائمی ہوں گے “۔
جیسے فرمان ہے «وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا لَّهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَنُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِيلًا» [4-النساء:57] ” ایماندار نیک کر دار بہتی نہروں والی جنتوں میں جائیں گے وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور بہترین لمبے چوڑے سائے “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جنت کے ایک درخت کے سائے تلے تیز سواری والا سوار سو سال تک تیز دوڑتا ہوا جائے لیکن پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوگا“ ۔ [صحیح بخاری:6553]
قرآن میں ہے «وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ» [56-الواقعہ:30] ” سائے ہیں پھیلے اور بڑھے ہوئے “۔
صفحہ نمبر4171
عموماً قرآن کریم میں جنت اور دوزخ کا ذکر ایک ساتھ آتا ہے تاکہ لوگوں کو جنت کا شوق ہو اور دوزخ سے ڈر لگے یہاں بھی جنت کا اور وہاں کی چند نعمتوں کا ذکر فرما کر فرمایا کہ ” یہ ہے انجام پرہیزگار اور تقویٰ شعار لوگوں کا اور کافروں کا انجام جہنم ہے “۔
جیسے فرمان ہے کہ «لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۚ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ» [59-الحشر:20] ” جہنمی اور جنتی برابر نہیں جنتی با مراد ہیں “۔
خطیب دمشق بلال بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اے بندگان رب کیا تمہارے کسی عمل کی قبولیت کا یا کسی گناہ کی معافی کا کوئی پروانہ تم میں سے کسی کو ملا؟ کیا تم سے کسی کو ملا؟ «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ» [23-المؤمنون:115] ” کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ تم بے کار پیدا کئے گئے ہو؟ “ اور تم اللہ کے بس میں آنے والے نہیں ہو؟ واللہ اگر اطاعت ربانی کا بدلہ دنیا میں ہی ملتا تو تم تمام نیکیوں پر جم جاتے۔ کیا تم دنیا پر ہی فریفتہ ہو گئے ہو؟ کیا اسی کے پیچھے مر مٹو گے؟ کیا تمہیں جنت کی رغبت نہیں جس کے پھل اور جس کے سائے ہمیشہ رہنے والے ہیں۔“ [ابن ابی حاتم]
صفحہ نمبر4172
کافر موت مانگیں گے ٭٭
کفار کی سزا اور نیک کاروں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کافروں کا کفر و شرک بیان فرما کر ان کی سزا بیان فرمائی کہ ” وہ مومنوں کے ہاتھوں قتل و غارت ہوں گے، اس کے ساتھ ہی آخرت کے سخت تر عذابوں میں گرفتار ہوں گے جو اس دنیا کی سزا سے درجہا بدتر ہیں “۔
ملا عنہ کرنے والے میاں بیوی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہی ہلکا ہے ۔ [صحیح مسلم:1493] یہاں کا عذاب فانی وہاں کا باقی اور اس آگ کا عذاب جو یہاں کی آگ سے ستر حصے زیادہ تیز ہے پھر قید وہ جو تصور میں بھی نہ آ سکے۔
جیسے فرمان ہے «فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ» [89۔الفجر:26،25] ، ” آج اس عذاب جیسے نہ کسی کے عذاب نہ اس جیسی کسی کی قید و بند “۔
فرمان ہے «بَلْ كَذَّبُوا بِالسَّاعَةِ وَأَعْتَدْنَا لِمَن كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيرًا إِذَا رَأَتْهُم مِّن مَّكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا لَّا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا قُلْ أَذَٰلِكَ خَيْرٌ أَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ كَانَتْ لَهُمْ جَزَاءً وَمَصِيرًا» » [25-الفرقان:11-15] ، ” قیامت کے منکروں کے لیے ہم نے آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے دور سے ہی انہیں دیکھتے ہی شور و غل شروع کر دے گی وہاں کے تنگ و تاریک مکانات میں جب یہ جکڑے ہوئے ڈالے جائیں گے تو ہائے وائے کرتے ہوئے موت مانگنے لگیں گے۔ ایک ہی موت کیا مانگتے ہو بہت سے موتیں مانگو۔ اب بتاؤ کہ یہ ٹھیک ہے یا جنت خلد ٹھیک ہے جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے کہ وہ ان کا بدلہ ہے اور ان کا ہمیشہ رہنے کا ٹھکانا “۔
پھر نیکوں کا انجام بیان فرماتا ہے کہ «مَّثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ فِيهَا أَنْهَارٌ مِّن مَّاءٍ غَيْرِ آسِنٍ وَأَنْهَارٌ مِّن لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَأَنْهَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ وَأَنْهَارٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى وَلَهُمْ فِيهَا مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ» [47-محمد:15] ” ان سے جن جنتوں کا وعدہ ہے اس کی ایک صفت تو یہ ہے کہ اس کے چاروں طرف نہریں جاری ہیں جہاں چاہیں پانی لے جائیں پانی نہ بگڑنے والا پھر دودھ کی نہریں ہیں اور دودھ بہی ایسا جس کا مزہ کبھی نہ بگڑے اور شراب کی نہریں ہیں جس میں صرف لذت ہے۔ نہ بدمزگی، نہ بے ہودہ نشہ، اور صاف شہد کی نہریں ہیں اور ہر قسم کے پھل ہیں اور ساتھ ہی رب کی رحمت مالک معرفت اس کے پھل ہمیشگی والے اس کی کھانے پینے کی چیزیں کبھی فنا ہونے والی نہیں۔ (کیا یہ پرہیزگار) ان کی طرح (ہو سکتے) ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جن کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا “۔
صفحہ نمبر4169
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز پڑھی تھی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پچھلے پاؤں پیچھے کو ہٹنے لگے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں میں نے جنت کو دیکھا تھا اور چاہا تھا کہ ایک خوشہ توڑ لوں اگر لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے ۔ [صحیح بخاری:1052]
ابو یعلیٰ میں ہے کہ ایک دن ظہر کی نماز میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناگاہ آگے بڑھے اور ہم بھی بڑھے پھر ہم نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا کوئی چیز لینے کا ارادہ کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹ آئے۔ نماز کے خاتمہ کے بعد ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! آج تو ہم نے آپ کو ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا کہ آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں میرے سامنے جنت پیش کی گئی جو تروتازگی سے مہک رہی تھی میں نے چاہا کہ اس میں سے ایک خوشہ انگور کا توڑ لاؤں لیکن میرے اور اس کے درمیان آڑ کر دی گئی اگر میں اسے توڑ لاتا تو تمام دنیا پوری دنیا تک اسے کھاتی رہتی اور پھر بھی ذار سا بھی کم نہ ہوتا“ ۔ [مسند احمد:352/3:ضعیف]
ایک دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا جنت میں انگور ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے کہا کتنے بڑے خوشے ہوں گئے؟ فرمایا: ”اتنے بڑے کہ اگر کوئی کالا کوا مہینہ بھر اڑتا رہے تو بھی اس خوشے سے آگے نہ نکل سکے“ ۔ [مسند احمد:183/4:اسنادہ قابل التحسین]
اور حدیث میں ہے کہ جنتی جب کوئی پھل توڑیں گے اسی وقت اس کی جگہ دوسرا لگ جائے گا ۔ [طبرانی کبیر:1449:قال الشيخ الألباني:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جنتی خوب کھائیں پئیں گے لیکن نہ تھوک آئے گی نہ ناک آئے گی نہ پیشاب نہ پاخانہ مشک جیسی خوشبو والا پسینہ آئے گا اور اسی سے کھانا ہضم ہو جائے گا۔ جیسے سانس بے تکلف چلتا ہے اس طرح تسبیح و تقدیس الہام کی جائے گی“ ۔ [صحیح مسلم:2835]
صفحہ نمبر4170
ایک اہل کتاب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتی کھائیں پئیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ ہر شخص کو کھانے پینے، جماع اور شہوت کی اتنی قوت دی جائے گی جتنی یہاں سو آدمیوں کو مل کر ہو۔“ اس نے کہا اچھا تو جو کھائے گا پئے گا اسے پیشاب پاخانے کی بھی حاجت لگے گی پھر جنت میں گندگی کیسی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ پسینے کے راستے سب ہضم ہو جائے گا اور وہ پسینہ مشک بو ہوگا“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:11478:صحیح]
فرماتے ہیں کہ جس پرندے کی طرف کھانے کے ارادے سے جنتی نظر ڈالے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا اس کے سامنے گر پڑے گا [مسند بزار:3532:ضعیف] بعض روایتوں میں ہے کہ پھر وہ اسی طرح بحکم الٰہی زندہ ہو کر اڑ جائے گا۔
قرآن میں ہے «وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلَالُهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا» [76-الإنسان:14] ” وہاں بکثرت میوے ہوں گے کہ نہ کٹیں نہ، ٹوٹیں نہ ختم ہوں نہ گھٹیں سایے جھکے ہوئے شاخین نیچی۔ سائے بھی دائمی ہوں گے “۔
جیسے فرمان ہے «وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا لَّهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَنُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِيلًا» [4-النساء:57] ” ایماندار نیک کر دار بہتی نہروں والی جنتوں میں جائیں گے وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور بہترین لمبے چوڑے سائے “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جنت کے ایک درخت کے سائے تلے تیز سواری والا سوار سو سال تک تیز دوڑتا ہوا جائے لیکن پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوگا“ ۔ [صحیح بخاری:6553]
قرآن میں ہے «وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ» [56-الواقعہ:30] ” سائے ہیں پھیلے اور بڑھے ہوئے “۔
صفحہ نمبر4171
عموماً قرآن کریم میں جنت اور دوزخ کا ذکر ایک ساتھ آتا ہے تاکہ لوگوں کو جنت کا شوق ہو اور دوزخ سے ڈر لگے یہاں بھی جنت کا اور وہاں کی چند نعمتوں کا ذکر فرما کر فرمایا کہ ” یہ ہے انجام پرہیزگار اور تقویٰ شعار لوگوں کا اور کافروں کا انجام جہنم ہے “۔
جیسے فرمان ہے کہ «لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۚ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ» [59-الحشر:20] ” جہنمی اور جنتی برابر نہیں جنتی با مراد ہیں “۔
خطیب دمشق بلال بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اے بندگان رب کیا تمہارے کسی عمل کی قبولیت کا یا کسی گناہ کی معافی کا کوئی پروانہ تم میں سے کسی کو ملا؟ کیا تم سے کسی کو ملا؟ «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ» [23-المؤمنون:115] ” کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ تم بے کار پیدا کئے گئے ہو؟ “ اور تم اللہ کے بس میں آنے والے نہیں ہو؟ واللہ اگر اطاعت ربانی کا بدلہ دنیا میں ہی ملتا تو تم تمام نیکیوں پر جم جاتے۔ کیا تم دنیا پر ہی فریفتہ ہو گئے ہو؟ کیا اسی کے پیچھے مر مٹو گے؟ کیا تمہیں جنت کی رغبت نہیں جس کے پھل اور جس کے سائے ہمیشہ رہنے والے ہیں۔“ [ابن ابی حاتم]
صفحہ نمبر4172
شاداں و فرحاں لوگ ٭٭
” جو لوگ اس سے پہلے کتاب دئیے گئے ہیں اور وہ اس کے عامل ہیں وہ تو تجھ پر اس قرآن کے اترنے سے شاداں و فرحاں ہو رہے ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں اس کی بشارت اور اس کی صداقت موجود ہے “۔
جیسے آیت «اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ» [2-البقرة:211] میں ہے کہ ” اگلی کتابوں کو اچھی طور سے پڑھنے اس آخری کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی خبر ہے اور وہ اس وعدے کو پوار دیکھ کر خوشی سے مان لیتے ہیں “۔
«قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» [17-الإسراء:107،108] ” اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کے وعدے غلط نکلیں اس کے فرمان صحیح ثابت نہ ہوں پس وہ شادماں ہوتے ہوئے اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتے ہیں “۔
” ہاں ان جماعتوں میں ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے “، غرض بعض اہل کتاب مسلمان ہیں بعض نہیں، ” تو اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اعلان کر دے کہ مجھے صرف اللہ واحد کی عبادت کا حکم ملا ہوا ہے کہ دوسرے کی شرکت کے بغیر صرف اسی کی عبادت اس کی ہی توحید کے ساتھ کروں یہی حکم مجھ سے پہلے کے تمام نبیوں اور رسولوں کو ملا تھا، اسی راہ کی طرف اسی الٰہی عبادت کی طرف میں تمام دنیا کو دعوت دیتا ہوں۔ اسی اللہ کی طرف سب کو بلاتا ہوں اور اسی اللہ کی طرف میرا لوٹنا ہے “۔
” جس طرح ہم نے تم سے پہلے نبی بھیجے ان پر اپنی کتابیں نازل فرمائیں اسی طرح یہ قرآن جو محکم اور مضبوط ہے عربی زبان میں جو تیری اور تیری قوم کی زبان ہے اس قرآن کو ہم نے تجھ پر نازل فرمایا۔ یہ بھی تجھ پر خاص احسان ہے کہ اس واضح اظہار مفصل اور محکم کتاب کے ساتھ تجھے ہم نے نوازا کہ نہ اس کے آگے سے باطل آ سکے نہ اس کے پیچھے سے آ کر اس میں مل سکے یہ حکیم و حمید اللہ کی طرف سے اتری ہے “۔
” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیرے پاس الہامی علم آسمانی وحی آ چکی ہے اب بھی اگر تو نے ان کی خواہش کی ماتحتی کی تو یاد رکھ کہ اللہ کے عذابوں سے تجھے کوئی بھی نہ بچا سکے گا۔ نہ کوئی تیری حمایت پر کھڑا ہوگا “۔
سنت نبویہ اور طریقہ محمدیہ کے علم کے بعد جو گمراہی والوں کے راستوں کو اختیار کریں ان علماء کے لیے اس آیت میں زبردست وعید ہے۔
صفحہ نمبر4174
شاداں و فرحاں لوگ ٭٭
” جو لوگ اس سے پہلے کتاب دئیے گئے ہیں اور وہ اس کے عامل ہیں وہ تو تجھ پر اس قرآن کے اترنے سے شاداں و فرحاں ہو رہے ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں اس کی بشارت اور اس کی صداقت موجود ہے “۔
جیسے آیت «اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ» [2-البقرة:211] میں ہے کہ ” اگلی کتابوں کو اچھی طور سے پڑھنے اس آخری کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی خبر ہے اور وہ اس وعدے کو پوار دیکھ کر خوشی سے مان لیتے ہیں “۔
«قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» [17-الإسراء:107،108] ” اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کے وعدے غلط نکلیں اس کے فرمان صحیح ثابت نہ ہوں پس وہ شادماں ہوتے ہوئے اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتے ہیں “۔
” ہاں ان جماعتوں میں ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے “، غرض بعض اہل کتاب مسلمان ہیں بعض نہیں، ” تو اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اعلان کر دے کہ مجھے صرف اللہ واحد کی عبادت کا حکم ملا ہوا ہے کہ دوسرے کی شرکت کے بغیر صرف اسی کی عبادت اس کی ہی توحید کے ساتھ کروں یہی حکم مجھ سے پہلے کے تمام نبیوں اور رسولوں کو ملا تھا، اسی راہ کی طرف اسی الٰہی عبادت کی طرف میں تمام دنیا کو دعوت دیتا ہوں۔ اسی اللہ کی طرف سب کو بلاتا ہوں اور اسی اللہ کی طرف میرا لوٹنا ہے “۔
” جس طرح ہم نے تم سے پہلے نبی بھیجے ان پر اپنی کتابیں نازل فرمائیں اسی طرح یہ قرآن جو محکم اور مضبوط ہے عربی زبان میں جو تیری اور تیری قوم کی زبان ہے اس قرآن کو ہم نے تجھ پر نازل فرمایا۔ یہ بھی تجھ پر خاص احسان ہے کہ اس واضح اظہار مفصل اور محکم کتاب کے ساتھ تجھے ہم نے نوازا کہ نہ اس کے آگے سے باطل آ سکے نہ اس کے پیچھے سے آ کر اس میں مل سکے یہ حکیم و حمید اللہ کی طرف سے اتری ہے “۔
” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیرے پاس الہامی علم آسمانی وحی آ چکی ہے اب بھی اگر تو نے ان کی خواہش کی ماتحتی کی تو یاد رکھ کہ اللہ کے عذابوں سے تجھے کوئی بھی نہ بچا سکے گا۔ نہ کوئی تیری حمایت پر کھڑا ہوگا “۔
سنت نبویہ اور طریقہ محمدیہ کے علم کے بعد جو گمراہی والوں کے راستوں کو اختیار کریں ان علماء کے لیے اس آیت میں زبردست وعید ہے۔
صفحہ نمبر4174
ہر کام کا وقت مقرر ہے ٭٭
ارشاد ہے کہ ” جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم باوجود انسان ہونے کے رسول اللہ ہیں۔ ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے تمام رسول بھی انسان ہی تھے، کھانا کھاتے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے بیوی، بچوں والے تھے “۔
اور آیت میں ہے کہ اے اشرف الرسل آپ لوگوں سے کہہ دیجئیے کہ «قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ» [18-الكهف:110] ” میں بھی تم جیسا ہی ایک انسان ہوں میری طرف وحی الٰہی کی جاتی ہے “۔
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نفلی روزے رکھتا بھی ہوں اور نہیں بھی رکھتا راتوں کو تہجد بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں گوشت بھی کھاتا ہوں اور عورتوں سے بھی ملتا ہوں جو شخص میرے طریقے سے منہ موڑ لے وہ میرا نہیں ۔ [صحیح بخاری:5063]
مسند احمد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ چار چیزیں تمام انبیاء علیہم السلام کا طریقہ رہیں خوشبو لگانا، نکاح کرنا، مسواک کرنا اور مہندی ۔ [سنن ترمذي:1080،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ ” معجزے ظاہر کرنا کسی نبی علیہ السلام کے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ عزوجل کے قبضے کی چیز ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، جو ارادہ کرتا ہے حکم دیتا ہے ہر ایک بات مقررہ وقت اور معلوم مدت کتاب میں لکھی ہوئی ہے، ہر شے کی ایک مقدار معین ہے “۔
«أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّ ذَٰلِكَ فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ» [22-الحج:70] ” کیا تمہیں معلوم نہیں کہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا اللہ کو علم ہے سب کچھ کتاب میں لکھا موجود ہے یہ تو اللہ پر بہت ہی آسان ہے “۔
ہر کتاب کی جو آسمان سے اتری ہے اس کی ایک اجل ہے اور ایک مدت مقرر ہے ان میں سے جسے چاہتا ہے منسوخ کر دیتا ہے جسے چاہتا ہے باقی رکھتا ہے۔ پس اس قرآن سے جو اس نے اپنے رسول صلوات اللہ وسلامہ علیہ پر نازل فرمایا ہے تمام اگلی کتابیں منسوخ ہو گئیں۔ اللہ تعالیٰ جو چاہے مٹائے جو چاہے باقی رکھے سال بھر کے امور مقرر کر دئے لیکن اختیار سے باہر نہیں جو چاہا باقی رکھا جو چاہا بدل دیا۔ سوائے شقاوت، سعادت، حیات و ممات کے، کہ ان سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے ان میں تغیر نہیں ہونا۔
صفحہ نمبر4176
منصور کہتے ہیں ”میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ہم میں سے کسی کا یہ دعا کرنا کیسا ہے کہ الٰہی اگر میرا نام نیکوں میں ہے تو باقی رکھ اور اگر بدوں میں ہے تو اسے ہٹا دے اور نیکوں میں کر دے۔“ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”یہ تو اچھی دعا ہے“، سال بھر کے بعد پھر ملاقات ہوئی یا کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا تھا تو میں نے ان سے یہی بات دریافت کی آپ رحمہ اللہ نے «إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ» [44-الدخان:3،4] سے دو آیتوں کی تلاوت کی اور فرمایا ”لیلۃ القدر میں سال بھر کی روزیاں، تکلیفیں مقرر ہو جاتی ہیں۔ پھر جو اللہ چاہے مقدم مؤخر کرتا ہے، ہاں سعادت شقاوت کی کتاب نہیں بدلتی۔“
شفیق بن سلمہ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے ”اے اللہ! اگر تو نے ہمیں بدبختوں میں لکھا ہے تو اسے مٹا دے اور ہماری گنتی نیکوں میں لکھ لے اور اگر تو نے ہمیں نیک لوگوں میں لکھا ہے تو اسے باقی رکھ تو جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے باقی رکھے اصل کتاب تیرے ہی پاس ہے۔“
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے روتے روتے یہ دعا پڑھا کرتے تھے «اللَّهُمَّ إِنْ كُنْت كَتَبْت عَلَيَّ شِقْوَة أَوْ ذَنْبًا فَامْحُهُ فَإِنَّك تَمْحُو مَا تَشَاء وَتُثْبِت وَعِنْدك أُمّ الْكِتَاب فَاجْعَلْهُ سَعَادَة وَمَغْفِرَة» ”اے اللہ اگر تو نے مجھ پر برائی اور گناہ لکھ رکھے ہیں تو انہیں مٹا دے تو جسے چاہے مٹاتا ہے اور باقی رکھتا ہے ام الکتاب تیرے پاس ہی ہے تو اسے سعادت اور رحمت کر دے۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی یہی دعا کیا کرتے تھے۔
کعب رحمہ اللہ نے امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر ایک آیت کتاب اللہ میں نہ ہوتی تو میں قیامت تک جو امور ہونے والے ہیں سب آپ رضی اللہ عنہ کو بتا دیتا۔ پوچھا کہ وہ کون سی آیت ہے آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:401/7:ضعیف و کذب] ان تمام اقوال کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر کی الٹ پلٹ اللہ کے اختیار کی چیز ہے۔
چنانچہ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ بعض گناہوں کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم کر دیا جاتا ہے اور تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز بدل نہیں سکتی اور عمر کی زیادتی کرنے والی بجز نیکی کے کوئی چیز نہیں ۔ نسائی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ [سنن ابن ماجه:4022:قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة]
اور صحیح حدیث میں ہے کہ صلہ رحمی عمر بڑھاتی ہے ۔ [صحیح بخاری:5986] اور حدیث میں ہے کہ دعا اور قضاء دونوں کی مڈبھیڑ آسمان و زمین کے درمیان ہوتی ہے ۔ [سنن ترمذي:486]
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ عزوجل کے پاس لوح محفوظ ہے جو پانچ سو سال کے راستے کی چیز ہے سفید موتی کی ہے یاقوت کے دو پٹھوں کے درمیان۔ تریسٹھ بار اللہ تعالیٰ اس پر توجہ فرماتا ہے۔ جو چاہتا ہے مٹاتا ہے جو چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے ام الکتاب اسی کے پاس ہے۔“
صفحہ نمبر4177
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ رات کی تین ساعتیں باقی رہنے پر دفتر کھولا جاتا ہے پہلی ساعت میں اس دفتر پر نظر ڈالی جاتی ہے جسے اس کے سوا کوئی اور نہیں دیکھتا پس جو چاہتا ہے مٹاتا ہے جو چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:2502:ضعیف]
کلبی فرماتے ہیں ”روزی کو بڑھانا گھٹانا عمر کو بڑھانا گھٹانا اس سے مراد ہے“، ان سے پوچھا گیا کہ آپ سے یہ بات کس نے بیان کی؟ فرمایا ”ابوصالح نے ان سے جابر بن عبداللہ بن رباب نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
پھر ان سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو جواب دیا کہ ”جمعرات کے دن سب باتیں لکھی جاتی ہیں ان میں سے جو باتیں جزا سزا سے خالی ہوں نکال دی جاتی ہیں جیسے تیرا یہ قول کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں آیا، میں گیا وغیرہ جو سچی باتیں ہیں اور ثواب عذاب کی چیزیں نہیں اور باقی جو ثواب عذاب کی چیزیں ہیں وہ رکھ لی جاتی ہیں۔“
ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”جو کتابیں ہیں ایک میں کمی زیادتی ہوتی ہے اور اللہ کے پاس ہے اصل کتاب وہی ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:20487:ضعیف] فرماتے ہیں ”مراد اس سے وہ شخص ہے جو ایک زمانے تک تو اللہ کی اطاعت میں لگا رہتا ہے پھر معصیت میں لگ جاتا ہے اور اسی پر مرتا ہے پس اس کی نیکی محو ہو جاتی ہے اور جس کے لیے ثابت رہتی ہے۔“
یہ وہ ہے جو اس وقت تو نافرمانیوں میں مشغول ہے لیکن اللہ کی طرف سے، اس کے لیے فرمانبرداری پہلے سے مقرر ہو چکی ہے۔ پس آخری وقت وہ خیر پر لگ جاتا ہے اور طاعت الٰہی میں مرتا ہے۔ یہ ہے جس کے لیے فرمانبرداری پہلے سے مقرر ہو چکی ہے۔ پس آخری وقت وہ خیر پر لگ جاتا ہے اور طاعت الٰہی میں مرتا ہے۔ یہ ہے جس کے لیے ثابت رہتی ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”جسے چاہے بخشے جسے چاہے نہ بخشے“، اور آیت میں ہے «فَيَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [2-البقرة:284] ” وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”جو چاہتا ہے منسوخ کرتا ہے جو چاہتا ہے تبدیل نہیں کرتا ناسخ کا اختیار اسی کے پاس ہے اور اول بدل بھی۔“
بقول قتادہ رحمہ اللہ یہ آیت مثل آیت «مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [2-البقرة:106] ، کے ہے یعنی ” جو چاہے منسوخ کر دے جو چاہے باقی اور جاری رکھے “۔
صفحہ نمبر4178
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جب اس سے پہلے کی آیت اتری کہ ” کوئی رسول بغیر اللہ کے فرمان کے کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتا “ تو قریش کے کافروں نے کہا پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالکل بے بس ہیں کام سے تو فراغت حاصل ہو چکی ہے پس انہیں ڈرانے کے لیے یہ آیت اتری کہ ” ہم جو چاہیں تجدید کر دیں “ ہر رمضان میں تجدید ہوتی ہے پھر اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے روزی بھی تکلیف بھی دیتا ہے اور تقسیم بھی۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جس کی اجل آ جائے چل بستا ہے نہ آئی ہو رہ جاتا ہے یہاں تک کہ اپنے دن پورے کر لے۔“ ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند فرماتے ہیں۔
حلال حرام اس کے پاس ہے کتاب کا خلاصہ اور جڑ اسی کے ہاتھ ہے کتاب خود رب العٰلمین کے پاس ہی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کعب رضی اللہ عنہ سے ام الکتاب کی بابت دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”اللہ نے مخلوق کو اور مخلوق کے اعمال کو جان لیا۔“ پھر کہا کہ ”کتاب کی صورت میں ہو جائے ہو گیا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ام الکتاب سے مراد ذکر ہے۔“
صفحہ نمبر4179
ہر کام کا وقت مقرر ہے ٭٭
ارشاد ہے کہ ” جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم باوجود انسان ہونے کے رسول اللہ ہیں۔ ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے تمام رسول بھی انسان ہی تھے، کھانا کھاتے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے بیوی، بچوں والے تھے “۔
اور آیت میں ہے کہ اے اشرف الرسل آپ لوگوں سے کہہ دیجئیے کہ «قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ» [18-الكهف:110] ” میں بھی تم جیسا ہی ایک انسان ہوں میری طرف وحی الٰہی کی جاتی ہے “۔
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نفلی روزے رکھتا بھی ہوں اور نہیں بھی رکھتا راتوں کو تہجد بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں گوشت بھی کھاتا ہوں اور عورتوں سے بھی ملتا ہوں جو شخص میرے طریقے سے منہ موڑ لے وہ میرا نہیں ۔ [صحیح بخاری:5063]
مسند احمد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ چار چیزیں تمام انبیاء علیہم السلام کا طریقہ رہیں خوشبو لگانا، نکاح کرنا، مسواک کرنا اور مہندی ۔ [سنن ترمذي:1080،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ ” معجزے ظاہر کرنا کسی نبی علیہ السلام کے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ عزوجل کے قبضے کی چیز ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، جو ارادہ کرتا ہے حکم دیتا ہے ہر ایک بات مقررہ وقت اور معلوم مدت کتاب میں لکھی ہوئی ہے، ہر شے کی ایک مقدار معین ہے “۔
«أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّ ذَٰلِكَ فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ» [22-الحج:70] ” کیا تمہیں معلوم نہیں کہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا اللہ کو علم ہے سب کچھ کتاب میں لکھا موجود ہے یہ تو اللہ پر بہت ہی آسان ہے “۔
ہر کتاب کی جو آسمان سے اتری ہے اس کی ایک اجل ہے اور ایک مدت مقرر ہے ان میں سے جسے چاہتا ہے منسوخ کر دیتا ہے جسے چاہتا ہے باقی رکھتا ہے۔ پس اس قرآن سے جو اس نے اپنے رسول صلوات اللہ وسلامہ علیہ پر نازل فرمایا ہے تمام اگلی کتابیں منسوخ ہو گئیں۔ اللہ تعالیٰ جو چاہے مٹائے جو چاہے باقی رکھے سال بھر کے امور مقرر کر دئے لیکن اختیار سے باہر نہیں جو چاہا باقی رکھا جو چاہا بدل دیا۔ سوائے شقاوت، سعادت، حیات و ممات کے، کہ ان سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے ان میں تغیر نہیں ہونا۔
صفحہ نمبر4176
منصور کہتے ہیں ”میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ہم میں سے کسی کا یہ دعا کرنا کیسا ہے کہ الٰہی اگر میرا نام نیکوں میں ہے تو باقی رکھ اور اگر بدوں میں ہے تو اسے ہٹا دے اور نیکوں میں کر دے۔“ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”یہ تو اچھی دعا ہے“، سال بھر کے بعد پھر ملاقات ہوئی یا کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا تھا تو میں نے ان سے یہی بات دریافت کی آپ رحمہ اللہ نے «إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ» [44-الدخان:3،4] سے دو آیتوں کی تلاوت کی اور فرمایا ”لیلۃ القدر میں سال بھر کی روزیاں، تکلیفیں مقرر ہو جاتی ہیں۔ پھر جو اللہ چاہے مقدم مؤخر کرتا ہے، ہاں سعادت شقاوت کی کتاب نہیں بدلتی۔“
شفیق بن سلمہ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے ”اے اللہ! اگر تو نے ہمیں بدبختوں میں لکھا ہے تو اسے مٹا دے اور ہماری گنتی نیکوں میں لکھ لے اور اگر تو نے ہمیں نیک لوگوں میں لکھا ہے تو اسے باقی رکھ تو جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے باقی رکھے اصل کتاب تیرے ہی پاس ہے۔“
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے روتے روتے یہ دعا پڑھا کرتے تھے «اللَّهُمَّ إِنْ كُنْت كَتَبْت عَلَيَّ شِقْوَة أَوْ ذَنْبًا فَامْحُهُ فَإِنَّك تَمْحُو مَا تَشَاء وَتُثْبِت وَعِنْدك أُمّ الْكِتَاب فَاجْعَلْهُ سَعَادَة وَمَغْفِرَة» ”اے اللہ اگر تو نے مجھ پر برائی اور گناہ لکھ رکھے ہیں تو انہیں مٹا دے تو جسے چاہے مٹاتا ہے اور باقی رکھتا ہے ام الکتاب تیرے پاس ہی ہے تو اسے سعادت اور رحمت کر دے۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی یہی دعا کیا کرتے تھے۔
کعب رحمہ اللہ نے امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر ایک آیت کتاب اللہ میں نہ ہوتی تو میں قیامت تک جو امور ہونے والے ہیں سب آپ رضی اللہ عنہ کو بتا دیتا۔ پوچھا کہ وہ کون سی آیت ہے آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:401/7:ضعیف و کذب] ان تمام اقوال کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر کی الٹ پلٹ اللہ کے اختیار کی چیز ہے۔
چنانچہ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ بعض گناہوں کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم کر دیا جاتا ہے اور تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز بدل نہیں سکتی اور عمر کی زیادتی کرنے والی بجز نیکی کے کوئی چیز نہیں ۔ نسائی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ [سنن ابن ماجه:4022:قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة]
اور صحیح حدیث میں ہے کہ صلہ رحمی عمر بڑھاتی ہے ۔ [صحیح بخاری:5986] اور حدیث میں ہے کہ دعا اور قضاء دونوں کی مڈبھیڑ آسمان و زمین کے درمیان ہوتی ہے ۔ [سنن ترمذي:486]
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ عزوجل کے پاس لوح محفوظ ہے جو پانچ سو سال کے راستے کی چیز ہے سفید موتی کی ہے یاقوت کے دو پٹھوں کے درمیان۔ تریسٹھ بار اللہ تعالیٰ اس پر توجہ فرماتا ہے۔ جو چاہتا ہے مٹاتا ہے جو چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے ام الکتاب اسی کے پاس ہے۔“
صفحہ نمبر4177
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ رات کی تین ساعتیں باقی رہنے پر دفتر کھولا جاتا ہے پہلی ساعت میں اس دفتر پر نظر ڈالی جاتی ہے جسے اس کے سوا کوئی اور نہیں دیکھتا پس جو چاہتا ہے مٹاتا ہے جو چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:2502:ضعیف]
کلبی فرماتے ہیں ”روزی کو بڑھانا گھٹانا عمر کو بڑھانا گھٹانا اس سے مراد ہے“، ان سے پوچھا گیا کہ آپ سے یہ بات کس نے بیان کی؟ فرمایا ”ابوصالح نے ان سے جابر بن عبداللہ بن رباب نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
پھر ان سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو جواب دیا کہ ”جمعرات کے دن سب باتیں لکھی جاتی ہیں ان میں سے جو باتیں جزا سزا سے خالی ہوں نکال دی جاتی ہیں جیسے تیرا یہ قول کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں آیا، میں گیا وغیرہ جو سچی باتیں ہیں اور ثواب عذاب کی چیزیں نہیں اور باقی جو ثواب عذاب کی چیزیں ہیں وہ رکھ لی جاتی ہیں۔“
ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”جو کتابیں ہیں ایک میں کمی زیادتی ہوتی ہے اور اللہ کے پاس ہے اصل کتاب وہی ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:20487:ضعیف] فرماتے ہیں ”مراد اس سے وہ شخص ہے جو ایک زمانے تک تو اللہ کی اطاعت میں لگا رہتا ہے پھر معصیت میں لگ جاتا ہے اور اسی پر مرتا ہے پس اس کی نیکی محو ہو جاتی ہے اور جس کے لیے ثابت رہتی ہے۔“
یہ وہ ہے جو اس وقت تو نافرمانیوں میں مشغول ہے لیکن اللہ کی طرف سے، اس کے لیے فرمانبرداری پہلے سے مقرر ہو چکی ہے۔ پس آخری وقت وہ خیر پر لگ جاتا ہے اور طاعت الٰہی میں مرتا ہے۔ یہ ہے جس کے لیے فرمانبرداری پہلے سے مقرر ہو چکی ہے۔ پس آخری وقت وہ خیر پر لگ جاتا ہے اور طاعت الٰہی میں مرتا ہے۔ یہ ہے جس کے لیے ثابت رہتی ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”جسے چاہے بخشے جسے چاہے نہ بخشے“، اور آیت میں ہے «فَيَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [2-البقرة:284] ” وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”جو چاہتا ہے منسوخ کرتا ہے جو چاہتا ہے تبدیل نہیں کرتا ناسخ کا اختیار اسی کے پاس ہے اور اول بدل بھی۔“
بقول قتادہ رحمہ اللہ یہ آیت مثل آیت «مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [2-البقرة:106] ، کے ہے یعنی ” جو چاہے منسوخ کر دے جو چاہے باقی اور جاری رکھے “۔
صفحہ نمبر4178
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جب اس سے پہلے کی آیت اتری کہ ” کوئی رسول بغیر اللہ کے فرمان کے کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتا “ تو قریش کے کافروں نے کہا پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالکل بے بس ہیں کام سے تو فراغت حاصل ہو چکی ہے پس انہیں ڈرانے کے لیے یہ آیت اتری کہ ” ہم جو چاہیں تجدید کر دیں “ ہر رمضان میں تجدید ہوتی ہے پھر اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے روزی بھی تکلیف بھی دیتا ہے اور تقسیم بھی۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جس کی اجل آ جائے چل بستا ہے نہ آئی ہو رہ جاتا ہے یہاں تک کہ اپنے دن پورے کر لے۔“ ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند فرماتے ہیں۔
حلال حرام اس کے پاس ہے کتاب کا خلاصہ اور جڑ اسی کے ہاتھ ہے کتاب خود رب العٰلمین کے پاس ہی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کعب رضی اللہ عنہ سے ام الکتاب کی بابت دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”اللہ نے مخلوق کو اور مخلوق کے اعمال کو جان لیا۔“ پھر کہا کہ ”کتاب کی صورت میں ہو جائے ہو گیا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ام الکتاب سے مراد ذکر ہے۔“
صفحہ نمبر4179
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد ٭٭
” تیرے دشمنوں پر جو ہمارے عذاب آنے والے ہیں وہ ہم تیری زندگی میں لائیں تو اور تیرے انتقال کے بعد لائے تو تجھے کیا؟ “ «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ اللَّـهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم» [88-الغاشية:21-26] ” تیرا کام تو صرف ہمارے پیغام پہنچا دینا ہے وہ تو کر چکا۔ ان کا حساب ان کا بدلہ ہمارے ہاتھ ہے۔ تو صرف انہیں نصیحت کر دے تو ان پر کوئی داروغہ اور نگہبان نہیں۔ جو منہ پھیرے گا اور کفر کرے گا اسے اللہ ہی بڑی سزاؤں میں داخل کر دے گا ان کا لوٹنا تو ہماری طرف ہی ہے اور ان کا حساب بھی ہمارے ذمے ہے “۔
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو تیرے قبضے میں دیتے آ رہے ہیں؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ آباد اور عالی شان محل کھنڈر اور ویرانے بنتے جا رہے ہیں؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ مسلمان کافروں کو دباتے چلے آ رہے کیا وہ نہیں دیکھتے کہ برکتیں اٹھتی جا رہی ہیں خرابیاں آتی جا رہی ہیں؟ لوگ مرتے جا رہے ہیں زمین اجڑتی جا رہی ہے؟ خود زمین ہی اگر تنگ ہوتی جاتی تو تو انسان کو چھپڑ ڈالنا بھی محال ہو جاتا مقصد انسان کا اور درختوں کا کم ہوتے رہنا ہے۔ مراد اس سے زمین کی تنگی نہیں بلکہ لوگوں کی موت ہے علماء فقہاء اور بھلے لوگوں کی موت بھی زمین کی بربادی ہے۔ عرب شاعر کہتا ہے «الْأَرْضُ تَحْيَا إِذَا مَا عَاشَ عَالِمُهَا مَتَى يَمُتْ عَالِمٌ مِنْهَا يَمُتْ طَرَف» «كَالْأَرْضِ تَحْيَا إِذَا مَا الْغَيْثُ حَلَّ بِهَا وَإِنْ أَبَى عَادَ فِي أَكْنَافِهَا التَّلَفُ» یعنی جہاں کہیں جو عالم دین ہے وہاں کی زمین کی زندگی اسی سے ہے۔ اس کی موت اس زمین کی ویرانی اور خرابی ہے۔
جیسے کہ بارش جس زمین پر برسے لہلہانے لگتی ہے اور اگر نہ برسے تو سوکھنے اور بنجر ہونے لگتی ہے۔ پس آیت میں مراد اسلام کا شرک پر غالب آنا ہے، ایک کے بعد ایک بستی کو تابع کرنا ہے۔ جیسے فرمایا آیت «وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ الْقُرَىٰ» [46-الأحقاف:27] الخ، یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا بھی پسندیدہ ہے۔
صفحہ نمبر4181
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد ٭٭
” تیرے دشمنوں پر جو ہمارے عذاب آنے والے ہیں وہ ہم تیری زندگی میں لائیں تو اور تیرے انتقال کے بعد لائے تو تجھے کیا؟ “ «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ اللَّـهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم» [88-الغاشية:21-26] ” تیرا کام تو صرف ہمارے پیغام پہنچا دینا ہے وہ تو کر چکا۔ ان کا حساب ان کا بدلہ ہمارے ہاتھ ہے۔ تو صرف انہیں نصیحت کر دے تو ان پر کوئی داروغہ اور نگہبان نہیں۔ جو منہ پھیرے گا اور کفر کرے گا اسے اللہ ہی بڑی سزاؤں میں داخل کر دے گا ان کا لوٹنا تو ہماری طرف ہی ہے اور ان کا حساب بھی ہمارے ذمے ہے “۔
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو تیرے قبضے میں دیتے آ رہے ہیں؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ آباد اور عالی شان محل کھنڈر اور ویرانے بنتے جا رہے ہیں؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ مسلمان کافروں کو دباتے چلے آ رہے کیا وہ نہیں دیکھتے کہ برکتیں اٹھتی جا رہی ہیں خرابیاں آتی جا رہی ہیں؟ لوگ مرتے جا رہے ہیں زمین اجڑتی جا رہی ہے؟ خود زمین ہی اگر تنگ ہوتی جاتی تو تو انسان کو چھپڑ ڈالنا بھی محال ہو جاتا مقصد انسان کا اور درختوں کا کم ہوتے رہنا ہے۔ مراد اس سے زمین کی تنگی نہیں بلکہ لوگوں کی موت ہے علماء فقہاء اور بھلے لوگوں کی موت بھی زمین کی بربادی ہے۔ عرب شاعر کہتا ہے «الْأَرْضُ تَحْيَا إِذَا مَا عَاشَ عَالِمُهَا مَتَى يَمُتْ عَالِمٌ مِنْهَا يَمُتْ طَرَف» «كَالْأَرْضِ تَحْيَا إِذَا مَا الْغَيْثُ حَلَّ بِهَا وَإِنْ أَبَى عَادَ فِي أَكْنَافِهَا التَّلَفُ» یعنی جہاں کہیں جو عالم دین ہے وہاں کی زمین کی زندگی اسی سے ہے۔ اس کی موت اس زمین کی ویرانی اور خرابی ہے۔
جیسے کہ بارش جس زمین پر برسے لہلہانے لگتی ہے اور اگر نہ برسے تو سوکھنے اور بنجر ہونے لگتی ہے۔ پس آیت میں مراد اسلام کا شرک پر غالب آنا ہے، ایک کے بعد ایک بستی کو تابع کرنا ہے۔ جیسے فرمایا آیت «وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ الْقُرَىٰ» [46-الأحقاف:27] الخ، یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا بھی پسندیدہ ہے۔
صفحہ نمبر4181
کافروں کے شرمناک کارنامے ٭٭
اگلے کافروں نے بھی اپنے نبیوں کے ساتھ مکر کیا، انہیں نکالنا چاہا، اللہ نے ان کے مکر کا بدلہ لیا۔ انجام کار پرہیزگاروں کا ہی بھلا ہوا۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کافروں کی کارستانی بیان ہو چکی ہے کہ «وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّـهُ وَاللَّـهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ» [8-الانفال:30] ” وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کرنے یا قتل کرنے یا دیس سے نکال دینے کا مشورہ کر رہے تھے وہ گھات میں تھے اور اللہ ان کی گھات میں تھا۔ بھلا اللہ سے زیادہ اچھی پوشیدہ تدبیر کس کی ہو سکتی ہے؟ “
«وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَاهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُوا إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ» [27-النمل:52-50] ” ان کے مکر پر ہم نے بھی یہی کیا اور یہ بے خبر رہے۔ دیکھ لے کہ ان کے مکر کا انجام کیا ہوا؟ یہی کہ ہم نے انہیں غارت کر دیا اور ان کی ساری قوم کو برباد کر دیا ان کے ظلم کی شہادت دینے والے ان کی غیر آباد بستیوں کے کھنڈرات ابھی موجود ہیں “۔
ہر ایک کے ہر ایک عمل سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے، پوشیدہ عمل دل کے خوف اس پر ظاہر ہیں ہر عامل کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ «الْكُفَّارُ» کی دوسری قرأت «الْكَافِرِ» بھی ہے۔ ان کافروں کو ابھی معلوم ہو جائے گا کہ انجام کار کس کا اچھا رہتا ہے، ان کا یا مسلمانوں کا؟
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ حق والوں کو ہی غالب رکھا ہے انجام کے اعتبار سے یہی اچھے رہتے ہیں دنیا آخرت انہی کی سنورتی ہے۔
صفحہ نمبر4183
رسالت کے منکر ٭٭
” کافر تجھے جھٹلا رہے ہیں۔ تیری رسالت کے منکر ہیں۔ تو غم نہ کر کہہ دیا کر کہ اللہ کی شہادت کافی ہے۔ تیری نبوت کا وہ خود گواہ ہے، میری تبلیغ پر، تمہاری تکذیب پر، وہ شاہد ہے۔ میری سچائی، تمہاری تکذیب کو وہ دیکھ رہا ہے “۔
علم کتاب جس کے پاس ہے اس سے مراد عبداللہ بن سلام ہیں رضی اللہ عنہ۔ یہ قول مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے لیکن بہت غریب قول ہے اس لیے کہ یہ آیت مکہ شریف میں اتری ہے اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تو ہجرت کے بعد مدینے میں مسلمان ہوئے ہیں۔ اس سے زیادہ ظاہر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”یہود و نصاری کے حق گو عالم مراد ہیں ہاں ان میں عبداللہ بن سلام بھی ہیں، سلمان اور تمیم داری وغیرہ رضی اللہ عنہم بھی۔“ مجاہد رحمہ اللہ سے ایک روایت میں مروی ہے کہ اس سے مراد بھی خود اللہ تعالیٰ ہے۔ سعید رحمہ اللہ اس سے انکاری تھے کہ اس سے مراد عبداللہ بن سلام لیے جائیں کیونکہ یہ آیت مکیہ ہے اور آیت کو «مِنْ عِنْدِ اللَّهِ» پڑھتے تھے۔ یہی قرأت مجاہد اور حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے بھی مروی ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی قرأت ہے لیکن وہ حدیث ثابت نہیں۔ [مسند ابویعلیٰ:5574:ضعیف]
صحیح بات یہی ہے کہ یہ اسم جنس ہے ہر وہ عالم جو اگلی کتاب کا علم ہے اس میں داخل ہے ان کی کتابوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت موجود تھی۔ ان کے نبیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت پیش گوئی کر دی تھی۔
جیسے فرمان رب ذی شان ہے «وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ» [7-الأعراف:156-157] یعنی ” میری رحمت نے تمام چیزوں کو گھیر رکھا ہے میں اسے ان لوگوں کے نام لکھ دوں گا جو متقی ہیں، زکوٰۃ کے ادا کرنے والے ہیں، ہماری آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہیں، رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے ہیں، جس کا ذکر اپنی کتاب تورات وانجیل میں موجود پاتے ہیں “۔
اور آیت میں ہے کہ «أَوَلَمْ يَكُن لَّهُمْ آيَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ» [26-الشعراء:197] ” کیا یہ بات بھی ان کے لیے کافی نہیں کہ اس کے حق ہونے کا علم علماء بنی اسرائیل کو بھی ہے “۔
صفحہ نمبر4184
ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے علمائے یہود سے کہا کہ میرا ارادہ ہے کہ اپنے باپ ابراہیم و اسماعیل علیہم السلام کی مسجد میں جا کر عید منائیں، مکے پہنچے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہیں تھے، یہ لوگ جب حج سے لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ یہ بھی مع اپنے ساتھیوں کے کھڑے ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھ کر پوچھا کہ آپ ہی عبداللہ بن سلام ہیں، کہا ہاں فرمایا: قریب آؤ جب قریب گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میرا ذکر تورات میں نہیں پاتے؟“، انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے اوصاف میرے سامنے بیان فرمائیے۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے اور حکم دیا کہ کہو آیت «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ اللَّـهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ» [112-الإخلاص:4-1] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری سورت پڑھ سنائی۔ ابن سلام نے اسی وقت کلمہ پڑھ لیا، مسلمان ہو گئے، مدینے واپس چلے آئے لیکن اپنے اسلام کو چھپائے رہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینے پہنچے اس وقت آپ کھجور کے ایک درخت پر چڑھے ہوئے کھجوریں اتار رہے تھے جو آپ کو خبر پہنچی اسی وقت درخت سے کود پڑے۔ ماں کہنے لگیں کہ اگر موسیٰ علیہ السلام بھی آ جاتے تو تم درخت سے نہ کودتے۔ کیا بات ہے؟ جواب دیا کہ اماں جی موسیٰ علیہ السلام کی نبوت سے بھی زیادہ خوشی مجھے ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی یہاں تشریف آوری سے ہوئی ہے ۔ [ابو نعیم فی الدلائل:246:ضعیف و باطل] اس میں انقطاع ہے۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۂ رعد کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر4185