John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Luqman

Tafsir Ibn Kathir · Luqman · 34 ayat · ayat 31–34 · Quran text →

طوفان میں کون یاد آتا ہے؟ ٭٭

اللہ کے حکم سے سمندروں میں جہاز رانی ہو رہی ہے اگر وہ پانی میں کشتی کو تھامنے کی اور کشتی میں پانی کو کاٹنے کی قوت نہ رکھتا تو پانی میں کشتیاں کیسے چلتیں؟ وہ تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھارہا ہے مصیبت میں صبر اور راحت میں شکر کرنے والے ان سے بہت کچھ عبرتیں حاصل کر سکتے ہیں۔

جب ان کفار کو سمندروں میں موجیں گھیر لیتی ہیں اور ان کی کشتی ڈگمگانے لگتی ہے اور موجیں پہاڑوں کی طرح ادھر سے ادھر ادھر سے ادھر کشتیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگتی ہیں تو اپنا شرک کفر سب بھول جاتے ہیں اور گریہ وزاری سے ایک اللہ کو پکارنے لگتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ» ‏ [17-الإسراء:67] ‏، ” دریا میں جب تمہیں ضرر پہنچتا ہے تو بجز اللہ کے سب کو کھو بیٹھتے ہو “۔

اور آیت میں ہے «افَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ» [29-العنكبوت:65] ‏ ” ان کی اس وقت کی لجاجت پر اگر ہمیں رحم آگیا ہو اور جب انہیں سمندر سے پار کر دیا تو تھوڑے سے کافر ہو جاتے ہیں “۔

مجاہد رحمہ اللہ نے یہی تفیسر کی ہے جیسے فرمان ہے آیت «فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ» [29-سورةالعنكبوت:65] ‏ لفظی معنی یہ ہیں کہ ” ان میں سے بعض متوسط درجے کے ہوتے ہیں “ سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہ یہی کہتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت «ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ» ‏ [35-فاطر:32] ‏، ” ان میں سے بعض ظالم ہیں بعض میانہ رو ہیں “۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی مراد ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ جس نے ایسی حالت دیکھی ہو جو اس مصیبت سے نکلا ہو اسے تو چاہئیے کہ نیکیوں میں پوری طرح کوشش کرے لیکن تاہم یہ بیچ میں ہی رہ جاتے ہیں اور کچھ تو پھر کفر پر چلے جاتے ہیں۔

«خَتَّار» کہتے ہیں غدار کو جو عہد شکن ہو۔ «خَتْرِ» کے معنی پوری عہد شکنی کے ہیں۔ «كَفُورٌ» کہتے ہیں منکر کو جو نعمتوں سے نٹ جائے منکر ہو جائے، شکر تو ایک طرف بھول جائے اور ذکر بھی نہ کرے۔

صفحہ نمبر6890

طوفان میں کون یاد آتا ہے؟ ٭٭

اللہ کے حکم سے سمندروں میں جہاز رانی ہو رہی ہے اگر وہ پانی میں کشتی کو تھامنے کی اور کشتی میں پانی کو کاٹنے کی قوت نہ رکھتا تو پانی میں کشتیاں کیسے چلتیں؟ وہ تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھارہا ہے مصیبت میں صبر اور راحت میں شکر کرنے والے ان سے بہت کچھ عبرتیں حاصل کر سکتے ہیں۔

جب ان کفار کو سمندروں میں موجیں گھیر لیتی ہیں اور ان کی کشتی ڈگمگانے لگتی ہے اور موجیں پہاڑوں کی طرح ادھر سے ادھر ادھر سے ادھر کشتیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگتی ہیں تو اپنا شرک کفر سب بھول جاتے ہیں اور گریہ وزاری سے ایک اللہ کو پکارنے لگتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ» ‏ [17-الإسراء:67] ‏، ” دریا میں جب تمہیں ضرر پہنچتا ہے تو بجز اللہ کے سب کو کھو بیٹھتے ہو “۔

اور آیت میں ہے «افَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ» [29-العنكبوت:65] ‏ ” ان کی اس وقت کی لجاجت پر اگر ہمیں رحم آگیا ہو اور جب انہیں سمندر سے پار کر دیا تو تھوڑے سے کافر ہو جاتے ہیں “۔

مجاہد رحمہ اللہ نے یہی تفیسر کی ہے جیسے فرمان ہے آیت «فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ» [29-سورةالعنكبوت:65] ‏ لفظی معنی یہ ہیں کہ ” ان میں سے بعض متوسط درجے کے ہوتے ہیں “ سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہ یہی کہتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت «ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ» ‏ [35-فاطر:32] ‏، ” ان میں سے بعض ظالم ہیں بعض میانہ رو ہیں “۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی مراد ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ جس نے ایسی حالت دیکھی ہو جو اس مصیبت سے نکلا ہو اسے تو چاہئیے کہ نیکیوں میں پوری طرح کوشش کرے لیکن تاہم یہ بیچ میں ہی رہ جاتے ہیں اور کچھ تو پھر کفر پر چلے جاتے ہیں۔

«خَتَّار» کہتے ہیں غدار کو جو عہد شکن ہو۔ «خَتْرِ» کے معنی پوری عہد شکنی کے ہیں۔ «كَفُورٌ» کہتے ہیں منکر کو جو نعمتوں سے نٹ جائے منکر ہو جائے، شکر تو ایک طرف بھول جائے اور ذکر بھی نہ کرے۔

صفحہ نمبر6890

اللہ تعالٰی کے روبرو کیا ہو گا ٭٭

اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن سے ڈرا رہا ہے اور اپنے تقوے کا حکم فرما رہا ہے۔ ارشاد ہے ” اس دن باپ اپنے بچے کو یا بچہ اپنے باپ کو کچھ کام نہ آئے گا۔ ایک دوسرے کا فدیہ نہ ہو سکے گا۔ تم دنیا پر اعتماد کرنے والو آخرت کو فراموش نہ کر جاؤ، شیطان کے فریب میں نہ آ جاؤ، وہ تو صرف پردہ کی آڑ میں شکار کھیلنا جانتا ہے “۔

ابن ابی حاتم میں ہے عزیر علیہ السلام نے جب اپنی قوم کی تکلیف ملاحظہ کی اور غم ورنج بہت بڑھ گیا نیند اچاٹ ہو گئی تو اپنے رب کی طرف جھک پڑے۔ فرماتے ہیں میں نے نہایت تضرع و زاری کی، خوب رویا گڑگڑایا نمازیں پڑھیں روزے رکھے دعائیں مانگیں۔ ایک مرتبہ رو رو کر تضرع کر رہا تھا کہ میرے سامنے ایک فرشتہ آ گیا میں نے اس سے پوچھا کیا نیک لوگ بروں کی شفاعت کریں گے؟ یا باپ بیٹوں کے کام آئیں گے؟

صفحہ نمبر6892

اس نے فرمایا کہ ”قیامت کا دن جھگڑوں کے فیصلوں کا دن ہے اس دن اللہ خود سامنے ہو گا کوئی بغیر اس کی اجازت کے لب نہ ہلا سکے گا کسی کو دوسرے کے بدلے نہ پکڑا جائے گا نہ باپ بیٹے کے بدلے نہ بیٹا باپ کے بدلے نہ بھائی بھائی کے بدلے نہ غلام آقا کے بدلے نہ کوئی کسی کا غم ورنج کرے گا نہ کسی کی طرف سے کسی کو خیال ہو گا نہ کسی پر رحم کرے گا نہ کسی کو کسی سے شفقت ومحبت ہو گی۔ نہ ایک دوسرے کی طرف پکڑا جائے گا۔ ہر شخص نفسانفسی میں ہو گا ہر ایک اپنی فکر میں ہو گا ہر ایک کو اپنا رونا پڑا ہو گا ہر ایک اپنابوجھ اٹھائے ہوئے ہو گا کسی اور کا نہیں۔‏“

صفحہ نمبر6893

غیب کی پانچ باتیں ٭٭

یہ غیب کی وہ کنجیاں ہیں جن کا علم بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور کو نہیں۔ مگر اس کے بعد کہ اللہ اسے علم عطا فرمائے۔ قیامت کے آنے کا صحیح وقت نہ کوئی نبی مرسل جانے نہ کوئی مقرب فرشتہ، اس کا وقت صرف اللہ ہی جانتا ہے اسی طرح بارش کب اور کہاں اور کتنی برسے گی اس کا علم بھی کسی کو نہیں ہاں جب فرشتوں کو حکم ہوتا ہے جو اس پر مقرر ہیں تب وہ جانتے ہیں اور جسے اللہ معلوم کرائے۔ اسی طرح حاملہ کے پیٹ میں کیا ہے؟ اسے بھی صرف اللہ ہی جانتا ہے ہاں جب جناب باری تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوتا ہے جو اسی کام پر مقرر ہیں تب انہیں پتا چلتا ہے کہ نر ہو گا یا مادہ، لڑکا ہو گا یا لڑکی، نیک ہو گا یا بد؟ اسی طرح کسی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کل وہ کیا کرے گا؟ نہ کسی کو یہ علم ہے کہ وہ کہاں مرے گا؟

اور آیت میں ہے «وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ» [6-الانعام:59] ‏ ” غیب کی کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں جنہیں بجز اس کے اور کوئی نہیں جانتا “۔

اور حدیث میں ہے کہ غیب کی کنجیاں یہاں پانچ چیزیں ہیں جن کا بیان آیت «‏اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31-لقمان:34] ‏ میں ہے ۔ [مسند احمد:353/5:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ باتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔ بخاری کی حدیث کے الفاظ تو یہ ہیں کہ یہ پانچ غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ [صحیح بخاری:1039] ‏

صفحہ نمبر6894

مسند احمد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے مجھے ہر چیز کی کنجیاں دی گئی ہیں سوائے پانچ کے پھر یہی آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی ۔ [مسند احمد:85/2:صحیح] ‏

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے جو ایک صاحب تشریف لائے اور پوچھنے لگے ایمان کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کو، فرشتوں کو،کتابوں کو، رسولوں کو، آخرت کو، مرنے کے بعد جی اٹھنے کو مان لینا ۔ اس نے پوچھا اسلام کیا ہے؟ فرمایا: ایک اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا نمازیں پڑھنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا ۔ اس نے دریافت کیا احسان کیا ہے؟ فرمایا: تیرا اس طرح اللہ کی عبادت کرنا کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو نہیں دیکھتا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے ۔ اس نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب ہے؟ فرمایا: اس کا علم نہ مجھے اور نہ تجھے ہاں اس کی کچھ نشانیاں میں تمہیں بتادیتا ہوں۔ جب لونڈی اپنے سردار کو جنے اور جب ننگے پیروں اور ننگے بدنوں والے لوگوں کے سردار بن جائیں۔ علم قیامت ان پانچ چیزوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ وہ شخص واپس چلا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے لوٹا لاؤ لوگ دوڑ پڑے لیکن وہ کہیں بھی نظر نہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جبرائیل علیہ السلام تھے لوگوں کو دین سکھانے آئے تھے ۔ [صحیح بخاری:4777] ‏ ہم نے اس حدیث کا مطلب شرح صحیح بخاری میں خوب بیان کیا ہے۔

مسند احمد میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنی ہتھیلیاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ کر یہ سوالات کیے تھے کہ اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تو اپنا چہرہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کر دے اور اللہ کے وحدہ لاشریک ہونے کی گواہی دے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عبد و رسول ہونے کی۔ جب تو یہ کر لے تو تو مسلمان ہو گیا ۔ پوچھا، اچھا ایمان کس کا نام ہے؟ فرمایا: اللہ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر، کتابوں پر، نبیوں پر عقیدہ رکھنا۔ موت اور موت کے بعد کی زندگی کو ماننا، جنت دوزخ، حساب، میزان، اور تقدیر کی بھلائی برائی پر ایمان رکھنا ۔ پوچھا جب میں ایسا کر لوں تو مومن ہو جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔ پھر احسان کیا پوچھا اور جواب پایا جو اوپر مذکور ہوا ہے۔ پھر قیامت کا پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ ان پانچ چیزوں میں ہے جنہیں صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت کی ۔ پھر نشانیوں میں یہ بھی ذکر ہے کہ لوگ لمبی چوڑی عمارتیں بنانے لگیں گے ۔ [مسند احمد:319/1:حسن بالشواهد] ‏

صفحہ نمبر6895

ایک صحیح سند کے ساتھ مسند احمد میں مروی ہے کہ بنو عامر قبیلے کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہنے لگا میں آؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم کو بھیجا کہ جا کر انہیں ادب سکھاؤ یہ اجازت مانگنا نہیں جانتے۔ ان سے کہو پہلے سلام کرو پھر دریافت کرو کہ میں آسکتا ہوں؟ انہوں نے سن لیا اور اسی طرح سلام کیا اور اجازت چاہی یہ گئے اور جا کر کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے کیا لے کر آئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلائی ہی بھلائی۔ سنو! تم ایک اللہ کی عبادت کرو لات وعزیٰ کو چھوڑ دو، دن رات میں پانچ نمازیں پڑھاکرو سال بھر میں ایک مہینے کے روزے رکھو اپنے مالداروں سے زکوٰۃ وصول کر کے اپنے فقیروں پر تقسیم کرو ۔ انہوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا علم میں سے کچھ ایساباقی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ جانتے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ایسا علم بھی ہے جسے بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی ۔ [مسند احمد:369/5:قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر6896

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں گاؤں کے رہنے والے ایک شخص نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا کہ میری عورت حمل سے ہے بتلائے کیا بچہ ہوگا؟ ہمارے شہر میں قحط ہے فرمائیے بارش کب ہوگی؟ یہ تو میں نہیں جانتا کہ میں کب پیدا ہوا لیکن یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معلوم کرادیجئیے کہ کب مرونگا؟ اس کے جواب میں یہ آیت اتری کہ ” مجھے ان چیزوں کا مطلق علم نہیں “۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی غیب کی کنجیاں ہیں جن کے بارے میں فرمان باری ہے کہ غیب کی کنجیاں صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28173:مرسل] ‏

سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”جو تم سے کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کی بات کا جانتے تھے تو سمجھ لینا کہ وہ سب سے بڑا جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہو گا۔‏“

قتادۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کا علم اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دیا نہ نبی کو نہ فرشتہ کو اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے کوئی نہیں جانتا کہ کس سال کس مہینے کس دن یا کس رات میں وہ آئے گی۔ اسی طرح بارش کا علم بھی اس کے سوا کسی کو نہیں کہ کب آئے؟ اور کوئی نہیں جانتا کہ حاملہ کے پیٹ میں بچہ نر ہو گا یا مادہ سرخ ہو گا یا سیاہ؟ اور کوئی نہیں جانتا کہ کل وہ نیکی کرے گا یا بدی کرے گا؟ مرے گا یا جئے گا بہت ممکن ہے کل موت یا آفت آ جائے۔ نہ کسی کو یہ خبر ہے کہ کس زمین میں وہ دبایا جائے گا یا سمندر میں بہایا جائے گا یا جنگل میں مرے گا یا نرم یاسخت زمین میں جائے گا۔‏“

حدیث شریف میں ہے جب کسی کو موت دوسری زمین میں ہوتی ہے تو اس کا وہیں کا کوئی کام نکل آتا ہے اور وہیں موت آ جاتی ہے ۔ [سنن ترمذي:2146،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور روایت میں ہے کہ یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ۔

اعشی ہمدان کے شعر ہیں جن میں اس مضمون کو نہایت خوبصورتی سے ادا کیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ قیامت کے دن زمین اللہ تعالیٰ سے کہے گی کہ یہ ہیں تیری امانتیں جو تو نے مجھے سونپ رکھی تھیں ۔ [سنن ابن ماجه:4263،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ طبرانی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورہ لقمان کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر6897

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com