John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah An-Nahl

Tafsir Ibn Kathir · The Bee · 128 ayat · ayat 61–90 · Quran text →

وہ بندوں کو مہلت دیتا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ کے حلم و کرم لطف و رحم کا بیان ہو رہا ہے کہ ” بندوں کے گناہ دیکھتا ہے اور پھر بھی انہیں مہلت دیتا ہے اگر فوراً ہی پکڑے تو آج زمین پر کوئی چلتا پھرتا نظر نہ آئے “۔

انسانوں کی خطاؤں میں جانور بھی ہلاک ہو جائیں۔ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جائے۔ بروں کے ساتھ بھلے بھی پکڑ میں آ جائیں۔ لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے حلم و کرم لطف و رحم سے پردہ پوشی کر رہا ہے، درگزر فرما رہا ہے، معافی دے رہا ہے۔ ایک خاص وقت تک کی مہلت دئیے ہوئے ہے، ورنہ کیڑے اور بھنگے بھی نہ بچتے۔ بنی آدم کے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے عذاب الٰہی ایسے آتے کہ سب کو غارت کر جاتے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سنا کہ کوئی صاحب فرما رہے ہیں، ظالم اپنا ہی نقصان کرتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”نہیں نہیں بلکہ پرند اپنے گھونسلوں میں بوجہ اس کے ظلم کے ہلاک ہو جاتے ہیں۔‏“

صفحہ نمبر4473

ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ ذکر کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کسی نفس کو ڈھیل نہیں دیتا عمر کی زیادتی نیک اولاد سے ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عنایت فرماتا ہے پھر ان بچوں کی دعائیں ان کی قبر میں انہیں پہنچتی رہتی ہیں، یہی ان کی عمر کی زیادتی ہے ۔ [المعجم الأوسط للطبراني:3373:ضعیف] ‏

اپنے لیے یہ ظالم لڑکیاں ناپسند کریں، شرکت نہ چاہیں اور اللہ کے لیے یہ سب روا رکھیں۔ پھر یہ خیال کریں کہ یہ دنیا میں بھی اچھائیاں سمیٹنے والے ہیں اور اگر قیامت قائم ہوئی تو وہاں بھی بھلائی ان کے لیے ہے۔ یہ کہا کرتے تھے کہ نفع کے مستحق اس دنیا میں تو ہم ہیں ہی اور صحیح بات تو یہ ہے کہ قیامت نے آنا نہیں۔ بالفرض آئی بھی تو وہاں کی بہتری بھی ہمارے لیے ہی ہے ان کفار کو عنقریب سخت عذاب چکھنے پڑیں گے، ہماری آیتوں سے کفر پھر آرزو یہ کہ مال و اولاد ہمیں وہاں بھی ملے گا۔ سورۃ الکہف میں دو ساتھیوں کا ذکر کرتے ہوئے قرآن نے فرمایا ہے کہ «وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَـٰذِهِ أَبَدًا وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَىٰ رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنقَلَبًا» [18-الكهف:35-36] ‏ ” وہ ظالم اپنے باغ میں جاتے ہوئے اپنے نیک ساتھی سے کہتا ہے میں تو اسے ہلاک ہونے والا جانتا ہی نہیں نہ قیامت کا قائل ہوں اور اگر بالفرض میں دوبارہ زندہ کیا گیا تو وہاں اس سے بھی بہتر چیز دیا جاؤں گا “۔

کام برے کریں آرزو نیکی کی رکھیں۔ کانٹے بوئیں اور پھل چاہیں۔ کہتے ہیں کعبتہ اللہ شریف کی عمارت کو نئے سرے سے بنانے کے لیے جب ڈھایا تو بنیادوں میں سے ایک پتھر نکلا، جس پر ایک کتبہ لکھا ہوا تھا، جس میں یہ بھی لکھا تھا کہ تم برائیاں کرتے ہو اور نیکیوں کی امید رکھتے ہو یہ ایسا ہی ہے جیسے کانٹے بو کر انگور کی امید رکھنا۔ پس ان کی امیدیں تھیں کہ دنیا میں بھی انہیں جاہ و حشمت اور لونڈی غلام ملیں گے اور آخرت میں بھی۔ اللہ فرماتا ہے ” دراصل ان کے لیے آتش دوزخ تیار ہے۔ وہاں یہ رحمت رب سے بھلا دئیے جائیں گے اور ضائع اور برباد ہو جائیں گے آج یہ ہمارے احکام بھلائے بیٹھے ہیں، کل انہیں ہم اپنی نعمتوں سے بھلا دیں گے، یہ جلدی ہی جہنم نشین ہونے والے ہیں “۔

صفحہ نمبر4474

وہ بندوں کو مہلت دیتا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ کے حلم و کرم لطف و رحم کا بیان ہو رہا ہے کہ ” بندوں کے گناہ دیکھتا ہے اور پھر بھی انہیں مہلت دیتا ہے اگر فوراً ہی پکڑے تو آج زمین پر کوئی چلتا پھرتا نظر نہ آئے “۔

انسانوں کی خطاؤں میں جانور بھی ہلاک ہو جائیں۔ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جائے۔ بروں کے ساتھ بھلے بھی پکڑ میں آ جائیں۔ لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے حلم و کرم لطف و رحم سے پردہ پوشی کر رہا ہے، درگزر فرما رہا ہے، معافی دے رہا ہے۔ ایک خاص وقت تک کی مہلت دئیے ہوئے ہے، ورنہ کیڑے اور بھنگے بھی نہ بچتے۔ بنی آدم کے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے عذاب الٰہی ایسے آتے کہ سب کو غارت کر جاتے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سنا کہ کوئی صاحب فرما رہے ہیں، ظالم اپنا ہی نقصان کرتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”نہیں نہیں بلکہ پرند اپنے گھونسلوں میں بوجہ اس کے ظلم کے ہلاک ہو جاتے ہیں۔‏“

صفحہ نمبر4473

ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ ذکر کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کسی نفس کو ڈھیل نہیں دیتا عمر کی زیادتی نیک اولاد سے ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عنایت فرماتا ہے پھر ان بچوں کی دعائیں ان کی قبر میں انہیں پہنچتی رہتی ہیں، یہی ان کی عمر کی زیادتی ہے ۔ [المعجم الأوسط للطبراني:3373:ضعیف] ‏

اپنے لیے یہ ظالم لڑکیاں ناپسند کریں، شرکت نہ چاہیں اور اللہ کے لیے یہ سب روا رکھیں۔ پھر یہ خیال کریں کہ یہ دنیا میں بھی اچھائیاں سمیٹنے والے ہیں اور اگر قیامت قائم ہوئی تو وہاں بھی بھلائی ان کے لیے ہے۔ یہ کہا کرتے تھے کہ نفع کے مستحق اس دنیا میں تو ہم ہیں ہی اور صحیح بات تو یہ ہے کہ قیامت نے آنا نہیں۔ بالفرض آئی بھی تو وہاں کی بہتری بھی ہمارے لیے ہی ہے ان کفار کو عنقریب سخت عذاب چکھنے پڑیں گے، ہماری آیتوں سے کفر پھر آرزو یہ کہ مال و اولاد ہمیں وہاں بھی ملے گا۔ سورۃ الکہف میں دو ساتھیوں کا ذکر کرتے ہوئے قرآن نے فرمایا ہے کہ «وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَـٰذِهِ أَبَدًا وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَىٰ رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنقَلَبًا» [18-الكهف:35-36] ‏ ” وہ ظالم اپنے باغ میں جاتے ہوئے اپنے نیک ساتھی سے کہتا ہے میں تو اسے ہلاک ہونے والا جانتا ہی نہیں نہ قیامت کا قائل ہوں اور اگر بالفرض میں دوبارہ زندہ کیا گیا تو وہاں اس سے بھی بہتر چیز دیا جاؤں گا “۔

کام برے کریں آرزو نیکی کی رکھیں۔ کانٹے بوئیں اور پھل چاہیں۔ کہتے ہیں کعبتہ اللہ شریف کی عمارت کو نئے سرے سے بنانے کے لیے جب ڈھایا تو بنیادوں میں سے ایک پتھر نکلا، جس پر ایک کتبہ لکھا ہوا تھا، جس میں یہ بھی لکھا تھا کہ تم برائیاں کرتے ہو اور نیکیوں کی امید رکھتے ہو یہ ایسا ہی ہے جیسے کانٹے بو کر انگور کی امید رکھنا۔ پس ان کی امیدیں تھیں کہ دنیا میں بھی انہیں جاہ و حشمت اور لونڈی غلام ملیں گے اور آخرت میں بھی۔ اللہ فرماتا ہے ” دراصل ان کے لیے آتش دوزخ تیار ہے۔ وہاں یہ رحمت رب سے بھلا دئیے جائیں گے اور ضائع اور برباد ہو جائیں گے آج یہ ہمارے احکام بھلائے بیٹھے ہیں، کل انہیں ہم اپنی نعمتوں سے بھلا دیں گے، یہ جلدی ہی جہنم نشین ہونے والے ہیں “۔

صفحہ نمبر4474

شیطان کے دوست ٭٭

” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم تسلی رکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کا جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں کون سا نبی علیہ السلام آیا جو جھٹلایا نہ گیا؟ باقی رہے جھٹلانے والے وہ شیطان کے مرید ہیں۔ برائیاں انہیں شیطانی وسواس سے بھلائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا ولی شیطان ہے وہ انہیں کوئی نفع پہنچانے والا نہیں۔ ہمیشہ کے لیے مصیبت افزا عذابوں میں چھوڑ کر ان سے الگ ہو جائے گا “۔

قرآن حق و باطل میں سچ جھوٹ میں تمیز کرانے والی کتاب ہے، ہر جھگڑا اور ہر اختلاف کا فیصلہ اس میں موجود ہے۔ یہ دلوں کے لیے ہدایت ہے اور ایماندار جو اس پر عامل ہیں، ان کے لیے رحمت ہے۔ اس قرآن سے کس طرح مردہ دل جی اٹھتے ہیں، اس کی مثال مردہ زمین اور بارش کی ہے جو لوگ بات کو سنیں، سمجھیں وہ تو اس سے بہت کچھ عبرت حاصل کر سکتے ہیں۔

صفحہ نمبر4476

شیطان کے دوست ٭٭

” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم تسلی رکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کا جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں کون سا نبی علیہ السلام آیا جو جھٹلایا نہ گیا؟ باقی رہے جھٹلانے والے وہ شیطان کے مرید ہیں۔ برائیاں انہیں شیطانی وسواس سے بھلائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا ولی شیطان ہے وہ انہیں کوئی نفع پہنچانے والا نہیں۔ ہمیشہ کے لیے مصیبت افزا عذابوں میں چھوڑ کر ان سے الگ ہو جائے گا “۔

قرآن حق و باطل میں سچ جھوٹ میں تمیز کرانے والی کتاب ہے، ہر جھگڑا اور ہر اختلاف کا فیصلہ اس میں موجود ہے۔ یہ دلوں کے لیے ہدایت ہے اور ایماندار جو اس پر عامل ہیں، ان کے لیے رحمت ہے۔ اس قرآن سے کس طرح مردہ دل جی اٹھتے ہیں، اس کی مثال مردہ زمین اور بارش کی ہے جو لوگ بات کو سنیں، سمجھیں وہ تو اس سے بہت کچھ عبرت حاصل کر سکتے ہیں۔

صفحہ نمبر4476

شیطان کے دوست ٭٭

” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم تسلی رکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کا جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں کون سا نبی علیہ السلام آیا جو جھٹلایا نہ گیا؟ باقی رہے جھٹلانے والے وہ شیطان کے مرید ہیں۔ برائیاں انہیں شیطانی وسواس سے بھلائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا ولی شیطان ہے وہ انہیں کوئی نفع پہنچانے والا نہیں۔ ہمیشہ کے لیے مصیبت افزا عذابوں میں چھوڑ کر ان سے الگ ہو جائے گا “۔

قرآن حق و باطل میں سچ جھوٹ میں تمیز کرانے والی کتاب ہے، ہر جھگڑا اور ہر اختلاف کا فیصلہ اس میں موجود ہے۔ یہ دلوں کے لیے ہدایت ہے اور ایماندار جو اس پر عامل ہیں، ان کے لیے رحمت ہے۔ اس قرآن سے کس طرح مردہ دل جی اٹھتے ہیں، اس کی مثال مردہ زمین اور بارش کی ہے جو لوگ بات کو سنیں، سمجھیں وہ تو اس سے بہت کچھ عبرت حاصل کر سکتے ہیں۔

صفحہ نمبر4476

خوشگوار دودھ اللہ تعالٰی کی عظمت کا گواہ ہے ٭٭

اونٹ گائے بکری وغیرہ بھی اپنے خالق کی قدرت و حکمت کی نشانیاں ہیں۔ «بُطُونِهِ» میں ضمیر کو یا تو نعمت کے معنی پر لوٹایا ہے یا حیوان پر چوپائے بھی حیوان ہی ہیں۔ ان حیوانوں کے پیٹ میں جو الا بلا بھری ہوئی ہوتی ہے۔ اسی میں سے پروردگار عالم تمہیں نہایت خوش ذائقہ لطیف اور خوشگوار دودھ پلاتا ہے۔

دوسری آیت میں «مِّمَّا فِي بُطُونِهَا» [23-المؤمنون:21] ‏ ہے دونوں باتیں جائز ہیں۔ جیسے آیت «كَلَّا إِنَّهُ تَذْكِرَةٌ فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ» [74-المدثر:54-55] ‏ میں ہے اور جیسے آیت «وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِم بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ فَلَمَّا جَاءَ سُلَيْمَانَ» [27-النمل:35-36] ‏ میں ہے۔

پس «جَاءَ» میں مذکر لائے۔ مراد اس سے مال ہے جانور کے باطن میں جو گوبر خون وغیرہ ہے، معدے میں غذا پہنچی وہاں سے خون رگوں کی طرف دوڑ گیا، دودھ تھن کی طرف پہنچا، پیشاب نے مثانے کا راستہ پکڑا، گوبر اپنے مخرج کی طرف جمع ہوا نہ ایک دوسرے سے ملے نہ ایک دوسرے کو بدلے۔

یہ خالص دودھ جو پینے والے کے حلق میں با آرام اتر جائے اس کی خاص نعمت ہے۔ اس نعمت کے بیان کے ساتھ ہی دوسری نعمت بیان فرمائی کہ کھجور اور انگور کے شیرے سے تم شراب بنا لیتے ہو۔ یہ شراب کی حرمت سے پہلے ہے۔ اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں چیزوں کی شراب ایک ہی حکم میں ہے جیسے مالک رحمتہ اللہ علیہ شافعی رحمتہ اللہ علیہ احمد اور جمہور علماء کا مذہب ہے اور یہی حکم ہے اور شرابوں کا جو گہیوں جو، جوار اور شہد سے بنائی جائیں جیسے کہ احادیث میں مفصل آچکا ہے۔ یہ جگہ اس کی تفصیل کی نہیں۔

صفحہ نمبر4479

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”شراب بناتے ہو جو حرام ہے اور اور طرح کھاتے پیتے ہو جو حلال ہے مثلاً خشک کھجوریں، کشمش وغیرہ اور نبیند شربت بنا کر، سرکہ بنا کر اور کئی اور طریقوں سے۔ پس جن لوگوں کو عقل کا حصہ دیا گیا ہے، وہ اللہ کی قدرت و عظمت کو ان چیزوں اور ان نعمتوں سے بھی پہچان سکتے ہیں۔‏“

دراصل جو ہر انسانیت عقل ہی ہے، اسی کی نگہبانی کے لیے شریعت مطہرہ نے نشے والی شرابیں اس امت پر حرام کر دیں۔ اسی نعمت کا بیان سورۃ یٰسین کی آیت «وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ لِيَأْكُلُوا مِن ثَمَرِهِ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ أَفَلَا يَشْكُرُونَ سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ» [36-يس:34-36] ‏ میں ہے یعنی ” زمین میں ہم نے کھجوروں اور انگوروں کے باغ لگا دئیے اور ان میں پانی کے چشمے بہا دئیے تاکہ لوگ اس کا پھل کھائیں، یہ ان کے اپنے بنائے ہوئے نہیں۔ کیا پھر بھی یہ شکر گزاری نہیں کریں گے؟ وہ ذات پاک ہے جس نے زمین کی پیداوار میں اور خود انسانوں میں اور اس مخلوق میں جسے یہ جانتے ہی نہیں ہر طرح کی جوڑ جوڑ چیزیں پیدا کر دی ہیں “۔

صفحہ نمبر4480

خوشگوار دودھ اللہ تعالٰی کی عظمت کا گواہ ہے ٭٭

اونٹ گائے بکری وغیرہ بھی اپنے خالق کی قدرت و حکمت کی نشانیاں ہیں۔ «بُطُونِهِ» میں ضمیر کو یا تو نعمت کے معنی پر لوٹایا ہے یا حیوان پر چوپائے بھی حیوان ہی ہیں۔ ان حیوانوں کے پیٹ میں جو الا بلا بھری ہوئی ہوتی ہے۔ اسی میں سے پروردگار عالم تمہیں نہایت خوش ذائقہ لطیف اور خوشگوار دودھ پلاتا ہے۔

دوسری آیت میں «مِّمَّا فِي بُطُونِهَا» [23-المؤمنون:21] ‏ ہے دونوں باتیں جائز ہیں۔ جیسے آیت «كَلَّا إِنَّهُ تَذْكِرَةٌ فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ» [74-المدثر:54-55] ‏ میں ہے اور جیسے آیت «وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِم بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ فَلَمَّا جَاءَ سُلَيْمَانَ» [27-النمل:35-36] ‏ میں ہے۔

پس «جَاءَ» میں مذکر لائے۔ مراد اس سے مال ہے جانور کے باطن میں جو گوبر خون وغیرہ ہے، معدے میں غذا پہنچی وہاں سے خون رگوں کی طرف دوڑ گیا، دودھ تھن کی طرف پہنچا، پیشاب نے مثانے کا راستہ پکڑا، گوبر اپنے مخرج کی طرف جمع ہوا نہ ایک دوسرے سے ملے نہ ایک دوسرے کو بدلے۔

یہ خالص دودھ جو پینے والے کے حلق میں با آرام اتر جائے اس کی خاص نعمت ہے۔ اس نعمت کے بیان کے ساتھ ہی دوسری نعمت بیان فرمائی کہ کھجور اور انگور کے شیرے سے تم شراب بنا لیتے ہو۔ یہ شراب کی حرمت سے پہلے ہے۔ اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں چیزوں کی شراب ایک ہی حکم میں ہے جیسے مالک رحمتہ اللہ علیہ شافعی رحمتہ اللہ علیہ احمد اور جمہور علماء کا مذہب ہے اور یہی حکم ہے اور شرابوں کا جو گہیوں جو، جوار اور شہد سے بنائی جائیں جیسے کہ احادیث میں مفصل آچکا ہے۔ یہ جگہ اس کی تفصیل کی نہیں۔

صفحہ نمبر4479

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”شراب بناتے ہو جو حرام ہے اور اور طرح کھاتے پیتے ہو جو حلال ہے مثلاً خشک کھجوریں، کشمش وغیرہ اور نبیند شربت بنا کر، سرکہ بنا کر اور کئی اور طریقوں سے۔ پس جن لوگوں کو عقل کا حصہ دیا گیا ہے، وہ اللہ کی قدرت و عظمت کو ان چیزوں اور ان نعمتوں سے بھی پہچان سکتے ہیں۔‏“

دراصل جو ہر انسانیت عقل ہی ہے، اسی کی نگہبانی کے لیے شریعت مطہرہ نے نشے والی شرابیں اس امت پر حرام کر دیں۔ اسی نعمت کا بیان سورۃ یٰسین کی آیت «وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ لِيَأْكُلُوا مِن ثَمَرِهِ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ أَفَلَا يَشْكُرُونَ سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ» [36-يس:34-36] ‏ میں ہے یعنی ” زمین میں ہم نے کھجوروں اور انگوروں کے باغ لگا دئیے اور ان میں پانی کے چشمے بہا دئیے تاکہ لوگ اس کا پھل کھائیں، یہ ان کے اپنے بنائے ہوئے نہیں۔ کیا پھر بھی یہ شکر گزاری نہیں کریں گے؟ وہ ذات پاک ہے جس نے زمین کی پیداوار میں اور خود انسانوں میں اور اس مخلوق میں جسے یہ جانتے ہی نہیں ہر طرح کی جوڑ جوڑ چیزیں پیدا کر دی ہیں “۔

صفحہ نمبر4480

وحی سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

وحی سے مراد یہاں پر الہام، ہدایت اور ارشاد ہے۔ شہد کی مکھیوں کو اللہ کی جانب سے یہ بات سمجھائی گئی کہ وہ پہاڑوں میں، درختوں میں اور چھتوں میں شہد کے چھتے بنائے۔ اس ضعیف مخلوق کے اس گھر کو دیکھئیے کتنا مضبوط کیسا خوبصورت اور کیسی کاری گری کا ہوتا ہے۔ پھر اسے ہدایت کی اور اس کے لیے مقدر کر دیا کہ یہ پھلوں، پھولوں اور گھاس پات کے رس چوستی پھرے اور جہاں چاہے جائے، آئے لیکن واپس لوٹتے وقت سیدھی اپنے چھتے کو پہنچ جائے۔ چاہے بلند پہاڑ کی چوٹی ہو، چاہے بیابان کے درخت ہوں، چاہے آبادی کے بلند مکانات اور ویرانے کے سنسان کھنڈر ہوں، یہ نہ راستہ بھولے، نہ بھٹکتی پھرے، خواہ کتنی ہی دور نکل جائے۔ لوٹ کر اپنے چھتے میں اپنے بچوں، انڈوں اور شہد میں پہنچ جائے۔ اپنے پروں سے موم بنائے۔ اپنے منہ سے شہد جمع کرے اور دوسری جگہ سے بچے۔

«ذُلُلًا» کی تفسیر اطاعت گزر اور مسخر سے بھی کی گئی ہے پس یہ حال ہو گا «سالكة» کا، جیسے قرآن میں آیت «وَذَلَّــلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَمِنْهَا يَاْكُلُوْنَ» [36-يس:72] ‏ میں بھی یہی معنی مراد ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ لوگ شہد کے چھتے کو ایک شہر سے دوسرے شہر تک لے جاتے ہیں۔ لیکن پہلا قول بہت زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ اس کے طریق کا حال ہے۔ ابن اجریر رحمہ اللہ دونوں قول صحیح بتلاتے ہیں۔

ابو یعلیٰ موصلی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مکھی کی عمر چالیس دن کی ہوتی ہے سوائے شہد کی مکھی کے۔ کئی مکھیاں آگ میں بھی ہوتی ہیں ۔ [مسند ابو یعلی:4231:] ‏

شہد کے رنگ مختلف ہوتے ہیں سفید زرد سرخ وغیرہ جیسے پھل پھول اور جیسی زمین۔ اس ظاہری خوبی اور رنگ کی چمک کے ساتھ اس میں شفاء بھی ہے، بہت سی بیماریوں کو اللہ تعالیٰ اس سے دور کر دیتا ہے یہاں «فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ» نہیں فرمایا ورنہ ہر بیماری کی دوا یہی ٹھہرتی بلکہ فرمایا ” اس میں شفاء ہے لوگوں کے لیے “۔ پس یہ سرد بیماریوں کی دوا ہے۔ علاج ہمیشہ بیماریوں کے خلاف ہوتا ہے پس شہد گرم ہے سردی کی بیماری میں مفید ہے۔

صفحہ نمبر4482

مجاہد اور ابن جریر رحمہ اللہ علیہم سے منقول ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے یعنی قرآن میں شفاء ہے۔‏“ یہ قول گو اپنے طور پر صحیح ہے اور واقعی قرآن شفاء ہے لیکن اس آیت میں یہ مراد لینا سیاق کے مطابق نہیں۔ اس میں تو شہد کا ذکر ہے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ کے اس قول کی اقتداء نہیں کی گئی۔

ہاں قرآن کے شفاء ہونے کا ذکر آیت «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَا» [17-الإسراء:82] ‏، میں ہے اور آیت «وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ڏ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ» [10-یونس:57] ‏ میں ہے اس آیت میں تو مراد شہد ہے۔

چنانچہ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ کسی نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے بھائی کو دست آ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے شہد پلاؤ ، وہ گیا، شہد دیا، پھر آیا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے تو بیماری اور بڑھ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور شہد پلاؤ ۔ اس نے جا کر پھر پلایا، پھر حاضر ہو کر یہی عرض کیا کہ دست اور بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، جا پھر شہد دے ۔ تیسری مرتبہ شہد سے بفضل الٰہی شفاء حاصل ہوگئی ۔ [صحیح بخاری:5684] ‏

بعض اطباء نے کہا ہے ممکن ہے اس کے پیٹ میں فضلے کی زیادتی ہو، شہد نے اپنی گرمی کی وجہ سے اس کی تحلیل کر دی۔ فضلہ خارج ہونا شروع ہوا۔ دست بڑھ گئے۔ اعرابی نے اسے مرض کا بڑھ جانا سمجھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور شہد دینے کو فرمایا اس سے زور سے فضلہ خارج ہونا شروع ہوا پھر شہد دیا، پیٹ صاف ہوگیا، بلا نکل گئی اور کامل شفاء بفضل الٰہی حاصل ہو گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات جو بہ اشارہ الٰہی پوری ہوگئی۔

صفحہ نمبر4483

بخاری اور مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سرور رسل صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹھاس اور شہد سے بہت الفت تھی ۔ [صحیح بخاری:5431] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ تین چیزوں میں شفاء ہے، پچھنے لگانے میں، شہد کے پینے میں اور داغ لگوانے میں لیکن میں اپنی امت کو داغ لگوانے سے روکتا ہوں ۔ [صحیح بخاری:5681] ‏

بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ تمہاری دواؤں میں سے کسی میں اگر شفاء ہے تو پچھنے لگانے میں، شہد کے پینے میں اور آگ سے دغوا نے میں جو بیماری کے مناسب ہو لیکن میں اسے پسند نہیں کرتا ۔ [صحیح بخاری:5683] ‏

مسلم کی حدیث میں ہے میں اسے پسند نہیں کرتا بلکہ ناپسند رکھتا ہوں ۔ [مسند احمد:146/4:صحیح] ‏

ابن ماجہ میں ہے تم ان دونوں شفاؤں کی قدر کرتے رہو شہد اور قرآن ۔ [سنن ابن ماجه:3452،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی شفاء چاہے تو قرآن کریم کی کسی آیت کو کسی صحیفے پر لکھ لے اور اسے بارش کے پانی سے دھو لے اور اپنی بیوی کے مال سے اس کی اپنی رضا مندی سے پیسے لے کر شہد خرید لے اور اسے پی لے پس اس میں کئی وجہ سے شفاء آ جائے گی۔‏“

اللہ تعالیٰ عز و جل کا فرمان ہے آیت «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ» [17-الإسراء:82] ‏ یعنی ” ہم نے قرآن میں وہ نازل فرمایا ہے جو مومنین کے لیے شفاء ہے اور رحمت ہے “۔

صفحہ نمبر4484

اور آیت میں ہے «وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُّبٰرَكًا فَاَنْبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِيْدِ» [50-ق:9] ‏ ” ہم آسمان سے با برکت پانی برساتے ہیں “۔

اور فرمان ہے «وَاٰتُوا النِّسَاءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةٍ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِيْــــــًٔـا مَّرِيْـــــــًٔـا» [4-النساء:4] ‏ یعنی ” اگر عورتیں اپنے مال مہر میں سے اپنی خوشی سے تمہیں کچھ دے دیں تو بیشک تم اسے کھاؤ پیو مزے سے “۔ شہد کے بارے میں فرمان الٰہی ہے «فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ» ” شہد میں لوگوں کے لیے شفاء ہے “۔

ابن ماجہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص ہر مہینے میں تین دن صبح کو شہد چاٹ لے اسے کوئی بڑی بلا نہیں پہنچے گی ۔ [سنن ابن ماجه:3450،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کا ایک راوی زبیر بن سعید متروک ہے۔

ابن ماجہ کی اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ «عَلَيْكُمْ بِالسَّنَا وَالسَّنُوتِ فَإِنَّ فِيهِمَا شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلا السَّامَ» تم سنا اور سنوت کا استعمال کیا کرو ان میں ہر بیماری کی شفاء ہے سوائے سام کے ۔ لوگوں نے پوچھا سام کیا؟ فرمایا: موت ۔ [سنن ابن ماجه:3457،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

«سَّنُوتِ» کے معنی ثبت کے ہیں اور لوگوں نے کہا ہے سنوت شہد ہے جو گھی کی مشک میں رکھا ہوا ہو۔ شاعر کے شعر میں «هُمُ السَّمْنُ بِالسَّنُّوتِ لَا أَلْسَ فِيهِمْ وَهُمْ يَمْنَعُونَ الْجَارَ أَنْ يُقَرَّدَا» یہ لفظ اس معنی میں آیا ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” مکھی جیسی بے طاقت چیز کا تمہارے لیے شہد اور موم بنانا اس کا اس طرح آ زادی سے پھرنا اپنے گھر کو نہ بھولنا وغیرہ یہ سب چیزیں غور و فکر کرنے والوں کے لیے میری عظمت، خالقیت اور مالکیت کی بڑی نشانیاں ہیں “۔ اسی سے لوگ اپنے اللہ کے قادر حکیم علیم کریم رحیم ہونے پر دلیل حاصل کر سکتے ہیں۔

صفحہ نمبر4485

وحی سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

وحی سے مراد یہاں پر الہام، ہدایت اور ارشاد ہے۔ شہد کی مکھیوں کو اللہ کی جانب سے یہ بات سمجھائی گئی کہ وہ پہاڑوں میں، درختوں میں اور چھتوں میں شہد کے چھتے بنائے۔ اس ضعیف مخلوق کے اس گھر کو دیکھئیے کتنا مضبوط کیسا خوبصورت اور کیسی کاری گری کا ہوتا ہے۔ پھر اسے ہدایت کی اور اس کے لیے مقدر کر دیا کہ یہ پھلوں، پھولوں اور گھاس پات کے رس چوستی پھرے اور جہاں چاہے جائے، آئے لیکن واپس لوٹتے وقت سیدھی اپنے چھتے کو پہنچ جائے۔ چاہے بلند پہاڑ کی چوٹی ہو، چاہے بیابان کے درخت ہوں، چاہے آبادی کے بلند مکانات اور ویرانے کے سنسان کھنڈر ہوں، یہ نہ راستہ بھولے، نہ بھٹکتی پھرے، خواہ کتنی ہی دور نکل جائے۔ لوٹ کر اپنے چھتے میں اپنے بچوں، انڈوں اور شہد میں پہنچ جائے۔ اپنے پروں سے موم بنائے۔ اپنے منہ سے شہد جمع کرے اور دوسری جگہ سے بچے۔

«ذُلُلًا» کی تفسیر اطاعت گزر اور مسخر سے بھی کی گئی ہے پس یہ حال ہو گا «سالكة» کا، جیسے قرآن میں آیت «وَذَلَّــلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَمِنْهَا يَاْكُلُوْنَ» [36-يس:72] ‏ میں بھی یہی معنی مراد ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ لوگ شہد کے چھتے کو ایک شہر سے دوسرے شہر تک لے جاتے ہیں۔ لیکن پہلا قول بہت زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ اس کے طریق کا حال ہے۔ ابن اجریر رحمہ اللہ دونوں قول صحیح بتلاتے ہیں۔

ابو یعلیٰ موصلی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مکھی کی عمر چالیس دن کی ہوتی ہے سوائے شہد کی مکھی کے۔ کئی مکھیاں آگ میں بھی ہوتی ہیں ۔ [مسند ابو یعلی:4231:] ‏

شہد کے رنگ مختلف ہوتے ہیں سفید زرد سرخ وغیرہ جیسے پھل پھول اور جیسی زمین۔ اس ظاہری خوبی اور رنگ کی چمک کے ساتھ اس میں شفاء بھی ہے، بہت سی بیماریوں کو اللہ تعالیٰ اس سے دور کر دیتا ہے یہاں «فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ» نہیں فرمایا ورنہ ہر بیماری کی دوا یہی ٹھہرتی بلکہ فرمایا ” اس میں شفاء ہے لوگوں کے لیے “۔ پس یہ سرد بیماریوں کی دوا ہے۔ علاج ہمیشہ بیماریوں کے خلاف ہوتا ہے پس شہد گرم ہے سردی کی بیماری میں مفید ہے۔

صفحہ نمبر4482

مجاہد اور ابن جریر رحمہ اللہ علیہم سے منقول ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے یعنی قرآن میں شفاء ہے۔‏“ یہ قول گو اپنے طور پر صحیح ہے اور واقعی قرآن شفاء ہے لیکن اس آیت میں یہ مراد لینا سیاق کے مطابق نہیں۔ اس میں تو شہد کا ذکر ہے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ کے اس قول کی اقتداء نہیں کی گئی۔

ہاں قرآن کے شفاء ہونے کا ذکر آیت «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَا» [17-الإسراء:82] ‏، میں ہے اور آیت «وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ڏ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ» [10-یونس:57] ‏ میں ہے اس آیت میں تو مراد شہد ہے۔

چنانچہ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ کسی نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے بھائی کو دست آ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے شہد پلاؤ ، وہ گیا، شہد دیا، پھر آیا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے تو بیماری اور بڑھ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور شہد پلاؤ ۔ اس نے جا کر پھر پلایا، پھر حاضر ہو کر یہی عرض کیا کہ دست اور بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، جا پھر شہد دے ۔ تیسری مرتبہ شہد سے بفضل الٰہی شفاء حاصل ہوگئی ۔ [صحیح بخاری:5684] ‏

بعض اطباء نے کہا ہے ممکن ہے اس کے پیٹ میں فضلے کی زیادتی ہو، شہد نے اپنی گرمی کی وجہ سے اس کی تحلیل کر دی۔ فضلہ خارج ہونا شروع ہوا۔ دست بڑھ گئے۔ اعرابی نے اسے مرض کا بڑھ جانا سمجھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور شہد دینے کو فرمایا اس سے زور سے فضلہ خارج ہونا شروع ہوا پھر شہد دیا، پیٹ صاف ہوگیا، بلا نکل گئی اور کامل شفاء بفضل الٰہی حاصل ہو گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات جو بہ اشارہ الٰہی پوری ہوگئی۔

صفحہ نمبر4483

بخاری اور مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سرور رسل صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹھاس اور شہد سے بہت الفت تھی ۔ [صحیح بخاری:5431] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ تین چیزوں میں شفاء ہے، پچھنے لگانے میں، شہد کے پینے میں اور داغ لگوانے میں لیکن میں اپنی امت کو داغ لگوانے سے روکتا ہوں ۔ [صحیح بخاری:5681] ‏

بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ تمہاری دواؤں میں سے کسی میں اگر شفاء ہے تو پچھنے لگانے میں، شہد کے پینے میں اور آگ سے دغوا نے میں جو بیماری کے مناسب ہو لیکن میں اسے پسند نہیں کرتا ۔ [صحیح بخاری:5683] ‏

مسلم کی حدیث میں ہے میں اسے پسند نہیں کرتا بلکہ ناپسند رکھتا ہوں ۔ [مسند احمد:146/4:صحیح] ‏

ابن ماجہ میں ہے تم ان دونوں شفاؤں کی قدر کرتے رہو شہد اور قرآن ۔ [سنن ابن ماجه:3452،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی شفاء چاہے تو قرآن کریم کی کسی آیت کو کسی صحیفے پر لکھ لے اور اسے بارش کے پانی سے دھو لے اور اپنی بیوی کے مال سے اس کی اپنی رضا مندی سے پیسے لے کر شہد خرید لے اور اسے پی لے پس اس میں کئی وجہ سے شفاء آ جائے گی۔‏“

اللہ تعالیٰ عز و جل کا فرمان ہے آیت «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ» [17-الإسراء:82] ‏ یعنی ” ہم نے قرآن میں وہ نازل فرمایا ہے جو مومنین کے لیے شفاء ہے اور رحمت ہے “۔

صفحہ نمبر4484

اور آیت میں ہے «وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُّبٰرَكًا فَاَنْبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِيْدِ» [50-ق:9] ‏ ” ہم آسمان سے با برکت پانی برساتے ہیں “۔

اور فرمان ہے «وَاٰتُوا النِّسَاءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةٍ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِيْــــــًٔـا مَّرِيْـــــــًٔـا» [4-النساء:4] ‏ یعنی ” اگر عورتیں اپنے مال مہر میں سے اپنی خوشی سے تمہیں کچھ دے دیں تو بیشک تم اسے کھاؤ پیو مزے سے “۔ شہد کے بارے میں فرمان الٰہی ہے «فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ» ” شہد میں لوگوں کے لیے شفاء ہے “۔

ابن ماجہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص ہر مہینے میں تین دن صبح کو شہد چاٹ لے اسے کوئی بڑی بلا نہیں پہنچے گی ۔ [سنن ابن ماجه:3450،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کا ایک راوی زبیر بن سعید متروک ہے۔

ابن ماجہ کی اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ «عَلَيْكُمْ بِالسَّنَا وَالسَّنُوتِ فَإِنَّ فِيهِمَا شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلا السَّامَ» تم سنا اور سنوت کا استعمال کیا کرو ان میں ہر بیماری کی شفاء ہے سوائے سام کے ۔ لوگوں نے پوچھا سام کیا؟ فرمایا: موت ۔ [سنن ابن ماجه:3457،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

«سَّنُوتِ» کے معنی ثبت کے ہیں اور لوگوں نے کہا ہے سنوت شہد ہے جو گھی کی مشک میں رکھا ہوا ہو۔ شاعر کے شعر میں «هُمُ السَّمْنُ بِالسَّنُّوتِ لَا أَلْسَ فِيهِمْ وَهُمْ يَمْنَعُونَ الْجَارَ أَنْ يُقَرَّدَا» یہ لفظ اس معنی میں آیا ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” مکھی جیسی بے طاقت چیز کا تمہارے لیے شہد اور موم بنانا اس کا اس طرح آ زادی سے پھرنا اپنے گھر کو نہ بھولنا وغیرہ یہ سب چیزیں غور و فکر کرنے والوں کے لیے میری عظمت، خالقیت اور مالکیت کی بڑی نشانیاں ہیں “۔ اسی سے لوگ اپنے اللہ کے قادر حکیم علیم کریم رحیم ہونے پر دلیل حاصل کر سکتے ہیں۔

صفحہ نمبر4485

بہترین دعا ٭٭

تمام بندوں پر قبضہ اللہ تعالیٰ کا ہے، وہی انہیں عدم وجود میں لایا ہے، وہی انہیں پھر فوت کرے گا بعض لوگوں کو بہت بڑی عمر تک پہنچاتا ہے کہ وہ پھر سے بچوں جیسے ناتواں بن جاتے ہیں۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”پچھتر سال کی عمر میں عموماً انسان ایسا ہی ہو جاتا ہے طاقت ختم ہو جاتی ہے حافظہ جاتا رہتا ہے۔ علم کی کمی ہو جاتی ہے عالم ہونے کے بعد بےعلم ہو جاتا ہے۔‏“

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں فرماتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَأَعُوذ بِك مِنْ الْبُخْل وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَأَرْذَل الْعُمُر وَعَذَاب الْقَبْر وَفِتْنَة الدَّجَّال وَفِتْنَة الْمَحْيَا وَالْمَمَات» یعنی اے اللہ میں بخیلی سے، عاجزی سے، بڑھاپے سے، ذلیل عمر سے، قبر کے عذاب سے، دجال کے فتنے سے، زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں ۔ [صحیح بخاری:4707] ‏

زہیر بن ابوسلمہ نے بھی اپنے مشہور قصیدہ معلقہ میں اس عمر کو رنج و غم کا مخزن و منبع بتایا ہے۔

صفحہ نمبر4487

مشرکین کی جہالت کا ایک انداز ٭٭

مشرکین کی جہالت اور ان کے کفر کا بیان ہو رہا ہے کہ اپنے معبودوں کو اللہ کے غلام جاننے کے باوجود ان کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں۔ چنانچہ حج کے موقع پر وہ کہا کرتے تھے «(‏لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ)‏» یعنی اے اللہ میں تیرے پاس حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ جو خود تیرے غلام ہیں ان کا اور ان کی ماتحت چیزوں کا اصلی مالک تو ہی ہے۔ [صحیح مسلم:1185] ‏ پس اللہ تعالیٰ انہیں الزام دیتا ہے کہ ” جب تم اپنے غلاموں کی اپنی برابری اور اپنے مال میں شرکت پسند نہیں کرتے تو پھر میرے غلاموں کو میری الوہیت میں کیسے شریک ٹھہرا رہے ہو؟ “

یہی مضمون آیت «ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ» [30-الروم:28] ‏، میں بیان ہوا ہے، کہ ” جب تم اپنے غلاموں کو اپنے مال میں اپنی بیویوں میں اپنا شریک بنانے سے نفرت کرتے ہو تو پھر میرے غلاموں کو میری الوہیت میں کیسے شریک سمجھ رہے ہو؟ “ یہی اللہ کی نعمتوں سے انکار ہے کہ اللہ کے لیے وہ پسند کرنا، جو اپنے لیے بھی پسند نہ ہو۔

یہ ہے مثال معبودان باطل کی۔ جب تم خود اس سے الگ ہو پھر اللہ تو اس سے بہت زیادہ بیزار ہے۔ رب کی نعمتوں کا کفر اور کیا ہوگا کہ کھیتیاں چوپائے ایک اللہ کے پیدا کئے ہوئے اور تم انہیں اس کے سوا اوروں کے نام سے منسوب کرو۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو ایک رسالہ لکھا کہ اپنی روزی پر قناعت اختیار کرو اللہ تعالیٰ نے ایک سے زیادہ امیر کر رکھا ہے یہ بھی اس کی طرف سے ایک آزمائش ہے کہ وہ دیکھے کہ امیر امراء کس طرح شکر الٰہی ادا کرتے ہیں اور جو حقوق دوسروں کے ان پر جناب باری نے مقرر کئے ہیں کہاں تک انہیں ادا کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر4488

بندوں پر اللہ تعالٰی کا احسان ٭٭

اپنے بندوں پر اپنا ایک اور احسان جتاتا ہے کہ ” انہی کی جنس سے انہی کی ہم شکل، ہم وضع عورتیں ہم نے ان کے لیے پیدا کیں “۔ اگر جنس اور ہوتی تو دلی میل جول، محبت و موعدت قائم نہ رہتی لیکن اپنی رحمت سے اس نے مرد عورت ہم جنس بنائے۔ پھر اس جوڑے سے نسل بڑھائی، اولاد پھیلائی، لڑکے ہوئے، لڑکوں کے لڑکے ہوئے۔

«حَفَدَةً» کے ایک معنی تو یہی پوتوں کے ہیں، دوسرے معنی خادم اور مددگار کے ہیں پس لڑکے اور پوتے بھی ایک طرح خدمت گزار ہوتے ہیں اور عرب میں یہی دستور بھی تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ”انسان کی بیوی کی سابقہ گھر کی اولاد اس کی نہیں ہوتی۔‏“ «حَفَدَةً» اس شخص کو بھی کہتے ہیں جو کسی کے سامنے اس کے لیے کام کاج کرے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ اس سے مراد دامادی رشتہ ہے اس کے معنی کے تحت میں یہ سب داخل ہیں۔

چنانچہ قنوت میں جملہ آتا ہے «وَإِلَيْك نَسْعَى وَنَحْفِدُ» ہماری سعی کوشش اور خدمت تیرے لیے ہی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اولاد سے، غلام سے، سسرال والوں سے، خدمت حاصل ہوتی ہے ان سب کے پاس سے نعمت الٰہی ہمیں ملتی ہے۔ ہاں جن کے نزدیک «حَفَدَةً» کا تعلق «أَزْوَاجًا» سے ہے ان کے نزدیک تو مراد اولاد اور اولاد کی اولاد اور داماد اور بیوی کی اولاد ہیں۔

پس یہ سب بسا اوقات اسی شخص کی حفاظت میں، اس کی گود میں اور اس کی خدمت میں ہوتے ہیں اور ممکن ہے کہ یہی مطلب سامنے رکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ اولاد تیری غلام ہے ۔ جیسے کہ ابوداؤد میں ہے۔ [سنن ابوداود:2131، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اور جنہوں نے «حَفَدَةً» سے مراد خادم لیا ہے، ان کے نزدیک یہ معطوف ہے اللہ کے فرمان آیت «وَاللَّـهُ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا» [16-النحل:72] ‏ پر یعنی ” اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیویوں اور اولاد کو خادم بنا دیا ہے اور تمہیں کھانے پینے کی بہترین ذائقے دار چیزیں عنایت فرمائی ہیں “۔

پس باطل پر یقین رکھ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری نہ کرنی چاہیئے۔ رب کی نعمتوں پر پردہ ڈال دیا اور ان کی دوسروں کی طرف نسبت کر دی۔ صحیح حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے احسان جتاتے ہوئے فرمائے گا ” کیا میں نے تجھے بیوی نہیں دی تھی؟ میں نے تجھے ذی عزت نہیں بنایا تھا؟ میں نے گھوڑوں اور اونٹوں کو تیرے تابع نہیں کیا تھا اور میں نے تجھے سرداری میں اور آرام میں نہیں چھوڑا تھا؟ “ [صحیح مسلم:2968] ‏

صفحہ نمبر4489

توحید کی تاکید ٭٭

نعمتیں دینے والا، پیدا کرنے والا، روزی پہنچانے والا، صرف اللہ تعالیٰ اکیلا «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہے۔ اور یہ مشرکین اس کے ساتھ اوروں کو پوجتے ہیں جو نہ آسمان سے بارش برسا سکیں، نہ زمین سے کھیت اور درخت اگا سکیں۔ وہ اگر سب مل کر بھی چاہیں تو بھی نہ ایک بوند بارش برسانے پر قادر، نہ ایک پتے کے پیدا کرنے ان میں سکت پس تم اللہ کے لیے مثالیں نہ بیان کرو۔ اس کے شریک و سہیم اور اس جیسا دوسروں کو نہ سمجھو۔ اللہ عالم ہے اور وہ اپنے علم کی بنا پر اپنی توحید پر گواہی دیتا ہے۔ تم جاہل ہو، اپنی جہالت سے دوسروں کو اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہو۔

صفحہ نمبر4490

توحید کی تاکید ٭٭

نعمتیں دینے والا، پیدا کرنے والا، روزی پہنچانے والا، صرف اللہ تعالیٰ اکیلا «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہے۔ اور یہ مشرکین اس کے ساتھ اوروں کو پوجتے ہیں جو نہ آسمان سے بارش برسا سکیں، نہ زمین سے کھیت اور درخت اگا سکیں۔ وہ اگر سب مل کر بھی چاہیں تو بھی نہ ایک بوند بارش برسانے پر قادر، نہ ایک پتے کے پیدا کرنے ان میں سکت پس تم اللہ کے لیے مثالیں نہ بیان کرو۔ اس کے شریک و سہیم اور اس جیسا دوسروں کو نہ سمجھو۔ اللہ عالم ہے اور وہ اپنے علم کی بنا پر اپنی توحید پر گواہی دیتا ہے۔ تم جاہل ہو، اپنی جہالت سے دوسروں کو اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہو۔

صفحہ نمبر4490

مومن اور کافر میں فرق ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ کافر اور مومن کی مثال ہے۔‏“ پس ملکیت کے غلام سے مراد کافر اور اچھی روزی والے اور خرچ کرنے والے سے مراد مومن ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس مثال سے بت کی اور اللہ تعالیٰ کی جدائی سمجھانا مقصود ہے کہ یہ اور وہ برابر کے نہیں۔ اس مثال کا فرق اس قدر واضح ہے جس کے بتانے کی ضرورت نہیں، اسی لیے فرماتا کہ تعریفوں کے لائق اللہ ہی ہے۔ اکثر مشرک بےعلمی پر تلے ہوئے ہیں۔‏“

صفحہ نمبر4492

گونگے بت مشرکین کے معبود ٭٭

ہو سکتا ہے کہ یہ مثال بھی اس فرق کے دکھانے کی ہو جو اللہ تعالیٰ میں اور مشرکین کے بتوں میں ہے۔ یہ بت گونگے ہیں نہ کلام کر سکیں نہ کوئی بھلی بات کہہ سکیں، نہ کسی چیز پر قدرت رکھیں۔ قول و فعل دونوں سے خالی۔ پھر محض بوجھ، اپنے مالک پر بار، کہیں بھی جائے کوئی بھلائی نہ لائے۔ پس یہ دونوں کیسے برابر ہو جائیں گے؟

ایک قول ہے کہ ایک گونگا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہا کا غلام تھا، اور ہو سکتا ہے کہ یہ مثال بھی کافر و مومن کی ہو جیسے اس سے پہلے کی آیت میں تھی۔ کہتے ہیں کہ قریش کے ایک شخص کے غلام کا ذکر پہلے ہے اور دوسرے شخص سے مراد سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔ اور غلام گونگے سے مراد عثمان رضی اللہ عنہ کا وہ غلام ہے جس پر آپ رضی اللہ عنہ خرچ کرتے تھے جو آپ رضی اللہ عنہ کو تکلیف پہنچاتا رہتا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اسے کام کاج سے آزاد کر رکھا تھا لیکن پھر بھی یہ اسلام سے چڑتا تھا، منکر تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کو صدقہ کرنے اور نیکیاں کرنے سے روکتا تھا، ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔

صفحہ نمبر4493

نیکیوں کی دیوار لوگ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے کمال علم اور کمال قدرت کو بیان فرما رہا ہے کہ ” زمین آسمان کا غیب وہی جانتا ہے، کوئی نہیں جو غیب دان ہو اللہ جسے چاہے، جس چیز پر چاہے، اطلاع دیدے۔ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے نہ کوئی اس کا خلاف کر سکے۔ نہ کوئی اسے روک سکے جس کام کا جب ارادہ کرے، قادر ہے پورا ہو کر ہی رہتا ہے “۔

«وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” آنکھ بند کر کے کھولنے میں تو تمہیں کچھ دیر لگتی ہو گی لیکن حکم الٰہی کے پورا ہونے میں اتنی دیر بھی نہیں لگتی “۔ قیامت کا آنا بھی اس پر ایسا ہی آسان ہے، وہ بھی حکم ہوتے ہی آ جائے گی۔

«مَّا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ» [31-لقمان:28] ‏ ” ایک کا پیدا کرنا اور سب کا پیدا کرنا اس پر یکساں ہے “۔ اللہ کا احسان دیکھو کہ اس نے لوگوں کو ماؤں کے پیٹوں سے نکالا یہ محض نادان تھے پھر انہیں کان دئیے جس سے وہ سنیں، آنکھیں دیں جس سے دیکھیں، دل دئیے جس سے سوچیں اور سمجھیں۔ عقل کی جگہ دل ہے اور دماغ بھی کہا گیا ہے۔

عقل سے ہی نفع نقصان معلوم ہوتا ہے یہ قویٰ اور حواس انسان کو بتدریج تھوڑے تھوڑے ہو کر ملتے ہیں عمر کے ساتھ ساتھ اس کی بڑھوتری بھی ہوتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ کمال کو پہنچ جائیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ انسان اپنی ان طاقتوں کو اللہ کی معرفت اور عبادت میں لگائے رہے۔ صحیح بخاری میں حدیث قدسی ہے کہ جو میرے دوستوں سے دشمنی کرتا ہے وہ مجھ سے لڑائی کا اعلان کرتا ہے۔ میرے فرائض کی بجا آوری سے جس قدر بندہ میری قربت حاصل کر سکتا ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں کر سکتا۔ نوافل بکثرت پڑھتے پڑھتے بندہ میرے نزدیک اور میرا محبوب ہو جاتا ہے۔ جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں ہی اس کے کان بن جاتا ہوں، جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی نگاہ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ تھامتا ہے اور اس کے پیر بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ وہ اگر مجھ سے مانگے میں دیتا ہوں، اگر دعا کرے میں قبول کرتا ہوں، اگر پناہ چاہے میں پناہ دیتا ہوں اور مجھے کسی کام کے کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا مومن کی روح کے قبض کرنے میں موت کو ناپسند کرتا ہے۔ میں اسے ناراض کرنا نہیں چاہتا اور موت ایسی چیز ہی نہیں جس سے کسی ذی روح کو نجات مل سکے ۔ [صحیح بخاری:6502] ‏

صفحہ نمبر4494

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب مومن اخلاص اور اطاعت میں کامل ہو جاتا ہے تو اس کے تمام افعال محض اللہ کے لیے ہو جاتے ہیں وہ سنتا ہے اللہ کے لیے، دیکھتا ہے اللہ کے لیے، یعنی شریعت کی باتیں سنتا ہے، شریعت نے جن چیزوں کا دیکھنا جائز کیا ہے، انہی کو دیکھتا ہے، اسی طرح اس کا ہاتھ بڑھانا، پاؤں چلانا بھی اللہ کی رضا مندی کے کاموں کے لیے ہی ہوتا ہے۔ اللہ پر اس کا بھروسہ رہتا ہے اسی سے مدد چاہتا ہے، تمام کام اس کے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے ہی ہوتے ہیں۔

اس لیے بعض غیر صحیح احادیث میں اس کے بعد یہ بھی آیا ہے کہ پھر وہ میرے ہی لیے سنتا ہے اور میرے ہی لیے دیکھتا ہے اور میرے لیے پکڑتا ہے اور میرے لیے ہی چلتا پھرتا ہے ۔

آیت میں بیان ہے کہ ” ماں کے پیٹ سے وہ نکالتا ہے، کان، آنکھ، دل، دماغ وہ دیتا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو “ اور آیت میں فرمان ہے «قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ» [67-الملك:23] ‏، یعنی ” اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے ہیں لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو، اسی نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا ہے اور اسی کی طرف تمہارا حشر کیا جانے والا ہے “۔

پھر اللہ پاک رب العالمین اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ ” ان پرندوں کی طرف دیکھو جو آسمان و زمین کے درمیان کی فضا میں پرواز کرتے پھرتے ہیں، انہیں پروردگار ہی اپنی قدرت کاملہ سے تھامے ہوئے ہے۔ یہ قوت پرواز اسی نے انہیں دے رکھی ہے اور ہواؤں کو ان کا مطیع بنا رکھا ہے۔ سورۃ الملک میں بھی یہی فرمان ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَـٰنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ» [67-الملك:19] ‏ ” کیا وہ اپنے سروں پر اڑتے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھتے؟ جو پر کھولے ہوئے ہیں اور پر سمیٹے ہوئے بھی ہیں انہیں بجز اللہ رحمان و رحیم کے کون تھامتا ہے؟ وہ اللہ تمام مخلوق کو بخوبی دیکھ رہا ہے “۔ یہاں بھی خاتمے پر فرمایا کہ ” اس میں ایمانداروں کے لیے بہت سے نشان ہیں “۔

صفحہ نمبر4495

نیکیوں کی دیوار لوگ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے کمال علم اور کمال قدرت کو بیان فرما رہا ہے کہ ” زمین آسمان کا غیب وہی جانتا ہے، کوئی نہیں جو غیب دان ہو اللہ جسے چاہے، جس چیز پر چاہے، اطلاع دیدے۔ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے نہ کوئی اس کا خلاف کر سکے۔ نہ کوئی اسے روک سکے جس کام کا جب ارادہ کرے، قادر ہے پورا ہو کر ہی رہتا ہے “۔

«وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” آنکھ بند کر کے کھولنے میں تو تمہیں کچھ دیر لگتی ہو گی لیکن حکم الٰہی کے پورا ہونے میں اتنی دیر بھی نہیں لگتی “۔ قیامت کا آنا بھی اس پر ایسا ہی آسان ہے، وہ بھی حکم ہوتے ہی آ جائے گی۔

«مَّا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ» [31-لقمان:28] ‏ ” ایک کا پیدا کرنا اور سب کا پیدا کرنا اس پر یکساں ہے “۔ اللہ کا احسان دیکھو کہ اس نے لوگوں کو ماؤں کے پیٹوں سے نکالا یہ محض نادان تھے پھر انہیں کان دئیے جس سے وہ سنیں، آنکھیں دیں جس سے دیکھیں، دل دئیے جس سے سوچیں اور سمجھیں۔ عقل کی جگہ دل ہے اور دماغ بھی کہا گیا ہے۔

عقل سے ہی نفع نقصان معلوم ہوتا ہے یہ قویٰ اور حواس انسان کو بتدریج تھوڑے تھوڑے ہو کر ملتے ہیں عمر کے ساتھ ساتھ اس کی بڑھوتری بھی ہوتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ کمال کو پہنچ جائیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ انسان اپنی ان طاقتوں کو اللہ کی معرفت اور عبادت میں لگائے رہے۔ صحیح بخاری میں حدیث قدسی ہے کہ جو میرے دوستوں سے دشمنی کرتا ہے وہ مجھ سے لڑائی کا اعلان کرتا ہے۔ میرے فرائض کی بجا آوری سے جس قدر بندہ میری قربت حاصل کر سکتا ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں کر سکتا۔ نوافل بکثرت پڑھتے پڑھتے بندہ میرے نزدیک اور میرا محبوب ہو جاتا ہے۔ جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں ہی اس کے کان بن جاتا ہوں، جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی نگاہ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ تھامتا ہے اور اس کے پیر بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ وہ اگر مجھ سے مانگے میں دیتا ہوں، اگر دعا کرے میں قبول کرتا ہوں، اگر پناہ چاہے میں پناہ دیتا ہوں اور مجھے کسی کام کے کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا مومن کی روح کے قبض کرنے میں موت کو ناپسند کرتا ہے۔ میں اسے ناراض کرنا نہیں چاہتا اور موت ایسی چیز ہی نہیں جس سے کسی ذی روح کو نجات مل سکے ۔ [صحیح بخاری:6502] ‏

صفحہ نمبر4494

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب مومن اخلاص اور اطاعت میں کامل ہو جاتا ہے تو اس کے تمام افعال محض اللہ کے لیے ہو جاتے ہیں وہ سنتا ہے اللہ کے لیے، دیکھتا ہے اللہ کے لیے، یعنی شریعت کی باتیں سنتا ہے، شریعت نے جن چیزوں کا دیکھنا جائز کیا ہے، انہی کو دیکھتا ہے، اسی طرح اس کا ہاتھ بڑھانا، پاؤں چلانا بھی اللہ کی رضا مندی کے کاموں کے لیے ہی ہوتا ہے۔ اللہ پر اس کا بھروسہ رہتا ہے اسی سے مدد چاہتا ہے، تمام کام اس کے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے ہی ہوتے ہیں۔

اس لیے بعض غیر صحیح احادیث میں اس کے بعد یہ بھی آیا ہے کہ پھر وہ میرے ہی لیے سنتا ہے اور میرے ہی لیے دیکھتا ہے اور میرے لیے پکڑتا ہے اور میرے لیے ہی چلتا پھرتا ہے ۔

آیت میں بیان ہے کہ ” ماں کے پیٹ سے وہ نکالتا ہے، کان، آنکھ، دل، دماغ وہ دیتا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو “ اور آیت میں فرمان ہے «قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ» [67-الملك:23] ‏، یعنی ” اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے ہیں لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو، اسی نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا ہے اور اسی کی طرف تمہارا حشر کیا جانے والا ہے “۔

پھر اللہ پاک رب العالمین اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ ” ان پرندوں کی طرف دیکھو جو آسمان و زمین کے درمیان کی فضا میں پرواز کرتے پھرتے ہیں، انہیں پروردگار ہی اپنی قدرت کاملہ سے تھامے ہوئے ہے۔ یہ قوت پرواز اسی نے انہیں دے رکھی ہے اور ہواؤں کو ان کا مطیع بنا رکھا ہے۔ سورۃ الملک میں بھی یہی فرمان ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَـٰنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ» [67-الملك:19] ‏ ” کیا وہ اپنے سروں پر اڑتے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھتے؟ جو پر کھولے ہوئے ہیں اور پر سمیٹے ہوئے بھی ہیں انہیں بجز اللہ رحمان و رحیم کے کون تھامتا ہے؟ وہ اللہ تمام مخلوق کو بخوبی دیکھ رہا ہے “۔ یہاں بھی خاتمے پر فرمایا کہ ” اس میں ایمانداروں کے لیے بہت سے نشان ہیں “۔

صفحہ نمبر4495

نیکیوں کی دیوار لوگ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے کمال علم اور کمال قدرت کو بیان فرما رہا ہے کہ ” زمین آسمان کا غیب وہی جانتا ہے، کوئی نہیں جو غیب دان ہو اللہ جسے چاہے، جس چیز پر چاہے، اطلاع دیدے۔ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے نہ کوئی اس کا خلاف کر سکے۔ نہ کوئی اسے روک سکے جس کام کا جب ارادہ کرے، قادر ہے پورا ہو کر ہی رہتا ہے “۔

«وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” آنکھ بند کر کے کھولنے میں تو تمہیں کچھ دیر لگتی ہو گی لیکن حکم الٰہی کے پورا ہونے میں اتنی دیر بھی نہیں لگتی “۔ قیامت کا آنا بھی اس پر ایسا ہی آسان ہے، وہ بھی حکم ہوتے ہی آ جائے گی۔

«مَّا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ» [31-لقمان:28] ‏ ” ایک کا پیدا کرنا اور سب کا پیدا کرنا اس پر یکساں ہے “۔ اللہ کا احسان دیکھو کہ اس نے لوگوں کو ماؤں کے پیٹوں سے نکالا یہ محض نادان تھے پھر انہیں کان دئیے جس سے وہ سنیں، آنکھیں دیں جس سے دیکھیں، دل دئیے جس سے سوچیں اور سمجھیں۔ عقل کی جگہ دل ہے اور دماغ بھی کہا گیا ہے۔

عقل سے ہی نفع نقصان معلوم ہوتا ہے یہ قویٰ اور حواس انسان کو بتدریج تھوڑے تھوڑے ہو کر ملتے ہیں عمر کے ساتھ ساتھ اس کی بڑھوتری بھی ہوتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ کمال کو پہنچ جائیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ انسان اپنی ان طاقتوں کو اللہ کی معرفت اور عبادت میں لگائے رہے۔ صحیح بخاری میں حدیث قدسی ہے کہ جو میرے دوستوں سے دشمنی کرتا ہے وہ مجھ سے لڑائی کا اعلان کرتا ہے۔ میرے فرائض کی بجا آوری سے جس قدر بندہ میری قربت حاصل کر سکتا ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں کر سکتا۔ نوافل بکثرت پڑھتے پڑھتے بندہ میرے نزدیک اور میرا محبوب ہو جاتا ہے۔ جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں ہی اس کے کان بن جاتا ہوں، جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی نگاہ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ تھامتا ہے اور اس کے پیر بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ وہ اگر مجھ سے مانگے میں دیتا ہوں، اگر دعا کرے میں قبول کرتا ہوں، اگر پناہ چاہے میں پناہ دیتا ہوں اور مجھے کسی کام کے کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا مومن کی روح کے قبض کرنے میں موت کو ناپسند کرتا ہے۔ میں اسے ناراض کرنا نہیں چاہتا اور موت ایسی چیز ہی نہیں جس سے کسی ذی روح کو نجات مل سکے ۔ [صحیح بخاری:6502] ‏

صفحہ نمبر4494

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب مومن اخلاص اور اطاعت میں کامل ہو جاتا ہے تو اس کے تمام افعال محض اللہ کے لیے ہو جاتے ہیں وہ سنتا ہے اللہ کے لیے، دیکھتا ہے اللہ کے لیے، یعنی شریعت کی باتیں سنتا ہے، شریعت نے جن چیزوں کا دیکھنا جائز کیا ہے، انہی کو دیکھتا ہے، اسی طرح اس کا ہاتھ بڑھانا، پاؤں چلانا بھی اللہ کی رضا مندی کے کاموں کے لیے ہی ہوتا ہے۔ اللہ پر اس کا بھروسہ رہتا ہے اسی سے مدد چاہتا ہے، تمام کام اس کے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے ہی ہوتے ہیں۔

اس لیے بعض غیر صحیح احادیث میں اس کے بعد یہ بھی آیا ہے کہ پھر وہ میرے ہی لیے سنتا ہے اور میرے ہی لیے دیکھتا ہے اور میرے لیے پکڑتا ہے اور میرے لیے ہی چلتا پھرتا ہے ۔

آیت میں بیان ہے کہ ” ماں کے پیٹ سے وہ نکالتا ہے، کان، آنکھ، دل، دماغ وہ دیتا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو “ اور آیت میں فرمان ہے «قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ» [67-الملك:23] ‏، یعنی ” اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے ہیں لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو، اسی نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا ہے اور اسی کی طرف تمہارا حشر کیا جانے والا ہے “۔

پھر اللہ پاک رب العالمین اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ ” ان پرندوں کی طرف دیکھو جو آسمان و زمین کے درمیان کی فضا میں پرواز کرتے پھرتے ہیں، انہیں پروردگار ہی اپنی قدرت کاملہ سے تھامے ہوئے ہے۔ یہ قوت پرواز اسی نے انہیں دے رکھی ہے اور ہواؤں کو ان کا مطیع بنا رکھا ہے۔ سورۃ الملک میں بھی یہی فرمان ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَـٰنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ» [67-الملك:19] ‏ ” کیا وہ اپنے سروں پر اڑتے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھتے؟ جو پر کھولے ہوئے ہیں اور پر سمیٹے ہوئے بھی ہیں انہیں بجز اللہ رحمان و رحیم کے کون تھامتا ہے؟ وہ اللہ تمام مخلوق کو بخوبی دیکھ رہا ہے “۔ یہاں بھی خاتمے پر فرمایا کہ ” اس میں ایمانداروں کے لیے بہت سے نشان ہیں “۔

صفحہ نمبر4495

احسانات الٰہی کی ایک جھلک ٭٭

قدیم اور بہت بڑے ان گنت احسانات و انعامات والا اللہ اپنی اور نعمتیں ظاہر فرما رہا ہے۔ اسی نے بنی آدم کے رہنے سہنے آرام اور راحت حاصل کرنے کے لیے انہیں مکانات دے رکھے ہیں۔ اسی طرح چوپائے، جانوروں کی کھالوں کے خیمے، ڈیرے، تمبو اس نے عطا فرما رکھے ہیں کہ سفر میں کام آئیں، نہ لے جانا دو بھر نہ لگانا مشکل، نہ اکھیڑنے میں کوئی تکلیف۔ پھر بکریوں کے بال، اونٹوں کے بال، بھیڑوں اور دنبوں کی اون، تجارت کے لیے مال کے طور پر اسے تمہارے لیے بنایا ہے۔ وہ گھر کے برتنے کی چیز بھی ہے اس سے کپڑے بھی بنتے ہیں، فرش بھی تیار ہوتے ہیں، تجارت کے طور پر مال تجارت ہے۔ فائدے کی چیز ہے جس سے لوگ مقررہ وقت تک سود مند ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر4498

درختوں کے سائے اس نے تمہارے فائدے اور راحت کے لیے بنائے ہیں۔ پہاڑوں پر غار قلعے وغیرہ اس نے تمہیں دے رکھے ہیں کہ ان میں پناہ حاصل کرو۔ چھپنے اور رہنے سہنے کی جگہ بنالو۔ سوتی، اونی اور بالوں کے کپڑے اس نے تمہیں دے رکھے ہیں کہ پہن کر سردی گرمی کے بچاؤ کے ساتھ ہی اپنا ستر چھپاؤ اور زیب و زینت حاصل کرو اور اس نے تمہیں زرہیں، خود بکتر عطا فرمائے ہیں جو دشمنوں کے حملے اور لڑائی کے وقت تمہیں کام دیں۔ اسی طرح وہ تمہیں تمہاری ضرورت کی پوری پوری نعمتیں دئیے جاتا ہے کہ تم راحت وآ رام پاؤ اور اطمینان سے اپنے منعم حقیقی کی عبادت میں لگے رہو۔

«تُسْلِمُونَ» کی دوسری قرأت «تَسْلَمُوْنَ» بھی ہے، یعنی تم سلامت رہو۔ اور پہلی قرأت کے معنی تاکہ تم فرمانبردار بن جاؤ۔ اس سورۃ کا نام سورۃ النعم بھی ہے۔ لام کے زبر والی قرأت سے یہ بھی مراد ہے کہ تم کو اس نے لڑائی میں کام آنے والی چیزیں دیں کہ تم سلامت رہو، دشمن کے وار سے بچو۔ بیشک جنگل اور بیابان بھی اللہ کی بڑی نعمت ہیں لیکن یہاں پہاڑوں کی نعمت اس لیے بیان کی کہ جب سے کلام ہے وہ پہاڑوں کے رہنے والے تھے تو ان کی معلومات کے مطابق ان سے کلام ہو رہا ہے اسی طرح چونکہ وہ بھیڑ بکریوں اور اونٹوں والے تھے انہیں یہی نعمتیں یاد دلائیں حالانکہ ان سے بڑھ کر اللہ کی نعمتیں مخلوق کے ہاتھوں میں اور بھی بےشمار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سردی کے اتارنے کا احسان بیان فرمایا حلانکہ اس سے اور بڑے احسانات موجود ہیں۔ لیکن یہ ان کے سامنے اور ان کی جانی پہچانی چیز تھی۔ اسی طرح چونکہ یہ لڑنے بھڑنے والے جنگجو لوگ تھے، لڑائی کے بچاؤ کی چیز بطور نعمت ان کے سامنے رکھی حالانکہ اس سے صدہا درجے بڑی اور نعمتیں بھی مخلوق کے ہاتھ میں موجود ہیں۔ اسی طرح چونکہ ان کا ملک گرم تھا فرمایا کہ لباس سے تم گرمی کی تکلیف زائل کرتے ہو ورنہ کیا اس سے بہتر اس منعم حقیقی کی اور نعمتیں بندوں کے پاس نہیں؟

صفحہ نمبر4499

احسانات الٰہی کی ایک جھلک ٭٭

قدیم اور بہت بڑے ان گنت احسانات و انعامات والا اللہ اپنی اور نعمتیں ظاہر فرما رہا ہے۔ اسی نے بنی آدم کے رہنے سہنے آرام اور راحت حاصل کرنے کے لیے انہیں مکانات دے رکھے ہیں۔ اسی طرح چوپائے، جانوروں کی کھالوں کے خیمے، ڈیرے، تمبو اس نے عطا فرما رکھے ہیں کہ سفر میں کام آئیں، نہ لے جانا دو بھر نہ لگانا مشکل، نہ اکھیڑنے میں کوئی تکلیف۔ پھر بکریوں کے بال، اونٹوں کے بال، بھیڑوں اور دنبوں کی اون، تجارت کے لیے مال کے طور پر اسے تمہارے لیے بنایا ہے۔ وہ گھر کے برتنے کی چیز بھی ہے اس سے کپڑے بھی بنتے ہیں، فرش بھی تیار ہوتے ہیں، تجارت کے طور پر مال تجارت ہے۔ فائدے کی چیز ہے جس سے لوگ مقررہ وقت تک سود مند ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر4498

درختوں کے سائے اس نے تمہارے فائدے اور راحت کے لیے بنائے ہیں۔ پہاڑوں پر غار قلعے وغیرہ اس نے تمہیں دے رکھے ہیں کہ ان میں پناہ حاصل کرو۔ چھپنے اور رہنے سہنے کی جگہ بنالو۔ سوتی، اونی اور بالوں کے کپڑے اس نے تمہیں دے رکھے ہیں کہ پہن کر سردی گرمی کے بچاؤ کے ساتھ ہی اپنا ستر چھپاؤ اور زیب و زینت حاصل کرو اور اس نے تمہیں زرہیں، خود بکتر عطا فرمائے ہیں جو دشمنوں کے حملے اور لڑائی کے وقت تمہیں کام دیں۔ اسی طرح وہ تمہیں تمہاری ضرورت کی پوری پوری نعمتیں دئیے جاتا ہے کہ تم راحت وآ رام پاؤ اور اطمینان سے اپنے منعم حقیقی کی عبادت میں لگے رہو۔

«تُسْلِمُونَ» کی دوسری قرأت «تَسْلَمُوْنَ» بھی ہے، یعنی تم سلامت رہو۔ اور پہلی قرأت کے معنی تاکہ تم فرمانبردار بن جاؤ۔ اس سورۃ کا نام سورۃ النعم بھی ہے۔ لام کے زبر والی قرأت سے یہ بھی مراد ہے کہ تم کو اس نے لڑائی میں کام آنے والی چیزیں دیں کہ تم سلامت رہو، دشمن کے وار سے بچو۔ بیشک جنگل اور بیابان بھی اللہ کی بڑی نعمت ہیں لیکن یہاں پہاڑوں کی نعمت اس لیے بیان کی کہ جب سے کلام ہے وہ پہاڑوں کے رہنے والے تھے تو ان کی معلومات کے مطابق ان سے کلام ہو رہا ہے اسی طرح چونکہ وہ بھیڑ بکریوں اور اونٹوں والے تھے انہیں یہی نعمتیں یاد دلائیں حالانکہ ان سے بڑھ کر اللہ کی نعمتیں مخلوق کے ہاتھوں میں اور بھی بےشمار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سردی کے اتارنے کا احسان بیان فرمایا حلانکہ اس سے اور بڑے احسانات موجود ہیں۔ لیکن یہ ان کے سامنے اور ان کی جانی پہچانی چیز تھی۔ اسی طرح چونکہ یہ لڑنے بھڑنے والے جنگجو لوگ تھے، لڑائی کے بچاؤ کی چیز بطور نعمت ان کے سامنے رکھی حالانکہ اس سے صدہا درجے بڑی اور نعمتیں بھی مخلوق کے ہاتھ میں موجود ہیں۔ اسی طرح چونکہ ان کا ملک گرم تھا فرمایا کہ لباس سے تم گرمی کی تکلیف زائل کرتے ہو ورنہ کیا اس سے بہتر اس منعم حقیقی کی اور نعمتیں بندوں کے پاس نہیں؟

صفحہ نمبر4499

باب

اسی لیے ان نعمتوں اور رحمتوں کے اظہار کے بعد ہی فرماتا ہے کہ ” اگر اب بھی یہ لوگ میری عبادت اور توحید کے اور میرے بے پایاں احسانوں کے قائل نہ ہوں تو تجھے ان کی ایسی پڑی ہے؟ چھوڑ دے اپنے کام میں لگ جا تجھ پر تو صرف تبلیغ ہی ہے وہ کئے جا۔ یہ خود جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی نعمتوں کا دینے والا ہے اور اس کی بے شمار نعمتیں ان کے ہاتھوں میں ہیں لیکن باوجود علم کے منکر ہو رہے ہیں اور اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں سمجھتے ہیں کہ مددگار فلاں ہے رزق دینے والا فلاں ہے، یہ اکثر لوگ کافر ہیں، اللہ کے ناشکرے ہیں “۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت ” اس نے تمہیں چوپایوں کی کھالوں کے خیمے دئیے “، اس نے کہا یہ بھی سچ ہے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو پڑھتے گئے اور وہ ہر ایک نعمت کا اقرار کرتا رہا آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا ” اس لیے کہ تم مسلمان اور مطیع ہو جاؤ “ اس وقت وہ پیٹھ پھیر کر چل دیا ۔ تو اللہ تعالیٰ نے آخری آیت اتاری کہ اقرار کے بعد انکار کر کے کافر ہو جاتے ہیں۔

صفحہ نمبر4501

باب

اسی لیے ان نعمتوں اور رحمتوں کے اظہار کے بعد ہی فرماتا ہے کہ ” اگر اب بھی یہ لوگ میری عبادت اور توحید کے اور میرے بے پایاں احسانوں کے قائل نہ ہوں تو تجھے ان کی ایسی پڑی ہے؟ چھوڑ دے اپنے کام میں لگ جا تجھ پر تو صرف تبلیغ ہی ہے وہ کئے جا۔ یہ خود جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی نعمتوں کا دینے والا ہے اور اس کی بے شمار نعمتیں ان کے ہاتھوں میں ہیں لیکن باوجود علم کے منکر ہو رہے ہیں اور اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں سمجھتے ہیں کہ مددگار فلاں ہے رزق دینے والا فلاں ہے، یہ اکثر لوگ کافر ہیں، اللہ کے ناشکرے ہیں “۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت ” اس نے تمہیں چوپایوں کی کھالوں کے خیمے دئیے “، اس نے کہا یہ بھی سچ ہے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو پڑھتے گئے اور وہ ہر ایک نعمت کا اقرار کرتا رہا آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا ” اس لیے کہ تم مسلمان اور مطیع ہو جاؤ “ اس وقت وہ پیٹھ پھیر کر چل دیا ۔ تو اللہ تعالیٰ نے آخری آیت اتاری کہ اقرار کے بعد انکار کر کے کافر ہو جاتے ہیں۔

صفحہ نمبر4501

ہر امت کا گواہ اس کا نبی ٭٭

قیامت کے دن مشرکوں کی جو بری حالت بنے گی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” اس دن ہر امت پر اس کا نبی علیہ السلام گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچا دیا تھا کافروں کو کسی عذر کی بھی اجازت نہ ملے گی کیونکہ ان کا بطلان اور جھوٹ بالکل ظاہر ہے “۔

سورۃ والمرسلات میں بھی یہی فرمان ہے کہ «هَذَا يَوْمٌ لَا يَنْطِقُونَ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ» [77-المرسلات:36-35] ‏ ” اس دن نہ وہ بولیں گے، نہ انہیں کسی عذر کی اجازت ملے گی “۔

مشرکین عذاب دیکھیں گے لیکن پھر کوئی کمی نہ ہوگی ایک ساعت بھی عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ انہیں کوئی مہلت ملے گی اچانک پکڑ لیے جائیں گے۔ جہنم آ موجود ہوگی جو ستر ہزار لگاموں والی ہوگی۔ جس کی ایک لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ [صحیح مسلم:2842] ‏ اس میں سے ایک گردن نکلے گی جو اس طرح پھن پھیلائے گی کہ تمام اہل محشر خوف زدہ ہو کر بل گر پڑیں گے۔

اس وقت جہنم اپنی زبان سے باآواز بلند اعلان کرے گی کہ میں اس ہر ایک سرکش ضدی کے لیے مقرر کی گئی ہوں۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا ہو اور ایسے ایسے کام کئے ہوں چنانچہ وہ کئی قسم کے گنہگاروں کا ذکر کرے گی۔

صفحہ نمبر4503

جیسے کہ حدیث میں ہے پھر وہ ان تمام لوگوں کو لپٹ جائے گی اور میدان محشر میں سے انہیں لپک لے گی جیسے کہ پرند دانہ چگتا ہے ۔ جیسے کہ فرمان باری ہے آیت «إِذَا رَأَتْهُم مِّن مَّكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا لَّا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا» [25-الفرقان:12-14] ‏ ” جب کہ وہ دور سے دکھائی دے گی تو اس کا شور و غل، کڑکنا، بھڑکنا یہ سننے لگیں گے اور جب اس کے تنگ و تاریک مکانوں میں جھونک دئیے جائیں تو موت کو پکاریں گے۔ آج ایک چھوڑ کئی ایک موتوں کو بھی پکاریں تو کیا ہو سکتا ہے؟ “۔

اور آیت میں ہے «وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا» [18-الكهف:53] ‏ ” گنہگار جہنم کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ وہ اس میں جھونک دئے جائیں گے لیکن کوئی بچاؤ نہ پائیں گے “۔

اور آیت میں ہے «لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمْ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ بَلْ تَأْتِيهِم بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ» [21-الأنبياء:39-40] ‏ ” کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیتے جب کہ وہ اپنے چہروں پر سے اور اپنی کمروں پر سے جہنم کی آگ کو دور نہ کر سکیں گے نہ کسی کو مددگار پائیں گے اچانک عذاب الٰہی انہیں ہکا بکا کر دیں گے نہ انہیں ان کے دفع کرنے کی طاقت ہو گی نہ ایک منٹ کی مہلت ملے گی “۔

اس وقت ان کے معبودان باطل جن کی عمر بھر عبادتیں اور نذریں نیازیں کرتے رہے ان سے بالکل بے نیاز ہو جائیں گے اور ان کی احتیاج کے وقت انہیں مطلقا کام نہ آئیں گے۔ انہیں دیکھ کر یہ کہیں گے کہ اے اللہ یہ ہیں جنہیں ہم دنیا میں پوجتے رہے تو وہ کہیں گے جھوٹے ہو ہم نے کب تم سے کہا تھا کہ اللہ چھوڑ کر ہماری پرستش کرو؟ اسی کو جناب باری نے فرمایا آیت «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» [46-الأحقاف:6-5] ‏ یعنی ” اس سے زیادہ کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا انہیں پکارتا ہے جو اسے قیامت تک جواب نہ دیں بلکہ وہ ان کے پکار نے سے بھی بے خبر ہوں اور حشر کے دن ان کے دشمن ہو جانے والے ہوں اور ان کی عبادت کا انکار کر جانے والے ہوں “۔

صفحہ نمبر4504

اور آیتوں میں ہے کہ «وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ آلِهَةً لِّيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [19-مریم:81-82] ‏ ” اپنا حمایتی اور باعث عزت جان کر جنہیں یہ پکارتے رہے وہ تو ان کی عبادتوں کے منکر ہو جائیں گے۔ اور ان کے مخالف بن جائیں گے “۔

خلیل اللہ علیہ والسلام نے بھی یہی فرمایا کہ آیت «ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» [29-العنكبوت:25] ‏ یعنی ” قیامت کے دن ایک دوسروں کے منکر ہو جائیں گے “۔

اور آیت میں ہے کہ «وَيَوْمَ يَقُولُ نَادُوا شُرَكَائِيَ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُم مَّوْبِقًا» [18-الکھف:52] ‏ ” انہیں قیامت کے دن حکم ہوگا کہ اپنے شریکوں کو پکارو “۔

صفحہ نمبر4505

ہر امت کا گواہ اس کا نبی ٭٭

قیامت کے دن مشرکوں کی جو بری حالت بنے گی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” اس دن ہر امت پر اس کا نبی علیہ السلام گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچا دیا تھا کافروں کو کسی عذر کی بھی اجازت نہ ملے گی کیونکہ ان کا بطلان اور جھوٹ بالکل ظاہر ہے “۔

سورۃ والمرسلات میں بھی یہی فرمان ہے کہ «هَذَا يَوْمٌ لَا يَنْطِقُونَ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ» [77-المرسلات:36-35] ‏ ” اس دن نہ وہ بولیں گے، نہ انہیں کسی عذر کی اجازت ملے گی “۔

مشرکین عذاب دیکھیں گے لیکن پھر کوئی کمی نہ ہوگی ایک ساعت بھی عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ انہیں کوئی مہلت ملے گی اچانک پکڑ لیے جائیں گے۔ جہنم آ موجود ہوگی جو ستر ہزار لگاموں والی ہوگی۔ جس کی ایک لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ [صحیح مسلم:2842] ‏ اس میں سے ایک گردن نکلے گی جو اس طرح پھن پھیلائے گی کہ تمام اہل محشر خوف زدہ ہو کر بل گر پڑیں گے۔

اس وقت جہنم اپنی زبان سے باآواز بلند اعلان کرے گی کہ میں اس ہر ایک سرکش ضدی کے لیے مقرر کی گئی ہوں۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا ہو اور ایسے ایسے کام کئے ہوں چنانچہ وہ کئی قسم کے گنہگاروں کا ذکر کرے گی۔

صفحہ نمبر4503

جیسے کہ حدیث میں ہے پھر وہ ان تمام لوگوں کو لپٹ جائے گی اور میدان محشر میں سے انہیں لپک لے گی جیسے کہ پرند دانہ چگتا ہے ۔ جیسے کہ فرمان باری ہے آیت «إِذَا رَأَتْهُم مِّن مَّكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا لَّا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا» [25-الفرقان:12-14] ‏ ” جب کہ وہ دور سے دکھائی دے گی تو اس کا شور و غل، کڑکنا، بھڑکنا یہ سننے لگیں گے اور جب اس کے تنگ و تاریک مکانوں میں جھونک دئیے جائیں تو موت کو پکاریں گے۔ آج ایک چھوڑ کئی ایک موتوں کو بھی پکاریں تو کیا ہو سکتا ہے؟ “۔

اور آیت میں ہے «وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا» [18-الكهف:53] ‏ ” گنہگار جہنم کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ وہ اس میں جھونک دئے جائیں گے لیکن کوئی بچاؤ نہ پائیں گے “۔

اور آیت میں ہے «لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمْ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ بَلْ تَأْتِيهِم بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ» [21-الأنبياء:39-40] ‏ ” کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیتے جب کہ وہ اپنے چہروں پر سے اور اپنی کمروں پر سے جہنم کی آگ کو دور نہ کر سکیں گے نہ کسی کو مددگار پائیں گے اچانک عذاب الٰہی انہیں ہکا بکا کر دیں گے نہ انہیں ان کے دفع کرنے کی طاقت ہو گی نہ ایک منٹ کی مہلت ملے گی “۔

اس وقت ان کے معبودان باطل جن کی عمر بھر عبادتیں اور نذریں نیازیں کرتے رہے ان سے بالکل بے نیاز ہو جائیں گے اور ان کی احتیاج کے وقت انہیں مطلقا کام نہ آئیں گے۔ انہیں دیکھ کر یہ کہیں گے کہ اے اللہ یہ ہیں جنہیں ہم دنیا میں پوجتے رہے تو وہ کہیں گے جھوٹے ہو ہم نے کب تم سے کہا تھا کہ اللہ چھوڑ کر ہماری پرستش کرو؟ اسی کو جناب باری نے فرمایا آیت «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» [46-الأحقاف:6-5] ‏ یعنی ” اس سے زیادہ کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا انہیں پکارتا ہے جو اسے قیامت تک جواب نہ دیں بلکہ وہ ان کے پکار نے سے بھی بے خبر ہوں اور حشر کے دن ان کے دشمن ہو جانے والے ہوں اور ان کی عبادت کا انکار کر جانے والے ہوں “۔

صفحہ نمبر4504

اور آیتوں میں ہے کہ «وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ آلِهَةً لِّيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [19-مریم:81-82] ‏ ” اپنا حمایتی اور باعث عزت جان کر جنہیں یہ پکارتے رہے وہ تو ان کی عبادتوں کے منکر ہو جائیں گے۔ اور ان کے مخالف بن جائیں گے “۔

خلیل اللہ علیہ والسلام نے بھی یہی فرمایا کہ آیت «ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» [29-العنكبوت:25] ‏ یعنی ” قیامت کے دن ایک دوسروں کے منکر ہو جائیں گے “۔

اور آیت میں ہے کہ «وَيَوْمَ يَقُولُ نَادُوا شُرَكَائِيَ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُم مَّوْبِقًا» [18-الکھف:52] ‏ ” انہیں قیامت کے دن حکم ہوگا کہ اپنے شریکوں کو پکارو “۔

صفحہ نمبر4505

ہر امت کا گواہ اس کا نبی ٭٭

قیامت کے دن مشرکوں کی جو بری حالت بنے گی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” اس دن ہر امت پر اس کا نبی علیہ السلام گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچا دیا تھا کافروں کو کسی عذر کی بھی اجازت نہ ملے گی کیونکہ ان کا بطلان اور جھوٹ بالکل ظاہر ہے “۔

سورۃ والمرسلات میں بھی یہی فرمان ہے کہ «هَذَا يَوْمٌ لَا يَنْطِقُونَ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ» [77-المرسلات:36-35] ‏ ” اس دن نہ وہ بولیں گے، نہ انہیں کسی عذر کی اجازت ملے گی “۔

مشرکین عذاب دیکھیں گے لیکن پھر کوئی کمی نہ ہوگی ایک ساعت بھی عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ انہیں کوئی مہلت ملے گی اچانک پکڑ لیے جائیں گے۔ جہنم آ موجود ہوگی جو ستر ہزار لگاموں والی ہوگی۔ جس کی ایک لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ [صحیح مسلم:2842] ‏ اس میں سے ایک گردن نکلے گی جو اس طرح پھن پھیلائے گی کہ تمام اہل محشر خوف زدہ ہو کر بل گر پڑیں گے۔

اس وقت جہنم اپنی زبان سے باآواز بلند اعلان کرے گی کہ میں اس ہر ایک سرکش ضدی کے لیے مقرر کی گئی ہوں۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا ہو اور ایسے ایسے کام کئے ہوں چنانچہ وہ کئی قسم کے گنہگاروں کا ذکر کرے گی۔

صفحہ نمبر4503

جیسے کہ حدیث میں ہے پھر وہ ان تمام لوگوں کو لپٹ جائے گی اور میدان محشر میں سے انہیں لپک لے گی جیسے کہ پرند دانہ چگتا ہے ۔ جیسے کہ فرمان باری ہے آیت «إِذَا رَأَتْهُم مِّن مَّكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا لَّا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا» [25-الفرقان:12-14] ‏ ” جب کہ وہ دور سے دکھائی دے گی تو اس کا شور و غل، کڑکنا، بھڑکنا یہ سننے لگیں گے اور جب اس کے تنگ و تاریک مکانوں میں جھونک دئیے جائیں تو موت کو پکاریں گے۔ آج ایک چھوڑ کئی ایک موتوں کو بھی پکاریں تو کیا ہو سکتا ہے؟ “۔

اور آیت میں ہے «وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا» [18-الكهف:53] ‏ ” گنہگار جہنم کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ وہ اس میں جھونک دئے جائیں گے لیکن کوئی بچاؤ نہ پائیں گے “۔

اور آیت میں ہے «لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمْ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ بَلْ تَأْتِيهِم بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ» [21-الأنبياء:39-40] ‏ ” کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیتے جب کہ وہ اپنے چہروں پر سے اور اپنی کمروں پر سے جہنم کی آگ کو دور نہ کر سکیں گے نہ کسی کو مددگار پائیں گے اچانک عذاب الٰہی انہیں ہکا بکا کر دیں گے نہ انہیں ان کے دفع کرنے کی طاقت ہو گی نہ ایک منٹ کی مہلت ملے گی “۔

اس وقت ان کے معبودان باطل جن کی عمر بھر عبادتیں اور نذریں نیازیں کرتے رہے ان سے بالکل بے نیاز ہو جائیں گے اور ان کی احتیاج کے وقت انہیں مطلقا کام نہ آئیں گے۔ انہیں دیکھ کر یہ کہیں گے کہ اے اللہ یہ ہیں جنہیں ہم دنیا میں پوجتے رہے تو وہ کہیں گے جھوٹے ہو ہم نے کب تم سے کہا تھا کہ اللہ چھوڑ کر ہماری پرستش کرو؟ اسی کو جناب باری نے فرمایا آیت «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» [46-الأحقاف:6-5] ‏ یعنی ” اس سے زیادہ کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا انہیں پکارتا ہے جو اسے قیامت تک جواب نہ دیں بلکہ وہ ان کے پکار نے سے بھی بے خبر ہوں اور حشر کے دن ان کے دشمن ہو جانے والے ہوں اور ان کی عبادت کا انکار کر جانے والے ہوں “۔

صفحہ نمبر4504

اور آیتوں میں ہے کہ «وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ آلِهَةً لِّيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [19-مریم:81-82] ‏ ” اپنا حمایتی اور باعث عزت جان کر جنہیں یہ پکارتے رہے وہ تو ان کی عبادتوں کے منکر ہو جائیں گے۔ اور ان کے مخالف بن جائیں گے “۔

خلیل اللہ علیہ والسلام نے بھی یہی فرمایا کہ آیت «ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» [29-العنكبوت:25] ‏ یعنی ” قیامت کے دن ایک دوسروں کے منکر ہو جائیں گے “۔

اور آیت میں ہے کہ «وَيَوْمَ يَقُولُ نَادُوا شُرَكَائِيَ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُم مَّوْبِقًا» [18-الکھف:52] ‏ ” انہیں قیامت کے دن حکم ہوگا کہ اپنے شریکوں کو پکارو “۔

صفحہ نمبر4505

باب

اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں کلام اللہ میں موجود ہیں۔ اس دن سب کے سب مسلمان تابع فرمان ہو جائیں گے جیسے فرمان ہے آیت «اَسْمِعْ بِهِمْ وَاَبْصِرْ يَوْمَ يَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْيَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» [19-مريم:38] ‏ یعنی ” جس دن یہ ہمارے پاس آئیں گے، اس دن خوب ہی سننے والے، دیکھنے والے ہو جائیں گے “۔

اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [32-السجدة:12] ‏ ” تو دیکھے گا کہ اس دن گنہگار لوگ اپنے سر جھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھ سن لیا “، الخ۔

اور آیت میں ہے کہ «وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ» [20-طہ:111] ‏ ” سب چہرے اس دن اللہ حی و قیوم کے سامنے جھکے ہوئے ہوں گے، تابع اور مطیع ہوں گے، زیر فرمان ہوں گے “۔ ان کے سارے بہتان و افترا جاتے رہیں گے۔ ساری چالاکیاں ختم ہو جائیں گی کوئی ناصر و مددگار کھڑا نہ ہو گا۔ جنہوں نے کفر کیا، انہیں ان کے کفر کی سزا ملے گی، «وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ» [6-الأنعام:26] ‏ ” اور دوسروں کو بھی حق سے دور بھگاتے رہتے تھے “ «وَإِن يُهْلِكُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ» [6-الأنعام:26] ‏ ” دراصل وہ خود ہی ہلاکت کے دلدل میں پھنس رہے تھے لیکن بیوقوف تھے “۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کے عذاب کے بھی درجے ہوں گے، جس طرح مومنوں کے جزا کے درجے ہوں گے۔ جیسے فرمان الٰہی ہے آیت «قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» [7-الأعراف:38] ‏ ” ہر ایک کے لیے دوہرا اجر ہے لیکن تمہیں علم نہیں “۔

ابو یعلیٰ میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”عذاب جہنم کے ساتھ ہی زہریلے سانپوں کا ڈسنا بڑھ جائے گا جو اتنے بڑے بڑے ہوں گے جتنے بڑے کھجور کے درخت ہوتے ہیں۔‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”عرش تلے سے پانچ نہریں آتی ہیں جن سے دوزخیوں کو دن رات عذاب ہوگا۔‏“

صفحہ نمبر4508

باب

اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں کلام اللہ میں موجود ہیں۔ اس دن سب کے سب مسلمان تابع فرمان ہو جائیں گے جیسے فرمان ہے آیت «اَسْمِعْ بِهِمْ وَاَبْصِرْ يَوْمَ يَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْيَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» [19-مريم:38] ‏ یعنی ” جس دن یہ ہمارے پاس آئیں گے، اس دن خوب ہی سننے والے، دیکھنے والے ہو جائیں گے “۔

اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [32-السجدة:12] ‏ ” تو دیکھے گا کہ اس دن گنہگار لوگ اپنے سر جھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھ سن لیا “، الخ۔

اور آیت میں ہے کہ «وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ» [20-طہ:111] ‏ ” سب چہرے اس دن اللہ حی و قیوم کے سامنے جھکے ہوئے ہوں گے، تابع اور مطیع ہوں گے، زیر فرمان ہوں گے “۔ ان کے سارے بہتان و افترا جاتے رہیں گے۔ ساری چالاکیاں ختم ہو جائیں گی کوئی ناصر و مددگار کھڑا نہ ہو گا۔ جنہوں نے کفر کیا، انہیں ان کے کفر کی سزا ملے گی، «وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ» [6-الأنعام:26] ‏ ” اور دوسروں کو بھی حق سے دور بھگاتے رہتے تھے “ «وَإِن يُهْلِكُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ» [6-الأنعام:26] ‏ ” دراصل وہ خود ہی ہلاکت کے دلدل میں پھنس رہے تھے لیکن بیوقوف تھے “۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کے عذاب کے بھی درجے ہوں گے، جس طرح مومنوں کے جزا کے درجے ہوں گے۔ جیسے فرمان الٰہی ہے آیت «قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» [7-الأعراف:38] ‏ ” ہر ایک کے لیے دوہرا اجر ہے لیکن تمہیں علم نہیں “۔

ابو یعلیٰ میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”عذاب جہنم کے ساتھ ہی زہریلے سانپوں کا ڈسنا بڑھ جائے گا جو اتنے بڑے بڑے ہوں گے جتنے بڑے کھجور کے درخت ہوتے ہیں۔‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”عرش تلے سے پانچ نہریں آتی ہیں جن سے دوزخیوں کو دن رات عذاب ہوگا۔‏“

صفحہ نمبر4508

کتاب مبین ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرکے فرما رہے ہیں کہ ” اس دن کو یاد کر اور اس دن جو تیری شرافت وکرامت ہونے والی ہے اس کا بھی ذکر کر “۔ یہ آیت بھی ویسی ہی ہے جیسی سورۃ نساء کے شروع کی «فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا» [4-النساء:41] ‏ یعنی ” کیونکر گزرے گی جب کہ ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے اور ان سب پر گواہ بنا کر کھڑا کریں گے “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سورۃ نساء پڑھوائی جب وہ اس آیت تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس کر کافی ہے ۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں اشکبار تھیں ۔ [صحیح بخاری:5049] ‏

پھر فرماتا ہے ” اپنی اس اتاری ہوئی کتاب میں تیرے سامنے سب کچھ بیان فرما دیا ہے ہر علم اور ہر شے اس قرآن میں ہے۔ ہر حلال حرام، ہر ایک نافع علم، ہر بھلائی گزشتہ کی خبریں، آ ئندہ کے واقعات، دین دنیا، معاش معاد، سب کے ضروری احکام واحوال اس میں موجود ہیں۔ یہ دلوں کی ہدایت ہے، یہ رحمت ہے، یہ بشارت ہے “۔

امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”یہ کتاب سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا کر ہرچیز کا بیان ہے۔‏“ اس آیت کو اوپر والی آیت سے غالباً یہ تعلق ہے کہ ” جس نے تجھ پر اس کتاب کی تبلیغ فرض کی ہے اور اسے نازل فرمایا ہے وہ قیامت کے دن تجھ سے اس کی بابت سوال کرنے والا ہے “۔ جیسے فرمان ہے کہ «فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ» [7-الأعراف:6] ‏ ” امتوں اور رسولوں سے سب سے سوال ہوگا۔ واللہ ہم سب سے ان کے اعمال کی بازپرس کریں گے “۔ «يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّـهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ» [5-المائدة:109] ‏ ” رسولوں کو جمع کر کے ان سے سوال ہوگا کہ تمہیں کیا جواب ملا؟ وہ کہیں گے، ہمیں کوئی علم نہیں، تو علام الغیوب ہے “۔

اور آیت میں ہے «نَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ» [28-القصص:85] ‏ یعنی ” جس نے تجھ پر تبلیغ قرآن فرض کی ہے، وہ تجھے قیامت کے دن اپنے پاس لوٹا کر اپنے سونپے ہوئے فریضے کی بابت تجھ سے پر سش کرنے والا ہے “۔ یہ ایک قول بھی اس آیت کی تفسیر میں ہے اور ہے بھی معقول اور عمدہ۔

صفحہ نمبر4510

برابر کا بدلہ ٭٭

اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے بندوں کو عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور سلوک و احسان کی رہنمائی کرتا ہے گو بدلہ لینا بھی جائز ہے جیسے آیت «وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ وَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ» [16-النحل:126] ‏ میں فرمایا کہ ” اگر بدلہ لے سکو تو برابر برابر کا بدلہ لو لیکن اگر صبر و برداشت کر لو تو کیا ہی کہنا یہ بڑی مردانگی کی بات ہے “۔

اور آیت میں فرمایا «وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّـهِ» [42-اشوریٰ:40] ‏ ” اس کا اجر خدا کے ہاں ملے گا “۔

ایک اور آیت میں ہے «وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ» [5-المائدہ:45] ‏ ” زخموں کا قصاص ہے لیکن جو درگزر کر جائے اس کے گناہوں کی معافی ہے “۔

پس عدل تو فرض، احسان نفل اور کلمہ تو حید کی شہادت بھی عدل ہے۔ ظاہر باطن کی پاکیزگی بھی عدل ہے اور احسان یہ ہے کہ پاکی صفائی ظاہر سے بھی زیادہ ہو۔ اور فحشاء اور منکر یہ ہے کہ باطن میں کھوٹ ہو اور ظاہر میں بناوٹ ہو۔ وہ صلہ رحمی کا بھی حکم دیتا ہے۔ جیسے صاف لفظوں میں ارشاد آیت «وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا» [17-الإسراء:26] ‏، ” رشتے داروں، مسکینوں، مسافروں کو ان کا حق دو اور بے جا خرچ نہ کرو “۔ محرمات سے وہ تمہیں روکتا ہے، برائیوں سے منع کرتا ہے ظاہری باطنی تمام برائیاں حرام ہیں، لوگوں پر ظلم و زیادتی حرام ہے۔

حدیث میں ہے کہ کوئی گناہ ظلم و زیادتی اور قطع رحمی سے بڑھ کر ایسا نہیں کہ دنیا میں بھی جلدی ہی اس کا بدلہ ملے اور اخرت میں بھی سخت پکڑ ہو ۔ [سنن ابوداود:4902، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اللہ کے یہ احکام اور یہ نواہی تمہاری نصیحت کے لیے ہیں جو اچھی عادتیں ہیں، ان کا حکم قرآن نے دیا ہے «قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ» [7-الأعراف:33] ‏ اور جو بری خصلتیں لوگوں میں ہیں ان سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا ہے، بد خلقی اور برائی سے اس نے ممانعت کر دی ہے۔

حدیث شریف میں ہے بہترین اخلاق اللہ کو پسند ہیں اور بد خلقی کو وہ مکروہ رکھتا ہے ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1378] ‏

صفحہ نمبر4511

اکثم بن صیفی کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت اطلاع ہوئی تو اس نے خدمت نبوی میں حاضر ہونے کی ٹھان لی لیکن اس کی قوم اس کے سر ہوگئی اور اسے روک لیا اس نے کہا اچھا مجھے نہیں جانے دیتے تو قاصد لاؤ جنہیں میں وہاں بھیجوں۔

دو شخص اس خدمت کی انجام دہی کے لیے تیار ہوئے یہاں آکر انہوں نے کہا کہ ہم اکثم بن صیفی کے قاصد ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں اور کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ میں محمد بن عبداللہ ہوں صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت انہیں پڑھ کر سنائی انہوں نے کہا دوبارہ پڑھئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پڑھی، یہاں تک کہ انہوں نے یاد کرلی۔

پھر واپس جا کر اکثم کو خبر دی اور کہا اپنے نسب پر اس نے کوئی فخر نہیں کیا۔ صرف اپنا اور اپنے والد کا نام بتا دیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہیں وہ بڑے نسب والے، مضر میں اعلی خاندان کے ہیں اور پھر یہ کلمات ہمیں تعلیم فرمائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ہم نے سنے۔ یہ سن کر اکثم نے کہا وہ تو بڑی اچھی اور اعلی باتیں سکھاتے ہیں اور بری اور سفلی باتوں سے روکتے ہیں۔ میرے قبیلے کے لوگو تم اسلام کی طرف سبقت کرو تاکہ تم دوسروں پر سرداری کرو اور دوسروں کے ہاتھوں میں دمیں بن کر نہ رہ جاؤ۔

صفحہ نمبر4512

اس آیت کے شان نزول میں ایک حسن حدیث مسند امام احمد میں وارد ہوئی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگنائی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھتے نہیں ہو؟ وہ بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوکر باتیں کر رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دفعتہً اپنی نظریں آسمان کی جانب اٹھائیں کچھ دیر اوپر ہی کو دیکھتے رہے، پھر نگاہیں آہستہ آہستہ نیچی کیں اور اپنی دائیں جانب زمین کی طرف دیکھنے لگے اور اسی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخ بھی کرلیا اور اس طرح سر ہلانے لگے گویا کسی سے کچھ سمجھ رہے ہیں اور کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کہہ رہا ہے تھوڑی دیر تک یہی حالت طاری رہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہیں اونچی کرنی شروع کیں، یہاں تک کہ آسمان تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں پہنچیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھیک ٹھاک ہوگئے اور اسی پہلی بیٹھک پر عثمان کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھ گئے۔ وہ یہ سب دیکھ رہا تھا، اس سے صبر نہ ہو سکا، پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کئی بار بیٹھنے کا اتفاق ہوا لیکن آج جیسا منظر تو کبھی نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم نے کیا دیکھا؟ اس نے کہا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی پھر نیچیں کرلی اور اپنے دائیں طرف دیکھنے لگے اور اسی طرف گھوم کر بیٹھ گئے، مجھے چھوڑ دیا، پھر اس طرح سر ہلانے لگے جیسے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کہہ رہا ہو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اچھی طرح سن سمجھ رہے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم نے یہ سب کچھ دیکھا؟ اس نے کہا برابر دیکھتا ہی رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس اللہ کا نازل کردہ فرشتہ وحی لے کر آیا تھا ، اس نے کہا اللہ کا بھیجا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ہاں اللہ کا بھیجا ہوا ۔ پوچھا پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھ سنائی۔ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسی وقت میرے دل میں ایمان بیٹھ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے میرے دل میں گھر کرلیا ۔ [مسند احمد:318/1:ضعیف] ‏

ایک اور روایت میں عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہیں اوپر کو اٹھائیں اور فرمایا: جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اس آیت کو اس سورت کی اس جگہ رکھوں ۔ [مسند احمد:218/4:ضعیف] ‏ یہ روایت بھی صحیح ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4513

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com