John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Ash-Shu'araa

Tafsir Ibn Kathir · The Poets · 227 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

تفسیر سورۃ الشعراء:

مالک رحمہ اللہ کی روایت کردہ تفسیر میں اس سورہ کا نام سورۃ جامعہ ہے۔ حروف مقطعہ کی بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔

تعارف قرآن کریم ٭٭

پھر فرمان ہے کہ ” یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں “۔

جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌ بِمَا يَصْنَعُوْنَ» [35-فاطر:8] ‏ ” تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت وافسوس نہ کر “۔

اور آیت میں ہے آیت «فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا» [18-الكهف:6] ‏، ” کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچھے اپنی جان گنوادے “۔

چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں کہ لوگوں کو ایمان پر زبردستی کریں اگر یہ چاہتے تو کوئی ایسی چیز آسمان سے اتارتے کہ یہ ایمان لانے پر مجبور ہو جاتے مگر ہم کو تو ان کا اختیاری ایمان طلب کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ» [10-یونس:99] ‏، ” اگر تیرا رب چاہے تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہو جائیں کیا تو لوگوں پر جبر کرے گا؟ جب تک کہ وہ مومن نہ ہو جائیں “۔

اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَ‌بُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ» ” اگر تیرا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا “۔ [11-هود:118] ‏

یہ اختلاف دین ومذہب بھی اس کا مقرر کیا ہوا ہے اور اس کی حکمت کو ظاہر کرنے والا ہے اس نے رسول بھیج دئیے کتابیں اتاردیں اپنی دلیل وحجت قائم کر دی انسان کو ایمان لانے نہ لانے میں مختار کر دیا۔ اب جس راہ پر وہ چاہے لگ جائے جب کبھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی بہت سے لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ” تیری پوری آرزو کے باوجود اکثر لوگ بے ایمان ہی رہیں گے “۔ [12-يوسف:103] ‏

سورۃ یاسین میں فرمایا «يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ» ” بندوں پر افسوس ہے ان کے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا “۔ [36-يس:30] ‏

اور آیت میں ہے «ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَىٰ كُلَّ مَا جَاءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ فَأَتْبَعْنَا بَعْضَهُم بَعْضًا وَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» ” ہم نے پے در پے پیغمبر بھیجے لیکن جس امت کے پاس ان کا رسول آیا اس نے اپنے رسول کو جھٹلانے میں کمی نہ کی “۔ [23-المؤمنون:44] ‏

یہاں بھی اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے بھی اسے جھٹلایا ہے انہیں بھی اس کا بدلہ عنقریب مل جائے گا ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ یہ کس راہ ڈالے گئے ہیں؟ “

پھر اپنی شان وشوکت قدرت و عظمت عزت ورفعت بیان فرماتا ہے کہ ” جس کے پیغام اور جس کے قاصد کو تم جھوٹا کہہ رہے ہو وہ اتنا بڑا قادر قیوم ہے کہ اسی ایک نے ساری زمین بنائی ہے اور اس میں جاندار اور بے جان چیزیں پیدا کی ہیں۔ کھیت پھل باغ وبہار سب اسی کے پیدا کردہ ہیں “۔

شعبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں لوگ زمین کی پیداوار ہیں ان میں جو جنتی ہیں وہ کریم ہیں اور جو دوزخی ہیں وہ کنجوس ہیں۔

صفحہ نمبر6118

اس میں قدرت خالق کی بہت سی نشانیاں ہیں یہ اس نے پھیلی ہوئی زمین کو اور اونچے آسمان کو پیدا کر دیا۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اس کے نبیوں کو جھوٹا کہتے ہیں اس کی کتابوں کو نہیں مانتے اس کے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے منع کردہ کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔

بیشک تیرا رب ہرچیز پر غالب ہے اس کے سامنے مخلوق عاجز ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے نافرمانوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا تاخیر اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آ جائیں لیکن پھر بھی جب وہ راہ راست پر نہیں آتے تو انہیں سختی سے پکڑلیتا ہے اور ان سے پورا انتقام لیتا ہے ہاں جو توبہ کرے اور اس کی طرف جھکے اور اس کا فرمانبردار ہو جائے وہ اس پر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم و کرم کرتا ہے۔

صفحہ نمبر6119

تفسیر سورۃ الشعراء:

مالک رحمہ اللہ کی روایت کردہ تفسیر میں اس سورہ کا نام سورۃ جامعہ ہے۔ حروف مقطعہ کی بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔

تعارف قرآن کریم ٭٭

پھر فرمان ہے کہ ” یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں “۔

جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌ بِمَا يَصْنَعُوْنَ» [35-فاطر:8] ‏ ” تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت وافسوس نہ کر “۔

اور آیت میں ہے آیت «فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا» [18-الكهف:6] ‏، ” کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچھے اپنی جان گنوادے “۔

چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں کہ لوگوں کو ایمان پر زبردستی کریں اگر یہ چاہتے تو کوئی ایسی چیز آسمان سے اتارتے کہ یہ ایمان لانے پر مجبور ہو جاتے مگر ہم کو تو ان کا اختیاری ایمان طلب کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ» [10-یونس:99] ‏، ” اگر تیرا رب چاہے تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہو جائیں کیا تو لوگوں پر جبر کرے گا؟ جب تک کہ وہ مومن نہ ہو جائیں “۔

اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَ‌بُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ» ” اگر تیرا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا “۔ [11-هود:118] ‏

یہ اختلاف دین ومذہب بھی اس کا مقرر کیا ہوا ہے اور اس کی حکمت کو ظاہر کرنے والا ہے اس نے رسول بھیج دئیے کتابیں اتاردیں اپنی دلیل وحجت قائم کر دی انسان کو ایمان لانے نہ لانے میں مختار کر دیا۔ اب جس راہ پر وہ چاہے لگ جائے جب کبھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی بہت سے لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ” تیری پوری آرزو کے باوجود اکثر لوگ بے ایمان ہی رہیں گے “۔ [12-يوسف:103] ‏

سورۃ یاسین میں فرمایا «يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ» ” بندوں پر افسوس ہے ان کے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا “۔ [36-يس:30] ‏

اور آیت میں ہے «ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَىٰ كُلَّ مَا جَاءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ فَأَتْبَعْنَا بَعْضَهُم بَعْضًا وَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» ” ہم نے پے در پے پیغمبر بھیجے لیکن جس امت کے پاس ان کا رسول آیا اس نے اپنے رسول کو جھٹلانے میں کمی نہ کی “۔ [23-المؤمنون:44] ‏

یہاں بھی اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے بھی اسے جھٹلایا ہے انہیں بھی اس کا بدلہ عنقریب مل جائے گا ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ یہ کس راہ ڈالے گئے ہیں؟ “

پھر اپنی شان وشوکت قدرت و عظمت عزت ورفعت بیان فرماتا ہے کہ ” جس کے پیغام اور جس کے قاصد کو تم جھوٹا کہہ رہے ہو وہ اتنا بڑا قادر قیوم ہے کہ اسی ایک نے ساری زمین بنائی ہے اور اس میں جاندار اور بے جان چیزیں پیدا کی ہیں۔ کھیت پھل باغ وبہار سب اسی کے پیدا کردہ ہیں “۔

شعبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں لوگ زمین کی پیداوار ہیں ان میں جو جنتی ہیں وہ کریم ہیں اور جو دوزخی ہیں وہ کنجوس ہیں۔

صفحہ نمبر6118

اس میں قدرت خالق کی بہت سی نشانیاں ہیں یہ اس نے پھیلی ہوئی زمین کو اور اونچے آسمان کو پیدا کر دیا۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اس کے نبیوں کو جھوٹا کہتے ہیں اس کی کتابوں کو نہیں مانتے اس کے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے منع کردہ کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔

بیشک تیرا رب ہرچیز پر غالب ہے اس کے سامنے مخلوق عاجز ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے نافرمانوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا تاخیر اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آ جائیں لیکن پھر بھی جب وہ راہ راست پر نہیں آتے تو انہیں سختی سے پکڑلیتا ہے اور ان سے پورا انتقام لیتا ہے ہاں جو توبہ کرے اور اس کی طرف جھکے اور اس کا فرمانبردار ہو جائے وہ اس پر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم و کرم کرتا ہے۔

صفحہ نمبر6119

تفسیر سورۃ الشعراء:

مالک رحمہ اللہ کی روایت کردہ تفسیر میں اس سورہ کا نام سورۃ جامعہ ہے۔ حروف مقطعہ کی بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔

تعارف قرآن کریم ٭٭

پھر فرمان ہے کہ ” یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں “۔

جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌ بِمَا يَصْنَعُوْنَ» [35-فاطر:8] ‏ ” تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت وافسوس نہ کر “۔

اور آیت میں ہے آیت «فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا» [18-الكهف:6] ‏، ” کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچھے اپنی جان گنوادے “۔

چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں کہ لوگوں کو ایمان پر زبردستی کریں اگر یہ چاہتے تو کوئی ایسی چیز آسمان سے اتارتے کہ یہ ایمان لانے پر مجبور ہو جاتے مگر ہم کو تو ان کا اختیاری ایمان طلب کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ» [10-یونس:99] ‏، ” اگر تیرا رب چاہے تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہو جائیں کیا تو لوگوں پر جبر کرے گا؟ جب تک کہ وہ مومن نہ ہو جائیں “۔

اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَ‌بُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ» ” اگر تیرا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا “۔ [11-هود:118] ‏

یہ اختلاف دین ومذہب بھی اس کا مقرر کیا ہوا ہے اور اس کی حکمت کو ظاہر کرنے والا ہے اس نے رسول بھیج دئیے کتابیں اتاردیں اپنی دلیل وحجت قائم کر دی انسان کو ایمان لانے نہ لانے میں مختار کر دیا۔ اب جس راہ پر وہ چاہے لگ جائے جب کبھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی بہت سے لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ” تیری پوری آرزو کے باوجود اکثر لوگ بے ایمان ہی رہیں گے “۔ [12-يوسف:103] ‏

سورۃ یاسین میں فرمایا «يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ» ” بندوں پر افسوس ہے ان کے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا “۔ [36-يس:30] ‏

اور آیت میں ہے «ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَىٰ كُلَّ مَا جَاءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ فَأَتْبَعْنَا بَعْضَهُم بَعْضًا وَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» ” ہم نے پے در پے پیغمبر بھیجے لیکن جس امت کے پاس ان کا رسول آیا اس نے اپنے رسول کو جھٹلانے میں کمی نہ کی “۔ [23-المؤمنون:44] ‏

یہاں بھی اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے بھی اسے جھٹلایا ہے انہیں بھی اس کا بدلہ عنقریب مل جائے گا ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ یہ کس راہ ڈالے گئے ہیں؟ “

پھر اپنی شان وشوکت قدرت و عظمت عزت ورفعت بیان فرماتا ہے کہ ” جس کے پیغام اور جس کے قاصد کو تم جھوٹا کہہ رہے ہو وہ اتنا بڑا قادر قیوم ہے کہ اسی ایک نے ساری زمین بنائی ہے اور اس میں جاندار اور بے جان چیزیں پیدا کی ہیں۔ کھیت پھل باغ وبہار سب اسی کے پیدا کردہ ہیں “۔

شعبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں لوگ زمین کی پیداوار ہیں ان میں جو جنتی ہیں وہ کریم ہیں اور جو دوزخی ہیں وہ کنجوس ہیں۔

صفحہ نمبر6118

اس میں قدرت خالق کی بہت سی نشانیاں ہیں یہ اس نے پھیلی ہوئی زمین کو اور اونچے آسمان کو پیدا کر دیا۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اس کے نبیوں کو جھوٹا کہتے ہیں اس کی کتابوں کو نہیں مانتے اس کے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے منع کردہ کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔

بیشک تیرا رب ہرچیز پر غالب ہے اس کے سامنے مخلوق عاجز ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے نافرمانوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا تاخیر اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آ جائیں لیکن پھر بھی جب وہ راہ راست پر نہیں آتے تو انہیں سختی سے پکڑلیتا ہے اور ان سے پورا انتقام لیتا ہے ہاں جو توبہ کرے اور اس کی طرف جھکے اور اس کا فرمانبردار ہو جائے وہ اس پر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم و کرم کرتا ہے۔

صفحہ نمبر6119

تفسیر سورۃ الشعراء:

مالک رحمہ اللہ کی روایت کردہ تفسیر میں اس سورہ کا نام سورۃ جامعہ ہے۔ حروف مقطعہ کی بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔

تعارف قرآن کریم ٭٭

پھر فرمان ہے کہ ” یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں “۔

جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌ بِمَا يَصْنَعُوْنَ» [35-فاطر:8] ‏ ” تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت وافسوس نہ کر “۔

اور آیت میں ہے آیت «فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا» [18-الكهف:6] ‏، ” کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچھے اپنی جان گنوادے “۔

چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں کہ لوگوں کو ایمان پر زبردستی کریں اگر یہ چاہتے تو کوئی ایسی چیز آسمان سے اتارتے کہ یہ ایمان لانے پر مجبور ہو جاتے مگر ہم کو تو ان کا اختیاری ایمان طلب کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ» [10-یونس:99] ‏، ” اگر تیرا رب چاہے تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہو جائیں کیا تو لوگوں پر جبر کرے گا؟ جب تک کہ وہ مومن نہ ہو جائیں “۔

اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَ‌بُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ» ” اگر تیرا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا “۔ [11-هود:118] ‏

یہ اختلاف دین ومذہب بھی اس کا مقرر کیا ہوا ہے اور اس کی حکمت کو ظاہر کرنے والا ہے اس نے رسول بھیج دئیے کتابیں اتاردیں اپنی دلیل وحجت قائم کر دی انسان کو ایمان لانے نہ لانے میں مختار کر دیا۔ اب جس راہ پر وہ چاہے لگ جائے جب کبھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی بہت سے لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ” تیری پوری آرزو کے باوجود اکثر لوگ بے ایمان ہی رہیں گے “۔ [12-يوسف:103] ‏

سورۃ یاسین میں فرمایا «يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ» ” بندوں پر افسوس ہے ان کے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا “۔ [36-يس:30] ‏

اور آیت میں ہے «ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَىٰ كُلَّ مَا جَاءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ فَأَتْبَعْنَا بَعْضَهُم بَعْضًا وَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» ” ہم نے پے در پے پیغمبر بھیجے لیکن جس امت کے پاس ان کا رسول آیا اس نے اپنے رسول کو جھٹلانے میں کمی نہ کی “۔ [23-المؤمنون:44] ‏

یہاں بھی اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے بھی اسے جھٹلایا ہے انہیں بھی اس کا بدلہ عنقریب مل جائے گا ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ یہ کس راہ ڈالے گئے ہیں؟ “

پھر اپنی شان وشوکت قدرت و عظمت عزت ورفعت بیان فرماتا ہے کہ ” جس کے پیغام اور جس کے قاصد کو تم جھوٹا کہہ رہے ہو وہ اتنا بڑا قادر قیوم ہے کہ اسی ایک نے ساری زمین بنائی ہے اور اس میں جاندار اور بے جان چیزیں پیدا کی ہیں۔ کھیت پھل باغ وبہار سب اسی کے پیدا کردہ ہیں “۔

شعبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں لوگ زمین کی پیداوار ہیں ان میں جو جنتی ہیں وہ کریم ہیں اور جو دوزخی ہیں وہ کنجوس ہیں۔

صفحہ نمبر6118

اس میں قدرت خالق کی بہت سی نشانیاں ہیں یہ اس نے پھیلی ہوئی زمین کو اور اونچے آسمان کو پیدا کر دیا۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اس کے نبیوں کو جھوٹا کہتے ہیں اس کی کتابوں کو نہیں مانتے اس کے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے منع کردہ کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔

بیشک تیرا رب ہرچیز پر غالب ہے اس کے سامنے مخلوق عاجز ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے نافرمانوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا تاخیر اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آ جائیں لیکن پھر بھی جب وہ راہ راست پر نہیں آتے تو انہیں سختی سے پکڑلیتا ہے اور ان سے پورا انتقام لیتا ہے ہاں جو توبہ کرے اور اس کی طرف جھکے اور اس کا فرمانبردار ہو جائے وہ اس پر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم و کرم کرتا ہے۔

صفحہ نمبر6119

تفسیر سورۃ الشعراء:

مالک رحمہ اللہ کی روایت کردہ تفسیر میں اس سورہ کا نام سورۃ جامعہ ہے۔ حروف مقطعہ کی بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔

تعارف قرآن کریم ٭٭

پھر فرمان ہے کہ ” یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں “۔

جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌ بِمَا يَصْنَعُوْنَ» [35-فاطر:8] ‏ ” تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت وافسوس نہ کر “۔

اور آیت میں ہے آیت «فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا» [18-الكهف:6] ‏، ” کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچھے اپنی جان گنوادے “۔

چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں کہ لوگوں کو ایمان پر زبردستی کریں اگر یہ چاہتے تو کوئی ایسی چیز آسمان سے اتارتے کہ یہ ایمان لانے پر مجبور ہو جاتے مگر ہم کو تو ان کا اختیاری ایمان طلب کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ» [10-یونس:99] ‏، ” اگر تیرا رب چاہے تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہو جائیں کیا تو لوگوں پر جبر کرے گا؟ جب تک کہ وہ مومن نہ ہو جائیں “۔

اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَ‌بُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ» ” اگر تیرا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا “۔ [11-هود:118] ‏

یہ اختلاف دین ومذہب بھی اس کا مقرر کیا ہوا ہے اور اس کی حکمت کو ظاہر کرنے والا ہے اس نے رسول بھیج دئیے کتابیں اتاردیں اپنی دلیل وحجت قائم کر دی انسان کو ایمان لانے نہ لانے میں مختار کر دیا۔ اب جس راہ پر وہ چاہے لگ جائے جب کبھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی بہت سے لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ” تیری پوری آرزو کے باوجود اکثر لوگ بے ایمان ہی رہیں گے “۔ [12-يوسف:103] ‏

سورۃ یاسین میں فرمایا «يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ» ” بندوں پر افسوس ہے ان کے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا “۔ [36-يس:30] ‏

اور آیت میں ہے «ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَىٰ كُلَّ مَا جَاءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ فَأَتْبَعْنَا بَعْضَهُم بَعْضًا وَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» ” ہم نے پے در پے پیغمبر بھیجے لیکن جس امت کے پاس ان کا رسول آیا اس نے اپنے رسول کو جھٹلانے میں کمی نہ کی “۔ [23-المؤمنون:44] ‏

یہاں بھی اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے بھی اسے جھٹلایا ہے انہیں بھی اس کا بدلہ عنقریب مل جائے گا ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ یہ کس راہ ڈالے گئے ہیں؟ “

پھر اپنی شان وشوکت قدرت و عظمت عزت ورفعت بیان فرماتا ہے کہ ” جس کے پیغام اور جس کے قاصد کو تم جھوٹا کہہ رہے ہو وہ اتنا بڑا قادر قیوم ہے کہ اسی ایک نے ساری زمین بنائی ہے اور اس میں جاندار اور بے جان چیزیں پیدا کی ہیں۔ کھیت پھل باغ وبہار سب اسی کے پیدا کردہ ہیں “۔

شعبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں لوگ زمین کی پیداوار ہیں ان میں جو جنتی ہیں وہ کریم ہیں اور جو دوزخی ہیں وہ کنجوس ہیں۔

صفحہ نمبر6118

اس میں قدرت خالق کی بہت سی نشانیاں ہیں یہ اس نے پھیلی ہوئی زمین کو اور اونچے آسمان کو پیدا کر دیا۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اس کے نبیوں کو جھوٹا کہتے ہیں اس کی کتابوں کو نہیں مانتے اس کے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے منع کردہ کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔

بیشک تیرا رب ہرچیز پر غالب ہے اس کے سامنے مخلوق عاجز ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے نافرمانوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا تاخیر اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آ جائیں لیکن پھر بھی جب وہ راہ راست پر نہیں آتے تو انہیں سختی سے پکڑلیتا ہے اور ان سے پورا انتقام لیتا ہے ہاں جو توبہ کرے اور اس کی طرف جھکے اور اس کا فرمانبردار ہو جائے وہ اس پر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم و کرم کرتا ہے۔

صفحہ نمبر6119

تفسیر سورۃ الشعراء:

مالک رحمہ اللہ کی روایت کردہ تفسیر میں اس سورہ کا نام سورۃ جامعہ ہے۔ حروف مقطعہ کی بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔

تعارف قرآن کریم ٭٭

پھر فرمان ہے کہ ” یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں “۔

جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌ بِمَا يَصْنَعُوْنَ» [35-فاطر:8] ‏ ” تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت وافسوس نہ کر “۔

اور آیت میں ہے آیت «فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا» [18-الكهف:6] ‏، ” کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچھے اپنی جان گنوادے “۔

چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں کہ لوگوں کو ایمان پر زبردستی کریں اگر یہ چاہتے تو کوئی ایسی چیز آسمان سے اتارتے کہ یہ ایمان لانے پر مجبور ہو جاتے مگر ہم کو تو ان کا اختیاری ایمان طلب کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ» [10-یونس:99] ‏، ” اگر تیرا رب چاہے تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہو جائیں کیا تو لوگوں پر جبر کرے گا؟ جب تک کہ وہ مومن نہ ہو جائیں “۔

اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَ‌بُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ» ” اگر تیرا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا “۔ [11-هود:118] ‏

یہ اختلاف دین ومذہب بھی اس کا مقرر کیا ہوا ہے اور اس کی حکمت کو ظاہر کرنے والا ہے اس نے رسول بھیج دئیے کتابیں اتاردیں اپنی دلیل وحجت قائم کر دی انسان کو ایمان لانے نہ لانے میں مختار کر دیا۔ اب جس راہ پر وہ چاہے لگ جائے جب کبھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی بہت سے لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ” تیری پوری آرزو کے باوجود اکثر لوگ بے ایمان ہی رہیں گے “۔ [12-يوسف:103] ‏

سورۃ یاسین میں فرمایا «يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ» ” بندوں پر افسوس ہے ان کے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا “۔ [36-يس:30] ‏

اور آیت میں ہے «ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَىٰ كُلَّ مَا جَاءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ فَأَتْبَعْنَا بَعْضَهُم بَعْضًا وَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» ” ہم نے پے در پے پیغمبر بھیجے لیکن جس امت کے پاس ان کا رسول آیا اس نے اپنے رسول کو جھٹلانے میں کمی نہ کی “۔ [23-المؤمنون:44] ‏

یہاں بھی اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے بھی اسے جھٹلایا ہے انہیں بھی اس کا بدلہ عنقریب مل جائے گا ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ یہ کس راہ ڈالے گئے ہیں؟ “

پھر اپنی شان وشوکت قدرت و عظمت عزت ورفعت بیان فرماتا ہے کہ ” جس کے پیغام اور جس کے قاصد کو تم جھوٹا کہہ رہے ہو وہ اتنا بڑا قادر قیوم ہے کہ اسی ایک نے ساری زمین بنائی ہے اور اس میں جاندار اور بے جان چیزیں پیدا کی ہیں۔ کھیت پھل باغ وبہار سب اسی کے پیدا کردہ ہیں “۔

شعبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں لوگ زمین کی پیداوار ہیں ان میں جو جنتی ہیں وہ کریم ہیں اور جو دوزخی ہیں وہ کنجوس ہیں۔

صفحہ نمبر6118

اس میں قدرت خالق کی بہت سی نشانیاں ہیں یہ اس نے پھیلی ہوئی زمین کو اور اونچے آسمان کو پیدا کر دیا۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اس کے نبیوں کو جھوٹا کہتے ہیں اس کی کتابوں کو نہیں مانتے اس کے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے منع کردہ کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔

بیشک تیرا رب ہرچیز پر غالب ہے اس کے سامنے مخلوق عاجز ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے نافرمانوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا تاخیر اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آ جائیں لیکن پھر بھی جب وہ راہ راست پر نہیں آتے تو انہیں سختی سے پکڑلیتا ہے اور ان سے پورا انتقام لیتا ہے ہاں جو توبہ کرے اور اس کی طرف جھکے اور اس کا فرمانبردار ہو جائے وہ اس پر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم و کرم کرتا ہے۔

صفحہ نمبر6119

تفسیر سورۃ الشعراء:

مالک رحمہ اللہ کی روایت کردہ تفسیر میں اس سورہ کا نام سورۃ جامعہ ہے۔ حروف مقطعہ کی بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔

تعارف قرآن کریم ٭٭

پھر فرمان ہے کہ ” یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں “۔

جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌ بِمَا يَصْنَعُوْنَ» [35-فاطر:8] ‏ ” تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت وافسوس نہ کر “۔

اور آیت میں ہے آیت «فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا» [18-الكهف:6] ‏، ” کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچھے اپنی جان گنوادے “۔

چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں کہ لوگوں کو ایمان پر زبردستی کریں اگر یہ چاہتے تو کوئی ایسی چیز آسمان سے اتارتے کہ یہ ایمان لانے پر مجبور ہو جاتے مگر ہم کو تو ان کا اختیاری ایمان طلب کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ» [10-یونس:99] ‏، ” اگر تیرا رب چاہے تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہو جائیں کیا تو لوگوں پر جبر کرے گا؟ جب تک کہ وہ مومن نہ ہو جائیں “۔

اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَ‌بُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ» ” اگر تیرا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا “۔ [11-هود:118] ‏

یہ اختلاف دین ومذہب بھی اس کا مقرر کیا ہوا ہے اور اس کی حکمت کو ظاہر کرنے والا ہے اس نے رسول بھیج دئیے کتابیں اتاردیں اپنی دلیل وحجت قائم کر دی انسان کو ایمان لانے نہ لانے میں مختار کر دیا۔ اب جس راہ پر وہ چاہے لگ جائے جب کبھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی بہت سے لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ” تیری پوری آرزو کے باوجود اکثر لوگ بے ایمان ہی رہیں گے “۔ [12-يوسف:103] ‏

سورۃ یاسین میں فرمایا «يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ» ” بندوں پر افسوس ہے ان کے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا “۔ [36-يس:30] ‏

اور آیت میں ہے «ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَىٰ كُلَّ مَا جَاءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ فَأَتْبَعْنَا بَعْضَهُم بَعْضًا وَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» ” ہم نے پے در پے پیغمبر بھیجے لیکن جس امت کے پاس ان کا رسول آیا اس نے اپنے رسول کو جھٹلانے میں کمی نہ کی “۔ [23-المؤمنون:44] ‏

یہاں بھی اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے بھی اسے جھٹلایا ہے انہیں بھی اس کا بدلہ عنقریب مل جائے گا ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ یہ کس راہ ڈالے گئے ہیں؟ “

پھر اپنی شان وشوکت قدرت و عظمت عزت ورفعت بیان فرماتا ہے کہ ” جس کے پیغام اور جس کے قاصد کو تم جھوٹا کہہ رہے ہو وہ اتنا بڑا قادر قیوم ہے کہ اسی ایک نے ساری زمین بنائی ہے اور اس میں جاندار اور بے جان چیزیں پیدا کی ہیں۔ کھیت پھل باغ وبہار سب اسی کے پیدا کردہ ہیں “۔

شعبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں لوگ زمین کی پیداوار ہیں ان میں جو جنتی ہیں وہ کریم ہیں اور جو دوزخی ہیں وہ کنجوس ہیں۔

صفحہ نمبر6118

اس میں قدرت خالق کی بہت سی نشانیاں ہیں یہ اس نے پھیلی ہوئی زمین کو اور اونچے آسمان کو پیدا کر دیا۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اس کے نبیوں کو جھوٹا کہتے ہیں اس کی کتابوں کو نہیں مانتے اس کے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے منع کردہ کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔

بیشک تیرا رب ہرچیز پر غالب ہے اس کے سامنے مخلوق عاجز ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے نافرمانوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا تاخیر اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آ جائیں لیکن پھر بھی جب وہ راہ راست پر نہیں آتے تو انہیں سختی سے پکڑلیتا ہے اور ان سے پورا انتقام لیتا ہے ہاں جو توبہ کرے اور اس کی طرف جھکے اور اس کا فرمانبردار ہو جائے وہ اس پر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم و کرم کرتا ہے۔

صفحہ نمبر6119

تفسیر سورۃ الشعراء:

مالک رحمہ اللہ کی روایت کردہ تفسیر میں اس سورہ کا نام سورۃ جامعہ ہے۔ حروف مقطعہ کی بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔

تعارف قرآن کریم ٭٭

پھر فرمان ہے کہ ” یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں “۔

جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌ بِمَا يَصْنَعُوْنَ» [35-فاطر:8] ‏ ” تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت وافسوس نہ کر “۔

اور آیت میں ہے آیت «فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا» [18-الكهف:6] ‏، ” کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچھے اپنی جان گنوادے “۔

چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں کہ لوگوں کو ایمان پر زبردستی کریں اگر یہ چاہتے تو کوئی ایسی چیز آسمان سے اتارتے کہ یہ ایمان لانے پر مجبور ہو جاتے مگر ہم کو تو ان کا اختیاری ایمان طلب کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ» [10-یونس:99] ‏، ” اگر تیرا رب چاہے تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہو جائیں کیا تو لوگوں پر جبر کرے گا؟ جب تک کہ وہ مومن نہ ہو جائیں “۔

اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَ‌بُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ» ” اگر تیرا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا “۔ [11-هود:118] ‏

یہ اختلاف دین ومذہب بھی اس کا مقرر کیا ہوا ہے اور اس کی حکمت کو ظاہر کرنے والا ہے اس نے رسول بھیج دئیے کتابیں اتاردیں اپنی دلیل وحجت قائم کر دی انسان کو ایمان لانے نہ لانے میں مختار کر دیا۔ اب جس راہ پر وہ چاہے لگ جائے جب کبھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی بہت سے لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ” تیری پوری آرزو کے باوجود اکثر لوگ بے ایمان ہی رہیں گے “۔ [12-يوسف:103] ‏

سورۃ یاسین میں فرمایا «يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ» ” بندوں پر افسوس ہے ان کے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا “۔ [36-يس:30] ‏

اور آیت میں ہے «ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَىٰ كُلَّ مَا جَاءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ فَأَتْبَعْنَا بَعْضَهُم بَعْضًا وَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» ” ہم نے پے در پے پیغمبر بھیجے لیکن جس امت کے پاس ان کا رسول آیا اس نے اپنے رسول کو جھٹلانے میں کمی نہ کی “۔ [23-المؤمنون:44] ‏

یہاں بھی اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے بھی اسے جھٹلایا ہے انہیں بھی اس کا بدلہ عنقریب مل جائے گا ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ یہ کس راہ ڈالے گئے ہیں؟ “

پھر اپنی شان وشوکت قدرت و عظمت عزت ورفعت بیان فرماتا ہے کہ ” جس کے پیغام اور جس کے قاصد کو تم جھوٹا کہہ رہے ہو وہ اتنا بڑا قادر قیوم ہے کہ اسی ایک نے ساری زمین بنائی ہے اور اس میں جاندار اور بے جان چیزیں پیدا کی ہیں۔ کھیت پھل باغ وبہار سب اسی کے پیدا کردہ ہیں “۔

شعبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں لوگ زمین کی پیداوار ہیں ان میں جو جنتی ہیں وہ کریم ہیں اور جو دوزخی ہیں وہ کنجوس ہیں۔

صفحہ نمبر6118

اس میں قدرت خالق کی بہت سی نشانیاں ہیں یہ اس نے پھیلی ہوئی زمین کو اور اونچے آسمان کو پیدا کر دیا۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اس کے نبیوں کو جھوٹا کہتے ہیں اس کی کتابوں کو نہیں مانتے اس کے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے منع کردہ کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔

بیشک تیرا رب ہرچیز پر غالب ہے اس کے سامنے مخلوق عاجز ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے نافرمانوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا تاخیر اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آ جائیں لیکن پھر بھی جب وہ راہ راست پر نہیں آتے تو انہیں سختی سے پکڑلیتا ہے اور ان سے پورا انتقام لیتا ہے ہاں جو توبہ کرے اور اس کی طرف جھکے اور اس کا فرمانبردار ہو جائے وہ اس پر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم و کرم کرتا ہے۔

صفحہ نمبر6119

تفسیر سورۃ الشعراء:

مالک رحمہ اللہ کی روایت کردہ تفسیر میں اس سورہ کا نام سورۃ جامعہ ہے۔ حروف مقطعہ کی بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔

تعارف قرآن کریم ٭٭

پھر فرمان ہے کہ ” یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں “۔

جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌ بِمَا يَصْنَعُوْنَ» [35-فاطر:8] ‏ ” تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت وافسوس نہ کر “۔

اور آیت میں ہے آیت «فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا» [18-الكهف:6] ‏، ” کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچھے اپنی جان گنوادے “۔

چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں کہ لوگوں کو ایمان پر زبردستی کریں اگر یہ چاہتے تو کوئی ایسی چیز آسمان سے اتارتے کہ یہ ایمان لانے پر مجبور ہو جاتے مگر ہم کو تو ان کا اختیاری ایمان طلب کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ» [10-یونس:99] ‏، ” اگر تیرا رب چاہے تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہو جائیں کیا تو لوگوں پر جبر کرے گا؟ جب تک کہ وہ مومن نہ ہو جائیں “۔

اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَ‌بُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ» ” اگر تیرا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا “۔ [11-هود:118] ‏

یہ اختلاف دین ومذہب بھی اس کا مقرر کیا ہوا ہے اور اس کی حکمت کو ظاہر کرنے والا ہے اس نے رسول بھیج دئیے کتابیں اتاردیں اپنی دلیل وحجت قائم کر دی انسان کو ایمان لانے نہ لانے میں مختار کر دیا۔ اب جس راہ پر وہ چاہے لگ جائے جب کبھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی بہت سے لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ” تیری پوری آرزو کے باوجود اکثر لوگ بے ایمان ہی رہیں گے “۔ [12-يوسف:103] ‏

سورۃ یاسین میں فرمایا «يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ» ” بندوں پر افسوس ہے ان کے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا “۔ [36-يس:30] ‏

اور آیت میں ہے «ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَىٰ كُلَّ مَا جَاءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ فَأَتْبَعْنَا بَعْضَهُم بَعْضًا وَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» ” ہم نے پے در پے پیغمبر بھیجے لیکن جس امت کے پاس ان کا رسول آیا اس نے اپنے رسول کو جھٹلانے میں کمی نہ کی “۔ [23-المؤمنون:44] ‏

یہاں بھی اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے بھی اسے جھٹلایا ہے انہیں بھی اس کا بدلہ عنقریب مل جائے گا ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ یہ کس راہ ڈالے گئے ہیں؟ “

پھر اپنی شان وشوکت قدرت و عظمت عزت ورفعت بیان فرماتا ہے کہ ” جس کے پیغام اور جس کے قاصد کو تم جھوٹا کہہ رہے ہو وہ اتنا بڑا قادر قیوم ہے کہ اسی ایک نے ساری زمین بنائی ہے اور اس میں جاندار اور بے جان چیزیں پیدا کی ہیں۔ کھیت پھل باغ وبہار سب اسی کے پیدا کردہ ہیں “۔

شعبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں لوگ زمین کی پیداوار ہیں ان میں جو جنتی ہیں وہ کریم ہیں اور جو دوزخی ہیں وہ کنجوس ہیں۔

صفحہ نمبر6118

اس میں قدرت خالق کی بہت سی نشانیاں ہیں یہ اس نے پھیلی ہوئی زمین کو اور اونچے آسمان کو پیدا کر دیا۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اس کے نبیوں کو جھوٹا کہتے ہیں اس کی کتابوں کو نہیں مانتے اس کے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے منع کردہ کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔

بیشک تیرا رب ہرچیز پر غالب ہے اس کے سامنے مخلوق عاجز ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے نافرمانوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا تاخیر اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آ جائیں لیکن پھر بھی جب وہ راہ راست پر نہیں آتے تو انہیں سختی سے پکڑلیتا ہے اور ان سے پورا انتقام لیتا ہے ہاں جو توبہ کرے اور اس کی طرف جھکے اور اس کا فرمانبردار ہو جائے وہ اس پر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم و کرم کرتا ہے۔

صفحہ نمبر6119

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ” طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی “۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ” مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں “۔

جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ” کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا “۔

صفحہ نمبر6128

جیسے فرمان ہے ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو “۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے “۔ فرعون سے کہا کہ ” تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے “۔

صفحہ نمبر6129

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“

صفحہ نمبر6130

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ‏ ” موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے “۔

یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔

صفحہ نمبر6131

پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔‏“

یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔‏“

یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔‏“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔

صفحہ نمبر6132

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ” طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی “۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ” مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں “۔

جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ” کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا “۔

صفحہ نمبر6128

جیسے فرمان ہے ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو “۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے “۔ فرعون سے کہا کہ ” تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے “۔

صفحہ نمبر6129

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“

صفحہ نمبر6130

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ‏ ” موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے “۔

یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔

صفحہ نمبر6131

پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔‏“

یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔‏“

یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔‏“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔

صفحہ نمبر6132

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ” طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی “۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ” مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں “۔

جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ” کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا “۔

صفحہ نمبر6128

جیسے فرمان ہے ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو “۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے “۔ فرعون سے کہا کہ ” تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے “۔

صفحہ نمبر6129

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“

صفحہ نمبر6130

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ‏ ” موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے “۔

یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔

صفحہ نمبر6131

پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔‏“

یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔‏“

یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔‏“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔

صفحہ نمبر6132

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ” طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی “۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ” مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں “۔

جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ” کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا “۔

صفحہ نمبر6128

جیسے فرمان ہے ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو “۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے “۔ فرعون سے کہا کہ ” تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے “۔

صفحہ نمبر6129

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“

صفحہ نمبر6130

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ‏ ” موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے “۔

یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔

صفحہ نمبر6131

پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔‏“

یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔‏“

یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔‏“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔

صفحہ نمبر6132

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ” طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی “۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ” مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں “۔

جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ” کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا “۔

صفحہ نمبر6128

جیسے فرمان ہے ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو “۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے “۔ فرعون سے کہا کہ ” تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے “۔

صفحہ نمبر6129

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“

صفحہ نمبر6130

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ‏ ” موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے “۔

یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔

صفحہ نمبر6131

پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔‏“

یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔‏“

یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔‏“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔

صفحہ نمبر6132

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ” طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی “۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ” مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں “۔

جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ” کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا “۔

صفحہ نمبر6128

جیسے فرمان ہے ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو “۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے “۔ فرعون سے کہا کہ ” تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے “۔

صفحہ نمبر6129

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“

صفحہ نمبر6130

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ‏ ” موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے “۔

یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔

صفحہ نمبر6131

پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔‏“

یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔‏“

یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔‏“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔

صفحہ نمبر6132

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ” طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی “۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ” مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں “۔

جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ” کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا “۔

صفحہ نمبر6128

جیسے فرمان ہے ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو “۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے “۔ فرعون سے کہا کہ ” تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے “۔

صفحہ نمبر6129

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“

صفحہ نمبر6130

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ‏ ” موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے “۔

یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔

صفحہ نمبر6131

پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔‏“

یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔‏“

یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔‏“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔

صفحہ نمبر6132

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ” طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی “۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ” مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں “۔

جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ” کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا “۔

صفحہ نمبر6128

جیسے فرمان ہے ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو “۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے “۔ فرعون سے کہا کہ ” تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے “۔

صفحہ نمبر6129

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“

صفحہ نمبر6130

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ‏ ” موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے “۔

یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔

صفحہ نمبر6131

پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔‏“

یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔‏“

یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔‏“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔

صفحہ نمبر6132

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ” طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی “۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ” مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں “۔

جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ” کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا “۔

صفحہ نمبر6128

جیسے فرمان ہے ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو “۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے “۔ فرعون سے کہا کہ ” تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے “۔

صفحہ نمبر6129

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“

صفحہ نمبر6130

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ‏ ” موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے “۔

یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔

صفحہ نمبر6131

پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔‏“

یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔‏“

یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔‏“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔

صفحہ نمبر6132

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ” طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی “۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ” مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں “۔

جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ” کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا “۔

صفحہ نمبر6128

جیسے فرمان ہے ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو “۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے “۔ فرعون سے کہا کہ ” تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے “۔

صفحہ نمبر6129

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“

صفحہ نمبر6130

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ‏ ” موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے “۔

یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔

صفحہ نمبر6131

پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔‏“

یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔‏“

یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔‏“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔

صفحہ نمبر6132

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ” طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی “۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ” مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں “۔

جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ” کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا “۔

صفحہ نمبر6128

جیسے فرمان ہے ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو “۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے “۔ فرعون سے کہا کہ ” تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے “۔

صفحہ نمبر6129

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“

صفحہ نمبر6130

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ‏ ” موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے “۔

یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔

صفحہ نمبر6131

پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔‏“

یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔‏“

یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔‏“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔

صفحہ نمبر6132

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ” طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی “۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ” مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں “۔

جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ” کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا “۔

صفحہ نمبر6128

جیسے فرمان ہے ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو “۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے “۔ فرعون سے کہا کہ ” تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے “۔

صفحہ نمبر6129

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“

صفحہ نمبر6130

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ‏ ” موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے “۔

یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔

صفحہ نمبر6131

پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔‏“

یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔‏“

یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔‏“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔

صفحہ نمبر6132

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ” طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی “۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ” مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں “۔

جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ” کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا “۔

صفحہ نمبر6128

جیسے فرمان ہے ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو “۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے “۔ فرعون سے کہا کہ ” تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے “۔

صفحہ نمبر6129

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“

صفحہ نمبر6130

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ‏ ” موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے “۔

یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔

صفحہ نمبر6131

پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔‏“

یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔‏“

یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔‏“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔

صفحہ نمبر6132

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ” طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی “۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ” مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں “۔

جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ” کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا “۔

صفحہ نمبر6128

جیسے فرمان ہے ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو “۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے “۔ فرعون سے کہا کہ ” تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے “۔

صفحہ نمبر6129

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“

صفحہ نمبر6130

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ‏ ” موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے “۔

یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔

صفحہ نمبر6131

پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔‏“

یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔‏“

یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔‏“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔

صفحہ نمبر6132

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ” طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی “۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ” مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں “۔

جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ” کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا “۔

صفحہ نمبر6128

جیسے فرمان ہے ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو “۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے “۔ فرعون سے کہا کہ ” تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے “۔

صفحہ نمبر6129

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“

صفحہ نمبر6130

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ‏ ” موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے “۔

یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔

صفحہ نمبر6131

پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔‏“

یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔‏“

یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔‏“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔

صفحہ نمبر6132

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ” طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی “۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ” مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں “۔

جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ” کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا “۔

صفحہ نمبر6128

جیسے فرمان ہے ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو “۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے “۔ فرعون سے کہا کہ ” تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے “۔

صفحہ نمبر6129

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“

صفحہ نمبر6130

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ‏ ” موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے “۔

یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔

صفحہ نمبر6131

پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔‏“

یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔‏“

یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔‏“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔

صفحہ نمبر6132

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ” طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی “۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ” مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں “۔

جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ” کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا “۔

صفحہ نمبر6128

جیسے فرمان ہے ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو “۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے “۔ فرعون سے کہا کہ ” تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے “۔

صفحہ نمبر6129

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“

صفحہ نمبر6130

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ‏ ” موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے “۔

یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔

صفحہ نمبر6131

پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔‏“

یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔‏“

یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔‏“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔

صفحہ نمبر6132

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ” طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی “۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ” مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں “۔

جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ” کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا “۔

صفحہ نمبر6128

جیسے فرمان ہے ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو “۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے “۔ فرعون سے کہا کہ ” تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے “۔

صفحہ نمبر6129

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“

صفحہ نمبر6130

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ‏ ” موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے “۔

یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔

صفحہ نمبر6131

پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔‏“

یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔‏“

یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔‏“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔

صفحہ نمبر6132

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ” طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی “۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ” مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں “۔

جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ” کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا “۔

صفحہ نمبر6128

جیسے فرمان ہے ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو “۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے “۔ فرعون سے کہا کہ ” تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے “۔

صفحہ نمبر6129

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“

صفحہ نمبر6130

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ‏ ” موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے “۔

یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔

صفحہ نمبر6131

پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔‏“

یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔‏“

یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔‏“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔

صفحہ نمبر6132

فرعون اور موسیٰ علیہ السلام کا مباحثہ ٭٭

جب مباحثے میں فرعون ہارا دلیل و بیان میں غالب نہ آسکا تو قوت و طاقت کا مظاہرہ کرنے لگا اور سطوت و شوکت سے حق کو دبانے کا ارادہ کیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ (‏علیہ السلام)‏ میرے سوا کسی اور کو معبود بنائے گا تو جیل میں سڑا سڑا کر تیری جان لے لونگا۔

موسیٰ علیہ السلام بھی چونکہ وعظ ونصیحت کر ہی چکے تھے آپ علیہ السلام نے بھی ارادہ کیا کہ میں بھی اسے اور اس کی قوم کو دوسری طرح قائل کروں تو فرمانے لگے ”کیوں جی میں اگر اپنی سچائی پر کسی ایسے معجزے کا اظہار کروں کہ تمہیں بھی قائل ہونا پڑے تب؟“ فرعون سو اس کے کیا کر سکتا تھا کہ کہا اچھا اگر سچا ہے تو پیش کر۔

آپ علیہ السلام نے سنتے ہی اپنی لکڑی جو آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں تھی ہی اسے زمین پر ڈال دیا۔ بس اس کا زمین پر گرنا تھا کہ وہ ایک اژدہے کی شکل بن گئی۔ اور اژدہا بھی بہت بڑا تیز کچلیوں والا ہیبت ناک ڈراؤنی اور خوفناک شکل والا منہ پھاڑے ہوئے پھنکارتا ہوا۔ ساتھ ہی اپنے گریبان میں اپنا ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چاند کی طرح چمکتاہوا نکلا۔ فرعون کی قسمت چونکہ ایمان سے خالی تھی ایسے واضح معجزے دیکھ کر بھی اپنی بدبختی پر اڑا رہا اور تو کچھ بن نہ پڑا اپنے ساتھیوں اور درباریوں سے کہنے لگا کہ یہ تو جادو کے کرشمے ہیں۔ بے شک اتنا تو میں بھی مان گیا کہ یہ اپنے فن جادوگری میں استاد کامل ہے۔ پھر انہیں موسیٰ علیہ السلام کی دشمنی پر آمادہ کرنے کے لیے ایک اور بات بنائی کہ یہ ایسے ہی شعبدے دکھا دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لے گا۔ اور جب کچھ لوگ اس کے ساتھی ہو جائیں گے تو یہ علم بغاوت بلند کر دے گا پھر تمہیں مغلوب کر کے اس ملک میں قبضہ کر لے گا تو اس کے استحصال کی کوشش ابھی سے کرنی چاہیئے۔ بتلاؤ تمہاری رائے کیا ہے؟ اللہ کی قدرت دیکھو کہ فرعونیوں سے اللہ نے وہ بات کہلوائی جس سے موسیٰ علیہ السلام کو عام تبلیغ کا موقعہ ملے اور لوگوں پر حق واضح ہو جائے۔ یعنی جادوگروں کو مقابلہ کے لیے بلوانا۔

صفحہ نمبر6151

فرعون اور موسیٰ علیہ السلام کا مباحثہ ٭٭

جب مباحثے میں فرعون ہارا دلیل و بیان میں غالب نہ آسکا تو قوت و طاقت کا مظاہرہ کرنے لگا اور سطوت و شوکت سے حق کو دبانے کا ارادہ کیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ (‏علیہ السلام)‏ میرے سوا کسی اور کو معبود بنائے گا تو جیل میں سڑا سڑا کر تیری جان لے لونگا۔

موسیٰ علیہ السلام بھی چونکہ وعظ ونصیحت کر ہی چکے تھے آپ علیہ السلام نے بھی ارادہ کیا کہ میں بھی اسے اور اس کی قوم کو دوسری طرح قائل کروں تو فرمانے لگے ”کیوں جی میں اگر اپنی سچائی پر کسی ایسے معجزے کا اظہار کروں کہ تمہیں بھی قائل ہونا پڑے تب؟“ فرعون سو اس کے کیا کر سکتا تھا کہ کہا اچھا اگر سچا ہے تو پیش کر۔

آپ علیہ السلام نے سنتے ہی اپنی لکڑی جو آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں تھی ہی اسے زمین پر ڈال دیا۔ بس اس کا زمین پر گرنا تھا کہ وہ ایک اژدہے کی شکل بن گئی۔ اور اژدہا بھی بہت بڑا تیز کچلیوں والا ہیبت ناک ڈراؤنی اور خوفناک شکل والا منہ پھاڑے ہوئے پھنکارتا ہوا۔ ساتھ ہی اپنے گریبان میں اپنا ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چاند کی طرح چمکتاہوا نکلا۔ فرعون کی قسمت چونکہ ایمان سے خالی تھی ایسے واضح معجزے دیکھ کر بھی اپنی بدبختی پر اڑا رہا اور تو کچھ بن نہ پڑا اپنے ساتھیوں اور درباریوں سے کہنے لگا کہ یہ تو جادو کے کرشمے ہیں۔ بے شک اتنا تو میں بھی مان گیا کہ یہ اپنے فن جادوگری میں استاد کامل ہے۔ پھر انہیں موسیٰ علیہ السلام کی دشمنی پر آمادہ کرنے کے لیے ایک اور بات بنائی کہ یہ ایسے ہی شعبدے دکھا دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لے گا۔ اور جب کچھ لوگ اس کے ساتھی ہو جائیں گے تو یہ علم بغاوت بلند کر دے گا پھر تمہیں مغلوب کر کے اس ملک میں قبضہ کر لے گا تو اس کے استحصال کی کوشش ابھی سے کرنی چاہیئے۔ بتلاؤ تمہاری رائے کیا ہے؟ اللہ کی قدرت دیکھو کہ فرعونیوں سے اللہ نے وہ بات کہلوائی جس سے موسیٰ علیہ السلام کو عام تبلیغ کا موقعہ ملے اور لوگوں پر حق واضح ہو جائے۔ یعنی جادوگروں کو مقابلہ کے لیے بلوانا۔

صفحہ نمبر6151

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com