Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Ar-Room
Tafsir Ibn Kathir · The Romans · 60 ayat · ayat 1–30 · Quran text →
معرکہ روم و فارس کا انجام ٭٭
یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آ گیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آ کر قسطنطیہ میں محصور ہو گیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آ رہا ہے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لیے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لیے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے جب یہ ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رومی عنقریب پھر غالب آ جائیں گے ۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کر لو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ خبر پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔“ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لیے لفظ «بِضْعٌ» استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آ گئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے ۔ [سنن ترمذي:3193،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
صفحہ نمبر6745
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ پانچ چیزیں گزرچکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا ۔ [صحیح بخاری:4767] ۔
اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شرط سات سال کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ «بِضْعٌ» کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں؟ جواب دیا کہ دس سے کم۔ فرمایا: پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو چنانچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27876:مرسل] ۔
اور روایت میں ہے کہ مشرکوں نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا مانتے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں“ اس پر شرط ٹھہری اور مدت گزر چکی اور رومی غالب نہ آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہوئے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟“ جواب ملا کہ ”اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کر کے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کر لو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے۔“ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھا کر شرط منظور کر لی۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آ گئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے۔ اور رومیہ کی بناء انہوں نے ڈال لی۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے قریش سے شرط کا مال لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو“ ۔ [ابو یعلی فی المسند الکبیر کما فی المطالب:5/9:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ اس میں ہےکہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے ۔ [سنن ترمذي:3194،قال الشيخ الألباني:حسن] ۔
صفحہ نمبر6746
ایک بہت عجیب وغریب قصہ امام سنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں۔ اب تم مشورہ کر لو کہ کسے سردار بناؤں؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو۔“
”بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز وشاداب ملک کو ویران وغارت کر دیا۔ اور اذرعات اور بصرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آ گئے۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے۔“
”کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں۔“
صفحہ نمبر6747
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے ”اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہمارے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے۔ اس بات کا یقین کر لو اس لیے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی ہے۔“
یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابوالفضل تم جھوٹ کہتے ہو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط باندھتا ہوں۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آ گئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے یہ شرط قبول کر لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر اس کا ذکر کیا تو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا «بِضْعٌ» کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولاجاتا ہے۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو ۔
سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو! میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو۔ چنانچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آ گئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہربراز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آ گیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں۔
صفحہ نمبر6748
یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہربراز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کر کے اس کا سر میرے پاس بھیج دو۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ! تم اتنی جلدی نہ کرو۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات مند، دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے۔
بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فوراً تعمیل کرو۔ شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا اس نے اعلان کر دیا کہ شہربراز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کر دیا۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہربزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آ جائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہا کہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں۔ چنانچہ وہ تخت سے اتر گیا اور فرخان کو قبضہ دے دیا۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کر لی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا۔ شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے۔ اس نے منظور کر لیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لیے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہو گیا ذرا سوچ لے، ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فوراً تخت سے نیچے اترگیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنا دیا۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آ جائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے۔
صفحہ نمبر6749
قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لیے چل پڑا۔ لیکن احتیاطاً اپنے ساتھ پانچ ہزار سوار لے لیے، اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے۔ جاسوسوں نے آ کر خبر دی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں۔ چنانچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لیے۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے۔
وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جا کر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بے ہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا۔ خیمہ میں پہنچ کر شہربراز نے کہا اے بادشاہ روم! بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کر لیا ہے۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہم سے حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا، میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کر لیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آ جائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کر لی۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئیں جن کامطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کر دئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے۔ دونوں اس پر اتفاق کر کے کھڑے ہو گئے اور ہر ایک نے اپنی چھری سے اپنے ترجمان کا کام تمام کر دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کر دیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت خوش ہوئے۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27873:مرسل]
صفحہ نمبر6750
اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کر چکے ہیں سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں، یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے۔
دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی ہے وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہو جاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کر لیا۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا۔
صفحہ نمبر6751
یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی۔ اسی کو امانت کبریٰ کہا جاتا ہے۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے۔
یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئیں، ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا۔ جس قدر جی میں آئی کمی یا زیادتی اصل دین مسیح میں کی۔ اور اصل مذہب محرف و مبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا۔ صلیب کی پرستش شروع ہو گئی۔ خنزیر کو حلال کر لیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لیے جیسے عید صلیب،عید قدرس،عید غطاس وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) گرجے بنادئیے۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر نسطوریہ۔ یہ سب نسطور کے مقلد تھے۔
پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ ان کے بہتر (٧٢) فرقے ہوگئے۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا،بہت بڑا عالم تھا، دانائی زیرکی، دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کر لی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی۔
اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا۔
صفحہ نمبر6752
لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کر سکا۔
ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف حصہ سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کر لیجئے۔ کسریٰ اس پر راضی ہو گیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا۔ قیصر نے اسے قبول کر لیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کر سکتی۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کر لوں اور آپ کو سونپ دو۔ اس نے یہ درخواست منظور کرلی۔ اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لیے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جا رہا ہوں۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آ جاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کر لینا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے۔ اس نے قتل عام شروع کیا۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کر دیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کر لیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کر ڈالا۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اس کے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تو نے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کر دیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا۔
صفحہ نمبر6753
قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حیلہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کر سوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کٹی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسریٰ کے لشکر کے پاس سے گزریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گزر گیا ہے۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں۔
اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کر کے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آ گئے۔ فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آ گئے۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آ گئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
صفحہ نمبر6754
قرآن کریم میں لفظ «بِضْعٌ» کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ تمہیں احیتاطاً دس سال تک رکھنے چاہیئے تھے کیونکہ «بِضْعٌ» کے لفظ کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے ۔ [سنن ترمذي:3191،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس کے بعد «قَبْلُ» اور «بَعْدُ» پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ سے ہے کہ اس کے بعد حکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آ جائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سدی، ثوری اور ابوسعید رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں [سنن ترمذي:3192،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ]
ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ، زہری اور قتادۃ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے۔ بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چنانچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پہنچا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی معرفت بصریٰ کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابوسفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے۔ اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ابوسفیان نے کہا میں ہوں۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگریہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا۔
ابوسفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کر دیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقیناً میں جھوٹ بولتا۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے۔ مثلا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حسب نسب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و عادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ۔
ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے؟ ابوسفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بد عہدی، وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے؟ ابوسفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6755
لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہو چکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی، اس لیے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کر کے نذر کو پوری کرنے کے لیے روانہ ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لیے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔
صفحہ نمبر6756
خود قرآن میں موجود ہے کہ «لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ» ” ایمان والوں کے سب سے زیادہ دشمن یہود اور مشرک ہیں اور ان سے دوستیاں رکھنے میں سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں اس لیے کہ ان میں علماء اور درویش لوگ ہیں اور یہ متکبر نہیں۔ قرآن سن کر یہ رو دیتے ہیں کیونکہ حق کو جان لیتے ہیں پھر اقرار کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم ایمان لائے تو ہمیں بھی ماننے والوں میں کر لے “۔ [5-المائدة:82-83]
پس یہاں بھی یہی فرمایا کہ ” مسلمان اس دن خوش ہونگے جس دن اللہ تعالیٰ رومیوں کی مدد کرے گا وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے وہ بڑا غالب اور بہت مہربان ہے “۔
زبیر کلابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے فارسیوں کا رومیوں پر غالب آنا پھر رومیوں کا فارسیوں پر غالب آنا پھر روم اور فارس دونوں پر مسلمانوں کا غالب آنا اپنی آنکھوں سے پندرہ سال کے اندر دیکھا لیا۔ آخر آیت میں فرمایا ” اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے بدلہ اور انتقام لینے پر قادر اور اپنے دوستوں کی خطاؤں اور لغزشوں سے در گزر فرمانے والا ہے۔ جو خبر تمہیں دی ہے کہ رومی عنقریب فارسیوں پر غالب آ جائیں گے یہ اللہ کی خبر ہے رب کا وعدہ ہے پرودگار کا فیصلہ ہے۔ ناممکن ہے کہ غلط نکلے ٹل جائے یاخلاف ہو جائے۔ جو حق کے قریب ہو اسے بھی رب حق سے بہت دور والوں پر غالب رکھتے ہیں ہاں اللہ کی حکمتوں کو کم علم نہیں جان سکتے “۔
اکثر لوگ دنیا کا علم تو خوب رکھتے ہیں اس کی گھتیاں منٹوں میں سلجھا دیتے ہیں اس میں خوب دماغ دوڑاتے ہیں۔ اس کے برے بھلے نقصان کو پہچان لیتے ہیں بہ یک نگاہ اس کی اونچ نیچ دیکھ لیتے ہیں۔ دنیا کمانے کا پیسے جوڑنے کا خوب سلیقہ رکھتے ہیں لیکن امور دین میں اخروی کاموں میں محض جاہل غبی اور کم فہم ہوتے ہیں۔ یہاں نہ ذہن کام کرے نہ سمجھ پہنچ سکے نہ غورو فکر کی عادت۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں بہت سے ایسے بھی ہیں کہ نماز تک تو ٹھیک پڑھ نہیں سکتے لیکن درہم چٹکی میں لیتے ہی وزن بتا دیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دنیا کی آبادی اور رونق کی تو بیسیوں صورتیں ان کا ذہن گھڑ لیتا ہے۔ لیکن دین میں محض جاہل اور آخرت سے بالکل غافل ہیں۔“
صفحہ نمبر6757
معرکہ روم و فارس کا انجام ٭٭
یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آ گیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آ کر قسطنطیہ میں محصور ہو گیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آ رہا ہے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لیے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لیے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے جب یہ ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رومی عنقریب پھر غالب آ جائیں گے ۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کر لو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ خبر پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔“ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لیے لفظ «بِضْعٌ» استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آ گئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے ۔ [سنن ترمذي:3193،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
صفحہ نمبر6745
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ پانچ چیزیں گزرچکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا ۔ [صحیح بخاری:4767] ۔
اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شرط سات سال کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ «بِضْعٌ» کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں؟ جواب دیا کہ دس سے کم۔ فرمایا: پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو چنانچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27876:مرسل] ۔
اور روایت میں ہے کہ مشرکوں نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا مانتے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں“ اس پر شرط ٹھہری اور مدت گزر چکی اور رومی غالب نہ آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہوئے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟“ جواب ملا کہ ”اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کر کے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کر لو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے۔“ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھا کر شرط منظور کر لی۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آ گئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے۔ اور رومیہ کی بناء انہوں نے ڈال لی۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے قریش سے شرط کا مال لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو“ ۔ [ابو یعلی فی المسند الکبیر کما فی المطالب:5/9:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ اس میں ہےکہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے ۔ [سنن ترمذي:3194،قال الشيخ الألباني:حسن] ۔
صفحہ نمبر6746
ایک بہت عجیب وغریب قصہ امام سنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں۔ اب تم مشورہ کر لو کہ کسے سردار بناؤں؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو۔“
”بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز وشاداب ملک کو ویران وغارت کر دیا۔ اور اذرعات اور بصرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آ گئے۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے۔“
”کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں۔“
صفحہ نمبر6747
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے ”اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہمارے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے۔ اس بات کا یقین کر لو اس لیے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی ہے۔“
یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابوالفضل تم جھوٹ کہتے ہو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط باندھتا ہوں۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آ گئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے یہ شرط قبول کر لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر اس کا ذکر کیا تو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا «بِضْعٌ» کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولاجاتا ہے۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو ۔
سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو! میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو۔ چنانچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آ گئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہربراز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آ گیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں۔
صفحہ نمبر6748
یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہربراز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کر کے اس کا سر میرے پاس بھیج دو۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ! تم اتنی جلدی نہ کرو۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات مند، دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے۔
بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فوراً تعمیل کرو۔ شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا اس نے اعلان کر دیا کہ شہربراز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کر دیا۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہربزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آ جائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہا کہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں۔ چنانچہ وہ تخت سے اتر گیا اور فرخان کو قبضہ دے دیا۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کر لی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا۔ شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے۔ اس نے منظور کر لیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لیے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہو گیا ذرا سوچ لے، ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فوراً تخت سے نیچے اترگیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنا دیا۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آ جائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے۔
صفحہ نمبر6749
قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لیے چل پڑا۔ لیکن احتیاطاً اپنے ساتھ پانچ ہزار سوار لے لیے، اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے۔ جاسوسوں نے آ کر خبر دی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں۔ چنانچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لیے۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے۔
وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جا کر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بے ہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا۔ خیمہ میں پہنچ کر شہربراز نے کہا اے بادشاہ روم! بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کر لیا ہے۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہم سے حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا، میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کر لیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آ جائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کر لی۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئیں جن کامطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کر دئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے۔ دونوں اس پر اتفاق کر کے کھڑے ہو گئے اور ہر ایک نے اپنی چھری سے اپنے ترجمان کا کام تمام کر دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کر دیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت خوش ہوئے۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27873:مرسل]
صفحہ نمبر6750
اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کر چکے ہیں سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں، یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے۔
دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی ہے وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہو جاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کر لیا۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا۔
صفحہ نمبر6751
یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی۔ اسی کو امانت کبریٰ کہا جاتا ہے۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے۔
یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئیں، ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا۔ جس قدر جی میں آئی کمی یا زیادتی اصل دین مسیح میں کی۔ اور اصل مذہب محرف و مبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا۔ صلیب کی پرستش شروع ہو گئی۔ خنزیر کو حلال کر لیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لیے جیسے عید صلیب،عید قدرس،عید غطاس وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) گرجے بنادئیے۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر نسطوریہ۔ یہ سب نسطور کے مقلد تھے۔
پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ ان کے بہتر (٧٢) فرقے ہوگئے۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا،بہت بڑا عالم تھا، دانائی زیرکی، دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کر لی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی۔
اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا۔
صفحہ نمبر6752
لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کر سکا۔
ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف حصہ سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کر لیجئے۔ کسریٰ اس پر راضی ہو گیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا۔ قیصر نے اسے قبول کر لیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کر سکتی۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کر لوں اور آپ کو سونپ دو۔ اس نے یہ درخواست منظور کرلی۔ اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لیے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جا رہا ہوں۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آ جاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کر لینا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے۔ اس نے قتل عام شروع کیا۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کر دیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کر لیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کر ڈالا۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اس کے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تو نے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کر دیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا۔
صفحہ نمبر6753
قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حیلہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کر سوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کٹی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسریٰ کے لشکر کے پاس سے گزریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گزر گیا ہے۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں۔
اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کر کے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آ گئے۔ فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آ گئے۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آ گئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
صفحہ نمبر6754
قرآن کریم میں لفظ «بِضْعٌ» کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ تمہیں احیتاطاً دس سال تک رکھنے چاہیئے تھے کیونکہ «بِضْعٌ» کے لفظ کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے ۔ [سنن ترمذي:3191،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس کے بعد «قَبْلُ» اور «بَعْدُ» پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ سے ہے کہ اس کے بعد حکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آ جائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سدی، ثوری اور ابوسعید رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں [سنن ترمذي:3192،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ]
ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ، زہری اور قتادۃ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے۔ بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چنانچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پہنچا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی معرفت بصریٰ کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابوسفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے۔ اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ابوسفیان نے کہا میں ہوں۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگریہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا۔
ابوسفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کر دیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقیناً میں جھوٹ بولتا۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے۔ مثلا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حسب نسب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و عادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ۔
ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے؟ ابوسفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بد عہدی، وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے؟ ابوسفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6755
لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہو چکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی، اس لیے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کر کے نذر کو پوری کرنے کے لیے روانہ ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لیے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔
صفحہ نمبر6756
خود قرآن میں موجود ہے کہ «لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ» ” ایمان والوں کے سب سے زیادہ دشمن یہود اور مشرک ہیں اور ان سے دوستیاں رکھنے میں سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں اس لیے کہ ان میں علماء اور درویش لوگ ہیں اور یہ متکبر نہیں۔ قرآن سن کر یہ رو دیتے ہیں کیونکہ حق کو جان لیتے ہیں پھر اقرار کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم ایمان لائے تو ہمیں بھی ماننے والوں میں کر لے “۔ [5-المائدة:82-83]
پس یہاں بھی یہی فرمایا کہ ” مسلمان اس دن خوش ہونگے جس دن اللہ تعالیٰ رومیوں کی مدد کرے گا وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے وہ بڑا غالب اور بہت مہربان ہے “۔
زبیر کلابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے فارسیوں کا رومیوں پر غالب آنا پھر رومیوں کا فارسیوں پر غالب آنا پھر روم اور فارس دونوں پر مسلمانوں کا غالب آنا اپنی آنکھوں سے پندرہ سال کے اندر دیکھا لیا۔ آخر آیت میں فرمایا ” اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے بدلہ اور انتقام لینے پر قادر اور اپنے دوستوں کی خطاؤں اور لغزشوں سے در گزر فرمانے والا ہے۔ جو خبر تمہیں دی ہے کہ رومی عنقریب فارسیوں پر غالب آ جائیں گے یہ اللہ کی خبر ہے رب کا وعدہ ہے پرودگار کا فیصلہ ہے۔ ناممکن ہے کہ غلط نکلے ٹل جائے یاخلاف ہو جائے۔ جو حق کے قریب ہو اسے بھی رب حق سے بہت دور والوں پر غالب رکھتے ہیں ہاں اللہ کی حکمتوں کو کم علم نہیں جان سکتے “۔
اکثر لوگ دنیا کا علم تو خوب رکھتے ہیں اس کی گھتیاں منٹوں میں سلجھا دیتے ہیں اس میں خوب دماغ دوڑاتے ہیں۔ اس کے برے بھلے نقصان کو پہچان لیتے ہیں بہ یک نگاہ اس کی اونچ نیچ دیکھ لیتے ہیں۔ دنیا کمانے کا پیسے جوڑنے کا خوب سلیقہ رکھتے ہیں لیکن امور دین میں اخروی کاموں میں محض جاہل غبی اور کم فہم ہوتے ہیں۔ یہاں نہ ذہن کام کرے نہ سمجھ پہنچ سکے نہ غورو فکر کی عادت۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں بہت سے ایسے بھی ہیں کہ نماز تک تو ٹھیک پڑھ نہیں سکتے لیکن درہم چٹکی میں لیتے ہی وزن بتا دیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دنیا کی آبادی اور رونق کی تو بیسیوں صورتیں ان کا ذہن گھڑ لیتا ہے۔ لیکن دین میں محض جاہل اور آخرت سے بالکل غافل ہیں۔“
صفحہ نمبر6757
معرکہ روم و فارس کا انجام ٭٭
یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آ گیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آ کر قسطنطیہ میں محصور ہو گیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آ رہا ہے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لیے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لیے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے جب یہ ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رومی عنقریب پھر غالب آ جائیں گے ۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کر لو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ خبر پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔“ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لیے لفظ «بِضْعٌ» استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آ گئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے ۔ [سنن ترمذي:3193،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
صفحہ نمبر6745
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ پانچ چیزیں گزرچکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا ۔ [صحیح بخاری:4767] ۔
اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شرط سات سال کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ «بِضْعٌ» کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں؟ جواب دیا کہ دس سے کم۔ فرمایا: پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو چنانچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27876:مرسل] ۔
اور روایت میں ہے کہ مشرکوں نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا مانتے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں“ اس پر شرط ٹھہری اور مدت گزر چکی اور رومی غالب نہ آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہوئے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟“ جواب ملا کہ ”اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کر کے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کر لو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے۔“ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھا کر شرط منظور کر لی۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آ گئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے۔ اور رومیہ کی بناء انہوں نے ڈال لی۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے قریش سے شرط کا مال لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو“ ۔ [ابو یعلی فی المسند الکبیر کما فی المطالب:5/9:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ اس میں ہےکہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے ۔ [سنن ترمذي:3194،قال الشيخ الألباني:حسن] ۔
صفحہ نمبر6746
ایک بہت عجیب وغریب قصہ امام سنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں۔ اب تم مشورہ کر لو کہ کسے سردار بناؤں؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو۔“
”بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز وشاداب ملک کو ویران وغارت کر دیا۔ اور اذرعات اور بصرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آ گئے۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے۔“
”کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں۔“
صفحہ نمبر6747
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے ”اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہمارے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے۔ اس بات کا یقین کر لو اس لیے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی ہے۔“
یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابوالفضل تم جھوٹ کہتے ہو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط باندھتا ہوں۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آ گئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے یہ شرط قبول کر لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر اس کا ذکر کیا تو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا «بِضْعٌ» کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولاجاتا ہے۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو ۔
سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو! میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو۔ چنانچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آ گئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہربراز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آ گیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں۔
صفحہ نمبر6748
یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہربراز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کر کے اس کا سر میرے پاس بھیج دو۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ! تم اتنی جلدی نہ کرو۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات مند، دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے۔
بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فوراً تعمیل کرو۔ شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا اس نے اعلان کر دیا کہ شہربراز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کر دیا۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہربزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آ جائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہا کہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں۔ چنانچہ وہ تخت سے اتر گیا اور فرخان کو قبضہ دے دیا۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کر لی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا۔ شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے۔ اس نے منظور کر لیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لیے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہو گیا ذرا سوچ لے، ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فوراً تخت سے نیچے اترگیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنا دیا۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آ جائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے۔
صفحہ نمبر6749
قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لیے چل پڑا۔ لیکن احتیاطاً اپنے ساتھ پانچ ہزار سوار لے لیے، اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے۔ جاسوسوں نے آ کر خبر دی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں۔ چنانچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لیے۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے۔
وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جا کر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بے ہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا۔ خیمہ میں پہنچ کر شہربراز نے کہا اے بادشاہ روم! بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کر لیا ہے۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہم سے حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا، میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کر لیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آ جائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کر لی۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئیں جن کامطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کر دئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے۔ دونوں اس پر اتفاق کر کے کھڑے ہو گئے اور ہر ایک نے اپنی چھری سے اپنے ترجمان کا کام تمام کر دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کر دیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت خوش ہوئے۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27873:مرسل]
صفحہ نمبر6750
اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کر چکے ہیں سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں، یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے۔
دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی ہے وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہو جاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کر لیا۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا۔
صفحہ نمبر6751
یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی۔ اسی کو امانت کبریٰ کہا جاتا ہے۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے۔
یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئیں، ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا۔ جس قدر جی میں آئی کمی یا زیادتی اصل دین مسیح میں کی۔ اور اصل مذہب محرف و مبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا۔ صلیب کی پرستش شروع ہو گئی۔ خنزیر کو حلال کر لیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لیے جیسے عید صلیب،عید قدرس،عید غطاس وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) گرجے بنادئیے۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر نسطوریہ۔ یہ سب نسطور کے مقلد تھے۔
پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ ان کے بہتر (٧٢) فرقے ہوگئے۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا،بہت بڑا عالم تھا، دانائی زیرکی، دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کر لی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی۔
اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا۔
صفحہ نمبر6752
لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کر سکا۔
ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف حصہ سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کر لیجئے۔ کسریٰ اس پر راضی ہو گیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا۔ قیصر نے اسے قبول کر لیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کر سکتی۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کر لوں اور آپ کو سونپ دو۔ اس نے یہ درخواست منظور کرلی۔ اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لیے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جا رہا ہوں۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آ جاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کر لینا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے۔ اس نے قتل عام شروع کیا۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کر دیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کر لیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کر ڈالا۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اس کے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تو نے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کر دیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا۔
صفحہ نمبر6753
قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حیلہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کر سوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کٹی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسریٰ کے لشکر کے پاس سے گزریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گزر گیا ہے۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں۔
اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کر کے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آ گئے۔ فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آ گئے۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آ گئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
صفحہ نمبر6754
قرآن کریم میں لفظ «بِضْعٌ» کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ تمہیں احیتاطاً دس سال تک رکھنے چاہیئے تھے کیونکہ «بِضْعٌ» کے لفظ کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے ۔ [سنن ترمذي:3191،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس کے بعد «قَبْلُ» اور «بَعْدُ» پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ سے ہے کہ اس کے بعد حکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آ جائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سدی، ثوری اور ابوسعید رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں [سنن ترمذي:3192،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ]
ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ، زہری اور قتادۃ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے۔ بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چنانچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پہنچا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی معرفت بصریٰ کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابوسفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے۔ اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ابوسفیان نے کہا میں ہوں۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگریہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا۔
ابوسفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کر دیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقیناً میں جھوٹ بولتا۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے۔ مثلا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حسب نسب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و عادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ۔
ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے؟ ابوسفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بد عہدی، وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے؟ ابوسفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6755
لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہو چکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی، اس لیے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کر کے نذر کو پوری کرنے کے لیے روانہ ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لیے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔
صفحہ نمبر6756
خود قرآن میں موجود ہے کہ «لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ» ” ایمان والوں کے سب سے زیادہ دشمن یہود اور مشرک ہیں اور ان سے دوستیاں رکھنے میں سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں اس لیے کہ ان میں علماء اور درویش لوگ ہیں اور یہ متکبر نہیں۔ قرآن سن کر یہ رو دیتے ہیں کیونکہ حق کو جان لیتے ہیں پھر اقرار کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم ایمان لائے تو ہمیں بھی ماننے والوں میں کر لے “۔ [5-المائدة:82-83]
پس یہاں بھی یہی فرمایا کہ ” مسلمان اس دن خوش ہونگے جس دن اللہ تعالیٰ رومیوں کی مدد کرے گا وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے وہ بڑا غالب اور بہت مہربان ہے “۔
زبیر کلابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے فارسیوں کا رومیوں پر غالب آنا پھر رومیوں کا فارسیوں پر غالب آنا پھر روم اور فارس دونوں پر مسلمانوں کا غالب آنا اپنی آنکھوں سے پندرہ سال کے اندر دیکھا لیا۔ آخر آیت میں فرمایا ” اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے بدلہ اور انتقام لینے پر قادر اور اپنے دوستوں کی خطاؤں اور لغزشوں سے در گزر فرمانے والا ہے۔ جو خبر تمہیں دی ہے کہ رومی عنقریب فارسیوں پر غالب آ جائیں گے یہ اللہ کی خبر ہے رب کا وعدہ ہے پرودگار کا فیصلہ ہے۔ ناممکن ہے کہ غلط نکلے ٹل جائے یاخلاف ہو جائے۔ جو حق کے قریب ہو اسے بھی رب حق سے بہت دور والوں پر غالب رکھتے ہیں ہاں اللہ کی حکمتوں کو کم علم نہیں جان سکتے “۔
اکثر لوگ دنیا کا علم تو خوب رکھتے ہیں اس کی گھتیاں منٹوں میں سلجھا دیتے ہیں اس میں خوب دماغ دوڑاتے ہیں۔ اس کے برے بھلے نقصان کو پہچان لیتے ہیں بہ یک نگاہ اس کی اونچ نیچ دیکھ لیتے ہیں۔ دنیا کمانے کا پیسے جوڑنے کا خوب سلیقہ رکھتے ہیں لیکن امور دین میں اخروی کاموں میں محض جاہل غبی اور کم فہم ہوتے ہیں۔ یہاں نہ ذہن کام کرے نہ سمجھ پہنچ سکے نہ غورو فکر کی عادت۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں بہت سے ایسے بھی ہیں کہ نماز تک تو ٹھیک پڑھ نہیں سکتے لیکن درہم چٹکی میں لیتے ہی وزن بتا دیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دنیا کی آبادی اور رونق کی تو بیسیوں صورتیں ان کا ذہن گھڑ لیتا ہے۔ لیکن دین میں محض جاہل اور آخرت سے بالکل غافل ہیں۔“
صفحہ نمبر6757
معرکہ روم و فارس کا انجام ٭٭
یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آ گیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آ کر قسطنطیہ میں محصور ہو گیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آ رہا ہے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لیے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لیے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے جب یہ ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رومی عنقریب پھر غالب آ جائیں گے ۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کر لو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ خبر پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔“ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لیے لفظ «بِضْعٌ» استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آ گئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے ۔ [سنن ترمذي:3193،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
صفحہ نمبر6745
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ پانچ چیزیں گزرچکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا ۔ [صحیح بخاری:4767] ۔
اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شرط سات سال کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ «بِضْعٌ» کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں؟ جواب دیا کہ دس سے کم۔ فرمایا: پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو چنانچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27876:مرسل] ۔
اور روایت میں ہے کہ مشرکوں نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا مانتے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں“ اس پر شرط ٹھہری اور مدت گزر چکی اور رومی غالب نہ آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہوئے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟“ جواب ملا کہ ”اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کر کے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کر لو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے۔“ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھا کر شرط منظور کر لی۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آ گئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے۔ اور رومیہ کی بناء انہوں نے ڈال لی۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے قریش سے شرط کا مال لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو“ ۔ [ابو یعلی فی المسند الکبیر کما فی المطالب:5/9:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ اس میں ہےکہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے ۔ [سنن ترمذي:3194،قال الشيخ الألباني:حسن] ۔
صفحہ نمبر6746
ایک بہت عجیب وغریب قصہ امام سنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں۔ اب تم مشورہ کر لو کہ کسے سردار بناؤں؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو۔“
”بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز وشاداب ملک کو ویران وغارت کر دیا۔ اور اذرعات اور بصرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آ گئے۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے۔“
”کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں۔“
صفحہ نمبر6747
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے ”اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہمارے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے۔ اس بات کا یقین کر لو اس لیے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی ہے۔“
یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابوالفضل تم جھوٹ کہتے ہو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط باندھتا ہوں۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آ گئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے یہ شرط قبول کر لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر اس کا ذکر کیا تو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا «بِضْعٌ» کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولاجاتا ہے۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو ۔
سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو! میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو۔ چنانچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آ گئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہربراز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آ گیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں۔
صفحہ نمبر6748
یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہربراز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کر کے اس کا سر میرے پاس بھیج دو۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ! تم اتنی جلدی نہ کرو۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات مند، دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے۔
بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فوراً تعمیل کرو۔ شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا اس نے اعلان کر دیا کہ شہربراز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کر دیا۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہربزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آ جائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہا کہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں۔ چنانچہ وہ تخت سے اتر گیا اور فرخان کو قبضہ دے دیا۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کر لی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا۔ شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے۔ اس نے منظور کر لیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لیے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہو گیا ذرا سوچ لے، ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فوراً تخت سے نیچے اترگیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنا دیا۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آ جائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے۔
صفحہ نمبر6749
قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لیے چل پڑا۔ لیکن احتیاطاً اپنے ساتھ پانچ ہزار سوار لے لیے، اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے۔ جاسوسوں نے آ کر خبر دی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں۔ چنانچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لیے۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے۔
وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جا کر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بے ہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا۔ خیمہ میں پہنچ کر شہربراز نے کہا اے بادشاہ روم! بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کر لیا ہے۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہم سے حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا، میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کر لیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آ جائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کر لی۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئیں جن کامطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کر دئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے۔ دونوں اس پر اتفاق کر کے کھڑے ہو گئے اور ہر ایک نے اپنی چھری سے اپنے ترجمان کا کام تمام کر دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کر دیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت خوش ہوئے۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27873:مرسل]
صفحہ نمبر6750
اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کر چکے ہیں سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں، یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے۔
دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی ہے وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہو جاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کر لیا۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا۔
صفحہ نمبر6751
یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی۔ اسی کو امانت کبریٰ کہا جاتا ہے۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے۔
یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئیں، ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا۔ جس قدر جی میں آئی کمی یا زیادتی اصل دین مسیح میں کی۔ اور اصل مذہب محرف و مبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا۔ صلیب کی پرستش شروع ہو گئی۔ خنزیر کو حلال کر لیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لیے جیسے عید صلیب،عید قدرس،عید غطاس وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) گرجے بنادئیے۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر نسطوریہ۔ یہ سب نسطور کے مقلد تھے۔
پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ ان کے بہتر (٧٢) فرقے ہوگئے۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا،بہت بڑا عالم تھا، دانائی زیرکی، دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کر لی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی۔
اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا۔
صفحہ نمبر6752
لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کر سکا۔
ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف حصہ سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کر لیجئے۔ کسریٰ اس پر راضی ہو گیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا۔ قیصر نے اسے قبول کر لیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کر سکتی۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کر لوں اور آپ کو سونپ دو۔ اس نے یہ درخواست منظور کرلی۔ اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لیے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جا رہا ہوں۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آ جاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کر لینا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے۔ اس نے قتل عام شروع کیا۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کر دیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کر لیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کر ڈالا۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اس کے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تو نے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کر دیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا۔
صفحہ نمبر6753
قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حیلہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کر سوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کٹی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسریٰ کے لشکر کے پاس سے گزریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گزر گیا ہے۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں۔
اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کر کے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آ گئے۔ فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آ گئے۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آ گئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
صفحہ نمبر6754
قرآن کریم میں لفظ «بِضْعٌ» کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ تمہیں احیتاطاً دس سال تک رکھنے چاہیئے تھے کیونکہ «بِضْعٌ» کے لفظ کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے ۔ [سنن ترمذي:3191،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس کے بعد «قَبْلُ» اور «بَعْدُ» پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ سے ہے کہ اس کے بعد حکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آ جائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سدی، ثوری اور ابوسعید رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں [سنن ترمذي:3192،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ]
ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ، زہری اور قتادۃ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے۔ بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چنانچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پہنچا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی معرفت بصریٰ کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابوسفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے۔ اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ابوسفیان نے کہا میں ہوں۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگریہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا۔
ابوسفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کر دیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقیناً میں جھوٹ بولتا۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے۔ مثلا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حسب نسب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و عادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ۔
ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے؟ ابوسفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بد عہدی، وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے؟ ابوسفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6755
لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہو چکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی، اس لیے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کر کے نذر کو پوری کرنے کے لیے روانہ ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لیے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔
صفحہ نمبر6756
خود قرآن میں موجود ہے کہ «لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ» ” ایمان والوں کے سب سے زیادہ دشمن یہود اور مشرک ہیں اور ان سے دوستیاں رکھنے میں سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں اس لیے کہ ان میں علماء اور درویش لوگ ہیں اور یہ متکبر نہیں۔ قرآن سن کر یہ رو دیتے ہیں کیونکہ حق کو جان لیتے ہیں پھر اقرار کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم ایمان لائے تو ہمیں بھی ماننے والوں میں کر لے “۔ [5-المائدة:82-83]
پس یہاں بھی یہی فرمایا کہ ” مسلمان اس دن خوش ہونگے جس دن اللہ تعالیٰ رومیوں کی مدد کرے گا وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے وہ بڑا غالب اور بہت مہربان ہے “۔
زبیر کلابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے فارسیوں کا رومیوں پر غالب آنا پھر رومیوں کا فارسیوں پر غالب آنا پھر روم اور فارس دونوں پر مسلمانوں کا غالب آنا اپنی آنکھوں سے پندرہ سال کے اندر دیکھا لیا۔ آخر آیت میں فرمایا ” اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے بدلہ اور انتقام لینے پر قادر اور اپنے دوستوں کی خطاؤں اور لغزشوں سے در گزر فرمانے والا ہے۔ جو خبر تمہیں دی ہے کہ رومی عنقریب فارسیوں پر غالب آ جائیں گے یہ اللہ کی خبر ہے رب کا وعدہ ہے پرودگار کا فیصلہ ہے۔ ناممکن ہے کہ غلط نکلے ٹل جائے یاخلاف ہو جائے۔ جو حق کے قریب ہو اسے بھی رب حق سے بہت دور والوں پر غالب رکھتے ہیں ہاں اللہ کی حکمتوں کو کم علم نہیں جان سکتے “۔
اکثر لوگ دنیا کا علم تو خوب رکھتے ہیں اس کی گھتیاں منٹوں میں سلجھا دیتے ہیں اس میں خوب دماغ دوڑاتے ہیں۔ اس کے برے بھلے نقصان کو پہچان لیتے ہیں بہ یک نگاہ اس کی اونچ نیچ دیکھ لیتے ہیں۔ دنیا کمانے کا پیسے جوڑنے کا خوب سلیقہ رکھتے ہیں لیکن امور دین میں اخروی کاموں میں محض جاہل غبی اور کم فہم ہوتے ہیں۔ یہاں نہ ذہن کام کرے نہ سمجھ پہنچ سکے نہ غورو فکر کی عادت۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں بہت سے ایسے بھی ہیں کہ نماز تک تو ٹھیک پڑھ نہیں سکتے لیکن درہم چٹکی میں لیتے ہی وزن بتا دیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دنیا کی آبادی اور رونق کی تو بیسیوں صورتیں ان کا ذہن گھڑ لیتا ہے۔ لیکن دین میں محض جاہل اور آخرت سے بالکل غافل ہیں۔“
صفحہ نمبر6757
معرکہ روم و فارس کا انجام ٭٭
یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آ گیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آ کر قسطنطیہ میں محصور ہو گیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آ رہا ہے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لیے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لیے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے جب یہ ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رومی عنقریب پھر غالب آ جائیں گے ۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کر لو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ خبر پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔“ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لیے لفظ «بِضْعٌ» استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آ گئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے ۔ [سنن ترمذي:3193،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
صفحہ نمبر6745
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ پانچ چیزیں گزرچکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا ۔ [صحیح بخاری:4767] ۔
اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شرط سات سال کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ «بِضْعٌ» کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں؟ جواب دیا کہ دس سے کم۔ فرمایا: پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو چنانچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27876:مرسل] ۔
اور روایت میں ہے کہ مشرکوں نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا مانتے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں“ اس پر شرط ٹھہری اور مدت گزر چکی اور رومی غالب نہ آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہوئے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟“ جواب ملا کہ ”اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کر کے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کر لو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے۔“ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھا کر شرط منظور کر لی۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آ گئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے۔ اور رومیہ کی بناء انہوں نے ڈال لی۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے قریش سے شرط کا مال لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو“ ۔ [ابو یعلی فی المسند الکبیر کما فی المطالب:5/9:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ اس میں ہےکہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے ۔ [سنن ترمذي:3194،قال الشيخ الألباني:حسن] ۔
صفحہ نمبر6746
ایک بہت عجیب وغریب قصہ امام سنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں۔ اب تم مشورہ کر لو کہ کسے سردار بناؤں؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو۔“
”بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز وشاداب ملک کو ویران وغارت کر دیا۔ اور اذرعات اور بصرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آ گئے۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے۔“
”کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں۔“
صفحہ نمبر6747
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے ”اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہمارے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے۔ اس بات کا یقین کر لو اس لیے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی ہے۔“
یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابوالفضل تم جھوٹ کہتے ہو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط باندھتا ہوں۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آ گئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے یہ شرط قبول کر لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر اس کا ذکر کیا تو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا «بِضْعٌ» کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولاجاتا ہے۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو ۔
سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو! میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو۔ چنانچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آ گئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہربراز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آ گیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں۔
صفحہ نمبر6748
یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہربراز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کر کے اس کا سر میرے پاس بھیج دو۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ! تم اتنی جلدی نہ کرو۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات مند، دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے۔
بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فوراً تعمیل کرو۔ شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا اس نے اعلان کر دیا کہ شہربراز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کر دیا۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہربزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آ جائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہا کہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں۔ چنانچہ وہ تخت سے اتر گیا اور فرخان کو قبضہ دے دیا۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کر لی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا۔ شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے۔ اس نے منظور کر لیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لیے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہو گیا ذرا سوچ لے، ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فوراً تخت سے نیچے اترگیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنا دیا۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آ جائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے۔
صفحہ نمبر6749
قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لیے چل پڑا۔ لیکن احتیاطاً اپنے ساتھ پانچ ہزار سوار لے لیے، اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے۔ جاسوسوں نے آ کر خبر دی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں۔ چنانچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لیے۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے۔
وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جا کر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بے ہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا۔ خیمہ میں پہنچ کر شہربراز نے کہا اے بادشاہ روم! بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کر لیا ہے۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہم سے حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا، میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کر لیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آ جائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کر لی۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئیں جن کامطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کر دئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے۔ دونوں اس پر اتفاق کر کے کھڑے ہو گئے اور ہر ایک نے اپنی چھری سے اپنے ترجمان کا کام تمام کر دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کر دیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت خوش ہوئے۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27873:مرسل]
صفحہ نمبر6750
اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کر چکے ہیں سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں، یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے۔
دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی ہے وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہو جاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کر لیا۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا۔
صفحہ نمبر6751
یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی۔ اسی کو امانت کبریٰ کہا جاتا ہے۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے۔
یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئیں، ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا۔ جس قدر جی میں آئی کمی یا زیادتی اصل دین مسیح میں کی۔ اور اصل مذہب محرف و مبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا۔ صلیب کی پرستش شروع ہو گئی۔ خنزیر کو حلال کر لیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لیے جیسے عید صلیب،عید قدرس،عید غطاس وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) گرجے بنادئیے۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر نسطوریہ۔ یہ سب نسطور کے مقلد تھے۔
پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ ان کے بہتر (٧٢) فرقے ہوگئے۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا،بہت بڑا عالم تھا، دانائی زیرکی، دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کر لی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی۔
اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا۔
صفحہ نمبر6752
لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کر سکا۔
ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف حصہ سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کر لیجئے۔ کسریٰ اس پر راضی ہو گیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا۔ قیصر نے اسے قبول کر لیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کر سکتی۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کر لوں اور آپ کو سونپ دو۔ اس نے یہ درخواست منظور کرلی۔ اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لیے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جا رہا ہوں۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آ جاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کر لینا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے۔ اس نے قتل عام شروع کیا۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کر دیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کر لیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کر ڈالا۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اس کے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تو نے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کر دیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا۔
صفحہ نمبر6753
قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حیلہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کر سوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کٹی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسریٰ کے لشکر کے پاس سے گزریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گزر گیا ہے۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں۔
اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کر کے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آ گئے۔ فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آ گئے۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آ گئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
صفحہ نمبر6754
قرآن کریم میں لفظ «بِضْعٌ» کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ تمہیں احیتاطاً دس سال تک رکھنے چاہیئے تھے کیونکہ «بِضْعٌ» کے لفظ کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے ۔ [سنن ترمذي:3191،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس کے بعد «قَبْلُ» اور «بَعْدُ» پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ سے ہے کہ اس کے بعد حکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آ جائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سدی، ثوری اور ابوسعید رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں [سنن ترمذي:3192،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ]
ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ، زہری اور قتادۃ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے۔ بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چنانچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پہنچا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی معرفت بصریٰ کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابوسفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے۔ اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ابوسفیان نے کہا میں ہوں۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگریہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا۔
ابوسفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کر دیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقیناً میں جھوٹ بولتا۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے۔ مثلا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حسب نسب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و عادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ۔
ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے؟ ابوسفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بد عہدی، وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے؟ ابوسفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6755
لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہو چکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی، اس لیے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کر کے نذر کو پوری کرنے کے لیے روانہ ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لیے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔
صفحہ نمبر6756
خود قرآن میں موجود ہے کہ «لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ» ” ایمان والوں کے سب سے زیادہ دشمن یہود اور مشرک ہیں اور ان سے دوستیاں رکھنے میں سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں اس لیے کہ ان میں علماء اور درویش لوگ ہیں اور یہ متکبر نہیں۔ قرآن سن کر یہ رو دیتے ہیں کیونکہ حق کو جان لیتے ہیں پھر اقرار کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم ایمان لائے تو ہمیں بھی ماننے والوں میں کر لے “۔ [5-المائدة:82-83]
پس یہاں بھی یہی فرمایا کہ ” مسلمان اس دن خوش ہونگے جس دن اللہ تعالیٰ رومیوں کی مدد کرے گا وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے وہ بڑا غالب اور بہت مہربان ہے “۔
زبیر کلابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے فارسیوں کا رومیوں پر غالب آنا پھر رومیوں کا فارسیوں پر غالب آنا پھر روم اور فارس دونوں پر مسلمانوں کا غالب آنا اپنی آنکھوں سے پندرہ سال کے اندر دیکھا لیا۔ آخر آیت میں فرمایا ” اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے بدلہ اور انتقام لینے پر قادر اور اپنے دوستوں کی خطاؤں اور لغزشوں سے در گزر فرمانے والا ہے۔ جو خبر تمہیں دی ہے کہ رومی عنقریب فارسیوں پر غالب آ جائیں گے یہ اللہ کی خبر ہے رب کا وعدہ ہے پرودگار کا فیصلہ ہے۔ ناممکن ہے کہ غلط نکلے ٹل جائے یاخلاف ہو جائے۔ جو حق کے قریب ہو اسے بھی رب حق سے بہت دور والوں پر غالب رکھتے ہیں ہاں اللہ کی حکمتوں کو کم علم نہیں جان سکتے “۔
اکثر لوگ دنیا کا علم تو خوب رکھتے ہیں اس کی گھتیاں منٹوں میں سلجھا دیتے ہیں اس میں خوب دماغ دوڑاتے ہیں۔ اس کے برے بھلے نقصان کو پہچان لیتے ہیں بہ یک نگاہ اس کی اونچ نیچ دیکھ لیتے ہیں۔ دنیا کمانے کا پیسے جوڑنے کا خوب سلیقہ رکھتے ہیں لیکن امور دین میں اخروی کاموں میں محض جاہل غبی اور کم فہم ہوتے ہیں۔ یہاں نہ ذہن کام کرے نہ سمجھ پہنچ سکے نہ غورو فکر کی عادت۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں بہت سے ایسے بھی ہیں کہ نماز تک تو ٹھیک پڑھ نہیں سکتے لیکن درہم چٹکی میں لیتے ہی وزن بتا دیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دنیا کی آبادی اور رونق کی تو بیسیوں صورتیں ان کا ذہن گھڑ لیتا ہے۔ لیکن دین میں محض جاہل اور آخرت سے بالکل غافل ہیں۔“
صفحہ نمبر6757
معرکہ روم و فارس کا انجام ٭٭
یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آ گیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آ کر قسطنطیہ میں محصور ہو گیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آ رہا ہے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لیے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لیے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے جب یہ ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رومی عنقریب پھر غالب آ جائیں گے ۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کر لو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ خبر پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔“ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لیے لفظ «بِضْعٌ» استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آ گئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے ۔ [سنن ترمذي:3193،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
صفحہ نمبر6745
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ پانچ چیزیں گزرچکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا ۔ [صحیح بخاری:4767] ۔
اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شرط سات سال کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ «بِضْعٌ» کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں؟ جواب دیا کہ دس سے کم۔ فرمایا: پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو چنانچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27876:مرسل] ۔
اور روایت میں ہے کہ مشرکوں نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا مانتے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں“ اس پر شرط ٹھہری اور مدت گزر چکی اور رومی غالب نہ آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہوئے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟“ جواب ملا کہ ”اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کر کے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کر لو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے۔“ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھا کر شرط منظور کر لی۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آ گئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے۔ اور رومیہ کی بناء انہوں نے ڈال لی۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے قریش سے شرط کا مال لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو“ ۔ [ابو یعلی فی المسند الکبیر کما فی المطالب:5/9:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ اس میں ہےکہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے ۔ [سنن ترمذي:3194،قال الشيخ الألباني:حسن] ۔
صفحہ نمبر6746
ایک بہت عجیب وغریب قصہ امام سنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں۔ اب تم مشورہ کر لو کہ کسے سردار بناؤں؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو۔“
”بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز وشاداب ملک کو ویران وغارت کر دیا۔ اور اذرعات اور بصرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آ گئے۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے۔“
”کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں۔“
صفحہ نمبر6747
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے ”اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہمارے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے۔ اس بات کا یقین کر لو اس لیے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی ہے۔“
یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابوالفضل تم جھوٹ کہتے ہو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط باندھتا ہوں۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آ گئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے یہ شرط قبول کر لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر اس کا ذکر کیا تو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا «بِضْعٌ» کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولاجاتا ہے۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو ۔
سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو! میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو۔ چنانچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آ گئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہربراز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آ گیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں۔
صفحہ نمبر6748
یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہربراز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کر کے اس کا سر میرے پاس بھیج دو۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ! تم اتنی جلدی نہ کرو۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات مند، دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے۔
بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فوراً تعمیل کرو۔ شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا اس نے اعلان کر دیا کہ شہربراز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کر دیا۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہربزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آ جائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہا کہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں۔ چنانچہ وہ تخت سے اتر گیا اور فرخان کو قبضہ دے دیا۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کر لی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا۔ شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے۔ اس نے منظور کر لیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لیے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہو گیا ذرا سوچ لے، ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فوراً تخت سے نیچے اترگیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنا دیا۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آ جائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے۔
صفحہ نمبر6749
قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لیے چل پڑا۔ لیکن احتیاطاً اپنے ساتھ پانچ ہزار سوار لے لیے، اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے۔ جاسوسوں نے آ کر خبر دی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں۔ چنانچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لیے۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے۔
وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جا کر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بے ہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا۔ خیمہ میں پہنچ کر شہربراز نے کہا اے بادشاہ روم! بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کر لیا ہے۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہم سے حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا، میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کر لیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آ جائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کر لی۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئیں جن کامطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کر دئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے۔ دونوں اس پر اتفاق کر کے کھڑے ہو گئے اور ہر ایک نے اپنی چھری سے اپنے ترجمان کا کام تمام کر دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کر دیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت خوش ہوئے۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27873:مرسل]
صفحہ نمبر6750
اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کر چکے ہیں سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں، یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے۔
دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی ہے وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہو جاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کر لیا۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا۔
صفحہ نمبر6751
یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی۔ اسی کو امانت کبریٰ کہا جاتا ہے۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے۔
یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئیں، ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا۔ جس قدر جی میں آئی کمی یا زیادتی اصل دین مسیح میں کی۔ اور اصل مذہب محرف و مبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا۔ صلیب کی پرستش شروع ہو گئی۔ خنزیر کو حلال کر لیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لیے جیسے عید صلیب،عید قدرس،عید غطاس وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) گرجے بنادئیے۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر نسطوریہ۔ یہ سب نسطور کے مقلد تھے۔
پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ ان کے بہتر (٧٢) فرقے ہوگئے۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا،بہت بڑا عالم تھا، دانائی زیرکی، دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کر لی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی۔
اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا۔
صفحہ نمبر6752
لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کر سکا۔
ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف حصہ سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کر لیجئے۔ کسریٰ اس پر راضی ہو گیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا۔ قیصر نے اسے قبول کر لیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کر سکتی۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کر لوں اور آپ کو سونپ دو۔ اس نے یہ درخواست منظور کرلی۔ اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لیے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جا رہا ہوں۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آ جاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کر لینا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے۔ اس نے قتل عام شروع کیا۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کر دیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کر لیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کر ڈالا۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اس کے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تو نے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کر دیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا۔
صفحہ نمبر6753
قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حیلہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کر سوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کٹی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسریٰ کے لشکر کے پاس سے گزریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گزر گیا ہے۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں۔
اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کر کے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آ گئے۔ فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آ گئے۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آ گئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
صفحہ نمبر6754
قرآن کریم میں لفظ «بِضْعٌ» کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ تمہیں احیتاطاً دس سال تک رکھنے چاہیئے تھے کیونکہ «بِضْعٌ» کے لفظ کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے ۔ [سنن ترمذي:3191،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس کے بعد «قَبْلُ» اور «بَعْدُ» پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ سے ہے کہ اس کے بعد حکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آ جائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سدی، ثوری اور ابوسعید رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں [سنن ترمذي:3192،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ]
ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ، زہری اور قتادۃ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے۔ بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چنانچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پہنچا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی معرفت بصریٰ کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابوسفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے۔ اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ابوسفیان نے کہا میں ہوں۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگریہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا۔
ابوسفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کر دیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقیناً میں جھوٹ بولتا۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے۔ مثلا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حسب نسب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و عادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ۔
ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے؟ ابوسفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بد عہدی، وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے؟ ابوسفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6755
لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہو چکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی، اس لیے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کر کے نذر کو پوری کرنے کے لیے روانہ ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لیے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔
صفحہ نمبر6756
خود قرآن میں موجود ہے کہ «لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ» ” ایمان والوں کے سب سے زیادہ دشمن یہود اور مشرک ہیں اور ان سے دوستیاں رکھنے میں سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں اس لیے کہ ان میں علماء اور درویش لوگ ہیں اور یہ متکبر نہیں۔ قرآن سن کر یہ رو دیتے ہیں کیونکہ حق کو جان لیتے ہیں پھر اقرار کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم ایمان لائے تو ہمیں بھی ماننے والوں میں کر لے “۔ [5-المائدة:82-83]
پس یہاں بھی یہی فرمایا کہ ” مسلمان اس دن خوش ہونگے جس دن اللہ تعالیٰ رومیوں کی مدد کرے گا وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے وہ بڑا غالب اور بہت مہربان ہے “۔
زبیر کلابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے فارسیوں کا رومیوں پر غالب آنا پھر رومیوں کا فارسیوں پر غالب آنا پھر روم اور فارس دونوں پر مسلمانوں کا غالب آنا اپنی آنکھوں سے پندرہ سال کے اندر دیکھا لیا۔ آخر آیت میں فرمایا ” اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے بدلہ اور انتقام لینے پر قادر اور اپنے دوستوں کی خطاؤں اور لغزشوں سے در گزر فرمانے والا ہے۔ جو خبر تمہیں دی ہے کہ رومی عنقریب فارسیوں پر غالب آ جائیں گے یہ اللہ کی خبر ہے رب کا وعدہ ہے پرودگار کا فیصلہ ہے۔ ناممکن ہے کہ غلط نکلے ٹل جائے یاخلاف ہو جائے۔ جو حق کے قریب ہو اسے بھی رب حق سے بہت دور والوں پر غالب رکھتے ہیں ہاں اللہ کی حکمتوں کو کم علم نہیں جان سکتے “۔
اکثر لوگ دنیا کا علم تو خوب رکھتے ہیں اس کی گھتیاں منٹوں میں سلجھا دیتے ہیں اس میں خوب دماغ دوڑاتے ہیں۔ اس کے برے بھلے نقصان کو پہچان لیتے ہیں بہ یک نگاہ اس کی اونچ نیچ دیکھ لیتے ہیں۔ دنیا کمانے کا پیسے جوڑنے کا خوب سلیقہ رکھتے ہیں لیکن امور دین میں اخروی کاموں میں محض جاہل غبی اور کم فہم ہوتے ہیں۔ یہاں نہ ذہن کام کرے نہ سمجھ پہنچ سکے نہ غورو فکر کی عادت۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں بہت سے ایسے بھی ہیں کہ نماز تک تو ٹھیک پڑھ نہیں سکتے لیکن درہم چٹکی میں لیتے ہی وزن بتا دیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دنیا کی آبادی اور رونق کی تو بیسیوں صورتیں ان کا ذہن گھڑ لیتا ہے۔ لیکن دین میں محض جاہل اور آخرت سے بالکل غافل ہیں۔“
صفحہ نمبر6757
معرکہ روم و فارس کا انجام ٭٭
یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آ گیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آ کر قسطنطیہ میں محصور ہو گیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آ رہا ہے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لیے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لیے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے جب یہ ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رومی عنقریب پھر غالب آ جائیں گے ۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کر لو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ خبر پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔“ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لیے لفظ «بِضْعٌ» استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آ گئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے ۔ [سنن ترمذي:3193،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
صفحہ نمبر6745
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ پانچ چیزیں گزرچکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا ۔ [صحیح بخاری:4767] ۔
اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شرط سات سال کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ «بِضْعٌ» کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں؟ جواب دیا کہ دس سے کم۔ فرمایا: پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو چنانچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27876:مرسل] ۔
اور روایت میں ہے کہ مشرکوں نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا مانتے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں“ اس پر شرط ٹھہری اور مدت گزر چکی اور رومی غالب نہ آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہوئے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟“ جواب ملا کہ ”اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کر کے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کر لو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے۔“ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھا کر شرط منظور کر لی۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آ گئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے۔ اور رومیہ کی بناء انہوں نے ڈال لی۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے قریش سے شرط کا مال لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو“ ۔ [ابو یعلی فی المسند الکبیر کما فی المطالب:5/9:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ اس میں ہےکہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے ۔ [سنن ترمذي:3194،قال الشيخ الألباني:حسن] ۔
صفحہ نمبر6746
ایک بہت عجیب وغریب قصہ امام سنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں۔ اب تم مشورہ کر لو کہ کسے سردار بناؤں؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو۔“
”بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز وشاداب ملک کو ویران وغارت کر دیا۔ اور اذرعات اور بصرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آ گئے۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے۔“
”کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں۔“
صفحہ نمبر6747
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے ”اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہمارے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے۔ اس بات کا یقین کر لو اس لیے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی ہے۔“
یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابوالفضل تم جھوٹ کہتے ہو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط باندھتا ہوں۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آ گئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے یہ شرط قبول کر لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر اس کا ذکر کیا تو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا «بِضْعٌ» کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولاجاتا ہے۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو ۔
سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو! میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو۔ چنانچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آ گئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہربراز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آ گیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں۔
صفحہ نمبر6748
یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہربراز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کر کے اس کا سر میرے پاس بھیج دو۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ! تم اتنی جلدی نہ کرو۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات مند، دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے۔
بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فوراً تعمیل کرو۔ شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا اس نے اعلان کر دیا کہ شہربراز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کر دیا۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہربزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آ جائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہا کہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں۔ چنانچہ وہ تخت سے اتر گیا اور فرخان کو قبضہ دے دیا۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کر لی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا۔ شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے۔ اس نے منظور کر لیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لیے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہو گیا ذرا سوچ لے، ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فوراً تخت سے نیچے اترگیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنا دیا۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آ جائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے۔
صفحہ نمبر6749
قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لیے چل پڑا۔ لیکن احتیاطاً اپنے ساتھ پانچ ہزار سوار لے لیے، اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے۔ جاسوسوں نے آ کر خبر دی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں۔ چنانچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لیے۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے۔
وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جا کر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بے ہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا۔ خیمہ میں پہنچ کر شہربراز نے کہا اے بادشاہ روم! بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کر لیا ہے۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہم سے حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا، میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کر لیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آ جائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کر لی۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئیں جن کامطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کر دئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے۔ دونوں اس پر اتفاق کر کے کھڑے ہو گئے اور ہر ایک نے اپنی چھری سے اپنے ترجمان کا کام تمام کر دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کر دیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت خوش ہوئے۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27873:مرسل]
صفحہ نمبر6750
اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کر چکے ہیں سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں، یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے۔
دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی ہے وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہو جاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کر لیا۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا۔
صفحہ نمبر6751
یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی۔ اسی کو امانت کبریٰ کہا جاتا ہے۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے۔
یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئیں، ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا۔ جس قدر جی میں آئی کمی یا زیادتی اصل دین مسیح میں کی۔ اور اصل مذہب محرف و مبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا۔ صلیب کی پرستش شروع ہو گئی۔ خنزیر کو حلال کر لیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لیے جیسے عید صلیب،عید قدرس،عید غطاس وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) گرجے بنادئیے۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر نسطوریہ۔ یہ سب نسطور کے مقلد تھے۔
پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ ان کے بہتر (٧٢) فرقے ہوگئے۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا،بہت بڑا عالم تھا، دانائی زیرکی، دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کر لی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی۔
اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا۔
صفحہ نمبر6752
لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کر سکا۔
ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف حصہ سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کر لیجئے۔ کسریٰ اس پر راضی ہو گیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا۔ قیصر نے اسے قبول کر لیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کر سکتی۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کر لوں اور آپ کو سونپ دو۔ اس نے یہ درخواست منظور کرلی۔ اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لیے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جا رہا ہوں۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آ جاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کر لینا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے۔ اس نے قتل عام شروع کیا۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کر دیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کر لیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کر ڈالا۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اس کے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تو نے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کر دیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا۔
صفحہ نمبر6753
قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حیلہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کر سوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کٹی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسریٰ کے لشکر کے پاس سے گزریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گزر گیا ہے۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں۔
اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کر کے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آ گئے۔ فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آ گئے۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آ گئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔
صفحہ نمبر6754
قرآن کریم میں لفظ «بِضْعٌ» کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ تمہیں احیتاطاً دس سال تک رکھنے چاہیئے تھے کیونکہ «بِضْعٌ» کے لفظ کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے ۔ [سنن ترمذي:3191،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس کے بعد «قَبْلُ» اور «بَعْدُ» پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ سے ہے کہ اس کے بعد حکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آ جائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آ گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سدی، ثوری اور ابوسعید رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں [سنن ترمذي:3192،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ]
ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ، زہری اور قتادۃ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے۔ بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چنانچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پہنچا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی معرفت بصریٰ کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابوسفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے۔ اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ابوسفیان نے کہا میں ہوں۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگریہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا۔
ابوسفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کر دیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقیناً میں جھوٹ بولتا۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے۔ مثلا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حسب نسب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و عادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ۔
ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے؟ ابوسفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بد عہدی، وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے؟ ابوسفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6755
لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہو چکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی، اس لیے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کر کے نذر کو پوری کرنے کے لیے روانہ ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لیے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔
صفحہ نمبر6756
خود قرآن میں موجود ہے کہ «لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ» ” ایمان والوں کے سب سے زیادہ دشمن یہود اور مشرک ہیں اور ان سے دوستیاں رکھنے میں سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں اس لیے کہ ان میں علماء اور درویش لوگ ہیں اور یہ متکبر نہیں۔ قرآن سن کر یہ رو دیتے ہیں کیونکہ حق کو جان لیتے ہیں پھر اقرار کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم ایمان لائے تو ہمیں بھی ماننے والوں میں کر لے “۔ [5-المائدة:82-83]
پس یہاں بھی یہی فرمایا کہ ” مسلمان اس دن خوش ہونگے جس دن اللہ تعالیٰ رومیوں کی مدد کرے گا وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے وہ بڑا غالب اور بہت مہربان ہے “۔
زبیر کلابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے فارسیوں کا رومیوں پر غالب آنا پھر رومیوں کا فارسیوں پر غالب آنا پھر روم اور فارس دونوں پر مسلمانوں کا غالب آنا اپنی آنکھوں سے پندرہ سال کے اندر دیکھا لیا۔ آخر آیت میں فرمایا ” اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے بدلہ اور انتقام لینے پر قادر اور اپنے دوستوں کی خطاؤں اور لغزشوں سے در گزر فرمانے والا ہے۔ جو خبر تمہیں دی ہے کہ رومی عنقریب فارسیوں پر غالب آ جائیں گے یہ اللہ کی خبر ہے رب کا وعدہ ہے پرودگار کا فیصلہ ہے۔ ناممکن ہے کہ غلط نکلے ٹل جائے یاخلاف ہو جائے۔ جو حق کے قریب ہو اسے بھی رب حق سے بہت دور والوں پر غالب رکھتے ہیں ہاں اللہ کی حکمتوں کو کم علم نہیں جان سکتے “۔
اکثر لوگ دنیا کا علم تو خوب رکھتے ہیں اس کی گھتیاں منٹوں میں سلجھا دیتے ہیں اس میں خوب دماغ دوڑاتے ہیں۔ اس کے برے بھلے نقصان کو پہچان لیتے ہیں بہ یک نگاہ اس کی اونچ نیچ دیکھ لیتے ہیں۔ دنیا کمانے کا پیسے جوڑنے کا خوب سلیقہ رکھتے ہیں لیکن امور دین میں اخروی کاموں میں محض جاہل غبی اور کم فہم ہوتے ہیں۔ یہاں نہ ذہن کام کرے نہ سمجھ پہنچ سکے نہ غورو فکر کی عادت۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں بہت سے ایسے بھی ہیں کہ نماز تک تو ٹھیک پڑھ نہیں سکتے لیکن درہم چٹکی میں لیتے ہی وزن بتا دیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دنیا کی آبادی اور رونق کی تو بیسیوں صورتیں ان کا ذہن گھڑ لیتا ہے۔ لیکن دین میں محض جاہل اور آخرت سے بالکل غافل ہیں۔“
صفحہ نمبر6757
کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے ٭٭
چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ ” موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو “۔
کبھی عالم علوی کو دیکھو، کبھی عالم سفلی پر نظر ڈال، کبھی اور مخلوقات کی پیدائش کو سوچو اور سمجھو کہ یہ چیزیں عبث اور بے کار پیدا نہیں کی گئیں۔ بلکہ رب نے انہیں کارآمد اور نشان قدرت بنایا ہے۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے یعنی قیامت کا دن۔ جسے اکثر لوگ مانتے ہی نہیں۔ اس کے بعد نبیوں کی صداقت کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ ” دیکھ لو ان کے مخالفین کا کس قدر عبرتناک انجام ہوا؟ اور ان کے ماننے والوں کو کس طرح دونوں جہاں کی عزت ملی؟ تم چل پھر کر اگلے واقعات معلوم کرو کہ گزشتہ امتیں جو تم سے زیادہ زور آور تھیں تم سے زیادہ مال و زر والی تھیں تم سے کنبے قبیلے اور بیٹے پوتے والی تھیں تم تو ان کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے وہ تم سے زیادہ عمر والے تھے۔ تم سے زیادہ آبادیاں انہوں نے کیں، تم سے زیادہ کھیتیاں اور باغات ان کے تھے اس کے باوجود جب ان کے پاس اس زمانے کے رسول آئے انہوں نے دلیلیں اور معجزے دکھائے اور پھر بھی اس زمانے کے ان بدنصیبوں نے ان کی نہ مانی اور اپنے خیالات میں مستغرق رہے اور سیاہ کاریوں میں مشغول رہے تو بالآخر عذاب اللہ ان پر برس پڑے “۔
اس وقت کوئی نہ تھا جو انہیں بچا سکے یا کسی عذاب کو ان پر سے ہٹا سکے۔ اللہ کی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ظلم کرے۔
صفحہ نمبر6764
یہ عذاب تو ان کے اپنے کرتوتوں کا وبال تھا۔ یہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے رب کی باتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [6-الأنعام:110] ” ان کی بےایمانی کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں کو ان کی نگاہوں کو پھیر دیا اور انہیں ان کی سرکشی میں ہی حیران چھوڑ دیا ہے “۔
اور آیت میں ہے «فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ» [61-الصف:5] ” ان کی کجی کی وجہ سے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دئیے “ اور اس آیت میں ہے کہ «فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ» [5-المائدة:49] ” اگر اب بھی منہ موڑیں تو سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض گناہوں پر ان کی پکڑ کرنے کا ارادہ کرچکا ہے “۔
اس بناء پر «اَلسُّوایٰ» منصوب ہو گا «اَسَاءُ» کا مفعول ہو کر۔ اور یہ بھی قول ہے کہ «سُّوایٰ» یہاں پر اس طرح واقع ہے کہ برائی ان کا انجام ہوئی۔ اس لیے کہ وہ آیات اللہ کے جھٹلانے والے اور ان کا مذاق اڑانے والے تھے۔ تو اس معنی کی رو سے یہ لفظ منصوب ہو گا «کَان» کی خبر ہو کر۔
امام ابن جریررحمہ اللہ نے یہی توجیہہ بیان کی ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور قتادۃ رحمہ اللہ سے نقل بھی کی ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور ظاہر بھی یہی ہے کیونکہ اس کے بعد آیت «ووَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ» [30- الروم:10] ہے۔
صفحہ نمبر6765
کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے ٭٭
چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ ” موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو “۔
کبھی عالم علوی کو دیکھو، کبھی عالم سفلی پر نظر ڈال، کبھی اور مخلوقات کی پیدائش کو سوچو اور سمجھو کہ یہ چیزیں عبث اور بے کار پیدا نہیں کی گئیں۔ بلکہ رب نے انہیں کارآمد اور نشان قدرت بنایا ہے۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے یعنی قیامت کا دن۔ جسے اکثر لوگ مانتے ہی نہیں۔ اس کے بعد نبیوں کی صداقت کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ ” دیکھ لو ان کے مخالفین کا کس قدر عبرتناک انجام ہوا؟ اور ان کے ماننے والوں کو کس طرح دونوں جہاں کی عزت ملی؟ تم چل پھر کر اگلے واقعات معلوم کرو کہ گزشتہ امتیں جو تم سے زیادہ زور آور تھیں تم سے زیادہ مال و زر والی تھیں تم سے کنبے قبیلے اور بیٹے پوتے والی تھیں تم تو ان کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے وہ تم سے زیادہ عمر والے تھے۔ تم سے زیادہ آبادیاں انہوں نے کیں، تم سے زیادہ کھیتیاں اور باغات ان کے تھے اس کے باوجود جب ان کے پاس اس زمانے کے رسول آئے انہوں نے دلیلیں اور معجزے دکھائے اور پھر بھی اس زمانے کے ان بدنصیبوں نے ان کی نہ مانی اور اپنے خیالات میں مستغرق رہے اور سیاہ کاریوں میں مشغول رہے تو بالآخر عذاب اللہ ان پر برس پڑے “۔
اس وقت کوئی نہ تھا جو انہیں بچا سکے یا کسی عذاب کو ان پر سے ہٹا سکے۔ اللہ کی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ظلم کرے۔
صفحہ نمبر6764
یہ عذاب تو ان کے اپنے کرتوتوں کا وبال تھا۔ یہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے رب کی باتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [6-الأنعام:110] ” ان کی بےایمانی کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں کو ان کی نگاہوں کو پھیر دیا اور انہیں ان کی سرکشی میں ہی حیران چھوڑ دیا ہے “۔
اور آیت میں ہے «فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ» [61-الصف:5] ” ان کی کجی کی وجہ سے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دئیے “ اور اس آیت میں ہے کہ «فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ» [5-المائدة:49] ” اگر اب بھی منہ موڑیں تو سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض گناہوں پر ان کی پکڑ کرنے کا ارادہ کرچکا ہے “۔
اس بناء پر «اَلسُّوایٰ» منصوب ہو گا «اَسَاءُ» کا مفعول ہو کر۔ اور یہ بھی قول ہے کہ «سُّوایٰ» یہاں پر اس طرح واقع ہے کہ برائی ان کا انجام ہوئی۔ اس لیے کہ وہ آیات اللہ کے جھٹلانے والے اور ان کا مذاق اڑانے والے تھے۔ تو اس معنی کی رو سے یہ لفظ منصوب ہو گا «کَان» کی خبر ہو کر۔
امام ابن جریررحمہ اللہ نے یہی توجیہہ بیان کی ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور قتادۃ رحمہ اللہ سے نقل بھی کی ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور ظاہر بھی یہی ہے کیونکہ اس کے بعد آیت «ووَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ» [30- الروم:10] ہے۔
صفحہ نمبر6765
کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے ٭٭
چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ ” موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو “۔
کبھی عالم علوی کو دیکھو، کبھی عالم سفلی پر نظر ڈال، کبھی اور مخلوقات کی پیدائش کو سوچو اور سمجھو کہ یہ چیزیں عبث اور بے کار پیدا نہیں کی گئیں۔ بلکہ رب نے انہیں کارآمد اور نشان قدرت بنایا ہے۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے یعنی قیامت کا دن۔ جسے اکثر لوگ مانتے ہی نہیں۔ اس کے بعد نبیوں کی صداقت کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ ” دیکھ لو ان کے مخالفین کا کس قدر عبرتناک انجام ہوا؟ اور ان کے ماننے والوں کو کس طرح دونوں جہاں کی عزت ملی؟ تم چل پھر کر اگلے واقعات معلوم کرو کہ گزشتہ امتیں جو تم سے زیادہ زور آور تھیں تم سے زیادہ مال و زر والی تھیں تم سے کنبے قبیلے اور بیٹے پوتے والی تھیں تم تو ان کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے وہ تم سے زیادہ عمر والے تھے۔ تم سے زیادہ آبادیاں انہوں نے کیں، تم سے زیادہ کھیتیاں اور باغات ان کے تھے اس کے باوجود جب ان کے پاس اس زمانے کے رسول آئے انہوں نے دلیلیں اور معجزے دکھائے اور پھر بھی اس زمانے کے ان بدنصیبوں نے ان کی نہ مانی اور اپنے خیالات میں مستغرق رہے اور سیاہ کاریوں میں مشغول رہے تو بالآخر عذاب اللہ ان پر برس پڑے “۔
اس وقت کوئی نہ تھا جو انہیں بچا سکے یا کسی عذاب کو ان پر سے ہٹا سکے۔ اللہ کی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ظلم کرے۔
صفحہ نمبر6764
یہ عذاب تو ان کے اپنے کرتوتوں کا وبال تھا۔ یہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے رب کی باتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [6-الأنعام:110] ” ان کی بےایمانی کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں کو ان کی نگاہوں کو پھیر دیا اور انہیں ان کی سرکشی میں ہی حیران چھوڑ دیا ہے “۔
اور آیت میں ہے «فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ» [61-الصف:5] ” ان کی کجی کی وجہ سے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دئیے “ اور اس آیت میں ہے کہ «فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ» [5-المائدة:49] ” اگر اب بھی منہ موڑیں تو سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض گناہوں پر ان کی پکڑ کرنے کا ارادہ کرچکا ہے “۔
اس بناء پر «اَلسُّوایٰ» منصوب ہو گا «اَسَاءُ» کا مفعول ہو کر۔ اور یہ بھی قول ہے کہ «سُّوایٰ» یہاں پر اس طرح واقع ہے کہ برائی ان کا انجام ہوئی۔ اس لیے کہ وہ آیات اللہ کے جھٹلانے والے اور ان کا مذاق اڑانے والے تھے۔ تو اس معنی کی رو سے یہ لفظ منصوب ہو گا «کَان» کی خبر ہو کر۔
امام ابن جریررحمہ اللہ نے یہی توجیہہ بیان کی ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور قتادۃ رحمہ اللہ سے نقل بھی کی ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور ظاہر بھی یہی ہے کیونکہ اس کے بعد آیت «ووَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ» [30- الروم:10] ہے۔
صفحہ نمبر6765
اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭
فرمان باری ہے کہ ” سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو “۔
وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔
پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ” نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے “۔
صفحہ نمبر6768
اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭
فرمان باری ہے کہ ” سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو “۔
وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔
پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ” نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے “۔
صفحہ نمبر6768
اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭
فرمان باری ہے کہ ” سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو “۔
وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔
پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ” نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے “۔
صفحہ نمبر6768
اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭
فرمان باری ہے کہ ” سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو “۔
وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔
پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ” نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے “۔
صفحہ نمبر6768
اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭
فرمان باری ہے کہ ” سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو “۔
وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔
پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ” نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے “۔
صفحہ نمبر6768
اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭
فرمان باری ہے کہ ” سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو “۔
وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔
پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ” نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے “۔
صفحہ نمبر6768
خالق کل مقتدر کل ہے ٭٭
اس رب تعالیٰ کی کمال قدرت اور عظمت سلطنت پر دلالت اس کی تسبیح اور اس کی حمد سے ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہبری کرتا ہے اور اپنا پاک ہونا اور قابل حمد ہونا بھی بیان فرما رہا ہے۔ شام کے وقت جبکہ رات اپنے اندھیروں کو لے آتی ہے اور صبح کے وقت جبکہ دن اپنی روشنیوں کو لے آتا ہے۔ اتنا بیان فرما کر اس کے بعد کاجملہ بیان فرمانے سے پہلے ہی یہ بھی ظاہر کر دیا کہ زمین و آسمان میں قابل حمد و ثناء وہی ہے ان کی پیدائش خود اس کی بزرگی پر دلیل ہے۔
پھر صبح شام کے وقتوں کی تسبیح کا بیان جو پہلے گزرا تھا اس کے ساتھ عشاء اور ظہر کا وقت ملالیا۔ جو پور ے اندھیرے اور کامل اجالے کا وقت ہوتا ہے۔ بیشک تمام تر پاکیزگی اسی کو سزاوار ہے جو رات کے اندھیروں کو اور دن کے اجالوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا» [6-الأنعام:96] ” صبح کا ظاہر کرنے والا رات کو سکون والی بنانے والا وہی ہے “۔
اس جیسی آیتیں اور بھی بہت سی ہیں۔ آیت «النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:-4-3] اور «ووَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» [92-الليل:-2-1] ٰ اور «وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى» [93-الضحى:2-1] وغیرہ۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کا نام خلیل (وفادار) کیوں رکھا؟ اس لیے کہ وہ صبح شام ان کلمات کو پڑھاکرتے تھے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» [30-الروم:17] سے «وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ» [30-الروم:18] تک کی دونوں آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [مسند احمد:439/3:ضعیف]
طبرانی کی حدیث میں ان دونوں آیتوں کی نسبت ہے کہ جس نے صبح و شام یہ پڑھ لیں اس نے دن رات میں جو چیز چھوٹ گئی اسے پا لیا ۔ [سنن ابوداود:5076،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔
پھر بیان فرمایا کہ ” موت وزیست کا خالق مردوں سے زندوں کو اور زندوں سے مردوں کو نکالنے والا وہی ہے “۔ ہر شئے پر اور اس کی ضد پر وہ قادر ہے دانے سے درخت، درخت سے دانے، مرغی سے انڈہ، انڈے سے مرغی، نطفے سے انسان، انسان سے نطفہ، مومن سے کافر، کافر سے مومن غرض ہرچیز اور اس کے مقابلہ کی چیز پر اسے قدرت حاصل ہے۔
خشک زمین کو وہی تر کردیتا ہے بنجر زمین سے وہی زراعت پیدا کرتا ہے جیسے سورۃ یاسین میں فرمایا کہ «وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ» ” خشک زمین کا تروتازہ ہو کرطرح طرح کے اناج وپھل پیدا کرنا بھی میری قدرت کا ایک کامل نشان ہے “ [36-يس:33-34] ۔
ایک اور آیت میں ہے «وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِي الْمَوْتَى وَأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ» [22-الحج:5-7] ” تمہارے دیکھتے ہوئے اس زمین کو جس میں سے دھواں اٹھتا ہو دو بوند سے تر کر کے میں لہلہا دیتا ہوں اور ہر قسم کی پیداوار سے اسے سرسبز کر دیتا ہوں “۔
اور بھی بہت سی آیتوں میں اس مضمون کو کہیں مفصل کہیں مجمل بیان فرمایا۔ یہاں فرمایا ” اسی طرح تم سب بھی مرنے کے بعد قبروں میں سے زندہ کر کے کھڑے کر دئیے جاؤ گے “۔
صفحہ نمبر6774
خالق کل مقتدر کل ہے ٭٭
اس رب تعالیٰ کی کمال قدرت اور عظمت سلطنت پر دلالت اس کی تسبیح اور اس کی حمد سے ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہبری کرتا ہے اور اپنا پاک ہونا اور قابل حمد ہونا بھی بیان فرما رہا ہے۔ شام کے وقت جبکہ رات اپنے اندھیروں کو لے آتی ہے اور صبح کے وقت جبکہ دن اپنی روشنیوں کو لے آتا ہے۔ اتنا بیان فرما کر اس کے بعد کاجملہ بیان فرمانے سے پہلے ہی یہ بھی ظاہر کر دیا کہ زمین و آسمان میں قابل حمد و ثناء وہی ہے ان کی پیدائش خود اس کی بزرگی پر دلیل ہے۔
پھر صبح شام کے وقتوں کی تسبیح کا بیان جو پہلے گزرا تھا اس کے ساتھ عشاء اور ظہر کا وقت ملالیا۔ جو پور ے اندھیرے اور کامل اجالے کا وقت ہوتا ہے۔ بیشک تمام تر پاکیزگی اسی کو سزاوار ہے جو رات کے اندھیروں کو اور دن کے اجالوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا» [6-الأنعام:96] ” صبح کا ظاہر کرنے والا رات کو سکون والی بنانے والا وہی ہے “۔
اس جیسی آیتیں اور بھی بہت سی ہیں۔ آیت «النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:-4-3] اور «ووَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» [92-الليل:-2-1] ٰ اور «وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى» [93-الضحى:2-1] وغیرہ۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کا نام خلیل (وفادار) کیوں رکھا؟ اس لیے کہ وہ صبح شام ان کلمات کو پڑھاکرتے تھے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» [30-الروم:17] سے «وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ» [30-الروم:18] تک کی دونوں آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [مسند احمد:439/3:ضعیف]
طبرانی کی حدیث میں ان دونوں آیتوں کی نسبت ہے کہ جس نے صبح و شام یہ پڑھ لیں اس نے دن رات میں جو چیز چھوٹ گئی اسے پا لیا ۔ [سنن ابوداود:5076،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔
پھر بیان فرمایا کہ ” موت وزیست کا خالق مردوں سے زندوں کو اور زندوں سے مردوں کو نکالنے والا وہی ہے “۔ ہر شئے پر اور اس کی ضد پر وہ قادر ہے دانے سے درخت، درخت سے دانے، مرغی سے انڈہ، انڈے سے مرغی، نطفے سے انسان، انسان سے نطفہ، مومن سے کافر، کافر سے مومن غرض ہرچیز اور اس کے مقابلہ کی چیز پر اسے قدرت حاصل ہے۔
خشک زمین کو وہی تر کردیتا ہے بنجر زمین سے وہی زراعت پیدا کرتا ہے جیسے سورۃ یاسین میں فرمایا کہ «وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ» ” خشک زمین کا تروتازہ ہو کرطرح طرح کے اناج وپھل پیدا کرنا بھی میری قدرت کا ایک کامل نشان ہے “ [36-يس:33-34] ۔
ایک اور آیت میں ہے «وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِي الْمَوْتَى وَأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ» [22-الحج:5-7] ” تمہارے دیکھتے ہوئے اس زمین کو جس میں سے دھواں اٹھتا ہو دو بوند سے تر کر کے میں لہلہا دیتا ہوں اور ہر قسم کی پیداوار سے اسے سرسبز کر دیتا ہوں “۔
اور بھی بہت سی آیتوں میں اس مضمون کو کہیں مفصل کہیں مجمل بیان فرمایا۔ یہاں فرمایا ” اسی طرح تم سب بھی مرنے کے بعد قبروں میں سے زندہ کر کے کھڑے کر دئیے جاؤ گے “۔
صفحہ نمبر6774
خالق کل مقتدر کل ہے ٭٭
اس رب تعالیٰ کی کمال قدرت اور عظمت سلطنت پر دلالت اس کی تسبیح اور اس کی حمد سے ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہبری کرتا ہے اور اپنا پاک ہونا اور قابل حمد ہونا بھی بیان فرما رہا ہے۔ شام کے وقت جبکہ رات اپنے اندھیروں کو لے آتی ہے اور صبح کے وقت جبکہ دن اپنی روشنیوں کو لے آتا ہے۔ اتنا بیان فرما کر اس کے بعد کاجملہ بیان فرمانے سے پہلے ہی یہ بھی ظاہر کر دیا کہ زمین و آسمان میں قابل حمد و ثناء وہی ہے ان کی پیدائش خود اس کی بزرگی پر دلیل ہے۔
پھر صبح شام کے وقتوں کی تسبیح کا بیان جو پہلے گزرا تھا اس کے ساتھ عشاء اور ظہر کا وقت ملالیا۔ جو پور ے اندھیرے اور کامل اجالے کا وقت ہوتا ہے۔ بیشک تمام تر پاکیزگی اسی کو سزاوار ہے جو رات کے اندھیروں کو اور دن کے اجالوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا» [6-الأنعام:96] ” صبح کا ظاہر کرنے والا رات کو سکون والی بنانے والا وہی ہے “۔
اس جیسی آیتیں اور بھی بہت سی ہیں۔ آیت «النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:-4-3] اور «ووَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» [92-الليل:-2-1] ٰ اور «وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى» [93-الضحى:2-1] وغیرہ۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کا نام خلیل (وفادار) کیوں رکھا؟ اس لیے کہ وہ صبح شام ان کلمات کو پڑھاکرتے تھے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» [30-الروم:17] سے «وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ» [30-الروم:18] تک کی دونوں آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [مسند احمد:439/3:ضعیف]
طبرانی کی حدیث میں ان دونوں آیتوں کی نسبت ہے کہ جس نے صبح و شام یہ پڑھ لیں اس نے دن رات میں جو چیز چھوٹ گئی اسے پا لیا ۔ [سنن ابوداود:5076،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔
پھر بیان فرمایا کہ ” موت وزیست کا خالق مردوں سے زندوں کو اور زندوں سے مردوں کو نکالنے والا وہی ہے “۔ ہر شئے پر اور اس کی ضد پر وہ قادر ہے دانے سے درخت، درخت سے دانے، مرغی سے انڈہ، انڈے سے مرغی، نطفے سے انسان، انسان سے نطفہ، مومن سے کافر، کافر سے مومن غرض ہرچیز اور اس کے مقابلہ کی چیز پر اسے قدرت حاصل ہے۔
خشک زمین کو وہی تر کردیتا ہے بنجر زمین سے وہی زراعت پیدا کرتا ہے جیسے سورۃ یاسین میں فرمایا کہ «وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ» ” خشک زمین کا تروتازہ ہو کرطرح طرح کے اناج وپھل پیدا کرنا بھی میری قدرت کا ایک کامل نشان ہے “ [36-يس:33-34] ۔
ایک اور آیت میں ہے «وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِي الْمَوْتَى وَأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ» [22-الحج:5-7] ” تمہارے دیکھتے ہوئے اس زمین کو جس میں سے دھواں اٹھتا ہو دو بوند سے تر کر کے میں لہلہا دیتا ہوں اور ہر قسم کی پیداوار سے اسے سرسبز کر دیتا ہوں “۔
اور بھی بہت سی آیتوں میں اس مضمون کو کہیں مفصل کہیں مجمل بیان فرمایا۔ یہاں فرمایا ” اسی طرح تم سب بھی مرنے کے بعد قبروں میں سے زندہ کر کے کھڑے کر دئیے جاؤ گے “۔
صفحہ نمبر6774
بتدریج نظام حیات ٭٭
فرماتا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بے شمار نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے باپ آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ تم سب کو اس نے بے وقعت پانی کے قطرے سے پیدا کیا “۔
پھر تمہاری بہت اچھی صورتیں بنائیں نطفے سے خون بستہ کی شکل میں پھر گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں ڈھال کر پھر ہڈیاں بنائیں اور ہڈیوں کو گوشت پہنایا۔ پھر روح پھونکی، آنکھ، کان، ناک پیدا کئے ماں کے پیٹ سے سلامتی سے نکالا، پھر کمزوری کو قوت سے بدلا، دن بدن طاقتور اور مضبوط قد آور، زور آور کیا، عمر دی حرکت وسکون کی طاقت دی اسباب اور آلات دئیے اور مخلوق کا سردار بنایا اور ادھر سے ادھر پہنچنے کے ذرائع دئیے۔ سمندروں کی زمین کی مختلف سواریاں عطا فرمائیں عقل سوچ سمجھ تدبر غور کے لیے دل ودماغ عطا فرمائے۔ دنیاوی کام سمجھائے رزق عزت حاصل کرنے لے طریقے کھول دئیے۔ ساتھ ہی آخرت کو سنوارنے کا علم اور دنیاوی علم بھی سکھایا۔ پاک ہے وہ اللہ جو ہرچیز کا صحیح اندازہ کرتا ہے ہر ایک کو ایک مرتبے پر رکھتا ہے۔ شکل و صورت میں بول چال میں امیری فقیری میں عقل وہنر میں بھلائی برائی میں سعادت وشقات میں ہر ایک کو جداگانہ کر دیا۔ تاکہ ہر شخص رب کی بہت سی نشانیاں اپنے میں اور دوسرے میں دیکھ لے۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمام زمین سے ایک مٹھی مٹی کی لے کر اس سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ پس زمین کے مختلف حصوں کی طرح اولاد آدم کی مختلف رنگتیں ہوئیں۔ کوئی سفید کوئی سرخ کوئی سیاہ کوئی خبیث کوئی طیب کوئی خوش خلق کوئی بدخلق وغیرہ ۔ [سنن ابوداود:4693،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر6777
پھر فرماتا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی قدرت یہ بھی ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے جوڑے بنائے کہ وہ تمہاری بیویاں بنتی ہیں اور تم ان کے خاوند ہوتے ہو۔ یہ اس لیے کہ تمہیں ان سے سکوں و راحت آرام وآسائش حاصل ہو “۔
جیسے ایک اور آیت میں ہے «هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا» [7-الأعراف:189] ” اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیویاں پیدا کی تاکہ وہ اس کی طرف راحت حاصل کرے “۔
حواء رضی اللہ عنہا آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے جو سب سے زیادہ چھوٹی ہے پیدا ہوئی ہیں پس اگر انسان کا جوڑا انسان سے نہ ملتا اور کسی اور جنس سے ان کا جوڑا بندھتا تو موجودہ الفت و رحمت ان میں نہ ہو سکتی۔ یہ پیار اخلاص یک جنسی کی وجہ سے ہے۔ ان میں آپس میں محبت مودت رحمت الفت پیار اخلاص رحم اور مہربانی ڈال دی پس مرد یا تو محبت کی وجہ سے عورت کی خبر گیری کرتا ہے یا غم کھا کر اس کا خیال رکھتا ہے۔ اس لیے کہ اس سے اولاد ہو چکی ہے اس کی پرورش ان دونوں کے میل ملاپ پر موقوف ہے۔ الغرض بہت سی وجوہات رب العلمین نے رکھ دی ہیں۔ جن کے باعث انسان با آرام اپنے جوڑے کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ یہ بھی رب کی مہربانی اور اس کی قدرت کاملہ کی ایک زبردست نشانی ہے۔ ادنٰی غور سے انسان کا ذہن اس تک پہنچ جاتا ہے۔
صفحہ نمبر6778
بتدریج نظام حیات ٭٭
فرماتا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بے شمار نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے باپ آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ تم سب کو اس نے بے وقعت پانی کے قطرے سے پیدا کیا “۔
پھر تمہاری بہت اچھی صورتیں بنائیں نطفے سے خون بستہ کی شکل میں پھر گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں ڈھال کر پھر ہڈیاں بنائیں اور ہڈیوں کو گوشت پہنایا۔ پھر روح پھونکی، آنکھ، کان، ناک پیدا کئے ماں کے پیٹ سے سلامتی سے نکالا، پھر کمزوری کو قوت سے بدلا، دن بدن طاقتور اور مضبوط قد آور، زور آور کیا، عمر دی حرکت وسکون کی طاقت دی اسباب اور آلات دئیے اور مخلوق کا سردار بنایا اور ادھر سے ادھر پہنچنے کے ذرائع دئیے۔ سمندروں کی زمین کی مختلف سواریاں عطا فرمائیں عقل سوچ سمجھ تدبر غور کے لیے دل ودماغ عطا فرمائے۔ دنیاوی کام سمجھائے رزق عزت حاصل کرنے لے طریقے کھول دئیے۔ ساتھ ہی آخرت کو سنوارنے کا علم اور دنیاوی علم بھی سکھایا۔ پاک ہے وہ اللہ جو ہرچیز کا صحیح اندازہ کرتا ہے ہر ایک کو ایک مرتبے پر رکھتا ہے۔ شکل و صورت میں بول چال میں امیری فقیری میں عقل وہنر میں بھلائی برائی میں سعادت وشقات میں ہر ایک کو جداگانہ کر دیا۔ تاکہ ہر شخص رب کی بہت سی نشانیاں اپنے میں اور دوسرے میں دیکھ لے۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمام زمین سے ایک مٹھی مٹی کی لے کر اس سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ پس زمین کے مختلف حصوں کی طرح اولاد آدم کی مختلف رنگتیں ہوئیں۔ کوئی سفید کوئی سرخ کوئی سیاہ کوئی خبیث کوئی طیب کوئی خوش خلق کوئی بدخلق وغیرہ ۔ [سنن ابوداود:4693،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر6777
پھر فرماتا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی قدرت یہ بھی ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے جوڑے بنائے کہ وہ تمہاری بیویاں بنتی ہیں اور تم ان کے خاوند ہوتے ہو۔ یہ اس لیے کہ تمہیں ان سے سکوں و راحت آرام وآسائش حاصل ہو “۔
جیسے ایک اور آیت میں ہے «هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا» [7-الأعراف:189] ” اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیویاں پیدا کی تاکہ وہ اس کی طرف راحت حاصل کرے “۔
حواء رضی اللہ عنہا آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے جو سب سے زیادہ چھوٹی ہے پیدا ہوئی ہیں پس اگر انسان کا جوڑا انسان سے نہ ملتا اور کسی اور جنس سے ان کا جوڑا بندھتا تو موجودہ الفت و رحمت ان میں نہ ہو سکتی۔ یہ پیار اخلاص یک جنسی کی وجہ سے ہے۔ ان میں آپس میں محبت مودت رحمت الفت پیار اخلاص رحم اور مہربانی ڈال دی پس مرد یا تو محبت کی وجہ سے عورت کی خبر گیری کرتا ہے یا غم کھا کر اس کا خیال رکھتا ہے۔ اس لیے کہ اس سے اولاد ہو چکی ہے اس کی پرورش ان دونوں کے میل ملاپ پر موقوف ہے۔ الغرض بہت سی وجوہات رب العلمین نے رکھ دی ہیں۔ جن کے باعث انسان با آرام اپنے جوڑے کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ یہ بھی رب کی مہربانی اور اس کی قدرت کاملہ کی ایک زبردست نشانی ہے۔ ادنٰی غور سے انسان کا ذہن اس تک پہنچ جاتا ہے۔
صفحہ نمبر6778
یہ رنگ یہ زبانیں اور وسیع تر کائنات ٭٭
رب العلمین اپنی زبردست قدرت کی ایک نشانی اور بیان فرماتا ہے کہ اس قدر بلند کشادہ آسمان کی پیدائش اس میں ستاروں کا جڑاؤ ان کی چمک دمک ان میں سے بعض کا چلتا پھرتا ہونا بعض کا ایکجا ثابت رہنا زمین کو ایک ٹھوس شکل میں بنانا اسے کثیف پیدا کرنا اس میں پہاڑ میدان جنگل دریا سمندر ٹیلے پتھر درخت وغیرہ جمادینا۔ خود تمہاری زبانوں میں رنگتوں میں اختلاف رکھنا عرب کی زبان تاتاریوں کی زبان، کر دوں، رومیوں، فرنگیوں، تکرونیوں، بربر، حبشیوں، ہندیوں، ایرانیوں، حقابلہ، آرمینوں، جزریوں اور اللہ جانے کتنی کتنی زبانیں زمین پر بنو آدم میں بولی جاتی ہیں۔
انسانی زبانوں کے اختلاف کے ساتھ ہی ان کی رنگتوں کا اختلاف بھی شان اللہ کا مظہر ہے۔ خیال تو فرمائیے کہ لاکھوں آدمی جمع ہو جائیں ایک کنبے قبیلے کے ایک ملک ایک زبان کے ہوں لیکن ناممکن ہے کہ ہر ایک میں کوئی نہ کوئی اختلاف نہ ہو۔ حالانکہ اعضائے بدن کے اعتبار سے کلی موافقت ہے۔ سب کی دو آنکھیں دو پلکیں ایک ناک دو دو کان ایک پیشانی ایک منہ دو ہونٹ دو رخسار وغیرہ لیکن تاہم ایک سے ایک علیحدہ ہے۔ کوئی نہ کوئی عادت خصلت کلام بات چیت طرز ادا ایسی ضرور ہو گی کہ جس میں ایک دوسرے کا امتیاز ہو جائے گو وہ بعض مرتبہ پوشیدہ سی اور ہلکی سی چیزیں ہی ہو۔ گو خوبصورتی اور بدصورتی میں کئی ایک یکساں نظر آئیں لیکن جب غور کیا جائے تو ہر ایک کو دوسرے سے ممتاز کرنے والا کوئی نہ کوئی وصف ضرور نظر آ جائے گا۔ ہر جاننے والا اتنی بڑی طاقتوں اور قوتوں کے مالک کو پہچان سکتا ہے اور اس صنعت سے صانع کو جان سکتا ہے۔ نیند بھی قدرت کی ایک نشانی ہے جس سے تھکان دور ہو جاتی ہے راحت وسکون حاصل ہوتا ہے اس کے لیے قدرت نے رات بنادی۔ کام کاج کے لیے دنیا حاصل کرنے کے لیے کمائی دھندے کے لیے تلاش معاش کے لیے اللہ نے دن کو پیدا کر دیا جو رات کے بالکل خلاف ہے۔ یقیناً سننے سمجھنے والوں کے لیے یہ چیزیں نشان قدرت ہیں۔ طبرانی میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ راتوں کو میری نیند اچاٹ ہوجایا کرتی تھی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا پڑھا کرو «اللَّهُمَّ غَارَتِ النُّجُومُ، وَهَدَأَتِ الْعُيُونُ، وَأَنْتَ حَيٌّ قَيُّومٌ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، أَنِمْ عَيْنِي وَ أَهْدِئْ لَيْلِي» میں نے جب اس دعا کو پڑھا تو نیند نہ آنے کی بیماری بفضل اللہ دور ہوگئی ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1328،]
صفحہ نمبر6780
یہ رنگ یہ زبانیں اور وسیع تر کائنات ٭٭
رب العلمین اپنی زبردست قدرت کی ایک نشانی اور بیان فرماتا ہے کہ اس قدر بلند کشادہ آسمان کی پیدائش اس میں ستاروں کا جڑاؤ ان کی چمک دمک ان میں سے بعض کا چلتا پھرتا ہونا بعض کا ایکجا ثابت رہنا زمین کو ایک ٹھوس شکل میں بنانا اسے کثیف پیدا کرنا اس میں پہاڑ میدان جنگل دریا سمندر ٹیلے پتھر درخت وغیرہ جمادینا۔ خود تمہاری زبانوں میں رنگتوں میں اختلاف رکھنا عرب کی زبان تاتاریوں کی زبان، کر دوں، رومیوں، فرنگیوں، تکرونیوں، بربر، حبشیوں، ہندیوں، ایرانیوں، حقابلہ، آرمینوں، جزریوں اور اللہ جانے کتنی کتنی زبانیں زمین پر بنو آدم میں بولی جاتی ہیں۔
انسانی زبانوں کے اختلاف کے ساتھ ہی ان کی رنگتوں کا اختلاف بھی شان اللہ کا مظہر ہے۔ خیال تو فرمائیے کہ لاکھوں آدمی جمع ہو جائیں ایک کنبے قبیلے کے ایک ملک ایک زبان کے ہوں لیکن ناممکن ہے کہ ہر ایک میں کوئی نہ کوئی اختلاف نہ ہو۔ حالانکہ اعضائے بدن کے اعتبار سے کلی موافقت ہے۔ سب کی دو آنکھیں دو پلکیں ایک ناک دو دو کان ایک پیشانی ایک منہ دو ہونٹ دو رخسار وغیرہ لیکن تاہم ایک سے ایک علیحدہ ہے۔ کوئی نہ کوئی عادت خصلت کلام بات چیت طرز ادا ایسی ضرور ہو گی کہ جس میں ایک دوسرے کا امتیاز ہو جائے گو وہ بعض مرتبہ پوشیدہ سی اور ہلکی سی چیزیں ہی ہو۔ گو خوبصورتی اور بدصورتی میں کئی ایک یکساں نظر آئیں لیکن جب غور کیا جائے تو ہر ایک کو دوسرے سے ممتاز کرنے والا کوئی نہ کوئی وصف ضرور نظر آ جائے گا۔ ہر جاننے والا اتنی بڑی طاقتوں اور قوتوں کے مالک کو پہچان سکتا ہے اور اس صنعت سے صانع کو جان سکتا ہے۔ نیند بھی قدرت کی ایک نشانی ہے جس سے تھکان دور ہو جاتی ہے راحت وسکون حاصل ہوتا ہے اس کے لیے قدرت نے رات بنادی۔ کام کاج کے لیے دنیا حاصل کرنے کے لیے کمائی دھندے کے لیے تلاش معاش کے لیے اللہ نے دن کو پیدا کر دیا جو رات کے بالکل خلاف ہے۔ یقیناً سننے سمجھنے والوں کے لیے یہ چیزیں نشان قدرت ہیں۔ طبرانی میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ راتوں کو میری نیند اچاٹ ہوجایا کرتی تھی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا پڑھا کرو «اللَّهُمَّ غَارَتِ النُّجُومُ، وَهَدَأَتِ الْعُيُونُ، وَأَنْتَ حَيٌّ قَيُّومٌ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، أَنِمْ عَيْنِي وَ أَهْدِئْ لَيْلِي» میں نے جب اس دعا کو پڑھا تو نیند نہ آنے کی بیماری بفضل اللہ دور ہوگئی ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1328،]
صفحہ نمبر6780
قیام ارض و سما ٭٭
اللہ تعالیٰ کی عظمت پر دلالت کرنے والی ایک اور نشانی بیان کی جا رہی ہے کہ ” آسمانوں پر اس کے حکم سے بجلی کوندتی ہے جسے دیکھ کر کبھی تمہیں دہشت لگنے لگتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کڑک کسی کو ہلاک کر دے “ کہیں بجلی گرے وغیرہ ” اور کبھی تمہیں امید بندھتی ہے کہ اچھا ہوا اب بارش برسے گی پانی کی ریل پیل ہو گی ترسالی ہو جائے گی “ وغیرہ۔
وہی ہے جو آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اس زمین کو جو خشک پڑی ہوئی تھی جس پر نام نشان کی کوئی ہریاول نہ تھی مثل مردے کے بے کار تھی اس بارش سے وہ زندہ کر دیتا ہے لہلانے لگتی ہے ہری بھری ہوجاتی ہے اور طرح طرح کی پیدوار اگادیتی ہے۔ عقل مندوں کے لئے عظمت اللہ کی یہ ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔ وہ اس نشان کو دیکھ کر یقین کر لیتے ہیں کہ اس زمین کو زندہ کرنے والا ہماری موت کے بعد ہمیں بھی از سر نو زندہ کر دینے پر قادر ہے۔ اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ زمین و آسمان اسی کے حکم سے قائم ہیں وہ آسمان کو زمین پر گرنے نہیں دیتا اور آسمان و زمین کو تھامے ہوئے ہے اور انہیں زوال سے بچائے ہوئے ہے۔ سید ناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب کوئی تاکیدی قسم کھانا چاہتے تو فرماتے ”اس اللہ کی قسم جس کے حکم سے زمین و آسمان ٹھہرے ہوئے ہیں۔“ پھر قیامت کے دن وہ زمین و آسمان کو بدل دے گا مردے اپنی قبروں سے زندہ کر کے نکالے جائنگے۔ خود اللہ انہیں آواز دے گا اور یہ صرف ایک آواز پر زندہ ہو کر اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہونگے۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ «يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ وَتَظُنُّونَ إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا» [17-الإسراء:52] ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی حمد کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کرلو گے کہ تم بہت ہی کم رہے “۔
اور آیت میں ہے «فَاِنَّمَا ھِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ۔ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [79-النازعات:-14-13] ” صرف ایک ہی آواز سے ساری مخلوق میدان حشر میں جمع ہو جائے گی اور آیت میں ہے “ «اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُوْنَ» [36-يس:53] یعنی ” وہ تو صرف ایک آواز ہو گی جسے سنتے ہی سب کے سب ہمارے سامنے حاضر ہو جائیں گے “۔
صفحہ نمبر6782
قیام ارض و سما ٭٭
اللہ تعالیٰ کی عظمت پر دلالت کرنے والی ایک اور نشانی بیان کی جا رہی ہے کہ ” آسمانوں پر اس کے حکم سے بجلی کوندتی ہے جسے دیکھ کر کبھی تمہیں دہشت لگنے لگتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کڑک کسی کو ہلاک کر دے “ کہیں بجلی گرے وغیرہ ” اور کبھی تمہیں امید بندھتی ہے کہ اچھا ہوا اب بارش برسے گی پانی کی ریل پیل ہو گی ترسالی ہو جائے گی “ وغیرہ۔
وہی ہے جو آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اس زمین کو جو خشک پڑی ہوئی تھی جس پر نام نشان کی کوئی ہریاول نہ تھی مثل مردے کے بے کار تھی اس بارش سے وہ زندہ کر دیتا ہے لہلانے لگتی ہے ہری بھری ہوجاتی ہے اور طرح طرح کی پیدوار اگادیتی ہے۔ عقل مندوں کے لئے عظمت اللہ کی یہ ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔ وہ اس نشان کو دیکھ کر یقین کر لیتے ہیں کہ اس زمین کو زندہ کرنے والا ہماری موت کے بعد ہمیں بھی از سر نو زندہ کر دینے پر قادر ہے۔ اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ زمین و آسمان اسی کے حکم سے قائم ہیں وہ آسمان کو زمین پر گرنے نہیں دیتا اور آسمان و زمین کو تھامے ہوئے ہے اور انہیں زوال سے بچائے ہوئے ہے۔ سید ناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب کوئی تاکیدی قسم کھانا چاہتے تو فرماتے ”اس اللہ کی قسم جس کے حکم سے زمین و آسمان ٹھہرے ہوئے ہیں۔“ پھر قیامت کے دن وہ زمین و آسمان کو بدل دے گا مردے اپنی قبروں سے زندہ کر کے نکالے جائنگے۔ خود اللہ انہیں آواز دے گا اور یہ صرف ایک آواز پر زندہ ہو کر اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہونگے۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ «يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ وَتَظُنُّونَ إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا» [17-الإسراء:52] ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی حمد کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کرلو گے کہ تم بہت ہی کم رہے “۔
اور آیت میں ہے «فَاِنَّمَا ھِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ۔ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [79-النازعات:-14-13] ” صرف ایک ہی آواز سے ساری مخلوق میدان حشر میں جمع ہو جائے گی اور آیت میں ہے “ «اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُوْنَ» [36-يس:53] یعنی ” وہ تو صرف ایک آواز ہو گی جسے سنتے ہی سب کے سب ہمارے سامنے حاضر ہو جائیں گے “۔
صفحہ نمبر6782
جس کا کوئی ہمسر نہیں ٭٭
فرماتا ہے کہ ” تمام آسمانوں اور ساری زمینوں کی مخلوق اللہ ہی کی ہے، سب اس کے لونڈی غلام ہیں۔ سب اسی کی ملکیت ہیں، ہر ایک اس کے سامنے عاجز ولاچار مجبور و بے بس ہیں “۔
ایک حدیث میں ہے کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں قنوت کا ذکر ہے وہاں مراد اطاعت وفرمانبردای ہے ۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف]
ابتدائی پیدائش بھی اسی نے کی اور وہی اعادہ بھی کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتداء کے عادتاً آسان اور ہلکا ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے اور اسے یہ چاہیئے نہیں تھا۔ وہ مجھے برا کہتا ہے اور یہ بھی اسے لائق نہ تھا۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اس نے مجھے اولاً پیدا کیا اس طرح دوبارہ پیدا کر نہیں سکتا؟ حالانکہ دوسری مرتبہ کی پیدائش پہلی دفعہ کی پیدائش سے بالکل آسان ہوا کرتی ہے۔ اس کا مجھے برا کہنا یہ ہے کہ کہتا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ میں احد اور صمد ہوں۔ جس کی نہ اولاد نہ ماں باپ اور جس کا کوئی ہمسر نہیں۔ “ [صحیح بخاری:4974] ۔
الغرض دونوں پیدائشیں اس مالک کی قدر کی مظہر ہیں نہ اس پر کوئی کام بھاری نہ بوجھل۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ «ھُوَ» کی ضمیر کا مرجع «خَلْقُ» ہو۔ «مَثَلُ» سے مراد یہاں اس کی توحید الوہیت اور توحید ربوبیت ہے نہ کہ مثال۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات مثال سے پاک ہے فرمان ہے آیت «لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ» [42-الشورى:11] ” اس کی مثال کوئی اور نہیں “۔
بعض اہل ذوق نے کہا ہے کہ جب صاف شفاف پانی کا ستھرا پاک صاف حوض ٹھہرا ہوا ہو اور باد صبا کے تھپیڑے اسے ہلاتے جلاتے نہ ہوں اس وقت اس میں آسمان صاف نظر آتا ہے سورج اور چاند ستارے بالکل دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح بزرگوں کے دل ہیں جن میں وہ اللہ کی عظمت وجلال کو ہمیشہ دیکھتے رہتے ہیں۔ وہ غالب ہے جس پر کسی کا بس نہیں نہ اس کے سامنے کسی کی کچھ چل سکے ہرچیز اس کی ماتحتی میں اور اس کے سامنے پست و لاچار عاجز و بے بس ہے۔ اس کی قدرت، سطوت، سلطنت ہرچیز محیط ہے۔ وہ حکیم ہے اپنے اقوال، افعال، شریعت، تقدیر، غرض ہر ہر امر میں۔ محمد بن منکدر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «مَثَلُ الْاَعْلی» سے مراد «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔
صفحہ نمبر6784
جس کا کوئی ہمسر نہیں ٭٭
فرماتا ہے کہ ” تمام آسمانوں اور ساری زمینوں کی مخلوق اللہ ہی کی ہے، سب اس کے لونڈی غلام ہیں۔ سب اسی کی ملکیت ہیں، ہر ایک اس کے سامنے عاجز ولاچار مجبور و بے بس ہیں “۔
ایک حدیث میں ہے کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں قنوت کا ذکر ہے وہاں مراد اطاعت وفرمانبردای ہے ۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف]
ابتدائی پیدائش بھی اسی نے کی اور وہی اعادہ بھی کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتداء کے عادتاً آسان اور ہلکا ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے اور اسے یہ چاہیئے نہیں تھا۔ وہ مجھے برا کہتا ہے اور یہ بھی اسے لائق نہ تھا۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اس نے مجھے اولاً پیدا کیا اس طرح دوبارہ پیدا کر نہیں سکتا؟ حالانکہ دوسری مرتبہ کی پیدائش پہلی دفعہ کی پیدائش سے بالکل آسان ہوا کرتی ہے۔ اس کا مجھے برا کہنا یہ ہے کہ کہتا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ میں احد اور صمد ہوں۔ جس کی نہ اولاد نہ ماں باپ اور جس کا کوئی ہمسر نہیں۔ “ [صحیح بخاری:4974] ۔
الغرض دونوں پیدائشیں اس مالک کی قدر کی مظہر ہیں نہ اس پر کوئی کام بھاری نہ بوجھل۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ «ھُوَ» کی ضمیر کا مرجع «خَلْقُ» ہو۔ «مَثَلُ» سے مراد یہاں اس کی توحید الوہیت اور توحید ربوبیت ہے نہ کہ مثال۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات مثال سے پاک ہے فرمان ہے آیت «لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ» [42-الشورى:11] ” اس کی مثال کوئی اور نہیں “۔
بعض اہل ذوق نے کہا ہے کہ جب صاف شفاف پانی کا ستھرا پاک صاف حوض ٹھہرا ہوا ہو اور باد صبا کے تھپیڑے اسے ہلاتے جلاتے نہ ہوں اس وقت اس میں آسمان صاف نظر آتا ہے سورج اور چاند ستارے بالکل دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح بزرگوں کے دل ہیں جن میں وہ اللہ کی عظمت وجلال کو ہمیشہ دیکھتے رہتے ہیں۔ وہ غالب ہے جس پر کسی کا بس نہیں نہ اس کے سامنے کسی کی کچھ چل سکے ہرچیز اس کی ماتحتی میں اور اس کے سامنے پست و لاچار عاجز و بے بس ہے۔ اس کی قدرت، سطوت، سلطنت ہرچیز محیط ہے۔ وہ حکیم ہے اپنے اقوال، افعال، شریعت، تقدیر، غرض ہر ہر امر میں۔ محمد بن منکدر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «مَثَلُ الْاَعْلی» سے مراد «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔
صفحہ نمبر6784
اپنے دلوں میں جھانکو! ٭٭
مشرکین مکہ اپنے بزرگوں کو شریک اللہ جانتے تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی مانتے تھے کہ یہ سب اللہ کے غلام اور اس کے ماتحت ہیں۔ چنانچہ وہ حج وعمرے کے موقعہ پر لبیک پکارتے ہوئے کہتے تھے کہ ( [ «لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ» ] ) یعنی ہم تیرے دربار میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ کہ وہ خود اور جس چیز کا وہ مالک ہے سب تیری ملکیت میں ہے۔
یعنی ہمارے شریکوں کا اور ان کی ملکیت کا تو ہی اصلی مالک ہے۔ پس یہاں انہیں ایک ایسی مثال سے سمجھایا جا رہا ہے جو خود یہ اپنے نفس ہی میں پائیں۔ اور بہت اچھی طرح غور وخوض کر سکیں۔ فرماتا ہے کہ ” کیا تم میں سے کوئی بھی اس امر پر رضا مند ہو گا کہ اس کے کل مال وغیرہ میں اس کے غلام اس کے برابر کے شریک ہوں اور ہر وقت اسے یہ دھڑ کا رہتا ہو کہ کہیں وہ تقسیم کرکے میری جائیداد اور ملکیت آدھوں آدھ بانٹ نہ لے جائیں “۔
صفحہ نمبر6786
پس جس طرح تم یہ بات اپنے لیے پسند نہیں کرتے اللہ کے لیے بھی نہ چاہو جس طرح غلام آقا کی ہمسری نہیں کر سکتا اسی طرح اللہ کا کوئی بندہ اللہ کا شریک نہیں ہوسکتا۔ یہ عجب ناانصافی ہے کہ اپنے لیے جس بات سے چڑیں اور نفرت کریں اللہ کے لیے وہی بات ثابت کرنے بیٹھ جائیں۔ خود بیٹیوں سے جلتے تھے، اتنا سنتے ہی کہ تیرے ہاں لڑکی ہوئی ہے منہ کالے پڑجاتے تھے اور اللہ کے مقرب فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے تھے۔ اسی طرح خود اس بات کے کبھی رودار نہیں ہونے کہ اپنے غلاموں کو اپنا برابر کا شریک و سہیم سمجھیں۔ لیکن اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک سمجھ رہے ہیں کس قدر انصاف کا خون ہے؟
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”مشرک جو لبیک پکارتے تھے اور اس میں اللہ کے لا شریک ہونے کا اقرار کرکے پھر اس کی غلامی تلے دوسروں کو مان کر انہیں اس کا شریک ٹھہراتے تھے اس پر یہ آیت اتری۔“ [طبرانی کبیر:12348:ضعیف] اور اس میں بیان ہے کہ ” جب تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر کا شریک ٹھہرانے سے عار رکھتے ہو تو اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک کیوں ٹھہرا رہے ہو؟ “۔
یہ صاف بات بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ ” ہم اسی طرح تفصیل وار دلائل غافلوں کے سامنے رکھ دیتے ہیں “۔ پھر فرماتا ہے اور بتلاتا ہے کہ ” مشرکین کے شرک کی کوئی سند، عقلی، نقلی کوئی دلیل نہیں صرف کرشمہ جہالت اور پیروی خواہش ہے۔ جبکہ یہ راہ راست سے ہٹ گئے تو پھر انہیں اللہ کے سوا اور کوئی راہ راست پر لا نہیں سکتا “۔
یہ گو دوسروں کا اپنا کارساز اور مددگار مانتے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ دشمنان اللہ کا دوست کوئی نہیں۔ کون ہے جو اس کی مرضی کے خلاف لب ہلا سکے۔ کون ہے جو اس پر مہربانی کرے جس پر اللہ نامہربان ہو؟ جو وہ چاہے وہی ہوتا ہے اور جسے وہ نہ چاہے ہو نہیں سکتا۔
صفحہ نمبر6787
اپنے دلوں میں جھانکو! ٭٭
مشرکین مکہ اپنے بزرگوں کو شریک اللہ جانتے تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی مانتے تھے کہ یہ سب اللہ کے غلام اور اس کے ماتحت ہیں۔ چنانچہ وہ حج وعمرے کے موقعہ پر لبیک پکارتے ہوئے کہتے تھے کہ ( [ «لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ» ] ) یعنی ہم تیرے دربار میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ کہ وہ خود اور جس چیز کا وہ مالک ہے سب تیری ملکیت میں ہے۔
یعنی ہمارے شریکوں کا اور ان کی ملکیت کا تو ہی اصلی مالک ہے۔ پس یہاں انہیں ایک ایسی مثال سے سمجھایا جا رہا ہے جو خود یہ اپنے نفس ہی میں پائیں۔ اور بہت اچھی طرح غور وخوض کر سکیں۔ فرماتا ہے کہ ” کیا تم میں سے کوئی بھی اس امر پر رضا مند ہو گا کہ اس کے کل مال وغیرہ میں اس کے غلام اس کے برابر کے شریک ہوں اور ہر وقت اسے یہ دھڑ کا رہتا ہو کہ کہیں وہ تقسیم کرکے میری جائیداد اور ملکیت آدھوں آدھ بانٹ نہ لے جائیں “۔
صفحہ نمبر6786
پس جس طرح تم یہ بات اپنے لیے پسند نہیں کرتے اللہ کے لیے بھی نہ چاہو جس طرح غلام آقا کی ہمسری نہیں کر سکتا اسی طرح اللہ کا کوئی بندہ اللہ کا شریک نہیں ہوسکتا۔ یہ عجب ناانصافی ہے کہ اپنے لیے جس بات سے چڑیں اور نفرت کریں اللہ کے لیے وہی بات ثابت کرنے بیٹھ جائیں۔ خود بیٹیوں سے جلتے تھے، اتنا سنتے ہی کہ تیرے ہاں لڑکی ہوئی ہے منہ کالے پڑجاتے تھے اور اللہ کے مقرب فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے تھے۔ اسی طرح خود اس بات کے کبھی رودار نہیں ہونے کہ اپنے غلاموں کو اپنا برابر کا شریک و سہیم سمجھیں۔ لیکن اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک سمجھ رہے ہیں کس قدر انصاف کا خون ہے؟
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”مشرک جو لبیک پکارتے تھے اور اس میں اللہ کے لا شریک ہونے کا اقرار کرکے پھر اس کی غلامی تلے دوسروں کو مان کر انہیں اس کا شریک ٹھہراتے تھے اس پر یہ آیت اتری۔“ [طبرانی کبیر:12348:ضعیف] اور اس میں بیان ہے کہ ” جب تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر کا شریک ٹھہرانے سے عار رکھتے ہو تو اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک کیوں ٹھہرا رہے ہو؟ “۔
یہ صاف بات بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ ” ہم اسی طرح تفصیل وار دلائل غافلوں کے سامنے رکھ دیتے ہیں “۔ پھر فرماتا ہے اور بتلاتا ہے کہ ” مشرکین کے شرک کی کوئی سند، عقلی، نقلی کوئی دلیل نہیں صرف کرشمہ جہالت اور پیروی خواہش ہے۔ جبکہ یہ راہ راست سے ہٹ گئے تو پھر انہیں اللہ کے سوا اور کوئی راہ راست پر لا نہیں سکتا “۔
یہ گو دوسروں کا اپنا کارساز اور مددگار مانتے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ دشمنان اللہ کا دوست کوئی نہیں۔ کون ہے جو اس کی مرضی کے خلاف لب ہلا سکے۔ کون ہے جو اس پر مہربانی کرے جس پر اللہ نامہربان ہو؟ جو وہ چاہے وہی ہوتا ہے اور جسے وہ نہ چاہے ہو نہیں سکتا۔
صفحہ نمبر6787
بچہ اور ماں باپ ٭٭
” ملت ابراہیم حنیف پر جم جاؤ جس دین کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مقرر کر دیا ہے اور جسے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ہاتھ پر اللہ نے کمال کو پہنچایا ہے “۔
رب کی فطرت سلیمہ پر وہی قائم ہے جو اس دین اسلام کا پابند ہے۔ اسی پر یعنی توحید پر رب نے تمام انسانوں کو بنایا ہے۔ روز اول میں اسی کا سب سے اقرار کرا لیا گیا تھا کہ «وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى» ” کیا میں سب کا رب نہیں ہوں؟ تو سب نے اقرار کیا کہ بیشک تو ہی ہمارا رب ہے “۔ [7-الأعراف:172]
وہ حدیثیں عنقریب ان شاءاللہ بیان ہونگی جن سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جملہ مخلوق کو اپنے سچے دین پر پیدا کیا ہے گو اس کے بعد لوگ یہودیت نصرانیت وغیرہ پر چلے گئے۔ ” لوگو! اللہ کی اس فطرت کو نہ بدلو۔ لوگوں کو اس راہ راست سے نہ ہٹاؤ “۔ تو یہ خبر معنی میں امر ہوگی جیسے آیت «وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا» ۔ [3-آل عمران:97] میں یہ معنی نہایت عمدہ اور صحیح ہیں۔
دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو فطرت سلیمہ پر یعنی دین اسلام پر پیدا کیا۔ رب کے اس دین میں کوئی تبدل و تغیر نہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہی معنی کئے ہیں کہ ”یہاں خلق اللہ سے مراد دین اور فطرت اسلام ہے۔“ [صحیح بخاری:تفسیر سورۃ الروم] ۔
صفحہ نمبر6789
بخاری شریف میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے بکری کا صحیح سالم بچہ ہوتا ہے جس کے کان لوگ کتر دیتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ» [صحیح بخاری:4775]
مسند احمد میں ہے اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد کیا وہاں ہم بفضل اللہ غالب آگئے۔ اس دن لوگوں نے بہت سے کفار کو قتل کیا یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی قتل کر ڈالا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے یہ کیا بات ہے لوگ حد سے آگے نکل جاتے ہیں آج بچوں کو بھی قتل کر دیا ہے ۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر وہ بھی تو مشرکین کی ہی اولاد تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں نہیں۔ یاد رکھو تم میں سے بہترین لوگ مشرکین کے بچے ہیں۔ خبردار بچوں کو کبھی قتل نہ کرنا، نابالغوں کے قتل سے رک جانا۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنی زبان سے کچھ کہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہود نصرانی بنا لیتے ہیں ۔ [مسند احمد:435/3:صحیح]
صفحہ نمبر6790
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مسند شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اسے زبان آ جائے۔ اب یا تو شاکر بنتا ہے یا کافر ۔ [مسند احمد:353/3:ضعیف] ۔
مسند میں بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حضور علیہ السلام سے مشرکوں کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا وہ خوب جانتا تھا کہ وہ کیا اعمال کرنے والے ہیں ۔ [صحیح بخاری:1383] ۔
آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک زمانہ میں میں کہتا تھا مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کے ساتھ ہے اور مشرکوں کی اولاد مشرکوں کے ساتھ ہے یہاں تک کہ فلاں شخص نے فلاں سے روایت کر کے مجھے سنایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ خوب عالم ہے اس چیز سے جو وہ کرتے ۔ اس حدیث کو سن کر میں نے اپنا فتویٰ چھوڑ دیا [مسند احمد:73/5:صحیح] ۔
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ مجھے جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ جو اس نے مجھے آج سکھایا ہے اور اس سے تم جاہل ہو وہ میں تمہیں سکھا دوں ۔ فرمایا کہ ” جو میں نے اپنے بندوں کو دیا ہے میں نے ان کے لیے حلال کیا ہے میں نے اپنے سب بندوں کو یک طرفہ خالص دین والا بنایا ہے،ان کے پاس شیطان پہنچتا ہے اور انہیں دین سے گمراہ کرتا ہے اور حلال کو ان پر حرام کرتا ہے اور انہیں میرے ساتھ شریک کرنے کو کہتا ہے جس کی کوئی دلیل نہیں “ ۔
صفحہ نمبر6791
اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نگاہ ڈالی اور عرب وعجم سب کو ناپسند فرمایا سوائے چند اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے۔ وہ فرماتا ہے کہ ” میں نے تجھے صرف آزمائش کے لیے بھیجا ہے تیری اپنی بھی آزمائش ہوگی اور تیری وجہ سے اور سب کی بھی میں تو تجھ پر وہ کتاب اتارونگا جسے پانی دھو نہ سکے تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا “۔ پھر مجھ سے جناب باری عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ میں قریش کو ہوشیار کر دوں میں نے اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ کہیں وہ میرا سر کچل کر روٹی جیسا نہ بنادیں؟ تو فرمایا ” سن جیسے یہ تجھے نکالیں گے میں انہیں نکالونگا تو ان سے جہاد کر میں تیرا ساتھ دونگا تو خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا۔ تو لشکر بھیج میں اس سے پانچ حصے زیادہ لشکر بھیجوں گا فرمانبرداروں کو لیکر اپنے نافرمانوں پر چڑھائی کر دے “ ۔ اہل جنت تین قسم کے ہیں عادل بادشاہ توفیق خیر والا سخی۔ نرم دل ہر مسلمان کے ساتھ سلوک احسان کرنے والا پاک دامن، سوال اور حرام سے بچنے والا عیالدار آدمی،۔ اہل جہنم پانچ قسم کے لوگ ہیں وہ بے وقعت،کمینے لوگ جو بے زر اور بے گھر ہیں جو تمہارے دامنوں میں لپٹے رہتے ہیں۔ وہ خائن جو حقیر چیزوں میں بھی خیانت کئے بغیر نہیں رہتا۔ وہ لوگ جو ہر وقت لوگوں کو ان کی جان مال اور اہل و عیال میں دھوکے دیتے رہتے ہیں صبح شام چالبازیوں اور مکر و فریب میں لگے رہتے ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخیلی یا کذاب کا ذکر کیا اور فرمایا پانچوں قسم کے لوگ بدزبان بدگو ہیں ۔ [صحیح مسلم:2765]
صفحہ نمبر6792
یہی فطرت سلیمہ یہی شریعت کو مضبوطی سے تھامے رہنا ہی سچا اور سیدھا دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ بے علم ہیں۔ اور اپنی اسی جہالت کی وجہ سے اللہ کے ایسے پاک دین سے دور بلکہ محروم رہ جاتے ہیں۔
جیسے ایک اور آیت میں ہے «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ” گو تیری حرص ہو لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے ایمان ہی رہیں گے “۔ [12-يوسف:103]
ایک اور آیت میں ہے «وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ» [6-الأنعام:116] ” اگر تو اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے راہ اللہ سے بہکا دیں گے “۔
” تم سب اللہ کی طرف راغب رہو، اسی کی جانب جھکے رہو، اسی کا ڈر خوف رکھو اور اسی کا لحاظ رکھو۔ نمازوں کی پابندی کرو جو سب سے بڑی عبادت اور اطاعت ہے۔ تم مشرک نہ بنو بلکہ موحد اور خالص بن جاؤ اس کے سوا کسی اور سے کوئی مراد وابستہ نہ رکھو “۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ تین چیزیں ہیں اور یہی نجات کی جڑیں ہیں اول اخلاص جو فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے دوسرے نماز جو دراصل دین ہے تیسرے اطاعت جو عصمت اور بچاؤ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:183/10:]
تمہیں مشرکوں میں نہ ملنا چاہیئے تمہیں ان کا ساتھ نہ دینا چاہیئے اور نہ ان جیسے فعل کرنا چاہیئے جنہوں نے دین اللہ کو بدل دیا بعض باتوں کو مان لیا اور بعض سے انکار کر گئے «فَرَّقُوا» کی دوسری قرأت «فَارَقُوْا» ہے یعنی انہوں نے اپنے دین کو چھوڑ دیا۔ جیسے یہود، نصاری، مجوسی، بت پرست اور دوسرے باطل مذاہب والے۔
جیسے ارشاد ہے «إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُون» [6-الأنعام:159] ” جن لوگوں نے اپنے دین میں تفریق کی اور گروہ بندی کر لی تو ان میں شامل ہی نہیں ان کا انجام سپرد اللہ ہے “۔
” تم سے پہلے والی قومیں گروہ گروہ ہو گئیں تھی “۔ سب کی سب باطل پر جم گئیں اور ہر فرقہ یہی دعویٰ کر تا رہا کہ وہ سچا ہے دراصل حقانیت ان سب سے گم ہوگئی تھی اس امت میں بھی تفرقہ پڑا لیکن ان میں ایک حق پر ہے ہاں باقی سب گمراہی پر ہیں۔ یہ حق والی جماعت اہل سنت والجماعت ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مضبوط تھامنے والی ہے۔ جس پر سابقہ زمانے کے صحابہ، تابعین اور ائمہ مسلمین تھے گزشتہ زمانے میں بھی اور اب بھی۔
جیسے مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ ان سب میں نجات پانے والا فرقہ کون سا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ كَانَ عَلَى مِثْلِ مَا أَنَا عَلَيْهِ الْيَوْمَ وَأَصْحَابِي» یعنی وہ لوگ جو اس پر ہوں جس پر آج میں اور میرے اصحاب رضی اللہ عنہم ہیں ۔ [سنن ترمذي:2641]
(برادران غور فرمائیے کہ وہ چیز جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے وہ وحی اللہ یعنی قرآن و حدیث ہی تھی یا کسی امام کی تقلید؟)
صفحہ نمبر6793