John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Hajj

Tafsir Ibn Kathir · The Pilgrimage · 78 ayat · ayat 61–78 · Quran text →

اس پر کوئی حاکم نہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ خالق اور متصرف صرف وہی ہے، اپنی ساری مخلوق میں جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ فرمان ہے آیت «قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَن تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ» [3-آل عمران:27،26] ‏ ” الٰہی تو ہی مالک الملک ہے جسے چاہے ملک دے جس سے چاہے لے لے جسے چاہے عزت کا جھولا جھلائے، جسے چاہے دردر سے ذلیل منگائے، ساری بھلائیاں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تو ہی ہر چیز پر قادر ہے۔ دن کو رات، رات کو دن میں تو ہی لے جاتا ہے۔ زندے کو مردے سے مردے کو زندے سے تو ہی نکالتا ہے جسے چاہتا ہے بے حساب روزیاں پہنچاتا ہے “۔

پس کبھی دن بڑے راتیں چھوٹی کبھی راتیں بڑی دن چھوٹے جیسے گرمیوں اور جاڑوں میں ہوتا ہے۔ بندوں کی تمام باتیں اللہ سنتا ہے ان کی تمام حرکات وسکنات دیکھتا ہے کوئی حال اس پر پوشیدہ نہیں۔ اس کا کوئی حاکم نہیں بلکہ کوئی چوں چرا بھی اس کے سامنے نہیں کر سکتا۔ وہی سچا معبود ہے۔ عبادتوں کے لائق اس کے سوا کوئی اور نہیں۔ «وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» [2-البقرة:255] ‏ ” زبردست غلبے والا “، بڑی شان والا وہی ہے، جو چاہتا ہے ہوتا ہے، جو نہیں چاہتا ناممکن ہے کہ وہ ہو جائے۔ ہر شخص اس کے سامنے فقیر، ہر ایک اس کے آگے عاجز۔ اس کے سوا جسے لوگ پوجیں وہ باطل، کوئی نفع نقصان کسی کے ہاتھ نہیں، «الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ» [13-الرعد:9] ‏ ” وہ بلندیوں والا، عظمتوں والا ہے “۔ ہر چیز اس کے ماتحت، اس کے زیر حکم۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہ اس کے سوا کوئی رب، نہ اس سے کوئی بڑا، نہ اس پر کوئی غالب۔ وہ تقدس والا، وہ عزت وجلال والا، ظالموں کی کہی ہوئی تمام فضول باتوں پاک، سب خوبیوں والا تمام نقصانات سے دور۔

صفحہ نمبر5655

اس پر کوئی حاکم نہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ خالق اور متصرف صرف وہی ہے، اپنی ساری مخلوق میں جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ فرمان ہے آیت «قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَن تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ» [3-آل عمران:27،26] ‏ ” الٰہی تو ہی مالک الملک ہے جسے چاہے ملک دے جس سے چاہے لے لے جسے چاہے عزت کا جھولا جھلائے، جسے چاہے دردر سے ذلیل منگائے، ساری بھلائیاں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تو ہی ہر چیز پر قادر ہے۔ دن کو رات، رات کو دن میں تو ہی لے جاتا ہے۔ زندے کو مردے سے مردے کو زندے سے تو ہی نکالتا ہے جسے چاہتا ہے بے حساب روزیاں پہنچاتا ہے “۔

پس کبھی دن بڑے راتیں چھوٹی کبھی راتیں بڑی دن چھوٹے جیسے گرمیوں اور جاڑوں میں ہوتا ہے۔ بندوں کی تمام باتیں اللہ سنتا ہے ان کی تمام حرکات وسکنات دیکھتا ہے کوئی حال اس پر پوشیدہ نہیں۔ اس کا کوئی حاکم نہیں بلکہ کوئی چوں چرا بھی اس کے سامنے نہیں کر سکتا۔ وہی سچا معبود ہے۔ عبادتوں کے لائق اس کے سوا کوئی اور نہیں۔ «وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» [2-البقرة:255] ‏ ” زبردست غلبے والا “، بڑی شان والا وہی ہے، جو چاہتا ہے ہوتا ہے، جو نہیں چاہتا ناممکن ہے کہ وہ ہو جائے۔ ہر شخص اس کے سامنے فقیر، ہر ایک اس کے آگے عاجز۔ اس کے سوا جسے لوگ پوجیں وہ باطل، کوئی نفع نقصان کسی کے ہاتھ نہیں، «الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ» [13-الرعد:9] ‏ ” وہ بلندیوں والا، عظمتوں والا ہے “۔ ہر چیز اس کے ماتحت، اس کے زیر حکم۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہ اس کے سوا کوئی رب، نہ اس سے کوئی بڑا، نہ اس پر کوئی غالب۔ وہ تقدس والا، وہ عزت وجلال والا، ظالموں کی کہی ہوئی تمام فضول باتوں پاک، سب خوبیوں والا تمام نقصانات سے دور۔

صفحہ نمبر5655

قدرت اور غلبہ الٰہی کا اظہار ٭٭

اپنی عظیم الشان قدرت اور زبردست غلبے کو بیان فرما رہا ہے کہ «فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ» [22-الحج:5] ‏ ” سوکھی غیر آباد مردہ زمین پر اس کے حکم سے ہوائیں بادل لاتی ہیں جو پانی برساتے ہیں اور زمین لہلہاتی ہوئی سرسبزوشاداب ہو جاتی ہے گویا جی اٹھتی ہے “۔

یہاں پر (‏ف)‏ تعقیب کے لیے ہے ہر چیز کی تعقیب اسی کے انداز سے ہوتی ہے۔ «ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا» [23-المؤمنون:14] ‏ نطفے کا ملقہ ہونا پھر ملقے کا مضغہ ہونا جہاں بیان فرمایا ہے وہاں بھی (‏ف)‏ آئی ہے اور ہر دو صورت میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ حجاز کی بعض زمینیں ایسی بھی ہیں کہ بارش کے ہوتے ہی معا سرخ وسبز ہو جاتی ہیں «فَاللہُ اَعْلَمُ» ۔

زمین کے گوشوں میں اور اس کے اندر جو کچھ ہے، سب اللہ کے علم میں ہے۔ ایک ایک دانہ اس کی دانست میں ہے۔ پانی وہیں پہنچتا ہے اور وہ اگ آتا ہے۔ جیسے لقمان رحمتہ اللہ علیہ کے قول میں ہے کہ «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:16] ‏ ” اے بچے! اگرچہ کوئی چیز رائی کے دانے برابر ہوچاہے کسی چٹان میں ہو یا آسمان میں یا زمین میں اللہ اسے ضرور لائے گا اللہ تعالیٰ پاکیزہ اور باخبر ہے “۔

ایک اور آیت میں ہے «أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» [27-النمل:25] ‏ ” زمین و آسمان کی ہر چیز کو اللہ ظاہر کر دے گا “۔

ایک آیت میں ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» [6-الأنعام:59] ‏، ” ہرپتے کے جھڑنے کا، ہر دانے کا جو زمین کے اندھیروں میں ہو ہر تر وخشک چیز کا اللہ کو علم ہے اور وہ کھلی کتاب میں ہے “۔

ایک اور آیت میں ہے «وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ» [10-یونس:61] ‏ ” کوئی ذرہ آسمان و زمیں میں اللہ سے پوشیدہ نہیں، کوئی چھوٹی بڑی چیز ایسی نہیں جو ظاہر کتاب میں نہ ہو “۔

امیہ بن ابو صلت یا زید بن عمر و بن نفیل کے قصیدے میں ہے شعر «وَقُولَا لَهُ مَنْ يُنْبِت الْحَبّ فِي الثَّرَى» «فَيُصْبِح مِنْهُ الْبَقْل يَهْتَزّ رَابِيًا» «وَيُخْرِج مِنْهُ حَبّه فِي رُءُوسه» «فَفِي ذَلِكَ آيَات لِمَنْ كَانَ وَاعِيًا» ”اے میرے دونوں پیغمبرو! تم اس سے کہو کہ مٹی میں سے دانے کون نکالتا ہے کہ درخت پھوٹ کر جھومنے لگتا ہے اور اس کے سرے پر بال نکل آتی ہے؟ عقلمند کے لیے تو اس میں قدرت کی ایک چھوڑ کئی نشانیاں موجود ہیں۔‏“

صفحہ نمبر5657

تمام کائنات کا مالک وہی ہے۔ وہ ہر ایک سے بے نیاز ہے۔ ہر ایک اس کے سامنے فقیر اور اس کی بارگاہ عالی کا محتاج ہے۔ سب انسان اس کے غلام ہیں۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ کل حیوانات، جمادات، کھیتیاں، باغات اس نے تمہارے فائدے کے لیے، تمہاری ماتحتی میں دے رکھے ہیں آسمان و زمین کی چیزیں تمہارے لیے سرگرداں ہیں۔

اس کا احسان وفضل و کرم ہے کہ اسی کے حکم سے کشتیاں تمہیں ادھر سے ادھر لے جاتی ہیں۔ تمہارے مال ومتاع ان کے ذریعے یہاں سے وہاں پہنچتے ہیں۔ پانی کو چیرتی ہوئیں، موجوں کو کاٹتی ہوئیں بحکم الٰہی ہواؤں کے ساتھ تمہارے نفع کے لیے چل رہی ہیں۔ یہاں کی ضرورت کی چیزیں وہاں سے وہاں کی یہاں برابر پہنچتی رہتی ہیں۔ وہ خود آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر نہ گر پڑے ورنہ ابھی وہ حکم دے تو یہ زمین پر آ رہے اور تم سب ہلاک ہو جاؤ۔

صفحہ نمبر5658

انسانوں کے گناہوں کے باوجود اللہ ان پر رأفت و شفقت، بندہ نوازی اور غلام پروری کر رہا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ» [13-الرعد:6] ‏، ” لوگوں کے گناہوں کے باوجود اللہ تعالیٰ ان پر صاحب مغفرت ہے۔ ہاں بے شک وہ سخت عذابوں والا بھی ہے “۔ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے، وہی تمہیں فناکرے گا، وہی پھر دوبارہ پیدا کرے گا۔

جیسے فرمایا آیت «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [2-البقرة:28] ‏ ” تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ حالانکہ تم مردہ تھے، اسی نے تمہیں زندہ کیا پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا، پھر دوبارہ زندہ کر دے گا۔ پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے “۔

ایک اور آیت میں ہے «قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [45-الجاثية:26] ‏ ” اللہ ہی تمہیں دوبارہ زندہ کرتا ہے پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا پھر تمہیں قیامت والے دن، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں جمع کرے گا “۔

اور جگہ فرمایا «قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ» [40-غافر:11] ‏ ” وہ کہیں گے کہ اے اللہ تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا “۔

پس کلام کا مطلب یہ ہے کہ ایسے اللہ کے ساتھ تم دوسروں کو شریک کیوں ٹھیراتے ہو؟ دوسروں کی عبادت اس کے ساتھ کیسے کرتے ہو؟ پیدا کرنے والا فقط وہی، روزی دینے والا وہی، مالک ومختار فقط وہی، تم کچھ نہ تھے اس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تمہاری موت کے بعد دوبارہ پیدا کرے گا یعنی قیامت کے دن انسان بڑا ہی ناشکرا اور بے قدرا ہے۔

صفحہ نمبر5659

قدرت اور غلبہ الٰہی کا اظہار ٭٭

اپنی عظیم الشان قدرت اور زبردست غلبے کو بیان فرما رہا ہے کہ «فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ» [22-الحج:5] ‏ ” سوکھی غیر آباد مردہ زمین پر اس کے حکم سے ہوائیں بادل لاتی ہیں جو پانی برساتے ہیں اور زمین لہلہاتی ہوئی سرسبزوشاداب ہو جاتی ہے گویا جی اٹھتی ہے “۔

یہاں پر (‏ف)‏ تعقیب کے لیے ہے ہر چیز کی تعقیب اسی کے انداز سے ہوتی ہے۔ «ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا» [23-المؤمنون:14] ‏ نطفے کا ملقہ ہونا پھر ملقے کا مضغہ ہونا جہاں بیان فرمایا ہے وہاں بھی (‏ف)‏ آئی ہے اور ہر دو صورت میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ حجاز کی بعض زمینیں ایسی بھی ہیں کہ بارش کے ہوتے ہی معا سرخ وسبز ہو جاتی ہیں «فَاللہُ اَعْلَمُ» ۔

زمین کے گوشوں میں اور اس کے اندر جو کچھ ہے، سب اللہ کے علم میں ہے۔ ایک ایک دانہ اس کی دانست میں ہے۔ پانی وہیں پہنچتا ہے اور وہ اگ آتا ہے۔ جیسے لقمان رحمتہ اللہ علیہ کے قول میں ہے کہ «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:16] ‏ ” اے بچے! اگرچہ کوئی چیز رائی کے دانے برابر ہوچاہے کسی چٹان میں ہو یا آسمان میں یا زمین میں اللہ اسے ضرور لائے گا اللہ تعالیٰ پاکیزہ اور باخبر ہے “۔

ایک اور آیت میں ہے «أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» [27-النمل:25] ‏ ” زمین و آسمان کی ہر چیز کو اللہ ظاہر کر دے گا “۔

ایک آیت میں ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» [6-الأنعام:59] ‏، ” ہرپتے کے جھڑنے کا، ہر دانے کا جو زمین کے اندھیروں میں ہو ہر تر وخشک چیز کا اللہ کو علم ہے اور وہ کھلی کتاب میں ہے “۔

ایک اور آیت میں ہے «وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ» [10-یونس:61] ‏ ” کوئی ذرہ آسمان و زمیں میں اللہ سے پوشیدہ نہیں، کوئی چھوٹی بڑی چیز ایسی نہیں جو ظاہر کتاب میں نہ ہو “۔

امیہ بن ابو صلت یا زید بن عمر و بن نفیل کے قصیدے میں ہے شعر «وَقُولَا لَهُ مَنْ يُنْبِت الْحَبّ فِي الثَّرَى» «فَيُصْبِح مِنْهُ الْبَقْل يَهْتَزّ رَابِيًا» «وَيُخْرِج مِنْهُ حَبّه فِي رُءُوسه» «فَفِي ذَلِكَ آيَات لِمَنْ كَانَ وَاعِيًا» ”اے میرے دونوں پیغمبرو! تم اس سے کہو کہ مٹی میں سے دانے کون نکالتا ہے کہ درخت پھوٹ کر جھومنے لگتا ہے اور اس کے سرے پر بال نکل آتی ہے؟ عقلمند کے لیے تو اس میں قدرت کی ایک چھوڑ کئی نشانیاں موجود ہیں۔‏“

صفحہ نمبر5657

تمام کائنات کا مالک وہی ہے۔ وہ ہر ایک سے بے نیاز ہے۔ ہر ایک اس کے سامنے فقیر اور اس کی بارگاہ عالی کا محتاج ہے۔ سب انسان اس کے غلام ہیں۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ کل حیوانات، جمادات، کھیتیاں، باغات اس نے تمہارے فائدے کے لیے، تمہاری ماتحتی میں دے رکھے ہیں آسمان و زمین کی چیزیں تمہارے لیے سرگرداں ہیں۔

اس کا احسان وفضل و کرم ہے کہ اسی کے حکم سے کشتیاں تمہیں ادھر سے ادھر لے جاتی ہیں۔ تمہارے مال ومتاع ان کے ذریعے یہاں سے وہاں پہنچتے ہیں۔ پانی کو چیرتی ہوئیں، موجوں کو کاٹتی ہوئیں بحکم الٰہی ہواؤں کے ساتھ تمہارے نفع کے لیے چل رہی ہیں۔ یہاں کی ضرورت کی چیزیں وہاں سے وہاں کی یہاں برابر پہنچتی رہتی ہیں۔ وہ خود آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر نہ گر پڑے ورنہ ابھی وہ حکم دے تو یہ زمین پر آ رہے اور تم سب ہلاک ہو جاؤ۔

صفحہ نمبر5658

انسانوں کے گناہوں کے باوجود اللہ ان پر رأفت و شفقت، بندہ نوازی اور غلام پروری کر رہا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ» [13-الرعد:6] ‏، ” لوگوں کے گناہوں کے باوجود اللہ تعالیٰ ان پر صاحب مغفرت ہے۔ ہاں بے شک وہ سخت عذابوں والا بھی ہے “۔ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے، وہی تمہیں فناکرے گا، وہی پھر دوبارہ پیدا کرے گا۔

جیسے فرمایا آیت «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [2-البقرة:28] ‏ ” تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ حالانکہ تم مردہ تھے، اسی نے تمہیں زندہ کیا پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا، پھر دوبارہ زندہ کر دے گا۔ پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے “۔

ایک اور آیت میں ہے «قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [45-الجاثية:26] ‏ ” اللہ ہی تمہیں دوبارہ زندہ کرتا ہے پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا پھر تمہیں قیامت والے دن، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں جمع کرے گا “۔

اور جگہ فرمایا «قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ» [40-غافر:11] ‏ ” وہ کہیں گے کہ اے اللہ تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا “۔

پس کلام کا مطلب یہ ہے کہ ایسے اللہ کے ساتھ تم دوسروں کو شریک کیوں ٹھیراتے ہو؟ دوسروں کی عبادت اس کے ساتھ کیسے کرتے ہو؟ پیدا کرنے والا فقط وہی، روزی دینے والا وہی، مالک ومختار فقط وہی، تم کچھ نہ تھے اس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تمہاری موت کے بعد دوبارہ پیدا کرے گا یعنی قیامت کے دن انسان بڑا ہی ناشکرا اور بے قدرا ہے۔

صفحہ نمبر5659

قدرت اور غلبہ الٰہی کا اظہار ٭٭

اپنی عظیم الشان قدرت اور زبردست غلبے کو بیان فرما رہا ہے کہ «فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ» [22-الحج:5] ‏ ” سوکھی غیر آباد مردہ زمین پر اس کے حکم سے ہوائیں بادل لاتی ہیں جو پانی برساتے ہیں اور زمین لہلہاتی ہوئی سرسبزوشاداب ہو جاتی ہے گویا جی اٹھتی ہے “۔

یہاں پر (‏ف)‏ تعقیب کے لیے ہے ہر چیز کی تعقیب اسی کے انداز سے ہوتی ہے۔ «ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا» [23-المؤمنون:14] ‏ نطفے کا ملقہ ہونا پھر ملقے کا مضغہ ہونا جہاں بیان فرمایا ہے وہاں بھی (‏ف)‏ آئی ہے اور ہر دو صورت میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ حجاز کی بعض زمینیں ایسی بھی ہیں کہ بارش کے ہوتے ہی معا سرخ وسبز ہو جاتی ہیں «فَاللہُ اَعْلَمُ» ۔

زمین کے گوشوں میں اور اس کے اندر جو کچھ ہے، سب اللہ کے علم میں ہے۔ ایک ایک دانہ اس کی دانست میں ہے۔ پانی وہیں پہنچتا ہے اور وہ اگ آتا ہے۔ جیسے لقمان رحمتہ اللہ علیہ کے قول میں ہے کہ «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:16] ‏ ” اے بچے! اگرچہ کوئی چیز رائی کے دانے برابر ہوچاہے کسی چٹان میں ہو یا آسمان میں یا زمین میں اللہ اسے ضرور لائے گا اللہ تعالیٰ پاکیزہ اور باخبر ہے “۔

ایک اور آیت میں ہے «أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» [27-النمل:25] ‏ ” زمین و آسمان کی ہر چیز کو اللہ ظاہر کر دے گا “۔

ایک آیت میں ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» [6-الأنعام:59] ‏، ” ہرپتے کے جھڑنے کا، ہر دانے کا جو زمین کے اندھیروں میں ہو ہر تر وخشک چیز کا اللہ کو علم ہے اور وہ کھلی کتاب میں ہے “۔

ایک اور آیت میں ہے «وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ» [10-یونس:61] ‏ ” کوئی ذرہ آسمان و زمیں میں اللہ سے پوشیدہ نہیں، کوئی چھوٹی بڑی چیز ایسی نہیں جو ظاہر کتاب میں نہ ہو “۔

امیہ بن ابو صلت یا زید بن عمر و بن نفیل کے قصیدے میں ہے شعر «وَقُولَا لَهُ مَنْ يُنْبِت الْحَبّ فِي الثَّرَى» «فَيُصْبِح مِنْهُ الْبَقْل يَهْتَزّ رَابِيًا» «وَيُخْرِج مِنْهُ حَبّه فِي رُءُوسه» «فَفِي ذَلِكَ آيَات لِمَنْ كَانَ وَاعِيًا» ”اے میرے دونوں پیغمبرو! تم اس سے کہو کہ مٹی میں سے دانے کون نکالتا ہے کہ درخت پھوٹ کر جھومنے لگتا ہے اور اس کے سرے پر بال نکل آتی ہے؟ عقلمند کے لیے تو اس میں قدرت کی ایک چھوڑ کئی نشانیاں موجود ہیں۔‏“

صفحہ نمبر5657

تمام کائنات کا مالک وہی ہے۔ وہ ہر ایک سے بے نیاز ہے۔ ہر ایک اس کے سامنے فقیر اور اس کی بارگاہ عالی کا محتاج ہے۔ سب انسان اس کے غلام ہیں۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ کل حیوانات، جمادات، کھیتیاں، باغات اس نے تمہارے فائدے کے لیے، تمہاری ماتحتی میں دے رکھے ہیں آسمان و زمین کی چیزیں تمہارے لیے سرگرداں ہیں۔

اس کا احسان وفضل و کرم ہے کہ اسی کے حکم سے کشتیاں تمہیں ادھر سے ادھر لے جاتی ہیں۔ تمہارے مال ومتاع ان کے ذریعے یہاں سے وہاں پہنچتے ہیں۔ پانی کو چیرتی ہوئیں، موجوں کو کاٹتی ہوئیں بحکم الٰہی ہواؤں کے ساتھ تمہارے نفع کے لیے چل رہی ہیں۔ یہاں کی ضرورت کی چیزیں وہاں سے وہاں کی یہاں برابر پہنچتی رہتی ہیں۔ وہ خود آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر نہ گر پڑے ورنہ ابھی وہ حکم دے تو یہ زمین پر آ رہے اور تم سب ہلاک ہو جاؤ۔

صفحہ نمبر5658

انسانوں کے گناہوں کے باوجود اللہ ان پر رأفت و شفقت، بندہ نوازی اور غلام پروری کر رہا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ» [13-الرعد:6] ‏، ” لوگوں کے گناہوں کے باوجود اللہ تعالیٰ ان پر صاحب مغفرت ہے۔ ہاں بے شک وہ سخت عذابوں والا بھی ہے “۔ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے، وہی تمہیں فناکرے گا، وہی پھر دوبارہ پیدا کرے گا۔

جیسے فرمایا آیت «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [2-البقرة:28] ‏ ” تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ حالانکہ تم مردہ تھے، اسی نے تمہیں زندہ کیا پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا، پھر دوبارہ زندہ کر دے گا۔ پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے “۔

ایک اور آیت میں ہے «قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [45-الجاثية:26] ‏ ” اللہ ہی تمہیں دوبارہ زندہ کرتا ہے پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا پھر تمہیں قیامت والے دن، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں جمع کرے گا “۔

اور جگہ فرمایا «قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ» [40-غافر:11] ‏ ” وہ کہیں گے کہ اے اللہ تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا “۔

پس کلام کا مطلب یہ ہے کہ ایسے اللہ کے ساتھ تم دوسروں کو شریک کیوں ٹھیراتے ہو؟ دوسروں کی عبادت اس کے ساتھ کیسے کرتے ہو؟ پیدا کرنے والا فقط وہی، روزی دینے والا وہی، مالک ومختار فقط وہی، تم کچھ نہ تھے اس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تمہاری موت کے بعد دوبارہ پیدا کرے گا یعنی قیامت کے دن انسان بڑا ہی ناشکرا اور بے قدرا ہے۔

صفحہ نمبر5659

قدرت اور غلبہ الٰہی کا اظہار ٭٭

اپنی عظیم الشان قدرت اور زبردست غلبے کو بیان فرما رہا ہے کہ «فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ» [22-الحج:5] ‏ ” سوکھی غیر آباد مردہ زمین پر اس کے حکم سے ہوائیں بادل لاتی ہیں جو پانی برساتے ہیں اور زمین لہلہاتی ہوئی سرسبزوشاداب ہو جاتی ہے گویا جی اٹھتی ہے “۔

یہاں پر (‏ف)‏ تعقیب کے لیے ہے ہر چیز کی تعقیب اسی کے انداز سے ہوتی ہے۔ «ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا» [23-المؤمنون:14] ‏ نطفے کا ملقہ ہونا پھر ملقے کا مضغہ ہونا جہاں بیان فرمایا ہے وہاں بھی (‏ف)‏ آئی ہے اور ہر دو صورت میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ حجاز کی بعض زمینیں ایسی بھی ہیں کہ بارش کے ہوتے ہی معا سرخ وسبز ہو جاتی ہیں «فَاللہُ اَعْلَمُ» ۔

زمین کے گوشوں میں اور اس کے اندر جو کچھ ہے، سب اللہ کے علم میں ہے۔ ایک ایک دانہ اس کی دانست میں ہے۔ پانی وہیں پہنچتا ہے اور وہ اگ آتا ہے۔ جیسے لقمان رحمتہ اللہ علیہ کے قول میں ہے کہ «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:16] ‏ ” اے بچے! اگرچہ کوئی چیز رائی کے دانے برابر ہوچاہے کسی چٹان میں ہو یا آسمان میں یا زمین میں اللہ اسے ضرور لائے گا اللہ تعالیٰ پاکیزہ اور باخبر ہے “۔

ایک اور آیت میں ہے «أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» [27-النمل:25] ‏ ” زمین و آسمان کی ہر چیز کو اللہ ظاہر کر دے گا “۔

ایک آیت میں ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» [6-الأنعام:59] ‏، ” ہرپتے کے جھڑنے کا، ہر دانے کا جو زمین کے اندھیروں میں ہو ہر تر وخشک چیز کا اللہ کو علم ہے اور وہ کھلی کتاب میں ہے “۔

ایک اور آیت میں ہے «وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ» [10-یونس:61] ‏ ” کوئی ذرہ آسمان و زمیں میں اللہ سے پوشیدہ نہیں، کوئی چھوٹی بڑی چیز ایسی نہیں جو ظاہر کتاب میں نہ ہو “۔

امیہ بن ابو صلت یا زید بن عمر و بن نفیل کے قصیدے میں ہے شعر «وَقُولَا لَهُ مَنْ يُنْبِت الْحَبّ فِي الثَّرَى» «فَيُصْبِح مِنْهُ الْبَقْل يَهْتَزّ رَابِيًا» «وَيُخْرِج مِنْهُ حَبّه فِي رُءُوسه» «فَفِي ذَلِكَ آيَات لِمَنْ كَانَ وَاعِيًا» ”اے میرے دونوں پیغمبرو! تم اس سے کہو کہ مٹی میں سے دانے کون نکالتا ہے کہ درخت پھوٹ کر جھومنے لگتا ہے اور اس کے سرے پر بال نکل آتی ہے؟ عقلمند کے لیے تو اس میں قدرت کی ایک چھوڑ کئی نشانیاں موجود ہیں۔‏“

صفحہ نمبر5657

تمام کائنات کا مالک وہی ہے۔ وہ ہر ایک سے بے نیاز ہے۔ ہر ایک اس کے سامنے فقیر اور اس کی بارگاہ عالی کا محتاج ہے۔ سب انسان اس کے غلام ہیں۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ کل حیوانات، جمادات، کھیتیاں، باغات اس نے تمہارے فائدے کے لیے، تمہاری ماتحتی میں دے رکھے ہیں آسمان و زمین کی چیزیں تمہارے لیے سرگرداں ہیں۔

اس کا احسان وفضل و کرم ہے کہ اسی کے حکم سے کشتیاں تمہیں ادھر سے ادھر لے جاتی ہیں۔ تمہارے مال ومتاع ان کے ذریعے یہاں سے وہاں پہنچتے ہیں۔ پانی کو چیرتی ہوئیں، موجوں کو کاٹتی ہوئیں بحکم الٰہی ہواؤں کے ساتھ تمہارے نفع کے لیے چل رہی ہیں۔ یہاں کی ضرورت کی چیزیں وہاں سے وہاں کی یہاں برابر پہنچتی رہتی ہیں۔ وہ خود آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر نہ گر پڑے ورنہ ابھی وہ حکم دے تو یہ زمین پر آ رہے اور تم سب ہلاک ہو جاؤ۔

صفحہ نمبر5658

انسانوں کے گناہوں کے باوجود اللہ ان پر رأفت و شفقت، بندہ نوازی اور غلام پروری کر رہا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ» [13-الرعد:6] ‏، ” لوگوں کے گناہوں کے باوجود اللہ تعالیٰ ان پر صاحب مغفرت ہے۔ ہاں بے شک وہ سخت عذابوں والا بھی ہے “۔ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے، وہی تمہیں فناکرے گا، وہی پھر دوبارہ پیدا کرے گا۔

جیسے فرمایا آیت «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [2-البقرة:28] ‏ ” تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ حالانکہ تم مردہ تھے، اسی نے تمہیں زندہ کیا پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا، پھر دوبارہ زندہ کر دے گا۔ پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے “۔

ایک اور آیت میں ہے «قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [45-الجاثية:26] ‏ ” اللہ ہی تمہیں دوبارہ زندہ کرتا ہے پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا پھر تمہیں قیامت والے دن، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں جمع کرے گا “۔

اور جگہ فرمایا «قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ» [40-غافر:11] ‏ ” وہ کہیں گے کہ اے اللہ تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا “۔

پس کلام کا مطلب یہ ہے کہ ایسے اللہ کے ساتھ تم دوسروں کو شریک کیوں ٹھیراتے ہو؟ دوسروں کی عبادت اس کے ساتھ کیسے کرتے ہو؟ پیدا کرنے والا فقط وہی، روزی دینے والا وہی، مالک ومختار فقط وہی، تم کچھ نہ تھے اس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تمہاری موت کے بعد دوبارہ پیدا کرے گا یعنی قیامت کے دن انسان بڑا ہی ناشکرا اور بے قدرا ہے۔

صفحہ نمبر5659

مناسک کے معنی ٭٭

اصل میں عربی زبان میں «مَنسَكً» کا لفظی ترجمہ وہ جگہ ہے، جہاں انسان جانے آنے کی عادت ڈال لے۔ احکام حج کی بجا آوری کو اس لیے «مَنَاسِکَ» کہا جاتا ہے کہ لوگ باربار وہاں جاتے ہیں اور ٹھہرتے ہیں۔

منقول ہے کہ یہاں مراد یہ ہے کہ ہر امت کے پیغمبر کے لیے ہم نے شریعت مقرر کی ہے، اس امر میں لوگ نہ لڑے، سے مراد یہ مشرک لوگ ہیں۔ اور اگر مراد ہر امت کے بطور قدرت کے ان کے افعال کا تقرر کرنا ہے۔ جیسے سورۃ البقرہ میں فرمان ہے کہ «وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا» [2-البقرۃ:148] ‏ ” ہر ایک لیے ایک سمت ہے جدھر وہ متوجہ ہوتا ہے “ یہاں بھی ہے کہ ” وہ اس کے بجا لانے والے ہیں “ تو ضمیر کا اعادہ بھی خود ان پر ہی ہے یعنی یہ ” اللہ کی قدرت اور ارادے سے کر رہے ہیں ان کے جھگڑنے سے تو بددل نہ ہو اور حق سے نہ ہٹ۔ اپنے رب کی طرف بلاتا رہ اور اپنی ہدایت واستقامت پر مکمل یقین رکھ۔ یہی راستہ حق سے ملانے والا ہے، کامیابی سے ہمکنار کرنے والا ہے “۔

جیسے فرمایا ہے «وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَيْكَ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» [28-القص:87] ‏ ” خبردار کہیں تجھے اللہ کی آیتوں کے تیرے پاس پہنچ جانے پر بھی ان سے روک نہ دیں، اپنے رب کے راستے کی دعوت عام برابر دیتا رہ “۔

اس کے بعد بھی اگر کوئی حق قبول کرنے سے جائے تو اس سے کنارہ اختیار کیجئے اور کہہ دیجئیے اللہ تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے۔ جیسے کئی جگہ اسی مضمون کو دہرایا ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [10-یونس:41] ‏ ” اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو ان سے کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو، میں تمہارے کرتوت سے بیزار ہوں “۔

پس یہاں بھی ان کے کان کھول دیئے کہ «هُوَ أَعْلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِ كَفَىٰ بِهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ» [46-الاحقاف:8] ‏ ” اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے وہ تمہاری ادنیٰ سی ادنیٰ حرکت کو بھی جانتا ہے اور وہی ہے تم میں کافی شاہد ہے قیامت کے دن ہم تم میں فیصلہ اللہ خود کر دے گا، اور اس وقت سارے اختلافات مٹ جائیں گے “۔

جیسے فرمان ہے «فَلِذَٰلِكَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَقُلْ آمَنتُ بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ مِن كِتَابٍ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ اللَّـهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ اللَّـهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ» [42-الشورى:15] ‏ ” تو اسی کی دعوت دیتا رہ اور ہمارے حکم پر ثابت قدم رہ اور کسی کی خواہش کے پیچھے نہ لگ اور صاف اعلان کر دے کہ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب پر میرا ایمان ہے “۔

صفحہ نمبر5663

مناسک کے معنی ٭٭

اصل میں عربی زبان میں «مَنسَكً» کا لفظی ترجمہ وہ جگہ ہے، جہاں انسان جانے آنے کی عادت ڈال لے۔ احکام حج کی بجا آوری کو اس لیے «مَنَاسِکَ» کہا جاتا ہے کہ لوگ باربار وہاں جاتے ہیں اور ٹھہرتے ہیں۔

منقول ہے کہ یہاں مراد یہ ہے کہ ہر امت کے پیغمبر کے لیے ہم نے شریعت مقرر کی ہے، اس امر میں لوگ نہ لڑے، سے مراد یہ مشرک لوگ ہیں۔ اور اگر مراد ہر امت کے بطور قدرت کے ان کے افعال کا تقرر کرنا ہے۔ جیسے سورۃ البقرہ میں فرمان ہے کہ «وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا» [2-البقرۃ:148] ‏ ” ہر ایک لیے ایک سمت ہے جدھر وہ متوجہ ہوتا ہے “ یہاں بھی ہے کہ ” وہ اس کے بجا لانے والے ہیں “ تو ضمیر کا اعادہ بھی خود ان پر ہی ہے یعنی یہ ” اللہ کی قدرت اور ارادے سے کر رہے ہیں ان کے جھگڑنے سے تو بددل نہ ہو اور حق سے نہ ہٹ۔ اپنے رب کی طرف بلاتا رہ اور اپنی ہدایت واستقامت پر مکمل یقین رکھ۔ یہی راستہ حق سے ملانے والا ہے، کامیابی سے ہمکنار کرنے والا ہے “۔

جیسے فرمایا ہے «وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَيْكَ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» [28-القص:87] ‏ ” خبردار کہیں تجھے اللہ کی آیتوں کے تیرے پاس پہنچ جانے پر بھی ان سے روک نہ دیں، اپنے رب کے راستے کی دعوت عام برابر دیتا رہ “۔

اس کے بعد بھی اگر کوئی حق قبول کرنے سے جائے تو اس سے کنارہ اختیار کیجئے اور کہہ دیجئیے اللہ تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے۔ جیسے کئی جگہ اسی مضمون کو دہرایا ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [10-یونس:41] ‏ ” اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو ان سے کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو، میں تمہارے کرتوت سے بیزار ہوں “۔

پس یہاں بھی ان کے کان کھول دیئے کہ «هُوَ أَعْلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِ كَفَىٰ بِهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ» [46-الاحقاف:8] ‏ ” اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے وہ تمہاری ادنیٰ سی ادنیٰ حرکت کو بھی جانتا ہے اور وہی ہے تم میں کافی شاہد ہے قیامت کے دن ہم تم میں فیصلہ اللہ خود کر دے گا، اور اس وقت سارے اختلافات مٹ جائیں گے “۔

جیسے فرمان ہے «فَلِذَٰلِكَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَقُلْ آمَنتُ بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ مِن كِتَابٍ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ اللَّـهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ اللَّـهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ» [42-الشورى:15] ‏ ” تو اسی کی دعوت دیتا رہ اور ہمارے حکم پر ثابت قدم رہ اور کسی کی خواہش کے پیچھے نہ لگ اور صاف اعلان کر دے کہ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب پر میرا ایمان ہے “۔

صفحہ نمبر5663

مناسک کے معنی ٭٭

اصل میں عربی زبان میں «مَنسَكً» کا لفظی ترجمہ وہ جگہ ہے، جہاں انسان جانے آنے کی عادت ڈال لے۔ احکام حج کی بجا آوری کو اس لیے «مَنَاسِکَ» کہا جاتا ہے کہ لوگ باربار وہاں جاتے ہیں اور ٹھہرتے ہیں۔

منقول ہے کہ یہاں مراد یہ ہے کہ ہر امت کے پیغمبر کے لیے ہم نے شریعت مقرر کی ہے، اس امر میں لوگ نہ لڑے، سے مراد یہ مشرک لوگ ہیں۔ اور اگر مراد ہر امت کے بطور قدرت کے ان کے افعال کا تقرر کرنا ہے۔ جیسے سورۃ البقرہ میں فرمان ہے کہ «وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا» [2-البقرۃ:148] ‏ ” ہر ایک لیے ایک سمت ہے جدھر وہ متوجہ ہوتا ہے “ یہاں بھی ہے کہ ” وہ اس کے بجا لانے والے ہیں “ تو ضمیر کا اعادہ بھی خود ان پر ہی ہے یعنی یہ ” اللہ کی قدرت اور ارادے سے کر رہے ہیں ان کے جھگڑنے سے تو بددل نہ ہو اور حق سے نہ ہٹ۔ اپنے رب کی طرف بلاتا رہ اور اپنی ہدایت واستقامت پر مکمل یقین رکھ۔ یہی راستہ حق سے ملانے والا ہے، کامیابی سے ہمکنار کرنے والا ہے “۔

جیسے فرمایا ہے «وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَيْكَ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» [28-القص:87] ‏ ” خبردار کہیں تجھے اللہ کی آیتوں کے تیرے پاس پہنچ جانے پر بھی ان سے روک نہ دیں، اپنے رب کے راستے کی دعوت عام برابر دیتا رہ “۔

اس کے بعد بھی اگر کوئی حق قبول کرنے سے جائے تو اس سے کنارہ اختیار کیجئے اور کہہ دیجئیے اللہ تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے۔ جیسے کئی جگہ اسی مضمون کو دہرایا ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [10-یونس:41] ‏ ” اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو ان سے کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو، میں تمہارے کرتوت سے بیزار ہوں “۔

پس یہاں بھی ان کے کان کھول دیئے کہ «هُوَ أَعْلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِ كَفَىٰ بِهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ» [46-الاحقاف:8] ‏ ” اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے وہ تمہاری ادنیٰ سی ادنیٰ حرکت کو بھی جانتا ہے اور وہی ہے تم میں کافی شاہد ہے قیامت کے دن ہم تم میں فیصلہ اللہ خود کر دے گا، اور اس وقت سارے اختلافات مٹ جائیں گے “۔

جیسے فرمان ہے «فَلِذَٰلِكَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَقُلْ آمَنتُ بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ مِن كِتَابٍ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ اللَّـهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ اللَّـهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ» [42-الشورى:15] ‏ ” تو اسی کی دعوت دیتا رہ اور ہمارے حکم پر ثابت قدم رہ اور کسی کی خواہش کے پیچھے نہ لگ اور صاف اعلان کر دے کہ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب پر میرا ایمان ہے “۔

صفحہ نمبر5663

کمال علم رب کی شان ٭٭

رب کے کمال علم کا بیان ہو رہا ہے کہ ” زمین و آسمان کی ہر چیز اس کے علم کے احاطہٰ میں ہے ایک ذرہ بھی اس سے باہر نہیں کائنات کے وجود سے پہلے ہی کائنات کا علم اسے تھا بلکہ اس نے لوح محفوظ میں لکھوا دیا تھا “۔

صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے جب کہ اس کا عرش پانی پر تھا مخلوق کی تقدیر لکھی ۔ [صحیح مسلم:2653] ‏

سنن کی حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فلک کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا ” لکھ “ اس نے دریافت کیا کہ کیا لکھوں؟ فرمایا ” جو کچھ ہونے والا ہے “ پس قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا اسے قلم نے قلم بند کر دیا ۔ [سنن ترمذي:2154،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”سو سال کی راہ میں اللہ نے لوح محفوظ کو پیدا کیا اور مخلوق کی پیدائش سے پہلے جب کہ اللہ تعالیٰ عرش پر تھا قلم کو لکھنے کا حکم دیا اس نے پوچھا کیا لکھوں فرمایا ” میرا علم جو مخلوق کے متعلق قیامت کا ہے “۔ پس قلم چل پڑا اور قیامت تک کے ہونے والے امور جو علم الٰہی میں ہے اس نے لکھ لیے۔‏“

پس اسی کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت میں فرما رہا ہے کہ ” کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان و زمین کی ہر ایک چیز کا میں عالم ہوں “۔

پس یہ اس کا کمال علم ہے کہ چیز کے وجود سے پہلے اسے معلوم ہے بلکہ لکھ بھی لیا ہے اور وہ سب یوں ہی واقع میں ہونے والا ہے۔ اللہ کو بندوں کے تمام اعمال کا علم ان کے عمل سے پہلے ہے۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اس کرنے سے پہلے اللہ جانتا تھا، ہر فرماں بردار اور نافرمان اس کے علم میں تھا اور اس کی کتاب میں لکھا ہوا تھا اور ہر چیز اس کے علمی احاطے کے اندر ہی اندر اور یہ امر اللہ پر مشکل بھی نہ تھا سب کتاب میں تھا اور رب پر بہت ہی آسان۔

صفحہ نمبر5666

شیطان کی تقلید ٭٭

بلاسند، بغیر دلیل کے اللہ کے سوا دوسرے کی پوجا پاٹ عبادت وبندگی کرنے والوں کا جہل وکفر بیان فرماتا ہے کہ شیطانی تقلید اور باپ دادا کی دیکھا دیکھی کے سوا نہ کوئی نقلی دلیل ان کے پاس ہے نہ عقلی۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ» [23-المؤمنون:117] ‏ ” جو بھی اللہ کے ساتھ دوسرے معبود کو بے دلیل پکارے اس سے اللہ خود ہی بازپرس کر لے گا۔ ناممکن ہے کہ ایسے ظالم چھٹکارا پاجائیں “۔

یہاں بھی فرمایا کہ ” ان ظالموں کا کوئی مددگار نہیں کہ اللہ کے کسی عذاب سے انہیں بچالے “۔ ان پر اللہ کے پاک کلام کی آیتیں، صحیح دلیلیں، واضح حجتیں جب پیش کی جاتی ہیں تو ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ اللہ کی توحید، رسولوں کی اتباع کو صاف طور پر بیان کیا تو انہیں سخت غصہ آیا، ان کی شکلیں بدل گئیں، تیوریوں پر بل پڑنے لگے آستینیں چڑھنے لگیں اگر بس چلے تو زبان کھینچ لیں، ایک لفظ حقانیت کا زمین پر نہ آنے دیں۔ اسی وقت گلا گھونٹ دیں، ان سچے خیرخواہوں کی اللہ کے دین کے مبلغوں کی برائیاں کرنے لگتے ہیں۔ زبانیں ان کے خلاف چلنے لگتی ہیں اور ممکن ہو تو ہاتھ بھی ان کے خلاف اٹھنے میں نہیں رکتے۔

فرمان ہوتا ہے کہ ” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دو کہ ایک طرف تو تم جو دکھ ان اللہ کے متوالوں کو پہنچانا چاہتے ہو اسے وزن کرو دوسری طرف اس دکھ کا وزن کر لو جو تمہیں یقیناً تمہارے کفر و انکار کی وجہ سے پہنچنے والا ہے پھر دیکھو کہ بدترین چیز کون سی ہے؟ وہ آتش دوزخ اور وہاں کے طرح طرح کے عذاب؟ یا جو تکلیف تم ان سچے موحدوں کو پہنچانا چاہتے ہو؟ گو یہ بھی تمہارے ارادے ہی ارادے ہیں اب تم ہی سمجھ لو کہ جہنم کیسی بری جگہ ہے؟ کس قدر ہولناک ہے؟ کس قدرایذاء دہندہ ہے؟ اور کتنی مشکل والی جگہ ہے؟ “ «إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا» [25-الفرقان:66] ‏ ” یقیناً وہ نہایت ہی بدترین جگہ اور بہت ہی خوفناک مقام ہے “، جہاں راحت و آرام کا نام بھی نہیں۔

صفحہ نمبر5667

شیطان کی تقلید ٭٭

بلاسند، بغیر دلیل کے اللہ کے سوا دوسرے کی پوجا پاٹ عبادت وبندگی کرنے والوں کا جہل وکفر بیان فرماتا ہے کہ شیطانی تقلید اور باپ دادا کی دیکھا دیکھی کے سوا نہ کوئی نقلی دلیل ان کے پاس ہے نہ عقلی۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ» [23-المؤمنون:117] ‏ ” جو بھی اللہ کے ساتھ دوسرے معبود کو بے دلیل پکارے اس سے اللہ خود ہی بازپرس کر لے گا۔ ناممکن ہے کہ ایسے ظالم چھٹکارا پاجائیں “۔

یہاں بھی فرمایا کہ ” ان ظالموں کا کوئی مددگار نہیں کہ اللہ کے کسی عذاب سے انہیں بچالے “۔ ان پر اللہ کے پاک کلام کی آیتیں، صحیح دلیلیں، واضح حجتیں جب پیش کی جاتی ہیں تو ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ اللہ کی توحید، رسولوں کی اتباع کو صاف طور پر بیان کیا تو انہیں سخت غصہ آیا، ان کی شکلیں بدل گئیں، تیوریوں پر بل پڑنے لگے آستینیں چڑھنے لگیں اگر بس چلے تو زبان کھینچ لیں، ایک لفظ حقانیت کا زمین پر نہ آنے دیں۔ اسی وقت گلا گھونٹ دیں، ان سچے خیرخواہوں کی اللہ کے دین کے مبلغوں کی برائیاں کرنے لگتے ہیں۔ زبانیں ان کے خلاف چلنے لگتی ہیں اور ممکن ہو تو ہاتھ بھی ان کے خلاف اٹھنے میں نہیں رکتے۔

فرمان ہوتا ہے کہ ” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دو کہ ایک طرف تو تم جو دکھ ان اللہ کے متوالوں کو پہنچانا چاہتے ہو اسے وزن کرو دوسری طرف اس دکھ کا وزن کر لو جو تمہیں یقیناً تمہارے کفر و انکار کی وجہ سے پہنچنے والا ہے پھر دیکھو کہ بدترین چیز کون سی ہے؟ وہ آتش دوزخ اور وہاں کے طرح طرح کے عذاب؟ یا جو تکلیف تم ان سچے موحدوں کو پہنچانا چاہتے ہو؟ گو یہ بھی تمہارے ارادے ہی ارادے ہیں اب تم ہی سمجھ لو کہ جہنم کیسی بری جگہ ہے؟ کس قدر ہولناک ہے؟ کس قدرایذاء دہندہ ہے؟ اور کتنی مشکل والی جگہ ہے؟ “ «إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا» [25-الفرقان:66] ‏ ” یقیناً وہ نہایت ہی بدترین جگہ اور بہت ہی خوفناک مقام ہے “، جہاں راحت و آرام کا نام بھی نہیں۔

صفحہ نمبر5667

کم عقل پجاری ٭٭

اللہ کے ماسوا جن کے عبادت کی جاتی ہے ان کی کمزوری اور ان کے پجاریوں کی کم عقلی بیان ہو رہی ہے کہ ” اے لوگو! یہ جاہل جس جس کی بھی اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں، رب کے ساتھ یہ جو شرک کرتے ہیں، ان کی ایک مثال نہایت عمدہ اور بالکل واقعہ کے مطابق بیان ہو رہی ہے ذرا توجہ سے سنو۔ کہ ان کے تمام کے تمام بت، بزرگ وغیرہ جنہیں یہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں، جمع ہو جائیں اور ایک مکھی بنانا چاہیں تو سارے عاجز آ جائیں گے اور ایک مکھی بھی پیدا نہ کر سکیں گے “۔

مسند احمد کی حدیث قدسی میں فرمان الٰہی ہے اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو میری طرح کسی کو بنانا چاہتا ہے۔ اگر واقعی میں کسی کو یہ قدرت حاصل ہے تو ایک ذرہ، ایک مکھی یا ایک دانہ اناج کا ہی خود بنادیں ۔ [مسند احمد:391/2:صحیح] ‏

بخاری و مسلم میں الفاظ یوں ہیں کہ ” وہ ایک ذرہ یا ایک جو ہی بنادیں “۔ [صحیح بخاری:5953] ‏

اچھا اور بھی ان کے معبودان باطل کی کمزوری اور ناتوانی سنو کہ ” یہ ایک مکھی کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے وہ ان کا حق ان کی چیز ان سے چھینے چلی جا رہی ہے، یہ بے بس ہیں، یہ بھی تو نہیں کر سکتے کہ اس سے اپنی چیز ہی واپس لے لیں بھلا مکھی جیسی حقیر اور کمزور مخلوق سے بھی جو اپنا حق نہ لے سکے اس سے بھی زیادہ کمزور، بودا ضعیف ناتوان بے بس اور گرا پڑا کوئی اور ہوسکتا ہے؟ “

ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”طالب“ سے مراد بت اور ”مطلوب“ سے مراد مکھی ہے۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں اور ظاہر لفظوں سے بھی یہی ظاہر ہے۔

دوسرا مطلب یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ طالب سے مراد عابد اور مطلوب سے مراد اللہ کے سوا اور معبود۔ اللہ کی قدروعظمت ہی ان کے دلوں میں نہیں رچی اگر ایسا ہوتا تو اتنے بڑے توانا اللہ کے ساتھ ایسی ذلیل مخلوق کو کیوں شریک کر لیتے۔ جو مکھی اڑانے کی بھی قدرت نہیں رکھتی جیسے مشرکین قریش کے بت تھے۔ اللہ اپنی قدرت وقوت میں یکتا ہے تمام چیزیں بے نمونہ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ‏ ” سب سے پہلی پیدائش میں اس نے پیدا کر دی ہیں کسی ایک سے بھی مدد لیے بغیر پھر سب کو ہلاک کر کے دوبارہ اس سے بھی زیادہ آسانی سے پیدا کرنے پر قادر ہے “۔

«إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ إِنَّهُ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ» [85-البروج:13-12] ‏ ” وہ بڑی مضبوط پکڑ والا، ابتداء اور اعادہ کرنے والا “، «إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ» [51-الذاريات:58] ‏ ” رزق دینے والا، اور بے انداز قوت رکھنے والا ہے “، ” سب کچھ اس کے سامنے پست ہے، کوئی اس کے ارادے کو بدلنے والا، اس کے فرمان کو ٹالنے والا اس کی عظمت اور سلطنت کا مقابلہ کرنے والا نہیں، وہ واحد قہار ہے “۔

صفحہ نمبر5669

کم عقل پجاری ٭٭

اللہ کے ماسوا جن کے عبادت کی جاتی ہے ان کی کمزوری اور ان کے پجاریوں کی کم عقلی بیان ہو رہی ہے کہ ” اے لوگو! یہ جاہل جس جس کی بھی اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں، رب کے ساتھ یہ جو شرک کرتے ہیں، ان کی ایک مثال نہایت عمدہ اور بالکل واقعہ کے مطابق بیان ہو رہی ہے ذرا توجہ سے سنو۔ کہ ان کے تمام کے تمام بت، بزرگ وغیرہ جنہیں یہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں، جمع ہو جائیں اور ایک مکھی بنانا چاہیں تو سارے عاجز آ جائیں گے اور ایک مکھی بھی پیدا نہ کر سکیں گے “۔

مسند احمد کی حدیث قدسی میں فرمان الٰہی ہے اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو میری طرح کسی کو بنانا چاہتا ہے۔ اگر واقعی میں کسی کو یہ قدرت حاصل ہے تو ایک ذرہ، ایک مکھی یا ایک دانہ اناج کا ہی خود بنادیں ۔ [مسند احمد:391/2:صحیح] ‏

بخاری و مسلم میں الفاظ یوں ہیں کہ ” وہ ایک ذرہ یا ایک جو ہی بنادیں “۔ [صحیح بخاری:5953] ‏

اچھا اور بھی ان کے معبودان باطل کی کمزوری اور ناتوانی سنو کہ ” یہ ایک مکھی کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے وہ ان کا حق ان کی چیز ان سے چھینے چلی جا رہی ہے، یہ بے بس ہیں، یہ بھی تو نہیں کر سکتے کہ اس سے اپنی چیز ہی واپس لے لیں بھلا مکھی جیسی حقیر اور کمزور مخلوق سے بھی جو اپنا حق نہ لے سکے اس سے بھی زیادہ کمزور، بودا ضعیف ناتوان بے بس اور گرا پڑا کوئی اور ہوسکتا ہے؟ “

ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”طالب“ سے مراد بت اور ”مطلوب“ سے مراد مکھی ہے۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں اور ظاہر لفظوں سے بھی یہی ظاہر ہے۔

دوسرا مطلب یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ طالب سے مراد عابد اور مطلوب سے مراد اللہ کے سوا اور معبود۔ اللہ کی قدروعظمت ہی ان کے دلوں میں نہیں رچی اگر ایسا ہوتا تو اتنے بڑے توانا اللہ کے ساتھ ایسی ذلیل مخلوق کو کیوں شریک کر لیتے۔ جو مکھی اڑانے کی بھی قدرت نہیں رکھتی جیسے مشرکین قریش کے بت تھے۔ اللہ اپنی قدرت وقوت میں یکتا ہے تمام چیزیں بے نمونہ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ‏ ” سب سے پہلی پیدائش میں اس نے پیدا کر دی ہیں کسی ایک سے بھی مدد لیے بغیر پھر سب کو ہلاک کر کے دوبارہ اس سے بھی زیادہ آسانی سے پیدا کرنے پر قادر ہے “۔

«إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ إِنَّهُ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ» [85-البروج:13-12] ‏ ” وہ بڑی مضبوط پکڑ والا، ابتداء اور اعادہ کرنے والا “، «إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ» [51-الذاريات:58] ‏ ” رزق دینے والا، اور بے انداز قوت رکھنے والا ہے “، ” سب کچھ اس کے سامنے پست ہے، کوئی اس کے ارادے کو بدلنے والا، اس کے فرمان کو ٹالنے والا اس کی عظمت اور سلطنت کا مقابلہ کرنے والا نہیں، وہ واحد قہار ہے “۔

صفحہ نمبر5669

منصب نبوت کا حقدار کون؟ ٭٭

اپنی مقرر کردہ تقدیر کے جاری کرنے اور اپنی مقرر کردہ شریعت کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ جس فرشتے کو چاہتا ہے، مقرر کر لیتا ہے اسی طرح لوگوں میں سے بھی پیغمبری کی خلعت سے جسے چاہتا ہے نوازتا ہے۔ بندوں کے سب اقوال سنتا ہے ایک ایک بندہ اور اس کے اعمال اس کی نگاہ میں ہیں وہ بخوبی جانتا ہے کہ منصب نبوت کا مستحق کون ہے؟

جیسے فرمایا آیت «اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ سَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ» [6-الأنعام:124] ‏ ” رب ہی کو علم ہے کہ منصب رسالت کا صحیح طور اہل کون ہے؟ رسولوں کے آگے پیچھے کا اللہ کو علم ہے، کیا اس تک پہنچا، کیا اس نے پہنچایا، سب اس پر ظاہر و باہر ہے “۔

جیسے فرمان ہے آیت «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا» [72-الجن:28-26] ‏، یعنی ” وہ غیب کا جاننے والا ہے اپنے غیب کا کسی پر اظہار نہیں کرتا۔ ہاں جس پیغمبر کو وہ پسند فرمائے اس کے آگے پیچھے پہرے مقرر کر دیتا ہے، تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچادئے اور اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کا احاطہٰ کئے ہوئے ہے جو ان کے پاس ہے اور ہر چیز کی گنتی تک اس کے پاس شمار ہو چکی ہے “۔

پس اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے رسولوں کا نگہبان ہے جو انہیں کہا سنا جاتا ہے اس پر خود گواہ ہے خود ہی ان کا حافظ ہے اور ان کا مددگار بھی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «‏يَا أَيُّهَا الرَّ‌سُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّ‌بِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ» [5-المائدة:67] ‏، ” اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ تیرے پاس تیرے رب کے طرف سے اترا ہے، پہنچا دے اگر ایسا نہ کیا تو حق رسالت ادا نہ ہو گا تیرا بچاؤ اللہ کے ذمے ہے “، الخ۔

صفحہ نمبر5671

منصب نبوت کا حقدار کون؟ ٭٭

اپنی مقرر کردہ تقدیر کے جاری کرنے اور اپنی مقرر کردہ شریعت کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ جس فرشتے کو چاہتا ہے، مقرر کر لیتا ہے اسی طرح لوگوں میں سے بھی پیغمبری کی خلعت سے جسے چاہتا ہے نوازتا ہے۔ بندوں کے سب اقوال سنتا ہے ایک ایک بندہ اور اس کے اعمال اس کی نگاہ میں ہیں وہ بخوبی جانتا ہے کہ منصب نبوت کا مستحق کون ہے؟

جیسے فرمایا آیت «اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ سَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ» [6-الأنعام:124] ‏ ” رب ہی کو علم ہے کہ منصب رسالت کا صحیح طور اہل کون ہے؟ رسولوں کے آگے پیچھے کا اللہ کو علم ہے، کیا اس تک پہنچا، کیا اس نے پہنچایا، سب اس پر ظاہر و باہر ہے “۔

جیسے فرمان ہے آیت «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا» [72-الجن:28-26] ‏، یعنی ” وہ غیب کا جاننے والا ہے اپنے غیب کا کسی پر اظہار نہیں کرتا۔ ہاں جس پیغمبر کو وہ پسند فرمائے اس کے آگے پیچھے پہرے مقرر کر دیتا ہے، تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچادئے اور اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کا احاطہٰ کئے ہوئے ہے جو ان کے پاس ہے اور ہر چیز کی گنتی تک اس کے پاس شمار ہو چکی ہے “۔

پس اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے رسولوں کا نگہبان ہے جو انہیں کہا سنا جاتا ہے اس پر خود گواہ ہے خود ہی ان کا حافظ ہے اور ان کا مددگار بھی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «‏يَا أَيُّهَا الرَّ‌سُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّ‌بِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ» [5-المائدة:67] ‏، ” اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ تیرے پاس تیرے رب کے طرف سے اترا ہے، پہنچا دے اگر ایسا نہ کیا تو حق رسالت ادا نہ ہو گا تیرا بچاؤ اللہ کے ذمے ہے “، الخ۔

صفحہ نمبر5671

سورہ حج کو دو سجدوں کی فضلیت حاصل ہے ٭٭

اس دوسرے سجدے کے بارے میں دو قول ہیں۔ پہلے سجدے کی آیت کے موقعہ پر ہم نے وہ حدیث بیان کر دی ہے جس میں ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «فُضِّلَتْ سُورَة الْحَجّ بِسَجْدَتَيْنِ فَمَنْ لَمْ يَسْجُدهُمَا فَلَا يَقْرَأهُمَا» سورۃ الحج کو دو سجدوں سے فضیلت دی گئی جو یہ سجدے نہ کرے وہ یہ پڑھے ہی نہیں ۔ [سنن ترمذي:578،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ پس رکوع سجدہ عبادت اور بھلائی کا حکم کرکے فرماتا ہے۔

صفحہ نمبر5673

امت مسلمہ کو سابقہ امتوں پر فضیلت ٭٭

” اپنے مال، جان اور اپنی زبان سے راہ اللہ میں جہاد کرو اور حق جہاد ادا کرو “۔ جیسے حکم دیا ہے کہ «اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ» [3-آل عمران:102] ‏ ” اللہ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنے کا حق ہے “، اسی نے تمہیں برگزیدہ اور پسندیدہ کر لیا ہے۔ اور امتوں پر تمہیں شرافت وکرامت عزت وبزرگی عطا فرمائی۔ کامل رسول اور کامل شریعت سے تمہیں سربرآوردہ کیا، تمہیں آسان، سہل اور عمدہ دین دیا۔ وہ احکام تم پر نہ رکھے وہ سختی تم پر نہ کی وہ بوجھ تم پر نہ ڈالے جو تمہارے بس کے نہ ہوں جو تم پر گراں گزریں۔ جنہیں تم بجا نہ لاسکو۔

اسلام کے بعد سب سے اعلیٰ اور سب سے زیادہ تاکید والا، رکن نماز ہے۔ اسے دیکھئیے گھر میں آرام سے بیٹھے ہوئے ہوں تو چار رکعت فرض اور پھر اگر سفر ہو تو وہ بھی دو ہی رہ جائیں۔ اور خوف میں تو حدیث کے مطابق صرف ایک ہی رکعت وہ بھی سواری پر ہو تو اور پیدل ہو تو، روبہ قلبہ ہو تو اور دوسری طرف توجہ ہو تو، اسی طرح یہی حکم سفر کی نفل نماز کا ہے کہ جس طرف سواری کا منہ ہو پڑھ سکتے ہیں۔

صفحہ نمبر5674

پھر نماز کا قیام بھی بوجہ بیماری کے ساقط ہو جاتا ہے۔ مریض بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے، اس کی بھی طاقت نہ ہو تو لیٹے لیٹے ادا کر لے۔ اسی طرح اور فرائض اور واجبات کو دیکھو کہ کس قدر ان میں اللہ تعالیٰ نے آسانیاں رکھی ہیں۔

اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے میں یک طرفہ اور بالکل آسانی والا دین دے کر بھیجا گیا ہوں ۔ [مسند احمد:266/5:اسنادہ ضعیف] ‏

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہم کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا تو فرمایا تھا تو خوشخبری سنانا، نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا، سختی نہ کرنا ۔ [صحیح بخاری:3038] ‏ اور بھی اس مضمون کی بہت سی حدیثیں ہیں۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر کرتے ہیں کہ ” تمہارے دین میں کوئی تنگی و سختی نہیں “۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں «مِلَّة» کا نصب بہ نزع خفض ہے گویا اصل میں (‏ «كَمِلَّةِ أَبِيكُمْ») تھا۔ اور ہوسکتا ہے کہ «الْزَمُوا» کو محذوف مانا جائے اور «مِّلَّةَ» کو اس کا مفعول قرار دیا جائے۔ اس صورت میں یہ اسی آیت کی طرح ہو جائے گا «دِينًا قِيَمًا» الخ، ” اس نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے “ یعنی اللہ تعالیٰ نے، ابراہیم علیہ السلام سے پہلے۔ کیونکہ ان کی دعا تھی کہ ”ہم دونوں باپ بیٹوں کو اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو مسلمان بنا دے۔‏“

لیکن امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ قول کچھ جچتا نہیں کہ پہلے سے مراد ابراہیم علیہ السلام کے پہلے سے ہو اس لیے کہ یہ تو ظاہر ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اس امت کا نام اس قرآن میں مسلم نہیں رکھا۔ ”پہلے سے“ کے لفظ کے معنی یہ ہیں کہ پہلی کتابوں میں ذکر میں اور اس پاک اور آخری کتاب میں۔ یہی قول مجاہد رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کا ہے اور یہی درست ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے اس امت کی بزرگی اور فضیلت کا بیان ہے ان کے دین کے آسان ہونے کا ذکر ہے۔

صفحہ نمبر5675

پھر انہیں دین کی مزید رغبت دلانے کے لیے بتایا جا رہا ہے کہ ” یہ دین وہ ہے جو ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام لے کر آئے تھے “، پھر اس امت کی بزرگی کے لیے اور انہیں مائل کرنے کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ ” تمہارا ذکر میری سابقہ کتابوں میں بھی ہے۔ مدتوں سے انبیاء کی آسمانی کتابوں میں تمہارے چرچے چلے آ رہے ہیں۔ سابقہ کتابوں کے پڑھنے والے تم سے خوب آگاہ ہیں پس اس قرآن سے پہلے اور اس قرآن میں تمہارا نام مسلم ہے اور خود اللہ کا رکھا ہوا ہے “۔

نسائی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص جاہلیت کے دعوے اب بھی کرے (‏یعنی باپ دادوں پر حسب نسب پر فخر کرے دوسرے مسلمانوں کو کمینہ اور ہلکا خیال کرے) وہ جہنم کا ایندھن ہے ۔ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ وہ روزے رکھتا ہو؟ اور نمازیں بھی پڑھتا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہاں اگرچہ وہ روزے دار اور نمازی ہو ۔ یعنی مسلمین، مومنین اور عباد اللہ ۔ [سنن ترمذي:2873،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سورۃ البقرہ کی آیت «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ» [2-البقرة:21] ‏ کی تفسیر میں ہم اس حدیث کو بیان کر چکے ہیں۔

صفحہ نمبر5676

پھر فرماتا ہے ” ہم نے تمہیں عادل عمدہ بہتر امت اسلئے بنایا ہے اور اس لیے تمام امتوں میں تمہاری عدالت کی شہرت کر دی ہے کہ تم قیامت کے دن اور لوگوں پر شہادت دو “۔

تمام اگلی امتیں امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور فضیلت کا اقرار کریں گی۔ کہ اس امت کو اور تمام امتوں پر سرداری حاصل ہے اس لیے ان کی گواہی اس پر معتبر مانی جائے گی۔ اس بارے میں کہ اس کے رسولوں نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچایا ہے، وہ تبلیغ کا فرض ادا کر چکے ہیں اور خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم امت پر شہادت دیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دین پہنچا دیا اور حق رسالت ادا کر دیا۔

اس بابت جتنی حدیثیں ہیں اور اس بارے کی جتنی تفسیر ہے وہ ہم سب کی سب سورۃ البقرہ کے سترھویں رکوع کی آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» [2-البقرة:143] ‏ کی تفسیر میں لکھ آئے ہیں۔ اس لیے یہاں اسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں وہیں دیکھ لی جائے۔ وہیں نوح علیہ السلام اور ان کی امت کا واقعہ بھی بیان کر دیا ہے۔

صفحہ نمبر5677

پھر فرماتا ہے کہ ” اتنی بڑی عظیم الشان نعمت کا شکریہ تمہیں ضرور ادا کرنا چاہیئے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ جو اللہ کے فرائض تم پر ہیں انہیں شوق خوشی سے بجا لاؤ خصوصاً نماز اور زکوٰۃ کا پورا خیال رکھو۔ جو کچھ اللہ نے واجب کیا ہے اسے دلی محبت سے بجالاؤ اور جو چیزیں حرام کر دیں ہیں اس کے پاس بھی نہ پھٹکو “۔

پس نماز جو خالص رب کی ہے اور زکوٰۃ جس میں رب کی عبادت کے علاوہ مخلوق کے ساتھ احسان بھی ہے کہ امیر لوگ اپنے مال کا ایک حصہ فقیروں کو خوشی خوشی دیتے ہیں، ان کا کام چلتا ہے دل خوش ہو جاتا ہے۔ اس میں بھی ہے کہ اللہ کی طرف سے بہت آسانی ہے حصہ کم بھی ہے اور سال بھر میں ایک ہی مرتبہ۔ زکوٰۃ کے کل احکام سورۃ التوبہ کی آیت زکوٰ «اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ» [9-التوبہ:60] ‏ کی تفسیر میں ہم نے بیان کر دئے ہیں وہیں دیکھ لیے جائیں۔

صفحہ نمبر5678

پھر حکم ہوتا ہے کہ ” اللہ پر پورا بھروسہ رکھو، اسی پر توکل کرو، اپنے تمام کاموں میں اس کی امداد طلب کیا کرو، ہر وقت اعتماد اس پر رکھو، اسی کی تائید پر نظریں رکھو۔ وہ تمہارا مولیٰ ہے، تمہارا حافظ ہے ناصر ہے، تمہیں تمہارے دشمنوں پر کامیابی عطا فرمانے والا ہے، وہ جس کا ولی بن گیا اسے کسی اور کی ولایت کی ضرورت نہیں، سب سے بہتر والی وہی ہے سب سے بہتر مددگار وہی ہے، تمام دنیا گو دشمن ہو جائے لیکن وہ سب قادر ہے اور سب سے زیادہ قوی ہے “۔

ابن ابی حاتم میں وہیب بن ورد سے مروی ہے کہ ”اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے ” اے ابن آدم اپنے غصے کے وقت تو مجھے یاد کر لیا کر۔ میں بھی اپنے غضب کے وقت تجھے معافی فرما دیا کروں گا، اور جن پر میرا عذاب نازل ہو گا میں تجھے ان میں سے بچا لونگا۔ برباد ہونے والوں کے ساتھ تجھے برباد نہ کروں گا۔ اے ابن آدم جب تجھ پر ظلم کیا جائے تو صبروضبط سے کام لے، مجھ پر نگاہیں رکھ، میری مدد پر بھروسہ رکھ میری امداد پر راضی رہ، یاد رکھ میں تیری مدد کروں یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ تو آپ اپنی مدد کرے “۔

(‏اللہ تعالیٰ ہمیں بھلائیوں کی توفیق دے اپنی امداد نصیب فرمائے آمین) «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5679

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com