John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Hajj

Tafsir Ibn Kathir · The Pilgrimage · 78 ayat · ayat 31–60 · Quran text →

بت پرستی کی گندگی سے دور رہو ٭٭

فرماتا ہے یہ تو تھے احکام حج اور ان پر جو جزا ملتی ہے اس کا بیان۔ اب اور سنو جو شخص حرمات الٰہی کی عزت کرے یعنی گناہوں سے اور حرام کاموں سے بچے، ان کے کرنے سے اپنے آپ کو روکے اور ان سے بھاگا رہے اس کے لیے اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ جس طرح نیکیوں کے کرنے پر اجر ہے اسی طرح برائیوں کے چھوڑنے پر بھی ثواب ہے۔ مکہ حج عمرہ بھی حرمات الٰہی ہیں۔ تمہارے لیے چوپائے سب حلال ہیں ہاں جو حرام تھے وہ تمہارے سامنے بیان ہو چکے ہیں۔ یہ جو مشرکوں نے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام نام رکھ چھوڑے ہیں یہ اللہ نے نہیں بتلائے۔

اللہ کو جو حرام کرنا تھا بیان فرما چکا جیسے «الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّـهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ» [5-المائدہ:3] ‏ مردار جانور بوقت ذبح بہا ہوا خون سور کا گوشت اللہ کے سوا دوسرے کے نام پر مشہور کیا ہوا، گلا گھٹا ہوا وغیرہ۔ تمہیں چاہے کہ بت پرستی کی گندگی سے دور رہو۔

«مِنَ» یہاں پر بیان جنس کے لیے ہے، اور جھوٹی بات سے بچو۔ اس آیت میں شرک کے ساتھ جھوٹ کو ملادیا جیسے آیت «قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا باللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ» [7-الأعراف:33] ‏ یعنی ” میرے رب نے گندے کاموں کو حرام کر دیا خواہ وہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ۔ اور گناہ کو سرکشی کو اور بےعلمی کے ساتھ اللہ پر باتیں بنانے کو “۔ اسی میں جھوٹی گواہی بھی داخل ہے۔

بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا میں تمہیں سب سے بڑا کبیرہ گناہ بتاؤں؟ صحابہ نے کہا ارشاد ہو، فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک کرنا ماں باپ کی نافرمانی کرنا پھر تکیہ سے الگ ہٹ کر فرمایا: اور جھوٹ بولنا اور جھوٹی شہادت دینا ۔ اسے باربار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب نہ فرماتے ۔ [صحیح بخاری:2654] ‏

مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں کھڑے ہو کر تین بار فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر کر دی گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ بالا فقرہ تلاوت فرمایا ۔ [سنن ابوداود:3599،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ صبح کی نماز کی بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر یہ فرمایا ۔ [سنن ابوداود:3599،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بھی مروی ہے ”اللہ کے دین کو خلوص کے ساتھ تھام لو باطل سے ہٹ کر حق کی طرف آ جاؤ۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والوں میں نہ بنو۔‏“

صفحہ نمبر5598

پھر مشرک کی تباہی کی مثال بیان فرمائی کہ ” جیسے کوئی آسمان سے گر پڑے پس یا تو اسے پرند ہی اچک لے جائیں گے یا ہوا کسی ہلاکت کے دور دراز گڑھے میں پہنچا دے گی “۔ چنانچہ کافر کی روح کو لے کر جب فرشتے آسمان کی طرف چڑھتے ہیں تو اس کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے اور وہیں سے وہ پھینک دی جاتی ہے اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔

یہ حدیث پوری تفصیل کے ساتھ سورۃ ابراہیم میں گزر چکی ہے سورۃ الانعام میں ان مشرکوں کی ایک اور مثال بیان فرمائی ہے «قُلْ أَنَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰ أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّـهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُ أَصْحَابٌ يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى ائْتِنَا قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّـهِ هُوَ الْهُدَىٰ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» [6-الأنعام:71] ‏ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئیے کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیز کو پکاریں کہ نہ وه ہم کو نفع پہنچائے اور نہ ہم کو نقصان پہنچائے اور کیا ہم الٹے پھر جائیں اس کے بعد کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کر دی ہے، جیسے کوئی شخص ہو کہ اس کو شیطانوں نے کہیں جنگل میں بے راه کر دیا ہو اور وه بھٹکتا پھرتا ہو، اس کے کچھ ساتھی بھی ہوں کہ وه اس کو ٹھیک راستہ کی طرف بلا رہے ہوں کہ ہمارے پاس آ۔ آپ کہہ دیجئیے کہ یقینی بات ہے کہ راه راست وه خاص اللہ ہی کی راه ہے اور ہم کو یہ حکم ہوا ہے کہ ہم پروردگار عالم کے پورے مطیع ہو جائیں “۔ یہ اس کی مثل کے ہے جسے شیطان باؤلا بنا دے۔

صفحہ نمبر5599

قربانی کے جانور اور حجاج ٭٭

اللہ کے شعائر کی جن میں قربانی کے جانور بھی شامل ہیں حرمت وعزت بیان ہو رہی ہے کہ ” احکام الٰہی پر عمل کرنا اللہ کے فرمان کی توقیر کرنا ہے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی قربانی کے جانوروں کو فربہ اور عمدہ کرنا۔ سہل کا بیان ہے کہ ہم قربانی کے جانوروں کو پال کر انہیں فربہ اور عمدہ کرتے تھے تمام مسلمانوں کا یہی دستور تھا ۔ [صحیح بخاری:9/10] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو سیاہ رنگ کے جانوروں کے خون سے ایک عمدہ سفید رنگ جانور کا خون اللہ کو زیادہ محبوب ہے ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1861،] ‏ پس اگرچہ اور رنگت کے جانور بھی جائز ہیں لیکن سفید رنگ جانور افضل ہیں۔

صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے چتکبرے بڑے بڑے سینگوں والے اپنی قربانی میں ذبح کئے ۔ [صحیح بخاری:5565] ‏

سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مینڈھا بڑا سینگ والا چت کبرا ذبح کیا جس کے منہ پر آنکھوں کے پاس اور پیروں پر سیاہ رنگ تھا ۔ [سنن ابوداود:2796،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے صحیح کہتے ہیں۔

ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے بہت موٹے تازے چکنے چتکبرے خصی ذبح کئے ۔ [سنن ابن ماجہ:3122،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ہم قربانی کے لیے جانور خریدتے وقت اس کی آنکھوں کو اور کانوں کو اچھی طرح دیکھ بھال لیا کریں۔ اور آگے سے کٹے ہوئے کان والے پیچھے سے کٹے ہوئے کان والے لمبائی میں چرے ہوئے کان والے یا سوراخ دار کان والے کی قربانی نہ کریں ۔ [سنن ابوداود:2804،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اسے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ صحیح کہتے ہیں۔

اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ ٹوٹے ہوئے اور کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن ابوداود:2805،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کی شرح میں سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب کہ آدھا یا آدھے سے زیادہ کان یا سینگ نہ ہو۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں اگر اوپر سے کسی جانور کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو اسے عربی میں «قصماً» کہتے اور جب نیچے کا حصہ ٹوٹا ہوا ہو تو اسے «عضب» کہتے۔ اور حدیث میں لفظ «عضب» ہے اور کان کا کچھ حصہ کٹ گیا ہو تو اسے بھی عربی میں «عضب» کہتے ہیں۔

صفحہ نمبر5601

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایسے جانور کی قربانی گو جائز ہے لیکن کراہت کے ساتھ۔ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جائز ہی نہیں۔ (‏بظاہر یہی قول مطابق حدیث ہے) امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر سینگ سے خون جاری ہے تو جائز نہیں ورنہ جائز ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ چار قسم کے عیب دار جانور قربانی میں جائز نہیں کانا جانور جس کا بھینگا پن ظاہر ہو اور وہ بیمار جانور جس کی بیماری کھلی ہوئی ہو اور وہ لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو اور وہ دبلا پتلا مریل جانور جو گودے کے بغیر کا ہو گیا ہو ۔ [سنن ابوداود:2802،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اسے امام ترمذی صحیح کہتے ہیں۔

یہ عیوب وہ ہیں جن سے جانور گھٹ جاتا ہے۔ اس کا گوشت ناقص ہو جاتا ہے اور بکریاں چرتی چگتی رہتی ہیں اور یہ بوجہ اپنی کمزوری کے چارہ پورہ نہیں پاتا اسی لیے اس حدیث کے مطابق امام شافعی وغیرہ کے نزدیک اس کی قربانی ناجائز ہے۔ ہاں بیمار جانور کے بارے میں جس کی بیماری خطرناک درجے کی نہ ہو بہت کم ہو امام صاحب کے دونوں قول ہیں۔

صفحہ نمبر5602

ابو داؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا بالکل سینگ کٹے جانور سینگ ٹوٹے جانور اور کانے جانور سے اور بالکل کمزور جانور سے جو ہمیشہ ہی ریوڑ کے پیچھے رہ جاتا ہو بوجہ کمزوری کے یا بوجہ زیادہ عمر کے اور لنگڑے جانور سے [سنن ابوداود:2803،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ پس ان کل عیوب والے جانوروں کی قربانی ناجائز ہے۔

ہاں اگر قربانی کے لیے صحیح سالم بےعیب جانور مقرر کر دینے کے بعد اتفاقاً اس میں کوئی ایسی بات آ جائے مثلا لولا لنگڑا وغیرہ ہو جائے تو امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک اس کی قربانی بلاشبہ جائز ہے، امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اس کے خلاف ہیں۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کی دلیل وہ حدیث ہے جو مسند احمد میں ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے قربانی کے لیے جانور خریدا اس پر ایک بھیڑیئے نے حملہ کیا اور اس کی ران کا بوٹا توڑ لیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسی جانور کی قربانی کر سکتے ہو ۔ [مسند احمد:32/3:ضعیف] ‏

پس خریدتے وقت جانور کا فربہ ہونا تیار ہونا بےعیب ہونا چاہیئے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ آنکھ کان دیکھ لیا کرو ۔ [سنن ابوداود:2804،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک نہایت عمدہ اونٹ قربانی کے لیے نامزد کیا لوگوں نے اس کی قیمت تین سو اشرفی لگائیں تو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو میں اسے بیچ دوں اور اس کی قیمت سے اور جانور بہت سے خرید لوں اور انہیں راہ للہ قربان کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا اور حکم دیا کہ اسی کوفی سبیل اللہ ذبح کرو ۔ [سنن ابوداود:1756،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قربانی کے اونٹ شعائر اللہ میں سے ہیں۔ محمد بن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عرفات میں ٹھہرنا اور مزدلفہ اور رمی جمار اور سر منڈوانا اور قربانی کے اونٹ یہ سب شعائر اللہ ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان سب سے بڑھ کر بیت اللہ شریف ہے۔

صفحہ نمبر5603

پھر فرماتا ہے ” ان جانوروں کے بالوں میں، اون میں تمہارے لیے فوائد ہیں ان پر تم سوار ہوتے ہو ان کی کھالیں تمہارے لیے کار آمد ہیں۔ یہ سب ایک مقررہ وقت تک۔ یعنی جب تک اسے راہ للہ نامزد نہیں کیا۔ ان کا دودھ پیو ان سے نسلیں حاصل کرو جب قربانی کے لیے مقرر کر دیا پھر وہ اللہ کی چیز ہو گیا “۔

بزرگ کہتے ہیں اگر ضرورت ہو تو اب بھی سواری کی اجازت ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ ایک شخص کو اپنی قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر سوار ہو جاؤ ۔ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں اسے قربانی کی نیت کا کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری یا تیسری بار فرمایا افسوس بیٹھ کیوں نہیں جاتا ۔ [صحیح بخاری:1690] ‏

صحیح مسلم شریف میں ہے جب ضرورت اور حاجت ہو تو سوار ہو جایا کرو ۔ [صحیح مسلم:1324] ‏

ایک شخص کی قربانی کی اونٹنی نے بچہ دیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ اس کو دودھ پیٹ بھر کر پی لینے دے پھر اگر بچ رہے تو خیر تو اپنے کام میں لا اور قربانی والے دن اسے اور اس بچے کو دونوں کو بنام اللہ ذبح کر دے۔ پھر فرماتا ہے ” ان کی قربان گاہ بیت اللہ شریف ہے “۔ جیسے فرمان ہے آیت «هَدْيًا بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ» [5-المائدۃ:95] ‏ اور آیت میں «وَالْهَدْيَ مَعْكُوْفًا اَنْ يَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ» [48-الفتح:25] ‏ بیت العتیق کے معنی اس سے پہلے ابھی ابھی بیان ہو چکے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بیت اللہ کا طواف کرنے والا احرام سے حلال ہو جاتا ہے۔ دلیل میں یہی آیت «لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ» [22-الحج:33] ‏ تلاوت فرمائی۔

صفحہ نمبر5604

قربانی کے جانور اور حجاج ٭٭

اللہ کے شعائر کی جن میں قربانی کے جانور بھی شامل ہیں حرمت وعزت بیان ہو رہی ہے کہ ” احکام الٰہی پر عمل کرنا اللہ کے فرمان کی توقیر کرنا ہے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی قربانی کے جانوروں کو فربہ اور عمدہ کرنا۔ سہل کا بیان ہے کہ ہم قربانی کے جانوروں کو پال کر انہیں فربہ اور عمدہ کرتے تھے تمام مسلمانوں کا یہی دستور تھا ۔ [صحیح بخاری:9/10] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو سیاہ رنگ کے جانوروں کے خون سے ایک عمدہ سفید رنگ جانور کا خون اللہ کو زیادہ محبوب ہے ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1861،] ‏ پس اگرچہ اور رنگت کے جانور بھی جائز ہیں لیکن سفید رنگ جانور افضل ہیں۔

صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے چتکبرے بڑے بڑے سینگوں والے اپنی قربانی میں ذبح کئے ۔ [صحیح بخاری:5565] ‏

سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مینڈھا بڑا سینگ والا چت کبرا ذبح کیا جس کے منہ پر آنکھوں کے پاس اور پیروں پر سیاہ رنگ تھا ۔ [سنن ابوداود:2796،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے صحیح کہتے ہیں۔

ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے بہت موٹے تازے چکنے چتکبرے خصی ذبح کئے ۔ [سنن ابن ماجہ:3122،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ہم قربانی کے لیے جانور خریدتے وقت اس کی آنکھوں کو اور کانوں کو اچھی طرح دیکھ بھال لیا کریں۔ اور آگے سے کٹے ہوئے کان والے پیچھے سے کٹے ہوئے کان والے لمبائی میں چرے ہوئے کان والے یا سوراخ دار کان والے کی قربانی نہ کریں ۔ [سنن ابوداود:2804،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اسے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ صحیح کہتے ہیں۔

اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ ٹوٹے ہوئے اور کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن ابوداود:2805،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کی شرح میں سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب کہ آدھا یا آدھے سے زیادہ کان یا سینگ نہ ہو۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں اگر اوپر سے کسی جانور کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو اسے عربی میں «قصماً» کہتے اور جب نیچے کا حصہ ٹوٹا ہوا ہو تو اسے «عضب» کہتے۔ اور حدیث میں لفظ «عضب» ہے اور کان کا کچھ حصہ کٹ گیا ہو تو اسے بھی عربی میں «عضب» کہتے ہیں۔

صفحہ نمبر5601

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایسے جانور کی قربانی گو جائز ہے لیکن کراہت کے ساتھ۔ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جائز ہی نہیں۔ (‏بظاہر یہی قول مطابق حدیث ہے) امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر سینگ سے خون جاری ہے تو جائز نہیں ورنہ جائز ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ چار قسم کے عیب دار جانور قربانی میں جائز نہیں کانا جانور جس کا بھینگا پن ظاہر ہو اور وہ بیمار جانور جس کی بیماری کھلی ہوئی ہو اور وہ لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو اور وہ دبلا پتلا مریل جانور جو گودے کے بغیر کا ہو گیا ہو ۔ [سنن ابوداود:2802،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اسے امام ترمذی صحیح کہتے ہیں۔

یہ عیوب وہ ہیں جن سے جانور گھٹ جاتا ہے۔ اس کا گوشت ناقص ہو جاتا ہے اور بکریاں چرتی چگتی رہتی ہیں اور یہ بوجہ اپنی کمزوری کے چارہ پورہ نہیں پاتا اسی لیے اس حدیث کے مطابق امام شافعی وغیرہ کے نزدیک اس کی قربانی ناجائز ہے۔ ہاں بیمار جانور کے بارے میں جس کی بیماری خطرناک درجے کی نہ ہو بہت کم ہو امام صاحب کے دونوں قول ہیں۔

صفحہ نمبر5602

ابو داؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا بالکل سینگ کٹے جانور سینگ ٹوٹے جانور اور کانے جانور سے اور بالکل کمزور جانور سے جو ہمیشہ ہی ریوڑ کے پیچھے رہ جاتا ہو بوجہ کمزوری کے یا بوجہ زیادہ عمر کے اور لنگڑے جانور سے [سنن ابوداود:2803،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ پس ان کل عیوب والے جانوروں کی قربانی ناجائز ہے۔

ہاں اگر قربانی کے لیے صحیح سالم بےعیب جانور مقرر کر دینے کے بعد اتفاقاً اس میں کوئی ایسی بات آ جائے مثلا لولا لنگڑا وغیرہ ہو جائے تو امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک اس کی قربانی بلاشبہ جائز ہے، امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اس کے خلاف ہیں۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کی دلیل وہ حدیث ہے جو مسند احمد میں ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے قربانی کے لیے جانور خریدا اس پر ایک بھیڑیئے نے حملہ کیا اور اس کی ران کا بوٹا توڑ لیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسی جانور کی قربانی کر سکتے ہو ۔ [مسند احمد:32/3:ضعیف] ‏

پس خریدتے وقت جانور کا فربہ ہونا تیار ہونا بےعیب ہونا چاہیئے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ آنکھ کان دیکھ لیا کرو ۔ [سنن ابوداود:2804،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک نہایت عمدہ اونٹ قربانی کے لیے نامزد کیا لوگوں نے اس کی قیمت تین سو اشرفی لگائیں تو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو میں اسے بیچ دوں اور اس کی قیمت سے اور جانور بہت سے خرید لوں اور انہیں راہ للہ قربان کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا اور حکم دیا کہ اسی کوفی سبیل اللہ ذبح کرو ۔ [سنن ابوداود:1756،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قربانی کے اونٹ شعائر اللہ میں سے ہیں۔ محمد بن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عرفات میں ٹھہرنا اور مزدلفہ اور رمی جمار اور سر منڈوانا اور قربانی کے اونٹ یہ سب شعائر اللہ ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان سب سے بڑھ کر بیت اللہ شریف ہے۔

صفحہ نمبر5603

پھر فرماتا ہے ” ان جانوروں کے بالوں میں، اون میں تمہارے لیے فوائد ہیں ان پر تم سوار ہوتے ہو ان کی کھالیں تمہارے لیے کار آمد ہیں۔ یہ سب ایک مقررہ وقت تک۔ یعنی جب تک اسے راہ للہ نامزد نہیں کیا۔ ان کا دودھ پیو ان سے نسلیں حاصل کرو جب قربانی کے لیے مقرر کر دیا پھر وہ اللہ کی چیز ہو گیا “۔

بزرگ کہتے ہیں اگر ضرورت ہو تو اب بھی سواری کی اجازت ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ ایک شخص کو اپنی قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر سوار ہو جاؤ ۔ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں اسے قربانی کی نیت کا کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری یا تیسری بار فرمایا افسوس بیٹھ کیوں نہیں جاتا ۔ [صحیح بخاری:1690] ‏

صحیح مسلم شریف میں ہے جب ضرورت اور حاجت ہو تو سوار ہو جایا کرو ۔ [صحیح مسلم:1324] ‏

ایک شخص کی قربانی کی اونٹنی نے بچہ دیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ اس کو دودھ پیٹ بھر کر پی لینے دے پھر اگر بچ رہے تو خیر تو اپنے کام میں لا اور قربانی والے دن اسے اور اس بچے کو دونوں کو بنام اللہ ذبح کر دے۔ پھر فرماتا ہے ” ان کی قربان گاہ بیت اللہ شریف ہے “۔ جیسے فرمان ہے آیت «هَدْيًا بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ» [5-المائدۃ:95] ‏ اور آیت میں «وَالْهَدْيَ مَعْكُوْفًا اَنْ يَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ» [48-الفتح:25] ‏ بیت العتیق کے معنی اس سے پہلے ابھی ابھی بیان ہو چکے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بیت اللہ کا طواف کرنے والا احرام سے حلال ہو جاتا ہے۔ دلیل میں یہی آیت «لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ» [22-الحج:33] ‏ تلاوت فرمائی۔

صفحہ نمبر5604

قربانی ہر امت پر فرض قرار دی گئی ٭٭

فرمان ہے کہ ” کل امتوں میں ہر مذہب میں ہر گروہ کو ہم نے قربانی کا حکم دیا تھا۔ ان کے لیے ایک دن عید کا مقرر تھا۔ وہ بھی اللہ کے نام ذبیحہ کرتے تھے “۔ سب کے سب مکے شریف میں اپنی قربانیاں بھیجتے تھے۔ تاکہ قربانی کے چوپائے جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت اللہ کا نام ذکر کریں۔

حضور علیہ السلام کے پاس دو مینڈھے چتکبرے بڑے بڑے سینگوں والے لائے گئے آپ نے انہیں لٹا کر ان کی گردن پر پاؤں رکھ کر بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کر ذبح کیا ۔ [صحیح بخاری:5564] ‏

مسند احمد میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ۔ پوچھا ہمیں اس میں کیا ملتا ہے؟ فرمایا: ہر بال کے بدلے ایک نیکی ۔ دریافت کیا اور“اون“ کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: ان کے روئیں کے بدلے ایک نیکی ۔ [سنن ابن ماجہ:3127،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اسے امام ابن جریر رحمتہ اللہ بھی لائے ہیں۔

تم سب کا اللہ ایک ہے گو شریعت کے بعض احکام ادل بدل ہوتے رہے لیکن توحید میں، اللہ کی یگانگت میں، کسی رسول کو کسی نیک امت کو اختلاف نہیں ہوا۔ اور آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» [21-الانبیاء:25] ‏ ” تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو “۔

سب اللہ کی توحید، اسی کی عبادت کی طرف تمام جہان کو بلاتے رہے۔ سب پر اول وحی یہی نازل ہوتی رہی۔ پس تم سب اس کی طرف جھک جاؤ، اس کے ہو کر رہو، اس کے احکام کی پابندی کرو، اس کی اطاعت میں استحکام کرو۔ جو لوگ مطمئن ہیں، جو متواضع ہیں، جو تقوے والے ہیں، جو ظلم سے بیزار ہیں، مظلومی کی حالت میں بدلہ لینے کے خوگر نہیں، مرضی مولا، رضائے رب پر راضی ہیں انہیں خوشخبریاں سنا دیں، وہ مبارکباد کے قابل ہیں۔ جو ذکر الٰہی سنتے ہیں دل نرم، اور خوف الٰہی سے پر کر کے رب کی طرف جھک جاتے ہیں، کٹھن کاموں پر صبر کرتے ہیں، مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں۔ امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”واللہ اگر تم نے صبر وبرداشت کی عادت نہ ڈالی تو تم برباد کر دیئے جاؤ گے۔‏“ «وَالْمُقِيمِي» کی قرأت اضافت کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ لیکن ابن سمیفع نے «وَالْمُقِيمِي» پڑھا ہے اور «الصَّلَوٰةِ» کا زبر پڑھا ہے۔ امام حسن نے پڑھا تو ہے نون کے حذف اور اضافت کے ساتھ لیکن «الصَّلَوٰةِ» کا زبر پڑھا ہے اور فرماتے ہیں کہ نون کا حذف یہاں پر بوجہ تخفیف کے ہے کیونکہ اگر بوجہ اضافت مانا جائے تو اس کا زبر لازم ہے۔ اور ہوسکتا ہے کہ بوجہ قرب کے ہو۔

مطلب یہ ہے کہ فریضہ الٰہی کے پابند ہیں اور اللہ کا حق ادا کرنے والے ہیں اور اللہ کا دیا ہوا دیتے رہتے ہیں، اپنے گھرانے کے لوگوں کو، فقیروں محتاجوں کو اور تمام مخلوق کو جو بھی ضرورت مند ہوں سب کے ساتھ سلوک و احسان سے پیش آتے ہیں۔ اللہ کی حدود کی حفاظت کرتے ہیں منافقوں کی طرح نہیں کہ ایک کام کریں تو ایک کو چھوڑیں۔ سورۃ براۃ میں بھی یہی صفتیں بیان فرمائی ہیں اور وہیں پوری تفسیر بھی بحمدللہ ہم کر آئے ہیں۔ «فَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ»

صفحہ نمبر5606

قربانی ہر امت پر فرض قرار دی گئی ٭٭

فرمان ہے کہ ” کل امتوں میں ہر مذہب میں ہر گروہ کو ہم نے قربانی کا حکم دیا تھا۔ ان کے لیے ایک دن عید کا مقرر تھا۔ وہ بھی اللہ کے نام ذبیحہ کرتے تھے “۔ سب کے سب مکے شریف میں اپنی قربانیاں بھیجتے تھے۔ تاکہ قربانی کے چوپائے جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت اللہ کا نام ذکر کریں۔

حضور علیہ السلام کے پاس دو مینڈھے چتکبرے بڑے بڑے سینگوں والے لائے گئے آپ نے انہیں لٹا کر ان کی گردن پر پاؤں رکھ کر بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کر ذبح کیا ۔ [صحیح بخاری:5564] ‏

مسند احمد میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ۔ پوچھا ہمیں اس میں کیا ملتا ہے؟ فرمایا: ہر بال کے بدلے ایک نیکی ۔ دریافت کیا اور“اون“ کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: ان کے روئیں کے بدلے ایک نیکی ۔ [سنن ابن ماجہ:3127،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اسے امام ابن جریر رحمتہ اللہ بھی لائے ہیں۔

تم سب کا اللہ ایک ہے گو شریعت کے بعض احکام ادل بدل ہوتے رہے لیکن توحید میں، اللہ کی یگانگت میں، کسی رسول کو کسی نیک امت کو اختلاف نہیں ہوا۔ اور آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» [21-الانبیاء:25] ‏ ” تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو “۔

سب اللہ کی توحید، اسی کی عبادت کی طرف تمام جہان کو بلاتے رہے۔ سب پر اول وحی یہی نازل ہوتی رہی۔ پس تم سب اس کی طرف جھک جاؤ، اس کے ہو کر رہو، اس کے احکام کی پابندی کرو، اس کی اطاعت میں استحکام کرو۔ جو لوگ مطمئن ہیں، جو متواضع ہیں، جو تقوے والے ہیں، جو ظلم سے بیزار ہیں، مظلومی کی حالت میں بدلہ لینے کے خوگر نہیں، مرضی مولا، رضائے رب پر راضی ہیں انہیں خوشخبریاں سنا دیں، وہ مبارکباد کے قابل ہیں۔ جو ذکر الٰہی سنتے ہیں دل نرم، اور خوف الٰہی سے پر کر کے رب کی طرف جھک جاتے ہیں، کٹھن کاموں پر صبر کرتے ہیں، مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں۔ امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”واللہ اگر تم نے صبر وبرداشت کی عادت نہ ڈالی تو تم برباد کر دیئے جاؤ گے۔‏“ «وَالْمُقِيمِي» کی قرأت اضافت کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ لیکن ابن سمیفع نے «وَالْمُقِيمِي» پڑھا ہے اور «الصَّلَوٰةِ» کا زبر پڑھا ہے۔ امام حسن نے پڑھا تو ہے نون کے حذف اور اضافت کے ساتھ لیکن «الصَّلَوٰةِ» کا زبر پڑھا ہے اور فرماتے ہیں کہ نون کا حذف یہاں پر بوجہ تخفیف کے ہے کیونکہ اگر بوجہ اضافت مانا جائے تو اس کا زبر لازم ہے۔ اور ہوسکتا ہے کہ بوجہ قرب کے ہو۔

مطلب یہ ہے کہ فریضہ الٰہی کے پابند ہیں اور اللہ کا حق ادا کرنے والے ہیں اور اللہ کا دیا ہوا دیتے رہتے ہیں، اپنے گھرانے کے لوگوں کو، فقیروں محتاجوں کو اور تمام مخلوق کو جو بھی ضرورت مند ہوں سب کے ساتھ سلوک و احسان سے پیش آتے ہیں۔ اللہ کی حدود کی حفاظت کرتے ہیں منافقوں کی طرح نہیں کہ ایک کام کریں تو ایک کو چھوڑیں۔ سورۃ براۃ میں بھی یہی صفتیں بیان فرمائی ہیں اور وہیں پوری تفسیر بھی بحمدللہ ہم کر آئے ہیں۔ «فَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ»

صفحہ نمبر5606

شعائر اللہ کیا ہیں ؟ ٭٭

یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے جانور پیدا کئے اور انہیں اپنے نام پر قربان کرنے اور اپنے گھر بطور قربانی کے پہنچانے کا حکم فرمایا اور انہیں شعائر اللہ قرار دیا اور حکم فرمایا آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ‌ اللَّـهِ وَلَا الشَّهْرَ‌ الْحَرَ‌امَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَائِدَ وَلَا آمِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَ‌امَ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّن رَّ‌بِّهِمْ وَرِ‌ضْوَانًا» [5-المائدة:2] ‏ ” نہ تو اللہ کے ان عظمت والے نشانات کی بے ادبی کرو نہ حرمت والے مہینوں کی گستاخی کرو “ لہٰذا ہر اونٹ گائے جو قربانی کے لیے مقرر کر دیا جائے وہ بدن میں داخل ہے۔ گو بعض لوگوں نے صرف اونٹ کو ہی بدن کہا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ اونٹ تو ہے ہی گائے بھی اس میں شامل ہے۔

حدیث میں ہے کہ جس طرح اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے قربان ہوسکتا ہے اسی طرح گائے بھی ۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے صحیح مسلم شریف میں روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم اونٹ میں سات شریک ہو جائیں اور گائے میں بھی سات آدمی شرکت کر لیں ۔ [صحیح مسلم:1318] ‏

امام اسحاق بن راہویہ وغیرہ تو فرماتے ہیں ان دونوں جانوروں میں دس دس آدمی شریک ہو سکتے ہیں مسند احمد اور سنن نسائی میں ایسی حدیث بھی آئی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر5608

پھر فرمایا ” ان جانورں میں تمہارا اخروی نفع ہے “۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بقرہ عید والے دن انسان کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک قربانی سے زیادہ پسندیدہ نہیں۔ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، کھروں اور بالوں سمیت انسان کی نیکیوں میں پیش کیا جائے گا۔ یاد رکھو قربانی کے خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں پہنچ جاتا ہے پس ٹھنڈے دل سے قربانیاں کرو ۔ [سنن ترمذي:1493،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ تو قرض اٹھا کر بھی قربانی کیا کرتے تھے اور لوگوں کے دریافت کرنے پر فرماتے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہیں اس میں تمہارا بھلا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کسی خرچ کا فضل اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہ نسبت اس خرچ کے جو بقرہ عید والے دن کی قربانی پر کیا جائے ہرگز افضل نہیں ۔ [دارقطنی:282/4:ضعیف] ‏

پس اللہ فرماتا ” تمہارے لیے ان جانوروں میں ثواب ہے نفع ہے ضرورت کے وقت دودھ پی سکتے ہو سوار ہو سکتے ہو “،پھر ان کی قربانی کے وقت اپنا نام پڑھنے کی ہدایت کرتا ہے۔

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عید الاضحی کی نماز رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی نماز سے فراغت پاتے ہی سامنے مینڈھا لایا گیا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا «بِسْمِ اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر اللَّهُمَّ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي» پڑھ کر ذبح کیا (‏کہا اے اللہ یہ میری طرف سے ہے اور میری امت میں سے جو قربانی نہ کر سکے اس کی طرف سے ہے) ۔ [سنن ابوداود:2810،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں عید والے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو مینڈھے لائے گئے انہیں قبلہ رخ کر کے آپ نے دعا «وَجَّهْت وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَات وَالْأَرْض حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيك لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْت وَأَنَا أَوَّل الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ مِنْك وَلَك عَنْ مُحَمَّد وَأُمَّته» پڑھ کر «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهِ أَكْبَرُ» کہہ کر ذبح کر ڈالا ۔ [سنن ابوداود:2795،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5609

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قربانی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھے موٹے موٹے تازے تیار عمدہ بڑے سینگوں والے چتکبرے خریدتے، جب نماز پڑھ کر خطبے سے فراغت پاتے ایک جانور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں عید گاہ میں ہی خود اپنے ہاتھ سے اسے ذبح کرتے اور فرماتے اللہ تعالیٰ یہ میری ساری امت کی طرف سے ہے جو بھی توحید وسنت کا گواہ ہے ، پھر دوسرا جانور حاضر کیا جاتا جسے ذبح کرکے فرماتے یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے پھر دونوں کا گوشت مسکینوں کو بھی دیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے بھی کھاتے ۔ [سنن ابن ماجه:3122،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر5610

«صَوَافَّ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اونٹ کو تین پیروں پر کھڑا کر کے اس کا بایاں ہاتھ باندھ کر دعا «بِسْمِ اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر لَا إِلَه إِلَّا اللَّه اللَّهُمَّ مِنْك وَلَك» پڑھ کر اسے نحر کرنے کے کئے ہیں۔

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے اپنے اونٹ کو قربان کرنے کے لیے بٹھایا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اسے کھڑا کر دے اور اس کا پیر باندھ کر اسے نحر کر یہی سنت ہے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی“ ۔ [صحیح بخاری:1713] ‏

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اونٹ کا ایک پاؤں باندھ کر تین پاؤں پر کھڑا کر کے ہی نحر کرتے تھے ۔ [سنن ابوداود:1768،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سلیمان بن عبدالملک سے فرمایا تھا کہ بائیں طرف سے نحر کیا کرو۔ حجتہ الوداع کا بیان کرتے ہوئے جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے نحر کئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں حربہ تھا جس سے آپ زخمی کر رہے تھے ۔ [صحیح مسلم:1218] ‏

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «صَوَافِن» ہے یعنی کھڑے کر کے پاؤں باندھ کر «صَوَافَّ» کے معنی خالص کے بھی کئے گئے ہیں یعنی جس طرح جاہلیت کے زمانے میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے تم نہ کرو، صرف اللہ واحد کے نام پر ہی قربانیاں کرو۔ پھر جب یہ زمین پر گر پڑیں یعنی نحر ہو جائیں ٹھنڈے پڑجائیں تو خود کھاؤ اوروں کو بھی کھلاؤ نیزہ مارتے ہی ٹکڑے کاٹنے شروع نہ کرو جب تک روح نہ نکل جائے اور ٹھنڈا نہ پڑ جائے۔

چنانچہ ایک حدیث میں بھی آیا ہے کہ روحوں کے نکالنے میں جلدی نہ کرو ۔ صحیح مسلم کی حدیث میں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ سلوک کرنا لکھ دیا ہے دشمنوں کو میدان جنگ میں قتل کرتے وقت بھی نیک سلوک رکھو اور جانوروں کو ذبح کرتے وقت بھی اچھی طرح سے نرمی کے ساتھ ذبح کرو چھری تیز کر لیا کرو اور جانور کو تکلیف نہ دیا کرو ۔ [صحیح مسلم:1955] ‏

فرمان ہے کہ جانور میں جب تک جان ہے اور اس کے جسم کا کوئی حصہ کاٹ لیا جائے تو اس کا کھانا حرام ہے ۔ [سنن ابوداود:2857،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر5611

پھر فرمایا ” اسے خود کھاؤ “، بعض سلف تو فرماتے ہیں ”یہ کھانا مباح ہے۔‏“ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے ”مستحب ہے“ اور لوگ کہتے ہیں ”واجب ہے۔‏“ ” اور مسکینوں کو بھی دو خواہ وہ گھروں میں بیٹھنے والے ہوں خواہ وہ دربدر سوال کرنے والے “۔ یہ بھی مطلب ہے کہ قانع تو وہ ہے جو صبر سے گھر میں بیٹھا رہے اور معتر وہ ہے جو سوال تو نہ کرے لیکن اپنی عاجزی مسکینی کا اظہار کرے۔ یہ بھی مروی ہے کہ قانع وہ ہے جو مسکین ہو آنے جانے والا۔

اور «مُعْتَرَّ» سے مراد دوست اور ناتواں لوگ اور وہ پڑوسی جو گو مالدار ہوں لیکن تمہارے ہاں جو آئے جائے اسے وہ دیکھتے ہوں۔ وہ بھی ہیں جو طمع رکھتے ہوں اور وہ بھی جو امیر فقیر موجود ہوں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ «الْقَانِعَ» سے مراد اہل مکہ ہیں۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ ” «قَانِعَ» سے مراد تو سائل ہے کیونکہ وہ اپنا ہاتھ سوال کے لیے دراز کرتا ہے، اور «مُعْتَرَّ» سے مراد وہ جو ہیر پھیر کرے کہ کچھ مل جائے۔‏“

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنے چاہئیں۔ تہائی اپنے کھانے کو، تہائی دوستوں کے دینے کو، تہائی صدقہ کرنے کو۔

صفحہ نمبر5612

حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے تمہیں قربانی کے گوشت کو جمع کر کے رکھنے سے منع فرما دیا تھا کہ تین دن سے زیادہ تک نہ روکا جائے اب میں اجازت دیتا ہوں کہ کھاؤ جمع کرو جس طرح چاہو ۔ [صحیح مسلم:1977] ‏

اور روایت میں ہے کہ کھاؤ جمع کرو اور صدقہ کرو ۔ [صحیح مسلم:1971] ‏

اور روایت میں ہے کھاؤ اور کھلاؤ اور راہ للہ دو ۔ بعض لوگ کہتے ہیں قربانی کرنے والا آدھا گوشت آپ کھائے اور باقی صدقہ کر دے کیونکہ قرآن نے فرمایا ہے ” خود کھاؤ اور محتاج فقیر کو کھلاؤ “۔ اور حدیث میں بھی ہے کہ کھاؤ، جمع، ذخیرہ کرو اور راہ للہ دو ۔

اب جو شخص اپنی قربانی کا سارا گوشت خود ہی کھا جائے تو ایک قول یہ بھی ہے کہ اس پر کچھ حرج نہیں۔ بعض کہتے ہیں اس پر ویسی ہی قربانی یا اس کی قیمت کی ادائیگی ہے بعض کہتے ہیں آدھی قیمت دے، بعض آدھا گوشت۔ بعض کہتے ہیں اس کے اجزا میں سے چھوٹے سے چھوٹے جز کی قیمت اس کے ذمے ہے باقی معاف ہے۔ کھال کے بارے میں مسند احمد میں حدیث ہے کہ کھاؤ اور فی اللہ دو اور اس کے چمڑوں سے فائدہ اٹھاؤ لیکن انہیں بیچو نہیں ۔ [مسند احمد:15/4:ضعیف] ‏

بعض علماء نے بیچنے کی رخصت دی ہے۔ بعض کہتے ہیں غریبوں میں تقسیم کر دئیے جائیں۔

صفحہ نمبر5613

مسئلہ ٭٭

براء بن عازب کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے ہمیں اس دن نماز عید ادا کرنی چاہیئے پھر لوٹ کر قربانیاں کرنی چاہئیں جو ایسا کرے اس نے سنت کی ادائیگی کی۔ اور جس نے نماز سے پہلے ہی قربانی کر لی اس نے گویا اپنے والوں کے لیے گوشت جمع کر لیا اسے قربانی سے کوئی لگاؤ نہیں ۔ [صحیح بخاری:951-955] ‏

اسی لیے امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اور علماء کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ قربانی کا اول وقت اس وقت ہوتا ہے جب سورج نکل آئے اور اتنا وقت گزر جائے کہ نماز ہولے اور دو خطبے ہو لیں۔ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک اس کے بعد کا اتنا وقت بھی کہ امام ذبح کر لے۔ کیونکہ صحیح مسلم میں ہے امام جب تک قربانی نہ کرے تم قربانی نہ کرو ۔ [صحیح مسلم:1964] ‏

امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک تو گاؤں والوں پر عید کی نماز ہی نہیں اس لیے کہتے ہیں کہ وہ طلوع فجر کے بعد ہی قربانی کر سکتے ہیں ہاں شہری لوگ جب تک امام نماز سے فارغ نہ ہولے قربانی نہ کریں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5614

پھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف عید والے دن ہی قربانی کرنا مشروع ہے اور قول ہے کہ شہر والوں کے لیے تو یہی ہے کیونکہ یہاں قربانیاں آسانی سے مل جاتی ہیں۔ لیکن گاؤں والوں کے لیے عید کا دن اور اس کے بعد کے ایام تشریق۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ دسویں اور گیا رھویں تاریخ سب کے لیے قربانی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ عید کے بعد کے دو دن۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عید کا دن اور اس کے بعد کے تین دن جو ایام تشریق کے ہیں۔

امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہی ہے کیونکہ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایام تشریق سب قربانی کے ہیں ۔ [مسند احمد:82/4:ضعیف و منقطع] ‏ کہا گیا ہے کہ قربانی کے دن ذی الحجہ کے خاتمہ تک ہیں لیکن یہ قول غریب ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” اسی وجہ سے ہم نے ان جانوروں کو تمہارا فرماں بردار اور زیر اثر کر دیا ہے کہ تم چاہو سواری لو، جب چاہو دودھ نکال لو، جب چاہو ذبح کر کے گوشت کھا لو “۔

جیسے سورۃ یسٰین میں آیت «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَا أَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مَالِكُونَ وَذَلَّلْنَاهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ وَلَهُمْ فِيهَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ أَفَلَا يَشْكُرُونَ» [36-یس:71-73] ‏ تک بیان ہوا ہے۔ یہی فرمان یہاں ہے کہ ” اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کرو اور ناشکری، ناقدری نہ کرو “۔

صفحہ نمبر5615

قربانی پر اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرو ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ” قربانیوں کے وقت اللہ کا نام بڑائی سے لیا جائے “۔ اسی لیے قربانیاں مقرر ہوئی ہیں کہ خالق رازق اسے مانا جائے نہ کہ قربانیوں کے گوشت و خون سے اللہ کو کوئی نفع ہوتا ہو۔ اللہ تعالیٰ ساری مخلوق سے غنی اور کل بندوں سے بے نیاز ہے۔

جاہلیت کی بیوقوفیوں میں ایک یہ بھی تھی کہ قربانی کے جانور کا گوشت اپنے بتوں کے سامنے رکھ دیتے تھے اور ان پر خون کا چھینٹا دیتے تھے۔ یہ بھی دستور تھا کہ بیت اللہ شریف پر قربانی کے خون چھڑکتے، مسلمان ہو کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایسا کرنے کے بارے میں سوال کیا جس پر یہ آیت اتری کہ ” اللہ تو تقویٰ کو دیکھتا ہے اسی کو قبول فرماتا ہے اور اسی پر بدلہ عنایت فرماتا ہے “۔

چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا نہ اس کی نظریں تمہارے مال پر ہیں بلکہ اس کی نگاہیں تمہارے دلوں پر اور تمہارے اعمال پر ہیں ۔ [صحیح مسلم:2564] ‏

اور حدیث میں ہے کہ خیرات وصدقہ سائل کے ہاتھ میں پڑے اس سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ قربانی کے جانور کے خون کا قطرہ زمین پر ٹپکے اس سے پہلے اللہ کے ہاں پہنچ جاتا ہے ۔ [سنن ترمذي:1493،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کا مطلب یہی ہے کہ خون کا قطرہ الگ ہوتے ہی قربانی مقبول ہو جاتی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5616

عامر شعبی رحمہ اللہ سے قربانی کی کھالوں کی نسبت پوچھا گیا تو فرمایا ”اللہ کو گوشت و خون نہیں پہنچتا اگر چاہو بیچ دو، اگر چاہو خود رکھ لو، اگر چاہو راہ للہ دے دو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے قبضے میں دیا ہے۔ کہ تم اللہ کے دین اور اس کی شریعت کی راہ پا کر اس کی مرضی کے کام کرو اور نا مرضی کے کاموں سے رک جاؤ۔ اور اس کی عظمت وکبریائی بیان کرو۔ جو لوگ نیک کار ہیں، حدود اللہ کے پابند ہیں، شریعت کے عامل ہیں، رسولوں کی صداقت تسلیم کرتے ہیں وہ مستحق مبارکباد اور لائق خوشخبری ہیں۔‏“

صفحہ نمبر5617

مسئلہ ٭٭

امام ابوحنیفہ، مالک ثوری رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”جس کے پاس نصاب زکوٰۃ جتنا مال ہو اس پر قربانی واجب ہے۔‏“ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ شرط بھی ہے کہ وہ اپنے گھر میں مقیم ہو۔

چنانچہ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ جسے وسعت ہو اور قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے ۔ [سنن ابن ماجہ:3123،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس روایت میں غرابت ہے اور امام احمد رحمتہ اللہ علیہ اسے منکر بتاتے ہیں۔

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر دس سال قربانی کرتے رہے ۔ [سنن ترمذي:1507،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

امام شافعی رحمہ اللہ اور حضرت مام احمد رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ قربانی واجب و فرض نہیں بلکہ مستحب ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ مال و زکوٰۃ کے سوا اور کوئی فرضیت نہیں ۔ [سنن ابن ماجہ:1789،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5618

یہ بھی روایت پہلے بیان ہو چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام امت کی طرف سے قربانی کی پس وجوب ساقط ہو گیا۔ ابو شریحہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے پڑوس میں رہتا تھا۔ یہ دونوں بزرگ قربانی نہیں کرتے تھے اس ڈر سے کہ لوگ ان کی اقتداء کریں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں قربانی سنت کفایہ ہے، جب کہ محلے میں سے یا گلی میں سے یا گھر میں سے کسی ایک نے کر لی باقی سب نے ایسا نہ کیا۔ اس لیے کہ مقصود صرف شعار کا ظاہر کرنا ہے۔

ترمذی وغیرہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں فرمایا: ہر گھر والوں پر ہر سال قربانی ہے اور «عَتِيرَة» ہے جانتے ہو «عَتِيرَة» کیا ہے؟ وہی جسے تم «رَّجَبِيَّة» کہتے ہو ۔ [سنن ابوداود:2788،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس کی سند میں کلام کیا گیا ہے۔

سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنے پورے گھر کی طرف سے ایک بکری راہ للہ ذبح کر دیا کرتے تھے اور خود بھی کھاتے، اوروں کو بھی کھلاتے۔ پھر لوگوں نے اس میں وہ کر لیا جو تم دیکھ رہے ہو ۔ [سنن ترمذي:1505،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ اپنی اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کیا کرتے تھے ۔ [صحیح بخاری:7210] ‏

صفحہ نمبر5619

اب قربانی کے جانور کی عمر کا بیان ملاحظہ ہو۔ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نہ ذبح کرو مگر «مُسِنَّة» بجز اس صورت کے کہ وہ تم پر بھاری پڑ جائے تو پھر بھیڑ کا بچہ بھی چھ ماہ کا ذبح کر سکتے ہو ۔ [سنن ابوداود:2788،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

زہری رحمہ اللہ تو کہتے ہیں کہ «الْجَذَع» یعنی چھ ماہ کا کوئی جانور قربانی میں کام ہی نہیں آسکتا اور اس کے بالمقابل اوزاعی رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ ہر جانور کا جزعہ کافی ہے۔ لیکن یہ دونوں قول افراط والے ہیں۔ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اونٹ گائے بکری تو وہ جائز ہے جو ثنی ہو۔ اور بھیڑ کا چھ ماہ کا بھی جائز ہے۔ اونٹ تو ثنی ہوتا ہے جب پانچ سال پورے کر کے چھٹے میں لگ جائے۔ اور گائے جب دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ جائے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین گزار کر چوتھے میں لگ گیا ہو۔ اور بکری کا ثنی وہ ہے جو دو سال گزار چکا ہو اور جذعہ کہتے ہیں اسے جو سال بھر کا ہو گیا ہو اور کہا گیا ہے جو دس ماہ کا ہو۔

ایک قول ہے جو آٹھ ماہ کا ہو ایک قول ہے جو چھ ماہ کا ہو اس سے کم مدت کا کوئی قول نہیں۔ اس سے کم عمر والے کو حمل کہتے ہیں۔ جب تک کہ اس کی پیٹھ پر بال کھڑے ہوں اور بال لیٹ جائیں اور دونوں جانب جھک جائیں تو اسے جذع کہا جاتا ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5620

باب

اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے خبر دے رہا ہے کہ ” جو اس کے بندے اس پر بھروسہ رکھیں اس کی طرف جھکتے رہیں انہیں وہ اپنی امان نصیب فرماتا ہے، شریروں کی برائیاں دشمنوں کی بدیاں خود ہی ان سے دور کر دیتا ہے، اپنی مدد ان پر نازل فرماتا ہے، اپنی حفاظت میں انہیں رکھتا ہے “۔

جیسے فرمان ہے آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ» [39-الزمر:36] ‏ یعنی ” کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں؟ “

اور آیت میں «وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا» [65-الطلاق:3] ‏ ” جو اللہ پر بھروسہ رکھے اللہ آپ اسے کافی ہے “ الخ، دغا باز ناشکرے اللہ کی محبت سے محروم ہیں اپنے عہدو پیمان پورے نہ کرنے والے اللہ کی نعمتوں کے منکر اللہ کے پیار سے دور ہیں۔

صفحہ نمبر5621

حکم جہاد صادر ہوا ٭٭

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم مدینے سے بھی نکالے جانے لگے اور کفار مکے سے چڑھ دوڑے تب جہاد کی اجازت کی یہ آیت اتری۔ بہت سے سلف سے منقول ہے کہ جہاد کی یہ پہلی آیت ہے جو قرآن میں اتری۔ اسی سے بعض بزرگوں نے استدلال کیا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے۔

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکے شریف سے ہجرت کی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زبان سے نکلا کہ ”افسوس ان کفار نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو وطن سے نکالا یقیناً یہ تباہ ہوں گے۔‏“ پھر یہ آیت اتری تو صدیق رضی اللہ عنہ نے جان لیا کہ جنگ ہو کر رہے گی ۔ [سنن ترمذي:3171،قال الشيخ الألباني:صحیح الاسناد] ‏

اور آیت میں ہے «فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ» [47-محمد:4-6] ‏ ” اللہ اپنے مومن بندوں کی مدد پر قادر ہے۔ اگر چاہے تو بے لڑے بھڑے انہیں غالب کر دے لیکن وہ آزمانا چاہتا ہے اسی لیے حکم دیا کہ ان کفار کی گردنیں مارو “۔ الخ،

اور آیت میں ہے فرمایا «قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللَّـهُ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ» [9-التوبہ:15،14] ‏ ” ان سے لڑو اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سزا دے گا اور رسوا کرے اور ان پر تمہیں غالب کرے گا اور مومنوں کے حوصلے نکالنے کا موقع دے گا کہ ان کے کلیجے ٹھنڈے ہو جائیں ساتھ ہی جسے چاہے گا توفیق توبہ دے گا اللہ علم وحکمت والا ہے “۔

اور آیت میں ہے «اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً وَاللّٰهُ خَبِيْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ» [9-التوبہ:16] ‏ یعنی ” کیا تم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ تم چھوڑ دیئے جاؤ گے حالانکہ اب تک تو وہ کھل کر سامنے نہیں آئے جو مجاہد ہیں، اللہ، رسول اور مسلمانوں کے سوا کسی سے دوستی اور یگانگت نہیں کرتے۔ سمجھ لو کہ اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے “۔

اور آیت میں ہے «حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّـهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ» [3-آل عمران:142] ‏ ” کیا تم نے یہ گمان کیا ہے کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک مجاہدین اور صابرین دوسروں سے ممتاز نہیں ہوئے “۔

اور آیت میں فرمایا ہے آیت «وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ» [47-محمد:31] ‏ ” ہم تمہیں یقیناً آزمائیں گے یہاں تک کہ تم میں سے غازی اور صبر کرنے والے ہمارے سامنے نمایاں ہو جائیں “۔ اس بارے میں اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

پھر فرمایا ” اللہ ان کی مدد پر قادر ہے “۔ اور یہی ہوا بھی کہ اللہ نے اپنے لشکر کو دنیا پر غالب کر دیا۔ جہاد کو شریعت نے جس وقت مشروع فرمایا وہ وقت بھی اس کے لیے بالکل مناسب اور نہایت ٹھیک تھا۔

صفحہ نمبر5622

باب

جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں رہے مسلمان بہت ہی کمزور تھے تعداد میں بھی دس کے مقابلے میں ایک بمشکل بیٹھتا۔

چنانچہ جب لیلتہ العقبہ میں انصاریوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تو انہوں نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو اس وقت منیٰ میں جتنے مشرکین جمع ہیں ان پر شب خون ماریں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ابھی اس کا حکم نہیں دیا گیا ۔

صفحہ نمبر5623

یہ یاد رہے کہ یہ بزرگ صرف اسی (‏٨٠)‏ سے کچھ اوپر تھے۔ جب مشرکوں کی بغاوت بڑھ گئی، جب وہ سرکشی میں حد سے گزر گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ایذائیں دیتے دیتے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کے درپے ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جلا وطن کرنے کے منصوبے گانٹھنے لگے۔

اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ دیئے۔ بیک بینی و دوگوش وطن مال اسباب، اپنوں غیروں کو چھوڑ کر جہاں جس کا موقعہ بنا گھبرا کر چل دیا کچھ تو حبشہ پہنچے کچھ مدینے گئے۔ یہاں تک کہ خود آفتاب رسالت کا طلوع بھی مدینے شریف میں ہوا۔ اہل مدینہ محمدی جھنڈے تلے جوش خروش سے جمع لشکری صورت مرتب ہو گئی۔ کچھ مسلمان ایک جھنڈے تلے دکھائی دینے لگے، قدم ٹکانے کی جگہ مل گئی۔ اب دشمنان دین سے جہاد کے احکام نازل ہوئے تو پس سب سے پہلے یہی آیت اتری۔ اس میں بیان فرمایا گیا کہ ” یہ مسلمان مظلوم ہیں، ان کے گھربار ان سے چھین لیے گئے ہیں، بے وجہ گھر سے بے گھر کر دئیے گئے ہیں، مکے سے نکال دئیے گئے، مدینے میں بے سرو سامانی میں پہنچے۔ ان کا جرم بجز اس کے سوا نہ تھا کہ صرف اللہ کے پرستار تھے رب کو ایک مانتے تھے اپنے پروردگار صرف اللہ کو جانتے تھے۔ یہ استثنا منقطع ہے گو مشرکین کے نزدیک تو یہ امر اتنا بڑا جرم ہے جو ہرگز کسی صورت سے معافی کے قابل نہیں “۔

فرمان ہے آیت «يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا باللّٰهِ رَبِّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِيْ سَبِيْلِيْ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِيْ» [60-الممتحنة:1] ‏ ” تمہیں اور ہمارے رسول کو صرف اس بنا پر نکالتے ہیں کہ تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو جو تمہارا حقیقی پروردگار ہے “۔

خندقوں والوں کے قصے میں فرمایا آیت «مَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَن يُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» [85-البروج:8] ‏ یعنی ” دراصل ان کا کوئی قصور نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ غالب، مہربان، ذی احسان پر ایمان لائے تھے “۔

مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم خندق کھودتے ہوئے اپنے رجز میں کہہ رہے تھے، شعر «لَا هُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اِهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا» «فَأَنْزِلَن سَكِينَة عَلَيْنَا وَثَبِّتْ الْأَقْدَام إِنْ لَاقَيْنَا» «إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَة أَبَيْنَا» خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی موافقت میں تھے اور قافیہ کا آخری حرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ ادا کرتے اور «‏أَبَيْنَا» ‏کہتے ہوئے خوب بلند آواز کرتے ۔ [صحیح بخاری:4106] ‏

صفحہ نمبر5624

پھر فرماتا ہے ” اگر اللہ تعالیٰ ایک کا علاج دوسرے سے نہ کرتا اگر ہر سیر پر سوا سیر نہ ہوتا تو زمین میں شر فساد مچ جاتا، ہر قوی ہر کمزور کو نگل جاتا “۔

عیسائی عابدوں کے چھوٹے عبادت خانوں کو «صَوَامِعُ» کہتے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ صابی مذہب کے لوگوں کے عبادت خانوں کا نام ہے اور بعض کہتے ہیں مجوسیوں کے آتش کدوں کو «صَوَامِعُ» کہتے ہیں۔ مقاتل کہتے ہیں یہ وہ گھر ہیں جو راستوں پر ہوتے ہیں۔

«بِيَعٌ» ان سے بڑے مکانات ہوتے ہیں یہ بھی نصرانیوں کے عابدوں کے عبادت خانے ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں یہ یہودیوں کے کنیسا ہیں۔

صلوات کے بھی ایک معنی تو یہی کئے گئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں مراد گرجا ہیں۔ بعض کا قول ہے صابی لوگوں کا عبادت خانہ۔ راستوں پر جو عبادت کے گھر اہل کتاب کے ہوں انہیں صلوات کہا جاتا ہے اور مسلمانوں کے ہوں انہیں مساجد۔ «فِيهَا» کی ضمیر کا مرجع مساجد ہے اس لیے کہ سب سے پہلے یہی لفظ ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ سب جگہیں ہیں یعنی تارک الدنیا لوگوں کے صوامع، نصرانیوں کے بیع، یہودیوں کے صلوات اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں اللہ کا نام خوب لیا جاتا ہے۔

صفحہ نمبر5625

بعض علماء کا بیان ہے کہ اس آیت میں اقل سے اکثر کی طرف کی ترقی کی صنعت رکھی گئی ہے پس سب سے زیادہ آباد سب سے بڑا عبادت گھر جہاں کے عابدوں کا قصد صحیح نیت نیک عمل صالح ہے وہ مسجدیں ہیں۔

پھر فرمایا ” اللہ اپنے دین کے مددگاروں کا خود مددگار ہے “، جیسے فرمان ہے آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّـهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ» [47-محمد:8،7] ‏ یعنی ” اگر اے مسلمانو! تم اللہ کے دین کی امداد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔ کفار پر افسوس ہے اور ان کے اعمال غارت ہیں “۔

پھر اپنے دو وصف بیان فرمائے قوی ہونا کہ ساری مخلوق کو پیدا کر دیا، عزت والا ہونا کہ سب اس کے ماتحت ہر ایک اس کے سامنے ذلیل وپست سب اس کی مدد کے محتاج وہ سب سے بے نیاز جسے وہ مدد دے وہ غالب جس پر سے اس کی مدد ہٹ جائے وہ مغلوب۔ فرماتا ہے آیت «وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» [37-الصافات:173-171] ‏ یعنی ” ہم نے تو پہلے سے ہی اپنے رسولوں سے وعدہ کر لیا ہے کہ ان کی یقینی طور پر مدد کی جائے گی اور یہ کہ ہمارا لشکر ہی غالب آئے گا “۔

اور آیت میں ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ‏ ” اللہ کہہ چکا ہے کہ میں اور میرا رسول غالب ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ قوت وعزت والا ہے “۔

صفحہ نمبر5626

پابندی احکامات کی تاکید ٭٭

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ آیت ہمارے بارے میں اتری ہے۔ ہم بےسبب خارج ازوطن کئے گئے تھے، پھر ہمیں اللہ نے سلطنت دی، ہم نے نماز و روزہ کی پابندی کی بھلے احکام دئیے اور برائی سے روکنا جاری کیا۔ پس یہ آیت میرے اور میرے ساتھیوں کے بارے میں ہے۔‏“

ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔‏“

خلیفہ رسول عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے خطبے میں اس آیت «الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ» [22-الحج:41] ‏ کی تلاوت فرما کر فرمایا ”اس میں بادشاہوں کا بیان ہی نہیں بلکہ بادشاہ رعایا دونوں کا بیان ہے۔ بادشاہ پر تو یہ ہے کہ حقوق الٰہی تم سے برابر لے اللہ کے حق کی کوتاہی کے بارے میں تمہیں پکڑے اور ایک کا حق دوسرے سے دلوائے اور جہاں تک ممکن ہو تمہیں صراط مستقیم سمجھاتا رہے۔ تم پر اس کا یہ حق ہے کہ ظاہر وباطن خوشی خوشی اس کی اطاعت گزاری کرو۔‏“

عطیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی آیت کامضمون آیت «وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ» [24-النور:55] ‏ میں ہے۔ کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔ «وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» [28-القص:83] ‏ عمدہ نتیجہ پرہیزگاروں کا ہو گا۔ ہرنیکی کا بدلہ اسی کے ہاں ہے۔

صفحہ نمبر5627

کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ” منکروں کا انکار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح علیہ السلام سے لے کر موسیٰ علیہ السلام تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا۔ میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کر لیں۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخر کار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر درد ناک انجام ہوا “۔

سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھٹکارا نہیں ہوتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [11-ھود:102] ‏ تلاوت کی ۔

پھر فرمایا کہ ” کئی ایک بستیوں والے ظالموں کو جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ہم نے غارت کر دیا۔ جن کے محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اوندھے گرے ہوئے ہیں، ان کی منزلیں ویران ہوگیئں، ان کی آبادیاں ویران ہوگئیں، ان کے کنویں خالی پڑے ہیں، جو کل تک آباد تھے آج خالی ہیں، ان کے چونہ گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، جو بلند و بالا اور پختہ تھے وہ آج ویران پڑے ہیں، وہاں الو بول رہا ہے، ان کی مضبوطی انہیں نہ بچا سکی، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بے کار ثابت ہوئی۔ رب کے عذاب نے تہس نہس کر دیا “۔

جیسے فرمان ہے آیت «اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ» [4-النساء:78] ‏ یعنی ” گو تم چونہ گچ پکے قلعوں میں محفوظ ہو لیکن موت وہاں بھی تمہیں چھوڑنے کی نہیں “۔

صفحہ نمبر5628

” کیا وہ خود زمین میں چلے پھرے نہیں یا کبھی غور وفکر بھی نہیں کیا کہ کچھ عبرت حاصل ہوتی؟ “

امام ابن ابی الدنیا کتاب «التفکر و الا عبار» میں روایت لائے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی بھیجی کہ اے موسیٰ! لوہے کی نعلین پہن کر لوہے کی لکڑی لے کر زمین میں چل پھر کر آثار وعبرت کو دیکھ وہ ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ تیری لوہے کی جوتیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور لوہے کی لکڑی بھی ٹوٹ پھوٹ جائے۔

اسی کتاب میں بعض دانشمندوں کا قول ہے کہ وعظ کے ساتھ اپنے دل کو زندہ کر۔ اور غور وفکر کے ساتھ اسے نورانی کر اور زہد اور دنیا سے بچنے کے ساتھ اسے مار دے اور یقین کے ساتھ اس کو قوی کرلے اور موت کے ذکر سے اسے ذلیل کر دے اور فنا کے یقین سے اسے صبر دے۔ دنیا کی مصیبتیں اس کے سامنے رکھ کر اس آنکھیں کھول دے زمانے کی تنگی اسے دکھا اسے دہشت ناک بنا دے، دنوں کے الٹ پھیر اسے سمجھا کر بیدار کر دے۔ گزشتہ واقعات سے اسے عبرتناک بنا۔ اگلوں کے قصے اسے سنا کر ہوشیار رکھ۔ ان کے شہروں میں اور ان کی سوانح میں اسے غور وفکر کرنے کا عادی بنا۔ اور دیکھ کہ گہنگاروں کے ساتھ اس کا معاملہ کیا ہوا کس طرح وہ لوٹ پوٹ کر دیئے گئے۔‏“

صفحہ نمبر5629

کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ” منکروں کا انکار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح علیہ السلام سے لے کر موسیٰ علیہ السلام تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا۔ میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کر لیں۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخر کار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر درد ناک انجام ہوا “۔

سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھٹکارا نہیں ہوتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [11-ھود:102] ‏ تلاوت کی ۔

پھر فرمایا کہ ” کئی ایک بستیوں والے ظالموں کو جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ہم نے غارت کر دیا۔ جن کے محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اوندھے گرے ہوئے ہیں، ان کی منزلیں ویران ہوگیئں، ان کی آبادیاں ویران ہوگئیں، ان کے کنویں خالی پڑے ہیں، جو کل تک آباد تھے آج خالی ہیں، ان کے چونہ گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، جو بلند و بالا اور پختہ تھے وہ آج ویران پڑے ہیں، وہاں الو بول رہا ہے، ان کی مضبوطی انہیں نہ بچا سکی، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بے کار ثابت ہوئی۔ رب کے عذاب نے تہس نہس کر دیا “۔

جیسے فرمان ہے آیت «اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ» [4-النساء:78] ‏ یعنی ” گو تم چونہ گچ پکے قلعوں میں محفوظ ہو لیکن موت وہاں بھی تمہیں چھوڑنے کی نہیں “۔

صفحہ نمبر5628

” کیا وہ خود زمین میں چلے پھرے نہیں یا کبھی غور وفکر بھی نہیں کیا کہ کچھ عبرت حاصل ہوتی؟ “

امام ابن ابی الدنیا کتاب «التفکر و الا عبار» میں روایت لائے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی بھیجی کہ اے موسیٰ! لوہے کی نعلین پہن کر لوہے کی لکڑی لے کر زمین میں چل پھر کر آثار وعبرت کو دیکھ وہ ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ تیری لوہے کی جوتیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور لوہے کی لکڑی بھی ٹوٹ پھوٹ جائے۔

اسی کتاب میں بعض دانشمندوں کا قول ہے کہ وعظ کے ساتھ اپنے دل کو زندہ کر۔ اور غور وفکر کے ساتھ اسے نورانی کر اور زہد اور دنیا سے بچنے کے ساتھ اسے مار دے اور یقین کے ساتھ اس کو قوی کرلے اور موت کے ذکر سے اسے ذلیل کر دے اور فنا کے یقین سے اسے صبر دے۔ دنیا کی مصیبتیں اس کے سامنے رکھ کر اس آنکھیں کھول دے زمانے کی تنگی اسے دکھا اسے دہشت ناک بنا دے، دنوں کے الٹ پھیر اسے سمجھا کر بیدار کر دے۔ گزشتہ واقعات سے اسے عبرتناک بنا۔ اگلوں کے قصے اسے سنا کر ہوشیار رکھ۔ ان کے شہروں میں اور ان کی سوانح میں اسے غور وفکر کرنے کا عادی بنا۔ اور دیکھ کہ گہنگاروں کے ساتھ اس کا معاملہ کیا ہوا کس طرح وہ لوٹ پوٹ کر دیئے گئے۔‏“

صفحہ نمبر5629

کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ” منکروں کا انکار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح علیہ السلام سے لے کر موسیٰ علیہ السلام تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا۔ میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کر لیں۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخر کار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر درد ناک انجام ہوا “۔

سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھٹکارا نہیں ہوتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [11-ھود:102] ‏ تلاوت کی ۔

پھر فرمایا کہ ” کئی ایک بستیوں والے ظالموں کو جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ہم نے غارت کر دیا۔ جن کے محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اوندھے گرے ہوئے ہیں، ان کی منزلیں ویران ہوگیئں، ان کی آبادیاں ویران ہوگئیں، ان کے کنویں خالی پڑے ہیں، جو کل تک آباد تھے آج خالی ہیں، ان کے چونہ گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، جو بلند و بالا اور پختہ تھے وہ آج ویران پڑے ہیں، وہاں الو بول رہا ہے، ان کی مضبوطی انہیں نہ بچا سکی، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بے کار ثابت ہوئی۔ رب کے عذاب نے تہس نہس کر دیا “۔

جیسے فرمان ہے آیت «اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ» [4-النساء:78] ‏ یعنی ” گو تم چونہ گچ پکے قلعوں میں محفوظ ہو لیکن موت وہاں بھی تمہیں چھوڑنے کی نہیں “۔

صفحہ نمبر5628

” کیا وہ خود زمین میں چلے پھرے نہیں یا کبھی غور وفکر بھی نہیں کیا کہ کچھ عبرت حاصل ہوتی؟ “

امام ابن ابی الدنیا کتاب «التفکر و الا عبار» میں روایت لائے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی بھیجی کہ اے موسیٰ! لوہے کی نعلین پہن کر لوہے کی لکڑی لے کر زمین میں چل پھر کر آثار وعبرت کو دیکھ وہ ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ تیری لوہے کی جوتیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور لوہے کی لکڑی بھی ٹوٹ پھوٹ جائے۔

اسی کتاب میں بعض دانشمندوں کا قول ہے کہ وعظ کے ساتھ اپنے دل کو زندہ کر۔ اور غور وفکر کے ساتھ اسے نورانی کر اور زہد اور دنیا سے بچنے کے ساتھ اسے مار دے اور یقین کے ساتھ اس کو قوی کرلے اور موت کے ذکر سے اسے ذلیل کر دے اور فنا کے یقین سے اسے صبر دے۔ دنیا کی مصیبتیں اس کے سامنے رکھ کر اس آنکھیں کھول دے زمانے کی تنگی اسے دکھا اسے دہشت ناک بنا دے، دنوں کے الٹ پھیر اسے سمجھا کر بیدار کر دے۔ گزشتہ واقعات سے اسے عبرتناک بنا۔ اگلوں کے قصے اسے سنا کر ہوشیار رکھ۔ ان کے شہروں میں اور ان کی سوانح میں اسے غور وفکر کرنے کا عادی بنا۔ اور دیکھ کہ گہنگاروں کے ساتھ اس کا معاملہ کیا ہوا کس طرح وہ لوٹ پوٹ کر دیئے گئے۔‏“

صفحہ نمبر5629

کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ” منکروں کا انکار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح علیہ السلام سے لے کر موسیٰ علیہ السلام تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا۔ میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کر لیں۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخر کار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر درد ناک انجام ہوا “۔

سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھٹکارا نہیں ہوتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [11-ھود:102] ‏ تلاوت کی ۔

پھر فرمایا کہ ” کئی ایک بستیوں والے ظالموں کو جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ہم نے غارت کر دیا۔ جن کے محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اوندھے گرے ہوئے ہیں، ان کی منزلیں ویران ہوگیئں، ان کی آبادیاں ویران ہوگئیں، ان کے کنویں خالی پڑے ہیں، جو کل تک آباد تھے آج خالی ہیں، ان کے چونہ گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، جو بلند و بالا اور پختہ تھے وہ آج ویران پڑے ہیں، وہاں الو بول رہا ہے، ان کی مضبوطی انہیں نہ بچا سکی، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بے کار ثابت ہوئی۔ رب کے عذاب نے تہس نہس کر دیا “۔

جیسے فرمان ہے آیت «اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ» [4-النساء:78] ‏ یعنی ” گو تم چونہ گچ پکے قلعوں میں محفوظ ہو لیکن موت وہاں بھی تمہیں چھوڑنے کی نہیں “۔

صفحہ نمبر5628

” کیا وہ خود زمین میں چلے پھرے نہیں یا کبھی غور وفکر بھی نہیں کیا کہ کچھ عبرت حاصل ہوتی؟ “

امام ابن ابی الدنیا کتاب «التفکر و الا عبار» میں روایت لائے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی بھیجی کہ اے موسیٰ! لوہے کی نعلین پہن کر لوہے کی لکڑی لے کر زمین میں چل پھر کر آثار وعبرت کو دیکھ وہ ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ تیری لوہے کی جوتیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور لوہے کی لکڑی بھی ٹوٹ پھوٹ جائے۔

اسی کتاب میں بعض دانشمندوں کا قول ہے کہ وعظ کے ساتھ اپنے دل کو زندہ کر۔ اور غور وفکر کے ساتھ اسے نورانی کر اور زہد اور دنیا سے بچنے کے ساتھ اسے مار دے اور یقین کے ساتھ اس کو قوی کرلے اور موت کے ذکر سے اسے ذلیل کر دے اور فنا کے یقین سے اسے صبر دے۔ دنیا کی مصیبتیں اس کے سامنے رکھ کر اس آنکھیں کھول دے زمانے کی تنگی اسے دکھا اسے دہشت ناک بنا دے، دنوں کے الٹ پھیر اسے سمجھا کر بیدار کر دے۔ گزشتہ واقعات سے اسے عبرتناک بنا۔ اگلوں کے قصے اسے سنا کر ہوشیار رکھ۔ ان کے شہروں میں اور ان کی سوانح میں اسے غور وفکر کرنے کا عادی بنا۔ اور دیکھ کہ گہنگاروں کے ساتھ اس کا معاملہ کیا ہوا کس طرح وہ لوٹ پوٹ کر دیئے گئے۔‏“

صفحہ نمبر5629

باب

پس یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ ” اگلوں کے واقعات سامنے رکھ کر دلوں کو سمجھدار بناؤ ان کی ہلاکت کے سچے افسانے سن کر عبرت حاصل کرو۔ سن لو آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ سب سے برا اندھا پن دل کا ہے گو آنکھیں صحیح سالم موجود ہوں۔ دل کے اندھے پن کی وجہ سے نہ تو عبرت حاصل ہوتی ہے نہ خیر و شر کی تمیز ہوتی ہے “۔

ابو محمد بن جیارہ اندلسی نے جن کا انتقال ؁٥١٧ھ میں ہوا ہے اس مضمون کو اپنے چند اشعار میں خوب نبھایا ہے وہ فرماتے ہیں ”اے وہ شخص جو گناہوں میں لذت پا رہا ہے کیا اپنے بڑھاپے اور نفس کی برائی سے بھی تو بیخبر ہے؟ اگر نصیحت اثر نہیں کرتی تو کیا دیکھنے سننے سے بھی عبرت حاصل نہیں ہوتی؟ سن لے آنکھیں اور کان اپنا کام نہ کریں تو اتنا برا نہیں جتنا، برا یہ ہے کہ واقعات سے سبق نہ حاصل کیا جائے۔ یاد رکھ نہ تو دنیا باقی رہے گی نہ آسمان نہ سورج چاند۔ گو جی نہ چاہے مگر دنیا سے تم کو ایک روز بادل ناخواستہ کوچ کرناہی پڑے گا۔ کیا امیر ہو کیا غریب کیا شہری ہو یا دیہاتی۔‏“

صفحہ نمبر5633

ذرا صبر ، عذاب کا شوق پورا ہو گا ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے فرما رہا ہے کہ ” یہ ملحد کفار اللہ کو اس کے رسول کو اور قیامت کے دن کو جھٹلانے والے تجھ سے عذاب طلب کرنے میں جلدی کر رہے ہیں کہ جلد ان عذابوں کو کیوں نہیں برپا کر دیا جاتا جن سے ہمیں ہر وقت ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے “۔

چنانچہ وہ اللہ سے بھی کہتے تھے کہ «وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» [8-الأنفال:32] ‏ ” الٰہی اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے سنگ باری کر یا اور کسی طرح کا درد ناک عذاب بھیج “۔

کہتے تھے کہ «وَقَالُوا رَبّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطّنَا قَبْل يَوْم الْحِسَاب» [38-ص:16] ‏ ” حساب کے دن سے پہلے ہی ہمارا معاملہ صاف کر دے “۔

اللہ فرماتا ہے «وَلَنْ يُخْلِف اللَّه وَعْده» [22-الحج:47] ‏ ” یاد رکھو اللہ کا وعدہ اٹل ہے قیامت اور عذاب آ کر ہی رہیں گے “۔ اولیاء اللہ کی عزت اور اعداء اللہ کی ذلت یقینی اور ہو کر رہنے والی ہے۔

اصمعی کہتے ہیں میں ابوعمرو بن علا کے پاس تھا کہ عمرو بن عبید آیا اور کہنے لگا کہ اے ابوعمرو! کیا اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا خلاف کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا ”نہیں“، اس نے اسی وقت عذاب کی ایک آیت تلاوت کی اس پر آپ نے فرمایا کیا تو عجمی ہے؟ سن عرب میں «الْوَعْد» کا یعنی اچھی بات سے وعدہ خلافی کو برا فعل سمجھا جاتا ہے لیکن «الْإِيعَاد» کا یعنی سزا کے احکام کا ردو بدل یا معافی بری نہیں سمجھی جاتی بلکہ وہ کرم ورحم سمجھا جاتا ہے دیکھو شاعر کہتا ہے۔ «فَإِنِّي وَإِنْ أَوْعَدْته أَوْ وَعَدْته» «لَمُخْلِف إِيعَادِي وَمُنْجِز مَوْعِدِي» میں کسی کو سزا کہوں یا اس سے انعام کا وعدہ کروں۔ تو یہ تو ہوسکتا ہے کہ میں اپنی دھمکی کے خلاف کر جاؤں بلکہ قطعا ہرگز سزا نہ دوں لیکن اپنا وعدہ تو ضرور پورا کر کے ہی رہوں گا۔ الغرض سزا کا وعدہ کر کے سزا نہ کرنا یہ وعدہ خلافی نہیں۔ لیکن رحمت انعام کا وعدہ کر کے پھر روک لینا یہ بری صفت ہے جس سے اللہ کی ذات پاک ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ایک ایک دن اللہ کے نزدیک تمہارے ہزار ہزار دنوں کے برابر ہے یہ بہ اعتبار اس کے حلم اور بردباری کے ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ وہ ہر وقت ان کی گرفت پر قادر ہے اس لیے عجلت کیا ہے؟ “ گو کتنی ہی سے مہلت مل جائے، گو کتنی ہی سے رسی دراز ہو جائے لیکن جب چاہے گا سانس لینے کی بھی مہلت نہ دے گا اور پکڑ لے گا۔

اسی لیے اس کے بعد ہی فرمان ہوتا ہے ” بہت سی بستیوں کے لوگ ظلم پر کمر کسے ہوئے تھے، میں نے بھی چشم پوشی کر رکھی تھی۔ جب مست ہو گئے تو اچانک گرفت کر لی، سب مجبور ہیں سب کو میرے ہی سامنے حاضر ہونا ہے، سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے “۔

ترمذی وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فقراء مسلمان مالدار مسلمانوں سے آدھا دن پہلے جنت میں جائیں گے یعنی پانچ سو برس پہلے ۔ [سنن ترمذي:2353،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏

صفحہ نمبر5634

اور روایت میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا آدھے دن کی مقدار کیا ہے؟ فرمایا کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا؟ میں نے کہا ہاں! تو یہی آیت «وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ» سنائی۔ یعنی ” اللہ کے ہاں ایک دن ایک ہزار سال کا ہے “ ۔

ابوداؤد کی کتاب الملاحم کے آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ وہ میری امت کو آدھے دن تک تو ضرور مؤخر رکھے گا ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا آدھا دن کتنے عرصے کا ہوگا؟ آپ نے فرمایا پانچ سو سال کا ۔ [سنن ابوداود:4350،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت «وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ» کو پڑھ کر فرمانے لگے یہ ان دنوں میں سے جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ [ ابن جریر ] ‏

صفحہ نمبر5635

بلکہ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے کتاب «الرد علی الجمیه» میں اس بات کو کھلے لفظ میں بیان کیا ہے۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ آیت مثل آیت «يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗٓ اَلْفَ سَـنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» [32-السجدة:5] ‏ کے ہے یعنی ” اللہ تعالیٰ کام کی تدبیر آسمان سے زمین کی طرف کرتا ہے، پھر اس کی طرف چڑھ جاتا ہے۔ ایک ہی دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی ہے “۔

امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ ایک نو مسلم اہل کتاب سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین چھ دن میں پیدا کیا اور ایک دن تیرے رب کے نزدیک مثل ایک ہزار سال کے ہے جو گنتے ہو۔ اللہ نے دنیا کی اجل چھ دن کی کی ہے ساتویں دن قیامت ہے اور ایک ایک دن مثل ہزار ہزار سال کے ہے پس چھ دن تو گزر گئے اور اب تم ساتویں دن میں ہو اب تو بالکل اس حاملہ کی طرح ہے جو پورے دنوں میں ہو اور نہ جانے کب بچہ ہو جائے۔

صفحہ نمبر5636

ذرا صبر ، عذاب کا شوق پورا ہو گا ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے فرما رہا ہے کہ ” یہ ملحد کفار اللہ کو اس کے رسول کو اور قیامت کے دن کو جھٹلانے والے تجھ سے عذاب طلب کرنے میں جلدی کر رہے ہیں کہ جلد ان عذابوں کو کیوں نہیں برپا کر دیا جاتا جن سے ہمیں ہر وقت ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے “۔

چنانچہ وہ اللہ سے بھی کہتے تھے کہ «وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» [8-الأنفال:32] ‏ ” الٰہی اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے سنگ باری کر یا اور کسی طرح کا درد ناک عذاب بھیج “۔

کہتے تھے کہ «وَقَالُوا رَبّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطّنَا قَبْل يَوْم الْحِسَاب» [38-ص:16] ‏ ” حساب کے دن سے پہلے ہی ہمارا معاملہ صاف کر دے “۔

اللہ فرماتا ہے «وَلَنْ يُخْلِف اللَّه وَعْده» [22-الحج:47] ‏ ” یاد رکھو اللہ کا وعدہ اٹل ہے قیامت اور عذاب آ کر ہی رہیں گے “۔ اولیاء اللہ کی عزت اور اعداء اللہ کی ذلت یقینی اور ہو کر رہنے والی ہے۔

اصمعی کہتے ہیں میں ابوعمرو بن علا کے پاس تھا کہ عمرو بن عبید آیا اور کہنے لگا کہ اے ابوعمرو! کیا اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا خلاف کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا ”نہیں“، اس نے اسی وقت عذاب کی ایک آیت تلاوت کی اس پر آپ نے فرمایا کیا تو عجمی ہے؟ سن عرب میں «الْوَعْد» کا یعنی اچھی بات سے وعدہ خلافی کو برا فعل سمجھا جاتا ہے لیکن «الْإِيعَاد» کا یعنی سزا کے احکام کا ردو بدل یا معافی بری نہیں سمجھی جاتی بلکہ وہ کرم ورحم سمجھا جاتا ہے دیکھو شاعر کہتا ہے۔ «فَإِنِّي وَإِنْ أَوْعَدْته أَوْ وَعَدْته» «لَمُخْلِف إِيعَادِي وَمُنْجِز مَوْعِدِي» میں کسی کو سزا کہوں یا اس سے انعام کا وعدہ کروں۔ تو یہ تو ہوسکتا ہے کہ میں اپنی دھمکی کے خلاف کر جاؤں بلکہ قطعا ہرگز سزا نہ دوں لیکن اپنا وعدہ تو ضرور پورا کر کے ہی رہوں گا۔ الغرض سزا کا وعدہ کر کے سزا نہ کرنا یہ وعدہ خلافی نہیں۔ لیکن رحمت انعام کا وعدہ کر کے پھر روک لینا یہ بری صفت ہے جس سے اللہ کی ذات پاک ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ایک ایک دن اللہ کے نزدیک تمہارے ہزار ہزار دنوں کے برابر ہے یہ بہ اعتبار اس کے حلم اور بردباری کے ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ وہ ہر وقت ان کی گرفت پر قادر ہے اس لیے عجلت کیا ہے؟ “ گو کتنی ہی سے مہلت مل جائے، گو کتنی ہی سے رسی دراز ہو جائے لیکن جب چاہے گا سانس لینے کی بھی مہلت نہ دے گا اور پکڑ لے گا۔

اسی لیے اس کے بعد ہی فرمان ہوتا ہے ” بہت سی بستیوں کے لوگ ظلم پر کمر کسے ہوئے تھے، میں نے بھی چشم پوشی کر رکھی تھی۔ جب مست ہو گئے تو اچانک گرفت کر لی، سب مجبور ہیں سب کو میرے ہی سامنے حاضر ہونا ہے، سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے “۔

ترمذی وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فقراء مسلمان مالدار مسلمانوں سے آدھا دن پہلے جنت میں جائیں گے یعنی پانچ سو برس پہلے ۔ [سنن ترمذي:2353،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏

صفحہ نمبر5634

اور روایت میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا آدھے دن کی مقدار کیا ہے؟ فرمایا کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا؟ میں نے کہا ہاں! تو یہی آیت «وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ» سنائی۔ یعنی ” اللہ کے ہاں ایک دن ایک ہزار سال کا ہے “ ۔

ابوداؤد کی کتاب الملاحم کے آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ وہ میری امت کو آدھے دن تک تو ضرور مؤخر رکھے گا ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا آدھا دن کتنے عرصے کا ہوگا؟ آپ نے فرمایا پانچ سو سال کا ۔ [سنن ابوداود:4350،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت «وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ» کو پڑھ کر فرمانے لگے یہ ان دنوں میں سے جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ [ ابن جریر ] ‏

صفحہ نمبر5635

بلکہ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے کتاب «الرد علی الجمیه» میں اس بات کو کھلے لفظ میں بیان کیا ہے۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ آیت مثل آیت «يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗٓ اَلْفَ سَـنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» [32-السجدة:5] ‏ کے ہے یعنی ” اللہ تعالیٰ کام کی تدبیر آسمان سے زمین کی طرف کرتا ہے، پھر اس کی طرف چڑھ جاتا ہے۔ ایک ہی دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی ہے “۔

امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ ایک نو مسلم اہل کتاب سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین چھ دن میں پیدا کیا اور ایک دن تیرے رب کے نزدیک مثل ایک ہزار سال کے ہے جو گنتے ہو۔ اللہ نے دنیا کی اجل چھ دن کی کی ہے ساتویں دن قیامت ہے اور ایک ایک دن مثل ہزار ہزار سال کے ہے پس چھ دن تو گزر گئے اور اب تم ساتویں دن میں ہو اب تو بالکل اس حاملہ کی طرح ہے جو پورے دنوں میں ہو اور نہ جانے کب بچہ ہو جائے۔

صفحہ نمبر5636

اطاعت الٰہی سے روکنے والوں کا حشر ٭٭

چونکہ کفار عذاب مانگا کرتے تھے اور ان کی جلدی مچاتے رہتے تھے ان کے جواب میں اعلان کرایا جا رہا ہے کہ ” لوگو! میں تو اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ تمہیں رب کے عذابوں سے جو تمہارے آگے ہیں چوکنا کر دوں، تمہارا حساب میرے ذمے نہیں۔ عذاب اللہ کے بس میں ہے چاہے اب لائے چاہے دیر سے لائے۔ مجھے کیا معلوم کہ تم میں کس کی قسمت میں ہدایت ہے اور کون اللہ کی رحمت سے محروم رہنے والا ہے چاہت اللہ کی ہی پوری ہونی ہے حکومت اسی کے ہاتھ ہے مختار اور کرتا دھرتا وہی ہے «لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [13-الرعد:41] ‏ ” کسی کو اس کے سامنے چوں چرا کی مجال نہیں وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے “۔ میری حیثیت تو صرف ایک آگاہ کرنے والے کی ہے “۔

جن کے دلوں میں یقین و ایمان ہے اور اس کی شہادت ان کے اعمال سے بھی ثابت ہے۔ ان کے کل گناہ معافی کے لائق ہیں اور ان کی کل نیکیاں قدردانی کے قابل ہیں۔ رزق کریم سے مراد جنت ہے۔ جو لوگ اوروں کو بھی اللہ کی راہ سے اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روکتے ہیں وہ جہنمی ہیں، سخت عذابوں اور تیز آگ کے ایندھن ہیں، اللہ ہمیں بچائے۔

اور آیت میں ہے کہ «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» [16-النحل:88] ‏ ” ایسے کفار کو ان کے فساد کے بدلے عذاب پر عذاب ہیں “۔

صفحہ نمبر5638

اطاعت الٰہی سے روکنے والوں کا حشر ٭٭

چونکہ کفار عذاب مانگا کرتے تھے اور ان کی جلدی مچاتے رہتے تھے ان کے جواب میں اعلان کرایا جا رہا ہے کہ ” لوگو! میں تو اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ تمہیں رب کے عذابوں سے جو تمہارے آگے ہیں چوکنا کر دوں، تمہارا حساب میرے ذمے نہیں۔ عذاب اللہ کے بس میں ہے چاہے اب لائے چاہے دیر سے لائے۔ مجھے کیا معلوم کہ تم میں کس کی قسمت میں ہدایت ہے اور کون اللہ کی رحمت سے محروم رہنے والا ہے چاہت اللہ کی ہی پوری ہونی ہے حکومت اسی کے ہاتھ ہے مختار اور کرتا دھرتا وہی ہے «لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [13-الرعد:41] ‏ ” کسی کو اس کے سامنے چوں چرا کی مجال نہیں وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے “۔ میری حیثیت تو صرف ایک آگاہ کرنے والے کی ہے “۔

جن کے دلوں میں یقین و ایمان ہے اور اس کی شہادت ان کے اعمال سے بھی ثابت ہے۔ ان کے کل گناہ معافی کے لائق ہیں اور ان کی کل نیکیاں قدردانی کے قابل ہیں۔ رزق کریم سے مراد جنت ہے۔ جو لوگ اوروں کو بھی اللہ کی راہ سے اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روکتے ہیں وہ جہنمی ہیں، سخت عذابوں اور تیز آگ کے ایندھن ہیں، اللہ ہمیں بچائے۔

اور آیت میں ہے کہ «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» [16-النحل:88] ‏ ” ایسے کفار کو ان کے فساد کے بدلے عذاب پر عذاب ہیں “۔

صفحہ نمبر5638

اطاعت الٰہی سے روکنے والوں کا حشر ٭٭

چونکہ کفار عذاب مانگا کرتے تھے اور ان کی جلدی مچاتے رہتے تھے ان کے جواب میں اعلان کرایا جا رہا ہے کہ ” لوگو! میں تو اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ تمہیں رب کے عذابوں سے جو تمہارے آگے ہیں چوکنا کر دوں، تمہارا حساب میرے ذمے نہیں۔ عذاب اللہ کے بس میں ہے چاہے اب لائے چاہے دیر سے لائے۔ مجھے کیا معلوم کہ تم میں کس کی قسمت میں ہدایت ہے اور کون اللہ کی رحمت سے محروم رہنے والا ہے چاہت اللہ کی ہی پوری ہونی ہے حکومت اسی کے ہاتھ ہے مختار اور کرتا دھرتا وہی ہے «لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [13-الرعد:41] ‏ ” کسی کو اس کے سامنے چوں چرا کی مجال نہیں وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے “۔ میری حیثیت تو صرف ایک آگاہ کرنے والے کی ہے “۔

جن کے دلوں میں یقین و ایمان ہے اور اس کی شہادت ان کے اعمال سے بھی ثابت ہے۔ ان کے کل گناہ معافی کے لائق ہیں اور ان کی کل نیکیاں قدردانی کے قابل ہیں۔ رزق کریم سے مراد جنت ہے۔ جو لوگ اوروں کو بھی اللہ کی راہ سے اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روکتے ہیں وہ جہنمی ہیں، سخت عذابوں اور تیز آگ کے ایندھن ہیں، اللہ ہمیں بچائے۔

اور آیت میں ہے کہ «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» [16-النحل:88] ‏ ” ایسے کفار کو ان کے فساد کے بدلے عذاب پر عذاب ہیں “۔

صفحہ نمبر5638

شیطان کا تصرف غلط ہے ٭٭

یہاں پر اکثر مفسرین نے غرانیق کا قصہ نقل کیا ہے اور یہ بھی کہ اس واقعہ کی وجہ سے اکثر مہاجرین حبش یہ سمجھ کر کہ مشرکین مکہ اب مسلمان ہو گئے واپس مکے آ گئے۔ لیکن یہ روایت ہر سند سے مرسل ہے۔ کسی صحیح سند سے مسند مروی نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

چنانچہ ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ شریف میں سورۃ النجم کی تلاوت فرمائی جب یہ آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ رہے تھے آیت «أَفَرَأَيْتُمْ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنَاة الثَّالِثَة الْأُخْرَى» [53-النجم:19] ‏ تو شیطان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر یہ الفاظ ڈالے کہ (‏ «تِلْكَ الْغَرَانِيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتهنَّ تُرْتَجَى») پس مشرکین خوش ہو گئے کہ آج تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی جو اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں کی۔ چنانچہ ادھر حضور نے سجدہ کیا ادھر وہ سب بھی سجدے میں گر پڑے اس پر یہ آیت اتری «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ» [22-الحج:52] ‏ الخ، اسے ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے بھی روایت کیا ہے یہ مرسل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:25331:مرسل و ضعیف] ‏

مسند بزار میں بھی اس کے ذکر کے بعد ہے کہ صرف اسی سند سے ہی یہ متصلاً مروی ہے۔ صرف امیہ بن خالد ہی اسے وصل کرتے ہیں وہ مشہور ثقہ ہیں۔ یہ صرف طریق کلبی سے ہی مروی ہے۔ [ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم نے اسے دو سندوں سے لیا ہے لیکن دونوں مرسل ہیں، ابن جریر میں بھی مرسل ہے۔

صفحہ نمبر5641

قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آ گئی اور شیطان نے آپ کی زبان پر ڈالا (‏ «وَإِنَّ شَفَاعَتهَا لَتُرْتَجَى وَإِنَّهَا لَمَعَ الْغَرَانِيق الْعُلَى») نکلوادیا۔ مشرکین نے ان لفظوں کو پکڑ لیا اور شیطان نے یہ بات پھیلا دی۔ اس پر یہ آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ» [22-الحج:52] ‏ اتری اور اسے ذلیل ہونا پڑا۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سورۃ النجم نازل ہوئی اور مشرکین کہہ رہے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے معبودوں کا اچھے لفظوں میں ذکر کرے تو ہم اسے اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑیں مگر اس کا تو یہ حال ہے کہ یہود ونصاری اور جو لوگ اس کے مخالف ہیں اس سب سے زیادہ گالیوں اور برائی سے ہمارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم پر سخت مصائب توڑے جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ہدایت کی لالچ تھی جب سورۃ النجم کی تلاوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع کی اور «أَلَكُمُ الذَّكَرُ‌ وَلَهُ الْأُنثَىٰ» [53-النجم:21] ‏ تک پڑھا تو، شیطان نے بتوں کے ذکر کے وقت یہ کلمات ڈال دئیے (‏ «وَإِنَّهُنَّ لَهُنَّ الْغَرَانِيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتهنَّ لَهِيَ الَّتِي تُرْتَجَى») یہ شیطان کی مقفی عبارت تھی۔ ہر مشرک کے دل میں یہ کلمے بیٹھ گئے اور ایک ایک کو یاد ہو گئے یہاں تک کہ یہ مشہور ہو گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ کے خاتمے پر سجدہ کیا تو سارے مسلمان اور مشرکین بھی سجدے میں گر پڑے، ہاں ولید بن مغیرہ چونکہ بہت ہی بوڑھا تھا اس لیے اس نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر اونچی لے جا کر اس کو اپنے ماتھے سے لگا لیا۔ اب ہر ایک کو تعجب معلوم ہونے لگا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں فریق سجدے میں شامل تھے۔ مسلمانوں کو تعجب تھا کہ یہ لوگ ایمان تو لائے نہیں، یقین نہیں، پھر ہمارے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے پر سجدہ انہوں کیسے کیا؟ شیطان نے جو الفاظ مشرکوں کے کانوں میں پھونکے تھے وہ مسلمانوں نے سنے ہی نہ تھے ادھر ان کے دل خوش ہو رہے تھے کیونکہ شیطان نے اس طرح آواز میں آواز ملائی کہ مشرکین اس میں کوئی تمیز ہی نہ کر سکتے تھے ۔

صفحہ نمبر5642

وہ تو سب کو اسی یقین پر پکا کر چکا تھا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سورت کی ان دونوں آیتوں کو تلاوت فرمایا ہے۔ پس دراصل مشرکین کا سجدہ اپنے کو تھا۔

شیطان نے اس واقعہ کو اتنا پھیلا دیا کہ مہاجرین حبشہ کے کانوں میں بھی یہ بات پہنچی۔ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب سنا کہ اہل مکہ مسلمان ہو گئے ہیں بلکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور ولید بن مغیرہ سجدہ نہ کرسکا تو اس نے مٹی کی ایک مٹھی اٹھا کر اس پر سرٹکالیا۔ مسلمان اب پورے امن اور اطمینان سے ہیں تو انہوں نے وہاں سے واپسی کی ٹھانی اور خوشی خوشی مکے پہنچے۔

ان کے پہنچنے سے پہلے شیطان کے ان الفاظ کی قلعی کھل چکی تھی اللہ نے ان الفاظ کو ہٹا دیا تھا اور اپنا کلام محفوظ کر دیا تھا یہاں مشرکین کی آتش عداوت اور بھڑک اٹھی تھی اور انہوں نے مسلمانوں پر نئے مصائب کے بادل برسانے شروع کردئے تھے یہ روایت بھی مرسل ہے۔ بیہقی کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی یہ روایت ہے امام محمد ابن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ بھی اسے اپنی سیرت میں لائے ہیں لیکن یہ سندیں مرسلات اور منقطعات ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5643

امام بغوی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں یہ سب کچھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کے کلام سے اسی طرح کی روایتیں وارد کی ہیں۔ پھر خود ہی ایک سوال وارد کیا ہے کہ ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچاؤ کا ذمہ دار محافظ خود اللہ تعالیٰ ہے تو ایسی بات کیسے واقع ہوگئی۔‏“ پھر بہت سے جواب دئے ہیں جن میں ایک لطیف جواب یہ بھی ہے کہ شیطان نے یہ الفاظ لوگوں کے کانوں میں ڈالے اور انہیں وہم ڈالا کہ یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے ہیں حقیقت میں ایسا نہ تھا یہ صرف شیطانی حرکت تھی نہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز۔ [نصب المجانيق لنسف قصة الغرانيق الألباني:0000،قال الشيخ الألباني:باطل] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور بھی اسی قسم کے بہت سے جواب متکلمین نے دئے ہیں۔ قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ نے بھی شفاء میں اسے چھیڑا ہے اور ان کے جواب کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ کا اپنا فرمان اس بات کا ثبوت ہے کہ شیطان کا تصرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ناممکن ہے۔ مگر جب کہ وہ آرزو کرتا ہے الخ۔

اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی فرمائی گئی ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر پریشان خاطر نہ ہوں اگلے نبیوں رسولوں علیہم السلام پر بھی ایسے اتفاقات آئے “۔

بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس کی آرزو میں جب نبی بات کرتا ہے تو شیطان اس کی بات میں بول شامل کر دیتا ہے پس شیطان کے ڈالے ہوئے کو باطل کر کے پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم کرتا ہے ۔

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں «تَمَنَّىٰ» کا معنی «قَالَ» کے ہیں «أُمْنِيَّتِهِ» کے معنی «قَرَائَتِهِ» کے ہیں «إِلَّا أَمَانِيَّ» کا مطلب یہ ہے کہ پڑھتے ہیں لکھتے نہیں۔

بغوی رحمتہ اللہ علیہ اور اکثر مفسیرین کہتے ہیں «تَمَنَّىٰ» کے معنی «تَلَا» کے ہیں یعنی جب کتاب اللہ پڑھتا ہے تو شیطان اس کی تلاوت میں کچھ ڈال دیتا ہے۔ چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مدح میں شاعر نے کہا ہے۔ شعر «تَمَنَّى كِتَابَ اللَّهِ أَوَّلَ لَيْلَةٍ وَآخِرَهَا لَاقَى حِمَامَ الْمَقَادِرِ» ۔ یہاں بھی لفظ «تَمَنَّىٰ» ‏پڑھنے کے معنی میں ہے۔

صفحہ نمبر5644

ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں یہ قول بہت قریب کی تاویل والا ہے۔ نسخ کے حقیقی معنی لغتاً ازلہ اور رفع کے معنی ہٹانے اور مٹادینے کے ہیں یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ شیطان کے القا کو باطل کر دیتا ہے۔ جبرائیل علیہ السلام بحکم الٰہی شیطان کی زیادتی کو مٹا دیتے ہیں اور اللہ کی آیتیں مضبوط رہ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام کاموں کا جاننے والا ہے۔ کوئی مخفی بات بھی کوئی راز بھی اس پر پوشیدہ نہیں، وہ حکیم ہے اس کا کام الحکمت سے خالی نہیں۔ یہ اس لیے کہ جن کے دلوں میں شک، شرک، کفر اور نفاق ہے، ان کے لیے یہ فتنہ بن جائے۔

چنانچہ مشرکین نے اسے اللہ کی طرف سے مان لیا حالانکہ وہ الفاظ شیطانی تھے۔ لہٰذا بیمار دل والوں سے مراد منافق ہیں اور سخت دل والوں سے مراد مشرک ہیں۔ یہ بھی قول ہے کہ مراد یہود ہیں۔ ظالم حق سے بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ سیدھے راستے سے گم ہو گئے ہیں اور جنہیں صحیح علم دیا گیا ہے جس سے وہ حق و باطل میں تمیز کرلیتے ہیں انہیں اس بات کے بالکل حق ہونے کا اور منجانب اللہ ہونے کا صحیح یقین ہو جائے اور وہ کامل الایمان بن جائیں اور سمجھ لیں کہ بیشک یہ اللہ کا کلام ہے جبھی تو اس قدر اس کی حفاظت دیانت اور نگہداشت ہے۔ کہ کسی جانب سے کسی طریق سے اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہو سکتی۔ حکیم وحمید اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے پس ان کے دل تصدیق سے پر ہو جاتے ہیں، جھک کر رغبت سے متوجہ ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایمان داروں کی رہبری دنیا میں حق اور ہدایت کی طرف کرتا ہے صراط مستقیم سجھا دیتا ہے اور آخرت میں عذابوں سے بچا کر بلند درجوں میں پہنچاتا ہے اور نعمتیں نصیب فرماتا ہے۔

صفحہ نمبر5645

شیطان کا تصرف غلط ہے ٭٭

یہاں پر اکثر مفسرین نے غرانیق کا قصہ نقل کیا ہے اور یہ بھی کہ اس واقعہ کی وجہ سے اکثر مہاجرین حبش یہ سمجھ کر کہ مشرکین مکہ اب مسلمان ہو گئے واپس مکے آ گئے۔ لیکن یہ روایت ہر سند سے مرسل ہے۔ کسی صحیح سند سے مسند مروی نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

چنانچہ ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ شریف میں سورۃ النجم کی تلاوت فرمائی جب یہ آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ رہے تھے آیت «أَفَرَأَيْتُمْ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنَاة الثَّالِثَة الْأُخْرَى» [53-النجم:19] ‏ تو شیطان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر یہ الفاظ ڈالے کہ (‏ «تِلْكَ الْغَرَانِيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتهنَّ تُرْتَجَى») پس مشرکین خوش ہو گئے کہ آج تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی جو اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں کی۔ چنانچہ ادھر حضور نے سجدہ کیا ادھر وہ سب بھی سجدے میں گر پڑے اس پر یہ آیت اتری «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ» [22-الحج:52] ‏ الخ، اسے ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے بھی روایت کیا ہے یہ مرسل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:25331:مرسل و ضعیف] ‏

مسند بزار میں بھی اس کے ذکر کے بعد ہے کہ صرف اسی سند سے ہی یہ متصلاً مروی ہے۔ صرف امیہ بن خالد ہی اسے وصل کرتے ہیں وہ مشہور ثقہ ہیں۔ یہ صرف طریق کلبی سے ہی مروی ہے۔ [ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم نے اسے دو سندوں سے لیا ہے لیکن دونوں مرسل ہیں، ابن جریر میں بھی مرسل ہے۔

صفحہ نمبر5641

قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آ گئی اور شیطان نے آپ کی زبان پر ڈالا (‏ «وَإِنَّ شَفَاعَتهَا لَتُرْتَجَى وَإِنَّهَا لَمَعَ الْغَرَانِيق الْعُلَى») نکلوادیا۔ مشرکین نے ان لفظوں کو پکڑ لیا اور شیطان نے یہ بات پھیلا دی۔ اس پر یہ آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ» [22-الحج:52] ‏ اتری اور اسے ذلیل ہونا پڑا۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سورۃ النجم نازل ہوئی اور مشرکین کہہ رہے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے معبودوں کا اچھے لفظوں میں ذکر کرے تو ہم اسے اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑیں مگر اس کا تو یہ حال ہے کہ یہود ونصاری اور جو لوگ اس کے مخالف ہیں اس سب سے زیادہ گالیوں اور برائی سے ہمارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم پر سخت مصائب توڑے جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ہدایت کی لالچ تھی جب سورۃ النجم کی تلاوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع کی اور «أَلَكُمُ الذَّكَرُ‌ وَلَهُ الْأُنثَىٰ» [53-النجم:21] ‏ تک پڑھا تو، شیطان نے بتوں کے ذکر کے وقت یہ کلمات ڈال دئیے (‏ «وَإِنَّهُنَّ لَهُنَّ الْغَرَانِيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتهنَّ لَهِيَ الَّتِي تُرْتَجَى») یہ شیطان کی مقفی عبارت تھی۔ ہر مشرک کے دل میں یہ کلمے بیٹھ گئے اور ایک ایک کو یاد ہو گئے یہاں تک کہ یہ مشہور ہو گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ کے خاتمے پر سجدہ کیا تو سارے مسلمان اور مشرکین بھی سجدے میں گر پڑے، ہاں ولید بن مغیرہ چونکہ بہت ہی بوڑھا تھا اس لیے اس نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر اونچی لے جا کر اس کو اپنے ماتھے سے لگا لیا۔ اب ہر ایک کو تعجب معلوم ہونے لگا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں فریق سجدے میں شامل تھے۔ مسلمانوں کو تعجب تھا کہ یہ لوگ ایمان تو لائے نہیں، یقین نہیں، پھر ہمارے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے پر سجدہ انہوں کیسے کیا؟ شیطان نے جو الفاظ مشرکوں کے کانوں میں پھونکے تھے وہ مسلمانوں نے سنے ہی نہ تھے ادھر ان کے دل خوش ہو رہے تھے کیونکہ شیطان نے اس طرح آواز میں آواز ملائی کہ مشرکین اس میں کوئی تمیز ہی نہ کر سکتے تھے ۔

صفحہ نمبر5642

وہ تو سب کو اسی یقین پر پکا کر چکا تھا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سورت کی ان دونوں آیتوں کو تلاوت فرمایا ہے۔ پس دراصل مشرکین کا سجدہ اپنے کو تھا۔

شیطان نے اس واقعہ کو اتنا پھیلا دیا کہ مہاجرین حبشہ کے کانوں میں بھی یہ بات پہنچی۔ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب سنا کہ اہل مکہ مسلمان ہو گئے ہیں بلکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور ولید بن مغیرہ سجدہ نہ کرسکا تو اس نے مٹی کی ایک مٹھی اٹھا کر اس پر سرٹکالیا۔ مسلمان اب پورے امن اور اطمینان سے ہیں تو انہوں نے وہاں سے واپسی کی ٹھانی اور خوشی خوشی مکے پہنچے۔

ان کے پہنچنے سے پہلے شیطان کے ان الفاظ کی قلعی کھل چکی تھی اللہ نے ان الفاظ کو ہٹا دیا تھا اور اپنا کلام محفوظ کر دیا تھا یہاں مشرکین کی آتش عداوت اور بھڑک اٹھی تھی اور انہوں نے مسلمانوں پر نئے مصائب کے بادل برسانے شروع کردئے تھے یہ روایت بھی مرسل ہے۔ بیہقی کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی یہ روایت ہے امام محمد ابن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ بھی اسے اپنی سیرت میں لائے ہیں لیکن یہ سندیں مرسلات اور منقطعات ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5643

امام بغوی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں یہ سب کچھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کے کلام سے اسی طرح کی روایتیں وارد کی ہیں۔ پھر خود ہی ایک سوال وارد کیا ہے کہ ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچاؤ کا ذمہ دار محافظ خود اللہ تعالیٰ ہے تو ایسی بات کیسے واقع ہوگئی۔‏“ پھر بہت سے جواب دئے ہیں جن میں ایک لطیف جواب یہ بھی ہے کہ شیطان نے یہ الفاظ لوگوں کے کانوں میں ڈالے اور انہیں وہم ڈالا کہ یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے ہیں حقیقت میں ایسا نہ تھا یہ صرف شیطانی حرکت تھی نہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز۔ [نصب المجانيق لنسف قصة الغرانيق الألباني:0000،قال الشيخ الألباني:باطل] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور بھی اسی قسم کے بہت سے جواب متکلمین نے دئے ہیں۔ قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ نے بھی شفاء میں اسے چھیڑا ہے اور ان کے جواب کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ کا اپنا فرمان اس بات کا ثبوت ہے کہ شیطان کا تصرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ناممکن ہے۔ مگر جب کہ وہ آرزو کرتا ہے الخ۔

اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی فرمائی گئی ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر پریشان خاطر نہ ہوں اگلے نبیوں رسولوں علیہم السلام پر بھی ایسے اتفاقات آئے “۔

بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس کی آرزو میں جب نبی بات کرتا ہے تو شیطان اس کی بات میں بول شامل کر دیتا ہے پس شیطان کے ڈالے ہوئے کو باطل کر کے پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم کرتا ہے ۔

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں «تَمَنَّىٰ» کا معنی «قَالَ» کے ہیں «أُمْنِيَّتِهِ» کے معنی «قَرَائَتِهِ» کے ہیں «إِلَّا أَمَانِيَّ» کا مطلب یہ ہے کہ پڑھتے ہیں لکھتے نہیں۔

بغوی رحمتہ اللہ علیہ اور اکثر مفسیرین کہتے ہیں «تَمَنَّىٰ» کے معنی «تَلَا» کے ہیں یعنی جب کتاب اللہ پڑھتا ہے تو شیطان اس کی تلاوت میں کچھ ڈال دیتا ہے۔ چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مدح میں شاعر نے کہا ہے۔ شعر «تَمَنَّى كِتَابَ اللَّهِ أَوَّلَ لَيْلَةٍ وَآخِرَهَا لَاقَى حِمَامَ الْمَقَادِرِ» ۔ یہاں بھی لفظ «تَمَنَّىٰ» ‏پڑھنے کے معنی میں ہے۔

صفحہ نمبر5644

ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں یہ قول بہت قریب کی تاویل والا ہے۔ نسخ کے حقیقی معنی لغتاً ازلہ اور رفع کے معنی ہٹانے اور مٹادینے کے ہیں یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ شیطان کے القا کو باطل کر دیتا ہے۔ جبرائیل علیہ السلام بحکم الٰہی شیطان کی زیادتی کو مٹا دیتے ہیں اور اللہ کی آیتیں مضبوط رہ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام کاموں کا جاننے والا ہے۔ کوئی مخفی بات بھی کوئی راز بھی اس پر پوشیدہ نہیں، وہ حکیم ہے اس کا کام الحکمت سے خالی نہیں۔ یہ اس لیے کہ جن کے دلوں میں شک، شرک، کفر اور نفاق ہے، ان کے لیے یہ فتنہ بن جائے۔

چنانچہ مشرکین نے اسے اللہ کی طرف سے مان لیا حالانکہ وہ الفاظ شیطانی تھے۔ لہٰذا بیمار دل والوں سے مراد منافق ہیں اور سخت دل والوں سے مراد مشرک ہیں۔ یہ بھی قول ہے کہ مراد یہود ہیں۔ ظالم حق سے بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ سیدھے راستے سے گم ہو گئے ہیں اور جنہیں صحیح علم دیا گیا ہے جس سے وہ حق و باطل میں تمیز کرلیتے ہیں انہیں اس بات کے بالکل حق ہونے کا اور منجانب اللہ ہونے کا صحیح یقین ہو جائے اور وہ کامل الایمان بن جائیں اور سمجھ لیں کہ بیشک یہ اللہ کا کلام ہے جبھی تو اس قدر اس کی حفاظت دیانت اور نگہداشت ہے۔ کہ کسی جانب سے کسی طریق سے اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہو سکتی۔ حکیم وحمید اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے پس ان کے دل تصدیق سے پر ہو جاتے ہیں، جھک کر رغبت سے متوجہ ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایمان داروں کی رہبری دنیا میں حق اور ہدایت کی طرف کرتا ہے صراط مستقیم سجھا دیتا ہے اور آخرت میں عذابوں سے بچا کر بلند درجوں میں پہنچاتا ہے اور نعمتیں نصیب فرماتا ہے۔

صفحہ نمبر5645

شیطان کا تصرف غلط ہے ٭٭

یہاں پر اکثر مفسرین نے غرانیق کا قصہ نقل کیا ہے اور یہ بھی کہ اس واقعہ کی وجہ سے اکثر مہاجرین حبش یہ سمجھ کر کہ مشرکین مکہ اب مسلمان ہو گئے واپس مکے آ گئے۔ لیکن یہ روایت ہر سند سے مرسل ہے۔ کسی صحیح سند سے مسند مروی نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

چنانچہ ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ شریف میں سورۃ النجم کی تلاوت فرمائی جب یہ آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ رہے تھے آیت «أَفَرَأَيْتُمْ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنَاة الثَّالِثَة الْأُخْرَى» [53-النجم:19] ‏ تو شیطان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر یہ الفاظ ڈالے کہ (‏ «تِلْكَ الْغَرَانِيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتهنَّ تُرْتَجَى») پس مشرکین خوش ہو گئے کہ آج تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی جو اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں کی۔ چنانچہ ادھر حضور نے سجدہ کیا ادھر وہ سب بھی سجدے میں گر پڑے اس پر یہ آیت اتری «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ» [22-الحج:52] ‏ الخ، اسے ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے بھی روایت کیا ہے یہ مرسل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:25331:مرسل و ضعیف] ‏

مسند بزار میں بھی اس کے ذکر کے بعد ہے کہ صرف اسی سند سے ہی یہ متصلاً مروی ہے۔ صرف امیہ بن خالد ہی اسے وصل کرتے ہیں وہ مشہور ثقہ ہیں۔ یہ صرف طریق کلبی سے ہی مروی ہے۔ [ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم نے اسے دو سندوں سے لیا ہے لیکن دونوں مرسل ہیں، ابن جریر میں بھی مرسل ہے۔

صفحہ نمبر5641

قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آ گئی اور شیطان نے آپ کی زبان پر ڈالا (‏ «وَإِنَّ شَفَاعَتهَا لَتُرْتَجَى وَإِنَّهَا لَمَعَ الْغَرَانِيق الْعُلَى») نکلوادیا۔ مشرکین نے ان لفظوں کو پکڑ لیا اور شیطان نے یہ بات پھیلا دی۔ اس پر یہ آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ» [22-الحج:52] ‏ اتری اور اسے ذلیل ہونا پڑا۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سورۃ النجم نازل ہوئی اور مشرکین کہہ رہے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے معبودوں کا اچھے لفظوں میں ذکر کرے تو ہم اسے اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑیں مگر اس کا تو یہ حال ہے کہ یہود ونصاری اور جو لوگ اس کے مخالف ہیں اس سب سے زیادہ گالیوں اور برائی سے ہمارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم پر سخت مصائب توڑے جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ہدایت کی لالچ تھی جب سورۃ النجم کی تلاوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع کی اور «أَلَكُمُ الذَّكَرُ‌ وَلَهُ الْأُنثَىٰ» [53-النجم:21] ‏ تک پڑھا تو، شیطان نے بتوں کے ذکر کے وقت یہ کلمات ڈال دئیے (‏ «وَإِنَّهُنَّ لَهُنَّ الْغَرَانِيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتهنَّ لَهِيَ الَّتِي تُرْتَجَى») یہ شیطان کی مقفی عبارت تھی۔ ہر مشرک کے دل میں یہ کلمے بیٹھ گئے اور ایک ایک کو یاد ہو گئے یہاں تک کہ یہ مشہور ہو گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ کے خاتمے پر سجدہ کیا تو سارے مسلمان اور مشرکین بھی سجدے میں گر پڑے، ہاں ولید بن مغیرہ چونکہ بہت ہی بوڑھا تھا اس لیے اس نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر اونچی لے جا کر اس کو اپنے ماتھے سے لگا لیا۔ اب ہر ایک کو تعجب معلوم ہونے لگا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں فریق سجدے میں شامل تھے۔ مسلمانوں کو تعجب تھا کہ یہ لوگ ایمان تو لائے نہیں، یقین نہیں، پھر ہمارے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے پر سجدہ انہوں کیسے کیا؟ شیطان نے جو الفاظ مشرکوں کے کانوں میں پھونکے تھے وہ مسلمانوں نے سنے ہی نہ تھے ادھر ان کے دل خوش ہو رہے تھے کیونکہ شیطان نے اس طرح آواز میں آواز ملائی کہ مشرکین اس میں کوئی تمیز ہی نہ کر سکتے تھے ۔

صفحہ نمبر5642

وہ تو سب کو اسی یقین پر پکا کر چکا تھا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سورت کی ان دونوں آیتوں کو تلاوت فرمایا ہے۔ پس دراصل مشرکین کا سجدہ اپنے کو تھا۔

شیطان نے اس واقعہ کو اتنا پھیلا دیا کہ مہاجرین حبشہ کے کانوں میں بھی یہ بات پہنچی۔ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب سنا کہ اہل مکہ مسلمان ہو گئے ہیں بلکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور ولید بن مغیرہ سجدہ نہ کرسکا تو اس نے مٹی کی ایک مٹھی اٹھا کر اس پر سرٹکالیا۔ مسلمان اب پورے امن اور اطمینان سے ہیں تو انہوں نے وہاں سے واپسی کی ٹھانی اور خوشی خوشی مکے پہنچے۔

ان کے پہنچنے سے پہلے شیطان کے ان الفاظ کی قلعی کھل چکی تھی اللہ نے ان الفاظ کو ہٹا دیا تھا اور اپنا کلام محفوظ کر دیا تھا یہاں مشرکین کی آتش عداوت اور بھڑک اٹھی تھی اور انہوں نے مسلمانوں پر نئے مصائب کے بادل برسانے شروع کردئے تھے یہ روایت بھی مرسل ہے۔ بیہقی کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی یہ روایت ہے امام محمد ابن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ بھی اسے اپنی سیرت میں لائے ہیں لیکن یہ سندیں مرسلات اور منقطعات ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5643

امام بغوی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں یہ سب کچھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کے کلام سے اسی طرح کی روایتیں وارد کی ہیں۔ پھر خود ہی ایک سوال وارد کیا ہے کہ ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچاؤ کا ذمہ دار محافظ خود اللہ تعالیٰ ہے تو ایسی بات کیسے واقع ہوگئی۔‏“ پھر بہت سے جواب دئے ہیں جن میں ایک لطیف جواب یہ بھی ہے کہ شیطان نے یہ الفاظ لوگوں کے کانوں میں ڈالے اور انہیں وہم ڈالا کہ یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے ہیں حقیقت میں ایسا نہ تھا یہ صرف شیطانی حرکت تھی نہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز۔ [نصب المجانيق لنسف قصة الغرانيق الألباني:0000،قال الشيخ الألباني:باطل] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور بھی اسی قسم کے بہت سے جواب متکلمین نے دئے ہیں۔ قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ نے بھی شفاء میں اسے چھیڑا ہے اور ان کے جواب کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ کا اپنا فرمان اس بات کا ثبوت ہے کہ شیطان کا تصرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ناممکن ہے۔ مگر جب کہ وہ آرزو کرتا ہے الخ۔

اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی فرمائی گئی ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر پریشان خاطر نہ ہوں اگلے نبیوں رسولوں علیہم السلام پر بھی ایسے اتفاقات آئے “۔

بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس کی آرزو میں جب نبی بات کرتا ہے تو شیطان اس کی بات میں بول شامل کر دیتا ہے پس شیطان کے ڈالے ہوئے کو باطل کر کے پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم کرتا ہے ۔

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں «تَمَنَّىٰ» کا معنی «قَالَ» کے ہیں «أُمْنِيَّتِهِ» کے معنی «قَرَائَتِهِ» کے ہیں «إِلَّا أَمَانِيَّ» کا مطلب یہ ہے کہ پڑھتے ہیں لکھتے نہیں۔

بغوی رحمتہ اللہ علیہ اور اکثر مفسیرین کہتے ہیں «تَمَنَّىٰ» کے معنی «تَلَا» کے ہیں یعنی جب کتاب اللہ پڑھتا ہے تو شیطان اس کی تلاوت میں کچھ ڈال دیتا ہے۔ چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مدح میں شاعر نے کہا ہے۔ شعر «تَمَنَّى كِتَابَ اللَّهِ أَوَّلَ لَيْلَةٍ وَآخِرَهَا لَاقَى حِمَامَ الْمَقَادِرِ» ۔ یہاں بھی لفظ «تَمَنَّىٰ» ‏پڑھنے کے معنی میں ہے۔

صفحہ نمبر5644

ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں یہ قول بہت قریب کی تاویل والا ہے۔ نسخ کے حقیقی معنی لغتاً ازلہ اور رفع کے معنی ہٹانے اور مٹادینے کے ہیں یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ شیطان کے القا کو باطل کر دیتا ہے۔ جبرائیل علیہ السلام بحکم الٰہی شیطان کی زیادتی کو مٹا دیتے ہیں اور اللہ کی آیتیں مضبوط رہ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام کاموں کا جاننے والا ہے۔ کوئی مخفی بات بھی کوئی راز بھی اس پر پوشیدہ نہیں، وہ حکیم ہے اس کا کام الحکمت سے خالی نہیں۔ یہ اس لیے کہ جن کے دلوں میں شک، شرک، کفر اور نفاق ہے، ان کے لیے یہ فتنہ بن جائے۔

چنانچہ مشرکین نے اسے اللہ کی طرف سے مان لیا حالانکہ وہ الفاظ شیطانی تھے۔ لہٰذا بیمار دل والوں سے مراد منافق ہیں اور سخت دل والوں سے مراد مشرک ہیں۔ یہ بھی قول ہے کہ مراد یہود ہیں۔ ظالم حق سے بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ سیدھے راستے سے گم ہو گئے ہیں اور جنہیں صحیح علم دیا گیا ہے جس سے وہ حق و باطل میں تمیز کرلیتے ہیں انہیں اس بات کے بالکل حق ہونے کا اور منجانب اللہ ہونے کا صحیح یقین ہو جائے اور وہ کامل الایمان بن جائیں اور سمجھ لیں کہ بیشک یہ اللہ کا کلام ہے جبھی تو اس قدر اس کی حفاظت دیانت اور نگہداشت ہے۔ کہ کسی جانب سے کسی طریق سے اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہو سکتی۔ حکیم وحمید اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے پس ان کے دل تصدیق سے پر ہو جاتے ہیں، جھک کر رغبت سے متوجہ ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایمان داروں کی رہبری دنیا میں حق اور ہدایت کی طرف کرتا ہے صراط مستقیم سجھا دیتا ہے اور آخرت میں عذابوں سے بچا کر بلند درجوں میں پہنچاتا ہے اور نعمتیں نصیب فرماتا ہے۔

صفحہ نمبر5645

کافروں کے دل سے شک و شبہ نہیں جائے گا ٭٭

یعنی کافروں کو جو شک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا۔ شیطان یہ غلط گمان قیامت تک ان کے دلوں سے نہ نکلنے دے گا۔ قیامت اور اس کے عذاب ان کے پاس ناگہاں آ جائیں گے۔ اس وقت یہ محض بے شعور ہوں گے جو مہلت انہیں مل رہی ہے اس سے یہ مغرور ہو گئے۔

جس قوم کے پاس اللہ کے عذاب آئے اسی حالت میں آئے کہ وہ ان سے نڈر بلکہ بےپروا ہو گئے تھے اللہ کے عذابوں سے غافل وہی ہوتے ہیں جو پورے فاسق اور اعلانیہ مجرم ہوں۔ یا انہیں بے خبر دن عذاب پہنچے جو دن ان کے لیے منحوس ثابت ہو گا۔ بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد یوم بدر ہے اور بعض نے کہا ہے مراد اس سے قیامت کا دن ہے یہی قول صحیح ہے گو بدر کا دن بھی ان کے لیے عذاب اللہ کا دن تھا۔ اس دن صرف اللہ کی بادشاہت ہوگی۔ جیسے اور آیت میں ہے «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» [1-الفاتحہ:4] ‏ ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک ہے “۔ اور آیت میں ہے «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًا» [25-الفرقان:26] ‏ ” اس دن رحمن کا ہی ملک ہو گا اور وہ دن کافروں پر نہایت ہی گراں گزرے گا “۔ فیصلے خود اللہ کرے گا۔ جن کے دلوں میں اللہ پر ایمان رسول کی صداقت اور ایمان کے مطابق جن کے اعمال تھے جن کے دل اور عمل میں موافقت تھی۔ جن کی زبانیں دل کے مانند تھیں وہ جنت کی نعمتوں میں مالا مال ہوں گے جو نعمتیں نہ فنا ہوں نہ گھٹیں نہ بگڑیں نہ کم ہوں۔ جن کے دلوں میں حقانیت سے کفر تھا، جو حق کو جھٹلاتے تھے، نبیوں کے خلاف کرتے تھے، اتباع حق سے تکبر کرتے تھے ان کے تکبر کے بدلے انہیں ذلیل کرنے والے عذاب ہوں گے۔

جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» [40-غافر:60] ‏ ” جو لوگ میری عبادتوں سے سرکشی کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے “۔

صفحہ نمبر5648

کافروں کے دل سے شک و شبہ نہیں جائے گا ٭٭

یعنی کافروں کو جو شک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا۔ شیطان یہ غلط گمان قیامت تک ان کے دلوں سے نہ نکلنے دے گا۔ قیامت اور اس کے عذاب ان کے پاس ناگہاں آ جائیں گے۔ اس وقت یہ محض بے شعور ہوں گے جو مہلت انہیں مل رہی ہے اس سے یہ مغرور ہو گئے۔

جس قوم کے پاس اللہ کے عذاب آئے اسی حالت میں آئے کہ وہ ان سے نڈر بلکہ بےپروا ہو گئے تھے اللہ کے عذابوں سے غافل وہی ہوتے ہیں جو پورے فاسق اور اعلانیہ مجرم ہوں۔ یا انہیں بے خبر دن عذاب پہنچے جو دن ان کے لیے منحوس ثابت ہو گا۔ بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد یوم بدر ہے اور بعض نے کہا ہے مراد اس سے قیامت کا دن ہے یہی قول صحیح ہے گو بدر کا دن بھی ان کے لیے عذاب اللہ کا دن تھا۔ اس دن صرف اللہ کی بادشاہت ہوگی۔ جیسے اور آیت میں ہے «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» [1-الفاتحہ:4] ‏ ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک ہے “۔ اور آیت میں ہے «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًا» [25-الفرقان:26] ‏ ” اس دن رحمن کا ہی ملک ہو گا اور وہ دن کافروں پر نہایت ہی گراں گزرے گا “۔ فیصلے خود اللہ کرے گا۔ جن کے دلوں میں اللہ پر ایمان رسول کی صداقت اور ایمان کے مطابق جن کے اعمال تھے جن کے دل اور عمل میں موافقت تھی۔ جن کی زبانیں دل کے مانند تھیں وہ جنت کی نعمتوں میں مالا مال ہوں گے جو نعمتیں نہ فنا ہوں نہ گھٹیں نہ بگڑیں نہ کم ہوں۔ جن کے دلوں میں حقانیت سے کفر تھا، جو حق کو جھٹلاتے تھے، نبیوں کے خلاف کرتے تھے، اتباع حق سے تکبر کرتے تھے ان کے تکبر کے بدلے انہیں ذلیل کرنے والے عذاب ہوں گے۔

جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» [40-غافر:60] ‏ ” جو لوگ میری عبادتوں سے سرکشی کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے “۔

صفحہ نمبر5648

کافروں کے دل سے شک و شبہ نہیں جائے گا ٭٭

یعنی کافروں کو جو شک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا۔ شیطان یہ غلط گمان قیامت تک ان کے دلوں سے نہ نکلنے دے گا۔ قیامت اور اس کے عذاب ان کے پاس ناگہاں آ جائیں گے۔ اس وقت یہ محض بے شعور ہوں گے جو مہلت انہیں مل رہی ہے اس سے یہ مغرور ہو گئے۔

جس قوم کے پاس اللہ کے عذاب آئے اسی حالت میں آئے کہ وہ ان سے نڈر بلکہ بےپروا ہو گئے تھے اللہ کے عذابوں سے غافل وہی ہوتے ہیں جو پورے فاسق اور اعلانیہ مجرم ہوں۔ یا انہیں بے خبر دن عذاب پہنچے جو دن ان کے لیے منحوس ثابت ہو گا۔ بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد یوم بدر ہے اور بعض نے کہا ہے مراد اس سے قیامت کا دن ہے یہی قول صحیح ہے گو بدر کا دن بھی ان کے لیے عذاب اللہ کا دن تھا۔ اس دن صرف اللہ کی بادشاہت ہوگی۔ جیسے اور آیت میں ہے «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» [1-الفاتحہ:4] ‏ ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک ہے “۔ اور آیت میں ہے «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًا» [25-الفرقان:26] ‏ ” اس دن رحمن کا ہی ملک ہو گا اور وہ دن کافروں پر نہایت ہی گراں گزرے گا “۔ فیصلے خود اللہ کرے گا۔ جن کے دلوں میں اللہ پر ایمان رسول کی صداقت اور ایمان کے مطابق جن کے اعمال تھے جن کے دل اور عمل میں موافقت تھی۔ جن کی زبانیں دل کے مانند تھیں وہ جنت کی نعمتوں میں مالا مال ہوں گے جو نعمتیں نہ فنا ہوں نہ گھٹیں نہ بگڑیں نہ کم ہوں۔ جن کے دلوں میں حقانیت سے کفر تھا، جو حق کو جھٹلاتے تھے، نبیوں کے خلاف کرتے تھے، اتباع حق سے تکبر کرتے تھے ان کے تکبر کے بدلے انہیں ذلیل کرنے والے عذاب ہوں گے۔

جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» [40-غافر:60] ‏ ” جو لوگ میری عبادتوں سے سرکشی کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے “۔

صفحہ نمبر5648

اللہ تعالیٰ کا بہترین رزق پانے والے لوگ ٭٭

یعنی جو شخص اپنا وطن اپنے اہل و عیال اپنے دوست احباب چھوڑ کر اللہ کی رضا مندی کے لیے اس کی راہ میں ہجرت کر جائے اس کے رسول کی اور اس کے دین کی مدد کے لیے پہنچے پھر وہ میدان جہاد میں دشمن کے ہاتھوں شہید کیا جائے یا بے لڑے بھڑے اپنی قضاء کے ساتھ اپنے بستر پر موت آ جائے اور اسے بہت بڑا اجر اور زبردست ثواب اللہ کی طرف سے ہے۔

جیسے ارشاد ہے آیت «وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [4-النساء:100] ‏ یعنی ” جو شخص اپنے گھر اور دیس کو چھوڑ کر اللہ رسول کی طرف ہجرت کر کے نکلے پھر اسے موت آ جائے تو اسے اس کا اجر اللہ کے ذمے طے ہو چکا۔ ان پر اللہ کا فضل ہو گا، انہیں جنت کی روزیاں ملیں گی جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اللہ تعالیٰ بہترین رازق ہے “۔

انہیں پروردگار جنت میں پہنچائے گا۔ جہاں یہ خوش خوش ہونگے جسے فرمان ہے کہ «فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ» [56-الواقعہ:88،89] ‏ ” جو ہمارے مقربوں میں سے ہے اس کے لیے راحت اور خوشبودار پھول اور نعمتوں بھرے باغات ہیں ایسے لوگوں کو راحت ورزق اور جنت ملے گی “۔

اپنی راہ کے سچے مہاجروں کو اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو اپنی نعمتوں کے مستحق لوگوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ وہ بڑے حکم والا ہے بندوں کے گناہ معاف فرماتا ہے ان کی خطاؤں سے درگزر فرماتا ہے ان کی ہجرت قبول کرتا ہے ان کے توکل کو خوب جانتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوں مہاجر ہوں یا نہ ہوں وہ رب کے پاس زندگی اور روزی پاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ» [3-آل عمران:169] ‏، ” خدا کی راہ کے شہیدوں کو مردہ نہ سمجھو وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزیاں دیے جاتے ہیں “۔

اس بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں جو بیان ہوچکیں۔ پس فی سبیل اللہ شہید ہونے والوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہے اس آیت سے اور اسی بارے کی احادیث سے بھی۔

صفحہ نمبر5651

حضرت شرجیل بن سمط رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ روم کے ایک قلعے کے محاصرے پر ہمیں مدت گزر چکی اتفاق سے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو فرمانے لگے ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص راہ اللہ کی تیاری میں مرجائے تو اس کا اجر اور رزق برابر اللہ کی طرف سے ہمیشہ اس پر جاری رہتا ہے اور وہ اتنے میں ڈالنے والوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت «وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْٓا اَوْ مَاتُوْا لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًاَ» [22-الحج:58] ‏ پڑھ لو ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:136/17:] ‏

ابو قبیل اور ربیع بن سیف مغافری کہتے ہیں ہم رودس کے جہاد میں تھے ہمارے ساتھ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ دو جنازے ہمارے پاس سے گزرے جن میں ایک شہید تھا دوسرا اپنی موت مرا تھا لوگ شہید کے جنازے میں ٹوٹ پڑے۔ فضالہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا یہ شہید ہیں اور یہ دوسرے شہادت سے محروم ہیں۔ آپ نے فرمایا واللہ مجھے تو دونوں باتیں برابر ہیں، خواہ اس کی قبر میں سے اٹھوں خواہ اس کی میں سے۔ سنو کتاب اللہ میں ہے پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ مرے ہوئے کی قبر پر ہی ٹہھرے رہے اور فرمایا تمہیں اور کیا چاہیئے جنت، جگہ اور عمدہ روزی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ اس وقت امیر تھے۔ یہ آخری آیت صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس چھوٹے سے لشکر کے بارے میں اتری ہے جن سے مشرکین کے ایک لشکر نے باوجود ان کے رک جانے کی حرمت کے مہینے میں لڑائی کی اللہ نے مسلمانوں کی امداد فرمائی اور مخالفین کو نیچا دکھایا اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔

صفحہ نمبر5652

اللہ تعالیٰ کا بہترین رزق پانے والے لوگ ٭٭

یعنی جو شخص اپنا وطن اپنے اہل و عیال اپنے دوست احباب چھوڑ کر اللہ کی رضا مندی کے لیے اس کی راہ میں ہجرت کر جائے اس کے رسول کی اور اس کے دین کی مدد کے لیے پہنچے پھر وہ میدان جہاد میں دشمن کے ہاتھوں شہید کیا جائے یا بے لڑے بھڑے اپنی قضاء کے ساتھ اپنے بستر پر موت آ جائے اور اسے بہت بڑا اجر اور زبردست ثواب اللہ کی طرف سے ہے۔

جیسے ارشاد ہے آیت «وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [4-النساء:100] ‏ یعنی ” جو شخص اپنے گھر اور دیس کو چھوڑ کر اللہ رسول کی طرف ہجرت کر کے نکلے پھر اسے موت آ جائے تو اسے اس کا اجر اللہ کے ذمے طے ہو چکا۔ ان پر اللہ کا فضل ہو گا، انہیں جنت کی روزیاں ملیں گی جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اللہ تعالیٰ بہترین رازق ہے “۔

انہیں پروردگار جنت میں پہنچائے گا۔ جہاں یہ خوش خوش ہونگے جسے فرمان ہے کہ «فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ» [56-الواقعہ:88،89] ‏ ” جو ہمارے مقربوں میں سے ہے اس کے لیے راحت اور خوشبودار پھول اور نعمتوں بھرے باغات ہیں ایسے لوگوں کو راحت ورزق اور جنت ملے گی “۔

اپنی راہ کے سچے مہاجروں کو اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو اپنی نعمتوں کے مستحق لوگوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ وہ بڑے حکم والا ہے بندوں کے گناہ معاف فرماتا ہے ان کی خطاؤں سے درگزر فرماتا ہے ان کی ہجرت قبول کرتا ہے ان کے توکل کو خوب جانتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوں مہاجر ہوں یا نہ ہوں وہ رب کے پاس زندگی اور روزی پاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ» [3-آل عمران:169] ‏، ” خدا کی راہ کے شہیدوں کو مردہ نہ سمجھو وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزیاں دیے جاتے ہیں “۔

اس بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں جو بیان ہوچکیں۔ پس فی سبیل اللہ شہید ہونے والوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہے اس آیت سے اور اسی بارے کی احادیث سے بھی۔

صفحہ نمبر5651

حضرت شرجیل بن سمط رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ روم کے ایک قلعے کے محاصرے پر ہمیں مدت گزر چکی اتفاق سے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو فرمانے لگے ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص راہ اللہ کی تیاری میں مرجائے تو اس کا اجر اور رزق برابر اللہ کی طرف سے ہمیشہ اس پر جاری رہتا ہے اور وہ اتنے میں ڈالنے والوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت «وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْٓا اَوْ مَاتُوْا لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًاَ» [22-الحج:58] ‏ پڑھ لو ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:136/17:] ‏

ابو قبیل اور ربیع بن سیف مغافری کہتے ہیں ہم رودس کے جہاد میں تھے ہمارے ساتھ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ دو جنازے ہمارے پاس سے گزرے جن میں ایک شہید تھا دوسرا اپنی موت مرا تھا لوگ شہید کے جنازے میں ٹوٹ پڑے۔ فضالہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا یہ شہید ہیں اور یہ دوسرے شہادت سے محروم ہیں۔ آپ نے فرمایا واللہ مجھے تو دونوں باتیں برابر ہیں، خواہ اس کی قبر میں سے اٹھوں خواہ اس کی میں سے۔ سنو کتاب اللہ میں ہے پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ مرے ہوئے کی قبر پر ہی ٹہھرے رہے اور فرمایا تمہیں اور کیا چاہیئے جنت، جگہ اور عمدہ روزی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ اس وقت امیر تھے۔ یہ آخری آیت صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس چھوٹے سے لشکر کے بارے میں اتری ہے جن سے مشرکین کے ایک لشکر نے باوجود ان کے رک جانے کی حرمت کے مہینے میں لڑائی کی اللہ نے مسلمانوں کی امداد فرمائی اور مخالفین کو نیچا دکھایا اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔

صفحہ نمبر5652

اللہ تعالیٰ کا بہترین رزق پانے والے لوگ ٭٭

یعنی جو شخص اپنا وطن اپنے اہل و عیال اپنے دوست احباب چھوڑ کر اللہ کی رضا مندی کے لیے اس کی راہ میں ہجرت کر جائے اس کے رسول کی اور اس کے دین کی مدد کے لیے پہنچے پھر وہ میدان جہاد میں دشمن کے ہاتھوں شہید کیا جائے یا بے لڑے بھڑے اپنی قضاء کے ساتھ اپنے بستر پر موت آ جائے اور اسے بہت بڑا اجر اور زبردست ثواب اللہ کی طرف سے ہے۔

جیسے ارشاد ہے آیت «وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [4-النساء:100] ‏ یعنی ” جو شخص اپنے گھر اور دیس کو چھوڑ کر اللہ رسول کی طرف ہجرت کر کے نکلے پھر اسے موت آ جائے تو اسے اس کا اجر اللہ کے ذمے طے ہو چکا۔ ان پر اللہ کا فضل ہو گا، انہیں جنت کی روزیاں ملیں گی جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اللہ تعالیٰ بہترین رازق ہے “۔

انہیں پروردگار جنت میں پہنچائے گا۔ جہاں یہ خوش خوش ہونگے جسے فرمان ہے کہ «فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ» [56-الواقعہ:88،89] ‏ ” جو ہمارے مقربوں میں سے ہے اس کے لیے راحت اور خوشبودار پھول اور نعمتوں بھرے باغات ہیں ایسے لوگوں کو راحت ورزق اور جنت ملے گی “۔

اپنی راہ کے سچے مہاجروں کو اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو اپنی نعمتوں کے مستحق لوگوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ وہ بڑے حکم والا ہے بندوں کے گناہ معاف فرماتا ہے ان کی خطاؤں سے درگزر فرماتا ہے ان کی ہجرت قبول کرتا ہے ان کے توکل کو خوب جانتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوں مہاجر ہوں یا نہ ہوں وہ رب کے پاس زندگی اور روزی پاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ» [3-آل عمران:169] ‏، ” خدا کی راہ کے شہیدوں کو مردہ نہ سمجھو وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزیاں دیے جاتے ہیں “۔

اس بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں جو بیان ہوچکیں۔ پس فی سبیل اللہ شہید ہونے والوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہے اس آیت سے اور اسی بارے کی احادیث سے بھی۔

صفحہ نمبر5651

حضرت شرجیل بن سمط رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ روم کے ایک قلعے کے محاصرے پر ہمیں مدت گزر چکی اتفاق سے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو فرمانے لگے ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص راہ اللہ کی تیاری میں مرجائے تو اس کا اجر اور رزق برابر اللہ کی طرف سے ہمیشہ اس پر جاری رہتا ہے اور وہ اتنے میں ڈالنے والوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت «وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْٓا اَوْ مَاتُوْا لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًاَ» [22-الحج:58] ‏ پڑھ لو ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:136/17:] ‏

ابو قبیل اور ربیع بن سیف مغافری کہتے ہیں ہم رودس کے جہاد میں تھے ہمارے ساتھ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ دو جنازے ہمارے پاس سے گزرے جن میں ایک شہید تھا دوسرا اپنی موت مرا تھا لوگ شہید کے جنازے میں ٹوٹ پڑے۔ فضالہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا یہ شہید ہیں اور یہ دوسرے شہادت سے محروم ہیں۔ آپ نے فرمایا واللہ مجھے تو دونوں باتیں برابر ہیں، خواہ اس کی قبر میں سے اٹھوں خواہ اس کی میں سے۔ سنو کتاب اللہ میں ہے پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ مرے ہوئے کی قبر پر ہی ٹہھرے رہے اور فرمایا تمہیں اور کیا چاہیئے جنت، جگہ اور عمدہ روزی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ اس وقت امیر تھے۔ یہ آخری آیت صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس چھوٹے سے لشکر کے بارے میں اتری ہے جن سے مشرکین کے ایک لشکر نے باوجود ان کے رک جانے کی حرمت کے مہینے میں لڑائی کی اللہ نے مسلمانوں کی امداد فرمائی اور مخالفین کو نیچا دکھایا اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔

صفحہ نمبر5652

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com