John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Luqman

Tafsir Ibn Kathir · Luqman · 34 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

ہدایت یافتہ کتاب ٭٭

سورۂ بقرہ کی تفسیر کے اول میں ہی حروف مقطعات کے معنی اور مطلب کی توضیح کر دی گئی ہے۔ یہ قرآن ہدایت، شفاء اور رحمت ہے اور ان نیک کاروں کے لیے جو شریعت کے پورے پابند ہیں۔ نمازادا کرتے ہیں ارکان اوقات وغیرہ کی حفاظت کے ساتھ ہی نوافل سنت وغیرہ بھی نہیں چھوڑتے۔ فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہیں صلہ ر، حمی سلوک واحسان، سخاوت اور داد و دہش کرتے رہتے ہیں۔ آخرت کی جزاء کا انہیں کامل یقین ہے اس لیے اللہ کی طرف پوری رغبت کرتے ہیں ثواب کے کام کرتے ہیں اور رب کے اجر پر نظریں رکھتے ہیں۔ نہ ریاکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے داد چاہتے ہیں۔ ان اوصاف والے راہ یافتہ ہیں۔ راہ اللہ پر لگادیئے گئے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو دین ودنیا میں فلاح نجات اور کامیابی حاصل کریں گے۔

صفحہ نمبر6832

ہدایت یافتہ کتاب ٭٭

سورۂ بقرہ کی تفسیر کے اول میں ہی حروف مقطعات کے معنی اور مطلب کی توضیح کر دی گئی ہے۔ یہ قرآن ہدایت، شفاء اور رحمت ہے اور ان نیک کاروں کے لیے جو شریعت کے پورے پابند ہیں۔ نمازادا کرتے ہیں ارکان اوقات وغیرہ کی حفاظت کے ساتھ ہی نوافل سنت وغیرہ بھی نہیں چھوڑتے۔ فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہیں صلہ ر، حمی سلوک واحسان، سخاوت اور داد و دہش کرتے رہتے ہیں۔ آخرت کی جزاء کا انہیں کامل یقین ہے اس لیے اللہ کی طرف پوری رغبت کرتے ہیں ثواب کے کام کرتے ہیں اور رب کے اجر پر نظریں رکھتے ہیں۔ نہ ریاکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے داد چاہتے ہیں۔ ان اوصاف والے راہ یافتہ ہیں۔ راہ اللہ پر لگادیئے گئے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو دین ودنیا میں فلاح نجات اور کامیابی حاصل کریں گے۔

صفحہ نمبر6832

ہدایت یافتہ کتاب ٭٭

سورۂ بقرہ کی تفسیر کے اول میں ہی حروف مقطعات کے معنی اور مطلب کی توضیح کر دی گئی ہے۔ یہ قرآن ہدایت، شفاء اور رحمت ہے اور ان نیک کاروں کے لیے جو شریعت کے پورے پابند ہیں۔ نمازادا کرتے ہیں ارکان اوقات وغیرہ کی حفاظت کے ساتھ ہی نوافل سنت وغیرہ بھی نہیں چھوڑتے۔ فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہیں صلہ ر، حمی سلوک واحسان، سخاوت اور داد و دہش کرتے رہتے ہیں۔ آخرت کی جزاء کا انہیں کامل یقین ہے اس لیے اللہ کی طرف پوری رغبت کرتے ہیں ثواب کے کام کرتے ہیں اور رب کے اجر پر نظریں رکھتے ہیں۔ نہ ریاکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے داد چاہتے ہیں۔ ان اوصاف والے راہ یافتہ ہیں۔ راہ اللہ پر لگادیئے گئے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو دین ودنیا میں فلاح نجات اور کامیابی حاصل کریں گے۔

صفحہ نمبر6832

ہدایت یافتہ کتاب ٭٭

سورۂ بقرہ کی تفسیر کے اول میں ہی حروف مقطعات کے معنی اور مطلب کی توضیح کر دی گئی ہے۔ یہ قرآن ہدایت، شفاء اور رحمت ہے اور ان نیک کاروں کے لیے جو شریعت کے پورے پابند ہیں۔ نمازادا کرتے ہیں ارکان اوقات وغیرہ کی حفاظت کے ساتھ ہی نوافل سنت وغیرہ بھی نہیں چھوڑتے۔ فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہیں صلہ ر، حمی سلوک واحسان، سخاوت اور داد و دہش کرتے رہتے ہیں۔ آخرت کی جزاء کا انہیں کامل یقین ہے اس لیے اللہ کی طرف پوری رغبت کرتے ہیں ثواب کے کام کرتے ہیں اور رب کے اجر پر نظریں رکھتے ہیں۔ نہ ریاکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے داد چاہتے ہیں۔ ان اوصاف والے راہ یافتہ ہیں۔ راہ اللہ پر لگادیئے گئے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو دین ودنیا میں فلاح نجات اور کامیابی حاصل کریں گے۔

صفحہ نمبر6832

ہدایت یافتہ کتاب ٭٭

سورۂ بقرہ کی تفسیر کے اول میں ہی حروف مقطعات کے معنی اور مطلب کی توضیح کر دی گئی ہے۔ یہ قرآن ہدایت، شفاء اور رحمت ہے اور ان نیک کاروں کے لیے جو شریعت کے پورے پابند ہیں۔ نمازادا کرتے ہیں ارکان اوقات وغیرہ کی حفاظت کے ساتھ ہی نوافل سنت وغیرہ بھی نہیں چھوڑتے۔ فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہیں صلہ ر، حمی سلوک واحسان، سخاوت اور داد و دہش کرتے رہتے ہیں۔ آخرت کی جزاء کا انہیں کامل یقین ہے اس لیے اللہ کی طرف پوری رغبت کرتے ہیں ثواب کے کام کرتے ہیں اور رب کے اجر پر نظریں رکھتے ہیں۔ نہ ریاکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے داد چاہتے ہیں۔ ان اوصاف والے راہ یافتہ ہیں۔ راہ اللہ پر لگادیئے گئے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو دین ودنیا میں فلاح نجات اور کامیابی حاصل کریں گے۔

صفحہ نمبر6832

لہو و لعب موسیقی اور لغو باتیں ٭٭

اوپر بیان ہوا تھا نیک بختوں کا جو کتاب اللہ سے ہدایت پاتے تھے اور اسے سن کر نفع اٹھاتے تھے۔ تو یہاں بیان ہو رہا ہے ان بدبختوں کا جو کلام الٰہی کو سن کر نفع حاصل کرنے سے باز رہتے ہیں اور بجائے اس کے گانے بجانے باجے گاجے ڈھول تاشے سنتے ہیں۔

چنانچہ اس آیت کی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قسم اللہ کی اس سے مراد گانا اور راگ ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:127/20:صحیح] ‏

ایک اور جگہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے تین دفعہ قسم کھا کر فرمایا کہ ”اس سے مقصد گانا اور راگ اور راگنیاں ہیں۔‏“ یہی قول سیدنا ابن عباس عنہما، سیدنا جابر رضی اللہ عنہم، عکرمہ، سعید بن جیبر، مجاہد مکحول، عمرو بن شعیب، علی بن بذیمہ رحمہ اللہ علیہم کا ہے۔

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ آیت گانے بجانے باجوں گاجوں کے بارے میں اتری ہے۔‏“ قتادۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس سے مراد صرف وہی نہیں جو اس لہو ولعب میں پیسے خرچے یہاں مراد خرید سے اسے محبوب رکھنا اور پسند کرنا ہے۔‏“ انسان کو یہی گمراہی کافی ہے کہ باطل کی بات کو حق پر پسند کرلے۔ اور نقصان کی چیز کو نفع پر مقدم کر لے۔ ایک اور قول یہ بھی ہے کہ لغو بات خریدنے سے مراد گانے والی لونڈیوں کی خریداری ہے۔

چنانچہ ابن ابی حاتم وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ گانے والیوں کی خرید و فروخت حلال نہیں اور ان کی قیمت کا کھانا حرام ہے انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے ۔ [سنن ترمذي:3195،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ امام ترمذی بھی اس حدیث کو لائے ہیں اور اسے غریب کہا ہے اور اس کے ایک راوی علی بن یزید کو ضعیف کہا ہے۔ میں کہتا ہوں خود علی ان کے استاد اور ان کے تمام شاگرد ضعیف ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6837

ضحاک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”مراد اس سے شرک ہے۔‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ ”ہر وہ کلام جو اللہ سے اور اتباع شرع سے روکے وہ اس آیت کے حکم میں داخل ہے۔ اس سے غرض اس کی اسلام اور اہل اسلام کی مخالفت ہوتی ہے۔‏“

ایک قرأت میں «لِیَضِلَّ» ہے تو لام لام عاقبت ہو گا یا لام تعلیل ہوگا۔ یعنی امر تقدیری ان کی اس کار گزاری سے ہو کر رہے گا۔ ایسے لوگ اللہ کی راہ کو ہنسی بنا لیتے ہیں۔ آیات اللہ کو بھی مذاق میں اڑاتے ہیں۔ اب ان کا انجام بھی سن لو کہ جس طرح انہوں نے اللہ کی راہ کی کتاب اللہ کی اہانت کی قیامت کے دن ان کی اہانت ہو گی اور خطرناک عذاب میں ذلیل ورسوا ہونگے۔

صفحہ نمبر6838

پھر بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ بد نصیب جو کھیل تماشوں، باجوں گاجوں، راگ راگنیوں پر ریجھا ہوا ہے، یہ قرآن کی آیتوں سے بھاگتا ہے کان ان سے بہرے کر لیتا ہے یہ اسے اچھی نہیں معلوم ہوتیں۔ سن بھی لیتا ہے تو بے سنی کر دیتا ہے۔ لیکن انکا سننا اسے ناگوار گزرتا ہے کوئی مزہ نہیں آتا۔ وہ اسے فضول کام قرار دیتا ہے چونکہ اس کی کوئی اہمیت اور عزت اس کے دل میں نہیں اس لیے وہ ان سے کوئی نفع حاصل نہیں کر سکتا وہ تو ان سے محض بے پرواہ ہے۔ یہ یہاں اللہ کی آیتوں سے اکتاتا ہے توقیامت کے دن عذاب بھی وہ ہونگے کہ اکتا اکتا اٹھے۔ یہاں آیات قرانی سن کر اسے دکھ ہوتا ہے وہاں دکھ دینے والے عذاب اسے بھگتنے پڑیں گے “۔

صفحہ نمبر6839

لہو و لعب موسیقی اور لغو باتیں ٭٭

اوپر بیان ہوا تھا نیک بختوں کا جو کتاب اللہ سے ہدایت پاتے تھے اور اسے سن کر نفع اٹھاتے تھے۔ تو یہاں بیان ہو رہا ہے ان بدبختوں کا جو کلام الٰہی کو سن کر نفع حاصل کرنے سے باز رہتے ہیں اور بجائے اس کے گانے بجانے باجے گاجے ڈھول تاشے سنتے ہیں۔

چنانچہ اس آیت کی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قسم اللہ کی اس سے مراد گانا اور راگ ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:127/20:صحیح] ‏

ایک اور جگہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے تین دفعہ قسم کھا کر فرمایا کہ ”اس سے مقصد گانا اور راگ اور راگنیاں ہیں۔‏“ یہی قول سیدنا ابن عباس عنہما، سیدنا جابر رضی اللہ عنہم، عکرمہ، سعید بن جیبر، مجاہد مکحول، عمرو بن شعیب، علی بن بذیمہ رحمہ اللہ علیہم کا ہے۔

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ آیت گانے بجانے باجوں گاجوں کے بارے میں اتری ہے۔‏“ قتادۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس سے مراد صرف وہی نہیں جو اس لہو ولعب میں پیسے خرچے یہاں مراد خرید سے اسے محبوب رکھنا اور پسند کرنا ہے۔‏“ انسان کو یہی گمراہی کافی ہے کہ باطل کی بات کو حق پر پسند کرلے۔ اور نقصان کی چیز کو نفع پر مقدم کر لے۔ ایک اور قول یہ بھی ہے کہ لغو بات خریدنے سے مراد گانے والی لونڈیوں کی خریداری ہے۔

چنانچہ ابن ابی حاتم وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ گانے والیوں کی خرید و فروخت حلال نہیں اور ان کی قیمت کا کھانا حرام ہے انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے ۔ [سنن ترمذي:3195،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ امام ترمذی بھی اس حدیث کو لائے ہیں اور اسے غریب کہا ہے اور اس کے ایک راوی علی بن یزید کو ضعیف کہا ہے۔ میں کہتا ہوں خود علی ان کے استاد اور ان کے تمام شاگرد ضعیف ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6837

ضحاک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”مراد اس سے شرک ہے۔‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ ”ہر وہ کلام جو اللہ سے اور اتباع شرع سے روکے وہ اس آیت کے حکم میں داخل ہے۔ اس سے غرض اس کی اسلام اور اہل اسلام کی مخالفت ہوتی ہے۔‏“

ایک قرأت میں «لِیَضِلَّ» ہے تو لام لام عاقبت ہو گا یا لام تعلیل ہوگا۔ یعنی امر تقدیری ان کی اس کار گزاری سے ہو کر رہے گا۔ ایسے لوگ اللہ کی راہ کو ہنسی بنا لیتے ہیں۔ آیات اللہ کو بھی مذاق میں اڑاتے ہیں۔ اب ان کا انجام بھی سن لو کہ جس طرح انہوں نے اللہ کی راہ کی کتاب اللہ کی اہانت کی قیامت کے دن ان کی اہانت ہو گی اور خطرناک عذاب میں ذلیل ورسوا ہونگے۔

صفحہ نمبر6838

پھر بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ بد نصیب جو کھیل تماشوں، باجوں گاجوں، راگ راگنیوں پر ریجھا ہوا ہے، یہ قرآن کی آیتوں سے بھاگتا ہے کان ان سے بہرے کر لیتا ہے یہ اسے اچھی نہیں معلوم ہوتیں۔ سن بھی لیتا ہے تو بے سنی کر دیتا ہے۔ لیکن انکا سننا اسے ناگوار گزرتا ہے کوئی مزہ نہیں آتا۔ وہ اسے فضول کام قرار دیتا ہے چونکہ اس کی کوئی اہمیت اور عزت اس کے دل میں نہیں اس لیے وہ ان سے کوئی نفع حاصل نہیں کر سکتا وہ تو ان سے محض بے پرواہ ہے۔ یہ یہاں اللہ کی آیتوں سے اکتاتا ہے توقیامت کے دن عذاب بھی وہ ہونگے کہ اکتا اکتا اٹھے۔ یہاں آیات قرانی سن کر اسے دکھ ہوتا ہے وہاں دکھ دینے والے عذاب اسے بھگتنے پڑیں گے “۔

صفحہ نمبر6839

اللہ تعالٰی کے وعدے ٹلتے نہیں ٭٭

نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ” جو اللہ پر ایمان لائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے رہے شریعت کی ماتحتی میں نیک کام کرتے رہے ان کے لیے جنتیں ہیں جن میں طرح طرح کی نعمتیں، لذیذ غذائیں، بہترین پوشاکیں، عمدہ عمدہ سواریاں، پاکیزہ نوارنی چہروں والی بیویاں ہیں۔ وہاں انہیں اور ان کی نعمتوں کو دوام ہے کبھی زوال نہیں۔ نہ تو یہ مریں نہ ان کی نعمتیں فناہوں نہ کم ہوں نہ خراب ہوں “۔

یہ حتماً اور یقیناً ہونے والا ہے کیونکہ اللہ فرما چکا ہے اور رب کی باتیں بدلتی نہیں اس کے وعدے ٹلتے نہیں۔ وہ کریم ہے، منان ہے، محسن ہے، منعم ہے، جو چاہے کرسکتا ہے۔ ہرچیز پر قادر ہے، عزیز ہے، سب کچھ اس کے قبضے میں ہے، حکیم ہے، کوئی کام کوئی بات کوئی فیصلہ خالی از حکمت نہیں۔ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ‌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» ” اس نے قرآن کریم کو مومنوں کے لیے ہادی اور شافی بنایا ہاں بے ایمانوں کے کانوں میں بوجھ ہیں اور آنکھوں میں اندھیرا ہے یہ وه لوگ ہیں جو کسی بہت دور دراز جگہ سے پکارے جا رہے ہیں “۔ [41-فصلت:44] ‏

اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» [17-الإسراء:82] ‏ یعنی ” جو قرآن ہم نے نازل فرمایا ہے وہ مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم تو نقصان میں ہی بڑھتے ہیں “۔

صفحہ نمبر6841

اللہ تعالٰی کے وعدے ٹلتے نہیں ٭٭

نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ” جو اللہ پر ایمان لائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے رہے شریعت کی ماتحتی میں نیک کام کرتے رہے ان کے لیے جنتیں ہیں جن میں طرح طرح کی نعمتیں، لذیذ غذائیں، بہترین پوشاکیں، عمدہ عمدہ سواریاں، پاکیزہ نوارنی چہروں والی بیویاں ہیں۔ وہاں انہیں اور ان کی نعمتوں کو دوام ہے کبھی زوال نہیں۔ نہ تو یہ مریں نہ ان کی نعمتیں فناہوں نہ کم ہوں نہ خراب ہوں “۔

یہ حتماً اور یقیناً ہونے والا ہے کیونکہ اللہ فرما چکا ہے اور رب کی باتیں بدلتی نہیں اس کے وعدے ٹلتے نہیں۔ وہ کریم ہے، منان ہے، محسن ہے، منعم ہے، جو چاہے کرسکتا ہے۔ ہرچیز پر قادر ہے، عزیز ہے، سب کچھ اس کے قبضے میں ہے، حکیم ہے، کوئی کام کوئی بات کوئی فیصلہ خالی از حکمت نہیں۔ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ‌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» ” اس نے قرآن کریم کو مومنوں کے لیے ہادی اور شافی بنایا ہاں بے ایمانوں کے کانوں میں بوجھ ہیں اور آنکھوں میں اندھیرا ہے یہ وه لوگ ہیں جو کسی بہت دور دراز جگہ سے پکارے جا رہے ہیں “۔ [41-فصلت:44] ‏

اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» [17-الإسراء:82] ‏ یعنی ” جو قرآن ہم نے نازل فرمایا ہے وہ مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم تو نقصان میں ہی بڑھتے ہیں “۔

صفحہ نمبر6841

پہاڑوں کی میخیں ٭٭

اللہ سبحان وتعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ ” زمین و آسمان اور ساری مخلوق کا خالق صرف وہی ہے۔ آسمان کو اس نے بے ستون اونچا رکھا ہے “۔

واقع ہی میں کوئی ستون نہیں، گو مجاہد رحمہ اللہ کا یہ قول بھی ہے کہ ستون ہمیں نظر نہیں آتے۔ اس مسئلہ کا پورا فیصلہ میں سورۃ الرعد کی تفسیر میں لکھ چکا ہوں اس لیے یہاں دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ زمین کو مضبوط کرنے کے لیے اور ہلے جلنے سے بچانے کے لیے اس نے اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تاکہ وہ تمہیں زلزلے اور جنبش سے بچالے۔ اس قدر قسم قسم کے بھانت بھانت کے جاندار اس خالق حقیقی نے پیدا کئے کہ آج تک ان کا کوئی حصر نہیں کر سکا۔ اپنا خالق اور اخلق ہونا بیان فرما کر اب رازق اور رزاق ہونا بیان فرما رہا ہے کہ ” آسمان سے بارش اتار کر زمین میں سے طرح طرح کی پیداوار اگادی جو دیکھنے میں خوش منظر کھانے میں بے ضرر۔ نفع میں بہت بہتر “۔

شعبی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ انسان بھی زمین کی پیداوار ہے جنتی کریم ہیں اور دوزخی لئیم ہیں۔ اللہ کی یہ ساری مخلوق تو تمہارے سامنے ہے اب جنہیں تم اس کے سوا پوجتے ہو ذرا بتاؤ تو ان کی مخلوق کہاں ہے؟ جب نہیں تو وہ خالق نہیں اور جب خالق نہیں تو معبود نہیں پھر ان کی عبادت نرا ظلم اور سخت ناانصافی ہے فی الواقع اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں سے زیادہ اندھا، بہرا، بے عقل، بے علم، بے سمجھ، بیوقوف اور کون ہوگا؟

صفحہ نمبر6843

پہاڑوں کی میخیں ٭٭

اللہ سبحان وتعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ ” زمین و آسمان اور ساری مخلوق کا خالق صرف وہی ہے۔ آسمان کو اس نے بے ستون اونچا رکھا ہے “۔

واقع ہی میں کوئی ستون نہیں، گو مجاہد رحمہ اللہ کا یہ قول بھی ہے کہ ستون ہمیں نظر نہیں آتے۔ اس مسئلہ کا پورا فیصلہ میں سورۃ الرعد کی تفسیر میں لکھ چکا ہوں اس لیے یہاں دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ زمین کو مضبوط کرنے کے لیے اور ہلے جلنے سے بچانے کے لیے اس نے اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تاکہ وہ تمہیں زلزلے اور جنبش سے بچالے۔ اس قدر قسم قسم کے بھانت بھانت کے جاندار اس خالق حقیقی نے پیدا کئے کہ آج تک ان کا کوئی حصر نہیں کر سکا۔ اپنا خالق اور اخلق ہونا بیان فرما کر اب رازق اور رزاق ہونا بیان فرما رہا ہے کہ ” آسمان سے بارش اتار کر زمین میں سے طرح طرح کی پیداوار اگادی جو دیکھنے میں خوش منظر کھانے میں بے ضرر۔ نفع میں بہت بہتر “۔

شعبی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ انسان بھی زمین کی پیداوار ہے جنتی کریم ہیں اور دوزخی لئیم ہیں۔ اللہ کی یہ ساری مخلوق تو تمہارے سامنے ہے اب جنہیں تم اس کے سوا پوجتے ہو ذرا بتاؤ تو ان کی مخلوق کہاں ہے؟ جب نہیں تو وہ خالق نہیں اور جب خالق نہیں تو معبود نہیں پھر ان کی عبادت نرا ظلم اور سخت ناانصافی ہے فی الواقع اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں سے زیادہ اندھا، بہرا، بے عقل، بے علم، بے سمجھ، بیوقوف اور کون ہوگا؟

صفحہ نمبر6843

لقمان نبی تھے یا نہیں؟ ٭٭

اس میں سلف کا اختلاف ہے کہ حضرت لقمان نبی تھے یا نہ تھے؟ اکثر حضرات فرماتے ہیں کہ آپ نبی نہ تھے پرہیزگار ولی اللہ اور اللہ کے پیارے بزرگ بندے تھے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”آپ حبشی غلام تھے اور بڑھئی تھے۔‏“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے جب سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ”لقمان پستہ قد اونچی ناک والے موٹے ہونٹ والے تھے۔‏“ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”آپ مصر کے رہنے والے حبشی تھے۔ آپ کو حکمت عطا ہوئی تھی لیکن نبوت نہیں ملی تھی۔‏“

آپ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ایک سیاہ رنگ غلام حبشی سے فرمایا ”اپنی رنگت کی وجہ سے اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھ تین شخص جو تمام لوگوں سے اچھے تھے تینوں سیاہ رنگ تھے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم رسالت پناہ کے غلام تھے۔ سیدنا مہج رضی اللہ عنہ جو جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے غلام تھے اور لقمان حکیم جو حبشہ کے نوبہ تھے۔‏“

صفحہ نمبر6845

حضرت خالد ربعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”لقمان جو حبشی غلام بڑھئی تھے ان سے ایک روز ان کے مالک نے کہا بکری ذبح کرو اور اس کے دو بہترین اور نفیس ٹکڑے گوشت کے میرے پاس لاؤ۔ وہ دل اور زبان لے گئے کچھ دنوں بعد ان کے آقا نے یہی حکم کیا اور کہا آج اس سارے گوشت میں جو بدترین گوشت اور خبیث کے ٹکڑے ہوں وہ لادو۔ آج بھی یہی دو چیزیں لے گئے۔ مالک نے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ بہترین ٹکڑے تجھ سے مانگے تو تو یہی دو لایا اور بدترین مانگے تو تو نے یہی لادئیے۔ یہ کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا جب یہ اچھے رہے تو ان سے بہترین جسم کا کوئی عضو نہیں اور جب یہ برے بن جائے تو پھر سب سے بدتر بھی یہی ہیں۔‏“

صفحہ نمبر6846

حضرت مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”لقمان نبی نہ تھے نیک بندے تھے۔ سیاہ فام غلام تھے موٹے ہونٹوں والے اور بھرے قدموں والے۔‏“ اور بزرگ سے بھی یہ مروی ہے کہ ”بنی اسرائیل میں قاضی تھے۔‏“

ایک اور قول ہے کہ ”آپ داؤد علیہ السلام کے زمانے میں تھے۔ ایک مرتبہ آپ کسی مجلس میں وعظ فرما رہے تھے کہ ایک چروا ہے نے آپ کو دیکھ کر کہا کیا تو وہی نہیں ہے جو میرے ساتھ فلاں فلاں جگہ بکریاں چرایا کرتا تھا؟ آپ نے فرمایا ہاں میں وہی ہوں اس نے کہا پھر تجھے یہ مرتبہ کیسے حاصل ہوا؟ فرمایا سچ بولنے اور بے کار کلام نہ کرنے سے۔‏“

اور روایت میں ہے کہ آپ نے اپنی بلندی کی وجہ یہ بیان کی کہ اللہ کا فضل اور امانت ادائیگی اور کلام کی سچائی اور بے نفع کاموں کو چھوڑ دینا۔ الغرض ایسے ہی آثار صاف ہیں کہ آپ نبی نہ تھے۔ بعض روایتیں اور بھی ہیں جن میں گو صراحت نہیں کہ آپ نبی نہ تھے لیکن ان میں بھی آپ کا غلام ہونا بیان کیا گیا ہے جو ثبوت ہے اس امر کا کہ آپ نبی نہ تھے کیونکہ غلامی نبوت کے منافی ہے۔ انبیاء کرام علیہ السلام عالی نسب اور عالی خاندان کے ہوا کرتے تھے۔

صفحہ نمبر6847

اسی لیے جمہور سلف کا قول ہے کہ لقمان نبی نہ تھے۔ ہاں عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نبی تھے لیکن یہ بھی جب کے سند صحیح ثابت ہو جائے لیکن اس کی سند میں جابر بن یزید جعفی ہیں جو ضعیف ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

کہتے ہیں کہ لقمان حکیم سے ایک شخص نے کہا کیا تو بنی حسحاس کا غلام نہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ہوں۔ اس نے کہا تو بکریوں کا چرواہا نہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ہوں۔ کہا گیا تو سیاہ رنگ نہیں؟ آپ نے فرمایا ظاہر ہے میں سیاہ رنگ ہوں تم یہ بتاؤ کہ تم کیا پوچھنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا یہی کہ پھر کیا وجہ ہے کہ تیری مجلس پر رہتی ہے لوگ تیرے دروازے پر آتے رہتے ہیں تری باتیں شوق سے سنتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ”سنو! بھائی جو باتیں میں تمہیں کہتا ہوں ان پر عمل کر لو تو تم بھی مجھ جیسے ہوجاؤ گے۔ آنکھیں حرام چیزوں سے بند کرلو۔ زبان بے ہودہ باتوں سے روک لو۔ مال حلال کھایا کرو۔ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو۔ زبان سے سچ بات بولا کرو۔ وعدے کو پورا کیا کرو۔ مہمان کی عزت کرو۔ پڑوسی کا خیال رکھو۔ بے فائدہ کاموں کو چھوڑ دو۔ انہی عادتوں کی وجہ سے میں نے بزرگی پائی ہے۔‏“

صفحہ نمبر6848

سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں ”لقمان حکیم کسی بڑے گھرانے کے امیر اور بہت زیادہ کنبے قبیلے والے نہ تھے۔ ہاں ان میں بہت سی بھلی عادتیں تھیں۔ وہ خوش اخلاق خاموش غور و فکر کرنے والے گہری نظر والے دن کو نہ سونے والے تھے۔ لوگوں کے سامنے تھوکتے نہ تھے نہ پاخانہ پیشاب اور غسل کرتے تھے لغو کاموں سے دور رہتے ہنستے نہ تھے، جو کلام کرتے تھے حکمت سے خالی نہ ہوتا تھا جس وقت ان کی اولاد فوت ہوئی یہ بالکل نہیں روئے۔ وہ بادشاہوں امیروں کے پاس اس لیے جاتے تھے کہ غوروفکر اور عبرت و نصیحت حاصل کریں۔ اسی وجہ سے انہیں بزرگی ملی۔‏“

قتادۃ رحمہ اللہ سے ایک عجیب اثر وارد ہے کہ ”لقمان کو حکمت ونبوت کے قبول کرنے میں اختیار دیا گیا تو آپ نے حکمت قبول فرمائی راتوں رات ان پر حکمت برسادی گئی اور رگ و پے میں حکمت بھر دی گئی۔ صبح کو ان کی باتیں اور عادتیں حکیمانہ ہوگئیں۔ آپ سے سوال ہوا کہ آپ نے نبوت کے مقابلے میں حکمت کیسے اختیار کی؟ تو جواب دیا کہ اگر اللہ مجھے نبی بنا دیتا تو اور بات تھی ممکن تھا کہ منصب نبوت کو میں نبھا جاتا۔ لیکن جب مجھے اختیار دیا گیا تو مجھے ڈر لگا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں نبوت کا بوجھ نہ سہار سکوں۔ اس لیے میں نے حکمت ہی کو پسند کیا۔‏“ اس روایت کے ایک راوی سعید بن بشیر ہیں جن میں ضعف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6849

حضرت قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”مراد حکمت سے اسلام کی سمجھ ہے۔ لقمان نہ نبی تھے نہ ان پر وحی آئی تھی پس سمجھ علم اور عبرت مراد ہے۔‏“

” ہم نے انہیں اپنا شکر بجالانے کا حکم فرمایا تھا کہ میں نے تجھے جو علم وعقل دی ہے اور دوسروں پر جو بزرگی عطا فرمائی ہے۔ اس پر تو میری شکر گزاری کر۔ شکر گزار کچھ مجھ پر احسان نہیں کرتا وہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے “۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ يَمْهَدُوْنَ» [30-الروم:44] ‏ ” نیکی والے اپنے لیے بھی بھلا توشہ تیار کرتے ہیں “۔ یہاں فرمان ہے کہ ” اگر کوئی ناشکری کرے تو اللہ کو اس کی ناشکری ضرر نہیں پہنچاسکتی وہ اپنے بندوں سے بے پرواہ ہے سب اس کے محتاج ہیں وہ سب سے بے نیاز ہے “۔ ساری زمین والے بھی اگر کافر ہو جائیں تو اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے وہ سب سے غنی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ہم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے۔

صفحہ نمبر6850

لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت و وصیت ٭٭

حضرت لقمان نے جو اپنے صاحبزادے کو نصیحت و وصیت کی تھی اس کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ لقمان بن عنقاء بن سدون تھے ان کے بیٹے کا نام سہیلی کے بیان کی رو سے ثاران ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اچھائی سے کیا اور فرمایا ہے کہ ” انکو حکمت عنایت فرمائی گئی تھی “۔ انہوں نے جو بہترین وعظ اپنے لڑکے کو سنایا تھا اور انہیں مفید ضروری اور عمدہ نصیحتیں کی تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔

ظاہر ہے کہ اولاد سے پیاری چیز انسان کی اور کوئی نہیں ہوتی اور انسان اپنی بہترین اور انمول چیز اپنی اولاد کو دینا چاہتا ہے۔ تو سب سے پہلے یہ نصیحت کی کہ ”صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ یاد رکھو اس سے بڑی بے حیائی اور زیادہ برا کام کوئی نہیں۔‏“

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ جب آیت «ااَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ» [6-الأنعام:82] ‏ اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی مشکل آپڑی اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ہم میں سے وہ کون ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو؟ اور آیت میں ہے کہ ” ایمان کو جنہوں نے ظلم سے نہیں ملایا وہی با امن اور راہ راست والے ہیں “۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم سے مراد عام گناہ نہیں بلکہ ظلم سے مراد وہ ظلم ہے جو لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا بڑا بھاری ظلم ہے ۔ [صحیح بخاری:4629] ‏

صفحہ نمبر6851

اس پہلی وصیت کے بعد لقمان دوسری وصیت کرتے ہیں اور وہ بھی درجے اور تاکید کے لحاظ سے واقعی ایسی ہی ہے کہ اس پہلی وصیت سے ملائی جائے، یعنی ”ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرنا۔‏“ جیسے فرمان جناب باری ہے آیت «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» [17-الإسراء:23] ‏، یعنی ” تیرا رب یہ فیصلہ فرما چکا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک و احسان کرتے رہو “۔

عموماً قرآن کریم میں ان دونوں چیزوں کا بیان ایک ساتھ ہے۔ یہاں بھی اسی طرح ہے «وَھْنٌ» کے معنی مشقت تکلیف ضعف وغیرہ کے ہیں۔ ایک تکلیف تو حمل کی ہوتی ہے جسے ماں برداشت کرتی ہے۔ حالت حمل کے دکھ درد کی حالت سب کو معلوم ہے پھر دو سال تک اسے دودھ پلاتی رہتی ہے اور اس کی پرورش میں لگی رہتی ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے «وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ» [2-البقرة:233] ‏ الخ، یعنی ” جو لوگ اپنی اولاد کو پورا پورا دودھ پلانا چاہے ان کے لیے آخری انتہائی سبب یہ ہے کہ دو سال کامل تک ان بچوں کو ان کی مائیں اپنا دودھ پلاتی رہیں “۔ چونکہ ایک اور آیت میں فرمایا گیا ہے «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» [46-الأحقاف:15] ‏ یعنی ” مدت حمل اور دودھ چھٹائی کل تیس ماہ ہے “۔

اس لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور دوسرے بڑے اماموں نے استدلال کیا ہے کہ ”حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہے۔‏“ ماں کی اس تکلیف کو اولاد کے سامنے اس لیے ظاہر کیا جاتا ہے کہ اولاد اپنی ماں کی ان مہربانیوں کو یاد کر کے شکر گزاری، اطاعت اور احسان کرے۔

جیسے اور آیت میں فرمان عالیشان ہے آیت «وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا» [17-الإسراء:24] ‏ ” ہم سے دعا کرو اور کہو کہ میرے سچے پروردگار میرے ماں باپ پر اس طرح رحم و کرم فرما جس طرح میرے بچپن میں وہ مجھ پر رحم کیا کرتے تھے “۔

یہاں فرمایا ” تاکہ تو میرا اور اپنے ماں باپ کا احسان مند ہو۔ سن لے آخر لوٹنا تو میری طرف ہے اگر میری اس بات کو مان لیا تو پھر بہترین جزا دونگا “۔

صفحہ نمبر6852

ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر بنا کر بھیجا آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں پہنچ کر سب سے پہلے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ یہ پیغام لے کر تم اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو میری باتیں مانتے رہو میں تمہاری خیر خواہی میں کوئی کوتاہی نہ کرونگا۔ سب کو لوٹ کر اللہ کی طرف جانا ہے۔ پھر یا تو جنت مکان بنے گی یا جہنم ٹھکانا ہو گا۔ پھر وہاں سے نہ اخراج ہو گا نہ موت آئے گی“ ۔ [مستدرک حاکم:83/1] ‏

صفحہ نمبر6853

پھر فرماتا ہے کہ ” اگر تمہارے ماں باپ تمہیں اسلام کے سوا اور دین قبول کرنے کو کہیں، گو وہ تمام تر طاقت خرچ کر ڈالیں خبردار! تم ان کی مان کر میرے ساتھ ہرگز شریک نہ کرنا۔ لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ تم ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنا چھوڑ دو نہیں دنیوی حقوق جو تمہارے ذمہ ان کے ہیں ادا کرتے رہو۔ ایسی باتیں ان کی نہ مانو بلکہ ان کی تابعداری کرو جو میری طرف رجوع ہو چکے ہیں۔ سن لو! تم سب لوٹ کر ایک دن میرے سامنے آنے والے ہو اس دن میں تمہیں تمہارے تمام تر اعمال کی خبر دونگا “۔

طبرانی کی کتاب العشرہ میں ہے سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ”میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ میں اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا اور ان کا پورا اطاعت گزار تھا۔ جب مجھے اللہ نے اسلام کی طرف ہدایت کی تو میری والدہ مجھ پر بہت بگڑیں اور کہنے لگی بچے یہ نیا دین تو کہاں سے نکال لایا۔ سنو! میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اس دین سے دستبردار ہو جاؤ ورنہ میں نہ کھاؤنگی نہ پیوگی اور یونہی بھوکی مرجاؤں گی۔

میں نے اسلام کو چھوڑا نہیں اور میری ماں نے کھانا پینا ترک کر دیا اور ہر طرف سے مجھ پر آوازہ کشی ہونے لگی کہ یہ اپنی ماں کا قاتل ہے۔ میں بہت ہی دل میں تنگ ہوا اپنی والدہ کی خدمت میں باربار عرض کیا خوشامدیں کیں سمجھایا کہ اللہ کے لیے اپنی ضد سے باز آ جاؤ۔ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اس سچے دین کو چھوڑ دوں۔ اسی ضد میں میری والدہ پر تین دن کا فاقہ گزر گیا اور اس کی حالت بہت ہی خراب ہو گئی تو میں اس کے پاس گیا اور میں نے کہا میری اچھی اماں جان سنو! تم مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو لیکن میرے دین سے زیادہ عزیز نہیں۔ واللہ! ایک نہیں تمہاری ایک سوجانیں بھی ہوں اور اسی بھوک پیاس میں ایک ایک کر کے سب نکل جائیں تو بھی میں اخری لمحہ تک اپنے سچے دین اسلام کو نہ چھوڑونگا۔ اب میری ماں مایوس ہوگئیں اور کھانا پینا شرع کر دیا۔‏“

صفحہ نمبر6854

لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت و وصیت ٭٭

حضرت لقمان نے جو اپنے صاحبزادے کو نصیحت و وصیت کی تھی اس کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ لقمان بن عنقاء بن سدون تھے ان کے بیٹے کا نام سہیلی کے بیان کی رو سے ثاران ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اچھائی سے کیا اور فرمایا ہے کہ ” انکو حکمت عنایت فرمائی گئی تھی “۔ انہوں نے جو بہترین وعظ اپنے لڑکے کو سنایا تھا اور انہیں مفید ضروری اور عمدہ نصیحتیں کی تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔

ظاہر ہے کہ اولاد سے پیاری چیز انسان کی اور کوئی نہیں ہوتی اور انسان اپنی بہترین اور انمول چیز اپنی اولاد کو دینا چاہتا ہے۔ تو سب سے پہلے یہ نصیحت کی کہ ”صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ یاد رکھو اس سے بڑی بے حیائی اور زیادہ برا کام کوئی نہیں۔‏“

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ جب آیت «ااَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ» [6-الأنعام:82] ‏ اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی مشکل آپڑی اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ہم میں سے وہ کون ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو؟ اور آیت میں ہے کہ ” ایمان کو جنہوں نے ظلم سے نہیں ملایا وہی با امن اور راہ راست والے ہیں “۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم سے مراد عام گناہ نہیں بلکہ ظلم سے مراد وہ ظلم ہے جو لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا بڑا بھاری ظلم ہے ۔ [صحیح بخاری:4629] ‏

صفحہ نمبر6851

اس پہلی وصیت کے بعد لقمان دوسری وصیت کرتے ہیں اور وہ بھی درجے اور تاکید کے لحاظ سے واقعی ایسی ہی ہے کہ اس پہلی وصیت سے ملائی جائے، یعنی ”ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرنا۔‏“ جیسے فرمان جناب باری ہے آیت «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» [17-الإسراء:23] ‏، یعنی ” تیرا رب یہ فیصلہ فرما چکا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک و احسان کرتے رہو “۔

عموماً قرآن کریم میں ان دونوں چیزوں کا بیان ایک ساتھ ہے۔ یہاں بھی اسی طرح ہے «وَھْنٌ» کے معنی مشقت تکلیف ضعف وغیرہ کے ہیں۔ ایک تکلیف تو حمل کی ہوتی ہے جسے ماں برداشت کرتی ہے۔ حالت حمل کے دکھ درد کی حالت سب کو معلوم ہے پھر دو سال تک اسے دودھ پلاتی رہتی ہے اور اس کی پرورش میں لگی رہتی ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے «وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ» [2-البقرة:233] ‏ الخ، یعنی ” جو لوگ اپنی اولاد کو پورا پورا دودھ پلانا چاہے ان کے لیے آخری انتہائی سبب یہ ہے کہ دو سال کامل تک ان بچوں کو ان کی مائیں اپنا دودھ پلاتی رہیں “۔ چونکہ ایک اور آیت میں فرمایا گیا ہے «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» [46-الأحقاف:15] ‏ یعنی ” مدت حمل اور دودھ چھٹائی کل تیس ماہ ہے “۔

اس لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور دوسرے بڑے اماموں نے استدلال کیا ہے کہ ”حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہے۔‏“ ماں کی اس تکلیف کو اولاد کے سامنے اس لیے ظاہر کیا جاتا ہے کہ اولاد اپنی ماں کی ان مہربانیوں کو یاد کر کے شکر گزاری، اطاعت اور احسان کرے۔

جیسے اور آیت میں فرمان عالیشان ہے آیت «وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا» [17-الإسراء:24] ‏ ” ہم سے دعا کرو اور کہو کہ میرے سچے پروردگار میرے ماں باپ پر اس طرح رحم و کرم فرما جس طرح میرے بچپن میں وہ مجھ پر رحم کیا کرتے تھے “۔

یہاں فرمایا ” تاکہ تو میرا اور اپنے ماں باپ کا احسان مند ہو۔ سن لے آخر لوٹنا تو میری طرف ہے اگر میری اس بات کو مان لیا تو پھر بہترین جزا دونگا “۔

صفحہ نمبر6852

ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر بنا کر بھیجا آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں پہنچ کر سب سے پہلے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ یہ پیغام لے کر تم اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو میری باتیں مانتے رہو میں تمہاری خیر خواہی میں کوئی کوتاہی نہ کرونگا۔ سب کو لوٹ کر اللہ کی طرف جانا ہے۔ پھر یا تو جنت مکان بنے گی یا جہنم ٹھکانا ہو گا۔ پھر وہاں سے نہ اخراج ہو گا نہ موت آئے گی“ ۔ [مستدرک حاکم:83/1] ‏

صفحہ نمبر6853

پھر فرماتا ہے کہ ” اگر تمہارے ماں باپ تمہیں اسلام کے سوا اور دین قبول کرنے کو کہیں، گو وہ تمام تر طاقت خرچ کر ڈالیں خبردار! تم ان کی مان کر میرے ساتھ ہرگز شریک نہ کرنا۔ لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ تم ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنا چھوڑ دو نہیں دنیوی حقوق جو تمہارے ذمہ ان کے ہیں ادا کرتے رہو۔ ایسی باتیں ان کی نہ مانو بلکہ ان کی تابعداری کرو جو میری طرف رجوع ہو چکے ہیں۔ سن لو! تم سب لوٹ کر ایک دن میرے سامنے آنے والے ہو اس دن میں تمہیں تمہارے تمام تر اعمال کی خبر دونگا “۔

طبرانی کی کتاب العشرہ میں ہے سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ”میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ میں اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا اور ان کا پورا اطاعت گزار تھا۔ جب مجھے اللہ نے اسلام کی طرف ہدایت کی تو میری والدہ مجھ پر بہت بگڑیں اور کہنے لگی بچے یہ نیا دین تو کہاں سے نکال لایا۔ سنو! میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اس دین سے دستبردار ہو جاؤ ورنہ میں نہ کھاؤنگی نہ پیوگی اور یونہی بھوکی مرجاؤں گی۔

میں نے اسلام کو چھوڑا نہیں اور میری ماں نے کھانا پینا ترک کر دیا اور ہر طرف سے مجھ پر آوازہ کشی ہونے لگی کہ یہ اپنی ماں کا قاتل ہے۔ میں بہت ہی دل میں تنگ ہوا اپنی والدہ کی خدمت میں باربار عرض کیا خوشامدیں کیں سمجھایا کہ اللہ کے لیے اپنی ضد سے باز آ جاؤ۔ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اس سچے دین کو چھوڑ دوں۔ اسی ضد میں میری والدہ پر تین دن کا فاقہ گزر گیا اور اس کی حالت بہت ہی خراب ہو گئی تو میں اس کے پاس گیا اور میں نے کہا میری اچھی اماں جان سنو! تم مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو لیکن میرے دین سے زیادہ عزیز نہیں۔ واللہ! ایک نہیں تمہاری ایک سوجانیں بھی ہوں اور اسی بھوک پیاس میں ایک ایک کر کے سب نکل جائیں تو بھی میں اخری لمحہ تک اپنے سچے دین اسلام کو نہ چھوڑونگا۔ اب میری ماں مایوس ہوگئیں اور کھانا پینا شرع کر دیا۔‏“

صفحہ نمبر6854

لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت و وصیت ٭٭

حضرت لقمان نے جو اپنے صاحبزادے کو نصیحت و وصیت کی تھی اس کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ لقمان بن عنقاء بن سدون تھے ان کے بیٹے کا نام سہیلی کے بیان کی رو سے ثاران ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اچھائی سے کیا اور فرمایا ہے کہ ” انکو حکمت عنایت فرمائی گئی تھی “۔ انہوں نے جو بہترین وعظ اپنے لڑکے کو سنایا تھا اور انہیں مفید ضروری اور عمدہ نصیحتیں کی تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔

ظاہر ہے کہ اولاد سے پیاری چیز انسان کی اور کوئی نہیں ہوتی اور انسان اپنی بہترین اور انمول چیز اپنی اولاد کو دینا چاہتا ہے۔ تو سب سے پہلے یہ نصیحت کی کہ ”صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ یاد رکھو اس سے بڑی بے حیائی اور زیادہ برا کام کوئی نہیں۔‏“

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ جب آیت «ااَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ» [6-الأنعام:82] ‏ اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی مشکل آپڑی اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ہم میں سے وہ کون ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو؟ اور آیت میں ہے کہ ” ایمان کو جنہوں نے ظلم سے نہیں ملایا وہی با امن اور راہ راست والے ہیں “۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم سے مراد عام گناہ نہیں بلکہ ظلم سے مراد وہ ظلم ہے جو لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا بڑا بھاری ظلم ہے ۔ [صحیح بخاری:4629] ‏

صفحہ نمبر6851

اس پہلی وصیت کے بعد لقمان دوسری وصیت کرتے ہیں اور وہ بھی درجے اور تاکید کے لحاظ سے واقعی ایسی ہی ہے کہ اس پہلی وصیت سے ملائی جائے، یعنی ”ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرنا۔‏“ جیسے فرمان جناب باری ہے آیت «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» [17-الإسراء:23] ‏، یعنی ” تیرا رب یہ فیصلہ فرما چکا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک و احسان کرتے رہو “۔

عموماً قرآن کریم میں ان دونوں چیزوں کا بیان ایک ساتھ ہے۔ یہاں بھی اسی طرح ہے «وَھْنٌ» کے معنی مشقت تکلیف ضعف وغیرہ کے ہیں۔ ایک تکلیف تو حمل کی ہوتی ہے جسے ماں برداشت کرتی ہے۔ حالت حمل کے دکھ درد کی حالت سب کو معلوم ہے پھر دو سال تک اسے دودھ پلاتی رہتی ہے اور اس کی پرورش میں لگی رہتی ہے۔

چنانچہ اور آیت میں ہے «وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ» [2-البقرة:233] ‏ الخ، یعنی ” جو لوگ اپنی اولاد کو پورا پورا دودھ پلانا چاہے ان کے لیے آخری انتہائی سبب یہ ہے کہ دو سال کامل تک ان بچوں کو ان کی مائیں اپنا دودھ پلاتی رہیں “۔ چونکہ ایک اور آیت میں فرمایا گیا ہے «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» [46-الأحقاف:15] ‏ یعنی ” مدت حمل اور دودھ چھٹائی کل تیس ماہ ہے “۔

اس لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور دوسرے بڑے اماموں نے استدلال کیا ہے کہ ”حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہے۔‏“ ماں کی اس تکلیف کو اولاد کے سامنے اس لیے ظاہر کیا جاتا ہے کہ اولاد اپنی ماں کی ان مہربانیوں کو یاد کر کے شکر گزاری، اطاعت اور احسان کرے۔

جیسے اور آیت میں فرمان عالیشان ہے آیت «وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا» [17-الإسراء:24] ‏ ” ہم سے دعا کرو اور کہو کہ میرے سچے پروردگار میرے ماں باپ پر اس طرح رحم و کرم فرما جس طرح میرے بچپن میں وہ مجھ پر رحم کیا کرتے تھے “۔

یہاں فرمایا ” تاکہ تو میرا اور اپنے ماں باپ کا احسان مند ہو۔ سن لے آخر لوٹنا تو میری طرف ہے اگر میری اس بات کو مان لیا تو پھر بہترین جزا دونگا “۔

صفحہ نمبر6852

ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر بنا کر بھیجا آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں پہنچ کر سب سے پہلے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ یہ پیغام لے کر تم اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو میری باتیں مانتے رہو میں تمہاری خیر خواہی میں کوئی کوتاہی نہ کرونگا۔ سب کو لوٹ کر اللہ کی طرف جانا ہے۔ پھر یا تو جنت مکان بنے گی یا جہنم ٹھکانا ہو گا۔ پھر وہاں سے نہ اخراج ہو گا نہ موت آئے گی“ ۔ [مستدرک حاکم:83/1] ‏

صفحہ نمبر6853

پھر فرماتا ہے کہ ” اگر تمہارے ماں باپ تمہیں اسلام کے سوا اور دین قبول کرنے کو کہیں، گو وہ تمام تر طاقت خرچ کر ڈالیں خبردار! تم ان کی مان کر میرے ساتھ ہرگز شریک نہ کرنا۔ لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ تم ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنا چھوڑ دو نہیں دنیوی حقوق جو تمہارے ذمہ ان کے ہیں ادا کرتے رہو۔ ایسی باتیں ان کی نہ مانو بلکہ ان کی تابعداری کرو جو میری طرف رجوع ہو چکے ہیں۔ سن لو! تم سب لوٹ کر ایک دن میرے سامنے آنے والے ہو اس دن میں تمہیں تمہارے تمام تر اعمال کی خبر دونگا “۔

طبرانی کی کتاب العشرہ میں ہے سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ”میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ میں اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا اور ان کا پورا اطاعت گزار تھا۔ جب مجھے اللہ نے اسلام کی طرف ہدایت کی تو میری والدہ مجھ پر بہت بگڑیں اور کہنے لگی بچے یہ نیا دین تو کہاں سے نکال لایا۔ سنو! میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اس دین سے دستبردار ہو جاؤ ورنہ میں نہ کھاؤنگی نہ پیوگی اور یونہی بھوکی مرجاؤں گی۔

میں نے اسلام کو چھوڑا نہیں اور میری ماں نے کھانا پینا ترک کر دیا اور ہر طرف سے مجھ پر آوازہ کشی ہونے لگی کہ یہ اپنی ماں کا قاتل ہے۔ میں بہت ہی دل میں تنگ ہوا اپنی والدہ کی خدمت میں باربار عرض کیا خوشامدیں کیں سمجھایا کہ اللہ کے لیے اپنی ضد سے باز آ جاؤ۔ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اس سچے دین کو چھوڑ دوں۔ اسی ضد میں میری والدہ پر تین دن کا فاقہ گزر گیا اور اس کی حالت بہت ہی خراب ہو گئی تو میں اس کے پاس گیا اور میں نے کہا میری اچھی اماں جان سنو! تم مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو لیکن میرے دین سے زیادہ عزیز نہیں۔ واللہ! ایک نہیں تمہاری ایک سوجانیں بھی ہوں اور اسی بھوک پیاس میں ایک ایک کر کے سب نکل جائیں تو بھی میں اخری لمحہ تک اپنے سچے دین اسلام کو نہ چھوڑونگا۔ اب میری ماں مایوس ہوگئیں اور کھانا پینا شرع کر دیا۔‏“

صفحہ نمبر6854

قیامت کے دن اعلیٰ اخلاق کام آئے گا ٭٭

حضرت لقمان کی یہ اور وصیتیں ہیں اور چونکہ یہ سب حکمتوں سے پر ہیں۔ قرآن انہیں بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان پر عمل کریں۔ فرماتے ہیں کہ ”برائی، خطا، ظلم ہے چاہے رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ خواہ کتنا ہی پوشیدہ اور ڈھکا چھپا کیوں نہ ہو قیامت کے دن اللہ اسے پیش کرے گا میزان میں سب کو رکھا جائے گا اور بدلہ دیا جائے گا نیک کام پر جزا بد پر سزا۔‏“

جیسے فرمان ہے آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» ‏ [21-الأنبياء:47] ‏، یعنی ” قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھ کر ہر ایک کو بدلہ دیں گے کوئی ظلم نہ کیا جائے گا “۔

اور آیت میں ہے «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ خَيْرً‌ا يَرَ‌هُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ شَرًّ‌ا يَرَ‌هُ» ” ذرے برابر نیکی اور ذرے برابر برائی ہر ایک دیکھ لے گا “۔ [99-الزلزلة:8-7] ‏

خواہ وہ نیکی یا بدی کسی مکان میں، محل میں، قلعہ میں، پتھر کے سوراخ میں، آسمانوں کے کونوں میں، زمین کی تہہ میں ہو کہیں بھی ہو اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں وہ اسے لا کر پیش کرے گا وہ بڑے باریک علم والا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس پر ظاہر ہے اندھیری رات میں چیونٹی جو چل رہی ہو اس کے پاؤں کی آہٹ کا بھی وہ علم رکھتا ہے۔ بعض نے یہ بھی جائز رکھا ہے کہ «اِنَّهَا» میں ضمیر شان کی اور قصہ کی ہے اور اس بناء پر انہوں نے «مِثْقَالُ» کی لام کا پیش پڑھنا بھی جائز رکھا ہے لیکن پہلی بات ہی زیادہ اچھی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ «صَخْرَةٌ» سے مراد وہ پتھر ہے جو ساتویں آسمان اور زمین کے نیچے ہیں۔ اس کی بعض سندیں بھی سدی رحمہ اللہ نے ذکر کی ہیں اگر صحیح ثابت ہوجائیں۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم وغیرہ سے یہ مروی تو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بہت ممکن ہے کہ یہ بھی بنی اسرائیل سے منقول ہوں لیکن ان کی کتابوں کی کسی بات کو ہم نہ سچی مان سکیں نہ جھٹلاسکیں۔ بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بقدر رائی کے دانہ کے کوئی عمل حقیر ہو اور ایسا پوشیدہ ہو کہ کسی پتھر کے اندر ہو۔ جیسے مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر تم میں سے کوئی شخص کوئی علم عمل کرے کسی بے سوراخ کے پتھر کے اندر جس کا نہ کوئی دروازہ ہو نہ کھڑکی ہو نہ سوراخ ہو تاہم اللہ تعالیٰ اسے لوگوں پر ظاہر کر دے گا خواہ کچھ ہی عمل ہو نیک ہو یا بد ۔ [مسند احمد:28/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6857

پھر فرماتے ہیں ”بیٹے نماز کا خیال رکھنا۔ اس کے فرائض، اس کے واجبات، ارکان اوقات وغیرہ کی پوری حفاظت کرنا۔ اپنی طاقت کے مطابق پوری کوشش کے ساتھ اللہ کی باتوں کی تبلیغ اپنوں، غیروں میں کرتے رہنا بھلی باتیں کرنے اور بری باتوں سے بچنے کے لیے ہر ایک سے کہنا۔‏“

اور چونکہ نیکی کا حکم یعنی بدی سے روکنا جو عموماً لوگوں کو کڑوی لگتی ہے۔ اور حق گو شخص سے لوگ دشمنی رکھتے ہیں اس لیے ساتھ ہی فرمایا کہ ”لوگوں سے جو ایذاء اور مصیبت پہنچے اس پر صبر کرنا درحقیقت اللہ کی راہ میں ننگی شمشیر رہنا اور حق پر مصیبتیں جھیلتے ہوئے پست ہمت نہ ہونا یہ بڑا بھاری اور جوانمردی کا کام ہے۔‏“

پھر فرماتے ہیں ”اپنا منہ لوگوں سے نہ موڑ انہیں حقیر سمجھ کریا اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر لوگوں سے تکبر نہ کر۔ بلکہ نرمی برت خوش خلقی سے پیش آ۔ خندہ پیشانی سے بات کر۔‏“

حدیث شریف میں ہے کہ کسی مسلمان بھائی سے تو کشادہ پیشانی سے ہنس مکھ ہو کر ملے یہ بھی تیری بڑی نیکی ہے۔ تہبند اور پاجامے کو ٹخنے سے نیچا نہ کر یہ تکبرو غرور ہے اور تکبر اور غرور اللہ کو ناپسند ہے ۔ [سنن ابوداود:4084،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر نہ کرنے کی وصیت کی ہے کہ ”ایسا نہ ہو کہ اللہ کے بندوں کو حقیر سمجھ کر تو ان سے منہ موڑ لے اور مسکنیوں سے بات کرنے سے بھی شرمائے۔‏“ منہ موڑے ہوئے باتیں کرنا بھی غرور میں داخل ہے۔ باچھیں پھاڑ کر لہجہ بدل کر حاکمانہ انداز کے ساتھ گھمنڈ بھرے الفاظ سے بات چیت بھی ممنوع ہے۔

صفحہ نمبر6858

”صعر“ ایک بیماری ہے جو اونٹوں کی گردن میں ظاہر ہوتی ہے یا سر میں اور اس سے گردن ٹیڑھی ہو جاتی ہے، پس متکبر شخص کو اسی ٹیڑھے منہ والے شخص سے ملا دیا گیا۔ عرب عموماً تکبر کے موقعہ پر صعر کا استعمال کرتے ہیں اور یہ استعمال ان کے شعروں میں بھی موجود ہے۔ زمین پر تن کر، اکڑ کر، اترا کر، غرور وتکبر سے نہ چلو یہ چال اللہ کو ناپسند ہے۔

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند رکھتا ہے جو خود بین متکبر سرکش اور فخر و غرور کرنے والے ہوں اور آیت میں ہے «‏وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا» [17-الإسراء:37] ‏، یعنی ” اکڑ کر زمین پر نہ چلو نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو نہ پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتے ہو “۔ اس آیت کی تفسیر بھی اس کی جگہ گزر چکی ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مرتبہ تکبر کا ذکر آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بڑی مذمت فرمائی اور فرمایا کہ ایسے خود پسند مغرور لوگوں سے اللہ غصہ ہوتا ہے ۔ اس پر ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جب کپڑے دھوتا ہوں اور خوب سفید ہو جاتے ہیں تو مجھے بہت اچھے لگتے ہیں میں ان سے خوش ہوتا ہوں۔ اسی طرح جوتے میں تسمہ بھلالگتا ہے۔ کوڑے کا خوبصورت غلاف بھلا معلوم ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تکبر نہیں ہے تکبر اس کا نام ہے کہ تو حق کو حقیر سمجھے اور لوگوں کو ذلیل خیال کرے ۔ [طبرانی کبیر:1317:اسناده ضعیف وله شواهد] ‏ یہ روایت اور طریق سے بہت لمبی مروی ہے اور اس میں سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کے انتقال اور ان کی وصیت کا ذکر بھی ہے۔

صفحہ نمبر6859

”اور میانہ روی کی چال چلا کر نہ بہت آہستہ، خراماں خراماں نہ بہت جلدی لمبے ڈگ بھربھر کے۔ کلام میں مبالغہ نہ کرے بے فائدہ چیخ چلا نہیں۔ بدترین آواز گدھے کی ہے۔ جو پوری طاقت لگا کر بےسود چلاتا ہے۔ باوجودیکہ وہ بھی اللہ کے سامنے اپنی عاجزی ظاہر کرتا ہے۔‏“ پس یہ بھی بری مثال دے کر سمجھا دیا کہ بلاوجہ چیخنا ڈانٹ ڈپٹ کرنا حرام ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بری مثالوں کے لائق ہم نہیں۔ اپنی دے دی ہوئی چیز واپس لینے والا ایسا ہے جیسے کتا جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے ۔ [صحیح بخاری:2621] ‏

نسائی میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مرغ کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو اور جب گدھے کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرو۔ اس لیے کہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے ۔ [صحیح بخاری:3303] ‏ ایک روایت میں ہے رات کو ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ [سنن ابوداود:5103،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر6860

یہ وصیتیں لقمان حکیم کی نہایت ہی نفع بخش ہیں۔ قرآن حکیم نے اسی لیے بیان فرمائی ہیں۔ آپ سے اور بھی بہت حکیمانہ قول اور وعظ ونصیحت کے کلمات مروی ہیں۔ بطور نمونہ کے اور دستور کے ہم بھی تھوڑے سے بیان کرتے ہیں۔

مسند احمد میں بزبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لقمان حکیم کا ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ اللہ کو جب کوئی چیز سونپ دی جائے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے ۔ [مسند احمد:87/2:صحیح] ‏

اور حدیث میں آپ کا یہ قول بھی مروی ہے کہ تصنع سے بچ یہ رات کے وقت ڈراؤنی چیز ہے اور دن کو مذمت وبرائی والی چیز ہے ۔ [مستدرک حاکم:411/2:ضعیف] ‏

آپ نے اپنے بیٹے سے یہ بھی فرمایا تھا کہ ”حکمت سے مسکین لوگ بادشاہ بن جاتے ہیں۔‏“ آپ کا فرمان ہے کہ ”جب کسی مجلس میں پہنچو پہلے اسلامی طریق کے مطابق سلام کرو پھر مجلس کے ایک طرف بیٹھ جاؤ۔ دوسرے نہ بولیں تو تم بھی خاموش رہو۔ اگر وہ ذکر اللہ کریں تو تم ان میں سب سے پہلے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کرو۔ اور اگر وہ گپ شپ کریں تو تم اس مجلس کو چھوڑ دو۔‏“

مروی ہے کہ آپ اپنے بچے کو نصیحت کرنے کے لیے جب بیٹھے تو رائی کی بھری ہوئی ایک تھیلی اپنے پاس رکھ لی تھی اور ہر ہر نصیحت کے بعد ایک دانہ اس میں سے نکال لیتے یہاں تک کہ تھیلی خالی ہو گئی تو آپ نے فرمایا ”بچے اگر اتنی نصیحت کسی پہاڑ کو کرتا تو وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔‏“ چنانچہ آپ کے صاحبزادے کا بھی یہی حال ہوا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں حبشیوں کودوست رکھا کر ان میں سے تین شخص اہل جنت کے سردار ہیں لقمان حکیم رحمہ اللہ، نجاشی رحمہ اللہ اور بلال موذن رضی اللہ عنہ ۔ [طبرانی کبیر:11482:ضعیف و جدا] ‏

صفحہ نمبر6861

تواضع اور فروتنی کا بیان ٭٭

لقمان رحمہ اللہ نے اپنے بچے کو اس کی وصیت کی تھی اور ابن ابی الدنیا نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ ہم اس میں سے اہم باتیں یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بہت سے پراگندہ بالوں والے میلے کچیلے کپڑوں والے جو کسی بڑے گھر تک نہیں پہنچ سکتے اللہ کے ہاں اتنے بڑے مرتبہ والے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر کوئی قسم لگا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ اسے بھی پوری فرما دے ۔ [سنن ترمذي:3854،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اور حدیث میں ہے سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں ۔ [مستدرک حاکم: 291/3: صحیح] ‏

ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتے دیکھ کر دریافت فرمایا تو جواب ملا کہ ”صاحب قبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث میں نے سنی ہے جسے یاد کر کے رورہا ہوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے اللہ تعالیٰ انہیں دوست رکھتا ہے جو متقی ہیں جو لوگوں میں چھپے چھپائے ہیں جو کسی گنتی میں نہیں آتے اگر وہ کسی مجمع میں نہ ہوں تو کوئی ان کا پرسان حال نہیں اگر آ جائیں تو کوئی آؤ بھگت نہیں لیکن ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر ایک غبار آلود اندھیرے سے بچ کرنور حاصل کر لیتے ہیں ۔ [سنن ابن ماجه:3989،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ میلے کچیلے کپڑوں والے جوذلیل گنے جاتے ہیں اللہ کے ہاں ایسے مقرب ہیں کہ اگر اللہ پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے گو انہیں اللہ نے دنیا نہیں دی لیکن ان کی زبان سے پوری جنت کا سوال بھی نکل جائے تو اللہ پورا کر لیتا ہے ۔ [مسند بزار:3628:ضعیف دون الجملة] ‏

صفحہ نمبر6862

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر آ کر وہ لوگ ایک دینار ایک درہم بلکہ ایک فلوس بھی مانگیں تو تم نہ دو لیکن اللہ کے ہاں وہ ایسے پیارے ہیں کہ اگر اللہ سے جنت کی جنت مانگیں تو پروردگار دیدے ہاں دنیا نہ تو انہیں دیتا ہے نہ روکتا ہے اس لیے کہ یہ کوئی قابل قدر چیز نہیں۔ یہ میلی کچیلی دو چادروں میں رہتے ہیں اگر کسی موقعہ پر قسم کھا بیٹھیں تو جو قسم انہوں نے کھائی ہو اللہ پوری کرتا ہے ۔ [ابن ابی الدنیا فی الاولیاء:9:مرسل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6863

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے بادشاہ وہ لوگ ہیں جو پراگندہ اور بکھرے ہوئے بالوں والے ہیں غبار آلود اور گرد سے اٹے ہوئے وہ امیروں کے گھر جانا چاہیں تو انہیں اجازت نہیں ملتی اگر کسی بڑے گھرانے میں نکاح کی مانگ کر ڈالیں تو وہاں کی بیٹی نہیں ملتی۔ ان مسکینوں سے انصاف کے برتاؤ نہیں برتے جاتے۔ ان کی حاجتیں اور ان کی امنگیں اور مرادیں پوری ہونے سے پہلے ہی خود ہی فوت ہو جاتی ہیں اور آرزوئیں دل کی دل میں ہی رہ جاتی ہیں انہیں قیامت کے دن اس قدر نور ملے گا کہ اگر وہ تقسیم کیا جائے تو تمام دنیا کے لیے کافی ہو جائے ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:10486:منقطع و ضعیف] ‏

عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے کہ بہت سے وہ لوگ جو دنیا میں حقیر وذلیل سمجھے جاتے ہیں کل قیامت کے دن تخت وتاراج والے ملک ومنال والے عزت وجلال والے بنے ہوئے ہونگے۔ باغات میں، نہروں میں، نعمتوں میں، راحتوں میں، مشغول ہونگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جناب باری کا ارشاد ہے ” سب سے زیادہ میرا پسندیدہ ولی وہ ہے جو مومن ہو، کم مال والا، کم عال وعیال والا، غازی، عبادت واطاعت گزار، پوشیدہ واعلانیہ مطیع ہو، لوگوں میں اس کی عزت اور اس کا وقار نہ ہو، اس کی جانب انگلیاں نہ اٹھتی ہوں، اور وہ اس پر صابر ہو “ ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ جھاڑ کر فرمایا اس کی موت جلدی آ جاتی ہے اس کی میراث بہت کم ہوتی ہے اس کی رونے والیاں تھوڑی ہوتی ہیں ۔ [سنن ابن ماجه:4117،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں اللہ کے سب سے زیادہ محبوب بندے غرباء ہیں جو اپنے دین کو لیے پھرتے ہیں جہاں دین کے کمزور ہونے کا خطرہ ہوتا ہے وہاں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں یہ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جمع ہونگے۔

صفحہ نمبر6864

حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے سے فرمائے گا ” کیا میں نے تجھ پر انعام واکرام نہیں فرمایا؟ کیا میں نے تجھے دیا نہیں؟ کیا میں نے تیرا جسم نہیں ڈھانپا؟ کیا میں نے تمہیں یہ نہیں دیا؟ کیا وہ نہیں دیا؟ کیا لوگوں میں تجھے عزت نہیں دی تھی؟ “ وغیرہ تو جہاں تک ہو سکے ان سوالوں کے جواب دینے کا موقعہ کم ملے اچھا ہے۔ لوگوں کی تعریفوں سے کیا فائدہ اور مذمت کریں تو کیا نقصان ہو گا۔ ہمارے نزدیک تو وہ شخص زیادہ اچھا ہے جسے لوگ برا کہتے ہوں اور وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہو۔‏“

ابن محیریز رحمہ اللہ تو دعا کرتے تھے کہ ”اللہ میری شہرت نہ ہو۔‏“ خلیل بن احمد رحمہ اللہ اپنی دعا میں کہتے تھے ”اللہ مجھے اپنی نگاہوں میں تو بلندی عطا فرما اور خود میری نظر میں مجھے بہت حقیر کر دے اور لوگوں کی نگاہوں میں مجھے درمیانہ درجہ کا رکھ“، پھر شہرت کا باب باندھ کر امام صاحب اس حدیث کو لائے ہیں انسان کو یہی برائی کافی ہے کہ لوگ اس کی دینداری یادنیاداری کی شہرت دینے لگیں اور اس کی طرف انگلیاں اٹھنے لگیں اشارے ہونے لگیں۔ پس اسی میں آ کر بہت سے لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں مگر جنہیں اللہ بچالے۔ سنو! اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمالوں کو دیکھتا ہے ۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے بھی یہی روایت مرسلاً مروی ہے جب آپ رضی اللہ عنہ نے یہ روایت بیان کی تو کسی نے کہا آپ رضی اللہ عنہ کی طرف بھی انگلیاں اٹھتی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سمجھے نہیں مراد انگلیاں اٹھنے سے دینی بدعت یا دنیوی فسق و فجور ہے۔‏“

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”شہرت حاصل کرنا نہ چاہو۔ اپنے آپ کو اونچا نہ کرو کہ لوگوں میں تذکرے ہونے لگیں علم حاصل کرو لیکن چھپاؤ چپ رہو تاکہ سلامت رہو، نیکوں کو خوش رکھو بدکاروں سے تصرف رکھو۔‏“

ابراہیم بن ادھم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”شہرت کا چاہنے والا اللہ کا ولی نہیں ہوتا۔‏“ ایوب رحمہ اللہ کا فرمان ہے ”جسے اللہ دوست بنالیتا ہے وہ تو لوگوں سے اپنا درجہ چھپاتا پھرتا ہے۔‏“

صفحہ نمبر6865

محمد بن علاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کے دوست لوگ اپنے تئیں ظاہر نہیں کرتے۔‏“ سماک بن سلمہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”عام لوگوں کے میل جول سے اور احباب کی زیادتی سے پرہیز کرو۔‏“ ابان بن عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر دین کو سالم رکھنا چاہتے ہو تو لوگوں سے کم جان پہچان رکھو۔‏“

ابوالعالیہ رحمہ اللہ کا قاعدہ تھا جب دیکھتے کہ ان کی مجلس میں تین سے زیادہ لوگ جمع ہو گئے تو انہیں چھوڑ کر خود چل دیتے۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جب اپنے ساتھ بھیڑ دیکھی تو فرمانے لگے ”طمع کی مکھیاں اور آگ کے پروانے جمع ہوگئے۔‏“ سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کو لوگ گھیرے کھڑے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کوڑا تانا اور فرمایا ”اس میں تابع کے لیے ذلت اور متبوع کے لیے فتنہ ہے۔‏“

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جب لوگ چلنے لگے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”اگر تم پر میرا باطن ظاہر ہو جائے تو تم میں سے دو بھی میرے ساتھ چلنا پسند نہ کریں۔‏“ حماد بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جب ہم کسی مجلس کے پاس سے گزرتے اور ہمارے ساتھ ایوب رحمہ اللہ ہوتے تو لوگ سلام کرتے اور وہ سختی سے جواب دیتے۔‏“ پس یہ ایک نعمت تھی۔

آپ لمبی قمیض پہنتے اس پر لوگوں نے کہا تو آپ نے جواب دیا کہ اگلے زمانے میں شہرت کی چیز تھی۔ لیکن یہ شہرت اس کو اونچا کرنے میں ہے۔ ایک مرتبہ آپ نے اپنی ٹوپیاں مسنون رنگ کی رنگوائیں اور کچھ دنوں تک پہن کر اتاردی اور فرمایا ”میں نے دیکھا کہ عام لوگ انہیں نہیں پہنتے۔‏“

ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”نہ تو ایسا لباس پہنو کہ لوگوں کی انگلیاں اٹھیں نہ اتنا گھٹیا پہنو کہ لوگ حقارت سے دیکھیں۔‏“

صفحہ نمبر6866

ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام سلف کا یہی معمول تھا کہ نہ بہت بڑھیا کپڑا پہنتے تھے نہ بالکل گھٹیا۔‏“ ابوقلابہ رحمہ اللہ کے پاس ایک شخص بہت ہی بہترین اور شہرت کا لباس پہنے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا ”اس آواز دینے والے گدھے سے بچو۔‏“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”بعض لوگوں نے دلوں میں تو تکبر بھر رکھا ہے اور ظاہر لباس میں تواضع کر رکھی ہے گویا چادر ایک بھاری ہتھوڑا ہے۔‏“

موسیٰ علیہ السلام کا مقولہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا ”میرے سامنے تو درویشوں کی پوشاک میں آئے حالانکہ تمہارے دل بھیڑیوں جیسے ہیں۔ سنو لباس چاہے بادشاہوں جیسا پہنو مگر دل خوف اللہ سے نرم رکھو۔‏“

صفحہ نمبر6867

اچھے اخلاق کا بیان ٭٭

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہتر اخلاق والے تھے [صحیح مسلم:5970] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کونسامومن بہتر ہے فرمایا سب سے اچھے اخلاق والا ۔ [سنن ابن ماجه:4259،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ باوجود کم اعمال کے صرف اچھے اخلاق کی وجہ سے انسان بڑے بڑے درجے اور جنت کی اعلی منازل حاصل کر لیتا ہے۔ اور باوجود بہت ساری نیکیوں کے صرف اخلاق کی برائی کی وجہ سے جہنم کے نیچے کے طبقے میں چلا جاتا ہے ۔ [ابن ابی الدنیا:168:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں اچھے اخلاق ہی میں دنیا آخرت کی بھلائی ہے ۔ [ابن ابی الدنیا:169:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں انسان اپنی خوش اخلاقی کے باعث راتوں کو قیام کرنے والے اور دنوں کو روزے رکھنے والوں کے درجوں کو پالیتا ۔ [سنن ابوداود:4898،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ دخول جنت کا موجب عام طور سے کیا ہے؟ فرمایا: اللہ کا ڈر اور اخلاق کی اچھائی ۔ پوچھا گیا عام طور سے جہنم میں کون سی چیز لے جاتی ہے؟ فرمایا: دو سوراخ دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ ۔ [سنن ترمذي:2004،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ایک مرتبہ چند اعراب کے اس سوال پر کہ انسان کو سب سے بہتر عطیہ کیا ملا ہے؟ فرمایا: کہ حسن خلق ۔ [مسند احمد:278/4:صحیح] ‏

فرمایا کہ نیکی کی ترازو میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی چیز اور کوئی نہیں ۔ [سنن ترمذي:2202،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

فرماتے ہیں تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو ۔ [صحیح بخاری:3559] ‏

فرماتے ہیں جس طرح مجاہد کو جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے صبح شام اجر ملتا ہے اسی طرح اچھے اخلاق پر بھی اللہ ثواب عطا فرماتا ہے ۔ [ابن ابی الدنیا:176:ضعیف] ‏

ارشاد ہے تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ قریب وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ بغض ونفرت کے قابل اور مجھ سے سب سے دور جنت میں وہ ہو گا جو بدخلق، بدگو، بدکلام، بدزبان ہوگا ۔ فرماتے ہیں کامل ایماندار اچھے اخلاق والے ہیں جو ہر ایک سے سلوک ومحبت سے ملیں جلیں ۔ [سنن ترمذي:2018،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ارشاد ہے جس کی پیدائش اور اخلاق اچھے ہیں اسے اللہ تعالیٰ جہنم کا لقمہ نہیں بنائے گا ۔ ارشاد ہے کہ دو خصلیتں مومن میں جمع نہیں ہو سکتی بخل اور بداخلاقی ۔ [ابن ابی الدنیا:180:ضعیف و مرسل] ‏

فرماتے ہیں بدخلقی سے زیادہ بڑا کوئی گناہ نہیں، اس لیے کہ بداخلاقی سے ایک سے ایک بڑے گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ [سنن ترمذي:1962،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6868

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے اللہ کے نزدیک بد اخلاقی سے بڑا کوئی گناہ نہیں۔ اچھے اخلاق سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بداخلاقیاں نیک اعمالوں کو غارت کر دیتی ہیں۔ جیسے شہد کو سرکہ خراب کر دیتا ہے ۔ [ابن ابی الدنیا:183:ضعیف و مرسل] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ غلام خریدنے سے غلام نہیں بڑھتے البتہ خوش اخلاقی سے لوگ گرویدہ اور جان نثا رہو جاتے ہیں ۔ [ابن ابی الدنیا:184:ضعیف] ‏

امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اچھا خلق دین کی مدد کرتا ہے۔‏“

صفحہ نمبر6869

تکبر کی مذمت کا بیان ٭٭

حضور صلی اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں وہ جنت میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو، اور وہ جہنمی نہیں جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہو ۔ [صحیح مسلم:39] ‏

فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر تکبر ہے وہ اوندھے منہ جہنم میں جائے گا ۔ [مسند احمد:215/2:صحیح لغیره] ‏

ارشاد ہے کہ انسان اپنے غرور اور خود پسندی میں بڑھتے بڑھتے اللہ کے ہاں جباروں میں لکھ دیا جاتا ہے، پھر سرکشوں کے عذاب میں پھنس جاتا ہے ۔ [مسند احمد:215/2:صحیح] ‏

امام مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ایک دن سلیمان بن داؤد علیہ السلام اپنے تخت پر بیٹے تھے آپ علیہ السلام کی دربار میں اس وقت دو لاکھ انسان تھے اور دو لاکھ جن تھے۔ آپ علیہ السلام کو آسمان تک پہنچایا گیا یہاں تک کہ فرشتوں کی تسبیح کی آواز کان میں آنے لگی۔ اور پھر زمین تک لایا گیا یہاں تک کہ سمندر کے پانی سے آپ علیہ السلام کے قدم بھیگ گئے۔ پھر ہاتف غیب نے ندادی کہ اگر اس کے دل میں ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہوتا تو جتنا اونچا گیا تھا اس سے زیادہ نیچے دھنسادیا جاتا۔‏“

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں انسان کی ابتدائی پیدائش کا بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ”یہ دو شخصوں کی پیشاب گاہ سے نکلتا ہے۔‏“ اس طرح اسے بیان فرمایا کہ سننے والے کراہت کرنے لگے۔

امام شعمی رحمہ اللہ کا قول ہے ”جس نے دو شخصوں کو قتل کر دیا وہ بڑا ہی سرکش اور جبار ہے پھر آپ رحمہ اللہ نے یہ آیت پڑھی «فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَا مُوسَىٰ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ إِن تُرِيدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ» ‏ [28-سورةالقص:19] ‏ ” کیا تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے؟ جیسے کہ تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے۔ تیرا ارادہ تو دنیا میں سرکش اور جبار بن کر رہنے کا معلوم ہوتا ہے “۔

صفحہ نمبر6870

حضرت حسن رحمہ اللہ کا مقولہ ہے ”وہ انسان جو ہر دن میں دو مرتبہ اپنا پاخانہ اپنے ہاتھ سے دھوتا ہے وہ کس بنا پر تکبر کرتا ہے اور اس کا وصف اپنے میں پیدا کرنا چاہتا ہے جس نے آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور اپنے قبضے میں رکھا ہے۔‏“

ضحاک بن سفیان رحمہ اللہ سے دنیا کی مثال اس چیز سے بھی مروی ہے جو انسان سے نکلتی ہے۔ امام محمد بن حسین بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جس دل میں جتنا تکبر اور گھمنڈ ہوتا ہے اتنی ہی عقل اس کی کم ہو جاتی ہے۔‏“ یونس بن عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سجدہ کرنے کے ساتھ تکبر اور توحید کے ساتھ نفاق نہیں ہوا کرتا۔‏“

بنی امیہ مارمار کر اپنی اولاد کو اکڑا کر چلنا سکھاتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو آپ کی خلافت سے پہلے ایک مرتبہ اٹھلاتی ہوئی چال چلتے ہوئے دیکھ کر طاؤس رحمہ اللہ نے ان کے پہلو میں ایک ٹھونکا مارا اور فرمایا ”یہ چال اس کی جس کے پیٹ میں پاخانہ بھرا ہوا ہے؟“ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بہت شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے ”معاف فرمائیے ہمیں مارمار کر اس چال کی عادت ڈلوائی گئی ہے۔‏“

صفحہ نمبر6871

فخر و گھمنڈ کی مذمت کا بیان ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص فخر و غرور سے اپنا کپڑا نیچے لٹکا کر گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف رحمت سے نہ دیکھے گا ۔ [صحیح بخاری:5789] ‏

فرماتے ہیں اس کی طرف اللہ قیامت کے دن نظر نہ ڈالے گا جو اپنا تہبند لٹکائے ۔ ایک شخص دو عمدہ چادریں اوڑھے دل میں غرور لیے اکڑتا ہوا جا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسادیا قیامت تک وہ دھنستا ہوا چلا جائے گا ۔ [صحیح بخاری:3485] ‏

صفحہ نمبر6872

قیامت کے دن اعلیٰ اخلاق کام آئے گا ٭٭

حضرت لقمان کی یہ اور وصیتیں ہیں اور چونکہ یہ سب حکمتوں سے پر ہیں۔ قرآن انہیں بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان پر عمل کریں۔ فرماتے ہیں کہ ”برائی، خطا، ظلم ہے چاہے رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ خواہ کتنا ہی پوشیدہ اور ڈھکا چھپا کیوں نہ ہو قیامت کے دن اللہ اسے پیش کرے گا میزان میں سب کو رکھا جائے گا اور بدلہ دیا جائے گا نیک کام پر جزا بد پر سزا۔‏“

جیسے فرمان ہے آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» ‏ [21-الأنبياء:47] ‏، یعنی ” قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھ کر ہر ایک کو بدلہ دیں گے کوئی ظلم نہ کیا جائے گا “۔

اور آیت میں ہے «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ خَيْرً‌ا يَرَ‌هُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ شَرًّ‌ا يَرَ‌هُ» ” ذرے برابر نیکی اور ذرے برابر برائی ہر ایک دیکھ لے گا “۔ [99-الزلزلة:8-7] ‏

خواہ وہ نیکی یا بدی کسی مکان میں، محل میں، قلعہ میں، پتھر کے سوراخ میں، آسمانوں کے کونوں میں، زمین کی تہہ میں ہو کہیں بھی ہو اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں وہ اسے لا کر پیش کرے گا وہ بڑے باریک علم والا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس پر ظاہر ہے اندھیری رات میں چیونٹی جو چل رہی ہو اس کے پاؤں کی آہٹ کا بھی وہ علم رکھتا ہے۔ بعض نے یہ بھی جائز رکھا ہے کہ «اِنَّهَا» میں ضمیر شان کی اور قصہ کی ہے اور اس بناء پر انہوں نے «مِثْقَالُ» کی لام کا پیش پڑھنا بھی جائز رکھا ہے لیکن پہلی بات ہی زیادہ اچھی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ «صَخْرَةٌ» سے مراد وہ پتھر ہے جو ساتویں آسمان اور زمین کے نیچے ہیں۔ اس کی بعض سندیں بھی سدی رحمہ اللہ نے ذکر کی ہیں اگر صحیح ثابت ہوجائیں۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم وغیرہ سے یہ مروی تو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بہت ممکن ہے کہ یہ بھی بنی اسرائیل سے منقول ہوں لیکن ان کی کتابوں کی کسی بات کو ہم نہ سچی مان سکیں نہ جھٹلاسکیں۔ بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بقدر رائی کے دانہ کے کوئی عمل حقیر ہو اور ایسا پوشیدہ ہو کہ کسی پتھر کے اندر ہو۔ جیسے مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر تم میں سے کوئی شخص کوئی علم عمل کرے کسی بے سوراخ کے پتھر کے اندر جس کا نہ کوئی دروازہ ہو نہ کھڑکی ہو نہ سوراخ ہو تاہم اللہ تعالیٰ اسے لوگوں پر ظاہر کر دے گا خواہ کچھ ہی عمل ہو نیک ہو یا بد ۔ [مسند احمد:28/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6857

پھر فرماتے ہیں ”بیٹے نماز کا خیال رکھنا۔ اس کے فرائض، اس کے واجبات، ارکان اوقات وغیرہ کی پوری حفاظت کرنا۔ اپنی طاقت کے مطابق پوری کوشش کے ساتھ اللہ کی باتوں کی تبلیغ اپنوں، غیروں میں کرتے رہنا بھلی باتیں کرنے اور بری باتوں سے بچنے کے لیے ہر ایک سے کہنا۔‏“

اور چونکہ نیکی کا حکم یعنی بدی سے روکنا جو عموماً لوگوں کو کڑوی لگتی ہے۔ اور حق گو شخص سے لوگ دشمنی رکھتے ہیں اس لیے ساتھ ہی فرمایا کہ ”لوگوں سے جو ایذاء اور مصیبت پہنچے اس پر صبر کرنا درحقیقت اللہ کی راہ میں ننگی شمشیر رہنا اور حق پر مصیبتیں جھیلتے ہوئے پست ہمت نہ ہونا یہ بڑا بھاری اور جوانمردی کا کام ہے۔‏“

پھر فرماتے ہیں ”اپنا منہ لوگوں سے نہ موڑ انہیں حقیر سمجھ کریا اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر لوگوں سے تکبر نہ کر۔ بلکہ نرمی برت خوش خلقی سے پیش آ۔ خندہ پیشانی سے بات کر۔‏“

حدیث شریف میں ہے کہ کسی مسلمان بھائی سے تو کشادہ پیشانی سے ہنس مکھ ہو کر ملے یہ بھی تیری بڑی نیکی ہے۔ تہبند اور پاجامے کو ٹخنے سے نیچا نہ کر یہ تکبرو غرور ہے اور تکبر اور غرور اللہ کو ناپسند ہے ۔ [سنن ابوداود:4084،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر نہ کرنے کی وصیت کی ہے کہ ”ایسا نہ ہو کہ اللہ کے بندوں کو حقیر سمجھ کر تو ان سے منہ موڑ لے اور مسکنیوں سے بات کرنے سے بھی شرمائے۔‏“ منہ موڑے ہوئے باتیں کرنا بھی غرور میں داخل ہے۔ باچھیں پھاڑ کر لہجہ بدل کر حاکمانہ انداز کے ساتھ گھمنڈ بھرے الفاظ سے بات چیت بھی ممنوع ہے۔

صفحہ نمبر6858

”صعر“ ایک بیماری ہے جو اونٹوں کی گردن میں ظاہر ہوتی ہے یا سر میں اور اس سے گردن ٹیڑھی ہو جاتی ہے، پس متکبر شخص کو اسی ٹیڑھے منہ والے شخص سے ملا دیا گیا۔ عرب عموماً تکبر کے موقعہ پر صعر کا استعمال کرتے ہیں اور یہ استعمال ان کے شعروں میں بھی موجود ہے۔ زمین پر تن کر، اکڑ کر، اترا کر، غرور وتکبر سے نہ چلو یہ چال اللہ کو ناپسند ہے۔

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند رکھتا ہے جو خود بین متکبر سرکش اور فخر و غرور کرنے والے ہوں اور آیت میں ہے «‏وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا» [17-الإسراء:37] ‏، یعنی ” اکڑ کر زمین پر نہ چلو نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو نہ پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتے ہو “۔ اس آیت کی تفسیر بھی اس کی جگہ گزر چکی ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مرتبہ تکبر کا ذکر آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بڑی مذمت فرمائی اور فرمایا کہ ایسے خود پسند مغرور لوگوں سے اللہ غصہ ہوتا ہے ۔ اس پر ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جب کپڑے دھوتا ہوں اور خوب سفید ہو جاتے ہیں تو مجھے بہت اچھے لگتے ہیں میں ان سے خوش ہوتا ہوں۔ اسی طرح جوتے میں تسمہ بھلالگتا ہے۔ کوڑے کا خوبصورت غلاف بھلا معلوم ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تکبر نہیں ہے تکبر اس کا نام ہے کہ تو حق کو حقیر سمجھے اور لوگوں کو ذلیل خیال کرے ۔ [طبرانی کبیر:1317:اسناده ضعیف وله شواهد] ‏ یہ روایت اور طریق سے بہت لمبی مروی ہے اور اس میں سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کے انتقال اور ان کی وصیت کا ذکر بھی ہے۔

صفحہ نمبر6859

”اور میانہ روی کی چال چلا کر نہ بہت آہستہ، خراماں خراماں نہ بہت جلدی لمبے ڈگ بھربھر کے۔ کلام میں مبالغہ نہ کرے بے فائدہ چیخ چلا نہیں۔ بدترین آواز گدھے کی ہے۔ جو پوری طاقت لگا کر بےسود چلاتا ہے۔ باوجودیکہ وہ بھی اللہ کے سامنے اپنی عاجزی ظاہر کرتا ہے۔‏“ پس یہ بھی بری مثال دے کر سمجھا دیا کہ بلاوجہ چیخنا ڈانٹ ڈپٹ کرنا حرام ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بری مثالوں کے لائق ہم نہیں۔ اپنی دے دی ہوئی چیز واپس لینے والا ایسا ہے جیسے کتا جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے ۔ [صحیح بخاری:2621] ‏

نسائی میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مرغ کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو اور جب گدھے کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرو۔ اس لیے کہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے ۔ [صحیح بخاری:3303] ‏ ایک روایت میں ہے رات کو ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ [سنن ابوداود:5103،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر6860

یہ وصیتیں لقمان حکیم کی نہایت ہی نفع بخش ہیں۔ قرآن حکیم نے اسی لیے بیان فرمائی ہیں۔ آپ سے اور بھی بہت حکیمانہ قول اور وعظ ونصیحت کے کلمات مروی ہیں۔ بطور نمونہ کے اور دستور کے ہم بھی تھوڑے سے بیان کرتے ہیں۔

مسند احمد میں بزبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لقمان حکیم کا ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ اللہ کو جب کوئی چیز سونپ دی جائے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے ۔ [مسند احمد:87/2:صحیح] ‏

اور حدیث میں آپ کا یہ قول بھی مروی ہے کہ تصنع سے بچ یہ رات کے وقت ڈراؤنی چیز ہے اور دن کو مذمت وبرائی والی چیز ہے ۔ [مستدرک حاکم:411/2:ضعیف] ‏

آپ نے اپنے بیٹے سے یہ بھی فرمایا تھا کہ ”حکمت سے مسکین لوگ بادشاہ بن جاتے ہیں۔‏“ آپ کا فرمان ہے کہ ”جب کسی مجلس میں پہنچو پہلے اسلامی طریق کے مطابق سلام کرو پھر مجلس کے ایک طرف بیٹھ جاؤ۔ دوسرے نہ بولیں تو تم بھی خاموش رہو۔ اگر وہ ذکر اللہ کریں تو تم ان میں سب سے پہلے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کرو۔ اور اگر وہ گپ شپ کریں تو تم اس مجلس کو چھوڑ دو۔‏“

مروی ہے کہ آپ اپنے بچے کو نصیحت کرنے کے لیے جب بیٹھے تو رائی کی بھری ہوئی ایک تھیلی اپنے پاس رکھ لی تھی اور ہر ہر نصیحت کے بعد ایک دانہ اس میں سے نکال لیتے یہاں تک کہ تھیلی خالی ہو گئی تو آپ نے فرمایا ”بچے اگر اتنی نصیحت کسی پہاڑ کو کرتا تو وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔‏“ چنانچہ آپ کے صاحبزادے کا بھی یہی حال ہوا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں حبشیوں کودوست رکھا کر ان میں سے تین شخص اہل جنت کے سردار ہیں لقمان حکیم رحمہ اللہ، نجاشی رحمہ اللہ اور بلال موذن رضی اللہ عنہ ۔ [طبرانی کبیر:11482:ضعیف و جدا] ‏

صفحہ نمبر6861

تواضع اور فروتنی کا بیان ٭٭

لقمان رحمہ اللہ نے اپنے بچے کو اس کی وصیت کی تھی اور ابن ابی الدنیا نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ ہم اس میں سے اہم باتیں یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بہت سے پراگندہ بالوں والے میلے کچیلے کپڑوں والے جو کسی بڑے گھر تک نہیں پہنچ سکتے اللہ کے ہاں اتنے بڑے مرتبہ والے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر کوئی قسم لگا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ اسے بھی پوری فرما دے ۔ [سنن ترمذي:3854،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اور حدیث میں ہے سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں ۔ [مستدرک حاکم: 291/3: صحیح] ‏

ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتے دیکھ کر دریافت فرمایا تو جواب ملا کہ ”صاحب قبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث میں نے سنی ہے جسے یاد کر کے رورہا ہوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے اللہ تعالیٰ انہیں دوست رکھتا ہے جو متقی ہیں جو لوگوں میں چھپے چھپائے ہیں جو کسی گنتی میں نہیں آتے اگر وہ کسی مجمع میں نہ ہوں تو کوئی ان کا پرسان حال نہیں اگر آ جائیں تو کوئی آؤ بھگت نہیں لیکن ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر ایک غبار آلود اندھیرے سے بچ کرنور حاصل کر لیتے ہیں ۔ [سنن ابن ماجه:3989،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ میلے کچیلے کپڑوں والے جوذلیل گنے جاتے ہیں اللہ کے ہاں ایسے مقرب ہیں کہ اگر اللہ پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے گو انہیں اللہ نے دنیا نہیں دی لیکن ان کی زبان سے پوری جنت کا سوال بھی نکل جائے تو اللہ پورا کر لیتا ہے ۔ [مسند بزار:3628:ضعیف دون الجملة] ‏

صفحہ نمبر6862

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر آ کر وہ لوگ ایک دینار ایک درہم بلکہ ایک فلوس بھی مانگیں تو تم نہ دو لیکن اللہ کے ہاں وہ ایسے پیارے ہیں کہ اگر اللہ سے جنت کی جنت مانگیں تو پروردگار دیدے ہاں دنیا نہ تو انہیں دیتا ہے نہ روکتا ہے اس لیے کہ یہ کوئی قابل قدر چیز نہیں۔ یہ میلی کچیلی دو چادروں میں رہتے ہیں اگر کسی موقعہ پر قسم کھا بیٹھیں تو جو قسم انہوں نے کھائی ہو اللہ پوری کرتا ہے ۔ [ابن ابی الدنیا فی الاولیاء:9:مرسل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6863

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے بادشاہ وہ لوگ ہیں جو پراگندہ اور بکھرے ہوئے بالوں والے ہیں غبار آلود اور گرد سے اٹے ہوئے وہ امیروں کے گھر جانا چاہیں تو انہیں اجازت نہیں ملتی اگر کسی بڑے گھرانے میں نکاح کی مانگ کر ڈالیں تو وہاں کی بیٹی نہیں ملتی۔ ان مسکینوں سے انصاف کے برتاؤ نہیں برتے جاتے۔ ان کی حاجتیں اور ان کی امنگیں اور مرادیں پوری ہونے سے پہلے ہی خود ہی فوت ہو جاتی ہیں اور آرزوئیں دل کی دل میں ہی رہ جاتی ہیں انہیں قیامت کے دن اس قدر نور ملے گا کہ اگر وہ تقسیم کیا جائے تو تمام دنیا کے لیے کافی ہو جائے ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:10486:منقطع و ضعیف] ‏

عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے کہ بہت سے وہ لوگ جو دنیا میں حقیر وذلیل سمجھے جاتے ہیں کل قیامت کے دن تخت وتاراج والے ملک ومنال والے عزت وجلال والے بنے ہوئے ہونگے۔ باغات میں، نہروں میں، نعمتوں میں، راحتوں میں، مشغول ہونگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جناب باری کا ارشاد ہے ” سب سے زیادہ میرا پسندیدہ ولی وہ ہے جو مومن ہو، کم مال والا، کم عال وعیال والا، غازی، عبادت واطاعت گزار، پوشیدہ واعلانیہ مطیع ہو، لوگوں میں اس کی عزت اور اس کا وقار نہ ہو، اس کی جانب انگلیاں نہ اٹھتی ہوں، اور وہ اس پر صابر ہو “ ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ جھاڑ کر فرمایا اس کی موت جلدی آ جاتی ہے اس کی میراث بہت کم ہوتی ہے اس کی رونے والیاں تھوڑی ہوتی ہیں ۔ [سنن ابن ماجه:4117،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں اللہ کے سب سے زیادہ محبوب بندے غرباء ہیں جو اپنے دین کو لیے پھرتے ہیں جہاں دین کے کمزور ہونے کا خطرہ ہوتا ہے وہاں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں یہ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جمع ہونگے۔

صفحہ نمبر6864

حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے سے فرمائے گا ” کیا میں نے تجھ پر انعام واکرام نہیں فرمایا؟ کیا میں نے تجھے دیا نہیں؟ کیا میں نے تیرا جسم نہیں ڈھانپا؟ کیا میں نے تمہیں یہ نہیں دیا؟ کیا وہ نہیں دیا؟ کیا لوگوں میں تجھے عزت نہیں دی تھی؟ “ وغیرہ تو جہاں تک ہو سکے ان سوالوں کے جواب دینے کا موقعہ کم ملے اچھا ہے۔ لوگوں کی تعریفوں سے کیا فائدہ اور مذمت کریں تو کیا نقصان ہو گا۔ ہمارے نزدیک تو وہ شخص زیادہ اچھا ہے جسے لوگ برا کہتے ہوں اور وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہو۔‏“

ابن محیریز رحمہ اللہ تو دعا کرتے تھے کہ ”اللہ میری شہرت نہ ہو۔‏“ خلیل بن احمد رحمہ اللہ اپنی دعا میں کہتے تھے ”اللہ مجھے اپنی نگاہوں میں تو بلندی عطا فرما اور خود میری نظر میں مجھے بہت حقیر کر دے اور لوگوں کی نگاہوں میں مجھے درمیانہ درجہ کا رکھ“، پھر شہرت کا باب باندھ کر امام صاحب اس حدیث کو لائے ہیں انسان کو یہی برائی کافی ہے کہ لوگ اس کی دینداری یادنیاداری کی شہرت دینے لگیں اور اس کی طرف انگلیاں اٹھنے لگیں اشارے ہونے لگیں۔ پس اسی میں آ کر بہت سے لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں مگر جنہیں اللہ بچالے۔ سنو! اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمالوں کو دیکھتا ہے ۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے بھی یہی روایت مرسلاً مروی ہے جب آپ رضی اللہ عنہ نے یہ روایت بیان کی تو کسی نے کہا آپ رضی اللہ عنہ کی طرف بھی انگلیاں اٹھتی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سمجھے نہیں مراد انگلیاں اٹھنے سے دینی بدعت یا دنیوی فسق و فجور ہے۔‏“

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”شہرت حاصل کرنا نہ چاہو۔ اپنے آپ کو اونچا نہ کرو کہ لوگوں میں تذکرے ہونے لگیں علم حاصل کرو لیکن چھپاؤ چپ رہو تاکہ سلامت رہو، نیکوں کو خوش رکھو بدکاروں سے تصرف رکھو۔‏“

ابراہیم بن ادھم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”شہرت کا چاہنے والا اللہ کا ولی نہیں ہوتا۔‏“ ایوب رحمہ اللہ کا فرمان ہے ”جسے اللہ دوست بنالیتا ہے وہ تو لوگوں سے اپنا درجہ چھپاتا پھرتا ہے۔‏“

صفحہ نمبر6865

محمد بن علاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کے دوست لوگ اپنے تئیں ظاہر نہیں کرتے۔‏“ سماک بن سلمہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”عام لوگوں کے میل جول سے اور احباب کی زیادتی سے پرہیز کرو۔‏“ ابان بن عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر دین کو سالم رکھنا چاہتے ہو تو لوگوں سے کم جان پہچان رکھو۔‏“

ابوالعالیہ رحمہ اللہ کا قاعدہ تھا جب دیکھتے کہ ان کی مجلس میں تین سے زیادہ لوگ جمع ہو گئے تو انہیں چھوڑ کر خود چل دیتے۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جب اپنے ساتھ بھیڑ دیکھی تو فرمانے لگے ”طمع کی مکھیاں اور آگ کے پروانے جمع ہوگئے۔‏“ سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کو لوگ گھیرے کھڑے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کوڑا تانا اور فرمایا ”اس میں تابع کے لیے ذلت اور متبوع کے لیے فتنہ ہے۔‏“

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جب لوگ چلنے لگے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”اگر تم پر میرا باطن ظاہر ہو جائے تو تم میں سے دو بھی میرے ساتھ چلنا پسند نہ کریں۔‏“ حماد بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جب ہم کسی مجلس کے پاس سے گزرتے اور ہمارے ساتھ ایوب رحمہ اللہ ہوتے تو لوگ سلام کرتے اور وہ سختی سے جواب دیتے۔‏“ پس یہ ایک نعمت تھی۔

آپ لمبی قمیض پہنتے اس پر لوگوں نے کہا تو آپ نے جواب دیا کہ اگلے زمانے میں شہرت کی چیز تھی۔ لیکن یہ شہرت اس کو اونچا کرنے میں ہے۔ ایک مرتبہ آپ نے اپنی ٹوپیاں مسنون رنگ کی رنگوائیں اور کچھ دنوں تک پہن کر اتاردی اور فرمایا ”میں نے دیکھا کہ عام لوگ انہیں نہیں پہنتے۔‏“

ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”نہ تو ایسا لباس پہنو کہ لوگوں کی انگلیاں اٹھیں نہ اتنا گھٹیا پہنو کہ لوگ حقارت سے دیکھیں۔‏“

صفحہ نمبر6866

ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام سلف کا یہی معمول تھا کہ نہ بہت بڑھیا کپڑا پہنتے تھے نہ بالکل گھٹیا۔‏“ ابوقلابہ رحمہ اللہ کے پاس ایک شخص بہت ہی بہترین اور شہرت کا لباس پہنے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا ”اس آواز دینے والے گدھے سے بچو۔‏“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”بعض لوگوں نے دلوں میں تو تکبر بھر رکھا ہے اور ظاہر لباس میں تواضع کر رکھی ہے گویا چادر ایک بھاری ہتھوڑا ہے۔‏“

موسیٰ علیہ السلام کا مقولہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا ”میرے سامنے تو درویشوں کی پوشاک میں آئے حالانکہ تمہارے دل بھیڑیوں جیسے ہیں۔ سنو لباس چاہے بادشاہوں جیسا پہنو مگر دل خوف اللہ سے نرم رکھو۔‏“

صفحہ نمبر6867

اچھے اخلاق کا بیان ٭٭

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہتر اخلاق والے تھے [صحیح مسلم:5970] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کونسامومن بہتر ہے فرمایا سب سے اچھے اخلاق والا ۔ [سنن ابن ماجه:4259،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ باوجود کم اعمال کے صرف اچھے اخلاق کی وجہ سے انسان بڑے بڑے درجے اور جنت کی اعلی منازل حاصل کر لیتا ہے۔ اور باوجود بہت ساری نیکیوں کے صرف اخلاق کی برائی کی وجہ سے جہنم کے نیچے کے طبقے میں چلا جاتا ہے ۔ [ابن ابی الدنیا:168:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں اچھے اخلاق ہی میں دنیا آخرت کی بھلائی ہے ۔ [ابن ابی الدنیا:169:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں انسان اپنی خوش اخلاقی کے باعث راتوں کو قیام کرنے والے اور دنوں کو روزے رکھنے والوں کے درجوں کو پالیتا ۔ [سنن ابوداود:4898،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ دخول جنت کا موجب عام طور سے کیا ہے؟ فرمایا: اللہ کا ڈر اور اخلاق کی اچھائی ۔ پوچھا گیا عام طور سے جہنم میں کون سی چیز لے جاتی ہے؟ فرمایا: دو سوراخ دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ ۔ [سنن ترمذي:2004،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ایک مرتبہ چند اعراب کے اس سوال پر کہ انسان کو سب سے بہتر عطیہ کیا ملا ہے؟ فرمایا: کہ حسن خلق ۔ [مسند احمد:278/4:صحیح] ‏

فرمایا کہ نیکی کی ترازو میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی چیز اور کوئی نہیں ۔ [سنن ترمذي:2202،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

فرماتے ہیں تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو ۔ [صحیح بخاری:3559] ‏

فرماتے ہیں جس طرح مجاہد کو جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے صبح شام اجر ملتا ہے اسی طرح اچھے اخلاق پر بھی اللہ ثواب عطا فرماتا ہے ۔ [ابن ابی الدنیا:176:ضعیف] ‏

ارشاد ہے تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ قریب وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ بغض ونفرت کے قابل اور مجھ سے سب سے دور جنت میں وہ ہو گا جو بدخلق، بدگو، بدکلام، بدزبان ہوگا ۔ فرماتے ہیں کامل ایماندار اچھے اخلاق والے ہیں جو ہر ایک سے سلوک ومحبت سے ملیں جلیں ۔ [سنن ترمذي:2018،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ارشاد ہے جس کی پیدائش اور اخلاق اچھے ہیں اسے اللہ تعالیٰ جہنم کا لقمہ نہیں بنائے گا ۔ ارشاد ہے کہ دو خصلیتں مومن میں جمع نہیں ہو سکتی بخل اور بداخلاقی ۔ [ابن ابی الدنیا:180:ضعیف و مرسل] ‏

فرماتے ہیں بدخلقی سے زیادہ بڑا کوئی گناہ نہیں، اس لیے کہ بداخلاقی سے ایک سے ایک بڑے گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ [سنن ترمذي:1962،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6868

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے اللہ کے نزدیک بد اخلاقی سے بڑا کوئی گناہ نہیں۔ اچھے اخلاق سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بداخلاقیاں نیک اعمالوں کو غارت کر دیتی ہیں۔ جیسے شہد کو سرکہ خراب کر دیتا ہے ۔ [ابن ابی الدنیا:183:ضعیف و مرسل] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ غلام خریدنے سے غلام نہیں بڑھتے البتہ خوش اخلاقی سے لوگ گرویدہ اور جان نثا رہو جاتے ہیں ۔ [ابن ابی الدنیا:184:ضعیف] ‏

امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اچھا خلق دین کی مدد کرتا ہے۔‏“

صفحہ نمبر6869

تکبر کی مذمت کا بیان ٭٭

حضور صلی اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں وہ جنت میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو، اور وہ جہنمی نہیں جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہو ۔ [صحیح مسلم:39] ‏

فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر تکبر ہے وہ اوندھے منہ جہنم میں جائے گا ۔ [مسند احمد:215/2:صحیح لغیره] ‏

ارشاد ہے کہ انسان اپنے غرور اور خود پسندی میں بڑھتے بڑھتے اللہ کے ہاں جباروں میں لکھ دیا جاتا ہے، پھر سرکشوں کے عذاب میں پھنس جاتا ہے ۔ [مسند احمد:215/2:صحیح] ‏

امام مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ایک دن سلیمان بن داؤد علیہ السلام اپنے تخت پر بیٹے تھے آپ علیہ السلام کی دربار میں اس وقت دو لاکھ انسان تھے اور دو لاکھ جن تھے۔ آپ علیہ السلام کو آسمان تک پہنچایا گیا یہاں تک کہ فرشتوں کی تسبیح کی آواز کان میں آنے لگی۔ اور پھر زمین تک لایا گیا یہاں تک کہ سمندر کے پانی سے آپ علیہ السلام کے قدم بھیگ گئے۔ پھر ہاتف غیب نے ندادی کہ اگر اس کے دل میں ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہوتا تو جتنا اونچا گیا تھا اس سے زیادہ نیچے دھنسادیا جاتا۔‏“

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں انسان کی ابتدائی پیدائش کا بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ”یہ دو شخصوں کی پیشاب گاہ سے نکلتا ہے۔‏“ اس طرح اسے بیان فرمایا کہ سننے والے کراہت کرنے لگے۔

امام شعمی رحمہ اللہ کا قول ہے ”جس نے دو شخصوں کو قتل کر دیا وہ بڑا ہی سرکش اور جبار ہے پھر آپ رحمہ اللہ نے یہ آیت پڑھی «فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَا مُوسَىٰ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ إِن تُرِيدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ» ‏ [28-سورةالقص:19] ‏ ” کیا تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے؟ جیسے کہ تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے۔ تیرا ارادہ تو دنیا میں سرکش اور جبار بن کر رہنے کا معلوم ہوتا ہے “۔

صفحہ نمبر6870

حضرت حسن رحمہ اللہ کا مقولہ ہے ”وہ انسان جو ہر دن میں دو مرتبہ اپنا پاخانہ اپنے ہاتھ سے دھوتا ہے وہ کس بنا پر تکبر کرتا ہے اور اس کا وصف اپنے میں پیدا کرنا چاہتا ہے جس نے آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور اپنے قبضے میں رکھا ہے۔‏“

ضحاک بن سفیان رحمہ اللہ سے دنیا کی مثال اس چیز سے بھی مروی ہے جو انسان سے نکلتی ہے۔ امام محمد بن حسین بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جس دل میں جتنا تکبر اور گھمنڈ ہوتا ہے اتنی ہی عقل اس کی کم ہو جاتی ہے۔‏“ یونس بن عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سجدہ کرنے کے ساتھ تکبر اور توحید کے ساتھ نفاق نہیں ہوا کرتا۔‏“

بنی امیہ مارمار کر اپنی اولاد کو اکڑا کر چلنا سکھاتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو آپ کی خلافت سے پہلے ایک مرتبہ اٹھلاتی ہوئی چال چلتے ہوئے دیکھ کر طاؤس رحمہ اللہ نے ان کے پہلو میں ایک ٹھونکا مارا اور فرمایا ”یہ چال اس کی جس کے پیٹ میں پاخانہ بھرا ہوا ہے؟“ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بہت شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے ”معاف فرمائیے ہمیں مارمار کر اس چال کی عادت ڈلوائی گئی ہے۔‏“

صفحہ نمبر6871

فخر و گھمنڈ کی مذمت کا بیان ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص فخر و غرور سے اپنا کپڑا نیچے لٹکا کر گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف رحمت سے نہ دیکھے گا ۔ [صحیح بخاری:5789] ‏

فرماتے ہیں اس کی طرف اللہ قیامت کے دن نظر نہ ڈالے گا جو اپنا تہبند لٹکائے ۔ ایک شخص دو عمدہ چادریں اوڑھے دل میں غرور لیے اکڑتا ہوا جا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسادیا قیامت تک وہ دھنستا ہوا چلا جائے گا ۔ [صحیح بخاری:3485] ‏

صفحہ نمبر6872

قیامت کے دن اعلیٰ اخلاق کام آئے گا ٭٭

حضرت لقمان کی یہ اور وصیتیں ہیں اور چونکہ یہ سب حکمتوں سے پر ہیں۔ قرآن انہیں بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان پر عمل کریں۔ فرماتے ہیں کہ ”برائی، خطا، ظلم ہے چاہے رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ خواہ کتنا ہی پوشیدہ اور ڈھکا چھپا کیوں نہ ہو قیامت کے دن اللہ اسے پیش کرے گا میزان میں سب کو رکھا جائے گا اور بدلہ دیا جائے گا نیک کام پر جزا بد پر سزا۔‏“

جیسے فرمان ہے آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» ‏ [21-الأنبياء:47] ‏، یعنی ” قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھ کر ہر ایک کو بدلہ دیں گے کوئی ظلم نہ کیا جائے گا “۔

اور آیت میں ہے «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ خَيْرً‌ا يَرَ‌هُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ شَرًّ‌ا يَرَ‌هُ» ” ذرے برابر نیکی اور ذرے برابر برائی ہر ایک دیکھ لے گا “۔ [99-الزلزلة:8-7] ‏

خواہ وہ نیکی یا بدی کسی مکان میں، محل میں، قلعہ میں، پتھر کے سوراخ میں، آسمانوں کے کونوں میں، زمین کی تہہ میں ہو کہیں بھی ہو اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں وہ اسے لا کر پیش کرے گا وہ بڑے باریک علم والا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس پر ظاہر ہے اندھیری رات میں چیونٹی جو چل رہی ہو اس کے پاؤں کی آہٹ کا بھی وہ علم رکھتا ہے۔ بعض نے یہ بھی جائز رکھا ہے کہ «اِنَّهَا» میں ضمیر شان کی اور قصہ کی ہے اور اس بناء پر انہوں نے «مِثْقَالُ» کی لام کا پیش پڑھنا بھی جائز رکھا ہے لیکن پہلی بات ہی زیادہ اچھی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ «صَخْرَةٌ» سے مراد وہ پتھر ہے جو ساتویں آسمان اور زمین کے نیچے ہیں۔ اس کی بعض سندیں بھی سدی رحمہ اللہ نے ذکر کی ہیں اگر صحیح ثابت ہوجائیں۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم وغیرہ سے یہ مروی تو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بہت ممکن ہے کہ یہ بھی بنی اسرائیل سے منقول ہوں لیکن ان کی کتابوں کی کسی بات کو ہم نہ سچی مان سکیں نہ جھٹلاسکیں۔ بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بقدر رائی کے دانہ کے کوئی عمل حقیر ہو اور ایسا پوشیدہ ہو کہ کسی پتھر کے اندر ہو۔ جیسے مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر تم میں سے کوئی شخص کوئی علم عمل کرے کسی بے سوراخ کے پتھر کے اندر جس کا نہ کوئی دروازہ ہو نہ کھڑکی ہو نہ سوراخ ہو تاہم اللہ تعالیٰ اسے لوگوں پر ظاہر کر دے گا خواہ کچھ ہی عمل ہو نیک ہو یا بد ۔ [مسند احمد:28/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6857

پھر فرماتے ہیں ”بیٹے نماز کا خیال رکھنا۔ اس کے فرائض، اس کے واجبات، ارکان اوقات وغیرہ کی پوری حفاظت کرنا۔ اپنی طاقت کے مطابق پوری کوشش کے ساتھ اللہ کی باتوں کی تبلیغ اپنوں، غیروں میں کرتے رہنا بھلی باتیں کرنے اور بری باتوں سے بچنے کے لیے ہر ایک سے کہنا۔‏“

اور چونکہ نیکی کا حکم یعنی بدی سے روکنا جو عموماً لوگوں کو کڑوی لگتی ہے۔ اور حق گو شخص سے لوگ دشمنی رکھتے ہیں اس لیے ساتھ ہی فرمایا کہ ”لوگوں سے جو ایذاء اور مصیبت پہنچے اس پر صبر کرنا درحقیقت اللہ کی راہ میں ننگی شمشیر رہنا اور حق پر مصیبتیں جھیلتے ہوئے پست ہمت نہ ہونا یہ بڑا بھاری اور جوانمردی کا کام ہے۔‏“

پھر فرماتے ہیں ”اپنا منہ لوگوں سے نہ موڑ انہیں حقیر سمجھ کریا اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر لوگوں سے تکبر نہ کر۔ بلکہ نرمی برت خوش خلقی سے پیش آ۔ خندہ پیشانی سے بات کر۔‏“

حدیث شریف میں ہے کہ کسی مسلمان بھائی سے تو کشادہ پیشانی سے ہنس مکھ ہو کر ملے یہ بھی تیری بڑی نیکی ہے۔ تہبند اور پاجامے کو ٹخنے سے نیچا نہ کر یہ تکبرو غرور ہے اور تکبر اور غرور اللہ کو ناپسند ہے ۔ [سنن ابوداود:4084،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر نہ کرنے کی وصیت کی ہے کہ ”ایسا نہ ہو کہ اللہ کے بندوں کو حقیر سمجھ کر تو ان سے منہ موڑ لے اور مسکنیوں سے بات کرنے سے بھی شرمائے۔‏“ منہ موڑے ہوئے باتیں کرنا بھی غرور میں داخل ہے۔ باچھیں پھاڑ کر لہجہ بدل کر حاکمانہ انداز کے ساتھ گھمنڈ بھرے الفاظ سے بات چیت بھی ممنوع ہے۔

صفحہ نمبر6858

”صعر“ ایک بیماری ہے جو اونٹوں کی گردن میں ظاہر ہوتی ہے یا سر میں اور اس سے گردن ٹیڑھی ہو جاتی ہے، پس متکبر شخص کو اسی ٹیڑھے منہ والے شخص سے ملا دیا گیا۔ عرب عموماً تکبر کے موقعہ پر صعر کا استعمال کرتے ہیں اور یہ استعمال ان کے شعروں میں بھی موجود ہے۔ زمین پر تن کر، اکڑ کر، اترا کر، غرور وتکبر سے نہ چلو یہ چال اللہ کو ناپسند ہے۔

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند رکھتا ہے جو خود بین متکبر سرکش اور فخر و غرور کرنے والے ہوں اور آیت میں ہے «‏وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا» [17-الإسراء:37] ‏، یعنی ” اکڑ کر زمین پر نہ چلو نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو نہ پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتے ہو “۔ اس آیت کی تفسیر بھی اس کی جگہ گزر چکی ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مرتبہ تکبر کا ذکر آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بڑی مذمت فرمائی اور فرمایا کہ ایسے خود پسند مغرور لوگوں سے اللہ غصہ ہوتا ہے ۔ اس پر ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جب کپڑے دھوتا ہوں اور خوب سفید ہو جاتے ہیں تو مجھے بہت اچھے لگتے ہیں میں ان سے خوش ہوتا ہوں۔ اسی طرح جوتے میں تسمہ بھلالگتا ہے۔ کوڑے کا خوبصورت غلاف بھلا معلوم ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تکبر نہیں ہے تکبر اس کا نام ہے کہ تو حق کو حقیر سمجھے اور لوگوں کو ذلیل خیال کرے ۔ [طبرانی کبیر:1317:اسناده ضعیف وله شواهد] ‏ یہ روایت اور طریق سے بہت لمبی مروی ہے اور اس میں سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کے انتقال اور ان کی وصیت کا ذکر بھی ہے۔

صفحہ نمبر6859

”اور میانہ روی کی چال چلا کر نہ بہت آہستہ، خراماں خراماں نہ بہت جلدی لمبے ڈگ بھربھر کے۔ کلام میں مبالغہ نہ کرے بے فائدہ چیخ چلا نہیں۔ بدترین آواز گدھے کی ہے۔ جو پوری طاقت لگا کر بےسود چلاتا ہے۔ باوجودیکہ وہ بھی اللہ کے سامنے اپنی عاجزی ظاہر کرتا ہے۔‏“ پس یہ بھی بری مثال دے کر سمجھا دیا کہ بلاوجہ چیخنا ڈانٹ ڈپٹ کرنا حرام ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بری مثالوں کے لائق ہم نہیں۔ اپنی دے دی ہوئی چیز واپس لینے والا ایسا ہے جیسے کتا جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے ۔ [صحیح بخاری:2621] ‏

نسائی میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مرغ کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو اور جب گدھے کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرو۔ اس لیے کہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے ۔ [صحیح بخاری:3303] ‏ ایک روایت میں ہے رات کو ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ [سنن ابوداود:5103،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر6860

یہ وصیتیں لقمان حکیم کی نہایت ہی نفع بخش ہیں۔ قرآن حکیم نے اسی لیے بیان فرمائی ہیں۔ آپ سے اور بھی بہت حکیمانہ قول اور وعظ ونصیحت کے کلمات مروی ہیں۔ بطور نمونہ کے اور دستور کے ہم بھی تھوڑے سے بیان کرتے ہیں۔

مسند احمد میں بزبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لقمان حکیم کا ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ اللہ کو جب کوئی چیز سونپ دی جائے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے ۔ [مسند احمد:87/2:صحیح] ‏

اور حدیث میں آپ کا یہ قول بھی مروی ہے کہ تصنع سے بچ یہ رات کے وقت ڈراؤنی چیز ہے اور دن کو مذمت وبرائی والی چیز ہے ۔ [مستدرک حاکم:411/2:ضعیف] ‏

آپ نے اپنے بیٹے سے یہ بھی فرمایا تھا کہ ”حکمت سے مسکین لوگ بادشاہ بن جاتے ہیں۔‏“ آپ کا فرمان ہے کہ ”جب کسی مجلس میں پہنچو پہلے اسلامی طریق کے مطابق سلام کرو پھر مجلس کے ایک طرف بیٹھ جاؤ۔ دوسرے نہ بولیں تو تم بھی خاموش رہو۔ اگر وہ ذکر اللہ کریں تو تم ان میں سب سے پہلے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کرو۔ اور اگر وہ گپ شپ کریں تو تم اس مجلس کو چھوڑ دو۔‏“

مروی ہے کہ آپ اپنے بچے کو نصیحت کرنے کے لیے جب بیٹھے تو رائی کی بھری ہوئی ایک تھیلی اپنے پاس رکھ لی تھی اور ہر ہر نصیحت کے بعد ایک دانہ اس میں سے نکال لیتے یہاں تک کہ تھیلی خالی ہو گئی تو آپ نے فرمایا ”بچے اگر اتنی نصیحت کسی پہاڑ کو کرتا تو وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔‏“ چنانچہ آپ کے صاحبزادے کا بھی یہی حال ہوا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں حبشیوں کودوست رکھا کر ان میں سے تین شخص اہل جنت کے سردار ہیں لقمان حکیم رحمہ اللہ، نجاشی رحمہ اللہ اور بلال موذن رضی اللہ عنہ ۔ [طبرانی کبیر:11482:ضعیف و جدا] ‏

صفحہ نمبر6861

تواضع اور فروتنی کا بیان ٭٭

لقمان رحمہ اللہ نے اپنے بچے کو اس کی وصیت کی تھی اور ابن ابی الدنیا نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ ہم اس میں سے اہم باتیں یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بہت سے پراگندہ بالوں والے میلے کچیلے کپڑوں والے جو کسی بڑے گھر تک نہیں پہنچ سکتے اللہ کے ہاں اتنے بڑے مرتبہ والے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر کوئی قسم لگا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ اسے بھی پوری فرما دے ۔ [سنن ترمذي:3854،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اور حدیث میں ہے سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں ۔ [مستدرک حاکم: 291/3: صحیح] ‏

ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتے دیکھ کر دریافت فرمایا تو جواب ملا کہ ”صاحب قبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث میں نے سنی ہے جسے یاد کر کے رورہا ہوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے اللہ تعالیٰ انہیں دوست رکھتا ہے جو متقی ہیں جو لوگوں میں چھپے چھپائے ہیں جو کسی گنتی میں نہیں آتے اگر وہ کسی مجمع میں نہ ہوں تو کوئی ان کا پرسان حال نہیں اگر آ جائیں تو کوئی آؤ بھگت نہیں لیکن ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر ایک غبار آلود اندھیرے سے بچ کرنور حاصل کر لیتے ہیں ۔ [سنن ابن ماجه:3989،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ میلے کچیلے کپڑوں والے جوذلیل گنے جاتے ہیں اللہ کے ہاں ایسے مقرب ہیں کہ اگر اللہ پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے گو انہیں اللہ نے دنیا نہیں دی لیکن ان کی زبان سے پوری جنت کا سوال بھی نکل جائے تو اللہ پورا کر لیتا ہے ۔ [مسند بزار:3628:ضعیف دون الجملة] ‏

صفحہ نمبر6862

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر آ کر وہ لوگ ایک دینار ایک درہم بلکہ ایک فلوس بھی مانگیں تو تم نہ دو لیکن اللہ کے ہاں وہ ایسے پیارے ہیں کہ اگر اللہ سے جنت کی جنت مانگیں تو پروردگار دیدے ہاں دنیا نہ تو انہیں دیتا ہے نہ روکتا ہے اس لیے کہ یہ کوئی قابل قدر چیز نہیں۔ یہ میلی کچیلی دو چادروں میں رہتے ہیں اگر کسی موقعہ پر قسم کھا بیٹھیں تو جو قسم انہوں نے کھائی ہو اللہ پوری کرتا ہے ۔ [ابن ابی الدنیا فی الاولیاء:9:مرسل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6863

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے بادشاہ وہ لوگ ہیں جو پراگندہ اور بکھرے ہوئے بالوں والے ہیں غبار آلود اور گرد سے اٹے ہوئے وہ امیروں کے گھر جانا چاہیں تو انہیں اجازت نہیں ملتی اگر کسی بڑے گھرانے میں نکاح کی مانگ کر ڈالیں تو وہاں کی بیٹی نہیں ملتی۔ ان مسکینوں سے انصاف کے برتاؤ نہیں برتے جاتے۔ ان کی حاجتیں اور ان کی امنگیں اور مرادیں پوری ہونے سے پہلے ہی خود ہی فوت ہو جاتی ہیں اور آرزوئیں دل کی دل میں ہی رہ جاتی ہیں انہیں قیامت کے دن اس قدر نور ملے گا کہ اگر وہ تقسیم کیا جائے تو تمام دنیا کے لیے کافی ہو جائے ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:10486:منقطع و ضعیف] ‏

عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے کہ بہت سے وہ لوگ جو دنیا میں حقیر وذلیل سمجھے جاتے ہیں کل قیامت کے دن تخت وتاراج والے ملک ومنال والے عزت وجلال والے بنے ہوئے ہونگے۔ باغات میں، نہروں میں، نعمتوں میں، راحتوں میں، مشغول ہونگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جناب باری کا ارشاد ہے ” سب سے زیادہ میرا پسندیدہ ولی وہ ہے جو مومن ہو، کم مال والا، کم عال وعیال والا، غازی، عبادت واطاعت گزار، پوشیدہ واعلانیہ مطیع ہو، لوگوں میں اس کی عزت اور اس کا وقار نہ ہو، اس کی جانب انگلیاں نہ اٹھتی ہوں، اور وہ اس پر صابر ہو “ ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ جھاڑ کر فرمایا اس کی موت جلدی آ جاتی ہے اس کی میراث بہت کم ہوتی ہے اس کی رونے والیاں تھوڑی ہوتی ہیں ۔ [سنن ابن ماجه:4117،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں اللہ کے سب سے زیادہ محبوب بندے غرباء ہیں جو اپنے دین کو لیے پھرتے ہیں جہاں دین کے کمزور ہونے کا خطرہ ہوتا ہے وہاں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں یہ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جمع ہونگے۔

صفحہ نمبر6864

حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے سے فرمائے گا ” کیا میں نے تجھ پر انعام واکرام نہیں فرمایا؟ کیا میں نے تجھے دیا نہیں؟ کیا میں نے تیرا جسم نہیں ڈھانپا؟ کیا میں نے تمہیں یہ نہیں دیا؟ کیا وہ نہیں دیا؟ کیا لوگوں میں تجھے عزت نہیں دی تھی؟ “ وغیرہ تو جہاں تک ہو سکے ان سوالوں کے جواب دینے کا موقعہ کم ملے اچھا ہے۔ لوگوں کی تعریفوں سے کیا فائدہ اور مذمت کریں تو کیا نقصان ہو گا۔ ہمارے نزدیک تو وہ شخص زیادہ اچھا ہے جسے لوگ برا کہتے ہوں اور وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہو۔‏“

ابن محیریز رحمہ اللہ تو دعا کرتے تھے کہ ”اللہ میری شہرت نہ ہو۔‏“ خلیل بن احمد رحمہ اللہ اپنی دعا میں کہتے تھے ”اللہ مجھے اپنی نگاہوں میں تو بلندی عطا فرما اور خود میری نظر میں مجھے بہت حقیر کر دے اور لوگوں کی نگاہوں میں مجھے درمیانہ درجہ کا رکھ“، پھر شہرت کا باب باندھ کر امام صاحب اس حدیث کو لائے ہیں انسان کو یہی برائی کافی ہے کہ لوگ اس کی دینداری یادنیاداری کی شہرت دینے لگیں اور اس کی طرف انگلیاں اٹھنے لگیں اشارے ہونے لگیں۔ پس اسی میں آ کر بہت سے لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں مگر جنہیں اللہ بچالے۔ سنو! اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمالوں کو دیکھتا ہے ۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے بھی یہی روایت مرسلاً مروی ہے جب آپ رضی اللہ عنہ نے یہ روایت بیان کی تو کسی نے کہا آپ رضی اللہ عنہ کی طرف بھی انگلیاں اٹھتی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سمجھے نہیں مراد انگلیاں اٹھنے سے دینی بدعت یا دنیوی فسق و فجور ہے۔‏“

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”شہرت حاصل کرنا نہ چاہو۔ اپنے آپ کو اونچا نہ کرو کہ لوگوں میں تذکرے ہونے لگیں علم حاصل کرو لیکن چھپاؤ چپ رہو تاکہ سلامت رہو، نیکوں کو خوش رکھو بدکاروں سے تصرف رکھو۔‏“

ابراہیم بن ادھم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”شہرت کا چاہنے والا اللہ کا ولی نہیں ہوتا۔‏“ ایوب رحمہ اللہ کا فرمان ہے ”جسے اللہ دوست بنالیتا ہے وہ تو لوگوں سے اپنا درجہ چھپاتا پھرتا ہے۔‏“

صفحہ نمبر6865

محمد بن علاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کے دوست لوگ اپنے تئیں ظاہر نہیں کرتے۔‏“ سماک بن سلمہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”عام لوگوں کے میل جول سے اور احباب کی زیادتی سے پرہیز کرو۔‏“ ابان بن عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر دین کو سالم رکھنا چاہتے ہو تو لوگوں سے کم جان پہچان رکھو۔‏“

ابوالعالیہ رحمہ اللہ کا قاعدہ تھا جب دیکھتے کہ ان کی مجلس میں تین سے زیادہ لوگ جمع ہو گئے تو انہیں چھوڑ کر خود چل دیتے۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جب اپنے ساتھ بھیڑ دیکھی تو فرمانے لگے ”طمع کی مکھیاں اور آگ کے پروانے جمع ہوگئے۔‏“ سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کو لوگ گھیرے کھڑے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کوڑا تانا اور فرمایا ”اس میں تابع کے لیے ذلت اور متبوع کے لیے فتنہ ہے۔‏“

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جب لوگ چلنے لگے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”اگر تم پر میرا باطن ظاہر ہو جائے تو تم میں سے دو بھی میرے ساتھ چلنا پسند نہ کریں۔‏“ حماد بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جب ہم کسی مجلس کے پاس سے گزرتے اور ہمارے ساتھ ایوب رحمہ اللہ ہوتے تو لوگ سلام کرتے اور وہ سختی سے جواب دیتے۔‏“ پس یہ ایک نعمت تھی۔

آپ لمبی قمیض پہنتے اس پر لوگوں نے کہا تو آپ نے جواب دیا کہ اگلے زمانے میں شہرت کی چیز تھی۔ لیکن یہ شہرت اس کو اونچا کرنے میں ہے۔ ایک مرتبہ آپ نے اپنی ٹوپیاں مسنون رنگ کی رنگوائیں اور کچھ دنوں تک پہن کر اتاردی اور فرمایا ”میں نے دیکھا کہ عام لوگ انہیں نہیں پہنتے۔‏“

ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”نہ تو ایسا لباس پہنو کہ لوگوں کی انگلیاں اٹھیں نہ اتنا گھٹیا پہنو کہ لوگ حقارت سے دیکھیں۔‏“

صفحہ نمبر6866

ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام سلف کا یہی معمول تھا کہ نہ بہت بڑھیا کپڑا پہنتے تھے نہ بالکل گھٹیا۔‏“ ابوقلابہ رحمہ اللہ کے پاس ایک شخص بہت ہی بہترین اور شہرت کا لباس پہنے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا ”اس آواز دینے والے گدھے سے بچو۔‏“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”بعض لوگوں نے دلوں میں تو تکبر بھر رکھا ہے اور ظاہر لباس میں تواضع کر رکھی ہے گویا چادر ایک بھاری ہتھوڑا ہے۔‏“

موسیٰ علیہ السلام کا مقولہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا ”میرے سامنے تو درویشوں کی پوشاک میں آئے حالانکہ تمہارے دل بھیڑیوں جیسے ہیں۔ سنو لباس چاہے بادشاہوں جیسا پہنو مگر دل خوف اللہ سے نرم رکھو۔‏“

صفحہ نمبر6867

اچھے اخلاق کا بیان ٭٭

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہتر اخلاق والے تھے [صحیح مسلم:5970] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کونسامومن بہتر ہے فرمایا سب سے اچھے اخلاق والا ۔ [سنن ابن ماجه:4259،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ باوجود کم اعمال کے صرف اچھے اخلاق کی وجہ سے انسان بڑے بڑے درجے اور جنت کی اعلی منازل حاصل کر لیتا ہے۔ اور باوجود بہت ساری نیکیوں کے صرف اخلاق کی برائی کی وجہ سے جہنم کے نیچے کے طبقے میں چلا جاتا ہے ۔ [ابن ابی الدنیا:168:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں اچھے اخلاق ہی میں دنیا آخرت کی بھلائی ہے ۔ [ابن ابی الدنیا:169:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں انسان اپنی خوش اخلاقی کے باعث راتوں کو قیام کرنے والے اور دنوں کو روزے رکھنے والوں کے درجوں کو پالیتا ۔ [سنن ابوداود:4898،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ دخول جنت کا موجب عام طور سے کیا ہے؟ فرمایا: اللہ کا ڈر اور اخلاق کی اچھائی ۔ پوچھا گیا عام طور سے جہنم میں کون سی چیز لے جاتی ہے؟ فرمایا: دو سوراخ دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ ۔ [سنن ترمذي:2004،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ایک مرتبہ چند اعراب کے اس سوال پر کہ انسان کو سب سے بہتر عطیہ کیا ملا ہے؟ فرمایا: کہ حسن خلق ۔ [مسند احمد:278/4:صحیح] ‏

فرمایا کہ نیکی کی ترازو میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی چیز اور کوئی نہیں ۔ [سنن ترمذي:2202،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

فرماتے ہیں تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو ۔ [صحیح بخاری:3559] ‏

فرماتے ہیں جس طرح مجاہد کو جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے صبح شام اجر ملتا ہے اسی طرح اچھے اخلاق پر بھی اللہ ثواب عطا فرماتا ہے ۔ [ابن ابی الدنیا:176:ضعیف] ‏

ارشاد ہے تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ قریب وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ بغض ونفرت کے قابل اور مجھ سے سب سے دور جنت میں وہ ہو گا جو بدخلق، بدگو، بدکلام، بدزبان ہوگا ۔ فرماتے ہیں کامل ایماندار اچھے اخلاق والے ہیں جو ہر ایک سے سلوک ومحبت سے ملیں جلیں ۔ [سنن ترمذي:2018،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ارشاد ہے جس کی پیدائش اور اخلاق اچھے ہیں اسے اللہ تعالیٰ جہنم کا لقمہ نہیں بنائے گا ۔ ارشاد ہے کہ دو خصلیتں مومن میں جمع نہیں ہو سکتی بخل اور بداخلاقی ۔ [ابن ابی الدنیا:180:ضعیف و مرسل] ‏

فرماتے ہیں بدخلقی سے زیادہ بڑا کوئی گناہ نہیں، اس لیے کہ بداخلاقی سے ایک سے ایک بڑے گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ [سنن ترمذي:1962،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6868

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے اللہ کے نزدیک بد اخلاقی سے بڑا کوئی گناہ نہیں۔ اچھے اخلاق سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بداخلاقیاں نیک اعمالوں کو غارت کر دیتی ہیں۔ جیسے شہد کو سرکہ خراب کر دیتا ہے ۔ [ابن ابی الدنیا:183:ضعیف و مرسل] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ غلام خریدنے سے غلام نہیں بڑھتے البتہ خوش اخلاقی سے لوگ گرویدہ اور جان نثا رہو جاتے ہیں ۔ [ابن ابی الدنیا:184:ضعیف] ‏

امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اچھا خلق دین کی مدد کرتا ہے۔‏“

صفحہ نمبر6869

تکبر کی مذمت کا بیان ٭٭

حضور صلی اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں وہ جنت میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو، اور وہ جہنمی نہیں جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہو ۔ [صحیح مسلم:39] ‏

فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر تکبر ہے وہ اوندھے منہ جہنم میں جائے گا ۔ [مسند احمد:215/2:صحیح لغیره] ‏

ارشاد ہے کہ انسان اپنے غرور اور خود پسندی میں بڑھتے بڑھتے اللہ کے ہاں جباروں میں لکھ دیا جاتا ہے، پھر سرکشوں کے عذاب میں پھنس جاتا ہے ۔ [مسند احمد:215/2:صحیح] ‏

امام مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ایک دن سلیمان بن داؤد علیہ السلام اپنے تخت پر بیٹے تھے آپ علیہ السلام کی دربار میں اس وقت دو لاکھ انسان تھے اور دو لاکھ جن تھے۔ آپ علیہ السلام کو آسمان تک پہنچایا گیا یہاں تک کہ فرشتوں کی تسبیح کی آواز کان میں آنے لگی۔ اور پھر زمین تک لایا گیا یہاں تک کہ سمندر کے پانی سے آپ علیہ السلام کے قدم بھیگ گئے۔ پھر ہاتف غیب نے ندادی کہ اگر اس کے دل میں ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہوتا تو جتنا اونچا گیا تھا اس سے زیادہ نیچے دھنسادیا جاتا۔‏“

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں انسان کی ابتدائی پیدائش کا بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ”یہ دو شخصوں کی پیشاب گاہ سے نکلتا ہے۔‏“ اس طرح اسے بیان فرمایا کہ سننے والے کراہت کرنے لگے۔

امام شعمی رحمہ اللہ کا قول ہے ”جس نے دو شخصوں کو قتل کر دیا وہ بڑا ہی سرکش اور جبار ہے پھر آپ رحمہ اللہ نے یہ آیت پڑھی «فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَا مُوسَىٰ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ إِن تُرِيدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ» ‏ [28-سورةالقص:19] ‏ ” کیا تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے؟ جیسے کہ تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے۔ تیرا ارادہ تو دنیا میں سرکش اور جبار بن کر رہنے کا معلوم ہوتا ہے “۔

صفحہ نمبر6870

حضرت حسن رحمہ اللہ کا مقولہ ہے ”وہ انسان جو ہر دن میں دو مرتبہ اپنا پاخانہ اپنے ہاتھ سے دھوتا ہے وہ کس بنا پر تکبر کرتا ہے اور اس کا وصف اپنے میں پیدا کرنا چاہتا ہے جس نے آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور اپنے قبضے میں رکھا ہے۔‏“

ضحاک بن سفیان رحمہ اللہ سے دنیا کی مثال اس چیز سے بھی مروی ہے جو انسان سے نکلتی ہے۔ امام محمد بن حسین بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جس دل میں جتنا تکبر اور گھمنڈ ہوتا ہے اتنی ہی عقل اس کی کم ہو جاتی ہے۔‏“ یونس بن عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سجدہ کرنے کے ساتھ تکبر اور توحید کے ساتھ نفاق نہیں ہوا کرتا۔‏“

بنی امیہ مارمار کر اپنی اولاد کو اکڑا کر چلنا سکھاتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو آپ کی خلافت سے پہلے ایک مرتبہ اٹھلاتی ہوئی چال چلتے ہوئے دیکھ کر طاؤس رحمہ اللہ نے ان کے پہلو میں ایک ٹھونکا مارا اور فرمایا ”یہ چال اس کی جس کے پیٹ میں پاخانہ بھرا ہوا ہے؟“ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بہت شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے ”معاف فرمائیے ہمیں مارمار کر اس چال کی عادت ڈلوائی گئی ہے۔‏“

صفحہ نمبر6871

فخر و گھمنڈ کی مذمت کا بیان ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص فخر و غرور سے اپنا کپڑا نیچے لٹکا کر گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف رحمت سے نہ دیکھے گا ۔ [صحیح بخاری:5789] ‏

فرماتے ہیں اس کی طرف اللہ قیامت کے دن نظر نہ ڈالے گا جو اپنا تہبند لٹکائے ۔ ایک شخص دو عمدہ چادریں اوڑھے دل میں غرور لیے اکڑتا ہوا جا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسادیا قیامت تک وہ دھنستا ہوا چلا جائے گا ۔ [صحیح بخاری:3485] ‏

صفحہ نمبر6872

قیامت کے دن اعلیٰ اخلاق کام آئے گا ٭٭

حضرت لقمان کی یہ اور وصیتیں ہیں اور چونکہ یہ سب حکمتوں سے پر ہیں۔ قرآن انہیں بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان پر عمل کریں۔ فرماتے ہیں کہ ”برائی، خطا، ظلم ہے چاہے رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ خواہ کتنا ہی پوشیدہ اور ڈھکا چھپا کیوں نہ ہو قیامت کے دن اللہ اسے پیش کرے گا میزان میں سب کو رکھا جائے گا اور بدلہ دیا جائے گا نیک کام پر جزا بد پر سزا۔‏“

جیسے فرمان ہے آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» ‏ [21-الأنبياء:47] ‏، یعنی ” قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھ کر ہر ایک کو بدلہ دیں گے کوئی ظلم نہ کیا جائے گا “۔

اور آیت میں ہے «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ خَيْرً‌ا يَرَ‌هُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ شَرًّ‌ا يَرَ‌هُ» ” ذرے برابر نیکی اور ذرے برابر برائی ہر ایک دیکھ لے گا “۔ [99-الزلزلة:8-7] ‏

خواہ وہ نیکی یا بدی کسی مکان میں، محل میں، قلعہ میں، پتھر کے سوراخ میں، آسمانوں کے کونوں میں، زمین کی تہہ میں ہو کہیں بھی ہو اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں وہ اسے لا کر پیش کرے گا وہ بڑے باریک علم والا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس پر ظاہر ہے اندھیری رات میں چیونٹی جو چل رہی ہو اس کے پاؤں کی آہٹ کا بھی وہ علم رکھتا ہے۔ بعض نے یہ بھی جائز رکھا ہے کہ «اِنَّهَا» میں ضمیر شان کی اور قصہ کی ہے اور اس بناء پر انہوں نے «مِثْقَالُ» کی لام کا پیش پڑھنا بھی جائز رکھا ہے لیکن پہلی بات ہی زیادہ اچھی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ «صَخْرَةٌ» سے مراد وہ پتھر ہے جو ساتویں آسمان اور زمین کے نیچے ہیں۔ اس کی بعض سندیں بھی سدی رحمہ اللہ نے ذکر کی ہیں اگر صحیح ثابت ہوجائیں۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم وغیرہ سے یہ مروی تو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بہت ممکن ہے کہ یہ بھی بنی اسرائیل سے منقول ہوں لیکن ان کی کتابوں کی کسی بات کو ہم نہ سچی مان سکیں نہ جھٹلاسکیں۔ بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بقدر رائی کے دانہ کے کوئی عمل حقیر ہو اور ایسا پوشیدہ ہو کہ کسی پتھر کے اندر ہو۔ جیسے مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر تم میں سے کوئی شخص کوئی علم عمل کرے کسی بے سوراخ کے پتھر کے اندر جس کا نہ کوئی دروازہ ہو نہ کھڑکی ہو نہ سوراخ ہو تاہم اللہ تعالیٰ اسے لوگوں پر ظاہر کر دے گا خواہ کچھ ہی عمل ہو نیک ہو یا بد ۔ [مسند احمد:28/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6857

پھر فرماتے ہیں ”بیٹے نماز کا خیال رکھنا۔ اس کے فرائض، اس کے واجبات، ارکان اوقات وغیرہ کی پوری حفاظت کرنا۔ اپنی طاقت کے مطابق پوری کوشش کے ساتھ اللہ کی باتوں کی تبلیغ اپنوں، غیروں میں کرتے رہنا بھلی باتیں کرنے اور بری باتوں سے بچنے کے لیے ہر ایک سے کہنا۔‏“

اور چونکہ نیکی کا حکم یعنی بدی سے روکنا جو عموماً لوگوں کو کڑوی لگتی ہے۔ اور حق گو شخص سے لوگ دشمنی رکھتے ہیں اس لیے ساتھ ہی فرمایا کہ ”لوگوں سے جو ایذاء اور مصیبت پہنچے اس پر صبر کرنا درحقیقت اللہ کی راہ میں ننگی شمشیر رہنا اور حق پر مصیبتیں جھیلتے ہوئے پست ہمت نہ ہونا یہ بڑا بھاری اور جوانمردی کا کام ہے۔‏“

پھر فرماتے ہیں ”اپنا منہ لوگوں سے نہ موڑ انہیں حقیر سمجھ کریا اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر لوگوں سے تکبر نہ کر۔ بلکہ نرمی برت خوش خلقی سے پیش آ۔ خندہ پیشانی سے بات کر۔‏“

حدیث شریف میں ہے کہ کسی مسلمان بھائی سے تو کشادہ پیشانی سے ہنس مکھ ہو کر ملے یہ بھی تیری بڑی نیکی ہے۔ تہبند اور پاجامے کو ٹخنے سے نیچا نہ کر یہ تکبرو غرور ہے اور تکبر اور غرور اللہ کو ناپسند ہے ۔ [سنن ابوداود:4084،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر نہ کرنے کی وصیت کی ہے کہ ”ایسا نہ ہو کہ اللہ کے بندوں کو حقیر سمجھ کر تو ان سے منہ موڑ لے اور مسکنیوں سے بات کرنے سے بھی شرمائے۔‏“ منہ موڑے ہوئے باتیں کرنا بھی غرور میں داخل ہے۔ باچھیں پھاڑ کر لہجہ بدل کر حاکمانہ انداز کے ساتھ گھمنڈ بھرے الفاظ سے بات چیت بھی ممنوع ہے۔

صفحہ نمبر6858

”صعر“ ایک بیماری ہے جو اونٹوں کی گردن میں ظاہر ہوتی ہے یا سر میں اور اس سے گردن ٹیڑھی ہو جاتی ہے، پس متکبر شخص کو اسی ٹیڑھے منہ والے شخص سے ملا دیا گیا۔ عرب عموماً تکبر کے موقعہ پر صعر کا استعمال کرتے ہیں اور یہ استعمال ان کے شعروں میں بھی موجود ہے۔ زمین پر تن کر، اکڑ کر، اترا کر، غرور وتکبر سے نہ چلو یہ چال اللہ کو ناپسند ہے۔

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند رکھتا ہے جو خود بین متکبر سرکش اور فخر و غرور کرنے والے ہوں اور آیت میں ہے «‏وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا» [17-الإسراء:37] ‏، یعنی ” اکڑ کر زمین پر نہ چلو نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو نہ پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتے ہو “۔ اس آیت کی تفسیر بھی اس کی جگہ گزر چکی ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مرتبہ تکبر کا ذکر آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بڑی مذمت فرمائی اور فرمایا کہ ایسے خود پسند مغرور لوگوں سے اللہ غصہ ہوتا ہے ۔ اس پر ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جب کپڑے دھوتا ہوں اور خوب سفید ہو جاتے ہیں تو مجھے بہت اچھے لگتے ہیں میں ان سے خوش ہوتا ہوں۔ اسی طرح جوتے میں تسمہ بھلالگتا ہے۔ کوڑے کا خوبصورت غلاف بھلا معلوم ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تکبر نہیں ہے تکبر اس کا نام ہے کہ تو حق کو حقیر سمجھے اور لوگوں کو ذلیل خیال کرے ۔ [طبرانی کبیر:1317:اسناده ضعیف وله شواهد] ‏ یہ روایت اور طریق سے بہت لمبی مروی ہے اور اس میں سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کے انتقال اور ان کی وصیت کا ذکر بھی ہے۔

صفحہ نمبر6859

”اور میانہ روی کی چال چلا کر نہ بہت آہستہ، خراماں خراماں نہ بہت جلدی لمبے ڈگ بھربھر کے۔ کلام میں مبالغہ نہ کرے بے فائدہ چیخ چلا نہیں۔ بدترین آواز گدھے کی ہے۔ جو پوری طاقت لگا کر بےسود چلاتا ہے۔ باوجودیکہ وہ بھی اللہ کے سامنے اپنی عاجزی ظاہر کرتا ہے۔‏“ پس یہ بھی بری مثال دے کر سمجھا دیا کہ بلاوجہ چیخنا ڈانٹ ڈپٹ کرنا حرام ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بری مثالوں کے لائق ہم نہیں۔ اپنی دے دی ہوئی چیز واپس لینے والا ایسا ہے جیسے کتا جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے ۔ [صحیح بخاری:2621] ‏

نسائی میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مرغ کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو اور جب گدھے کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرو۔ اس لیے کہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے ۔ [صحیح بخاری:3303] ‏ ایک روایت میں ہے رات کو ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ [سنن ابوداود:5103،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر6860

یہ وصیتیں لقمان حکیم کی نہایت ہی نفع بخش ہیں۔ قرآن حکیم نے اسی لیے بیان فرمائی ہیں۔ آپ سے اور بھی بہت حکیمانہ قول اور وعظ ونصیحت کے کلمات مروی ہیں۔ بطور نمونہ کے اور دستور کے ہم بھی تھوڑے سے بیان کرتے ہیں۔

مسند احمد میں بزبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لقمان حکیم کا ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ اللہ کو جب کوئی چیز سونپ دی جائے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے ۔ [مسند احمد:87/2:صحیح] ‏

اور حدیث میں آپ کا یہ قول بھی مروی ہے کہ تصنع سے بچ یہ رات کے وقت ڈراؤنی چیز ہے اور دن کو مذمت وبرائی والی چیز ہے ۔ [مستدرک حاکم:411/2:ضعیف] ‏

آپ نے اپنے بیٹے سے یہ بھی فرمایا تھا کہ ”حکمت سے مسکین لوگ بادشاہ بن جاتے ہیں۔‏“ آپ کا فرمان ہے کہ ”جب کسی مجلس میں پہنچو پہلے اسلامی طریق کے مطابق سلام کرو پھر مجلس کے ایک طرف بیٹھ جاؤ۔ دوسرے نہ بولیں تو تم بھی خاموش رہو۔ اگر وہ ذکر اللہ کریں تو تم ان میں سب سے پہلے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کرو۔ اور اگر وہ گپ شپ کریں تو تم اس مجلس کو چھوڑ دو۔‏“

مروی ہے کہ آپ اپنے بچے کو نصیحت کرنے کے لیے جب بیٹھے تو رائی کی بھری ہوئی ایک تھیلی اپنے پاس رکھ لی تھی اور ہر ہر نصیحت کے بعد ایک دانہ اس میں سے نکال لیتے یہاں تک کہ تھیلی خالی ہو گئی تو آپ نے فرمایا ”بچے اگر اتنی نصیحت کسی پہاڑ کو کرتا تو وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔‏“ چنانچہ آپ کے صاحبزادے کا بھی یہی حال ہوا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں حبشیوں کودوست رکھا کر ان میں سے تین شخص اہل جنت کے سردار ہیں لقمان حکیم رحمہ اللہ، نجاشی رحمہ اللہ اور بلال موذن رضی اللہ عنہ ۔ [طبرانی کبیر:11482:ضعیف و جدا] ‏

صفحہ نمبر6861

تواضع اور فروتنی کا بیان ٭٭

لقمان رحمہ اللہ نے اپنے بچے کو اس کی وصیت کی تھی اور ابن ابی الدنیا نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ ہم اس میں سے اہم باتیں یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بہت سے پراگندہ بالوں والے میلے کچیلے کپڑوں والے جو کسی بڑے گھر تک نہیں پہنچ سکتے اللہ کے ہاں اتنے بڑے مرتبہ والے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر کوئی قسم لگا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ اسے بھی پوری فرما دے ۔ [سنن ترمذي:3854،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اور حدیث میں ہے سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں ۔ [مستدرک حاکم: 291/3: صحیح] ‏

ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتے دیکھ کر دریافت فرمایا تو جواب ملا کہ ”صاحب قبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث میں نے سنی ہے جسے یاد کر کے رورہا ہوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے اللہ تعالیٰ انہیں دوست رکھتا ہے جو متقی ہیں جو لوگوں میں چھپے چھپائے ہیں جو کسی گنتی میں نہیں آتے اگر وہ کسی مجمع میں نہ ہوں تو کوئی ان کا پرسان حال نہیں اگر آ جائیں تو کوئی آؤ بھگت نہیں لیکن ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر ایک غبار آلود اندھیرے سے بچ کرنور حاصل کر لیتے ہیں ۔ [سنن ابن ماجه:3989،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ میلے کچیلے کپڑوں والے جوذلیل گنے جاتے ہیں اللہ کے ہاں ایسے مقرب ہیں کہ اگر اللہ پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے گو انہیں اللہ نے دنیا نہیں دی لیکن ان کی زبان سے پوری جنت کا سوال بھی نکل جائے تو اللہ پورا کر لیتا ہے ۔ [مسند بزار:3628:ضعیف دون الجملة] ‏

صفحہ نمبر6862

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر آ کر وہ لوگ ایک دینار ایک درہم بلکہ ایک فلوس بھی مانگیں تو تم نہ دو لیکن اللہ کے ہاں وہ ایسے پیارے ہیں کہ اگر اللہ سے جنت کی جنت مانگیں تو پروردگار دیدے ہاں دنیا نہ تو انہیں دیتا ہے نہ روکتا ہے اس لیے کہ یہ کوئی قابل قدر چیز نہیں۔ یہ میلی کچیلی دو چادروں میں رہتے ہیں اگر کسی موقعہ پر قسم کھا بیٹھیں تو جو قسم انہوں نے کھائی ہو اللہ پوری کرتا ہے ۔ [ابن ابی الدنیا فی الاولیاء:9:مرسل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6863

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے بادشاہ وہ لوگ ہیں جو پراگندہ اور بکھرے ہوئے بالوں والے ہیں غبار آلود اور گرد سے اٹے ہوئے وہ امیروں کے گھر جانا چاہیں تو انہیں اجازت نہیں ملتی اگر کسی بڑے گھرانے میں نکاح کی مانگ کر ڈالیں تو وہاں کی بیٹی نہیں ملتی۔ ان مسکینوں سے انصاف کے برتاؤ نہیں برتے جاتے۔ ان کی حاجتیں اور ان کی امنگیں اور مرادیں پوری ہونے سے پہلے ہی خود ہی فوت ہو جاتی ہیں اور آرزوئیں دل کی دل میں ہی رہ جاتی ہیں انہیں قیامت کے دن اس قدر نور ملے گا کہ اگر وہ تقسیم کیا جائے تو تمام دنیا کے لیے کافی ہو جائے ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:10486:منقطع و ضعیف] ‏

عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے کہ بہت سے وہ لوگ جو دنیا میں حقیر وذلیل سمجھے جاتے ہیں کل قیامت کے دن تخت وتاراج والے ملک ومنال والے عزت وجلال والے بنے ہوئے ہونگے۔ باغات میں، نہروں میں، نعمتوں میں، راحتوں میں، مشغول ہونگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جناب باری کا ارشاد ہے ” سب سے زیادہ میرا پسندیدہ ولی وہ ہے جو مومن ہو، کم مال والا، کم عال وعیال والا، غازی، عبادت واطاعت گزار، پوشیدہ واعلانیہ مطیع ہو، لوگوں میں اس کی عزت اور اس کا وقار نہ ہو، اس کی جانب انگلیاں نہ اٹھتی ہوں، اور وہ اس پر صابر ہو “ ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ جھاڑ کر فرمایا اس کی موت جلدی آ جاتی ہے اس کی میراث بہت کم ہوتی ہے اس کی رونے والیاں تھوڑی ہوتی ہیں ۔ [سنن ابن ماجه:4117،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں اللہ کے سب سے زیادہ محبوب بندے غرباء ہیں جو اپنے دین کو لیے پھرتے ہیں جہاں دین کے کمزور ہونے کا خطرہ ہوتا ہے وہاں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں یہ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جمع ہونگے۔

صفحہ نمبر6864

حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے سے فرمائے گا ” کیا میں نے تجھ پر انعام واکرام نہیں فرمایا؟ کیا میں نے تجھے دیا نہیں؟ کیا میں نے تیرا جسم نہیں ڈھانپا؟ کیا میں نے تمہیں یہ نہیں دیا؟ کیا وہ نہیں دیا؟ کیا لوگوں میں تجھے عزت نہیں دی تھی؟ “ وغیرہ تو جہاں تک ہو سکے ان سوالوں کے جواب دینے کا موقعہ کم ملے اچھا ہے۔ لوگوں کی تعریفوں سے کیا فائدہ اور مذمت کریں تو کیا نقصان ہو گا۔ ہمارے نزدیک تو وہ شخص زیادہ اچھا ہے جسے لوگ برا کہتے ہوں اور وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہو۔‏“

ابن محیریز رحمہ اللہ تو دعا کرتے تھے کہ ”اللہ میری شہرت نہ ہو۔‏“ خلیل بن احمد رحمہ اللہ اپنی دعا میں کہتے تھے ”اللہ مجھے اپنی نگاہوں میں تو بلندی عطا فرما اور خود میری نظر میں مجھے بہت حقیر کر دے اور لوگوں کی نگاہوں میں مجھے درمیانہ درجہ کا رکھ“، پھر شہرت کا باب باندھ کر امام صاحب اس حدیث کو لائے ہیں انسان کو یہی برائی کافی ہے کہ لوگ اس کی دینداری یادنیاداری کی شہرت دینے لگیں اور اس کی طرف انگلیاں اٹھنے لگیں اشارے ہونے لگیں۔ پس اسی میں آ کر بہت سے لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں مگر جنہیں اللہ بچالے۔ سنو! اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمالوں کو دیکھتا ہے ۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے بھی یہی روایت مرسلاً مروی ہے جب آپ رضی اللہ عنہ نے یہ روایت بیان کی تو کسی نے کہا آپ رضی اللہ عنہ کی طرف بھی انگلیاں اٹھتی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سمجھے نہیں مراد انگلیاں اٹھنے سے دینی بدعت یا دنیوی فسق و فجور ہے۔‏“

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”شہرت حاصل کرنا نہ چاہو۔ اپنے آپ کو اونچا نہ کرو کہ لوگوں میں تذکرے ہونے لگیں علم حاصل کرو لیکن چھپاؤ چپ رہو تاکہ سلامت رہو، نیکوں کو خوش رکھو بدکاروں سے تصرف رکھو۔‏“

ابراہیم بن ادھم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”شہرت کا چاہنے والا اللہ کا ولی نہیں ہوتا۔‏“ ایوب رحمہ اللہ کا فرمان ہے ”جسے اللہ دوست بنالیتا ہے وہ تو لوگوں سے اپنا درجہ چھپاتا پھرتا ہے۔‏“

صفحہ نمبر6865

محمد بن علاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کے دوست لوگ اپنے تئیں ظاہر نہیں کرتے۔‏“ سماک بن سلمہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”عام لوگوں کے میل جول سے اور احباب کی زیادتی سے پرہیز کرو۔‏“ ابان بن عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر دین کو سالم رکھنا چاہتے ہو تو لوگوں سے کم جان پہچان رکھو۔‏“

ابوالعالیہ رحمہ اللہ کا قاعدہ تھا جب دیکھتے کہ ان کی مجلس میں تین سے زیادہ لوگ جمع ہو گئے تو انہیں چھوڑ کر خود چل دیتے۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جب اپنے ساتھ بھیڑ دیکھی تو فرمانے لگے ”طمع کی مکھیاں اور آگ کے پروانے جمع ہوگئے۔‏“ سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کو لوگ گھیرے کھڑے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کوڑا تانا اور فرمایا ”اس میں تابع کے لیے ذلت اور متبوع کے لیے فتنہ ہے۔‏“

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جب لوگ چلنے لگے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”اگر تم پر میرا باطن ظاہر ہو جائے تو تم میں سے دو بھی میرے ساتھ چلنا پسند نہ کریں۔‏“ حماد بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جب ہم کسی مجلس کے پاس سے گزرتے اور ہمارے ساتھ ایوب رحمہ اللہ ہوتے تو لوگ سلام کرتے اور وہ سختی سے جواب دیتے۔‏“ پس یہ ایک نعمت تھی۔

آپ لمبی قمیض پہنتے اس پر لوگوں نے کہا تو آپ نے جواب دیا کہ اگلے زمانے میں شہرت کی چیز تھی۔ لیکن یہ شہرت اس کو اونچا کرنے میں ہے۔ ایک مرتبہ آپ نے اپنی ٹوپیاں مسنون رنگ کی رنگوائیں اور کچھ دنوں تک پہن کر اتاردی اور فرمایا ”میں نے دیکھا کہ عام لوگ انہیں نہیں پہنتے۔‏“

ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”نہ تو ایسا لباس پہنو کہ لوگوں کی انگلیاں اٹھیں نہ اتنا گھٹیا پہنو کہ لوگ حقارت سے دیکھیں۔‏“

صفحہ نمبر6866

ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام سلف کا یہی معمول تھا کہ نہ بہت بڑھیا کپڑا پہنتے تھے نہ بالکل گھٹیا۔‏“ ابوقلابہ رحمہ اللہ کے پاس ایک شخص بہت ہی بہترین اور شہرت کا لباس پہنے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا ”اس آواز دینے والے گدھے سے بچو۔‏“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”بعض لوگوں نے دلوں میں تو تکبر بھر رکھا ہے اور ظاہر لباس میں تواضع کر رکھی ہے گویا چادر ایک بھاری ہتھوڑا ہے۔‏“

موسیٰ علیہ السلام کا مقولہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا ”میرے سامنے تو درویشوں کی پوشاک میں آئے حالانکہ تمہارے دل بھیڑیوں جیسے ہیں۔ سنو لباس چاہے بادشاہوں جیسا پہنو مگر دل خوف اللہ سے نرم رکھو۔‏“

صفحہ نمبر6867

اچھے اخلاق کا بیان ٭٭

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہتر اخلاق والے تھے [صحیح مسلم:5970] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کونسامومن بہتر ہے فرمایا سب سے اچھے اخلاق والا ۔ [سنن ابن ماجه:4259،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ باوجود کم اعمال کے صرف اچھے اخلاق کی وجہ سے انسان بڑے بڑے درجے اور جنت کی اعلی منازل حاصل کر لیتا ہے۔ اور باوجود بہت ساری نیکیوں کے صرف اخلاق کی برائی کی وجہ سے جہنم کے نیچے کے طبقے میں چلا جاتا ہے ۔ [ابن ابی الدنیا:168:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں اچھے اخلاق ہی میں دنیا آخرت کی بھلائی ہے ۔ [ابن ابی الدنیا:169:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں انسان اپنی خوش اخلاقی کے باعث راتوں کو قیام کرنے والے اور دنوں کو روزے رکھنے والوں کے درجوں کو پالیتا ۔ [سنن ابوداود:4898،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ دخول جنت کا موجب عام طور سے کیا ہے؟ فرمایا: اللہ کا ڈر اور اخلاق کی اچھائی ۔ پوچھا گیا عام طور سے جہنم میں کون سی چیز لے جاتی ہے؟ فرمایا: دو سوراخ دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ ۔ [سنن ترمذي:2004،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ایک مرتبہ چند اعراب کے اس سوال پر کہ انسان کو سب سے بہتر عطیہ کیا ملا ہے؟ فرمایا: کہ حسن خلق ۔ [مسند احمد:278/4:صحیح] ‏

فرمایا کہ نیکی کی ترازو میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی چیز اور کوئی نہیں ۔ [سنن ترمذي:2202،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

فرماتے ہیں تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو ۔ [صحیح بخاری:3559] ‏

فرماتے ہیں جس طرح مجاہد کو جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے صبح شام اجر ملتا ہے اسی طرح اچھے اخلاق پر بھی اللہ ثواب عطا فرماتا ہے ۔ [ابن ابی الدنیا:176:ضعیف] ‏

ارشاد ہے تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ قریب وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ بغض ونفرت کے قابل اور مجھ سے سب سے دور جنت میں وہ ہو گا جو بدخلق، بدگو، بدکلام، بدزبان ہوگا ۔ فرماتے ہیں کامل ایماندار اچھے اخلاق والے ہیں جو ہر ایک سے سلوک ومحبت سے ملیں جلیں ۔ [سنن ترمذي:2018،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ارشاد ہے جس کی پیدائش اور اخلاق اچھے ہیں اسے اللہ تعالیٰ جہنم کا لقمہ نہیں بنائے گا ۔ ارشاد ہے کہ دو خصلیتں مومن میں جمع نہیں ہو سکتی بخل اور بداخلاقی ۔ [ابن ابی الدنیا:180:ضعیف و مرسل] ‏

فرماتے ہیں بدخلقی سے زیادہ بڑا کوئی گناہ نہیں، اس لیے کہ بداخلاقی سے ایک سے ایک بڑے گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ [سنن ترمذي:1962،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6868

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے اللہ کے نزدیک بد اخلاقی سے بڑا کوئی گناہ نہیں۔ اچھے اخلاق سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بداخلاقیاں نیک اعمالوں کو غارت کر دیتی ہیں۔ جیسے شہد کو سرکہ خراب کر دیتا ہے ۔ [ابن ابی الدنیا:183:ضعیف و مرسل] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ غلام خریدنے سے غلام نہیں بڑھتے البتہ خوش اخلاقی سے لوگ گرویدہ اور جان نثا رہو جاتے ہیں ۔ [ابن ابی الدنیا:184:ضعیف] ‏

امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اچھا خلق دین کی مدد کرتا ہے۔‏“

صفحہ نمبر6869

تکبر کی مذمت کا بیان ٭٭

حضور صلی اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں وہ جنت میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو، اور وہ جہنمی نہیں جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہو ۔ [صحیح مسلم:39] ‏

فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر تکبر ہے وہ اوندھے منہ جہنم میں جائے گا ۔ [مسند احمد:215/2:صحیح لغیره] ‏

ارشاد ہے کہ انسان اپنے غرور اور خود پسندی میں بڑھتے بڑھتے اللہ کے ہاں جباروں میں لکھ دیا جاتا ہے، پھر سرکشوں کے عذاب میں پھنس جاتا ہے ۔ [مسند احمد:215/2:صحیح] ‏

امام مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ایک دن سلیمان بن داؤد علیہ السلام اپنے تخت پر بیٹے تھے آپ علیہ السلام کی دربار میں اس وقت دو لاکھ انسان تھے اور دو لاکھ جن تھے۔ آپ علیہ السلام کو آسمان تک پہنچایا گیا یہاں تک کہ فرشتوں کی تسبیح کی آواز کان میں آنے لگی۔ اور پھر زمین تک لایا گیا یہاں تک کہ سمندر کے پانی سے آپ علیہ السلام کے قدم بھیگ گئے۔ پھر ہاتف غیب نے ندادی کہ اگر اس کے دل میں ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہوتا تو جتنا اونچا گیا تھا اس سے زیادہ نیچے دھنسادیا جاتا۔‏“

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں انسان کی ابتدائی پیدائش کا بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ”یہ دو شخصوں کی پیشاب گاہ سے نکلتا ہے۔‏“ اس طرح اسے بیان فرمایا کہ سننے والے کراہت کرنے لگے۔

امام شعمی رحمہ اللہ کا قول ہے ”جس نے دو شخصوں کو قتل کر دیا وہ بڑا ہی سرکش اور جبار ہے پھر آپ رحمہ اللہ نے یہ آیت پڑھی «فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَا مُوسَىٰ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ إِن تُرِيدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ» ‏ [28-سورةالقص:19] ‏ ” کیا تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے؟ جیسے کہ تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے۔ تیرا ارادہ تو دنیا میں سرکش اور جبار بن کر رہنے کا معلوم ہوتا ہے “۔

صفحہ نمبر6870

حضرت حسن رحمہ اللہ کا مقولہ ہے ”وہ انسان جو ہر دن میں دو مرتبہ اپنا پاخانہ اپنے ہاتھ سے دھوتا ہے وہ کس بنا پر تکبر کرتا ہے اور اس کا وصف اپنے میں پیدا کرنا چاہتا ہے جس نے آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور اپنے قبضے میں رکھا ہے۔‏“

ضحاک بن سفیان رحمہ اللہ سے دنیا کی مثال اس چیز سے بھی مروی ہے جو انسان سے نکلتی ہے۔ امام محمد بن حسین بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جس دل میں جتنا تکبر اور گھمنڈ ہوتا ہے اتنی ہی عقل اس کی کم ہو جاتی ہے۔‏“ یونس بن عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سجدہ کرنے کے ساتھ تکبر اور توحید کے ساتھ نفاق نہیں ہوا کرتا۔‏“

بنی امیہ مارمار کر اپنی اولاد کو اکڑا کر چلنا سکھاتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو آپ کی خلافت سے پہلے ایک مرتبہ اٹھلاتی ہوئی چال چلتے ہوئے دیکھ کر طاؤس رحمہ اللہ نے ان کے پہلو میں ایک ٹھونکا مارا اور فرمایا ”یہ چال اس کی جس کے پیٹ میں پاخانہ بھرا ہوا ہے؟“ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بہت شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے ”معاف فرمائیے ہمیں مارمار کر اس چال کی عادت ڈلوائی گئی ہے۔‏“

صفحہ نمبر6871

فخر و گھمنڈ کی مذمت کا بیان ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص فخر و غرور سے اپنا کپڑا نیچے لٹکا کر گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف رحمت سے نہ دیکھے گا ۔ [صحیح بخاری:5789] ‏

فرماتے ہیں اس کی طرف اللہ قیامت کے دن نظر نہ ڈالے گا جو اپنا تہبند لٹکائے ۔ ایک شخص دو عمدہ چادریں اوڑھے دل میں غرور لیے اکڑتا ہوا جا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسادیا قیامت تک وہ دھنستا ہوا چلا جائے گا ۔ [صحیح بخاری:3485] ‏

صفحہ نمبر6872

انعام و اکرام کی بارش ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی نعمتوں کا اظہار فرما رہا ہے کہ ” دیکھو آسمان کے ستارے تمہارے لیے کام میں مشغول ہیں چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں بادل بارش اولے خنکی سب تمہارے نفع کی چیزیں ہیں خود آسمان تمہارے لیے محفوظ اور مضبوط چھت ہے۔ زمین کی نہریں چشمے دریا سمندر درخت کھیتی پھل یہ سب نعمتیں بھی اسی نے دے رکھی ہیں “۔

پھر ان ظاہری بے شمار نعمتوں کے علاوہ باطنی بےشمار نعمتیں بھی اسی نے تمہیں دے رکھی ہیں مثلا رسولوں کا بھیجنا کتابوں کانازل فرمانا شک و شبہ وغیرہ دلوں سے دور کرنا وغیرہ۔

صفحہ نمبر6876

اتنی بڑی اور اتنی ساری نعمتیں جس نے دے رکھی ہیں حق یہ تھا کہ اس کی ذات پر سب کے سب ایمان لاتے لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ اب تک اللہ کے بارے میں یعنی اس کی توحید اور اس کے رسولوں کی رسالت کے بارے ہی میں الجھ رہے ہیں اور محض جہالت سے ضلالت سے بغیر کسی سند اور دلیل کے اڑے ہوئے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ وحی کی اتباع کرو تو بڑی بے حیائی سے جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے اگلوں کی تقلید کریں گے گو ان کے باپ دادے محض بےعقل اور بے راہ شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے اور اس نے انہیں دوزخ کی راہ پر ڈال دیا تھا یہ تھے ان کے سلف اور یہ ہیں ان کے خلف۔

صفحہ نمبر6877

انعام و اکرام کی بارش ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی نعمتوں کا اظہار فرما رہا ہے کہ ” دیکھو آسمان کے ستارے تمہارے لیے کام میں مشغول ہیں چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں بادل بارش اولے خنکی سب تمہارے نفع کی چیزیں ہیں خود آسمان تمہارے لیے محفوظ اور مضبوط چھت ہے۔ زمین کی نہریں چشمے دریا سمندر درخت کھیتی پھل یہ سب نعمتیں بھی اسی نے دے رکھی ہیں “۔

پھر ان ظاہری بے شمار نعمتوں کے علاوہ باطنی بےشمار نعمتیں بھی اسی نے تمہیں دے رکھی ہیں مثلا رسولوں کا بھیجنا کتابوں کانازل فرمانا شک و شبہ وغیرہ دلوں سے دور کرنا وغیرہ۔

صفحہ نمبر6876

اتنی بڑی اور اتنی ساری نعمتیں جس نے دے رکھی ہیں حق یہ تھا کہ اس کی ذات پر سب کے سب ایمان لاتے لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ اب تک اللہ کے بارے میں یعنی اس کی توحید اور اس کے رسولوں کی رسالت کے بارے ہی میں الجھ رہے ہیں اور محض جہالت سے ضلالت سے بغیر کسی سند اور دلیل کے اڑے ہوئے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ وحی کی اتباع کرو تو بڑی بے حیائی سے جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے اگلوں کی تقلید کریں گے گو ان کے باپ دادے محض بےعقل اور بے راہ شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے اور اس نے انہیں دوزخ کی راہ پر ڈال دیا تھا یہ تھے ان کے سلف اور یہ ہیں ان کے خلف۔

صفحہ نمبر6877

انعام و اکرام کی بارش ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی نعمتوں کا اظہار فرما رہا ہے کہ ” دیکھو آسمان کے ستارے تمہارے لیے کام میں مشغول ہیں چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں بادل بارش اولے خنکی سب تمہارے نفع کی چیزیں ہیں خود آسمان تمہارے لیے محفوظ اور مضبوط چھت ہے۔ زمین کی نہریں چشمے دریا سمندر درخت کھیتی پھل یہ سب نعمتیں بھی اسی نے دے رکھی ہیں “۔

پھر ان ظاہری بے شمار نعمتوں کے علاوہ باطنی بےشمار نعمتیں بھی اسی نے تمہیں دے رکھی ہیں مثلا رسولوں کا بھیجنا کتابوں کانازل فرمانا شک و شبہ وغیرہ دلوں سے دور کرنا وغیرہ۔

صفحہ نمبر6876

اتنی بڑی اور اتنی ساری نعمتیں جس نے دے رکھی ہیں حق یہ تھا کہ اس کی ذات پر سب کے سب ایمان لاتے لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ اب تک اللہ کے بارے میں یعنی اس کی توحید اور اس کے رسولوں کی رسالت کے بارے ہی میں الجھ رہے ہیں اور محض جہالت سے ضلالت سے بغیر کسی سند اور دلیل کے اڑے ہوئے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ وحی کی اتباع کرو تو بڑی بے حیائی سے جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے اگلوں کی تقلید کریں گے گو ان کے باپ دادے محض بےعقل اور بے راہ شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے اور اس نے انہیں دوزخ کی راہ پر ڈال دیا تھا یہ تھے ان کے سلف اور یہ ہیں ان کے خلف۔

صفحہ نمبر6877

مضبوط دستاویز ٭٭

فرماتا ہے کہ ” جو اپنے عمل میں اخلاص پیدا کرے جو اللہ کا سچا فرمانبردار بن جائے جو شریعت کا تابعدار ہو جائے اللہ کے حکموں پر عمل کرے اللہ کے منع کردہ کاموں سے باز آ جائے اس نے مضبوط دستاویز حاصل کرلی گویا اللہ کا وعدہ لے لیا کہ عذابوں میں وہ نجات یافتہ ہے “۔

” کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔ اے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کافروں کے کفر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین نہ ہوں۔ اللہ کی تحریر یونہی جاری ہو چکی ہے سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے۔ اس وقت اعمال کے بدلے ملیں گے اس اللہ پر کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ دنیا میں مزے کر لیں پھر تو ان عذابوں کو بے بسی سے برداشت کرنا پڑے گا جو بہت سخت اور نہایت گھبراہٹ والے ہیں “۔

جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ» الخ ‏ [10-یونس:70-69] ‏ ” اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے فلاح سے محروم رہ جاتے ہیں۔ دنیا کا فائدہ تو خیر الگ چیز ہے لیکن ہمارے ہاں (‏موت کے بعد)‏ آنے کے بعد تو اپنے کفر کی سخت سزا بھگتنی پڑے گی “۔

صفحہ نمبر6880

مضبوط دستاویز ٭٭

فرماتا ہے کہ ” جو اپنے عمل میں اخلاص پیدا کرے جو اللہ کا سچا فرمانبردار بن جائے جو شریعت کا تابعدار ہو جائے اللہ کے حکموں پر عمل کرے اللہ کے منع کردہ کاموں سے باز آ جائے اس نے مضبوط دستاویز حاصل کرلی گویا اللہ کا وعدہ لے لیا کہ عذابوں میں وہ نجات یافتہ ہے “۔

” کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔ اے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کافروں کے کفر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین نہ ہوں۔ اللہ کی تحریر یونہی جاری ہو چکی ہے سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے۔ اس وقت اعمال کے بدلے ملیں گے اس اللہ پر کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ دنیا میں مزے کر لیں پھر تو ان عذابوں کو بے بسی سے برداشت کرنا پڑے گا جو بہت سخت اور نہایت گھبراہٹ والے ہیں “۔

جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ» الخ ‏ [10-یونس:70-69] ‏ ” اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے فلاح سے محروم رہ جاتے ہیں۔ دنیا کا فائدہ تو خیر الگ چیز ہے لیکن ہمارے ہاں (‏موت کے بعد)‏ آنے کے بعد تو اپنے کفر کی سخت سزا بھگتنی پڑے گی “۔

صفحہ نمبر6880

حاکم اعلی وہ اللہ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” یہ مشرک اس بات کو مانتے ہوئے سب کا خالق اکیلا اللہ ہی ہے پھر بھی دوسروں کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ ان کی نسبت خود جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے پیدا کئے ہوئے اور اس کے ماتحت ہیں۔ ان سے اگر پوچھا جائے کہ خالق کون ہے؟ تو انکا جواب بالکل سچا ہوتا ہے کہ اللہ! تو کہہ کہ اللہ کا شکر ہے اتنا تو تمہیں اقرار ہے “۔

بات یہ ہے کہ اکثر مشرک بے علم ہوتے ہیں، زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز اللہ کی پیدا کردہ اور اسی کی ملکیت ہے وہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں وہی سزاوار حمد ہے وہی خوبیوں والا ہے۔ پیدا کرنے میں بھی احکام مقرر کرنے میں بھی وہی قابل تعریف ہے۔

صفحہ نمبر6882

حاکم اعلی وہ اللہ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” یہ مشرک اس بات کو مانتے ہوئے سب کا خالق اکیلا اللہ ہی ہے پھر بھی دوسروں کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ ان کی نسبت خود جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے پیدا کئے ہوئے اور اس کے ماتحت ہیں۔ ان سے اگر پوچھا جائے کہ خالق کون ہے؟ تو انکا جواب بالکل سچا ہوتا ہے کہ اللہ! تو کہہ کہ اللہ کا شکر ہے اتنا تو تمہیں اقرار ہے “۔

بات یہ ہے کہ اکثر مشرک بے علم ہوتے ہیں، زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز اللہ کی پیدا کردہ اور اسی کی ملکیت ہے وہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں وہی سزاوار حمد ہے وہی خوبیوں والا ہے۔ پیدا کرنے میں بھی احکام مقرر کرنے میں بھی وہی قابل تعریف ہے۔

صفحہ نمبر6882

حمد و ثنا کا حق ادا کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ٭٭

اللہ رب العلمین اپنی عزت کبریائی، بڑائی اور بزرگی، جلالت اور شان بیان فرما رہا ہے۔ اپنی پاک صفتیں اپنے بلند ترین نام اور اپنے بے شمار کلمات کا ذکر فرما رہا ہے جنہیں نہ کوئی گن سکے نہ شمار کر سکے نہ ان پر کسی کا احاطہٰ ہو نہ ان کی حقیقت کو کوئی پاسکے۔

سید البشر ختم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے «‏لاَ أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» اے اللہ!میں تیری تعریفوں کا اتنا شمار بھی نہیں کرسکتا جتنی ثناء تو نے اپنے آپ فرمائی ہے ۔ [صحیح مسلم:486] ‏

پس یہاں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ” اگر روئے زمین کے تمام تر درخت قلمیں بن جائیں اور تمام سمندر کے پانی سیاہی بن جائیں اور ان کے ساتھ ہی سات سمندر اور بھی ملالئے جائیں اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و صفات جلالت و بزرگی کے کلمات لکھنے شروع کئے جائیں تو یہ تمام قلمیں گھس جائیں ختم ہو جائیں سب سیاہیاں پوری ہو جائیں ختم ہو جائیں لیکن اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی تعریفیں ختم نہ ہوں “۔

یہ نہ سمجھا جائے کہ سات سمندر سے زیادہ ہوں تو پھر اللہ کے پورے کلمات لکھنے کے لیے کافی ہو جائیں۔ نہیں یہ گنتی تو زیادتی دکھانے کے لیے ہے۔ اور یہ بھی نہ سمجھا جائے کہ سات سمندر موجود ہیں اور وہ عالم کو گھیرے ہوئے ہیں البتہ بنواسرائیل کی ان سات سمندروں کی بات ایسی روایتیں ہیں لیکن نہ تو انہیں سچ کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی جھٹلایا جا سکتا ہے۔ ہاں جو تفسیر ہم نے کہ ہے اس کی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے «‏قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا» [18-الكهف:109] ‏، یعنی ” اگر سمندر سیاہی بن جائیں اور رب کے کلمات کا لکھنا شروع ہو تو کلمات اللہ کے ختم ہونے سے پہلے ہی سمندر ختم ہو جائیں اگرچہ ایسا ہی اور سمندر اس کی مدد میں لائیں “۔

پس یہاں بھی مراد صرف اسی جیسا ایک ہی سمندر لانا نہیں بلکہ ویسا ایک پھر ایک اور بھی ویسا ہی پھر ویسا ہی پھر ویسا ہی الغرض خواہ کتنے ہی آجائیں لیکن اللہ کی باتیں ختم نہیں ہو سکتیں۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر اللہ تعالیٰ لکھوانا شروع کرے کہ میرا یہ امر اور یہ امر تو تمام قلمیں ٹوٹ جائیں اور تمام سمندروں کے پانی ختم ہو جائیں۔‏“ مشرکین کہتے تھے کہ یہ کلام اب ختم ہو جائے گا جس کی تردید اس آیت میں ہو رہی ہے کہ نہ رب کے عجائبات ختم ہوں نہ اس کی حکمت کی انتہا نہ اس کی صفت اور اس کے علم کا آخر۔ تمام بندوں کے علم اللہ کے علم کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ۔ اللہ کی باتیں فنا نہیں ہوتیں نہ اسے کوئی ادراک کر سکتا ہے۔ ہم جو کچھ اس کی تعریفیں کریں وہ ان سے سوا ہے۔

یہود کے علماء نے مدینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ یہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن میں پڑھتے ہیں آیت «وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:85] ‏ یعنی ” تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے “، اس سے کیا مراد ہے ہم یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں سب ۔ انہوں نے کہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کلام اللہ شریف کی اس آیت کو کیا کریں گے جہاں فرمان ہے کہ توراۃ میں ہر چیز کا بیان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو وہ اور تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ کے کلمات کے مقابلہ میں بہت کم ہے تمہیں کفایت ہو اتنا اللہ تعالیٰ نے نازل فرمادیا ہے ۔ اس پر آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28/49:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6884

لیکن اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہونی چاہیئے حالانکہ مشہور یہ ہے کہ یہ آیت مکی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے تمام اشیاء اس کے سامنے پست و عاجز ہیں کوئی اس کے ارادے کے خلاف نہیں جا سکتا اس کا کوئی حکم ٹل نہیں سکتا اس کی منشاء کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ اپنے افعال اقوال شریعت حکمت اور تمام صفتوں میں سب سے اعلی غالب وقہار ہے۔ پھر فرماتا ہے ” تمام لوگوں کا پیدا کرنا اور انہیں مار ڈالنے کے بعد زندہ کر دینا مجھ پر ایسا ہی آسان ہے جیسے کہ ایک شخص کو مارنا اور پیدا کرنا “۔ اس کا تو کسی بات کو حکم فرما دینا کافی ہے۔ ایک آنکھ جھپکانے جتنی دیر بھی نہیں لگتی۔ نہ دوبارہ کہنا پڑے نہ اسباب اور مادے کی ضرورت۔

ایک فرمان میں قیامت قائم ہو جائے گی ایک ہی آواز کے ساتھ سب جی اٹھیں گے۔ اللہ تعالیٰ تمام باتوں کا سننے والا ہے سب کے کاموں کا جاننے والا ہے۔ ایک شخص کی باتیں اور اس کے کام جیسے اس پر مخفی نہیں اسی طرح تمام جہان کے معاملات اس سے پوشیدہ نہیں۔

صفحہ نمبر6885

حمد و ثنا کا حق ادا کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ٭٭

اللہ رب العلمین اپنی عزت کبریائی، بڑائی اور بزرگی، جلالت اور شان بیان فرما رہا ہے۔ اپنی پاک صفتیں اپنے بلند ترین نام اور اپنے بے شمار کلمات کا ذکر فرما رہا ہے جنہیں نہ کوئی گن سکے نہ شمار کر سکے نہ ان پر کسی کا احاطہٰ ہو نہ ان کی حقیقت کو کوئی پاسکے۔

سید البشر ختم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے «‏لاَ أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» اے اللہ!میں تیری تعریفوں کا اتنا شمار بھی نہیں کرسکتا جتنی ثناء تو نے اپنے آپ فرمائی ہے ۔ [صحیح مسلم:486] ‏

پس یہاں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ” اگر روئے زمین کے تمام تر درخت قلمیں بن جائیں اور تمام سمندر کے پانی سیاہی بن جائیں اور ان کے ساتھ ہی سات سمندر اور بھی ملالئے جائیں اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و صفات جلالت و بزرگی کے کلمات لکھنے شروع کئے جائیں تو یہ تمام قلمیں گھس جائیں ختم ہو جائیں سب سیاہیاں پوری ہو جائیں ختم ہو جائیں لیکن اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی تعریفیں ختم نہ ہوں “۔

یہ نہ سمجھا جائے کہ سات سمندر سے زیادہ ہوں تو پھر اللہ کے پورے کلمات لکھنے کے لیے کافی ہو جائیں۔ نہیں یہ گنتی تو زیادتی دکھانے کے لیے ہے۔ اور یہ بھی نہ سمجھا جائے کہ سات سمندر موجود ہیں اور وہ عالم کو گھیرے ہوئے ہیں البتہ بنواسرائیل کی ان سات سمندروں کی بات ایسی روایتیں ہیں لیکن نہ تو انہیں سچ کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی جھٹلایا جا سکتا ہے۔ ہاں جو تفسیر ہم نے کہ ہے اس کی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے «‏قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا» [18-الكهف:109] ‏، یعنی ” اگر سمندر سیاہی بن جائیں اور رب کے کلمات کا لکھنا شروع ہو تو کلمات اللہ کے ختم ہونے سے پہلے ہی سمندر ختم ہو جائیں اگرچہ ایسا ہی اور سمندر اس کی مدد میں لائیں “۔

پس یہاں بھی مراد صرف اسی جیسا ایک ہی سمندر لانا نہیں بلکہ ویسا ایک پھر ایک اور بھی ویسا ہی پھر ویسا ہی پھر ویسا ہی الغرض خواہ کتنے ہی آجائیں لیکن اللہ کی باتیں ختم نہیں ہو سکتیں۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر اللہ تعالیٰ لکھوانا شروع کرے کہ میرا یہ امر اور یہ امر تو تمام قلمیں ٹوٹ جائیں اور تمام سمندروں کے پانی ختم ہو جائیں۔‏“ مشرکین کہتے تھے کہ یہ کلام اب ختم ہو جائے گا جس کی تردید اس آیت میں ہو رہی ہے کہ نہ رب کے عجائبات ختم ہوں نہ اس کی حکمت کی انتہا نہ اس کی صفت اور اس کے علم کا آخر۔ تمام بندوں کے علم اللہ کے علم کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ۔ اللہ کی باتیں فنا نہیں ہوتیں نہ اسے کوئی ادراک کر سکتا ہے۔ ہم جو کچھ اس کی تعریفیں کریں وہ ان سے سوا ہے۔

یہود کے علماء نے مدینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ یہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن میں پڑھتے ہیں آیت «وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:85] ‏ یعنی ” تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے “، اس سے کیا مراد ہے ہم یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں سب ۔ انہوں نے کہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کلام اللہ شریف کی اس آیت کو کیا کریں گے جہاں فرمان ہے کہ توراۃ میں ہر چیز کا بیان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو وہ اور تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ کے کلمات کے مقابلہ میں بہت کم ہے تمہیں کفایت ہو اتنا اللہ تعالیٰ نے نازل فرمادیا ہے ۔ اس پر آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28/49:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6884

لیکن اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہونی چاہیئے حالانکہ مشہور یہ ہے کہ یہ آیت مکی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے تمام اشیاء اس کے سامنے پست و عاجز ہیں کوئی اس کے ارادے کے خلاف نہیں جا سکتا اس کا کوئی حکم ٹل نہیں سکتا اس کی منشاء کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ اپنے افعال اقوال شریعت حکمت اور تمام صفتوں میں سب سے اعلی غالب وقہار ہے۔ پھر فرماتا ہے ” تمام لوگوں کا پیدا کرنا اور انہیں مار ڈالنے کے بعد زندہ کر دینا مجھ پر ایسا ہی آسان ہے جیسے کہ ایک شخص کو مارنا اور پیدا کرنا “۔ اس کا تو کسی بات کو حکم فرما دینا کافی ہے۔ ایک آنکھ جھپکانے جتنی دیر بھی نہیں لگتی۔ نہ دوبارہ کہنا پڑے نہ اسباب اور مادے کی ضرورت۔

ایک فرمان میں قیامت قائم ہو جائے گی ایک ہی آواز کے ساتھ سب جی اٹھیں گے۔ اللہ تعالیٰ تمام باتوں کا سننے والا ہے سب کے کاموں کا جاننے والا ہے۔ ایک شخص کی باتیں اور اس کے کام جیسے اس پر مخفی نہیں اسی طرح تمام جہان کے معاملات اس سے پوشیدہ نہیں۔

صفحہ نمبر6885

اس کے سامنے پر چیز حقیر و پست ہے ٭٭

رات کو کچھ گھٹا کر دن کو کچھ بڑھانے والا اور دن کو کچھ گھٹاکر رات کو کچھ بڑھانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جاڑوں کے دن چھوٹے اور راتیں بڑی، گرمیوں کے دن بڑے اور راتیں چھوٹی اسی کی قدرت کا ظہور ہے سورج چاند اسی کے تحت فرمان ہیں۔ جو جگہ مقرر ہے وہیں چلتے ہیں قیامت تک برابر اسی چال چلتے رہیں گے اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتے۔

صفحہ نمبر6887

بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ جواب دیا کہ ”اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جا کر اللہ کے عرش کے نیچے سجدے میں گر پڑتا ہے اور اپنے رب سے اجازت چاہتا ہے قریب ہے کہ ایک دن اس سے کہہ دیا جائے کہ جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا ۔ [صحیح بخاری:3199] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”سورج بمنزلہ ساقیہ کے ہے دن کو اپنے دوران میں جاری رہتا ہے غروب ہو کر رات کو پھر زمین کے نیچے گردش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اپنی مشرق سے ہی طلوع ہوتا ہے۔ اسی طرح چاند بھی۔‏“

” اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے “ جیسے فرمان ہے «أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» [22-الحج:70] ‏ ” کیا تو نہیں جانتا کہ زمین آسمان میں جو کچھ ہے سب اللہ کے علم میں ہے سب کا خالق سب کا عالم اللہ ہی ہے“۔

جیسے ارشاد ہے «اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا» [65-الطلاق:12] ‏” اللہ نے سات آسمان پیدا کئے اور انہی کے مثل زمینیں بنائیں “۔

” یہ نشانیاں پروردگار عالم اس لیے ظاہر فرماتا ہے کہ تم ان سے اللہ کے حق وجود پر ایمان لاؤ اور اس کے سوا سب کو باطل مانو “۔ وہ سب سے بے نیاز اور بے پرواہ ہے سب کے سب اس کے محتاج اور اس کے در کے فقیر ہیں۔ سب اس کی مخلوق اور اس کے غلام ہیں۔ کسی کو ایک ذرے کے حرکت میں لانے کی قدرت نہیں۔ گو ساری مخلوق مل کر ارادہ کر لے کہ ایک مکھی پیدا کریں سب عاجز آ جائیں گے اور ہرگز اتنی قدرت بھی نہ پائیں گے۔ وہ سب سے بلند ہے جس پر کوئی چیز نہیں۔ وہ سب سے بڑا ہے جس کے سامنے کسی کی کوئی بڑائی نہیں۔ ہر چیز اس کے سامنے حقیر اور پست ہے۔

صفحہ نمبر6888

اس کے سامنے پر چیز حقیر و پست ہے ٭٭

رات کو کچھ گھٹا کر دن کو کچھ بڑھانے والا اور دن کو کچھ گھٹاکر رات کو کچھ بڑھانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جاڑوں کے دن چھوٹے اور راتیں بڑی، گرمیوں کے دن بڑے اور راتیں چھوٹی اسی کی قدرت کا ظہور ہے سورج چاند اسی کے تحت فرمان ہیں۔ جو جگہ مقرر ہے وہیں چلتے ہیں قیامت تک برابر اسی چال چلتے رہیں گے اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتے۔

صفحہ نمبر6887

بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ جواب دیا کہ ”اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جا کر اللہ کے عرش کے نیچے سجدے میں گر پڑتا ہے اور اپنے رب سے اجازت چاہتا ہے قریب ہے کہ ایک دن اس سے کہہ دیا جائے کہ جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا ۔ [صحیح بخاری:3199] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”سورج بمنزلہ ساقیہ کے ہے دن کو اپنے دوران میں جاری رہتا ہے غروب ہو کر رات کو پھر زمین کے نیچے گردش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اپنی مشرق سے ہی طلوع ہوتا ہے۔ اسی طرح چاند بھی۔‏“

” اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے “ جیسے فرمان ہے «أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» [22-الحج:70] ‏ ” کیا تو نہیں جانتا کہ زمین آسمان میں جو کچھ ہے سب اللہ کے علم میں ہے سب کا خالق سب کا عالم اللہ ہی ہے“۔

جیسے ارشاد ہے «اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا» [65-الطلاق:12] ‏” اللہ نے سات آسمان پیدا کئے اور انہی کے مثل زمینیں بنائیں “۔

” یہ نشانیاں پروردگار عالم اس لیے ظاہر فرماتا ہے کہ تم ان سے اللہ کے حق وجود پر ایمان لاؤ اور اس کے سوا سب کو باطل مانو “۔ وہ سب سے بے نیاز اور بے پرواہ ہے سب کے سب اس کے محتاج اور اس کے در کے فقیر ہیں۔ سب اس کی مخلوق اور اس کے غلام ہیں۔ کسی کو ایک ذرے کے حرکت میں لانے کی قدرت نہیں۔ گو ساری مخلوق مل کر ارادہ کر لے کہ ایک مکھی پیدا کریں سب عاجز آ جائیں گے اور ہرگز اتنی قدرت بھی نہ پائیں گے۔ وہ سب سے بلند ہے جس پر کوئی چیز نہیں۔ وہ سب سے بڑا ہے جس کے سامنے کسی کی کوئی بڑائی نہیں۔ ہر چیز اس کے سامنے حقیر اور پست ہے۔

صفحہ نمبر6888

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com