John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah An-Naml

Tafsir Ibn Kathir · The Ant · 93 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

تفسیر سورۂ نمل ٭٭

حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورۃ البقرہ کے شروع میں ہم کر چکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اس کی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لیے ہدایت وبشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں۔

یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ کو بھی نہیں روکتے، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چنانچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لیے تو یہ قرآن ہدایت اور شفاہے اور بے ایمانوں کے کان تو بہرے ہیں ان میں روئی دئیے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر6384

اس سے خوشخبری پرہیزگاروں کو ہے اور بدکرداروں کو اس میں ڈراوا ہے۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ جو اسے جھٹلائیں اور قیامت کے آنے کو نہ مانیں ہم بھی انہیں چھوڑ دیتے ہیں ان کی برائیاں انہیں اچھی لگنے لگتی ہیں۔ اسی میں وہ بڑھتے اور پھولتے پھلتے رہتے ہیں اور اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے رہتے ہیں۔ ان کی نگاہیں اور دل الٹ جاتے ہیں انہیں دنیا اور آخرت میں بدترین سزائیں ہونگی اور قیامت کے دن تمام اہل محشر میں سب سے زیادہ خسارے میں یہی رہیں گے

بیشک آپ اے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ہی قرآن لے رہے ہیں۔ ہم حکیم ہیں امرو نہی کی حکمت کو بخوبی جانتے ہیں علیم ہیں چھوٹے بڑے تمام کاموں سے بخوبی خبردار ہیں۔ پس قرآن کی تمام خبریں بالکل صدق وصداقت والی ہیں اور اس کے حکم احکام سب کے سب سراسر عدل والے ہیں جیسے فرمان ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» ‏ [6-الأنعام:1] ‏ [6-الأنعام:115] ‏

صفحہ نمبر6385

تفسیر سورۂ نمل ٭٭

حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورۃ البقرہ کے شروع میں ہم کر چکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اس کی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لیے ہدایت وبشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں۔

یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ کو بھی نہیں روکتے، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چنانچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لیے تو یہ قرآن ہدایت اور شفاہے اور بے ایمانوں کے کان تو بہرے ہیں ان میں روئی دئیے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر6384

اس سے خوشخبری پرہیزگاروں کو ہے اور بدکرداروں کو اس میں ڈراوا ہے۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ جو اسے جھٹلائیں اور قیامت کے آنے کو نہ مانیں ہم بھی انہیں چھوڑ دیتے ہیں ان کی برائیاں انہیں اچھی لگنے لگتی ہیں۔ اسی میں وہ بڑھتے اور پھولتے پھلتے رہتے ہیں اور اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے رہتے ہیں۔ ان کی نگاہیں اور دل الٹ جاتے ہیں انہیں دنیا اور آخرت میں بدترین سزائیں ہونگی اور قیامت کے دن تمام اہل محشر میں سب سے زیادہ خسارے میں یہی رہیں گے

بیشک آپ اے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ہی قرآن لے رہے ہیں۔ ہم حکیم ہیں امرو نہی کی حکمت کو بخوبی جانتے ہیں علیم ہیں چھوٹے بڑے تمام کاموں سے بخوبی خبردار ہیں۔ پس قرآن کی تمام خبریں بالکل صدق وصداقت والی ہیں اور اس کے حکم احکام سب کے سب سراسر عدل والے ہیں جیسے فرمان ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» ‏ [6-الأنعام:1] ‏ [6-الأنعام:115] ‏

صفحہ نمبر6385

تفسیر سورۂ نمل ٭٭

حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورۃ البقرہ کے شروع میں ہم کر چکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اس کی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لیے ہدایت وبشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں۔

یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ کو بھی نہیں روکتے، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چنانچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لیے تو یہ قرآن ہدایت اور شفاہے اور بے ایمانوں کے کان تو بہرے ہیں ان میں روئی دئیے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر6384

اس سے خوشخبری پرہیزگاروں کو ہے اور بدکرداروں کو اس میں ڈراوا ہے۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ جو اسے جھٹلائیں اور قیامت کے آنے کو نہ مانیں ہم بھی انہیں چھوڑ دیتے ہیں ان کی برائیاں انہیں اچھی لگنے لگتی ہیں۔ اسی میں وہ بڑھتے اور پھولتے پھلتے رہتے ہیں اور اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے رہتے ہیں۔ ان کی نگاہیں اور دل الٹ جاتے ہیں انہیں دنیا اور آخرت میں بدترین سزائیں ہونگی اور قیامت کے دن تمام اہل محشر میں سب سے زیادہ خسارے میں یہی رہیں گے

بیشک آپ اے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ہی قرآن لے رہے ہیں۔ ہم حکیم ہیں امرو نہی کی حکمت کو بخوبی جانتے ہیں علیم ہیں چھوٹے بڑے تمام کاموں سے بخوبی خبردار ہیں۔ پس قرآن کی تمام خبریں بالکل صدق وصداقت والی ہیں اور اس کے حکم احکام سب کے سب سراسر عدل والے ہیں جیسے فرمان ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» ‏ [6-الأنعام:1] ‏ [6-الأنعام:115] ‏

صفحہ نمبر6385

تفسیر سورۂ نمل ٭٭

حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورۃ البقرہ کے شروع میں ہم کر چکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اس کی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لیے ہدایت وبشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں۔

یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ کو بھی نہیں روکتے، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چنانچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لیے تو یہ قرآن ہدایت اور شفاہے اور بے ایمانوں کے کان تو بہرے ہیں ان میں روئی دئیے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر6384

اس سے خوشخبری پرہیزگاروں کو ہے اور بدکرداروں کو اس میں ڈراوا ہے۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ جو اسے جھٹلائیں اور قیامت کے آنے کو نہ مانیں ہم بھی انہیں چھوڑ دیتے ہیں ان کی برائیاں انہیں اچھی لگنے لگتی ہیں۔ اسی میں وہ بڑھتے اور پھولتے پھلتے رہتے ہیں اور اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے رہتے ہیں۔ ان کی نگاہیں اور دل الٹ جاتے ہیں انہیں دنیا اور آخرت میں بدترین سزائیں ہونگی اور قیامت کے دن تمام اہل محشر میں سب سے زیادہ خسارے میں یہی رہیں گے

بیشک آپ اے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ہی قرآن لے رہے ہیں۔ ہم حکیم ہیں امرو نہی کی حکمت کو بخوبی جانتے ہیں علیم ہیں چھوٹے بڑے تمام کاموں سے بخوبی خبردار ہیں۔ پس قرآن کی تمام خبریں بالکل صدق وصداقت والی ہیں اور اس کے حکم احکام سب کے سب سراسر عدل والے ہیں جیسے فرمان ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» ‏ [6-الأنعام:1] ‏ [6-الأنعام:115] ‏

صفحہ نمبر6385

تفسیر سورۂ نمل ٭٭

حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورۃ البقرہ کے شروع میں ہم کر چکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اس کی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لیے ہدایت وبشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں۔

یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ کو بھی نہیں روکتے، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چنانچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لیے تو یہ قرآن ہدایت اور شفاہے اور بے ایمانوں کے کان تو بہرے ہیں ان میں روئی دئیے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر6384

اس سے خوشخبری پرہیزگاروں کو ہے اور بدکرداروں کو اس میں ڈراوا ہے۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ جو اسے جھٹلائیں اور قیامت کے آنے کو نہ مانیں ہم بھی انہیں چھوڑ دیتے ہیں ان کی برائیاں انہیں اچھی لگنے لگتی ہیں۔ اسی میں وہ بڑھتے اور پھولتے پھلتے رہتے ہیں اور اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے رہتے ہیں۔ ان کی نگاہیں اور دل الٹ جاتے ہیں انہیں دنیا اور آخرت میں بدترین سزائیں ہونگی اور قیامت کے دن تمام اہل محشر میں سب سے زیادہ خسارے میں یہی رہیں گے

بیشک آپ اے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ہی قرآن لے رہے ہیں۔ ہم حکیم ہیں امرو نہی کی حکمت کو بخوبی جانتے ہیں علیم ہیں چھوٹے بڑے تمام کاموں سے بخوبی خبردار ہیں۔ پس قرآن کی تمام خبریں بالکل صدق وصداقت والی ہیں اور اس کے حکم احکام سب کے سب سراسر عدل والے ہیں جیسے فرمان ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» ‏ [6-الأنعام:1] ‏ [6-الأنعام:115] ‏

صفحہ نمبر6385

تفسیر سورۂ نمل ٭٭

حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورۃ البقرہ کے شروع میں ہم کر چکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اس کی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لیے ہدایت وبشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں۔

یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ کو بھی نہیں روکتے، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چنانچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لیے تو یہ قرآن ہدایت اور شفاہے اور بے ایمانوں کے کان تو بہرے ہیں ان میں روئی دئیے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر6384

اس سے خوشخبری پرہیزگاروں کو ہے اور بدکرداروں کو اس میں ڈراوا ہے۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ جو اسے جھٹلائیں اور قیامت کے آنے کو نہ مانیں ہم بھی انہیں چھوڑ دیتے ہیں ان کی برائیاں انہیں اچھی لگنے لگتی ہیں۔ اسی میں وہ بڑھتے اور پھولتے پھلتے رہتے ہیں اور اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے رہتے ہیں۔ ان کی نگاہیں اور دل الٹ جاتے ہیں انہیں دنیا اور آخرت میں بدترین سزائیں ہونگی اور قیامت کے دن تمام اہل محشر میں سب سے زیادہ خسارے میں یہی رہیں گے

بیشک آپ اے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ہی قرآن لے رہے ہیں۔ ہم حکیم ہیں امرو نہی کی حکمت کو بخوبی جانتے ہیں علیم ہیں چھوٹے بڑے تمام کاموں سے بخوبی خبردار ہیں۔ پس قرآن کی تمام خبریں بالکل صدق وصداقت والی ہیں اور اس کے حکم احکام سب کے سب سراسر عدل والے ہیں جیسے فرمان ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» ‏ [6-الأنعام:1] ‏ [6-الأنعام:115] ‏

صفحہ نمبر6385

آگ لینے گئے رسالت مل گئی ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آ گئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔

تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم ہو جائے یا میں وہاں کچھ آگ لے آؤں کہ تم اسے ذرا سینک تاپ کر لو۔ ایسا ہی ہوا کہ آپ وہاں سے ایک بڑی خبر لائے اور بہت بڑا نور حاصل کیا فرماتا ہے کہ جب وہاں پہنچے اس منظر کو دیکھ کر حیر ان رہ گئے دیکھتے ہیں کہ سرسبز درخت ہے اس پر آگ لپٹی رہی شعلے تیز ہو رہے ہیں اور درخت کی سرسبزی اور بڑھ رہی ہے۔ اونچی نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ نور آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔ فی الوقع وہ آگ نہ تھی بلکہ نور تھا اور نور بھی رب العالمین وحدہ لاشریک کا۔ موسیٰ علیہ السلام متعجب تھے اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ کہ یکایک ایک آواز آتی ہے کہ اس نور میں جو کچھ ہے وہ پاکی والا اور بزرگی والا ہے اور اس کے پاس جو فرشتے ہیں وہ بھی مقدس ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سوتا نہیں اور نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو پست کرتا ہے اور اونچی کرتا ہے رات کے کام اس کی طرف دن سے پہلے اور دن کے کام رات سے پہلے چڑھ جاتے ہیں۔ اس کا حجاب نور یا آگ ہے اگر وہ بٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہرچیز کو جلادیں جس پر اس کی نگاہ پہنچ رہی ہے یعنی کل کائنات کو۔

صفحہ نمبر6391

ابوعبیدہ رحمہ اللہ راوی حدیث نے یہ حدیث بیان فرما کر یہی آیت تلاوت کی۔ یہ الفاظ ابن ابی حاتم کے ہیں اور اس کی اصل صحیح مسلم میں ہے۔ پاک ہے وہ اللہ جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں۔ اس کی مصنوعات میں سے کوئی چیز کسی کے احاطے میں نہیں۔ وہ بلند و بالا ہے ساری مخلوق سے الگ ہے زمین و آسمان اسے گھیر نہیں سکتے وہ احد وصمد ہے وہ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے۔

پھر خبر دی کہ خود اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرما رہا ہے وہی اسی وقت سرگوشیاں کر رہا ہے جو سب پر غالب ہے سب اس کے ماتحت اور زیر حکم ہیں۔ وہ اپنے اقوال وافعال میں حکمت والا ہے اس کے بعد جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ اے موسیٰ اپنی لکڑی کو زمین پر ڈال دو تاکہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو کہ اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہے وہ ہرچیز پر قادر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ارشاد سنتے ہی لکڑی کو زمین پر گرایا۔ اسی وقت وہ ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا سانپ بن گئی اور بہت بڑے جسم کا سانپ بڑی ڈراؤنی صورت اس موٹاپے پر تیز تیز چلنے والا۔ ایسا جیتا جاگتا چلتا پھرتا زبردست اژدہا دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام خوف زدہ ہو گئے «جان» کا لفظ قرآن کریم میں ہے یہ ایک قسم کے سانپ ہیں جو بہت تیزی سے حرکت کرنے والے اور کنڈلی لگانے والے ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر6392

ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے ایسے سانپوں کے قتل سے ممانعت فرمائی ہے۔ الغرض جناب موسیٰ اسے دیکھ کر ڈرے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے اور منہ موڑ کر پیٹھ پھیر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ایسے دہشت زدہ تھے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔

اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ موسیٰ ڈرو نہیں۔ میں تو تمہیں اپنا برگزیدہ رسول اور ذی عزت پیغمبر بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اس آیت میں انسان کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ جس نے بھی کوئی برائی کا کام کیا ہو پھر وہ اس پر نادم ہو جائے اس کام کو چھوڑ دے توبہ کر لے اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «‏وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى» [20-طه:82] ‏ ” جو بھی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور راہ راست پر چلے میں اس کے گناہوں کو بخشنے والا ہوں “

اور فرمان ہے آیت «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ‏ [4-النساء:110] ‏ ” جو شخص کسی برائی کا مرتکب ہو جائے یا کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کو غفور ورحیم پائے گا۔ “

صفحہ نمبر6393

اس مضمون کی آیتیں کلام الہٰی میں اور بھی بہت ساری ہیں۔ لکڑی کے سانپ بن جانے کے معجزے کے ساتھ ہی کلیم اللہ کو اور معجزہ دیا جاتا ہے کہ آپ جب بھی اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالیں گے تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہو کر نکلے گا یہ دو معجزے ان نو (‏9)‏ معجزوں میں سے ہیں کہ جن سے میں تیری وقتا فوقتا تائید کرتا رہونگا۔

تاکہ فاسق فرعون اور اس کی فاسق قوم کے دلوں میں تیری نبوت کا ثبوت جگہ پکڑجائے یہ نو (‏9)‏ معجزے وہ تھے جن کا ذکر آیت «وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا» [17-الإسراء:101] ‏ میں ہے جس کی پوری تفسیر بھی اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے۔

جب یہ واضح ظاہر صاف اور کھلے معجزے فرعونیوں کو دکھائے گئے تو وہ اپنی ضد میں آ کر کہنے لگے یہ تو جادو ہے لو ہم اپنے جادوگروں کو بلالیتے ہیں مقابلہ کر لو اس مقابلہ میں اللہ نے حق کو غالب کیا اور سب لوگ زیر ہو گئے مگر پھر بھی نہ مانے۔ گو دلوں میں اس کی حقانیت جم چکی تھی۔ لیکن ظاہر مقابلہ سے ہٹے۔ صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر حق کو جھٹلاتے رہے اب تو دیکھ لے کہ ان مفسدوں کا انجام کس طرح حیرتناک اور کیسا کچھ عبرت ناک ہوا؟ ایک ہی مرتبہ ایک ہی ساتھ سارے کے سارے دریا برد کر دئے گئے۔ پس اے آخری نبی الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے جھٹلانے والو تم اس نبی کو جھٹلا کر مطمئن نہ بیٹھو۔ کیونکہ یہ تو موسیٰ علیہ السلام سے بھی اشرف وافضل ہیں ان کی دلیلیں اور معجزے بھی ان کی دلیلوں اور معجزوں سے بڑے ہیں خود آپ کا وجود آپ کے عادات واخلاق اور اگلی کتابوں کی اور اگلے نبیوں کی آپ کی نسبت بشارتیں اور ان سے اللہ کا عہد پیمان یہ سب چیزیں آپ میں ہیں پس تمہیں نہ مان کر نڈر اور بیخوف نہ رہنا چاہیئے۔

صفحہ نمبر6394

آگ لینے گئے رسالت مل گئی ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آ گئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔

تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم ہو جائے یا میں وہاں کچھ آگ لے آؤں کہ تم اسے ذرا سینک تاپ کر لو۔ ایسا ہی ہوا کہ آپ وہاں سے ایک بڑی خبر لائے اور بہت بڑا نور حاصل کیا فرماتا ہے کہ جب وہاں پہنچے اس منظر کو دیکھ کر حیر ان رہ گئے دیکھتے ہیں کہ سرسبز درخت ہے اس پر آگ لپٹی رہی شعلے تیز ہو رہے ہیں اور درخت کی سرسبزی اور بڑھ رہی ہے۔ اونچی نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ نور آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔ فی الوقع وہ آگ نہ تھی بلکہ نور تھا اور نور بھی رب العالمین وحدہ لاشریک کا۔ موسیٰ علیہ السلام متعجب تھے اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ کہ یکایک ایک آواز آتی ہے کہ اس نور میں جو کچھ ہے وہ پاکی والا اور بزرگی والا ہے اور اس کے پاس جو فرشتے ہیں وہ بھی مقدس ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سوتا نہیں اور نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو پست کرتا ہے اور اونچی کرتا ہے رات کے کام اس کی طرف دن سے پہلے اور دن کے کام رات سے پہلے چڑھ جاتے ہیں۔ اس کا حجاب نور یا آگ ہے اگر وہ بٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہرچیز کو جلادیں جس پر اس کی نگاہ پہنچ رہی ہے یعنی کل کائنات کو۔

صفحہ نمبر6391

ابوعبیدہ رحمہ اللہ راوی حدیث نے یہ حدیث بیان فرما کر یہی آیت تلاوت کی۔ یہ الفاظ ابن ابی حاتم کے ہیں اور اس کی اصل صحیح مسلم میں ہے۔ پاک ہے وہ اللہ جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں۔ اس کی مصنوعات میں سے کوئی چیز کسی کے احاطے میں نہیں۔ وہ بلند و بالا ہے ساری مخلوق سے الگ ہے زمین و آسمان اسے گھیر نہیں سکتے وہ احد وصمد ہے وہ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے۔

پھر خبر دی کہ خود اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرما رہا ہے وہی اسی وقت سرگوشیاں کر رہا ہے جو سب پر غالب ہے سب اس کے ماتحت اور زیر حکم ہیں۔ وہ اپنے اقوال وافعال میں حکمت والا ہے اس کے بعد جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ اے موسیٰ اپنی لکڑی کو زمین پر ڈال دو تاکہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو کہ اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہے وہ ہرچیز پر قادر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ارشاد سنتے ہی لکڑی کو زمین پر گرایا۔ اسی وقت وہ ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا سانپ بن گئی اور بہت بڑے جسم کا سانپ بڑی ڈراؤنی صورت اس موٹاپے پر تیز تیز چلنے والا۔ ایسا جیتا جاگتا چلتا پھرتا زبردست اژدہا دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام خوف زدہ ہو گئے «جان» کا لفظ قرآن کریم میں ہے یہ ایک قسم کے سانپ ہیں جو بہت تیزی سے حرکت کرنے والے اور کنڈلی لگانے والے ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر6392

ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے ایسے سانپوں کے قتل سے ممانعت فرمائی ہے۔ الغرض جناب موسیٰ اسے دیکھ کر ڈرے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے اور منہ موڑ کر پیٹھ پھیر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ایسے دہشت زدہ تھے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔

اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ موسیٰ ڈرو نہیں۔ میں تو تمہیں اپنا برگزیدہ رسول اور ذی عزت پیغمبر بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اس آیت میں انسان کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ جس نے بھی کوئی برائی کا کام کیا ہو پھر وہ اس پر نادم ہو جائے اس کام کو چھوڑ دے توبہ کر لے اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «‏وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى» [20-طه:82] ‏ ” جو بھی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور راہ راست پر چلے میں اس کے گناہوں کو بخشنے والا ہوں “

اور فرمان ہے آیت «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ‏ [4-النساء:110] ‏ ” جو شخص کسی برائی کا مرتکب ہو جائے یا کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کو غفور ورحیم پائے گا۔ “

صفحہ نمبر6393

اس مضمون کی آیتیں کلام الہٰی میں اور بھی بہت ساری ہیں۔ لکڑی کے سانپ بن جانے کے معجزے کے ساتھ ہی کلیم اللہ کو اور معجزہ دیا جاتا ہے کہ آپ جب بھی اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالیں گے تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہو کر نکلے گا یہ دو معجزے ان نو (‏9)‏ معجزوں میں سے ہیں کہ جن سے میں تیری وقتا فوقتا تائید کرتا رہونگا۔

تاکہ فاسق فرعون اور اس کی فاسق قوم کے دلوں میں تیری نبوت کا ثبوت جگہ پکڑجائے یہ نو (‏9)‏ معجزے وہ تھے جن کا ذکر آیت «وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا» [17-الإسراء:101] ‏ میں ہے جس کی پوری تفسیر بھی اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے۔

جب یہ واضح ظاہر صاف اور کھلے معجزے فرعونیوں کو دکھائے گئے تو وہ اپنی ضد میں آ کر کہنے لگے یہ تو جادو ہے لو ہم اپنے جادوگروں کو بلالیتے ہیں مقابلہ کر لو اس مقابلہ میں اللہ نے حق کو غالب کیا اور سب لوگ زیر ہو گئے مگر پھر بھی نہ مانے۔ گو دلوں میں اس کی حقانیت جم چکی تھی۔ لیکن ظاہر مقابلہ سے ہٹے۔ صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر حق کو جھٹلاتے رہے اب تو دیکھ لے کہ ان مفسدوں کا انجام کس طرح حیرتناک اور کیسا کچھ عبرت ناک ہوا؟ ایک ہی مرتبہ ایک ہی ساتھ سارے کے سارے دریا برد کر دئے گئے۔ پس اے آخری نبی الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے جھٹلانے والو تم اس نبی کو جھٹلا کر مطمئن نہ بیٹھو۔ کیونکہ یہ تو موسیٰ علیہ السلام سے بھی اشرف وافضل ہیں ان کی دلیلیں اور معجزے بھی ان کی دلیلوں اور معجزوں سے بڑے ہیں خود آپ کا وجود آپ کے عادات واخلاق اور اگلی کتابوں کی اور اگلے نبیوں کی آپ کی نسبت بشارتیں اور ان سے اللہ کا عہد پیمان یہ سب چیزیں آپ میں ہیں پس تمہیں نہ مان کر نڈر اور بیخوف نہ رہنا چاہیئے۔

صفحہ نمبر6394

آگ لینے گئے رسالت مل گئی ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آ گئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔

تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم ہو جائے یا میں وہاں کچھ آگ لے آؤں کہ تم اسے ذرا سینک تاپ کر لو۔ ایسا ہی ہوا کہ آپ وہاں سے ایک بڑی خبر لائے اور بہت بڑا نور حاصل کیا فرماتا ہے کہ جب وہاں پہنچے اس منظر کو دیکھ کر حیر ان رہ گئے دیکھتے ہیں کہ سرسبز درخت ہے اس پر آگ لپٹی رہی شعلے تیز ہو رہے ہیں اور درخت کی سرسبزی اور بڑھ رہی ہے۔ اونچی نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ نور آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔ فی الوقع وہ آگ نہ تھی بلکہ نور تھا اور نور بھی رب العالمین وحدہ لاشریک کا۔ موسیٰ علیہ السلام متعجب تھے اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ کہ یکایک ایک آواز آتی ہے کہ اس نور میں جو کچھ ہے وہ پاکی والا اور بزرگی والا ہے اور اس کے پاس جو فرشتے ہیں وہ بھی مقدس ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سوتا نہیں اور نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو پست کرتا ہے اور اونچی کرتا ہے رات کے کام اس کی طرف دن سے پہلے اور دن کے کام رات سے پہلے چڑھ جاتے ہیں۔ اس کا حجاب نور یا آگ ہے اگر وہ بٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہرچیز کو جلادیں جس پر اس کی نگاہ پہنچ رہی ہے یعنی کل کائنات کو۔

صفحہ نمبر6391

ابوعبیدہ رحمہ اللہ راوی حدیث نے یہ حدیث بیان فرما کر یہی آیت تلاوت کی۔ یہ الفاظ ابن ابی حاتم کے ہیں اور اس کی اصل صحیح مسلم میں ہے۔ پاک ہے وہ اللہ جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں۔ اس کی مصنوعات میں سے کوئی چیز کسی کے احاطے میں نہیں۔ وہ بلند و بالا ہے ساری مخلوق سے الگ ہے زمین و آسمان اسے گھیر نہیں سکتے وہ احد وصمد ہے وہ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے۔

پھر خبر دی کہ خود اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرما رہا ہے وہی اسی وقت سرگوشیاں کر رہا ہے جو سب پر غالب ہے سب اس کے ماتحت اور زیر حکم ہیں۔ وہ اپنے اقوال وافعال میں حکمت والا ہے اس کے بعد جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ اے موسیٰ اپنی لکڑی کو زمین پر ڈال دو تاکہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو کہ اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہے وہ ہرچیز پر قادر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ارشاد سنتے ہی لکڑی کو زمین پر گرایا۔ اسی وقت وہ ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا سانپ بن گئی اور بہت بڑے جسم کا سانپ بڑی ڈراؤنی صورت اس موٹاپے پر تیز تیز چلنے والا۔ ایسا جیتا جاگتا چلتا پھرتا زبردست اژدہا دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام خوف زدہ ہو گئے «جان» کا لفظ قرآن کریم میں ہے یہ ایک قسم کے سانپ ہیں جو بہت تیزی سے حرکت کرنے والے اور کنڈلی لگانے والے ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر6392

ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے ایسے سانپوں کے قتل سے ممانعت فرمائی ہے۔ الغرض جناب موسیٰ اسے دیکھ کر ڈرے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے اور منہ موڑ کر پیٹھ پھیر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ایسے دہشت زدہ تھے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔

اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ موسیٰ ڈرو نہیں۔ میں تو تمہیں اپنا برگزیدہ رسول اور ذی عزت پیغمبر بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اس آیت میں انسان کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ جس نے بھی کوئی برائی کا کام کیا ہو پھر وہ اس پر نادم ہو جائے اس کام کو چھوڑ دے توبہ کر لے اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «‏وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى» [20-طه:82] ‏ ” جو بھی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور راہ راست پر چلے میں اس کے گناہوں کو بخشنے والا ہوں “

اور فرمان ہے آیت «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ‏ [4-النساء:110] ‏ ” جو شخص کسی برائی کا مرتکب ہو جائے یا کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کو غفور ورحیم پائے گا۔ “

صفحہ نمبر6393

اس مضمون کی آیتیں کلام الہٰی میں اور بھی بہت ساری ہیں۔ لکڑی کے سانپ بن جانے کے معجزے کے ساتھ ہی کلیم اللہ کو اور معجزہ دیا جاتا ہے کہ آپ جب بھی اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالیں گے تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہو کر نکلے گا یہ دو معجزے ان نو (‏9)‏ معجزوں میں سے ہیں کہ جن سے میں تیری وقتا فوقتا تائید کرتا رہونگا۔

تاکہ فاسق فرعون اور اس کی فاسق قوم کے دلوں میں تیری نبوت کا ثبوت جگہ پکڑجائے یہ نو (‏9)‏ معجزے وہ تھے جن کا ذکر آیت «وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا» [17-الإسراء:101] ‏ میں ہے جس کی پوری تفسیر بھی اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے۔

جب یہ واضح ظاہر صاف اور کھلے معجزے فرعونیوں کو دکھائے گئے تو وہ اپنی ضد میں آ کر کہنے لگے یہ تو جادو ہے لو ہم اپنے جادوگروں کو بلالیتے ہیں مقابلہ کر لو اس مقابلہ میں اللہ نے حق کو غالب کیا اور سب لوگ زیر ہو گئے مگر پھر بھی نہ مانے۔ گو دلوں میں اس کی حقانیت جم چکی تھی۔ لیکن ظاہر مقابلہ سے ہٹے۔ صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر حق کو جھٹلاتے رہے اب تو دیکھ لے کہ ان مفسدوں کا انجام کس طرح حیرتناک اور کیسا کچھ عبرت ناک ہوا؟ ایک ہی مرتبہ ایک ہی ساتھ سارے کے سارے دریا برد کر دئے گئے۔ پس اے آخری نبی الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے جھٹلانے والو تم اس نبی کو جھٹلا کر مطمئن نہ بیٹھو۔ کیونکہ یہ تو موسیٰ علیہ السلام سے بھی اشرف وافضل ہیں ان کی دلیلیں اور معجزے بھی ان کی دلیلوں اور معجزوں سے بڑے ہیں خود آپ کا وجود آپ کے عادات واخلاق اور اگلی کتابوں کی اور اگلے نبیوں کی آپ کی نسبت بشارتیں اور ان سے اللہ کا عہد پیمان یہ سب چیزیں آپ میں ہیں پس تمہیں نہ مان کر نڈر اور بیخوف نہ رہنا چاہیئے۔

صفحہ نمبر6394

آگ لینے گئے رسالت مل گئی ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آ گئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔

تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم ہو جائے یا میں وہاں کچھ آگ لے آؤں کہ تم اسے ذرا سینک تاپ کر لو۔ ایسا ہی ہوا کہ آپ وہاں سے ایک بڑی خبر لائے اور بہت بڑا نور حاصل کیا فرماتا ہے کہ جب وہاں پہنچے اس منظر کو دیکھ کر حیر ان رہ گئے دیکھتے ہیں کہ سرسبز درخت ہے اس پر آگ لپٹی رہی شعلے تیز ہو رہے ہیں اور درخت کی سرسبزی اور بڑھ رہی ہے۔ اونچی نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ نور آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔ فی الوقع وہ آگ نہ تھی بلکہ نور تھا اور نور بھی رب العالمین وحدہ لاشریک کا۔ موسیٰ علیہ السلام متعجب تھے اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ کہ یکایک ایک آواز آتی ہے کہ اس نور میں جو کچھ ہے وہ پاکی والا اور بزرگی والا ہے اور اس کے پاس جو فرشتے ہیں وہ بھی مقدس ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سوتا نہیں اور نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو پست کرتا ہے اور اونچی کرتا ہے رات کے کام اس کی طرف دن سے پہلے اور دن کے کام رات سے پہلے چڑھ جاتے ہیں۔ اس کا حجاب نور یا آگ ہے اگر وہ بٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہرچیز کو جلادیں جس پر اس کی نگاہ پہنچ رہی ہے یعنی کل کائنات کو۔

صفحہ نمبر6391

ابوعبیدہ رحمہ اللہ راوی حدیث نے یہ حدیث بیان فرما کر یہی آیت تلاوت کی۔ یہ الفاظ ابن ابی حاتم کے ہیں اور اس کی اصل صحیح مسلم میں ہے۔ پاک ہے وہ اللہ جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں۔ اس کی مصنوعات میں سے کوئی چیز کسی کے احاطے میں نہیں۔ وہ بلند و بالا ہے ساری مخلوق سے الگ ہے زمین و آسمان اسے گھیر نہیں سکتے وہ احد وصمد ہے وہ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے۔

پھر خبر دی کہ خود اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرما رہا ہے وہی اسی وقت سرگوشیاں کر رہا ہے جو سب پر غالب ہے سب اس کے ماتحت اور زیر حکم ہیں۔ وہ اپنے اقوال وافعال میں حکمت والا ہے اس کے بعد جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ اے موسیٰ اپنی لکڑی کو زمین پر ڈال دو تاکہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو کہ اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہے وہ ہرچیز پر قادر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ارشاد سنتے ہی لکڑی کو زمین پر گرایا۔ اسی وقت وہ ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا سانپ بن گئی اور بہت بڑے جسم کا سانپ بڑی ڈراؤنی صورت اس موٹاپے پر تیز تیز چلنے والا۔ ایسا جیتا جاگتا چلتا پھرتا زبردست اژدہا دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام خوف زدہ ہو گئے «جان» کا لفظ قرآن کریم میں ہے یہ ایک قسم کے سانپ ہیں جو بہت تیزی سے حرکت کرنے والے اور کنڈلی لگانے والے ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر6392

ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے ایسے سانپوں کے قتل سے ممانعت فرمائی ہے۔ الغرض جناب موسیٰ اسے دیکھ کر ڈرے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے اور منہ موڑ کر پیٹھ پھیر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ایسے دہشت زدہ تھے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔

اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ موسیٰ ڈرو نہیں۔ میں تو تمہیں اپنا برگزیدہ رسول اور ذی عزت پیغمبر بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اس آیت میں انسان کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ جس نے بھی کوئی برائی کا کام کیا ہو پھر وہ اس پر نادم ہو جائے اس کام کو چھوڑ دے توبہ کر لے اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «‏وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى» [20-طه:82] ‏ ” جو بھی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور راہ راست پر چلے میں اس کے گناہوں کو بخشنے والا ہوں “

اور فرمان ہے آیت «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ‏ [4-النساء:110] ‏ ” جو شخص کسی برائی کا مرتکب ہو جائے یا کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کو غفور ورحیم پائے گا۔ “

صفحہ نمبر6393

اس مضمون کی آیتیں کلام الہٰی میں اور بھی بہت ساری ہیں۔ لکڑی کے سانپ بن جانے کے معجزے کے ساتھ ہی کلیم اللہ کو اور معجزہ دیا جاتا ہے کہ آپ جب بھی اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالیں گے تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہو کر نکلے گا یہ دو معجزے ان نو (‏9)‏ معجزوں میں سے ہیں کہ جن سے میں تیری وقتا فوقتا تائید کرتا رہونگا۔

تاکہ فاسق فرعون اور اس کی فاسق قوم کے دلوں میں تیری نبوت کا ثبوت جگہ پکڑجائے یہ نو (‏9)‏ معجزے وہ تھے جن کا ذکر آیت «وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا» [17-الإسراء:101] ‏ میں ہے جس کی پوری تفسیر بھی اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے۔

جب یہ واضح ظاہر صاف اور کھلے معجزے فرعونیوں کو دکھائے گئے تو وہ اپنی ضد میں آ کر کہنے لگے یہ تو جادو ہے لو ہم اپنے جادوگروں کو بلالیتے ہیں مقابلہ کر لو اس مقابلہ میں اللہ نے حق کو غالب کیا اور سب لوگ زیر ہو گئے مگر پھر بھی نہ مانے۔ گو دلوں میں اس کی حقانیت جم چکی تھی۔ لیکن ظاہر مقابلہ سے ہٹے۔ صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر حق کو جھٹلاتے رہے اب تو دیکھ لے کہ ان مفسدوں کا انجام کس طرح حیرتناک اور کیسا کچھ عبرت ناک ہوا؟ ایک ہی مرتبہ ایک ہی ساتھ سارے کے سارے دریا برد کر دئے گئے۔ پس اے آخری نبی الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے جھٹلانے والو تم اس نبی کو جھٹلا کر مطمئن نہ بیٹھو۔ کیونکہ یہ تو موسیٰ علیہ السلام سے بھی اشرف وافضل ہیں ان کی دلیلیں اور معجزے بھی ان کی دلیلوں اور معجزوں سے بڑے ہیں خود آپ کا وجود آپ کے عادات واخلاق اور اگلی کتابوں کی اور اگلے نبیوں کی آپ کی نسبت بشارتیں اور ان سے اللہ کا عہد پیمان یہ سب چیزیں آپ میں ہیں پس تمہیں نہ مان کر نڈر اور بیخوف نہ رہنا چاہیئے۔

صفحہ نمبر6394

آگ لینے گئے رسالت مل گئی ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آ گئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔

تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم ہو جائے یا میں وہاں کچھ آگ لے آؤں کہ تم اسے ذرا سینک تاپ کر لو۔ ایسا ہی ہوا کہ آپ وہاں سے ایک بڑی خبر لائے اور بہت بڑا نور حاصل کیا فرماتا ہے کہ جب وہاں پہنچے اس منظر کو دیکھ کر حیر ان رہ گئے دیکھتے ہیں کہ سرسبز درخت ہے اس پر آگ لپٹی رہی شعلے تیز ہو رہے ہیں اور درخت کی سرسبزی اور بڑھ رہی ہے۔ اونچی نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ نور آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔ فی الوقع وہ آگ نہ تھی بلکہ نور تھا اور نور بھی رب العالمین وحدہ لاشریک کا۔ موسیٰ علیہ السلام متعجب تھے اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ کہ یکایک ایک آواز آتی ہے کہ اس نور میں جو کچھ ہے وہ پاکی والا اور بزرگی والا ہے اور اس کے پاس جو فرشتے ہیں وہ بھی مقدس ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سوتا نہیں اور نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو پست کرتا ہے اور اونچی کرتا ہے رات کے کام اس کی طرف دن سے پہلے اور دن کے کام رات سے پہلے چڑھ جاتے ہیں۔ اس کا حجاب نور یا آگ ہے اگر وہ بٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہرچیز کو جلادیں جس پر اس کی نگاہ پہنچ رہی ہے یعنی کل کائنات کو۔

صفحہ نمبر6391

ابوعبیدہ رحمہ اللہ راوی حدیث نے یہ حدیث بیان فرما کر یہی آیت تلاوت کی۔ یہ الفاظ ابن ابی حاتم کے ہیں اور اس کی اصل صحیح مسلم میں ہے۔ پاک ہے وہ اللہ جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں۔ اس کی مصنوعات میں سے کوئی چیز کسی کے احاطے میں نہیں۔ وہ بلند و بالا ہے ساری مخلوق سے الگ ہے زمین و آسمان اسے گھیر نہیں سکتے وہ احد وصمد ہے وہ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے۔

پھر خبر دی کہ خود اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرما رہا ہے وہی اسی وقت سرگوشیاں کر رہا ہے جو سب پر غالب ہے سب اس کے ماتحت اور زیر حکم ہیں۔ وہ اپنے اقوال وافعال میں حکمت والا ہے اس کے بعد جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ اے موسیٰ اپنی لکڑی کو زمین پر ڈال دو تاکہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو کہ اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہے وہ ہرچیز پر قادر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ارشاد سنتے ہی لکڑی کو زمین پر گرایا۔ اسی وقت وہ ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا سانپ بن گئی اور بہت بڑے جسم کا سانپ بڑی ڈراؤنی صورت اس موٹاپے پر تیز تیز چلنے والا۔ ایسا جیتا جاگتا چلتا پھرتا زبردست اژدہا دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام خوف زدہ ہو گئے «جان» کا لفظ قرآن کریم میں ہے یہ ایک قسم کے سانپ ہیں جو بہت تیزی سے حرکت کرنے والے اور کنڈلی لگانے والے ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر6392

ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے ایسے سانپوں کے قتل سے ممانعت فرمائی ہے۔ الغرض جناب موسیٰ اسے دیکھ کر ڈرے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے اور منہ موڑ کر پیٹھ پھیر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ایسے دہشت زدہ تھے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔

اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ موسیٰ ڈرو نہیں۔ میں تو تمہیں اپنا برگزیدہ رسول اور ذی عزت پیغمبر بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اس آیت میں انسان کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ جس نے بھی کوئی برائی کا کام کیا ہو پھر وہ اس پر نادم ہو جائے اس کام کو چھوڑ دے توبہ کر لے اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «‏وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى» [20-طه:82] ‏ ” جو بھی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور راہ راست پر چلے میں اس کے گناہوں کو بخشنے والا ہوں “

اور فرمان ہے آیت «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ‏ [4-النساء:110] ‏ ” جو شخص کسی برائی کا مرتکب ہو جائے یا کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کو غفور ورحیم پائے گا۔ “

صفحہ نمبر6393

اس مضمون کی آیتیں کلام الہٰی میں اور بھی بہت ساری ہیں۔ لکڑی کے سانپ بن جانے کے معجزے کے ساتھ ہی کلیم اللہ کو اور معجزہ دیا جاتا ہے کہ آپ جب بھی اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالیں گے تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہو کر نکلے گا یہ دو معجزے ان نو (‏9)‏ معجزوں میں سے ہیں کہ جن سے میں تیری وقتا فوقتا تائید کرتا رہونگا۔

تاکہ فاسق فرعون اور اس کی فاسق قوم کے دلوں میں تیری نبوت کا ثبوت جگہ پکڑجائے یہ نو (‏9)‏ معجزے وہ تھے جن کا ذکر آیت «وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا» [17-الإسراء:101] ‏ میں ہے جس کی پوری تفسیر بھی اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے۔

جب یہ واضح ظاہر صاف اور کھلے معجزے فرعونیوں کو دکھائے گئے تو وہ اپنی ضد میں آ کر کہنے لگے یہ تو جادو ہے لو ہم اپنے جادوگروں کو بلالیتے ہیں مقابلہ کر لو اس مقابلہ میں اللہ نے حق کو غالب کیا اور سب لوگ زیر ہو گئے مگر پھر بھی نہ مانے۔ گو دلوں میں اس کی حقانیت جم چکی تھی۔ لیکن ظاہر مقابلہ سے ہٹے۔ صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر حق کو جھٹلاتے رہے اب تو دیکھ لے کہ ان مفسدوں کا انجام کس طرح حیرتناک اور کیسا کچھ عبرت ناک ہوا؟ ایک ہی مرتبہ ایک ہی ساتھ سارے کے سارے دریا برد کر دئے گئے۔ پس اے آخری نبی الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے جھٹلانے والو تم اس نبی کو جھٹلا کر مطمئن نہ بیٹھو۔ کیونکہ یہ تو موسیٰ علیہ السلام سے بھی اشرف وافضل ہیں ان کی دلیلیں اور معجزے بھی ان کی دلیلوں اور معجزوں سے بڑے ہیں خود آپ کا وجود آپ کے عادات واخلاق اور اگلی کتابوں کی اور اگلے نبیوں کی آپ کی نسبت بشارتیں اور ان سے اللہ کا عہد پیمان یہ سب چیزیں آپ میں ہیں پس تمہیں نہ مان کر نڈر اور بیخوف نہ رہنا چاہیئے۔

صفحہ نمبر6394

آگ لینے گئے رسالت مل گئی ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آ گئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔

تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم ہو جائے یا میں وہاں کچھ آگ لے آؤں کہ تم اسے ذرا سینک تاپ کر لو۔ ایسا ہی ہوا کہ آپ وہاں سے ایک بڑی خبر لائے اور بہت بڑا نور حاصل کیا فرماتا ہے کہ جب وہاں پہنچے اس منظر کو دیکھ کر حیر ان رہ گئے دیکھتے ہیں کہ سرسبز درخت ہے اس پر آگ لپٹی رہی شعلے تیز ہو رہے ہیں اور درخت کی سرسبزی اور بڑھ رہی ہے۔ اونچی نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ نور آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔ فی الوقع وہ آگ نہ تھی بلکہ نور تھا اور نور بھی رب العالمین وحدہ لاشریک کا۔ موسیٰ علیہ السلام متعجب تھے اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ کہ یکایک ایک آواز آتی ہے کہ اس نور میں جو کچھ ہے وہ پاکی والا اور بزرگی والا ہے اور اس کے پاس جو فرشتے ہیں وہ بھی مقدس ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سوتا نہیں اور نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو پست کرتا ہے اور اونچی کرتا ہے رات کے کام اس کی طرف دن سے پہلے اور دن کے کام رات سے پہلے چڑھ جاتے ہیں۔ اس کا حجاب نور یا آگ ہے اگر وہ بٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہرچیز کو جلادیں جس پر اس کی نگاہ پہنچ رہی ہے یعنی کل کائنات کو۔

صفحہ نمبر6391

ابوعبیدہ رحمہ اللہ راوی حدیث نے یہ حدیث بیان فرما کر یہی آیت تلاوت کی۔ یہ الفاظ ابن ابی حاتم کے ہیں اور اس کی اصل صحیح مسلم میں ہے۔ پاک ہے وہ اللہ جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں۔ اس کی مصنوعات میں سے کوئی چیز کسی کے احاطے میں نہیں۔ وہ بلند و بالا ہے ساری مخلوق سے الگ ہے زمین و آسمان اسے گھیر نہیں سکتے وہ احد وصمد ہے وہ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے۔

پھر خبر دی کہ خود اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرما رہا ہے وہی اسی وقت سرگوشیاں کر رہا ہے جو سب پر غالب ہے سب اس کے ماتحت اور زیر حکم ہیں۔ وہ اپنے اقوال وافعال میں حکمت والا ہے اس کے بعد جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ اے موسیٰ اپنی لکڑی کو زمین پر ڈال دو تاکہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو کہ اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہے وہ ہرچیز پر قادر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ارشاد سنتے ہی لکڑی کو زمین پر گرایا۔ اسی وقت وہ ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا سانپ بن گئی اور بہت بڑے جسم کا سانپ بڑی ڈراؤنی صورت اس موٹاپے پر تیز تیز چلنے والا۔ ایسا جیتا جاگتا چلتا پھرتا زبردست اژدہا دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام خوف زدہ ہو گئے «جان» کا لفظ قرآن کریم میں ہے یہ ایک قسم کے سانپ ہیں جو بہت تیزی سے حرکت کرنے والے اور کنڈلی لگانے والے ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر6392

ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے ایسے سانپوں کے قتل سے ممانعت فرمائی ہے۔ الغرض جناب موسیٰ اسے دیکھ کر ڈرے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے اور منہ موڑ کر پیٹھ پھیر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ایسے دہشت زدہ تھے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔

اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ موسیٰ ڈرو نہیں۔ میں تو تمہیں اپنا برگزیدہ رسول اور ذی عزت پیغمبر بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اس آیت میں انسان کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ جس نے بھی کوئی برائی کا کام کیا ہو پھر وہ اس پر نادم ہو جائے اس کام کو چھوڑ دے توبہ کر لے اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «‏وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى» [20-طه:82] ‏ ” جو بھی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور راہ راست پر چلے میں اس کے گناہوں کو بخشنے والا ہوں “

اور فرمان ہے آیت «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ‏ [4-النساء:110] ‏ ” جو شخص کسی برائی کا مرتکب ہو جائے یا کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کو غفور ورحیم پائے گا۔ “

صفحہ نمبر6393

اس مضمون کی آیتیں کلام الہٰی میں اور بھی بہت ساری ہیں۔ لکڑی کے سانپ بن جانے کے معجزے کے ساتھ ہی کلیم اللہ کو اور معجزہ دیا جاتا ہے کہ آپ جب بھی اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالیں گے تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہو کر نکلے گا یہ دو معجزے ان نو (‏9)‏ معجزوں میں سے ہیں کہ جن سے میں تیری وقتا فوقتا تائید کرتا رہونگا۔

تاکہ فاسق فرعون اور اس کی فاسق قوم کے دلوں میں تیری نبوت کا ثبوت جگہ پکڑجائے یہ نو (‏9)‏ معجزے وہ تھے جن کا ذکر آیت «وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا» [17-الإسراء:101] ‏ میں ہے جس کی پوری تفسیر بھی اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے۔

جب یہ واضح ظاہر صاف اور کھلے معجزے فرعونیوں کو دکھائے گئے تو وہ اپنی ضد میں آ کر کہنے لگے یہ تو جادو ہے لو ہم اپنے جادوگروں کو بلالیتے ہیں مقابلہ کر لو اس مقابلہ میں اللہ نے حق کو غالب کیا اور سب لوگ زیر ہو گئے مگر پھر بھی نہ مانے۔ گو دلوں میں اس کی حقانیت جم چکی تھی۔ لیکن ظاہر مقابلہ سے ہٹے۔ صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر حق کو جھٹلاتے رہے اب تو دیکھ لے کہ ان مفسدوں کا انجام کس طرح حیرتناک اور کیسا کچھ عبرت ناک ہوا؟ ایک ہی مرتبہ ایک ہی ساتھ سارے کے سارے دریا برد کر دئے گئے۔ پس اے آخری نبی الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے جھٹلانے والو تم اس نبی کو جھٹلا کر مطمئن نہ بیٹھو۔ کیونکہ یہ تو موسیٰ علیہ السلام سے بھی اشرف وافضل ہیں ان کی دلیلیں اور معجزے بھی ان کی دلیلوں اور معجزوں سے بڑے ہیں خود آپ کا وجود آپ کے عادات واخلاق اور اگلی کتابوں کی اور اگلے نبیوں کی آپ کی نسبت بشارتیں اور ان سے اللہ کا عہد پیمان یہ سب چیزیں آپ میں ہیں پس تمہیں نہ مان کر نڈر اور بیخوف نہ رہنا چاہیئے۔

صفحہ نمبر6394

آگ لینے گئے رسالت مل گئی ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آ گئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔

تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم ہو جائے یا میں وہاں کچھ آگ لے آؤں کہ تم اسے ذرا سینک تاپ کر لو۔ ایسا ہی ہوا کہ آپ وہاں سے ایک بڑی خبر لائے اور بہت بڑا نور حاصل کیا فرماتا ہے کہ جب وہاں پہنچے اس منظر کو دیکھ کر حیر ان رہ گئے دیکھتے ہیں کہ سرسبز درخت ہے اس پر آگ لپٹی رہی شعلے تیز ہو رہے ہیں اور درخت کی سرسبزی اور بڑھ رہی ہے۔ اونچی نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ نور آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔ فی الوقع وہ آگ نہ تھی بلکہ نور تھا اور نور بھی رب العالمین وحدہ لاشریک کا۔ موسیٰ علیہ السلام متعجب تھے اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ کہ یکایک ایک آواز آتی ہے کہ اس نور میں جو کچھ ہے وہ پاکی والا اور بزرگی والا ہے اور اس کے پاس جو فرشتے ہیں وہ بھی مقدس ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سوتا نہیں اور نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو پست کرتا ہے اور اونچی کرتا ہے رات کے کام اس کی طرف دن سے پہلے اور دن کے کام رات سے پہلے چڑھ جاتے ہیں۔ اس کا حجاب نور یا آگ ہے اگر وہ بٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہرچیز کو جلادیں جس پر اس کی نگاہ پہنچ رہی ہے یعنی کل کائنات کو۔

صفحہ نمبر6391

ابوعبیدہ رحمہ اللہ راوی حدیث نے یہ حدیث بیان فرما کر یہی آیت تلاوت کی۔ یہ الفاظ ابن ابی حاتم کے ہیں اور اس کی اصل صحیح مسلم میں ہے۔ پاک ہے وہ اللہ جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں۔ اس کی مصنوعات میں سے کوئی چیز کسی کے احاطے میں نہیں۔ وہ بلند و بالا ہے ساری مخلوق سے الگ ہے زمین و آسمان اسے گھیر نہیں سکتے وہ احد وصمد ہے وہ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے۔

پھر خبر دی کہ خود اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرما رہا ہے وہی اسی وقت سرگوشیاں کر رہا ہے جو سب پر غالب ہے سب اس کے ماتحت اور زیر حکم ہیں۔ وہ اپنے اقوال وافعال میں حکمت والا ہے اس کے بعد جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ اے موسیٰ اپنی لکڑی کو زمین پر ڈال دو تاکہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو کہ اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہے وہ ہرچیز پر قادر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ارشاد سنتے ہی لکڑی کو زمین پر گرایا۔ اسی وقت وہ ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا سانپ بن گئی اور بہت بڑے جسم کا سانپ بڑی ڈراؤنی صورت اس موٹاپے پر تیز تیز چلنے والا۔ ایسا جیتا جاگتا چلتا پھرتا زبردست اژدہا دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام خوف زدہ ہو گئے «جان» کا لفظ قرآن کریم میں ہے یہ ایک قسم کے سانپ ہیں جو بہت تیزی سے حرکت کرنے والے اور کنڈلی لگانے والے ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر6392

ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے ایسے سانپوں کے قتل سے ممانعت فرمائی ہے۔ الغرض جناب موسیٰ اسے دیکھ کر ڈرے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے اور منہ موڑ کر پیٹھ پھیر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ایسے دہشت زدہ تھے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔

اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ موسیٰ ڈرو نہیں۔ میں تو تمہیں اپنا برگزیدہ رسول اور ذی عزت پیغمبر بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اس آیت میں انسان کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ جس نے بھی کوئی برائی کا کام کیا ہو پھر وہ اس پر نادم ہو جائے اس کام کو چھوڑ دے توبہ کر لے اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «‏وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى» [20-طه:82] ‏ ” جو بھی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور راہ راست پر چلے میں اس کے گناہوں کو بخشنے والا ہوں “

اور فرمان ہے آیت «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ‏ [4-النساء:110] ‏ ” جو شخص کسی برائی کا مرتکب ہو جائے یا کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کو غفور ورحیم پائے گا۔ “

صفحہ نمبر6393

اس مضمون کی آیتیں کلام الہٰی میں اور بھی بہت ساری ہیں۔ لکڑی کے سانپ بن جانے کے معجزے کے ساتھ ہی کلیم اللہ کو اور معجزہ دیا جاتا ہے کہ آپ جب بھی اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالیں گے تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہو کر نکلے گا یہ دو معجزے ان نو (‏9)‏ معجزوں میں سے ہیں کہ جن سے میں تیری وقتا فوقتا تائید کرتا رہونگا۔

تاکہ فاسق فرعون اور اس کی فاسق قوم کے دلوں میں تیری نبوت کا ثبوت جگہ پکڑجائے یہ نو (‏9)‏ معجزے وہ تھے جن کا ذکر آیت «وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا» [17-الإسراء:101] ‏ میں ہے جس کی پوری تفسیر بھی اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے۔

جب یہ واضح ظاہر صاف اور کھلے معجزے فرعونیوں کو دکھائے گئے تو وہ اپنی ضد میں آ کر کہنے لگے یہ تو جادو ہے لو ہم اپنے جادوگروں کو بلالیتے ہیں مقابلہ کر لو اس مقابلہ میں اللہ نے حق کو غالب کیا اور سب لوگ زیر ہو گئے مگر پھر بھی نہ مانے۔ گو دلوں میں اس کی حقانیت جم چکی تھی۔ لیکن ظاہر مقابلہ سے ہٹے۔ صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر حق کو جھٹلاتے رہے اب تو دیکھ لے کہ ان مفسدوں کا انجام کس طرح حیرتناک اور کیسا کچھ عبرت ناک ہوا؟ ایک ہی مرتبہ ایک ہی ساتھ سارے کے سارے دریا برد کر دئے گئے۔ پس اے آخری نبی الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے جھٹلانے والو تم اس نبی کو جھٹلا کر مطمئن نہ بیٹھو۔ کیونکہ یہ تو موسیٰ علیہ السلام سے بھی اشرف وافضل ہیں ان کی دلیلیں اور معجزے بھی ان کی دلیلوں اور معجزوں سے بڑے ہیں خود آپ کا وجود آپ کے عادات واخلاق اور اگلی کتابوں کی اور اگلے نبیوں کی آپ کی نسبت بشارتیں اور ان سے اللہ کا عہد پیمان یہ سب چیزیں آپ میں ہیں پس تمہیں نہ مان کر نڈر اور بیخوف نہ رہنا چاہیئے۔

صفحہ نمبر6394

آگ لینے گئے رسالت مل گئی ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آ گئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔

تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم ہو جائے یا میں وہاں کچھ آگ لے آؤں کہ تم اسے ذرا سینک تاپ کر لو۔ ایسا ہی ہوا کہ آپ وہاں سے ایک بڑی خبر لائے اور بہت بڑا نور حاصل کیا فرماتا ہے کہ جب وہاں پہنچے اس منظر کو دیکھ کر حیر ان رہ گئے دیکھتے ہیں کہ سرسبز درخت ہے اس پر آگ لپٹی رہی شعلے تیز ہو رہے ہیں اور درخت کی سرسبزی اور بڑھ رہی ہے۔ اونچی نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ نور آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔ فی الوقع وہ آگ نہ تھی بلکہ نور تھا اور نور بھی رب العالمین وحدہ لاشریک کا۔ موسیٰ علیہ السلام متعجب تھے اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ کہ یکایک ایک آواز آتی ہے کہ اس نور میں جو کچھ ہے وہ پاکی والا اور بزرگی والا ہے اور اس کے پاس جو فرشتے ہیں وہ بھی مقدس ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سوتا نہیں اور نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو پست کرتا ہے اور اونچی کرتا ہے رات کے کام اس کی طرف دن سے پہلے اور دن کے کام رات سے پہلے چڑھ جاتے ہیں۔ اس کا حجاب نور یا آگ ہے اگر وہ بٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہرچیز کو جلادیں جس پر اس کی نگاہ پہنچ رہی ہے یعنی کل کائنات کو۔

صفحہ نمبر6391

ابوعبیدہ رحمہ اللہ راوی حدیث نے یہ حدیث بیان فرما کر یہی آیت تلاوت کی۔ یہ الفاظ ابن ابی حاتم کے ہیں اور اس کی اصل صحیح مسلم میں ہے۔ پاک ہے وہ اللہ جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں۔ اس کی مصنوعات میں سے کوئی چیز کسی کے احاطے میں نہیں۔ وہ بلند و بالا ہے ساری مخلوق سے الگ ہے زمین و آسمان اسے گھیر نہیں سکتے وہ احد وصمد ہے وہ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے۔

پھر خبر دی کہ خود اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرما رہا ہے وہی اسی وقت سرگوشیاں کر رہا ہے جو سب پر غالب ہے سب اس کے ماتحت اور زیر حکم ہیں۔ وہ اپنے اقوال وافعال میں حکمت والا ہے اس کے بعد جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ اے موسیٰ اپنی لکڑی کو زمین پر ڈال دو تاکہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو کہ اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہے وہ ہرچیز پر قادر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ارشاد سنتے ہی لکڑی کو زمین پر گرایا۔ اسی وقت وہ ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا سانپ بن گئی اور بہت بڑے جسم کا سانپ بڑی ڈراؤنی صورت اس موٹاپے پر تیز تیز چلنے والا۔ ایسا جیتا جاگتا چلتا پھرتا زبردست اژدہا دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام خوف زدہ ہو گئے «جان» کا لفظ قرآن کریم میں ہے یہ ایک قسم کے سانپ ہیں جو بہت تیزی سے حرکت کرنے والے اور کنڈلی لگانے والے ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر6392

ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے ایسے سانپوں کے قتل سے ممانعت فرمائی ہے۔ الغرض جناب موسیٰ اسے دیکھ کر ڈرے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے اور منہ موڑ کر پیٹھ پھیر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ایسے دہشت زدہ تھے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔

اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ موسیٰ ڈرو نہیں۔ میں تو تمہیں اپنا برگزیدہ رسول اور ذی عزت پیغمبر بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اس آیت میں انسان کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ جس نے بھی کوئی برائی کا کام کیا ہو پھر وہ اس پر نادم ہو جائے اس کام کو چھوڑ دے توبہ کر لے اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «‏وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى» [20-طه:82] ‏ ” جو بھی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور راہ راست پر چلے میں اس کے گناہوں کو بخشنے والا ہوں “

اور فرمان ہے آیت «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ‏ [4-النساء:110] ‏ ” جو شخص کسی برائی کا مرتکب ہو جائے یا کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کو غفور ورحیم پائے گا۔ “

صفحہ نمبر6393

اس مضمون کی آیتیں کلام الہٰی میں اور بھی بہت ساری ہیں۔ لکڑی کے سانپ بن جانے کے معجزے کے ساتھ ہی کلیم اللہ کو اور معجزہ دیا جاتا ہے کہ آپ جب بھی اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالیں گے تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہو کر نکلے گا یہ دو معجزے ان نو (‏9)‏ معجزوں میں سے ہیں کہ جن سے میں تیری وقتا فوقتا تائید کرتا رہونگا۔

تاکہ فاسق فرعون اور اس کی فاسق قوم کے دلوں میں تیری نبوت کا ثبوت جگہ پکڑجائے یہ نو (‏9)‏ معجزے وہ تھے جن کا ذکر آیت «وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا» [17-الإسراء:101] ‏ میں ہے جس کی پوری تفسیر بھی اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے۔

جب یہ واضح ظاہر صاف اور کھلے معجزے فرعونیوں کو دکھائے گئے تو وہ اپنی ضد میں آ کر کہنے لگے یہ تو جادو ہے لو ہم اپنے جادوگروں کو بلالیتے ہیں مقابلہ کر لو اس مقابلہ میں اللہ نے حق کو غالب کیا اور سب لوگ زیر ہو گئے مگر پھر بھی نہ مانے۔ گو دلوں میں اس کی حقانیت جم چکی تھی۔ لیکن ظاہر مقابلہ سے ہٹے۔ صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر حق کو جھٹلاتے رہے اب تو دیکھ لے کہ ان مفسدوں کا انجام کس طرح حیرتناک اور کیسا کچھ عبرت ناک ہوا؟ ایک ہی مرتبہ ایک ہی ساتھ سارے کے سارے دریا برد کر دئے گئے۔ پس اے آخری نبی الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے جھٹلانے والو تم اس نبی کو جھٹلا کر مطمئن نہ بیٹھو۔ کیونکہ یہ تو موسیٰ علیہ السلام سے بھی اشرف وافضل ہیں ان کی دلیلیں اور معجزے بھی ان کی دلیلوں اور معجزوں سے بڑے ہیں خود آپ کا وجود آپ کے عادات واخلاق اور اگلی کتابوں کی اور اگلے نبیوں کی آپ کی نسبت بشارتیں اور ان سے اللہ کا عہد پیمان یہ سب چیزیں آپ میں ہیں پس تمہیں نہ مان کر نڈر اور بیخوف نہ رہنا چاہیئے۔

صفحہ نمبر6394

داؤد اور سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات ٭٭

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی سلیمان علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھاہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ کر لکھا کہ ان دونوں پیغمبروں کو جو نعمت دی گئی تھی اس سے افضل نعمت کیا ہو گی۔ داؤد علیہ السلام کے وارث سلیمان علیہ السلام ہوئے اس سے مراد مال کی وراثت نہیں بلکہ ملک ونبوت کی وراثت ہے۔ اگر مالی میراث مراد ہوتی تو اس میں صرف سلیمان علیہ السلام کا نام نہ آتا کیونکہ داؤد کی سو (‏100) بیویاں تھیں۔ انبیاء علیہم السلام کی مال کی میراث نہیں بٹتی۔ چنانچہ سید الانبیاء علیہ السلام کا ارشاد ہے ہم جماعت انبیاء ہیں ہمارے ورثے نہیں بٹا کرتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔ [صحیح بخاری:3094] ‏

صفحہ نمبر6402

سلیمان اللہ علیہ السلام اللہ کی نعمتیں یاد کرتے ہیں فرماتے ہیں یہ پورا ملک اور یہ زبردست طاقت کہ انسان، جن، پرند سب تابع فرمان ہیں، پرندوں کی زبان بھی سمجھ لیتے ہیں یہ خاص اللہ کا فضل و کرم ہے۔ جو کسی انسان پر نہیں ہوا۔ بعض جاہلوں نے کہا ہے کہ اس وقت پرند بھی انسانی زبان بولتے تھے۔ یہ محض ان کی بےعلمی ہے بھلا سمجھو تو سہی اگر واقعی یہی بات ہوتی تو پھر اس میں سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت ہی کیا تھی۔

جسے آپ اس فخر سے بیان فرماتے کہ ہمیں پرندوں کی زبان سکھا دی گئی پھر تو ہر شخص پرند کی بولی سمجھتا اور سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت جاتی رہتی۔ یہ محض غلط ہے پرند اور حیوانات ہمیشہ سے ہی ایسے رہے ان کی بولیاں بھی ایسی ہی رہیں۔ یہ خاص اللہ کا فضل تھا کہ سلیمان علیہ السلام ہر چرند پرند کی زبان سمجھتے تھے۔ ساتھ ہی یہ نعمت بھی حاصل ہوئی تھی۔ کہ ایک بادشاہت میں جن جن چیزوں کی ضروت ہوتی ہے سب سلیمان علیہ السلام کو قدرت نے مہیا کر دی تھیں۔ یہ تھا اللہ کا کھلا احسان آپ پر۔

صفحہ نمبر6403

مسند امام احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں داؤد علیہ السلام بہت ہی غیرت والے تھے جب آپ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر جاتے پھر کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی ایک مرتبہ آپ اسی طرح باہر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک بیوی صاحبہ کی نظر اٹھی تو دیکھتی ہیں کہ گھر کے بیچوں بیچ ایک صاحب کھڑے ہیں حیران ہو گئیں اور دوسروں کو دکھایا۔ آپس میں سب کہنے لگیں یہ کہاں سے آ گئے؟ اللہ کی قسم داؤد علیہ السلام بھی آ گئے آپ نے بھی انہیں کھڑا دیکھا اور دریافت کیا کہ تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا وہ جسے کوئی دروازہ یا کوئی روک نہ سکے وہ جو کسی بڑے سے بڑے کی مطلق پرواہ نہ کرے۔ داؤد علیہ السلام سمجھ گئے اور فرمانے لگے مرحبا مرحبا آپ تو ملک الموت ہیں اسی وقت ملک الموت نے آپ کی روح قبض کی۔ سورج نکل آیا اور آپ پر دھوپ آ گئی تو سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ داؤد علیہ السلام پر سایہ کریں انہوں نے اپنے پر کھول کر ایسی گہری چھاؤں کر دی کہ زمین پر اندھیرا سا چھا گیا پھر حکم دیا کہ ایک ایک کر کے اپنے سب پروں کو سمیٹ لو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرندوں نے پھر پر کیسے سمیٹے؟ آپ نے فرمایا اپنا ہاتھ سمیٹ کر بتلایا کہ اس طرح۔ اس پر اس دن سرخ رنگ گدھ غالب آ گئے۔ [مسند احمد:419/2:ضعیف] ‏

سلیمان علیہ السلام کا لشکر جمع ہوا جس میں انسان جن پرند سب تھے۔ آپ سے قریب انسان تھے پھر جن تھے پرند آپ کے سروں پر رہتے تھے۔ گرمیوں میں سایہ کر لیتے تھے۔ سب اپنے اپنے مرتبے پر قائم تھے۔ جس کی جو جگہ مقررر تھی وہ وہیں رہتا۔

صفحہ نمبر6404

جب ان لشکروں کو لے کر سلیمان علیہ السلام چلے۔ ایک جنگل پر گذر ہوا جہاں چیونٹیوں کا لشکر تھا۔ سلیمان علیہ السلام لشکر کو دیکھ کر ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ جاؤ اپنے اپنے سوراخوں میں چلی جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ لشکر سلیمان علیہ السلام کا لشکر چلتا ہوا تمہیں روند ڈالے اور انہیں علم بھی نہ ہو۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس چیونٹی کا نام ترس تھا یہ بنو شیصان کے قبیلے سے تھی۔ تھی بھی لنگڑی بقدر بھیڑیئے کے اسے خوف ہوا کہیں سب روندی جائیں گی اور پس جائیگی یہ سن کر سلیمان علیہ السلام کو تبسم بلکہ ہنسی آ گئی اور اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں مثلا پرندوں اور حیوانوں کی زبان سکھا دینا وغیرہ۔ نیز جو نعمتیں تو نے میرے والدین پر انعام کی ہیں کہ وہ مسلمان مومن ہوئے وغیرہ۔ اور مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جن سے تو خوش ہو اور جب میری موت آ جائے تو مجھے اپنے نیک بندوں اور بلند رفقاء میں ملادے جو تیرے دوست ہیں۔ مفسرین کا قول ہے کہ یہ وادی شام میں تھی۔ بعض اور جگہ بتاتے ہیں۔ یہ جیونٹی مثل مکھیوں کے پردار تھی۔ اور بھی اقوال ہیں نوف بکالی کہتے ہیں یہ بھیڑئیے کے برابر تھی۔ ممکن ہے اصل میں لفظ ذباب ہو یعنی مکھی کے برابر اور کاتب کی غلطی وہ ذیاب لکھ دیا گیا ہو یعنی بھیڑیا۔ سلیمان علیہ السلام چونکہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے اس کی بات کو بھی سمجھ گئے اور بے اختیار ہنسی آ گئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام استسقاء کے لیے نکلے تو دیکھا کہ ایک چیونٹی الٹی لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ ہم بھی تیری مخلوق ہیں پانی برسنے کی محتاجی ہمیں بھی ہے۔ اگر پانی نہ برسا تو ہم ہلاک ہو جائیں گے اس چیونٹی کی یہ دعا سن کر آپ نے لوگوں میں اعلان کیا لوٹ چلو کسی اور ہی کی دعا سے تم پانی پلائے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نبیوں میں سے کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے سوراخ میں آگ لگانے کا حکم دے دیا اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اے پیغمبر محض ایک چونٹی کے کاٹنے پر تو نے ایک گروہ کے گروہ کو جو ہماری تسبیح خواں تھا۔ ہلاک کر دیا۔ تجھے بدلہ لینا تھا تو اسی سے لیتا۔ [صحیح بخاری:3019] ‏

صفحہ نمبر6405

داؤد اور سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات ٭٭

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی سلیمان علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھاہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ کر لکھا کہ ان دونوں پیغمبروں کو جو نعمت دی گئی تھی اس سے افضل نعمت کیا ہو گی۔ داؤد علیہ السلام کے وارث سلیمان علیہ السلام ہوئے اس سے مراد مال کی وراثت نہیں بلکہ ملک ونبوت کی وراثت ہے۔ اگر مالی میراث مراد ہوتی تو اس میں صرف سلیمان علیہ السلام کا نام نہ آتا کیونکہ داؤد کی سو (‏100) بیویاں تھیں۔ انبیاء علیہم السلام کی مال کی میراث نہیں بٹتی۔ چنانچہ سید الانبیاء علیہ السلام کا ارشاد ہے ہم جماعت انبیاء ہیں ہمارے ورثے نہیں بٹا کرتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔ [صحیح بخاری:3094] ‏

صفحہ نمبر6402

سلیمان اللہ علیہ السلام اللہ کی نعمتیں یاد کرتے ہیں فرماتے ہیں یہ پورا ملک اور یہ زبردست طاقت کہ انسان، جن، پرند سب تابع فرمان ہیں، پرندوں کی زبان بھی سمجھ لیتے ہیں یہ خاص اللہ کا فضل و کرم ہے۔ جو کسی انسان پر نہیں ہوا۔ بعض جاہلوں نے کہا ہے کہ اس وقت پرند بھی انسانی زبان بولتے تھے۔ یہ محض ان کی بےعلمی ہے بھلا سمجھو تو سہی اگر واقعی یہی بات ہوتی تو پھر اس میں سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت ہی کیا تھی۔

جسے آپ اس فخر سے بیان فرماتے کہ ہمیں پرندوں کی زبان سکھا دی گئی پھر تو ہر شخص پرند کی بولی سمجھتا اور سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت جاتی رہتی۔ یہ محض غلط ہے پرند اور حیوانات ہمیشہ سے ہی ایسے رہے ان کی بولیاں بھی ایسی ہی رہیں۔ یہ خاص اللہ کا فضل تھا کہ سلیمان علیہ السلام ہر چرند پرند کی زبان سمجھتے تھے۔ ساتھ ہی یہ نعمت بھی حاصل ہوئی تھی۔ کہ ایک بادشاہت میں جن جن چیزوں کی ضروت ہوتی ہے سب سلیمان علیہ السلام کو قدرت نے مہیا کر دی تھیں۔ یہ تھا اللہ کا کھلا احسان آپ پر۔

صفحہ نمبر6403

مسند امام احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں داؤد علیہ السلام بہت ہی غیرت والے تھے جب آپ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر جاتے پھر کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی ایک مرتبہ آپ اسی طرح باہر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک بیوی صاحبہ کی نظر اٹھی تو دیکھتی ہیں کہ گھر کے بیچوں بیچ ایک صاحب کھڑے ہیں حیران ہو گئیں اور دوسروں کو دکھایا۔ آپس میں سب کہنے لگیں یہ کہاں سے آ گئے؟ اللہ کی قسم داؤد علیہ السلام بھی آ گئے آپ نے بھی انہیں کھڑا دیکھا اور دریافت کیا کہ تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا وہ جسے کوئی دروازہ یا کوئی روک نہ سکے وہ جو کسی بڑے سے بڑے کی مطلق پرواہ نہ کرے۔ داؤد علیہ السلام سمجھ گئے اور فرمانے لگے مرحبا مرحبا آپ تو ملک الموت ہیں اسی وقت ملک الموت نے آپ کی روح قبض کی۔ سورج نکل آیا اور آپ پر دھوپ آ گئی تو سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ داؤد علیہ السلام پر سایہ کریں انہوں نے اپنے پر کھول کر ایسی گہری چھاؤں کر دی کہ زمین پر اندھیرا سا چھا گیا پھر حکم دیا کہ ایک ایک کر کے اپنے سب پروں کو سمیٹ لو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرندوں نے پھر پر کیسے سمیٹے؟ آپ نے فرمایا اپنا ہاتھ سمیٹ کر بتلایا کہ اس طرح۔ اس پر اس دن سرخ رنگ گدھ غالب آ گئے۔ [مسند احمد:419/2:ضعیف] ‏

سلیمان علیہ السلام کا لشکر جمع ہوا جس میں انسان جن پرند سب تھے۔ آپ سے قریب انسان تھے پھر جن تھے پرند آپ کے سروں پر رہتے تھے۔ گرمیوں میں سایہ کر لیتے تھے۔ سب اپنے اپنے مرتبے پر قائم تھے۔ جس کی جو جگہ مقررر تھی وہ وہیں رہتا۔

صفحہ نمبر6404

جب ان لشکروں کو لے کر سلیمان علیہ السلام چلے۔ ایک جنگل پر گذر ہوا جہاں چیونٹیوں کا لشکر تھا۔ سلیمان علیہ السلام لشکر کو دیکھ کر ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ جاؤ اپنے اپنے سوراخوں میں چلی جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ لشکر سلیمان علیہ السلام کا لشکر چلتا ہوا تمہیں روند ڈالے اور انہیں علم بھی نہ ہو۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس چیونٹی کا نام ترس تھا یہ بنو شیصان کے قبیلے سے تھی۔ تھی بھی لنگڑی بقدر بھیڑیئے کے اسے خوف ہوا کہیں سب روندی جائیں گی اور پس جائیگی یہ سن کر سلیمان علیہ السلام کو تبسم بلکہ ہنسی آ گئی اور اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں مثلا پرندوں اور حیوانوں کی زبان سکھا دینا وغیرہ۔ نیز جو نعمتیں تو نے میرے والدین پر انعام کی ہیں کہ وہ مسلمان مومن ہوئے وغیرہ۔ اور مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جن سے تو خوش ہو اور جب میری موت آ جائے تو مجھے اپنے نیک بندوں اور بلند رفقاء میں ملادے جو تیرے دوست ہیں۔ مفسرین کا قول ہے کہ یہ وادی شام میں تھی۔ بعض اور جگہ بتاتے ہیں۔ یہ جیونٹی مثل مکھیوں کے پردار تھی۔ اور بھی اقوال ہیں نوف بکالی کہتے ہیں یہ بھیڑئیے کے برابر تھی۔ ممکن ہے اصل میں لفظ ذباب ہو یعنی مکھی کے برابر اور کاتب کی غلطی وہ ذیاب لکھ دیا گیا ہو یعنی بھیڑیا۔ سلیمان علیہ السلام چونکہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے اس کی بات کو بھی سمجھ گئے اور بے اختیار ہنسی آ گئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام استسقاء کے لیے نکلے تو دیکھا کہ ایک چیونٹی الٹی لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ ہم بھی تیری مخلوق ہیں پانی برسنے کی محتاجی ہمیں بھی ہے۔ اگر پانی نہ برسا تو ہم ہلاک ہو جائیں گے اس چیونٹی کی یہ دعا سن کر آپ نے لوگوں میں اعلان کیا لوٹ چلو کسی اور ہی کی دعا سے تم پانی پلائے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نبیوں میں سے کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے سوراخ میں آگ لگانے کا حکم دے دیا اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اے پیغمبر محض ایک چونٹی کے کاٹنے پر تو نے ایک گروہ کے گروہ کو جو ہماری تسبیح خواں تھا۔ ہلاک کر دیا۔ تجھے بدلہ لینا تھا تو اسی سے لیتا۔ [صحیح بخاری:3019] ‏

صفحہ نمبر6405

داؤد اور سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات ٭٭

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی سلیمان علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھاہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ کر لکھا کہ ان دونوں پیغمبروں کو جو نعمت دی گئی تھی اس سے افضل نعمت کیا ہو گی۔ داؤد علیہ السلام کے وارث سلیمان علیہ السلام ہوئے اس سے مراد مال کی وراثت نہیں بلکہ ملک ونبوت کی وراثت ہے۔ اگر مالی میراث مراد ہوتی تو اس میں صرف سلیمان علیہ السلام کا نام نہ آتا کیونکہ داؤد کی سو (‏100) بیویاں تھیں۔ انبیاء علیہم السلام کی مال کی میراث نہیں بٹتی۔ چنانچہ سید الانبیاء علیہ السلام کا ارشاد ہے ہم جماعت انبیاء ہیں ہمارے ورثے نہیں بٹا کرتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔ [صحیح بخاری:3094] ‏

صفحہ نمبر6402

سلیمان اللہ علیہ السلام اللہ کی نعمتیں یاد کرتے ہیں فرماتے ہیں یہ پورا ملک اور یہ زبردست طاقت کہ انسان، جن، پرند سب تابع فرمان ہیں، پرندوں کی زبان بھی سمجھ لیتے ہیں یہ خاص اللہ کا فضل و کرم ہے۔ جو کسی انسان پر نہیں ہوا۔ بعض جاہلوں نے کہا ہے کہ اس وقت پرند بھی انسانی زبان بولتے تھے۔ یہ محض ان کی بےعلمی ہے بھلا سمجھو تو سہی اگر واقعی یہی بات ہوتی تو پھر اس میں سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت ہی کیا تھی۔

جسے آپ اس فخر سے بیان فرماتے کہ ہمیں پرندوں کی زبان سکھا دی گئی پھر تو ہر شخص پرند کی بولی سمجھتا اور سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت جاتی رہتی۔ یہ محض غلط ہے پرند اور حیوانات ہمیشہ سے ہی ایسے رہے ان کی بولیاں بھی ایسی ہی رہیں۔ یہ خاص اللہ کا فضل تھا کہ سلیمان علیہ السلام ہر چرند پرند کی زبان سمجھتے تھے۔ ساتھ ہی یہ نعمت بھی حاصل ہوئی تھی۔ کہ ایک بادشاہت میں جن جن چیزوں کی ضروت ہوتی ہے سب سلیمان علیہ السلام کو قدرت نے مہیا کر دی تھیں۔ یہ تھا اللہ کا کھلا احسان آپ پر۔

صفحہ نمبر6403

مسند امام احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں داؤد علیہ السلام بہت ہی غیرت والے تھے جب آپ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر جاتے پھر کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی ایک مرتبہ آپ اسی طرح باہر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک بیوی صاحبہ کی نظر اٹھی تو دیکھتی ہیں کہ گھر کے بیچوں بیچ ایک صاحب کھڑے ہیں حیران ہو گئیں اور دوسروں کو دکھایا۔ آپس میں سب کہنے لگیں یہ کہاں سے آ گئے؟ اللہ کی قسم داؤد علیہ السلام بھی آ گئے آپ نے بھی انہیں کھڑا دیکھا اور دریافت کیا کہ تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا وہ جسے کوئی دروازہ یا کوئی روک نہ سکے وہ جو کسی بڑے سے بڑے کی مطلق پرواہ نہ کرے۔ داؤد علیہ السلام سمجھ گئے اور فرمانے لگے مرحبا مرحبا آپ تو ملک الموت ہیں اسی وقت ملک الموت نے آپ کی روح قبض کی۔ سورج نکل آیا اور آپ پر دھوپ آ گئی تو سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ داؤد علیہ السلام پر سایہ کریں انہوں نے اپنے پر کھول کر ایسی گہری چھاؤں کر دی کہ زمین پر اندھیرا سا چھا گیا پھر حکم دیا کہ ایک ایک کر کے اپنے سب پروں کو سمیٹ لو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرندوں نے پھر پر کیسے سمیٹے؟ آپ نے فرمایا اپنا ہاتھ سمیٹ کر بتلایا کہ اس طرح۔ اس پر اس دن سرخ رنگ گدھ غالب آ گئے۔ [مسند احمد:419/2:ضعیف] ‏

سلیمان علیہ السلام کا لشکر جمع ہوا جس میں انسان جن پرند سب تھے۔ آپ سے قریب انسان تھے پھر جن تھے پرند آپ کے سروں پر رہتے تھے۔ گرمیوں میں سایہ کر لیتے تھے۔ سب اپنے اپنے مرتبے پر قائم تھے۔ جس کی جو جگہ مقررر تھی وہ وہیں رہتا۔

صفحہ نمبر6404

جب ان لشکروں کو لے کر سلیمان علیہ السلام چلے۔ ایک جنگل پر گذر ہوا جہاں چیونٹیوں کا لشکر تھا۔ سلیمان علیہ السلام لشکر کو دیکھ کر ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ جاؤ اپنے اپنے سوراخوں میں چلی جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ لشکر سلیمان علیہ السلام کا لشکر چلتا ہوا تمہیں روند ڈالے اور انہیں علم بھی نہ ہو۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس چیونٹی کا نام ترس تھا یہ بنو شیصان کے قبیلے سے تھی۔ تھی بھی لنگڑی بقدر بھیڑیئے کے اسے خوف ہوا کہیں سب روندی جائیں گی اور پس جائیگی یہ سن کر سلیمان علیہ السلام کو تبسم بلکہ ہنسی آ گئی اور اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں مثلا پرندوں اور حیوانوں کی زبان سکھا دینا وغیرہ۔ نیز جو نعمتیں تو نے میرے والدین پر انعام کی ہیں کہ وہ مسلمان مومن ہوئے وغیرہ۔ اور مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جن سے تو خوش ہو اور جب میری موت آ جائے تو مجھے اپنے نیک بندوں اور بلند رفقاء میں ملادے جو تیرے دوست ہیں۔ مفسرین کا قول ہے کہ یہ وادی شام میں تھی۔ بعض اور جگہ بتاتے ہیں۔ یہ جیونٹی مثل مکھیوں کے پردار تھی۔ اور بھی اقوال ہیں نوف بکالی کہتے ہیں یہ بھیڑئیے کے برابر تھی۔ ممکن ہے اصل میں لفظ ذباب ہو یعنی مکھی کے برابر اور کاتب کی غلطی وہ ذیاب لکھ دیا گیا ہو یعنی بھیڑیا۔ سلیمان علیہ السلام چونکہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے اس کی بات کو بھی سمجھ گئے اور بے اختیار ہنسی آ گئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام استسقاء کے لیے نکلے تو دیکھا کہ ایک چیونٹی الٹی لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ ہم بھی تیری مخلوق ہیں پانی برسنے کی محتاجی ہمیں بھی ہے۔ اگر پانی نہ برسا تو ہم ہلاک ہو جائیں گے اس چیونٹی کی یہ دعا سن کر آپ نے لوگوں میں اعلان کیا لوٹ چلو کسی اور ہی کی دعا سے تم پانی پلائے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نبیوں میں سے کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے سوراخ میں آگ لگانے کا حکم دے دیا اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اے پیغمبر محض ایک چونٹی کے کاٹنے پر تو نے ایک گروہ کے گروہ کو جو ہماری تسبیح خواں تھا۔ ہلاک کر دیا۔ تجھے بدلہ لینا تھا تو اسی سے لیتا۔ [صحیح بخاری:3019] ‏

صفحہ نمبر6405

داؤد اور سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات ٭٭

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی سلیمان علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھاہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ کر لکھا کہ ان دونوں پیغمبروں کو جو نعمت دی گئی تھی اس سے افضل نعمت کیا ہو گی۔ داؤد علیہ السلام کے وارث سلیمان علیہ السلام ہوئے اس سے مراد مال کی وراثت نہیں بلکہ ملک ونبوت کی وراثت ہے۔ اگر مالی میراث مراد ہوتی تو اس میں صرف سلیمان علیہ السلام کا نام نہ آتا کیونکہ داؤد کی سو (‏100) بیویاں تھیں۔ انبیاء علیہم السلام کی مال کی میراث نہیں بٹتی۔ چنانچہ سید الانبیاء علیہ السلام کا ارشاد ہے ہم جماعت انبیاء ہیں ہمارے ورثے نہیں بٹا کرتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔ [صحیح بخاری:3094] ‏

صفحہ نمبر6402

سلیمان اللہ علیہ السلام اللہ کی نعمتیں یاد کرتے ہیں فرماتے ہیں یہ پورا ملک اور یہ زبردست طاقت کہ انسان، جن، پرند سب تابع فرمان ہیں، پرندوں کی زبان بھی سمجھ لیتے ہیں یہ خاص اللہ کا فضل و کرم ہے۔ جو کسی انسان پر نہیں ہوا۔ بعض جاہلوں نے کہا ہے کہ اس وقت پرند بھی انسانی زبان بولتے تھے۔ یہ محض ان کی بےعلمی ہے بھلا سمجھو تو سہی اگر واقعی یہی بات ہوتی تو پھر اس میں سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت ہی کیا تھی۔

جسے آپ اس فخر سے بیان فرماتے کہ ہمیں پرندوں کی زبان سکھا دی گئی پھر تو ہر شخص پرند کی بولی سمجھتا اور سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت جاتی رہتی۔ یہ محض غلط ہے پرند اور حیوانات ہمیشہ سے ہی ایسے رہے ان کی بولیاں بھی ایسی ہی رہیں۔ یہ خاص اللہ کا فضل تھا کہ سلیمان علیہ السلام ہر چرند پرند کی زبان سمجھتے تھے۔ ساتھ ہی یہ نعمت بھی حاصل ہوئی تھی۔ کہ ایک بادشاہت میں جن جن چیزوں کی ضروت ہوتی ہے سب سلیمان علیہ السلام کو قدرت نے مہیا کر دی تھیں۔ یہ تھا اللہ کا کھلا احسان آپ پر۔

صفحہ نمبر6403

مسند امام احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں داؤد علیہ السلام بہت ہی غیرت والے تھے جب آپ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر جاتے پھر کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی ایک مرتبہ آپ اسی طرح باہر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک بیوی صاحبہ کی نظر اٹھی تو دیکھتی ہیں کہ گھر کے بیچوں بیچ ایک صاحب کھڑے ہیں حیران ہو گئیں اور دوسروں کو دکھایا۔ آپس میں سب کہنے لگیں یہ کہاں سے آ گئے؟ اللہ کی قسم داؤد علیہ السلام بھی آ گئے آپ نے بھی انہیں کھڑا دیکھا اور دریافت کیا کہ تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا وہ جسے کوئی دروازہ یا کوئی روک نہ سکے وہ جو کسی بڑے سے بڑے کی مطلق پرواہ نہ کرے۔ داؤد علیہ السلام سمجھ گئے اور فرمانے لگے مرحبا مرحبا آپ تو ملک الموت ہیں اسی وقت ملک الموت نے آپ کی روح قبض کی۔ سورج نکل آیا اور آپ پر دھوپ آ گئی تو سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ داؤد علیہ السلام پر سایہ کریں انہوں نے اپنے پر کھول کر ایسی گہری چھاؤں کر دی کہ زمین پر اندھیرا سا چھا گیا پھر حکم دیا کہ ایک ایک کر کے اپنے سب پروں کو سمیٹ لو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرندوں نے پھر پر کیسے سمیٹے؟ آپ نے فرمایا اپنا ہاتھ سمیٹ کر بتلایا کہ اس طرح۔ اس پر اس دن سرخ رنگ گدھ غالب آ گئے۔ [مسند احمد:419/2:ضعیف] ‏

سلیمان علیہ السلام کا لشکر جمع ہوا جس میں انسان جن پرند سب تھے۔ آپ سے قریب انسان تھے پھر جن تھے پرند آپ کے سروں پر رہتے تھے۔ گرمیوں میں سایہ کر لیتے تھے۔ سب اپنے اپنے مرتبے پر قائم تھے۔ جس کی جو جگہ مقررر تھی وہ وہیں رہتا۔

صفحہ نمبر6404

جب ان لشکروں کو لے کر سلیمان علیہ السلام چلے۔ ایک جنگل پر گذر ہوا جہاں چیونٹیوں کا لشکر تھا۔ سلیمان علیہ السلام لشکر کو دیکھ کر ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ جاؤ اپنے اپنے سوراخوں میں چلی جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ لشکر سلیمان علیہ السلام کا لشکر چلتا ہوا تمہیں روند ڈالے اور انہیں علم بھی نہ ہو۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس چیونٹی کا نام ترس تھا یہ بنو شیصان کے قبیلے سے تھی۔ تھی بھی لنگڑی بقدر بھیڑیئے کے اسے خوف ہوا کہیں سب روندی جائیں گی اور پس جائیگی یہ سن کر سلیمان علیہ السلام کو تبسم بلکہ ہنسی آ گئی اور اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں مثلا پرندوں اور حیوانوں کی زبان سکھا دینا وغیرہ۔ نیز جو نعمتیں تو نے میرے والدین پر انعام کی ہیں کہ وہ مسلمان مومن ہوئے وغیرہ۔ اور مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جن سے تو خوش ہو اور جب میری موت آ جائے تو مجھے اپنے نیک بندوں اور بلند رفقاء میں ملادے جو تیرے دوست ہیں۔ مفسرین کا قول ہے کہ یہ وادی شام میں تھی۔ بعض اور جگہ بتاتے ہیں۔ یہ جیونٹی مثل مکھیوں کے پردار تھی۔ اور بھی اقوال ہیں نوف بکالی کہتے ہیں یہ بھیڑئیے کے برابر تھی۔ ممکن ہے اصل میں لفظ ذباب ہو یعنی مکھی کے برابر اور کاتب کی غلطی وہ ذیاب لکھ دیا گیا ہو یعنی بھیڑیا۔ سلیمان علیہ السلام چونکہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے اس کی بات کو بھی سمجھ گئے اور بے اختیار ہنسی آ گئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام استسقاء کے لیے نکلے تو دیکھا کہ ایک چیونٹی الٹی لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ ہم بھی تیری مخلوق ہیں پانی برسنے کی محتاجی ہمیں بھی ہے۔ اگر پانی نہ برسا تو ہم ہلاک ہو جائیں گے اس چیونٹی کی یہ دعا سن کر آپ نے لوگوں میں اعلان کیا لوٹ چلو کسی اور ہی کی دعا سے تم پانی پلائے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نبیوں میں سے کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے سوراخ میں آگ لگانے کا حکم دے دیا اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اے پیغمبر محض ایک چونٹی کے کاٹنے پر تو نے ایک گروہ کے گروہ کو جو ہماری تسبیح خواں تھا۔ ہلاک کر دیا۔ تجھے بدلہ لینا تھا تو اسی سے لیتا۔ [صحیح بخاری:3019] ‏

صفحہ نمبر6405

داؤد اور سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات ٭٭

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی سلیمان علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھاہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ کر لکھا کہ ان دونوں پیغمبروں کو جو نعمت دی گئی تھی اس سے افضل نعمت کیا ہو گی۔ داؤد علیہ السلام کے وارث سلیمان علیہ السلام ہوئے اس سے مراد مال کی وراثت نہیں بلکہ ملک ونبوت کی وراثت ہے۔ اگر مالی میراث مراد ہوتی تو اس میں صرف سلیمان علیہ السلام کا نام نہ آتا کیونکہ داؤد کی سو (‏100) بیویاں تھیں۔ انبیاء علیہم السلام کی مال کی میراث نہیں بٹتی۔ چنانچہ سید الانبیاء علیہ السلام کا ارشاد ہے ہم جماعت انبیاء ہیں ہمارے ورثے نہیں بٹا کرتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔ [صحیح بخاری:3094] ‏

صفحہ نمبر6402

سلیمان اللہ علیہ السلام اللہ کی نعمتیں یاد کرتے ہیں فرماتے ہیں یہ پورا ملک اور یہ زبردست طاقت کہ انسان، جن، پرند سب تابع فرمان ہیں، پرندوں کی زبان بھی سمجھ لیتے ہیں یہ خاص اللہ کا فضل و کرم ہے۔ جو کسی انسان پر نہیں ہوا۔ بعض جاہلوں نے کہا ہے کہ اس وقت پرند بھی انسانی زبان بولتے تھے۔ یہ محض ان کی بےعلمی ہے بھلا سمجھو تو سہی اگر واقعی یہی بات ہوتی تو پھر اس میں سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت ہی کیا تھی۔

جسے آپ اس فخر سے بیان فرماتے کہ ہمیں پرندوں کی زبان سکھا دی گئی پھر تو ہر شخص پرند کی بولی سمجھتا اور سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت جاتی رہتی۔ یہ محض غلط ہے پرند اور حیوانات ہمیشہ سے ہی ایسے رہے ان کی بولیاں بھی ایسی ہی رہیں۔ یہ خاص اللہ کا فضل تھا کہ سلیمان علیہ السلام ہر چرند پرند کی زبان سمجھتے تھے۔ ساتھ ہی یہ نعمت بھی حاصل ہوئی تھی۔ کہ ایک بادشاہت میں جن جن چیزوں کی ضروت ہوتی ہے سب سلیمان علیہ السلام کو قدرت نے مہیا کر دی تھیں۔ یہ تھا اللہ کا کھلا احسان آپ پر۔

صفحہ نمبر6403

مسند امام احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں داؤد علیہ السلام بہت ہی غیرت والے تھے جب آپ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر جاتے پھر کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی ایک مرتبہ آپ اسی طرح باہر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک بیوی صاحبہ کی نظر اٹھی تو دیکھتی ہیں کہ گھر کے بیچوں بیچ ایک صاحب کھڑے ہیں حیران ہو گئیں اور دوسروں کو دکھایا۔ آپس میں سب کہنے لگیں یہ کہاں سے آ گئے؟ اللہ کی قسم داؤد علیہ السلام بھی آ گئے آپ نے بھی انہیں کھڑا دیکھا اور دریافت کیا کہ تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا وہ جسے کوئی دروازہ یا کوئی روک نہ سکے وہ جو کسی بڑے سے بڑے کی مطلق پرواہ نہ کرے۔ داؤد علیہ السلام سمجھ گئے اور فرمانے لگے مرحبا مرحبا آپ تو ملک الموت ہیں اسی وقت ملک الموت نے آپ کی روح قبض کی۔ سورج نکل آیا اور آپ پر دھوپ آ گئی تو سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ داؤد علیہ السلام پر سایہ کریں انہوں نے اپنے پر کھول کر ایسی گہری چھاؤں کر دی کہ زمین پر اندھیرا سا چھا گیا پھر حکم دیا کہ ایک ایک کر کے اپنے سب پروں کو سمیٹ لو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرندوں نے پھر پر کیسے سمیٹے؟ آپ نے فرمایا اپنا ہاتھ سمیٹ کر بتلایا کہ اس طرح۔ اس پر اس دن سرخ رنگ گدھ غالب آ گئے۔ [مسند احمد:419/2:ضعیف] ‏

سلیمان علیہ السلام کا لشکر جمع ہوا جس میں انسان جن پرند سب تھے۔ آپ سے قریب انسان تھے پھر جن تھے پرند آپ کے سروں پر رہتے تھے۔ گرمیوں میں سایہ کر لیتے تھے۔ سب اپنے اپنے مرتبے پر قائم تھے۔ جس کی جو جگہ مقررر تھی وہ وہیں رہتا۔

صفحہ نمبر6404

جب ان لشکروں کو لے کر سلیمان علیہ السلام چلے۔ ایک جنگل پر گذر ہوا جہاں چیونٹیوں کا لشکر تھا۔ سلیمان علیہ السلام لشکر کو دیکھ کر ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ جاؤ اپنے اپنے سوراخوں میں چلی جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ لشکر سلیمان علیہ السلام کا لشکر چلتا ہوا تمہیں روند ڈالے اور انہیں علم بھی نہ ہو۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس چیونٹی کا نام ترس تھا یہ بنو شیصان کے قبیلے سے تھی۔ تھی بھی لنگڑی بقدر بھیڑیئے کے اسے خوف ہوا کہیں سب روندی جائیں گی اور پس جائیگی یہ سن کر سلیمان علیہ السلام کو تبسم بلکہ ہنسی آ گئی اور اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں مثلا پرندوں اور حیوانوں کی زبان سکھا دینا وغیرہ۔ نیز جو نعمتیں تو نے میرے والدین پر انعام کی ہیں کہ وہ مسلمان مومن ہوئے وغیرہ۔ اور مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جن سے تو خوش ہو اور جب میری موت آ جائے تو مجھے اپنے نیک بندوں اور بلند رفقاء میں ملادے جو تیرے دوست ہیں۔ مفسرین کا قول ہے کہ یہ وادی شام میں تھی۔ بعض اور جگہ بتاتے ہیں۔ یہ جیونٹی مثل مکھیوں کے پردار تھی۔ اور بھی اقوال ہیں نوف بکالی کہتے ہیں یہ بھیڑئیے کے برابر تھی۔ ممکن ہے اصل میں لفظ ذباب ہو یعنی مکھی کے برابر اور کاتب کی غلطی وہ ذیاب لکھ دیا گیا ہو یعنی بھیڑیا۔ سلیمان علیہ السلام چونکہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے اس کی بات کو بھی سمجھ گئے اور بے اختیار ہنسی آ گئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام استسقاء کے لیے نکلے تو دیکھا کہ ایک چیونٹی الٹی لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ ہم بھی تیری مخلوق ہیں پانی برسنے کی محتاجی ہمیں بھی ہے۔ اگر پانی نہ برسا تو ہم ہلاک ہو جائیں گے اس چیونٹی کی یہ دعا سن کر آپ نے لوگوں میں اعلان کیا لوٹ چلو کسی اور ہی کی دعا سے تم پانی پلائے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نبیوں میں سے کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے سوراخ میں آگ لگانے کا حکم دے دیا اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اے پیغمبر محض ایک چونٹی کے کاٹنے پر تو نے ایک گروہ کے گروہ کو جو ہماری تسبیح خواں تھا۔ ہلاک کر دیا۔ تجھے بدلہ لینا تھا تو اسی سے لیتا۔ [صحیح بخاری:3019] ‏

صفحہ نمبر6405

ہدہد ٭٭

ہدہد سلیمان علیہ السلام فوج کی میں مہندس کا کام کرتا تھا وہ بتلاتا تھا کہ پانی کہاں ہے؟ زمین کے اندر کا پانی اس کو اسطرح نظر آتا تھا جیسے کہ زمین کے اوپر کی چیز لوگوں کو نظر آتی ہے۔ جب سلیمان علیہ السلام جنگل میں ہوتے اس سے دریافت فرماتے کہ پانی کہاں ہے؟ یہ بتا دیتا کہ فلاں جگہ ہے۔ اتنا نیچا ہے اتنا اونچا ہے وغیرہ۔

سلیمان علیہ السلام اسی وقت جنات کو حکم دیتے اور کنواں کھود لیا جاتا۔ ایک دن اسی طرح جنگل میں تھے پرندوں کی تفتیش کی تاکہ پانی کی تلاش کا حکم دیں۔ اتفاق سے وہ موجود نہ تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا آج ہدہد نظر نہیں آتا کیا پرندوں میں کہیں وہ چھپ گیا جو مجھے نظر نہ آیا۔ یا واقعی وہ حاضر نہیں؟

صفحہ نمبر6410

ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ تفسیر سن کر نافع بن ازرق خارجی نے اعتراض کیا تھا یہ بکواسی ہر وقت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی باتوں پر بیجا اعتراض کیا کرتا تھا کہنے لگا آج تو تم ہارگئے۔

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیوں؟ اس نے کہا آپ جو یہ فرماتے ہو کہ ہدہد زمین کے تلے کا پانی دیکھ لیتا تھا یہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے ایک بچہ جال بچھاکر اسے مٹی سے ڈھک کر دانہ ڈال کر ہدہد کا شکار کر لیتا ہے اگر وہ زمین کے اندر کا پانی دیکھتا ہے تو زمین کے اوپر کا جال اسے کیوں نظر نہیں آتا؟ آپ نے فرمایا اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تو یہ سمجھ جائے گا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما لاجواب ہو گیا تو مجھے جواب کی ضرورت نہ تھی سن جس وقت قضاء آ جاتی ہے آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں اور عقل جاتی رہتی ہے۔ نافع لاجواب ہو گیا اور کہا واللہ اب میں آپ پر اعتراض نہ کرونگا۔ عبداللہ برزی رحمہ اللہ ایک ولی کامل شخص تھے پیر جمعرات کا روزہ پابندی سے رکھا کرتے تھے۔ اسی (‏80)‏ سال کی عمر تھی ایک آنکھ سے کانے تھے۔ سلیمان بن زید نے ان سے آنکھ کے جانے کا سبب دریافت کیا تو آپ نے اس کے بتانے سے انکار کر دیا۔ یہ بھی پیچھے پڑ گئے مہینوں گذر گئے نہ وہ بتاتے نہ یہ سوال چھوڑتے آخر تنگ آ کر فرمایا لو سن لو میرے پاس دو خراسانی برزہ میں (‏جو دمشق کے پاس ایک شہر ہے) آئے اور مجھ سے کہا کہ میں انہیں برزہ کی وادی میں لے جاؤں میں انہیں وہاں لے گیا۔

انہوں نے انگیٹھیاں نکالیں بخور نکالے اور جلانے شروع کئے یہاں تک کہ تمام وادی خوشبو سے مہکنے لگی۔ اور ہر طرف سے سانپوں کی آمد شروع ہو گئی۔ لیکن بےپرواہی سے بیٹھے رہے کسی سانپ کی طرف التفات نہ کرتے تھے۔ تھوڑی دیر میں ایک سانپ آیا جو ہاتھ بھر کا تھا اور اس کی آنکھیں سونے کی طرح چمک رہی تھیں۔ یہ بہت ہی خوش ہوئے اور کہنے لگے اللہ کا شکر ہے ہماری سال بھر محنت ٹھکانے لگی۔ انہوں نے اس سانپ کو لے کر اس کی آنکھوں میں سلائی پھیر کر اپنی آنکھوں میں وہ سلائی پھیرلی میں نے ان سے کہا کہ میری آنکھوں میں بھی یہ سلائی پھیردو۔ انہوں نے انکار کر دیا میں نے ان سے منت سماجت کی بہ مشکل وہ راضی ہوئے اور میری داہنی آنکھ میں وہ سلائی پھیر دی اب جو میں دیکھتا ہوں تو زمین مجھے ایک شیشے کی طرح معلوم ہونے لگی جیسی اوپر کی چیزیں نظر آتی تھیں ایسی ہی زمین کے اندر کی چیزیں بھی دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے مجھے سے کہا اب آپ ہمارے ساتھ ہی کچھ دور چلئے میں نے منظور کر لیا وہ باتیں کرتے ہوئے مجھے ساتھ لیے ہوئے چلے جب میں بستی سے بہت دور نکل گیا تو دونوں نے مجھے دونوں طرف سے پکڑ لیا اور ایک نے اپنی انگلی ڈال کر میری آنکھ نکالی اور اسے پھینک دیا۔ اور مجھیے یونہی بندھا ہوا وہیں چھوڑ کر دونوں کہیں چل دئیے۔ اتفاقاً وہاں سے ایک قافلہ گذرا اور انہوں نے مجھے اس حالت میں دیکھ کررحم کھایا قیدوبند سے مجھے آزاد کر دیا اور میں چلا آیا یہ قصہ ہے میری آنکھ کے جانے کا۔ (‏ابن عساکر) [تاریخ دمشق:130/19] ‏

صفحہ نمبر6411

سلیمان علیہ السلام کے اس ہدہد کا نام عنبر تھا، آپ فرماتے ہیں اگر فی الواقع وہ غیر حاضر ہے تو میں اسے سخت سزادوں گا اس کے پر نچوادوں گا اور اس کو پھنک دوں گا کہ کیڑے مکوڑے کھاجائیں یا میں اسے حلال کردونگا۔ یا یہ کہ وہ اپنے غیر حاضر ہونے کی کوئی معقول وجہ پیش کر دے۔

اتنے میں ہدہد آ گیا جانوروں نے اسے خبر دی کہ آج تیری خیر نہیں۔ بادشاہ سلامت عہد کر چکے ہیں کہ وہ تجھے مار ڈالیں گے۔ اس نے کہا یہ بیان کرو کہ آپ کے الفاظ کیا تھے؟ انہوں نے بیان کئے تو خوش ہو کر کہنے لگا پھر تو میں بچ جاؤں گا۔ مجاہد فرماتے ہیں اس کے بچاؤ کی وجہ اس کا اپنی ماں کے ساتھ سلوک تھا۔

صفحہ نمبر6412

ہدہد ٭٭

ہدہد سلیمان علیہ السلام فوج کی میں مہندس کا کام کرتا تھا وہ بتلاتا تھا کہ پانی کہاں ہے؟ زمین کے اندر کا پانی اس کو اسطرح نظر آتا تھا جیسے کہ زمین کے اوپر کی چیز لوگوں کو نظر آتی ہے۔ جب سلیمان علیہ السلام جنگل میں ہوتے اس سے دریافت فرماتے کہ پانی کہاں ہے؟ یہ بتا دیتا کہ فلاں جگہ ہے۔ اتنا نیچا ہے اتنا اونچا ہے وغیرہ۔

سلیمان علیہ السلام اسی وقت جنات کو حکم دیتے اور کنواں کھود لیا جاتا۔ ایک دن اسی طرح جنگل میں تھے پرندوں کی تفتیش کی تاکہ پانی کی تلاش کا حکم دیں۔ اتفاق سے وہ موجود نہ تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا آج ہدہد نظر نہیں آتا کیا پرندوں میں کہیں وہ چھپ گیا جو مجھے نظر نہ آیا۔ یا واقعی وہ حاضر نہیں؟

صفحہ نمبر6410

ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ تفسیر سن کر نافع بن ازرق خارجی نے اعتراض کیا تھا یہ بکواسی ہر وقت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی باتوں پر بیجا اعتراض کیا کرتا تھا کہنے لگا آج تو تم ہارگئے۔

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیوں؟ اس نے کہا آپ جو یہ فرماتے ہو کہ ہدہد زمین کے تلے کا پانی دیکھ لیتا تھا یہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے ایک بچہ جال بچھاکر اسے مٹی سے ڈھک کر دانہ ڈال کر ہدہد کا شکار کر لیتا ہے اگر وہ زمین کے اندر کا پانی دیکھتا ہے تو زمین کے اوپر کا جال اسے کیوں نظر نہیں آتا؟ آپ نے فرمایا اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تو یہ سمجھ جائے گا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما لاجواب ہو گیا تو مجھے جواب کی ضرورت نہ تھی سن جس وقت قضاء آ جاتی ہے آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں اور عقل جاتی رہتی ہے۔ نافع لاجواب ہو گیا اور کہا واللہ اب میں آپ پر اعتراض نہ کرونگا۔ عبداللہ برزی رحمہ اللہ ایک ولی کامل شخص تھے پیر جمعرات کا روزہ پابندی سے رکھا کرتے تھے۔ اسی (‏80)‏ سال کی عمر تھی ایک آنکھ سے کانے تھے۔ سلیمان بن زید نے ان سے آنکھ کے جانے کا سبب دریافت کیا تو آپ نے اس کے بتانے سے انکار کر دیا۔ یہ بھی پیچھے پڑ گئے مہینوں گذر گئے نہ وہ بتاتے نہ یہ سوال چھوڑتے آخر تنگ آ کر فرمایا لو سن لو میرے پاس دو خراسانی برزہ میں (‏جو دمشق کے پاس ایک شہر ہے) آئے اور مجھ سے کہا کہ میں انہیں برزہ کی وادی میں لے جاؤں میں انہیں وہاں لے گیا۔

انہوں نے انگیٹھیاں نکالیں بخور نکالے اور جلانے شروع کئے یہاں تک کہ تمام وادی خوشبو سے مہکنے لگی۔ اور ہر طرف سے سانپوں کی آمد شروع ہو گئی۔ لیکن بےپرواہی سے بیٹھے رہے کسی سانپ کی طرف التفات نہ کرتے تھے۔ تھوڑی دیر میں ایک سانپ آیا جو ہاتھ بھر کا تھا اور اس کی آنکھیں سونے کی طرح چمک رہی تھیں۔ یہ بہت ہی خوش ہوئے اور کہنے لگے اللہ کا شکر ہے ہماری سال بھر محنت ٹھکانے لگی۔ انہوں نے اس سانپ کو لے کر اس کی آنکھوں میں سلائی پھیر کر اپنی آنکھوں میں وہ سلائی پھیرلی میں نے ان سے کہا کہ میری آنکھوں میں بھی یہ سلائی پھیردو۔ انہوں نے انکار کر دیا میں نے ان سے منت سماجت کی بہ مشکل وہ راضی ہوئے اور میری داہنی آنکھ میں وہ سلائی پھیر دی اب جو میں دیکھتا ہوں تو زمین مجھے ایک شیشے کی طرح معلوم ہونے لگی جیسی اوپر کی چیزیں نظر آتی تھیں ایسی ہی زمین کے اندر کی چیزیں بھی دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے مجھے سے کہا اب آپ ہمارے ساتھ ہی کچھ دور چلئے میں نے منظور کر لیا وہ باتیں کرتے ہوئے مجھے ساتھ لیے ہوئے چلے جب میں بستی سے بہت دور نکل گیا تو دونوں نے مجھے دونوں طرف سے پکڑ لیا اور ایک نے اپنی انگلی ڈال کر میری آنکھ نکالی اور اسے پھینک دیا۔ اور مجھیے یونہی بندھا ہوا وہیں چھوڑ کر دونوں کہیں چل دئیے۔ اتفاقاً وہاں سے ایک قافلہ گذرا اور انہوں نے مجھے اس حالت میں دیکھ کررحم کھایا قیدوبند سے مجھے آزاد کر دیا اور میں چلا آیا یہ قصہ ہے میری آنکھ کے جانے کا۔ (‏ابن عساکر) [تاریخ دمشق:130/19] ‏

صفحہ نمبر6411

سلیمان علیہ السلام کے اس ہدہد کا نام عنبر تھا، آپ فرماتے ہیں اگر فی الواقع وہ غیر حاضر ہے تو میں اسے سخت سزادوں گا اس کے پر نچوادوں گا اور اس کو پھنک دوں گا کہ کیڑے مکوڑے کھاجائیں یا میں اسے حلال کردونگا۔ یا یہ کہ وہ اپنے غیر حاضر ہونے کی کوئی معقول وجہ پیش کر دے۔

اتنے میں ہدہد آ گیا جانوروں نے اسے خبر دی کہ آج تیری خیر نہیں۔ بادشاہ سلامت عہد کر چکے ہیں کہ وہ تجھے مار ڈالیں گے۔ اس نے کہا یہ بیان کرو کہ آپ کے الفاظ کیا تھے؟ انہوں نے بیان کئے تو خوش ہو کر کہنے لگا پھر تو میں بچ جاؤں گا۔ مجاہد فرماتے ہیں اس کے بچاؤ کی وجہ اس کا اپنی ماں کے ساتھ سلوک تھا۔

صفحہ نمبر6412

ہدہد کی غیر حاضری ٭٭

ہدہد کی غیر حاضری کو تھوڑی سی دیر گزری تھی جو وہ آ گیا۔ اس نے کہا کہ اے نبی اللہ علیہ السلام جس بات کی آپ کو خبر بھی نہیں میں اس کی ایک نئی خبر لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ میں سبا سے آ رہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں۔ ان کے سباحمیر تھے اور یہ یمن کے بادشاہ تھے۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے اس کا نام بلقیس بنت شرجیل تھا یہ سب کی ملکہ تھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں۔ اس کی ماں جنیہ عورت تھی اس کے قدم کا پچھلا حصہ چوپائے کے کھر جیسا تھا۔

صفحہ نمبر6414

اور روایت میں ہے اس کی ماں کا نام رفاعہ تھا ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں ان کے باپ کا نام ذی شرخ تھا اور ماں کا نام بلتغہ تھا لاکھوں کا اس کا لشکر تھا۔ اس کی بادشاہی ایک عورت کے ہاتھ میں ہے اس کے مشیر وزیر تین سو بارہ شخص ہیں ان میں سے ہر ایک کے ماتحت بارہ ہزار کی جمعیت ہے اس کی زمین کا نام مارب ہے یہ صنعاء سے تین میل کے فاصلہ پر ہے یہی قول قرین قیاس ہے اس کا اکثر حصہ مملکت یمن ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر6415

ہر قسم کا دنیوی ضروری اسباب اسے مہیا ہے اس کا نہایت ہی شاندار تخت ہے جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ سونے سے منڈھا ہوا ہے اور جڑاؤ اور مروارید کی کاریگری اس پر ہوئی ہے۔ یہ اسی (‏80)‏ ہاتھ اونچا اور چالیس(‏40)‏ ہاتھ چوڑا تھا۔ چھ سو عورتیں ہر وقت اس کی خدمت میں کمربستہ رہتی تھیں اس کا دیوان خاص جس میں یہ تخت تھا بہت بڑا محل تھا بلند وبالاکشادہ اور فراخ پختہ مضبوط اور صاف جس کے مشرقی حصہ میں تین سو ساٹھ طاق تھے اور اتنے ہی مغربی حصے میں۔

صفحہ نمبر6416

اسے اس صنعت سے بنایا تھا کہ ہر دن سورج ایک طاق سے نکلتا اور اسی کے مقابلہ کے طاق سے غروب ہوتا۔ اہل دربار صبح و شام اس کوسجدہ کرتے۔ راجا پر جا سب آفتاب پرست تھے اللہ کا عابد ان میں ایک بھی نہ تھا شیطان نے برائیاں انہیں اچھی کر دکھائی تھیں اور ان پر حق کا راستہ بند کر رکھا تھا وہ راہ راست پر آتے ہی نہ تھے۔ راہ راست یہ ہے کہ سورج چاند اور ستاروں کی بجائے صرف اللہ ہی کی ذات کو سجدے کے لائق ماناجائے۔

صفحہ نمبر6417

جیسے فرمان قرآن ہے «وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۚ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» [41-فصلت:37] ‏ ” کہ رات دن سورج چاند سب قدرت اللہ کی نشانیاں ہیں۔ تمہیں سورج چاند کو سجدہ نہ کرنا چاہیئے سجدہ صرف اسی اللہ کو کرنا چاہیئے جو ان سب کا خالق ہے۔ “

آیت «الا یسجدوا» کی ایک قرأت «الایا اسجدوا» بھی ہے۔ یا کہ بعد کا منادیٰ محذوف ہے یعنی اے میری قوم خبردار سجدہ اللہ ہی کے لیے کرنا جو آسمان کی زمین کی ہر ہر پوشیدہ چیز سے باخبر ہے۔ «خب» کی تفسیر پانی اور بارش اور پیداوار سے بھی کی گئی ہے۔

کیا عجب کہ ہدہد کی جس میں یہی صفت تھی یہی مراد ہو۔ «‏سَوَاءٌ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» ‏ [13-الرعد:10] ‏ اور تمہارے ہر مخفی اور ظاہر کام کو بھی وہ جانتا ہے۔ کھلی چھپی بات اس پر یکساں ہے وہی تنہا معبود برحق ہے وہی عرش عظیم کا رب ہے جس سے بڑی کوئی چیز نہیں۔

چونکہ ہدہد خیر کی طرف بلانے والا ایک اللہ کی عبادت کا حکم دینے وال اس کے سوا غیر کے سجدے سے روکنے والا تھا اسی لیے اس کے قتل کی ممانعت کر دی گئی۔ مسند احمد , ابوداؤد , ابن ماجہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں کا قتل منع فرما دیا۔ چیونٹی شہد کی مکھی ہدہد اور صرد یعنی لٹورا۔ [سنن ابوداود:5267،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر6418

ہدہد کی غیر حاضری ٭٭

ہدہد کی غیر حاضری کو تھوڑی سی دیر گزری تھی جو وہ آ گیا۔ اس نے کہا کہ اے نبی اللہ علیہ السلام جس بات کی آپ کو خبر بھی نہیں میں اس کی ایک نئی خبر لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ میں سبا سے آ رہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں۔ ان کے سباحمیر تھے اور یہ یمن کے بادشاہ تھے۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے اس کا نام بلقیس بنت شرجیل تھا یہ سب کی ملکہ تھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں۔ اس کی ماں جنیہ عورت تھی اس کے قدم کا پچھلا حصہ چوپائے کے کھر جیسا تھا۔

صفحہ نمبر6414

اور روایت میں ہے اس کی ماں کا نام رفاعہ تھا ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں ان کے باپ کا نام ذی شرخ تھا اور ماں کا نام بلتغہ تھا لاکھوں کا اس کا لشکر تھا۔ اس کی بادشاہی ایک عورت کے ہاتھ میں ہے اس کے مشیر وزیر تین سو بارہ شخص ہیں ان میں سے ہر ایک کے ماتحت بارہ ہزار کی جمعیت ہے اس کی زمین کا نام مارب ہے یہ صنعاء سے تین میل کے فاصلہ پر ہے یہی قول قرین قیاس ہے اس کا اکثر حصہ مملکت یمن ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر6415

ہر قسم کا دنیوی ضروری اسباب اسے مہیا ہے اس کا نہایت ہی شاندار تخت ہے جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ سونے سے منڈھا ہوا ہے اور جڑاؤ اور مروارید کی کاریگری اس پر ہوئی ہے۔ یہ اسی (‏80)‏ ہاتھ اونچا اور چالیس(‏40)‏ ہاتھ چوڑا تھا۔ چھ سو عورتیں ہر وقت اس کی خدمت میں کمربستہ رہتی تھیں اس کا دیوان خاص جس میں یہ تخت تھا بہت بڑا محل تھا بلند وبالاکشادہ اور فراخ پختہ مضبوط اور صاف جس کے مشرقی حصہ میں تین سو ساٹھ طاق تھے اور اتنے ہی مغربی حصے میں۔

صفحہ نمبر6416

اسے اس صنعت سے بنایا تھا کہ ہر دن سورج ایک طاق سے نکلتا اور اسی کے مقابلہ کے طاق سے غروب ہوتا۔ اہل دربار صبح و شام اس کوسجدہ کرتے۔ راجا پر جا سب آفتاب پرست تھے اللہ کا عابد ان میں ایک بھی نہ تھا شیطان نے برائیاں انہیں اچھی کر دکھائی تھیں اور ان پر حق کا راستہ بند کر رکھا تھا وہ راہ راست پر آتے ہی نہ تھے۔ راہ راست یہ ہے کہ سورج چاند اور ستاروں کی بجائے صرف اللہ ہی کی ذات کو سجدے کے لائق ماناجائے۔

صفحہ نمبر6417

جیسے فرمان قرآن ہے «وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۚ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» [41-فصلت:37] ‏ ” کہ رات دن سورج چاند سب قدرت اللہ کی نشانیاں ہیں۔ تمہیں سورج چاند کو سجدہ نہ کرنا چاہیئے سجدہ صرف اسی اللہ کو کرنا چاہیئے جو ان سب کا خالق ہے۔ “

آیت «الا یسجدوا» کی ایک قرأت «الایا اسجدوا» بھی ہے۔ یا کہ بعد کا منادیٰ محذوف ہے یعنی اے میری قوم خبردار سجدہ اللہ ہی کے لیے کرنا جو آسمان کی زمین کی ہر ہر پوشیدہ چیز سے باخبر ہے۔ «خب» کی تفسیر پانی اور بارش اور پیداوار سے بھی کی گئی ہے۔

کیا عجب کہ ہدہد کی جس میں یہی صفت تھی یہی مراد ہو۔ «‏سَوَاءٌ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» ‏ [13-الرعد:10] ‏ اور تمہارے ہر مخفی اور ظاہر کام کو بھی وہ جانتا ہے۔ کھلی چھپی بات اس پر یکساں ہے وہی تنہا معبود برحق ہے وہی عرش عظیم کا رب ہے جس سے بڑی کوئی چیز نہیں۔

چونکہ ہدہد خیر کی طرف بلانے والا ایک اللہ کی عبادت کا حکم دینے وال اس کے سوا غیر کے سجدے سے روکنے والا تھا اسی لیے اس کے قتل کی ممانعت کر دی گئی۔ مسند احمد , ابوداؤد , ابن ماجہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں کا قتل منع فرما دیا۔ چیونٹی شہد کی مکھی ہدہد اور صرد یعنی لٹورا۔ [سنن ابوداود:5267،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر6418

ہدہد کی غیر حاضری ٭٭

ہدہد کی غیر حاضری کو تھوڑی سی دیر گزری تھی جو وہ آ گیا۔ اس نے کہا کہ اے نبی اللہ علیہ السلام جس بات کی آپ کو خبر بھی نہیں میں اس کی ایک نئی خبر لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ میں سبا سے آ رہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں۔ ان کے سباحمیر تھے اور یہ یمن کے بادشاہ تھے۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے اس کا نام بلقیس بنت شرجیل تھا یہ سب کی ملکہ تھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں۔ اس کی ماں جنیہ عورت تھی اس کے قدم کا پچھلا حصہ چوپائے کے کھر جیسا تھا۔

صفحہ نمبر6414

اور روایت میں ہے اس کی ماں کا نام رفاعہ تھا ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں ان کے باپ کا نام ذی شرخ تھا اور ماں کا نام بلتغہ تھا لاکھوں کا اس کا لشکر تھا۔ اس کی بادشاہی ایک عورت کے ہاتھ میں ہے اس کے مشیر وزیر تین سو بارہ شخص ہیں ان میں سے ہر ایک کے ماتحت بارہ ہزار کی جمعیت ہے اس کی زمین کا نام مارب ہے یہ صنعاء سے تین میل کے فاصلہ پر ہے یہی قول قرین قیاس ہے اس کا اکثر حصہ مملکت یمن ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر6415

ہر قسم کا دنیوی ضروری اسباب اسے مہیا ہے اس کا نہایت ہی شاندار تخت ہے جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ سونے سے منڈھا ہوا ہے اور جڑاؤ اور مروارید کی کاریگری اس پر ہوئی ہے۔ یہ اسی (‏80)‏ ہاتھ اونچا اور چالیس(‏40)‏ ہاتھ چوڑا تھا۔ چھ سو عورتیں ہر وقت اس کی خدمت میں کمربستہ رہتی تھیں اس کا دیوان خاص جس میں یہ تخت تھا بہت بڑا محل تھا بلند وبالاکشادہ اور فراخ پختہ مضبوط اور صاف جس کے مشرقی حصہ میں تین سو ساٹھ طاق تھے اور اتنے ہی مغربی حصے میں۔

صفحہ نمبر6416

اسے اس صنعت سے بنایا تھا کہ ہر دن سورج ایک طاق سے نکلتا اور اسی کے مقابلہ کے طاق سے غروب ہوتا۔ اہل دربار صبح و شام اس کوسجدہ کرتے۔ راجا پر جا سب آفتاب پرست تھے اللہ کا عابد ان میں ایک بھی نہ تھا شیطان نے برائیاں انہیں اچھی کر دکھائی تھیں اور ان پر حق کا راستہ بند کر رکھا تھا وہ راہ راست پر آتے ہی نہ تھے۔ راہ راست یہ ہے کہ سورج چاند اور ستاروں کی بجائے صرف اللہ ہی کی ذات کو سجدے کے لائق ماناجائے۔

صفحہ نمبر6417

جیسے فرمان قرآن ہے «وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۚ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» [41-فصلت:37] ‏ ” کہ رات دن سورج چاند سب قدرت اللہ کی نشانیاں ہیں۔ تمہیں سورج چاند کو سجدہ نہ کرنا چاہیئے سجدہ صرف اسی اللہ کو کرنا چاہیئے جو ان سب کا خالق ہے۔ “

آیت «الا یسجدوا» کی ایک قرأت «الایا اسجدوا» بھی ہے۔ یا کہ بعد کا منادیٰ محذوف ہے یعنی اے میری قوم خبردار سجدہ اللہ ہی کے لیے کرنا جو آسمان کی زمین کی ہر ہر پوشیدہ چیز سے باخبر ہے۔ «خب» کی تفسیر پانی اور بارش اور پیداوار سے بھی کی گئی ہے۔

کیا عجب کہ ہدہد کی جس میں یہی صفت تھی یہی مراد ہو۔ «‏سَوَاءٌ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» ‏ [13-الرعد:10] ‏ اور تمہارے ہر مخفی اور ظاہر کام کو بھی وہ جانتا ہے۔ کھلی چھپی بات اس پر یکساں ہے وہی تنہا معبود برحق ہے وہی عرش عظیم کا رب ہے جس سے بڑی کوئی چیز نہیں۔

چونکہ ہدہد خیر کی طرف بلانے والا ایک اللہ کی عبادت کا حکم دینے وال اس کے سوا غیر کے سجدے سے روکنے والا تھا اسی لیے اس کے قتل کی ممانعت کر دی گئی۔ مسند احمد , ابوداؤد , ابن ماجہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں کا قتل منع فرما دیا۔ چیونٹی شہد کی مکھی ہدہد اور صرد یعنی لٹورا۔ [سنن ابوداود:5267،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر6418

ہدہد کی غیر حاضری ٭٭

ہدہد کی غیر حاضری کو تھوڑی سی دیر گزری تھی جو وہ آ گیا۔ اس نے کہا کہ اے نبی اللہ علیہ السلام جس بات کی آپ کو خبر بھی نہیں میں اس کی ایک نئی خبر لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ میں سبا سے آ رہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں۔ ان کے سباحمیر تھے اور یہ یمن کے بادشاہ تھے۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے اس کا نام بلقیس بنت شرجیل تھا یہ سب کی ملکہ تھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں۔ اس کی ماں جنیہ عورت تھی اس کے قدم کا پچھلا حصہ چوپائے کے کھر جیسا تھا۔

صفحہ نمبر6414

اور روایت میں ہے اس کی ماں کا نام رفاعہ تھا ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں ان کے باپ کا نام ذی شرخ تھا اور ماں کا نام بلتغہ تھا لاکھوں کا اس کا لشکر تھا۔ اس کی بادشاہی ایک عورت کے ہاتھ میں ہے اس کے مشیر وزیر تین سو بارہ شخص ہیں ان میں سے ہر ایک کے ماتحت بارہ ہزار کی جمعیت ہے اس کی زمین کا نام مارب ہے یہ صنعاء سے تین میل کے فاصلہ پر ہے یہی قول قرین قیاس ہے اس کا اکثر حصہ مملکت یمن ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر6415

ہر قسم کا دنیوی ضروری اسباب اسے مہیا ہے اس کا نہایت ہی شاندار تخت ہے جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ سونے سے منڈھا ہوا ہے اور جڑاؤ اور مروارید کی کاریگری اس پر ہوئی ہے۔ یہ اسی (‏80)‏ ہاتھ اونچا اور چالیس(‏40)‏ ہاتھ چوڑا تھا۔ چھ سو عورتیں ہر وقت اس کی خدمت میں کمربستہ رہتی تھیں اس کا دیوان خاص جس میں یہ تخت تھا بہت بڑا محل تھا بلند وبالاکشادہ اور فراخ پختہ مضبوط اور صاف جس کے مشرقی حصہ میں تین سو ساٹھ طاق تھے اور اتنے ہی مغربی حصے میں۔

صفحہ نمبر6416

اسے اس صنعت سے بنایا تھا کہ ہر دن سورج ایک طاق سے نکلتا اور اسی کے مقابلہ کے طاق سے غروب ہوتا۔ اہل دربار صبح و شام اس کوسجدہ کرتے۔ راجا پر جا سب آفتاب پرست تھے اللہ کا عابد ان میں ایک بھی نہ تھا شیطان نے برائیاں انہیں اچھی کر دکھائی تھیں اور ان پر حق کا راستہ بند کر رکھا تھا وہ راہ راست پر آتے ہی نہ تھے۔ راہ راست یہ ہے کہ سورج چاند اور ستاروں کی بجائے صرف اللہ ہی کی ذات کو سجدے کے لائق ماناجائے۔

صفحہ نمبر6417

جیسے فرمان قرآن ہے «وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۚ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» [41-فصلت:37] ‏ ” کہ رات دن سورج چاند سب قدرت اللہ کی نشانیاں ہیں۔ تمہیں سورج چاند کو سجدہ نہ کرنا چاہیئے سجدہ صرف اسی اللہ کو کرنا چاہیئے جو ان سب کا خالق ہے۔ “

آیت «الا یسجدوا» کی ایک قرأت «الایا اسجدوا» بھی ہے۔ یا کہ بعد کا منادیٰ محذوف ہے یعنی اے میری قوم خبردار سجدہ اللہ ہی کے لیے کرنا جو آسمان کی زمین کی ہر ہر پوشیدہ چیز سے باخبر ہے۔ «خب» کی تفسیر پانی اور بارش اور پیداوار سے بھی کی گئی ہے۔

کیا عجب کہ ہدہد کی جس میں یہی صفت تھی یہی مراد ہو۔ «‏سَوَاءٌ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» ‏ [13-الرعد:10] ‏ اور تمہارے ہر مخفی اور ظاہر کام کو بھی وہ جانتا ہے۔ کھلی چھپی بات اس پر یکساں ہے وہی تنہا معبود برحق ہے وہی عرش عظیم کا رب ہے جس سے بڑی کوئی چیز نہیں۔

چونکہ ہدہد خیر کی طرف بلانے والا ایک اللہ کی عبادت کا حکم دینے وال اس کے سوا غیر کے سجدے سے روکنے والا تھا اسی لیے اس کے قتل کی ممانعت کر دی گئی۔ مسند احمد , ابوداؤد , ابن ماجہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں کا قتل منع فرما دیا۔ چیونٹی شہد کی مکھی ہدہد اور صرد یعنی لٹورا۔ [سنن ابوداود:5267،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر6418

ہدہد کی غیر حاضری ٭٭

ہدہد کی غیر حاضری کو تھوڑی سی دیر گزری تھی جو وہ آ گیا۔ اس نے کہا کہ اے نبی اللہ علیہ السلام جس بات کی آپ کو خبر بھی نہیں میں اس کی ایک نئی خبر لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ میں سبا سے آ رہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں۔ ان کے سباحمیر تھے اور یہ یمن کے بادشاہ تھے۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے اس کا نام بلقیس بنت شرجیل تھا یہ سب کی ملکہ تھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں۔ اس کی ماں جنیہ عورت تھی اس کے قدم کا پچھلا حصہ چوپائے کے کھر جیسا تھا۔

صفحہ نمبر6414

اور روایت میں ہے اس کی ماں کا نام رفاعہ تھا ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں ان کے باپ کا نام ذی شرخ تھا اور ماں کا نام بلتغہ تھا لاکھوں کا اس کا لشکر تھا۔ اس کی بادشاہی ایک عورت کے ہاتھ میں ہے اس کے مشیر وزیر تین سو بارہ شخص ہیں ان میں سے ہر ایک کے ماتحت بارہ ہزار کی جمعیت ہے اس کی زمین کا نام مارب ہے یہ صنعاء سے تین میل کے فاصلہ پر ہے یہی قول قرین قیاس ہے اس کا اکثر حصہ مملکت یمن ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر6415

ہر قسم کا دنیوی ضروری اسباب اسے مہیا ہے اس کا نہایت ہی شاندار تخت ہے جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ سونے سے منڈھا ہوا ہے اور جڑاؤ اور مروارید کی کاریگری اس پر ہوئی ہے۔ یہ اسی (‏80)‏ ہاتھ اونچا اور چالیس(‏40)‏ ہاتھ چوڑا تھا۔ چھ سو عورتیں ہر وقت اس کی خدمت میں کمربستہ رہتی تھیں اس کا دیوان خاص جس میں یہ تخت تھا بہت بڑا محل تھا بلند وبالاکشادہ اور فراخ پختہ مضبوط اور صاف جس کے مشرقی حصہ میں تین سو ساٹھ طاق تھے اور اتنے ہی مغربی حصے میں۔

صفحہ نمبر6416

اسے اس صنعت سے بنایا تھا کہ ہر دن سورج ایک طاق سے نکلتا اور اسی کے مقابلہ کے طاق سے غروب ہوتا۔ اہل دربار صبح و شام اس کوسجدہ کرتے۔ راجا پر جا سب آفتاب پرست تھے اللہ کا عابد ان میں ایک بھی نہ تھا شیطان نے برائیاں انہیں اچھی کر دکھائی تھیں اور ان پر حق کا راستہ بند کر رکھا تھا وہ راہ راست پر آتے ہی نہ تھے۔ راہ راست یہ ہے کہ سورج چاند اور ستاروں کی بجائے صرف اللہ ہی کی ذات کو سجدے کے لائق ماناجائے۔

صفحہ نمبر6417

جیسے فرمان قرآن ہے «وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۚ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» [41-فصلت:37] ‏ ” کہ رات دن سورج چاند سب قدرت اللہ کی نشانیاں ہیں۔ تمہیں سورج چاند کو سجدہ نہ کرنا چاہیئے سجدہ صرف اسی اللہ کو کرنا چاہیئے جو ان سب کا خالق ہے۔ “

آیت «الا یسجدوا» کی ایک قرأت «الایا اسجدوا» بھی ہے۔ یا کہ بعد کا منادیٰ محذوف ہے یعنی اے میری قوم خبردار سجدہ اللہ ہی کے لیے کرنا جو آسمان کی زمین کی ہر ہر پوشیدہ چیز سے باخبر ہے۔ «خب» کی تفسیر پانی اور بارش اور پیداوار سے بھی کی گئی ہے۔

کیا عجب کہ ہدہد کی جس میں یہی صفت تھی یہی مراد ہو۔ «‏سَوَاءٌ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» ‏ [13-الرعد:10] ‏ اور تمہارے ہر مخفی اور ظاہر کام کو بھی وہ جانتا ہے۔ کھلی چھپی بات اس پر یکساں ہے وہی تنہا معبود برحق ہے وہی عرش عظیم کا رب ہے جس سے بڑی کوئی چیز نہیں۔

چونکہ ہدہد خیر کی طرف بلانے والا ایک اللہ کی عبادت کا حکم دینے وال اس کے سوا غیر کے سجدے سے روکنے والا تھا اسی لیے اس کے قتل کی ممانعت کر دی گئی۔ مسند احمد , ابوداؤد , ابن ماجہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں کا قتل منع فرما دیا۔ چیونٹی شہد کی مکھی ہدہد اور صرد یعنی لٹورا۔ [سنن ابوداود:5267،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر6418

تحقیق شروع ہو گئی ٭٭

ہدہد کی خبر سنتے ہی سلیمان علیہ السلام نے اس کی تحقیق شروع کر دی کہ اگر یہ سچا ہے تو قابل معافی ہے اور اگر جھوٹا ہے تو قابل سزا ہے۔ اسی سے فرمایا کہ میرا یہ خط بلقیس کو جو وہاں کی فرمانروا ہے دے آ۔ اس خط کو چونچ میں لے کر یا پر سے بندھواکر ہدہد اڑا۔ وہاں پہنچ کر بلقیس کے محل میں گیا وہ اس وقت خلوت خانہ میں تھی۔ اس نے ایک طاق میں سے وہ خط اس کے سامنے رکھا اور ادب کے ساتھ ایک طرف ہو گیا۔

اسے سخت تعجب معلوم ہوا حیرت ہوئی اور ساتھ ہی کچھ خوف زدہ بھی ہوئی۔ خط کو اٹھا کر مہر توڑ کر خط کھول کر پڑھا اس کے مضمون سے واقف ہو کر اپنے امراء وزراء سردار اور رؤسا کو جمع کیا اور کہنے لگی کہ ایک باوقعت خط میرے سامنے ڈالا گیا ہے اس خط کا باوقعت ہونا اس پر اس سے بھی ظاہر ہو گیا تھا کہ ایک جانور اسے لاتا ہے وہ ہوشیاری اور احتیاط سے پہنچاتا ہے۔ سامنے با ادب رکھ کر ایک طرف ہو جاتا ہے تو جان گئی تھی کہ یہ خط مکرم ہے اور کسی باعزت شخص کا بھیجا ہوا ہے۔ پھر خط کامضمون سب کو پڑھ کرسنایا کہ یہ خط سلیمان علیہ السلام کا ہے اور اس کے شروع میں «‏بسم اللہ الرحمن الرحیم» لکھا ہوا ہے ساتھ ہی مسلمان ہونے اور تابع فرمان بننے کی دعوت ہے۔ اب سب نے پہچان لیا کہ یہ اللہ کے پیغمبر کا دعوت نامہ ہے اور ہم میں سے کسی میں ان کے مقابلے کی تاب وطاقت نہیں۔

پھر خط کی بلاغت اختصار اور وضاحت نے سب کو حیران کر دیا یہ مختصر سی عبارت بہت سی باتوں سے سوا ہے۔ دریا کو کوزہ میں بند کر دیا ہے علماء کرام کا مقولہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام سے پہلے کسی نے خط میں «بسم اللہ الرحمن الرحیم» نہیں لکھی۔

صفحہ نمبر6423

ایک غریب اور ضعیف حدیث ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ نے فرمایا میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں جو مجھ سے پہلے سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے بعد کسی نبی پر نہیں اتری میں نے کہا حضور وہ کون سی آیت ہے؟ آپ نے فرمایا مسجد سے جانے سے پہلے ہی میں تجھے بتا دوں گا اب آپ نکلنے لگے ایک پاؤں مسجد سے باہر رکھ بھی دیامیرے جی میں آیا شاید آپ بھول گئے۔ اتنے میں آپ نے یہی آیت پڑھی۔ [ضعیف:اس میں عبدالکریم راوی ضعیف ہے] ‏

اور روایت میں ہے کہ جب تک یہ آیت نہیں اتری تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا «باسمک اللہم» تحریر فرمایا کرتے تھے۔ جب یہ آیت اتری آپ نے «بسم اللہ الرحمن الرحیم» لکھنا شرع کیا۔ خط کا مضمون صرف اسی قدر تھا کہ میرے سامنے سرکشی نہ کرو مجھے مجبور نہ کرو میری بات مان لو تکبر سے کام نہ لو موحد مخلص مطیع بن کر میرے پاس چلی آؤ۔

صفحہ نمبر6424

تحقیق شروع ہو گئی ٭٭

ہدہد کی خبر سنتے ہی سلیمان علیہ السلام نے اس کی تحقیق شروع کر دی کہ اگر یہ سچا ہے تو قابل معافی ہے اور اگر جھوٹا ہے تو قابل سزا ہے۔ اسی سے فرمایا کہ میرا یہ خط بلقیس کو جو وہاں کی فرمانروا ہے دے آ۔ اس خط کو چونچ میں لے کر یا پر سے بندھواکر ہدہد اڑا۔ وہاں پہنچ کر بلقیس کے محل میں گیا وہ اس وقت خلوت خانہ میں تھی۔ اس نے ایک طاق میں سے وہ خط اس کے سامنے رکھا اور ادب کے ساتھ ایک طرف ہو گیا۔

اسے سخت تعجب معلوم ہوا حیرت ہوئی اور ساتھ ہی کچھ خوف زدہ بھی ہوئی۔ خط کو اٹھا کر مہر توڑ کر خط کھول کر پڑھا اس کے مضمون سے واقف ہو کر اپنے امراء وزراء سردار اور رؤسا کو جمع کیا اور کہنے لگی کہ ایک باوقعت خط میرے سامنے ڈالا گیا ہے اس خط کا باوقعت ہونا اس پر اس سے بھی ظاہر ہو گیا تھا کہ ایک جانور اسے لاتا ہے وہ ہوشیاری اور احتیاط سے پہنچاتا ہے۔ سامنے با ادب رکھ کر ایک طرف ہو جاتا ہے تو جان گئی تھی کہ یہ خط مکرم ہے اور کسی باعزت شخص کا بھیجا ہوا ہے۔ پھر خط کامضمون سب کو پڑھ کرسنایا کہ یہ خط سلیمان علیہ السلام کا ہے اور اس کے شروع میں «‏بسم اللہ الرحمن الرحیم» لکھا ہوا ہے ساتھ ہی مسلمان ہونے اور تابع فرمان بننے کی دعوت ہے۔ اب سب نے پہچان لیا کہ یہ اللہ کے پیغمبر کا دعوت نامہ ہے اور ہم میں سے کسی میں ان کے مقابلے کی تاب وطاقت نہیں۔

پھر خط کی بلاغت اختصار اور وضاحت نے سب کو حیران کر دیا یہ مختصر سی عبارت بہت سی باتوں سے سوا ہے۔ دریا کو کوزہ میں بند کر دیا ہے علماء کرام کا مقولہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام سے پہلے کسی نے خط میں «بسم اللہ الرحمن الرحیم» نہیں لکھی۔

صفحہ نمبر6423

ایک غریب اور ضعیف حدیث ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ نے فرمایا میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں جو مجھ سے پہلے سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے بعد کسی نبی پر نہیں اتری میں نے کہا حضور وہ کون سی آیت ہے؟ آپ نے فرمایا مسجد سے جانے سے پہلے ہی میں تجھے بتا دوں گا اب آپ نکلنے لگے ایک پاؤں مسجد سے باہر رکھ بھی دیامیرے جی میں آیا شاید آپ بھول گئے۔ اتنے میں آپ نے یہی آیت پڑھی۔ [ضعیف:اس میں عبدالکریم راوی ضعیف ہے] ‏

اور روایت میں ہے کہ جب تک یہ آیت نہیں اتری تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا «باسمک اللہم» تحریر فرمایا کرتے تھے۔ جب یہ آیت اتری آپ نے «بسم اللہ الرحمن الرحیم» لکھنا شرع کیا۔ خط کا مضمون صرف اسی قدر تھا کہ میرے سامنے سرکشی نہ کرو مجھے مجبور نہ کرو میری بات مان لو تکبر سے کام نہ لو موحد مخلص مطیع بن کر میرے پاس چلی آؤ۔

صفحہ نمبر6424

تحقیق شروع ہو گئی ٭٭

ہدہد کی خبر سنتے ہی سلیمان علیہ السلام نے اس کی تحقیق شروع کر دی کہ اگر یہ سچا ہے تو قابل معافی ہے اور اگر جھوٹا ہے تو قابل سزا ہے۔ اسی سے فرمایا کہ میرا یہ خط بلقیس کو جو وہاں کی فرمانروا ہے دے آ۔ اس خط کو چونچ میں لے کر یا پر سے بندھواکر ہدہد اڑا۔ وہاں پہنچ کر بلقیس کے محل میں گیا وہ اس وقت خلوت خانہ میں تھی۔ اس نے ایک طاق میں سے وہ خط اس کے سامنے رکھا اور ادب کے ساتھ ایک طرف ہو گیا۔

اسے سخت تعجب معلوم ہوا حیرت ہوئی اور ساتھ ہی کچھ خوف زدہ بھی ہوئی۔ خط کو اٹھا کر مہر توڑ کر خط کھول کر پڑھا اس کے مضمون سے واقف ہو کر اپنے امراء وزراء سردار اور رؤسا کو جمع کیا اور کہنے لگی کہ ایک باوقعت خط میرے سامنے ڈالا گیا ہے اس خط کا باوقعت ہونا اس پر اس سے بھی ظاہر ہو گیا تھا کہ ایک جانور اسے لاتا ہے وہ ہوشیاری اور احتیاط سے پہنچاتا ہے۔ سامنے با ادب رکھ کر ایک طرف ہو جاتا ہے تو جان گئی تھی کہ یہ خط مکرم ہے اور کسی باعزت شخص کا بھیجا ہوا ہے۔ پھر خط کامضمون سب کو پڑھ کرسنایا کہ یہ خط سلیمان علیہ السلام کا ہے اور اس کے شروع میں «‏بسم اللہ الرحمن الرحیم» لکھا ہوا ہے ساتھ ہی مسلمان ہونے اور تابع فرمان بننے کی دعوت ہے۔ اب سب نے پہچان لیا کہ یہ اللہ کے پیغمبر کا دعوت نامہ ہے اور ہم میں سے کسی میں ان کے مقابلے کی تاب وطاقت نہیں۔

پھر خط کی بلاغت اختصار اور وضاحت نے سب کو حیران کر دیا یہ مختصر سی عبارت بہت سی باتوں سے سوا ہے۔ دریا کو کوزہ میں بند کر دیا ہے علماء کرام کا مقولہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام سے پہلے کسی نے خط میں «بسم اللہ الرحمن الرحیم» نہیں لکھی۔

صفحہ نمبر6423

ایک غریب اور ضعیف حدیث ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ نے فرمایا میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں جو مجھ سے پہلے سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے بعد کسی نبی پر نہیں اتری میں نے کہا حضور وہ کون سی آیت ہے؟ آپ نے فرمایا مسجد سے جانے سے پہلے ہی میں تجھے بتا دوں گا اب آپ نکلنے لگے ایک پاؤں مسجد سے باہر رکھ بھی دیامیرے جی میں آیا شاید آپ بھول گئے۔ اتنے میں آپ نے یہی آیت پڑھی۔ [ضعیف:اس میں عبدالکریم راوی ضعیف ہے] ‏

اور روایت میں ہے کہ جب تک یہ آیت نہیں اتری تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا «باسمک اللہم» تحریر فرمایا کرتے تھے۔ جب یہ آیت اتری آپ نے «بسم اللہ الرحمن الرحیم» لکھنا شرع کیا۔ خط کا مضمون صرف اسی قدر تھا کہ میرے سامنے سرکشی نہ کرو مجھے مجبور نہ کرو میری بات مان لو تکبر سے کام نہ لو موحد مخلص مطیع بن کر میرے پاس چلی آؤ۔

صفحہ نمبر6424

تحقیق شروع ہو گئی ٭٭

ہدہد کی خبر سنتے ہی سلیمان علیہ السلام نے اس کی تحقیق شروع کر دی کہ اگر یہ سچا ہے تو قابل معافی ہے اور اگر جھوٹا ہے تو قابل سزا ہے۔ اسی سے فرمایا کہ میرا یہ خط بلقیس کو جو وہاں کی فرمانروا ہے دے آ۔ اس خط کو چونچ میں لے کر یا پر سے بندھواکر ہدہد اڑا۔ وہاں پہنچ کر بلقیس کے محل میں گیا وہ اس وقت خلوت خانہ میں تھی۔ اس نے ایک طاق میں سے وہ خط اس کے سامنے رکھا اور ادب کے ساتھ ایک طرف ہو گیا۔

اسے سخت تعجب معلوم ہوا حیرت ہوئی اور ساتھ ہی کچھ خوف زدہ بھی ہوئی۔ خط کو اٹھا کر مہر توڑ کر خط کھول کر پڑھا اس کے مضمون سے واقف ہو کر اپنے امراء وزراء سردار اور رؤسا کو جمع کیا اور کہنے لگی کہ ایک باوقعت خط میرے سامنے ڈالا گیا ہے اس خط کا باوقعت ہونا اس پر اس سے بھی ظاہر ہو گیا تھا کہ ایک جانور اسے لاتا ہے وہ ہوشیاری اور احتیاط سے پہنچاتا ہے۔ سامنے با ادب رکھ کر ایک طرف ہو جاتا ہے تو جان گئی تھی کہ یہ خط مکرم ہے اور کسی باعزت شخص کا بھیجا ہوا ہے۔ پھر خط کامضمون سب کو پڑھ کرسنایا کہ یہ خط سلیمان علیہ السلام کا ہے اور اس کے شروع میں «‏بسم اللہ الرحمن الرحیم» لکھا ہوا ہے ساتھ ہی مسلمان ہونے اور تابع فرمان بننے کی دعوت ہے۔ اب سب نے پہچان لیا کہ یہ اللہ کے پیغمبر کا دعوت نامہ ہے اور ہم میں سے کسی میں ان کے مقابلے کی تاب وطاقت نہیں۔

پھر خط کی بلاغت اختصار اور وضاحت نے سب کو حیران کر دیا یہ مختصر سی عبارت بہت سی باتوں سے سوا ہے۔ دریا کو کوزہ میں بند کر دیا ہے علماء کرام کا مقولہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام سے پہلے کسی نے خط میں «بسم اللہ الرحمن الرحیم» نہیں لکھی۔

صفحہ نمبر6423

ایک غریب اور ضعیف حدیث ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ نے فرمایا میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں جو مجھ سے پہلے سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے بعد کسی نبی پر نہیں اتری میں نے کہا حضور وہ کون سی آیت ہے؟ آپ نے فرمایا مسجد سے جانے سے پہلے ہی میں تجھے بتا دوں گا اب آپ نکلنے لگے ایک پاؤں مسجد سے باہر رکھ بھی دیامیرے جی میں آیا شاید آپ بھول گئے۔ اتنے میں آپ نے یہی آیت پڑھی۔ [ضعیف:اس میں عبدالکریم راوی ضعیف ہے] ‏

اور روایت میں ہے کہ جب تک یہ آیت نہیں اتری تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا «باسمک اللہم» تحریر فرمایا کرتے تھے۔ جب یہ آیت اتری آپ نے «بسم اللہ الرحمن الرحیم» لکھنا شرع کیا۔ خط کا مضمون صرف اسی قدر تھا کہ میرے سامنے سرکشی نہ کرو مجھے مجبور نہ کرو میری بات مان لو تکبر سے کام نہ لو موحد مخلص مطیع بن کر میرے پاس چلی آؤ۔

صفحہ نمبر6424

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com