John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah An-Nahl

Tafsir Ibn Kathir · The Bee · 128 ayat · ayat 31–60 · Quran text →

متقیوں کے لیے بہترین جزا ٭٭

بروں کے حالات بیان فرما کر نیکوں کے حالات جو ان کے بالکل برعکس ہیں، بیان فرما رہا ہے برے لوگوں کا جواب تو یہ تھا کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب صرف گزرے لوگوں کے فسانے کی نقل ہے لیکن یہ نیک لوگ جواب دیتے ہیں کہ وہ سراسر برکت اور رحمت ہے جو بھی اسے مانے اور اس پر عمل کرے وہ برکت و رحمت سے مالا مال ہو جائے -

پھر خبر دیتا ہے کہ ” میں اپنے رسولوں سے وعدہ کر چکا ہوں کہ نیکوں کو دونوں جہان کی خوشی حاصل ہو گی “۔ جیسے فرمان ہے کہ «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [16-النحل:97] ‏ ” جو شخص نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو خواہ عورت۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ وہ مومن ہو تو ہم اسے بڑی پاک زندگی عطا فرمائیں گے اور اس کے بہترین اعمال کا بدلہ بھی ضرور دیں گے، دونوں جہان میں وہ جزا پائے گا “۔

یاد رہے کہ دار آخرت، دار دنیا سے بہت ہی افضل و احسن ہے۔ وہاں کی جزا نہایت اعلیٰ اور دائمی ہے جیسے قارون کے مال کی تمنا کرنے والوں سے علماء کرام نے فرمایا تھا کہ «وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّـهِ خَيْرٌ» [28-القصص:80] ‏ ” ثواب الٰہی بہتر ہے “، الخ۔

قرآن فرماتا ہے آیت «وَمَا عِندَ اللَّـهِ خَيْرٌ لِّلْأَبْرَارِ» [3-آل عمران:198] ‏ ” اللہ کے پاس کی چیزیں نیک کاروں کے لیے بہت اعلیٰ ہیں “۔ پھر فرماتا ہے «وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [87-الأعلى:17] ‏ ” دار آخرت متقیوں کے لیے بہت ہی اچھا ہے “۔

«جَنَّاتُ عَدْنٍ» بدل ہے «دَارُ الْمُتَّقِينَ» کا یعنی ان کے لیے آخرت میں جنت عدن ہے جہاں وہ رہیں گے جس کے درختوں اور محلوں کے نیچے سے برابر چشمے ہر وقت جاری ہیں، جو چاہیں گے پائیں گے۔ «وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْيُنُ وَأَنْتُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» [43-الزخرف:71] ‏ ” آنکھوں کی ہر ٹھنڈک موجود ہو گی اور وہ بھی ہمیشگی والی “۔

صفحہ نمبر4436

حدیث میں ہے اہل جنت بیٹھے ہوں گے، سر پر ابر اٹھے گا اور جو خواہش یہ کریں گے وہ ان کو عطا کرے گا یہاں تک کہ کوئی کہے گا اس کو ہم عمر کنواریاں ملیں تو یہ بھی ہوگا۔ پرہیزگار تقویٰ شعار لوگوں کے بدلے اللہ ایسے ہی دیتا ہے جو ایماندار ہوں، ڈرنے والے ہوں اور نیک عمل ہوں۔ ان کے انتقال کے وقت یہ شرک کی گندگی سے پاک ہوتے ہی فرشتے آتے ہیں، سلام کرتے ہیں، جنت کی خوشخبری سناتے ہیں ۔

جیسے فرمان عالی شان ہے آیت «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] ‏ ” جن لوگوں نے اللہ کو رب مانا، پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں تم کوئی غم نہ کرو، جنت کی خوشخبری سنو، جس کا تم سے وعدہ تھا، ہم دنیا آخرت میں تمہارے والی ہیں، جو تم چاہو گے پاؤ گے جو مانگو گے ملے گا۔ تم تو اللہ غفور و رحیم کے مہمان ہو “۔

اس مضمون کی حدیثیں ہم آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ» [14-ابراھیم:27] ‏ کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں۔

صفحہ نمبر4437

متقیوں کے لیے بہترین جزا ٭٭

بروں کے حالات بیان فرما کر نیکوں کے حالات جو ان کے بالکل برعکس ہیں، بیان فرما رہا ہے برے لوگوں کا جواب تو یہ تھا کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب صرف گزرے لوگوں کے فسانے کی نقل ہے لیکن یہ نیک لوگ جواب دیتے ہیں کہ وہ سراسر برکت اور رحمت ہے جو بھی اسے مانے اور اس پر عمل کرے وہ برکت و رحمت سے مالا مال ہو جائے -

پھر خبر دیتا ہے کہ ” میں اپنے رسولوں سے وعدہ کر چکا ہوں کہ نیکوں کو دونوں جہان کی خوشی حاصل ہو گی “۔ جیسے فرمان ہے کہ «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [16-النحل:97] ‏ ” جو شخص نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو خواہ عورت۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ وہ مومن ہو تو ہم اسے بڑی پاک زندگی عطا فرمائیں گے اور اس کے بہترین اعمال کا بدلہ بھی ضرور دیں گے، دونوں جہان میں وہ جزا پائے گا “۔

یاد رہے کہ دار آخرت، دار دنیا سے بہت ہی افضل و احسن ہے۔ وہاں کی جزا نہایت اعلیٰ اور دائمی ہے جیسے قارون کے مال کی تمنا کرنے والوں سے علماء کرام نے فرمایا تھا کہ «وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّـهِ خَيْرٌ» [28-القصص:80] ‏ ” ثواب الٰہی بہتر ہے “، الخ۔

قرآن فرماتا ہے آیت «وَمَا عِندَ اللَّـهِ خَيْرٌ لِّلْأَبْرَارِ» [3-آل عمران:198] ‏ ” اللہ کے پاس کی چیزیں نیک کاروں کے لیے بہت اعلیٰ ہیں “۔ پھر فرماتا ہے «وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [87-الأعلى:17] ‏ ” دار آخرت متقیوں کے لیے بہت ہی اچھا ہے “۔

«جَنَّاتُ عَدْنٍ» بدل ہے «دَارُ الْمُتَّقِينَ» کا یعنی ان کے لیے آخرت میں جنت عدن ہے جہاں وہ رہیں گے جس کے درختوں اور محلوں کے نیچے سے برابر چشمے ہر وقت جاری ہیں، جو چاہیں گے پائیں گے۔ «وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْيُنُ وَأَنْتُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» [43-الزخرف:71] ‏ ” آنکھوں کی ہر ٹھنڈک موجود ہو گی اور وہ بھی ہمیشگی والی “۔

صفحہ نمبر4436

حدیث میں ہے اہل جنت بیٹھے ہوں گے، سر پر ابر اٹھے گا اور جو خواہش یہ کریں گے وہ ان کو عطا کرے گا یہاں تک کہ کوئی کہے گا اس کو ہم عمر کنواریاں ملیں تو یہ بھی ہوگا۔ پرہیزگار تقویٰ شعار لوگوں کے بدلے اللہ ایسے ہی دیتا ہے جو ایماندار ہوں، ڈرنے والے ہوں اور نیک عمل ہوں۔ ان کے انتقال کے وقت یہ شرک کی گندگی سے پاک ہوتے ہی فرشتے آتے ہیں، سلام کرتے ہیں، جنت کی خوشخبری سناتے ہیں ۔

جیسے فرمان عالی شان ہے آیت «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] ‏ ” جن لوگوں نے اللہ کو رب مانا، پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں تم کوئی غم نہ کرو، جنت کی خوشخبری سنو، جس کا تم سے وعدہ تھا، ہم دنیا آخرت میں تمہارے والی ہیں، جو تم چاہو گے پاؤ گے جو مانگو گے ملے گا۔ تم تو اللہ غفور و رحیم کے مہمان ہو “۔

اس مضمون کی حدیثیں ہم آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ» [14-ابراھیم:27] ‏ کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں۔

صفحہ نمبر4437

فرشتوں کا انتظار ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکوں کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” انہیں تو ان فرشتوں کا انتظار ہے جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے آئیں گے تا قیامت کا انتظار ہے اور اس کے افعال و احوال کا -ان جیسے ان سے پہلے کے مشرکین کا بھی یہی وطیرہ رہا یہاں تک کہ ان پر عذاب الٰہی آ پڑے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حجت پوری کر کے، ان کے عذر ختم کر کے، کتابیں اتار کر، وبال میں گھر گئے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنا بگاڑ لیا “۔

اسی لیے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ «هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ» [52-الطور:14] ‏ ” یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے رہے “۔

صفحہ نمبر4440

فرشتوں کا انتظار ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکوں کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” انہیں تو ان فرشتوں کا انتظار ہے جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے آئیں گے تا قیامت کا انتظار ہے اور اس کے افعال و احوال کا -ان جیسے ان سے پہلے کے مشرکین کا بھی یہی وطیرہ رہا یہاں تک کہ ان پر عذاب الٰہی آ پڑے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حجت پوری کر کے، ان کے عذر ختم کر کے، کتابیں اتار کر، وبال میں گھر گئے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنا بگاڑ لیا “۔

اسی لیے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ «هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ» [52-الطور:14] ‏ ” یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے رہے “۔

صفحہ نمبر4440

الٹی سوچ ٭٭

مشرکوں کی الٹی سوچ دیکھئیے گناہ کریں، شرک پر اڑیں، حلال کو حرام کریں، جیسے جانوروں کو اپنے معبودوں کے نام سے منسوب کرنا اور تقدیر کو حجت بنائیں اور کہیں کہ اگر اللہ کو ہمارے اور ہمارے بڑوں کے یہ کام برے لگتے تو ہمیں اسی وقت سزا ملتی -

انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ” یہ ہمارا دستور نہیں، ہمیں تمہارے یہ کام سخت ناپسند ہیں اور ان کی ناپسندیدگی کا اظہار ہم اپنے سچے پیغمبروں علیہم السلام کی زبانی کر چکے۔ سخت تاکیدی طور پر تمہیں ان سے روک چکے، ہر بستی، ہر جماعت، ہر شہر میں اپنے پیغام بھیجے، سب نے اپنا فرض ادا کیا۔ بندگان رب میں اس کے احکام کی تبلیغ صاف کر دی۔ سب سے کہہ دیا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا دوسرے کو نہ پوجو، سب سے پہلے جب شرک کا ظہور زمین پر ہوا اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو خلعت نبوت دے کر بھیجا اور سب سے آخر ختم المرسلین کا لقب دے کر رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی بنایا، جن کی دعوت تمام جن و انس کے لیے زمین کے اس کونے سے اس کونے تک تھی “۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» [21-الانبیآء:25] ‏ یعنی ” تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے، سب کی طرف وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں پس تم صرف ہی عبادت کرو “۔

ایک اور آیت میں ہے «وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ» [43-الزخرف:45] ‏ ” تو اپنے سے پہلے کے رسولوں سے پوچھ لے کہ کیا ہم نے ان کے لیے سوائے اپنے اور معبود مقرر کئے تھے، جن کی وہ عبادت کرتے ہوں؟ “

یہاں بھی فرمایا ” ہر امت کے رسولوں کی دعوت توحید کی تعلیم اور شرک سے بیزاری ہی رہی “۔

صفحہ نمبر4442

پس مشرکین کو اپنے شرک پر، اللہ کی چاہت، اس کی شریعت سے معلوم ہوتی ہے اور وہ ابتداء ہی سے شرک کی بیخ کنی اور توحید کی مضبوطی کی ہے۔ تمام رسولوں کی زبانی اس نے یہی پیغام بھیجا۔ ہاں انہیں شرک کرتے ہوئے چھوڑ دینا یہ اور بات ہے جو قابل حجت نہیں۔ اللہ نے جہنم اور جہنمی بھی تو بنائے ہیں۔ شیطان کافر سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور اپنے بندوں سے ان کے کفر پر راضی نہیں۔ اس میں بھی اس کی حکمت تامہ اور حجت بالغہ ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” رسولوں کے آگاہ کر دینے کے بعد دنیاوی سزائیں بھی کافروں اور مشرکوں پر آئیں۔ بعض کو ہدایت بھی ہوئی، بعض اپنی گمراہی میں ہی بہکتے رہے۔ تم رسولوں کے مخالفین کا، اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کا انجام زمین میں چل پھر کر خود دیکھ لو گزشتہ واقعات کا جنہیں علم ہے ان سے دریافت کر لو کہ کس طرح عذاب الٰہی نے مشرکوں کو غارت کیا۔ اس وقت کے کافروں کے لیے ان کافروں میں مثالیں اور عبرت موجود ہے۔ دیکھ لو اللہ کے انکار کا نتیجہ کتنا مہلک ہوا؟ “

پھر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ” گو آپ ان کی ہدایت کے کیسے ہی حریص ہوں لیکن بے فائدہ ہے۔ رب ان کی گمراہیوں کی وجہ سے انہیں در رحمت سے دور ڈال چکا ہے “۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا» [5-المائدہ:41] ‏ ” جسے اللہ ہی فتنے میں ڈالنا چاہے تو اسے کچھ بھی تو نفع نہیں پہنچا سکتا “۔

صفحہ نمبر4443

حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «وَلَا يَنفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدتُّ أَنْ أَنصَحَ لَكُمْ إِن كَانَ اللَّـهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُمْ» [11-ھود:34] ‏ ” اگر اللہ کا ارادہ تمہیں بہکانے کا ہے تو میری نصیحت اور خیر خواہی تمہارے لیے محض بےسود ہے “۔ اس آیت میں بھی فرماتا ہے کہ ” جسے اللہ تعالیٰ بہکادے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا “۔

جیسے کہ اور آیت میں ہے «مَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [7-الأعراف:186] ‏ ” جس کو اللہ رہنمائی سے محروم کر دے اُس کے لیے پھر کوئی رہنما نہیں ہے، اور اللہ اِنہیں اِن کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے دیتا ہے۔ وہ دن بدن اپنی سرکشی اور بہکاوے میں بڑھتے رہتے ہیں “۔

فرمان ہے آیت «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-يونس:96-97] ‏ ” جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تمام نشانیاں ان کے پاس آ جائیں یہاں تک کہ عذاب الیم کا منہ دیکھ لیں “۔

پس اللہ یعنی اس کی شان، کا امر، اس لیے کہ جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ پس فرماتا ہے کہ ” وہ اپنے گمراہ کئے ہوئے کو راہ نہیں دکھاتا۔ نہ کوئی اور اس کی رہبری کر سکتا ہے نہ کوئی اس کی مدد کے لیے اٹھ سکتا ہے کہ عذاب الٰہی سے بچا سکے “۔ «أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» [7-الأعراف:54] ‏ ” خلق و امر اللہ ہی کا ہے وہ رب العالمین ہے، اس کی ذات با برکت ہے، وہی سچا معبود ہے “۔

صفحہ نمبر4444

الٹی سوچ ٭٭

مشرکوں کی الٹی سوچ دیکھئیے گناہ کریں، شرک پر اڑیں، حلال کو حرام کریں، جیسے جانوروں کو اپنے معبودوں کے نام سے منسوب کرنا اور تقدیر کو حجت بنائیں اور کہیں کہ اگر اللہ کو ہمارے اور ہمارے بڑوں کے یہ کام برے لگتے تو ہمیں اسی وقت سزا ملتی -

انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ” یہ ہمارا دستور نہیں، ہمیں تمہارے یہ کام سخت ناپسند ہیں اور ان کی ناپسندیدگی کا اظہار ہم اپنے سچے پیغمبروں علیہم السلام کی زبانی کر چکے۔ سخت تاکیدی طور پر تمہیں ان سے روک چکے، ہر بستی، ہر جماعت، ہر شہر میں اپنے پیغام بھیجے، سب نے اپنا فرض ادا کیا۔ بندگان رب میں اس کے احکام کی تبلیغ صاف کر دی۔ سب سے کہہ دیا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا دوسرے کو نہ پوجو، سب سے پہلے جب شرک کا ظہور زمین پر ہوا اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو خلعت نبوت دے کر بھیجا اور سب سے آخر ختم المرسلین کا لقب دے کر رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی بنایا، جن کی دعوت تمام جن و انس کے لیے زمین کے اس کونے سے اس کونے تک تھی “۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» [21-الانبیآء:25] ‏ یعنی ” تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے، سب کی طرف وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں پس تم صرف ہی عبادت کرو “۔

ایک اور آیت میں ہے «وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ» [43-الزخرف:45] ‏ ” تو اپنے سے پہلے کے رسولوں سے پوچھ لے کہ کیا ہم نے ان کے لیے سوائے اپنے اور معبود مقرر کئے تھے، جن کی وہ عبادت کرتے ہوں؟ “

یہاں بھی فرمایا ” ہر امت کے رسولوں کی دعوت توحید کی تعلیم اور شرک سے بیزاری ہی رہی “۔

صفحہ نمبر4442

پس مشرکین کو اپنے شرک پر، اللہ کی چاہت، اس کی شریعت سے معلوم ہوتی ہے اور وہ ابتداء ہی سے شرک کی بیخ کنی اور توحید کی مضبوطی کی ہے۔ تمام رسولوں کی زبانی اس نے یہی پیغام بھیجا۔ ہاں انہیں شرک کرتے ہوئے چھوڑ دینا یہ اور بات ہے جو قابل حجت نہیں۔ اللہ نے جہنم اور جہنمی بھی تو بنائے ہیں۔ شیطان کافر سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور اپنے بندوں سے ان کے کفر پر راضی نہیں۔ اس میں بھی اس کی حکمت تامہ اور حجت بالغہ ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” رسولوں کے آگاہ کر دینے کے بعد دنیاوی سزائیں بھی کافروں اور مشرکوں پر آئیں۔ بعض کو ہدایت بھی ہوئی، بعض اپنی گمراہی میں ہی بہکتے رہے۔ تم رسولوں کے مخالفین کا، اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کا انجام زمین میں چل پھر کر خود دیکھ لو گزشتہ واقعات کا جنہیں علم ہے ان سے دریافت کر لو کہ کس طرح عذاب الٰہی نے مشرکوں کو غارت کیا۔ اس وقت کے کافروں کے لیے ان کافروں میں مثالیں اور عبرت موجود ہے۔ دیکھ لو اللہ کے انکار کا نتیجہ کتنا مہلک ہوا؟ “

پھر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ” گو آپ ان کی ہدایت کے کیسے ہی حریص ہوں لیکن بے فائدہ ہے۔ رب ان کی گمراہیوں کی وجہ سے انہیں در رحمت سے دور ڈال چکا ہے “۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا» [5-المائدہ:41] ‏ ” جسے اللہ ہی فتنے میں ڈالنا چاہے تو اسے کچھ بھی تو نفع نہیں پہنچا سکتا “۔

صفحہ نمبر4443

حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «وَلَا يَنفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدتُّ أَنْ أَنصَحَ لَكُمْ إِن كَانَ اللَّـهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُمْ» [11-ھود:34] ‏ ” اگر اللہ کا ارادہ تمہیں بہکانے کا ہے تو میری نصیحت اور خیر خواہی تمہارے لیے محض بےسود ہے “۔ اس آیت میں بھی فرماتا ہے کہ ” جسے اللہ تعالیٰ بہکادے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا “۔

جیسے کہ اور آیت میں ہے «مَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [7-الأعراف:186] ‏ ” جس کو اللہ رہنمائی سے محروم کر دے اُس کے لیے پھر کوئی رہنما نہیں ہے، اور اللہ اِنہیں اِن کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے دیتا ہے۔ وہ دن بدن اپنی سرکشی اور بہکاوے میں بڑھتے رہتے ہیں “۔

فرمان ہے آیت «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-يونس:96-97] ‏ ” جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تمام نشانیاں ان کے پاس آ جائیں یہاں تک کہ عذاب الیم کا منہ دیکھ لیں “۔

پس اللہ یعنی اس کی شان، کا امر، اس لیے کہ جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ پس فرماتا ہے کہ ” وہ اپنے گمراہ کئے ہوئے کو راہ نہیں دکھاتا۔ نہ کوئی اور اس کی رہبری کر سکتا ہے نہ کوئی اس کی مدد کے لیے اٹھ سکتا ہے کہ عذاب الٰہی سے بچا سکے “۔ «أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» [7-الأعراف:54] ‏ ” خلق و امر اللہ ہی کا ہے وہ رب العالمین ہے، اس کی ذات با برکت ہے، وہی سچا معبود ہے “۔

صفحہ نمبر4444

الٹی سوچ ٭٭

مشرکوں کی الٹی سوچ دیکھئیے گناہ کریں، شرک پر اڑیں، حلال کو حرام کریں، جیسے جانوروں کو اپنے معبودوں کے نام سے منسوب کرنا اور تقدیر کو حجت بنائیں اور کہیں کہ اگر اللہ کو ہمارے اور ہمارے بڑوں کے یہ کام برے لگتے تو ہمیں اسی وقت سزا ملتی -

انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ” یہ ہمارا دستور نہیں، ہمیں تمہارے یہ کام سخت ناپسند ہیں اور ان کی ناپسندیدگی کا اظہار ہم اپنے سچے پیغمبروں علیہم السلام کی زبانی کر چکے۔ سخت تاکیدی طور پر تمہیں ان سے روک چکے، ہر بستی، ہر جماعت، ہر شہر میں اپنے پیغام بھیجے، سب نے اپنا فرض ادا کیا۔ بندگان رب میں اس کے احکام کی تبلیغ صاف کر دی۔ سب سے کہہ دیا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا دوسرے کو نہ پوجو، سب سے پہلے جب شرک کا ظہور زمین پر ہوا اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو خلعت نبوت دے کر بھیجا اور سب سے آخر ختم المرسلین کا لقب دے کر رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی بنایا، جن کی دعوت تمام جن و انس کے لیے زمین کے اس کونے سے اس کونے تک تھی “۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» [21-الانبیآء:25] ‏ یعنی ” تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے، سب کی طرف وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں پس تم صرف ہی عبادت کرو “۔

ایک اور آیت میں ہے «وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ» [43-الزخرف:45] ‏ ” تو اپنے سے پہلے کے رسولوں سے پوچھ لے کہ کیا ہم نے ان کے لیے سوائے اپنے اور معبود مقرر کئے تھے، جن کی وہ عبادت کرتے ہوں؟ “

یہاں بھی فرمایا ” ہر امت کے رسولوں کی دعوت توحید کی تعلیم اور شرک سے بیزاری ہی رہی “۔

صفحہ نمبر4442

پس مشرکین کو اپنے شرک پر، اللہ کی چاہت، اس کی شریعت سے معلوم ہوتی ہے اور وہ ابتداء ہی سے شرک کی بیخ کنی اور توحید کی مضبوطی کی ہے۔ تمام رسولوں کی زبانی اس نے یہی پیغام بھیجا۔ ہاں انہیں شرک کرتے ہوئے چھوڑ دینا یہ اور بات ہے جو قابل حجت نہیں۔ اللہ نے جہنم اور جہنمی بھی تو بنائے ہیں۔ شیطان کافر سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور اپنے بندوں سے ان کے کفر پر راضی نہیں۔ اس میں بھی اس کی حکمت تامہ اور حجت بالغہ ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” رسولوں کے آگاہ کر دینے کے بعد دنیاوی سزائیں بھی کافروں اور مشرکوں پر آئیں۔ بعض کو ہدایت بھی ہوئی، بعض اپنی گمراہی میں ہی بہکتے رہے۔ تم رسولوں کے مخالفین کا، اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کا انجام زمین میں چل پھر کر خود دیکھ لو گزشتہ واقعات کا جنہیں علم ہے ان سے دریافت کر لو کہ کس طرح عذاب الٰہی نے مشرکوں کو غارت کیا۔ اس وقت کے کافروں کے لیے ان کافروں میں مثالیں اور عبرت موجود ہے۔ دیکھ لو اللہ کے انکار کا نتیجہ کتنا مہلک ہوا؟ “

پھر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ” گو آپ ان کی ہدایت کے کیسے ہی حریص ہوں لیکن بے فائدہ ہے۔ رب ان کی گمراہیوں کی وجہ سے انہیں در رحمت سے دور ڈال چکا ہے “۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا» [5-المائدہ:41] ‏ ” جسے اللہ ہی فتنے میں ڈالنا چاہے تو اسے کچھ بھی تو نفع نہیں پہنچا سکتا “۔

صفحہ نمبر4443

حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «وَلَا يَنفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدتُّ أَنْ أَنصَحَ لَكُمْ إِن كَانَ اللَّـهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُمْ» [11-ھود:34] ‏ ” اگر اللہ کا ارادہ تمہیں بہکانے کا ہے تو میری نصیحت اور خیر خواہی تمہارے لیے محض بےسود ہے “۔ اس آیت میں بھی فرماتا ہے کہ ” جسے اللہ تعالیٰ بہکادے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا “۔

جیسے کہ اور آیت میں ہے «مَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [7-الأعراف:186] ‏ ” جس کو اللہ رہنمائی سے محروم کر دے اُس کے لیے پھر کوئی رہنما نہیں ہے، اور اللہ اِنہیں اِن کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے دیتا ہے۔ وہ دن بدن اپنی سرکشی اور بہکاوے میں بڑھتے رہتے ہیں “۔

فرمان ہے آیت «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-يونس:96-97] ‏ ” جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تمام نشانیاں ان کے پاس آ جائیں یہاں تک کہ عذاب الیم کا منہ دیکھ لیں “۔

پس اللہ یعنی اس کی شان، کا امر، اس لیے کہ جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ پس فرماتا ہے کہ ” وہ اپنے گمراہ کئے ہوئے کو راہ نہیں دکھاتا۔ نہ کوئی اور اس کی رہبری کر سکتا ہے نہ کوئی اس کی مدد کے لیے اٹھ سکتا ہے کہ عذاب الٰہی سے بچا سکے “۔ «أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» [7-الأعراف:54] ‏ ” خلق و امر اللہ ہی کا ہے وہ رب العالمین ہے، اس کی ذات با برکت ہے، وہی سچا معبود ہے “۔

صفحہ نمبر4444

قیامت یقینا قائم ہو گی ٭٭

کیونکہ کافر قیامت کے قائل نہیں اس لیے دوسروں کو بھی اس عقیدے ہٹانے کے لیے وہ پوری کوشش کرتے ہیں ایمان فروشی کر کے اللہ کی تاکیدی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ نہ کرے گا -

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” قیامت ضرور آئے گی اللہ کا یہ وعدہ بر حق ہے لیکن اکثر لوگ بوجہ اپنی جہالت اور لاعلمی کے رسولوں کے خلاف کرتے ہیں، اللہ کی باتوں کو نہیں مانتے اور کفر کے گڑھے میں گرتے ہیں “۔

پھر قیامت کے آنے اور جسموں کے دوبارہ زندہ ہونے کی بعض حکمتیں ظاہر فرماتا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ دنیوی اختلافات میں حق کیا تھا وہ ظاہر ہو جائے، «لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» [53-النجم:31] ‏ ” بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا ملے۔ کافروں کا اپنے عقیدے، اپنے قول، اپنی قسم میں جھوٹا ہونا کھل جائے “۔

اس وقت سب دیکھ لیں گے کہ انہیں دھکے دے کر جہنم میں جھونکا جائے گا اور کہا جائے گا کہ «هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [52-الطور:14-16] ‏ ” یہی ہے وہ جہنم جس کا تم انکار کرتے رہے اب بتاؤ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ اس میں اب پڑے رہو۔ صبر سے رہو یا ہائے وائے کرو، سب برابر ہے، اعمال کا بدلہ بھگتنا ضروری ہے “۔

صفحہ نمبر4447

قیامت یقینا قائم ہو گی ٭٭

کیونکہ کافر قیامت کے قائل نہیں اس لیے دوسروں کو بھی اس عقیدے ہٹانے کے لیے وہ پوری کوشش کرتے ہیں ایمان فروشی کر کے اللہ کی تاکیدی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ نہ کرے گا -

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” قیامت ضرور آئے گی اللہ کا یہ وعدہ بر حق ہے لیکن اکثر لوگ بوجہ اپنی جہالت اور لاعلمی کے رسولوں کے خلاف کرتے ہیں، اللہ کی باتوں کو نہیں مانتے اور کفر کے گڑھے میں گرتے ہیں “۔

پھر قیامت کے آنے اور جسموں کے دوبارہ زندہ ہونے کی بعض حکمتیں ظاہر فرماتا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ دنیوی اختلافات میں حق کیا تھا وہ ظاہر ہو جائے، «لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» [53-النجم:31] ‏ ” بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا ملے۔ کافروں کا اپنے عقیدے، اپنے قول، اپنی قسم میں جھوٹا ہونا کھل جائے “۔

اس وقت سب دیکھ لیں گے کہ انہیں دھکے دے کر جہنم میں جھونکا جائے گا اور کہا جائے گا کہ «هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [52-الطور:14-16] ‏ ” یہی ہے وہ جہنم جس کا تم انکار کرتے رہے اب بتاؤ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ اس میں اب پڑے رہو۔ صبر سے رہو یا ہائے وائے کرو، سب برابر ہے، اعمال کا بدلہ بھگتنا ضروری ہے “۔

صفحہ نمبر4447

اللہ ہر چیز پر قادر ہے ٭٭

پھر اپنی بے اندازہ قدرت کا بیان فرماتا ہے کہ ” جو وہ چاہے اس پر قادر ہے کوئی بات اسے عاجز نہیں کرسکتی، کوئی چیز اس کے اختیار سے خارج نہیں، وہ جو کرنا چاہے فرما دیتا ہے کہ ہو جا اسی وقت وہ کام ہو جاتا ہے۔ قیامت بھی اس کے فرمان کا عمل ہے “۔

جیسے فرمایا «وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” ایک آنکھ جھپکنے میں اس کا کہا ہو جائے گا “۔

«مَّا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ» [31-لقمان:28] ‏ ” تم سب کا پیدا کرنا اور مرنے کے بعد زندہ کر دینا اس پر ایسا ہی ہے جیسے ایک کو ادھر کہا ہو جا ادھر ہوگیا “۔

اس کو دوبارہ کہنے یا تاکید کرنے کی بھی ضرورت نہیں اس کے ارادہ سے مراد جدا نہیں۔ کوئی نہیں جو اس کے خلاف کر سکے، اس کے حکم کے خلاف زبان ہلا سکے۔ وہ واحد و قہار ہے، وہ عظمتوں اور عزتوں والا ہے، سلطنت اور جبروت والا ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی معبود نہ حاکم نہ رب نہ قادر۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” ابن آ دم مجھے گالیاں دیتا ہے اسے ایسا نہیں چاہیئے تھا۔ وہ مجھے جھٹلا رہا ہے حلانکہ یہ بھی اسے لائق نہ تھا۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ سخت قسمیں کھا کر کہتا ہے کہ اللہ مردوں کو پھر زندہ نہ کرے گا میں کہتا ہوں یقیناً زندہ ہوں گے۔ یہ برحق وعدہ ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں اور اس کا مجھے گالیاں دینا یہ ہے کہ کہتا ہے «قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ» [ 5-المائدہ: 73 ] ‏ اللہ تین میں کا تیسرا ہے، حالانکہ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ اللَّـهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ» [سورة الإخلاص] ‏ میں احد ہوں، میں اللہ ہوں، میں صمد ہوں، جس کا ہم جنس کوئی اور نہیں “۔ ابن ابی حاتم میں تو حدیث موقوفاً مروی ہے۔ بخاری و مسلم میں دو سرے لفظوں کے ساتھ مرفوعاً روایت بھی آئی ہے۔ [صحیح بخاری:4974] ‏

صفحہ نمبر4449

دین کی پاسبانی میں ہجرت ٭٭

جو لوگ اللہ کی راہ میں ترک وطن کرکے، دوست، احباب، رشتے دار، کنبے تجارت کو اللہ کے نام پر ترک کر کے دین ربانی کی پاسبانی میں ہجرت کر جاتے ہیں ان کے اجر بیان ہو رہے ہیں کہ ” دونوں جہان میں یہ اللہ کے ہاں معزز و محترم ہیں “۔

بہت ممکن ہے کہ سبب نزول اس کا مہاجرین حبش ہوں جو مکے میں مشرکین کی سخت ایذائیں سہنے کے بعد ہجرت کرکے حبش چلے گئے کہ آزادی سے دین حق پر عامل رہیں۔ ان کے بہترین لوگ یہ تھے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے اور ابوسلمہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہ وغیرہ۔ قریب قریب اسی (‏80)‏ آدمی تھے مرد بھی عورتیں بھی جو سب صدیق اور صدیقہ تھے اللہ ان سب سے خوش ہو اور انہیں بھی خوش رکھے۔

صفحہ نمبر4450

پس اللہ تعالیٰ ایسے سچے لوگوں سے وعدہ فرماتا ہے کہ ” انہیں وہ اچھی جگہ عنایت فرمائے گا “۔ جیسے مدینہ اور پاک روزی، مال کا بھی بدلہ ملا اور وطن کا بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے خوف سے جیسی چیز کو چھوڑے اللہ تعالیٰ اسی جیسی بلکہ اس سے کہیں بہتر، پاک اور حلال چیز اسے عطا فرماتا ہے۔

ان غریب الوطن مہاجرین کو دیکھئیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاکم و بادشاہ کر دیا اور دنیا پر ان کو سلطنت عطا کی۔ ابھی آخرت کا اجر و ثواب باقی ہے۔ پس ہجرت سے جان چرانے والے مہاجرین کے ثواب سے واقف ہوتے تو ہجرت میں سبقت کرتے۔ اللہ تعالیٰ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے خوش ہو کہ آپ رضی اللہ عنہ جب کبھی کسی مہاجر کو اس کا حصہ غنیمت و غیرہ دیتے تو فرماتے ”لو اللہ تمہیں برکت دے یہ تو دنیا کا اللہ کا وعدہ ہے اور ابھی اجر آخرت جو بہت عظیم الشان ہے، باقی ہے۔‏“ پھر اسی آیت مبارک کی تلاوت کرتے۔

ان پاکباز لوگوں کا اور وصف بیان فرماتا ہے کہ ” جو تکلیفیں اللہ کی راہ میں انہیں پہنچتی ہیں یہ انہیں جھیل لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر جو انہیں توکل ہے، اس میں کبھی فرق نہیں آتا، اسی لیے دونوں جہان کی بھلائیاں یہ لوگ اپنے دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لیتے ہیں “۔

صفحہ نمبر4451

دین کی پاسبانی میں ہجرت ٭٭

جو لوگ اللہ کی راہ میں ترک وطن کرکے، دوست، احباب، رشتے دار، کنبے تجارت کو اللہ کے نام پر ترک کر کے دین ربانی کی پاسبانی میں ہجرت کر جاتے ہیں ان کے اجر بیان ہو رہے ہیں کہ ” دونوں جہان میں یہ اللہ کے ہاں معزز و محترم ہیں “۔

بہت ممکن ہے کہ سبب نزول اس کا مہاجرین حبش ہوں جو مکے میں مشرکین کی سخت ایذائیں سہنے کے بعد ہجرت کرکے حبش چلے گئے کہ آزادی سے دین حق پر عامل رہیں۔ ان کے بہترین لوگ یہ تھے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے اور ابوسلمہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہ وغیرہ۔ قریب قریب اسی (‏80)‏ آدمی تھے مرد بھی عورتیں بھی جو سب صدیق اور صدیقہ تھے اللہ ان سب سے خوش ہو اور انہیں بھی خوش رکھے۔

صفحہ نمبر4450

پس اللہ تعالیٰ ایسے سچے لوگوں سے وعدہ فرماتا ہے کہ ” انہیں وہ اچھی جگہ عنایت فرمائے گا “۔ جیسے مدینہ اور پاک روزی، مال کا بھی بدلہ ملا اور وطن کا بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے خوف سے جیسی چیز کو چھوڑے اللہ تعالیٰ اسی جیسی بلکہ اس سے کہیں بہتر، پاک اور حلال چیز اسے عطا فرماتا ہے۔

ان غریب الوطن مہاجرین کو دیکھئیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاکم و بادشاہ کر دیا اور دنیا پر ان کو سلطنت عطا کی۔ ابھی آخرت کا اجر و ثواب باقی ہے۔ پس ہجرت سے جان چرانے والے مہاجرین کے ثواب سے واقف ہوتے تو ہجرت میں سبقت کرتے۔ اللہ تعالیٰ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے خوش ہو کہ آپ رضی اللہ عنہ جب کبھی کسی مہاجر کو اس کا حصہ غنیمت و غیرہ دیتے تو فرماتے ”لو اللہ تمہیں برکت دے یہ تو دنیا کا اللہ کا وعدہ ہے اور ابھی اجر آخرت جو بہت عظیم الشان ہے، باقی ہے۔‏“ پھر اسی آیت مبارک کی تلاوت کرتے۔

ان پاکباز لوگوں کا اور وصف بیان فرماتا ہے کہ ” جو تکلیفیں اللہ کی راہ میں انہیں پہنچتی ہیں یہ انہیں جھیل لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر جو انہیں توکل ہے، اس میں کبھی فرق نہیں آتا، اسی لیے دونوں جہان کی بھلائیاں یہ لوگ اپنے دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لیتے ہیں “۔

صفحہ نمبر4451

انسان اور منصب رسالت پر اختلاف ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنا کر بھیجا تو عرب نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ اللہ کی شان اس سے بہت اعلیٰ اور بالا ہے کہ وہ کسی انسان کو اپنا رسول بنائے جس کا ذکر قرآن میں بھی ہے۔‏“ فرماتا ہے آیت «أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ رَجُلٍ مِّنْهُمْ» [10-یونس:2] ‏ الخ، ” کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب معلوم ہوا کہ ہم نے کسی انسان کی طرف اپنی وحی نازل فرمائی کہ وہ لوگوں کو آ گاہ کر دے “۔

اور فرمایا ” ہم نے تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول بھیجے سبھی انسان تھے جن پر ہماری وحی آتی تھی۔ تم پہلی آسمانی کتاب والوں سے پوچھ لو کہ وہ انسان تھے یا فرشتے؟ اگر وہ بھی انسان ہوں تو پھر اپنے اس قول سے باز آؤ ہاں اگر ثابت ہو کہ سلسلہ نبوت فرشتوں میں ہی رہا تو بیشک اس نبی کا انکار کرتے ہوئے تم اچھے لگو گے “۔

اور آیت میں «مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] ‏ کا لفظ بھی فرمایا یعنی ” وہ رسول بھی زمین کے باشندے تھے، آ سمان کی مخلوق نہ تھے “۔

صفحہ نمبر4453

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مراد اہل ذکر سے اہل کتاب ہیں۔‏“ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ اور اعمش رحمتہ اللہ علیہ کا قول بھی یہی ہے۔ عبدالرحمٰن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ذکر سے مراد قرآن ہے۔‏“ جیسے آیت «اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ» [15-الحجر:9] ‏ میں ہے یہ قول بجائے خود ٹھیک ہے لیکن اس آیت میں ذکر سے مراد قرآن لینا درست نہیں کیونکہ قرآن کے تو وہ لوگ منکر تھے۔ پھر قرآن والوں سے پوچھ کر ان کی تشفی کیسے ہو سکتی تھی؟

اسی طرح ابو جعفر باقر رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ”ہم اہل ذکر ہیں“ یعنی یہ امت یہ قول بھی اپنی جگہ ہے۔ درست ہے فی الواقع یہ امت تمام اگلی امتوں سے زیادہ علم والی ہے اور اہل بیت کے علماء اور علماء سے بدر جہا بڑھ کر ہیں۔ جب کہ وہ سنت مستقیمہ پر ثابت قدم ہوں۔ جیسے علی، ابن عباس، حسن، حسین، رضی اللہ عنہم محمد بن حنفیہ، علی بن حسین، زین العابدین، علی بن عبداللہ بن عباس، ابو جعفر باقر، محمد بن علی بن حسین اور ان کے صاحبزادے جعفر رحمہ اللہ اور ان جیسے اور بزرگ حضرات رحمہ اللہ علیہم۔ اللہ کی رحمت و رضا انہیں حاصل ہو۔ جو کہ اللہ کی رسی کو مضبوط تھامے ہوئے اور صراط مستقیم پر قدم جمائے ہوئے اور ہر حقدار کے حق بجا لانے والے اور ہر ایک کو اس کی سچی جگہ اتارنے والے، ہر ایک کی قدر و عزت کرنے والے تھے اور خود وہ اللہ کے تمام نیک بندوں کے دلوں میں اپنی مقبولیت رکھتے ہیں۔

یہ بیشک صحیح تو ہے لیکن اس آیت میں یہ مراد نہیں۔ یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی انسان ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی انبیاء بنی آدم میں سے ہوتے رہے “۔

جیسے فرمان ہے آیت «أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِّن زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَىٰ فِي السَّمَاءِ وَلَن نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّىٰ تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَّقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَىٰ إِلَّا أَن قَالُوا أَبَعَثَ اللَّـهُ بَشَرًا رَّسُولًا» [17-الإسراء:94-93] ‏ الخ ” کہہ دے کہ میرا رب پاک ہے میں صرف ایک انسان ہوں جو اللہ کا رسول ہوں۔ لوگ محض یہ بہانہ کر کے رسولوں کا انکار کر بیٹھے کہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اپنی رسالت دے “۔

اور آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ» [25-الفرقان:20] ‏ ” تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سبھی کھانے پینے اور بازاروں میں چلنے پھرنے والے تھے “۔

اور آیت میں ہے «وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ» [21-الأنبياء:8] ‏ ” ہم نے ان کے جسم ایسے نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانے پینے سے بے نیاز ہوں یا یہ کہ مرنے والے ہی نہ ہوں “۔

اور جگہ ارشاد ہے آیت «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ» [46-الأحقاف:9] ‏ ” میں کوئی شروع کا اور پہلا اور نیا رسول تو نہیں؟ “

صفحہ نمبر4454

ایک اور آیت میں ہے «قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ» [18-الکھف:110] ‏ ” میں تم جیسا انسان ہوں میری جانب وحی اتاری جاتی ہے “ الخ۔

پس یہاں بھی ارشاد ہوا کہ ” پہلی کتابوں والوں سے پوچھ لو کہ نبی انسان ہوتے تھے یا غیر انسان؟ “

پھر یہاں فرماتا ہے کہ ” رسول کو وہ دلیلیں دے کر حجتیں عطا فرما کر بھیجتا ہے کتابیں ان پر نازل فرماتا ہے صحیفے انہیں عطا فرماتا ہے “۔

«زُّبُرِ» سے مراد کتابیں ہیں۔ جیسے قرآن میں اور جگہ ہے «وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوهُ فِي الزُّبُرِ» [54-القمر:52] ‏ ” جو کچھ انہوں نے کیا کتابوں میں ہے “۔

اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ» [21-الأنبياء:105] ‏ ” ہم نے زبور میں لکھ دیا “ الخ۔

پھر فرماتا ہے ” ہم نے تیری طرف ذکر نازل فرمایا “ یعنی قرآن اس لیے کہ چونکہ تو اس کے معنی مطلب سے اچھی طرح واقف ہے اسے لوگوں کو سمجھا بجھا دے۔ حقیقتاً اے نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس پر سب سے زیادہ حریص ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس کے سب سے بڑے عالم ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس کے سب سے زیادہ عامل ہیں۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم افضل الخلائق ہیں، اولاد آدم کے سردار ہیں۔

جو اجمال اس کتاب میں ہے اس کی تفصیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے ہے، لوگوں پر جو مشکل ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے سمجھا دیں تاکہ وہ سوچیں سمجھیں راہ پائیں اور پھر نجات اور دونوں جہاں کی بھلائی حاصل کریں۔

صفحہ نمبر4455

انسان اور منصب رسالت پر اختلاف ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنا کر بھیجا تو عرب نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ اللہ کی شان اس سے بہت اعلیٰ اور بالا ہے کہ وہ کسی انسان کو اپنا رسول بنائے جس کا ذکر قرآن میں بھی ہے۔‏“ فرماتا ہے آیت «أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ رَجُلٍ مِّنْهُمْ» [10-یونس:2] ‏ الخ، ” کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب معلوم ہوا کہ ہم نے کسی انسان کی طرف اپنی وحی نازل فرمائی کہ وہ لوگوں کو آ گاہ کر دے “۔

اور فرمایا ” ہم نے تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول بھیجے سبھی انسان تھے جن پر ہماری وحی آتی تھی۔ تم پہلی آسمانی کتاب والوں سے پوچھ لو کہ وہ انسان تھے یا فرشتے؟ اگر وہ بھی انسان ہوں تو پھر اپنے اس قول سے باز آؤ ہاں اگر ثابت ہو کہ سلسلہ نبوت فرشتوں میں ہی رہا تو بیشک اس نبی کا انکار کرتے ہوئے تم اچھے لگو گے “۔

اور آیت میں «مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] ‏ کا لفظ بھی فرمایا یعنی ” وہ رسول بھی زمین کے باشندے تھے، آ سمان کی مخلوق نہ تھے “۔

صفحہ نمبر4453

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مراد اہل ذکر سے اہل کتاب ہیں۔‏“ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ اور اعمش رحمتہ اللہ علیہ کا قول بھی یہی ہے۔ عبدالرحمٰن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ذکر سے مراد قرآن ہے۔‏“ جیسے آیت «اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ» [15-الحجر:9] ‏ میں ہے یہ قول بجائے خود ٹھیک ہے لیکن اس آیت میں ذکر سے مراد قرآن لینا درست نہیں کیونکہ قرآن کے تو وہ لوگ منکر تھے۔ پھر قرآن والوں سے پوچھ کر ان کی تشفی کیسے ہو سکتی تھی؟

اسی طرح ابو جعفر باقر رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ”ہم اہل ذکر ہیں“ یعنی یہ امت یہ قول بھی اپنی جگہ ہے۔ درست ہے فی الواقع یہ امت تمام اگلی امتوں سے زیادہ علم والی ہے اور اہل بیت کے علماء اور علماء سے بدر جہا بڑھ کر ہیں۔ جب کہ وہ سنت مستقیمہ پر ثابت قدم ہوں۔ جیسے علی، ابن عباس، حسن، حسین، رضی اللہ عنہم محمد بن حنفیہ، علی بن حسین، زین العابدین، علی بن عبداللہ بن عباس، ابو جعفر باقر، محمد بن علی بن حسین اور ان کے صاحبزادے جعفر رحمہ اللہ اور ان جیسے اور بزرگ حضرات رحمہ اللہ علیہم۔ اللہ کی رحمت و رضا انہیں حاصل ہو۔ جو کہ اللہ کی رسی کو مضبوط تھامے ہوئے اور صراط مستقیم پر قدم جمائے ہوئے اور ہر حقدار کے حق بجا لانے والے اور ہر ایک کو اس کی سچی جگہ اتارنے والے، ہر ایک کی قدر و عزت کرنے والے تھے اور خود وہ اللہ کے تمام نیک بندوں کے دلوں میں اپنی مقبولیت رکھتے ہیں۔

یہ بیشک صحیح تو ہے لیکن اس آیت میں یہ مراد نہیں۔ یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی انسان ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی انبیاء بنی آدم میں سے ہوتے رہے “۔

جیسے فرمان ہے آیت «أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِّن زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَىٰ فِي السَّمَاءِ وَلَن نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّىٰ تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَّقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَىٰ إِلَّا أَن قَالُوا أَبَعَثَ اللَّـهُ بَشَرًا رَّسُولًا» [17-الإسراء:94-93] ‏ الخ ” کہہ دے کہ میرا رب پاک ہے میں صرف ایک انسان ہوں جو اللہ کا رسول ہوں۔ لوگ محض یہ بہانہ کر کے رسولوں کا انکار کر بیٹھے کہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اپنی رسالت دے “۔

اور آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ» [25-الفرقان:20] ‏ ” تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سبھی کھانے پینے اور بازاروں میں چلنے پھرنے والے تھے “۔

اور آیت میں ہے «وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ» [21-الأنبياء:8] ‏ ” ہم نے ان کے جسم ایسے نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانے پینے سے بے نیاز ہوں یا یہ کہ مرنے والے ہی نہ ہوں “۔

اور جگہ ارشاد ہے آیت «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ» [46-الأحقاف:9] ‏ ” میں کوئی شروع کا اور پہلا اور نیا رسول تو نہیں؟ “

صفحہ نمبر4454

ایک اور آیت میں ہے «قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ» [18-الکھف:110] ‏ ” میں تم جیسا انسان ہوں میری جانب وحی اتاری جاتی ہے “ الخ۔

پس یہاں بھی ارشاد ہوا کہ ” پہلی کتابوں والوں سے پوچھ لو کہ نبی انسان ہوتے تھے یا غیر انسان؟ “

پھر یہاں فرماتا ہے کہ ” رسول کو وہ دلیلیں دے کر حجتیں عطا فرما کر بھیجتا ہے کتابیں ان پر نازل فرماتا ہے صحیفے انہیں عطا فرماتا ہے “۔

«زُّبُرِ» سے مراد کتابیں ہیں۔ جیسے قرآن میں اور جگہ ہے «وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوهُ فِي الزُّبُرِ» [54-القمر:52] ‏ ” جو کچھ انہوں نے کیا کتابوں میں ہے “۔

اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ» [21-الأنبياء:105] ‏ ” ہم نے زبور میں لکھ دیا “ الخ۔

پھر فرماتا ہے ” ہم نے تیری طرف ذکر نازل فرمایا “ یعنی قرآن اس لیے کہ چونکہ تو اس کے معنی مطلب سے اچھی طرح واقف ہے اسے لوگوں کو سمجھا بجھا دے۔ حقیقتاً اے نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس پر سب سے زیادہ حریص ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس کے سب سے بڑے عالم ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس کے سب سے زیادہ عامل ہیں۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم افضل الخلائق ہیں، اولاد آدم کے سردار ہیں۔

جو اجمال اس کتاب میں ہے اس کی تفصیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے ہے، لوگوں پر جو مشکل ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے سمجھا دیں تاکہ وہ سوچیں سمجھیں راہ پائیں اور پھر نجات اور دونوں جہاں کی بھلائی حاصل کریں۔

صفحہ نمبر4455

اللہ عزوجل کا غضب ٭٭

اللہ تعالیٰ خالق کائنات اور مالک ارض و سماوات اپنے حلم کا باوجود علم کے باوجود اور اپنی مہربانی کا باوجود غصے کے بیان فرماتا ہے کہ ” وہ اگر چاہے اپنے گنہگار بدکردار بندوں کو زمین میں دھنسا سکتا ہے۔ بے خبری میں ان پر عذاب لا سکتا ہے لیکن اپنی غایت مہربانی سے درگزر کئے ہوئے ہے “۔

جیسے سورۃ تبارک میں فرمایا «أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ» [67-الملک:16-17] ‏ ” اللہ جو آسمان میں ہے کیا تم اس کے غضب سے نہیں ڈرتے؟ کہ کہیں زمین کو دلدل بنا کر تمہیں اس میں دھنسا نہ دے کہ وہ تمہیں ہچکو لے ہی لگاتی رہا کرے کیا تمہیں آسمانوں والے اللہ سے ڈر نہیں لگتا کہ کہیں وہ تم پر آسمان سے پتھر نہ برسا دے۔ اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے کہ میرا ڈرانا کیسا تھا “۔

اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے مکار، بد کردار لوگوں کو ان کے چلتے پھرتے، آتے، کھاتے، کماتے ہی پکڑ لے۔ سفر، حضر، رات، دن جس وقت چاہے، پکڑ لے۔ جیسے فرمان ہے آیت «أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ» [7-الأعراف:97] ‏، ” کیا بستی والے اس سے نڈر ہو گئے ہیں کہ ان کے پاس ہمارا عذاب رات میں ان کے سوتے سلاتے ہی آ جائے “، یا دن چڑھے ان کے کھیل کود کے وقت ہی آ جائے۔ اللہ کو کوئی شخص اور کوئی کام عاجز نہیں کر سکتا وہ ہارنے والا، تھکنے والا اور ناکام ہونے والا نہیں۔

اور یہ بھی ممکن ہے کہ باوجود ڈر خوف کے انہیں پکڑ لے تو دونوں عتاب ایک ساتھ ہو جائیں ڈر اور پھر پکڑ۔ ایک کو اچانک موت آ جائے دوسرا ڈرے اور پھر مرے۔ لیکن رب العلی، رب کائنات بڑا ہی رؤف و رحیم ہے اس لیے جلدی نہیں پکڑتا۔ بخاری و مسلم میں ہے خلاف طبع باتیں سن کر صبر کرنے میں اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد ٹھہراتے ہیں اور وہ انہیں رزق و عافیت عنایت فرماتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6099] ‏

بخاری مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے لیکن جب پکڑ نازل فرماتا ہے پھر اچانک تباہ ہو جاتا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [11-ھود:102] ‏، پڑھی ۔ [صحیح بخاری:4686] ‏

اور آیت میں ہے «وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ» [22-الحج:48] ‏ ” بہت سی بستیاں ہیں جنہیں میں نے کچھ مہلت دی لیکن آخر ان کے ظلم کی بنا پر انہیں گرفتار کر لیا۔ لوٹنا تو میری ہی جانب ہے “۔

صفحہ نمبر4457

اللہ عزوجل کا غضب ٭٭

اللہ تعالیٰ خالق کائنات اور مالک ارض و سماوات اپنے حلم کا باوجود علم کے باوجود اور اپنی مہربانی کا باوجود غصے کے بیان فرماتا ہے کہ ” وہ اگر چاہے اپنے گنہگار بدکردار بندوں کو زمین میں دھنسا سکتا ہے۔ بے خبری میں ان پر عذاب لا سکتا ہے لیکن اپنی غایت مہربانی سے درگزر کئے ہوئے ہے “۔

جیسے سورۃ تبارک میں فرمایا «أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ» [67-الملک:16-17] ‏ ” اللہ جو آسمان میں ہے کیا تم اس کے غضب سے نہیں ڈرتے؟ کہ کہیں زمین کو دلدل بنا کر تمہیں اس میں دھنسا نہ دے کہ وہ تمہیں ہچکو لے ہی لگاتی رہا کرے کیا تمہیں آسمانوں والے اللہ سے ڈر نہیں لگتا کہ کہیں وہ تم پر آسمان سے پتھر نہ برسا دے۔ اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے کہ میرا ڈرانا کیسا تھا “۔

اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے مکار، بد کردار لوگوں کو ان کے چلتے پھرتے، آتے، کھاتے، کماتے ہی پکڑ لے۔ سفر، حضر، رات، دن جس وقت چاہے، پکڑ لے۔ جیسے فرمان ہے آیت «أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ» [7-الأعراف:97] ‏، ” کیا بستی والے اس سے نڈر ہو گئے ہیں کہ ان کے پاس ہمارا عذاب رات میں ان کے سوتے سلاتے ہی آ جائے “، یا دن چڑھے ان کے کھیل کود کے وقت ہی آ جائے۔ اللہ کو کوئی شخص اور کوئی کام عاجز نہیں کر سکتا وہ ہارنے والا، تھکنے والا اور ناکام ہونے والا نہیں۔

اور یہ بھی ممکن ہے کہ باوجود ڈر خوف کے انہیں پکڑ لے تو دونوں عتاب ایک ساتھ ہو جائیں ڈر اور پھر پکڑ۔ ایک کو اچانک موت آ جائے دوسرا ڈرے اور پھر مرے۔ لیکن رب العلی، رب کائنات بڑا ہی رؤف و رحیم ہے اس لیے جلدی نہیں پکڑتا۔ بخاری و مسلم میں ہے خلاف طبع باتیں سن کر صبر کرنے میں اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد ٹھہراتے ہیں اور وہ انہیں رزق و عافیت عنایت فرماتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6099] ‏

بخاری مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے لیکن جب پکڑ نازل فرماتا ہے پھر اچانک تباہ ہو جاتا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [11-ھود:102] ‏، پڑھی ۔ [صحیح بخاری:4686] ‏

اور آیت میں ہے «وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ» [22-الحج:48] ‏ ” بہت سی بستیاں ہیں جنہیں میں نے کچھ مہلت دی لیکن آخر ان کے ظلم کی بنا پر انہیں گرفتار کر لیا۔ لوٹنا تو میری ہی جانب ہے “۔

صفحہ نمبر4457

اللہ عزوجل کا غضب ٭٭

اللہ تعالیٰ خالق کائنات اور مالک ارض و سماوات اپنے حلم کا باوجود علم کے باوجود اور اپنی مہربانی کا باوجود غصے کے بیان فرماتا ہے کہ ” وہ اگر چاہے اپنے گنہگار بدکردار بندوں کو زمین میں دھنسا سکتا ہے۔ بے خبری میں ان پر عذاب لا سکتا ہے لیکن اپنی غایت مہربانی سے درگزر کئے ہوئے ہے “۔

جیسے سورۃ تبارک میں فرمایا «أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ» [67-الملک:16-17] ‏ ” اللہ جو آسمان میں ہے کیا تم اس کے غضب سے نہیں ڈرتے؟ کہ کہیں زمین کو دلدل بنا کر تمہیں اس میں دھنسا نہ دے کہ وہ تمہیں ہچکو لے ہی لگاتی رہا کرے کیا تمہیں آسمانوں والے اللہ سے ڈر نہیں لگتا کہ کہیں وہ تم پر آسمان سے پتھر نہ برسا دے۔ اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے کہ میرا ڈرانا کیسا تھا “۔

اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے مکار، بد کردار لوگوں کو ان کے چلتے پھرتے، آتے، کھاتے، کماتے ہی پکڑ لے۔ سفر، حضر، رات، دن جس وقت چاہے، پکڑ لے۔ جیسے فرمان ہے آیت «أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ» [7-الأعراف:97] ‏، ” کیا بستی والے اس سے نڈر ہو گئے ہیں کہ ان کے پاس ہمارا عذاب رات میں ان کے سوتے سلاتے ہی آ جائے “، یا دن چڑھے ان کے کھیل کود کے وقت ہی آ جائے۔ اللہ کو کوئی شخص اور کوئی کام عاجز نہیں کر سکتا وہ ہارنے والا، تھکنے والا اور ناکام ہونے والا نہیں۔

اور یہ بھی ممکن ہے کہ باوجود ڈر خوف کے انہیں پکڑ لے تو دونوں عتاب ایک ساتھ ہو جائیں ڈر اور پھر پکڑ۔ ایک کو اچانک موت آ جائے دوسرا ڈرے اور پھر مرے۔ لیکن رب العلی، رب کائنات بڑا ہی رؤف و رحیم ہے اس لیے جلدی نہیں پکڑتا۔ بخاری و مسلم میں ہے خلاف طبع باتیں سن کر صبر کرنے میں اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد ٹھہراتے ہیں اور وہ انہیں رزق و عافیت عنایت فرماتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6099] ‏

بخاری مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے لیکن جب پکڑ نازل فرماتا ہے پھر اچانک تباہ ہو جاتا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [11-ھود:102] ‏، پڑھی ۔ [صحیح بخاری:4686] ‏

اور آیت میں ہے «وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ» [22-الحج:48] ‏ ” بہت سی بستیاں ہیں جنہیں میں نے کچھ مہلت دی لیکن آخر ان کے ظلم کی بنا پر انہیں گرفتار کر لیا۔ لوٹنا تو میری ہی جانب ہے “۔

صفحہ نمبر4457

عرش سے فرش تک ٭٭

اللہ تعالیٰ ذو الجلال و الاکرام کی عظمت و جلالت کبریائی اور بیہیمتائی کا خیال کیجئے کہ ساری مخلوق عرش سے فرش تک اس کے سامنے مطیع اور غلام۔ جمادات و حیوانات، انسان اور جنات، فرشتے اور کل کائنات، اس کی فرماں بردار، ہر چیز صبح شام اس کے سامنے ہر طرح سے اپنی عاجزی اور بے کسی کا ثبوت پیش کرنے والی، جھک جھک کر اس کے سامنے سجدے کرنے والی۔

مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں سورج ڈھلتے ہی تمام چیزیں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتی ہیں ہر ایک رب العالمین کے سامنے ذلیل و پست ہے، عاجز و بے بس ہے۔ پہاڑ وغیرہ کا سجدہ ان کا سایہ ہے، سمندر کی موجیں اس کی نماز ہے۔ انہیں گویا ذوی العقول سمجھ کر سجدے کی نسبت ان کی طرف کی۔ اور فرمایا زمین و آسمان کے کل جاندار اس کے سامنے سجدے میں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ» السجدہ [13-الرعد:15] ‏، ” خوشی ناخوشی ہر چیز رب العالمین کے سامنے سر بسجود ہے، ان کے سائے صبح و شام سجدہ کرتے ہیں “۔

فرشتے بھی باوجود اپنی قدر و منزلت کے اللہ کے سامنے پست ہیں، اس کی عبادت سے تنگ نہیں آ سکتے اللہ تعالیٰ جل و علا سے کانپتے اور لرزتے رہتے ہیں اور جو حکم ہے اس کی بجا آوری میں مشغول ہیں نہ نافرمانی کرتے ہیں نہ سستی کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر4460

عرش سے فرش تک ٭٭

اللہ تعالیٰ ذو الجلال و الاکرام کی عظمت و جلالت کبریائی اور بیہیمتائی کا خیال کیجئے کہ ساری مخلوق عرش سے فرش تک اس کے سامنے مطیع اور غلام۔ جمادات و حیوانات، انسان اور جنات، فرشتے اور کل کائنات، اس کی فرماں بردار، ہر چیز صبح شام اس کے سامنے ہر طرح سے اپنی عاجزی اور بے کسی کا ثبوت پیش کرنے والی، جھک جھک کر اس کے سامنے سجدے کرنے والی۔

مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں سورج ڈھلتے ہی تمام چیزیں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتی ہیں ہر ایک رب العالمین کے سامنے ذلیل و پست ہے، عاجز و بے بس ہے۔ پہاڑ وغیرہ کا سجدہ ان کا سایہ ہے، سمندر کی موجیں اس کی نماز ہے۔ انہیں گویا ذوی العقول سمجھ کر سجدے کی نسبت ان کی طرف کی۔ اور فرمایا زمین و آسمان کے کل جاندار اس کے سامنے سجدے میں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ» السجدہ [13-الرعد:15] ‏، ” خوشی ناخوشی ہر چیز رب العالمین کے سامنے سر بسجود ہے، ان کے سائے صبح و شام سجدہ کرتے ہیں “۔

فرشتے بھی باوجود اپنی قدر و منزلت کے اللہ کے سامنے پست ہیں، اس کی عبادت سے تنگ نہیں آ سکتے اللہ تعالیٰ جل و علا سے کانپتے اور لرزتے رہتے ہیں اور جو حکم ہے اس کی بجا آوری میں مشغول ہیں نہ نافرمانی کرتے ہیں نہ سستی کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر4460

عرش سے فرش تک ٭٭

اللہ تعالیٰ ذو الجلال و الاکرام کی عظمت و جلالت کبریائی اور بیہیمتائی کا خیال کیجئے کہ ساری مخلوق عرش سے فرش تک اس کے سامنے مطیع اور غلام۔ جمادات و حیوانات، انسان اور جنات، فرشتے اور کل کائنات، اس کی فرماں بردار، ہر چیز صبح شام اس کے سامنے ہر طرح سے اپنی عاجزی اور بے کسی کا ثبوت پیش کرنے والی، جھک جھک کر اس کے سامنے سجدے کرنے والی۔

مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں سورج ڈھلتے ہی تمام چیزیں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتی ہیں ہر ایک رب العالمین کے سامنے ذلیل و پست ہے، عاجز و بے بس ہے۔ پہاڑ وغیرہ کا سجدہ ان کا سایہ ہے، سمندر کی موجیں اس کی نماز ہے۔ انہیں گویا ذوی العقول سمجھ کر سجدے کی نسبت ان کی طرف کی۔ اور فرمایا زمین و آسمان کے کل جاندار اس کے سامنے سجدے میں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ» السجدہ [13-الرعد:15] ‏، ” خوشی ناخوشی ہر چیز رب العالمین کے سامنے سر بسجود ہے، ان کے سائے صبح و شام سجدہ کرتے ہیں “۔

فرشتے بھی باوجود اپنی قدر و منزلت کے اللہ کے سامنے پست ہیں، اس کی عبادت سے تنگ نہیں آ سکتے اللہ تعالیٰ جل و علا سے کانپتے اور لرزتے رہتے ہیں اور جو حکم ہے اس کی بجا آوری میں مشغول ہیں نہ نافرمانی کرتے ہیں نہ سستی کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر4460

ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے ٭٭

اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ «أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّـهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا» [3-آل عمران:83] ‏ ” اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا ناخوشی اس کی ماتحت ہے “۔

سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ «أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ» [39-الزمر:3] ‏ ” دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے “۔ آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و احسان بدن پر ہیں۔ اور اب بھی ان نعمتوں کے پالنے کے بعد بھی تم اس کے ویسے ہی محتاج ہو مصیبتیں اب بھی سر پر منڈلا رہی ہیں۔

سختی کے وقت وہی یاد آتا ہے اور گڑ گڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ کٹھن وقت میں اسی کی طرف جھکتے ہو۔ خود مشرکین مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا» [17-الاسراء:67] ‏ ” جب سمندر میں گھر جاتے باد مخالف کے جھونکے کشتی کو پتے کی طرح ہچکو لے دینے لگتے تو اپنے ٹھاکروں، دیوتاؤں، بتوں، فقیروں، ولیوں، نبیوں سب کو بھول جاتے اور خالص اللہ سے لو لگا کر خلوص دل سے اس سے بچاؤ اور نجات طلب کرتے۔ لیکن کنارے پر کشتی کے پار لگتے ہی اپنے پرانے اللہ سب یاد آ جاتے اور معبود حقیقی کے ساتھ پھر ان کی پوجا پاٹ ہونے لگتی “۔

اس سے بڑھ کر بھی ناشکری کفر اور نعمتوں کی فراموشی اور کیا ہو سکتی ہے؟ یہاں بھی فرمایا کہ ” مطلب نکل جاتے ہی بہت سے لوگ آنکھیں پھیر لیتے ہیں “۔

«لِيَكْفُرُوا» کا لام لام عاقبت ہے اور لام تعلیل بھی کہا گیا ہے یعنی ہم نے یہ خصلت ان کی اس لیے کر دی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر پردے ڈالیں اور اس کا انکار کریں حالانکہ دراصل نعمتوں کا دینے والا، مصیبتوں کا دفع کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔

پھر انہیں ڈراتا ہے کہ ” اچھا دنیا میں تو اپنا کام چلا لو، معمولی سا فائدہ یہاں کا اٹھا لو لیکن اس کا انجام ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا “۔

صفحہ نمبر4463

ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے ٭٭

اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ «أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّـهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا» [3-آل عمران:83] ‏ ” اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا ناخوشی اس کی ماتحت ہے “۔

سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ «أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ» [39-الزمر:3] ‏ ” دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے “۔ آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و احسان بدن پر ہیں۔ اور اب بھی ان نعمتوں کے پالنے کے بعد بھی تم اس کے ویسے ہی محتاج ہو مصیبتیں اب بھی سر پر منڈلا رہی ہیں۔

سختی کے وقت وہی یاد آتا ہے اور گڑ گڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ کٹھن وقت میں اسی کی طرف جھکتے ہو۔ خود مشرکین مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا» [17-الاسراء:67] ‏ ” جب سمندر میں گھر جاتے باد مخالف کے جھونکے کشتی کو پتے کی طرح ہچکو لے دینے لگتے تو اپنے ٹھاکروں، دیوتاؤں، بتوں، فقیروں، ولیوں، نبیوں سب کو بھول جاتے اور خالص اللہ سے لو لگا کر خلوص دل سے اس سے بچاؤ اور نجات طلب کرتے۔ لیکن کنارے پر کشتی کے پار لگتے ہی اپنے پرانے اللہ سب یاد آ جاتے اور معبود حقیقی کے ساتھ پھر ان کی پوجا پاٹ ہونے لگتی “۔

اس سے بڑھ کر بھی ناشکری کفر اور نعمتوں کی فراموشی اور کیا ہو سکتی ہے؟ یہاں بھی فرمایا کہ ” مطلب نکل جاتے ہی بہت سے لوگ آنکھیں پھیر لیتے ہیں “۔

«لِيَكْفُرُوا» کا لام لام عاقبت ہے اور لام تعلیل بھی کہا گیا ہے یعنی ہم نے یہ خصلت ان کی اس لیے کر دی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر پردے ڈالیں اور اس کا انکار کریں حالانکہ دراصل نعمتوں کا دینے والا، مصیبتوں کا دفع کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔

پھر انہیں ڈراتا ہے کہ ” اچھا دنیا میں تو اپنا کام چلا لو، معمولی سا فائدہ یہاں کا اٹھا لو لیکن اس کا انجام ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا “۔

صفحہ نمبر4463

ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے ٭٭

اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ «أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّـهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا» [3-آل عمران:83] ‏ ” اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا ناخوشی اس کی ماتحت ہے “۔

سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ «أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ» [39-الزمر:3] ‏ ” دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے “۔ آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و احسان بدن پر ہیں۔ اور اب بھی ان نعمتوں کے پالنے کے بعد بھی تم اس کے ویسے ہی محتاج ہو مصیبتیں اب بھی سر پر منڈلا رہی ہیں۔

سختی کے وقت وہی یاد آتا ہے اور گڑ گڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ کٹھن وقت میں اسی کی طرف جھکتے ہو۔ خود مشرکین مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا» [17-الاسراء:67] ‏ ” جب سمندر میں گھر جاتے باد مخالف کے جھونکے کشتی کو پتے کی طرح ہچکو لے دینے لگتے تو اپنے ٹھاکروں، دیوتاؤں، بتوں، فقیروں، ولیوں، نبیوں سب کو بھول جاتے اور خالص اللہ سے لو لگا کر خلوص دل سے اس سے بچاؤ اور نجات طلب کرتے۔ لیکن کنارے پر کشتی کے پار لگتے ہی اپنے پرانے اللہ سب یاد آ جاتے اور معبود حقیقی کے ساتھ پھر ان کی پوجا پاٹ ہونے لگتی “۔

اس سے بڑھ کر بھی ناشکری کفر اور نعمتوں کی فراموشی اور کیا ہو سکتی ہے؟ یہاں بھی فرمایا کہ ” مطلب نکل جاتے ہی بہت سے لوگ آنکھیں پھیر لیتے ہیں “۔

«لِيَكْفُرُوا» کا لام لام عاقبت ہے اور لام تعلیل بھی کہا گیا ہے یعنی ہم نے یہ خصلت ان کی اس لیے کر دی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر پردے ڈالیں اور اس کا انکار کریں حالانکہ دراصل نعمتوں کا دینے والا، مصیبتوں کا دفع کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔

پھر انہیں ڈراتا ہے کہ ” اچھا دنیا میں تو اپنا کام چلا لو، معمولی سا فائدہ یہاں کا اٹھا لو لیکن اس کا انجام ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا “۔

صفحہ نمبر4463

ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے ٭٭

اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ «أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّـهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا» [3-آل عمران:83] ‏ ” اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا ناخوشی اس کی ماتحت ہے “۔

سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ «أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ» [39-الزمر:3] ‏ ” دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے “۔ آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و احسان بدن پر ہیں۔ اور اب بھی ان نعمتوں کے پالنے کے بعد بھی تم اس کے ویسے ہی محتاج ہو مصیبتیں اب بھی سر پر منڈلا رہی ہیں۔

سختی کے وقت وہی یاد آتا ہے اور گڑ گڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ کٹھن وقت میں اسی کی طرف جھکتے ہو۔ خود مشرکین مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا» [17-الاسراء:67] ‏ ” جب سمندر میں گھر جاتے باد مخالف کے جھونکے کشتی کو پتے کی طرح ہچکو لے دینے لگتے تو اپنے ٹھاکروں، دیوتاؤں، بتوں، فقیروں، ولیوں، نبیوں سب کو بھول جاتے اور خالص اللہ سے لو لگا کر خلوص دل سے اس سے بچاؤ اور نجات طلب کرتے۔ لیکن کنارے پر کشتی کے پار لگتے ہی اپنے پرانے اللہ سب یاد آ جاتے اور معبود حقیقی کے ساتھ پھر ان کی پوجا پاٹ ہونے لگتی “۔

اس سے بڑھ کر بھی ناشکری کفر اور نعمتوں کی فراموشی اور کیا ہو سکتی ہے؟ یہاں بھی فرمایا کہ ” مطلب نکل جاتے ہی بہت سے لوگ آنکھیں پھیر لیتے ہیں “۔

«لِيَكْفُرُوا» کا لام لام عاقبت ہے اور لام تعلیل بھی کہا گیا ہے یعنی ہم نے یہ خصلت ان کی اس لیے کر دی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر پردے ڈالیں اور اس کا انکار کریں حالانکہ دراصل نعمتوں کا دینے والا، مصیبتوں کا دفع کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔

پھر انہیں ڈراتا ہے کہ ” اچھا دنیا میں تو اپنا کام چلا لو، معمولی سا فائدہ یہاں کا اٹھا لو لیکن اس کا انجام ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا “۔

صفحہ نمبر4463

ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے ٭٭

اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ «أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّـهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا» [3-آل عمران:83] ‏ ” اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا ناخوشی اس کی ماتحت ہے “۔

سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ «أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ» [39-الزمر:3] ‏ ” دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے “۔ آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و احسان بدن پر ہیں۔ اور اب بھی ان نعمتوں کے پالنے کے بعد بھی تم اس کے ویسے ہی محتاج ہو مصیبتیں اب بھی سر پر منڈلا رہی ہیں۔

سختی کے وقت وہی یاد آتا ہے اور گڑ گڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ کٹھن وقت میں اسی کی طرف جھکتے ہو۔ خود مشرکین مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا» [17-الاسراء:67] ‏ ” جب سمندر میں گھر جاتے باد مخالف کے جھونکے کشتی کو پتے کی طرح ہچکو لے دینے لگتے تو اپنے ٹھاکروں، دیوتاؤں، بتوں، فقیروں، ولیوں، نبیوں سب کو بھول جاتے اور خالص اللہ سے لو لگا کر خلوص دل سے اس سے بچاؤ اور نجات طلب کرتے۔ لیکن کنارے پر کشتی کے پار لگتے ہی اپنے پرانے اللہ سب یاد آ جاتے اور معبود حقیقی کے ساتھ پھر ان کی پوجا پاٹ ہونے لگتی “۔

اس سے بڑھ کر بھی ناشکری کفر اور نعمتوں کی فراموشی اور کیا ہو سکتی ہے؟ یہاں بھی فرمایا کہ ” مطلب نکل جاتے ہی بہت سے لوگ آنکھیں پھیر لیتے ہیں “۔

«لِيَكْفُرُوا» کا لام لام عاقبت ہے اور لام تعلیل بھی کہا گیا ہے یعنی ہم نے یہ خصلت ان کی اس لیے کر دی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر پردے ڈالیں اور اس کا انکار کریں حالانکہ دراصل نعمتوں کا دینے والا، مصیبتوں کا دفع کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔

پھر انہیں ڈراتا ہے کہ ” اچھا دنیا میں تو اپنا کام چلا لو، معمولی سا فائدہ یہاں کا اٹھا لو لیکن اس کا انجام ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا “۔

صفحہ نمبر4463

بازپرس لازمی ہو گی ٭٭

مشرکوں کی بے عقلی اور بے ڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ «هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَائِهِمْ» [6-الأنعام:136] ‏ ” دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہو جائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہو جائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے “۔ ایسے لوگوں سے ضرور بازپرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔

پھر ان کی دوسری بے انصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ ” اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کرکے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے “۔

یہاں تین جرم ان سے سرزد ہوئے اول تو اللہ کے لیے اولاد ٹھہرانا جو اس سے یکسر پاک ہے، «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى» [53-النجم:21-22] ‏ پھر اولاد میں سے بھی وہ قسم اسے دینا جسے خود اپنے لیے بھی پسند نہیں کرتے یعنی لڑکیاں۔ کیا ہی الٹی بات ہے کہ اپنے لیے اولاد ہو؟ پھر اولاد بھی وہ جو ان کے نزدیک نہایت ردی اور ذلیل چیز ہے۔

کیا حماقت ہے کہ انہیں تو اللہ لڑکے دے اور اپنے لیے لڑکیاں رکھے؟ اللہ اس سے بلکہ اولاد سے پاک ہے۔ انہیں جب خبر ملے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو مارے ندامت و شرم کے منہ کالا پڑ جائے، زبان بند ہو جائے، غم سے کمر جھک جائے۔ زہر کے گھونٹ پی کر خاموش ہوجائے۔ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرے۔ اسی سوچ میں رہے کہ اب کیا کروں اگر لڑکی کو زندہ چھوڑتا ہوں تو بڑی رسوائی ہے نہ وہ وارث بنے نہ کوئی چیز سمجھی جائے لڑکے کو اس پر ترجیح دی جائے غرض زندہ رکھے تو نہایت ذلت سے۔ ورنہ صاف بات ہے کہ جیتے جی گڑھا کھودا اور دبا دی۔ یہ حالت تو اپنی ہے پھر اللہ کے لیے یہی چیز ثابت کرتے ہیں۔ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں؟ کتنی بے حیائی کی تقسیم کرتے ہیں اللہ کے لیے جو بیٹی ثابت کریں اسے اپنے لیے سخت تر باعث توہین و تذلیل سمجھیں۔ اصل یہ ہے کہ بری مثال اور نقصان انہی کافروں کے لیے ہے اللہ کے لیے کمال ہے۔ وہ عزیز و حکیم ہے اور ذوالجلال والاکرام ہے۔

صفحہ نمبر4468

بازپرس لازمی ہو گی ٭٭

مشرکوں کی بے عقلی اور بے ڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ «هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَائِهِمْ» [6-الأنعام:136] ‏ ” دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہو جائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہو جائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے “۔ ایسے لوگوں سے ضرور بازپرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔

پھر ان کی دوسری بے انصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ ” اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کرکے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے “۔

یہاں تین جرم ان سے سرزد ہوئے اول تو اللہ کے لیے اولاد ٹھہرانا جو اس سے یکسر پاک ہے، «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى» [53-النجم:21-22] ‏ پھر اولاد میں سے بھی وہ قسم اسے دینا جسے خود اپنے لیے بھی پسند نہیں کرتے یعنی لڑکیاں۔ کیا ہی الٹی بات ہے کہ اپنے لیے اولاد ہو؟ پھر اولاد بھی وہ جو ان کے نزدیک نہایت ردی اور ذلیل چیز ہے۔

کیا حماقت ہے کہ انہیں تو اللہ لڑکے دے اور اپنے لیے لڑکیاں رکھے؟ اللہ اس سے بلکہ اولاد سے پاک ہے۔ انہیں جب خبر ملے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو مارے ندامت و شرم کے منہ کالا پڑ جائے، زبان بند ہو جائے، غم سے کمر جھک جائے۔ زہر کے گھونٹ پی کر خاموش ہوجائے۔ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرے۔ اسی سوچ میں رہے کہ اب کیا کروں اگر لڑکی کو زندہ چھوڑتا ہوں تو بڑی رسوائی ہے نہ وہ وارث بنے نہ کوئی چیز سمجھی جائے لڑکے کو اس پر ترجیح دی جائے غرض زندہ رکھے تو نہایت ذلت سے۔ ورنہ صاف بات ہے کہ جیتے جی گڑھا کھودا اور دبا دی۔ یہ حالت تو اپنی ہے پھر اللہ کے لیے یہی چیز ثابت کرتے ہیں۔ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں؟ کتنی بے حیائی کی تقسیم کرتے ہیں اللہ کے لیے جو بیٹی ثابت کریں اسے اپنے لیے سخت تر باعث توہین و تذلیل سمجھیں۔ اصل یہ ہے کہ بری مثال اور نقصان انہی کافروں کے لیے ہے اللہ کے لیے کمال ہے۔ وہ عزیز و حکیم ہے اور ذوالجلال والاکرام ہے۔

صفحہ نمبر4468

بازپرس لازمی ہو گی ٭٭

مشرکوں کی بے عقلی اور بے ڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ «هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَائِهِمْ» [6-الأنعام:136] ‏ ” دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہو جائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہو جائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے “۔ ایسے لوگوں سے ضرور بازپرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔

پھر ان کی دوسری بے انصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ ” اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کرکے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے “۔

یہاں تین جرم ان سے سرزد ہوئے اول تو اللہ کے لیے اولاد ٹھہرانا جو اس سے یکسر پاک ہے، «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى» [53-النجم:21-22] ‏ پھر اولاد میں سے بھی وہ قسم اسے دینا جسے خود اپنے لیے بھی پسند نہیں کرتے یعنی لڑکیاں۔ کیا ہی الٹی بات ہے کہ اپنے لیے اولاد ہو؟ پھر اولاد بھی وہ جو ان کے نزدیک نہایت ردی اور ذلیل چیز ہے۔

کیا حماقت ہے کہ انہیں تو اللہ لڑکے دے اور اپنے لیے لڑکیاں رکھے؟ اللہ اس سے بلکہ اولاد سے پاک ہے۔ انہیں جب خبر ملے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو مارے ندامت و شرم کے منہ کالا پڑ جائے، زبان بند ہو جائے، غم سے کمر جھک جائے۔ زہر کے گھونٹ پی کر خاموش ہوجائے۔ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرے۔ اسی سوچ میں رہے کہ اب کیا کروں اگر لڑکی کو زندہ چھوڑتا ہوں تو بڑی رسوائی ہے نہ وہ وارث بنے نہ کوئی چیز سمجھی جائے لڑکے کو اس پر ترجیح دی جائے غرض زندہ رکھے تو نہایت ذلت سے۔ ورنہ صاف بات ہے کہ جیتے جی گڑھا کھودا اور دبا دی۔ یہ حالت تو اپنی ہے پھر اللہ کے لیے یہی چیز ثابت کرتے ہیں۔ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں؟ کتنی بے حیائی کی تقسیم کرتے ہیں اللہ کے لیے جو بیٹی ثابت کریں اسے اپنے لیے سخت تر باعث توہین و تذلیل سمجھیں۔ اصل یہ ہے کہ بری مثال اور نقصان انہی کافروں کے لیے ہے اللہ کے لیے کمال ہے۔ وہ عزیز و حکیم ہے اور ذوالجلال والاکرام ہے۔

صفحہ نمبر4468

بازپرس لازمی ہو گی ٭٭

مشرکوں کی بے عقلی اور بے ڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ «هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَائِهِمْ» [6-الأنعام:136] ‏ ” دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہو جائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہو جائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے “۔ ایسے لوگوں سے ضرور بازپرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔

پھر ان کی دوسری بے انصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ ” اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کرکے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے “۔

یہاں تین جرم ان سے سرزد ہوئے اول تو اللہ کے لیے اولاد ٹھہرانا جو اس سے یکسر پاک ہے، «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى» [53-النجم:21-22] ‏ پھر اولاد میں سے بھی وہ قسم اسے دینا جسے خود اپنے لیے بھی پسند نہیں کرتے یعنی لڑکیاں۔ کیا ہی الٹی بات ہے کہ اپنے لیے اولاد ہو؟ پھر اولاد بھی وہ جو ان کے نزدیک نہایت ردی اور ذلیل چیز ہے۔

کیا حماقت ہے کہ انہیں تو اللہ لڑکے دے اور اپنے لیے لڑکیاں رکھے؟ اللہ اس سے بلکہ اولاد سے پاک ہے۔ انہیں جب خبر ملے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو مارے ندامت و شرم کے منہ کالا پڑ جائے، زبان بند ہو جائے، غم سے کمر جھک جائے۔ زہر کے گھونٹ پی کر خاموش ہوجائے۔ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرے۔ اسی سوچ میں رہے کہ اب کیا کروں اگر لڑکی کو زندہ چھوڑتا ہوں تو بڑی رسوائی ہے نہ وہ وارث بنے نہ کوئی چیز سمجھی جائے لڑکے کو اس پر ترجیح دی جائے غرض زندہ رکھے تو نہایت ذلت سے۔ ورنہ صاف بات ہے کہ جیتے جی گڑھا کھودا اور دبا دی۔ یہ حالت تو اپنی ہے پھر اللہ کے لیے یہی چیز ثابت کرتے ہیں۔ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں؟ کتنی بے حیائی کی تقسیم کرتے ہیں اللہ کے لیے جو بیٹی ثابت کریں اسے اپنے لیے سخت تر باعث توہین و تذلیل سمجھیں۔ اصل یہ ہے کہ بری مثال اور نقصان انہی کافروں کے لیے ہے اللہ کے لیے کمال ہے۔ وہ عزیز و حکیم ہے اور ذوالجلال والاکرام ہے۔

صفحہ نمبر4468

بازپرس لازمی ہو گی ٭٭

مشرکوں کی بے عقلی اور بے ڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ «هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَائِهِمْ» [6-الأنعام:136] ‏ ” دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہو جائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہو جائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے “۔ ایسے لوگوں سے ضرور بازپرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔

پھر ان کی دوسری بے انصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ ” اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کرکے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے “۔

یہاں تین جرم ان سے سرزد ہوئے اول تو اللہ کے لیے اولاد ٹھہرانا جو اس سے یکسر پاک ہے، «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى» [53-النجم:21-22] ‏ پھر اولاد میں سے بھی وہ قسم اسے دینا جسے خود اپنے لیے بھی پسند نہیں کرتے یعنی لڑکیاں۔ کیا ہی الٹی بات ہے کہ اپنے لیے اولاد ہو؟ پھر اولاد بھی وہ جو ان کے نزدیک نہایت ردی اور ذلیل چیز ہے۔

کیا حماقت ہے کہ انہیں تو اللہ لڑکے دے اور اپنے لیے لڑکیاں رکھے؟ اللہ اس سے بلکہ اولاد سے پاک ہے۔ انہیں جب خبر ملے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو مارے ندامت و شرم کے منہ کالا پڑ جائے، زبان بند ہو جائے، غم سے کمر جھک جائے۔ زہر کے گھونٹ پی کر خاموش ہوجائے۔ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرے۔ اسی سوچ میں رہے کہ اب کیا کروں اگر لڑکی کو زندہ چھوڑتا ہوں تو بڑی رسوائی ہے نہ وہ وارث بنے نہ کوئی چیز سمجھی جائے لڑکے کو اس پر ترجیح دی جائے غرض زندہ رکھے تو نہایت ذلت سے۔ ورنہ صاف بات ہے کہ جیتے جی گڑھا کھودا اور دبا دی۔ یہ حالت تو اپنی ہے پھر اللہ کے لیے یہی چیز ثابت کرتے ہیں۔ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں؟ کتنی بے حیائی کی تقسیم کرتے ہیں اللہ کے لیے جو بیٹی ثابت کریں اسے اپنے لیے سخت تر باعث توہین و تذلیل سمجھیں۔ اصل یہ ہے کہ بری مثال اور نقصان انہی کافروں کے لیے ہے اللہ کے لیے کمال ہے۔ وہ عزیز و حکیم ہے اور ذوالجلال والاکرام ہے۔

صفحہ نمبر4468

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com