John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Taa-Haa

Tafsir Ibn Kathir · Taa-Haa · 135 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

تفسیر سورۃ طہ:

امام الائمہ محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب التوحید میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ایک ہزار سال پہلے سورۃ طہ اور سورۃ یاسین کی تلاوت فرمائی، جسے سن کر فرشتے کہنے لگے وہ امت بہت ہی خوش نصیب ہے جس پر یہ کلام نزل ہو گا۔ وہ زبانیں یقیناً مستحق مبارکباد ہیں جن سے کلام اللہ کے یہ الفاظ ادا ہوں گے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:476/2:ضعیف و موضوع] ‏ یہ روایت غریب ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اور اس کے راوی ابراہیم بن مہاجر اور ان کے استاد پر جرح بھی ہے۔

علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭

سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے] ‏

یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:71] ‏

صفحہ نمبر5176

حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف] ‏

پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» [73-المزمل:20] ‏ ” جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو “

یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5177

حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔

تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔

صفحہ نمبر5178

حدیث میں ہے ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف] ‏

مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں،

وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔

صفحہ نمبر5179

آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً] ‏

یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔

صفحہ نمبر5180

جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6] ‏ ” اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ “

ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔

صفحہ نمبر5181

تفسیر سورۃ طہ:

امام الائمہ محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب التوحید میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ایک ہزار سال پہلے سورۃ طہ اور سورۃ یاسین کی تلاوت فرمائی، جسے سن کر فرشتے کہنے لگے وہ امت بہت ہی خوش نصیب ہے جس پر یہ کلام نزل ہو گا۔ وہ زبانیں یقیناً مستحق مبارکباد ہیں جن سے کلام اللہ کے یہ الفاظ ادا ہوں گے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:476/2:ضعیف و موضوع] ‏ یہ روایت غریب ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اور اس کے راوی ابراہیم بن مہاجر اور ان کے استاد پر جرح بھی ہے۔

علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭

سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے] ‏

یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:71] ‏

صفحہ نمبر5176

حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف] ‏

پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» [73-المزمل:20] ‏ ” جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو “

یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5177

حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔

تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔

صفحہ نمبر5178

حدیث میں ہے ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف] ‏

مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں،

وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔

صفحہ نمبر5179

آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً] ‏

یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔

صفحہ نمبر5180

جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6] ‏ ” اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ “

ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔

صفحہ نمبر5181

تفسیر سورۃ طہ:

امام الائمہ محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب التوحید میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ایک ہزار سال پہلے سورۃ طہ اور سورۃ یاسین کی تلاوت فرمائی، جسے سن کر فرشتے کہنے لگے وہ امت بہت ہی خوش نصیب ہے جس پر یہ کلام نزل ہو گا۔ وہ زبانیں یقیناً مستحق مبارکباد ہیں جن سے کلام اللہ کے یہ الفاظ ادا ہوں گے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:476/2:ضعیف و موضوع] ‏ یہ روایت غریب ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اور اس کے راوی ابراہیم بن مہاجر اور ان کے استاد پر جرح بھی ہے۔

علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭

سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے] ‏

یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:71] ‏

صفحہ نمبر5176

حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف] ‏

پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» [73-المزمل:20] ‏ ” جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو “

یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5177

حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔

تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔

صفحہ نمبر5178

حدیث میں ہے ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف] ‏

مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں،

وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔

صفحہ نمبر5179

آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً] ‏

یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔

صفحہ نمبر5180

جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6] ‏ ” اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ “

ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔

صفحہ نمبر5181

تفسیر سورۃ طہ:

امام الائمہ محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب التوحید میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ایک ہزار سال پہلے سورۃ طہ اور سورۃ یاسین کی تلاوت فرمائی، جسے سن کر فرشتے کہنے لگے وہ امت بہت ہی خوش نصیب ہے جس پر یہ کلام نزل ہو گا۔ وہ زبانیں یقیناً مستحق مبارکباد ہیں جن سے کلام اللہ کے یہ الفاظ ادا ہوں گے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:476/2:ضعیف و موضوع] ‏ یہ روایت غریب ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اور اس کے راوی ابراہیم بن مہاجر اور ان کے استاد پر جرح بھی ہے۔

علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭

سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے] ‏

یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:71] ‏

صفحہ نمبر5176

حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف] ‏

پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» [73-المزمل:20] ‏ ” جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو “

یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5177

حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔

تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔

صفحہ نمبر5178

حدیث میں ہے ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف] ‏

مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں،

وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔

صفحہ نمبر5179

آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً] ‏

یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔

صفحہ نمبر5180

جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6] ‏ ” اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ “

ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔

صفحہ نمبر5181

تفسیر سورۃ طہ:

امام الائمہ محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب التوحید میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ایک ہزار سال پہلے سورۃ طہ اور سورۃ یاسین کی تلاوت فرمائی، جسے سن کر فرشتے کہنے لگے وہ امت بہت ہی خوش نصیب ہے جس پر یہ کلام نزل ہو گا۔ وہ زبانیں یقیناً مستحق مبارکباد ہیں جن سے کلام اللہ کے یہ الفاظ ادا ہوں گے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:476/2:ضعیف و موضوع] ‏ یہ روایت غریب ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اور اس کے راوی ابراہیم بن مہاجر اور ان کے استاد پر جرح بھی ہے۔

علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭

سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے] ‏

یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:71] ‏

صفحہ نمبر5176

حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف] ‏

پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» [73-المزمل:20] ‏ ” جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو “

یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5177

حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔

تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔

صفحہ نمبر5178

حدیث میں ہے ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف] ‏

مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں،

وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔

صفحہ نمبر5179

آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً] ‏

یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔

صفحہ نمبر5180

جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6] ‏ ” اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ “

ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔

صفحہ نمبر5181

تفسیر سورۃ طہ:

امام الائمہ محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب التوحید میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ایک ہزار سال پہلے سورۃ طہ اور سورۃ یاسین کی تلاوت فرمائی، جسے سن کر فرشتے کہنے لگے وہ امت بہت ہی خوش نصیب ہے جس پر یہ کلام نزل ہو گا۔ وہ زبانیں یقیناً مستحق مبارکباد ہیں جن سے کلام اللہ کے یہ الفاظ ادا ہوں گے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:476/2:ضعیف و موضوع] ‏ یہ روایت غریب ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اور اس کے راوی ابراہیم بن مہاجر اور ان کے استاد پر جرح بھی ہے۔

علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭

سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے] ‏

یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:71] ‏

صفحہ نمبر5176

حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف] ‏

پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» [73-المزمل:20] ‏ ” جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو “

یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5177

حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔

تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔

صفحہ نمبر5178

حدیث میں ہے ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف] ‏

مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں،

وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔

صفحہ نمبر5179

آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً] ‏

یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔

صفحہ نمبر5180

جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6] ‏ ” اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ “

ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔

صفحہ نمبر5181

تفسیر سورۃ طہ:

امام الائمہ محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب التوحید میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ایک ہزار سال پہلے سورۃ طہ اور سورۃ یاسین کی تلاوت فرمائی، جسے سن کر فرشتے کہنے لگے وہ امت بہت ہی خوش نصیب ہے جس پر یہ کلام نزل ہو گا۔ وہ زبانیں یقیناً مستحق مبارکباد ہیں جن سے کلام اللہ کے یہ الفاظ ادا ہوں گے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:476/2:ضعیف و موضوع] ‏ یہ روایت غریب ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اور اس کے راوی ابراہیم بن مہاجر اور ان کے استاد پر جرح بھی ہے۔

علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭

سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے] ‏

یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:71] ‏

صفحہ نمبر5176

حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف] ‏

پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» [73-المزمل:20] ‏ ” جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو “

یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5177

حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔

تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔

صفحہ نمبر5178

حدیث میں ہے ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف] ‏

مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں،

وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔

صفحہ نمبر5179

آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً] ‏

یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔

صفحہ نمبر5180

جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6] ‏ ” اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ “

ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔

صفحہ نمبر5181

تفسیر سورۃ طہ:

امام الائمہ محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب التوحید میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ایک ہزار سال پہلے سورۃ طہ اور سورۃ یاسین کی تلاوت فرمائی، جسے سن کر فرشتے کہنے لگے وہ امت بہت ہی خوش نصیب ہے جس پر یہ کلام نزل ہو گا۔ وہ زبانیں یقیناً مستحق مبارکباد ہیں جن سے کلام اللہ کے یہ الفاظ ادا ہوں گے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:476/2:ضعیف و موضوع] ‏ یہ روایت غریب ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اور اس کے راوی ابراہیم بن مہاجر اور ان کے استاد پر جرح بھی ہے۔

علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭

سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے] ‏

یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:71] ‏

صفحہ نمبر5176

حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف] ‏

پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» [73-المزمل:20] ‏ ” جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو “

یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5177

حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔

تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔

صفحہ نمبر5178

حدیث میں ہے ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف] ‏

مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں،

وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔

صفحہ نمبر5179

آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً] ‏

یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔

صفحہ نمبر5180

جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6] ‏ ” اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ “

ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔

صفحہ نمبر5181

آگ کی تلاش ٭٭

یہاں سے موسیٰ علیہ السلام کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ آپ اس مدت کو پوری کر چکے تھے جو آپ کے اور آپ کے خسر صاحب کے درمیان طے ہوئی تھی اور آپ اپنے اہل و عیال کو لے کر دس سال سے زیادہ عرصے کے بعد اپنے وطن مصر کی طرف جا رہے تھے۔

سردی کی رات تھی راستہ بھول گئے تھے۔ پہاڑوں کی گھاٹیوں کے درمیان اندھیرا تھا، ابر چھایا ہوا تھا۔ ہر چند چقماق سے آگ نکالنا چاہی لیکن اس سے بالکل آگ نہ نکلی۔ ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو دائیں جانب کے پہاڑ پر کچھ آگ دکھائی دی تو بیوی صاحبہ سے فرمایا، اس طرف آگ سی نظر آ رہی ہے، میں جاتا ہوں کہ وہاں سے کچھ انگارے لے آؤں تاکہ تم سینک تاپ کرلو اور کچھ روشنی بھی ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں کوئی آدمی مل جائے جو راستہ بھی بتا دے۔ بہر صورت راستے کا پتہ یا آگ مل ہی جائے گی۔

صفحہ نمبر5189

آگ کی تلاش ٭٭

یہاں سے موسیٰ علیہ السلام کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ آپ اس مدت کو پوری کر چکے تھے جو آپ کے اور آپ کے خسر صاحب کے درمیان طے ہوئی تھی اور آپ اپنے اہل و عیال کو لے کر دس سال سے زیادہ عرصے کے بعد اپنے وطن مصر کی طرف جا رہے تھے۔

سردی کی رات تھی راستہ بھول گئے تھے۔ پہاڑوں کی گھاٹیوں کے درمیان اندھیرا تھا، ابر چھایا ہوا تھا۔ ہر چند چقماق سے آگ نکالنا چاہی لیکن اس سے بالکل آگ نہ نکلی۔ ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو دائیں جانب کے پہاڑ پر کچھ آگ دکھائی دی تو بیوی صاحبہ سے فرمایا، اس طرف آگ سی نظر آ رہی ہے، میں جاتا ہوں کہ وہاں سے کچھ انگارے لے آؤں تاکہ تم سینک تاپ کرلو اور کچھ روشنی بھی ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں کوئی آدمی مل جائے جو راستہ بھی بتا دے۔ بہر صورت راستے کا پتہ یا آگ مل ہی جائے گی۔

صفحہ نمبر5189

اللہ تعالٰی سے ہمکلامی ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام آگ کے پاس پہنچے تو اس مبارک میدان کے دائیں جانب کے درختوں کی طرف سے آواز آئی کہ «فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» [28-القصص:30] ‏ ” اے موسیٰ! میں تیرا رب ہوں، تو جوتیاں اتار دے۔ “

یا تو اس لیے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لیے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسا کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لیے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں، اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ طویٰ اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور باربار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» ‏ [79-النازعات:16] ‏

میں نے تجھے اپنا برگزیدہ کر لیا ہے، دنیا میں سے تجھے منتخب کر لیا ہے، اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے ممتاز فرما رہا ہوں، اس وقت کے روئے زمین کے تمام لوگوں سے تیرا مرتبہ بڑھا رہا ہوں۔ کہا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، جانتے بھی ہو کہ میں نے تجھے دوسرے تمام لوگوں میں سے مختار اور پسندیدہ کر کے شرف ہم کلامی کیوں بخشا؟ آپ نے جواب دیا اے اللہ مجھے اس کی وجہ معلوم نہیں، فرمایا گیا اس لیے کہ تیری طرح اور کوئی میری طرف نہیں جھکا۔ اب تو میری وحی کو کان لگا کر دھیان دے کر سن۔ میں ہی معبود ہوں کوئی اور نہیں۔ یہی پہلا فریضہ ہے تو صرف میری ہی عبادت کئے چلے جانا، کسی اور کی کسی قسم کی عبادت نہ کرنا۔ میری یاد کے لیے نمازیں قائم کرنا، میری یاد کا یہ بہترین اور افضل ترین طریقہ ہے یا یہ مطلب کہ جب میں یاد آؤں نماز پڑھو۔ جیسے حدیث میں ہے کہ تم میں سے اگر کسی کو نیند آ جائے یا غفلت ہو جائے تو جب یاد آ جائے نماز پڑھ لے کیونکہ فرمان الٰہی ہے میری یاد کے وقت نماز قائم کرو۔ [صحیح بخاری:597] ‏

بخاری و مسلم میں ہے جو شخص سوتے میں یا بھول میں نماز کا وقت گزار دے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ یاد آتے ہی نماز پڑھ لے، اس کے سوا اور کفارہ نہیں۔

صفحہ نمبر5191

اللہ تعالٰی سے ہمکلامی ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام آگ کے پاس پہنچے تو اس مبارک میدان کے دائیں جانب کے درختوں کی طرف سے آواز آئی کہ «فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» [28-القصص:30] ‏ ” اے موسیٰ! میں تیرا رب ہوں، تو جوتیاں اتار دے۔ “

یا تو اس لیے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لیے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسا کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لیے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں، اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ طویٰ اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور باربار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» ‏ [79-النازعات:16] ‏

میں نے تجھے اپنا برگزیدہ کر لیا ہے، دنیا میں سے تجھے منتخب کر لیا ہے، اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے ممتاز فرما رہا ہوں، اس وقت کے روئے زمین کے تمام لوگوں سے تیرا مرتبہ بڑھا رہا ہوں۔ کہا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، جانتے بھی ہو کہ میں نے تجھے دوسرے تمام لوگوں میں سے مختار اور پسندیدہ کر کے شرف ہم کلامی کیوں بخشا؟ آپ نے جواب دیا اے اللہ مجھے اس کی وجہ معلوم نہیں، فرمایا گیا اس لیے کہ تیری طرح اور کوئی میری طرف نہیں جھکا۔ اب تو میری وحی کو کان لگا کر دھیان دے کر سن۔ میں ہی معبود ہوں کوئی اور نہیں۔ یہی پہلا فریضہ ہے تو صرف میری ہی عبادت کئے چلے جانا، کسی اور کی کسی قسم کی عبادت نہ کرنا۔ میری یاد کے لیے نمازیں قائم کرنا، میری یاد کا یہ بہترین اور افضل ترین طریقہ ہے یا یہ مطلب کہ جب میں یاد آؤں نماز پڑھو۔ جیسے حدیث میں ہے کہ تم میں سے اگر کسی کو نیند آ جائے یا غفلت ہو جائے تو جب یاد آ جائے نماز پڑھ لے کیونکہ فرمان الٰہی ہے میری یاد کے وقت نماز قائم کرو۔ [صحیح بخاری:597] ‏

بخاری و مسلم میں ہے جو شخص سوتے میں یا بھول میں نماز کا وقت گزار دے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ یاد آتے ہی نماز پڑھ لے، اس کے سوا اور کفارہ نہیں۔

صفحہ نمبر5191

اللہ تعالٰی سے ہمکلامی ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام آگ کے پاس پہنچے تو اس مبارک میدان کے دائیں جانب کے درختوں کی طرف سے آواز آئی کہ «فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» [28-القصص:30] ‏ ” اے موسیٰ! میں تیرا رب ہوں، تو جوتیاں اتار دے۔ “

یا تو اس لیے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لیے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسا کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لیے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں، اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ طویٰ اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور باربار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» ‏ [79-النازعات:16] ‏

میں نے تجھے اپنا برگزیدہ کر لیا ہے، دنیا میں سے تجھے منتخب کر لیا ہے، اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے ممتاز فرما رہا ہوں، اس وقت کے روئے زمین کے تمام لوگوں سے تیرا مرتبہ بڑھا رہا ہوں۔ کہا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، جانتے بھی ہو کہ میں نے تجھے دوسرے تمام لوگوں میں سے مختار اور پسندیدہ کر کے شرف ہم کلامی کیوں بخشا؟ آپ نے جواب دیا اے اللہ مجھے اس کی وجہ معلوم نہیں، فرمایا گیا اس لیے کہ تیری طرح اور کوئی میری طرف نہیں جھکا۔ اب تو میری وحی کو کان لگا کر دھیان دے کر سن۔ میں ہی معبود ہوں کوئی اور نہیں۔ یہی پہلا فریضہ ہے تو صرف میری ہی عبادت کئے چلے جانا، کسی اور کی کسی قسم کی عبادت نہ کرنا۔ میری یاد کے لیے نمازیں قائم کرنا، میری یاد کا یہ بہترین اور افضل ترین طریقہ ہے یا یہ مطلب کہ جب میں یاد آؤں نماز پڑھو۔ جیسے حدیث میں ہے کہ تم میں سے اگر کسی کو نیند آ جائے یا غفلت ہو جائے تو جب یاد آ جائے نماز پڑھ لے کیونکہ فرمان الٰہی ہے میری یاد کے وقت نماز قائم کرو۔ [صحیح بخاری:597] ‏

بخاری و مسلم میں ہے جو شخص سوتے میں یا بھول میں نماز کا وقت گزار دے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ یاد آتے ہی نماز پڑھ لے، اس کے سوا اور کفارہ نہیں۔

صفحہ نمبر5191

اللہ تعالٰی سے ہمکلامی ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام آگ کے پاس پہنچے تو اس مبارک میدان کے دائیں جانب کے درختوں کی طرف سے آواز آئی کہ «فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» [28-القصص:30] ‏ ” اے موسیٰ! میں تیرا رب ہوں، تو جوتیاں اتار دے۔ “

یا تو اس لیے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لیے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسا کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لیے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں، اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ طویٰ اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور باربار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» ‏ [79-النازعات:16] ‏

میں نے تجھے اپنا برگزیدہ کر لیا ہے، دنیا میں سے تجھے منتخب کر لیا ہے، اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے ممتاز فرما رہا ہوں، اس وقت کے روئے زمین کے تمام لوگوں سے تیرا مرتبہ بڑھا رہا ہوں۔ کہا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، جانتے بھی ہو کہ میں نے تجھے دوسرے تمام لوگوں میں سے مختار اور پسندیدہ کر کے شرف ہم کلامی کیوں بخشا؟ آپ نے جواب دیا اے اللہ مجھے اس کی وجہ معلوم نہیں، فرمایا گیا اس لیے کہ تیری طرح اور کوئی میری طرف نہیں جھکا۔ اب تو میری وحی کو کان لگا کر دھیان دے کر سن۔ میں ہی معبود ہوں کوئی اور نہیں۔ یہی پہلا فریضہ ہے تو صرف میری ہی عبادت کئے چلے جانا، کسی اور کی کسی قسم کی عبادت نہ کرنا۔ میری یاد کے لیے نمازیں قائم کرنا، میری یاد کا یہ بہترین اور افضل ترین طریقہ ہے یا یہ مطلب کہ جب میں یاد آؤں نماز پڑھو۔ جیسے حدیث میں ہے کہ تم میں سے اگر کسی کو نیند آ جائے یا غفلت ہو جائے تو جب یاد آ جائے نماز پڑھ لے کیونکہ فرمان الٰہی ہے میری یاد کے وقت نماز قائم کرو۔ [صحیح بخاری:597] ‏

بخاری و مسلم میں ہے جو شخص سوتے میں یا بھول میں نماز کا وقت گزار دے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ یاد آتے ہی نماز پڑھ لے، اس کے سوا اور کفارہ نہیں۔

صفحہ نمبر5191

باب

قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ ممکن ہے میں اس کے وقت کے صحیح علم کو ظاہر نہ کروں۔ ایک قرأت میں «أُخْفِيهَا» کے بعد «مِنْ نَّفْسِیْ» ‏کے لفظ بھی ہیں کیونکہ اللہ کی ذات سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ یعنی اس کا علم بجز اپنے کسی کو نہیں دوں گا۔ پس روئے زمین پر کوئی ایسا نہیں ہوا جسے قیامت کے قائم ہونے کا مقررہ وقت معلوم ہو۔ یہ وہ چیز ہے کہ اگر ہو سکے تو خود میں اپنے سے بھی اسے چھپا دوں لیکن رب سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ چنانچہ یہ ملائکہ سے پوشیدہ ہے انبیاء اس سے بےعلم ہیں۔

جیسے فرمان ہے «‏قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ ۭ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ» [27-النمل:65] ‏ ” زمین و آسمان والوں میں سے سوائے اللہ واحد کے کوئی اور غیب دان نہیں۔ “

اور آیت میں ہے «ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً» [7-الأعراف:187] ‏ قیامت زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، وہ اچانک آ جائے گی یعنی اس کا علم کسی کو نہیں۔

ایک قرأت میں «أُخْفِيهَا» ہے۔ ورقہ فرماتے ہیں مجھے سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اسی طرح پڑھایا ہے، اس کے معنی ہیں «اَظْھَرَھَا»، اس دن ہر عامل کو اپنے عمل کا بدلہ دیا جائے گا خواہ ذرہ برابر نیکی ہو، خواہ بدی ہو، اپنے کرتوت کا بدلہ اس دن ضرور ملنا ہے۔

پس کسی کو بھی بے ایمان لوگ بہکا نہ دیں۔ قیامت کے منکر، دنیا کے مفتوں، مولا کے نافرمان، خواہش کے غلام، کسی اللہ کے بندے کے اس پاک عقیدے میں اسے تزلزل پیدا نہ کرنے پائیں۔ اگر وہ اپنی چاہت میں کامیاب ہو گئے تو یہ غارت ہوا اور نقصان میں پڑا۔

صفحہ نمبر5195

باب

قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ ممکن ہے میں اس کے وقت کے صحیح علم کو ظاہر نہ کروں۔ ایک قرأت میں «أُخْفِيهَا» کے بعد «مِنْ نَّفْسِیْ» ‏کے لفظ بھی ہیں کیونکہ اللہ کی ذات سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ یعنی اس کا علم بجز اپنے کسی کو نہیں دوں گا۔ پس روئے زمین پر کوئی ایسا نہیں ہوا جسے قیامت کے قائم ہونے کا مقررہ وقت معلوم ہو۔ یہ وہ چیز ہے کہ اگر ہو سکے تو خود میں اپنے سے بھی اسے چھپا دوں لیکن رب سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ چنانچہ یہ ملائکہ سے پوشیدہ ہے انبیاء اس سے بےعلم ہیں۔

جیسے فرمان ہے «‏قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ ۭ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ» [27-النمل:65] ‏ ” زمین و آسمان والوں میں سے سوائے اللہ واحد کے کوئی اور غیب دان نہیں۔ “

اور آیت میں ہے «ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً» [7-الأعراف:187] ‏ قیامت زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، وہ اچانک آ جائے گی یعنی اس کا علم کسی کو نہیں۔

ایک قرأت میں «أُخْفِيهَا» ہے۔ ورقہ فرماتے ہیں مجھے سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اسی طرح پڑھایا ہے، اس کے معنی ہیں «اَظْھَرَھَا»، اس دن ہر عامل کو اپنے عمل کا بدلہ دیا جائے گا خواہ ذرہ برابر نیکی ہو، خواہ بدی ہو، اپنے کرتوت کا بدلہ اس دن ضرور ملنا ہے۔

پس کسی کو بھی بے ایمان لوگ بہکا نہ دیں۔ قیامت کے منکر، دنیا کے مفتوں، مولا کے نافرمان، خواہش کے غلام، کسی اللہ کے بندے کے اس پاک عقیدے میں اسے تزلزل پیدا نہ کرنے پائیں۔ اگر وہ اپنی چاہت میں کامیاب ہو گئے تو یہ غارت ہوا اور نقصان میں پڑا۔

صفحہ نمبر5195

موسیٰ علیہ السلام کو معجزات ملے ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کے ایک بہت بڑے اور صاف کھلے معجزے کا ذکر ہو رہا ہے جو بغیر اللہ کی قدرت کے ناممکن اور جو غیر نبی کے ہاتھ پر بھی ناممکن۔ طور پہاڑ پر دریافت ہو رہا ہے کہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ یہ سوال اس لیے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کی گھبراہٹ دور ہو جائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سوال بطور تقریر کے ہے یعنی تیرے ہاتھ میں لکڑی ہی ہے، یہ جیسی کچھ ہے، تجھے معلوم ہے، اب یہ جو ہو جائے گی، وہ دیکھ لینا۔

اس سوال کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام عرض کرتے ہیں، یہ میری اپنی لکڑی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں یعنی چلنے میں مجھے یہ سہارا دیتی ہے، اس سے میں اپنی بکریوں کا چارہ درخت سے جھاڑ لیتا ہوں۔ ایسی لکڑیوں میں ذرا مڑا ہوا لوہا لگا لیا کرتے ہیں تاکہ پتے پھل آسانی سے اتر آئیں اور لکڑی ٹوٹے بھی نہیں۔ اور بھی بہت سے فوائد اس میں ہیں۔ ان فوائد کے بیان میں بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہی لکڑی رات کے وقت روشن چراغ بن جاتی تھی۔ دن کو جب آپ سو جاتے تو یہی لکڑی آپ کی بکریوں کی رکھوالی کرتی، جہاں کہیں سایہ دار جگہ نہ ہوتی آپ اسے گاڑ دیتے یہ خیمے کی طرح آپ پر سایہ کرتی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن بظاہر یہ قول بنی اسرائیل کا افسانہ معلوم ہوتا ہے ورنہ پھر آج اسے بصورت سانپ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام اس قدر کیوں گھبراتے؟ وہ تو اس لکڑی کے عجائبات دیکھتے چلے آتے تھے۔ پھر بعض کا قول ہے کہ دراصل یہ لکڑی آدم علیہ السلام کی تھی۔ کوئی کہتا ہے یہی لکڑی قیامت کے قریب دابتہ الارض کی صورت میں ظاہر ہو گی۔ کہتے ہیں اس کا نام ماشا تھا۔ اللہ ہی جانے ان اقوال میں کہاں تک جان ہے؟

صفحہ نمبر5197

لاٹھی اژدھا بن گئی ٭٭

صفحہ نمبر5198

موسیٰ علیہ السلام کو معجزات ملے ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کے ایک بہت بڑے اور صاف کھلے معجزے کا ذکر ہو رہا ہے جو بغیر اللہ کی قدرت کے ناممکن اور جو غیر نبی کے ہاتھ پر بھی ناممکن۔ طور پہاڑ پر دریافت ہو رہا ہے کہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ یہ سوال اس لیے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کی گھبراہٹ دور ہو جائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سوال بطور تقریر کے ہے یعنی تیرے ہاتھ میں لکڑی ہی ہے، یہ جیسی کچھ ہے، تجھے معلوم ہے، اب یہ جو ہو جائے گی، وہ دیکھ لینا۔

اس سوال کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام عرض کرتے ہیں، یہ میری اپنی لکڑی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں یعنی چلنے میں مجھے یہ سہارا دیتی ہے، اس سے میں اپنی بکریوں کا چارہ درخت سے جھاڑ لیتا ہوں۔ ایسی لکڑیوں میں ذرا مڑا ہوا لوہا لگا لیا کرتے ہیں تاکہ پتے پھل آسانی سے اتر آئیں اور لکڑی ٹوٹے بھی نہیں۔ اور بھی بہت سے فوائد اس میں ہیں۔ ان فوائد کے بیان میں بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہی لکڑی رات کے وقت روشن چراغ بن جاتی تھی۔ دن کو جب آپ سو جاتے تو یہی لکڑی آپ کی بکریوں کی رکھوالی کرتی، جہاں کہیں سایہ دار جگہ نہ ہوتی آپ اسے گاڑ دیتے یہ خیمے کی طرح آپ پر سایہ کرتی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن بظاہر یہ قول بنی اسرائیل کا افسانہ معلوم ہوتا ہے ورنہ پھر آج اسے بصورت سانپ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام اس قدر کیوں گھبراتے؟ وہ تو اس لکڑی کے عجائبات دیکھتے چلے آتے تھے۔ پھر بعض کا قول ہے کہ دراصل یہ لکڑی آدم علیہ السلام کی تھی۔ کوئی کہتا ہے یہی لکڑی قیامت کے قریب دابتہ الارض کی صورت میں ظاہر ہو گی۔ کہتے ہیں اس کا نام ماشا تھا۔ اللہ ہی جانے ان اقوال میں کہاں تک جان ہے؟

صفحہ نمبر5197

لاٹھی اژدھا بن گئی ٭٭

صفحہ نمبر5198

موسیٰ علیہ السلام کو معجزات ملے ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کے ایک بہت بڑے اور صاف کھلے معجزے کا ذکر ہو رہا ہے جو بغیر اللہ کی قدرت کے ناممکن اور جو غیر نبی کے ہاتھ پر بھی ناممکن۔ طور پہاڑ پر دریافت ہو رہا ہے کہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ یہ سوال اس لیے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کی گھبراہٹ دور ہو جائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سوال بطور تقریر کے ہے یعنی تیرے ہاتھ میں لکڑی ہی ہے، یہ جیسی کچھ ہے، تجھے معلوم ہے، اب یہ جو ہو جائے گی، وہ دیکھ لینا۔

اس سوال کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام عرض کرتے ہیں، یہ میری اپنی لکڑی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں یعنی چلنے میں مجھے یہ سہارا دیتی ہے، اس سے میں اپنی بکریوں کا چارہ درخت سے جھاڑ لیتا ہوں۔ ایسی لکڑیوں میں ذرا مڑا ہوا لوہا لگا لیا کرتے ہیں تاکہ پتے پھل آسانی سے اتر آئیں اور لکڑی ٹوٹے بھی نہیں۔ اور بھی بہت سے فوائد اس میں ہیں۔ ان فوائد کے بیان میں بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہی لکڑی رات کے وقت روشن چراغ بن جاتی تھی۔ دن کو جب آپ سو جاتے تو یہی لکڑی آپ کی بکریوں کی رکھوالی کرتی، جہاں کہیں سایہ دار جگہ نہ ہوتی آپ اسے گاڑ دیتے یہ خیمے کی طرح آپ پر سایہ کرتی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن بظاہر یہ قول بنی اسرائیل کا افسانہ معلوم ہوتا ہے ورنہ پھر آج اسے بصورت سانپ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام اس قدر کیوں گھبراتے؟ وہ تو اس لکڑی کے عجائبات دیکھتے چلے آتے تھے۔ پھر بعض کا قول ہے کہ دراصل یہ لکڑی آدم علیہ السلام کی تھی۔ کوئی کہتا ہے یہی لکڑی قیامت کے قریب دابتہ الارض کی صورت میں ظاہر ہو گی۔ کہتے ہیں اس کا نام ماشا تھا۔ اللہ ہی جانے ان اقوال میں کہاں تک جان ہے؟

صفحہ نمبر5197

لاٹھی اژدھا بن گئی ٭٭

صفحہ نمبر5198

باب

” پہلا معجزہ “ موسیٰ علیہ السلام کو لکڑی کا لکڑی ہونا جتا کر انہیں بخوبی بیدار اور ہوشیار کر کے حکم ملا کہ اسے زمین پر ڈال دو۔ زمین پر پڑتے ہی وہ ایک زبردست اژدھے کی صورت میں پھنپھناتی ہوئی ادھر ادھر چلنے پھرنے بلکہ دوڑنے بھاگنے لگی۔ ایسا خوفناک اژدھا اس سے پہلے کسی نے دیکھا ہی نہ تھا۔ اس کی تو یہ حالت تھی کہ ایک درخت سامنے آ گیا تو یہ اسے ہضم کر گیا۔ ایک پتھر کی چٹان راستے میں آ گئی تو اس کا لقمہ بنا گیا۔ یہ حال دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام الٹے پاؤں بھاگے۔ آواز دی گئی کہ موسیٰ (‏علیہ السلام) پکڑ لے لیکن ہمت نہ پڑی، پھر فرمایا موسیٰ (‏علیہ السلام) ڈر نہیں پکڑ لے پھر بھی جھجک باقی رہی۔ تیسری مرتبہ فرمایا تو ہمارے امن میں ہے، اب ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیا۔

کہتے ہیں فرمان الٰہی کے ساتھ ہی آپ نے لکڑی زمین پر ڈال دی، پھر ادھر ادھر آپ کی نگاہ ہو گئی، اب جو نظر ڈالی بجائے لکڑی کے ایک خوفناک اژدھا دکھائی دیا جو اس طرح چل پھر رہا ہے جیسے کسی کی جستجو میں ہو۔ گابھن اونٹنی جیسے بڑے بڑے پتھروں کو، آسمان سے باتیں کرتے ہوئے اونچے اونچے درختوں کو ایک لقمے میں ہی پیٹ میں پہنچا رہا ہے، آنکھیں انگاروں کی طرح چمک رہی ہیں۔ اس ہیبت ناک خونخوار اژدھے کو دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سہم گئے اور پیٹھ موڑ کر زور سے بھاگے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی ہمکلامی یاد آ گئی تو شرما کر ٹھہر گئے، وہیں آواز آئی کہ موسیٰ (‏علیہ السلام) لوٹ کر وہیں آ جاؤ جہاں تھے، آپ لوٹے لیکن نہایت خوفزدہ تھے۔

تو حکم ہوا کہ اپنے داہنے ہاتھ سے اسے تھام لو، کچھ بھی خوف نہ کرو، ہم اسے اس کی اسی اگلی حالت میں لوٹا دیں گے۔ اس وقت موسیٰ علیہ السلام صوف کا کمبل اوڑھے ہوئے تھے جسے ایک کانٹے سے اٹکا رکھا تھا۔ آپ نے اسی کمبل کو اپنے ہاتھ پر لپیٹ کر اس ہیبت ناک اژدھے کو پکڑنا چاہا تو فرشتے نے کہا موسیٰ علیہ السلام اگر اللہ تعالیٰ اسے کاٹنے کا حکم دیدے تو کیا تیرا یہ کمبل بچا سکتا ہے؟ آپ نے جواب دیا ہرگز نہیں، لیکن یہ حرکت مجھ سے بہ سبب میرے ضعف کے سرزد ہو گئی، میں ضعیف اور کمزور ہی پیدا کیا گیا ہوں۔ اب دلیری کے ساتھ کمبل ہٹا کر ہاتھ بڑھا کر اس کے سر کو تھام لیا اسی وقت وہ اژدھا پھر لکڑی بن گیا جیسے پہلے تھا۔ اس وقت جب کہ آپ اس گھاٹی پر چڑھ رہے تھے اور آپ کے ہاتھ میں یہ لکڑی تھی جس پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، اسی حال میں آپ نے پہلے دیکھا تھا اسی حالت پر اب ہاتھ میں بصورت عصا موجود تھا۔

صفحہ نمبر5201

باب

” پہلا معجزہ “ موسیٰ علیہ السلام کو لکڑی کا لکڑی ہونا جتا کر انہیں بخوبی بیدار اور ہوشیار کر کے حکم ملا کہ اسے زمین پر ڈال دو۔ زمین پر پڑتے ہی وہ ایک زبردست اژدھے کی صورت میں پھنپھناتی ہوئی ادھر ادھر چلنے پھرنے بلکہ دوڑنے بھاگنے لگی۔ ایسا خوفناک اژدھا اس سے پہلے کسی نے دیکھا ہی نہ تھا۔ اس کی تو یہ حالت تھی کہ ایک درخت سامنے آ گیا تو یہ اسے ہضم کر گیا۔ ایک پتھر کی چٹان راستے میں آ گئی تو اس کا لقمہ بنا گیا۔ یہ حال دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام الٹے پاؤں بھاگے۔ آواز دی گئی کہ موسیٰ (‏علیہ السلام) پکڑ لے لیکن ہمت نہ پڑی، پھر فرمایا موسیٰ (‏علیہ السلام) ڈر نہیں پکڑ لے پھر بھی جھجک باقی رہی۔ تیسری مرتبہ فرمایا تو ہمارے امن میں ہے، اب ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیا۔

کہتے ہیں فرمان الٰہی کے ساتھ ہی آپ نے لکڑی زمین پر ڈال دی، پھر ادھر ادھر آپ کی نگاہ ہو گئی، اب جو نظر ڈالی بجائے لکڑی کے ایک خوفناک اژدھا دکھائی دیا جو اس طرح چل پھر رہا ہے جیسے کسی کی جستجو میں ہو۔ گابھن اونٹنی جیسے بڑے بڑے پتھروں کو، آسمان سے باتیں کرتے ہوئے اونچے اونچے درختوں کو ایک لقمے میں ہی پیٹ میں پہنچا رہا ہے، آنکھیں انگاروں کی طرح چمک رہی ہیں۔ اس ہیبت ناک خونخوار اژدھے کو دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سہم گئے اور پیٹھ موڑ کر زور سے بھاگے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی ہمکلامی یاد آ گئی تو شرما کر ٹھہر گئے، وہیں آواز آئی کہ موسیٰ (‏علیہ السلام) لوٹ کر وہیں آ جاؤ جہاں تھے، آپ لوٹے لیکن نہایت خوفزدہ تھے۔

تو حکم ہوا کہ اپنے داہنے ہاتھ سے اسے تھام لو، کچھ بھی خوف نہ کرو، ہم اسے اس کی اسی اگلی حالت میں لوٹا دیں گے۔ اس وقت موسیٰ علیہ السلام صوف کا کمبل اوڑھے ہوئے تھے جسے ایک کانٹے سے اٹکا رکھا تھا۔ آپ نے اسی کمبل کو اپنے ہاتھ پر لپیٹ کر اس ہیبت ناک اژدھے کو پکڑنا چاہا تو فرشتے نے کہا موسیٰ علیہ السلام اگر اللہ تعالیٰ اسے کاٹنے کا حکم دیدے تو کیا تیرا یہ کمبل بچا سکتا ہے؟ آپ نے جواب دیا ہرگز نہیں، لیکن یہ حرکت مجھ سے بہ سبب میرے ضعف کے سرزد ہو گئی، میں ضعیف اور کمزور ہی پیدا کیا گیا ہوں۔ اب دلیری کے ساتھ کمبل ہٹا کر ہاتھ بڑھا کر اس کے سر کو تھام لیا اسی وقت وہ اژدھا پھر لکڑی بن گیا جیسے پہلے تھا۔ اس وقت جب کہ آپ اس گھاٹی پر چڑھ رہے تھے اور آپ کے ہاتھ میں یہ لکڑی تھی جس پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، اسی حال میں آپ نے پہلے دیکھا تھا اسی حالت پر اب ہاتھ میں بصورت عصا موجود تھا۔

صفحہ نمبر5201

باب

” پہلا معجزہ “ موسیٰ علیہ السلام کو لکڑی کا لکڑی ہونا جتا کر انہیں بخوبی بیدار اور ہوشیار کر کے حکم ملا کہ اسے زمین پر ڈال دو۔ زمین پر پڑتے ہی وہ ایک زبردست اژدھے کی صورت میں پھنپھناتی ہوئی ادھر ادھر چلنے پھرنے بلکہ دوڑنے بھاگنے لگی۔ ایسا خوفناک اژدھا اس سے پہلے کسی نے دیکھا ہی نہ تھا۔ اس کی تو یہ حالت تھی کہ ایک درخت سامنے آ گیا تو یہ اسے ہضم کر گیا۔ ایک پتھر کی چٹان راستے میں آ گئی تو اس کا لقمہ بنا گیا۔ یہ حال دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام الٹے پاؤں بھاگے۔ آواز دی گئی کہ موسیٰ (‏علیہ السلام) پکڑ لے لیکن ہمت نہ پڑی، پھر فرمایا موسیٰ (‏علیہ السلام) ڈر نہیں پکڑ لے پھر بھی جھجک باقی رہی۔ تیسری مرتبہ فرمایا تو ہمارے امن میں ہے، اب ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیا۔

کہتے ہیں فرمان الٰہی کے ساتھ ہی آپ نے لکڑی زمین پر ڈال دی، پھر ادھر ادھر آپ کی نگاہ ہو گئی، اب جو نظر ڈالی بجائے لکڑی کے ایک خوفناک اژدھا دکھائی دیا جو اس طرح چل پھر رہا ہے جیسے کسی کی جستجو میں ہو۔ گابھن اونٹنی جیسے بڑے بڑے پتھروں کو، آسمان سے باتیں کرتے ہوئے اونچے اونچے درختوں کو ایک لقمے میں ہی پیٹ میں پہنچا رہا ہے، آنکھیں انگاروں کی طرح چمک رہی ہیں۔ اس ہیبت ناک خونخوار اژدھے کو دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سہم گئے اور پیٹھ موڑ کر زور سے بھاگے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی ہمکلامی یاد آ گئی تو شرما کر ٹھہر گئے، وہیں آواز آئی کہ موسیٰ (‏علیہ السلام) لوٹ کر وہیں آ جاؤ جہاں تھے، آپ لوٹے لیکن نہایت خوفزدہ تھے۔

تو حکم ہوا کہ اپنے داہنے ہاتھ سے اسے تھام لو، کچھ بھی خوف نہ کرو، ہم اسے اس کی اسی اگلی حالت میں لوٹا دیں گے۔ اس وقت موسیٰ علیہ السلام صوف کا کمبل اوڑھے ہوئے تھے جسے ایک کانٹے سے اٹکا رکھا تھا۔ آپ نے اسی کمبل کو اپنے ہاتھ پر لپیٹ کر اس ہیبت ناک اژدھے کو پکڑنا چاہا تو فرشتے نے کہا موسیٰ علیہ السلام اگر اللہ تعالیٰ اسے کاٹنے کا حکم دیدے تو کیا تیرا یہ کمبل بچا سکتا ہے؟ آپ نے جواب دیا ہرگز نہیں، لیکن یہ حرکت مجھ سے بہ سبب میرے ضعف کے سرزد ہو گئی، میں ضعیف اور کمزور ہی پیدا کیا گیا ہوں۔ اب دلیری کے ساتھ کمبل ہٹا کر ہاتھ بڑھا کر اس کے سر کو تھام لیا اسی وقت وہ اژدھا پھر لکڑی بن گیا جیسے پہلے تھا۔ اس وقت جب کہ آپ اس گھاٹی پر چڑھ رہے تھے اور آپ کے ہاتھ میں یہ لکڑی تھی جس پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، اسی حال میں آپ نے پہلے دیکھا تھا اسی حالت پر اب ہاتھ میں بصورت عصا موجود تھا۔

صفحہ نمبر5201

معجزات کی نوعیت ٭٭

” دوسرا معجزہ “ موسیٰ علیہ السلام کو دوسرا معجزہ دیا جاتا ہے۔ حکم ہوتا ہے کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال کر پھر اسے نکال لو تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہوا روشن بن کر نکلے گا۔ یہ نہیں کہ برص کی سفیدی ہو یا کوئی بیماری اور عیب ہو۔

چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے جب ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چراغ کی طرح روشن نکلا جس سے آپ کا یہ یقین کہ آپ اللہ تعالیٰ سے کلام کر رہے ہیں، اور بڑھ گیا۔ یہ دونوں معجزے یہیں اسی لیے ملے تھے کہ آپ اللہ کی ان زبردست نشانیوں کو دیکھ کر یقین کر لیں۔

صفحہ نمبر5204

فرعون کے سامنے کلمہ حق ٭٭

پھر حکم ہوا کہ فرعون نے ہماری بغاوت پر کمر کس لی ہے، اس کے پاس جا کر اسے سمجھاؤ۔ وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو قریب ہونے کا حکم دیا یہاں تک کہ آپ اس درخت کے تنے سے لگ کر کھڑے ہو گئے، دل ٹھہر گیا، خوف و خطر دور ہو گیا۔

دونوں ہاتھ اپنی لکڑی پر ٹکا کر سرجھکا کر گردن خم کر کے با ادب ارشاد الٰہی سننے لگے تو فرمایا گیا کہ ملک مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف ہمارا پیغام لے کر جاؤ، یہیں سے تم بھاگ کر آئے ہو۔ اس سے کہو کہ وہ ہماری عبادت کرے، کسی کو شریک نہ بنائے، بنو اسرائیل کے ساتھ سلوک و احسان کرے، انہیں تکلیف اور ایذاء نہ دے۔ فرعون بڑا باغی ہو گیا ہے، دنیا کا مفتون بن کر آخرت کو فراموش کر بیٹھا ہے اور اپنے پیدا کرنے والے کو بھول گیا ہے، تو میری رسالت لے کر اس کے پاس جا۔ میرے کان اور میری آنکھیں تیرے ساتھ ہیں، میں تجھے دیکھتا بھالتا اور تیری باتیں سنتا سناتا رہوں گا۔ میری مدد تیرے پاس ہو گی، میں نے اپنی طرف سے تجھے حجتیں عطا فرما دی ہیں اور تجھے قوی اور مضبوط کر دیا ہے، تو اکیلا ہی میرا پورا لشکر ہے۔ اپنے ایک ضعیف بندے کی طرف تجھے بھیج رہا ہوں جو میری نعمتیں پا کر پھول گیا ہے اور میری پکڑ کو بھول گیا ہے، دنیا میں پھنس گیا اور غرور و تکبر میں دھنس گیا ہے۔ میری ربوبیت سے بیزار، میری الوہیت سے برسر پیکار ہے۔ مجھ سے آنکھیں پھیر لی ہیں، دیدے بدل لیے ہیں۔ میری پکڑ سے غافل ہو گیا ہے۔ میرے عذابوں سے بیخوف ہو گیا ہے۔ مجھے اپنی عزت کی قسم اگر میں اسے ڈھیل دینا نہ چاہتا تو آسمان اس پر ٹوٹ پڑتے زمین اسے نگل جاتی دریا اسے ڈبو دیتے لیکن چونکہ وہ میرے مقابلے کا نہیں، ہر وقت میرے بس میں ہے، میں اسے ڈھیل دیے ہوئے ہوں اور اس سے بےپرواہی برت رہا ہوں۔ میں ہوں بھی ساری مخلوق سے بےپرواہ۔ حق تو یہ ہے کہ بےپروائی صرف میری ہی صفت ہے۔ تو میری رسالت ادا کر، اسے میری عبادت کی ہدایت کر، اسے توحید و اخلاص کی دعوت دے، میری نعمتیں یاد دلا۔ میرے عذابوں سے دھمکا، میرے غضب سے ہوشیار کر دے۔ جب میں غصہ کر بیٹھتا ہوں تو امن نہیں ملتا۔ اسے نرمی سے سمجھا تاکہ نہ ماننے کا عذر ٹوٹ جائے۔

صفحہ نمبر5205

میری بخشش کی، میرے کرم و رحم کی اسے خبر دے۔ کہہ دے کہ اب بھی اگر میری طرف جھکے گا تو میں تمام بد اعمالیوں سے قطع نظر کر لوں گا۔ میری رحمت میرے غضب سے بہت زیادہ وسیع ہے۔ خبردار اس کا دنیوی ٹھاٹھ دیکھ کر رعب میں نہ آ جانا، اس کی چوٹی میرے ہاتھ میں ہے۔ اس کی زبان چل نہیں سکتی اس کے ہاتھ اٹھ نہیں سکتے اس کی آنکھ پھڑک نہیں سکتی اس کا سانس چل نہیں سکتا جب تک میری اجازت نہ ہو۔ اسے سمجھا کہ میری مان لے تو میں بھی مغفرت سے پیش آؤں گا۔

چار سو سال اسے سرکشی کرتے، میرے بندوں پر ظلم ڈھاتے، میری عبادت سے لوگوں کو روکتے گزر چکے ہیں۔ تاہم نہ میں نے اس پر بارش بند کی نہ پیداوار روکی نہ بیمار ڈالا نہ بوڑھا کیا نہ مغلوب کیا۔ اگر چاہتا ظلم کے ساتھ ہی پکڑ لیتا لیکن میرا حلم بہت بڑھا ہوا ہے۔ تو اپنے بھائی کے ساتھ مل کر اس سے پوری طرح جہاد کر اور میری مدد پر بھروسہ رکھ، میں اگر چاہوں تو اپنے لشکروں کو بھیج کر اس کا بھیجا نکال دوں۔ لیکن اس بے بنیاد بندے کو دکھانا چاہتا ہوں کہ میری جماعت کا ایک بھی روئے زمین کی طاقتوں پر غالب آ سکتا ہے۔ مدد میرے اختیار میں ہے۔ دنیاوی جاہ و جلال کی تو پرواہ نہ کرنا بلکہ آنکھ بھر کر دیکھنا بھی نہیں۔ میں اگر چاہوں تو تمہیں اتنا دے دوں کہ فرعون کی دولت اس کے پاسنگ میں بھی نہ آ سکے لیکن میں اپنے بندوں کو عموماً غریب ہی رکھتا ہوں تاکہ ان کی آخرت سنوری رہے۔ یہ اس لیے نہیں ہوتا کہ وہ میرے نزدیک قابل اکرام نہیں بلکہ صرف اس لیے ہوتا ہے کہ دونوں جہان کی نعمتیں آنے والے جہان میں جمع مل جائیں۔ میرے نزدیک بندے کا کوئی عمل اتنا وقعت والا نہیں جتنا زہد اور دنیا سے دوری۔ میں اپنے خاص بندوں کو سکینت اور خشوع خضوع کا لباس پہنا دیتا ہوں، ان کے چہرے سجدوں کی چمک سے روشن ہو جاتے ہیں۔ یہی سچے اولیا اللہ ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے ہر ایک کو با ادب رہنا چاہیئے۔ اپنی زبان اور دل کو ان کا تابع رکھنا چاہیئے۔

صفحہ نمبر5206

سن لے! میرے دوستوں سے دشمنی رکھنے والا گویا مجھے لڑائی کا اعلان دیتا ہے۔ تو کیا مجھ سے لڑنے کا ارادہ رکھنے والا کبھی سرسبز ہو سکتا ہے؟ میں نے قہر کی نظر سے اسے دیکھا اور وہ تہس نہس ہوا۔ میرے دشمن مجھ پر غالب نہیں آ سکتے، میرے مخالف میرا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔ میں اپنے دوستوں کی خود مدد کرتا ہوں، انہیں دشمنوں کا شکار نہیں ہونے دیتا۔ دنیا و آخرت میں انہیں سرخرو رکھتا ہوں اور ان کی مدد کرتا ہوں۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنا بچپن کا زمانہ فرعون کے گھر میں بلکہ اس کی گود میں گزارا تھا، جوانی تک ملک مصر میں اسی کی بادشاہت میں ٹھہرے رہے تھے۔ پھر ایک قبطی بے ارادہ آپ کے ہاتھ سے مر گیا تھا جس سے آپ یہاں سے بھاگ نکلے تھے تب سے لے کر آج تک مصر کی صورت نہیں دیکھی تھی۔ فرعون ایک سخت دل، بدخلق، اکھڑ مزاج، آوارہ انسان تھا۔ غرور اور تکبر اتنا بڑھ گیا تھا کہ کہتا تھا کہ میں اللہ کو جانتا ہی نہیں۔ اپنی رعایا سے کہتا تھا کہ تمہارا رب میں ہی ہوں۔ ملک و مال میں، دولت و متاع میں، لاؤ لشکر اور کروفر میں کوئی روئے زمین پر اس کے مقابلے کا نہ تھا۔

صفحہ نمبر5207

موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔

چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔

صفحہ نمبر5208

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔

محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔

صفحہ نمبر5209

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔

صفحہ نمبر5210

موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔

چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔

صفحہ نمبر5208

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔

محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔

صفحہ نمبر5209

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔

صفحہ نمبر5210

موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔

چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔

صفحہ نمبر5208

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔

محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔

صفحہ نمبر5209

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔

صفحہ نمبر5210

موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔

چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔

صفحہ نمبر5208

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔

محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔

صفحہ نمبر5209

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔

صفحہ نمبر5210

موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔

چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔

صفحہ نمبر5208

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔

محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔

صفحہ نمبر5209

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔

صفحہ نمبر5210

موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔

چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔

صفحہ نمبر5208

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔

محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔

صفحہ نمبر5209

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔

صفحہ نمبر5210

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com