John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Ar-Room

Tafsir Ibn Kathir · The Romans · 60 ayat · ayat 31–60 · Quran text →

بچہ اور ماں باپ ٭٭

” ملت ابراہیم حنیف پر جم جاؤ جس دین کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مقرر کر دیا ہے اور جسے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ہاتھ پر اللہ نے کمال کو پہنچایا ہے “۔

رب کی فطرت سلیمہ پر وہی قائم ہے جو اس دین اسلام کا پابند ہے۔ اسی پر یعنی توحید پر رب نے تمام انسانوں کو بنایا ہے۔ روز اول میں اسی کا سب سے اقرار کرا لیا گیا تھا کہ «وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى» ” کیا میں سب کا رب نہیں ہوں؟ تو سب نے اقرار کیا کہ بیشک تو ہی ہمارا رب ہے “۔ [7-الأعراف:172] ‏

وہ حدیثیں عنقریب ان شاءاللہ بیان ہونگی جن سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جملہ مخلوق کو اپنے سچے دین پر پیدا کیا ہے گو اس کے بعد لوگ یہودیت نصرانیت وغیرہ پر چلے گئے۔ ” لوگو! اللہ کی اس فطرت کو نہ بدلو۔ لوگوں کو اس راہ راست سے نہ ہٹاؤ “۔ تو یہ خبر معنی میں امر ہوگی جیسے آیت «وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا» ۔ [3-آل عمران:97] ‏ میں یہ معنی نہایت عمدہ اور صحیح ہیں۔

دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو فطرت سلیمہ پر یعنی دین اسلام پر پیدا کیا۔ رب کے اس دین میں کوئی تبدل و تغیر نہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہی معنی کئے ہیں کہ ”یہاں خلق اللہ سے مراد دین اور فطرت اسلام ہے۔‏“ [صحیح بخاری:تفسیر سورۃ الروم] ‏۔

صفحہ نمبر6789

بخاری شریف میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے بکری کا صحیح سالم بچہ ہوتا ہے جس کے کان لوگ کتر دیتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ» [صحیح بخاری:4775] ‏

مسند احمد میں ہے اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد کیا وہاں ہم بفضل اللہ غالب آگئے۔ اس دن لوگوں نے بہت سے کفار کو قتل کیا یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی قتل کر ڈالا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے یہ کیا بات ہے لوگ حد سے آگے نکل جاتے ہیں آج بچوں کو بھی قتل کر دیا ہے ۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر وہ بھی تو مشرکین کی ہی اولاد تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں نہیں۔ یاد رکھو تم میں سے بہترین لوگ مشرکین کے بچے ہیں۔ خبردار بچوں کو کبھی قتل نہ کرنا، نابالغوں کے قتل سے رک جانا۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنی زبان سے کچھ کہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہود نصرانی بنا لیتے ہیں ۔ [مسند احمد:435/3:صحیح] ‏

صفحہ نمبر6790

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مسند شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اسے زبان آ جائے۔ اب یا تو شاکر بنتا ہے یا کافر ۔ [مسند احمد:353/3:ضعیف] ‏۔

مسند میں بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حضور علیہ السلام سے مشرکوں کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا وہ خوب جانتا تھا کہ وہ کیا اعمال کرنے والے ہیں ۔ [صحیح بخاری:1383] ‏۔

آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک زمانہ میں میں کہتا تھا مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کے ساتھ ہے اور مشرکوں کی اولاد مشرکوں کے ساتھ ہے یہاں تک کہ فلاں شخص نے فلاں سے روایت کر کے مجھے سنایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ خوب عالم ہے اس چیز سے جو وہ کرتے ۔ اس حدیث کو سن کر میں نے اپنا فتویٰ چھوڑ دیا [مسند احمد:73/5:صحیح] ‏۔

عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ مجھے جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ جو اس نے مجھے آج سکھایا ہے اور اس سے تم جاہل ہو وہ میں تمہیں سکھا دوں ۔ فرمایا کہ ” جو میں نے اپنے بندوں کو دیا ہے میں نے ان کے لیے حلال کیا ہے میں نے اپنے سب بندوں کو یک طرفہ خالص دین والا بنایا ہے،ان کے پاس شیطان پہنچتا ہے اور انہیں دین سے گمراہ کرتا ہے اور حلال کو ان پر حرام کرتا ہے اور انہیں میرے ساتھ شریک کرنے کو کہتا ہے جس کی کوئی دلیل نہیں “ ۔

صفحہ نمبر6791

اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نگاہ ڈالی اور عرب وعجم سب کو ناپسند فرمایا سوائے چند اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے۔ وہ فرماتا ہے کہ ” میں نے تجھے صرف آزمائش کے لیے بھیجا ہے تیری اپنی بھی آزمائش ہوگی اور تیری وجہ سے اور سب کی بھی میں تو تجھ پر وہ کتاب اتارونگا جسے پانی دھو نہ سکے تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا “۔ پھر مجھ سے جناب باری عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ میں قریش کو ہوشیار کر دوں میں نے اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ کہیں وہ میرا سر کچل کر روٹی جیسا نہ بنادیں؟ تو فرمایا ” سن جیسے یہ تجھے نکالیں گے میں انہیں نکالونگا تو ان سے جہاد کر میں تیرا ساتھ دونگا تو خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا۔ تو لشکر بھیج میں اس سے پانچ حصے زیادہ لشکر بھیجوں گا فرمانبرداروں کو لیکر اپنے نافرمانوں پر چڑھائی کر دے “ ۔ اہل جنت تین قسم کے ہیں عادل بادشاہ توفیق خیر والا سخی۔ نرم دل ہر مسلمان کے ساتھ سلوک احسان کرنے والا پاک دامن، سوال اور حرام سے بچنے والا عیالدار آدمی،۔ اہل جہنم پانچ قسم کے لوگ ہیں وہ بے وقعت،کمینے لوگ جو بے زر اور بے گھر ہیں جو تمہارے دامنوں میں لپٹے رہتے ہیں۔ وہ خائن جو حقیر چیزوں میں بھی خیانت کئے بغیر نہیں رہتا۔ وہ لوگ جو ہر وقت لوگوں کو ان کی جان مال اور اہل و عیال میں دھوکے دیتے رہتے ہیں صبح شام چالبازیوں اور مکر و فریب میں لگے رہتے ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخیلی یا کذاب کا ذکر کیا اور فرمایا پانچوں قسم کے لوگ بدزبان بدگو ہیں ۔ [صحیح مسلم:2765] ‏

صفحہ نمبر6792

یہی فطرت سلیمہ یہی شریعت کو مضبوطی سے تھامے رہنا ہی سچا اور سیدھا دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ بے علم ہیں۔ اور اپنی اسی جہالت کی وجہ سے اللہ کے ایسے پاک دین سے دور بلکہ محروم رہ جاتے ہیں۔

جیسے ایک اور آیت میں ہے «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ” گو تیری حرص ہو لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے ایمان ہی رہیں گے “۔ [12-يوسف:103] ‏

ایک اور آیت میں ہے «وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ» [6-الأنعام:116] ‏ ” اگر تو اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے راہ اللہ سے بہکا دیں گے “۔

” تم سب اللہ کی طرف راغب رہو، اسی کی جانب جھکے رہو، اسی کا ڈر خوف رکھو اور اسی کا لحاظ رکھو۔ نمازوں کی پابندی کرو جو سب سے بڑی عبادت اور اطاعت ہے۔ تم مشرک نہ بنو بلکہ موحد اور خالص بن جاؤ اس کے سوا کسی اور سے کوئی مراد وابستہ نہ رکھو “۔

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ تین چیزیں ہیں اور یہی نجات کی جڑیں ہیں اول اخلاص جو فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے دوسرے نماز جو دراصل دین ہے تیسرے اطاعت جو عصمت اور بچاؤ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:183/10:] ‏

تمہیں مشرکوں میں نہ ملنا چاہیئے تمہیں ان کا ساتھ نہ دینا چاہیئے اور نہ ان جیسے فعل کرنا چاہیئے جنہوں نے دین اللہ کو بدل دیا بعض باتوں کو مان لیا اور بعض سے انکار کر گئے «فَرَّقُوا» کی دوسری قرأت «فَارَقُوْا» ہے یعنی انہوں نے اپنے دین کو چھوڑ دیا۔ جیسے یہود، نصاری، مجوسی، بت پرست اور دوسرے باطل مذاہب والے۔

جیسے ارشاد ہے «إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُون» [6-الأنعام:159] ‏ ” جن لوگوں نے اپنے دین میں تفریق کی اور گروہ بندی کر لی تو ان میں شامل ہی نہیں ان کا انجام سپرد اللہ ہے “۔

” تم سے پہلے والی قومیں گروہ گروہ ہو گئیں تھی “۔ سب کی سب باطل پر جم گئیں اور ہر فرقہ یہی دعویٰ کر تا رہا کہ وہ سچا ہے دراصل حقانیت ان سب سے گم ہوگئی تھی اس امت میں بھی تفرقہ پڑا لیکن ان میں ایک حق پر ہے ہاں باقی سب گمراہی پر ہیں۔ یہ حق والی جماعت اہل سنت والجماعت ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مضبوط تھامنے والی ہے۔ جس پر سابقہ زمانے کے صحابہ، تابعین اور ائمہ مسلمین تھے گزشتہ زمانے میں بھی اور اب بھی۔

جیسے مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ ان سب میں نجات پانے والا فرقہ کون سا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ كَانَ عَلَى مِثْلِ مَا أَنَا عَلَيْهِ الْيَوْمَ وَأَصْحَابِي» یعنی وہ لوگ جو اس پر ہوں جس پر آج میں اور میرے اصحاب رضی اللہ عنہم ہیں ۔ [سنن ترمذي:2641] ‏

(‏برادران غور فرمائیے کہ وہ چیز جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے وہ وحی اللہ یعنی قرآن و حدیث ہی تھی یا کسی امام کی تقلید؟)

صفحہ نمبر6793

بچہ اور ماں باپ ٭٭

” ملت ابراہیم حنیف پر جم جاؤ جس دین کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مقرر کر دیا ہے اور جسے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ہاتھ پر اللہ نے کمال کو پہنچایا ہے “۔

رب کی فطرت سلیمہ پر وہی قائم ہے جو اس دین اسلام کا پابند ہے۔ اسی پر یعنی توحید پر رب نے تمام انسانوں کو بنایا ہے۔ روز اول میں اسی کا سب سے اقرار کرا لیا گیا تھا کہ «وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى» ” کیا میں سب کا رب نہیں ہوں؟ تو سب نے اقرار کیا کہ بیشک تو ہی ہمارا رب ہے “۔ [7-الأعراف:172] ‏

وہ حدیثیں عنقریب ان شاءاللہ بیان ہونگی جن سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جملہ مخلوق کو اپنے سچے دین پر پیدا کیا ہے گو اس کے بعد لوگ یہودیت نصرانیت وغیرہ پر چلے گئے۔ ” لوگو! اللہ کی اس فطرت کو نہ بدلو۔ لوگوں کو اس راہ راست سے نہ ہٹاؤ “۔ تو یہ خبر معنی میں امر ہوگی جیسے آیت «وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا» ۔ [3-آل عمران:97] ‏ میں یہ معنی نہایت عمدہ اور صحیح ہیں۔

دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو فطرت سلیمہ پر یعنی دین اسلام پر پیدا کیا۔ رب کے اس دین میں کوئی تبدل و تغیر نہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہی معنی کئے ہیں کہ ”یہاں خلق اللہ سے مراد دین اور فطرت اسلام ہے۔‏“ [صحیح بخاری:تفسیر سورۃ الروم] ‏۔

صفحہ نمبر6789

بخاری شریف میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے بکری کا صحیح سالم بچہ ہوتا ہے جس کے کان لوگ کتر دیتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ» [صحیح بخاری:4775] ‏

مسند احمد میں ہے اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد کیا وہاں ہم بفضل اللہ غالب آگئے۔ اس دن لوگوں نے بہت سے کفار کو قتل کیا یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی قتل کر ڈالا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے یہ کیا بات ہے لوگ حد سے آگے نکل جاتے ہیں آج بچوں کو بھی قتل کر دیا ہے ۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر وہ بھی تو مشرکین کی ہی اولاد تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں نہیں۔ یاد رکھو تم میں سے بہترین لوگ مشرکین کے بچے ہیں۔ خبردار بچوں کو کبھی قتل نہ کرنا، نابالغوں کے قتل سے رک جانا۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنی زبان سے کچھ کہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہود نصرانی بنا لیتے ہیں ۔ [مسند احمد:435/3:صحیح] ‏

صفحہ نمبر6790

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مسند شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اسے زبان آ جائے۔ اب یا تو شاکر بنتا ہے یا کافر ۔ [مسند احمد:353/3:ضعیف] ‏۔

مسند میں بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حضور علیہ السلام سے مشرکوں کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا وہ خوب جانتا تھا کہ وہ کیا اعمال کرنے والے ہیں ۔ [صحیح بخاری:1383] ‏۔

آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک زمانہ میں میں کہتا تھا مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کے ساتھ ہے اور مشرکوں کی اولاد مشرکوں کے ساتھ ہے یہاں تک کہ فلاں شخص نے فلاں سے روایت کر کے مجھے سنایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ خوب عالم ہے اس چیز سے جو وہ کرتے ۔ اس حدیث کو سن کر میں نے اپنا فتویٰ چھوڑ دیا [مسند احمد:73/5:صحیح] ‏۔

عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ مجھے جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ جو اس نے مجھے آج سکھایا ہے اور اس سے تم جاہل ہو وہ میں تمہیں سکھا دوں ۔ فرمایا کہ ” جو میں نے اپنے بندوں کو دیا ہے میں نے ان کے لیے حلال کیا ہے میں نے اپنے سب بندوں کو یک طرفہ خالص دین والا بنایا ہے،ان کے پاس شیطان پہنچتا ہے اور انہیں دین سے گمراہ کرتا ہے اور حلال کو ان پر حرام کرتا ہے اور انہیں میرے ساتھ شریک کرنے کو کہتا ہے جس کی کوئی دلیل نہیں “ ۔

صفحہ نمبر6791

اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نگاہ ڈالی اور عرب وعجم سب کو ناپسند فرمایا سوائے چند اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے۔ وہ فرماتا ہے کہ ” میں نے تجھے صرف آزمائش کے لیے بھیجا ہے تیری اپنی بھی آزمائش ہوگی اور تیری وجہ سے اور سب کی بھی میں تو تجھ پر وہ کتاب اتارونگا جسے پانی دھو نہ سکے تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا “۔ پھر مجھ سے جناب باری عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ میں قریش کو ہوشیار کر دوں میں نے اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ کہیں وہ میرا سر کچل کر روٹی جیسا نہ بنادیں؟ تو فرمایا ” سن جیسے یہ تجھے نکالیں گے میں انہیں نکالونگا تو ان سے جہاد کر میں تیرا ساتھ دونگا تو خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا۔ تو لشکر بھیج میں اس سے پانچ حصے زیادہ لشکر بھیجوں گا فرمانبرداروں کو لیکر اپنے نافرمانوں پر چڑھائی کر دے “ ۔ اہل جنت تین قسم کے ہیں عادل بادشاہ توفیق خیر والا سخی۔ نرم دل ہر مسلمان کے ساتھ سلوک احسان کرنے والا پاک دامن، سوال اور حرام سے بچنے والا عیالدار آدمی،۔ اہل جہنم پانچ قسم کے لوگ ہیں وہ بے وقعت،کمینے لوگ جو بے زر اور بے گھر ہیں جو تمہارے دامنوں میں لپٹے رہتے ہیں۔ وہ خائن جو حقیر چیزوں میں بھی خیانت کئے بغیر نہیں رہتا۔ وہ لوگ جو ہر وقت لوگوں کو ان کی جان مال اور اہل و عیال میں دھوکے دیتے رہتے ہیں صبح شام چالبازیوں اور مکر و فریب میں لگے رہتے ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخیلی یا کذاب کا ذکر کیا اور فرمایا پانچوں قسم کے لوگ بدزبان بدگو ہیں ۔ [صحیح مسلم:2765] ‏

صفحہ نمبر6792

یہی فطرت سلیمہ یہی شریعت کو مضبوطی سے تھامے رہنا ہی سچا اور سیدھا دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ بے علم ہیں۔ اور اپنی اسی جہالت کی وجہ سے اللہ کے ایسے پاک دین سے دور بلکہ محروم رہ جاتے ہیں۔

جیسے ایک اور آیت میں ہے «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ” گو تیری حرص ہو لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے ایمان ہی رہیں گے “۔ [12-يوسف:103] ‏

ایک اور آیت میں ہے «وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ» [6-الأنعام:116] ‏ ” اگر تو اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے راہ اللہ سے بہکا دیں گے “۔

” تم سب اللہ کی طرف راغب رہو، اسی کی جانب جھکے رہو، اسی کا ڈر خوف رکھو اور اسی کا لحاظ رکھو۔ نمازوں کی پابندی کرو جو سب سے بڑی عبادت اور اطاعت ہے۔ تم مشرک نہ بنو بلکہ موحد اور خالص بن جاؤ اس کے سوا کسی اور سے کوئی مراد وابستہ نہ رکھو “۔

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ تین چیزیں ہیں اور یہی نجات کی جڑیں ہیں اول اخلاص جو فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے دوسرے نماز جو دراصل دین ہے تیسرے اطاعت جو عصمت اور بچاؤ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:183/10:] ‏

تمہیں مشرکوں میں نہ ملنا چاہیئے تمہیں ان کا ساتھ نہ دینا چاہیئے اور نہ ان جیسے فعل کرنا چاہیئے جنہوں نے دین اللہ کو بدل دیا بعض باتوں کو مان لیا اور بعض سے انکار کر گئے «فَرَّقُوا» کی دوسری قرأت «فَارَقُوْا» ہے یعنی انہوں نے اپنے دین کو چھوڑ دیا۔ جیسے یہود، نصاری، مجوسی، بت پرست اور دوسرے باطل مذاہب والے۔

جیسے ارشاد ہے «إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُون» [6-الأنعام:159] ‏ ” جن لوگوں نے اپنے دین میں تفریق کی اور گروہ بندی کر لی تو ان میں شامل ہی نہیں ان کا انجام سپرد اللہ ہے “۔

” تم سے پہلے والی قومیں گروہ گروہ ہو گئیں تھی “۔ سب کی سب باطل پر جم گئیں اور ہر فرقہ یہی دعویٰ کر تا رہا کہ وہ سچا ہے دراصل حقانیت ان سب سے گم ہوگئی تھی اس امت میں بھی تفرقہ پڑا لیکن ان میں ایک حق پر ہے ہاں باقی سب گمراہی پر ہیں۔ یہ حق والی جماعت اہل سنت والجماعت ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مضبوط تھامنے والی ہے۔ جس پر سابقہ زمانے کے صحابہ، تابعین اور ائمہ مسلمین تھے گزشتہ زمانے میں بھی اور اب بھی۔

جیسے مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ ان سب میں نجات پانے والا فرقہ کون سا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ كَانَ عَلَى مِثْلِ مَا أَنَا عَلَيْهِ الْيَوْمَ وَأَصْحَابِي» یعنی وہ لوگ جو اس پر ہوں جس پر آج میں اور میرے اصحاب رضی اللہ عنہم ہیں ۔ [سنن ترمذي:2641] ‏

(‏برادران غور فرمائیے کہ وہ چیز جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے وہ وحی اللہ یعنی قرآن و حدیث ہی تھی یا کسی امام کی تقلید؟)

صفحہ نمبر6793

انسان کی مختلف حالتیں ٭٭

اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہا ہے کہ ” دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں “۔

«لِيَكْفُرُوا» میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلو گے۔

بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کوتوال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہرچیز ہے اور جس کا صرف یہ کہدینا ہر امر کے لیے کافی ہے کہ ہو جا۔ پھر مشرکین کا محض بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ” ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری “۔

صفحہ نمبر6796

پھر انسان کی ایک بے ہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ ” سوائے چند ہستیوں کے عموماً حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہو جاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں “۔

صحیح حدیث میں ہے مومن پر تعجب ہے اس کے لیے اللہ کی ہر قضاء بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے ۔ [صحیح مسلم:2999] ‏

اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لیے نشان ہیں۔

صفحہ نمبر6797

انسان کی مختلف حالتیں ٭٭

اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہا ہے کہ ” دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں “۔

«لِيَكْفُرُوا» میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلو گے۔

بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کوتوال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہرچیز ہے اور جس کا صرف یہ کہدینا ہر امر کے لیے کافی ہے کہ ہو جا۔ پھر مشرکین کا محض بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ” ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری “۔

صفحہ نمبر6796

پھر انسان کی ایک بے ہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ ” سوائے چند ہستیوں کے عموماً حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہو جاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں “۔

صحیح حدیث میں ہے مومن پر تعجب ہے اس کے لیے اللہ کی ہر قضاء بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے ۔ [صحیح مسلم:2999] ‏

اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لیے نشان ہیں۔

صفحہ نمبر6797

انسان کی مختلف حالتیں ٭٭

اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہا ہے کہ ” دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں “۔

«لِيَكْفُرُوا» میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلو گے۔

بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کوتوال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہرچیز ہے اور جس کا صرف یہ کہدینا ہر امر کے لیے کافی ہے کہ ہو جا۔ پھر مشرکین کا محض بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ” ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری “۔

صفحہ نمبر6796

پھر انسان کی ایک بے ہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ ” سوائے چند ہستیوں کے عموماً حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہو جاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں “۔

صحیح حدیث میں ہے مومن پر تعجب ہے اس کے لیے اللہ کی ہر قضاء بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے ۔ [صحیح مسلم:2999] ‏

اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لیے نشان ہیں۔

صفحہ نمبر6797

انسان کی مختلف حالتیں ٭٭

اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہا ہے کہ ” دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں “۔

«لِيَكْفُرُوا» میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلو گے۔

بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کوتوال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہرچیز ہے اور جس کا صرف یہ کہدینا ہر امر کے لیے کافی ہے کہ ہو جا۔ پھر مشرکین کا محض بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ” ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری “۔

صفحہ نمبر6796

پھر انسان کی ایک بے ہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ ” سوائے چند ہستیوں کے عموماً حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہو جاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں “۔

صحیح حدیث میں ہے مومن پر تعجب ہے اس کے لیے اللہ کی ہر قضاء بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے ۔ [صحیح مسلم:2999] ‏

اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لیے نشان ہیں۔

صفحہ نمبر6797

انسان کی مختلف حالتیں ٭٭

اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہا ہے کہ ” دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں “۔

«لِيَكْفُرُوا» میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلو گے۔

بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کوتوال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہرچیز ہے اور جس کا صرف یہ کہدینا ہر امر کے لیے کافی ہے کہ ہو جا۔ پھر مشرکین کا محض بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ” ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری “۔

صفحہ نمبر6796

پھر انسان کی ایک بے ہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ ” سوائے چند ہستیوں کے عموماً حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہو جاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں “۔

صحیح حدیث میں ہے مومن پر تعجب ہے اس کے لیے اللہ کی ہر قضاء بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے ۔ [صحیح مسلم:2999] ‏

اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لیے نشان ہیں۔

صفحہ نمبر6797

صلہ رحمی کی تاکید ٭٭

قرابتداروں کے ساتھ نیکی سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسکین اسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو یا کچھ ہو لیکن بقدر کفایت نہ ہو۔ اس کے ساتھ بھی سلوک واحسان کرنے کا حکم ہو رہا ہے۔

مسافر جس کا خرچ کم پڑ گیا ہو اور سفر خرچ پاس نہ رہا ہو اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن دیدار اللہ کریں حقیقت میں انسان کے لیے اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ دنیا اور آخرت میں نجات ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔ اس دوسری آیت کی تفسیر تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مجاہد، ضحاک، قتادۃ، عکرمہ، محمد بن کعب اور شعبی رحمہ اللہ علیہم سے یہ مروی ہے کہ جو شخص کوئی عطیہ اس ارادے سے دے کہ لوگ اسے اس سے زیادہ دیں۔ تو گو اس ارادے سے ہدیہ دینا ہے تو مباح لیکن ثواب سے خالی ہے۔ اللہ کے ہاں اس کا بدلہ کچھ نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی روک دیا اس معنی میں یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص ہوگا۔

صفحہ نمبر6802

اسی کی مشابہ آیت «وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ» [74-المدثر:6] ‏ ہے یعنی ” زیادتی معاوضہ کی نیت سے کسی کے ساتھ احسان نہ کیا کرو “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”سود یعنی نفع کی دوصورتیں ہیں ایک تو بیوپار تجارت میں سود یہ تو حرام محض ہے۔ دوسرا سود یعنی زیادتی جس میں کوئی حرج نہیں وہ کسی کو اس ارادہ سے ہدیہ تحفہ دینا ہے کہ یہ مجھے اس سے زیادہ دے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اللہ کے پاس ثواب تو زکوٰۃ کے ادا کرنے کا ہے۔ زکوٰۃ دینے والوں کو بہت برکتیں ہوتی ہیں۔‏“

صحیح حدیث میں ہے کہ جو شخص ایک کھجور بھی صدقے میں دے لیکن حلال طور سے حاصل کی ہوئی ہو تو اسے اللہ تعالیٰ رحمن و رحیم اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور اسطرح پالتا اور بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہی ایک کھجور احد پہاڑ سے بھی بڑی ہو جاتی ہے ۔ [صحیح بخاری:1410] ‏

اللہ ہی خالق ورازق ہے۔ انسان اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا، بےعلم، بے کان، بےآنکھ، بےطاقت نکلتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے سب چیزیں عطا فرماتا ہے۔ مال، ملکیت، کمائی، تجارت غرض بےشمار نعمتیں عطا فرماتا ہے۔

صفحہ نمبر6803

دوصحابیوں رضوان اللہ علیہم کا بیان ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ بٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو سرہ لنے لگے تب تک بھی روزی سے کوئی محروم نہیں رہتا۔ انسان ننگا بھوکا دنیا میں آتا ہے ایک چھلکا بھی اس کے بدن پر نہیں ہوتا پھر رب ہی اسے روزیاں دیتا ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:4798،] ‏۔

اس حیات کے بعد تمہیں مار ڈالے گا پھر قیامت کے دن زندہ کرے گا۔ اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کر رہے ہو ان میں سے ایک بھی ان باتوں میں سے کسی ایک پر قابو نہیں رکھتا۔ ان کاموں میں سے ایک بھی کوئی نہیں کر سکتا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی تنہا خالق رازق اور موت زندگی کا مالک ہے۔ وہی قیامت کے دن تمام مخلوق کو جلا دے گا۔ اس کی مقدس، منزہ، معظم اور عزت وجلال والی ذات اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا شریک ہو یا اس جیسا ہو یا اس کے برابر ہو یا اس کی اولاد ہو یا ماں باپ ہوں وہ «احد» ہے، «صمد» ہے، فرد ہے، ماں باپ اولاد سے پاک ہے اس کا کفو کوئی نہیں۔

صفحہ نمبر6804

صلہ رحمی کی تاکید ٭٭

قرابتداروں کے ساتھ نیکی سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسکین اسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو یا کچھ ہو لیکن بقدر کفایت نہ ہو۔ اس کے ساتھ بھی سلوک واحسان کرنے کا حکم ہو رہا ہے۔

مسافر جس کا خرچ کم پڑ گیا ہو اور سفر خرچ پاس نہ رہا ہو اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن دیدار اللہ کریں حقیقت میں انسان کے لیے اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ دنیا اور آخرت میں نجات ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔ اس دوسری آیت کی تفسیر تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مجاہد، ضحاک، قتادۃ، عکرمہ، محمد بن کعب اور شعبی رحمہ اللہ علیہم سے یہ مروی ہے کہ جو شخص کوئی عطیہ اس ارادے سے دے کہ لوگ اسے اس سے زیادہ دیں۔ تو گو اس ارادے سے ہدیہ دینا ہے تو مباح لیکن ثواب سے خالی ہے۔ اللہ کے ہاں اس کا بدلہ کچھ نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی روک دیا اس معنی میں یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص ہوگا۔

صفحہ نمبر6802

اسی کی مشابہ آیت «وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ» [74-المدثر:6] ‏ ہے یعنی ” زیادتی معاوضہ کی نیت سے کسی کے ساتھ احسان نہ کیا کرو “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”سود یعنی نفع کی دوصورتیں ہیں ایک تو بیوپار تجارت میں سود یہ تو حرام محض ہے۔ دوسرا سود یعنی زیادتی جس میں کوئی حرج نہیں وہ کسی کو اس ارادہ سے ہدیہ تحفہ دینا ہے کہ یہ مجھے اس سے زیادہ دے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اللہ کے پاس ثواب تو زکوٰۃ کے ادا کرنے کا ہے۔ زکوٰۃ دینے والوں کو بہت برکتیں ہوتی ہیں۔‏“

صحیح حدیث میں ہے کہ جو شخص ایک کھجور بھی صدقے میں دے لیکن حلال طور سے حاصل کی ہوئی ہو تو اسے اللہ تعالیٰ رحمن و رحیم اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور اسطرح پالتا اور بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہی ایک کھجور احد پہاڑ سے بھی بڑی ہو جاتی ہے ۔ [صحیح بخاری:1410] ‏

اللہ ہی خالق ورازق ہے۔ انسان اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا، بےعلم، بے کان، بےآنکھ، بےطاقت نکلتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے سب چیزیں عطا فرماتا ہے۔ مال، ملکیت، کمائی، تجارت غرض بےشمار نعمتیں عطا فرماتا ہے۔

صفحہ نمبر6803

دوصحابیوں رضوان اللہ علیہم کا بیان ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ بٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو سرہ لنے لگے تب تک بھی روزی سے کوئی محروم نہیں رہتا۔ انسان ننگا بھوکا دنیا میں آتا ہے ایک چھلکا بھی اس کے بدن پر نہیں ہوتا پھر رب ہی اسے روزیاں دیتا ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:4798،] ‏۔

اس حیات کے بعد تمہیں مار ڈالے گا پھر قیامت کے دن زندہ کرے گا۔ اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کر رہے ہو ان میں سے ایک بھی ان باتوں میں سے کسی ایک پر قابو نہیں رکھتا۔ ان کاموں میں سے ایک بھی کوئی نہیں کر سکتا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی تنہا خالق رازق اور موت زندگی کا مالک ہے۔ وہی قیامت کے دن تمام مخلوق کو جلا دے گا۔ اس کی مقدس، منزہ، معظم اور عزت وجلال والی ذات اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا شریک ہو یا اس جیسا ہو یا اس کے برابر ہو یا اس کی اولاد ہو یا ماں باپ ہوں وہ «احد» ہے، «صمد» ہے، فرد ہے، ماں باپ اولاد سے پاک ہے اس کا کفو کوئی نہیں۔

صفحہ نمبر6804

صلہ رحمی کی تاکید ٭٭

قرابتداروں کے ساتھ نیکی سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسکین اسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو یا کچھ ہو لیکن بقدر کفایت نہ ہو۔ اس کے ساتھ بھی سلوک واحسان کرنے کا حکم ہو رہا ہے۔

مسافر جس کا خرچ کم پڑ گیا ہو اور سفر خرچ پاس نہ رہا ہو اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن دیدار اللہ کریں حقیقت میں انسان کے لیے اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ دنیا اور آخرت میں نجات ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔ اس دوسری آیت کی تفسیر تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مجاہد، ضحاک، قتادۃ، عکرمہ، محمد بن کعب اور شعبی رحمہ اللہ علیہم سے یہ مروی ہے کہ جو شخص کوئی عطیہ اس ارادے سے دے کہ لوگ اسے اس سے زیادہ دیں۔ تو گو اس ارادے سے ہدیہ دینا ہے تو مباح لیکن ثواب سے خالی ہے۔ اللہ کے ہاں اس کا بدلہ کچھ نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی روک دیا اس معنی میں یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص ہوگا۔

صفحہ نمبر6802

اسی کی مشابہ آیت «وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ» [74-المدثر:6] ‏ ہے یعنی ” زیادتی معاوضہ کی نیت سے کسی کے ساتھ احسان نہ کیا کرو “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”سود یعنی نفع کی دوصورتیں ہیں ایک تو بیوپار تجارت میں سود یہ تو حرام محض ہے۔ دوسرا سود یعنی زیادتی جس میں کوئی حرج نہیں وہ کسی کو اس ارادہ سے ہدیہ تحفہ دینا ہے کہ یہ مجھے اس سے زیادہ دے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اللہ کے پاس ثواب تو زکوٰۃ کے ادا کرنے کا ہے۔ زکوٰۃ دینے والوں کو بہت برکتیں ہوتی ہیں۔‏“

صحیح حدیث میں ہے کہ جو شخص ایک کھجور بھی صدقے میں دے لیکن حلال طور سے حاصل کی ہوئی ہو تو اسے اللہ تعالیٰ رحمن و رحیم اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور اسطرح پالتا اور بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہی ایک کھجور احد پہاڑ سے بھی بڑی ہو جاتی ہے ۔ [صحیح بخاری:1410] ‏

اللہ ہی خالق ورازق ہے۔ انسان اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا، بےعلم، بے کان، بےآنکھ، بےطاقت نکلتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے سب چیزیں عطا فرماتا ہے۔ مال، ملکیت، کمائی، تجارت غرض بےشمار نعمتیں عطا فرماتا ہے۔

صفحہ نمبر6803

دوصحابیوں رضوان اللہ علیہم کا بیان ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ بٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو سرہ لنے لگے تب تک بھی روزی سے کوئی محروم نہیں رہتا۔ انسان ننگا بھوکا دنیا میں آتا ہے ایک چھلکا بھی اس کے بدن پر نہیں ہوتا پھر رب ہی اسے روزیاں دیتا ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:4798،] ‏۔

اس حیات کے بعد تمہیں مار ڈالے گا پھر قیامت کے دن زندہ کرے گا۔ اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کر رہے ہو ان میں سے ایک بھی ان باتوں میں سے کسی ایک پر قابو نہیں رکھتا۔ ان کاموں میں سے ایک بھی کوئی نہیں کر سکتا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی تنہا خالق رازق اور موت زندگی کا مالک ہے۔ وہی قیامت کے دن تمام مخلوق کو جلا دے گا۔ اس کی مقدس، منزہ، معظم اور عزت وجلال والی ذات اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا شریک ہو یا اس جیسا ہو یا اس کے برابر ہو یا اس کی اولاد ہو یا ماں باپ ہوں وہ «احد» ہے، «صمد» ہے، فرد ہے، ماں باپ اولاد سے پاک ہے اس کا کفو کوئی نہیں۔

صفحہ نمبر6804

زمین کی اصلاح اللہ تعالٰی کی اطاعت میں مضمر ہے ٭٭

ممکن ہے «بَرِّ» یعنی خشکی سے مراد میدان اور جنگل ہوں اور «بَحْرِ» یعنی تری سے مراد شہر اور دیہات ہوں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ بر کہتے ہیں خشکی کو اور بحر کہتے ہیں تری کو خشکی کے فساد سے مراد بارش کا نہ ہونا پیداوار کا نہ ہونا قحط سالیوں کا آنا ہے۔ تری کے فساد سے مراد بارش کا رک جانا جس سے پانی کے جانور اندھے ہو جاتے ہیں۔ انسان کا قتل اور کشتیوں کا جبر چھین جھپٹ لینا یہ خشکی تری کا فساد ہے۔

«بَحْرِ» سے مراد جزیرے اور «بَرِّ» سے مراد شہر اور بستیاں ہیں۔ لیکن اول قول زیادہ ظاہر ہے اور اسی کی تائید محمد بن اسحاق کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایلہ کے بادشاہ سے صلح کی اور اس کا بحر یعنی شہر اسی کے نام کر دیا ۔ [طبقات ابن سعد:220/1:] ‏

پھلوں کا اناج کا نقصان دراصل انسان کے گناہوں کی وجہ سے ہے اللہ کے نافرمان زمین کے بگاڑنے والے ہیں۔ آسمان و زمین کی اصلاح اللہ کی عبادت و اطاعت سے ہے۔ ابوداؤد میں حدیث ہے کہ زمین پر ایک حد کا قائم ہونا زمین والوں کے حق میں چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے ۔ [سنن ابن ماجه:2538، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏۔

یہ اس لیے کہ حد قائم ہونے سے مجرم گناہوں سے باز رہیں گے۔ اور جب گناہ نہ ہونگے تو آسمانی اور زمینی برکتیں لوگوں کو حاصل ہونگی۔ چنانچہ آخر زمانے میں جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے اور اس پاک شریعت کے مطابق فیصلے کریں گے مثلا خنزیر کا قتل، صلیب کی شکست، جزئیے کا ترک یعنی اسلام کی قبولیت یا جنگ پھر جب آپ علیہ السلام کے زمانے میں دجال اور اس کے مرید ہلاک ہو جائیں گے یاجوج ماجوج تباہ ہو جائیں گے تو زمین سے کہا جائے گا کہ اپنی برکتیں لوٹادے اس دن ایک انار لوگوں کی ایک بڑی جماعت کو کافی ہوگا اتنا بڑا ہوگا کہ اس کے چھلکے تلے یہ سب لوگ سایہ حاصل کرلیں۔ ایک اونٹنی کا دودھ ایک پورے قبیلے کو کفایت کرے گا۔ یہ ساری برکتیں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے جاری کرنے کی وجہ سے ہونگی جیسے جیسے عدل و انصاف مطابق شرع بڑھے گا ویسے ویسے خیر و برکت بڑھتی چلی جائے گی۔ اس کے برخلاف فاجر شخص کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ اس کے مرنے پر بندے، شہر، درخت اور جانور سب راحت پالیتے ہیں [صحیح بخاری:6512] ‏

صفحہ نمبر6807

مسند امام احمد بن حنبل میں ہے کہ ”زیاد کے زمانے میں ایک تھیلی پائی گئی جس میں کھجور کی بڑی گھٹلی جیسے گہیوں کے دانے تھے اور اس میں لکھا ہوا تھا کہ یہ اس زمانے میں اگتے تھے جس میں عدل وانصاف کو کام میں لایا جاتا تھا۔‏“ [مسند احمد:296/2:ضعیف] ‏ سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”فساد سے شرک ہے“ لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” مال اور پیداوار کی اور پھر اناج کی کمی بطور آزمائش کے اور بطور ان کے بعض اعمال کے بدلے کے ہے “۔

جیسے اور جگہ ہے آیت «وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [7-الأعراف:168] ‏ ” ہم نے انہیں بھلائیوں برائیوں میں مبتلاکیا تاکہ وہ لوٹ جائیں “۔

” تم زمین میں چل پھر کر آپ ہی دیکھ لو کہ تم سے پہلے جو مشرک تھے اس کے نتیجے کیا ہوئے؟ رسولوں کی نہ ماننے اللہ کے ساتھ کفر کرنے کا کیا وبال ان پر آیا؟ یہ دیکھو اور عبرت حاصل کرو “۔

صفحہ نمبر6808

زمین کی اصلاح اللہ تعالٰی کی اطاعت میں مضمر ہے ٭٭

ممکن ہے «بَرِّ» یعنی خشکی سے مراد میدان اور جنگل ہوں اور «بَحْرِ» یعنی تری سے مراد شہر اور دیہات ہوں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ بر کہتے ہیں خشکی کو اور بحر کہتے ہیں تری کو خشکی کے فساد سے مراد بارش کا نہ ہونا پیداوار کا نہ ہونا قحط سالیوں کا آنا ہے۔ تری کے فساد سے مراد بارش کا رک جانا جس سے پانی کے جانور اندھے ہو جاتے ہیں۔ انسان کا قتل اور کشتیوں کا جبر چھین جھپٹ لینا یہ خشکی تری کا فساد ہے۔

«بَحْرِ» سے مراد جزیرے اور «بَرِّ» سے مراد شہر اور بستیاں ہیں۔ لیکن اول قول زیادہ ظاہر ہے اور اسی کی تائید محمد بن اسحاق کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایلہ کے بادشاہ سے صلح کی اور اس کا بحر یعنی شہر اسی کے نام کر دیا ۔ [طبقات ابن سعد:220/1:] ‏

پھلوں کا اناج کا نقصان دراصل انسان کے گناہوں کی وجہ سے ہے اللہ کے نافرمان زمین کے بگاڑنے والے ہیں۔ آسمان و زمین کی اصلاح اللہ کی عبادت و اطاعت سے ہے۔ ابوداؤد میں حدیث ہے کہ زمین پر ایک حد کا قائم ہونا زمین والوں کے حق میں چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے ۔ [سنن ابن ماجه:2538، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏۔

یہ اس لیے کہ حد قائم ہونے سے مجرم گناہوں سے باز رہیں گے۔ اور جب گناہ نہ ہونگے تو آسمانی اور زمینی برکتیں لوگوں کو حاصل ہونگی۔ چنانچہ آخر زمانے میں جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے اور اس پاک شریعت کے مطابق فیصلے کریں گے مثلا خنزیر کا قتل، صلیب کی شکست، جزئیے کا ترک یعنی اسلام کی قبولیت یا جنگ پھر جب آپ علیہ السلام کے زمانے میں دجال اور اس کے مرید ہلاک ہو جائیں گے یاجوج ماجوج تباہ ہو جائیں گے تو زمین سے کہا جائے گا کہ اپنی برکتیں لوٹادے اس دن ایک انار لوگوں کی ایک بڑی جماعت کو کافی ہوگا اتنا بڑا ہوگا کہ اس کے چھلکے تلے یہ سب لوگ سایہ حاصل کرلیں۔ ایک اونٹنی کا دودھ ایک پورے قبیلے کو کفایت کرے گا۔ یہ ساری برکتیں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے جاری کرنے کی وجہ سے ہونگی جیسے جیسے عدل و انصاف مطابق شرع بڑھے گا ویسے ویسے خیر و برکت بڑھتی چلی جائے گی۔ اس کے برخلاف فاجر شخص کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ اس کے مرنے پر بندے، شہر، درخت اور جانور سب راحت پالیتے ہیں [صحیح بخاری:6512] ‏

صفحہ نمبر6807

مسند امام احمد بن حنبل میں ہے کہ ”زیاد کے زمانے میں ایک تھیلی پائی گئی جس میں کھجور کی بڑی گھٹلی جیسے گہیوں کے دانے تھے اور اس میں لکھا ہوا تھا کہ یہ اس زمانے میں اگتے تھے جس میں عدل وانصاف کو کام میں لایا جاتا تھا۔‏“ [مسند احمد:296/2:ضعیف] ‏ سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”فساد سے شرک ہے“ لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” مال اور پیداوار کی اور پھر اناج کی کمی بطور آزمائش کے اور بطور ان کے بعض اعمال کے بدلے کے ہے “۔

جیسے اور جگہ ہے آیت «وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [7-الأعراف:168] ‏ ” ہم نے انہیں بھلائیوں برائیوں میں مبتلاکیا تاکہ وہ لوٹ جائیں “۔

” تم زمین میں چل پھر کر آپ ہی دیکھ لو کہ تم سے پہلے جو مشرک تھے اس کے نتیجے کیا ہوئے؟ رسولوں کی نہ ماننے اللہ کے ساتھ کفر کرنے کا کیا وبال ان پر آیا؟ یہ دیکھو اور عبرت حاصل کرو “۔

صفحہ نمبر6808

اللہ کے دین میں مستحکم ہو جاؤ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے، ” مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے “۔

جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہو چکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی ساعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہو جائیں گے۔ ایک جماعت جنت میں، ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے۔ نیک اعمال لوگ اپنے کئے ہوئے بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش و خرم ہونگے۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کر کے دے رہا ہو گا۔ ایک ایک نیکی دس دس بلکہ سات سات سو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ کر کے انہیں ملے گی۔ کفار اللہ کے دوست نہیں لیکن تاہم ان پر بھی ظلم نہ ہوگا۔

صفحہ نمبر6810

اللہ کے دین میں مستحکم ہو جاؤ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے، ” مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے “۔

جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہو چکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی ساعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہو جائیں گے۔ ایک جماعت جنت میں، ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے۔ نیک اعمال لوگ اپنے کئے ہوئے بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش و خرم ہونگے۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کر کے دے رہا ہو گا۔ ایک ایک نیکی دس دس بلکہ سات سات سو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ کر کے انہیں ملے گی۔ کفار اللہ کے دوست نہیں لیکن تاہم ان پر بھی ظلم نہ ہوگا۔

صفحہ نمبر6810

اللہ کے دین میں مستحکم ہو جاؤ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے، ” مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے “۔

جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہو چکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی ساعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہو جائیں گے۔ ایک جماعت جنت میں، ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے۔ نیک اعمال لوگ اپنے کئے ہوئے بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش و خرم ہونگے۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کر کے دے رہا ہو گا۔ ایک ایک نیکی دس دس بلکہ سات سات سو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ کر کے انہیں ملے گی۔ کفار اللہ کے دوست نہیں لیکن تاہم ان پر بھی ظلم نہ ہوگا۔

صفحہ نمبر6810

مسلمان بھائی کی اعانت پر جہنم سے نجات کا وعدہ ٭٭

بارش کے آنے سے پہلے بھینی بھینی ہواؤں کا چلنا اور لوگوں کو بارش کی امید دلانا۔ اس کے بعد مینہ برسانا تاکہ بستیاں آباد رہیں اور جاندار زندہ رہیں سمندروں اور دریاؤں میں جہاز اور کشتیاں چلیں۔ کیونکہ کشتیوں کا چلنا بھی ہوا پر موقوف ہے۔

” اب تم اپنی تجارت اور کمائی دھندے کے لیے ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر جاسکو۔ پس تمہیں چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کی ان بےشمار ان گنت تعمتوں پر اس کا شکریہ ادا کرو “۔

پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین اور تسلی دینے کے لیے فرماتا ہے کہ ” اگر آپ کو لوگ جھٹلاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کوئی انوکھی بات نہ سمجھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے رسولوں کو بھی ان کی امتوں نے ایسے ہی ٹیڑھے ترچھے فقرے سنائے ہیں۔ وہ بھی صاف روشن اور واضح دلیلیں معجزے اور احکام لائے تھے بالآخر جھٹلانے والے عذاب کے شنکجے میں کس دئیے گئے اور مومنوں کو اس وقت ہر قسم کی برائی سے نجات ملی “۔

اپنے فضل سے اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے نفس کریم پر یہ بات لازم کر لی ہے کہ وہ اپنے با ایمان بندوں کو مدد دے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت «كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ» [6-الأنعام:54] ‏۔

ابن ابی حاتم میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی آبرو بچالے اللہ پر حق ہے کہ وہ اس سے جہنم کی آگ کو ہٹالے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا آیت «وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ» [30-الروم:47] ‏۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:580،] ‏

صفحہ نمبر6813

مسلمان بھائی کی اعانت پر جہنم سے نجات کا وعدہ ٭٭

بارش کے آنے سے پہلے بھینی بھینی ہواؤں کا چلنا اور لوگوں کو بارش کی امید دلانا۔ اس کے بعد مینہ برسانا تاکہ بستیاں آباد رہیں اور جاندار زندہ رہیں سمندروں اور دریاؤں میں جہاز اور کشتیاں چلیں۔ کیونکہ کشتیوں کا چلنا بھی ہوا پر موقوف ہے۔

” اب تم اپنی تجارت اور کمائی دھندے کے لیے ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر جاسکو۔ پس تمہیں چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کی ان بےشمار ان گنت تعمتوں پر اس کا شکریہ ادا کرو “۔

پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین اور تسلی دینے کے لیے فرماتا ہے کہ ” اگر آپ کو لوگ جھٹلاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کوئی انوکھی بات نہ سمجھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے رسولوں کو بھی ان کی امتوں نے ایسے ہی ٹیڑھے ترچھے فقرے سنائے ہیں۔ وہ بھی صاف روشن اور واضح دلیلیں معجزے اور احکام لائے تھے بالآخر جھٹلانے والے عذاب کے شنکجے میں کس دئیے گئے اور مومنوں کو اس وقت ہر قسم کی برائی سے نجات ملی “۔

اپنے فضل سے اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے نفس کریم پر یہ بات لازم کر لی ہے کہ وہ اپنے با ایمان بندوں کو مدد دے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت «كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ» [6-الأنعام:54] ‏۔

ابن ابی حاتم میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی آبرو بچالے اللہ پر حق ہے کہ وہ اس سے جہنم کی آگ کو ہٹالے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا آیت «وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ» [30-الروم:47] ‏۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:580،] ‏

صفحہ نمبر6813

ناامیدی کے اندھیروں میں امید کے اجالے رحمت و زحمت کی ہوائیں ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا تو سمندر پر سے یا جس طرح اور جہاں سے اللہ کا حکم ہو۔ پھر رب العالمین ابر کو آسمان پر پھیلا دیتا ہے اسے بڑھا دیتا ہے تھوڑے کو زیادہ کر دیتا ہے “۔

تم نے اکثر دیکھا ہو گا کہ بالشت دو بالشت کا ابر اٹھا پھر جو وہ پھیلا تو آسمان کے کنارے ڈھانپ لیے۔ اور کبھی یہ بھی دیکھا ہوگا کہ سمندروں سے پانی کے بھرے ابر اٹھتے ہیں۔ اسی مضمون کو آیت «‏وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ» [7-الاعراف:57] ‏، میں بیان فرمایا ہے پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے اور تہہ بہ تہہ کر دیتا ہے۔ وہ پانی سے سیاہ ہو جاتے ہیں۔ زمین کے قریب ہو جاتے ہیں۔ پھر بارش ان بادلوں کے درمیان سے برسنے لگتی ہے جہاں برسی وہیں کے لوگوں کی باچھیں کھل گئیں۔

پھر فرماتا ہے ” یہی لوگ بارش سے ناامید ہو چکے تھے اور پوری نا امیدی کے وقت بلکہ نا امیدی کے بعد ان پر بارشیں برسیں اور جل تھل ہوگئے “۔ دو دفعہ «مِنْ قَبْلِ» کا لفظ لانا تاکید کے لیے ہے۔ «ہٖ» کی ضمیر کا مرجع «اِنْزَال» ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تاسیسی دلالت ہو۔ یعنی بارش ہونے سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے وقت کے ختم ہو جانے کے قریب بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ مایوس ہو چکے تھے۔

صفحہ نمبر6815

پھر اس نا امیدی کے بعد دفعتاً ابر اٹھتا ہے اور برس جاتا ہے اور ریل پیل کر دیتا ہے۔ اور ان کی خشک زمین تر ہو جاتی ہے قحط سالی ترسالی سے بدل جاتی ہے۔ یا تو زمین صاف چٹیل میدان تھی یا ہر طرف ہریاول دکھائی دینے لگتی ہے۔

دیکھ لو کہ پروردگار عالم بارش سے کس طرح مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے، یاد رکھو جس رب کی یہ قدرت تم دیکھ رہے وہ ایک دن مردوں کو ان قبروں سے بھی نکالنے والا ہے۔ حالانکہ ان کے جسم گل سڑگئے ہونگے۔ سمجھ لو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے ” اگر ہم باد تند چلائیں اگر آندھیاں آ جائیں اور ان کی لہلاتی ہوئی کھیتیاں پژمردہ ہو جائیں تو وہ پھر سے کفر کرنے لگ جاتے ہیں “۔ چنانچہ سورۃ الواقعہ میں بھی یہی بیان ہوا ہے۔ آیت «‏اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ» ‏ [56-الواقعة:63] ‏ سے «‏بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ» [56-الواقعة:67] ‏ تک۔

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہوائیں آٹھ قسم کی ہیں چار رحمت کی چار زحمت کی۔ ناشرات، مبشرات، مرسلات اور ذاریات تو رحمت کی ہیں۔ اور عقیم، صرصر، عاصف اور قاصف عذاب کی۔ ان میں پہلی دو خشکیوں کی ہیں اور آخری دو تری کی۔

صفحہ نمبر6816

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہوائیں دوسری سے مسخر ہیں یعنی دوسری زمین سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی ہلاکت کا ارادہ کیا تو ہواؤں کے داروغہ کو یہ حکم دیا اس نے دریافت کیا کہ جناب باری تعالیٰ کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا سوراخ کر دوں جتنا بیل کا نتھا ہوتا ہے؟ تو فرمان اللہ ہوا کہ ” نہیں نہیں اگر ایسا ہوا تو کل زمین اور زمین کی پوری چیزیں الٹ پلٹ ہو جائیں گی۔ اتنا نہیں بلکہ اتنا روزن کر جتنا انگوٹھی میں نگینہ ہوتا ہے “۔ اب صرف اتنے سوراخ سے وہ ہوا چلی جو جہاں پہنچی وہاں بھس اڑادیا۔ جس چیز پر سے گزری اسے بے نشان کر دیا ۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا مرفوع ہونا مکروہ ہے۔ زیادہ ظاہر یہی ہے کہ یہ خود سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ (‏ [ضعیف] ‏:اسکی سند میں درج راوی ضعیف ہے)‏

صفحہ نمبر6817

ناامیدی کے اندھیروں میں امید کے اجالے رحمت و زحمت کی ہوائیں ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا تو سمندر پر سے یا جس طرح اور جہاں سے اللہ کا حکم ہو۔ پھر رب العالمین ابر کو آسمان پر پھیلا دیتا ہے اسے بڑھا دیتا ہے تھوڑے کو زیادہ کر دیتا ہے “۔

تم نے اکثر دیکھا ہو گا کہ بالشت دو بالشت کا ابر اٹھا پھر جو وہ پھیلا تو آسمان کے کنارے ڈھانپ لیے۔ اور کبھی یہ بھی دیکھا ہوگا کہ سمندروں سے پانی کے بھرے ابر اٹھتے ہیں۔ اسی مضمون کو آیت «‏وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ» [7-الاعراف:57] ‏، میں بیان فرمایا ہے پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے اور تہہ بہ تہہ کر دیتا ہے۔ وہ پانی سے سیاہ ہو جاتے ہیں۔ زمین کے قریب ہو جاتے ہیں۔ پھر بارش ان بادلوں کے درمیان سے برسنے لگتی ہے جہاں برسی وہیں کے لوگوں کی باچھیں کھل گئیں۔

پھر فرماتا ہے ” یہی لوگ بارش سے ناامید ہو چکے تھے اور پوری نا امیدی کے وقت بلکہ نا امیدی کے بعد ان پر بارشیں برسیں اور جل تھل ہوگئے “۔ دو دفعہ «مِنْ قَبْلِ» کا لفظ لانا تاکید کے لیے ہے۔ «ہٖ» کی ضمیر کا مرجع «اِنْزَال» ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تاسیسی دلالت ہو۔ یعنی بارش ہونے سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے وقت کے ختم ہو جانے کے قریب بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ مایوس ہو چکے تھے۔

صفحہ نمبر6815

پھر اس نا امیدی کے بعد دفعتاً ابر اٹھتا ہے اور برس جاتا ہے اور ریل پیل کر دیتا ہے۔ اور ان کی خشک زمین تر ہو جاتی ہے قحط سالی ترسالی سے بدل جاتی ہے۔ یا تو زمین صاف چٹیل میدان تھی یا ہر طرف ہریاول دکھائی دینے لگتی ہے۔

دیکھ لو کہ پروردگار عالم بارش سے کس طرح مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے، یاد رکھو جس رب کی یہ قدرت تم دیکھ رہے وہ ایک دن مردوں کو ان قبروں سے بھی نکالنے والا ہے۔ حالانکہ ان کے جسم گل سڑگئے ہونگے۔ سمجھ لو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے ” اگر ہم باد تند چلائیں اگر آندھیاں آ جائیں اور ان کی لہلاتی ہوئی کھیتیاں پژمردہ ہو جائیں تو وہ پھر سے کفر کرنے لگ جاتے ہیں “۔ چنانچہ سورۃ الواقعہ میں بھی یہی بیان ہوا ہے۔ آیت «‏اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ» ‏ [56-الواقعة:63] ‏ سے «‏بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ» [56-الواقعة:67] ‏ تک۔

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہوائیں آٹھ قسم کی ہیں چار رحمت کی چار زحمت کی۔ ناشرات، مبشرات، مرسلات اور ذاریات تو رحمت کی ہیں۔ اور عقیم، صرصر، عاصف اور قاصف عذاب کی۔ ان میں پہلی دو خشکیوں کی ہیں اور آخری دو تری کی۔

صفحہ نمبر6816

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہوائیں دوسری سے مسخر ہیں یعنی دوسری زمین سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی ہلاکت کا ارادہ کیا تو ہواؤں کے داروغہ کو یہ حکم دیا اس نے دریافت کیا کہ جناب باری تعالیٰ کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا سوراخ کر دوں جتنا بیل کا نتھا ہوتا ہے؟ تو فرمان اللہ ہوا کہ ” نہیں نہیں اگر ایسا ہوا تو کل زمین اور زمین کی پوری چیزیں الٹ پلٹ ہو جائیں گی۔ اتنا نہیں بلکہ اتنا روزن کر جتنا انگوٹھی میں نگینہ ہوتا ہے “۔ اب صرف اتنے سوراخ سے وہ ہوا چلی جو جہاں پہنچی وہاں بھس اڑادیا۔ جس چیز پر سے گزری اسے بے نشان کر دیا ۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا مرفوع ہونا مکروہ ہے۔ زیادہ ظاہر یہی ہے کہ یہ خود سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ (‏ [ضعیف] ‏:اسکی سند میں درج راوی ضعیف ہے)‏

صفحہ نمبر6817

ناامیدی کے اندھیروں میں امید کے اجالے رحمت و زحمت کی ہوائیں ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا تو سمندر پر سے یا جس طرح اور جہاں سے اللہ کا حکم ہو۔ پھر رب العالمین ابر کو آسمان پر پھیلا دیتا ہے اسے بڑھا دیتا ہے تھوڑے کو زیادہ کر دیتا ہے “۔

تم نے اکثر دیکھا ہو گا کہ بالشت دو بالشت کا ابر اٹھا پھر جو وہ پھیلا تو آسمان کے کنارے ڈھانپ لیے۔ اور کبھی یہ بھی دیکھا ہوگا کہ سمندروں سے پانی کے بھرے ابر اٹھتے ہیں۔ اسی مضمون کو آیت «‏وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ» [7-الاعراف:57] ‏، میں بیان فرمایا ہے پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے اور تہہ بہ تہہ کر دیتا ہے۔ وہ پانی سے سیاہ ہو جاتے ہیں۔ زمین کے قریب ہو جاتے ہیں۔ پھر بارش ان بادلوں کے درمیان سے برسنے لگتی ہے جہاں برسی وہیں کے لوگوں کی باچھیں کھل گئیں۔

پھر فرماتا ہے ” یہی لوگ بارش سے ناامید ہو چکے تھے اور پوری نا امیدی کے وقت بلکہ نا امیدی کے بعد ان پر بارشیں برسیں اور جل تھل ہوگئے “۔ دو دفعہ «مِنْ قَبْلِ» کا لفظ لانا تاکید کے لیے ہے۔ «ہٖ» کی ضمیر کا مرجع «اِنْزَال» ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تاسیسی دلالت ہو۔ یعنی بارش ہونے سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے وقت کے ختم ہو جانے کے قریب بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ مایوس ہو چکے تھے۔

صفحہ نمبر6815

پھر اس نا امیدی کے بعد دفعتاً ابر اٹھتا ہے اور برس جاتا ہے اور ریل پیل کر دیتا ہے۔ اور ان کی خشک زمین تر ہو جاتی ہے قحط سالی ترسالی سے بدل جاتی ہے۔ یا تو زمین صاف چٹیل میدان تھی یا ہر طرف ہریاول دکھائی دینے لگتی ہے۔

دیکھ لو کہ پروردگار عالم بارش سے کس طرح مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے، یاد رکھو جس رب کی یہ قدرت تم دیکھ رہے وہ ایک دن مردوں کو ان قبروں سے بھی نکالنے والا ہے۔ حالانکہ ان کے جسم گل سڑگئے ہونگے۔ سمجھ لو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے ” اگر ہم باد تند چلائیں اگر آندھیاں آ جائیں اور ان کی لہلاتی ہوئی کھیتیاں پژمردہ ہو جائیں تو وہ پھر سے کفر کرنے لگ جاتے ہیں “۔ چنانچہ سورۃ الواقعہ میں بھی یہی بیان ہوا ہے۔ آیت «‏اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ» ‏ [56-الواقعة:63] ‏ سے «‏بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ» [56-الواقعة:67] ‏ تک۔

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہوائیں آٹھ قسم کی ہیں چار رحمت کی چار زحمت کی۔ ناشرات، مبشرات، مرسلات اور ذاریات تو رحمت کی ہیں۔ اور عقیم، صرصر، عاصف اور قاصف عذاب کی۔ ان میں پہلی دو خشکیوں کی ہیں اور آخری دو تری کی۔

صفحہ نمبر6816

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہوائیں دوسری سے مسخر ہیں یعنی دوسری زمین سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی ہلاکت کا ارادہ کیا تو ہواؤں کے داروغہ کو یہ حکم دیا اس نے دریافت کیا کہ جناب باری تعالیٰ کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا سوراخ کر دوں جتنا بیل کا نتھا ہوتا ہے؟ تو فرمان اللہ ہوا کہ ” نہیں نہیں اگر ایسا ہوا تو کل زمین اور زمین کی پوری چیزیں الٹ پلٹ ہو جائیں گی۔ اتنا نہیں بلکہ اتنا روزن کر جتنا انگوٹھی میں نگینہ ہوتا ہے “۔ اب صرف اتنے سوراخ سے وہ ہوا چلی جو جہاں پہنچی وہاں بھس اڑادیا۔ جس چیز پر سے گزری اسے بے نشان کر دیا ۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا مرفوع ہونا مکروہ ہے۔ زیادہ ظاہر یہی ہے کہ یہ خود سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ (‏ [ضعیف] ‏:اسکی سند میں درج راوی ضعیف ہے)‏

صفحہ نمبر6817

ناامیدی کے اندھیروں میں امید کے اجالے رحمت و زحمت کی ہوائیں ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا تو سمندر پر سے یا جس طرح اور جہاں سے اللہ کا حکم ہو۔ پھر رب العالمین ابر کو آسمان پر پھیلا دیتا ہے اسے بڑھا دیتا ہے تھوڑے کو زیادہ کر دیتا ہے “۔

تم نے اکثر دیکھا ہو گا کہ بالشت دو بالشت کا ابر اٹھا پھر جو وہ پھیلا تو آسمان کے کنارے ڈھانپ لیے۔ اور کبھی یہ بھی دیکھا ہوگا کہ سمندروں سے پانی کے بھرے ابر اٹھتے ہیں۔ اسی مضمون کو آیت «‏وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ» [7-الاعراف:57] ‏، میں بیان فرمایا ہے پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے اور تہہ بہ تہہ کر دیتا ہے۔ وہ پانی سے سیاہ ہو جاتے ہیں۔ زمین کے قریب ہو جاتے ہیں۔ پھر بارش ان بادلوں کے درمیان سے برسنے لگتی ہے جہاں برسی وہیں کے لوگوں کی باچھیں کھل گئیں۔

پھر فرماتا ہے ” یہی لوگ بارش سے ناامید ہو چکے تھے اور پوری نا امیدی کے وقت بلکہ نا امیدی کے بعد ان پر بارشیں برسیں اور جل تھل ہوگئے “۔ دو دفعہ «مِنْ قَبْلِ» کا لفظ لانا تاکید کے لیے ہے۔ «ہٖ» کی ضمیر کا مرجع «اِنْزَال» ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تاسیسی دلالت ہو۔ یعنی بارش ہونے سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے وقت کے ختم ہو جانے کے قریب بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ مایوس ہو چکے تھے۔

صفحہ نمبر6815

پھر اس نا امیدی کے بعد دفعتاً ابر اٹھتا ہے اور برس جاتا ہے اور ریل پیل کر دیتا ہے۔ اور ان کی خشک زمین تر ہو جاتی ہے قحط سالی ترسالی سے بدل جاتی ہے۔ یا تو زمین صاف چٹیل میدان تھی یا ہر طرف ہریاول دکھائی دینے لگتی ہے۔

دیکھ لو کہ پروردگار عالم بارش سے کس طرح مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے، یاد رکھو جس رب کی یہ قدرت تم دیکھ رہے وہ ایک دن مردوں کو ان قبروں سے بھی نکالنے والا ہے۔ حالانکہ ان کے جسم گل سڑگئے ہونگے۔ سمجھ لو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے ” اگر ہم باد تند چلائیں اگر آندھیاں آ جائیں اور ان کی لہلاتی ہوئی کھیتیاں پژمردہ ہو جائیں تو وہ پھر سے کفر کرنے لگ جاتے ہیں “۔ چنانچہ سورۃ الواقعہ میں بھی یہی بیان ہوا ہے۔ آیت «‏اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ» ‏ [56-الواقعة:63] ‏ سے «‏بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ» [56-الواقعة:67] ‏ تک۔

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہوائیں آٹھ قسم کی ہیں چار رحمت کی چار زحمت کی۔ ناشرات، مبشرات، مرسلات اور ذاریات تو رحمت کی ہیں۔ اور عقیم، صرصر، عاصف اور قاصف عذاب کی۔ ان میں پہلی دو خشکیوں کی ہیں اور آخری دو تری کی۔

صفحہ نمبر6816

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہوائیں دوسری سے مسخر ہیں یعنی دوسری زمین سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی ہلاکت کا ارادہ کیا تو ہواؤں کے داروغہ کو یہ حکم دیا اس نے دریافت کیا کہ جناب باری تعالیٰ کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا سوراخ کر دوں جتنا بیل کا نتھا ہوتا ہے؟ تو فرمان اللہ ہوا کہ ” نہیں نہیں اگر ایسا ہوا تو کل زمین اور زمین کی پوری چیزیں الٹ پلٹ ہو جائیں گی۔ اتنا نہیں بلکہ اتنا روزن کر جتنا انگوٹھی میں نگینہ ہوتا ہے “۔ اب صرف اتنے سوراخ سے وہ ہوا چلی جو جہاں پہنچی وہاں بھس اڑادیا۔ جس چیز پر سے گزری اسے بے نشان کر دیا ۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا مرفوع ہونا مکروہ ہے۔ زیادہ ظاہر یہی ہے کہ یہ خود سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ (‏ [ضعیف] ‏:اسکی سند میں درج راوی ضعیف ہے)‏

صفحہ نمبر6817

مسئلہ سماع موتی ٭٭

باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ ” جس طرح یہ تیری قدرت سے خارج ہے کہ مردوں کو جو قبروں میں ہوں تو اپنی آواز سنا سکے۔ اور جس طرح یہ ناممکن ہے کہ بہرے شخص کو جبکہ وہ پیٹھ پھیرے منہ موڑے جا رہا ہو تو اپنی بات سنا سکے۔ اسی طرح سے جو حق سے اندھے ہیں تو ان کی رہبری ہدایت کی طرف نہیں کر سکتا۔ ہاں اللہ تو ہرچیز پر قادر ہے جب وہ چاہے مردوں کو زندوں کی آواز سناسکتا ہے۔ ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ تو صرف انہیں سنا سکتا ہے جو با ایمان ہوں اور اللہ کے سامنے جھکنے والے اس کے فرمانبردار ہوں۔ یہ لوگ حق کو سنتے ہیں اور مانتے بھی ہیں “۔ یہ تو حالت مسلمان کی ہوئی اور اس سے پہلے جو حالت بیان ہوئی ہے وہ کافر کی ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ وَالْمَوْتٰى يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ» [6-الأنعام:36] ‏، ” تیری پکار وہی قبول کریں گے جو کان دھر کر سنیں گے مردوں کو اللہ تعالیٰ زندہ کر کے اٹھائے گا پھر سب اس کی طرف لوٹائے جائیں گے “۔

صفحہ نمبر6821

ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مشرکین سے جو جنگ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کئے گئے تھے اور بدر کی کھائیوں میں ان کی لاشیں پھینک دی گئی تھی ان کی موت کے تین دن بعد ان سے خطاب کرکے انہیں ڈانٹا اور غیرت دلائی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کرعرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے خطاب کرتے ہیں جو مر کر مردہ ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم بھی میری اس بات کو جو میں انہیں کہہ رہا ہوں اتنا نہیں سنتے جتنا یہ سن رہے ہیں۔ ہاں وہ جواب نہیں دے سکتے ۔ [صحیح مسلم:2874] ‏

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس واقعہ کوسیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی زبانی سن کر فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ وہ اب بخوبی جانتے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ حق ہے پھر آپ رضی اللہ عنہا نے مردوں کے نہ سن سکنے پر اسی آیت سے استدالال کیا کہ آیت «إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى» ۔ [صحیح بخاری:3980] ‏

قتادۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کر دیا تھا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات انہوں نے سن لی تاکہ انہیں پوری ندامت اور کافی شرم ساری ہو۔‏“ لیکن علماء کے نزدیک عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت بالکل صحیح ہے کیونکہ اس کے بہت سے شواہد ہیں۔

ابن عبد البر رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً ایک روایت صحت کر کے وارد کی ہے کہ ”جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی قبر کے پاس گزرتا ہے جسے یہ دنیا میں پہچانتا تھا اور اسے سلام کرتا ہے تو اللہ اس کی روح لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ جواب دے۔‏“

«وَرَوَى ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا بِإِسْنَادِهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ عَاصِمٍ الْجَحْدَرِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ عَاصِمًا الْجَحْدَرَيَّ فِي مَنَامِي بَعْدَ مَوْتِهِ بِسَنَتَيْنِ، فَقُلْتُ: أَلَيْسَ قَدْ مِتَّ؟ قَالَ: بَلَى، قُلْتُ: فَأَيْنَ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا - وَاللَّهِ - فِي رَوْضَةٍ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، أَنَا وَنَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِي نَجْتَمِعُ كُلَّ لَيْلَةِ جُمْعَةٍ وَصَبِيحَتِهَا إِلَى بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، فَنَتَلَقَّى أَخْبَارَكُمْ . قَالَ: قُلْتُ: أَجْسَامُكُمْ أَمْ أَرْوَاحُكُمْ؟ قَالَ: هَيْهَاتَ! قَدْ بَلِيَتِ الْأَجْسَامُ، وَإِنَّمَا تَتَلَاقَى الْأَرْوَاحُ، قَالَ: قُلْتُ: فَهَلْ تَعْلَمُونَ بِزِيَارَتِنَا إِيَّاكُمْ؟ قَالَ: نَعْلَمُ بِهَا عَشِيَّةَ الْجُمْعَةِ وَيَوْمَ الْجُمْعَةِ كُلَّهُ وَيَوْمَ السَّبْتِ إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ، قَالَ: قُلْتُ: فَكَيْفَ ذَلِكَ دُونَ الْأَيَّامِ كُلِّهَا؟ قَالَ: لِفَضْلِ يَوْمِ الْجُمْعَةِ وَعَظْمَتِهِ» ‏

«قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا حَسَنٌ الْقَصَّابُ قَالَ: كُنْتُ أَغْدُو مَعَ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسْعٍ فِي كُلِّ غَدَاةِ سَبْتٍ حَتَّى نَأْتِيَ أَهْلَ الْجَبَّانِ، فَنَقِفُ عَلَى الْقُبُورِ فَنُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ، وَنَدْعُو لَهُمْ ثُمَّ نَنْصَرِفُ، فَقُلْتُ ذَاتَ يَوْمٍ: لَوْ صَيَّرْتُ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ؟ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ الْمَوْتَى يَعْلَمُونَ بِزُوَّارِهِمْ يَوْمَ الْجُمْعَةِ وَيَوْمًا قَبْلَهَا وَيَوْمًا بَعْدَهَا . قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدٌ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانٍ قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ قَالَ: بَلَغَنِي عَنِ الضَّحَّاكِ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ زَارَ قَبْرًا يَوْمَ السَّبْتِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ عَلِمَ الْمَيِّتُ بِزِيَارَتِهِ، فَقِيلَ لَهُ: وَكَيْفَ ذَلِكَ؟ قَالَ: لِمَكَانِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ» ‏

«حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ يَقُولُ: كَانَ مُطَرَّفٌ يَغْدُو، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمْعَةِ أَدْلَجَ . قَالَ: وَسَمِعْتُ أَبَا الْتَّيَّاحِ يَقُولُ: بَلَغَنَا أَنَّهُ كَانَ يَنْزِلُ بِغَوْطَةٍ، فَأَقْبَلَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ الْمَقَابِرِ يَقُومُ وَهُوَ عَلَى فَرَسِهِ، فَرَأَى أَهْلَ الْقُبُورِ كُلَّ صَاحِبِ قَبْرٍ جَالِسًا عَلَى قَبْرِهِ، فَقَالُوا: هَذَا مُطَرِّفٌ يَأْتِي الْجُمْعَةِ وَيُصَلُّونَ عِنْدَكُمْ يَوْمَ الْجُمْعَةِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، وَنَعْلَمُ مَا يَقُولُ فِيهِ الطَّيْرُ . قُلْتُ: وَمَا يَقُولُونَ؟ قَالَ: يَقُولُونَ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ; حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بَكْرٍ، (‏ص: 326) ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْمُوَفَّقِ ابْنُ خَالِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ: لَمَّا مَاتَ أَبِي جَزِعْتُ عَلَيْهِ جَزَعًا شَدِيدًا، فَكُنْتُ آتِي قَبْرَهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ، ثُمَّ قَصَّرْتُ عَنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ إِنِّي أَتَيْتُهُ يَوْمًا، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ الْقَبْرِ غَلَبَتْنِي عَيْنَايَ فَنِمْتُ، فَرَأَيْتُ كَأَنَّ قَبْرَ أَبِي قَدِ انْفَرَجَ، وَكَأَنَّهُ قَاعِدٌ فِي قَبْرِهِ مُتَوَشِّحٌ أَكْفَانَهُ، عَلَيْهِ سِحْنَةُ الْمَوْتَى، قَالَ: فَكَأَنِّي بَكَيْتُ لَمَّا رَأَيْتُهُ . قَالَ: يَا بُنَيَّ، مَا أَبْطَأَ بِكَ عَنِّي؟ قُلْتُ: وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ بِمَجِيئِي؟ قَالَ: مَا جِئْتَ مَرَّةً إِلَّا عَلِمْتُهَا، وَقَدْ كُنْتَ تَأْتِينِي فَأُسَرُّ بِكَ وَيُسَرُّ مِنْ حَوْلِي بِدُعَائِكَ، قَالَ: فَكُنْتُ آتِيهِ بَعْدَ ذَلِكَ كَثِيرًا» ‏ . «حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِسْطَامٍ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سُوَيْدٍ الطَّفَاوِيُّ قَالَ: وَكَانَتْ أُمُّهُ مِنَ الْعَابِدَاتِ، وَكَانَ يُقَالُ لَهَا: رَاهِبَةٌ، قَالَ: لَمَّا احْتَضَرَتْ رَفَعَتْ رَأْسَهَا إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَتْ: يَا ذُخْرِي وَذَخِيرَتِي مَنْ عَلَيْهِ اعْتِمَادِي فِي حَيَاتِي وَبَعْدَ مَوْتِي، لَا تَخْذُلْنِي عِنْدَ الْمَوْتِ وَلَا تُوحِشْنِي . قَالَ: فَمَاتَتْ . فَكُنْتُ آتِيهَا فِي كُلِّ جُمْعَةٍ فَأَدْعُو لَهَا وَأَسْتَغْفِرُ لَهَا وَلِأَهْلِ الْقُبُورِ، فَرَأَيْتُهَا ذَاتَ يَوْمٍ فِي مَنَامِي، فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمِّي، كَيْفَ أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَيْ بُنِيَّ، إِنَّ لِلْمَوْتِ لَكُرْبَةً شَدِيدَةً، وَإِنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَفِي بَرْزَخٍ مَحْمُودٍ يُفْرَشُ فِيهِ الرَّيْحَانُ، وَنَتَوَسَّدُ السُّنْدُسَ وَالْإِسْتَبْرَقَ إِلَى يَوْمِ النُّشُورِ، فَقُلْتُ لَهَا: أَلِكِ حَاجَةٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قُلْتُ: وَمَا هِيَ؟ قَالَتْ: لَا تَدَعْ مَا كُنْتَ تَصْنَعُ مِنْ زِيَارَاتِنَا وَالدُّعَاءِ لَنَا، فَإِنِّي لَأُبَشَّرُ بِمَجِيئِكَ يَوْمَ الْجُمْعَةِ إِذَا أَقْبَلْتَ مِنْ أَهْلِكَ، يُقَالُ لِي: يَا رَاهِبَةُ، هَذَا ابْنُكِ، قَدْ أَقْبَلَ، فَأُسَرَّ وَيُسَرُّ بِذَلِكَ مَنْ حَوْلِي مِنَ الْأَمْوَاتِ» ‏

«حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ زَمَنُ الطَّاعُونِ كَانَ رَجُلٌ يَخْتَلِفُ إِلَى الْجَبَّانِ، فَيَشْهَدُ الصَّلَاةَ عَلَى الْجَنَائِزِ، فَإِذَا أَمْسَى وَقَفَ عَلَى الْمَقَابِرِ فَقَالَ: آنَسَ اللَّهُ وَحْشَتَكُمْ، وَرَحِمَ غُرْبَتَكُمْ، وَتَجَاوَزَ عَنْ مُسِيئِكُمْ، وَقَبِلَ حَسَنَاتِكُمْ، لَا يَزِيدُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، قَالَ: فَأَمْسَيْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَانْصَرَفْتُ إِلَى أَهْلِي وَلَمْ آتِ الْمَقَابِرَ فَأَدْعُو كَمَا كُنْتُ أَدْعُو، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذَا بِخَلْقٍ قَدْ جَاءُونِي، فَقُلْتُ: مَا أَنْتُمْ وَمَا حَاجَتُكُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ أَهْلُ الْمَقَابِرِ، قُلْتُ: مَا حَاجَتُكُمْ؟ قَالُوا: إِنَّكَ عَوَّدْتَنَا مِنْكَ هَدِيَّةً عِنْدَ انْصِرَافِكَ إِلَى أَهْلِكَ، قُلْتُ: وَمَا هِيَ؟ قَالُوا: الدَّعَوَاتُ الَّتِي كُنْتَ تَدْعُو بِهَا، قَالَ: قُلْتُ فَإِنِّي أَعُودُ لِذَلِكَ، قَالَ: فَمَا تَرَكْتُهَا بَعْدُ» ‏

«وَأَبْلَغُ مِنْ ذَلِكَ أَنَّ الْمَيِّتَ يَعْلَمُ بِعَمَلِ الْحَيِّ مِنْ أَقَارِبِهِ وَإِخْوَانِهِ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: تُعْرَضُ أَعْمَالُ الْأَحْيَاءِ عَلَى الْمَوْتَى، فَإِذَا رَأَوْا حَسَنًا فَرِحُوا وَاسْتَبْشَرُوا وَإِنْ رَأَوْا سُوءًا قَالُوا: اللَّهُمَّ رَاجِعْ بِهِ» ‏

. «وَذَكَرَ ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْحُوَارَى قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدٌ أَخِي قَالَ: دَخَلَ عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ صَالِحٍ وَهُوَ عَلَى فِلَسْطِينَ فَقَالَ: عِظْنِي، قَالَ: بِمَ أَعِظُكَ، أَصْلَحَكَ اللَّهُ؟ بَلَغَنِي أَنَّ أَعْمَالَ الْأَحْيَاءِ تُعْرَضُ عَلَى أَقَارِبِهِمْ مِنَ الْمَوْتَى، فَانْظُرْ مَا يُعْرَضُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَمَلِكَ، فَبَكَى إِبْرَاهِيمُ حَتَّى أَخْضَلَ لِحْيَتَهُ . قَالَ ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ عَمْرٍو الْأُمَوِيُّ، ثَنَا صَدَقَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجَعْفَرِيُّ قَالَ: كَانَتْ لِي شِرَّةٌ سَمِجَةٌ، فَمَاتَ أَبِي فَتُبْتُ وَنَدِمْتُ عَلَى مَا فَرَّطْتُ، ثُمَّ زَلَلْتُ أَيُّمَا زَلَّةٍ، فَرَأَيْتُ أَبِي فِي الْمَنَامِ، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، مَا كَانَ أَشَدَّ فَرَحِي بِكَ (‏ص: 327) وَأَعْمَالُكَ تُعْرَضُ عَلَيْنَا، فَنُشَبِّهُهَا بِأَعْمَالِ الصَّالِحِينَ، فَلَمَّا كَانَتْ هَذِهِ الْمَرَّةُ اسْتَحْيَيْتُ لِذَلِكَ حَيَاءً شَدِيدًا، فَلَا تُخْزِنِي فِيمَنْ حَوْلِي مِنَ الْأَمْوَاتِ، قَالَ: فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ فِي السَّحَرِ، وَكَانَ جَارًا لِي بِالْكُوفَةِ: أَسْأَلُكَ إِيَابَةً لَا رَجْعَةَ فِيهَا وَلَا حَوْرَ، يَا مُصْلِحَ الصَّالِحِينَ، وَيَا هَادِيَ الْمُضِلِّينَ، وَيَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ» ‏

«وَهَذَا بَابٌ فِيهِ آثَارٌ كَثِيرَةٌ عَنِ الصَّحَابَةِ . وَكَانَ بَعْضُ الْأَنْصَارِ مِنْ أَقَارِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَمَلٍ أَخْزَى بِهِ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ، كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ بَعْدَ أَنِ اسْتُشْهِدَ عَبْدُ اللَّهِ» ‏

«وَقَدْ شُرِعَ السَّلَامُ عَلَى الْمَوْتَى، وَالسَّلَامُ عَلَى مَنْ لَمْ يَشْعُرْ وَلَا يَعْلَمُ بِالْمُسْلِمِ مُحَالٌ، وَقَدْ عَلِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ إِذَا رَأَوُا الْقُبُورَ أَنْ يَقُولُوا: " سَلَامٌ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَمِنْكُمْ وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ "، فَهَذَا السَّلَامُ وَالْخِطَابُ وَالنِّدَاءُ لِمَوْجُودٍ يَسْمَعُ وَيُخَاطِبُ وَيَعْقِلُ وَيَرُدُّ، وَإِنْ لَمْ يَسْمَعِ الْمُسْلِمُ الرَّدَّ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ» ‏ [http://li)‏r(ry.isl(mwe)‏.net/newli)‏r(ry/displ(y_)‏ook.php?fl(g=1&)‏k_no=49&sur(no=30&(y(no=52] ‏

صفحہ نمبر6822

مسئلہ سماع موتی ٭٭

باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ ” جس طرح یہ تیری قدرت سے خارج ہے کہ مردوں کو جو قبروں میں ہوں تو اپنی آواز سنا سکے۔ اور جس طرح یہ ناممکن ہے کہ بہرے شخص کو جبکہ وہ پیٹھ پھیرے منہ موڑے جا رہا ہو تو اپنی بات سنا سکے۔ اسی طرح سے جو حق سے اندھے ہیں تو ان کی رہبری ہدایت کی طرف نہیں کر سکتا۔ ہاں اللہ تو ہرچیز پر قادر ہے جب وہ چاہے مردوں کو زندوں کی آواز سناسکتا ہے۔ ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ تو صرف انہیں سنا سکتا ہے جو با ایمان ہوں اور اللہ کے سامنے جھکنے والے اس کے فرمانبردار ہوں۔ یہ لوگ حق کو سنتے ہیں اور مانتے بھی ہیں “۔ یہ تو حالت مسلمان کی ہوئی اور اس سے پہلے جو حالت بیان ہوئی ہے وہ کافر کی ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ وَالْمَوْتٰى يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ» [6-الأنعام:36] ‏، ” تیری پکار وہی قبول کریں گے جو کان دھر کر سنیں گے مردوں کو اللہ تعالیٰ زندہ کر کے اٹھائے گا پھر سب اس کی طرف لوٹائے جائیں گے “۔

صفحہ نمبر6821

ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مشرکین سے جو جنگ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کئے گئے تھے اور بدر کی کھائیوں میں ان کی لاشیں پھینک دی گئی تھی ان کی موت کے تین دن بعد ان سے خطاب کرکے انہیں ڈانٹا اور غیرت دلائی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کرعرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے خطاب کرتے ہیں جو مر کر مردہ ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم بھی میری اس بات کو جو میں انہیں کہہ رہا ہوں اتنا نہیں سنتے جتنا یہ سن رہے ہیں۔ ہاں وہ جواب نہیں دے سکتے ۔ [صحیح مسلم:2874] ‏

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس واقعہ کوسیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی زبانی سن کر فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ وہ اب بخوبی جانتے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ حق ہے پھر آپ رضی اللہ عنہا نے مردوں کے نہ سن سکنے پر اسی آیت سے استدالال کیا کہ آیت «إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى» ۔ [صحیح بخاری:3980] ‏

قتادۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کر دیا تھا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات انہوں نے سن لی تاکہ انہیں پوری ندامت اور کافی شرم ساری ہو۔‏“ لیکن علماء کے نزدیک عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت بالکل صحیح ہے کیونکہ اس کے بہت سے شواہد ہیں۔

ابن عبد البر رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً ایک روایت صحت کر کے وارد کی ہے کہ ”جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی قبر کے پاس گزرتا ہے جسے یہ دنیا میں پہچانتا تھا اور اسے سلام کرتا ہے تو اللہ اس کی روح لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ جواب دے۔‏“

«وَرَوَى ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا بِإِسْنَادِهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ عَاصِمٍ الْجَحْدَرِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ عَاصِمًا الْجَحْدَرَيَّ فِي مَنَامِي بَعْدَ مَوْتِهِ بِسَنَتَيْنِ، فَقُلْتُ: أَلَيْسَ قَدْ مِتَّ؟ قَالَ: بَلَى، قُلْتُ: فَأَيْنَ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا - وَاللَّهِ - فِي رَوْضَةٍ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، أَنَا وَنَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِي نَجْتَمِعُ كُلَّ لَيْلَةِ جُمْعَةٍ وَصَبِيحَتِهَا إِلَى بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، فَنَتَلَقَّى أَخْبَارَكُمْ . قَالَ: قُلْتُ: أَجْسَامُكُمْ أَمْ أَرْوَاحُكُمْ؟ قَالَ: هَيْهَاتَ! قَدْ بَلِيَتِ الْأَجْسَامُ، وَإِنَّمَا تَتَلَاقَى الْأَرْوَاحُ، قَالَ: قُلْتُ: فَهَلْ تَعْلَمُونَ بِزِيَارَتِنَا إِيَّاكُمْ؟ قَالَ: نَعْلَمُ بِهَا عَشِيَّةَ الْجُمْعَةِ وَيَوْمَ الْجُمْعَةِ كُلَّهُ وَيَوْمَ السَّبْتِ إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ، قَالَ: قُلْتُ: فَكَيْفَ ذَلِكَ دُونَ الْأَيَّامِ كُلِّهَا؟ قَالَ: لِفَضْلِ يَوْمِ الْجُمْعَةِ وَعَظْمَتِهِ» ‏

«قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا حَسَنٌ الْقَصَّابُ قَالَ: كُنْتُ أَغْدُو مَعَ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسْعٍ فِي كُلِّ غَدَاةِ سَبْتٍ حَتَّى نَأْتِيَ أَهْلَ الْجَبَّانِ، فَنَقِفُ عَلَى الْقُبُورِ فَنُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ، وَنَدْعُو لَهُمْ ثُمَّ نَنْصَرِفُ، فَقُلْتُ ذَاتَ يَوْمٍ: لَوْ صَيَّرْتُ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ؟ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ الْمَوْتَى يَعْلَمُونَ بِزُوَّارِهِمْ يَوْمَ الْجُمْعَةِ وَيَوْمًا قَبْلَهَا وَيَوْمًا بَعْدَهَا . قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدٌ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانٍ قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ قَالَ: بَلَغَنِي عَنِ الضَّحَّاكِ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ زَارَ قَبْرًا يَوْمَ السَّبْتِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ عَلِمَ الْمَيِّتُ بِزِيَارَتِهِ، فَقِيلَ لَهُ: وَكَيْفَ ذَلِكَ؟ قَالَ: لِمَكَانِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ» ‏

«حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ يَقُولُ: كَانَ مُطَرَّفٌ يَغْدُو، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمْعَةِ أَدْلَجَ . قَالَ: وَسَمِعْتُ أَبَا الْتَّيَّاحِ يَقُولُ: بَلَغَنَا أَنَّهُ كَانَ يَنْزِلُ بِغَوْطَةٍ، فَأَقْبَلَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ الْمَقَابِرِ يَقُومُ وَهُوَ عَلَى فَرَسِهِ، فَرَأَى أَهْلَ الْقُبُورِ كُلَّ صَاحِبِ قَبْرٍ جَالِسًا عَلَى قَبْرِهِ، فَقَالُوا: هَذَا مُطَرِّفٌ يَأْتِي الْجُمْعَةِ وَيُصَلُّونَ عِنْدَكُمْ يَوْمَ الْجُمْعَةِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، وَنَعْلَمُ مَا يَقُولُ فِيهِ الطَّيْرُ . قُلْتُ: وَمَا يَقُولُونَ؟ قَالَ: يَقُولُونَ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ; حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بَكْرٍ، (‏ص: 326) ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْمُوَفَّقِ ابْنُ خَالِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ: لَمَّا مَاتَ أَبِي جَزِعْتُ عَلَيْهِ جَزَعًا شَدِيدًا، فَكُنْتُ آتِي قَبْرَهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ، ثُمَّ قَصَّرْتُ عَنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ إِنِّي أَتَيْتُهُ يَوْمًا، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ الْقَبْرِ غَلَبَتْنِي عَيْنَايَ فَنِمْتُ، فَرَأَيْتُ كَأَنَّ قَبْرَ أَبِي قَدِ انْفَرَجَ، وَكَأَنَّهُ قَاعِدٌ فِي قَبْرِهِ مُتَوَشِّحٌ أَكْفَانَهُ، عَلَيْهِ سِحْنَةُ الْمَوْتَى، قَالَ: فَكَأَنِّي بَكَيْتُ لَمَّا رَأَيْتُهُ . قَالَ: يَا بُنَيَّ، مَا أَبْطَأَ بِكَ عَنِّي؟ قُلْتُ: وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ بِمَجِيئِي؟ قَالَ: مَا جِئْتَ مَرَّةً إِلَّا عَلِمْتُهَا، وَقَدْ كُنْتَ تَأْتِينِي فَأُسَرُّ بِكَ وَيُسَرُّ مِنْ حَوْلِي بِدُعَائِكَ، قَالَ: فَكُنْتُ آتِيهِ بَعْدَ ذَلِكَ كَثِيرًا» ‏ . «حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِسْطَامٍ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سُوَيْدٍ الطَّفَاوِيُّ قَالَ: وَكَانَتْ أُمُّهُ مِنَ الْعَابِدَاتِ، وَكَانَ يُقَالُ لَهَا: رَاهِبَةٌ، قَالَ: لَمَّا احْتَضَرَتْ رَفَعَتْ رَأْسَهَا إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَتْ: يَا ذُخْرِي وَذَخِيرَتِي مَنْ عَلَيْهِ اعْتِمَادِي فِي حَيَاتِي وَبَعْدَ مَوْتِي، لَا تَخْذُلْنِي عِنْدَ الْمَوْتِ وَلَا تُوحِشْنِي . قَالَ: فَمَاتَتْ . فَكُنْتُ آتِيهَا فِي كُلِّ جُمْعَةٍ فَأَدْعُو لَهَا وَأَسْتَغْفِرُ لَهَا وَلِأَهْلِ الْقُبُورِ، فَرَأَيْتُهَا ذَاتَ يَوْمٍ فِي مَنَامِي، فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمِّي، كَيْفَ أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَيْ بُنِيَّ، إِنَّ لِلْمَوْتِ لَكُرْبَةً شَدِيدَةً، وَإِنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَفِي بَرْزَخٍ مَحْمُودٍ يُفْرَشُ فِيهِ الرَّيْحَانُ، وَنَتَوَسَّدُ السُّنْدُسَ وَالْإِسْتَبْرَقَ إِلَى يَوْمِ النُّشُورِ، فَقُلْتُ لَهَا: أَلِكِ حَاجَةٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قُلْتُ: وَمَا هِيَ؟ قَالَتْ: لَا تَدَعْ مَا كُنْتَ تَصْنَعُ مِنْ زِيَارَاتِنَا وَالدُّعَاءِ لَنَا، فَإِنِّي لَأُبَشَّرُ بِمَجِيئِكَ يَوْمَ الْجُمْعَةِ إِذَا أَقْبَلْتَ مِنْ أَهْلِكَ، يُقَالُ لِي: يَا رَاهِبَةُ، هَذَا ابْنُكِ، قَدْ أَقْبَلَ، فَأُسَرَّ وَيُسَرُّ بِذَلِكَ مَنْ حَوْلِي مِنَ الْأَمْوَاتِ» ‏

«حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ زَمَنُ الطَّاعُونِ كَانَ رَجُلٌ يَخْتَلِفُ إِلَى الْجَبَّانِ، فَيَشْهَدُ الصَّلَاةَ عَلَى الْجَنَائِزِ، فَإِذَا أَمْسَى وَقَفَ عَلَى الْمَقَابِرِ فَقَالَ: آنَسَ اللَّهُ وَحْشَتَكُمْ، وَرَحِمَ غُرْبَتَكُمْ، وَتَجَاوَزَ عَنْ مُسِيئِكُمْ، وَقَبِلَ حَسَنَاتِكُمْ، لَا يَزِيدُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، قَالَ: فَأَمْسَيْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَانْصَرَفْتُ إِلَى أَهْلِي وَلَمْ آتِ الْمَقَابِرَ فَأَدْعُو كَمَا كُنْتُ أَدْعُو، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذَا بِخَلْقٍ قَدْ جَاءُونِي، فَقُلْتُ: مَا أَنْتُمْ وَمَا حَاجَتُكُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ أَهْلُ الْمَقَابِرِ، قُلْتُ: مَا حَاجَتُكُمْ؟ قَالُوا: إِنَّكَ عَوَّدْتَنَا مِنْكَ هَدِيَّةً عِنْدَ انْصِرَافِكَ إِلَى أَهْلِكَ، قُلْتُ: وَمَا هِيَ؟ قَالُوا: الدَّعَوَاتُ الَّتِي كُنْتَ تَدْعُو بِهَا، قَالَ: قُلْتُ فَإِنِّي أَعُودُ لِذَلِكَ، قَالَ: فَمَا تَرَكْتُهَا بَعْدُ» ‏

«وَأَبْلَغُ مِنْ ذَلِكَ أَنَّ الْمَيِّتَ يَعْلَمُ بِعَمَلِ الْحَيِّ مِنْ أَقَارِبِهِ وَإِخْوَانِهِ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: تُعْرَضُ أَعْمَالُ الْأَحْيَاءِ عَلَى الْمَوْتَى، فَإِذَا رَأَوْا حَسَنًا فَرِحُوا وَاسْتَبْشَرُوا وَإِنْ رَأَوْا سُوءًا قَالُوا: اللَّهُمَّ رَاجِعْ بِهِ» ‏

. «وَذَكَرَ ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْحُوَارَى قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدٌ أَخِي قَالَ: دَخَلَ عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ صَالِحٍ وَهُوَ عَلَى فِلَسْطِينَ فَقَالَ: عِظْنِي، قَالَ: بِمَ أَعِظُكَ، أَصْلَحَكَ اللَّهُ؟ بَلَغَنِي أَنَّ أَعْمَالَ الْأَحْيَاءِ تُعْرَضُ عَلَى أَقَارِبِهِمْ مِنَ الْمَوْتَى، فَانْظُرْ مَا يُعْرَضُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَمَلِكَ، فَبَكَى إِبْرَاهِيمُ حَتَّى أَخْضَلَ لِحْيَتَهُ . قَالَ ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ عَمْرٍو الْأُمَوِيُّ، ثَنَا صَدَقَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجَعْفَرِيُّ قَالَ: كَانَتْ لِي شِرَّةٌ سَمِجَةٌ، فَمَاتَ أَبِي فَتُبْتُ وَنَدِمْتُ عَلَى مَا فَرَّطْتُ، ثُمَّ زَلَلْتُ أَيُّمَا زَلَّةٍ، فَرَأَيْتُ أَبِي فِي الْمَنَامِ، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، مَا كَانَ أَشَدَّ فَرَحِي بِكَ (‏ص: 327) وَأَعْمَالُكَ تُعْرَضُ عَلَيْنَا، فَنُشَبِّهُهَا بِأَعْمَالِ الصَّالِحِينَ، فَلَمَّا كَانَتْ هَذِهِ الْمَرَّةُ اسْتَحْيَيْتُ لِذَلِكَ حَيَاءً شَدِيدًا، فَلَا تُخْزِنِي فِيمَنْ حَوْلِي مِنَ الْأَمْوَاتِ، قَالَ: فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ فِي السَّحَرِ، وَكَانَ جَارًا لِي بِالْكُوفَةِ: أَسْأَلُكَ إِيَابَةً لَا رَجْعَةَ فِيهَا وَلَا حَوْرَ، يَا مُصْلِحَ الصَّالِحِينَ، وَيَا هَادِيَ الْمُضِلِّينَ، وَيَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ» ‏

«وَهَذَا بَابٌ فِيهِ آثَارٌ كَثِيرَةٌ عَنِ الصَّحَابَةِ . وَكَانَ بَعْضُ الْأَنْصَارِ مِنْ أَقَارِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَمَلٍ أَخْزَى بِهِ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ، كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ بَعْدَ أَنِ اسْتُشْهِدَ عَبْدُ اللَّهِ» ‏

«وَقَدْ شُرِعَ السَّلَامُ عَلَى الْمَوْتَى، وَالسَّلَامُ عَلَى مَنْ لَمْ يَشْعُرْ وَلَا يَعْلَمُ بِالْمُسْلِمِ مُحَالٌ، وَقَدْ عَلِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ إِذَا رَأَوُا الْقُبُورَ أَنْ يَقُولُوا: " سَلَامٌ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَمِنْكُمْ وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ "، فَهَذَا السَّلَامُ وَالْخِطَابُ وَالنِّدَاءُ لِمَوْجُودٍ يَسْمَعُ وَيُخَاطِبُ وَيَعْقِلُ وَيَرُدُّ، وَإِنْ لَمْ يَسْمَعِ الْمُسْلِمُ الرَّدَّ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ» ‏ [http://li)‏r(ry.isl(mwe)‏.net/newli)‏r(ry/displ(y_)‏ook.php?fl(g=1&)‏k_no=49&sur(no=30&(y(no=52] ‏

صفحہ نمبر6822

پیدائش انسان کی مرحلہ وار روداد ٭٭

انسان کی ترقی و تنزل پر نظر ڈالو اس کی اصل تو مٹی سے ہے، پھر نطفے سے، پھرخون بستہ سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے، پھر اسے ہڈیاں پہنائی جاتی ہیں، پھر ہڈیوں پر گوشت پوست پہنایا جاتا ہے پھر روح پھونکی جاتی ہے پھر ماں کے پیٹ سے ضعیف و نحیف ہو کر نکلتا ہے۔ پھر تھوڑا تھوڑا بڑھتا ہے اور مضبوط ہوتا جاتا ہے پھر بچپن کے زمانے کی بہاریں دیکھتا ہے پھر جوانی کے قریب پہنچتا ہے پھر جوان ہوتا ہے آخر نشوونما موقوف ہو جاتی ہے۔

اب قوی پھر مضمحل ہونے شروع ہوتے ہیں طاقتیں گھٹنے لگتی ہیں ادھیڑ عمر کر پہنچتا ہے، پھر بڈھا ہوتاہے، پھر بڈھا پھوس ہو جاتا ہے۔ طاقت کے بعد یہ کمزوری بھی قابل عبرت ہوتی ہے کہ ہمت پست ہے، دیکھنا، سننا، چلنا، پھرنا، اٹھنا، اچکنا، پکڑنا غرض ہرطاقت گھٹ جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ بالکل جواب دے جاتی ہے اور ساری صفتیں متغیر ہو جاتی ہیں۔ بدن پر جھریاں پڑجاتی ہیں۔ رخسار پچک جاتے ہیں دانت ٹوٹ جاتے ہیں بال سفید ہو جاتے ہیں۔ یہ ہے قوت کے بعد کی ضعیفی اور بڑھاپا، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، بنانا بگاڑنا اس کی قدرت کے ادنیٰ کرشمے ہیں۔ ساری مخلوق اس کی غلام وہ سب کا مالک، وہ عالم و قادر، نہ اس کا سا کسی کا علم نہ اس جیسی کسی کی قدرت۔ عطیہ عوفی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”میں نے اس آیت کو «ضُعْفًا» تک ابن عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھا تو، آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اسے تلاوت کیا اور فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس آیت کو اتنا ہی پڑھا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنے لگے جس طرح میں نے تمہاری قرأت پر قرأت شروع کردی ۔ [سنن ابوداود:3978،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر6824

واپسی ناممکن ہو گی ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” کفار دنیا اور آخرت کے کاموں سے بالکل جاہل ہیں۔ دنیا میں ان کی جہالت تو یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک کرتے رہے اور اخرت میں یہ جہالت کریں گے کہ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک ساعت ہی رہے “۔

اس سے ان کامقصد یہ ہو گا کہ اتنے تھوڑے سے وقت میں ہم پر کوئی حجت قائم نہیں ہوئی۔ ہمیں معذور سمجھا جائے۔ اسی لیے فرمایا کہ ” یہ جیسے یہاں بہکی بہکی باتیں کررے ہیں دنیا میں یہ بہکے ہوئے ہی رہے “۔

فرماتا ہے کہ ” علماء کرام جس طرح ان کے اس کہنے پر دنیا میں انہیں دلائل دے کر قائل معقول کرتے رہے آخرت میں بھی ان سے کہیں گے کہ تم جھوٹی قسمیں کھا رہے ہو “۔

تم کتاب اللہ یعنی کتاب اعمال میں اپنی پیدائش سے لے کر جی اٹھنے تک ٹھہرے رہے لیکن تم بےعلم اور نرے جاہل لوگ ہو۔ پس قیامت کے دن ظالموں کو اپنے کرتوت سے معذرت کرنا محض بےسود رہے گا۔ اور دنیا کی طرف لوٹائے نہ جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاِنْ يَّسْـتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَـبِيْنَ» ‏ [41-فصلت:24] ‏ یعنی ” اگر وہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہیں تو لوٹ نہیں سکتے “۔

صفحہ نمبر6825

واپسی ناممکن ہو گی ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” کفار دنیا اور آخرت کے کاموں سے بالکل جاہل ہیں۔ دنیا میں ان کی جہالت تو یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک کرتے رہے اور اخرت میں یہ جہالت کریں گے کہ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک ساعت ہی رہے “۔

اس سے ان کامقصد یہ ہو گا کہ اتنے تھوڑے سے وقت میں ہم پر کوئی حجت قائم نہیں ہوئی۔ ہمیں معذور سمجھا جائے۔ اسی لیے فرمایا کہ ” یہ جیسے یہاں بہکی بہکی باتیں کررے ہیں دنیا میں یہ بہکے ہوئے ہی رہے “۔

فرماتا ہے کہ ” علماء کرام جس طرح ان کے اس کہنے پر دنیا میں انہیں دلائل دے کر قائل معقول کرتے رہے آخرت میں بھی ان سے کہیں گے کہ تم جھوٹی قسمیں کھا رہے ہو “۔

تم کتاب اللہ یعنی کتاب اعمال میں اپنی پیدائش سے لے کر جی اٹھنے تک ٹھہرے رہے لیکن تم بےعلم اور نرے جاہل لوگ ہو۔ پس قیامت کے دن ظالموں کو اپنے کرتوت سے معذرت کرنا محض بےسود رہے گا۔ اور دنیا کی طرف لوٹائے نہ جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاِنْ يَّسْـتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَـبِيْنَ» ‏ [41-فصلت:24] ‏ یعنی ” اگر وہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہیں تو لوٹ نہیں سکتے “۔

صفحہ نمبر6825

واپسی ناممکن ہو گی ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” کفار دنیا اور آخرت کے کاموں سے بالکل جاہل ہیں۔ دنیا میں ان کی جہالت تو یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک کرتے رہے اور اخرت میں یہ جہالت کریں گے کہ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک ساعت ہی رہے “۔

اس سے ان کامقصد یہ ہو گا کہ اتنے تھوڑے سے وقت میں ہم پر کوئی حجت قائم نہیں ہوئی۔ ہمیں معذور سمجھا جائے۔ اسی لیے فرمایا کہ ” یہ جیسے یہاں بہکی بہکی باتیں کررے ہیں دنیا میں یہ بہکے ہوئے ہی رہے “۔

فرماتا ہے کہ ” علماء کرام جس طرح ان کے اس کہنے پر دنیا میں انہیں دلائل دے کر قائل معقول کرتے رہے آخرت میں بھی ان سے کہیں گے کہ تم جھوٹی قسمیں کھا رہے ہو “۔

تم کتاب اللہ یعنی کتاب اعمال میں اپنی پیدائش سے لے کر جی اٹھنے تک ٹھہرے رہے لیکن تم بےعلم اور نرے جاہل لوگ ہو۔ پس قیامت کے دن ظالموں کو اپنے کرتوت سے معذرت کرنا محض بےسود رہے گا۔ اور دنیا کی طرف لوٹائے نہ جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاِنْ يَّسْـتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَـبِيْنَ» ‏ [41-فصلت:24] ‏ یعنی ” اگر وہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہیں تو لوٹ نہیں سکتے “۔

صفحہ نمبر6825

نماز میں مقتدی اور امام کا تعلق ٭٭

” حق کو ہم نے اس کلام پاک میں پوری طرح واضح کر دیا ہے اور مثالیں دےدے کر سمجھا دیا ہے کہ لوگوں پر حق کھل جائے اور اس کی تابعداری میں لگ جائیں۔ ان کے پاس تو کوئی بھی معجزہ آ جائے کیساہی نشان حق دیکھ لیں لیکن یہ جھٹ سے بلاغور علی الفور کہیں گے کہ یہ جادو ہے باطل ہے جھوٹ ہے “۔ دیکھئیے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔

خود قرآن کریم کی آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ» [10-یونس:96] ‏ میں ہے کہ ” جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آ جائیں یہاں تک کہ وہ درد ناک عذاب کا معائنہ کر لیں “۔

پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” بے علم لوگوں کے دلوں پر اسی طرح اللہ کی مہر لگ جاتی ہے۔ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبر کیجئے ان کی مخالفت اور دشمنی پر درگزر کئے چلے جائیے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ ضرور تمہیں ایک دن ان پر غالب کرے گا اور تمہاری امداد فرمائے گا، اور دنیا اور آخرت میں تجھے اور تیرے تابعداروں کو مخالفین پر غلبہ دے گا۔ تہیں چاہیئے کہ اپنے کام پر لگے رہو حق پر جم جاؤ اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو اسی میں ساری ہدایت ہے باقی سب باطل کے ڈھیر ہیں “۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں تھے کہ ایک خارجی نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام لے کر زور سے اس آیت کی تلاوت کی۔ «وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [39-الزمر:65] ‏ آپ نے خاموشی سے اس آیت کو سنا سمجھا اور نماز ہی میں اس کے جواب میں آیت «فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ» [30-الروم:60] ‏ تلاوت فرمائی“۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/10:] ‏ (‏وہ حدیث جس سے اس مبارک سورۃ کی فضیلت اور اس کی قرأت کا صبح کی نماز میں مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے)۔

صفحہ نمبر6828

ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے اسی سورت کی قرأت کی۔ اثناء قرأت میں آپ کو وہم سا ہو گیا فارغ ہو کر فرمانے لگے تم میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں لیکن باقاعدہ ٹھیک ٹھاک وضو نہیں کرتے۔ تم میں سے جو بھی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو اسے اچھی طرح وضو کرنا چائیے ۔ [مسند احمد:471/3:حسن] ‏

اس کی سند حسن ہے متن بھی حسن ہے اور اس میں ایک عجیب بھید ہے اور بہت بڑی خبر ہے اور وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقتدیوں کے وضو بالکل درست نہ ہونے کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی پڑا۔ پس ثابت ہوا کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ معلق ہے۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورہ روم کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر6829

نماز میں مقتدی اور امام کا تعلق ٭٭

” حق کو ہم نے اس کلام پاک میں پوری طرح واضح کر دیا ہے اور مثالیں دےدے کر سمجھا دیا ہے کہ لوگوں پر حق کھل جائے اور اس کی تابعداری میں لگ جائیں۔ ان کے پاس تو کوئی بھی معجزہ آ جائے کیساہی نشان حق دیکھ لیں لیکن یہ جھٹ سے بلاغور علی الفور کہیں گے کہ یہ جادو ہے باطل ہے جھوٹ ہے “۔ دیکھئیے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔

خود قرآن کریم کی آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ» [10-یونس:96] ‏ میں ہے کہ ” جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آ جائیں یہاں تک کہ وہ درد ناک عذاب کا معائنہ کر لیں “۔

پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” بے علم لوگوں کے دلوں پر اسی طرح اللہ کی مہر لگ جاتی ہے۔ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبر کیجئے ان کی مخالفت اور دشمنی پر درگزر کئے چلے جائیے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ ضرور تمہیں ایک دن ان پر غالب کرے گا اور تمہاری امداد فرمائے گا، اور دنیا اور آخرت میں تجھے اور تیرے تابعداروں کو مخالفین پر غلبہ دے گا۔ تہیں چاہیئے کہ اپنے کام پر لگے رہو حق پر جم جاؤ اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو اسی میں ساری ہدایت ہے باقی سب باطل کے ڈھیر ہیں “۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں تھے کہ ایک خارجی نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام لے کر زور سے اس آیت کی تلاوت کی۔ «وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [39-الزمر:65] ‏ آپ نے خاموشی سے اس آیت کو سنا سمجھا اور نماز ہی میں اس کے جواب میں آیت «فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ» [30-الروم:60] ‏ تلاوت فرمائی“۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/10:] ‏ (‏وہ حدیث جس سے اس مبارک سورۃ کی فضیلت اور اس کی قرأت کا صبح کی نماز میں مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے)۔

صفحہ نمبر6828

ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے اسی سورت کی قرأت کی۔ اثناء قرأت میں آپ کو وہم سا ہو گیا فارغ ہو کر فرمانے لگے تم میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں لیکن باقاعدہ ٹھیک ٹھاک وضو نہیں کرتے۔ تم میں سے جو بھی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو اسے اچھی طرح وضو کرنا چائیے ۔ [مسند احمد:471/3:حسن] ‏

اس کی سند حسن ہے متن بھی حسن ہے اور اس میں ایک عجیب بھید ہے اور بہت بڑی خبر ہے اور وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقتدیوں کے وضو بالکل درست نہ ہونے کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی پڑا۔ پس ثابت ہوا کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ معلق ہے۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورہ روم کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر6829

نماز میں مقتدی اور امام کا تعلق ٭٭

” حق کو ہم نے اس کلام پاک میں پوری طرح واضح کر دیا ہے اور مثالیں دےدے کر سمجھا دیا ہے کہ لوگوں پر حق کھل جائے اور اس کی تابعداری میں لگ جائیں۔ ان کے پاس تو کوئی بھی معجزہ آ جائے کیساہی نشان حق دیکھ لیں لیکن یہ جھٹ سے بلاغور علی الفور کہیں گے کہ یہ جادو ہے باطل ہے جھوٹ ہے “۔ دیکھئیے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔

خود قرآن کریم کی آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ» [10-یونس:96] ‏ میں ہے کہ ” جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آ جائیں یہاں تک کہ وہ درد ناک عذاب کا معائنہ کر لیں “۔

پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” بے علم لوگوں کے دلوں پر اسی طرح اللہ کی مہر لگ جاتی ہے۔ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبر کیجئے ان کی مخالفت اور دشمنی پر درگزر کئے چلے جائیے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ ضرور تمہیں ایک دن ان پر غالب کرے گا اور تمہاری امداد فرمائے گا، اور دنیا اور آخرت میں تجھے اور تیرے تابعداروں کو مخالفین پر غلبہ دے گا۔ تہیں چاہیئے کہ اپنے کام پر لگے رہو حق پر جم جاؤ اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو اسی میں ساری ہدایت ہے باقی سب باطل کے ڈھیر ہیں “۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں تھے کہ ایک خارجی نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام لے کر زور سے اس آیت کی تلاوت کی۔ «وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [39-الزمر:65] ‏ آپ نے خاموشی سے اس آیت کو سنا سمجھا اور نماز ہی میں اس کے جواب میں آیت «فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ» [30-الروم:60] ‏ تلاوت فرمائی“۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/10:] ‏ (‏وہ حدیث جس سے اس مبارک سورۃ کی فضیلت اور اس کی قرأت کا صبح کی نماز میں مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے)۔

صفحہ نمبر6828

ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے اسی سورت کی قرأت کی۔ اثناء قرأت میں آپ کو وہم سا ہو گیا فارغ ہو کر فرمانے لگے تم میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں لیکن باقاعدہ ٹھیک ٹھاک وضو نہیں کرتے۔ تم میں سے جو بھی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو اسے اچھی طرح وضو کرنا چائیے ۔ [مسند احمد:471/3:حسن] ‏

اس کی سند حسن ہے متن بھی حسن ہے اور اس میں ایک عجیب بھید ہے اور بہت بڑی خبر ہے اور وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقتدیوں کے وضو بالکل درست نہ ہونے کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی پڑا۔ پس ثابت ہوا کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ معلق ہے۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورہ روم کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر6829

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com