Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Muminoon
Tafsir Ibn Kathir · The Believers · 118 ayat · ayat 91–118 · Quran text →
وہ ہر شان میں بےمثال ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اس سے اپنی برتری بیان فرما رہا ہے کہ اس کی اولاد ہو یا اس کا شریک ہو۔ ملک میں، تصرف میں، عبادت کا مستحق ہونے میں، وہ یکتا ہے، نہ اس کی اولاد ہے، نہ اس کا شریک ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ کئی ایک اللہ ہیں تو ہر ایک اپنی مخلوق کامستقل مالک ہونا چاہے تو موجودات میں نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ حالانکہ کائنات کا انتظام مکمل ہے، عالم علوی اور عالم سفلی، آسمان و زمین وغیرہ کمال ربط کے ساتھ اپنے اپنے مقررہ کام میں مشغول ہیں۔ دستور سے ایک انچ ادھر ادھر نہیں ہوتے۔ پس معلوم ہوا کہ ان سب کا خالق مالک اللہ ایک ہی ہے نہ کہ متفرق کئی ایک اور بہت سے اللہ مان لینے کی صورت میں یہ بھی ظاہر ہے کہ ہر ایک دوسرے کو پست ومغلوب کرنا اور خود غالب اور طاقتور ہونا چاہے گا۔ اگر غالب آ گیا تو مغلوب اللہ نہ رہا اگر غالب نہ آیا تو وہ خود اللہ نہیں۔ پس یہ دونوں دلیلیں بتا رہی ہیں کہ اللہ ایک ہی ہے۔
صفحہ نمبر5800
متکلمین کے طور پر اس دلیل کو دلیل تمانع کہتے ہیں۔ ان کی تقریر یہ ہے کہ اگر دو اللہ مانے جائیں یا اس سے زیادہ پھر ایک تو ایک جسم کی حرکت کا ارادہ کر لے اور دوسرا اس کے سکون کا ارادہ کرے اب اگر دونوں کی مراد حاصل نہ ہو تو دونوں ہی عاجز ٹھہرے اور جب عاجز ٹھہرے تو اللہ نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ واجب عاجز نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی ناممکن ہے کہ دونوں کی مراد پوری ہو کیونکہ ایک کے خلاف دوسرے کی چاہت ہے۔ تو دونوں کی مراد کا حاصل ہونا محال ہے۔ اور یہ محال لازم ہوا ہے اس وجہ سے کہ دو یا دو سے زیادہ اللہ فرض کئے گئے تھے پس یہ تعدد میں باطل ہو گیا۔ اب رہی تیسری صورت یعنی یہ کہ ایک کی چاہت پوری ہو اور ایک کی نہ ہو تو جس کی پوری ہوئی وہ تو غالب اور واجب رہا اور جس کی پوری نہ ہوئی اور مغلوب اور ممکن ہوا۔ کیونکہ واجب کی صفت یہ نہیں کہ وہ مغلوب ہو تو اس صورت میں بھی معبودوں کی کثرت تعداد باطل ہوتی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اللہ ایک ہے وہ ظالم سرکش، حد سے گزر جانے والے، مشرک جو اللہ کی اولاد ٹھہراتے ہیں اور اس کے شریک بتاتے ہیں، ان کے ان بیان کردہ اوصاف سے ذات الٰہی بلند و بالا اور برتر و منزہ ہے۔ وہ ہرچیز کو جانتا ہے جو مخلوق سے پوشیدہ ہے۔ اور اسے بھی جو مخلوق پر عیاں ہے۔ پس وہ ان تمام شرکا سے پاک ہے، جسے منکر اور مشرک شریک الٰہ بتاتے ہیں۔
صفحہ نمبر5801
وہ ہر شان میں بےمثال ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اس سے اپنی برتری بیان فرما رہا ہے کہ اس کی اولاد ہو یا اس کا شریک ہو۔ ملک میں، تصرف میں، عبادت کا مستحق ہونے میں، وہ یکتا ہے، نہ اس کی اولاد ہے، نہ اس کا شریک ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ کئی ایک اللہ ہیں تو ہر ایک اپنی مخلوق کامستقل مالک ہونا چاہے تو موجودات میں نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ حالانکہ کائنات کا انتظام مکمل ہے، عالم علوی اور عالم سفلی، آسمان و زمین وغیرہ کمال ربط کے ساتھ اپنے اپنے مقررہ کام میں مشغول ہیں۔ دستور سے ایک انچ ادھر ادھر نہیں ہوتے۔ پس معلوم ہوا کہ ان سب کا خالق مالک اللہ ایک ہی ہے نہ کہ متفرق کئی ایک اور بہت سے اللہ مان لینے کی صورت میں یہ بھی ظاہر ہے کہ ہر ایک دوسرے کو پست ومغلوب کرنا اور خود غالب اور طاقتور ہونا چاہے گا۔ اگر غالب آ گیا تو مغلوب اللہ نہ رہا اگر غالب نہ آیا تو وہ خود اللہ نہیں۔ پس یہ دونوں دلیلیں بتا رہی ہیں کہ اللہ ایک ہی ہے۔
صفحہ نمبر5800
متکلمین کے طور پر اس دلیل کو دلیل تمانع کہتے ہیں۔ ان کی تقریر یہ ہے کہ اگر دو اللہ مانے جائیں یا اس سے زیادہ پھر ایک تو ایک جسم کی حرکت کا ارادہ کر لے اور دوسرا اس کے سکون کا ارادہ کرے اب اگر دونوں کی مراد حاصل نہ ہو تو دونوں ہی عاجز ٹھہرے اور جب عاجز ٹھہرے تو اللہ نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ واجب عاجز نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی ناممکن ہے کہ دونوں کی مراد پوری ہو کیونکہ ایک کے خلاف دوسرے کی چاہت ہے۔ تو دونوں کی مراد کا حاصل ہونا محال ہے۔ اور یہ محال لازم ہوا ہے اس وجہ سے کہ دو یا دو سے زیادہ اللہ فرض کئے گئے تھے پس یہ تعدد میں باطل ہو گیا۔ اب رہی تیسری صورت یعنی یہ کہ ایک کی چاہت پوری ہو اور ایک کی نہ ہو تو جس کی پوری ہوئی وہ تو غالب اور واجب رہا اور جس کی پوری نہ ہوئی اور مغلوب اور ممکن ہوا۔ کیونکہ واجب کی صفت یہ نہیں کہ وہ مغلوب ہو تو اس صورت میں بھی معبودوں کی کثرت تعداد باطل ہوتی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اللہ ایک ہے وہ ظالم سرکش، حد سے گزر جانے والے، مشرک جو اللہ کی اولاد ٹھہراتے ہیں اور اس کے شریک بتاتے ہیں، ان کے ان بیان کردہ اوصاف سے ذات الٰہی بلند و بالا اور برتر و منزہ ہے۔ وہ ہرچیز کو جانتا ہے جو مخلوق سے پوشیدہ ہے۔ اور اسے بھی جو مخلوق پر عیاں ہے۔ پس وہ ان تمام شرکا سے پاک ہے، جسے منکر اور مشرک شریک الٰہ بتاتے ہیں۔
صفحہ نمبر5801
برائی کے بدلے اچھائی ٭٭
سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی عداوت محبت سے اور نفرت الفت سے بدل جائے۔ جیسے ایک اور آیت میں بھی ہے کہ بھلائی سے دفع کر تو جانی دشمن، دلی دوست بن جائے گا۔ لیکن یہ کام انہیں سے ہوسکتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔ یعنی اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی صفت کی تحصیل صرف ان لوگوں سے ہو سکتی ہے جو لوگوں کی تکلیف کو برداشت کر لینے کے عادی ہو جائیں۔ اور گو وہ برائی کریں لیکن یہ بھلائی کرتے جائیں۔ یہ وصف انہی لوگوں کا ہے جو بڑے نصیب دار ہوں۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی جن کی قسمت میں ہو۔
صفحہ نمبر5803
شیطان سے بچنے کی دعائیں ٭٭
انسان کی برائی سے بچنے کی بہترین ترکیب بتا کر پھر شیطان کی برائی سے بچنے کی ترکیب بتائی جاتی ہے کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان سے بچا لے۔ اس لیے کہ اس کے فن فریب سے بچنے کا ہتھیار تمہارے پاس سوائے اس کے اور نہیں۔ وہ سلوک و احسان سے بس میں نہیں آنے کا۔ استعاذہ کے بیان میں ہم لکھ آئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم» من ہمزہ ونفخہ ونفثہ پڑھا کرتے تھے۔ اور ذکر شیطان کی شمولیت کو روک دیتا ہے۔ کھانا پینا جماع ذبح وغیرہ کل کاموں کے شروع کرنے سے پہلے اللہ کا ذکر کرنا چاہے۔
ابوداؤد میں ہے کہ حضور علیہ السلام کی ایک دعا یہ بھی تھی۔ «اللہم انی اعوذبک من الھرم و اعوذ من الھدم ومن الغرق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عندالموت» ۔ اے اللہ میں تجھ سے بڑے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ [سنن ابوداود:1552،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دعا سکھاتے تھے کہ نیند اچاٹ ہو جانے کے مرض کو دور کرنے کے لیے ہم سوتے وقت پڑھا کریں۔ «بِسمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَمِن شَرِّ عِبَادِہِ وَمِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَاَئن یَحضُرُونَ» ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے انہیں یہ دعا سکھا دیا کرتے اور جو چھوٹے ناسمجھ ہوتے یاد نہ کر سکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکا دیتے۔ [سنن ابوداود:3893،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔
صفحہ نمبر5804
برائی کے بدلے اچھائی ٭٭
سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی عداوت محبت سے اور نفرت الفت سے بدل جائے۔ جیسے ایک اور آیت میں بھی ہے کہ بھلائی سے دفع کر تو جانی دشمن، دلی دوست بن جائے گا۔ لیکن یہ کام انہیں سے ہوسکتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔ یعنی اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی صفت کی تحصیل صرف ان لوگوں سے ہو سکتی ہے جو لوگوں کی تکلیف کو برداشت کر لینے کے عادی ہو جائیں۔ اور گو وہ برائی کریں لیکن یہ بھلائی کرتے جائیں۔ یہ وصف انہی لوگوں کا ہے جو بڑے نصیب دار ہوں۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی جن کی قسمت میں ہو۔
صفحہ نمبر5803
شیطان سے بچنے کی دعائیں ٭٭
انسان کی برائی سے بچنے کی بہترین ترکیب بتا کر پھر شیطان کی برائی سے بچنے کی ترکیب بتائی جاتی ہے کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان سے بچا لے۔ اس لیے کہ اس کے فن فریب سے بچنے کا ہتھیار تمہارے پاس سوائے اس کے اور نہیں۔ وہ سلوک و احسان سے بس میں نہیں آنے کا۔ استعاذہ کے بیان میں ہم لکھ آئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم» من ہمزہ ونفخہ ونفثہ پڑھا کرتے تھے۔ اور ذکر شیطان کی شمولیت کو روک دیتا ہے۔ کھانا پینا جماع ذبح وغیرہ کل کاموں کے شروع کرنے سے پہلے اللہ کا ذکر کرنا چاہے۔
ابوداؤد میں ہے کہ حضور علیہ السلام کی ایک دعا یہ بھی تھی۔ «اللہم انی اعوذبک من الھرم و اعوذ من الھدم ومن الغرق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عندالموت» ۔ اے اللہ میں تجھ سے بڑے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ [سنن ابوداود:1552،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دعا سکھاتے تھے کہ نیند اچاٹ ہو جانے کے مرض کو دور کرنے کے لیے ہم سوتے وقت پڑھا کریں۔ «بِسمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَمِن شَرِّ عِبَادِہِ وَمِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَاَئن یَحضُرُونَ» ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے انہیں یہ دعا سکھا دیا کرتے اور جو چھوٹے ناسمجھ ہوتے یاد نہ کر سکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکا دیتے۔ [سنن ابوداود:3893،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔
صفحہ نمبر5804
برائی کے بدلے اچھائی ٭٭
سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی عداوت محبت سے اور نفرت الفت سے بدل جائے۔ جیسے ایک اور آیت میں بھی ہے کہ بھلائی سے دفع کر تو جانی دشمن، دلی دوست بن جائے گا۔ لیکن یہ کام انہیں سے ہوسکتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔ یعنی اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی صفت کی تحصیل صرف ان لوگوں سے ہو سکتی ہے جو لوگوں کی تکلیف کو برداشت کر لینے کے عادی ہو جائیں۔ اور گو وہ برائی کریں لیکن یہ بھلائی کرتے جائیں۔ یہ وصف انہی لوگوں کا ہے جو بڑے نصیب دار ہوں۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی جن کی قسمت میں ہو۔
صفحہ نمبر5803
شیطان سے بچنے کی دعائیں ٭٭
انسان کی برائی سے بچنے کی بہترین ترکیب بتا کر پھر شیطان کی برائی سے بچنے کی ترکیب بتائی جاتی ہے کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان سے بچا لے۔ اس لیے کہ اس کے فن فریب سے بچنے کا ہتھیار تمہارے پاس سوائے اس کے اور نہیں۔ وہ سلوک و احسان سے بس میں نہیں آنے کا۔ استعاذہ کے بیان میں ہم لکھ آئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم» من ہمزہ ونفخہ ونفثہ پڑھا کرتے تھے۔ اور ذکر شیطان کی شمولیت کو روک دیتا ہے۔ کھانا پینا جماع ذبح وغیرہ کل کاموں کے شروع کرنے سے پہلے اللہ کا ذکر کرنا چاہے۔
ابوداؤد میں ہے کہ حضور علیہ السلام کی ایک دعا یہ بھی تھی۔ «اللہم انی اعوذبک من الھرم و اعوذ من الھدم ومن الغرق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عندالموت» ۔ اے اللہ میں تجھ سے بڑے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ [سنن ابوداود:1552،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دعا سکھاتے تھے کہ نیند اچاٹ ہو جانے کے مرض کو دور کرنے کے لیے ہم سوتے وقت پڑھا کریں۔ «بِسمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَمِن شَرِّ عِبَادِہِ وَمِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَاَئن یَحضُرُونَ» ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے انہیں یہ دعا سکھا دیا کرتے اور جو چھوٹے ناسمجھ ہوتے یاد نہ کر سکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکا دیتے۔ [سنن ابوداود:3893،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔
صفحہ نمبر5804
برائی کے بدلے اچھائی ٭٭
سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی عداوت محبت سے اور نفرت الفت سے بدل جائے۔ جیسے ایک اور آیت میں بھی ہے کہ بھلائی سے دفع کر تو جانی دشمن، دلی دوست بن جائے گا۔ لیکن یہ کام انہیں سے ہوسکتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔ یعنی اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی صفت کی تحصیل صرف ان لوگوں سے ہو سکتی ہے جو لوگوں کی تکلیف کو برداشت کر لینے کے عادی ہو جائیں۔ اور گو وہ برائی کریں لیکن یہ بھلائی کرتے جائیں۔ یہ وصف انہی لوگوں کا ہے جو بڑے نصیب دار ہوں۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی جن کی قسمت میں ہو۔
صفحہ نمبر5803
شیطان سے بچنے کی دعائیں ٭٭
انسان کی برائی سے بچنے کی بہترین ترکیب بتا کر پھر شیطان کی برائی سے بچنے کی ترکیب بتائی جاتی ہے کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان سے بچا لے۔ اس لیے کہ اس کے فن فریب سے بچنے کا ہتھیار تمہارے پاس سوائے اس کے اور نہیں۔ وہ سلوک و احسان سے بس میں نہیں آنے کا۔ استعاذہ کے بیان میں ہم لکھ آئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم» من ہمزہ ونفخہ ونفثہ پڑھا کرتے تھے۔ اور ذکر شیطان کی شمولیت کو روک دیتا ہے۔ کھانا پینا جماع ذبح وغیرہ کل کاموں کے شروع کرنے سے پہلے اللہ کا ذکر کرنا چاہے۔
ابوداؤد میں ہے کہ حضور علیہ السلام کی ایک دعا یہ بھی تھی۔ «اللہم انی اعوذبک من الھرم و اعوذ من الھدم ومن الغرق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عندالموت» ۔ اے اللہ میں تجھ سے بڑے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ [سنن ابوداود:1552،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دعا سکھاتے تھے کہ نیند اچاٹ ہو جانے کے مرض کو دور کرنے کے لیے ہم سوتے وقت پڑھا کریں۔ «بِسمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَمِن شَرِّ عِبَادِہِ وَمِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَاَئن یَحضُرُونَ» ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے انہیں یہ دعا سکھا دیا کرتے اور جو چھوٹے ناسمجھ ہوتے یاد نہ کر سکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکا دیتے۔ [سنن ابوداود:3893،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔
صفحہ نمبر5804
برائی کے بدلے اچھائی ٭٭
سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی عداوت محبت سے اور نفرت الفت سے بدل جائے۔ جیسے ایک اور آیت میں بھی ہے کہ بھلائی سے دفع کر تو جانی دشمن، دلی دوست بن جائے گا۔ لیکن یہ کام انہیں سے ہوسکتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔ یعنی اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی صفت کی تحصیل صرف ان لوگوں سے ہو سکتی ہے جو لوگوں کی تکلیف کو برداشت کر لینے کے عادی ہو جائیں۔ اور گو وہ برائی کریں لیکن یہ بھلائی کرتے جائیں۔ یہ وصف انہی لوگوں کا ہے جو بڑے نصیب دار ہوں۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی جن کی قسمت میں ہو۔
صفحہ نمبر5803
شیطان سے بچنے کی دعائیں ٭٭
انسان کی برائی سے بچنے کی بہترین ترکیب بتا کر پھر شیطان کی برائی سے بچنے کی ترکیب بتائی جاتی ہے کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان سے بچا لے۔ اس لیے کہ اس کے فن فریب سے بچنے کا ہتھیار تمہارے پاس سوائے اس کے اور نہیں۔ وہ سلوک و احسان سے بس میں نہیں آنے کا۔ استعاذہ کے بیان میں ہم لکھ آئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم» من ہمزہ ونفخہ ونفثہ پڑھا کرتے تھے۔ اور ذکر شیطان کی شمولیت کو روک دیتا ہے۔ کھانا پینا جماع ذبح وغیرہ کل کاموں کے شروع کرنے سے پہلے اللہ کا ذکر کرنا چاہے۔
ابوداؤد میں ہے کہ حضور علیہ السلام کی ایک دعا یہ بھی تھی۔ «اللہم انی اعوذبک من الھرم و اعوذ من الھدم ومن الغرق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عندالموت» ۔ اے اللہ میں تجھ سے بڑے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ [سنن ابوداود:1552،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دعا سکھاتے تھے کہ نیند اچاٹ ہو جانے کے مرض کو دور کرنے کے لیے ہم سوتے وقت پڑھا کریں۔ «بِسمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَمِن شَرِّ عِبَادِہِ وَمِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَاَئن یَحضُرُونَ» ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے انہیں یہ دعا سکھا دیا کرتے اور جو چھوٹے ناسمجھ ہوتے یاد نہ کر سکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکا دیتے۔ [سنن ابوداود:3893،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔
صفحہ نمبر5804
برائی کے بدلے اچھائی ٭٭
سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی عداوت محبت سے اور نفرت الفت سے بدل جائے۔ جیسے ایک اور آیت میں بھی ہے کہ بھلائی سے دفع کر تو جانی دشمن، دلی دوست بن جائے گا۔ لیکن یہ کام انہیں سے ہوسکتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔ یعنی اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی صفت کی تحصیل صرف ان لوگوں سے ہو سکتی ہے جو لوگوں کی تکلیف کو برداشت کر لینے کے عادی ہو جائیں۔ اور گو وہ برائی کریں لیکن یہ بھلائی کرتے جائیں۔ یہ وصف انہی لوگوں کا ہے جو بڑے نصیب دار ہوں۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی جن کی قسمت میں ہو۔
صفحہ نمبر5803
شیطان سے بچنے کی دعائیں ٭٭
انسان کی برائی سے بچنے کی بہترین ترکیب بتا کر پھر شیطان کی برائی سے بچنے کی ترکیب بتائی جاتی ہے کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان سے بچا لے۔ اس لیے کہ اس کے فن فریب سے بچنے کا ہتھیار تمہارے پاس سوائے اس کے اور نہیں۔ وہ سلوک و احسان سے بس میں نہیں آنے کا۔ استعاذہ کے بیان میں ہم لکھ آئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم» من ہمزہ ونفخہ ونفثہ پڑھا کرتے تھے۔ اور ذکر شیطان کی شمولیت کو روک دیتا ہے۔ کھانا پینا جماع ذبح وغیرہ کل کاموں کے شروع کرنے سے پہلے اللہ کا ذکر کرنا چاہے۔
ابوداؤد میں ہے کہ حضور علیہ السلام کی ایک دعا یہ بھی تھی۔ «اللہم انی اعوذبک من الھرم و اعوذ من الھدم ومن الغرق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عندالموت» ۔ اے اللہ میں تجھ سے بڑے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ [سنن ابوداود:1552،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دعا سکھاتے تھے کہ نیند اچاٹ ہو جانے کے مرض کو دور کرنے کے لیے ہم سوتے وقت پڑھا کریں۔ «بِسمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَمِن شَرِّ عِبَادِہِ وَمِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَاَئن یَحضُرُونَ» ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے انہیں یہ دعا سکھا دیا کرتے اور جو چھوٹے ناسمجھ ہوتے یاد نہ کر سکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکا دیتے۔ [سنن ابوداود:3893،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔
صفحہ نمبر5804
بعد از مرگ ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ موت کے وقت کفار اور بدترین گناہگار سخت نادم ہوتے ہیں اور حسرت و افسوس کے ساتھ آرزو کرتے ہیں کہ کاش کہ ہم دنیا کی طرف لوٹائے جائیں۔ تاکہ ہم نیک اعمال کر لیں۔ لیکن اس وقت وہ امید فضول، یہ آرزو لا حاصل ہے چنانچہ سورۃ المنافقون میں فرمایا جو ہم نے دیا ہے ہماری راہ میں دیتے رہو، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کی موت آ جائے اس وقت وہ کہے کہ اے اللہ ذرا سی مہلت دیدے تو میں صدقہ خیرات کر لوں اور نیک بندہ بن جاؤں لیکن اجل آ جانے کے بعد کسی کو مہلت نہیں ملتی تمہارے تمام اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ مثلا «وَاَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَاْتِيْهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَآ اَخِّرْنَآ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ» [ 14- ابراهيم: 44 ] اور آیت «يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُهٗ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بالْحَقِّ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُوْا لَنَآ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ قَدْ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» [ 7- الاعراف: 53 ] اور آیت «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [ 32- السجدة: 12 ] تک اور آیت «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» [ 6-الأنعام: 27، 28 ] تک اور آیت «وَتَرَى الظّٰلِمِيْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ يَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِيْلٍ» [ 42- الشورى: 44 ] تک اور آیت «قَالُوْا رَبَّنَآ اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَاَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِيْلٍ» [ 40- غافر: 11 ] اور اس کے بعد کی آیت «وَهُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيْرُ فَذُوْقُوْا فَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ» [ 35- فاطر: 37 ] ، وغیرہ۔
صفحہ نمبر5810
ان آیتوں میں بیان ہوا ہے کہ ایسے بدکار لوگ موت کو دیکھ کر قیامت کے دن اللہ کے سامنے کی پیشی کے وقت جہنم کے سامنے کھڑے ہو کر دنیا میں واپس آنے کی تمنا کریں گے اور نیک اعمال کرنے کا وعدہ کریں گے۔ لیکن ان وقتوں میں ان کی طلب پوری نہ ہو گی۔ یہ تو وہ کلمہ ہے جو بہ مجبوری ایسے آڑے وقتوں میں ان کی زبان سے نکل ہی جاتا ہے اور یہ بھی کہ یہ کہتے ہیں مگر کرنے کے نہیں۔ اگر دنیا میں واپس لوٹائے بھی جائیں تو عمل صالح کر کے نہیں دینے کے بلکہ ویسے ہی رہیں گے جسے پہلے رہے تھے یہ تو جھوٹے اور لپاڑئیے ہیں کتنا مبارک وہ شخص ہے جو اس زندگی میں نیک عمل کر لے اور کیسے بدنصیب یہ لوگ ہیں کہ آج نہ انہیں مال و اولاد کی تمنا ہے۔ نہ دنیا اور زینت دنیا کی خواہش ہے صرف یہ چاہتے ہیں کہ دو روز کی زندگی اور ہو جائے تو کچھ نیک اعمال کر لیں لیکن تمنا بے کار، آرزو بےسود، خواہش بے جا۔
یہ بھی مروی ہے کہ ان کی تمنا پر انہیں اللہ ڈانٹ دے گا اور فرمائے گا کہ یہ بھی تمہاری بات ہے عمل اب بھی نہیں کرو گے۔ حضرت علاء بن زیاد رحمتہ اللہ علیہ کیا ہی عمدہ بات فرماتے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، تم یوں سمجھ لو کہ میری موت آ چکی تھی، لیکن میں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے چند روز کی مہلت دے دی جائے تاکہ میں نیکیاں کر لوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کافر کی اس امید کو یاد رکھو اور خود زندگی کی گھڑیاں اطاعت اللہ میں بسر کرو۔
صفحہ نمبر5811
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب کافر اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اپنا جہنم کا ٹھکانا دیکھ لیتا ہے تو کہتا ہے میرے رب مجھے لوٹا دے میں توبہ کر لوں گا اور نیک اعمال کرتا رہوں گا جواب ملتا ہے کہ جتنی عمر تجھے دی گئی تھی تو ختم کر چکا پھر اس کی قبر اس پر سمٹ جاتی ہے اور تنگ ہو جاتی ہے اور سانپ بچھو چمٹ جاتے ہیں۔
صفحہ نمبر5812
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں گناہگاروں پر ان کی قبریں بڑی مصیبت کی جگہیں ہوتی ہیں ان کی قبروں میں انہیں کالے ناگ ڈستے رہتے ہیں جن میں سے ایک بہت بڑا اس کے سرہانے ہوتا ہے ایک اتنا ہی بڑا پاؤں کی طرف ہوتا ہے وہ سر کی طرف سے ڈسنا اور اوپر چڑھنا شروع کرتا ہے اور یہ پیروں کی طرف سے کاٹنا اور اوپر چڑھنا شروع کرتا ہے یہاں تک کہ بیچ کی جگہ آ کر دونوں اکٹھے ہو جاتے ہیں پس یہ ہے وہ برزخ جہاں یہ قیامت تک رہیں گے۔
من ورائہم کہ معنی کئے گے ہیں کہ ان کے آگے برزخ ایک حجاب اور آڑ ہے دنیا اور آخرت کے درمیان وہ نہ تو صحیح طور دنیا میں ہیں کہ کھائیں پیئں نہ آخرت میں ہیں کہ اعمال کے بدلے میں آ جائیں بلکہ بیچ ہی بیچ میں ہیں پس اس آیت میں ظالموں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ انہیں عالم برزخ میں بھی بڑے بھاری عذاب ہوں گے جیسے فرمان ہے «مِنْ وَّرَاىِٕهِمْ جَهَنَّمُ وَلَا يُغْنِيْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَيْـــــًٔا وَّلَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِيَاءَ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ» [ 45- الجاثية: 10 ] ان کے آگے جہنم ہے اور آیت میں ہے «وَمِنْ وَّرَاىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ» [ 14- ابراھیم: 17 ] ان کے آگے سخت عذاب ہے برزخ کا۔ قبر کا یہ عذاب ان پر قیامت کے قائم ہونے تک برابر جاری رہے گا۔ جیسے حدیث میں ہے کہ وہ اس میں برابر عذاب میں رہے گا یعنی زمین میں۔ [سنن ترمذي:1071،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5813
بعد از مرگ ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ موت کے وقت کفار اور بدترین گناہگار سخت نادم ہوتے ہیں اور حسرت و افسوس کے ساتھ آرزو کرتے ہیں کہ کاش کہ ہم دنیا کی طرف لوٹائے جائیں۔ تاکہ ہم نیک اعمال کر لیں۔ لیکن اس وقت وہ امید فضول، یہ آرزو لا حاصل ہے چنانچہ سورۃ المنافقون میں فرمایا جو ہم نے دیا ہے ہماری راہ میں دیتے رہو، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کی موت آ جائے اس وقت وہ کہے کہ اے اللہ ذرا سی مہلت دیدے تو میں صدقہ خیرات کر لوں اور نیک بندہ بن جاؤں لیکن اجل آ جانے کے بعد کسی کو مہلت نہیں ملتی تمہارے تمام اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ مثلا «وَاَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَاْتِيْهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَآ اَخِّرْنَآ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ» [ 14- ابراهيم: 44 ] اور آیت «يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُهٗ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بالْحَقِّ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُوْا لَنَآ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ قَدْ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» [ 7- الاعراف: 53 ] اور آیت «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [ 32- السجدة: 12 ] تک اور آیت «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» [ 6-الأنعام: 27، 28 ] تک اور آیت «وَتَرَى الظّٰلِمِيْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ يَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِيْلٍ» [ 42- الشورى: 44 ] تک اور آیت «قَالُوْا رَبَّنَآ اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَاَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِيْلٍ» [ 40- غافر: 11 ] اور اس کے بعد کی آیت «وَهُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيْرُ فَذُوْقُوْا فَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ» [ 35- فاطر: 37 ] ، وغیرہ۔
صفحہ نمبر5810
ان آیتوں میں بیان ہوا ہے کہ ایسے بدکار لوگ موت کو دیکھ کر قیامت کے دن اللہ کے سامنے کی پیشی کے وقت جہنم کے سامنے کھڑے ہو کر دنیا میں واپس آنے کی تمنا کریں گے اور نیک اعمال کرنے کا وعدہ کریں گے۔ لیکن ان وقتوں میں ان کی طلب پوری نہ ہو گی۔ یہ تو وہ کلمہ ہے جو بہ مجبوری ایسے آڑے وقتوں میں ان کی زبان سے نکل ہی جاتا ہے اور یہ بھی کہ یہ کہتے ہیں مگر کرنے کے نہیں۔ اگر دنیا میں واپس لوٹائے بھی جائیں تو عمل صالح کر کے نہیں دینے کے بلکہ ویسے ہی رہیں گے جسے پہلے رہے تھے یہ تو جھوٹے اور لپاڑئیے ہیں کتنا مبارک وہ شخص ہے جو اس زندگی میں نیک عمل کر لے اور کیسے بدنصیب یہ لوگ ہیں کہ آج نہ انہیں مال و اولاد کی تمنا ہے۔ نہ دنیا اور زینت دنیا کی خواہش ہے صرف یہ چاہتے ہیں کہ دو روز کی زندگی اور ہو جائے تو کچھ نیک اعمال کر لیں لیکن تمنا بے کار، آرزو بےسود، خواہش بے جا۔
یہ بھی مروی ہے کہ ان کی تمنا پر انہیں اللہ ڈانٹ دے گا اور فرمائے گا کہ یہ بھی تمہاری بات ہے عمل اب بھی نہیں کرو گے۔ حضرت علاء بن زیاد رحمتہ اللہ علیہ کیا ہی عمدہ بات فرماتے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، تم یوں سمجھ لو کہ میری موت آ چکی تھی، لیکن میں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے چند روز کی مہلت دے دی جائے تاکہ میں نیکیاں کر لوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کافر کی اس امید کو یاد رکھو اور خود زندگی کی گھڑیاں اطاعت اللہ میں بسر کرو۔
صفحہ نمبر5811
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب کافر اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اپنا جہنم کا ٹھکانا دیکھ لیتا ہے تو کہتا ہے میرے رب مجھے لوٹا دے میں توبہ کر لوں گا اور نیک اعمال کرتا رہوں گا جواب ملتا ہے کہ جتنی عمر تجھے دی گئی تھی تو ختم کر چکا پھر اس کی قبر اس پر سمٹ جاتی ہے اور تنگ ہو جاتی ہے اور سانپ بچھو چمٹ جاتے ہیں۔
صفحہ نمبر5812
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں گناہگاروں پر ان کی قبریں بڑی مصیبت کی جگہیں ہوتی ہیں ان کی قبروں میں انہیں کالے ناگ ڈستے رہتے ہیں جن میں سے ایک بہت بڑا اس کے سرہانے ہوتا ہے ایک اتنا ہی بڑا پاؤں کی طرف ہوتا ہے وہ سر کی طرف سے ڈسنا اور اوپر چڑھنا شروع کرتا ہے اور یہ پیروں کی طرف سے کاٹنا اور اوپر چڑھنا شروع کرتا ہے یہاں تک کہ بیچ کی جگہ آ کر دونوں اکٹھے ہو جاتے ہیں پس یہ ہے وہ برزخ جہاں یہ قیامت تک رہیں گے۔
من ورائہم کہ معنی کئے گے ہیں کہ ان کے آگے برزخ ایک حجاب اور آڑ ہے دنیا اور آخرت کے درمیان وہ نہ تو صحیح طور دنیا میں ہیں کہ کھائیں پیئں نہ آخرت میں ہیں کہ اعمال کے بدلے میں آ جائیں بلکہ بیچ ہی بیچ میں ہیں پس اس آیت میں ظالموں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ انہیں عالم برزخ میں بھی بڑے بھاری عذاب ہوں گے جیسے فرمان ہے «مِنْ وَّرَاىِٕهِمْ جَهَنَّمُ وَلَا يُغْنِيْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَيْـــــًٔا وَّلَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِيَاءَ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ» [ 45- الجاثية: 10 ] ان کے آگے جہنم ہے اور آیت میں ہے «وَمِنْ وَّرَاىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ» [ 14- ابراھیم: 17 ] ان کے آگے سخت عذاب ہے برزخ کا۔ قبر کا یہ عذاب ان پر قیامت کے قائم ہونے تک برابر جاری رہے گا۔ جیسے حدیث میں ہے کہ وہ اس میں برابر عذاب میں رہے گا یعنی زمین میں۔ [سنن ترمذي:1071،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5813
قبروں سے اٹھنے کے بعد ٭٭
جب جی اٹھنے کا صور پھونکا جائے گا اور لوگ اپنی قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے، اس دن نہ تو کوئی رشتے ناتے باقی رہیں گے۔ نہ کوئی کسی سے پوچھے گا، نہ باپ کو اولاد پرشفقت ہو گی، نہ اولاد باپ کا غم کھائے گی۔ عجب آپا دھاپی ہو گی۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا يُبَصَّرُونَهُمْ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ» [ 70-المعارج: 10، 11 ] کوئی دوست کسی دوست سے ایک دوسرے کو دیکھنے کے باوجود کچھ نہ پوچھے گا۔ صاف دیکھے گا کہ قریبی شخص ہے مصیبت میں ہے، گناہوں کے بوجھ سے دب رہا ہے لیکن اس کی طرف التفات تک نہ کرے گا، نہ کچھ پوچھے گا آنکھ پھیرلے گا، جیسے قرآن میں ہے کہ «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [ 80-عبس: 34- 37 ] اس دن آدمی اپنے بھائی سے، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے، اپنی بیوی سے، اور اپنے بچوں سے بھاگتا پھرے گا“
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اگلوں پچھلوں کو جمع کرے گا پھر ایک منادی ندا کرے گا جس کسی کا کوئی حق کسی دوسرے کے ذمہ ہو وہ بھی آئے اور اس سے اپنا حق لے جائے۔ تو اگرچہ کسی کا کوئی حق باپ کے ذمہ یا اپنی اولاد کے ذمہ یا اپنی بیوی کے ذمہ ہو وہ بھی خوش ہوتا ہوا اور دوڑتا ہوا آئے گا اور اپنے حق کے تقاضے شروع کرے گا جسے اس آیت «فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ» [ سورة المؤمنون-23: 101 ] میں ہے۔
صفحہ نمبر5815
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جو چیز اسے نہ خوش کرے وہ مجھے بھی ناخوش کرتی ہے اور جو چیز اسے خوش کرے وہ مجھے بھی خوش کرتی ہے قیامت کے روز سب رشتے ناتے ٹوٹ جائیں گے لیکن میرا نسب میرا سبب میری رشتہ داری نا ٹوٹے گی“ [مسند احمد:323/4:صحیح]
اس حدیث کی اصل بخاری مسلم میں بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے اسے ناراض کرنے والی اور اسے ستانے والی چیزیں مجھے ناراض کرنے والی اور مجھے تکلیف پہنچانے والی ہے۔“ [صحیح بخاری:3714]
صفحہ نمبر5816
رضی اللہ عنہا مسند احمد میں ہے رسول اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا ”لوگوں کا کیا حال ہے کہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ بھی آپ کی قوم کو کوئی فائدہ نہ دے گا واللہ میرے رشتہ دنیا میں اور آخرت میں ملا ہوا ہے۔ اے لوگو! میں تمہارا میرسامان ہوں، جب تم آؤ گے، ایک شخص کہے گا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں فلاں بن فلاں ہوں، میں جواب دونگا کہ ہاں نسب تو میں نے پہچان لیا لیکن تم لوگوں نے میرے بعد بدعتیں ایجاد کی تھیں اور ایڑیوں کے بل مرتد ہو گے تھے۔“ [مسند احمد:18/3:حسن لغیرہ] مسند امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما میں ہم نے کئی سندوں سے یہ روایت کی ہے کہ جب آپ نے ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو فرمایا کرتے تھے واللہ مجھے اس نکاح سے صرف یہ غرض تھی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر سبب ونسب قیامت کے دن کٹ جائے گا مگر میرا نسب اور سبب۔ [مسند عمر بن الخطاب لابن کثیر 398/3] بھی مذکور ہے کہ آپ نے ان کا مہر از روئے تعظیم وبزرگی چالیس ہزار مقرر کیا تھا۔
ابن عساکر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کل رشتے ناتے اور سسرالی تعلقات بجز میرے ایسے تعلقات کے قیامت کے دن کٹ جائیں گے۔“ [طبرانی کبیر:45/3:صحیح بالشواھد] ایک حدیث میں ہے کہ ”میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جہاں میرا نکاح ہوا ہے اور جس کا نکاح میرے ساتھ ہوا ہے وہ سب جنت میں بھی میرے ساتھ رہیں تو اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی۔“ [تاریخ دمشق 119/19:ضعیف]
جس کی ایک نیکی بھی گناہوں سے بڑھ گئی وہ کامیاب ہو گیا جہنم سے آزاد اور جنت میں داخل ہو گیا اپنی مراد کو پہنچ گیا اور جس سے ڈرتا تھا اس سے بچ گیا۔ اور جس کی برائیاں بھلائیوں سے بڑھ گئیں وہ ہلاک ہوئے نقصان میں آ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں”قیامت کے دن ترازو پر ایک فرشتہ مقرر ہو گا جو ہر انسان کو لا کر ترازو کے پاس بیچوں بیچ کھڑا کرے گا، پھر نیکی بدی تولی جائے گی اگر نیکی بڑھ گئی تو باآواز بلند اعلان کرے گا کہ فلاں بن فلاں نجات پا گیا اب اس کے بعد ہلاکت اس کے پاس بھی نہیں آئے گی اور اگر بدی بڑھ گئی تو ندا کرے گا اور سب کو سنا کر کہے گا کہ فلاں کا بیٹا فلاں ہلاک ہوا اب وہ بھلائی سے محروم ہوگیا“ [ابو نعیم فی الحلیة کما فی تخریج الاحیاء:4098،ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے داؤد ابن حجر راوی ضعیف و متروک ہے۔
ایسے لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے دوزخ کی آگ ان کے منہ جھلس دے گی چہروں کو جلادے گی کمر کو سلگا دے گی یہ بے بس ہوں گے آگ کو ہٹا نہ سکیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں”پہلے ہی شعلے کی لپٹ ان کا سارے گوشت پوست ہڈیوں سے الگ کر کے ان کے قدموں میں ڈال دے گی وہ وہاں بدشکل ہوں گے دانت نکلے ہوں گے ہونٹ اوپر چڑھا ہوا اور نیچے گرا ہوا ہو گا اوپر کا ہونٹ تو تالو تک پہنچا ہوا ہو گا اور نیچے کا ہونٹ ناف تک آ جائے گا۔“ [مسند احمد:88/3:ضعیف]
صفحہ نمبر5817
قبروں سے اٹھنے کے بعد ٭٭
جب جی اٹھنے کا صور پھونکا جائے گا اور لوگ اپنی قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے، اس دن نہ تو کوئی رشتے ناتے باقی رہیں گے۔ نہ کوئی کسی سے پوچھے گا، نہ باپ کو اولاد پرشفقت ہو گی، نہ اولاد باپ کا غم کھائے گی۔ عجب آپا دھاپی ہو گی۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا يُبَصَّرُونَهُمْ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ» [ 70-المعارج: 10، 11 ] کوئی دوست کسی دوست سے ایک دوسرے کو دیکھنے کے باوجود کچھ نہ پوچھے گا۔ صاف دیکھے گا کہ قریبی شخص ہے مصیبت میں ہے، گناہوں کے بوجھ سے دب رہا ہے لیکن اس کی طرف التفات تک نہ کرے گا، نہ کچھ پوچھے گا آنکھ پھیرلے گا، جیسے قرآن میں ہے کہ «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [ 80-عبس: 34- 37 ] اس دن آدمی اپنے بھائی سے، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے، اپنی بیوی سے، اور اپنے بچوں سے بھاگتا پھرے گا“
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اگلوں پچھلوں کو جمع کرے گا پھر ایک منادی ندا کرے گا جس کسی کا کوئی حق کسی دوسرے کے ذمہ ہو وہ بھی آئے اور اس سے اپنا حق لے جائے۔ تو اگرچہ کسی کا کوئی حق باپ کے ذمہ یا اپنی اولاد کے ذمہ یا اپنی بیوی کے ذمہ ہو وہ بھی خوش ہوتا ہوا اور دوڑتا ہوا آئے گا اور اپنے حق کے تقاضے شروع کرے گا جسے اس آیت «فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ» [ سورة المؤمنون-23: 101 ] میں ہے۔
صفحہ نمبر5815
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جو چیز اسے نہ خوش کرے وہ مجھے بھی ناخوش کرتی ہے اور جو چیز اسے خوش کرے وہ مجھے بھی خوش کرتی ہے قیامت کے روز سب رشتے ناتے ٹوٹ جائیں گے لیکن میرا نسب میرا سبب میری رشتہ داری نا ٹوٹے گی“ [مسند احمد:323/4:صحیح]
اس حدیث کی اصل بخاری مسلم میں بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے اسے ناراض کرنے والی اور اسے ستانے والی چیزیں مجھے ناراض کرنے والی اور مجھے تکلیف پہنچانے والی ہے۔“ [صحیح بخاری:3714]
صفحہ نمبر5816
رضی اللہ عنہا مسند احمد میں ہے رسول اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا ”لوگوں کا کیا حال ہے کہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ بھی آپ کی قوم کو کوئی فائدہ نہ دے گا واللہ میرے رشتہ دنیا میں اور آخرت میں ملا ہوا ہے۔ اے لوگو! میں تمہارا میرسامان ہوں، جب تم آؤ گے، ایک شخص کہے گا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں فلاں بن فلاں ہوں، میں جواب دونگا کہ ہاں نسب تو میں نے پہچان لیا لیکن تم لوگوں نے میرے بعد بدعتیں ایجاد کی تھیں اور ایڑیوں کے بل مرتد ہو گے تھے۔“ [مسند احمد:18/3:حسن لغیرہ] مسند امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما میں ہم نے کئی سندوں سے یہ روایت کی ہے کہ جب آپ نے ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو فرمایا کرتے تھے واللہ مجھے اس نکاح سے صرف یہ غرض تھی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر سبب ونسب قیامت کے دن کٹ جائے گا مگر میرا نسب اور سبب۔ [مسند عمر بن الخطاب لابن کثیر 398/3] بھی مذکور ہے کہ آپ نے ان کا مہر از روئے تعظیم وبزرگی چالیس ہزار مقرر کیا تھا۔
ابن عساکر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کل رشتے ناتے اور سسرالی تعلقات بجز میرے ایسے تعلقات کے قیامت کے دن کٹ جائیں گے۔“ [طبرانی کبیر:45/3:صحیح بالشواھد] ایک حدیث میں ہے کہ ”میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جہاں میرا نکاح ہوا ہے اور جس کا نکاح میرے ساتھ ہوا ہے وہ سب جنت میں بھی میرے ساتھ رہیں تو اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی۔“ [تاریخ دمشق 119/19:ضعیف]
جس کی ایک نیکی بھی گناہوں سے بڑھ گئی وہ کامیاب ہو گیا جہنم سے آزاد اور جنت میں داخل ہو گیا اپنی مراد کو پہنچ گیا اور جس سے ڈرتا تھا اس سے بچ گیا۔ اور جس کی برائیاں بھلائیوں سے بڑھ گئیں وہ ہلاک ہوئے نقصان میں آ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں”قیامت کے دن ترازو پر ایک فرشتہ مقرر ہو گا جو ہر انسان کو لا کر ترازو کے پاس بیچوں بیچ کھڑا کرے گا، پھر نیکی بدی تولی جائے گی اگر نیکی بڑھ گئی تو باآواز بلند اعلان کرے گا کہ فلاں بن فلاں نجات پا گیا اب اس کے بعد ہلاکت اس کے پاس بھی نہیں آئے گی اور اگر بدی بڑھ گئی تو ندا کرے گا اور سب کو سنا کر کہے گا کہ فلاں کا بیٹا فلاں ہلاک ہوا اب وہ بھلائی سے محروم ہوگیا“ [ابو نعیم فی الحلیة کما فی تخریج الاحیاء:4098،ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے داؤد ابن حجر راوی ضعیف و متروک ہے۔
ایسے لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے دوزخ کی آگ ان کے منہ جھلس دے گی چہروں کو جلادے گی کمر کو سلگا دے گی یہ بے بس ہوں گے آگ کو ہٹا نہ سکیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں”پہلے ہی شعلے کی لپٹ ان کا سارے گوشت پوست ہڈیوں سے الگ کر کے ان کے قدموں میں ڈال دے گی وہ وہاں بدشکل ہوں گے دانت نکلے ہوں گے ہونٹ اوپر چڑھا ہوا اور نیچے گرا ہوا ہو گا اوپر کا ہونٹ تو تالو تک پہنچا ہوا ہو گا اور نیچے کا ہونٹ ناف تک آ جائے گا۔“ [مسند احمد:88/3:ضعیف]
صفحہ نمبر5817
قبروں سے اٹھنے کے بعد ٭٭
جب جی اٹھنے کا صور پھونکا جائے گا اور لوگ اپنی قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے، اس دن نہ تو کوئی رشتے ناتے باقی رہیں گے۔ نہ کوئی کسی سے پوچھے گا، نہ باپ کو اولاد پرشفقت ہو گی، نہ اولاد باپ کا غم کھائے گی۔ عجب آپا دھاپی ہو گی۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا يُبَصَّرُونَهُمْ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ» [ 70-المعارج: 10، 11 ] کوئی دوست کسی دوست سے ایک دوسرے کو دیکھنے کے باوجود کچھ نہ پوچھے گا۔ صاف دیکھے گا کہ قریبی شخص ہے مصیبت میں ہے، گناہوں کے بوجھ سے دب رہا ہے لیکن اس کی طرف التفات تک نہ کرے گا، نہ کچھ پوچھے گا آنکھ پھیرلے گا، جیسے قرآن میں ہے کہ «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [ 80-عبس: 34- 37 ] اس دن آدمی اپنے بھائی سے، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے، اپنی بیوی سے، اور اپنے بچوں سے بھاگتا پھرے گا“
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اگلوں پچھلوں کو جمع کرے گا پھر ایک منادی ندا کرے گا جس کسی کا کوئی حق کسی دوسرے کے ذمہ ہو وہ بھی آئے اور اس سے اپنا حق لے جائے۔ تو اگرچہ کسی کا کوئی حق باپ کے ذمہ یا اپنی اولاد کے ذمہ یا اپنی بیوی کے ذمہ ہو وہ بھی خوش ہوتا ہوا اور دوڑتا ہوا آئے گا اور اپنے حق کے تقاضے شروع کرے گا جسے اس آیت «فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ» [ سورة المؤمنون-23: 101 ] میں ہے۔
صفحہ نمبر5815
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جو چیز اسے نہ خوش کرے وہ مجھے بھی ناخوش کرتی ہے اور جو چیز اسے خوش کرے وہ مجھے بھی خوش کرتی ہے قیامت کے روز سب رشتے ناتے ٹوٹ جائیں گے لیکن میرا نسب میرا سبب میری رشتہ داری نا ٹوٹے گی“ [مسند احمد:323/4:صحیح]
اس حدیث کی اصل بخاری مسلم میں بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے اسے ناراض کرنے والی اور اسے ستانے والی چیزیں مجھے ناراض کرنے والی اور مجھے تکلیف پہنچانے والی ہے۔“ [صحیح بخاری:3714]
صفحہ نمبر5816
رضی اللہ عنہا مسند احمد میں ہے رسول اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا ”لوگوں کا کیا حال ہے کہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ بھی آپ کی قوم کو کوئی فائدہ نہ دے گا واللہ میرے رشتہ دنیا میں اور آخرت میں ملا ہوا ہے۔ اے لوگو! میں تمہارا میرسامان ہوں، جب تم آؤ گے، ایک شخص کہے گا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں فلاں بن فلاں ہوں، میں جواب دونگا کہ ہاں نسب تو میں نے پہچان لیا لیکن تم لوگوں نے میرے بعد بدعتیں ایجاد کی تھیں اور ایڑیوں کے بل مرتد ہو گے تھے۔“ [مسند احمد:18/3:حسن لغیرہ] مسند امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما میں ہم نے کئی سندوں سے یہ روایت کی ہے کہ جب آپ نے ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو فرمایا کرتے تھے واللہ مجھے اس نکاح سے صرف یہ غرض تھی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر سبب ونسب قیامت کے دن کٹ جائے گا مگر میرا نسب اور سبب۔ [مسند عمر بن الخطاب لابن کثیر 398/3] بھی مذکور ہے کہ آپ نے ان کا مہر از روئے تعظیم وبزرگی چالیس ہزار مقرر کیا تھا۔
ابن عساکر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کل رشتے ناتے اور سسرالی تعلقات بجز میرے ایسے تعلقات کے قیامت کے دن کٹ جائیں گے۔“ [طبرانی کبیر:45/3:صحیح بالشواھد] ایک حدیث میں ہے کہ ”میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جہاں میرا نکاح ہوا ہے اور جس کا نکاح میرے ساتھ ہوا ہے وہ سب جنت میں بھی میرے ساتھ رہیں تو اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی۔“ [تاریخ دمشق 119/19:ضعیف]
جس کی ایک نیکی بھی گناہوں سے بڑھ گئی وہ کامیاب ہو گیا جہنم سے آزاد اور جنت میں داخل ہو گیا اپنی مراد کو پہنچ گیا اور جس سے ڈرتا تھا اس سے بچ گیا۔ اور جس کی برائیاں بھلائیوں سے بڑھ گئیں وہ ہلاک ہوئے نقصان میں آ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں”قیامت کے دن ترازو پر ایک فرشتہ مقرر ہو گا جو ہر انسان کو لا کر ترازو کے پاس بیچوں بیچ کھڑا کرے گا، پھر نیکی بدی تولی جائے گی اگر نیکی بڑھ گئی تو باآواز بلند اعلان کرے گا کہ فلاں بن فلاں نجات پا گیا اب اس کے بعد ہلاکت اس کے پاس بھی نہیں آئے گی اور اگر بدی بڑھ گئی تو ندا کرے گا اور سب کو سنا کر کہے گا کہ فلاں کا بیٹا فلاں ہلاک ہوا اب وہ بھلائی سے محروم ہوگیا“ [ابو نعیم فی الحلیة کما فی تخریج الاحیاء:4098،ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے داؤد ابن حجر راوی ضعیف و متروک ہے۔
ایسے لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے دوزخ کی آگ ان کے منہ جھلس دے گی چہروں کو جلادے گی کمر کو سلگا دے گی یہ بے بس ہوں گے آگ کو ہٹا نہ سکیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں”پہلے ہی شعلے کی لپٹ ان کا سارے گوشت پوست ہڈیوں سے الگ کر کے ان کے قدموں میں ڈال دے گی وہ وہاں بدشکل ہوں گے دانت نکلے ہوں گے ہونٹ اوپر چڑھا ہوا اور نیچے گرا ہوا ہو گا اوپر کا ہونٹ تو تالو تک پہنچا ہوا ہو گا اور نیچے کا ہونٹ ناف تک آ جائے گا۔“ [مسند احمد:88/3:ضعیف]
صفحہ نمبر5817
قبروں سے اٹھنے کے بعد ٭٭
جب جی اٹھنے کا صور پھونکا جائے گا اور لوگ اپنی قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے، اس دن نہ تو کوئی رشتے ناتے باقی رہیں گے۔ نہ کوئی کسی سے پوچھے گا، نہ باپ کو اولاد پرشفقت ہو گی، نہ اولاد باپ کا غم کھائے گی۔ عجب آپا دھاپی ہو گی۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا يُبَصَّرُونَهُمْ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ» [ 70-المعارج: 10، 11 ] کوئی دوست کسی دوست سے ایک دوسرے کو دیکھنے کے باوجود کچھ نہ پوچھے گا۔ صاف دیکھے گا کہ قریبی شخص ہے مصیبت میں ہے، گناہوں کے بوجھ سے دب رہا ہے لیکن اس کی طرف التفات تک نہ کرے گا، نہ کچھ پوچھے گا آنکھ پھیرلے گا، جیسے قرآن میں ہے کہ «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [ 80-عبس: 34- 37 ] اس دن آدمی اپنے بھائی سے، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے، اپنی بیوی سے، اور اپنے بچوں سے بھاگتا پھرے گا“
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اگلوں پچھلوں کو جمع کرے گا پھر ایک منادی ندا کرے گا جس کسی کا کوئی حق کسی دوسرے کے ذمہ ہو وہ بھی آئے اور اس سے اپنا حق لے جائے۔ تو اگرچہ کسی کا کوئی حق باپ کے ذمہ یا اپنی اولاد کے ذمہ یا اپنی بیوی کے ذمہ ہو وہ بھی خوش ہوتا ہوا اور دوڑتا ہوا آئے گا اور اپنے حق کے تقاضے شروع کرے گا جسے اس آیت «فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ» [ سورة المؤمنون-23: 101 ] میں ہے۔
صفحہ نمبر5815
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جو چیز اسے نہ خوش کرے وہ مجھے بھی ناخوش کرتی ہے اور جو چیز اسے خوش کرے وہ مجھے بھی خوش کرتی ہے قیامت کے روز سب رشتے ناتے ٹوٹ جائیں گے لیکن میرا نسب میرا سبب میری رشتہ داری نا ٹوٹے گی“ [مسند احمد:323/4:صحیح]
اس حدیث کی اصل بخاری مسلم میں بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے اسے ناراض کرنے والی اور اسے ستانے والی چیزیں مجھے ناراض کرنے والی اور مجھے تکلیف پہنچانے والی ہے۔“ [صحیح بخاری:3714]
صفحہ نمبر5816
رضی اللہ عنہا مسند احمد میں ہے رسول اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا ”لوگوں کا کیا حال ہے کہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ بھی آپ کی قوم کو کوئی فائدہ نہ دے گا واللہ میرے رشتہ دنیا میں اور آخرت میں ملا ہوا ہے۔ اے لوگو! میں تمہارا میرسامان ہوں، جب تم آؤ گے، ایک شخص کہے گا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں فلاں بن فلاں ہوں، میں جواب دونگا کہ ہاں نسب تو میں نے پہچان لیا لیکن تم لوگوں نے میرے بعد بدعتیں ایجاد کی تھیں اور ایڑیوں کے بل مرتد ہو گے تھے۔“ [مسند احمد:18/3:حسن لغیرہ] مسند امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما میں ہم نے کئی سندوں سے یہ روایت کی ہے کہ جب آپ نے ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو فرمایا کرتے تھے واللہ مجھے اس نکاح سے صرف یہ غرض تھی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر سبب ونسب قیامت کے دن کٹ جائے گا مگر میرا نسب اور سبب۔ [مسند عمر بن الخطاب لابن کثیر 398/3] بھی مذکور ہے کہ آپ نے ان کا مہر از روئے تعظیم وبزرگی چالیس ہزار مقرر کیا تھا۔
ابن عساکر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کل رشتے ناتے اور سسرالی تعلقات بجز میرے ایسے تعلقات کے قیامت کے دن کٹ جائیں گے۔“ [طبرانی کبیر:45/3:صحیح بالشواھد] ایک حدیث میں ہے کہ ”میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جہاں میرا نکاح ہوا ہے اور جس کا نکاح میرے ساتھ ہوا ہے وہ سب جنت میں بھی میرے ساتھ رہیں تو اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی۔“ [تاریخ دمشق 119/19:ضعیف]
جس کی ایک نیکی بھی گناہوں سے بڑھ گئی وہ کامیاب ہو گیا جہنم سے آزاد اور جنت میں داخل ہو گیا اپنی مراد کو پہنچ گیا اور جس سے ڈرتا تھا اس سے بچ گیا۔ اور جس کی برائیاں بھلائیوں سے بڑھ گئیں وہ ہلاک ہوئے نقصان میں آ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں”قیامت کے دن ترازو پر ایک فرشتہ مقرر ہو گا جو ہر انسان کو لا کر ترازو کے پاس بیچوں بیچ کھڑا کرے گا، پھر نیکی بدی تولی جائے گی اگر نیکی بڑھ گئی تو باآواز بلند اعلان کرے گا کہ فلاں بن فلاں نجات پا گیا اب اس کے بعد ہلاکت اس کے پاس بھی نہیں آئے گی اور اگر بدی بڑھ گئی تو ندا کرے گا اور سب کو سنا کر کہے گا کہ فلاں کا بیٹا فلاں ہلاک ہوا اب وہ بھلائی سے محروم ہوگیا“ [ابو نعیم فی الحلیة کما فی تخریج الاحیاء:4098،ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے داؤد ابن حجر راوی ضعیف و متروک ہے۔
ایسے لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے دوزخ کی آگ ان کے منہ جھلس دے گی چہروں کو جلادے گی کمر کو سلگا دے گی یہ بے بس ہوں گے آگ کو ہٹا نہ سکیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں”پہلے ہی شعلے کی لپٹ ان کا سارے گوشت پوست ہڈیوں سے الگ کر کے ان کے قدموں میں ڈال دے گی وہ وہاں بدشکل ہوں گے دانت نکلے ہوں گے ہونٹ اوپر چڑھا ہوا اور نیچے گرا ہوا ہو گا اوپر کا ہونٹ تو تالو تک پہنچا ہوا ہو گا اور نیچے کا ہونٹ ناف تک آ جائے گا۔“ [مسند احمد:88/3:ضعیف]
صفحہ نمبر5817
مکمل آگاہی کے بعد بھی محروم ہدایت ٭٭
کافروں کو ان کے کفر اور گناہوں پر ایمان نہ لانے پر قیامت کے دن جو ڈانٹ ڈپٹ ہو گی، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ «رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّـهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا» [ 4-النساء: 165 ] ”میں نے تمہاری طرف رسول بھیجے تھے، تم پر کتابیں نازل فرمائی تھیں، تمہارے شک زائل کر دئیے تھے تمہاری کوئی حجت باقی نہیں رکھی تھی جیسے فرمان ہے کہ تاکہ لوگوں کا عذر رسولوں کے آنے کے بعد باقی نہ رہے۔“
اور فرمایا «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا» [ 17-الإسراء: 15 ] ”ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے“ ایک اور آیت میں ہے «تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ فَاعْتَرَفُوا بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَابِ السَّعِيرِ» [ 67-الملك: 8-11 ] ”جب جہنم میں کوئی جماعت جائے گی اس سے وہاں کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے آگاہ کرنے والے آئے نہ تھے“؟ اس وقت یہ حرماں نصیب لوگ اقرار کریں گے کہ بیشک تیری حجت پوری ہو گئی تھی لیکن ہم اپنی بدقسمتی اور سخت دلی کے باعث درست نہ ہوئے اپنی گمراہی پر اڑ گئے اور راہ راست پر نہ چلے۔ اللہ اب تو ہمیں پھر دنیا کی طرف بھیج دے اگر اب ایسا کریں تو بیشک ہم ظالم ہیں اور مستحق سزا ہیں،
جیسے فرمان ہے «فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِيْلٍ ذَٰلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّـهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ» [ 40- غافر: 12، 11 ] ہمیں اپنی تقصیروں کا اقرار ہے کیا اب کسی طرح بھی چھٹکارے کی راہ مل سکتی ہے؟ لیکن جواب دیا جائے گا کہ اب سب راہیں بند ہیں۔ دار فنا ہو گیا، اب دار جزا ہے۔ توحید کے وقت شرک کیا، اب پچھتانے سے کیا حاصل؟
صفحہ نمبر5821
مکمل آگاہی کے بعد بھی محروم ہدایت ٭٭
کافروں کو ان کے کفر اور گناہوں پر ایمان نہ لانے پر قیامت کے دن جو ڈانٹ ڈپٹ ہو گی، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ «رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّـهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا» [ 4-النساء: 165 ] ”میں نے تمہاری طرف رسول بھیجے تھے، تم پر کتابیں نازل فرمائی تھیں، تمہارے شک زائل کر دئیے تھے تمہاری کوئی حجت باقی نہیں رکھی تھی جیسے فرمان ہے کہ تاکہ لوگوں کا عذر رسولوں کے آنے کے بعد باقی نہ رہے۔“
اور فرمایا «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا» [ 17-الإسراء: 15 ] ”ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے“ ایک اور آیت میں ہے «تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ فَاعْتَرَفُوا بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَابِ السَّعِيرِ» [ 67-الملك: 8-11 ] ”جب جہنم میں کوئی جماعت جائے گی اس سے وہاں کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے آگاہ کرنے والے آئے نہ تھے“؟ اس وقت یہ حرماں نصیب لوگ اقرار کریں گے کہ بیشک تیری حجت پوری ہو گئی تھی لیکن ہم اپنی بدقسمتی اور سخت دلی کے باعث درست نہ ہوئے اپنی گمراہی پر اڑ گئے اور راہ راست پر نہ چلے۔ اللہ اب تو ہمیں پھر دنیا کی طرف بھیج دے اگر اب ایسا کریں تو بیشک ہم ظالم ہیں اور مستحق سزا ہیں،
جیسے فرمان ہے «فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِيْلٍ ذَٰلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّـهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ» [ 40- غافر: 12، 11 ] ہمیں اپنی تقصیروں کا اقرار ہے کیا اب کسی طرح بھی چھٹکارے کی راہ مل سکتی ہے؟ لیکن جواب دیا جائے گا کہ اب سب راہیں بند ہیں۔ دار فنا ہو گیا، اب دار جزا ہے۔ توحید کے وقت شرک کیا، اب پچھتانے سے کیا حاصل؟
صفحہ نمبر5821
مکمل آگاہی کے بعد بھی محروم ہدایت ٭٭
کافروں کو ان کے کفر اور گناہوں پر ایمان نہ لانے پر قیامت کے دن جو ڈانٹ ڈپٹ ہو گی، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ «رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّـهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا» [ 4-النساء: 165 ] ”میں نے تمہاری طرف رسول بھیجے تھے، تم پر کتابیں نازل فرمائی تھیں، تمہارے شک زائل کر دئیے تھے تمہاری کوئی حجت باقی نہیں رکھی تھی جیسے فرمان ہے کہ تاکہ لوگوں کا عذر رسولوں کے آنے کے بعد باقی نہ رہے۔“
اور فرمایا «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا» [ 17-الإسراء: 15 ] ”ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے“ ایک اور آیت میں ہے «تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ فَاعْتَرَفُوا بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَابِ السَّعِيرِ» [ 67-الملك: 8-11 ] ”جب جہنم میں کوئی جماعت جائے گی اس سے وہاں کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے آگاہ کرنے والے آئے نہ تھے“؟ اس وقت یہ حرماں نصیب لوگ اقرار کریں گے کہ بیشک تیری حجت پوری ہو گئی تھی لیکن ہم اپنی بدقسمتی اور سخت دلی کے باعث درست نہ ہوئے اپنی گمراہی پر اڑ گئے اور راہ راست پر نہ چلے۔ اللہ اب تو ہمیں پھر دنیا کی طرف بھیج دے اگر اب ایسا کریں تو بیشک ہم ظالم ہیں اور مستحق سزا ہیں،
جیسے فرمان ہے «فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِيْلٍ ذَٰلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّـهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ» [ 40- غافر: 12، 11 ] ہمیں اپنی تقصیروں کا اقرار ہے کیا اب کسی طرح بھی چھٹکارے کی راہ مل سکتی ہے؟ لیکن جواب دیا جائے گا کہ اب سب راہیں بند ہیں۔ دار فنا ہو گیا، اب دار جزا ہے۔ توحید کے وقت شرک کیا، اب پچھتانے سے کیا حاصل؟
صفحہ نمبر5821
ناکام آرزو ٭٭
کافر جب جہنم سے نکلنے کی آرزو کریں گے تو انہیں جواب ملے گا کہ اب تو تم اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو گے خبردار اب یہ سوال مجھ سے نہ کرنا آہ یہ کلام رحمان ہو گا جو دوزخیوں کو ہرکھیل سے مایوس کر دے گا اللہ ہمیں بچائے اے رحمتوں والے اللہ ہمیں اپنے رحم کے دامن میں چھپالے اپنی ڈانٹ ڈپٹ اور غصے سے بچالے آمین۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جہنمی پہلے تو داروغہ جہنم کو بلائیں گے چالیس سال تک اسے پکارتے رہیں گے لیکن کوئی جواب نہ پائیں گے چالیس برس کے بعد جواب ملے گا کہ تم یہیں پڑے رہو۔ ان کی پکار کی کوئی وقعت اور داروغہ جہنم کے پاس ہو گی نہ اللہ جل وعلا کے پاس۔ پھر براہ راست اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے اور کہیں گے کہ اے اللہ ہم اپنی بدبختی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہم اپنی گمراہی میں ڈوب گئے اے اللہ اب تو ہمیں یہاں سے نجات دے اگر اب بھی ہم یہی برے کام کریں تو جو چاہے سزا کرنا اس کا جواب انہیں دنیا کی دگنی عمر تک نہ دیا جائے گا پھر فرمایا جائے گا کہ رحمت سے دور ہو کر ذلیل وخوار ہو کر اسی دوزخ میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو اب یہ محض مایوس ہو جائیں گے اور گدھوں کی طرح چلاتے اور شور مچاتے جلتے اور بھنتے رہیں گے۔
صفحہ نمبر5824
اس وقت ان کے چہرے بدل جائیں گے صورتیں مسخ ہو جائیں گی یہاں تک کہ بعض مومن شفاعت کی اجازت لے کر آئیں گے لیکن یہاں کسی کو نہیں پہچانیں گے جہنمی انہیں دیکھ کر کہیں گے کہ میں فلاں ہوں لیکن یہ جواب دیں گے کہ غلط ہے ہم تمہیں نہیں پہچانیں گے۔ اب دوزخی لوگ اللہ کو پکاریں گے اور وہ جواب پائیں گے جو اوپر مذکور ہوا ہے پھر دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جائیں گے اور یہ وہی سڑتے رہیں گے۔ انہیں شرمندہ اور پشیمان کرنے کے لیے ان کا ایک زبردست گناہ پیش کیا جائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے بندوں کا مذاق اڑتے تھے اور ان کی دعاؤں پر دل لگی کرتے تھے وہ مومن اپنے رب سے بخشش و رحمت طلب کرتے تھے اسے ارحم الراحمین کہہ کر پکارتے تھے لیکن یہ اسے ہنسی میں اڑاتے تھے اور ان کے بغض میں ذکر رب چھوڑ بیٹھتے تھے اور ان کی عبادتوں اور دعاؤں پر ہنستے تھے جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ وَإِذَا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ» [83-المطففين:29،30] ، یعنی گنہگار ایمانداروں سے ہنستے تھے اور انہیں مذاق میں اڑاتے تھے۔ اب ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے اپنے ایماندار صبر گزار بندوں کو بدلہ دے دیا ہے وہ سعادت سلامت نجات وفلاح پا چکے ہیں اور پورے کامیاب ہو چکے ہیں۔
صفحہ نمبر5825
ناکام آرزو ٭٭
کافر جب جہنم سے نکلنے کی آرزو کریں گے تو انہیں جواب ملے گا کہ اب تو تم اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو گے خبردار اب یہ سوال مجھ سے نہ کرنا آہ یہ کلام رحمان ہو گا جو دوزخیوں کو ہرکھیل سے مایوس کر دے گا اللہ ہمیں بچائے اے رحمتوں والے اللہ ہمیں اپنے رحم کے دامن میں چھپالے اپنی ڈانٹ ڈپٹ اور غصے سے بچالے آمین۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جہنمی پہلے تو داروغہ جہنم کو بلائیں گے چالیس سال تک اسے پکارتے رہیں گے لیکن کوئی جواب نہ پائیں گے چالیس برس کے بعد جواب ملے گا کہ تم یہیں پڑے رہو۔ ان کی پکار کی کوئی وقعت اور داروغہ جہنم کے پاس ہو گی نہ اللہ جل وعلا کے پاس۔ پھر براہ راست اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے اور کہیں گے کہ اے اللہ ہم اپنی بدبختی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہم اپنی گمراہی میں ڈوب گئے اے اللہ اب تو ہمیں یہاں سے نجات دے اگر اب بھی ہم یہی برے کام کریں تو جو چاہے سزا کرنا اس کا جواب انہیں دنیا کی دگنی عمر تک نہ دیا جائے گا پھر فرمایا جائے گا کہ رحمت سے دور ہو کر ذلیل وخوار ہو کر اسی دوزخ میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو اب یہ محض مایوس ہو جائیں گے اور گدھوں کی طرح چلاتے اور شور مچاتے جلتے اور بھنتے رہیں گے۔
صفحہ نمبر5824
اس وقت ان کے چہرے بدل جائیں گے صورتیں مسخ ہو جائیں گی یہاں تک کہ بعض مومن شفاعت کی اجازت لے کر آئیں گے لیکن یہاں کسی کو نہیں پہچانیں گے جہنمی انہیں دیکھ کر کہیں گے کہ میں فلاں ہوں لیکن یہ جواب دیں گے کہ غلط ہے ہم تمہیں نہیں پہچانیں گے۔ اب دوزخی لوگ اللہ کو پکاریں گے اور وہ جواب پائیں گے جو اوپر مذکور ہوا ہے پھر دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جائیں گے اور یہ وہی سڑتے رہیں گے۔ انہیں شرمندہ اور پشیمان کرنے کے لیے ان کا ایک زبردست گناہ پیش کیا جائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے بندوں کا مذاق اڑتے تھے اور ان کی دعاؤں پر دل لگی کرتے تھے وہ مومن اپنے رب سے بخشش و رحمت طلب کرتے تھے اسے ارحم الراحمین کہہ کر پکارتے تھے لیکن یہ اسے ہنسی میں اڑاتے تھے اور ان کے بغض میں ذکر رب چھوڑ بیٹھتے تھے اور ان کی عبادتوں اور دعاؤں پر ہنستے تھے جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ وَإِذَا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ» [83-المطففين:29،30] ، یعنی گنہگار ایمانداروں سے ہنستے تھے اور انہیں مذاق میں اڑاتے تھے۔ اب ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے اپنے ایماندار صبر گزار بندوں کو بدلہ دے دیا ہے وہ سعادت سلامت نجات وفلاح پا چکے ہیں اور پورے کامیاب ہو چکے ہیں۔
صفحہ نمبر5825
ناکام آرزو ٭٭
کافر جب جہنم سے نکلنے کی آرزو کریں گے تو انہیں جواب ملے گا کہ اب تو تم اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو گے خبردار اب یہ سوال مجھ سے نہ کرنا آہ یہ کلام رحمان ہو گا جو دوزخیوں کو ہرکھیل سے مایوس کر دے گا اللہ ہمیں بچائے اے رحمتوں والے اللہ ہمیں اپنے رحم کے دامن میں چھپالے اپنی ڈانٹ ڈپٹ اور غصے سے بچالے آمین۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جہنمی پہلے تو داروغہ جہنم کو بلائیں گے چالیس سال تک اسے پکارتے رہیں گے لیکن کوئی جواب نہ پائیں گے چالیس برس کے بعد جواب ملے گا کہ تم یہیں پڑے رہو۔ ان کی پکار کی کوئی وقعت اور داروغہ جہنم کے پاس ہو گی نہ اللہ جل وعلا کے پاس۔ پھر براہ راست اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے اور کہیں گے کہ اے اللہ ہم اپنی بدبختی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہم اپنی گمراہی میں ڈوب گئے اے اللہ اب تو ہمیں یہاں سے نجات دے اگر اب بھی ہم یہی برے کام کریں تو جو چاہے سزا کرنا اس کا جواب انہیں دنیا کی دگنی عمر تک نہ دیا جائے گا پھر فرمایا جائے گا کہ رحمت سے دور ہو کر ذلیل وخوار ہو کر اسی دوزخ میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو اب یہ محض مایوس ہو جائیں گے اور گدھوں کی طرح چلاتے اور شور مچاتے جلتے اور بھنتے رہیں گے۔
صفحہ نمبر5824
اس وقت ان کے چہرے بدل جائیں گے صورتیں مسخ ہو جائیں گی یہاں تک کہ بعض مومن شفاعت کی اجازت لے کر آئیں گے لیکن یہاں کسی کو نہیں پہچانیں گے جہنمی انہیں دیکھ کر کہیں گے کہ میں فلاں ہوں لیکن یہ جواب دیں گے کہ غلط ہے ہم تمہیں نہیں پہچانیں گے۔ اب دوزخی لوگ اللہ کو پکاریں گے اور وہ جواب پائیں گے جو اوپر مذکور ہوا ہے پھر دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جائیں گے اور یہ وہی سڑتے رہیں گے۔ انہیں شرمندہ اور پشیمان کرنے کے لیے ان کا ایک زبردست گناہ پیش کیا جائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے بندوں کا مذاق اڑتے تھے اور ان کی دعاؤں پر دل لگی کرتے تھے وہ مومن اپنے رب سے بخشش و رحمت طلب کرتے تھے اسے ارحم الراحمین کہہ کر پکارتے تھے لیکن یہ اسے ہنسی میں اڑاتے تھے اور ان کے بغض میں ذکر رب چھوڑ بیٹھتے تھے اور ان کی عبادتوں اور دعاؤں پر ہنستے تھے جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ وَإِذَا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ» [83-المطففين:29،30] ، یعنی گنہگار ایمانداروں سے ہنستے تھے اور انہیں مذاق میں اڑاتے تھے۔ اب ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے اپنے ایماندار صبر گزار بندوں کو بدلہ دے دیا ہے وہ سعادت سلامت نجات وفلاح پا چکے ہیں اور پورے کامیاب ہو چکے ہیں۔
صفحہ نمبر5825
ناکام آرزو ٭٭
کافر جب جہنم سے نکلنے کی آرزو کریں گے تو انہیں جواب ملے گا کہ اب تو تم اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو گے خبردار اب یہ سوال مجھ سے نہ کرنا آہ یہ کلام رحمان ہو گا جو دوزخیوں کو ہرکھیل سے مایوس کر دے گا اللہ ہمیں بچائے اے رحمتوں والے اللہ ہمیں اپنے رحم کے دامن میں چھپالے اپنی ڈانٹ ڈپٹ اور غصے سے بچالے آمین۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جہنمی پہلے تو داروغہ جہنم کو بلائیں گے چالیس سال تک اسے پکارتے رہیں گے لیکن کوئی جواب نہ پائیں گے چالیس برس کے بعد جواب ملے گا کہ تم یہیں پڑے رہو۔ ان کی پکار کی کوئی وقعت اور داروغہ جہنم کے پاس ہو گی نہ اللہ جل وعلا کے پاس۔ پھر براہ راست اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے اور کہیں گے کہ اے اللہ ہم اپنی بدبختی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہم اپنی گمراہی میں ڈوب گئے اے اللہ اب تو ہمیں یہاں سے نجات دے اگر اب بھی ہم یہی برے کام کریں تو جو چاہے سزا کرنا اس کا جواب انہیں دنیا کی دگنی عمر تک نہ دیا جائے گا پھر فرمایا جائے گا کہ رحمت سے دور ہو کر ذلیل وخوار ہو کر اسی دوزخ میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو اب یہ محض مایوس ہو جائیں گے اور گدھوں کی طرح چلاتے اور شور مچاتے جلتے اور بھنتے رہیں گے۔
صفحہ نمبر5824
اس وقت ان کے چہرے بدل جائیں گے صورتیں مسخ ہو جائیں گی یہاں تک کہ بعض مومن شفاعت کی اجازت لے کر آئیں گے لیکن یہاں کسی کو نہیں پہچانیں گے جہنمی انہیں دیکھ کر کہیں گے کہ میں فلاں ہوں لیکن یہ جواب دیں گے کہ غلط ہے ہم تمہیں نہیں پہچانیں گے۔ اب دوزخی لوگ اللہ کو پکاریں گے اور وہ جواب پائیں گے جو اوپر مذکور ہوا ہے پھر دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جائیں گے اور یہ وہی سڑتے رہیں گے۔ انہیں شرمندہ اور پشیمان کرنے کے لیے ان کا ایک زبردست گناہ پیش کیا جائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے بندوں کا مذاق اڑتے تھے اور ان کی دعاؤں پر دل لگی کرتے تھے وہ مومن اپنے رب سے بخشش و رحمت طلب کرتے تھے اسے ارحم الراحمین کہہ کر پکارتے تھے لیکن یہ اسے ہنسی میں اڑاتے تھے اور ان کے بغض میں ذکر رب چھوڑ بیٹھتے تھے اور ان کی عبادتوں اور دعاؤں پر ہنستے تھے جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ وَإِذَا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ» [83-المطففين:29،30] ، یعنی گنہگار ایمانداروں سے ہنستے تھے اور انہیں مذاق میں اڑاتے تھے۔ اب ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے اپنے ایماندار صبر گزار بندوں کو بدلہ دے دیا ہے وہ سعادت سلامت نجات وفلاح پا چکے ہیں اور پورے کامیاب ہو چکے ہیں۔
صفحہ نمبر5825
مختصر زندگی طویل گناہ ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ دنیا کی تھوڑی سے عمر میں یہ بدکاریوں میں مشغول ہو گئے اگر نیکو کار رہتے تو اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ ان نیکیوں کا بڑا اجر پاتے آج ان سے سوال ہو گا کہ تم دنیا میں کس قدر رہے جواب دیں گے کہ بہت ہی کم ایک دن یا اس سے بھی کم حساب داں لوگوں سے دریافت کر لیا جائے جواب ملے گا کہ اتنی مدت ہو یا زیادہ لیکن واقع میں وہ آخرت کی مدت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے اگر تم اسی کو جانتے ہوتے تو اس فانی کو اس جاودانی پر ترجیح نہ دیتے اور برائی کر کے اس تھوڑی سی مدت میں اس قدر اللہ کو ناراض نہ کر دیتے وہ ذرا سا وقت اگر صبر وضبط سے اطاعت الٰہی میں بسر کر دیتے تو آج راج تھا۔ خوشی ہی خوشی تھی۔
صفحہ نمبر5829
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب جنتی دوزخی اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے تو جناب باری عزوجل مومنوں سے پوچھے گا کہ تم دنیا میں کتنی مدت رہے؟ وہ کہیں گے یہی کوئی ایک آدھ دن اللہ فرمائے گا پھر تو بہت ہی اچھے رہے کہ اتنی سی دیر کی نیکیوں کا یہ بدلہ پایا کہ میری رحمت رضا مندی اور جنت حاصل کر لی۔ جہاں ہمیشگی ہے پھر جہنمیوں سے یہ سوال ہو گا وہ بھی اتنی ہی مدت بتائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہاری تجارت بڑی گھاٹے والی ہوئی کہ اتنی سی مدت میں تم نے میری ناراضگی غصہ اور جہنم خرید لیا، جہاں تم ہمیشہ پڑے رہو گے کیا تم لوگ یہ سمجھے ہوئے ہو کہ تم بے کار بے مقصد و ارادہ پیدا کئے گے ہو؟ کوئی حکمت تمہاری پیدائش میں نہیں؟ محض کھیل کے طور پر تمہیں پیدا کر دیا گیا ہے؟ کہ مثل جانوروں کے تم اچھل کودتے پھرو ثواب عذاب کے مستحق ہو یہ گمان غلط ہے تم عبادت کے لیے اللہ کے حکموں کی بجا آوری کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔ کیا تم یہ خیال کر کے نچنت ہو گے ہو گئے ہو کہ تمہیں ہماری طرف لوٹنا ہی نہیں؟ یہ بھی غلط خیال ہے جیسے فرمایا «اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى» [ 75- القيامة: 36 ] کیا لوگ یہ گماں کرتے ہیں کہ وہ مہمل چھوڑ دئیے جائیں گے اللہ کی بات اس سے بلندوبرتر ہے کہ وہ کوئی عبث کام کرے بے کار بنائے، بگاڑے وہ سچا بادشاہ اس سے پاک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش عظیم کا مالک ہے جو تمام مخلوق پر مثل چھت کے چھایا ہوا ہے وہ بہت بھلا اور عمدہ ہے خوش شکل اور نیک منظر ہے جیسے فرمان ہے ”زمین میں ہم نے ہرجوڑا عمدہ پیدا کر دیا ہے۔“
صفحہ نمبر5830
خلیفۃ المسلمین امیر المؤمنین عمر بن العزیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے آخری خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ لوگو! تم بے کار اور عبث پیدا نہیں کئے گئے اور تم مہمل چھوڑ نہیں دیئے گئے یاد رکھو کہ وعدے کا ایک دن ہے جس میں خود اللہ تعالیٰ فیصلے کرنے اور حکم فرمانے کیلئے نازل ہو گا۔ وہ نقصان میں پڑا اس نے خسارہ اٹھایا وہ بے نصیب اور بدبخت ہو گیا، وہ محروم اور خالی ہاتھ رہا، جو اللہ کی رحمت سے دور ہو گیا اور جنت سے روک دیا گیا، جس کی چوڑائی مثل کل زمینوں اور آسمانوں کے ہے۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کل قیامت کے دن عذاب الٰہی سے وہ بچ جائے گا، جس کے دل میں اس دن کا خوف آج ہے اور جو اس فانی دنیا کو اس باقی آخرت پر قربان کر رہا ہے، اس تھوڑے کو اس بہت کے حاصل کرنے کیلئے بے تکان خرچ کر رہا ہے اور اپنے اس خوف کو امن سے بدلنے کے اسباب مہیا کر رہا ہے۔
کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم سے گزشتہ لوگ ہلاک ہوئے، جن کے قائم مقام اب تم ہو۔ اسی طرح تم بھی مٹا دیئے جاؤ گے اور تمہارے بدلے آئندہ آنے والے آئیں گے یہاں تک کہ ایک وقت آئے گا کہ ساری دنیا سمٹ کر اس خیرالوراثین کے دربار میں حاضری دے گی۔
صفحہ نمبر5831
لوگو خیال تو کرو کہ تم دن رات اپنی موت سے قریب ہو رہے ہو اور اپنے قدموں سے اپنی گور کی طرف جا رہے ہو، تمہارے پھل پک رہے ہیں، تمہاری امیدیں ختم ہو رہی ہیں، تمہاریں عمریں پوری ہو رہی ہیں۔ تمہاری اجل نزدیک آ گئی ہے، تم زمین کے گڑھوں میں دفن کر دیئے جاؤ گے، جہاں نہ کوئی بستر ہو گا، نہ تکیہ، دوست احباب چھوٹ جائیں گے، حساب کتاب شروع ہو جائے گا، اعمال سامنے آ جائیں گے، جو چھوڑ آئے وہ دوسروں کا ہو جائے گا۔ جو آگے بھیج چکے، اسے سامنے پاؤ گے، نیکیوں کے محتاج ہو گے، بدیوں کی سزائیں بھگتو گے۔ اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، اس کی باتیں سامنے آ جائیں اس سے پہلے موت تم کو اچک لے جائے۔ اس سے پہلے جواب دہی کیلئے تیار ہو جاؤ، اتنا کہا تھا کہ رونے کے غلبہ نے آواز بلند کر دی۔ منہ پر چادر کا کونہ ڈال کر رونے لگے اور حاضرین کی بھی آہ و زاری شروع ہو گئی۔
صفحہ نمبر5832
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک بیمار شخص جسے کوئی جن ستا رہا تھا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے «اَفَحَسِبْتُمْ» سے سورت کے ختم تک کی آیتیں اس کے کان میں تلاوت فرمائیں وہ اچھا ہو گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ رضی اللہ عنہما تم نے اس کے کان میں کیا پڑھا تھا؟ ”آپ رضی اللہ عنہما نے بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے یہ آیتیں اس کے کان میں پڑھ کر اسے جلا دیا۔ واللہ ان آیتوں کو اگر کوئی باایمان اور بایقین شخص کسی پہاڑ پر پڑھے تو وہ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائے۔“ [ابو نعیم فی الحلیة 70/1:مرفوع]
ابونعیم نے روایت کی ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر میں بھیجا اور حکم فرمایا کہ ہم صبح شام «اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 115 ] پڑھتے رہیں ہم نے برابر اس کی تلاوت دونوں وقت جاری رکھی۔ الحمدللہ ہم سلامتی اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹے۔ [الدر المنثور للسیوطی،34/5] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میری امت کا ڈوبنے سے بچاؤ کشتیوں میں سوار ہونے کے وقت یہ کہنا ہے۔ [طبرانی کبیر:124/12:ضعیف] «وَمَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» [ 39-الزمر: 67 ] «بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [ 11- هود: 41 ] ۔“
صفحہ نمبر5833
مختصر زندگی طویل گناہ ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ دنیا کی تھوڑی سے عمر میں یہ بدکاریوں میں مشغول ہو گئے اگر نیکو کار رہتے تو اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ ان نیکیوں کا بڑا اجر پاتے آج ان سے سوال ہو گا کہ تم دنیا میں کس قدر رہے جواب دیں گے کہ بہت ہی کم ایک دن یا اس سے بھی کم حساب داں لوگوں سے دریافت کر لیا جائے جواب ملے گا کہ اتنی مدت ہو یا زیادہ لیکن واقع میں وہ آخرت کی مدت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے اگر تم اسی کو جانتے ہوتے تو اس فانی کو اس جاودانی پر ترجیح نہ دیتے اور برائی کر کے اس تھوڑی سی مدت میں اس قدر اللہ کو ناراض نہ کر دیتے وہ ذرا سا وقت اگر صبر وضبط سے اطاعت الٰہی میں بسر کر دیتے تو آج راج تھا۔ خوشی ہی خوشی تھی۔
صفحہ نمبر5829
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب جنتی دوزخی اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے تو جناب باری عزوجل مومنوں سے پوچھے گا کہ تم دنیا میں کتنی مدت رہے؟ وہ کہیں گے یہی کوئی ایک آدھ دن اللہ فرمائے گا پھر تو بہت ہی اچھے رہے کہ اتنی سی دیر کی نیکیوں کا یہ بدلہ پایا کہ میری رحمت رضا مندی اور جنت حاصل کر لی۔ جہاں ہمیشگی ہے پھر جہنمیوں سے یہ سوال ہو گا وہ بھی اتنی ہی مدت بتائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہاری تجارت بڑی گھاٹے والی ہوئی کہ اتنی سی مدت میں تم نے میری ناراضگی غصہ اور جہنم خرید لیا، جہاں تم ہمیشہ پڑے رہو گے کیا تم لوگ یہ سمجھے ہوئے ہو کہ تم بے کار بے مقصد و ارادہ پیدا کئے گے ہو؟ کوئی حکمت تمہاری پیدائش میں نہیں؟ محض کھیل کے طور پر تمہیں پیدا کر دیا گیا ہے؟ کہ مثل جانوروں کے تم اچھل کودتے پھرو ثواب عذاب کے مستحق ہو یہ گمان غلط ہے تم عبادت کے لیے اللہ کے حکموں کی بجا آوری کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔ کیا تم یہ خیال کر کے نچنت ہو گے ہو گئے ہو کہ تمہیں ہماری طرف لوٹنا ہی نہیں؟ یہ بھی غلط خیال ہے جیسے فرمایا «اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى» [ 75- القيامة: 36 ] کیا لوگ یہ گماں کرتے ہیں کہ وہ مہمل چھوڑ دئیے جائیں گے اللہ کی بات اس سے بلندوبرتر ہے کہ وہ کوئی عبث کام کرے بے کار بنائے، بگاڑے وہ سچا بادشاہ اس سے پاک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش عظیم کا مالک ہے جو تمام مخلوق پر مثل چھت کے چھایا ہوا ہے وہ بہت بھلا اور عمدہ ہے خوش شکل اور نیک منظر ہے جیسے فرمان ہے ”زمین میں ہم نے ہرجوڑا عمدہ پیدا کر دیا ہے۔“
صفحہ نمبر5830
خلیفۃ المسلمین امیر المؤمنین عمر بن العزیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے آخری خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ لوگو! تم بے کار اور عبث پیدا نہیں کئے گئے اور تم مہمل چھوڑ نہیں دیئے گئے یاد رکھو کہ وعدے کا ایک دن ہے جس میں خود اللہ تعالیٰ فیصلے کرنے اور حکم فرمانے کیلئے نازل ہو گا۔ وہ نقصان میں پڑا اس نے خسارہ اٹھایا وہ بے نصیب اور بدبخت ہو گیا، وہ محروم اور خالی ہاتھ رہا، جو اللہ کی رحمت سے دور ہو گیا اور جنت سے روک دیا گیا، جس کی چوڑائی مثل کل زمینوں اور آسمانوں کے ہے۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کل قیامت کے دن عذاب الٰہی سے وہ بچ جائے گا، جس کے دل میں اس دن کا خوف آج ہے اور جو اس فانی دنیا کو اس باقی آخرت پر قربان کر رہا ہے، اس تھوڑے کو اس بہت کے حاصل کرنے کیلئے بے تکان خرچ کر رہا ہے اور اپنے اس خوف کو امن سے بدلنے کے اسباب مہیا کر رہا ہے۔
کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم سے گزشتہ لوگ ہلاک ہوئے، جن کے قائم مقام اب تم ہو۔ اسی طرح تم بھی مٹا دیئے جاؤ گے اور تمہارے بدلے آئندہ آنے والے آئیں گے یہاں تک کہ ایک وقت آئے گا کہ ساری دنیا سمٹ کر اس خیرالوراثین کے دربار میں حاضری دے گی۔
صفحہ نمبر5831
لوگو خیال تو کرو کہ تم دن رات اپنی موت سے قریب ہو رہے ہو اور اپنے قدموں سے اپنی گور کی طرف جا رہے ہو، تمہارے پھل پک رہے ہیں، تمہاری امیدیں ختم ہو رہی ہیں، تمہاریں عمریں پوری ہو رہی ہیں۔ تمہاری اجل نزدیک آ گئی ہے، تم زمین کے گڑھوں میں دفن کر دیئے جاؤ گے، جہاں نہ کوئی بستر ہو گا، نہ تکیہ، دوست احباب چھوٹ جائیں گے، حساب کتاب شروع ہو جائے گا، اعمال سامنے آ جائیں گے، جو چھوڑ آئے وہ دوسروں کا ہو جائے گا۔ جو آگے بھیج چکے، اسے سامنے پاؤ گے، نیکیوں کے محتاج ہو گے، بدیوں کی سزائیں بھگتو گے۔ اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، اس کی باتیں سامنے آ جائیں اس سے پہلے موت تم کو اچک لے جائے۔ اس سے پہلے جواب دہی کیلئے تیار ہو جاؤ، اتنا کہا تھا کہ رونے کے غلبہ نے آواز بلند کر دی۔ منہ پر چادر کا کونہ ڈال کر رونے لگے اور حاضرین کی بھی آہ و زاری شروع ہو گئی۔
صفحہ نمبر5832
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک بیمار شخص جسے کوئی جن ستا رہا تھا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے «اَفَحَسِبْتُمْ» سے سورت کے ختم تک کی آیتیں اس کے کان میں تلاوت فرمائیں وہ اچھا ہو گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ رضی اللہ عنہما تم نے اس کے کان میں کیا پڑھا تھا؟ ”آپ رضی اللہ عنہما نے بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے یہ آیتیں اس کے کان میں پڑھ کر اسے جلا دیا۔ واللہ ان آیتوں کو اگر کوئی باایمان اور بایقین شخص کسی پہاڑ پر پڑھے تو وہ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائے۔“ [ابو نعیم فی الحلیة 70/1:مرفوع]
ابونعیم نے روایت کی ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر میں بھیجا اور حکم فرمایا کہ ہم صبح شام «اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 115 ] پڑھتے رہیں ہم نے برابر اس کی تلاوت دونوں وقت جاری رکھی۔ الحمدللہ ہم سلامتی اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹے۔ [الدر المنثور للسیوطی،34/5] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میری امت کا ڈوبنے سے بچاؤ کشتیوں میں سوار ہونے کے وقت یہ کہنا ہے۔ [طبرانی کبیر:124/12:ضعیف] «وَمَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» [ 39-الزمر: 67 ] «بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [ 11- هود: 41 ] ۔“
صفحہ نمبر5833
مختصر زندگی طویل گناہ ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ دنیا کی تھوڑی سے عمر میں یہ بدکاریوں میں مشغول ہو گئے اگر نیکو کار رہتے تو اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ ان نیکیوں کا بڑا اجر پاتے آج ان سے سوال ہو گا کہ تم دنیا میں کس قدر رہے جواب دیں گے کہ بہت ہی کم ایک دن یا اس سے بھی کم حساب داں لوگوں سے دریافت کر لیا جائے جواب ملے گا کہ اتنی مدت ہو یا زیادہ لیکن واقع میں وہ آخرت کی مدت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے اگر تم اسی کو جانتے ہوتے تو اس فانی کو اس جاودانی پر ترجیح نہ دیتے اور برائی کر کے اس تھوڑی سی مدت میں اس قدر اللہ کو ناراض نہ کر دیتے وہ ذرا سا وقت اگر صبر وضبط سے اطاعت الٰہی میں بسر کر دیتے تو آج راج تھا۔ خوشی ہی خوشی تھی۔
صفحہ نمبر5829
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب جنتی دوزخی اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے تو جناب باری عزوجل مومنوں سے پوچھے گا کہ تم دنیا میں کتنی مدت رہے؟ وہ کہیں گے یہی کوئی ایک آدھ دن اللہ فرمائے گا پھر تو بہت ہی اچھے رہے کہ اتنی سی دیر کی نیکیوں کا یہ بدلہ پایا کہ میری رحمت رضا مندی اور جنت حاصل کر لی۔ جہاں ہمیشگی ہے پھر جہنمیوں سے یہ سوال ہو گا وہ بھی اتنی ہی مدت بتائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہاری تجارت بڑی گھاٹے والی ہوئی کہ اتنی سی مدت میں تم نے میری ناراضگی غصہ اور جہنم خرید لیا، جہاں تم ہمیشہ پڑے رہو گے کیا تم لوگ یہ سمجھے ہوئے ہو کہ تم بے کار بے مقصد و ارادہ پیدا کئے گے ہو؟ کوئی حکمت تمہاری پیدائش میں نہیں؟ محض کھیل کے طور پر تمہیں پیدا کر دیا گیا ہے؟ کہ مثل جانوروں کے تم اچھل کودتے پھرو ثواب عذاب کے مستحق ہو یہ گمان غلط ہے تم عبادت کے لیے اللہ کے حکموں کی بجا آوری کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔ کیا تم یہ خیال کر کے نچنت ہو گے ہو گئے ہو کہ تمہیں ہماری طرف لوٹنا ہی نہیں؟ یہ بھی غلط خیال ہے جیسے فرمایا «اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى» [ 75- القيامة: 36 ] کیا لوگ یہ گماں کرتے ہیں کہ وہ مہمل چھوڑ دئیے جائیں گے اللہ کی بات اس سے بلندوبرتر ہے کہ وہ کوئی عبث کام کرے بے کار بنائے، بگاڑے وہ سچا بادشاہ اس سے پاک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش عظیم کا مالک ہے جو تمام مخلوق پر مثل چھت کے چھایا ہوا ہے وہ بہت بھلا اور عمدہ ہے خوش شکل اور نیک منظر ہے جیسے فرمان ہے ”زمین میں ہم نے ہرجوڑا عمدہ پیدا کر دیا ہے۔“
صفحہ نمبر5830
خلیفۃ المسلمین امیر المؤمنین عمر بن العزیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے آخری خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ لوگو! تم بے کار اور عبث پیدا نہیں کئے گئے اور تم مہمل چھوڑ نہیں دیئے گئے یاد رکھو کہ وعدے کا ایک دن ہے جس میں خود اللہ تعالیٰ فیصلے کرنے اور حکم فرمانے کیلئے نازل ہو گا۔ وہ نقصان میں پڑا اس نے خسارہ اٹھایا وہ بے نصیب اور بدبخت ہو گیا، وہ محروم اور خالی ہاتھ رہا، جو اللہ کی رحمت سے دور ہو گیا اور جنت سے روک دیا گیا، جس کی چوڑائی مثل کل زمینوں اور آسمانوں کے ہے۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کل قیامت کے دن عذاب الٰہی سے وہ بچ جائے گا، جس کے دل میں اس دن کا خوف آج ہے اور جو اس فانی دنیا کو اس باقی آخرت پر قربان کر رہا ہے، اس تھوڑے کو اس بہت کے حاصل کرنے کیلئے بے تکان خرچ کر رہا ہے اور اپنے اس خوف کو امن سے بدلنے کے اسباب مہیا کر رہا ہے۔
کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم سے گزشتہ لوگ ہلاک ہوئے، جن کے قائم مقام اب تم ہو۔ اسی طرح تم بھی مٹا دیئے جاؤ گے اور تمہارے بدلے آئندہ آنے والے آئیں گے یہاں تک کہ ایک وقت آئے گا کہ ساری دنیا سمٹ کر اس خیرالوراثین کے دربار میں حاضری دے گی۔
صفحہ نمبر5831
لوگو خیال تو کرو کہ تم دن رات اپنی موت سے قریب ہو رہے ہو اور اپنے قدموں سے اپنی گور کی طرف جا رہے ہو، تمہارے پھل پک رہے ہیں، تمہاری امیدیں ختم ہو رہی ہیں، تمہاریں عمریں پوری ہو رہی ہیں۔ تمہاری اجل نزدیک آ گئی ہے، تم زمین کے گڑھوں میں دفن کر دیئے جاؤ گے، جہاں نہ کوئی بستر ہو گا، نہ تکیہ، دوست احباب چھوٹ جائیں گے، حساب کتاب شروع ہو جائے گا، اعمال سامنے آ جائیں گے، جو چھوڑ آئے وہ دوسروں کا ہو جائے گا۔ جو آگے بھیج چکے، اسے سامنے پاؤ گے، نیکیوں کے محتاج ہو گے، بدیوں کی سزائیں بھگتو گے۔ اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، اس کی باتیں سامنے آ جائیں اس سے پہلے موت تم کو اچک لے جائے۔ اس سے پہلے جواب دہی کیلئے تیار ہو جاؤ، اتنا کہا تھا کہ رونے کے غلبہ نے آواز بلند کر دی۔ منہ پر چادر کا کونہ ڈال کر رونے لگے اور حاضرین کی بھی آہ و زاری شروع ہو گئی۔
صفحہ نمبر5832
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک بیمار شخص جسے کوئی جن ستا رہا تھا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے «اَفَحَسِبْتُمْ» سے سورت کے ختم تک کی آیتیں اس کے کان میں تلاوت فرمائیں وہ اچھا ہو گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ رضی اللہ عنہما تم نے اس کے کان میں کیا پڑھا تھا؟ ”آپ رضی اللہ عنہما نے بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے یہ آیتیں اس کے کان میں پڑھ کر اسے جلا دیا۔ واللہ ان آیتوں کو اگر کوئی باایمان اور بایقین شخص کسی پہاڑ پر پڑھے تو وہ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائے۔“ [ابو نعیم فی الحلیة 70/1:مرفوع]
ابونعیم نے روایت کی ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر میں بھیجا اور حکم فرمایا کہ ہم صبح شام «اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 115 ] پڑھتے رہیں ہم نے برابر اس کی تلاوت دونوں وقت جاری رکھی۔ الحمدللہ ہم سلامتی اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹے۔ [الدر المنثور للسیوطی،34/5] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میری امت کا ڈوبنے سے بچاؤ کشتیوں میں سوار ہونے کے وقت یہ کہنا ہے۔ [طبرانی کبیر:124/12:ضعیف] «وَمَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» [ 39-الزمر: 67 ] «بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [ 11- هود: 41 ] ۔“
صفحہ نمبر5833
مختصر زندگی طویل گناہ ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ دنیا کی تھوڑی سے عمر میں یہ بدکاریوں میں مشغول ہو گئے اگر نیکو کار رہتے تو اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ ان نیکیوں کا بڑا اجر پاتے آج ان سے سوال ہو گا کہ تم دنیا میں کس قدر رہے جواب دیں گے کہ بہت ہی کم ایک دن یا اس سے بھی کم حساب داں لوگوں سے دریافت کر لیا جائے جواب ملے گا کہ اتنی مدت ہو یا زیادہ لیکن واقع میں وہ آخرت کی مدت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے اگر تم اسی کو جانتے ہوتے تو اس فانی کو اس جاودانی پر ترجیح نہ دیتے اور برائی کر کے اس تھوڑی سی مدت میں اس قدر اللہ کو ناراض نہ کر دیتے وہ ذرا سا وقت اگر صبر وضبط سے اطاعت الٰہی میں بسر کر دیتے تو آج راج تھا۔ خوشی ہی خوشی تھی۔
صفحہ نمبر5829
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب جنتی دوزخی اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے تو جناب باری عزوجل مومنوں سے پوچھے گا کہ تم دنیا میں کتنی مدت رہے؟ وہ کہیں گے یہی کوئی ایک آدھ دن اللہ فرمائے گا پھر تو بہت ہی اچھے رہے کہ اتنی سی دیر کی نیکیوں کا یہ بدلہ پایا کہ میری رحمت رضا مندی اور جنت حاصل کر لی۔ جہاں ہمیشگی ہے پھر جہنمیوں سے یہ سوال ہو گا وہ بھی اتنی ہی مدت بتائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہاری تجارت بڑی گھاٹے والی ہوئی کہ اتنی سی مدت میں تم نے میری ناراضگی غصہ اور جہنم خرید لیا، جہاں تم ہمیشہ پڑے رہو گے کیا تم لوگ یہ سمجھے ہوئے ہو کہ تم بے کار بے مقصد و ارادہ پیدا کئے گے ہو؟ کوئی حکمت تمہاری پیدائش میں نہیں؟ محض کھیل کے طور پر تمہیں پیدا کر دیا گیا ہے؟ کہ مثل جانوروں کے تم اچھل کودتے پھرو ثواب عذاب کے مستحق ہو یہ گمان غلط ہے تم عبادت کے لیے اللہ کے حکموں کی بجا آوری کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔ کیا تم یہ خیال کر کے نچنت ہو گے ہو گئے ہو کہ تمہیں ہماری طرف لوٹنا ہی نہیں؟ یہ بھی غلط خیال ہے جیسے فرمایا «اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى» [ 75- القيامة: 36 ] کیا لوگ یہ گماں کرتے ہیں کہ وہ مہمل چھوڑ دئیے جائیں گے اللہ کی بات اس سے بلندوبرتر ہے کہ وہ کوئی عبث کام کرے بے کار بنائے، بگاڑے وہ سچا بادشاہ اس سے پاک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش عظیم کا مالک ہے جو تمام مخلوق پر مثل چھت کے چھایا ہوا ہے وہ بہت بھلا اور عمدہ ہے خوش شکل اور نیک منظر ہے جیسے فرمان ہے ”زمین میں ہم نے ہرجوڑا عمدہ پیدا کر دیا ہے۔“
صفحہ نمبر5830
خلیفۃ المسلمین امیر المؤمنین عمر بن العزیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے آخری خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ لوگو! تم بے کار اور عبث پیدا نہیں کئے گئے اور تم مہمل چھوڑ نہیں دیئے گئے یاد رکھو کہ وعدے کا ایک دن ہے جس میں خود اللہ تعالیٰ فیصلے کرنے اور حکم فرمانے کیلئے نازل ہو گا۔ وہ نقصان میں پڑا اس نے خسارہ اٹھایا وہ بے نصیب اور بدبخت ہو گیا، وہ محروم اور خالی ہاتھ رہا، جو اللہ کی رحمت سے دور ہو گیا اور جنت سے روک دیا گیا، جس کی چوڑائی مثل کل زمینوں اور آسمانوں کے ہے۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کل قیامت کے دن عذاب الٰہی سے وہ بچ جائے گا، جس کے دل میں اس دن کا خوف آج ہے اور جو اس فانی دنیا کو اس باقی آخرت پر قربان کر رہا ہے، اس تھوڑے کو اس بہت کے حاصل کرنے کیلئے بے تکان خرچ کر رہا ہے اور اپنے اس خوف کو امن سے بدلنے کے اسباب مہیا کر رہا ہے۔
کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم سے گزشتہ لوگ ہلاک ہوئے، جن کے قائم مقام اب تم ہو۔ اسی طرح تم بھی مٹا دیئے جاؤ گے اور تمہارے بدلے آئندہ آنے والے آئیں گے یہاں تک کہ ایک وقت آئے گا کہ ساری دنیا سمٹ کر اس خیرالوراثین کے دربار میں حاضری دے گی۔
صفحہ نمبر5831
لوگو خیال تو کرو کہ تم دن رات اپنی موت سے قریب ہو رہے ہو اور اپنے قدموں سے اپنی گور کی طرف جا رہے ہو، تمہارے پھل پک رہے ہیں، تمہاری امیدیں ختم ہو رہی ہیں، تمہاریں عمریں پوری ہو رہی ہیں۔ تمہاری اجل نزدیک آ گئی ہے، تم زمین کے گڑھوں میں دفن کر دیئے جاؤ گے، جہاں نہ کوئی بستر ہو گا، نہ تکیہ، دوست احباب چھوٹ جائیں گے، حساب کتاب شروع ہو جائے گا، اعمال سامنے آ جائیں گے، جو چھوڑ آئے وہ دوسروں کا ہو جائے گا۔ جو آگے بھیج چکے، اسے سامنے پاؤ گے، نیکیوں کے محتاج ہو گے، بدیوں کی سزائیں بھگتو گے۔ اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، اس کی باتیں سامنے آ جائیں اس سے پہلے موت تم کو اچک لے جائے۔ اس سے پہلے جواب دہی کیلئے تیار ہو جاؤ، اتنا کہا تھا کہ رونے کے غلبہ نے آواز بلند کر دی۔ منہ پر چادر کا کونہ ڈال کر رونے لگے اور حاضرین کی بھی آہ و زاری شروع ہو گئی۔
صفحہ نمبر5832
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک بیمار شخص جسے کوئی جن ستا رہا تھا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے «اَفَحَسِبْتُمْ» سے سورت کے ختم تک کی آیتیں اس کے کان میں تلاوت فرمائیں وہ اچھا ہو گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ رضی اللہ عنہما تم نے اس کے کان میں کیا پڑھا تھا؟ ”آپ رضی اللہ عنہما نے بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے یہ آیتیں اس کے کان میں پڑھ کر اسے جلا دیا۔ واللہ ان آیتوں کو اگر کوئی باایمان اور بایقین شخص کسی پہاڑ پر پڑھے تو وہ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائے۔“ [ابو نعیم فی الحلیة 70/1:مرفوع]
ابونعیم نے روایت کی ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر میں بھیجا اور حکم فرمایا کہ ہم صبح شام «اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 115 ] پڑھتے رہیں ہم نے برابر اس کی تلاوت دونوں وقت جاری رکھی۔ الحمدللہ ہم سلامتی اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹے۔ [الدر المنثور للسیوطی،34/5] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میری امت کا ڈوبنے سے بچاؤ کشتیوں میں سوار ہونے کے وقت یہ کہنا ہے۔ [طبرانی کبیر:124/12:ضعیف] «وَمَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» [ 39-الزمر: 67 ] «بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [ 11- هود: 41 ] ۔“
صفحہ نمبر5833
مختصر زندگی طویل گناہ ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ دنیا کی تھوڑی سے عمر میں یہ بدکاریوں میں مشغول ہو گئے اگر نیکو کار رہتے تو اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ ان نیکیوں کا بڑا اجر پاتے آج ان سے سوال ہو گا کہ تم دنیا میں کس قدر رہے جواب دیں گے کہ بہت ہی کم ایک دن یا اس سے بھی کم حساب داں لوگوں سے دریافت کر لیا جائے جواب ملے گا کہ اتنی مدت ہو یا زیادہ لیکن واقع میں وہ آخرت کی مدت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے اگر تم اسی کو جانتے ہوتے تو اس فانی کو اس جاودانی پر ترجیح نہ دیتے اور برائی کر کے اس تھوڑی سی مدت میں اس قدر اللہ کو ناراض نہ کر دیتے وہ ذرا سا وقت اگر صبر وضبط سے اطاعت الٰہی میں بسر کر دیتے تو آج راج تھا۔ خوشی ہی خوشی تھی۔
صفحہ نمبر5829
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب جنتی دوزخی اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے تو جناب باری عزوجل مومنوں سے پوچھے گا کہ تم دنیا میں کتنی مدت رہے؟ وہ کہیں گے یہی کوئی ایک آدھ دن اللہ فرمائے گا پھر تو بہت ہی اچھے رہے کہ اتنی سی دیر کی نیکیوں کا یہ بدلہ پایا کہ میری رحمت رضا مندی اور جنت حاصل کر لی۔ جہاں ہمیشگی ہے پھر جہنمیوں سے یہ سوال ہو گا وہ بھی اتنی ہی مدت بتائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہاری تجارت بڑی گھاٹے والی ہوئی کہ اتنی سی مدت میں تم نے میری ناراضگی غصہ اور جہنم خرید لیا، جہاں تم ہمیشہ پڑے رہو گے کیا تم لوگ یہ سمجھے ہوئے ہو کہ تم بے کار بے مقصد و ارادہ پیدا کئے گے ہو؟ کوئی حکمت تمہاری پیدائش میں نہیں؟ محض کھیل کے طور پر تمہیں پیدا کر دیا گیا ہے؟ کہ مثل جانوروں کے تم اچھل کودتے پھرو ثواب عذاب کے مستحق ہو یہ گمان غلط ہے تم عبادت کے لیے اللہ کے حکموں کی بجا آوری کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔ کیا تم یہ خیال کر کے نچنت ہو گے ہو گئے ہو کہ تمہیں ہماری طرف لوٹنا ہی نہیں؟ یہ بھی غلط خیال ہے جیسے فرمایا «اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى» [ 75- القيامة: 36 ] کیا لوگ یہ گماں کرتے ہیں کہ وہ مہمل چھوڑ دئیے جائیں گے اللہ کی بات اس سے بلندوبرتر ہے کہ وہ کوئی عبث کام کرے بے کار بنائے، بگاڑے وہ سچا بادشاہ اس سے پاک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش عظیم کا مالک ہے جو تمام مخلوق پر مثل چھت کے چھایا ہوا ہے وہ بہت بھلا اور عمدہ ہے خوش شکل اور نیک منظر ہے جیسے فرمان ہے ”زمین میں ہم نے ہرجوڑا عمدہ پیدا کر دیا ہے۔“
صفحہ نمبر5830
خلیفۃ المسلمین امیر المؤمنین عمر بن العزیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے آخری خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ لوگو! تم بے کار اور عبث پیدا نہیں کئے گئے اور تم مہمل چھوڑ نہیں دیئے گئے یاد رکھو کہ وعدے کا ایک دن ہے جس میں خود اللہ تعالیٰ فیصلے کرنے اور حکم فرمانے کیلئے نازل ہو گا۔ وہ نقصان میں پڑا اس نے خسارہ اٹھایا وہ بے نصیب اور بدبخت ہو گیا، وہ محروم اور خالی ہاتھ رہا، جو اللہ کی رحمت سے دور ہو گیا اور جنت سے روک دیا گیا، جس کی چوڑائی مثل کل زمینوں اور آسمانوں کے ہے۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کل قیامت کے دن عذاب الٰہی سے وہ بچ جائے گا، جس کے دل میں اس دن کا خوف آج ہے اور جو اس فانی دنیا کو اس باقی آخرت پر قربان کر رہا ہے، اس تھوڑے کو اس بہت کے حاصل کرنے کیلئے بے تکان خرچ کر رہا ہے اور اپنے اس خوف کو امن سے بدلنے کے اسباب مہیا کر رہا ہے۔
کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم سے گزشتہ لوگ ہلاک ہوئے، جن کے قائم مقام اب تم ہو۔ اسی طرح تم بھی مٹا دیئے جاؤ گے اور تمہارے بدلے آئندہ آنے والے آئیں گے یہاں تک کہ ایک وقت آئے گا کہ ساری دنیا سمٹ کر اس خیرالوراثین کے دربار میں حاضری دے گی۔
صفحہ نمبر5831
لوگو خیال تو کرو کہ تم دن رات اپنی موت سے قریب ہو رہے ہو اور اپنے قدموں سے اپنی گور کی طرف جا رہے ہو، تمہارے پھل پک رہے ہیں، تمہاری امیدیں ختم ہو رہی ہیں، تمہاریں عمریں پوری ہو رہی ہیں۔ تمہاری اجل نزدیک آ گئی ہے، تم زمین کے گڑھوں میں دفن کر دیئے جاؤ گے، جہاں نہ کوئی بستر ہو گا، نہ تکیہ، دوست احباب چھوٹ جائیں گے، حساب کتاب شروع ہو جائے گا، اعمال سامنے آ جائیں گے، جو چھوڑ آئے وہ دوسروں کا ہو جائے گا۔ جو آگے بھیج چکے، اسے سامنے پاؤ گے، نیکیوں کے محتاج ہو گے، بدیوں کی سزائیں بھگتو گے۔ اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، اس کی باتیں سامنے آ جائیں اس سے پہلے موت تم کو اچک لے جائے۔ اس سے پہلے جواب دہی کیلئے تیار ہو جاؤ، اتنا کہا تھا کہ رونے کے غلبہ نے آواز بلند کر دی۔ منہ پر چادر کا کونہ ڈال کر رونے لگے اور حاضرین کی بھی آہ و زاری شروع ہو گئی۔
صفحہ نمبر5832
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک بیمار شخص جسے کوئی جن ستا رہا تھا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے «اَفَحَسِبْتُمْ» سے سورت کے ختم تک کی آیتیں اس کے کان میں تلاوت فرمائیں وہ اچھا ہو گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ رضی اللہ عنہما تم نے اس کے کان میں کیا پڑھا تھا؟ ”آپ رضی اللہ عنہما نے بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے یہ آیتیں اس کے کان میں پڑھ کر اسے جلا دیا۔ واللہ ان آیتوں کو اگر کوئی باایمان اور بایقین شخص کسی پہاڑ پر پڑھے تو وہ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائے۔“ [ابو نعیم فی الحلیة 70/1:مرفوع]
ابونعیم نے روایت کی ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر میں بھیجا اور حکم فرمایا کہ ہم صبح شام «اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 115 ] پڑھتے رہیں ہم نے برابر اس کی تلاوت دونوں وقت جاری رکھی۔ الحمدللہ ہم سلامتی اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹے۔ [الدر المنثور للسیوطی،34/5] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میری امت کا ڈوبنے سے بچاؤ کشتیوں میں سوار ہونے کے وقت یہ کہنا ہے۔ [طبرانی کبیر:124/12:ضعیف] «وَمَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» [ 39-الزمر: 67 ] «بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [ 11- هود: 41 ] ۔“
صفحہ نمبر5833
دلائل کے ساتھ مشرک کا موحد ہونا ٭٭
مشرکوں کو اللہ واحد ڈرا رہا ہے اور بیان فرما رہا ہے کہ ان کے پاس ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور جواب شرط «فَاِنَّمَا» والے جملے کے ضمن میں ہے یعنی اس کا حساب اللہ کے ہاں ہے۔ کافر اس کے پاس کامیاب نہیں ہو سکتے۔ وہ نجات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایک شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تو کس کس کو پوجتا ہے؟ اس نے کہا صرف اللہ تعالیٰ جل شانہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کام آنے والا وہی ہے تو پھر اس کے ساتھ ان دوسروں کی عبادت کی کیا ضرورت ہے؟ کیا تیرا خیال ہے کہ وہ اکیلا تجھے کافی نہ ہو گا؟ جب اس نے کہا یہ تو نہیں کہہ سکتا، البتہ ارادہ یہ ہے کہ اوروں کی عبادت کر کے اس کا پورا شکر بجا لاسکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سبحان اللہ! علم کے ساتھ یہ بےعلمی؟ جانتے ہو اور پھر انجان بنے جاتے ہو؟ اب کوئی جواب بن نہ پڑا۔ چنانچہ وہ مسلمان ہو جانے کے بعد کہا کرتے تھے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائل کر لیا۔ یہ حدیث مرسل ہے۔
ترمذی میں سنداً بھی مروی ہے۔ پھر ایک دعا تعلیم فرمائی گئی۔ غفر کے معنی جب وہ مطلق ہو تو گناہوں کو مٹا دینے اور انہیں لوگوں سے چھپا دینے کے آتے ہیں۔ اور رحمت کے معنی صحیح راہ پر قائم رکھنے اور اچھے اقوال و افعال کی توفیق دینے کے ہوتے ہیں۔ الحمدللہ سورۃ مومنون کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر5838
دلائل کے ساتھ مشرک کا موحد ہونا ٭٭
مشرکوں کو اللہ واحد ڈرا رہا ہے اور بیان فرما رہا ہے کہ ان کے پاس ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور جواب شرط «فَاِنَّمَا» والے جملے کے ضمن میں ہے یعنی اس کا حساب اللہ کے ہاں ہے۔ کافر اس کے پاس کامیاب نہیں ہو سکتے۔ وہ نجات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایک شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تو کس کس کو پوجتا ہے؟ اس نے کہا صرف اللہ تعالیٰ جل شانہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کام آنے والا وہی ہے تو پھر اس کے ساتھ ان دوسروں کی عبادت کی کیا ضرورت ہے؟ کیا تیرا خیال ہے کہ وہ اکیلا تجھے کافی نہ ہو گا؟ جب اس نے کہا یہ تو نہیں کہہ سکتا، البتہ ارادہ یہ ہے کہ اوروں کی عبادت کر کے اس کا پورا شکر بجا لاسکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سبحان اللہ! علم کے ساتھ یہ بےعلمی؟ جانتے ہو اور پھر انجان بنے جاتے ہو؟ اب کوئی جواب بن نہ پڑا۔ چنانچہ وہ مسلمان ہو جانے کے بعد کہا کرتے تھے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائل کر لیا۔ یہ حدیث مرسل ہے۔
ترمذی میں سنداً بھی مروی ہے۔ پھر ایک دعا تعلیم فرمائی گئی۔ غفر کے معنی جب وہ مطلق ہو تو گناہوں کو مٹا دینے اور انہیں لوگوں سے چھپا دینے کے آتے ہیں۔ اور رحمت کے معنی صحیح راہ پر قائم رکھنے اور اچھے اقوال و افعال کی توفیق دینے کے ہوتے ہیں۔ الحمدللہ سورۃ مومنون کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر5838