John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Muminoon

Tafsir Ibn Kathir · The Believers · 118 ayat · ayat 61–90 · Quran text →

مؤمن کی تعریف ٭٭

فرمان ہے کہ احسان اور ایمان کے ساتھ ہی ساتھ نیک اعمال اور پھر اللہ کی ہیبت سے تھرتھرانا اور کانپتے رہنا یہ ان کی صفت ہے۔ یہ ان کی صفت ہے حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مومن نیکی اور خوف الٰہی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ منافق برائی کے ساتھ نڈر اور بے خوف ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شرعی اور فطری آیات اور نشانیوں پر یقین رکھتے ہیں جیسے مریم علیہا السلام کا وصف بیان ہوا ہے کہ «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ» [ 66-التحريم: 12 ] ‏ وہ اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کا یقین رکھتی تھیں اللہ کی قدرت قضاء اور شرع کا انہیں کامل یقین تھا۔ اللہ کے ہر امر کو وہ محبوب رکھتے ہیں اللہ کے منع کردہ ہرکام کو وہ ناپسند رکھتے ہیں، ہرخبر کو وہ سچ مانتے ہیں وہ موحد ہوتے ہیں شرک سے بیزار رہتے ہیں، اللہ کو واحد اور بے نیاز جانتے ہیں اسے بے اولاد اور بیوی کے بغیر مانتے ہیں، بے نظیر اور بے کفو سمجھتے ہیں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اللہ کے نام پر خیراتیں کرتے ہیں لیکن خوف زدہ رہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو قبول نہ ہوئی ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضور اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا یہ وہ لوگ ہیں جن سے زنا، چوری، اور شراب خواری ہو جاتی ہے؟ لیکن ان کے دل میں خوف الٰہی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے صدیق کی لڑکی یہ نہیں بلکہ یہ وہ ہیں جو نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، صدقے کرتے ہیں، لیکن قبول نہ ہونے سے ڈرتے ہیں، یہی ہیں جو نیکیوں میں سبقت کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي:3175،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اس آیت کی دوسری قرأت «یاتون ما اتوا» بھی ہے یعنی کرتے ہیں جو کرتے ہیں لیکن دل ان کے ڈرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ابو عاصم گئے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے مرحبا کہا اور کہا برابر آتے کیوں نہیں ہو؟ جواب دیا اس لیے کہ کہیں آپ کو تکلیف نہ ہو لیکن آج میں ایک آیت «وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 60 ] ‏ کے الفاظ کی تحقیق کے لیے حاضر ہوا ہوں آیت «یوتون ما اتوا» ہیں یا «یاتون مااتوا» ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا ہونا تمہارے لیے مناسب ہے میں نے کہا آخر کے الفاظ اگر ہوں تو گویا میں نے ساری دنیا پالی۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ خوشی مجھے ہو گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم خوش ہو جاؤ۔ واللہ میں نے اسی طرح انہی الفاظ کو پڑھتے ہوئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے۔ [مسند احمد:95/6:ضعیف] ‏ اس کا ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ضعیف ہے۔ ساتوں مشہور قرأتوں اور جمہور کی قرأت میں وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے اور معنی کی رو سے بھی زیادہ ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ انہیں سابق قرار دیا ہے اور اگر دوسری قرأت کو لیں تو یہ سابق نہیں بلکہ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5756

آسان شریعت ٭٭

اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہو گی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کر دی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کر رہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چنانچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے کرتے جنت سے صرف ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے جو اس پر تقدیر کا لکھا غالب آ جاتا اور بداعمالیاں شروع کر دیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہنم واصل ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] ‏

یہاں تک کہ جب ان میں سے آسودہ حال دولت مند لوگوں پر عذاب الٰہی آپڑتا ہے تو اب وہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ سورۃ مزمل میں فرمان ہے کہ «وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا إِنَّ لَدَيْنَا أَنكَالًا وَجَحِيمًا وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا» [ 73-المزمل: 11- 13 ] ‏ مجھے ان مالدار جھٹلانے والوں پر چھوڑ دیجئیے انہیں کچھ مہلت اور دیجئیے ہمارے پاس بیڑیاں بھی ہیں اور جہنم بھی ہے اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے اور درد ناک سزا ہے۔ اور آیت میں ہے «كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ» [ 38- ص: 3 ] ‏۔ یعنی ہم نے ان سے پہلے اور بھی بہت سی بستیوں کو تباہ کر دیا اس وقت انہوں نے واویلا شروع کی جب کہ وہ محض بےسود تھی۔ یہاں فرماتا ہے آج تم کیوں شور مچا رہے ہو؟ کیوں فریاد کر رہے ہو؟ کوئی بھی تمہیں آج کام نہیں آسکتا تم پر عذاب الٰہی آ پڑے اب چیخنا چلانا سب بےسود ہے۔ کون ہے؟ جو میرے عذابوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکے؟

صفحہ نمبر5761

پھر ان کا ایک بڑا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ «ذَٰلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّـهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ» [ 40-غافر: 12 ] ‏ یہ میری آیتوں کے منکر تھے انہیں سنتے تھے اور ٹال جاتے تھے، بلائے جاتے تھے لیکن انکار کر دیتے تھے توحید کا انکار کرتے تھے شرک پر عقیدہ رکھتے تھے حکم تو بلندوبرتر اللہ ہی کا چلتا ہے «مُسْتَكْبِرِينَ» دال ہے ان کے حق سے ہٹنے اور حق کا انکار کرنے سے آیت ہے کہ «مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ» [ 23-سورة المؤمنون: 67 ] ‏ یہ اس وقت تکبر کرتے تھے اور حق اور اہل حق کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس معنی کی رو سے بہ کے ضمیر کا مرجع یا تو حرم ہے یعنی مکہ کہ یہ اس میں بیہودہ بکواس بکتے تھے۔ یا قرآن ہے جسے یہ مذاق میں اڑاتے تھے کبھی شاعری کہتے تھے کبھی کہانت وغیرہ۔ یا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ راتوں کو بے کار بیٹھے ہوئے اپنی گپ شب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن کہتے، کبھی جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا کہتے، کبھی مجنون بتلاتے۔ حالانکہ حرم اللہ کا گھر ہے قرآن اللہ کا کلام ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں جہنیں اللہ نے اپنی مدد پہنچائی اور مکے پر قابض کیا۔ ان مشرکین کو وہاں سے ذلیل وپست کر کے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے فخر کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں حالانکہ یہ خیال محض وہم تھا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین قریش بیت اللہ پر فخر کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا مہتمم اور متولی بتلاتے تھے حالانکہ نہ اسے آباد کرتے تھے نہ اس کا صحیح ادب کرتے تھے امام ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر بہت کچھ لکھا ہے حاصل سب کا یہی ہے۔

صفحہ نمبر5762

آسان شریعت ٭٭

اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہو گی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کر دی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کر رہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چنانچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے کرتے جنت سے صرف ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے جو اس پر تقدیر کا لکھا غالب آ جاتا اور بداعمالیاں شروع کر دیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہنم واصل ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] ‏

یہاں تک کہ جب ان میں سے آسودہ حال دولت مند لوگوں پر عذاب الٰہی آپڑتا ہے تو اب وہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ سورۃ مزمل میں فرمان ہے کہ «وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا إِنَّ لَدَيْنَا أَنكَالًا وَجَحِيمًا وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا» [ 73-المزمل: 11- 13 ] ‏ مجھے ان مالدار جھٹلانے والوں پر چھوڑ دیجئیے انہیں کچھ مہلت اور دیجئیے ہمارے پاس بیڑیاں بھی ہیں اور جہنم بھی ہے اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے اور درد ناک سزا ہے۔ اور آیت میں ہے «كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ» [ 38- ص: 3 ] ‏۔ یعنی ہم نے ان سے پہلے اور بھی بہت سی بستیوں کو تباہ کر دیا اس وقت انہوں نے واویلا شروع کی جب کہ وہ محض بےسود تھی۔ یہاں فرماتا ہے آج تم کیوں شور مچا رہے ہو؟ کیوں فریاد کر رہے ہو؟ کوئی بھی تمہیں آج کام نہیں آسکتا تم پر عذاب الٰہی آ پڑے اب چیخنا چلانا سب بےسود ہے۔ کون ہے؟ جو میرے عذابوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکے؟

صفحہ نمبر5761

پھر ان کا ایک بڑا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ «ذَٰلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّـهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ» [ 40-غافر: 12 ] ‏ یہ میری آیتوں کے منکر تھے انہیں سنتے تھے اور ٹال جاتے تھے، بلائے جاتے تھے لیکن انکار کر دیتے تھے توحید کا انکار کرتے تھے شرک پر عقیدہ رکھتے تھے حکم تو بلندوبرتر اللہ ہی کا چلتا ہے «مُسْتَكْبِرِينَ» دال ہے ان کے حق سے ہٹنے اور حق کا انکار کرنے سے آیت ہے کہ «مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ» [ 23-سورة المؤمنون: 67 ] ‏ یہ اس وقت تکبر کرتے تھے اور حق اور اہل حق کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس معنی کی رو سے بہ کے ضمیر کا مرجع یا تو حرم ہے یعنی مکہ کہ یہ اس میں بیہودہ بکواس بکتے تھے۔ یا قرآن ہے جسے یہ مذاق میں اڑاتے تھے کبھی شاعری کہتے تھے کبھی کہانت وغیرہ۔ یا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ راتوں کو بے کار بیٹھے ہوئے اپنی گپ شب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن کہتے، کبھی جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا کہتے، کبھی مجنون بتلاتے۔ حالانکہ حرم اللہ کا گھر ہے قرآن اللہ کا کلام ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں جہنیں اللہ نے اپنی مدد پہنچائی اور مکے پر قابض کیا۔ ان مشرکین کو وہاں سے ذلیل وپست کر کے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے فخر کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں حالانکہ یہ خیال محض وہم تھا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین قریش بیت اللہ پر فخر کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا مہتمم اور متولی بتلاتے تھے حالانکہ نہ اسے آباد کرتے تھے نہ اس کا صحیح ادب کرتے تھے امام ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر بہت کچھ لکھا ہے حاصل سب کا یہی ہے۔

صفحہ نمبر5762

آسان شریعت ٭٭

اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہو گی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کر دی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کر رہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چنانچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے کرتے جنت سے صرف ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے جو اس پر تقدیر کا لکھا غالب آ جاتا اور بداعمالیاں شروع کر دیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہنم واصل ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] ‏

یہاں تک کہ جب ان میں سے آسودہ حال دولت مند لوگوں پر عذاب الٰہی آپڑتا ہے تو اب وہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ سورۃ مزمل میں فرمان ہے کہ «وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا إِنَّ لَدَيْنَا أَنكَالًا وَجَحِيمًا وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا» [ 73-المزمل: 11- 13 ] ‏ مجھے ان مالدار جھٹلانے والوں پر چھوڑ دیجئیے انہیں کچھ مہلت اور دیجئیے ہمارے پاس بیڑیاں بھی ہیں اور جہنم بھی ہے اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے اور درد ناک سزا ہے۔ اور آیت میں ہے «كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ» [ 38- ص: 3 ] ‏۔ یعنی ہم نے ان سے پہلے اور بھی بہت سی بستیوں کو تباہ کر دیا اس وقت انہوں نے واویلا شروع کی جب کہ وہ محض بےسود تھی۔ یہاں فرماتا ہے آج تم کیوں شور مچا رہے ہو؟ کیوں فریاد کر رہے ہو؟ کوئی بھی تمہیں آج کام نہیں آسکتا تم پر عذاب الٰہی آ پڑے اب چیخنا چلانا سب بےسود ہے۔ کون ہے؟ جو میرے عذابوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکے؟

صفحہ نمبر5761

پھر ان کا ایک بڑا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ «ذَٰلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّـهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ» [ 40-غافر: 12 ] ‏ یہ میری آیتوں کے منکر تھے انہیں سنتے تھے اور ٹال جاتے تھے، بلائے جاتے تھے لیکن انکار کر دیتے تھے توحید کا انکار کرتے تھے شرک پر عقیدہ رکھتے تھے حکم تو بلندوبرتر اللہ ہی کا چلتا ہے «مُسْتَكْبِرِينَ» دال ہے ان کے حق سے ہٹنے اور حق کا انکار کرنے سے آیت ہے کہ «مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ» [ 23-سورة المؤمنون: 67 ] ‏ یہ اس وقت تکبر کرتے تھے اور حق اور اہل حق کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس معنی کی رو سے بہ کے ضمیر کا مرجع یا تو حرم ہے یعنی مکہ کہ یہ اس میں بیہودہ بکواس بکتے تھے۔ یا قرآن ہے جسے یہ مذاق میں اڑاتے تھے کبھی شاعری کہتے تھے کبھی کہانت وغیرہ۔ یا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ راتوں کو بے کار بیٹھے ہوئے اپنی گپ شب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن کہتے، کبھی جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا کہتے، کبھی مجنون بتلاتے۔ حالانکہ حرم اللہ کا گھر ہے قرآن اللہ کا کلام ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں جہنیں اللہ نے اپنی مدد پہنچائی اور مکے پر قابض کیا۔ ان مشرکین کو وہاں سے ذلیل وپست کر کے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے فخر کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں حالانکہ یہ خیال محض وہم تھا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین قریش بیت اللہ پر فخر کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا مہتمم اور متولی بتلاتے تھے حالانکہ نہ اسے آباد کرتے تھے نہ اس کا صحیح ادب کرتے تھے امام ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر بہت کچھ لکھا ہے حاصل سب کا یہی ہے۔

صفحہ نمبر5762

آسان شریعت ٭٭

اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہو گی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کر دی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کر رہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چنانچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے کرتے جنت سے صرف ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے جو اس پر تقدیر کا لکھا غالب آ جاتا اور بداعمالیاں شروع کر دیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہنم واصل ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] ‏

یہاں تک کہ جب ان میں سے آسودہ حال دولت مند لوگوں پر عذاب الٰہی آپڑتا ہے تو اب وہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ سورۃ مزمل میں فرمان ہے کہ «وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا إِنَّ لَدَيْنَا أَنكَالًا وَجَحِيمًا وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا» [ 73-المزمل: 11- 13 ] ‏ مجھے ان مالدار جھٹلانے والوں پر چھوڑ دیجئیے انہیں کچھ مہلت اور دیجئیے ہمارے پاس بیڑیاں بھی ہیں اور جہنم بھی ہے اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے اور درد ناک سزا ہے۔ اور آیت میں ہے «كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ» [ 38- ص: 3 ] ‏۔ یعنی ہم نے ان سے پہلے اور بھی بہت سی بستیوں کو تباہ کر دیا اس وقت انہوں نے واویلا شروع کی جب کہ وہ محض بےسود تھی۔ یہاں فرماتا ہے آج تم کیوں شور مچا رہے ہو؟ کیوں فریاد کر رہے ہو؟ کوئی بھی تمہیں آج کام نہیں آسکتا تم پر عذاب الٰہی آ پڑے اب چیخنا چلانا سب بےسود ہے۔ کون ہے؟ جو میرے عذابوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکے؟

صفحہ نمبر5761

پھر ان کا ایک بڑا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ «ذَٰلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّـهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ» [ 40-غافر: 12 ] ‏ یہ میری آیتوں کے منکر تھے انہیں سنتے تھے اور ٹال جاتے تھے، بلائے جاتے تھے لیکن انکار کر دیتے تھے توحید کا انکار کرتے تھے شرک پر عقیدہ رکھتے تھے حکم تو بلندوبرتر اللہ ہی کا چلتا ہے «مُسْتَكْبِرِينَ» دال ہے ان کے حق سے ہٹنے اور حق کا انکار کرنے سے آیت ہے کہ «مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ» [ 23-سورة المؤمنون: 67 ] ‏ یہ اس وقت تکبر کرتے تھے اور حق اور اہل حق کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس معنی کی رو سے بہ کے ضمیر کا مرجع یا تو حرم ہے یعنی مکہ کہ یہ اس میں بیہودہ بکواس بکتے تھے۔ یا قرآن ہے جسے یہ مذاق میں اڑاتے تھے کبھی شاعری کہتے تھے کبھی کہانت وغیرہ۔ یا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ راتوں کو بے کار بیٹھے ہوئے اپنی گپ شب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن کہتے، کبھی جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا کہتے، کبھی مجنون بتلاتے۔ حالانکہ حرم اللہ کا گھر ہے قرآن اللہ کا کلام ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں جہنیں اللہ نے اپنی مدد پہنچائی اور مکے پر قابض کیا۔ ان مشرکین کو وہاں سے ذلیل وپست کر کے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے فخر کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں حالانکہ یہ خیال محض وہم تھا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین قریش بیت اللہ پر فخر کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا مہتمم اور متولی بتلاتے تھے حالانکہ نہ اسے آباد کرتے تھے نہ اس کا صحیح ادب کرتے تھے امام ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر بہت کچھ لکھا ہے حاصل سب کا یہی ہے۔

صفحہ نمبر5762

آسان شریعت ٭٭

اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہو گی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کر دی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کر رہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چنانچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے کرتے جنت سے صرف ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے جو اس پر تقدیر کا لکھا غالب آ جاتا اور بداعمالیاں شروع کر دیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہنم واصل ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] ‏

یہاں تک کہ جب ان میں سے آسودہ حال دولت مند لوگوں پر عذاب الٰہی آپڑتا ہے تو اب وہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ سورۃ مزمل میں فرمان ہے کہ «وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا إِنَّ لَدَيْنَا أَنكَالًا وَجَحِيمًا وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا» [ 73-المزمل: 11- 13 ] ‏ مجھے ان مالدار جھٹلانے والوں پر چھوڑ دیجئیے انہیں کچھ مہلت اور دیجئیے ہمارے پاس بیڑیاں بھی ہیں اور جہنم بھی ہے اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے اور درد ناک سزا ہے۔ اور آیت میں ہے «كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ» [ 38- ص: 3 ] ‏۔ یعنی ہم نے ان سے پہلے اور بھی بہت سی بستیوں کو تباہ کر دیا اس وقت انہوں نے واویلا شروع کی جب کہ وہ محض بےسود تھی۔ یہاں فرماتا ہے آج تم کیوں شور مچا رہے ہو؟ کیوں فریاد کر رہے ہو؟ کوئی بھی تمہیں آج کام نہیں آسکتا تم پر عذاب الٰہی آ پڑے اب چیخنا چلانا سب بےسود ہے۔ کون ہے؟ جو میرے عذابوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکے؟

صفحہ نمبر5761

پھر ان کا ایک بڑا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ «ذَٰلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّـهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ» [ 40-غافر: 12 ] ‏ یہ میری آیتوں کے منکر تھے انہیں سنتے تھے اور ٹال جاتے تھے، بلائے جاتے تھے لیکن انکار کر دیتے تھے توحید کا انکار کرتے تھے شرک پر عقیدہ رکھتے تھے حکم تو بلندوبرتر اللہ ہی کا چلتا ہے «مُسْتَكْبِرِينَ» دال ہے ان کے حق سے ہٹنے اور حق کا انکار کرنے سے آیت ہے کہ «مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ» [ 23-سورة المؤمنون: 67 ] ‏ یہ اس وقت تکبر کرتے تھے اور حق اور اہل حق کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس معنی کی رو سے بہ کے ضمیر کا مرجع یا تو حرم ہے یعنی مکہ کہ یہ اس میں بیہودہ بکواس بکتے تھے۔ یا قرآن ہے جسے یہ مذاق میں اڑاتے تھے کبھی شاعری کہتے تھے کبھی کہانت وغیرہ۔ یا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ راتوں کو بے کار بیٹھے ہوئے اپنی گپ شب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن کہتے، کبھی جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا کہتے، کبھی مجنون بتلاتے۔ حالانکہ حرم اللہ کا گھر ہے قرآن اللہ کا کلام ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں جہنیں اللہ نے اپنی مدد پہنچائی اور مکے پر قابض کیا۔ ان مشرکین کو وہاں سے ذلیل وپست کر کے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے فخر کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں حالانکہ یہ خیال محض وہم تھا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین قریش بیت اللہ پر فخر کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا مہتمم اور متولی بتلاتے تھے حالانکہ نہ اسے آباد کرتے تھے نہ اس کا صحیح ادب کرتے تھے امام ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر بہت کچھ لکھا ہے حاصل سب کا یہی ہے۔

صفحہ نمبر5762

آسان شریعت ٭٭

اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہو گی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کر دی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کر رہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چنانچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے کرتے جنت سے صرف ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے جو اس پر تقدیر کا لکھا غالب آ جاتا اور بداعمالیاں شروع کر دیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہنم واصل ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] ‏

یہاں تک کہ جب ان میں سے آسودہ حال دولت مند لوگوں پر عذاب الٰہی آپڑتا ہے تو اب وہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ سورۃ مزمل میں فرمان ہے کہ «وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا إِنَّ لَدَيْنَا أَنكَالًا وَجَحِيمًا وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا» [ 73-المزمل: 11- 13 ] ‏ مجھے ان مالدار جھٹلانے والوں پر چھوڑ دیجئیے انہیں کچھ مہلت اور دیجئیے ہمارے پاس بیڑیاں بھی ہیں اور جہنم بھی ہے اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے اور درد ناک سزا ہے۔ اور آیت میں ہے «كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ» [ 38- ص: 3 ] ‏۔ یعنی ہم نے ان سے پہلے اور بھی بہت سی بستیوں کو تباہ کر دیا اس وقت انہوں نے واویلا شروع کی جب کہ وہ محض بےسود تھی۔ یہاں فرماتا ہے آج تم کیوں شور مچا رہے ہو؟ کیوں فریاد کر رہے ہو؟ کوئی بھی تمہیں آج کام نہیں آسکتا تم پر عذاب الٰہی آ پڑے اب چیخنا چلانا سب بےسود ہے۔ کون ہے؟ جو میرے عذابوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکے؟

صفحہ نمبر5761

پھر ان کا ایک بڑا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ «ذَٰلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّـهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ» [ 40-غافر: 12 ] ‏ یہ میری آیتوں کے منکر تھے انہیں سنتے تھے اور ٹال جاتے تھے، بلائے جاتے تھے لیکن انکار کر دیتے تھے توحید کا انکار کرتے تھے شرک پر عقیدہ رکھتے تھے حکم تو بلندوبرتر اللہ ہی کا چلتا ہے «مُسْتَكْبِرِينَ» دال ہے ان کے حق سے ہٹنے اور حق کا انکار کرنے سے آیت ہے کہ «مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ» [ 23-سورة المؤمنون: 67 ] ‏ یہ اس وقت تکبر کرتے تھے اور حق اور اہل حق کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس معنی کی رو سے بہ کے ضمیر کا مرجع یا تو حرم ہے یعنی مکہ کہ یہ اس میں بیہودہ بکواس بکتے تھے۔ یا قرآن ہے جسے یہ مذاق میں اڑاتے تھے کبھی شاعری کہتے تھے کبھی کہانت وغیرہ۔ یا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ راتوں کو بے کار بیٹھے ہوئے اپنی گپ شب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن کہتے، کبھی جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا کہتے، کبھی مجنون بتلاتے۔ حالانکہ حرم اللہ کا گھر ہے قرآن اللہ کا کلام ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں جہنیں اللہ نے اپنی مدد پہنچائی اور مکے پر قابض کیا۔ ان مشرکین کو وہاں سے ذلیل وپست کر کے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے فخر کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں حالانکہ یہ خیال محض وہم تھا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین قریش بیت اللہ پر فخر کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا مہتمم اور متولی بتلاتے تھے حالانکہ نہ اسے آباد کرتے تھے نہ اس کا صحیح ادب کرتے تھے امام ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر بہت کچھ لکھا ہے حاصل سب کا یہی ہے۔

صفحہ نمبر5762

قرآن کریم سے فرار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کر رہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہیے تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہو گئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کر دیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہو گئے۔ کیا یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتے نہیں؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے؟ دوغلے ہو رہے تھے۔

سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے شاہ حبش نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہا نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابوسفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا۔ [صحیح بخاری:7] ‏

کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آ گئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقابلے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبر یہ «مستانفعہ»، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5768

مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہو جا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ بُرا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیر آباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلو گے یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔

مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتا تو؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کرو گے اس نے کہا سچے امین سے۔ فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی رحمتہ اللہ علیہ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنا دیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آوری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لیے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں۔

صفحہ نمبر5769

پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اعلان کر دو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورۃ یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے۔

صفحہ نمبر5770

مسند امام احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہو گا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آ رہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچا دوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بیروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہو گئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہو گئی اور انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہاہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ [مسند احمد:267/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5771

ابویعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی باہوں میں سمیٹ کرتمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرِ سامان ہوں۔ وہاں تم ِاکا دُکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤ گے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کر لیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کر لے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لیے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہو گی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہو گا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہو گا جو اونٹ کو لیے ہوئے آئے گا جو بِلبلا رہا ہو گا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہو گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں گا بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ [مجمع الزوائد،85/3] ‏ امام علی بن مدینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے تو حسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔

آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں «نکب فلان عن الطریق» ۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفروعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہو گا تو کس طرح ہو گا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لیے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ توجہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہو جاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹابھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہو گی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو؟ اسے اللہ جانتا ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔

صفحہ نمبر5772

قرآن کریم سے فرار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کر رہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہیے تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہو گئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کر دیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہو گئے۔ کیا یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتے نہیں؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے؟ دوغلے ہو رہے تھے۔

سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے شاہ حبش نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہا نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابوسفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا۔ [صحیح بخاری:7] ‏

کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آ گئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقابلے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبر یہ «مستانفعہ»، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5768

مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہو جا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ بُرا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیر آباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلو گے یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔

مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتا تو؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کرو گے اس نے کہا سچے امین سے۔ فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی رحمتہ اللہ علیہ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنا دیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آوری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لیے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں۔

صفحہ نمبر5769

پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اعلان کر دو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورۃ یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے۔

صفحہ نمبر5770

مسند امام احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہو گا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آ رہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچا دوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بیروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہو گئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہو گئی اور انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہاہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ [مسند احمد:267/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5771

ابویعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی باہوں میں سمیٹ کرتمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرِ سامان ہوں۔ وہاں تم ِاکا دُکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤ گے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کر لیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کر لے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لیے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہو گی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہو گا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہو گا جو اونٹ کو لیے ہوئے آئے گا جو بِلبلا رہا ہو گا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہو گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں گا بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ [مجمع الزوائد،85/3] ‏ امام علی بن مدینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے تو حسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔

آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں «نکب فلان عن الطریق» ۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفروعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہو گا تو کس طرح ہو گا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لیے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ توجہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہو جاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹابھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہو گی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو؟ اسے اللہ جانتا ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔

صفحہ نمبر5772

قرآن کریم سے فرار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کر رہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہیے تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہو گئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کر دیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہو گئے۔ کیا یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتے نہیں؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے؟ دوغلے ہو رہے تھے۔

سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے شاہ حبش نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہا نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابوسفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا۔ [صحیح بخاری:7] ‏

کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آ گئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقابلے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبر یہ «مستانفعہ»، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5768

مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہو جا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ بُرا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیر آباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلو گے یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔

مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتا تو؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کرو گے اس نے کہا سچے امین سے۔ فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی رحمتہ اللہ علیہ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنا دیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آوری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لیے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں۔

صفحہ نمبر5769

پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اعلان کر دو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورۃ یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے۔

صفحہ نمبر5770

مسند امام احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہو گا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آ رہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچا دوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بیروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہو گئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہو گئی اور انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہاہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ [مسند احمد:267/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5771

ابویعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی باہوں میں سمیٹ کرتمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرِ سامان ہوں۔ وہاں تم ِاکا دُکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤ گے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کر لیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کر لے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لیے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہو گی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہو گا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہو گا جو اونٹ کو لیے ہوئے آئے گا جو بِلبلا رہا ہو گا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہو گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں گا بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ [مجمع الزوائد،85/3] ‏ امام علی بن مدینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے تو حسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔

آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں «نکب فلان عن الطریق» ۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفروعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہو گا تو کس طرح ہو گا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لیے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ توجہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہو جاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹابھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہو گی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو؟ اسے اللہ جانتا ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔

صفحہ نمبر5772

قرآن کریم سے فرار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کر رہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہیے تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہو گئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کر دیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہو گئے۔ کیا یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتے نہیں؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے؟ دوغلے ہو رہے تھے۔

سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے شاہ حبش نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہا نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابوسفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا۔ [صحیح بخاری:7] ‏

کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آ گئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقابلے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبر یہ «مستانفعہ»، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5768

مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہو جا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ بُرا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیر آباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلو گے یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔

مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتا تو؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کرو گے اس نے کہا سچے امین سے۔ فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی رحمتہ اللہ علیہ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنا دیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آوری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لیے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں۔

صفحہ نمبر5769

پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اعلان کر دو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورۃ یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے۔

صفحہ نمبر5770

مسند امام احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہو گا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آ رہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچا دوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بیروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہو گئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہو گئی اور انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہاہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ [مسند احمد:267/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5771

ابویعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی باہوں میں سمیٹ کرتمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرِ سامان ہوں۔ وہاں تم ِاکا دُکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤ گے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کر لیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کر لے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لیے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہو گی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہو گا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہو گا جو اونٹ کو لیے ہوئے آئے گا جو بِلبلا رہا ہو گا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہو گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں گا بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ [مجمع الزوائد،85/3] ‏ امام علی بن مدینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے تو حسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔

آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں «نکب فلان عن الطریق» ۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفروعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہو گا تو کس طرح ہو گا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لیے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ توجہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہو جاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹابھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہو گی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو؟ اسے اللہ جانتا ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔

صفحہ نمبر5772

قرآن کریم سے فرار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کر رہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہیے تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہو گئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کر دیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہو گئے۔ کیا یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتے نہیں؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے؟ دوغلے ہو رہے تھے۔

سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے شاہ حبش نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہا نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابوسفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا۔ [صحیح بخاری:7] ‏

کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آ گئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقابلے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبر یہ «مستانفعہ»، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5768

مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہو جا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ بُرا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیر آباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلو گے یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔

مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتا تو؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کرو گے اس نے کہا سچے امین سے۔ فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی رحمتہ اللہ علیہ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنا دیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آوری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لیے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں۔

صفحہ نمبر5769

پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اعلان کر دو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورۃ یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے۔

صفحہ نمبر5770

مسند امام احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہو گا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آ رہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچا دوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بیروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہو گئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہو گئی اور انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہاہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ [مسند احمد:267/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5771

ابویعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی باہوں میں سمیٹ کرتمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرِ سامان ہوں۔ وہاں تم ِاکا دُکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤ گے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کر لیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کر لے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لیے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہو گی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہو گا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہو گا جو اونٹ کو لیے ہوئے آئے گا جو بِلبلا رہا ہو گا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہو گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں گا بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ [مجمع الزوائد،85/3] ‏ امام علی بن مدینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے تو حسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔

آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں «نکب فلان عن الطریق» ۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفروعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہو گا تو کس طرح ہو گا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لیے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ توجہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہو جاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹابھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہو گی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو؟ اسے اللہ جانتا ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔

صفحہ نمبر5772

قرآن کریم سے فرار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کر رہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہیے تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہو گئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کر دیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہو گئے۔ کیا یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتے نہیں؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے؟ دوغلے ہو رہے تھے۔

سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے شاہ حبش نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہا نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابوسفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا۔ [صحیح بخاری:7] ‏

کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آ گئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقابلے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبر یہ «مستانفعہ»، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5768

مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہو جا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ بُرا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیر آباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلو گے یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔

مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتا تو؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کرو گے اس نے کہا سچے امین سے۔ فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی رحمتہ اللہ علیہ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنا دیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آوری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لیے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں۔

صفحہ نمبر5769

پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اعلان کر دو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورۃ یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے۔

صفحہ نمبر5770

مسند امام احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہو گا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آ رہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچا دوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بیروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہو گئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہو گئی اور انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہاہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ [مسند احمد:267/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5771

ابویعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی باہوں میں سمیٹ کرتمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرِ سامان ہوں۔ وہاں تم ِاکا دُکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤ گے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کر لیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کر لے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لیے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہو گی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہو گا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہو گا جو اونٹ کو لیے ہوئے آئے گا جو بِلبلا رہا ہو گا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہو گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں گا بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ [مجمع الزوائد،85/3] ‏ امام علی بن مدینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے تو حسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔

آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں «نکب فلان عن الطریق» ۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفروعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہو گا تو کس طرح ہو گا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لیے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ توجہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہو جاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹابھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہو گی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو؟ اسے اللہ جانتا ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔

صفحہ نمبر5772

قرآن کریم سے فرار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کر رہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہیے تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہو گئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کر دیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہو گئے۔ کیا یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتے نہیں؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے؟ دوغلے ہو رہے تھے۔

سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے شاہ حبش نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہا نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابوسفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا۔ [صحیح بخاری:7] ‏

کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آ گئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقابلے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبر یہ «مستانفعہ»، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5768

مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہو جا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ بُرا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیر آباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلو گے یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔

مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتا تو؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کرو گے اس نے کہا سچے امین سے۔ فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی رحمتہ اللہ علیہ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنا دیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آوری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لیے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں۔

صفحہ نمبر5769

پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اعلان کر دو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورۃ یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے۔

صفحہ نمبر5770

مسند امام احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہو گا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آ رہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچا دوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بیروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہو گئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہو گئی اور انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہاہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ [مسند احمد:267/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5771

ابویعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی باہوں میں سمیٹ کرتمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرِ سامان ہوں۔ وہاں تم ِاکا دُکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤ گے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کر لیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کر لے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لیے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہو گی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہو گا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہو گا جو اونٹ کو لیے ہوئے آئے گا جو بِلبلا رہا ہو گا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہو گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں گا بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ [مجمع الزوائد،85/3] ‏ امام علی بن مدینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے تو حسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔

آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں «نکب فلان عن الطریق» ۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفروعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہو گا تو کس طرح ہو گا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لیے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ توجہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہو جاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹابھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہو گی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو؟ اسے اللہ جانتا ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔

صفحہ نمبر5772

قرآن کریم سے فرار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کر رہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہیے تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہو گئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کر دیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہو گئے۔ کیا یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتے نہیں؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے؟ دوغلے ہو رہے تھے۔

سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے شاہ حبش نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہا نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابوسفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا۔ [صحیح بخاری:7] ‏

کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آ گئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقابلے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبر یہ «مستانفعہ»، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5768

مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہو جا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ بُرا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیر آباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلو گے یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔

مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتا تو؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کرو گے اس نے کہا سچے امین سے۔ فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی رحمتہ اللہ علیہ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنا دیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آوری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لیے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں۔

صفحہ نمبر5769

پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اعلان کر دو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورۃ یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے۔

صفحہ نمبر5770

مسند امام احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہو گا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آ رہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچا دوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بیروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہو گئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہو گئی اور انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہاہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ [مسند احمد:267/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5771

ابویعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی باہوں میں سمیٹ کرتمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرِ سامان ہوں۔ وہاں تم ِاکا دُکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤ گے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کر لیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کر لے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لیے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہو گی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہو گا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہو گا جو اونٹ کو لیے ہوئے آئے گا جو بِلبلا رہا ہو گا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہو گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں گا بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ [مجمع الزوائد،85/3] ‏ امام علی بن مدینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے تو حسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔

آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں «نکب فلان عن الطریق» ۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفروعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہو گا تو کس طرح ہو گا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لیے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ توجہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہو جاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹابھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہو گی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو؟ اسے اللہ جانتا ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔

صفحہ نمبر5772

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے ٭٭

فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے «فَلَوْلَآ اِذْ جَاءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [ 6- الانعام: 43 ] ‏، ہمارا عذاب دیکھ کریہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہو گئے ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ [سنن نسائی فی التفسیر،372:حسن] ‏ بخاری و مسلم میں ہے کہ قریش کی شرراتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعا کی تھی کہ جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ [صحیح بخاری:1007] ‏

صفحہ نمبر5780

ابن ابی حاتم میں ہے کہ وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کو قید کر دیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ رحمہ اللہ کو جی بہلانے کے لیے اشعار سناؤں؟ تو آپ نے فرمایا ”اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں“ پھر آپ رحمہ اللہ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آ پہنچا اچانک وقت آ گیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہو گئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور و فکر کر سکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گو حرص کر لیکن ان میں سے اکثر بے ایمان ہیں۔

صفحہ نمبر5781

پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کر کے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ «أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 11- 14 ] ‏ وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے «لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [ 36-يس: 40 ] ‏ اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گزشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گزشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہو جانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت «وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ» [ 6-الأنعام: 29 ] ‏ میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے؟

جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہو جائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کرایک میدان میں ہمارے سامنے آ جائے گی۔ سورۃ یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [ 36- يس: 77- 79 ] ‏ کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسرگیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا؟ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہرچیز کی پیدائش کا عالم ہے۔

صفحہ نمبر5782

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے ٭٭

فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے «فَلَوْلَآ اِذْ جَاءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [ 6- الانعام: 43 ] ‏، ہمارا عذاب دیکھ کریہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہو گئے ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ [سنن نسائی فی التفسیر،372:حسن] ‏ بخاری و مسلم میں ہے کہ قریش کی شرراتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعا کی تھی کہ جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ [صحیح بخاری:1007] ‏

صفحہ نمبر5780

ابن ابی حاتم میں ہے کہ وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کو قید کر دیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ رحمہ اللہ کو جی بہلانے کے لیے اشعار سناؤں؟ تو آپ نے فرمایا ”اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں“ پھر آپ رحمہ اللہ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آ پہنچا اچانک وقت آ گیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہو گئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور و فکر کر سکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گو حرص کر لیکن ان میں سے اکثر بے ایمان ہیں۔

صفحہ نمبر5781

پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کر کے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ «أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 11- 14 ] ‏ وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے «لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [ 36-يس: 40 ] ‏ اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گزشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گزشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہو جانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت «وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ» [ 6-الأنعام: 29 ] ‏ میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے؟

جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہو جائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کرایک میدان میں ہمارے سامنے آ جائے گی۔ سورۃ یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [ 36- يس: 77- 79 ] ‏ کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسرگیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا؟ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہرچیز کی پیدائش کا عالم ہے۔

صفحہ نمبر5782

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے ٭٭

فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے «فَلَوْلَآ اِذْ جَاءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [ 6- الانعام: 43 ] ‏، ہمارا عذاب دیکھ کریہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہو گئے ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ [سنن نسائی فی التفسیر،372:حسن] ‏ بخاری و مسلم میں ہے کہ قریش کی شرراتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعا کی تھی کہ جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ [صحیح بخاری:1007] ‏

صفحہ نمبر5780

ابن ابی حاتم میں ہے کہ وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کو قید کر دیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ رحمہ اللہ کو جی بہلانے کے لیے اشعار سناؤں؟ تو آپ نے فرمایا ”اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں“ پھر آپ رحمہ اللہ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آ پہنچا اچانک وقت آ گیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہو گئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور و فکر کر سکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گو حرص کر لیکن ان میں سے اکثر بے ایمان ہیں۔

صفحہ نمبر5781

پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کر کے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ «أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 11- 14 ] ‏ وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے «لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [ 36-يس: 40 ] ‏ اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گزشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گزشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہو جانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت «وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ» [ 6-الأنعام: 29 ] ‏ میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے؟

جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہو جائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کرایک میدان میں ہمارے سامنے آ جائے گی۔ سورۃ یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [ 36- يس: 77- 79 ] ‏ کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسرگیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا؟ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہرچیز کی پیدائش کا عالم ہے۔

صفحہ نمبر5782

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے ٭٭

فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے «فَلَوْلَآ اِذْ جَاءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [ 6- الانعام: 43 ] ‏، ہمارا عذاب دیکھ کریہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہو گئے ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ [سنن نسائی فی التفسیر،372:حسن] ‏ بخاری و مسلم میں ہے کہ قریش کی شرراتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعا کی تھی کہ جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ [صحیح بخاری:1007] ‏

صفحہ نمبر5780

ابن ابی حاتم میں ہے کہ وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کو قید کر دیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ رحمہ اللہ کو جی بہلانے کے لیے اشعار سناؤں؟ تو آپ نے فرمایا ”اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں“ پھر آپ رحمہ اللہ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آ پہنچا اچانک وقت آ گیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہو گئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور و فکر کر سکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گو حرص کر لیکن ان میں سے اکثر بے ایمان ہیں۔

صفحہ نمبر5781

پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کر کے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ «أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 11- 14 ] ‏ وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے «لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [ 36-يس: 40 ] ‏ اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گزشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گزشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہو جانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت «وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ» [ 6-الأنعام: 29 ] ‏ میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے؟

جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہو جائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کرایک میدان میں ہمارے سامنے آ جائے گی۔ سورۃ یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [ 36- يس: 77- 79 ] ‏ کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسرگیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا؟ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہرچیز کی پیدائش کا عالم ہے۔

صفحہ نمبر5782

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے ٭٭

فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے «فَلَوْلَآ اِذْ جَاءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [ 6- الانعام: 43 ] ‏، ہمارا عذاب دیکھ کریہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہو گئے ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ [سنن نسائی فی التفسیر،372:حسن] ‏ بخاری و مسلم میں ہے کہ قریش کی شرراتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعا کی تھی کہ جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ [صحیح بخاری:1007] ‏

صفحہ نمبر5780

ابن ابی حاتم میں ہے کہ وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کو قید کر دیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ رحمہ اللہ کو جی بہلانے کے لیے اشعار سناؤں؟ تو آپ نے فرمایا ”اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں“ پھر آپ رحمہ اللہ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آ پہنچا اچانک وقت آ گیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہو گئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور و فکر کر سکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گو حرص کر لیکن ان میں سے اکثر بے ایمان ہیں۔

صفحہ نمبر5781

پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کر کے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ «أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 11- 14 ] ‏ وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے «لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [ 36-يس: 40 ] ‏ اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گزشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گزشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہو جانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت «وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ» [ 6-الأنعام: 29 ] ‏ میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے؟

جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہو جائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کرایک میدان میں ہمارے سامنے آ جائے گی۔ سورۃ یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [ 36- يس: 77- 79 ] ‏ کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسرگیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا؟ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہرچیز کی پیدائش کا عالم ہے۔

صفحہ نمبر5782

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے ٭٭

فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے «فَلَوْلَآ اِذْ جَاءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [ 6- الانعام: 43 ] ‏، ہمارا عذاب دیکھ کریہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہو گئے ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ [سنن نسائی فی التفسیر،372:حسن] ‏ بخاری و مسلم میں ہے کہ قریش کی شرراتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعا کی تھی کہ جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ [صحیح بخاری:1007] ‏

صفحہ نمبر5780

ابن ابی حاتم میں ہے کہ وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کو قید کر دیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ رحمہ اللہ کو جی بہلانے کے لیے اشعار سناؤں؟ تو آپ نے فرمایا ”اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں“ پھر آپ رحمہ اللہ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آ پہنچا اچانک وقت آ گیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہو گئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور و فکر کر سکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گو حرص کر لیکن ان میں سے اکثر بے ایمان ہیں۔

صفحہ نمبر5781

پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کر کے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ «أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 11- 14 ] ‏ وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے «لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [ 36-يس: 40 ] ‏ اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گزشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گزشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہو جانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت «وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ» [ 6-الأنعام: 29 ] ‏ میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے؟

جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہو جائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کرایک میدان میں ہمارے سامنے آ جائے گی۔ سورۃ یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [ 36- يس: 77- 79 ] ‏ کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسرگیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا؟ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہرچیز کی پیدائش کا عالم ہے۔

صفحہ نمبر5782

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے ٭٭

فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے «فَلَوْلَآ اِذْ جَاءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [ 6- الانعام: 43 ] ‏، ہمارا عذاب دیکھ کریہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہو گئے ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ [سنن نسائی فی التفسیر،372:حسن] ‏ بخاری و مسلم میں ہے کہ قریش کی شرراتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعا کی تھی کہ جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ [صحیح بخاری:1007] ‏

صفحہ نمبر5780

ابن ابی حاتم میں ہے کہ وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کو قید کر دیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ رحمہ اللہ کو جی بہلانے کے لیے اشعار سناؤں؟ تو آپ نے فرمایا ”اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں“ پھر آپ رحمہ اللہ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آ پہنچا اچانک وقت آ گیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہو گئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور و فکر کر سکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گو حرص کر لیکن ان میں سے اکثر بے ایمان ہیں۔

صفحہ نمبر5781

پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کر کے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ «أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 11- 14 ] ‏ وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے «لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [ 36-يس: 40 ] ‏ اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گزشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گزشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہو جانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت «وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ» [ 6-الأنعام: 29 ] ‏ میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے؟

جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہو جائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کرایک میدان میں ہمارے سامنے آ جائے گی۔ سورۃ یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [ 36- يس: 77- 79 ] ‏ کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسرگیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا؟ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہرچیز کی پیدائش کا عالم ہے۔

صفحہ نمبر5782

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے ٭٭

فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے «فَلَوْلَآ اِذْ جَاءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [ 6- الانعام: 43 ] ‏، ہمارا عذاب دیکھ کریہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہو گئے ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ [سنن نسائی فی التفسیر،372:حسن] ‏ بخاری و مسلم میں ہے کہ قریش کی شرراتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعا کی تھی کہ جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ [صحیح بخاری:1007] ‏

صفحہ نمبر5780

ابن ابی حاتم میں ہے کہ وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کو قید کر دیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ رحمہ اللہ کو جی بہلانے کے لیے اشعار سناؤں؟ تو آپ نے فرمایا ”اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں“ پھر آپ رحمہ اللہ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آ پہنچا اچانک وقت آ گیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہو گئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور و فکر کر سکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گو حرص کر لیکن ان میں سے اکثر بے ایمان ہیں۔

صفحہ نمبر5781

پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کر کے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ «أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 11- 14 ] ‏ وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے «لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [ 36-يس: 40 ] ‏ اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گزشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گزشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہو جانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت «وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ» [ 6-الأنعام: 29 ] ‏ میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے؟

جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہو جائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کرایک میدان میں ہمارے سامنے آ جائے گی۔ سورۃ یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [ 36- يس: 77- 79 ] ‏ کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسرگیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا؟ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہرچیز کی پیدائش کا عالم ہے۔

صفحہ نمبر5782

اللہ تعالٰی ہی معبود واحد ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہی کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنا دیں گے۔

پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہو گا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق و رازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند و بالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا“ [سنن ابوداود:4726،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر5790

ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جیسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جیسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کر سکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ و بالا ہے اسی لیے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے۔ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کر رہے ہو؟

صفحہ نمبر5791

کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ“جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سما گئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کر دی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، [ابن عدی فی الکامل،178/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5792

دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہرچیز کا مختار کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے۔ [صحیح بخاری:6617] ‏ پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید و مالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے؟

عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دیدے تو سارا قبیلہ اس کا پابند تھا لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کر لے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کر سکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بے مثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لاچار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے؟ ایسا کون سا جادو تم پر ہو گیا ہے؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کر چکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کر دی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کر دیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر و باہر ہے جیسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔

صفحہ نمبر5793

اللہ تعالٰی ہی معبود واحد ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہی کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنا دیں گے۔

پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہو گا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق و رازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند و بالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا“ [سنن ابوداود:4726،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر5790

ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جیسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جیسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کر سکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ و بالا ہے اسی لیے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے۔ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کر رہے ہو؟

صفحہ نمبر5791

کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ“جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سما گئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کر دی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، [ابن عدی فی الکامل،178/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5792

دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہرچیز کا مختار کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے۔ [صحیح بخاری:6617] ‏ پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید و مالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے؟

عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دیدے تو سارا قبیلہ اس کا پابند تھا لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کر لے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کر سکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بے مثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لاچار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے؟ ایسا کون سا جادو تم پر ہو گیا ہے؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کر چکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کر دی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کر دیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر و باہر ہے جیسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔

صفحہ نمبر5793

اللہ تعالٰی ہی معبود واحد ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہی کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنا دیں گے۔

پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہو گا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق و رازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند و بالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا“ [سنن ابوداود:4726،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر5790

ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جیسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جیسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کر سکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ و بالا ہے اسی لیے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے۔ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کر رہے ہو؟

صفحہ نمبر5791

کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ“جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سما گئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کر دی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، [ابن عدی فی الکامل،178/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5792

دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہرچیز کا مختار کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے۔ [صحیح بخاری:6617] ‏ پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید و مالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے؟

عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دیدے تو سارا قبیلہ اس کا پابند تھا لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کر لے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کر سکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بے مثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لاچار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے؟ ایسا کون سا جادو تم پر ہو گیا ہے؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کر چکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کر دی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کر دیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر و باہر ہے جیسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔

صفحہ نمبر5793

اللہ تعالٰی ہی معبود واحد ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہی کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنا دیں گے۔

پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہو گا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق و رازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند و بالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا“ [سنن ابوداود:4726،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر5790

ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جیسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جیسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کر سکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ و بالا ہے اسی لیے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے۔ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کر رہے ہو؟

صفحہ نمبر5791

کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ“جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سما گئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کر دی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، [ابن عدی فی الکامل،178/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5792

دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہرچیز کا مختار کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے۔ [صحیح بخاری:6617] ‏ پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید و مالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے؟

عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دیدے تو سارا قبیلہ اس کا پابند تھا لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کر لے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کر سکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بے مثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لاچار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے؟ ایسا کون سا جادو تم پر ہو گیا ہے؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کر چکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کر دی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کر دیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر و باہر ہے جیسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔

صفحہ نمبر5793

اللہ تعالٰی ہی معبود واحد ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہی کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنا دیں گے۔

پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہو گا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق و رازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند و بالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا“ [سنن ابوداود:4726،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر5790

ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جیسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جیسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کر سکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ و بالا ہے اسی لیے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے۔ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کر رہے ہو؟

صفحہ نمبر5791

کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ“جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سما گئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کر دی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، [ابن عدی فی الکامل،178/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5792

دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہرچیز کا مختار کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے۔ [صحیح بخاری:6617] ‏ پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید و مالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے؟

عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دیدے تو سارا قبیلہ اس کا پابند تھا لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کر لے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کر سکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بے مثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لاچار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے؟ ایسا کون سا جادو تم پر ہو گیا ہے؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کر چکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کر دی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کر دیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر و باہر ہے جیسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔

صفحہ نمبر5793

اللہ تعالٰی ہی معبود واحد ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہی کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنا دیں گے۔

پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہو گا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق و رازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند و بالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا“ [سنن ابوداود:4726،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر5790

ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جیسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جیسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کر سکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ و بالا ہے اسی لیے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے۔ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کر رہے ہو؟

صفحہ نمبر5791

کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ“جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سما گئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کر دی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، [ابن عدی فی الکامل،178/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5792

دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہرچیز کا مختار کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے۔ [صحیح بخاری:6617] ‏ پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید و مالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے؟

عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دیدے تو سارا قبیلہ اس کا پابند تھا لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کر لے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کر سکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بے مثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لاچار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے؟ ایسا کون سا جادو تم پر ہو گیا ہے؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کر چکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کر دی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کر دیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر و باہر ہے جیسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔

صفحہ نمبر5793

اللہ تعالٰی ہی معبود واحد ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہی کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنا دیں گے۔

پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہو گا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق و رازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند و بالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا“ [سنن ابوداود:4726،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر5790

ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جیسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جیسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کر سکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ و بالا ہے اسی لیے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے۔ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کر رہے ہو؟

صفحہ نمبر5791

کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ“جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سما گئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کر دی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، [ابن عدی فی الکامل،178/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5792

دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہرچیز کا مختار کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے۔ [صحیح بخاری:6617] ‏ پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید و مالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے؟

عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دیدے تو سارا قبیلہ اس کا پابند تھا لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کر لے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کر سکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بے مثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لاچار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے؟ ایسا کون سا جادو تم پر ہو گیا ہے؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کر چکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کر دی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کر دیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر و باہر ہے جیسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔

صفحہ نمبر5793

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com