John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Taa-Haa

Tafsir Ibn Kathir · Taa-Haa · 135 ayat · ayat 61–90 · Quran text →

مقابلہ اور نتیجہ ٭٭

جب کہ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ دن وقت اور جگہ بھی مقرر ہو گئی تو فرعون نے ادھر ادھر سے جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا۔ اس زمانے میں جادو کا بہت زور تھا اور بڑے بڑے جادوگر موجود تھے۔ فرعون نے عام طور سے حکم جاری کر دیا تھا کہ تمام ہوشیار جادوگروں کو میرے پاس بھیج دو۔ مقررہ وقت تک تمام جادوگر جمع ہو گئے۔ فرعون نے اسی میدان میں اپنا تخت نکلوایا اس پر بیٹھا۔ تمام امراء وزراء اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے، رعایا سب جمع ہو گئی، جادوگروں کی جماعت صفیں باندھے تخت کے آگے کھڑی ہو گئیں۔

فرعون نے ان کی کمر ٹھونکنی شروع کی اور کہا، دیکھو آج اپنا وہ ہنر دکھاؤ کہ دنیا میں یادگار رہ جائے۔ جادوگروں نے کہا کہ اگر ہم بازی لے جائیں تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟ کہا کیوں نہیں؟ میں تو تمہیں اپنا خاص درباری بنا لوں گا۔ ادھر سے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تبلیغ شروع کی کہ دیکھو اللہ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ شامت اعمال برباد کر دے گی۔ لوگوں کی آنکھوں میں خاک نہ جھونکو کہ درحقیقت کچھ نہ ہو اور تم اپنے جادو سے بہت کچھ دکھا دو۔ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں جو فی الواقع کسی چیز کو پیدا کر سکے۔ یاد رکھو ایسے جھوٹے بہتانی لوگ فلاح نہیں پاتے۔ یہ سن کر ان میں آپس میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔

صفحہ نمبر5275

بعض تو سمجھ گئے اور کہنے لگے یہ کلام جادوگروں کا نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کے رسول ہیں۔ بعض نے کہا نہیں بلکہ یہ جادوگر ہیں مقابلہ کرو۔ یہ باتیں بہت ہی احتیاط اور راز سے کی گئیں۔ «‏إِنْ هَٰذَانِ» کی دوسری قرأت «اِنَّ ھٰذَیْنِ» بھی ہے، مطلب اور معنی دونوں قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ اب با آواز بلند کہنے لگے کہ یہ دونوں بھائی سیانے اور پہنچے ہوئے جادوگر ہیں۔ اس وقت تک تو تمہاری ہوا بندھی ہوئی ہے، بادشاہ کا قرب نصیب ہے، مال و دولت قدموں تلے لوٹ رہا ہے لیکن آج اگر یہ بازی لے گئے تو ظاہر ہے کہ ریاست ان ہی کی ہو جائے گی۔ تمہیں ملک سے نکال دیں گے، عوام ان کے ماتحت ہو جائیں گے، ان کا زور بند بندھ جائے گا، یہ بادشاہت چھین لیں گے اور ساتھ ہی تمہارے مذہب کو ملیا میٹ کر دیں گے۔ بادشاہت، عیش و آرام سب چیزیں تم سے چھن جائیں گی۔

شرافت، عقلمندی، ریاست سب ان کے قبضے میں آ جائے گی، تم یونہی بھٹے بھونتے رہ جاؤ گے۔ تمہارے اشراف ذلیل ہو جائیں گے، امیر فقیر بن جائیں گے، ساری رونق اور بہار جاتی رہے گی۔ بنی اسرائیل جو تمہارے لونڈی غلام بنے ہوئے ہیں، یہ سب ان کے ساتھ ہو جائیں گے اور تمہاری حکومت پاش پاش ہو جائے گی۔ تم سب اتفاق کر لو۔ ان کے مقابلے میں صف بندی کر کے اپنا کوئی فن باقی نہ رکھو، جی کھول کر ہوشیاری اور دانائی سے اپنے جادو کے زور سے اسے دبا لو۔ ایک ہی دفعہ ہر استاد اپنی کاری گری دکھا دے تاکہ میدان ہمارے جادو سے پر ہو جائے۔ دیکھو اگر وہ جیت گیا تو یہ ریاست اسی کی ہو جائے گی اور اگر ہم غالب آ گئے تو تم سن چکے ہو کہ بادشاہ ہمیں اپنا مقرب اور دربار خاص کے اراکین بنا دے گا۔

صفحہ نمبر5276

مقابلہ اور نتیجہ ٭٭

جب کہ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ دن وقت اور جگہ بھی مقرر ہو گئی تو فرعون نے ادھر ادھر سے جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا۔ اس زمانے میں جادو کا بہت زور تھا اور بڑے بڑے جادوگر موجود تھے۔ فرعون نے عام طور سے حکم جاری کر دیا تھا کہ تمام ہوشیار جادوگروں کو میرے پاس بھیج دو۔ مقررہ وقت تک تمام جادوگر جمع ہو گئے۔ فرعون نے اسی میدان میں اپنا تخت نکلوایا اس پر بیٹھا۔ تمام امراء وزراء اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے، رعایا سب جمع ہو گئی، جادوگروں کی جماعت صفیں باندھے تخت کے آگے کھڑی ہو گئیں۔

فرعون نے ان کی کمر ٹھونکنی شروع کی اور کہا، دیکھو آج اپنا وہ ہنر دکھاؤ کہ دنیا میں یادگار رہ جائے۔ جادوگروں نے کہا کہ اگر ہم بازی لے جائیں تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟ کہا کیوں نہیں؟ میں تو تمہیں اپنا خاص درباری بنا لوں گا۔ ادھر سے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تبلیغ شروع کی کہ دیکھو اللہ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ شامت اعمال برباد کر دے گی۔ لوگوں کی آنکھوں میں خاک نہ جھونکو کہ درحقیقت کچھ نہ ہو اور تم اپنے جادو سے بہت کچھ دکھا دو۔ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں جو فی الواقع کسی چیز کو پیدا کر سکے۔ یاد رکھو ایسے جھوٹے بہتانی لوگ فلاح نہیں پاتے۔ یہ سن کر ان میں آپس میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔

صفحہ نمبر5275

بعض تو سمجھ گئے اور کہنے لگے یہ کلام جادوگروں کا نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کے رسول ہیں۔ بعض نے کہا نہیں بلکہ یہ جادوگر ہیں مقابلہ کرو۔ یہ باتیں بہت ہی احتیاط اور راز سے کی گئیں۔ «‏إِنْ هَٰذَانِ» کی دوسری قرأت «اِنَّ ھٰذَیْنِ» بھی ہے، مطلب اور معنی دونوں قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ اب با آواز بلند کہنے لگے کہ یہ دونوں بھائی سیانے اور پہنچے ہوئے جادوگر ہیں۔ اس وقت تک تو تمہاری ہوا بندھی ہوئی ہے، بادشاہ کا قرب نصیب ہے، مال و دولت قدموں تلے لوٹ رہا ہے لیکن آج اگر یہ بازی لے گئے تو ظاہر ہے کہ ریاست ان ہی کی ہو جائے گی۔ تمہیں ملک سے نکال دیں گے، عوام ان کے ماتحت ہو جائیں گے، ان کا زور بند بندھ جائے گا، یہ بادشاہت چھین لیں گے اور ساتھ ہی تمہارے مذہب کو ملیا میٹ کر دیں گے۔ بادشاہت، عیش و آرام سب چیزیں تم سے چھن جائیں گی۔

شرافت، عقلمندی، ریاست سب ان کے قبضے میں آ جائے گی، تم یونہی بھٹے بھونتے رہ جاؤ گے۔ تمہارے اشراف ذلیل ہو جائیں گے، امیر فقیر بن جائیں گے، ساری رونق اور بہار جاتی رہے گی۔ بنی اسرائیل جو تمہارے لونڈی غلام بنے ہوئے ہیں، یہ سب ان کے ساتھ ہو جائیں گے اور تمہاری حکومت پاش پاش ہو جائے گی۔ تم سب اتفاق کر لو۔ ان کے مقابلے میں صف بندی کر کے اپنا کوئی فن باقی نہ رکھو، جی کھول کر ہوشیاری اور دانائی سے اپنے جادو کے زور سے اسے دبا لو۔ ایک ہی دفعہ ہر استاد اپنی کاری گری دکھا دے تاکہ میدان ہمارے جادو سے پر ہو جائے۔ دیکھو اگر وہ جیت گیا تو یہ ریاست اسی کی ہو جائے گی اور اگر ہم غالب آ گئے تو تم سن چکے ہو کہ بادشاہ ہمیں اپنا مقرب اور دربار خاص کے اراکین بنا دے گا۔

صفحہ نمبر5276

مقابلہ اور نتیجہ ٭٭

جب کہ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ دن وقت اور جگہ بھی مقرر ہو گئی تو فرعون نے ادھر ادھر سے جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا۔ اس زمانے میں جادو کا بہت زور تھا اور بڑے بڑے جادوگر موجود تھے۔ فرعون نے عام طور سے حکم جاری کر دیا تھا کہ تمام ہوشیار جادوگروں کو میرے پاس بھیج دو۔ مقررہ وقت تک تمام جادوگر جمع ہو گئے۔ فرعون نے اسی میدان میں اپنا تخت نکلوایا اس پر بیٹھا۔ تمام امراء وزراء اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے، رعایا سب جمع ہو گئی، جادوگروں کی جماعت صفیں باندھے تخت کے آگے کھڑی ہو گئیں۔

فرعون نے ان کی کمر ٹھونکنی شروع کی اور کہا، دیکھو آج اپنا وہ ہنر دکھاؤ کہ دنیا میں یادگار رہ جائے۔ جادوگروں نے کہا کہ اگر ہم بازی لے جائیں تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟ کہا کیوں نہیں؟ میں تو تمہیں اپنا خاص درباری بنا لوں گا۔ ادھر سے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تبلیغ شروع کی کہ دیکھو اللہ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ شامت اعمال برباد کر دے گی۔ لوگوں کی آنکھوں میں خاک نہ جھونکو کہ درحقیقت کچھ نہ ہو اور تم اپنے جادو سے بہت کچھ دکھا دو۔ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں جو فی الواقع کسی چیز کو پیدا کر سکے۔ یاد رکھو ایسے جھوٹے بہتانی لوگ فلاح نہیں پاتے۔ یہ سن کر ان میں آپس میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔

صفحہ نمبر5275

بعض تو سمجھ گئے اور کہنے لگے یہ کلام جادوگروں کا نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کے رسول ہیں۔ بعض نے کہا نہیں بلکہ یہ جادوگر ہیں مقابلہ کرو۔ یہ باتیں بہت ہی احتیاط اور راز سے کی گئیں۔ «‏إِنْ هَٰذَانِ» کی دوسری قرأت «اِنَّ ھٰذَیْنِ» بھی ہے، مطلب اور معنی دونوں قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ اب با آواز بلند کہنے لگے کہ یہ دونوں بھائی سیانے اور پہنچے ہوئے جادوگر ہیں۔ اس وقت تک تو تمہاری ہوا بندھی ہوئی ہے، بادشاہ کا قرب نصیب ہے، مال و دولت قدموں تلے لوٹ رہا ہے لیکن آج اگر یہ بازی لے گئے تو ظاہر ہے کہ ریاست ان ہی کی ہو جائے گی۔ تمہیں ملک سے نکال دیں گے، عوام ان کے ماتحت ہو جائیں گے، ان کا زور بند بندھ جائے گا، یہ بادشاہت چھین لیں گے اور ساتھ ہی تمہارے مذہب کو ملیا میٹ کر دیں گے۔ بادشاہت، عیش و آرام سب چیزیں تم سے چھن جائیں گی۔

شرافت، عقلمندی، ریاست سب ان کے قبضے میں آ جائے گی، تم یونہی بھٹے بھونتے رہ جاؤ گے۔ تمہارے اشراف ذلیل ہو جائیں گے، امیر فقیر بن جائیں گے، ساری رونق اور بہار جاتی رہے گی۔ بنی اسرائیل جو تمہارے لونڈی غلام بنے ہوئے ہیں، یہ سب ان کے ساتھ ہو جائیں گے اور تمہاری حکومت پاش پاش ہو جائے گی۔ تم سب اتفاق کر لو۔ ان کے مقابلے میں صف بندی کر کے اپنا کوئی فن باقی نہ رکھو، جی کھول کر ہوشیاری اور دانائی سے اپنے جادو کے زور سے اسے دبا لو۔ ایک ہی دفعہ ہر استاد اپنی کاری گری دکھا دے تاکہ میدان ہمارے جادو سے پر ہو جائے۔ دیکھو اگر وہ جیت گیا تو یہ ریاست اسی کی ہو جائے گی اور اگر ہم غالب آ گئے تو تم سن چکے ہو کہ بادشاہ ہمیں اپنا مقرب اور دربار خاص کے اراکین بنا دے گا۔

صفحہ نمبر5276

مقابلہ اور نتیجہ ٭٭

جب کہ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ دن وقت اور جگہ بھی مقرر ہو گئی تو فرعون نے ادھر ادھر سے جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا۔ اس زمانے میں جادو کا بہت زور تھا اور بڑے بڑے جادوگر موجود تھے۔ فرعون نے عام طور سے حکم جاری کر دیا تھا کہ تمام ہوشیار جادوگروں کو میرے پاس بھیج دو۔ مقررہ وقت تک تمام جادوگر جمع ہو گئے۔ فرعون نے اسی میدان میں اپنا تخت نکلوایا اس پر بیٹھا۔ تمام امراء وزراء اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے، رعایا سب جمع ہو گئی، جادوگروں کی جماعت صفیں باندھے تخت کے آگے کھڑی ہو گئیں۔

فرعون نے ان کی کمر ٹھونکنی شروع کی اور کہا، دیکھو آج اپنا وہ ہنر دکھاؤ کہ دنیا میں یادگار رہ جائے۔ جادوگروں نے کہا کہ اگر ہم بازی لے جائیں تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟ کہا کیوں نہیں؟ میں تو تمہیں اپنا خاص درباری بنا لوں گا۔ ادھر سے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تبلیغ شروع کی کہ دیکھو اللہ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ شامت اعمال برباد کر دے گی۔ لوگوں کی آنکھوں میں خاک نہ جھونکو کہ درحقیقت کچھ نہ ہو اور تم اپنے جادو سے بہت کچھ دکھا دو۔ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں جو فی الواقع کسی چیز کو پیدا کر سکے۔ یاد رکھو ایسے جھوٹے بہتانی لوگ فلاح نہیں پاتے۔ یہ سن کر ان میں آپس میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔

صفحہ نمبر5275

بعض تو سمجھ گئے اور کہنے لگے یہ کلام جادوگروں کا نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کے رسول ہیں۔ بعض نے کہا نہیں بلکہ یہ جادوگر ہیں مقابلہ کرو۔ یہ باتیں بہت ہی احتیاط اور راز سے کی گئیں۔ «‏إِنْ هَٰذَانِ» کی دوسری قرأت «اِنَّ ھٰذَیْنِ» بھی ہے، مطلب اور معنی دونوں قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ اب با آواز بلند کہنے لگے کہ یہ دونوں بھائی سیانے اور پہنچے ہوئے جادوگر ہیں۔ اس وقت تک تو تمہاری ہوا بندھی ہوئی ہے، بادشاہ کا قرب نصیب ہے، مال و دولت قدموں تلے لوٹ رہا ہے لیکن آج اگر یہ بازی لے گئے تو ظاہر ہے کہ ریاست ان ہی کی ہو جائے گی۔ تمہیں ملک سے نکال دیں گے، عوام ان کے ماتحت ہو جائیں گے، ان کا زور بند بندھ جائے گا، یہ بادشاہت چھین لیں گے اور ساتھ ہی تمہارے مذہب کو ملیا میٹ کر دیں گے۔ بادشاہت، عیش و آرام سب چیزیں تم سے چھن جائیں گی۔

شرافت، عقلمندی، ریاست سب ان کے قبضے میں آ جائے گی، تم یونہی بھٹے بھونتے رہ جاؤ گے۔ تمہارے اشراف ذلیل ہو جائیں گے، امیر فقیر بن جائیں گے، ساری رونق اور بہار جاتی رہے گی۔ بنی اسرائیل جو تمہارے لونڈی غلام بنے ہوئے ہیں، یہ سب ان کے ساتھ ہو جائیں گے اور تمہاری حکومت پاش پاش ہو جائے گی۔ تم سب اتفاق کر لو۔ ان کے مقابلے میں صف بندی کر کے اپنا کوئی فن باقی نہ رکھو، جی کھول کر ہوشیاری اور دانائی سے اپنے جادو کے زور سے اسے دبا لو۔ ایک ہی دفعہ ہر استاد اپنی کاری گری دکھا دے تاکہ میدان ہمارے جادو سے پر ہو جائے۔ دیکھو اگر وہ جیت گیا تو یہ ریاست اسی کی ہو جائے گی اور اگر ہم غالب آ گئے تو تم سن چکے ہو کہ بادشاہ ہمیں اپنا مقرب اور دربار خاص کے اراکین بنا دے گا۔

صفحہ نمبر5276

مقابلہ شروع ہوا ٭٭

جادوگروں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اب بتاؤ، تم اپنا وار پہلے کرتے ہو یا ہم پہل کریں؟ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا، تم ہی پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکال لو تاکہ دنیا دیکھ لے کہ تم نے کیا کیا؟ اور پھر اللہ نے تمہارے کئے کو کس طرح مٹا دیا؟ «‏فَأَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ» [26-الشعراء:44] ‏

اسی وقت انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں۔ کچھ ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا وہ سانپ بن کر چل پھر رہی ہیں اور میدان میں دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ کہنے لگے فرعون کے اقبال سے غالب ہم ہی رہیں گے، «سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» [7-الأعراف:116] ‏

لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر کے انہیں خوفزدہ کر دیا اور جادو کے زبردست کرتب دکھا دیئے۔ یہ لوگ بہت زیادہ تھے۔ ان کی پھینکی ہوئی رسیوں اور لاٹھیوں سے اب سارے کا سارا میدان سانپوں سے پر ہو گیا، وہ آپس میں گڈ مڈ ہو کر اوپر تلے ہونے لگے۔ اس منظر نے موسیٰ علیہ السلام کو خوفزدہ کر دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو لوگ ان کے کرتب کے قائل ہو جائیں اور اس باطل میں پھنس جائیں۔ اسی وقت جناب باری نے وحی نازل فرمائی کہ اپنے داہنے ہاتھ کی لکڑی کو میدان میں ڈال دو، ہراساں نہ ہو۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی۔ اللہ کے حکم سے یہ لکڑی ایک زبردست بیمثال اژدھا بن گئی، جس کے پیر بھی تھے اور سر بھی تھا۔ کچلیاں اور دانت بھی تھے۔ اس نے سب کے دیکھتے سارے میدان کو صاف کر دیا۔ اس نے جادوگروں کے جتنے کرتب تھے، سب کو ہڑپ کر لیا۔ اب سب پر حق واضح ہو گیا، معجزے اور جادو میں تمیز ہو گئی۔ حق و باطل میں پہچان ہو گئی۔ سب نے جان لیا کہ جادوگروں کی بناوٹ میں اصلیت کچھ بھی نہ تھی۔ فی الواقع جادوگر کوئی چال چلیں لیکن اس میں غالب نہیں آ سکتے۔

صفحہ نمبر5281

ابن ابی حاتم میں حدیث ہے، ترمذی میں بھی موقوفاً اور مرفوعاً مروی ہے کہ جادوگر کو جہاں پکڑو، مار ڈالو۔ [سنن ترمذي:1460،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

پھر آپ نے یہی جملہ تلاوت فرمایا۔ یعنی جہاں پایا جائے امن نہ دیا جائے۔ جادوگروں نے جب یہ دیکھا، انہیں یقین ہو گیا کہ یہ کام انسانی طاقت سے خارج ہے۔ وہ جادو کے فن میں ماہر تھے، بہ یک نگاہ پہچان گئے کہ واقعی یہ اس اللہ کا کام ہے جسکے فرمان اٹل ہیں، جو کچھ وہ چاہے اس کے حکم سے ہو جاتا ہے۔ اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں۔ اس کا اتنا کامل یقین انہیں ہو گیا کہ اسی وقت اسی میدان میں سب کے سامنے بادشاہ کی موجودگی میں وہ اللہ کے سامنے سر بہ سجود ہو گئے اور پکار اٹھے کہ «قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» ‏ [26-الشعراء:47-48] ‏ ” ہم رب العالمین پر یعنی ہارون اور موسیٰ علیہما السلام کے پروردگار پر ایمان لائے۔ “

سبحان اللہ! صبح کے وقت کافر اور جادوگر تھے اور شام کو پاکباز مومن اور اللہ کی راہ کے شہید تھے۔ کہتے ہیں کہ ان کی تعداد اسی ہزار تھی یا ستر ہزار یا کچھ اوپر تیس ہزار یا انیس ہزار یا پندرہ ہزار یا بارہ ہزار۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ ستر تھے۔ صبح جادوگر، شام کو شہید۔ مروی ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے، اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت دکھا دی اور انہوں نے اپنی منزلیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔

صفحہ نمبر5282

مقابلہ شروع ہوا ٭٭

جادوگروں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اب بتاؤ، تم اپنا وار پہلے کرتے ہو یا ہم پہل کریں؟ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا، تم ہی پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکال لو تاکہ دنیا دیکھ لے کہ تم نے کیا کیا؟ اور پھر اللہ نے تمہارے کئے کو کس طرح مٹا دیا؟ «‏فَأَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ» [26-الشعراء:44] ‏

اسی وقت انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں۔ کچھ ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا وہ سانپ بن کر چل پھر رہی ہیں اور میدان میں دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ کہنے لگے فرعون کے اقبال سے غالب ہم ہی رہیں گے، «سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» [7-الأعراف:116] ‏

لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر کے انہیں خوفزدہ کر دیا اور جادو کے زبردست کرتب دکھا دیئے۔ یہ لوگ بہت زیادہ تھے۔ ان کی پھینکی ہوئی رسیوں اور لاٹھیوں سے اب سارے کا سارا میدان سانپوں سے پر ہو گیا، وہ آپس میں گڈ مڈ ہو کر اوپر تلے ہونے لگے۔ اس منظر نے موسیٰ علیہ السلام کو خوفزدہ کر دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو لوگ ان کے کرتب کے قائل ہو جائیں اور اس باطل میں پھنس جائیں۔ اسی وقت جناب باری نے وحی نازل فرمائی کہ اپنے داہنے ہاتھ کی لکڑی کو میدان میں ڈال دو، ہراساں نہ ہو۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی۔ اللہ کے حکم سے یہ لکڑی ایک زبردست بیمثال اژدھا بن گئی، جس کے پیر بھی تھے اور سر بھی تھا۔ کچلیاں اور دانت بھی تھے۔ اس نے سب کے دیکھتے سارے میدان کو صاف کر دیا۔ اس نے جادوگروں کے جتنے کرتب تھے، سب کو ہڑپ کر لیا۔ اب سب پر حق واضح ہو گیا، معجزے اور جادو میں تمیز ہو گئی۔ حق و باطل میں پہچان ہو گئی۔ سب نے جان لیا کہ جادوگروں کی بناوٹ میں اصلیت کچھ بھی نہ تھی۔ فی الواقع جادوگر کوئی چال چلیں لیکن اس میں غالب نہیں آ سکتے۔

صفحہ نمبر5281

ابن ابی حاتم میں حدیث ہے، ترمذی میں بھی موقوفاً اور مرفوعاً مروی ہے کہ جادوگر کو جہاں پکڑو، مار ڈالو۔ [سنن ترمذي:1460،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

پھر آپ نے یہی جملہ تلاوت فرمایا۔ یعنی جہاں پایا جائے امن نہ دیا جائے۔ جادوگروں نے جب یہ دیکھا، انہیں یقین ہو گیا کہ یہ کام انسانی طاقت سے خارج ہے۔ وہ جادو کے فن میں ماہر تھے، بہ یک نگاہ پہچان گئے کہ واقعی یہ اس اللہ کا کام ہے جسکے فرمان اٹل ہیں، جو کچھ وہ چاہے اس کے حکم سے ہو جاتا ہے۔ اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں۔ اس کا اتنا کامل یقین انہیں ہو گیا کہ اسی وقت اسی میدان میں سب کے سامنے بادشاہ کی موجودگی میں وہ اللہ کے سامنے سر بہ سجود ہو گئے اور پکار اٹھے کہ «قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» ‏ [26-الشعراء:47-48] ‏ ” ہم رب العالمین پر یعنی ہارون اور موسیٰ علیہما السلام کے پروردگار پر ایمان لائے۔ “

سبحان اللہ! صبح کے وقت کافر اور جادوگر تھے اور شام کو پاکباز مومن اور اللہ کی راہ کے شہید تھے۔ کہتے ہیں کہ ان کی تعداد اسی ہزار تھی یا ستر ہزار یا کچھ اوپر تیس ہزار یا انیس ہزار یا پندرہ ہزار یا بارہ ہزار۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ ستر تھے۔ صبح جادوگر، شام کو شہید۔ مروی ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے، اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت دکھا دی اور انہوں نے اپنی منزلیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔

صفحہ نمبر5282

مقابلہ شروع ہوا ٭٭

جادوگروں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اب بتاؤ، تم اپنا وار پہلے کرتے ہو یا ہم پہل کریں؟ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا، تم ہی پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکال لو تاکہ دنیا دیکھ لے کہ تم نے کیا کیا؟ اور پھر اللہ نے تمہارے کئے کو کس طرح مٹا دیا؟ «‏فَأَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ» [26-الشعراء:44] ‏

اسی وقت انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں۔ کچھ ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا وہ سانپ بن کر چل پھر رہی ہیں اور میدان میں دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ کہنے لگے فرعون کے اقبال سے غالب ہم ہی رہیں گے، «سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» [7-الأعراف:116] ‏

لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر کے انہیں خوفزدہ کر دیا اور جادو کے زبردست کرتب دکھا دیئے۔ یہ لوگ بہت زیادہ تھے۔ ان کی پھینکی ہوئی رسیوں اور لاٹھیوں سے اب سارے کا سارا میدان سانپوں سے پر ہو گیا، وہ آپس میں گڈ مڈ ہو کر اوپر تلے ہونے لگے۔ اس منظر نے موسیٰ علیہ السلام کو خوفزدہ کر دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو لوگ ان کے کرتب کے قائل ہو جائیں اور اس باطل میں پھنس جائیں۔ اسی وقت جناب باری نے وحی نازل فرمائی کہ اپنے داہنے ہاتھ کی لکڑی کو میدان میں ڈال دو، ہراساں نہ ہو۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی۔ اللہ کے حکم سے یہ لکڑی ایک زبردست بیمثال اژدھا بن گئی، جس کے پیر بھی تھے اور سر بھی تھا۔ کچلیاں اور دانت بھی تھے۔ اس نے سب کے دیکھتے سارے میدان کو صاف کر دیا۔ اس نے جادوگروں کے جتنے کرتب تھے، سب کو ہڑپ کر لیا۔ اب سب پر حق واضح ہو گیا، معجزے اور جادو میں تمیز ہو گئی۔ حق و باطل میں پہچان ہو گئی۔ سب نے جان لیا کہ جادوگروں کی بناوٹ میں اصلیت کچھ بھی نہ تھی۔ فی الواقع جادوگر کوئی چال چلیں لیکن اس میں غالب نہیں آ سکتے۔

صفحہ نمبر5281

ابن ابی حاتم میں حدیث ہے، ترمذی میں بھی موقوفاً اور مرفوعاً مروی ہے کہ جادوگر کو جہاں پکڑو، مار ڈالو۔ [سنن ترمذي:1460،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

پھر آپ نے یہی جملہ تلاوت فرمایا۔ یعنی جہاں پایا جائے امن نہ دیا جائے۔ جادوگروں نے جب یہ دیکھا، انہیں یقین ہو گیا کہ یہ کام انسانی طاقت سے خارج ہے۔ وہ جادو کے فن میں ماہر تھے، بہ یک نگاہ پہچان گئے کہ واقعی یہ اس اللہ کا کام ہے جسکے فرمان اٹل ہیں، جو کچھ وہ چاہے اس کے حکم سے ہو جاتا ہے۔ اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں۔ اس کا اتنا کامل یقین انہیں ہو گیا کہ اسی وقت اسی میدان میں سب کے سامنے بادشاہ کی موجودگی میں وہ اللہ کے سامنے سر بہ سجود ہو گئے اور پکار اٹھے کہ «قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» ‏ [26-الشعراء:47-48] ‏ ” ہم رب العالمین پر یعنی ہارون اور موسیٰ علیہما السلام کے پروردگار پر ایمان لائے۔ “

سبحان اللہ! صبح کے وقت کافر اور جادوگر تھے اور شام کو پاکباز مومن اور اللہ کی راہ کے شہید تھے۔ کہتے ہیں کہ ان کی تعداد اسی ہزار تھی یا ستر ہزار یا کچھ اوپر تیس ہزار یا انیس ہزار یا پندرہ ہزار یا بارہ ہزار۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ ستر تھے۔ صبح جادوگر، شام کو شہید۔ مروی ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے، اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت دکھا دی اور انہوں نے اپنی منزلیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔

صفحہ نمبر5282

مقابلہ شروع ہوا ٭٭

جادوگروں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اب بتاؤ، تم اپنا وار پہلے کرتے ہو یا ہم پہل کریں؟ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا، تم ہی پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکال لو تاکہ دنیا دیکھ لے کہ تم نے کیا کیا؟ اور پھر اللہ نے تمہارے کئے کو کس طرح مٹا دیا؟ «‏فَأَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ» [26-الشعراء:44] ‏

اسی وقت انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں۔ کچھ ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا وہ سانپ بن کر چل پھر رہی ہیں اور میدان میں دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ کہنے لگے فرعون کے اقبال سے غالب ہم ہی رہیں گے، «سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» [7-الأعراف:116] ‏

لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر کے انہیں خوفزدہ کر دیا اور جادو کے زبردست کرتب دکھا دیئے۔ یہ لوگ بہت زیادہ تھے۔ ان کی پھینکی ہوئی رسیوں اور لاٹھیوں سے اب سارے کا سارا میدان سانپوں سے پر ہو گیا، وہ آپس میں گڈ مڈ ہو کر اوپر تلے ہونے لگے۔ اس منظر نے موسیٰ علیہ السلام کو خوفزدہ کر دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو لوگ ان کے کرتب کے قائل ہو جائیں اور اس باطل میں پھنس جائیں۔ اسی وقت جناب باری نے وحی نازل فرمائی کہ اپنے داہنے ہاتھ کی لکڑی کو میدان میں ڈال دو، ہراساں نہ ہو۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی۔ اللہ کے حکم سے یہ لکڑی ایک زبردست بیمثال اژدھا بن گئی، جس کے پیر بھی تھے اور سر بھی تھا۔ کچلیاں اور دانت بھی تھے۔ اس نے سب کے دیکھتے سارے میدان کو صاف کر دیا۔ اس نے جادوگروں کے جتنے کرتب تھے، سب کو ہڑپ کر لیا۔ اب سب پر حق واضح ہو گیا، معجزے اور جادو میں تمیز ہو گئی۔ حق و باطل میں پہچان ہو گئی۔ سب نے جان لیا کہ جادوگروں کی بناوٹ میں اصلیت کچھ بھی نہ تھی۔ فی الواقع جادوگر کوئی چال چلیں لیکن اس میں غالب نہیں آ سکتے۔

صفحہ نمبر5281

ابن ابی حاتم میں حدیث ہے، ترمذی میں بھی موقوفاً اور مرفوعاً مروی ہے کہ جادوگر کو جہاں پکڑو، مار ڈالو۔ [سنن ترمذي:1460،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

پھر آپ نے یہی جملہ تلاوت فرمایا۔ یعنی جہاں پایا جائے امن نہ دیا جائے۔ جادوگروں نے جب یہ دیکھا، انہیں یقین ہو گیا کہ یہ کام انسانی طاقت سے خارج ہے۔ وہ جادو کے فن میں ماہر تھے، بہ یک نگاہ پہچان گئے کہ واقعی یہ اس اللہ کا کام ہے جسکے فرمان اٹل ہیں، جو کچھ وہ چاہے اس کے حکم سے ہو جاتا ہے۔ اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں۔ اس کا اتنا کامل یقین انہیں ہو گیا کہ اسی وقت اسی میدان میں سب کے سامنے بادشاہ کی موجودگی میں وہ اللہ کے سامنے سر بہ سجود ہو گئے اور پکار اٹھے کہ «قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» ‏ [26-الشعراء:47-48] ‏ ” ہم رب العالمین پر یعنی ہارون اور موسیٰ علیہما السلام کے پروردگار پر ایمان لائے۔ “

سبحان اللہ! صبح کے وقت کافر اور جادوگر تھے اور شام کو پاکباز مومن اور اللہ کی راہ کے شہید تھے۔ کہتے ہیں کہ ان کی تعداد اسی ہزار تھی یا ستر ہزار یا کچھ اوپر تیس ہزار یا انیس ہزار یا پندرہ ہزار یا بارہ ہزار۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ ستر تھے۔ صبح جادوگر، شام کو شہید۔ مروی ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے، اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت دکھا دی اور انہوں نے اپنی منزلیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔

صفحہ نمبر5282

مقابلہ شروع ہوا ٭٭

جادوگروں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اب بتاؤ، تم اپنا وار پہلے کرتے ہو یا ہم پہل کریں؟ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا، تم ہی پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکال لو تاکہ دنیا دیکھ لے کہ تم نے کیا کیا؟ اور پھر اللہ نے تمہارے کئے کو کس طرح مٹا دیا؟ «‏فَأَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ» [26-الشعراء:44] ‏

اسی وقت انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں۔ کچھ ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا وہ سانپ بن کر چل پھر رہی ہیں اور میدان میں دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ کہنے لگے فرعون کے اقبال سے غالب ہم ہی رہیں گے، «سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» [7-الأعراف:116] ‏

لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر کے انہیں خوفزدہ کر دیا اور جادو کے زبردست کرتب دکھا دیئے۔ یہ لوگ بہت زیادہ تھے۔ ان کی پھینکی ہوئی رسیوں اور لاٹھیوں سے اب سارے کا سارا میدان سانپوں سے پر ہو گیا، وہ آپس میں گڈ مڈ ہو کر اوپر تلے ہونے لگے۔ اس منظر نے موسیٰ علیہ السلام کو خوفزدہ کر دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو لوگ ان کے کرتب کے قائل ہو جائیں اور اس باطل میں پھنس جائیں۔ اسی وقت جناب باری نے وحی نازل فرمائی کہ اپنے داہنے ہاتھ کی لکڑی کو میدان میں ڈال دو، ہراساں نہ ہو۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی۔ اللہ کے حکم سے یہ لکڑی ایک زبردست بیمثال اژدھا بن گئی، جس کے پیر بھی تھے اور سر بھی تھا۔ کچلیاں اور دانت بھی تھے۔ اس نے سب کے دیکھتے سارے میدان کو صاف کر دیا۔ اس نے جادوگروں کے جتنے کرتب تھے، سب کو ہڑپ کر لیا۔ اب سب پر حق واضح ہو گیا، معجزے اور جادو میں تمیز ہو گئی۔ حق و باطل میں پہچان ہو گئی۔ سب نے جان لیا کہ جادوگروں کی بناوٹ میں اصلیت کچھ بھی نہ تھی۔ فی الواقع جادوگر کوئی چال چلیں لیکن اس میں غالب نہیں آ سکتے۔

صفحہ نمبر5281

ابن ابی حاتم میں حدیث ہے، ترمذی میں بھی موقوفاً اور مرفوعاً مروی ہے کہ جادوگر کو جہاں پکڑو، مار ڈالو۔ [سنن ترمذي:1460،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

پھر آپ نے یہی جملہ تلاوت فرمایا۔ یعنی جہاں پایا جائے امن نہ دیا جائے۔ جادوگروں نے جب یہ دیکھا، انہیں یقین ہو گیا کہ یہ کام انسانی طاقت سے خارج ہے۔ وہ جادو کے فن میں ماہر تھے، بہ یک نگاہ پہچان گئے کہ واقعی یہ اس اللہ کا کام ہے جسکے فرمان اٹل ہیں، جو کچھ وہ چاہے اس کے حکم سے ہو جاتا ہے۔ اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں۔ اس کا اتنا کامل یقین انہیں ہو گیا کہ اسی وقت اسی میدان میں سب کے سامنے بادشاہ کی موجودگی میں وہ اللہ کے سامنے سر بہ سجود ہو گئے اور پکار اٹھے کہ «قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» ‏ [26-الشعراء:47-48] ‏ ” ہم رب العالمین پر یعنی ہارون اور موسیٰ علیہما السلام کے پروردگار پر ایمان لائے۔ “

سبحان اللہ! صبح کے وقت کافر اور جادوگر تھے اور شام کو پاکباز مومن اور اللہ کی راہ کے شہید تھے۔ کہتے ہیں کہ ان کی تعداد اسی ہزار تھی یا ستر ہزار یا کچھ اوپر تیس ہزار یا انیس ہزار یا پندرہ ہزار یا بارہ ہزار۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ ستر تھے۔ صبح جادوگر، شام کو شہید۔ مروی ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے، اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت دکھا دی اور انہوں نے اپنی منزلیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔

صفحہ نمبر5282

مقابلہ شروع ہوا ٭٭

جادوگروں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اب بتاؤ، تم اپنا وار پہلے کرتے ہو یا ہم پہل کریں؟ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا، تم ہی پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکال لو تاکہ دنیا دیکھ لے کہ تم نے کیا کیا؟ اور پھر اللہ نے تمہارے کئے کو کس طرح مٹا دیا؟ «‏فَأَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ» [26-الشعراء:44] ‏

اسی وقت انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں۔ کچھ ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا وہ سانپ بن کر چل پھر رہی ہیں اور میدان میں دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ کہنے لگے فرعون کے اقبال سے غالب ہم ہی رہیں گے، «سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» [7-الأعراف:116] ‏

لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر کے انہیں خوفزدہ کر دیا اور جادو کے زبردست کرتب دکھا دیئے۔ یہ لوگ بہت زیادہ تھے۔ ان کی پھینکی ہوئی رسیوں اور لاٹھیوں سے اب سارے کا سارا میدان سانپوں سے پر ہو گیا، وہ آپس میں گڈ مڈ ہو کر اوپر تلے ہونے لگے۔ اس منظر نے موسیٰ علیہ السلام کو خوفزدہ کر دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو لوگ ان کے کرتب کے قائل ہو جائیں اور اس باطل میں پھنس جائیں۔ اسی وقت جناب باری نے وحی نازل فرمائی کہ اپنے داہنے ہاتھ کی لکڑی کو میدان میں ڈال دو، ہراساں نہ ہو۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی۔ اللہ کے حکم سے یہ لکڑی ایک زبردست بیمثال اژدھا بن گئی، جس کے پیر بھی تھے اور سر بھی تھا۔ کچلیاں اور دانت بھی تھے۔ اس نے سب کے دیکھتے سارے میدان کو صاف کر دیا۔ اس نے جادوگروں کے جتنے کرتب تھے، سب کو ہڑپ کر لیا۔ اب سب پر حق واضح ہو گیا، معجزے اور جادو میں تمیز ہو گئی۔ حق و باطل میں پہچان ہو گئی۔ سب نے جان لیا کہ جادوگروں کی بناوٹ میں اصلیت کچھ بھی نہ تھی۔ فی الواقع جادوگر کوئی چال چلیں لیکن اس میں غالب نہیں آ سکتے۔

صفحہ نمبر5281

ابن ابی حاتم میں حدیث ہے، ترمذی میں بھی موقوفاً اور مرفوعاً مروی ہے کہ جادوگر کو جہاں پکڑو، مار ڈالو۔ [سنن ترمذي:1460،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

پھر آپ نے یہی جملہ تلاوت فرمایا۔ یعنی جہاں پایا جائے امن نہ دیا جائے۔ جادوگروں نے جب یہ دیکھا، انہیں یقین ہو گیا کہ یہ کام انسانی طاقت سے خارج ہے۔ وہ جادو کے فن میں ماہر تھے، بہ یک نگاہ پہچان گئے کہ واقعی یہ اس اللہ کا کام ہے جسکے فرمان اٹل ہیں، جو کچھ وہ چاہے اس کے حکم سے ہو جاتا ہے۔ اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں۔ اس کا اتنا کامل یقین انہیں ہو گیا کہ اسی وقت اسی میدان میں سب کے سامنے بادشاہ کی موجودگی میں وہ اللہ کے سامنے سر بہ سجود ہو گئے اور پکار اٹھے کہ «قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» ‏ [26-الشعراء:47-48] ‏ ” ہم رب العالمین پر یعنی ہارون اور موسیٰ علیہما السلام کے پروردگار پر ایمان لائے۔ “

سبحان اللہ! صبح کے وقت کافر اور جادوگر تھے اور شام کو پاکباز مومن اور اللہ کی راہ کے شہید تھے۔ کہتے ہیں کہ ان کی تعداد اسی ہزار تھی یا ستر ہزار یا کچھ اوپر تیس ہزار یا انیس ہزار یا پندرہ ہزار یا بارہ ہزار۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ ستر تھے۔ صبح جادوگر، شام کو شہید۔ مروی ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے، اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت دکھا دی اور انہوں نے اپنی منزلیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔

صفحہ نمبر5282

نتیجہ موسیٰ علیہ السلام کی صداقت کا گواہ بنا ٭٭

اللہ کی شان دیکھئے! چاہیئے تو یہ تھا کہ فرعون اب راہ راست پر آ جاتا۔ جن کو اس نے مقابلے کیلئے بلوایا تھا وہ عام مجمع میں ہارے۔ انہوں نے اپنی ہار مان لی، اپنے کرتوت کو جادو اور موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء کردہ معجزہ تسلیم کر لیا۔ خود وہ ایمان لے آئے جو مقابلے کے لیے بلوائے گئے تھے۔ مجمع عام میں سب کے سامنے بے جھجک انہوں نے دین حق کو قبول کر لیا۔ لیکن یہ اپنی شیطنیت میں اور بڑھ گیا اور اپنی قوت وطاقت دکھانے لگا لیکن بھلا حق والے مادی طاقتوں کو سمجھتے ہی کیا ہیں؟ «قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنتُم بِهِ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ» ‏ [7-الأعراف:123] ‏

پہلے تو جادوگروں کے اس مسلم گروہ سے کہنے لگا کہ میری اجازت کے بغیر تم اس پر ایمان کیوں لائے؟ پھر ایسا بہتان باندھا جس کا جھوٹ ہونا بالکل واضح ہے کہ موسیٰ علیہ السلام تو تمہارے استاد ہیں انہی سے تم نے جادو سیکھا ہے۔ تم سب آپس میں ایک ہی ہو، مشورہ کر کے ہمیں تاراج کرنے کے لیے تم نے پہلے انہیں بھیجا پھر اس کے مقابلے میں خود آئے اور اپنے اندرونی سمجھوتے کے مطابق سامنے ہار گئے۔ اور اسے جتا دیا اور پھر اس کا دین قبول کر لیا تاکہ تمہاری دیکھا دیکھی میری رعایا بھی اس چکر میں پھنس جائے مگر تمہیں اپنی اس ساز باز کا انجام بھی معلوم ہو جائے گا۔ میں الٹی سیدھی طرف سے تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ کر تم کو کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا اور اس بری طرح تمہاری جان لوں گا کہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔

صفحہ نمبر5288

اسی بادشاہ نے سب سے پہلے یہ سزا دی ہے۔ تم جو اپنے آپکو ہدایت پر اور مجھے اور میری قوم کو گمراہی پرسمجھتے ہو، اس کا حال بھی تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ دائمی عذاب کس پر آتا ہے؟ اس دھمکی کا ان کے دلوں پر الٹا اثر ہوا۔ وہ اپنے ایمان میں کامل بن گئے اور نہایت بےپرواہی سے جواب دیا کہ اس ہدایت و یقین کے مقابلے میں جو ہمیں اب اللہ کی طرف سے حاصل ہوا ہے، ہم تیرا مذہب کسی طرح قبول کرنے کے نہیں۔ نہ تجھے ہم اپنے سچے خالق مالک کے سامنے کوئی چیزسمجھیں۔

اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جملہ قسم ہو یعنی اس اللہ کی قسم جس نے ہمیں اولاً پیدا کیا ہے، ہم ان واضح دلیلوں پر تیری گمراہی کو ترجیح دے ہی نہیں سکتے خواہ تو ہمارے ساتھ کچھ ہی کر لے۔ مستحق عبادت وہ ہے جس نے ہمیں بنایا نہ کہ تو، جو خود اسی کا بنایا ہوا ہے۔ تجھے جو کرنا ہو اس میں کمی نہ کر، تو تو ہمیں اسی وقت تک سزا دے سکتا ہے جب تک ہم اس دنیا کی حیات کی قید میں ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کے بعد ابدی راحت اور غیر فانی خوشی ومسرت نصیب ہو گی۔ ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں ہمیں امید ہے کہ وہ ہمارے اگلے قصوروں سے درگزر فرمالے گا بالخصوص یہ قصور جو ہم سے اللہ کے سچے نبی کے مقابلے پر جادو بازی کرنے کا سرزد ہوا ہے۔

صفحہ نمبر5289

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، فرعون نے بنی اسرائیل کے چالیس بچے لے کر انہیں جادوگروں کے سپرد کیا تھا کہ انہیں جادو کی پوری تعلیم دو۔ اب یہ لڑکے یہ مقولہ کہہ رہے ہیں کہ تو نے ہم سے جبراً جادوگری کی خدمت لی۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ پھر فرمایا ہمارے لیے بہ نسبت تیرے، اللہ بہت بہتر ہے اور دائمی ثواب دینے والا ہے۔ نہ ہمیں تیری سزاؤں سے ڈر نہ تیرے انعام کی لالچ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی اس لائق ہے کہ اس کی عبادت و اطاعت کی جائے۔

اسی کے عذاب دائمی ہیں اور سخت خطرناک ہیں، اگر اس کی نافرمانی کی جائے۔ پس فرعون نے بھی ان کے ساتھ یہ کیا۔ سب کے ہاتھ پاؤں الٹی سیدھی طرف سے کاٹ کرسولی پر چڑھا دیا۔ وہ جماعت جو سورج کے نکلنے کے وقت کافر تھی، وہی جماعت سورج ڈوبنے سے پہلے مومن اور شہید تھی رحمتہ اللہ علیہم اجمعین۔

صفحہ نمبر5290

نتیجہ موسیٰ علیہ السلام کی صداقت کا گواہ بنا ٭٭

اللہ کی شان دیکھئے! چاہیئے تو یہ تھا کہ فرعون اب راہ راست پر آ جاتا۔ جن کو اس نے مقابلے کیلئے بلوایا تھا وہ عام مجمع میں ہارے۔ انہوں نے اپنی ہار مان لی، اپنے کرتوت کو جادو اور موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء کردہ معجزہ تسلیم کر لیا۔ خود وہ ایمان لے آئے جو مقابلے کے لیے بلوائے گئے تھے۔ مجمع عام میں سب کے سامنے بے جھجک انہوں نے دین حق کو قبول کر لیا۔ لیکن یہ اپنی شیطنیت میں اور بڑھ گیا اور اپنی قوت وطاقت دکھانے لگا لیکن بھلا حق والے مادی طاقتوں کو سمجھتے ہی کیا ہیں؟ «قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنتُم بِهِ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ» ‏ [7-الأعراف:123] ‏

پہلے تو جادوگروں کے اس مسلم گروہ سے کہنے لگا کہ میری اجازت کے بغیر تم اس پر ایمان کیوں لائے؟ پھر ایسا بہتان باندھا جس کا جھوٹ ہونا بالکل واضح ہے کہ موسیٰ علیہ السلام تو تمہارے استاد ہیں انہی سے تم نے جادو سیکھا ہے۔ تم سب آپس میں ایک ہی ہو، مشورہ کر کے ہمیں تاراج کرنے کے لیے تم نے پہلے انہیں بھیجا پھر اس کے مقابلے میں خود آئے اور اپنے اندرونی سمجھوتے کے مطابق سامنے ہار گئے۔ اور اسے جتا دیا اور پھر اس کا دین قبول کر لیا تاکہ تمہاری دیکھا دیکھی میری رعایا بھی اس چکر میں پھنس جائے مگر تمہیں اپنی اس ساز باز کا انجام بھی معلوم ہو جائے گا۔ میں الٹی سیدھی طرف سے تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ کر تم کو کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا اور اس بری طرح تمہاری جان لوں گا کہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔

صفحہ نمبر5288

اسی بادشاہ نے سب سے پہلے یہ سزا دی ہے۔ تم جو اپنے آپکو ہدایت پر اور مجھے اور میری قوم کو گمراہی پرسمجھتے ہو، اس کا حال بھی تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ دائمی عذاب کس پر آتا ہے؟ اس دھمکی کا ان کے دلوں پر الٹا اثر ہوا۔ وہ اپنے ایمان میں کامل بن گئے اور نہایت بےپرواہی سے جواب دیا کہ اس ہدایت و یقین کے مقابلے میں جو ہمیں اب اللہ کی طرف سے حاصل ہوا ہے، ہم تیرا مذہب کسی طرح قبول کرنے کے نہیں۔ نہ تجھے ہم اپنے سچے خالق مالک کے سامنے کوئی چیزسمجھیں۔

اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جملہ قسم ہو یعنی اس اللہ کی قسم جس نے ہمیں اولاً پیدا کیا ہے، ہم ان واضح دلیلوں پر تیری گمراہی کو ترجیح دے ہی نہیں سکتے خواہ تو ہمارے ساتھ کچھ ہی کر لے۔ مستحق عبادت وہ ہے جس نے ہمیں بنایا نہ کہ تو، جو خود اسی کا بنایا ہوا ہے۔ تجھے جو کرنا ہو اس میں کمی نہ کر، تو تو ہمیں اسی وقت تک سزا دے سکتا ہے جب تک ہم اس دنیا کی حیات کی قید میں ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کے بعد ابدی راحت اور غیر فانی خوشی ومسرت نصیب ہو گی۔ ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں ہمیں امید ہے کہ وہ ہمارے اگلے قصوروں سے درگزر فرمالے گا بالخصوص یہ قصور جو ہم سے اللہ کے سچے نبی کے مقابلے پر جادو بازی کرنے کا سرزد ہوا ہے۔

صفحہ نمبر5289

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، فرعون نے بنی اسرائیل کے چالیس بچے لے کر انہیں جادوگروں کے سپرد کیا تھا کہ انہیں جادو کی پوری تعلیم دو۔ اب یہ لڑکے یہ مقولہ کہہ رہے ہیں کہ تو نے ہم سے جبراً جادوگری کی خدمت لی۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ پھر فرمایا ہمارے لیے بہ نسبت تیرے، اللہ بہت بہتر ہے اور دائمی ثواب دینے والا ہے۔ نہ ہمیں تیری سزاؤں سے ڈر نہ تیرے انعام کی لالچ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی اس لائق ہے کہ اس کی عبادت و اطاعت کی جائے۔

اسی کے عذاب دائمی ہیں اور سخت خطرناک ہیں، اگر اس کی نافرمانی کی جائے۔ پس فرعون نے بھی ان کے ساتھ یہ کیا۔ سب کے ہاتھ پاؤں الٹی سیدھی طرف سے کاٹ کرسولی پر چڑھا دیا۔ وہ جماعت جو سورج کے نکلنے کے وقت کافر تھی، وہی جماعت سورج ڈوبنے سے پہلے مومن اور شہید تھی رحمتہ اللہ علیہم اجمعین۔

صفحہ نمبر5290

نتیجہ موسیٰ علیہ السلام کی صداقت کا گواہ بنا ٭٭

اللہ کی شان دیکھئے! چاہیئے تو یہ تھا کہ فرعون اب راہ راست پر آ جاتا۔ جن کو اس نے مقابلے کیلئے بلوایا تھا وہ عام مجمع میں ہارے۔ انہوں نے اپنی ہار مان لی، اپنے کرتوت کو جادو اور موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء کردہ معجزہ تسلیم کر لیا۔ خود وہ ایمان لے آئے جو مقابلے کے لیے بلوائے گئے تھے۔ مجمع عام میں سب کے سامنے بے جھجک انہوں نے دین حق کو قبول کر لیا۔ لیکن یہ اپنی شیطنیت میں اور بڑھ گیا اور اپنی قوت وطاقت دکھانے لگا لیکن بھلا حق والے مادی طاقتوں کو سمجھتے ہی کیا ہیں؟ «قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنتُم بِهِ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ» ‏ [7-الأعراف:123] ‏

پہلے تو جادوگروں کے اس مسلم گروہ سے کہنے لگا کہ میری اجازت کے بغیر تم اس پر ایمان کیوں لائے؟ پھر ایسا بہتان باندھا جس کا جھوٹ ہونا بالکل واضح ہے کہ موسیٰ علیہ السلام تو تمہارے استاد ہیں انہی سے تم نے جادو سیکھا ہے۔ تم سب آپس میں ایک ہی ہو، مشورہ کر کے ہمیں تاراج کرنے کے لیے تم نے پہلے انہیں بھیجا پھر اس کے مقابلے میں خود آئے اور اپنے اندرونی سمجھوتے کے مطابق سامنے ہار گئے۔ اور اسے جتا دیا اور پھر اس کا دین قبول کر لیا تاکہ تمہاری دیکھا دیکھی میری رعایا بھی اس چکر میں پھنس جائے مگر تمہیں اپنی اس ساز باز کا انجام بھی معلوم ہو جائے گا۔ میں الٹی سیدھی طرف سے تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ کر تم کو کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا اور اس بری طرح تمہاری جان لوں گا کہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔

صفحہ نمبر5288

اسی بادشاہ نے سب سے پہلے یہ سزا دی ہے۔ تم جو اپنے آپکو ہدایت پر اور مجھے اور میری قوم کو گمراہی پرسمجھتے ہو، اس کا حال بھی تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ دائمی عذاب کس پر آتا ہے؟ اس دھمکی کا ان کے دلوں پر الٹا اثر ہوا۔ وہ اپنے ایمان میں کامل بن گئے اور نہایت بےپرواہی سے جواب دیا کہ اس ہدایت و یقین کے مقابلے میں جو ہمیں اب اللہ کی طرف سے حاصل ہوا ہے، ہم تیرا مذہب کسی طرح قبول کرنے کے نہیں۔ نہ تجھے ہم اپنے سچے خالق مالک کے سامنے کوئی چیزسمجھیں۔

اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جملہ قسم ہو یعنی اس اللہ کی قسم جس نے ہمیں اولاً پیدا کیا ہے، ہم ان واضح دلیلوں پر تیری گمراہی کو ترجیح دے ہی نہیں سکتے خواہ تو ہمارے ساتھ کچھ ہی کر لے۔ مستحق عبادت وہ ہے جس نے ہمیں بنایا نہ کہ تو، جو خود اسی کا بنایا ہوا ہے۔ تجھے جو کرنا ہو اس میں کمی نہ کر، تو تو ہمیں اسی وقت تک سزا دے سکتا ہے جب تک ہم اس دنیا کی حیات کی قید میں ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کے بعد ابدی راحت اور غیر فانی خوشی ومسرت نصیب ہو گی۔ ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں ہمیں امید ہے کہ وہ ہمارے اگلے قصوروں سے درگزر فرمالے گا بالخصوص یہ قصور جو ہم سے اللہ کے سچے نبی کے مقابلے پر جادو بازی کرنے کا سرزد ہوا ہے۔

صفحہ نمبر5289

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، فرعون نے بنی اسرائیل کے چالیس بچے لے کر انہیں جادوگروں کے سپرد کیا تھا کہ انہیں جادو کی پوری تعلیم دو۔ اب یہ لڑکے یہ مقولہ کہہ رہے ہیں کہ تو نے ہم سے جبراً جادوگری کی خدمت لی۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ پھر فرمایا ہمارے لیے بہ نسبت تیرے، اللہ بہت بہتر ہے اور دائمی ثواب دینے والا ہے۔ نہ ہمیں تیری سزاؤں سے ڈر نہ تیرے انعام کی لالچ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی اس لائق ہے کہ اس کی عبادت و اطاعت کی جائے۔

اسی کے عذاب دائمی ہیں اور سخت خطرناک ہیں، اگر اس کی نافرمانی کی جائے۔ پس فرعون نے بھی ان کے ساتھ یہ کیا۔ سب کے ہاتھ پاؤں الٹی سیدھی طرف سے کاٹ کرسولی پر چڑھا دیا۔ وہ جماعت جو سورج کے نکلنے کے وقت کافر تھی، وہی جماعت سورج ڈوبنے سے پہلے مومن اور شہید تھی رحمتہ اللہ علیہم اجمعین۔

صفحہ نمبر5290

ایمان یافتہ جادوگروں پر فرعون کا عتاب ٭٭

بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ جادوگروں نے ایمان قبول فرما کر فرعون کو جو نصیحتیں کیں، انہیں میں یہ آیتیں بھی ہیں۔ اسے اللہ کے عذابوں سے ڈرا رہے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کا لالچ دلا رہے ہیں کہ گنہگاروں کا ٹھکانا جہنم ہے جہاں موت تو کبھی آنے ہی کی نہیں لیکن زندگی بھی بڑی ہی مشقت والی موت سے بدتر ہو گی۔

جیسے فرمان ہے «لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ» ‏ [35-فاطر:36] ‏ ” یعنی نہ تو موت ہی آئے گی نہ عذاب ہلکے ہوں گے، کافروں کو ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں۔ “

اور آیتوں میں ہے «وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى * الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ * ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ» ‏ [87-الأعلى:11-13] ‏ ” یعنی اللہ کی نصیحتوں سے بے فیض وہی رہے گا جو ازلی بدبخت ہو جو آخرکار بڑی سخت آگ میں گرے گا جہاں نہ تو موت آئے نہ چین کی زندگی نصیب ہو۔ “

اور آیت میں ہے کہ «وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۖ قَالَ إِنَّكُم مَّاكِثُونَ» ‏ [43-الزخرف:77] ‏ ” جہنم میں جھلستے ہوئے کہیں گے کہ اے داروغہ دوزخ! تم دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں موت ہی دیدے “ لیکن وہ جواب دے گا کہ نہ تم مرنے والے ہو نہ نکلنے والے۔

صفحہ نمبر5293

باب

مسند احمد میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اصلی جہنمی تو جہنم میں ہی پڑے رہیں گے نہ وہاں انہیں موت آئے نہ آرام کی زندگی ملے۔ ہاں ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہیں ان کے گناہوں کی پاداش میں دوزخ میں ڈال دیا جائے گا جہاں وہ جل کر کوئلہ ہو جائیں گے جان نکل جائے گی۔ پھر شفاعت کی اجازت کے بعد ان کا چورا نکالاجائے گا اور جنت کی نہروں کے کناروں پر بکھیردیا جائے گا اور جنتیوں سے فرمایا جائے گا کہ ان پر پانی ڈالو تو جس طرح تم نے نہر کے کنارے کے کھیت کے دانوں کو اگتے ہوئے دیکھا ہے، اسی طرح وہ اگیں گے۔ یہ سن کر ایک شخص کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال تو ایسی دی ہے گویا آپ کچھ زمانہ جنگل میں گزار چکے ہیں۔ [صحیح مسلم:185] ‏

اور حدیث میں ہے کہ خطبے میں اس آیت کی تلاوت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا۔ اور جو اللہ سے قیامت کے دن ایمان اور عمل صالح کے ساتھ جا ملا، اسے اونچے بالا خانوں والی جنت ملے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، جنت کے سو درجوں میں اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں۔ سب سے اوپر جنت الفردوس ہے اسی سے چاروں نہریں جاری ہوتی ہیں، اس کی چھت رحمان کا عرش ہے۔ اللہ سے جب جنت مانگو تو جنت الفردوس کی دعا کیا کرو۔ [سنن ترمذي:2531،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر5294

ابن ابی حاتم میں ہے کہ کہا جاتا تھا کہ جنت کے سو درجے ہیں، ہر درجے کے پھر سو درجے ہیں، دو درجوں میں اتنی دوری ہے جتنی آسمان و زمین میں۔ ان میں یاقوت اور موتی ہیں اور زیور بھی۔ ہر جنت میں امیر ہے جس کی فضیلت اور سرداری کے دوسرے قائل ہیں۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اعلی علیین والے ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے تم لوگ آسمان کے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ لوگوں نے کہا پھر یہ بلند درجے تو نبیوں کے لیے ہی مخصوص ہونگے؟ فرمایا سنو اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور نبیوں کو سچا جانا۔ [صحیح بخاری:3256] ‏

سنن کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما انہی میں سے ہیں۔ اور کتنے ہی اچھے مرتبے والے ہیں۔ [سنن ابوداود:3987،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

یہ جنتیں ہمیشگی کی اقامت ہیں جہاں یہ ہمیشہ ابد الاباد رہیں گے۔ جو لوگ اپنے نفس پاک رکھیں، گناہوں سے، خباثت سے، گندگی سے، شرک و کفر سے دور رہیں، اللہ واحد کی عبادت کرتے رہیں، رسولوں کی اطاعت میں عمرگزاردیں، ان کے لیے یہی قابل رشک مقامات اور قابل صد مبارکباد انعام ہیں «‏رَزَقَّنَا الّلهُ اِيَّاھَا» ‏۔

صفحہ نمبر5295

باب

مسند احمد میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اصلی جہنمی تو جہنم میں ہی پڑے رہیں گے نہ وہاں انہیں موت آئے نہ آرام کی زندگی ملے۔ ہاں ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہیں ان کے گناہوں کی پاداش میں دوزخ میں ڈال دیا جائے گا جہاں وہ جل کر کوئلہ ہو جائیں گے جان نکل جائے گی۔ پھر شفاعت کی اجازت کے بعد ان کا چورا نکالاجائے گا اور جنت کی نہروں کے کناروں پر بکھیردیا جائے گا اور جنتیوں سے فرمایا جائے گا کہ ان پر پانی ڈالو تو جس طرح تم نے نہر کے کنارے کے کھیت کے دانوں کو اگتے ہوئے دیکھا ہے، اسی طرح وہ اگیں گے۔ یہ سن کر ایک شخص کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال تو ایسی دی ہے گویا آپ کچھ زمانہ جنگل میں گزار چکے ہیں۔ [صحیح مسلم:185] ‏

اور حدیث میں ہے کہ خطبے میں اس آیت کی تلاوت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا۔ اور جو اللہ سے قیامت کے دن ایمان اور عمل صالح کے ساتھ جا ملا، اسے اونچے بالا خانوں والی جنت ملے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، جنت کے سو درجوں میں اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں۔ سب سے اوپر جنت الفردوس ہے اسی سے چاروں نہریں جاری ہوتی ہیں، اس کی چھت رحمان کا عرش ہے۔ اللہ سے جب جنت مانگو تو جنت الفردوس کی دعا کیا کرو۔ [سنن ترمذي:2531،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر5294

ابن ابی حاتم میں ہے کہ کہا جاتا تھا کہ جنت کے سو درجے ہیں، ہر درجے کے پھر سو درجے ہیں، دو درجوں میں اتنی دوری ہے جتنی آسمان و زمین میں۔ ان میں یاقوت اور موتی ہیں اور زیور بھی۔ ہر جنت میں امیر ہے جس کی فضیلت اور سرداری کے دوسرے قائل ہیں۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اعلی علیین والے ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے تم لوگ آسمان کے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ لوگوں نے کہا پھر یہ بلند درجے تو نبیوں کے لیے ہی مخصوص ہونگے؟ فرمایا سنو اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور نبیوں کو سچا جانا۔ [صحیح بخاری:3256] ‏

سنن کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما انہی میں سے ہیں۔ اور کتنے ہی اچھے مرتبے والے ہیں۔ [سنن ابوداود:3987،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

یہ جنتیں ہمیشگی کی اقامت ہیں جہاں یہ ہمیشہ ابد الاباد رہیں گے۔ جو لوگ اپنے نفس پاک رکھیں، گناہوں سے، خباثت سے، گندگی سے، شرک و کفر سے دور رہیں، اللہ واحد کی عبادت کرتے رہیں، رسولوں کی اطاعت میں عمرگزاردیں، ان کے لیے یہی قابل رشک مقامات اور قابل صد مبارکباد انعام ہیں «‏رَزَقَّنَا الّلهُ اِيَّاھَا» ‏۔

صفحہ نمبر5295

بنی اسرائیل کی ہجرت اور فرعون کا تعاقب ٭٭

چونکہ موسیٰ علیہ السلام کے اس فرمان کو بھی فرعون نے ٹال دیا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر کے انہیں موسیٰ علیہ السلام کے سپرد کر دے، اس لیے جناب باری نے آپ کو حکم فرمایا کہ آپ راتوں رات ان کی بے خبری میں تمام بنی اسرائیل کو چپ چاپ لے کر یہاں سے چلے جائیں جیسے کہ اس کا تفصیلی بیان قرآن کریم میں اور بہت سی جگہ پر ہوا ہے۔

چنانچہ حسب ارشاد آپ نے بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر یہاں سے ہجرت کی۔ صبح جب فرعونی جاگے اور سارے شہر میں ایک بنی اسرائیلی نہ دیکھا۔ فرعون کو اطلاع دی، وہ مارے غصے کے چکر کھا گیا اور ہر طرف منادی دوڑا دئیے کہ لشکر جمع ہو جائیں اور دانت پیس پیس کر کہنے لگا کہ اس مٹھی بھر جماعت نے ہمارا ناک میں دم کر رکھا ہے آج ان سب کو تہ تیغ کر دوں گا۔ سورج نکلتے ہی لشکر آ موجود ہوا، اسی وقت خود سارے لشکرکو لے کر ان کے تعاقب میں روانہ ہو گیا۔ بنی اسرائیل دریا کے کنارے پہنچے ہی تھے کہ فرعونی لشکر انہیں دکھائی دے گیا، گھبرا کر اپنے نبی علیہ السلام سے کہنے لگے، لو اب کیا ہو گا سامنے دریا ہے پیچھے فرعونی ہیں۔ آپ نے جواب دیا، گھبرانے کی کوئی بات نہیں، میری مدد پر خود میرا رب ہے، وہ ابھی مجھے راہ دکھا دے گا۔ اسی وقت وحی الٰہی آئی کہ موسیٰ دریا پر اپنی لکڑی مارو، وہ ہٹ کر تمہیں راستہ دیدے گا۔

صفحہ نمبر5297

چنانچہ آپ نے یہ کہہ کر لکڑی ماری کہ اے دریا! بحکم الٰہی تو ہٹ جا۔ اسی وقت اس کا پانی پتھر کی طرح ادھر اْدھر جم گیا اور بیچ میں راستے نمایاں ہو گئے۔ ادھر ادھر پانی مثل پہاڑوں کے کھڑا ہو گیا اور تیز اور خشک ہواؤں کے جھونکوں نے راستوں کو بالکل سوکھی زمین کے راستوں کی طرح کر دیا۔ نہ تو فرعون کی پکڑ کا خوف رہا نہ دریا میں ڈوب جانے کا خطرہ رہا۔

فرعون اور اس کے لشکری یہ حال دیکھ رہے تھے۔ فرعون نے حکم دیا کہ انہی راستوں سے تم بھی پار ہو جاؤ۔ چیختا کودتا مع تمام لشکر کے ان ہی راہوں میں اتر پڑا، ان کے اترتے ہی پانی کو بہنے کا حکم ہو گیا اور چشم زدن میں تمام فرعونی ڈبو دیئے گئے۔ دریا کی موجوں نے انہیں چھپا لیا۔ یہاں جو فرمایا کہ انہیں اس چیز نے ڈھانپ لیا۔ یہ اس لیے کہ یہ مشہور ومعروف ہے نام لینے کی ضرورت نہیں یعنی دریا کی موجوں نے۔ اسی جیسی آیت «‏وَالْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰى * فَغَشّٰـىهَا مَا غَشّٰى» [53-النجم:53-54] ‏ ہے ” یعنی قوم لوط کی بستیوں کو بھی اسی نے دے پٹکا تھا۔ پھر ان پر جو تباہی آئی، سو آئی۔ “ عرب کے اشعار میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔

الغرض فرعون نے اپنی قوم کو بہکا دیا اور راہ راست انہیں نہ دکھائی۔ جس طرح دنیا میں انہیں اس نے آگے بڑھ کر دریا برد کیا، «يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۖ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ» ‏ [11-هود:98] ‏ ” اسی طرح آگے ہو کر قیامت کے دن انہیں جہنم میں جا جھونکے گا جو بدترین جگہ ہے۔ “

صفحہ نمبر5298

بنی اسرائیل کی ہجرت اور فرعون کا تعاقب ٭٭

چونکہ موسیٰ علیہ السلام کے اس فرمان کو بھی فرعون نے ٹال دیا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر کے انہیں موسیٰ علیہ السلام کے سپرد کر دے، اس لیے جناب باری نے آپ کو حکم فرمایا کہ آپ راتوں رات ان کی بے خبری میں تمام بنی اسرائیل کو چپ چاپ لے کر یہاں سے چلے جائیں جیسے کہ اس کا تفصیلی بیان قرآن کریم میں اور بہت سی جگہ پر ہوا ہے۔

چنانچہ حسب ارشاد آپ نے بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر یہاں سے ہجرت کی۔ صبح جب فرعونی جاگے اور سارے شہر میں ایک بنی اسرائیلی نہ دیکھا۔ فرعون کو اطلاع دی، وہ مارے غصے کے چکر کھا گیا اور ہر طرف منادی دوڑا دئیے کہ لشکر جمع ہو جائیں اور دانت پیس پیس کر کہنے لگا کہ اس مٹھی بھر جماعت نے ہمارا ناک میں دم کر رکھا ہے آج ان سب کو تہ تیغ کر دوں گا۔ سورج نکلتے ہی لشکر آ موجود ہوا، اسی وقت خود سارے لشکرکو لے کر ان کے تعاقب میں روانہ ہو گیا۔ بنی اسرائیل دریا کے کنارے پہنچے ہی تھے کہ فرعونی لشکر انہیں دکھائی دے گیا، گھبرا کر اپنے نبی علیہ السلام سے کہنے لگے، لو اب کیا ہو گا سامنے دریا ہے پیچھے فرعونی ہیں۔ آپ نے جواب دیا، گھبرانے کی کوئی بات نہیں، میری مدد پر خود میرا رب ہے، وہ ابھی مجھے راہ دکھا دے گا۔ اسی وقت وحی الٰہی آئی کہ موسیٰ دریا پر اپنی لکڑی مارو، وہ ہٹ کر تمہیں راستہ دیدے گا۔

صفحہ نمبر5297

چنانچہ آپ نے یہ کہہ کر لکڑی ماری کہ اے دریا! بحکم الٰہی تو ہٹ جا۔ اسی وقت اس کا پانی پتھر کی طرح ادھر اْدھر جم گیا اور بیچ میں راستے نمایاں ہو گئے۔ ادھر ادھر پانی مثل پہاڑوں کے کھڑا ہو گیا اور تیز اور خشک ہواؤں کے جھونکوں نے راستوں کو بالکل سوکھی زمین کے راستوں کی طرح کر دیا۔ نہ تو فرعون کی پکڑ کا خوف رہا نہ دریا میں ڈوب جانے کا خطرہ رہا۔

فرعون اور اس کے لشکری یہ حال دیکھ رہے تھے۔ فرعون نے حکم دیا کہ انہی راستوں سے تم بھی پار ہو جاؤ۔ چیختا کودتا مع تمام لشکر کے ان ہی راہوں میں اتر پڑا، ان کے اترتے ہی پانی کو بہنے کا حکم ہو گیا اور چشم زدن میں تمام فرعونی ڈبو دیئے گئے۔ دریا کی موجوں نے انہیں چھپا لیا۔ یہاں جو فرمایا کہ انہیں اس چیز نے ڈھانپ لیا۔ یہ اس لیے کہ یہ مشہور ومعروف ہے نام لینے کی ضرورت نہیں یعنی دریا کی موجوں نے۔ اسی جیسی آیت «‏وَالْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰى * فَغَشّٰـىهَا مَا غَشّٰى» [53-النجم:53-54] ‏ ہے ” یعنی قوم لوط کی بستیوں کو بھی اسی نے دے پٹکا تھا۔ پھر ان پر جو تباہی آئی، سو آئی۔ “ عرب کے اشعار میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔

الغرض فرعون نے اپنی قوم کو بہکا دیا اور راہ راست انہیں نہ دکھائی۔ جس طرح دنیا میں انہیں اس نے آگے بڑھ کر دریا برد کیا، «يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۖ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ» ‏ [11-هود:98] ‏ ” اسی طرح آگے ہو کر قیامت کے دن انہیں جہنم میں جا جھونکے گا جو بدترین جگہ ہے۔ “

صفحہ نمبر5298

بنی اسرائیل کی ہجرت اور فرعون کا تعاقب ٭٭

چونکہ موسیٰ علیہ السلام کے اس فرمان کو بھی فرعون نے ٹال دیا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر کے انہیں موسیٰ علیہ السلام کے سپرد کر دے، اس لیے جناب باری نے آپ کو حکم فرمایا کہ آپ راتوں رات ان کی بے خبری میں تمام بنی اسرائیل کو چپ چاپ لے کر یہاں سے چلے جائیں جیسے کہ اس کا تفصیلی بیان قرآن کریم میں اور بہت سی جگہ پر ہوا ہے۔

چنانچہ حسب ارشاد آپ نے بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر یہاں سے ہجرت کی۔ صبح جب فرعونی جاگے اور سارے شہر میں ایک بنی اسرائیلی نہ دیکھا۔ فرعون کو اطلاع دی، وہ مارے غصے کے چکر کھا گیا اور ہر طرف منادی دوڑا دئیے کہ لشکر جمع ہو جائیں اور دانت پیس پیس کر کہنے لگا کہ اس مٹھی بھر جماعت نے ہمارا ناک میں دم کر رکھا ہے آج ان سب کو تہ تیغ کر دوں گا۔ سورج نکلتے ہی لشکر آ موجود ہوا، اسی وقت خود سارے لشکرکو لے کر ان کے تعاقب میں روانہ ہو گیا۔ بنی اسرائیل دریا کے کنارے پہنچے ہی تھے کہ فرعونی لشکر انہیں دکھائی دے گیا، گھبرا کر اپنے نبی علیہ السلام سے کہنے لگے، لو اب کیا ہو گا سامنے دریا ہے پیچھے فرعونی ہیں۔ آپ نے جواب دیا، گھبرانے کی کوئی بات نہیں، میری مدد پر خود میرا رب ہے، وہ ابھی مجھے راہ دکھا دے گا۔ اسی وقت وحی الٰہی آئی کہ موسیٰ دریا پر اپنی لکڑی مارو، وہ ہٹ کر تمہیں راستہ دیدے گا۔

صفحہ نمبر5297

چنانچہ آپ نے یہ کہہ کر لکڑی ماری کہ اے دریا! بحکم الٰہی تو ہٹ جا۔ اسی وقت اس کا پانی پتھر کی طرح ادھر اْدھر جم گیا اور بیچ میں راستے نمایاں ہو گئے۔ ادھر ادھر پانی مثل پہاڑوں کے کھڑا ہو گیا اور تیز اور خشک ہواؤں کے جھونکوں نے راستوں کو بالکل سوکھی زمین کے راستوں کی طرح کر دیا۔ نہ تو فرعون کی پکڑ کا خوف رہا نہ دریا میں ڈوب جانے کا خطرہ رہا۔

فرعون اور اس کے لشکری یہ حال دیکھ رہے تھے۔ فرعون نے حکم دیا کہ انہی راستوں سے تم بھی پار ہو جاؤ۔ چیختا کودتا مع تمام لشکر کے ان ہی راہوں میں اتر پڑا، ان کے اترتے ہی پانی کو بہنے کا حکم ہو گیا اور چشم زدن میں تمام فرعونی ڈبو دیئے گئے۔ دریا کی موجوں نے انہیں چھپا لیا۔ یہاں جو فرمایا کہ انہیں اس چیز نے ڈھانپ لیا۔ یہ اس لیے کہ یہ مشہور ومعروف ہے نام لینے کی ضرورت نہیں یعنی دریا کی موجوں نے۔ اسی جیسی آیت «‏وَالْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰى * فَغَشّٰـىهَا مَا غَشّٰى» [53-النجم:53-54] ‏ ہے ” یعنی قوم لوط کی بستیوں کو بھی اسی نے دے پٹکا تھا۔ پھر ان پر جو تباہی آئی، سو آئی۔ “ عرب کے اشعار میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔

الغرض فرعون نے اپنی قوم کو بہکا دیا اور راہ راست انہیں نہ دکھائی۔ جس طرح دنیا میں انہیں اس نے آگے بڑھ کر دریا برد کیا، «يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۖ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ» ‏ [11-هود:98] ‏ ” اسی طرح آگے ہو کر قیامت کے دن انہیں جہنم میں جا جھونکے گا جو بدترین جگہ ہے۔ “

صفحہ نمبر5298

احسانات کی یاد دہانی ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جو بڑے بڑے احسان کئے تھے، انہیں یاد دلا رہا ہے۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ انہیں ان کے دشمن سے نجات دی۔ اور اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے دشمنوں کو ان کے دیکھتے ہوئے دریا میں ڈبو دیا۔ ایک بھی ان میں سے باقی نہ بچا۔ جیسے فرمان ہے «‏وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ» ‏ [2-البقرة:50] ‏۔ ” یعنی ہم نے تمہارے دیکھتے ہوئے فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ “

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ مدینے کے یہودیوں کو عاشورے کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کا سبب دریافت فرمایا تو انہوں نے جواب دیا کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون پر کامیاب کیا تھا۔ آپ نے فرمایا، پھر تو ہمیں بہ نسبت تمہارے ان سے زیادہ قرب ہے چنانچہ آپ نے مسلمانوں کو اس دن کے روزے کا حکم دیا۔ [صحیح بخاری:4680] ‏

پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور کی دائیں جانب کا وعدہ دیا۔ آپ وہاں گئے اور پیچھے سے بنو اسرائیل نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی۔ جس کا بیان ابھی آگے آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اسی طرح ایک احسان ان پر یہ کیا کہ من وسلوی کھانے کو دیا۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ وغیرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ من ایک میٹھی چیز تھی جو ان کے لیے آسمان سے اترتی تھی اور سلوی ایک قسم کے پرند تھے جو بہ حکم خداوندی ان کے سامنے آ جاتے تھے، یہ بقدر ایک دن کی خوراک کے انہیں لے لیتے تھے۔ ہماری یہ دی ہوئی روزی کھاؤ، اس میں حد سے نہ گزر جاؤ، حرام چیز یا حرام ذریعہ سے اسے نہ طلب کرو۔ ورنہ میرا غضب نازل ہو گا اور جس پر میرا غضب اترے یقین مانو کہ وہ بدبخت ہو گیا۔ شغی بن مانع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہنم میں ایک اونچی جگہ بنی ہوئی ہے جہاں سے کافر کو جہنم میں گرایا جاتا ہے تو زنجیروں کی جگہ تک چالیس سال میں پہنچتا ہے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ وہ گڑھے میں گر پڑا۔ ہاں جو بھی اپنے گناہوں سے میرے سامنے توبہ کرے، میں اس کی توبہ قبول فرماتا ہوں۔

صفحہ نمبر5301

دیکھو بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی، ان کی توبہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی بخش دیا۔ غرض جس کفر و شرک، گناہ و معصیت پر کوئی ہو، پھر وہ اسے بخوف الٰہی چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے۔ ہاں دل میں ایمان ہو اور اعمال صالحہ بھی کرتا ہو اور ہو بھی راہ راست پر، شکی نہ ہو، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جماعت صحابہ رضی اللہ عنہم کی روش پر ہو۔ اس میں ثواب جانتا ہو، یہاں پر «ثم» کا لفظ خبر کی خبر پر ترتیب کرنے کے لیے آیا ہے۔ جیسے فرمان ہے «‏ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّالِحاتِ» ‏۔ [90-البلد:17] ‏

صفحہ نمبر5302

احسانات کی یاد دہانی ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جو بڑے بڑے احسان کئے تھے، انہیں یاد دلا رہا ہے۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ انہیں ان کے دشمن سے نجات دی۔ اور اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے دشمنوں کو ان کے دیکھتے ہوئے دریا میں ڈبو دیا۔ ایک بھی ان میں سے باقی نہ بچا۔ جیسے فرمان ہے «‏وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ» ‏ [2-البقرة:50] ‏۔ ” یعنی ہم نے تمہارے دیکھتے ہوئے فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ “

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ مدینے کے یہودیوں کو عاشورے کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کا سبب دریافت فرمایا تو انہوں نے جواب دیا کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون پر کامیاب کیا تھا۔ آپ نے فرمایا، پھر تو ہمیں بہ نسبت تمہارے ان سے زیادہ قرب ہے چنانچہ آپ نے مسلمانوں کو اس دن کے روزے کا حکم دیا۔ [صحیح بخاری:4680] ‏

پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور کی دائیں جانب کا وعدہ دیا۔ آپ وہاں گئے اور پیچھے سے بنو اسرائیل نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی۔ جس کا بیان ابھی آگے آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اسی طرح ایک احسان ان پر یہ کیا کہ من وسلوی کھانے کو دیا۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ وغیرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ من ایک میٹھی چیز تھی جو ان کے لیے آسمان سے اترتی تھی اور سلوی ایک قسم کے پرند تھے جو بہ حکم خداوندی ان کے سامنے آ جاتے تھے، یہ بقدر ایک دن کی خوراک کے انہیں لے لیتے تھے۔ ہماری یہ دی ہوئی روزی کھاؤ، اس میں حد سے نہ گزر جاؤ، حرام چیز یا حرام ذریعہ سے اسے نہ طلب کرو۔ ورنہ میرا غضب نازل ہو گا اور جس پر میرا غضب اترے یقین مانو کہ وہ بدبخت ہو گیا۔ شغی بن مانع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہنم میں ایک اونچی جگہ بنی ہوئی ہے جہاں سے کافر کو جہنم میں گرایا جاتا ہے تو زنجیروں کی جگہ تک چالیس سال میں پہنچتا ہے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ وہ گڑھے میں گر پڑا۔ ہاں جو بھی اپنے گناہوں سے میرے سامنے توبہ کرے، میں اس کی توبہ قبول فرماتا ہوں۔

صفحہ نمبر5301

دیکھو بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی، ان کی توبہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی بخش دیا۔ غرض جس کفر و شرک، گناہ و معصیت پر کوئی ہو، پھر وہ اسے بخوف الٰہی چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے۔ ہاں دل میں ایمان ہو اور اعمال صالحہ بھی کرتا ہو اور ہو بھی راہ راست پر، شکی نہ ہو، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جماعت صحابہ رضی اللہ عنہم کی روش پر ہو۔ اس میں ثواب جانتا ہو، یہاں پر «ثم» کا لفظ خبر کی خبر پر ترتیب کرنے کے لیے آیا ہے۔ جیسے فرمان ہے «‏ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّالِحاتِ» ‏۔ [90-البلد:17] ‏

صفحہ نمبر5302

احسانات کی یاد دہانی ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جو بڑے بڑے احسان کئے تھے، انہیں یاد دلا رہا ہے۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ انہیں ان کے دشمن سے نجات دی۔ اور اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے دشمنوں کو ان کے دیکھتے ہوئے دریا میں ڈبو دیا۔ ایک بھی ان میں سے باقی نہ بچا۔ جیسے فرمان ہے «‏وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ» ‏ [2-البقرة:50] ‏۔ ” یعنی ہم نے تمہارے دیکھتے ہوئے فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ “

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ مدینے کے یہودیوں کو عاشورے کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کا سبب دریافت فرمایا تو انہوں نے جواب دیا کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون پر کامیاب کیا تھا۔ آپ نے فرمایا، پھر تو ہمیں بہ نسبت تمہارے ان سے زیادہ قرب ہے چنانچہ آپ نے مسلمانوں کو اس دن کے روزے کا حکم دیا۔ [صحیح بخاری:4680] ‏

پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور کی دائیں جانب کا وعدہ دیا۔ آپ وہاں گئے اور پیچھے سے بنو اسرائیل نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی۔ جس کا بیان ابھی آگے آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اسی طرح ایک احسان ان پر یہ کیا کہ من وسلوی کھانے کو دیا۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ وغیرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ من ایک میٹھی چیز تھی جو ان کے لیے آسمان سے اترتی تھی اور سلوی ایک قسم کے پرند تھے جو بہ حکم خداوندی ان کے سامنے آ جاتے تھے، یہ بقدر ایک دن کی خوراک کے انہیں لے لیتے تھے۔ ہماری یہ دی ہوئی روزی کھاؤ، اس میں حد سے نہ گزر جاؤ، حرام چیز یا حرام ذریعہ سے اسے نہ طلب کرو۔ ورنہ میرا غضب نازل ہو گا اور جس پر میرا غضب اترے یقین مانو کہ وہ بدبخت ہو گیا۔ شغی بن مانع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہنم میں ایک اونچی جگہ بنی ہوئی ہے جہاں سے کافر کو جہنم میں گرایا جاتا ہے تو زنجیروں کی جگہ تک چالیس سال میں پہنچتا ہے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ وہ گڑھے میں گر پڑا۔ ہاں جو بھی اپنے گناہوں سے میرے سامنے توبہ کرے، میں اس کی توبہ قبول فرماتا ہوں۔

صفحہ نمبر5301

دیکھو بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی، ان کی توبہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی بخش دیا۔ غرض جس کفر و شرک، گناہ و معصیت پر کوئی ہو، پھر وہ اسے بخوف الٰہی چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے۔ ہاں دل میں ایمان ہو اور اعمال صالحہ بھی کرتا ہو اور ہو بھی راہ راست پر، شکی نہ ہو، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جماعت صحابہ رضی اللہ عنہم کی روش پر ہو۔ اس میں ثواب جانتا ہو، یہاں پر «ثم» کا لفظ خبر کی خبر پر ترتیب کرنے کے لیے آیا ہے۔ جیسے فرمان ہے «‏ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّالِحاتِ» ‏۔ [90-البلد:17] ‏

صفحہ نمبر5302

بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭

موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے، موسیٰ (‏علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو، یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے۔ پورے چالیس ہو گئے، دن رات روزے سے رہتے تھے۔ اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے۔ بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی ہیں، آ رہے ہیں، میں نے جلدی کی ہے کہ تیری رضا مندی حاصل کر لوں اور اس میں بڑھ جاؤں۔

صفحہ نمبر5305

موسی علیہ السلام کے بعد پھر شرک ٭٭

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے چلے آنے کے بعد تیری قوم میں نیا فتنہ برپا ہوا اور انہوں نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی ہے۔ اس بچھڑے کو سامری نے بنایا اور انہیں اس کی عبادت میں لگا دیا ہے۔ اسرائیلی کتابوں میں ہے کہ سامری کا نام بھی ہارون تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمانے کے لیے تورات کی تختیاں لکھ لی گئی تھیں، جیسے فرمان ہے «وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ» ‏ [7-الأعراف:145] ‏۔ ” یعنی ہم نے اس کے لیے تختیوں میں ہر شے کا تذکرہ اور ہرچیز کی تفصیل لکھ دی تھی اور کہہ دیا کہ اسے مضبوطی سے تھام لو اور اپنی قوم سے بھی کہو کہ اس پر عمدگی سے عمل کریں۔ میں تمہیں عنقریب فاسقوں کا انجام دکھا دوں گا۔ “

موسیٰ علیہ السلام کو جب اپنی قوم کے مشرکانہ فعل کا علم ہوا تو سخت رنج ہوا اور غم و غصے میں بھرے ہوئے وہاں سے واپس قوم کی طرف چلے کہ دیکھو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے باوجود ایسے سخت احمقانہ اور مشرکانہ فعل کا ارتکاب کیا۔ غم و اندوہ، رنج و غصہ آپ کو بہت آیا۔

صفحہ نمبر5306

واپس آتے ہی کہنے لگے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تم سے تمام نیک وعدے کئے تھے، تمہارے ساتھ بڑے بڑے سلوک و انعام کئے لیکن ذرا سے وقفے میں تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھلا بیٹھے بلکہ تم نے وہ حرکت کی جس سے اللہ کا غضب تم پر اتر پڑا۔ تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا مطلق لحاظ نہ رکھا۔

اب بنی اسرائیل معذرت کرنے لگے کہ ہم نے یہ کام اپنے اختیار سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ جو زیور فرعونیوں کے ہمارے پاس مستعار لیے ہوئے تھے، ہم نے بہتر یہی سمجھا کہ انہیں پھینک دیں چنانچہ ہم نے سب کے سب بطور پرہیزگاری کے پھینک دئیے۔ ایک روایت میں ہے کہ خود ہارون علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود کر اس میں آگ جلا کر ان سے فرمایا کہ وہ زیور سب اس میں ڈال دو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہارون علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ سب زیور ایکجا ہو جائیں اور پگھل کر ایک ڈلا بن جائے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام آ جائیں جیسا وہ فرمائیں ویسا کیا جائے۔ سامری نے اس میں وہ مٹی ڈال دی جو اس نے اللہ کے قاصد کے نشان سے لی تھی اور ہارون علیہ السلام سے کہا، آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیئے کہ وہ میری خواہش قبول فرما لے، آپ کو کیا خبر تھی، آپ نے دعا کی۔ اس نے خواہش یہ کی کہ اس کا ایک بچھڑا بن جائے جس میں سے بچھڑے کی سی آوازبھی نکلے چنانچہ وہ بن گیا اور بنی اسرائیل کے فتنے کا باعث ہو گیا۔ پس فرمان ہے کہ اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا۔

صفحہ نمبر5307

ہارون علیہ السلام ایک مرتبہ سامری کے پاس سے گزرے، تو وہ اس بچھڑے کو ٹھیک ٹھاک کر رہا تھا۔ آپ نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا وہ چیز بنا رہا ہوں جو نقصان دے اور نفع نہ دے۔ آپ نے دعا کی اے اللہ! خود اسے ایسا ہی کر دے اور آپ وہاں سے تشریف لے گئے۔ سامری کی دعا سے یہ بچھڑا بنا اور آواز نکالنے لگا۔

بنی اسرائیل بہکاوے میں آ گئے اور اس کی پرستش شروع کر دی۔ اس کی آواز پر یہ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑتے اور دوسری آواز پر سجدے سے سر اٹھاتے۔ یہ گروہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بہکانے لگا کہ دراصل اللہ یہی ہے۔ موسیٰ بھول کر کہیں اور اس کی جستجو میں چل دئیے ہیں، وہ یہ کہنا بھول گئے کہ تمہارا رب یہی ہے۔ یہ لوگ مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔ ان کے دلوں میں اس کی محبت رچ گئی۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ سامری اپنے سچے اللہ کو اور اپنے پاک دین اسلام کو بھول بیٹھا۔ ان کی بیوقوفی دیکھئے کہ یہ اتنا نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا تو محض بے جان چیز ہے۔ ان کی کسی بات کا نہ تو جواب دے نہ سنے، نہ دنیا و آخرت کی کسی بات کا اسے اختیار نہ کوئی نفع نقصان اس کے ہاتھ میں۔ آواز جو نکلتی تھی، اس کی وجہ بھی صرف یہ تھی کہ پیچھے کے سوراخ میں سے ہوا گزر کر منہ کے راستے نکلتی تھی، اسی کی آواز آتی تھی۔ اس بچھڑے کا نام انہوں نے بہموت رکھ چھوڑا تھا۔ ان کی دوسری حماقت دیکھئے کہ چھوٹے گناہ سے بچنے کے لیے بڑا گناہ کر لیا۔ فرعونیوں کی امانتوں سے آزاد ہونے کے لیے شرک شروع کر دیا۔ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ کسی عراقی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کپڑے پر اگر مچھر کا خون لگ جائے تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ آپ نے فرمایا، ان عراقیوں کو دیکھو، بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر کو تو قتل کر دیں اور مچھر کے خون کے مسئلے پوچھتے پھریں؟ [صحیح بخاری:5994] ‏

صفحہ نمبر5308

بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭

موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے، موسیٰ (‏علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو، یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے۔ پورے چالیس ہو گئے، دن رات روزے سے رہتے تھے۔ اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے۔ بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی ہیں، آ رہے ہیں، میں نے جلدی کی ہے کہ تیری رضا مندی حاصل کر لوں اور اس میں بڑھ جاؤں۔

صفحہ نمبر5305

موسی علیہ السلام کے بعد پھر شرک ٭٭

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے چلے آنے کے بعد تیری قوم میں نیا فتنہ برپا ہوا اور انہوں نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی ہے۔ اس بچھڑے کو سامری نے بنایا اور انہیں اس کی عبادت میں لگا دیا ہے۔ اسرائیلی کتابوں میں ہے کہ سامری کا نام بھی ہارون تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمانے کے لیے تورات کی تختیاں لکھ لی گئی تھیں، جیسے فرمان ہے «وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ» ‏ [7-الأعراف:145] ‏۔ ” یعنی ہم نے اس کے لیے تختیوں میں ہر شے کا تذکرہ اور ہرچیز کی تفصیل لکھ دی تھی اور کہہ دیا کہ اسے مضبوطی سے تھام لو اور اپنی قوم سے بھی کہو کہ اس پر عمدگی سے عمل کریں۔ میں تمہیں عنقریب فاسقوں کا انجام دکھا دوں گا۔ “

موسیٰ علیہ السلام کو جب اپنی قوم کے مشرکانہ فعل کا علم ہوا تو سخت رنج ہوا اور غم و غصے میں بھرے ہوئے وہاں سے واپس قوم کی طرف چلے کہ دیکھو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے باوجود ایسے سخت احمقانہ اور مشرکانہ فعل کا ارتکاب کیا۔ غم و اندوہ، رنج و غصہ آپ کو بہت آیا۔

صفحہ نمبر5306

واپس آتے ہی کہنے لگے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تم سے تمام نیک وعدے کئے تھے، تمہارے ساتھ بڑے بڑے سلوک و انعام کئے لیکن ذرا سے وقفے میں تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھلا بیٹھے بلکہ تم نے وہ حرکت کی جس سے اللہ کا غضب تم پر اتر پڑا۔ تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا مطلق لحاظ نہ رکھا۔

اب بنی اسرائیل معذرت کرنے لگے کہ ہم نے یہ کام اپنے اختیار سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ جو زیور فرعونیوں کے ہمارے پاس مستعار لیے ہوئے تھے، ہم نے بہتر یہی سمجھا کہ انہیں پھینک دیں چنانچہ ہم نے سب کے سب بطور پرہیزگاری کے پھینک دئیے۔ ایک روایت میں ہے کہ خود ہارون علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود کر اس میں آگ جلا کر ان سے فرمایا کہ وہ زیور سب اس میں ڈال دو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہارون علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ سب زیور ایکجا ہو جائیں اور پگھل کر ایک ڈلا بن جائے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام آ جائیں جیسا وہ فرمائیں ویسا کیا جائے۔ سامری نے اس میں وہ مٹی ڈال دی جو اس نے اللہ کے قاصد کے نشان سے لی تھی اور ہارون علیہ السلام سے کہا، آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیئے کہ وہ میری خواہش قبول فرما لے، آپ کو کیا خبر تھی، آپ نے دعا کی۔ اس نے خواہش یہ کی کہ اس کا ایک بچھڑا بن جائے جس میں سے بچھڑے کی سی آوازبھی نکلے چنانچہ وہ بن گیا اور بنی اسرائیل کے فتنے کا باعث ہو گیا۔ پس فرمان ہے کہ اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا۔

صفحہ نمبر5307

ہارون علیہ السلام ایک مرتبہ سامری کے پاس سے گزرے، تو وہ اس بچھڑے کو ٹھیک ٹھاک کر رہا تھا۔ آپ نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا وہ چیز بنا رہا ہوں جو نقصان دے اور نفع نہ دے۔ آپ نے دعا کی اے اللہ! خود اسے ایسا ہی کر دے اور آپ وہاں سے تشریف لے گئے۔ سامری کی دعا سے یہ بچھڑا بنا اور آواز نکالنے لگا۔

بنی اسرائیل بہکاوے میں آ گئے اور اس کی پرستش شروع کر دی۔ اس کی آواز پر یہ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑتے اور دوسری آواز پر سجدے سے سر اٹھاتے۔ یہ گروہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بہکانے لگا کہ دراصل اللہ یہی ہے۔ موسیٰ بھول کر کہیں اور اس کی جستجو میں چل دئیے ہیں، وہ یہ کہنا بھول گئے کہ تمہارا رب یہی ہے۔ یہ لوگ مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔ ان کے دلوں میں اس کی محبت رچ گئی۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ سامری اپنے سچے اللہ کو اور اپنے پاک دین اسلام کو بھول بیٹھا۔ ان کی بیوقوفی دیکھئے کہ یہ اتنا نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا تو محض بے جان چیز ہے۔ ان کی کسی بات کا نہ تو جواب دے نہ سنے، نہ دنیا و آخرت کی کسی بات کا اسے اختیار نہ کوئی نفع نقصان اس کے ہاتھ میں۔ آواز جو نکلتی تھی، اس کی وجہ بھی صرف یہ تھی کہ پیچھے کے سوراخ میں سے ہوا گزر کر منہ کے راستے نکلتی تھی، اسی کی آواز آتی تھی۔ اس بچھڑے کا نام انہوں نے بہموت رکھ چھوڑا تھا۔ ان کی دوسری حماقت دیکھئے کہ چھوٹے گناہ سے بچنے کے لیے بڑا گناہ کر لیا۔ فرعونیوں کی امانتوں سے آزاد ہونے کے لیے شرک شروع کر دیا۔ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ کسی عراقی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کپڑے پر اگر مچھر کا خون لگ جائے تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ آپ نے فرمایا، ان عراقیوں کو دیکھو، بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر کو تو قتل کر دیں اور مچھر کے خون کے مسئلے پوچھتے پھریں؟ [صحیح بخاری:5994] ‏

صفحہ نمبر5308

بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭

موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے، موسیٰ (‏علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو، یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے۔ پورے چالیس ہو گئے، دن رات روزے سے رہتے تھے۔ اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے۔ بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی ہیں، آ رہے ہیں، میں نے جلدی کی ہے کہ تیری رضا مندی حاصل کر لوں اور اس میں بڑھ جاؤں۔

صفحہ نمبر5305

موسی علیہ السلام کے بعد پھر شرک ٭٭

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے چلے آنے کے بعد تیری قوم میں نیا فتنہ برپا ہوا اور انہوں نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی ہے۔ اس بچھڑے کو سامری نے بنایا اور انہیں اس کی عبادت میں لگا دیا ہے۔ اسرائیلی کتابوں میں ہے کہ سامری کا نام بھی ہارون تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمانے کے لیے تورات کی تختیاں لکھ لی گئی تھیں، جیسے فرمان ہے «وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ» ‏ [7-الأعراف:145] ‏۔ ” یعنی ہم نے اس کے لیے تختیوں میں ہر شے کا تذکرہ اور ہرچیز کی تفصیل لکھ دی تھی اور کہہ دیا کہ اسے مضبوطی سے تھام لو اور اپنی قوم سے بھی کہو کہ اس پر عمدگی سے عمل کریں۔ میں تمہیں عنقریب فاسقوں کا انجام دکھا دوں گا۔ “

موسیٰ علیہ السلام کو جب اپنی قوم کے مشرکانہ فعل کا علم ہوا تو سخت رنج ہوا اور غم و غصے میں بھرے ہوئے وہاں سے واپس قوم کی طرف چلے کہ دیکھو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے باوجود ایسے سخت احمقانہ اور مشرکانہ فعل کا ارتکاب کیا۔ غم و اندوہ، رنج و غصہ آپ کو بہت آیا۔

صفحہ نمبر5306

واپس آتے ہی کہنے لگے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تم سے تمام نیک وعدے کئے تھے، تمہارے ساتھ بڑے بڑے سلوک و انعام کئے لیکن ذرا سے وقفے میں تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھلا بیٹھے بلکہ تم نے وہ حرکت کی جس سے اللہ کا غضب تم پر اتر پڑا۔ تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا مطلق لحاظ نہ رکھا۔

اب بنی اسرائیل معذرت کرنے لگے کہ ہم نے یہ کام اپنے اختیار سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ جو زیور فرعونیوں کے ہمارے پاس مستعار لیے ہوئے تھے، ہم نے بہتر یہی سمجھا کہ انہیں پھینک دیں چنانچہ ہم نے سب کے سب بطور پرہیزگاری کے پھینک دئیے۔ ایک روایت میں ہے کہ خود ہارون علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود کر اس میں آگ جلا کر ان سے فرمایا کہ وہ زیور سب اس میں ڈال دو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہارون علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ سب زیور ایکجا ہو جائیں اور پگھل کر ایک ڈلا بن جائے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام آ جائیں جیسا وہ فرمائیں ویسا کیا جائے۔ سامری نے اس میں وہ مٹی ڈال دی جو اس نے اللہ کے قاصد کے نشان سے لی تھی اور ہارون علیہ السلام سے کہا، آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیئے کہ وہ میری خواہش قبول فرما لے، آپ کو کیا خبر تھی، آپ نے دعا کی۔ اس نے خواہش یہ کی کہ اس کا ایک بچھڑا بن جائے جس میں سے بچھڑے کی سی آوازبھی نکلے چنانچہ وہ بن گیا اور بنی اسرائیل کے فتنے کا باعث ہو گیا۔ پس فرمان ہے کہ اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا۔

صفحہ نمبر5307

ہارون علیہ السلام ایک مرتبہ سامری کے پاس سے گزرے، تو وہ اس بچھڑے کو ٹھیک ٹھاک کر رہا تھا۔ آپ نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا وہ چیز بنا رہا ہوں جو نقصان دے اور نفع نہ دے۔ آپ نے دعا کی اے اللہ! خود اسے ایسا ہی کر دے اور آپ وہاں سے تشریف لے گئے۔ سامری کی دعا سے یہ بچھڑا بنا اور آواز نکالنے لگا۔

بنی اسرائیل بہکاوے میں آ گئے اور اس کی پرستش شروع کر دی۔ اس کی آواز پر یہ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑتے اور دوسری آواز پر سجدے سے سر اٹھاتے۔ یہ گروہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بہکانے لگا کہ دراصل اللہ یہی ہے۔ موسیٰ بھول کر کہیں اور اس کی جستجو میں چل دئیے ہیں، وہ یہ کہنا بھول گئے کہ تمہارا رب یہی ہے۔ یہ لوگ مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔ ان کے دلوں میں اس کی محبت رچ گئی۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ سامری اپنے سچے اللہ کو اور اپنے پاک دین اسلام کو بھول بیٹھا۔ ان کی بیوقوفی دیکھئے کہ یہ اتنا نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا تو محض بے جان چیز ہے۔ ان کی کسی بات کا نہ تو جواب دے نہ سنے، نہ دنیا و آخرت کی کسی بات کا اسے اختیار نہ کوئی نفع نقصان اس کے ہاتھ میں۔ آواز جو نکلتی تھی، اس کی وجہ بھی صرف یہ تھی کہ پیچھے کے سوراخ میں سے ہوا گزر کر منہ کے راستے نکلتی تھی، اسی کی آواز آتی تھی۔ اس بچھڑے کا نام انہوں نے بہموت رکھ چھوڑا تھا۔ ان کی دوسری حماقت دیکھئے کہ چھوٹے گناہ سے بچنے کے لیے بڑا گناہ کر لیا۔ فرعونیوں کی امانتوں سے آزاد ہونے کے لیے شرک شروع کر دیا۔ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ کسی عراقی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کپڑے پر اگر مچھر کا خون لگ جائے تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ آپ نے فرمایا، ان عراقیوں کو دیکھو، بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر کو تو قتل کر دیں اور مچھر کے خون کے مسئلے پوچھتے پھریں؟ [صحیح بخاری:5994] ‏

صفحہ نمبر5308

بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭

موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے، موسیٰ (‏علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو، یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے۔ پورے چالیس ہو گئے، دن رات روزے سے رہتے تھے۔ اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے۔ بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی ہیں، آ رہے ہیں، میں نے جلدی کی ہے کہ تیری رضا مندی حاصل کر لوں اور اس میں بڑھ جاؤں۔

صفحہ نمبر5305

موسی علیہ السلام کے بعد پھر شرک ٭٭

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے چلے آنے کے بعد تیری قوم میں نیا فتنہ برپا ہوا اور انہوں نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی ہے۔ اس بچھڑے کو سامری نے بنایا اور انہیں اس کی عبادت میں لگا دیا ہے۔ اسرائیلی کتابوں میں ہے کہ سامری کا نام بھی ہارون تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمانے کے لیے تورات کی تختیاں لکھ لی گئی تھیں، جیسے فرمان ہے «وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ» ‏ [7-الأعراف:145] ‏۔ ” یعنی ہم نے اس کے لیے تختیوں میں ہر شے کا تذکرہ اور ہرچیز کی تفصیل لکھ دی تھی اور کہہ دیا کہ اسے مضبوطی سے تھام لو اور اپنی قوم سے بھی کہو کہ اس پر عمدگی سے عمل کریں۔ میں تمہیں عنقریب فاسقوں کا انجام دکھا دوں گا۔ “

موسیٰ علیہ السلام کو جب اپنی قوم کے مشرکانہ فعل کا علم ہوا تو سخت رنج ہوا اور غم و غصے میں بھرے ہوئے وہاں سے واپس قوم کی طرف چلے کہ دیکھو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے باوجود ایسے سخت احمقانہ اور مشرکانہ فعل کا ارتکاب کیا۔ غم و اندوہ، رنج و غصہ آپ کو بہت آیا۔

صفحہ نمبر5306

واپس آتے ہی کہنے لگے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تم سے تمام نیک وعدے کئے تھے، تمہارے ساتھ بڑے بڑے سلوک و انعام کئے لیکن ذرا سے وقفے میں تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھلا بیٹھے بلکہ تم نے وہ حرکت کی جس سے اللہ کا غضب تم پر اتر پڑا۔ تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا مطلق لحاظ نہ رکھا۔

اب بنی اسرائیل معذرت کرنے لگے کہ ہم نے یہ کام اپنے اختیار سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ جو زیور فرعونیوں کے ہمارے پاس مستعار لیے ہوئے تھے، ہم نے بہتر یہی سمجھا کہ انہیں پھینک دیں چنانچہ ہم نے سب کے سب بطور پرہیزگاری کے پھینک دئیے۔ ایک روایت میں ہے کہ خود ہارون علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود کر اس میں آگ جلا کر ان سے فرمایا کہ وہ زیور سب اس میں ڈال دو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہارون علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ سب زیور ایکجا ہو جائیں اور پگھل کر ایک ڈلا بن جائے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام آ جائیں جیسا وہ فرمائیں ویسا کیا جائے۔ سامری نے اس میں وہ مٹی ڈال دی جو اس نے اللہ کے قاصد کے نشان سے لی تھی اور ہارون علیہ السلام سے کہا، آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیئے کہ وہ میری خواہش قبول فرما لے، آپ کو کیا خبر تھی، آپ نے دعا کی۔ اس نے خواہش یہ کی کہ اس کا ایک بچھڑا بن جائے جس میں سے بچھڑے کی سی آوازبھی نکلے چنانچہ وہ بن گیا اور بنی اسرائیل کے فتنے کا باعث ہو گیا۔ پس فرمان ہے کہ اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا۔

صفحہ نمبر5307

ہارون علیہ السلام ایک مرتبہ سامری کے پاس سے گزرے، تو وہ اس بچھڑے کو ٹھیک ٹھاک کر رہا تھا۔ آپ نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا وہ چیز بنا رہا ہوں جو نقصان دے اور نفع نہ دے۔ آپ نے دعا کی اے اللہ! خود اسے ایسا ہی کر دے اور آپ وہاں سے تشریف لے گئے۔ سامری کی دعا سے یہ بچھڑا بنا اور آواز نکالنے لگا۔

بنی اسرائیل بہکاوے میں آ گئے اور اس کی پرستش شروع کر دی۔ اس کی آواز پر یہ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑتے اور دوسری آواز پر سجدے سے سر اٹھاتے۔ یہ گروہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بہکانے لگا کہ دراصل اللہ یہی ہے۔ موسیٰ بھول کر کہیں اور اس کی جستجو میں چل دئیے ہیں، وہ یہ کہنا بھول گئے کہ تمہارا رب یہی ہے۔ یہ لوگ مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔ ان کے دلوں میں اس کی محبت رچ گئی۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ سامری اپنے سچے اللہ کو اور اپنے پاک دین اسلام کو بھول بیٹھا۔ ان کی بیوقوفی دیکھئے کہ یہ اتنا نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا تو محض بے جان چیز ہے۔ ان کی کسی بات کا نہ تو جواب دے نہ سنے، نہ دنیا و آخرت کی کسی بات کا اسے اختیار نہ کوئی نفع نقصان اس کے ہاتھ میں۔ آواز جو نکلتی تھی، اس کی وجہ بھی صرف یہ تھی کہ پیچھے کے سوراخ میں سے ہوا گزر کر منہ کے راستے نکلتی تھی، اسی کی آواز آتی تھی۔ اس بچھڑے کا نام انہوں نے بہموت رکھ چھوڑا تھا۔ ان کی دوسری حماقت دیکھئے کہ چھوٹے گناہ سے بچنے کے لیے بڑا گناہ کر لیا۔ فرعونیوں کی امانتوں سے آزاد ہونے کے لیے شرک شروع کر دیا۔ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ کسی عراقی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کپڑے پر اگر مچھر کا خون لگ جائے تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ آپ نے فرمایا، ان عراقیوں کو دیکھو، بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر کو تو قتل کر دیں اور مچھر کے خون کے مسئلے پوچھتے پھریں؟ [صحیح بخاری:5994] ‏

صفحہ نمبر5308

بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭

موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے، موسیٰ (‏علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو، یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے۔ پورے چالیس ہو گئے، دن رات روزے سے رہتے تھے۔ اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے۔ بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی ہیں، آ رہے ہیں، میں نے جلدی کی ہے کہ تیری رضا مندی حاصل کر لوں اور اس میں بڑھ جاؤں۔

صفحہ نمبر5305

موسی علیہ السلام کے بعد پھر شرک ٭٭

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے چلے آنے کے بعد تیری قوم میں نیا فتنہ برپا ہوا اور انہوں نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی ہے۔ اس بچھڑے کو سامری نے بنایا اور انہیں اس کی عبادت میں لگا دیا ہے۔ اسرائیلی کتابوں میں ہے کہ سامری کا نام بھی ہارون تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمانے کے لیے تورات کی تختیاں لکھ لی گئی تھیں، جیسے فرمان ہے «وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ» ‏ [7-الأعراف:145] ‏۔ ” یعنی ہم نے اس کے لیے تختیوں میں ہر شے کا تذکرہ اور ہرچیز کی تفصیل لکھ دی تھی اور کہہ دیا کہ اسے مضبوطی سے تھام لو اور اپنی قوم سے بھی کہو کہ اس پر عمدگی سے عمل کریں۔ میں تمہیں عنقریب فاسقوں کا انجام دکھا دوں گا۔ “

موسیٰ علیہ السلام کو جب اپنی قوم کے مشرکانہ فعل کا علم ہوا تو سخت رنج ہوا اور غم و غصے میں بھرے ہوئے وہاں سے واپس قوم کی طرف چلے کہ دیکھو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے باوجود ایسے سخت احمقانہ اور مشرکانہ فعل کا ارتکاب کیا۔ غم و اندوہ، رنج و غصہ آپ کو بہت آیا۔

صفحہ نمبر5306

واپس آتے ہی کہنے لگے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تم سے تمام نیک وعدے کئے تھے، تمہارے ساتھ بڑے بڑے سلوک و انعام کئے لیکن ذرا سے وقفے میں تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھلا بیٹھے بلکہ تم نے وہ حرکت کی جس سے اللہ کا غضب تم پر اتر پڑا۔ تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا مطلق لحاظ نہ رکھا۔

اب بنی اسرائیل معذرت کرنے لگے کہ ہم نے یہ کام اپنے اختیار سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ جو زیور فرعونیوں کے ہمارے پاس مستعار لیے ہوئے تھے، ہم نے بہتر یہی سمجھا کہ انہیں پھینک دیں چنانچہ ہم نے سب کے سب بطور پرہیزگاری کے پھینک دئیے۔ ایک روایت میں ہے کہ خود ہارون علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود کر اس میں آگ جلا کر ان سے فرمایا کہ وہ زیور سب اس میں ڈال دو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہارون علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ سب زیور ایکجا ہو جائیں اور پگھل کر ایک ڈلا بن جائے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام آ جائیں جیسا وہ فرمائیں ویسا کیا جائے۔ سامری نے اس میں وہ مٹی ڈال دی جو اس نے اللہ کے قاصد کے نشان سے لی تھی اور ہارون علیہ السلام سے کہا، آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیئے کہ وہ میری خواہش قبول فرما لے، آپ کو کیا خبر تھی، آپ نے دعا کی۔ اس نے خواہش یہ کی کہ اس کا ایک بچھڑا بن جائے جس میں سے بچھڑے کی سی آوازبھی نکلے چنانچہ وہ بن گیا اور بنی اسرائیل کے فتنے کا باعث ہو گیا۔ پس فرمان ہے کہ اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا۔

صفحہ نمبر5307

ہارون علیہ السلام ایک مرتبہ سامری کے پاس سے گزرے، تو وہ اس بچھڑے کو ٹھیک ٹھاک کر رہا تھا۔ آپ نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا وہ چیز بنا رہا ہوں جو نقصان دے اور نفع نہ دے۔ آپ نے دعا کی اے اللہ! خود اسے ایسا ہی کر دے اور آپ وہاں سے تشریف لے گئے۔ سامری کی دعا سے یہ بچھڑا بنا اور آواز نکالنے لگا۔

بنی اسرائیل بہکاوے میں آ گئے اور اس کی پرستش شروع کر دی۔ اس کی آواز پر یہ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑتے اور دوسری آواز پر سجدے سے سر اٹھاتے۔ یہ گروہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بہکانے لگا کہ دراصل اللہ یہی ہے۔ موسیٰ بھول کر کہیں اور اس کی جستجو میں چل دئیے ہیں، وہ یہ کہنا بھول گئے کہ تمہارا رب یہی ہے۔ یہ لوگ مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔ ان کے دلوں میں اس کی محبت رچ گئی۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ سامری اپنے سچے اللہ کو اور اپنے پاک دین اسلام کو بھول بیٹھا۔ ان کی بیوقوفی دیکھئے کہ یہ اتنا نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا تو محض بے جان چیز ہے۔ ان کی کسی بات کا نہ تو جواب دے نہ سنے، نہ دنیا و آخرت کی کسی بات کا اسے اختیار نہ کوئی نفع نقصان اس کے ہاتھ میں۔ آواز جو نکلتی تھی، اس کی وجہ بھی صرف یہ تھی کہ پیچھے کے سوراخ میں سے ہوا گزر کر منہ کے راستے نکلتی تھی، اسی کی آواز آتی تھی۔ اس بچھڑے کا نام انہوں نے بہموت رکھ چھوڑا تھا۔ ان کی دوسری حماقت دیکھئے کہ چھوٹے گناہ سے بچنے کے لیے بڑا گناہ کر لیا۔ فرعونیوں کی امانتوں سے آزاد ہونے کے لیے شرک شروع کر دیا۔ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ کسی عراقی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کپڑے پر اگر مچھر کا خون لگ جائے تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ آپ نے فرمایا، ان عراقیوں کو دیکھو، بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر کو تو قتل کر دیں اور مچھر کے خون کے مسئلے پوچھتے پھریں؟ [صحیح بخاری:5994] ‏

صفحہ نمبر5308

بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭

موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے، موسیٰ (‏علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو، یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے۔ پورے چالیس ہو گئے، دن رات روزے سے رہتے تھے۔ اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے۔ بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی ہیں، آ رہے ہیں، میں نے جلدی کی ہے کہ تیری رضا مندی حاصل کر لوں اور اس میں بڑھ جاؤں۔

صفحہ نمبر5305

موسی علیہ السلام کے بعد پھر شرک ٭٭

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے چلے آنے کے بعد تیری قوم میں نیا فتنہ برپا ہوا اور انہوں نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی ہے۔ اس بچھڑے کو سامری نے بنایا اور انہیں اس کی عبادت میں لگا دیا ہے۔ اسرائیلی کتابوں میں ہے کہ سامری کا نام بھی ہارون تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمانے کے لیے تورات کی تختیاں لکھ لی گئی تھیں، جیسے فرمان ہے «وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ» ‏ [7-الأعراف:145] ‏۔ ” یعنی ہم نے اس کے لیے تختیوں میں ہر شے کا تذکرہ اور ہرچیز کی تفصیل لکھ دی تھی اور کہہ دیا کہ اسے مضبوطی سے تھام لو اور اپنی قوم سے بھی کہو کہ اس پر عمدگی سے عمل کریں۔ میں تمہیں عنقریب فاسقوں کا انجام دکھا دوں گا۔ “

موسیٰ علیہ السلام کو جب اپنی قوم کے مشرکانہ فعل کا علم ہوا تو سخت رنج ہوا اور غم و غصے میں بھرے ہوئے وہاں سے واپس قوم کی طرف چلے کہ دیکھو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے باوجود ایسے سخت احمقانہ اور مشرکانہ فعل کا ارتکاب کیا۔ غم و اندوہ، رنج و غصہ آپ کو بہت آیا۔

صفحہ نمبر5306

واپس آتے ہی کہنے لگے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تم سے تمام نیک وعدے کئے تھے، تمہارے ساتھ بڑے بڑے سلوک و انعام کئے لیکن ذرا سے وقفے میں تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھلا بیٹھے بلکہ تم نے وہ حرکت کی جس سے اللہ کا غضب تم پر اتر پڑا۔ تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا مطلق لحاظ نہ رکھا۔

اب بنی اسرائیل معذرت کرنے لگے کہ ہم نے یہ کام اپنے اختیار سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ جو زیور فرعونیوں کے ہمارے پاس مستعار لیے ہوئے تھے، ہم نے بہتر یہی سمجھا کہ انہیں پھینک دیں چنانچہ ہم نے سب کے سب بطور پرہیزگاری کے پھینک دئیے۔ ایک روایت میں ہے کہ خود ہارون علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود کر اس میں آگ جلا کر ان سے فرمایا کہ وہ زیور سب اس میں ڈال دو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہارون علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ سب زیور ایکجا ہو جائیں اور پگھل کر ایک ڈلا بن جائے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام آ جائیں جیسا وہ فرمائیں ویسا کیا جائے۔ سامری نے اس میں وہ مٹی ڈال دی جو اس نے اللہ کے قاصد کے نشان سے لی تھی اور ہارون علیہ السلام سے کہا، آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیئے کہ وہ میری خواہش قبول فرما لے، آپ کو کیا خبر تھی، آپ نے دعا کی۔ اس نے خواہش یہ کی کہ اس کا ایک بچھڑا بن جائے جس میں سے بچھڑے کی سی آوازبھی نکلے چنانچہ وہ بن گیا اور بنی اسرائیل کے فتنے کا باعث ہو گیا۔ پس فرمان ہے کہ اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا۔

صفحہ نمبر5307

ہارون علیہ السلام ایک مرتبہ سامری کے پاس سے گزرے، تو وہ اس بچھڑے کو ٹھیک ٹھاک کر رہا تھا۔ آپ نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا وہ چیز بنا رہا ہوں جو نقصان دے اور نفع نہ دے۔ آپ نے دعا کی اے اللہ! خود اسے ایسا ہی کر دے اور آپ وہاں سے تشریف لے گئے۔ سامری کی دعا سے یہ بچھڑا بنا اور آواز نکالنے لگا۔

بنی اسرائیل بہکاوے میں آ گئے اور اس کی پرستش شروع کر دی۔ اس کی آواز پر یہ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑتے اور دوسری آواز پر سجدے سے سر اٹھاتے۔ یہ گروہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بہکانے لگا کہ دراصل اللہ یہی ہے۔ موسیٰ بھول کر کہیں اور اس کی جستجو میں چل دئیے ہیں، وہ یہ کہنا بھول گئے کہ تمہارا رب یہی ہے۔ یہ لوگ مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔ ان کے دلوں میں اس کی محبت رچ گئی۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ سامری اپنے سچے اللہ کو اور اپنے پاک دین اسلام کو بھول بیٹھا۔ ان کی بیوقوفی دیکھئے کہ یہ اتنا نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا تو محض بے جان چیز ہے۔ ان کی کسی بات کا نہ تو جواب دے نہ سنے، نہ دنیا و آخرت کی کسی بات کا اسے اختیار نہ کوئی نفع نقصان اس کے ہاتھ میں۔ آواز جو نکلتی تھی، اس کی وجہ بھی صرف یہ تھی کہ پیچھے کے سوراخ میں سے ہوا گزر کر منہ کے راستے نکلتی تھی، اسی کی آواز آتی تھی۔ اس بچھڑے کا نام انہوں نے بہموت رکھ چھوڑا تھا۔ ان کی دوسری حماقت دیکھئے کہ چھوٹے گناہ سے بچنے کے لیے بڑا گناہ کر لیا۔ فرعونیوں کی امانتوں سے آزاد ہونے کے لیے شرک شروع کر دیا۔ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ کسی عراقی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کپڑے پر اگر مچھر کا خون لگ جائے تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ آپ نے فرمایا، ان عراقیوں کو دیکھو، بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر کو تو قتل کر دیں اور مچھر کے خون کے مسئلے پوچھتے پھریں؟ [صحیح بخاری:5994] ‏

صفحہ نمبر5308

بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭

موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے، موسیٰ (‏علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو، یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے۔ پورے چالیس ہو گئے، دن رات روزے سے رہتے تھے۔ اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے۔ بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی ہیں، آ رہے ہیں، میں نے جلدی کی ہے کہ تیری رضا مندی حاصل کر لوں اور اس میں بڑھ جاؤں۔

صفحہ نمبر5305

موسی علیہ السلام کے بعد پھر شرک ٭٭

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے چلے آنے کے بعد تیری قوم میں نیا فتنہ برپا ہوا اور انہوں نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی ہے۔ اس بچھڑے کو سامری نے بنایا اور انہیں اس کی عبادت میں لگا دیا ہے۔ اسرائیلی کتابوں میں ہے کہ سامری کا نام بھی ہارون تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمانے کے لیے تورات کی تختیاں لکھ لی گئی تھیں، جیسے فرمان ہے «وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ» ‏ [7-الأعراف:145] ‏۔ ” یعنی ہم نے اس کے لیے تختیوں میں ہر شے کا تذکرہ اور ہرچیز کی تفصیل لکھ دی تھی اور کہہ دیا کہ اسے مضبوطی سے تھام لو اور اپنی قوم سے بھی کہو کہ اس پر عمدگی سے عمل کریں۔ میں تمہیں عنقریب فاسقوں کا انجام دکھا دوں گا۔ “

موسیٰ علیہ السلام کو جب اپنی قوم کے مشرکانہ فعل کا علم ہوا تو سخت رنج ہوا اور غم و غصے میں بھرے ہوئے وہاں سے واپس قوم کی طرف چلے کہ دیکھو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے باوجود ایسے سخت احمقانہ اور مشرکانہ فعل کا ارتکاب کیا۔ غم و اندوہ، رنج و غصہ آپ کو بہت آیا۔

صفحہ نمبر5306

واپس آتے ہی کہنے لگے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تم سے تمام نیک وعدے کئے تھے، تمہارے ساتھ بڑے بڑے سلوک و انعام کئے لیکن ذرا سے وقفے میں تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھلا بیٹھے بلکہ تم نے وہ حرکت کی جس سے اللہ کا غضب تم پر اتر پڑا۔ تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا مطلق لحاظ نہ رکھا۔

اب بنی اسرائیل معذرت کرنے لگے کہ ہم نے یہ کام اپنے اختیار سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ جو زیور فرعونیوں کے ہمارے پاس مستعار لیے ہوئے تھے، ہم نے بہتر یہی سمجھا کہ انہیں پھینک دیں چنانچہ ہم نے سب کے سب بطور پرہیزگاری کے پھینک دئیے۔ ایک روایت میں ہے کہ خود ہارون علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود کر اس میں آگ جلا کر ان سے فرمایا کہ وہ زیور سب اس میں ڈال دو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہارون علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ سب زیور ایکجا ہو جائیں اور پگھل کر ایک ڈلا بن جائے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام آ جائیں جیسا وہ فرمائیں ویسا کیا جائے۔ سامری نے اس میں وہ مٹی ڈال دی جو اس نے اللہ کے قاصد کے نشان سے لی تھی اور ہارون علیہ السلام سے کہا، آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیئے کہ وہ میری خواہش قبول فرما لے، آپ کو کیا خبر تھی، آپ نے دعا کی۔ اس نے خواہش یہ کی کہ اس کا ایک بچھڑا بن جائے جس میں سے بچھڑے کی سی آوازبھی نکلے چنانچہ وہ بن گیا اور بنی اسرائیل کے فتنے کا باعث ہو گیا۔ پس فرمان ہے کہ اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا۔

صفحہ نمبر5307

ہارون علیہ السلام ایک مرتبہ سامری کے پاس سے گزرے، تو وہ اس بچھڑے کو ٹھیک ٹھاک کر رہا تھا۔ آپ نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا وہ چیز بنا رہا ہوں جو نقصان دے اور نفع نہ دے۔ آپ نے دعا کی اے اللہ! خود اسے ایسا ہی کر دے اور آپ وہاں سے تشریف لے گئے۔ سامری کی دعا سے یہ بچھڑا بنا اور آواز نکالنے لگا۔

بنی اسرائیل بہکاوے میں آ گئے اور اس کی پرستش شروع کر دی۔ اس کی آواز پر یہ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑتے اور دوسری آواز پر سجدے سے سر اٹھاتے۔ یہ گروہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بہکانے لگا کہ دراصل اللہ یہی ہے۔ موسیٰ بھول کر کہیں اور اس کی جستجو میں چل دئیے ہیں، وہ یہ کہنا بھول گئے کہ تمہارا رب یہی ہے۔ یہ لوگ مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔ ان کے دلوں میں اس کی محبت رچ گئی۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ سامری اپنے سچے اللہ کو اور اپنے پاک دین اسلام کو بھول بیٹھا۔ ان کی بیوقوفی دیکھئے کہ یہ اتنا نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا تو محض بے جان چیز ہے۔ ان کی کسی بات کا نہ تو جواب دے نہ سنے، نہ دنیا و آخرت کی کسی بات کا اسے اختیار نہ کوئی نفع نقصان اس کے ہاتھ میں۔ آواز جو نکلتی تھی، اس کی وجہ بھی صرف یہ تھی کہ پیچھے کے سوراخ میں سے ہوا گزر کر منہ کے راستے نکلتی تھی، اسی کی آواز آتی تھی۔ اس بچھڑے کا نام انہوں نے بہموت رکھ چھوڑا تھا۔ ان کی دوسری حماقت دیکھئے کہ چھوٹے گناہ سے بچنے کے لیے بڑا گناہ کر لیا۔ فرعونیوں کی امانتوں سے آزاد ہونے کے لیے شرک شروع کر دیا۔ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ کسی عراقی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کپڑے پر اگر مچھر کا خون لگ جائے تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ آپ نے فرمایا، ان عراقیوں کو دیکھو، بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر کو تو قتل کر دیں اور مچھر کے خون کے مسئلے پوچھتے پھریں؟ [صحیح بخاری:5994] ‏

صفحہ نمبر5308

بنی اسرائیل اور ہارون علیہ السلام ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کے آنے سے پہلے ہارون علیہ السلام نے انہیں ہر چند سمجھایا بجھایا کہ دیکھو فتنے میں نہ پڑو۔ اللہ رحمان کے سوا اور کسی کے سامنے نہ جھکو۔ وہ ہرچیز کا خالق و مالک ہے، سب کا اندازہ مقرر کرنے والا وہی ہے، وہی عرش مجید کا مالک ہے، وہی جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔ تم میری تابعداری اور حکم برداری کرتے رہو۔ جو میں کہوں وہ بجا لاؤ، جس سے روکوں رک جاؤ۔ لیکن ان سرکشوں نے جواب دیا کہ موسیٰ علیہ السلام کی سن کر تو خیر ہم مان لیں گے۔ تب تک تو ہم اس کی پرستش نہیں چھوڑیں گے۔ چنانچہ لڑنے اور مرنے مارنے کے واسطے تیار ہو گئے۔

صفحہ نمبر5315

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com