John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Ahzaab

Tafsir Ibn Kathir · The Clans · 73 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

تفسیر سورۃ الأحزاب:

سیدنا زر رضی اللہ عنہ سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ سورہ احزاب کی کتنی آیتیں شمار ہوتی ہیں؟ آپ نے فرمایا تہتر، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں نہیں میں نے تو دیکھا ہے کہ یہ سورت سورہ بقرہ کے قریب تھی اسی میں یہ آیت بھی پڑھی جاتی تھی «الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ، نَكَالًا مِنَ اللَّهِ، وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ» یعنی جب بڑی عمر کا مرد اور بڑی عمر کی عورت بدکاری کریں تو انہیں ضرور سنگسار کر دو۔ یہ سزا اللہ کی طرف سے اللہ بڑا غالب اور حکمت والا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:2553،قال الشيخ الألباني:صحيح) [ مسند احمد] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کی کچھ آیتیں اللہ کے حکم سے ہٹا لی گئیں۔ «واللہ اعلم»

اللہ پر توکل رکھو ٭٭

تنبیہ کی ایک موثر صورت یہ بھی ہے کہ بڑے کو کہا جائے تاکہ چھوٹا چوکنا ہو جائے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کوئی بات تاکید سے کہے تو ظاہر ہے کہ اوروں پر وہ تاکید اور بھی زیادہ ہے۔

تقویٰ اسے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ثواب کے طلب کی نیت سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے۔ اور فرمان باری کے مطابق اس کے عذابوں سے بچنے کے لیے اس کی نافرمانیاں ترک کی جائیں۔ کافروں اور منافقوں کی باتیں نہ ماننا نہ ان کے مشوروں پر کاربند ہونا نہ ان کی باتیں قبولیت کے ارادے سے سننا۔ علم وحکمت کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

صفحہ نمبر6947

چونکہ وہ اپنے وسیع علم سے ہر کام کا نتیجہ جانتا ہے اور اپنی بے پایاں حکمت سے اس کی کوئی بات، کوئی فعل غیر حکیمانہ نہیں ہوتا تو، تو اسی کی اطاعت کرتا رہ تاکہ بد انجام سے اور بگاڑ سے بچا رہے۔

جو قرآن وسنت تیری طرف وحی ہو رہا ہے اس کی پیروی کر اللہ پر کسی کا کوئی فعل مخفی نہیں۔ اپنے تمام امور واحوال میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی بھروسہ رکھ۔ اس پر بھروسہ کرنے والوں کو وہ کافی ہے۔ کیونکہ تمام کارسازی پر وہ قادر ہے اس کی طرف جھکنے والا کامیاب ہی کامیاب ہے۔

صفحہ نمبر6948

تفسیر سورۃ الأحزاب:

سیدنا زر رضی اللہ عنہ سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ سورہ احزاب کی کتنی آیتیں شمار ہوتی ہیں؟ آپ نے فرمایا تہتر، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں نہیں میں نے تو دیکھا ہے کہ یہ سورت سورہ بقرہ کے قریب تھی اسی میں یہ آیت بھی پڑھی جاتی تھی «الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ، نَكَالًا مِنَ اللَّهِ، وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ» یعنی جب بڑی عمر کا مرد اور بڑی عمر کی عورت بدکاری کریں تو انہیں ضرور سنگسار کر دو۔ یہ سزا اللہ کی طرف سے اللہ بڑا غالب اور حکمت والا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:2553،قال الشيخ الألباني:صحيح) [ مسند احمد] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کی کچھ آیتیں اللہ کے حکم سے ہٹا لی گئیں۔ «واللہ اعلم»

اللہ پر توکل رکھو ٭٭

تنبیہ کی ایک موثر صورت یہ بھی ہے کہ بڑے کو کہا جائے تاکہ چھوٹا چوکنا ہو جائے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کوئی بات تاکید سے کہے تو ظاہر ہے کہ اوروں پر وہ تاکید اور بھی زیادہ ہے۔

تقویٰ اسے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ثواب کے طلب کی نیت سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے۔ اور فرمان باری کے مطابق اس کے عذابوں سے بچنے کے لیے اس کی نافرمانیاں ترک کی جائیں۔ کافروں اور منافقوں کی باتیں نہ ماننا نہ ان کے مشوروں پر کاربند ہونا نہ ان کی باتیں قبولیت کے ارادے سے سننا۔ علم وحکمت کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

صفحہ نمبر6947

چونکہ وہ اپنے وسیع علم سے ہر کام کا نتیجہ جانتا ہے اور اپنی بے پایاں حکمت سے اس کی کوئی بات، کوئی فعل غیر حکیمانہ نہیں ہوتا تو، تو اسی کی اطاعت کرتا رہ تاکہ بد انجام سے اور بگاڑ سے بچا رہے۔

جو قرآن وسنت تیری طرف وحی ہو رہا ہے اس کی پیروی کر اللہ پر کسی کا کوئی فعل مخفی نہیں۔ اپنے تمام امور واحوال میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی بھروسہ رکھ۔ اس پر بھروسہ کرنے والوں کو وہ کافی ہے۔ کیونکہ تمام کارسازی پر وہ قادر ہے اس کی طرف جھکنے والا کامیاب ہی کامیاب ہے۔

صفحہ نمبر6948

تفسیر سورۃ الأحزاب:

سیدنا زر رضی اللہ عنہ سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ سورہ احزاب کی کتنی آیتیں شمار ہوتی ہیں؟ آپ نے فرمایا تہتر، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں نہیں میں نے تو دیکھا ہے کہ یہ سورت سورہ بقرہ کے قریب تھی اسی میں یہ آیت بھی پڑھی جاتی تھی «الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ، نَكَالًا مِنَ اللَّهِ، وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ» یعنی جب بڑی عمر کا مرد اور بڑی عمر کی عورت بدکاری کریں تو انہیں ضرور سنگسار کر دو۔ یہ سزا اللہ کی طرف سے اللہ بڑا غالب اور حکمت والا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:2553،قال الشيخ الألباني:صحيح) [ مسند احمد] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کی کچھ آیتیں اللہ کے حکم سے ہٹا لی گئیں۔ «واللہ اعلم»

اللہ پر توکل رکھو ٭٭

تنبیہ کی ایک موثر صورت یہ بھی ہے کہ بڑے کو کہا جائے تاکہ چھوٹا چوکنا ہو جائے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کوئی بات تاکید سے کہے تو ظاہر ہے کہ اوروں پر وہ تاکید اور بھی زیادہ ہے۔

تقویٰ اسے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ثواب کے طلب کی نیت سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے۔ اور فرمان باری کے مطابق اس کے عذابوں سے بچنے کے لیے اس کی نافرمانیاں ترک کی جائیں۔ کافروں اور منافقوں کی باتیں نہ ماننا نہ ان کے مشوروں پر کاربند ہونا نہ ان کی باتیں قبولیت کے ارادے سے سننا۔ علم وحکمت کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

صفحہ نمبر6947

چونکہ وہ اپنے وسیع علم سے ہر کام کا نتیجہ جانتا ہے اور اپنی بے پایاں حکمت سے اس کی کوئی بات، کوئی فعل غیر حکیمانہ نہیں ہوتا تو، تو اسی کی اطاعت کرتا رہ تاکہ بد انجام سے اور بگاڑ سے بچا رہے۔

جو قرآن وسنت تیری طرف وحی ہو رہا ہے اس کی پیروی کر اللہ پر کسی کا کوئی فعل مخفی نہیں۔ اپنے تمام امور واحوال میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی بھروسہ رکھ۔ اس پر بھروسہ کرنے والوں کو وہ کافی ہے۔ کیونکہ تمام کارسازی پر وہ قادر ہے اس کی طرف جھکنے والا کامیاب ہی کامیاب ہے۔

صفحہ نمبر6948

سچ بدل نہیں سکتا لے پالک بیٹا نہیں بن سکتا ٭٭

مقصود کو بیان کرنے سے پہلے بطور مقدمے اور ثبوت کے مثلاً ایک وہ بات بیان فرمائی جسے سب محسوس کرتے ہیں اور پھر اس کی طرف سے ذہن ہٹاکر اپنے مقصود کی طرف لے گئے۔

بیان فرمایا کہ ” یہ تو ظاہر ہے کہ کسی انسان کے دل دو نہیں ہوتے۔ اسی طرح تم سمجھ لو کہ اپنی جس بیوی کو تم ماں کہہ دو تو وہ واقعی ماں نہیں ہو جاتی۔ ٹھیک اسی طرح دوسرے کی اولاد کو اپنا بیٹا بنا لینے سے وہ سچ مچ بیٹا ہی نہیں ہو جاتا “۔

اپنی بیوی سے اگر کسی نے بحالت غضب وغصہ کہد دیا کہ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ تو اس کہنے سے وہ سچ مچ ماں نہیں بن جاتی۔ جیسے فرمایا «مَا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنْكَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا» [58-المجادلة:3] ‏ ” ایسا کہہ دینے سے وہ مائیں نہیں بن جاتیں، مائیں تو وہ ہیں جن کے بطن سے یہ پیدا ہوئے ہیں “۔ ان دونوں باتوں کے بیان کے بعد اصل مقصود کو بیان فرمایا کہ ” تمہارے لے پالک لڑکے بھی درحقیقت تمہارے لڑکے نہیں “۔

یہ آیت زید بن حارث رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ تھے انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے اپنا متبنی بنا رکھا تھا۔ انہیں زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا جاتا تھا۔

صفحہ نمبر6951

اس آیت سے اس نسبت اور اس الحاق کا توڑ دینا منظور ہے۔ جیسے کہ اسی سورت کے اثنا میں ہے آیت «مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ وَكَان اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا» [33-الأحزاب:40] ‏، ” تم میں سے کسی مرد کے باپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو ہرچیز کا علم ہے “۔

یہاں فرمایا ” یہ تو صرف تمہاری ایک زبانی بات ہے جو تم کسی کے لڑکے کو کسی کا لڑکا کہو اس سے حقیقت بدل نہیں سکتی۔ واقعی میں اس کا باپ وہ ہے جس کی پیٹھ سے یہ نکلا۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک لڑکے کے دو باپ ہوں جیسے یہ ناممکن ہے کہ ایک سینے میں دو دل ہوں۔ اللہ تعالیٰ حق فرمانے والا اور سیدھی راہ دکھانے والا ہے “۔

صفحہ نمبر6952

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت ایک قریشی کے بارے میں اتری ہے جس نے مشہور کر رکھا تھا کہ اس کے دو دل ہیں اور دونوں عقل و فہم سے پر ہیں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تردید کر دی۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ خطرہ گزرا اس پر جو منافق نماز میں شامل تھے وہ کہنے لگے دیکھو اس کے دو دل ہیں ایک تمہارے ساتھ ایک ان کے ساتھ۔ اس پر یہ آیت اتری کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے ۔ [سنن ترمذي:3199، قال الشيخ الألباني:ضعیف الاسناد] ‏

زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ تو صرف بطور مثال کے فرمایا گیا ہے یعنی جس طرح کسی شخص کے دو دل نہیں ہوتے اسی طرح کسی بیٹے کے دو باپ نہیں ہو سکتے۔‏“ اسی کے مطابق ہم نے بھی اس آیت کی تفسیر کی ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر6953

پہلے تو رخصت تھی کہ لے پالک لڑکے کو پالنے والے کی طرف نسبت کرکے اس کا بیٹا کہہ کر پکارا جائے لیکن اب اسلام نے اس کو منسوخ کر دیا ہے اور فرما دیا ہے کہ ” ان کے جو اپنے حقیقی باپ ہیں ان ہی کی طرف منسوب کر کے پکارو۔ عدل نیکی انصاف اور سچائی یہی ہے “۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس آیت کے اترنے سے پہلے ہم زید کو زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے لیکن اس کے نازل ہونے کے بعد ہم نے یہ کہنا چھوڑ دیا۔‏“ [صحیح بخاری:4782] ‏

بلکہ پہلے تو ایسے لے پالک کے وہ تمام حقوق ہوتے تھے جو سگی اور صلبی اولاد کے ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس آیت کے اترنے کے بعد سہلہ بنت سہل رضی اللہ عنہا حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتی ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے سالم کو منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا اب قرآن نے ان کے بارے میں فیصلہ کر دیا۔ میں اس سے اب تک پردہ نہیں کرتی وہ آ جاتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ میرے خاوند حذیفہ رضی اللہ عنہ ان کے اس طرح آنے سے کچھ بیزار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کیا ہے جاؤ سالم کو اپنا دودھ پلا اس پر حرام ہو جاؤگی ۔ [صحیح مسلم:1453] ‏

صفحہ نمبر6954

الغرض یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے اب صاف لفظوں میں ایسے لڑکوں کی بیویوں کی بھی حلت انہیں لڑکا بنانے والے کے لیے بیان فرما دی۔ اور جب زید رضی اللہ عنہا نے اپنی بیوی صاحبہ زینب بنت جحش کو طلاق دے دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا نکاح ان سے کر لیا «لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللَّـهِ مَفْعُولًا» [33-الأحزاب:37] ‏ اور مسلمان اس ایک مشکل سے بھی چھوٹ گئے «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

اسی کا لحاظ رکھتے ہوئے۔ جہاں حرام عورتوں کو ذکر کیا وہاں فرمایا آیت «وَحَلَاىِٕلُ اَبْنَاىِٕكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ» [4-النساء:23] ‏ یعنی ” تمہاری اپنی صلب سے جو لڑکے ہوں ان کی بیویاں تم پر حرام ہیں “۔ ہاں رضاعی لڑکا نسبی اور صلبی لڑکے کے حکم میں ہے۔

جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہو جاتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:2645] ‏ یہ بھی خیال رہے کہ پیار سے کسی کو بیٹا کہدینا یہ اور چیز ہے یہ ممنوع نہیں۔

صفحہ نمبر6955

مسند احمد وغیرہ میں ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ فرماتے ہیں ہم سب خاندان عبدالمطلب کے چھوٹے بچوں کو مزدلفہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو ہی جمرات کی طرف رخصت کر دیا اور ہماری رانیں تھپکتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹو سورج نکلنے سے پہلے جمرات پر کنکریاں نہ مارنا ۔ [سنن ابوداود:1940، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ واقعہ سنہ ١٠ ہجری ماہ ذی الحجہ کا ہے اور اس کی دلالت ظاہر ہے۔ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جن کے بارے میں یہ حکم اترا یہ سنہ ۸ ھجری میں جنگ موتہ میں شہید ہوئے۔

صحیح مسلم شریف میں مروی ہے کہ انس رضی اللہ تعالیٰ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بیٹا کہہ کر بلایا ۔ [صحیح مسلم:2151] ‏

صفحہ نمبر6956

اسے بیان فرما کر کہ ” لے پالک لڑکوں کو ان کے باپ کی طرف منسوب کر کے پکارا کرو پالنے والوں کی طرف نہیں “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” اگر تمہیں ان کے باپوں کا علم نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور اسلامی دوست ہیں “۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرۃ القضاء والے سال مکہ شریف سے واپس لوٹے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی چچا چچا کہتی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دوڑیں۔ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں لے کر سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو دے دیا اور فرمایا ”یہ تمہاری چچازاد بہن ہے انہیں اچھی طرح رکھو۔‏“ سیدنا زید اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہم فرمانے لگے ”اس بچی کے حقدار ہم ہیں ہم انہیں پالیں گے۔‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”نہیں یہ میرے ہاں رہیں گی“، سیدنا علی رضی اللہ عنہا نے تو یہ دلیل دی کہ میرے چچا کی لڑکی ہیں۔ سیدنا زید رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”میرے بھائی کی لڑکی ہے۔‏“ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہنے لگے ”میرے چچا کی لڑکی ہیں اور ان کی چچی میرے گھر میں ہیں“ یعنی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا۔ آخر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ صاحبزادی تو اپنی خالہ کے پاس رہیں کیونکہ خالہ ماں کے قائم مقام ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ سے فرمایا: تو میرا ہے اور میں تیرا ہوں ۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تو صورت سیرت میں میرے مشابہ ہے ، حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تو ہمارا بھائی اور ہمارا مولیٰ ہے ۔ [صحیح بخاری:4251] ‏ اس حدیث میں بہت سے احکام ہیں۔

صفحہ نمبر6957

سب سے بہتر تو یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم حق سنا کر اور دعویداروں کو بھی ناراض نہیں ہونے دیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت پر عمل کرتے ہوئے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم ہمارے بھائی اور ہمارے دوست ہو ۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اسی آیت کے ماتحت میں تمہارا بھائی ہوں۔‏“ ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”واللہ!اگر یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کے والد کوئی ایسے ویسے ہی تھے تو بھی یہ ان کی طرف منسوب ہوتے۔‏“ [صحیح بخاری:3508] ‏

حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر اپنی نسبت اپنے باپ کی طرف سے دوسرے کی طرف کرے اس نے کفر کیا ۔ [صحیح بخاری:35080] ‏ اس سے سخت وعید پائی جاتی ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ صحیح نسب سے اپنے آپ کو ہٹانا بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے۔

صفحہ نمبر6958

پھر فرماتا ہے ” جب تم نے اپنے طور پر جتنی طاقت تم میں ہے تحقیق کرکے کسی کو کسی کی طرف نسبت کیا اور فی الحقیقت وہ نسبت غلط ہے تو اس خطا پر تمہاری پکڑ نہیں “۔

چنانچہ خود پروردگار نے ہمیں ایسی دعا تعلیم دی کہ ہم اس کی جناب میں ہیں کہیں «رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا» [2-البقرة:286] ‏ ” اے اللہ! ہماری بھول چوک اور غلطی پر ہمیں نہ پکڑ “۔

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب مسلمانوں نے یہ دعا پڑھی جناب باری عزاسمہ نے فرمایا ” میں نے یہ دعاقبول فرمائی “ ۔ [صحیح مسلم:126] ‏

صحیح بخاری شریف میں ہے جب حاکم اپنی کوشش میں کامیاب ہو جائے اپنے اجتہاد میں صحت کو پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور اگر خطا کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے ۔ [صحیح بخاری:7352] ‏

اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو ان کی خطائیں بھول چوک اور جو کام ان سے زبردستی کرائے جائیں ان سے در گزر فرما لیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:2043، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یہاں بھی یہ فرما کر ارشاد فرمایا کہ ” ہاں جو کام تم قصد قلب سے عمداً کرو وہ بیشک قابل گرفت ہیں “۔ قسموں کے بارے میں بھی یہی حکم ہے اوپر جو حدیث بیان ہوئی کہ نسب بدلنے والا کفر کا مرتکب ہے وہاں بھی یہ لفظ ہیں کہ باوجود جاننے کے ۔ [صحیح بخاری:3508] ‏

آیت قرآن جو اب تلاوتاً منسوخ ہے اس میں تھا «أَنْ لاَ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، أَوْ إِنَّ كُفْرًا بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ» یعنی ” تمہارا اپنے باپ کی طرف نسبت ہٹانا کفر ہے “۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اس میں رجم کی بھی آیت تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی رجم کیا (‏یعنی شادی شدہ زانیوں کو سنگسار کیا) اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا۔ ہم نے قرآن میں یہ آیت بھی پڑھی ہے کہ اپنے باپوں سے اپنا سلسلہ نسب نہ ہٹاؤ یہ کفر ہے۔‏“

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے مجھے تم میری تعریفوں میں اس طرح بڑھا چڑھا نہ دینا جیسے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہوا۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں تو تم مجھے اللہ کا بندہ اور رسول اللہ کہنا ۔ [مسند احمد:47/1:صحیح] ‏ ایک روایت میں صرف ابن مریم ہے۔

اور حدیث میں ہے تین خصلتیں لوگوں میں ہیں جو کفر ہیں، نسب میں طعنہ زنی، میت پر نوحہ، ستاروں سے باران طلبی ۔ [صحیح مسلم:934] ‏

صفحہ نمبر6959

سچ بدل نہیں سکتا لے پالک بیٹا نہیں بن سکتا ٭٭

مقصود کو بیان کرنے سے پہلے بطور مقدمے اور ثبوت کے مثلاً ایک وہ بات بیان فرمائی جسے سب محسوس کرتے ہیں اور پھر اس کی طرف سے ذہن ہٹاکر اپنے مقصود کی طرف لے گئے۔

بیان فرمایا کہ ” یہ تو ظاہر ہے کہ کسی انسان کے دل دو نہیں ہوتے۔ اسی طرح تم سمجھ لو کہ اپنی جس بیوی کو تم ماں کہہ دو تو وہ واقعی ماں نہیں ہو جاتی۔ ٹھیک اسی طرح دوسرے کی اولاد کو اپنا بیٹا بنا لینے سے وہ سچ مچ بیٹا ہی نہیں ہو جاتا “۔

اپنی بیوی سے اگر کسی نے بحالت غضب وغصہ کہد دیا کہ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ تو اس کہنے سے وہ سچ مچ ماں نہیں بن جاتی۔ جیسے فرمایا «مَا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنْكَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا» [58-المجادلة:3] ‏ ” ایسا کہہ دینے سے وہ مائیں نہیں بن جاتیں، مائیں تو وہ ہیں جن کے بطن سے یہ پیدا ہوئے ہیں “۔ ان دونوں باتوں کے بیان کے بعد اصل مقصود کو بیان فرمایا کہ ” تمہارے لے پالک لڑکے بھی درحقیقت تمہارے لڑکے نہیں “۔

یہ آیت زید بن حارث رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ تھے انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے اپنا متبنی بنا رکھا تھا۔ انہیں زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا جاتا تھا۔

صفحہ نمبر6951

اس آیت سے اس نسبت اور اس الحاق کا توڑ دینا منظور ہے۔ جیسے کہ اسی سورت کے اثنا میں ہے آیت «مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ وَكَان اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا» [33-الأحزاب:40] ‏، ” تم میں سے کسی مرد کے باپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو ہرچیز کا علم ہے “۔

یہاں فرمایا ” یہ تو صرف تمہاری ایک زبانی بات ہے جو تم کسی کے لڑکے کو کسی کا لڑکا کہو اس سے حقیقت بدل نہیں سکتی۔ واقعی میں اس کا باپ وہ ہے جس کی پیٹھ سے یہ نکلا۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک لڑکے کے دو باپ ہوں جیسے یہ ناممکن ہے کہ ایک سینے میں دو دل ہوں۔ اللہ تعالیٰ حق فرمانے والا اور سیدھی راہ دکھانے والا ہے “۔

صفحہ نمبر6952

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت ایک قریشی کے بارے میں اتری ہے جس نے مشہور کر رکھا تھا کہ اس کے دو دل ہیں اور دونوں عقل و فہم سے پر ہیں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تردید کر دی۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ خطرہ گزرا اس پر جو منافق نماز میں شامل تھے وہ کہنے لگے دیکھو اس کے دو دل ہیں ایک تمہارے ساتھ ایک ان کے ساتھ۔ اس پر یہ آیت اتری کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے ۔ [سنن ترمذي:3199، قال الشيخ الألباني:ضعیف الاسناد] ‏

زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ تو صرف بطور مثال کے فرمایا گیا ہے یعنی جس طرح کسی شخص کے دو دل نہیں ہوتے اسی طرح کسی بیٹے کے دو باپ نہیں ہو سکتے۔‏“ اسی کے مطابق ہم نے بھی اس آیت کی تفسیر کی ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر6953

پہلے تو رخصت تھی کہ لے پالک لڑکے کو پالنے والے کی طرف نسبت کرکے اس کا بیٹا کہہ کر پکارا جائے لیکن اب اسلام نے اس کو منسوخ کر دیا ہے اور فرما دیا ہے کہ ” ان کے جو اپنے حقیقی باپ ہیں ان ہی کی طرف منسوب کر کے پکارو۔ عدل نیکی انصاف اور سچائی یہی ہے “۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس آیت کے اترنے سے پہلے ہم زید کو زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے لیکن اس کے نازل ہونے کے بعد ہم نے یہ کہنا چھوڑ دیا۔‏“ [صحیح بخاری:4782] ‏

بلکہ پہلے تو ایسے لے پالک کے وہ تمام حقوق ہوتے تھے جو سگی اور صلبی اولاد کے ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس آیت کے اترنے کے بعد سہلہ بنت سہل رضی اللہ عنہا حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتی ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے سالم کو منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا اب قرآن نے ان کے بارے میں فیصلہ کر دیا۔ میں اس سے اب تک پردہ نہیں کرتی وہ آ جاتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ میرے خاوند حذیفہ رضی اللہ عنہ ان کے اس طرح آنے سے کچھ بیزار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کیا ہے جاؤ سالم کو اپنا دودھ پلا اس پر حرام ہو جاؤگی ۔ [صحیح مسلم:1453] ‏

صفحہ نمبر6954

الغرض یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے اب صاف لفظوں میں ایسے لڑکوں کی بیویوں کی بھی حلت انہیں لڑکا بنانے والے کے لیے بیان فرما دی۔ اور جب زید رضی اللہ عنہا نے اپنی بیوی صاحبہ زینب بنت جحش کو طلاق دے دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا نکاح ان سے کر لیا «لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللَّـهِ مَفْعُولًا» [33-الأحزاب:37] ‏ اور مسلمان اس ایک مشکل سے بھی چھوٹ گئے «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

اسی کا لحاظ رکھتے ہوئے۔ جہاں حرام عورتوں کو ذکر کیا وہاں فرمایا آیت «وَحَلَاىِٕلُ اَبْنَاىِٕكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ» [4-النساء:23] ‏ یعنی ” تمہاری اپنی صلب سے جو لڑکے ہوں ان کی بیویاں تم پر حرام ہیں “۔ ہاں رضاعی لڑکا نسبی اور صلبی لڑکے کے حکم میں ہے۔

جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہو جاتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:2645] ‏ یہ بھی خیال رہے کہ پیار سے کسی کو بیٹا کہدینا یہ اور چیز ہے یہ ممنوع نہیں۔

صفحہ نمبر6955

مسند احمد وغیرہ میں ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ فرماتے ہیں ہم سب خاندان عبدالمطلب کے چھوٹے بچوں کو مزدلفہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو ہی جمرات کی طرف رخصت کر دیا اور ہماری رانیں تھپکتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹو سورج نکلنے سے پہلے جمرات پر کنکریاں نہ مارنا ۔ [سنن ابوداود:1940، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ واقعہ سنہ ١٠ ہجری ماہ ذی الحجہ کا ہے اور اس کی دلالت ظاہر ہے۔ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جن کے بارے میں یہ حکم اترا یہ سنہ ۸ ھجری میں جنگ موتہ میں شہید ہوئے۔

صحیح مسلم شریف میں مروی ہے کہ انس رضی اللہ تعالیٰ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بیٹا کہہ کر بلایا ۔ [صحیح مسلم:2151] ‏

صفحہ نمبر6956

اسے بیان فرما کر کہ ” لے پالک لڑکوں کو ان کے باپ کی طرف منسوب کر کے پکارا کرو پالنے والوں کی طرف نہیں “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” اگر تمہیں ان کے باپوں کا علم نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور اسلامی دوست ہیں “۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرۃ القضاء والے سال مکہ شریف سے واپس لوٹے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی چچا چچا کہتی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دوڑیں۔ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں لے کر سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو دے دیا اور فرمایا ”یہ تمہاری چچازاد بہن ہے انہیں اچھی طرح رکھو۔‏“ سیدنا زید اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہم فرمانے لگے ”اس بچی کے حقدار ہم ہیں ہم انہیں پالیں گے۔‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”نہیں یہ میرے ہاں رہیں گی“، سیدنا علی رضی اللہ عنہا نے تو یہ دلیل دی کہ میرے چچا کی لڑکی ہیں۔ سیدنا زید رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”میرے بھائی کی لڑکی ہے۔‏“ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہنے لگے ”میرے چچا کی لڑکی ہیں اور ان کی چچی میرے گھر میں ہیں“ یعنی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا۔ آخر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ صاحبزادی تو اپنی خالہ کے پاس رہیں کیونکہ خالہ ماں کے قائم مقام ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ سے فرمایا: تو میرا ہے اور میں تیرا ہوں ۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تو صورت سیرت میں میرے مشابہ ہے ، حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تو ہمارا بھائی اور ہمارا مولیٰ ہے ۔ [صحیح بخاری:4251] ‏ اس حدیث میں بہت سے احکام ہیں۔

صفحہ نمبر6957

سب سے بہتر تو یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم حق سنا کر اور دعویداروں کو بھی ناراض نہیں ہونے دیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت پر عمل کرتے ہوئے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم ہمارے بھائی اور ہمارے دوست ہو ۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اسی آیت کے ماتحت میں تمہارا بھائی ہوں۔‏“ ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”واللہ!اگر یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کے والد کوئی ایسے ویسے ہی تھے تو بھی یہ ان کی طرف منسوب ہوتے۔‏“ [صحیح بخاری:3508] ‏

حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر اپنی نسبت اپنے باپ کی طرف سے دوسرے کی طرف کرے اس نے کفر کیا ۔ [صحیح بخاری:35080] ‏ اس سے سخت وعید پائی جاتی ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ صحیح نسب سے اپنے آپ کو ہٹانا بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے۔

صفحہ نمبر6958

پھر فرماتا ہے ” جب تم نے اپنے طور پر جتنی طاقت تم میں ہے تحقیق کرکے کسی کو کسی کی طرف نسبت کیا اور فی الحقیقت وہ نسبت غلط ہے تو اس خطا پر تمہاری پکڑ نہیں “۔

چنانچہ خود پروردگار نے ہمیں ایسی دعا تعلیم دی کہ ہم اس کی جناب میں ہیں کہیں «رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا» [2-البقرة:286] ‏ ” اے اللہ! ہماری بھول چوک اور غلطی پر ہمیں نہ پکڑ “۔

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب مسلمانوں نے یہ دعا پڑھی جناب باری عزاسمہ نے فرمایا ” میں نے یہ دعاقبول فرمائی “ ۔ [صحیح مسلم:126] ‏

صحیح بخاری شریف میں ہے جب حاکم اپنی کوشش میں کامیاب ہو جائے اپنے اجتہاد میں صحت کو پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور اگر خطا کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے ۔ [صحیح بخاری:7352] ‏

اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو ان کی خطائیں بھول چوک اور جو کام ان سے زبردستی کرائے جائیں ان سے در گزر فرما لیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:2043، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یہاں بھی یہ فرما کر ارشاد فرمایا کہ ” ہاں جو کام تم قصد قلب سے عمداً کرو وہ بیشک قابل گرفت ہیں “۔ قسموں کے بارے میں بھی یہی حکم ہے اوپر جو حدیث بیان ہوئی کہ نسب بدلنے والا کفر کا مرتکب ہے وہاں بھی یہ لفظ ہیں کہ باوجود جاننے کے ۔ [صحیح بخاری:3508] ‏

آیت قرآن جو اب تلاوتاً منسوخ ہے اس میں تھا «أَنْ لاَ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، أَوْ إِنَّ كُفْرًا بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ» یعنی ” تمہارا اپنے باپ کی طرف نسبت ہٹانا کفر ہے “۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اس میں رجم کی بھی آیت تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی رجم کیا (‏یعنی شادی شدہ زانیوں کو سنگسار کیا) اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا۔ ہم نے قرآن میں یہ آیت بھی پڑھی ہے کہ اپنے باپوں سے اپنا سلسلہ نسب نہ ہٹاؤ یہ کفر ہے۔‏“

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے مجھے تم میری تعریفوں میں اس طرح بڑھا چڑھا نہ دینا جیسے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہوا۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں تو تم مجھے اللہ کا بندہ اور رسول اللہ کہنا ۔ [مسند احمد:47/1:صحیح] ‏ ایک روایت میں صرف ابن مریم ہے۔

اور حدیث میں ہے تین خصلتیں لوگوں میں ہیں جو کفر ہیں، نسب میں طعنہ زنی، میت پر نوحہ، ستاروں سے باران طلبی ۔ [صحیح مسلم:934] ‏

صفحہ نمبر6959

تکمیل ایمان کی ضروری شرط ٭٭

چونکہ رب العزت «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو علم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر خود ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ مہربان ہیں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اپنی جان سے بھی انکا زیادہ اختیار دیا۔ یہ خود اپنے لیے کوئی تجویز نہ کریں بلکہ ہر حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بہ دل و جان قبول کرتے جائیں۔

جیسے فرمایا «‏فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا» [4-النساء:65] ‏، ” تیرے رب کی قسم یہ مومن نہ ہونگے جب تک کہ اپنے آپس کے تمام اختلافات میں تجھے منصف نہ مان لیں اور تیرے تمام تر احکام اور فیصلوں کو دل و جان بہ کشادہ پیشانی قبول نہ کر لیں “۔

صحیح حدیث شریف میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی با ایمان نہیں ہوسکتا، جب تک کہ میں اسے اس کے نفس سے اس کے مال سے اس کی اولاد سے اور دنیا کے کل لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔ [صحیح بخاری:15] ‏

ایک اور صحیح حدیث میں ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تمام جہان سے زیادہ محبوب ہیں لیکن ہاں خود میرے اپنے نفس سے۔‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں عمر! جب تک کہ میں تجھے خود تیرے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں ۔ یہ سن کر جناب عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے ”قسم اللہ کی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب مجھے ہر چیز سے یہاں تک کہ میری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ٹھیک ہے ۔ [صحیح بخاری:6632] ‏

بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تمام مومنوں کا زیادہ حقدار دنیا اور آخرت میں خود ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ میں ہوں۔ اگر تم چاہو تو پڑھ لو «اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا» ‏ [33-الأحزاب:6] ‏ سنو جو مسلمان مال چھوڑ کر مرے اس کا مال تو اس کے وارثوں کا حصہ ہے۔ اور اگر کوئی مر جائے اور اس کے ذمہ قرض ہو یا اس کے چھوٹے چھوٹے بال بچے ہوں تو اس قرض کی ادائیگی کا میں ذمہ دار ہوں اور ان بچوں کی پرورش میرے ذمہ ہے ۔ [صحیح بخاری:2399] ‏

صفحہ نمبر6961

پھر فرماتا ہے ” حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن حرمت اور احترام میں عزت اور اکرام میں بزرگی اور عظام میں تمام مسلمانوں میں ایسی ہیں جیسی خود ان کی اپنی مائیں “۔

ہاں ماں کے اور احکام مثلاً خلوت یا ان کی لڑکیوں اور بہنوں سے نکاح کی حرمت یہاں ثابت نہیں گو بعض علماء نے ان کی بیٹیوں کو بھی مسلمانوں کی بہنیں لکھا ہے جیسے کہ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ نے مختصر میں نصاً فرمایا ہے لیکن یہ عبارت کا اطلاق ہے نہ کہ حکم کا اثبات۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کو جو کسی نہ کسی ام المؤمنین کے بھائی تھے انہیں ماموں کہا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے امام شافعی رحمہ اللہ نے تو کہا ہے کہہ سکتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو المؤمنین بھی کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ یہ خیال رہے کہ ابوالمؤمنین کہنے میں مسلمان عورتیں بھی آ جائیں گی جمع مذکر سالم میں باعتبار تغلیب کے مونث بھی شامل ہے۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ ”نہیں کہہ سکتے۔‏“ امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قولوں میں بھی زیادہ صحیح قول یہی ہے۔

ابی بن کعب اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کی قرأت میں «اُمَّهَاتُهُمْ» کے بعد یہ لفظ ہیں «وَهُوَ اَبٌ لَّهُمْ» یعنی ” آپ ان کے والد ہیں “۔ مذہب شافعی میں بھی ایک قول یہی ہے۔

اور کچھ تائید حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے قائم مقام باپ کے ہوں میں تمہیں تعلیم دے رہا ہوں سنو! تم میں سے جب کوئی پاخانے میں جائے تو قبلہ کی طرف منہ کر کے نہ بیٹھے۔ نہ اپنے داہنے ہاتھ سے ڈھیلے لے نہ داہنے ہاتھ سے استنجا کرے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین ڈھیلے لینے کا حکم دیتے تھے اور گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے کی ممانعت فرماتے تھے ۔ [سنن ابوداود:8،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر6962

دوسرا قول یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو باپ نہ کہا جائے کیونکہ قرآن کریم میں ہے «مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ وَكَان اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا» [33-الأحزاب:40] ‏ ” حضور صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” بہ نسبت عام مومنوں مہاجرین اور انصار کے ورثے کے زیادہ مستحق قرابتدار ہیں “۔ اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار میں جو بھائی چارہ کرایا تھا اسی کے اعتبار سے یہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے اور قسمیں کھا کر ایک دوسروں کے جو حلیف بنے ہوئے تھے وہ بھی آپس میں ورثہ بانٹ لیا کرتے تھے۔ اس کو اس آیت نے منسوخ کر دیا۔

پہلے اگر انصاری مرگیا تو اس کے وارث اس کی قرابت کے لوگ نہیں ہوتے تھے بلکہ مہاجر ہوتے تھے جن کے درمیان اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھائی چارہ کرا دیا تھا۔

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”یہ حکم خاص ہم انصار و مہاجرین کے بارے میں اترا ہے ہم جب مکہ چھوڑ کر مدینے آئے تو ہمارے پاس کچھ مال نہ تھا یہاں آ کر ہم نے انصاریوں سے بھائی چارہ کیا یہ بہترین بھائی ثابت ہوئے یہاں تک کہ ان کے فوت ہونے کے بعد ان کے مال کے وارث بھی ہوتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا بھائی چارہ حضرت خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فلاں کے ساتھ۔ تھا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ایک زرقی شخص کے ساتھ۔ خود میرا سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ۔ یہ زخمی ہوئے اور زخم بھی کاری تھے اگر اس وقت ان کا انتقال ہو جاتا تو میں بھی ان کا وارث بنتا۔ پھر یہ آیت اتری اور میراث کا عام حکم ہمارے لیے بھی ہوگیا۔‏“ [مستدرک حاکم:443/3] ‏

پھر فرماتا ہے ” ورثہ تو ان کا نہیں لیکن ویسے اگر تم اپنے ان مخلص احباب کے ساتھ سلوک کرنا چاہو تو تمہیں اخیتار ہے۔ وصیت کے طور پر کچھ دے دلا سکتے ہو “۔

پھر فرماتا ہے ” اللہ کا یہ حکم پہلے ہی سے اس کتاب میں لکھا ہوا تھا جس میں کوئی ترمیم وتبدیلی نہیں ہوئی “۔ بیچ میں جو بھائی چارے پر ورثہ بٹتا تھا یہ صرف ایک خاص مصلحت کی بنا پر خاص وقت تک کے لیے تھا اب یہ ہٹا دیا گیا اور اصلی حکم دے دیا گیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6963

میثاق انبیاء ٭٭

فرمان ہے کہ ” ان پانچوں اولوالعزم پیغمبروں سے اور عام نبیوں سے سب سے ہم نے عہدو وعدہ لیا کہ وہ میرے دین کی تبلیغ کریں گے اس پر قائم رہیں گے۔ آپس میں ایک دوسرے کی مدد امداد اور تائید کریں گے اور اتفاق واتحاد رکھیں گے “۔

اسی عہد کا ذکر اس آیت میں ہے «وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاق النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ» [3-آل عمران:81] ‏، یعنی ” اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے قول قرار لیا کہ جو کچھ کتاب و حکمت دے کر میں تمہیں بھیجوں پھر تمہارے ساتھ کی چیز کی تصدیق کرنے والا رسول آ جائے تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور اس کی امداد کرنا۔ بولو تمہیں اس کا اقرار ہے؟ اور میرے سامنے اس کا پختہ وعدہ کرتے ہیں؟ سب نے جواب دیا کہ ہاں ہمیں اقرار ہے “۔ جناب باری تعالیٰ نے فرمایا ” بس اب گواہ رہنا اور میں خود بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں “۔ یہاں عام نبیوں کا ذکر کر کے پھر خاص جلیل القدر پیغمبروں کا نام بھی لے دیا۔

اسی طرح ان کے نام اس آیت میں بھی ہیں «شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهٖٓ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰٓى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ» ‏ [42-الشورى:13] ‏، یہاں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر ہے جو زمین پر اللہ کے پہلے پیغمبر تھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے جو سب سے آخری پیغمبر تھے۔ اور ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کا ذکر ہے جو درمیانی پیغمبر تھے۔

ایک لطافت اس میں یہ ہے کہ پہلے پیغمبر آدم علیہ السلام کے بعد کے پیغمبر نوح علیہ السلام کا ذکر کیا اور آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا اور درمیانی پیغمبروں میں سے حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کا ذکر کیا۔

یہاں تو ترتیب یہ رکھی کہ فاتح اور خاتم کا ذکر کر کے بیچ کے نبیوں کا بیان کیا اور اس آیت میں سب سے پہلے خاتم الانیباء کا نام لیا اس لیے کہ سب سے اشرف وافضل آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ پھر یکے بعد دیگرے جس طرح آئے ہیں اسی طرح ترتیب وار بیان کیا اللہ تعالیٰ اپنے تمام نبیوں پر اپنا درود وسلام نازل فرمائے۔

صفحہ نمبر6964

اس آیت کی تفسیر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ پیدائش کے اعتبار سے میں سب نبیوں سے پہلے ہوں اور دنیا میں آنے کے اعتبار سے سب سے آخر میں ہوں پس مجھ سے ابتداء کی ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:661، ] ‏ یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن اس کے ایک راوی سعید بن بشیر ضعیف ہیں۔ اور سند سے یہ مرسل مروی ہے اور یہی مشابہت رکھتی ہےاور بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سب سے زیادہ اللہ کے پسندیدہ پانچ پیغمبر ہیں۔ نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، اور محمد «فَصَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْ اَجْمَعِیْنَ» اور ان میں بھی سب سے بہتر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس کا ایک راوی حمزہ ضعیف ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں جس عہد ومیثاق کا ذکر ہے یہ وہ ہے جو روز ازل میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے تمام انسانوں کو نکال کر لیا تھا۔

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو بلند کیا گیا آپ نے اپنی اولاد کو دیکھا ان میں مالدار مفلس خوبصورت اور ہر طرح کے لوگ دیکھے تو کہا کہ اللہ کیا اچھا ہوتا کہ تو نے ان سب کو برابر ہی رکھا ہوتا اللہ تعالیٰ جل و علا نے فرمایا کہ ” یہ اس لئے ہے کہ میرا شکر ادا کیا جائے “۔ ان میں جو انبیاء کرام علیہم السلام تھے انہیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا وہ روشنی کے مانند نمایاں تھے اور ان پر نور برس رہا تھا ان سے نبوت و رسالت کا ایک اور خاص عہد لیا گیا تھا جس کا بیان اس آیت میں ہے۔

صادقوں سے ان کے صدق کا سوال ہو یعنی ان سے جو احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہنچانے والے تھے۔ ان کی امتوں میں سے جو بھی ان کو نہ مانے اسے سخت عذاب ہوگا۔

اے اللہ! تو گواہ رہ ہماری گواہی ہے ہم دل سے مانتے ہیں کہ بیشک تیرے رسولوں نے تیرا پیغام تیرے بندوں کو بلا کم وکاست پہنچا دیا۔ انہوں نے پوری خیر خواہی اور حق کو صاف طور پر نمایاں طریقے سے واضح کر دیا جس میں کوئی پوشیدگی کوئی شبہ کسی طرح کا شک نہ رہا گو بدنصیب ضدی جھگڑالو لوگوں نے انہیں نہ مانا۔ ہمارا ایمان ہے کہ تیرے رسولوں کی تمام باتیں سچ اور حق ہیں اور جس نے ان کی راہ نہ پکڑی وہ گمراہ اور باطل پر ہے۔

صفحہ نمبر6965

میثاق انبیاء ٭٭

فرمان ہے کہ ” ان پانچوں اولوالعزم پیغمبروں سے اور عام نبیوں سے سب سے ہم نے عہدو وعدہ لیا کہ وہ میرے دین کی تبلیغ کریں گے اس پر قائم رہیں گے۔ آپس میں ایک دوسرے کی مدد امداد اور تائید کریں گے اور اتفاق واتحاد رکھیں گے “۔

اسی عہد کا ذکر اس آیت میں ہے «وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاق النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ» [3-آل عمران:81] ‏، یعنی ” اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے قول قرار لیا کہ جو کچھ کتاب و حکمت دے کر میں تمہیں بھیجوں پھر تمہارے ساتھ کی چیز کی تصدیق کرنے والا رسول آ جائے تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور اس کی امداد کرنا۔ بولو تمہیں اس کا اقرار ہے؟ اور میرے سامنے اس کا پختہ وعدہ کرتے ہیں؟ سب نے جواب دیا کہ ہاں ہمیں اقرار ہے “۔ جناب باری تعالیٰ نے فرمایا ” بس اب گواہ رہنا اور میں خود بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں “۔ یہاں عام نبیوں کا ذکر کر کے پھر خاص جلیل القدر پیغمبروں کا نام بھی لے دیا۔

اسی طرح ان کے نام اس آیت میں بھی ہیں «شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهٖٓ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰٓى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ» ‏ [42-الشورى:13] ‏، یہاں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر ہے جو زمین پر اللہ کے پہلے پیغمبر تھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے جو سب سے آخری پیغمبر تھے۔ اور ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کا ذکر ہے جو درمیانی پیغمبر تھے۔

ایک لطافت اس میں یہ ہے کہ پہلے پیغمبر آدم علیہ السلام کے بعد کے پیغمبر نوح علیہ السلام کا ذکر کیا اور آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا اور درمیانی پیغمبروں میں سے حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کا ذکر کیا۔

یہاں تو ترتیب یہ رکھی کہ فاتح اور خاتم کا ذکر کر کے بیچ کے نبیوں کا بیان کیا اور اس آیت میں سب سے پہلے خاتم الانیباء کا نام لیا اس لیے کہ سب سے اشرف وافضل آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ پھر یکے بعد دیگرے جس طرح آئے ہیں اسی طرح ترتیب وار بیان کیا اللہ تعالیٰ اپنے تمام نبیوں پر اپنا درود وسلام نازل فرمائے۔

صفحہ نمبر6964

اس آیت کی تفسیر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ پیدائش کے اعتبار سے میں سب نبیوں سے پہلے ہوں اور دنیا میں آنے کے اعتبار سے سب سے آخر میں ہوں پس مجھ سے ابتداء کی ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:661، ] ‏ یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن اس کے ایک راوی سعید بن بشیر ضعیف ہیں۔ اور سند سے یہ مرسل مروی ہے اور یہی مشابہت رکھتی ہےاور بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سب سے زیادہ اللہ کے پسندیدہ پانچ پیغمبر ہیں۔ نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، اور محمد «فَصَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْ اَجْمَعِیْنَ» اور ان میں بھی سب سے بہتر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس کا ایک راوی حمزہ ضعیف ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں جس عہد ومیثاق کا ذکر ہے یہ وہ ہے جو روز ازل میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے تمام انسانوں کو نکال کر لیا تھا۔

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو بلند کیا گیا آپ نے اپنی اولاد کو دیکھا ان میں مالدار مفلس خوبصورت اور ہر طرح کے لوگ دیکھے تو کہا کہ اللہ کیا اچھا ہوتا کہ تو نے ان سب کو برابر ہی رکھا ہوتا اللہ تعالیٰ جل و علا نے فرمایا کہ ” یہ اس لئے ہے کہ میرا شکر ادا کیا جائے “۔ ان میں جو انبیاء کرام علیہم السلام تھے انہیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا وہ روشنی کے مانند نمایاں تھے اور ان پر نور برس رہا تھا ان سے نبوت و رسالت کا ایک اور خاص عہد لیا گیا تھا جس کا بیان اس آیت میں ہے۔

صادقوں سے ان کے صدق کا سوال ہو یعنی ان سے جو احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہنچانے والے تھے۔ ان کی امتوں میں سے جو بھی ان کو نہ مانے اسے سخت عذاب ہوگا۔

اے اللہ! تو گواہ رہ ہماری گواہی ہے ہم دل سے مانتے ہیں کہ بیشک تیرے رسولوں نے تیرا پیغام تیرے بندوں کو بلا کم وکاست پہنچا دیا۔ انہوں نے پوری خیر خواہی اور حق کو صاف طور پر نمایاں طریقے سے واضح کر دیا جس میں کوئی پوشیدگی کوئی شبہ کسی طرح کا شک نہ رہا گو بدنصیب ضدی جھگڑالو لوگوں نے انہیں نہ مانا۔ ہمارا ایمان ہے کہ تیرے رسولوں کی تمام باتیں سچ اور حق ہیں اور جس نے ان کی راہ نہ پکڑی وہ گمراہ اور باطل پر ہے۔

صفحہ نمبر6965

غزوئہ خندق اور مسلمانوں کی خستہ حالی ٭٭

جنگ خندق میں جو سنہ ٥ ہجری ماہ شوال میں ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر اپنا فضل و احسان کیا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے۔ جبکہ مشرکین نے پوری طاقت سے اور پورے اتحاد سے مسلمانوں کو مٹا دینے کے ارادے سے زبردست لشکر لے کر حملہ کیا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں جنگ خندق سنہ ٤ ہجری میں ہوئی تھی۔

اس لڑائی کا قصہ یہ ہے کہ بنو نضیر کے یہودی سرداروں نے جن میں سلام بن ابو حقیق، سلام بن مشکم، کنانہ بن ربیع وغیرہ تھے مکے میں آ کر قریشیوں کو جو اول ہی سے تیار حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کرنے پر آمادہ کیا اور ان سے عہد کیا کہ ہم اپنے زیر اثر لوگوں کے ساتھ آپ کی جماعت میں شامل ہیں۔ انہیں آمادہ کر کے یہ لوگ قبیلہ غطفان کے پاس گئے ان سے ساز باز کر کے اپنے ساتھ شامل کر لیا قریشیوں نے بھی ادھر ادھر پھر کر تمام عرب میں آگ لگا کر سب گرے پڑے لوگوں کو بھی ساتھ ملالیا۔ ان سب کا سردار ابوسفیان صخر بن حرب بنا اور غطفان کا سردار عیینہ بن حصن بن بدر مقرر ہوا۔ ان لوگوں نے کوشش کر کے دس ہزار کا لشکر اکٹھا کر لیا اور مدینے کی طرف چڑھ دوڑے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس لشکر کشی کی خبریں پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ مشورہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مدینے شریف کی مشرقی سمت میں خندق یعنی کھائی کھدوائی اس خندق کے کھودنے میں تمام صحابہ مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم شامل تھے اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بہ نفس نفیس اس کے کھودنے اور مٹی ڈھونے میں بھی حصہ لیتے تھے۔ مشرکین کا لشکر بلا مزاحمت مدینے شریف تک پہنچ گیا اور مدینے کے مشرقی حصے میں احد پہاڑ کے متصل اپنا پڑاؤ جمایا۔

صفحہ نمبر6967

یہ تھا مدینے کا نیچا حصہ اوپر کے حصے میں انہوں نے اپنی ایک بڑی بھاری جمعیت بھیج دی جس نے اعالی مدینہ میں لشکر کا پڑاؤ ڈالا اور نیچے اوپر سے مسلمانوں کو محصور کر لیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ کے صحابہ رضی اللہ عنھم کو جو تین ہزار سے نیچے تھے اور بعض روایات میں ہے کہ صرف سات سو تھے لے کر ان کے مقابلے پر آئے۔

سلع پہاڑی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت پر کیا اور دشمنوں کی طرف متوجہ ہو کر فوج کو ترتیب دیا۔ خندق جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھودی اور کھدوائی تھی اس میں پانی وغیرہ نہ تھا وہ صرف ایک گڑھا تھا جو مشرکین کے ریلے کو بیروک آنے نہیں دیتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں اور عورتوں کو مدینے کے ایک محلے میں کر دیا۔

یہودیوں کی ایک جماعت بنو قریظہ مدینے میں تھی مشرقی جانب ان کا محلہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا معاہدہ مضبوط تھا ان کا بھی بڑا گروہ تھا تقریباً آٹھ سو جنگجو لڑنے کے قابل میدان میں موجود تھے مشرکین اور یہود نے ان کے پاس حی بن اخطب نضری کو بھیجا اس نے انہیں بھی شیشے میں اتار کر سبز باغ دکھلا کر اپنی طرف کر لیا اور انہوں نے بھی ٹھیک موقعہ پر مسلمانوں کے ساتھ بد عہدی کی، اور اعلانیہ طور پر صلح توڑ دی۔

باہر سے دس ہزار کا وہ لشکر جو گھیرا ڈالے پڑا ہے اندر سے ان یہودیوں کی بغاوت جو بغلی پھوڑے کی طرح اٹھ کھڑے ہوئے۔ مسلمان بتیس دانتوں میں زبان یا آٹے میں نمک کی طرح ہوگئے۔ یہ کل سات سو آدمی کر ہی کیا سکتے تھے۔ یہ وقت تھا جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے کہ ” آنکھیں پتھرا گئیں دل الٹ گئے طرح طرح کے خیالات آنے لگے۔ جھنجھوڑ دئیے گئے اور سخت امتحان میں مبتلا ہو گئے “۔

مہینہ بھر تک محاصرہ کی یہی تلخ صورت قائم رہی گو مشرکین کی یہ جرأت تو نہیں ہوئی کہ خندق سے پار ہو کر دستی لڑائی لڑتے لیکن ہاں گھیرا ڈالے پڑے رہے اور مسلمانوں کو تنگ کر دیا۔ البتہ عمرو بن عبدود عامری جو عرب کا مشہور شجاع پہلوان اور فن سپہ سالاری میں یکتا تھا ساتھ ہی بہادر جی دار اور قوی تھا ایک مرتبہ ہمت کر کے اپنے ساتھ چند جانباز پہلوانوں کو لے کر خندق سے اپنے گھوڑوں کو گزارلایا۔ یہ حال دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سواروں کی طرف اشارہ کیا لیکن کہا جاتا ہے کہ انہیں تیار نہ پاکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تم اس کے مقابلے پر آ جاؤ آپ رضی اللہ عنہ گئے تھوڑی دیر تک تو دونوں بہادروں میں تلوار چلتی رہی لیکن بالآخر علی رضی اللہ عنہ نے کفر کے اس دیو کو تہہ تیغ کیا ـ جس سے مسلمان بہت خوش ہوئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ فتح ہماری ہے۔

پھر پروردگار نے وہ تندوتیز آندھی بھیجی کہ مشرکین کے تمام خیمے اکھڑے گئے کوئی چیز قرینے سے نہ رہی آگ کا جلانا مشکل ہو گیا۔ کوئی جائے پناہ نظر نہ آئی۔

صفحہ نمبر6968

بالآخر تنگ آ کر نا مرادی سے واپس ہوئے۔ جس کا بیان اس آیت میں ہے۔ جس ہوا کا اس آیت میں ذکر ہے بقول مجاہد رحمۃ اللہ یہ صبا ہے اور اس کی تائید حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے کہ میں صبا ہوا سے مدد دیا گیا ہوں اور قوم عاد کے لوگ تند و تیز ہواؤں سے ہلاک کئے گئے تھے ۔ [صحیح بخاری:4105] ‏

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جنوبی ہوا نے شمالی ہوا سے اس جنگ احزاب میں کہا کہ چل ہم تم جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کریں تو شمالی ہوا نے کہا کہ گرمی رات کو نہیں چلاتی۔ پھر ان پر صبا ہوا بھیجی گئی۔‏“

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مجھے میرے ماموں عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے خندق والی رات سخت جاڑے اور تیز ہوا میں مدینہ شریف بھیجا کہ کھانا اور لحاف لے آؤں۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت مرحمت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ میرے جو صحابی تمہیں ملیں انہیں کہنا کہ میرے پاس چلے آئیں ۔ اب میں چلا ہوائیں زناٹے کی شائیں شائیں چل رہی تھیں۔ مجھے جو مسلمان ملا میں نے اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دیا اور جس نے سنا الٹے پاؤں فوراً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل دیا یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ہوا میری ڈھال کو دھکے دے رہی تھی اور وہ مجھے لگ رہی تھی یہاں تک کہ اس کا لوہا میرے پاؤں پر گرپڑا جسے میں نے نیچے پھینک دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28361:ضعیف] ‏

اس ہوا کے ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرشتے بھی نازل فرمائے تھے جنہوں نے مشرکین کے دل اور سینے خوف اور رعب سے بھر دئیے۔ یہاں تک کہ جتنے سرداران لشکر تھے اپنے ماتحت سپاہیوں کو اپنے پاس بلا بلا کر کہنے لگے نجات کی صورت تلاش کرو، بچاؤ کا انتظام کرو۔ یہ تھا فرشتوں کا ڈالا ہوا ڈر اور رعب اور یہی وہ لشکر ہے جس کا بیان اس آیت میں ہے کہ ” اس لشکر کو تم نے نہیں دیکھا “۔

حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے ایک نوجوان شخص نے جو کوفے کے رہنے والے تھے کہا کہ اے ابوعبداللہ تم بڑے خوش نصبیب ہو کہ تم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے بتاؤ تم کیا کرتے تھے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا واللہ! ہم جان نثاریاں کرتے تھے۔ نوجوان فرمانے لگے سنئے چچا اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو پاتے تو واللہ! آپ کو قدم زمین پر نہ رکھنے دیتے اپنی گردنوں پر اٹھا کر لے جاتے۔

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے بھیتجے لو ایک واقعہ سنو جنگ خندق کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی رات تک نماز پڑھتے رہے۔ فارغ ہو کر دریافت فرمایا کہ کوئی ہے جا کر لشکر کفار کی خبر لائے؟ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے شرط کرتے ہیں کہ وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ کوئی کھڑا نہ ہوا کیونکہ خوف کی بھوک کی اور سردی کی انتہا تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک نماز پڑھتے رہے۔

صفحہ نمبر6969

پھر فرمایا کوئی جو جا کر یہ خبر دے کہ مخالفین نے کیا کیا؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسے مطمئن کرتے ہیں کہ وہ ضرور واپس آئے گا اور میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں میرا رفیق کرے ۔ اب تک بھی کوئی کھڑا نہ ہوا اور کھڑا ہوتا کیسے؟ بھوک کے مارے پیٹ کمر سے لگ رہا تھا سردی کے مارے دانت بج رہے تھے، خوف کے مارے پتے پانی ہو رہے تھے۔

بالآخر میرا نام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی اب تو بے کھڑے ہوئے چارہ نہ تھا۔ فرمانے لگے حذیفہ (‏رضی اللہ عنہ) تو جا اور دیکھ کہ وہ اس وقت کیا کر رہے ہیں دیکھ جب تک میرے پاس واپس نہ پہنچ جائے کوئی نیا کام نہ کرنا ۔ میں نے بہت خوب کہہ کر اپنی راہ لی اور جرأت کے ساتھ مشرکوں میں گھس گیا وہاں جا کر عجیب حال دیکھا کہ دکھائی نہ دینے والے اللہ کے لشکر اپنا کام پھرتی سے کر رہے ہیں۔ چولہوں پر سے دیگیں ہوا نے الٹ دی ہیں۔ خیموں کی چوبیں اکھڑ گئی ہیں، آگ جلا نہیں سکتے۔ کوئی چیز اپنے ٹھکانے پر نہیں رہی۔

اسی وقت ابوسفیان کھڑا ہوا اور با آواز بلند منادی کی کہ اے قریشیوں! اپنے اپنے ساتھی سے ہوشیار ہو جاؤ۔ اپنے ساتھی کو دیکھ بھال لو ایسا نہ ہو کوئی غیر کھڑا ہو۔ میں نے یہ سنتے ہی میرے پاس جو ایک قریشی جوان تھا اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس سے پوچھا تو کون ہے؟ اس نے کہا میں فلاں بن فلاں ہوں۔ میں نے کہا اب ہوشیار رہنا۔

صفحہ نمبر6970

پھر ابوسفیان نے کہا قریشیو اللہ گواہ ہے ہم اس وقت کسی ٹھہرنے کی جگہ پر نہیں ہیں۔ ہمارے مویشی ہمارے اونٹ ہلاک ہو رہے ہیں۔ بنو قریظہ نے ہم سے وعدہ خلافی کی اس نے ہمیں بڑی تکلیف پہنچائی، پھر اس ہوا نے تو ہمیں پریشان کر رکھا ہے ہم پکا کھا نہیں سکتے آگ تک نہیں جلا سکتے خیمے ڈیرے ٹھہر نہیں سکتے۔ میں تو تنگ آ گیا ہوں اور میں نے تو ارادہ کر لیا ہے کہ واپس ہو جاؤں پس میں تم سب کو حکم دیتا ہوں کہ واپس چلو۔ اتنا کہتے ہی اپنے اونٹ پر جو زانوں بندھا ہوا بیٹھا تھا چڑھ گیا اور اسے مارا وہ تین پاؤں سے ہی کھڑا ہو گیا پھر اس کا پاؤں کھولا۔

اس وقت ایسا اچھا موقع تھا کہ اگر میں چاہتا ایک تیر میں ہی ابوسفیان کا کام تمام کر دیتا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرما دیا تھا کہ کوئی نیا کام نہ کرنا اس لیے میں نے اپنے دل کو روک لیا۔ اب میں واپس لوٹا اور اپنے لشکر میں آ گیا جب میں پہنچا تو میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر کو لپیٹے ہوئے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی صاحبہ کی تھی نماز میں مشغول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کراپنے دونوں پیروں کے درمیان بٹھالیا اور چادر مجھے بھی اڑھا دی۔ پھر رکوع اور سجدہ کیا اور میں وہیں وہی چادر اوڑھے بیٹھا رہا۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے سارا واقعہ بیان کیا۔ قریشیوں کے واپس لوٹ جانے کی خبر جب قبیلہ غطفان کو پہنچی تو انہوں نے بھی سامان باندھا اور واپس لوٹ گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28362:] ‏

صفحہ نمبر6971

اور روایت میں سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب میں چلا تو باوجود کڑاکے کی سخت سردی کے قسم اللہ کی مجھے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کسی گرم حمام میں ہوں۔‏“ اس میں یہ بھی ہے کہ جب میں لشکر کفار میں پہنچا ہوں اس وقت ابوسفیان آگ سلگائے ہوئے تاپ رہا تھا میں نے اسے دیکھ کر اپنا تیر کمان پر چڑھالیا اور چاہتا تھا کہ چلادوں اور بالکل زد میں تھا ناممکن تھا کہ میر انشانہ خالی جائے لیکن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آ گیا کہ کوئی ایسی حرکت نہ کرنا کہ وہ چوکنے ہو کر بھڑک جائیں ، تو میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔

جب میں واپس آیا اس وقت بھی مجھے کوئی سردی محسوس نہ ہوئی بلکہ یہ معلوم ہو رہا تھا کہ گویا میں حمام میں چل رہا ہوں۔ ہاں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا بڑے زور کی سردی لگنے لگی اور میں کپکپانے لگا توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مجھے اوڑھادی۔ میں جو اوڑھ کر لیٹا تو مجھے نیند آگئی اور صبح تک پڑا سوتا رہا صبح خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے یہ کہہ کر جگایا کہ اے سونے والے بیدار ہو جا ۔ [صحیح مسلم:1788] ‏

اور روایت میں ہے کہ جب اس تابعی رحمہ اللہ نے کہا کہ ”کاش ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو پاتے“، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا ”کاش! کہ تم جیسا ایمان ہمیں نصیب ہو تاکہ باوجود نہ دیکھنے کے پورا اور پختہ عقیدہ رکھتے ہو۔ برادر زادے جو تمنا کرتے ہو یہ تمنا ہی ہے نہ جانے تم ہوتے تو کیا کرتے؟ ہم پر تو ایسے کٹھن وقت آئے ہیں۔‏“ یہ کہہ کہ پھر آپ نے مندرجہ بالا خندق کی رات کا واقعہ بیان کیا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ ”ہوا جھڑی اور آندھی کے ساتھ بارش بھی تھی۔‏“ [دلائل النبوۃ للبیهقی:454/3:صحیح] ‏

صفحہ نمبر6972

اور روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے واقعات کو بیان فرما رہے تھے جو اہل مجلس نے کہا کہ اگر ہم اس وقت موجود ہوتے تو یوں اور یوں کرتے اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ بیان فرما دیا کہ باہر سے تو دس ہزار کا لشکر گھیرے ہوئے ہے اندر سے بنو قریظہ کے آٹھ سو یہودی بگڑے ہوئے ہیں بال بچے اور عورتیں مدینے میں ہیں خطرہ لگا ہوا ہے اگر بنو قریظہ نے اس طرف کا رخ کیا تو ایک ساعت میں ہی عورتوں بچوں کا فیصلہ کر دیں گے۔

واللہ! اس رات جیسی خوف وہراس کی حالت کبھی ہم پر کبھی نہیں گزری۔ پھر وہ ہوائیں چلتی ہیں، آندھیاں اٹھتی ہیں، اندھیرا چھا جاتا ہے، کڑک گرج اور بجلی ہوتی ہے کہ العظمتہ اللہ۔ ساتھی کو دیکھنا تو کہاں اپنی انگلیاں بھی نظر نہیں آتی تھیں۔ جو منافق ہمارے ساتھ تھے وہ ایک ایک ہو کر یہ بہانا بنا کر ہمارے بال بچے اور عورتیں وہاں ہیں اور گھر کا نگہبان کوئی نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے آ آ کر اجازت چاہنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی ایک کو نہ روکا جس نے کہا کہ میں جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شوق سے جاؤ ۔

وہ ایک ایک ہو کر سرکنے لگے اور ہم صرف تین سو کے قریب رہ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اب تشریف لائے ایک ایک کو دیکھا میری عجیب حالت تھی نہ میرے پاس دشمن سے بچنے کے لیے کوئی آلہ تھا نہ سردی سے محفوظ رہنے کے لیے کوئی کپڑا تھا۔ صرف میری بیوی کی ایک چھوٹی سی چادر تھی جو میرے گھٹنوں تک بھی نہیں پہنچتی تھی۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس پہنچے اس وقت میں اپنے گھٹنوں میں سر ڈالے ہوئے دبک کر بیٹھا ہوا کپکپارہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہیں؟ میں نے کہا حذیفہ۔ فرمایا: حذیفہ سن! واللہ مجھ پر تو زمین تنگ آگئی کہ کہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کھڑا نہ کریں میری تو درگت ہو رہی ہے لیکن کرتا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سن رہا ہوں ارشاد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دشمنوں میں ایک نئی بات ہونے والی ہے جاؤ ان کی خبر لاؤ ۔

صفحہ نمبر6973

واللہ اس وقت مجھ سے زیادہ نہ تو کسی کو خوف تھا نہ گھبراہٹ تھی نہ سردی تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سنتے ہی کھڑا ہو گیا اور چلنے لگا تو میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے دعا کر رہے ہیں کہ اے اللہ اس کے آگے سے پیچھے سے دائیں سے بائیں سے اوپر سے نیچے سے اس کی حفاظت کر ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کے ساتھ ہی میں نے دیکھا کہ کسی قسم کا خوف ڈر دہشت میرے دل میں تھی ہی نہیں۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دے کر فرمایا: دیکھو حذیفہ وہاں جا کر میرے پاس واپس آنے تک کوئی نئی بات نہ کرنا ۔

اس روایت میں یہ بھی ہے کہ میں ابوسفیان کو اس سے پہلے پہچانتا نہ تھا میں گیا تو وہاں یہی آوازیں لگ رہی تھیں کہ چلو کوچ کرو واپس چلو۔ ایک عجیب بات میں نے یہ بھی دیکھی کہ وہ خطرناک ہوا جو دیگیں الٹ دیتی تھی وہ صرف ان کے لشکر کے احاطہٰ تک ہی تھی واللہ اس سے ایک بالشت بھر باہر نہ تھی۔ میں نے دیکھا کہ پتھر اڑ اڑ کر ان پر گرتے تھے۔ جب میں واپس چلا ہوں تو میں نے دیکھا کہ تقریباً بیس سوار ہیں جو عمامے باندھے ہوئے ہیں انہوں نے مجھ سے فرمایا جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفایت کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو مات دی۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:450/3:حسن] ‏

اس میں یہ بھی بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت میں داخل تھا کہ جب کبھی کوئی گھبراہٹ اور دقت کا وقت ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کر دیتے ۔ [سنن ابوداود:1319، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ جب میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچائی اسی وقت یہ آیت اتری۔

پس آیت میں نیچے کی طرف سے آنے والوں سے مراد بنو قریظہ ہیں۔ شدت خوف اور سخت گھبراہٹ سے آنکھیں الٹ گئی تھیں اور دل حلقوم تک پہنچ گئے تھے اور طرح طرح کے گمان ہو رہے تھے یہاں تک کہ بعض منافقوں نے سمجھ لیا کہ اب کی لڑائی میں کافر غالب آ جائیں گے عام منافقوں کا تو پوچھنا ہی کیا ہے؟ معتب بن قشیر کہنے لگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو ہمیں کہہ رہے تھے کہ ہم قیصر وکسریٰ کے خزانوں کے مالک بنیں گے اور یہاں حالت یہ ہے کہ پاخانے کو جانا بھی دو بھر ہو رہا ہے۔ یہ مختلف گمان مختلف لوگوں کے تھے مسلمان تو یقین کرتے تھے کہ غلبہ ہمارا ہی ہے۔

جیسا کہ فرمان ہے «وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ ۡ وَمَا زَادَهُمْ اِلَّآ اِيْمَانًا وَّتَسْلِيْمًا» ‏ [33-الأحزاب:22] ‏، لیکن منافقین کہتے تھے کہ اب کی مرتبہ سارے مسلمان مع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دئیے جائیں گے۔

صحابہ رضی اللہ عنہم نے عین اس گھبراہٹ اور پریشانی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہمیں اس سے بچاؤ کی کوئی تلقین کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا مانگو «اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا» اللہ ہماری پردہ پوشی کر اللہ ہمارے خوف ڈر کو امن وامان سے بدل دے ۔ ادھر مسلمانوں کی یہ دعائیں بلند ہوئیں ادھر اللہ کا لشکر ہواؤں کی شکل میں آیا اور کافروں کا تیا پانچا کر دیا، «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ [مسند احمد:3/3:اسنادہ ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6974

غزوئہ خندق اور مسلمانوں کی خستہ حالی ٭٭

جنگ خندق میں جو سنہ ٥ ہجری ماہ شوال میں ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر اپنا فضل و احسان کیا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے۔ جبکہ مشرکین نے پوری طاقت سے اور پورے اتحاد سے مسلمانوں کو مٹا دینے کے ارادے سے زبردست لشکر لے کر حملہ کیا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں جنگ خندق سنہ ٤ ہجری میں ہوئی تھی۔

اس لڑائی کا قصہ یہ ہے کہ بنو نضیر کے یہودی سرداروں نے جن میں سلام بن ابو حقیق، سلام بن مشکم، کنانہ بن ربیع وغیرہ تھے مکے میں آ کر قریشیوں کو جو اول ہی سے تیار حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کرنے پر آمادہ کیا اور ان سے عہد کیا کہ ہم اپنے زیر اثر لوگوں کے ساتھ آپ کی جماعت میں شامل ہیں۔ انہیں آمادہ کر کے یہ لوگ قبیلہ غطفان کے پاس گئے ان سے ساز باز کر کے اپنے ساتھ شامل کر لیا قریشیوں نے بھی ادھر ادھر پھر کر تمام عرب میں آگ لگا کر سب گرے پڑے لوگوں کو بھی ساتھ ملالیا۔ ان سب کا سردار ابوسفیان صخر بن حرب بنا اور غطفان کا سردار عیینہ بن حصن بن بدر مقرر ہوا۔ ان لوگوں نے کوشش کر کے دس ہزار کا لشکر اکٹھا کر لیا اور مدینے کی طرف چڑھ دوڑے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس لشکر کشی کی خبریں پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ مشورہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مدینے شریف کی مشرقی سمت میں خندق یعنی کھائی کھدوائی اس خندق کے کھودنے میں تمام صحابہ مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم شامل تھے اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بہ نفس نفیس اس کے کھودنے اور مٹی ڈھونے میں بھی حصہ لیتے تھے۔ مشرکین کا لشکر بلا مزاحمت مدینے شریف تک پہنچ گیا اور مدینے کے مشرقی حصے میں احد پہاڑ کے متصل اپنا پڑاؤ جمایا۔

صفحہ نمبر6967

یہ تھا مدینے کا نیچا حصہ اوپر کے حصے میں انہوں نے اپنی ایک بڑی بھاری جمعیت بھیج دی جس نے اعالی مدینہ میں لشکر کا پڑاؤ ڈالا اور نیچے اوپر سے مسلمانوں کو محصور کر لیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ کے صحابہ رضی اللہ عنھم کو جو تین ہزار سے نیچے تھے اور بعض روایات میں ہے کہ صرف سات سو تھے لے کر ان کے مقابلے پر آئے۔

سلع پہاڑی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت پر کیا اور دشمنوں کی طرف متوجہ ہو کر فوج کو ترتیب دیا۔ خندق جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھودی اور کھدوائی تھی اس میں پانی وغیرہ نہ تھا وہ صرف ایک گڑھا تھا جو مشرکین کے ریلے کو بیروک آنے نہیں دیتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں اور عورتوں کو مدینے کے ایک محلے میں کر دیا۔

یہودیوں کی ایک جماعت بنو قریظہ مدینے میں تھی مشرقی جانب ان کا محلہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا معاہدہ مضبوط تھا ان کا بھی بڑا گروہ تھا تقریباً آٹھ سو جنگجو لڑنے کے قابل میدان میں موجود تھے مشرکین اور یہود نے ان کے پاس حی بن اخطب نضری کو بھیجا اس نے انہیں بھی شیشے میں اتار کر سبز باغ دکھلا کر اپنی طرف کر لیا اور انہوں نے بھی ٹھیک موقعہ پر مسلمانوں کے ساتھ بد عہدی کی، اور اعلانیہ طور پر صلح توڑ دی۔

باہر سے دس ہزار کا وہ لشکر جو گھیرا ڈالے پڑا ہے اندر سے ان یہودیوں کی بغاوت جو بغلی پھوڑے کی طرح اٹھ کھڑے ہوئے۔ مسلمان بتیس دانتوں میں زبان یا آٹے میں نمک کی طرح ہوگئے۔ یہ کل سات سو آدمی کر ہی کیا سکتے تھے۔ یہ وقت تھا جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے کہ ” آنکھیں پتھرا گئیں دل الٹ گئے طرح طرح کے خیالات آنے لگے۔ جھنجھوڑ دئیے گئے اور سخت امتحان میں مبتلا ہو گئے “۔

مہینہ بھر تک محاصرہ کی یہی تلخ صورت قائم رہی گو مشرکین کی یہ جرأت تو نہیں ہوئی کہ خندق سے پار ہو کر دستی لڑائی لڑتے لیکن ہاں گھیرا ڈالے پڑے رہے اور مسلمانوں کو تنگ کر دیا۔ البتہ عمرو بن عبدود عامری جو عرب کا مشہور شجاع پہلوان اور فن سپہ سالاری میں یکتا تھا ساتھ ہی بہادر جی دار اور قوی تھا ایک مرتبہ ہمت کر کے اپنے ساتھ چند جانباز پہلوانوں کو لے کر خندق سے اپنے گھوڑوں کو گزارلایا۔ یہ حال دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سواروں کی طرف اشارہ کیا لیکن کہا جاتا ہے کہ انہیں تیار نہ پاکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تم اس کے مقابلے پر آ جاؤ آپ رضی اللہ عنہ گئے تھوڑی دیر تک تو دونوں بہادروں میں تلوار چلتی رہی لیکن بالآخر علی رضی اللہ عنہ نے کفر کے اس دیو کو تہہ تیغ کیا ـ جس سے مسلمان بہت خوش ہوئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ فتح ہماری ہے۔

پھر پروردگار نے وہ تندوتیز آندھی بھیجی کہ مشرکین کے تمام خیمے اکھڑے گئے کوئی چیز قرینے سے نہ رہی آگ کا جلانا مشکل ہو گیا۔ کوئی جائے پناہ نظر نہ آئی۔

صفحہ نمبر6968

بالآخر تنگ آ کر نا مرادی سے واپس ہوئے۔ جس کا بیان اس آیت میں ہے۔ جس ہوا کا اس آیت میں ذکر ہے بقول مجاہد رحمۃ اللہ یہ صبا ہے اور اس کی تائید حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے کہ میں صبا ہوا سے مدد دیا گیا ہوں اور قوم عاد کے لوگ تند و تیز ہواؤں سے ہلاک کئے گئے تھے ۔ [صحیح بخاری:4105] ‏

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جنوبی ہوا نے شمالی ہوا سے اس جنگ احزاب میں کہا کہ چل ہم تم جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کریں تو شمالی ہوا نے کہا کہ گرمی رات کو نہیں چلاتی۔ پھر ان پر صبا ہوا بھیجی گئی۔‏“

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مجھے میرے ماموں عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے خندق والی رات سخت جاڑے اور تیز ہوا میں مدینہ شریف بھیجا کہ کھانا اور لحاف لے آؤں۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت مرحمت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ میرے جو صحابی تمہیں ملیں انہیں کہنا کہ میرے پاس چلے آئیں ۔ اب میں چلا ہوائیں زناٹے کی شائیں شائیں چل رہی تھیں۔ مجھے جو مسلمان ملا میں نے اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دیا اور جس نے سنا الٹے پاؤں فوراً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل دیا یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ہوا میری ڈھال کو دھکے دے رہی تھی اور وہ مجھے لگ رہی تھی یہاں تک کہ اس کا لوہا میرے پاؤں پر گرپڑا جسے میں نے نیچے پھینک دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28361:ضعیف] ‏

اس ہوا کے ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرشتے بھی نازل فرمائے تھے جنہوں نے مشرکین کے دل اور سینے خوف اور رعب سے بھر دئیے۔ یہاں تک کہ جتنے سرداران لشکر تھے اپنے ماتحت سپاہیوں کو اپنے پاس بلا بلا کر کہنے لگے نجات کی صورت تلاش کرو، بچاؤ کا انتظام کرو۔ یہ تھا فرشتوں کا ڈالا ہوا ڈر اور رعب اور یہی وہ لشکر ہے جس کا بیان اس آیت میں ہے کہ ” اس لشکر کو تم نے نہیں دیکھا “۔

حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے ایک نوجوان شخص نے جو کوفے کے رہنے والے تھے کہا کہ اے ابوعبداللہ تم بڑے خوش نصبیب ہو کہ تم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے بتاؤ تم کیا کرتے تھے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا واللہ! ہم جان نثاریاں کرتے تھے۔ نوجوان فرمانے لگے سنئے چچا اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو پاتے تو واللہ! آپ کو قدم زمین پر نہ رکھنے دیتے اپنی گردنوں پر اٹھا کر لے جاتے۔

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے بھیتجے لو ایک واقعہ سنو جنگ خندق کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی رات تک نماز پڑھتے رہے۔ فارغ ہو کر دریافت فرمایا کہ کوئی ہے جا کر لشکر کفار کی خبر لائے؟ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے شرط کرتے ہیں کہ وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ کوئی کھڑا نہ ہوا کیونکہ خوف کی بھوک کی اور سردی کی انتہا تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک نماز پڑھتے رہے۔

صفحہ نمبر6969

پھر فرمایا کوئی جو جا کر یہ خبر دے کہ مخالفین نے کیا کیا؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسے مطمئن کرتے ہیں کہ وہ ضرور واپس آئے گا اور میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں میرا رفیق کرے ۔ اب تک بھی کوئی کھڑا نہ ہوا اور کھڑا ہوتا کیسے؟ بھوک کے مارے پیٹ کمر سے لگ رہا تھا سردی کے مارے دانت بج رہے تھے، خوف کے مارے پتے پانی ہو رہے تھے۔

بالآخر میرا نام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی اب تو بے کھڑے ہوئے چارہ نہ تھا۔ فرمانے لگے حذیفہ (‏رضی اللہ عنہ) تو جا اور دیکھ کہ وہ اس وقت کیا کر رہے ہیں دیکھ جب تک میرے پاس واپس نہ پہنچ جائے کوئی نیا کام نہ کرنا ۔ میں نے بہت خوب کہہ کر اپنی راہ لی اور جرأت کے ساتھ مشرکوں میں گھس گیا وہاں جا کر عجیب حال دیکھا کہ دکھائی نہ دینے والے اللہ کے لشکر اپنا کام پھرتی سے کر رہے ہیں۔ چولہوں پر سے دیگیں ہوا نے الٹ دی ہیں۔ خیموں کی چوبیں اکھڑ گئی ہیں، آگ جلا نہیں سکتے۔ کوئی چیز اپنے ٹھکانے پر نہیں رہی۔

اسی وقت ابوسفیان کھڑا ہوا اور با آواز بلند منادی کی کہ اے قریشیوں! اپنے اپنے ساتھی سے ہوشیار ہو جاؤ۔ اپنے ساتھی کو دیکھ بھال لو ایسا نہ ہو کوئی غیر کھڑا ہو۔ میں نے یہ سنتے ہی میرے پاس جو ایک قریشی جوان تھا اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس سے پوچھا تو کون ہے؟ اس نے کہا میں فلاں بن فلاں ہوں۔ میں نے کہا اب ہوشیار رہنا۔

صفحہ نمبر6970

پھر ابوسفیان نے کہا قریشیو اللہ گواہ ہے ہم اس وقت کسی ٹھہرنے کی جگہ پر نہیں ہیں۔ ہمارے مویشی ہمارے اونٹ ہلاک ہو رہے ہیں۔ بنو قریظہ نے ہم سے وعدہ خلافی کی اس نے ہمیں بڑی تکلیف پہنچائی، پھر اس ہوا نے تو ہمیں پریشان کر رکھا ہے ہم پکا کھا نہیں سکتے آگ تک نہیں جلا سکتے خیمے ڈیرے ٹھہر نہیں سکتے۔ میں تو تنگ آ گیا ہوں اور میں نے تو ارادہ کر لیا ہے کہ واپس ہو جاؤں پس میں تم سب کو حکم دیتا ہوں کہ واپس چلو۔ اتنا کہتے ہی اپنے اونٹ پر جو زانوں بندھا ہوا بیٹھا تھا چڑھ گیا اور اسے مارا وہ تین پاؤں سے ہی کھڑا ہو گیا پھر اس کا پاؤں کھولا۔

اس وقت ایسا اچھا موقع تھا کہ اگر میں چاہتا ایک تیر میں ہی ابوسفیان کا کام تمام کر دیتا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرما دیا تھا کہ کوئی نیا کام نہ کرنا اس لیے میں نے اپنے دل کو روک لیا۔ اب میں واپس لوٹا اور اپنے لشکر میں آ گیا جب میں پہنچا تو میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر کو لپیٹے ہوئے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی صاحبہ کی تھی نماز میں مشغول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کراپنے دونوں پیروں کے درمیان بٹھالیا اور چادر مجھے بھی اڑھا دی۔ پھر رکوع اور سجدہ کیا اور میں وہیں وہی چادر اوڑھے بیٹھا رہا۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے سارا واقعہ بیان کیا۔ قریشیوں کے واپس لوٹ جانے کی خبر جب قبیلہ غطفان کو پہنچی تو انہوں نے بھی سامان باندھا اور واپس لوٹ گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28362:] ‏

صفحہ نمبر6971

اور روایت میں سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب میں چلا تو باوجود کڑاکے کی سخت سردی کے قسم اللہ کی مجھے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کسی گرم حمام میں ہوں۔‏“ اس میں یہ بھی ہے کہ جب میں لشکر کفار میں پہنچا ہوں اس وقت ابوسفیان آگ سلگائے ہوئے تاپ رہا تھا میں نے اسے دیکھ کر اپنا تیر کمان پر چڑھالیا اور چاہتا تھا کہ چلادوں اور بالکل زد میں تھا ناممکن تھا کہ میر انشانہ خالی جائے لیکن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آ گیا کہ کوئی ایسی حرکت نہ کرنا کہ وہ چوکنے ہو کر بھڑک جائیں ، تو میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔

جب میں واپس آیا اس وقت بھی مجھے کوئی سردی محسوس نہ ہوئی بلکہ یہ معلوم ہو رہا تھا کہ گویا میں حمام میں چل رہا ہوں۔ ہاں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا بڑے زور کی سردی لگنے لگی اور میں کپکپانے لگا توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مجھے اوڑھادی۔ میں جو اوڑھ کر لیٹا تو مجھے نیند آگئی اور صبح تک پڑا سوتا رہا صبح خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے یہ کہہ کر جگایا کہ اے سونے والے بیدار ہو جا ۔ [صحیح مسلم:1788] ‏

اور روایت میں ہے کہ جب اس تابعی رحمہ اللہ نے کہا کہ ”کاش ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو پاتے“، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا ”کاش! کہ تم جیسا ایمان ہمیں نصیب ہو تاکہ باوجود نہ دیکھنے کے پورا اور پختہ عقیدہ رکھتے ہو۔ برادر زادے جو تمنا کرتے ہو یہ تمنا ہی ہے نہ جانے تم ہوتے تو کیا کرتے؟ ہم پر تو ایسے کٹھن وقت آئے ہیں۔‏“ یہ کہہ کہ پھر آپ نے مندرجہ بالا خندق کی رات کا واقعہ بیان کیا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ ”ہوا جھڑی اور آندھی کے ساتھ بارش بھی تھی۔‏“ [دلائل النبوۃ للبیهقی:454/3:صحیح] ‏

صفحہ نمبر6972

اور روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے واقعات کو بیان فرما رہے تھے جو اہل مجلس نے کہا کہ اگر ہم اس وقت موجود ہوتے تو یوں اور یوں کرتے اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ بیان فرما دیا کہ باہر سے تو دس ہزار کا لشکر گھیرے ہوئے ہے اندر سے بنو قریظہ کے آٹھ سو یہودی بگڑے ہوئے ہیں بال بچے اور عورتیں مدینے میں ہیں خطرہ لگا ہوا ہے اگر بنو قریظہ نے اس طرف کا رخ کیا تو ایک ساعت میں ہی عورتوں بچوں کا فیصلہ کر دیں گے۔

واللہ! اس رات جیسی خوف وہراس کی حالت کبھی ہم پر کبھی نہیں گزری۔ پھر وہ ہوائیں چلتی ہیں، آندھیاں اٹھتی ہیں، اندھیرا چھا جاتا ہے، کڑک گرج اور بجلی ہوتی ہے کہ العظمتہ اللہ۔ ساتھی کو دیکھنا تو کہاں اپنی انگلیاں بھی نظر نہیں آتی تھیں۔ جو منافق ہمارے ساتھ تھے وہ ایک ایک ہو کر یہ بہانا بنا کر ہمارے بال بچے اور عورتیں وہاں ہیں اور گھر کا نگہبان کوئی نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے آ آ کر اجازت چاہنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی ایک کو نہ روکا جس نے کہا کہ میں جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شوق سے جاؤ ۔

وہ ایک ایک ہو کر سرکنے لگے اور ہم صرف تین سو کے قریب رہ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اب تشریف لائے ایک ایک کو دیکھا میری عجیب حالت تھی نہ میرے پاس دشمن سے بچنے کے لیے کوئی آلہ تھا نہ سردی سے محفوظ رہنے کے لیے کوئی کپڑا تھا۔ صرف میری بیوی کی ایک چھوٹی سی چادر تھی جو میرے گھٹنوں تک بھی نہیں پہنچتی تھی۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس پہنچے اس وقت میں اپنے گھٹنوں میں سر ڈالے ہوئے دبک کر بیٹھا ہوا کپکپارہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہیں؟ میں نے کہا حذیفہ۔ فرمایا: حذیفہ سن! واللہ مجھ پر تو زمین تنگ آگئی کہ کہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کھڑا نہ کریں میری تو درگت ہو رہی ہے لیکن کرتا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سن رہا ہوں ارشاد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دشمنوں میں ایک نئی بات ہونے والی ہے جاؤ ان کی خبر لاؤ ۔

صفحہ نمبر6973

واللہ اس وقت مجھ سے زیادہ نہ تو کسی کو خوف تھا نہ گھبراہٹ تھی نہ سردی تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سنتے ہی کھڑا ہو گیا اور چلنے لگا تو میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے دعا کر رہے ہیں کہ اے اللہ اس کے آگے سے پیچھے سے دائیں سے بائیں سے اوپر سے نیچے سے اس کی حفاظت کر ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کے ساتھ ہی میں نے دیکھا کہ کسی قسم کا خوف ڈر دہشت میرے دل میں تھی ہی نہیں۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دے کر فرمایا: دیکھو حذیفہ وہاں جا کر میرے پاس واپس آنے تک کوئی نئی بات نہ کرنا ۔

اس روایت میں یہ بھی ہے کہ میں ابوسفیان کو اس سے پہلے پہچانتا نہ تھا میں گیا تو وہاں یہی آوازیں لگ رہی تھیں کہ چلو کوچ کرو واپس چلو۔ ایک عجیب بات میں نے یہ بھی دیکھی کہ وہ خطرناک ہوا جو دیگیں الٹ دیتی تھی وہ صرف ان کے لشکر کے احاطہٰ تک ہی تھی واللہ اس سے ایک بالشت بھر باہر نہ تھی۔ میں نے دیکھا کہ پتھر اڑ اڑ کر ان پر گرتے تھے۔ جب میں واپس چلا ہوں تو میں نے دیکھا کہ تقریباً بیس سوار ہیں جو عمامے باندھے ہوئے ہیں انہوں نے مجھ سے فرمایا جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفایت کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو مات دی۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:450/3:حسن] ‏

اس میں یہ بھی بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت میں داخل تھا کہ جب کبھی کوئی گھبراہٹ اور دقت کا وقت ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کر دیتے ۔ [سنن ابوداود:1319، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ جب میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچائی اسی وقت یہ آیت اتری۔

پس آیت میں نیچے کی طرف سے آنے والوں سے مراد بنو قریظہ ہیں۔ شدت خوف اور سخت گھبراہٹ سے آنکھیں الٹ گئی تھیں اور دل حلقوم تک پہنچ گئے تھے اور طرح طرح کے گمان ہو رہے تھے یہاں تک کہ بعض منافقوں نے سمجھ لیا کہ اب کی لڑائی میں کافر غالب آ جائیں گے عام منافقوں کا تو پوچھنا ہی کیا ہے؟ معتب بن قشیر کہنے لگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو ہمیں کہہ رہے تھے کہ ہم قیصر وکسریٰ کے خزانوں کے مالک بنیں گے اور یہاں حالت یہ ہے کہ پاخانے کو جانا بھی دو بھر ہو رہا ہے۔ یہ مختلف گمان مختلف لوگوں کے تھے مسلمان تو یقین کرتے تھے کہ غلبہ ہمارا ہی ہے۔

جیسا کہ فرمان ہے «وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ ۡ وَمَا زَادَهُمْ اِلَّآ اِيْمَانًا وَّتَسْلِيْمًا» ‏ [33-الأحزاب:22] ‏، لیکن منافقین کہتے تھے کہ اب کی مرتبہ سارے مسلمان مع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دئیے جائیں گے۔

صحابہ رضی اللہ عنہم نے عین اس گھبراہٹ اور پریشانی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہمیں اس سے بچاؤ کی کوئی تلقین کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا مانگو «اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا» اللہ ہماری پردہ پوشی کر اللہ ہمارے خوف ڈر کو امن وامان سے بدل دے ۔ ادھر مسلمانوں کی یہ دعائیں بلند ہوئیں ادھر اللہ کا لشکر ہواؤں کی شکل میں آیا اور کافروں کا تیا پانچا کر دیا، «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ [مسند احمد:3/3:اسنادہ ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6974

منافقوں کا فرار ٭٭

اس گھبراہٹ اور پریشانی کا حال بیان ہو رہا ہے جو جنگ احزاب کے موقعہ پر مسلمانوں کی تھی کہ باہر سے دشمن اپنی پوری قوت اور کافی لشکر سے گھیرا ڈالے کھڑا ہے۔ اندرون شہر میں بغاوت کی آگ بھڑکی ہوئی ہے یہودیوں نے دفعۃً صلح توڑ کر بے چینی کی باتیں بنا رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ بس اللہ کے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدے دیکھ لیے۔ کچھ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کے کان میں صور پھونک رہے ہیں کہ میاں پاگل ہوئے ہو؟ دیکھ نہیں رہے دو گھڑی میں نقشہ پلٹنے والا ہے۔ بھاگ چلو لوٹو لوٹو واپس چلو۔

یثرب سے مراد مدینہ ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ مجھے خواب میں تمہاری ہجرت کی جگہ دکھائی گئی ہے۔ جو دو سنگلاخ میدانوں کے درمیان ہے پہلے تو میرا خیال ہوا تھا کہ یہ ہجر ہے لیکن نہیں وہ جگہ یثرب ہے ۔ [صحیح بخاری:3622] ‏ اور روایت میں ہے کہ وہ جگہ مدینہ ہے ۔

صفحہ نمبر6976

البتہ یہ خیال رہے کہ ایک ضعیف حدیث میں ہے جو مدینے کو یثرب کہے وہ استغفار کر لے۔ مدینہ تو طابہ ہے، وہ طابہ ہے ۔ [مسند احمد:285/4:ضعیف] ‏ یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہے اور اس کی اسناد میں ضعف ہے۔

کہا گیا ہے کہ عمالیق میں سے جو شخص یہاں آ کر ٹھہرا تھا چونکہ اس کا نام یثرب بن عبید بن مہلا بیل بن عوص بن عملاق بن لاد بن آدم بن سام بن نوح تھا اس لیے اس شہر کو بھی اسی کے نام سے مشہور کیا گیا۔ یہ بھی قول ہے کہ تورات شریف میں اس کے گیارہ نام آئے ہیں۔ مدینہ، طابہ، جلیلہ، جابرہ، محبہ، محبوبہ، قاصمہ، مجبورہ، عدراد، مرحومہ۔ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم تورات میں یہ عبادت پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ شریف سے فرمایا اے طیبہ اور اے طابہ اور اے مسکینہ خزانوں میں مبتلا نہ ہو تمام بستیوں پر تیرا درجہ بلند ہوگا۔ کچھ لوگ تو اس موقعۂ خندق پر کہنے لگے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہرنے کی جگہ نہیں اپنے گھروں کو لوٹ چلو۔ بنو حارثہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھروں میں چوری ہونے کا خطرہ ہے وہ خالی پڑے ہیں ہمیں واپس جانے کی اجازت ملنی چاہیئے۔ اوس بن قینطی نے بھی یہی کہا تھا کہ ہمارے گھروں میں دشمن کے گھس جانے کا اندیشہ ہے ہمیں جانے کی اجازت دیجئیے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کی بات بتلادی کہ ” یہ تو ڈھونگ رچایا ہے حقیقت میں عذر کچھ بھی نہیں نامردی سے بھگوڑا پن دکھاتے ہیں۔ لڑائی سے جی چرا کر سرکنا چاہتے ہیں “۔

صفحہ نمبر6977

منافقوں کا فرار ٭٭

اس گھبراہٹ اور پریشانی کا حال بیان ہو رہا ہے جو جنگ احزاب کے موقعہ پر مسلمانوں کی تھی کہ باہر سے دشمن اپنی پوری قوت اور کافی لشکر سے گھیرا ڈالے کھڑا ہے۔ اندرون شہر میں بغاوت کی آگ بھڑکی ہوئی ہے یہودیوں نے دفعۃً صلح توڑ کر بے چینی کی باتیں بنا رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ بس اللہ کے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدے دیکھ لیے۔ کچھ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کے کان میں صور پھونک رہے ہیں کہ میاں پاگل ہوئے ہو؟ دیکھ نہیں رہے دو گھڑی میں نقشہ پلٹنے والا ہے۔ بھاگ چلو لوٹو لوٹو واپس چلو۔

یثرب سے مراد مدینہ ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ مجھے خواب میں تمہاری ہجرت کی جگہ دکھائی گئی ہے۔ جو دو سنگلاخ میدانوں کے درمیان ہے پہلے تو میرا خیال ہوا تھا کہ یہ ہجر ہے لیکن نہیں وہ جگہ یثرب ہے ۔ [صحیح بخاری:3622] ‏ اور روایت میں ہے کہ وہ جگہ مدینہ ہے ۔

صفحہ نمبر6976

البتہ یہ خیال رہے کہ ایک ضعیف حدیث میں ہے جو مدینے کو یثرب کہے وہ استغفار کر لے۔ مدینہ تو طابہ ہے، وہ طابہ ہے ۔ [مسند احمد:285/4:ضعیف] ‏ یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہے اور اس کی اسناد میں ضعف ہے۔

کہا گیا ہے کہ عمالیق میں سے جو شخص یہاں آ کر ٹھہرا تھا چونکہ اس کا نام یثرب بن عبید بن مہلا بیل بن عوص بن عملاق بن لاد بن آدم بن سام بن نوح تھا اس لیے اس شہر کو بھی اسی کے نام سے مشہور کیا گیا۔ یہ بھی قول ہے کہ تورات شریف میں اس کے گیارہ نام آئے ہیں۔ مدینہ، طابہ، جلیلہ، جابرہ، محبہ، محبوبہ، قاصمہ، مجبورہ، عدراد، مرحومہ۔ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم تورات میں یہ عبادت پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ شریف سے فرمایا اے طیبہ اور اے طابہ اور اے مسکینہ خزانوں میں مبتلا نہ ہو تمام بستیوں پر تیرا درجہ بلند ہوگا۔ کچھ لوگ تو اس موقعۂ خندق پر کہنے لگے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہرنے کی جگہ نہیں اپنے گھروں کو لوٹ چلو۔ بنو حارثہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھروں میں چوری ہونے کا خطرہ ہے وہ خالی پڑے ہیں ہمیں واپس جانے کی اجازت ملنی چاہیئے۔ اوس بن قینطی نے بھی یہی کہا تھا کہ ہمارے گھروں میں دشمن کے گھس جانے کا اندیشہ ہے ہمیں جانے کی اجازت دیجئیے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کی بات بتلادی کہ ” یہ تو ڈھونگ رچایا ہے حقیقت میں عذر کچھ بھی نہیں نامردی سے بھگوڑا پن دکھاتے ہیں۔ لڑائی سے جی چرا کر سرکنا چاہتے ہیں “۔

صفحہ نمبر6977

منافقوں کا فرار ٭٭

اس گھبراہٹ اور پریشانی کا حال بیان ہو رہا ہے جو جنگ احزاب کے موقعہ پر مسلمانوں کی تھی کہ باہر سے دشمن اپنی پوری قوت اور کافی لشکر سے گھیرا ڈالے کھڑا ہے۔ اندرون شہر میں بغاوت کی آگ بھڑکی ہوئی ہے یہودیوں نے دفعۃً صلح توڑ کر بے چینی کی باتیں بنا رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ بس اللہ کے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدے دیکھ لیے۔ کچھ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کے کان میں صور پھونک رہے ہیں کہ میاں پاگل ہوئے ہو؟ دیکھ نہیں رہے دو گھڑی میں نقشہ پلٹنے والا ہے۔ بھاگ چلو لوٹو لوٹو واپس چلو۔

یثرب سے مراد مدینہ ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ مجھے خواب میں تمہاری ہجرت کی جگہ دکھائی گئی ہے۔ جو دو سنگلاخ میدانوں کے درمیان ہے پہلے تو میرا خیال ہوا تھا کہ یہ ہجر ہے لیکن نہیں وہ جگہ یثرب ہے ۔ [صحیح بخاری:3622] ‏ اور روایت میں ہے کہ وہ جگہ مدینہ ہے ۔

صفحہ نمبر6976

البتہ یہ خیال رہے کہ ایک ضعیف حدیث میں ہے جو مدینے کو یثرب کہے وہ استغفار کر لے۔ مدینہ تو طابہ ہے، وہ طابہ ہے ۔ [مسند احمد:285/4:ضعیف] ‏ یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہے اور اس کی اسناد میں ضعف ہے۔

کہا گیا ہے کہ عمالیق میں سے جو شخص یہاں آ کر ٹھہرا تھا چونکہ اس کا نام یثرب بن عبید بن مہلا بیل بن عوص بن عملاق بن لاد بن آدم بن سام بن نوح تھا اس لیے اس شہر کو بھی اسی کے نام سے مشہور کیا گیا۔ یہ بھی قول ہے کہ تورات شریف میں اس کے گیارہ نام آئے ہیں۔ مدینہ، طابہ، جلیلہ، جابرہ، محبہ، محبوبہ، قاصمہ، مجبورہ، عدراد، مرحومہ۔ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم تورات میں یہ عبادت پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ شریف سے فرمایا اے طیبہ اور اے طابہ اور اے مسکینہ خزانوں میں مبتلا نہ ہو تمام بستیوں پر تیرا درجہ بلند ہوگا۔ کچھ لوگ تو اس موقعۂ خندق پر کہنے لگے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہرنے کی جگہ نہیں اپنے گھروں کو لوٹ چلو۔ بنو حارثہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھروں میں چوری ہونے کا خطرہ ہے وہ خالی پڑے ہیں ہمیں واپس جانے کی اجازت ملنی چاہیئے۔ اوس بن قینطی نے بھی یہی کہا تھا کہ ہمارے گھروں میں دشمن کے گھس جانے کا اندیشہ ہے ہمیں جانے کی اجازت دیجئیے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کی بات بتلادی کہ ” یہ تو ڈھونگ رچایا ہے حقیقت میں عذر کچھ بھی نہیں نامردی سے بھگوڑا پن دکھاتے ہیں۔ لڑائی سے جی چرا کر سرکنا چاہتے ہیں “۔

صفحہ نمبر6977

جہاد سے پیٹھ پھیرنے والوں سے بازپرس ہو گی ٭٭

جو لوگ یہ عذر کر کے جہاد سے بھاگ رہے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے پڑے ہیں جن کا بیان اوپر گزرا۔ ان کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ ” اگر ان پر دشمن مدینے کے چو طرف سے اور ہر ہر رخ سے آ جائے پھر ان سے کفر میں داخل ہونے کا سوال کیا جائے تو یہ بے تامل کفر کو قبول کر لیں گے لیکن تھوڑے خوف اور خیالی دہشت کی بنا پر ایمان سے دست برداری کر رہے ہیں “۔ یہ ان کی مذمت بیان ہوئی ہے۔

صفحہ نمبر6980

پھر فرماتا ہے ” یہی تو ہیں جو اس سے پہلے لمبی لمبی ڈینگیں مارتے تھے کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے ہم میدان جنگ سے پیٹھ پھیرنے والے نہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ جو وعدے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے تھے اللہ تعالیٰ ان کی بازپرس کرے گا “۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” یہ موت و فوت سے بھاگنا لڑائی سے منہ چھپانا میدان میں پیٹھ دکھانا جان نہیں بچاسکتا بلکہ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اچانک پکڑ کے جلد آجانے کا باعث ہو جائے اور دنیا کا تھوڑا سا نفع بھی حاصل نہ ہو سکے۔ حالانکہ دنیا تو آخرت جیسی باقی چیز کے مقابلے پر کل کی کل حقیر اور محض ناچیز ہے “۔

پھر فرمایا کہ ” بجز اللہ کے کوئی نہ دے سکے نہ دل اس کے نہ مددگاری کر سکے نہ حمایت پر آ سکے۔ اللہ اپنے ارادوں کو پورا کر کے ہی رہتا ہے “۔

صفحہ نمبر6981

جہاد سے پیٹھ پھیرنے والوں سے بازپرس ہو گی ٭٭

جو لوگ یہ عذر کر کے جہاد سے بھاگ رہے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے پڑے ہیں جن کا بیان اوپر گزرا۔ ان کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ ” اگر ان پر دشمن مدینے کے چو طرف سے اور ہر ہر رخ سے آ جائے پھر ان سے کفر میں داخل ہونے کا سوال کیا جائے تو یہ بے تامل کفر کو قبول کر لیں گے لیکن تھوڑے خوف اور خیالی دہشت کی بنا پر ایمان سے دست برداری کر رہے ہیں “۔ یہ ان کی مذمت بیان ہوئی ہے۔

صفحہ نمبر6980

پھر فرماتا ہے ” یہی تو ہیں جو اس سے پہلے لمبی لمبی ڈینگیں مارتے تھے کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے ہم میدان جنگ سے پیٹھ پھیرنے والے نہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ جو وعدے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے تھے اللہ تعالیٰ ان کی بازپرس کرے گا “۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” یہ موت و فوت سے بھاگنا لڑائی سے منہ چھپانا میدان میں پیٹھ دکھانا جان نہیں بچاسکتا بلکہ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اچانک پکڑ کے جلد آجانے کا باعث ہو جائے اور دنیا کا تھوڑا سا نفع بھی حاصل نہ ہو سکے۔ حالانکہ دنیا تو آخرت جیسی باقی چیز کے مقابلے پر کل کی کل حقیر اور محض ناچیز ہے “۔

پھر فرمایا کہ ” بجز اللہ کے کوئی نہ دے سکے نہ دل اس کے نہ مددگاری کر سکے نہ حمایت پر آ سکے۔ اللہ اپنے ارادوں کو پورا کر کے ہی رہتا ہے “۔

صفحہ نمبر6981

جہاد سے پیٹھ پھیرنے والوں سے بازپرس ہو گی ٭٭

جو لوگ یہ عذر کر کے جہاد سے بھاگ رہے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے پڑے ہیں جن کا بیان اوپر گزرا۔ ان کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ ” اگر ان پر دشمن مدینے کے چو طرف سے اور ہر ہر رخ سے آ جائے پھر ان سے کفر میں داخل ہونے کا سوال کیا جائے تو یہ بے تامل کفر کو قبول کر لیں گے لیکن تھوڑے خوف اور خیالی دہشت کی بنا پر ایمان سے دست برداری کر رہے ہیں “۔ یہ ان کی مذمت بیان ہوئی ہے۔

صفحہ نمبر6980

پھر فرماتا ہے ” یہی تو ہیں جو اس سے پہلے لمبی لمبی ڈینگیں مارتے تھے کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے ہم میدان جنگ سے پیٹھ پھیرنے والے نہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ جو وعدے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے تھے اللہ تعالیٰ ان کی بازپرس کرے گا “۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” یہ موت و فوت سے بھاگنا لڑائی سے منہ چھپانا میدان میں پیٹھ دکھانا جان نہیں بچاسکتا بلکہ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اچانک پکڑ کے جلد آجانے کا باعث ہو جائے اور دنیا کا تھوڑا سا نفع بھی حاصل نہ ہو سکے۔ حالانکہ دنیا تو آخرت جیسی باقی چیز کے مقابلے پر کل کی کل حقیر اور محض ناچیز ہے “۔

پھر فرمایا کہ ” بجز اللہ کے کوئی نہ دے سکے نہ دل اس کے نہ مددگاری کر سکے نہ حمایت پر آ سکے۔ اللہ اپنے ارادوں کو پورا کر کے ہی رہتا ہے “۔

صفحہ نمبر6981

جہاد سے پیٹھ پھیرنے والوں سے بازپرس ہو گی ٭٭

جو لوگ یہ عذر کر کے جہاد سے بھاگ رہے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے پڑے ہیں جن کا بیان اوپر گزرا۔ ان کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ ” اگر ان پر دشمن مدینے کے چو طرف سے اور ہر ہر رخ سے آ جائے پھر ان سے کفر میں داخل ہونے کا سوال کیا جائے تو یہ بے تامل کفر کو قبول کر لیں گے لیکن تھوڑے خوف اور خیالی دہشت کی بنا پر ایمان سے دست برداری کر رہے ہیں “۔ یہ ان کی مذمت بیان ہوئی ہے۔

صفحہ نمبر6980

پھر فرماتا ہے ” یہی تو ہیں جو اس سے پہلے لمبی لمبی ڈینگیں مارتے تھے کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے ہم میدان جنگ سے پیٹھ پھیرنے والے نہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ جو وعدے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے تھے اللہ تعالیٰ ان کی بازپرس کرے گا “۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” یہ موت و فوت سے بھاگنا لڑائی سے منہ چھپانا میدان میں پیٹھ دکھانا جان نہیں بچاسکتا بلکہ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اچانک پکڑ کے جلد آجانے کا باعث ہو جائے اور دنیا کا تھوڑا سا نفع بھی حاصل نہ ہو سکے۔ حالانکہ دنیا تو آخرت جیسی باقی چیز کے مقابلے پر کل کی کل حقیر اور محض ناچیز ہے “۔

پھر فرمایا کہ ” بجز اللہ کے کوئی نہ دے سکے نہ دل اس کے نہ مددگاری کر سکے نہ حمایت پر آ سکے۔ اللہ اپنے ارادوں کو پورا کر کے ہی رہتا ہے “۔

صفحہ نمبر6981

جہاد سے منہ موڑنے والے ایمان سے خالی لوگ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے محیط علم سے انہیں خوب جانتا ہے جو دوسروں کو بھی جہاد سے روکتے ہیں۔ اپنے ہم صحبتوں سے یار دوستوں سے کنبے قبیلے والوں سے کہتے ہیں کہ آؤ تم بھی ہمارے ساتھ رہو اپنے گھروں کو اپنے آرام کو اپنی زمین کو اپنے بیوی بچوں کو نہ چھوڑو۔ خود بھی جہاد میں آتے نہیں یہ اور بات ہے کہ کسی کسی وقت منہ دکھاجائیں اور نام لکھوا جائیں۔ یہ بڑے بخیل ہیں نہ ان سے تمہیں کوئی مدد پہنچے نہ ان کے دل میں تمہاری ہمدردی نہ مال غنیمت میں تمہارے حصے پر یہ خوش۔

خوف کے وقت تو ان نامردوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑجاتے ہیں۔ آنکھیں چھاچھ پانی ہو جاتی ہے مایوسانہ نگاہوں سے تکتے لگتے ہیں۔ لیکن خوف دور ہوا کہ انہوں نے لمبی لمبی زبانیں نکال ڈالیں اور بڑھے چڑھے دعوے کرنے لگے اور شجاعت و مردمی کا دم بھرنے لگے۔ اور مال غنیمت پر بے طرح گرنے لگے۔ ہمیں دو ہمیں دو کا غل مچا دیتے ہیں۔ ہم آپ کے ساتھی ہیں۔ ہم نے جنگی خدمات انجام دی ہیں ہمارا حصہ ہے۔ اور جنگ کے وقت صورتیں بھی نہیں دکھاتے بھاگتوں کے آگے اور لڑتوں کے پیچھے رہاکرتے ہیں دونوں عیب جس میں جمع ہوں اس جیسا بے خیر انسان اور کون ہو گا؟ امن کے وقت عیاری بد خلقی بد زبانی اور لڑائی کے وقت نامردی روباہ بازی اور زنانہ پن۔ لڑائی کے وقت حائضہ عورتوں کی طرح الگ اور یکسو اور مال لینے کے وقت گدھوں کی طرح ڈھینچو ڈھینچو۔ اللہ فرماتا ہے بات یہ ہے کہ ” ان کے دل شروع سے ہی ایمان سے خالی ہیں۔ اس لیے ان کے اعمال بھی اکارت ہیں۔ اللہ پر یہ آسان ہے “۔

صفحہ نمبر6985

جہاد سے منہ موڑنے والے ایمان سے خالی لوگ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے محیط علم سے انہیں خوب جانتا ہے جو دوسروں کو بھی جہاد سے روکتے ہیں۔ اپنے ہم صحبتوں سے یار دوستوں سے کنبے قبیلے والوں سے کہتے ہیں کہ آؤ تم بھی ہمارے ساتھ رہو اپنے گھروں کو اپنے آرام کو اپنی زمین کو اپنے بیوی بچوں کو نہ چھوڑو۔ خود بھی جہاد میں آتے نہیں یہ اور بات ہے کہ کسی کسی وقت منہ دکھاجائیں اور نام لکھوا جائیں۔ یہ بڑے بخیل ہیں نہ ان سے تمہیں کوئی مدد پہنچے نہ ان کے دل میں تمہاری ہمدردی نہ مال غنیمت میں تمہارے حصے پر یہ خوش۔

خوف کے وقت تو ان نامردوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑجاتے ہیں۔ آنکھیں چھاچھ پانی ہو جاتی ہے مایوسانہ نگاہوں سے تکتے لگتے ہیں۔ لیکن خوف دور ہوا کہ انہوں نے لمبی لمبی زبانیں نکال ڈالیں اور بڑھے چڑھے دعوے کرنے لگے اور شجاعت و مردمی کا دم بھرنے لگے۔ اور مال غنیمت پر بے طرح گرنے لگے۔ ہمیں دو ہمیں دو کا غل مچا دیتے ہیں۔ ہم آپ کے ساتھی ہیں۔ ہم نے جنگی خدمات انجام دی ہیں ہمارا حصہ ہے۔ اور جنگ کے وقت صورتیں بھی نہیں دکھاتے بھاگتوں کے آگے اور لڑتوں کے پیچھے رہاکرتے ہیں دونوں عیب جس میں جمع ہوں اس جیسا بے خیر انسان اور کون ہو گا؟ امن کے وقت عیاری بد خلقی بد زبانی اور لڑائی کے وقت نامردی روباہ بازی اور زنانہ پن۔ لڑائی کے وقت حائضہ عورتوں کی طرح الگ اور یکسو اور مال لینے کے وقت گدھوں کی طرح ڈھینچو ڈھینچو۔ اللہ فرماتا ہے بات یہ ہے کہ ” ان کے دل شروع سے ہی ایمان سے خالی ہیں۔ اس لیے ان کے اعمال بھی اکارت ہیں۔ اللہ پر یہ آسان ہے “۔

صفحہ نمبر6985

دشمن کا خوف ٭٭

ان کی بزدلی اور ڈرپوکی کا یہ عالم ہے کہ اب تک انہیں اس بات کا یقین ہی نہیں ہوا کہ لشکر کفار لوٹ گیا اور خطرہ ہے کہ وہ پھر کہیں آ نہ پڑے۔ مشرکین کے لشکروں کو دیکھتے ہی چھکے چھوٹ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کاش کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ اس شہر میں ہی نہ ہوتے بلکہ گنواروں کے ساتھ کسی اجاڑ گاؤں یا کسی دوردراز کے جنگل میں ہوتے کسی آتے جاتے سے پوچھ لیتے کہ کہو بھئی لڑائی کا کیا حشر ہوا؟

اللہ فرماتا ہے ” یہ اگر تمہارے ساتھ بھی ہوں تو بے کار ہیں۔ ان کے دل مردہ ہیں نامردی کے گھن نے انہیں کھوکھلا کر رکھا ہے۔ یہ کیا لڑیں گے اور کون سی بہادری دکھائیں گے؟ “

صفحہ نمبر6987

ٹھوس دلائل اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو لازم قرار دیتے ہیں ٭٭

یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس امر پر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال افعال احوال اقتداء پیروی اور تابعداری کے لائق ہیں۔ جنگ احزاب میں جو صبر وتحمل اور عدیم المثال شجاعت کی مثال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کی، مثلاً راہ الہ کی تیاری شوق جہاد اور سختی کے وقت بھی رب سے آسانی کی امید اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھائی یقیناً یہ تمام چیزیں اس قابل ہیں کہ مسلمان انہیں اپنی زندگی کا جزوِ اعظم بنا لیں اور اپنے پیارے پیغمبر اللہ کے حبیب احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لیے بہترین نمونہ بنا لیں اور ان اوصاف سے اپنے تئیں بھی موصوف کریں۔

اسی لیے قرآن کریم ان لوگوں کو جو اس وقت سٹ پٹا رہے تھے اور گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہار کرتے تھے فرماتا ہے کہ ” تم نے میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کیوں نہ کی؟ میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو تم میں موجود تھے ان کا نمونہ تمہارے سامنے تھا تمہیں صبرو استقلال کی نہ صرف تلقین تھی بلکہ ثابت قدمی استقلال اور اطمینان کا پہاڑ تمہاری نگاہوں کے سامنے تھا۔ تم جبکہ اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہو پھر کوئی وجہ نہ تھی کہ تم اپنے رسول کو اپنے لیے نمونہ اور نظیر نہ قائم کرتے؟“

صفحہ نمبر6988

پھر اللہ کی فوج کے سچے مومنوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے ساتھیوں کے ایمان کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ ” انہوں نے جب ٹڈی دل لشکر کفار کو دیکھا تو پہلی نگاہ میں ہی بول اٹھے کہ انہی پر فتح پانے کی ہمیں خوشخبری دی گئی ہے۔ ان ہی کی شکست کا ہم سے وعدہ ہوا ہے “ اور وعدہ بھی کس کا اللہ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ اور یہ ناممکن محض ہے کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ غلط ہو یقیناً ہمارا سر اور اس جنگ کی فتح کا سہرا ہو گا۔

ان کے اس کامل یقین اور سچے ایمان کو رب نے بھی دیکھ لیا اور دنیا آخرت میں انجام کی بہتری انہیں عطا فرمائی۔ بہت ممکن ہے کہ اللہ کے جس وعدہ کی طرف اس میں اشارہ ہے وہ آیت یہ ہو جو سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے۔ آیت «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّـهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّـهِ قَرِيبٌ» [2-البقرة:214] ‏، یعنی ” کیا تم نے یہ سمجھ لیا؟ کہ بغیر اس کے کہ تمہاری آزمائش ہو تم جنت میں چلے جاؤ گے؟ تم سے اگلے لوگوں کی آزمائش بھی ہوئی انہیں بھی دکھ درد لڑائی بھڑائی میں مبتلا کیا گیا یہاں تک کہ انہیں ہلایا گیا کہ ایماندار اور خود رسول کی زبان سے نکل گیا کہ اللہ کی مدد کو دیر کیوں لگ گئی؟ یاد رکھو رب کی مدد بہت ہی قریب ہے “۔

یعنی یہ صرف امتحان ہے ادھر تم نے ثابت قدمی دکھائی ادھر رب کی مدد آئی۔ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سچا ہے۔ فرماتا ہے کہ ” ان اصحاب پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایمان اپنے مخالفین کی اس قدر زبردست جمعیت دیکھ کر اور بڑھ گیا۔ یہ اپنے ایمان میں اپنی تسلیم میں اور بڑھ گئے۔ یقین کامل ہو گیا فرمانبرداری اور بڑھ گئی “۔

اس آیت میں دلیل ہے ایمان کی زیادتی ہونے پر۔ بہ نسبت اوروں کے ان کے ایمان کے قوی ہونے پر جمہور ائمہ کرام کا بھی یہی فرمان ہے کہ ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے۔ ہم نے بھی اس کی تقریر شرح بخاری کے شروع میں کر دی ہے «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة» ۔

پس فرماتا ہے کہ ” اس کی تنگی ترشی نے اس سختی اور تنگ حالی نے اس حال اور اس نقشہ نے انکا جو ایمان اللہ پر تھا اسے اور بڑھا دیا اور جو تسلیم کی خو ان میں تھی کہ اللہ رسول کی باتیں مانا کرتے تھے اور ان پر عامل تھے اس اطاعت میں اور بڑھ گئے “۔

صفحہ نمبر6989

ٹھوس دلائل اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو لازم قرار دیتے ہیں ٭٭

یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس امر پر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال افعال احوال اقتداء پیروی اور تابعداری کے لائق ہیں۔ جنگ احزاب میں جو صبر وتحمل اور عدیم المثال شجاعت کی مثال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کی، مثلاً راہ الہ کی تیاری شوق جہاد اور سختی کے وقت بھی رب سے آسانی کی امید اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھائی یقیناً یہ تمام چیزیں اس قابل ہیں کہ مسلمان انہیں اپنی زندگی کا جزوِ اعظم بنا لیں اور اپنے پیارے پیغمبر اللہ کے حبیب احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لیے بہترین نمونہ بنا لیں اور ان اوصاف سے اپنے تئیں بھی موصوف کریں۔

اسی لیے قرآن کریم ان لوگوں کو جو اس وقت سٹ پٹا رہے تھے اور گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہار کرتے تھے فرماتا ہے کہ ” تم نے میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کیوں نہ کی؟ میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو تم میں موجود تھے ان کا نمونہ تمہارے سامنے تھا تمہیں صبرو استقلال کی نہ صرف تلقین تھی بلکہ ثابت قدمی استقلال اور اطمینان کا پہاڑ تمہاری نگاہوں کے سامنے تھا۔ تم جبکہ اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہو پھر کوئی وجہ نہ تھی کہ تم اپنے رسول کو اپنے لیے نمونہ اور نظیر نہ قائم کرتے؟“

صفحہ نمبر6988

پھر اللہ کی فوج کے سچے مومنوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے ساتھیوں کے ایمان کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ ” انہوں نے جب ٹڈی دل لشکر کفار کو دیکھا تو پہلی نگاہ میں ہی بول اٹھے کہ انہی پر فتح پانے کی ہمیں خوشخبری دی گئی ہے۔ ان ہی کی شکست کا ہم سے وعدہ ہوا ہے “ اور وعدہ بھی کس کا اللہ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ اور یہ ناممکن محض ہے کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ غلط ہو یقیناً ہمارا سر اور اس جنگ کی فتح کا سہرا ہو گا۔

ان کے اس کامل یقین اور سچے ایمان کو رب نے بھی دیکھ لیا اور دنیا آخرت میں انجام کی بہتری انہیں عطا فرمائی۔ بہت ممکن ہے کہ اللہ کے جس وعدہ کی طرف اس میں اشارہ ہے وہ آیت یہ ہو جو سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے۔ آیت «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّـهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّـهِ قَرِيبٌ» [2-البقرة:214] ‏، یعنی ” کیا تم نے یہ سمجھ لیا؟ کہ بغیر اس کے کہ تمہاری آزمائش ہو تم جنت میں چلے جاؤ گے؟ تم سے اگلے لوگوں کی آزمائش بھی ہوئی انہیں بھی دکھ درد لڑائی بھڑائی میں مبتلا کیا گیا یہاں تک کہ انہیں ہلایا گیا کہ ایماندار اور خود رسول کی زبان سے نکل گیا کہ اللہ کی مدد کو دیر کیوں لگ گئی؟ یاد رکھو رب کی مدد بہت ہی قریب ہے “۔

یعنی یہ صرف امتحان ہے ادھر تم نے ثابت قدمی دکھائی ادھر رب کی مدد آئی۔ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سچا ہے۔ فرماتا ہے کہ ” ان اصحاب پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایمان اپنے مخالفین کی اس قدر زبردست جمعیت دیکھ کر اور بڑھ گیا۔ یہ اپنے ایمان میں اپنی تسلیم میں اور بڑھ گئے۔ یقین کامل ہو گیا فرمانبرداری اور بڑھ گئی “۔

اس آیت میں دلیل ہے ایمان کی زیادتی ہونے پر۔ بہ نسبت اوروں کے ان کے ایمان کے قوی ہونے پر جمہور ائمہ کرام کا بھی یہی فرمان ہے کہ ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے۔ ہم نے بھی اس کی تقریر شرح بخاری کے شروع میں کر دی ہے «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة» ۔

پس فرماتا ہے کہ ” اس کی تنگی ترشی نے اس سختی اور تنگ حالی نے اس حال اور اس نقشہ نے انکا جو ایمان اللہ پر تھا اسے اور بڑھا دیا اور جو تسلیم کی خو ان میں تھی کہ اللہ رسول کی باتیں مانا کرتے تھے اور ان پر عامل تھے اس اطاعت میں اور بڑھ گئے “۔

صفحہ نمبر6989

اس دن مومنوں اور کفار میں فرق واضح ہو گیا ٭٭

منافقوں کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ وقت سے پہلے تو جاں نثاری کے لمبے چوڑے دعوے کرتے تھے لیکن وقت آنے پر پورے بزدل اور نامرد ثابت ہوئے، سارے دعوے اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے اور بجائے ثابت قدمی کے پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

یہاں مومنوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہوں نے اپنے وعدے پورے کر دکھائے “۔ بعض نے جام شہادت نوش فرمایا اور بعض اس کے نظارے میں بے چین ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے ثابت رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ جب ہم نے قرآن لکھنا شروع کیا تو ایک آیت مجھے نہیں ملتی تھی حالانکہ سورۃ الاحزاب میں وہ آیت میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنی تھی۔ آخر خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس یہ آیت ملی یہ وہ صحابی رضی اللہ عنہ ہیں جن کی اکیلے کی گواہی کو رسول اللہ «عَلَيْهِ أَفْضَل الصَّلَاة وَالتَّسْلِيم» نے دو گواہوں کے برابر کر دیا تھا۔ وہ آیت «مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّـهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا» [ 33- الأحزاب: 23 ] ‏، ہے ۔ [صحیح بخاری:2807] ‏

صفحہ نمبر6991

یہ آیت انس بن نضیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [صحیح بخاری:4783] ‏ واقعہ یہ ہے کہ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے جس کا انہیں سخت افسوس تھا کہ سب سے پہلی جنگ میں جس میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس شریک تھے میں شامل نہ ہو سکا اب جو جہاد کا موقعہ آئے گا میں اللہ تعالیٰ کو اپنی سچائی دکھا دونگا اور یہ بھی کہ میں کیا کرتا ہوں؟ اس سے زیادہ کہتے ہوئے خوف کھایا۔ اب جنگ احد کا موقعہ آیا تو انہوں نے دیکھا کہ سامنے سے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ واپس آ رہے ہیں انہیں دیکھ کر تعجب سے فرمایا کہ ابوعمرو! (‏رضی اللہ عنہ) کہاں جا رہے ہو؟ واللہ مجھے احد پہاڑ کے اس طرف سے جنت کی خوشبوئیں آ رہی ہیں۔ یہ کہتے ہی آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور مشرکوں میں خوب تلوار چلائی۔ چونکہ مسلمان لوٹ گئے تھے یہ تنہا تھے ان کے بے پناہ حملوں نے کفار کے دانت کھٹے کر دئیے تھے اور کفار لڑتے لڑتے ان کی طرف بڑھے اور چاروں طرف سے گھیر لیا اور شہید کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو (‏۸۰)‏ اسی سے اوپر اپر زخم آئے تھے کوئی نیزے کا کوئی تلوار کا کوئی تیر کا۔ شہادت کے بعد کوئی آپ رضی اللہ عنہ کو پہچان نہ سکا یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو پہچانا اور وہ بھی ہاتھوں کی انگلیوں کی پوریں دیکھ کر۔ انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اور یہی ایسے تھے جنہوں نے جو کہا تھا کر دکھایا۔ رضی اللہ عنہم اجمعین ۔ [صحیح مسلم:1903] ‏

اور روایت میں ہے کہ جب مسلمان بھاگے تو آپ نے فرمایا اے اللہ انہوں نے جو کیا میں اس سے اپنی معذوری ظاہر کرتا ہوں۔ اور مشرکوں نے جو کیا میں اس سے بیزار ہوں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا میں آپ کے ساتھ ہوں۔ ساتھ چلے بھی لیکن فرماتے ہیں جو وہ کر رہے تھے وہ میری طاقت سے باہر تھا ۔ [صحیح بخاری:2805] ‏

طلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ابی ابن حاتم میں ہے کہ جنگ احد سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مدینے آئے تو منبر پر چڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور مسلمانوں سے ہمدردی ظاہر کی جو جو شہید ہو گئے تھے ان کے درجوں کی خبر دی۔ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ ایک مسلمان نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن لوگوں کا اس آیت میں ذکر ہے وہ کون ہیں؟ اس وقت میں سامنے آ رہا تھا اور حضرمی سبز رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اشارہ کرکے فرمایا: اے پوچھنے والے یہ بھی ان ہی میں سے ہیں ۔ [سنن ترمذي:3203، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏

ان کے صاحبزادے موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ، معاویہ رضی اللہ عنہ کے دربار میں گئے جب وہاں سے واپس آنے لگے دروازے سے باہر نکلے ہی تھے جو جناب معاویہ رضی اللہ عنہا نے واپس بلایا اور فرمایا آؤ مجھ سے ایک حدیث سنتے جاؤ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تمہارے والد طلحہ رضی اللہ عنہ ان میں سے ہے جن کا بیان اس آیت میں ہے کہ انہوں نے اپنا عہد اور نذر پوری کر دی ۔ [سنن ترمذي:3720،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6992

رب العلمین ان کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ ” بعض اس دن کے منتظر ہیں کہ پھر لڑائی ہو اور وہ اپنی کار گزاری اللہ کو دکھائیں اور جام شہادت نوش فرمائیں “۔ پس بعض نے تو سچائی اور وفاداری ثابت کر دی اور بعض موقعہ کے منتظر ہیں انہوں نے نہ عہد بدلا نہ نذر پوری کرنے کا کبھی انہیں خیال گزرا بلکہ وہ اپنے وعدے پر قائم ہیں وہ منافقوں کی طرح بہانے بنانے والے نہیں۔

یہ خوف اور زلزلہ محض اس واسطے تھا کہ خبیث و طیب کی تمیز ہو جائے اور برے بھلے کا حال ہر ایک پر کھل جائے۔ کیونکہ اللہ تو عالم الغیب ہے اس کے نزدیک تو ظاہر و باطن برابر ہے جو نہیں ہوا اسے بھی وہ تو اسی طرح جانتا ہے جس طرح اسے جو ہو چکا۔ لیکن اس کی عادت ہے کہ جب تک مخلوق عمل نہ کر لے انہیں صرف اپنے علم کی بنا پر جزا سزا نہیں دیتا۔ جیسے اس کا فرمان ہے آیت «وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ» [47-محمد:31] ‏، ” ہم تمہیں خوب پرکھ کر مجاہدین صابرین کو تم میں سے ممتاز کردینگے “۔

پس وجود سے پہلے کا علم پھر وجود کے بعد کا علم دونوں اللہ کو ہیں اور اس کے بعد جزا سزا۔ جیسے فرمایا آیت «مَا كَان اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰي مَآ اَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ» [3-آل عمران:179] ‏، ” اللہ تعالیٰ جس حال پر تم ہو اسی پر مومنوں کو چھوڑ دے ایسا نہیں جب تک کہ وہ بھلے برے کی تمیز نہ کر لے نہ اللہ ایسا ہے کہ تمہیں غیب پر مطلع کر دے “۔

پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” یہ اس لیے کہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور عہد شکن منافقوں کو سزادے۔ یا انہیں توفیق توبہ دے کہ یہ اپنی روش بدل دیں اور سچے دل سے اللہ کی طرف جھک جائیں تو اللہ بھی ان پر مہربان ہو جائے اور ان کو معاف فرما دے۔ اس لیے کہ وہ اپنی مخلوق کی خطائیں معاف فرمانے والا اور ان پر مہربانی کرنے والا ہے۔ اس کی رافت و رحمت غضب و غصے سے بڑھی ہوئی ہے “۔

صفحہ نمبر6993

اس دن مومنوں اور کفار میں فرق واضح ہو گیا ٭٭

منافقوں کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ وقت سے پہلے تو جاں نثاری کے لمبے چوڑے دعوے کرتے تھے لیکن وقت آنے پر پورے بزدل اور نامرد ثابت ہوئے، سارے دعوے اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے اور بجائے ثابت قدمی کے پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

یہاں مومنوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہوں نے اپنے وعدے پورے کر دکھائے “۔ بعض نے جام شہادت نوش فرمایا اور بعض اس کے نظارے میں بے چین ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے ثابت رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ جب ہم نے قرآن لکھنا شروع کیا تو ایک آیت مجھے نہیں ملتی تھی حالانکہ سورۃ الاحزاب میں وہ آیت میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنی تھی۔ آخر خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس یہ آیت ملی یہ وہ صحابی رضی اللہ عنہ ہیں جن کی اکیلے کی گواہی کو رسول اللہ «عَلَيْهِ أَفْضَل الصَّلَاة وَالتَّسْلِيم» نے دو گواہوں کے برابر کر دیا تھا۔ وہ آیت «مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّـهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا» [ 33- الأحزاب: 23 ] ‏، ہے ۔ [صحیح بخاری:2807] ‏

صفحہ نمبر6991

یہ آیت انس بن نضیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [صحیح بخاری:4783] ‏ واقعہ یہ ہے کہ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے جس کا انہیں سخت افسوس تھا کہ سب سے پہلی جنگ میں جس میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس شریک تھے میں شامل نہ ہو سکا اب جو جہاد کا موقعہ آئے گا میں اللہ تعالیٰ کو اپنی سچائی دکھا دونگا اور یہ بھی کہ میں کیا کرتا ہوں؟ اس سے زیادہ کہتے ہوئے خوف کھایا۔ اب جنگ احد کا موقعہ آیا تو انہوں نے دیکھا کہ سامنے سے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ واپس آ رہے ہیں انہیں دیکھ کر تعجب سے فرمایا کہ ابوعمرو! (‏رضی اللہ عنہ) کہاں جا رہے ہو؟ واللہ مجھے احد پہاڑ کے اس طرف سے جنت کی خوشبوئیں آ رہی ہیں۔ یہ کہتے ہی آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور مشرکوں میں خوب تلوار چلائی۔ چونکہ مسلمان لوٹ گئے تھے یہ تنہا تھے ان کے بے پناہ حملوں نے کفار کے دانت کھٹے کر دئیے تھے اور کفار لڑتے لڑتے ان کی طرف بڑھے اور چاروں طرف سے گھیر لیا اور شہید کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو (‏۸۰)‏ اسی سے اوپر اپر زخم آئے تھے کوئی نیزے کا کوئی تلوار کا کوئی تیر کا۔ شہادت کے بعد کوئی آپ رضی اللہ عنہ کو پہچان نہ سکا یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو پہچانا اور وہ بھی ہاتھوں کی انگلیوں کی پوریں دیکھ کر۔ انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اور یہی ایسے تھے جنہوں نے جو کہا تھا کر دکھایا۔ رضی اللہ عنہم اجمعین ۔ [صحیح مسلم:1903] ‏

اور روایت میں ہے کہ جب مسلمان بھاگے تو آپ نے فرمایا اے اللہ انہوں نے جو کیا میں اس سے اپنی معذوری ظاہر کرتا ہوں۔ اور مشرکوں نے جو کیا میں اس سے بیزار ہوں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا میں آپ کے ساتھ ہوں۔ ساتھ چلے بھی لیکن فرماتے ہیں جو وہ کر رہے تھے وہ میری طاقت سے باہر تھا ۔ [صحیح بخاری:2805] ‏

طلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ابی ابن حاتم میں ہے کہ جنگ احد سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مدینے آئے تو منبر پر چڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور مسلمانوں سے ہمدردی ظاہر کی جو جو شہید ہو گئے تھے ان کے درجوں کی خبر دی۔ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ ایک مسلمان نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن لوگوں کا اس آیت میں ذکر ہے وہ کون ہیں؟ اس وقت میں سامنے آ رہا تھا اور حضرمی سبز رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اشارہ کرکے فرمایا: اے پوچھنے والے یہ بھی ان ہی میں سے ہیں ۔ [سنن ترمذي:3203، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏

ان کے صاحبزادے موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ، معاویہ رضی اللہ عنہ کے دربار میں گئے جب وہاں سے واپس آنے لگے دروازے سے باہر نکلے ہی تھے جو جناب معاویہ رضی اللہ عنہا نے واپس بلایا اور فرمایا آؤ مجھ سے ایک حدیث سنتے جاؤ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تمہارے والد طلحہ رضی اللہ عنہ ان میں سے ہے جن کا بیان اس آیت میں ہے کہ انہوں نے اپنا عہد اور نذر پوری کر دی ۔ [سنن ترمذي:3720،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6992

رب العلمین ان کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ ” بعض اس دن کے منتظر ہیں کہ پھر لڑائی ہو اور وہ اپنی کار گزاری اللہ کو دکھائیں اور جام شہادت نوش فرمائیں “۔ پس بعض نے تو سچائی اور وفاداری ثابت کر دی اور بعض موقعہ کے منتظر ہیں انہوں نے نہ عہد بدلا نہ نذر پوری کرنے کا کبھی انہیں خیال گزرا بلکہ وہ اپنے وعدے پر قائم ہیں وہ منافقوں کی طرح بہانے بنانے والے نہیں۔

یہ خوف اور زلزلہ محض اس واسطے تھا کہ خبیث و طیب کی تمیز ہو جائے اور برے بھلے کا حال ہر ایک پر کھل جائے۔ کیونکہ اللہ تو عالم الغیب ہے اس کے نزدیک تو ظاہر و باطن برابر ہے جو نہیں ہوا اسے بھی وہ تو اسی طرح جانتا ہے جس طرح اسے جو ہو چکا۔ لیکن اس کی عادت ہے کہ جب تک مخلوق عمل نہ کر لے انہیں صرف اپنے علم کی بنا پر جزا سزا نہیں دیتا۔ جیسے اس کا فرمان ہے آیت «وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ» [47-محمد:31] ‏، ” ہم تمہیں خوب پرکھ کر مجاہدین صابرین کو تم میں سے ممتاز کردینگے “۔

پس وجود سے پہلے کا علم پھر وجود کے بعد کا علم دونوں اللہ کو ہیں اور اس کے بعد جزا سزا۔ جیسے فرمایا آیت «مَا كَان اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰي مَآ اَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ» [3-آل عمران:179] ‏، ” اللہ تعالیٰ جس حال پر تم ہو اسی پر مومنوں کو چھوڑ دے ایسا نہیں جب تک کہ وہ بھلے برے کی تمیز نہ کر لے نہ اللہ ایسا ہے کہ تمہیں غیب پر مطلع کر دے “۔

پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” یہ اس لیے کہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور عہد شکن منافقوں کو سزادے۔ یا انہیں توفیق توبہ دے کہ یہ اپنی روش بدل دیں اور سچے دل سے اللہ کی طرف جھک جائیں تو اللہ بھی ان پر مہربان ہو جائے اور ان کو معاف فرما دے۔ اس لیے کہ وہ اپنی مخلوق کی خطائیں معاف فرمانے والا اور ان پر مہربانی کرنے والا ہے۔ اس کی رافت و رحمت غضب و غصے سے بڑھی ہوئی ہے “۔

صفحہ نمبر6993

اللہ عزوجل کفار سے خود نپٹے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ ” اس نے طوفان باد و باراں بھیج کر اور اپنے نہ نظر آنے والے لشکر اتار کر کافروں کی کمر توڑی دی اور انہیں سخت مایوسی اور نامرادی کے ساتھ محاصرہ ہٹانا پڑا۔ بلکہ اگر رحمۃ اللعالمین کی امت میں یہ نہ ہوتے تو یہ ہوائیں ان کے ساتھ وہی کرتیں جو عادیوں کے ساتھ اس بے برکت ہوا نے کیا تھا “۔

چونکہ رب العالمین کا فرمان ہے کہ «وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا» [8-الأنفال:33] ‏ ” تو جب تک ان میں ہے اللہ انہیں عام عذاب نہیں کرے گا لہٰذا انہیں صرف ان کی شرارت کا مزہ چکھا دیا۔ ان کے مجمع کو منتشر کر کے ان پر سے اپنا عذاب ہٹالیا “۔

چونکہ ان کا یہ اجتماع محض ہوائے نفسانی تھا اس لیے ہوا نے ہی انہیں پراگندہ کر دیا جو سوچ سمجھ کر آئے تھے سب خاک میں مل گیا کہاں کی غنیمت؟ کہاں کی فتح؟ جان کے لالے پڑے گئے اور ہاتھ ملتے دانت پیستے پیچ و تاب کھاتے ذلت ورسوائی کے ساتھ نامرادی اور ناکامی سے واپس ہوئے۔ دنیا کا خسارہ الگ ہوا اور آخرت کا وبال الگ۔ کیونکہ جو کوئی شخص کسی کام کا قصد کرتا ہے اور وہ اپنے کام کو عملی صورت بھی دیدے پھر وہ اس میں کامیاب نہ ہو تو گنہگار تو وہ ہو ہی گیا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو فنا کرنے کی آرزو پھر اہتمام پھر اقدام سب کچھ انہوں نے کر لیا۔ لیکن قدرت نے دونوں جہان کا بوجھ ان پر لادھ کر انہیں جلے دل سے واپس کیا اللہ تعالیٰ نے خود ہی مومنوں کی طرف سے ان کا مقابلہ کیا۔ نہ مسلمان ان سے لڑے نہ انہیں ہٹایا۔ بلکہ مسلمان اپنی جگہ رہے اور وہ بھاگتے رہے۔ اللہ نے اپنے لشکر کی لاج رکھ لی اور اپنے بندے کی مدد کی اور خود ہی کافی ہو گیا۔

اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس نے اپنے وعدے کو سچا کیا اپنے بندے کی مدد کی اپنے لشکر کی عزت کی تمام دشمنوں سے آپ ہی نمٹ لیا اور سب کو شکست دے دی۔ اس کے بعد اور کوئی بھی نہیں ۔ [صحیح بخاری:4114] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احزاب کے موقعہ پر جناب باری تعالیٰ سے جو دعا کی تھی وہ بھی بخاری مسلم میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، اهْزِمِ الْأَحْزَابَ . اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ» اے اللہ اے کتاب کے اتارنے والے جلد حساب لینے والے ان لشکروں کو شکست دے اور انہیں ہلا ڈال ۔ [صحیح بخاری:4115] ‏

اس فرمان «وَكَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ الْقِتَالَ وَكَان اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيْزًا» [33-الأحزاب:25] ‏ یعنی ” اللہ نے مومنوں کی کفایت جنگ سے کر دی “۔ اس میں نہایت لطیف بات یہ ہے کہ نہ صرف اس جنگ سے ہی مسلمان چھوٹ گئے بلکہ آئندہ ہمیشہ ہی صحابہ رضی اللہ عنہم اس سے بچ گئے کہ مشرکین ان پر چڑھ دوڑیں۔ چنانچہ آپ تاریخ دیکھ لیں جنگ خندق کے بعد کافروں کی ہمت نہیں پڑی کہ وہ مدینے پر یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی جگہ خود چڑھائی کرتے۔ ان کے منحوس قدموں سے اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسکن و آرام گاہ کو محفوظ کر لیا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

صفحہ نمبر6995

بلکہ برخلاف اس کے مسلمان ان پر چڑھ چڑھ گئے یہاں تک کہ عرب کی سر زمین سے اللہ نے شرک و کفر ختم کر دیا۔ جب اس جنگ سے کافر لوٹے اسی وقت رسول اکرم صلی اللہ علہ وسلم نے بطور پیشن گوئی فرما دیا تھا کہ اس سال کے بعد قریش تم سے جنگ نہیں کریں گے بلکہ تم ان سے جنگ کرو گے ۔ [صحیح بخاری:4110] ‏

چنانچہ یہی ہوا، یہاں تک کہ مکہ فتح ہو گیا۔ اللہ کی قوت کا مقابلہ بندے کے بس کا نہیں۔ اللہ کو کوئی مغلوب نہیں کرسکتا۔ اسی نے اپنی مدد وقوت سے ان بپھرے ہوئے اور بکھرے ہوئے لشکروں کو پسپا کیا۔ انہیں برائے نام بھی کوئی نفع نہ پہنچا۔ اس نے اسلام اور اہل اسلام کو غالب کیا اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور اپنے عبد و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

صفحہ نمبر6996

کفار نے عین موقعہ پر دھوکہ دیا ٭٭

اتنا ہم پہلے لکھ چکے ہیں جب مشرکین و یہود کے لشکر مدینے پر آئے اور انہوں نے گھیرا ڈالا تو بنو قریظہ کے یہودی جو مدینے میں تھے اور جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد و پیمان ہو چکا تھا انہوں نے بھی عین موقعہ پر بے وفائی کی اور عہد توڑ کر آنکھیں دکھانے لگے ان کا سردار کعب بن اسد باتوں میں آگیا اور حی بن اخطب خبیث نے اسے بدعہدی پر آمادہ کر دیا۔ پہلے تو یہ نہ مانا اور اپنے عہد پر قائم رہا حی نے کہا کہ دیکھ تو سہی میں تو تجھے عزت کا تاج پہنانے آیا ہوں۔ قریش اور ان کے ساتھی غطفان اور ان کے ساتھی اور ہم سب ایک ساتھ ہیں۔ ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ جب تک ایک ایک مسلمان کا قیمہ نہ کر لیں یہاں سے نہیں ہٹنے کے کعب چونکہ جہاندیدہ شخص تھا اس نے جواب دیا کہ محض غلط ہے۔ یہ تمہارے بس کے نہیں تو ہمیں ذلت کا طوق پہنانے آیا ہے۔ تو بڑا منحوس شخص ہے میرے سامنے سے ہٹ جا اور مجھے اپنی مکاری کا شکار نہ بنا لیکن حی پھر بھی نہ ٹلا اور اسے سمجھاتا بجھاتا رہا۔

آخر میں کہا سن اگر بالفرض قریش اور غطفان بھاگ بھی جائیں تو میں مع اپنی جماعت کے تیری گڑھی میں آ جاؤں گا اور جو کچھ تیرا اور تیری قوم کا حال ہو گا۔ وہی میرا اور میری قوم کا حال ہو گا۔ بالآخر کعب پر حی کا جادو چل گیا اور بنو قریظہ نے صلح توڑ دی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو سخت صدمہ ہوا اور بہت ہی بھاری پڑا۔

پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے غلاموں کی مدد کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مع اصحاب رضی اللہ عنہم کے مظفر و منصور مدینے شریف کو واپس آئے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ہتھیار کھول دئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہتھیار اتاکر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گرد و غبار سے پاک صاف ہونے کے لیے غسل کرنے کو بیٹھے ہی تھے جو جبرائیل علیہ السلام ظاہر ہوئے آپ کے سر پر ریشمی عمامہ تھا خچر پر سوار تھے جس پر ریشمی گدی تھی فرمانے لگے کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمر کھول لی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔

صفحہ نمبر6997

حضرت جبرائیل نے فرمایا ”لیکن فرشتوں نے اب تک اپنے ہتھیار الگ نہیں کئے۔ میں کافروں کے تعاقب سے ابھی ابھی آ رہا ہوں سنئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ بنو قریظہ کی طرف چلئے اور ان کی پوری گوشمالی کیجئے۔ مجھے بھی اللہ کا حکم مل چکا ہے کہ میں انہیں تھرادوں۔‏“

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے تیار ہو کر صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو حکم دیا اور فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک عصر کی نماز بنو قریظہ میں ہی پڑھے ۔ ظہر کے بعد یہ حکم ملا تھا بنو قریظہ کا قلعہ یہاں سے کئی میل پر تھا۔ نماز کا وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کو راستہ میں آ گیا۔ تو بعض نے تو نماز ادا کر لی اور کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم تیز چلیں۔ اور بعض نے کہا ہم تو وہاں پہنچے بغیر نماز نہیں پڑھیں گے۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں سے کسی کو ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پر ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے ہاتھ لشکر کا جھنڈادیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ رضی اللہ عنہام اجمعین کے پیچھے پیچھے بنو قریظہ کی طرف چلے اور جا کر ان کے قلعہ کو گھیر لیا۔ یہ محاصرہ پچیس روز تک رہا۔

جب یہودیوں کے ناک میں دم آ گیا اور تنگ حال ہو گئے تو انہوں نے اپنا حاکم سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بنایا جو قبیلہ اوس کے سردار تھے۔ بنو قریظہ میں اور قبیلہ اوس میں زمانہ جاہلیت میں اتفاق و یگانگت تھی ایک دوسرے کے حلیف تھے اس لیے ان یہودیوں کو یہ خیال رہا کہ سعد رضی اللہ عنہ ہمارا لحاظ اور پاس کریں گے جیسے کہ عبداللہ بن ابی سلول نے بنو قینقاع کو چھڑوایا تھا۔

صفحہ نمبر6998

ادھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی یہ حالت تھی کہ جنگ خندق میں انہیں اکحل کی رگ میں ایک تیر لگا تھا جس سے خون جاری تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زخم پر داغ لگوایا تھا اور مسجد کے خیمے میں ہی انہیں رکھا تھا کہ پاس ہی پاس عیادت اور بیمار پر سی کر لیا کریں۔

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جو دعائیں کیں ان میں ایک دعا یہ تھی کہ ”اے پروردگار اگر اب بھی کوئی ایسی لڑائی باقی ہے جس میں کفار قریش تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھ آئیں تو تو مجھے زندہ رکھ کہ میں اس میں شرکت کر سکوں اور اگر تو نے کوئی ایک لڑائی بھی ایسی باقی نہیں رکھی تو خیر میرا زخم خون بہاتا رہے لیکن اے میرے رب جب تک میں بنو قریظہ قبیلے کی سرکشی کی سزا سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی نہ کر لوں تو میری موت کو مؤخر فرمانا۔‏“

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ جیسے مستجاب الدعوات کی دعا کی قبولیت کی شان دیکھئیے کہ آپ رضی اللہ عنہ دعا کرتے ہیں ادھر یہودان بنو قریظہ آپ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر اظہار رضا مندی کرکے قلعے کو مسلمانوں کے سپرد کرتے ہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدمی بھیج کر آپ رضی اللہ عنہ کو مدینہ سے بلواتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ آ کر ان کے بارے میں اپنا فیصلہ سنا دیں۔ یہ گدھے پر سوار کرالئے گیے اور سارا قبیلہ ان سے لپٹ گیا کہ دیکھئیے خیال رکھئے گا بنو قریظہ آپ رضی اللہ عنہ کے آدمی ہیں انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ پر بھروسہ کیا ہے وہ آپ رضی اللہ عنہ کے حلیف ہیں آپ کے قوم کے دکھ کے ساتھی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ ان پر رحم فرمائیے گا ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئیے گا۔ دیکھئیے اس وقت ان کا کوئی نہیں وہ آپ رضی اللہ عنہ کے بس میں ہیں وغیرہ لیکن سعد رضی اللہ عنہا محض خاموش تھے کوئی جواب نہیں دیتے تھے۔ ان لوگوں نے مجبور کیا کہ جواب دیں پیچھا ہی نہ چھوڑا۔

آخر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”وقت آگیا ہے کہ سعد (‏رضی اللہ عنہ) اس بات کا ثبوت دے کہ اسے اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں۔‏“ یہ سنتے ہی ان لوگوں کے تو دل ڈوب گئے اور سمجھ لیا کہ بنو قریظہ کی خیر نہیں۔

صفحہ نمبر6999

جب سعد رضی اللہ عنہا کی سواری اس خیمے کے قریب پہنچ گئی جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو اپنے سردار کے استقبال کے لیے اٹھو ، چنانچہ مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ کو عزت واکرام وقعت واحترام سے سواری سے اتارا یہ اس لیے تھا کہ اس وقت آپ رضی اللہ عنہ حاکم کی حیثیت میں تھے ان کے فیصلے پورے ناطق و نافذ سمجھے جائیں۔

آپ رضی اللہ عنہ کے بیٹھتے ہی حضور نے فرمایا کہ یہ لوگ آپ کے فیصلے پر رضامند ہو کر قلعے سے نکل آئیں ہیں اب آپ رضی اللہ عنہ ان کے بارے میں جو چاہیں حکم دیجئیے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا جو میں ان پر حکم کروں وہ پورا ہو گا؟ حضور نے فرمایا: ہاں کیوں نہیں؟ کہا اور اس خیمے والوں پر بھی اس کی تعمیل ضروری ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً پوچھا اور اس طرف والوں پر بھی؟ اور اشارہ اس طرف کیا جس طرف خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور عزت و عظمت کی وجہ سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ہاں اس طرف والوں پر بھی ۔

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اب میرا فیصلہ سنئے ”میں کہتا ہوں بنو قریظہ میں جتنے لوگ لڑنے والے ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کی اولاد کو قید کر لیا جائے ان کے مال قبضے میں لائے جائیں۔‏“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سعد (‏رضی اللہ عنہ)‏ تم نے ان کے بارے میں وہی حکم کیا جو اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان کے اوپر کیا ہے ۔

ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچے مالک اللہ تعالیٰ کا جو حکم تھا وہی سنایا ہے ۔

صفحہ نمبر7000

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے خندقیں کھائی کھدوا کر انہیں بندھا ہوا بلوا کر ان کی گردنیں ماری گئیں۔ یہ گنتی میں سات آٹھ سو تھے ان کی عورتیں نابالغ بچے اور مال لے لیے گئے ۔ [صحیح بخاری:4117] ‏ ہم نے یہ کل واقعات اپنی کتاب السیر میں تفصیل سے لکھ دئیے ہیں۔ «والْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

صفحہ نمبر7001

پس فرماتا ہے کہ ” جن اہل کتاب یعنی یہودیوں نے کافروں کے لشکروں کی ہمت افزائی کی تھی اور ان کا ساتھ دیا تھا ان سے بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے قلعے خالی کرا دئیے “۔

اس قوم قریظہ کے بڑے سردار جن سے ان کی نسل جاری ہوئی تھی اگلے زمانے میں آ کر حجاز میں اسی طمع میں بسے تھے کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ہماری کتابوں میں ہے وہ چونکہ یہیں ہونے والے ہیں تو ہم سب پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی سعادت سے مسعود ہونگے۔ لیکن ان ناحلقوں نے جب اللہ کی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے ان کی تکذیب کی جس کی وجہ سے اللہ کی لعنت ان پر نازل ہوئی۔

«صَیَاصِی» سے مراد قلعے ہیں اسی معنی کے لحاظ سے سینگوں کو بھی «صَیَاصِی» کہتے ہیں اس لیے کہ جانور کے سارے جسم کے اوپر اور سب سے بلند یہی ہوتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ نے رعب ڈال دیا انہوں نے ہی مشرکین کو بھڑکا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھائی کرائی تھی۔ عالم جاہل برابر نہیں ہوتے۔ یہی تھے جنہوں نے مسلمانوں کو جڑوں سے اکھیڑ دینا چاہا تھا لیکن معاملہ برعکس ہو گیا پانسہ پلٹ گیا قوت کمزوری سے اور مراد نامرادی سے بدل گئی۔ نقشہ بگڑ گیا حمایتی بھاگ کھڑے ہوئے۔ یہ بے دست و پا رہ گئے۔ عزت کی خواہش نے ذلت دکھائی مسلمانوں کے برباد کرنے اور پیس ڈالنے کی خواہش نے اپنے تئیں پسوا دیا۔ اور ابھی آخرت کی محرومی باقی ہے۔ کچھ قتل کر دئیے گئے باقی قیدی کر دیئے گئے۔

عطیہ فرظی کا بیان ہے کہ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو میرے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ تردد ہوا۔ فرمایا: اسے الگ لے جاؤ دیکھو اگر اس کے ناف کے نیچے بال ہوں تو قتل کر دو ورنہ قیدیوں میں بٹھادو ۔ دیکھا تو میں بچہ ہی تھا زندہ چھوڑ دیا گیا۔ [سنن ابوداود:4404، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ان کی زمین گھر ان کے مال کے مالک مسلمان بن گئے بلکہ اس زمین کے بھی جو اب تک پڑی تھی اور جہاں مسلمان کے نشان قدم بھی نہ پڑے تھے یعنی خیبر کی زمین یا مکہ شریف کی زمین۔ یا فارس یا روم کی زمین اور ممکن ہے کہ یہ کل خطے مراد ہوں اللہ بڑی قدرتوں والا ہے۔

صفحہ نمبر7002

مسند احمد میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ خندق والے دن میں لشکر کا کچھ حال معلوم کرنے نکلی۔ مجھے اپنے پیچھے سے کسی کے بہت تیز آنے کی آہٹ اور اس کے ہتھیاروں کی جھنکار سنائی دی میں راستے سے ہٹ کر ایک جگہ بیٹھ گئی دیکھا کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ لشکر کی طرف جا رہے ہیں اور ان کے ساتھ ان کے بھائی حارث بن اوس رضی اللہ عنہ تھے جن کے ہاتھ میں ان کی ڈھال تھی۔ سعد رضی اللہ عنہ لوہے کی زرہ پہنے ہوئے تھے لیکن بڑے لانبے چوڑے تھے زرہ پورے بدن پر نہیں آئی تھی ہاتھ کھلے تھے اشعار رجز پڑھتے ہوئے جھومتے جھامتے چلے جا رہے تھے میں یہاں سے اور آگے بڑھی اور ایک باغیچے میں چلی گئی۔ وہاں کچھ مسلمان موجود تھے جن میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے اور ایک اور صاحب جو خود اوڑھے ہوئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھ لیا پس پھر کیا تھا؟ بڑے ہی بگڑے اور مجھ سے فرمانے لگے ”یہ دلیری؟ تم نہیں جانتیں لڑائی ہو رہی ہے؟ اللہ جانے کیا نتیجہ ہو؟ تم کیسے یہاں چلی آئیں وغیرہ وغیرہ۔‏“ جو صاحب مغفر سے اپنا منہ چھپائے ہوئے تھے انہوں نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی یہ باتیں سن کر اپنے سر سے لوہے کا ٹوپ اتارا دیکھا اب میں پہچان گئی کہ وہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو خاموش کیا کہ کیا ملامت شروع کر رکھی ہے نتیجے کا کیا ڈر ہے؟ کیوں تمہیں اتنی گھبراہٹ ہے؟ کوئی بھاگ کے جائے گا کہاں؟ سب کچھ اللہ کے ہاتھ ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ کو ایک قریشی نے تاک کر تیر لگایا اور کہا لے میں ابن عرقہ ہوں۔ سعد رضی اللہ عنہ کی رگ اکحل پر وہ تیر پڑا اور پیوست ہوگیا۔ خون کے فوارے چھوٹ گئے اسی وقت آپ رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ ”اے اللہ مجھے موت نہ دینا جب تک بنو قریظہ کی تباہی اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں۔‏“ اللہ کی شان سے اسی وقت خون تھم گیا۔ مشرکین کو ہواؤں نے بھگادیا اور اللہ نے مومنوں کی کفایت کر دی ابوسفیان اور اس کے ساتھی تو بھاگ کر تہامہ میں چلے گئے عیینہ بن بدر اس کے ساتھی نجد میں چلے گئے۔ بنو قریظہ اپنے قلعہ میں جا کر پنا گزین ہو گئے۔ میدان خالی دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں واپس تشریف لے آئے۔

صفحہ نمبر7003

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں ہی چمڑے کا ایک خیمہ نصب کیا گیا، اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے آپ کا چہرہ گرد آلود تھا، فرمانے لگے ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار کھول دئیے؟ حالانکہ فرشتے اب تک ہتھیار بند ہیں۔ اٹھئے بنو قریظہ سے بھی فیصلہ کر لیجئے ان پر چڑھائی کیجئے۔‏“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً ہتھیار لگا لیے اور صحابہ میں بھی کوچ کی منادی کرا دی۔ بنو تمیم کے مکانات مسجد نبوی سے متصل ہی تھے راہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیوں بھئی؟ کسی کو جاتے ہوئے دیکھا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ابھی ابھی دحیہ کلبی رضی اللہ عنہا گئے ہیں۔ حالانکہ تھے تو وہ جبرائیل علیہ السلام لیکن آپ کی ڈاڑھی چہرہ وغیرہ بالکل دحیہ کلبی سے ملتا جلتا تھا۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جا کر بنو قریظہ کے قلعہ کا محاصرہ کیا پچیس روز تک یہ محاصرہ جاری رہا۔ جب وہ گھبرائے اور تنگ آ گئے تو ان سے کہا گیا کہ قلعہ ہمیں سونپ دو اور تم اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر دو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے بارے میں جو چاہیں گے فیصلہ فرما دیں گے۔ انہوں نے ابولبابہ بن عبدالمنذر سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا اس صورت میں تو اپنی جان سے ہاتھ دھولینا ہے۔ انہوں نے یہ معلوم کر کے اسے تو نامنظور کر دیا اور کہنے لگے ہم قلعہ خالی کر دیتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فوج کو قبضہ دیتے ہیں ہمارے بارے کا فیصلہ ہم سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی منظور فرما لیا۔ سعد رضی اللہ عنہ کو بلایا آپ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے گدھے پر سوار تھے جس پر کھجور کے درخت کی چھال کی گدی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ اس پر بمشکل سوار کرادیئے گئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی قوم آپ کو گھیرے ہوئے تھی اور سمجھارہی تھی کہ دیکھو بنو قریظہ ہمارے حلیف ہیں ہمارے دوست ہیں ہماری موت زیست کے شریک ہیں اور ان کے تعلقات جو ہم سے ہیں وہ آپ رضی اللہ عنہ پر پوشیدہ نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ خاموشی سے سب کی باتیں سنتے جاتے تھے جب ان کے محلہ میں پہنچے تو ان کی طرف نظر ڈالی اور کہا ”وقت آگیا کہ میں اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی مطلقاً پرواہ نہ کروں۔‏“

صفحہ نمبر7004

جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کے پاس ان کی سواری پہنچی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے سید کی طرف اٹھو اور انہیں اتارو ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہمارا سید تو اللہ ہی ہے۔‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتارو ۔ لوگوں نے مل جل کر انہیں سواری سے اتارا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سعد (‏رضی اللہ عنہ) ان کے بارے میں جو حکم کرنا چاہو کر دو ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ان کے بڑے قتل کر دئیے جائیں اور ان کے چھوٹے غلام بنائیے جائیں ان کا مال تقسیم کر لیا جائے۔‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سعد (‏رضی اللہ عنہ) تم نے اس حکم میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری موافقت کی ۔ پھر سعد رضی اللہ عنہ نے دعا مانگی کہ ”اے اللہ اگر تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قریش کی کوئی اور چڑھائی ابھی باقی ہو تو مجھے اس کی شمولیت کے لیے زندہ رکھ ورنہ اپنی طرف بلالے۔‏“ اسی وقت زخم سے خون بہنے لگا حالانکہ وہ پورا بھر چکا تھا یونہی سا باقی تھا چنانچہ انہیں پھر اسی خیمے میں پہنچا دیا گیا اور آپ وہیں شہد ہو گئے رضی اللہ عنہ۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر عمر رضی اللہ عنہم وغیرہ بھی آئے سب رو رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آواز عمر رضی اللہ عنہ کی آواز میں پہچان بھی ہو رہی تھی میں اس وقت اپنے حجرے میں تھی۔ فی الواقع اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی تھے جیسے اللہ نے فرمایا آیت «مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ» [48-الفتح:29] ‏ ” آپس میں ایک دوسرے کی پوری محبت اور ایک دوسرے سے الفت رکھنے والے تھے “۔ علقمہ رضی اللہ نے پوچھا ام المؤمنین یہ تو فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح رویا کرتے تھے؟ فرمایا ”آپ کی آنکھیں کسی پر آنسو نہیں بہاتی تھیں ہاں غم ورنج کے موقعہ پر آپ داڑھی مبارک اپنی مٹھی میں لے لیتے تھے“ ۔ [صحیح بخاری:4122] ‏

صفحہ نمبر7005

کفار نے عین موقعہ پر دھوکہ دیا ٭٭

اتنا ہم پہلے لکھ چکے ہیں جب مشرکین و یہود کے لشکر مدینے پر آئے اور انہوں نے گھیرا ڈالا تو بنو قریظہ کے یہودی جو مدینے میں تھے اور جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد و پیمان ہو چکا تھا انہوں نے بھی عین موقعہ پر بے وفائی کی اور عہد توڑ کر آنکھیں دکھانے لگے ان کا سردار کعب بن اسد باتوں میں آگیا اور حی بن اخطب خبیث نے اسے بدعہدی پر آمادہ کر دیا۔ پہلے تو یہ نہ مانا اور اپنے عہد پر قائم رہا حی نے کہا کہ دیکھ تو سہی میں تو تجھے عزت کا تاج پہنانے آیا ہوں۔ قریش اور ان کے ساتھی غطفان اور ان کے ساتھی اور ہم سب ایک ساتھ ہیں۔ ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ جب تک ایک ایک مسلمان کا قیمہ نہ کر لیں یہاں سے نہیں ہٹنے کے کعب چونکہ جہاندیدہ شخص تھا اس نے جواب دیا کہ محض غلط ہے۔ یہ تمہارے بس کے نہیں تو ہمیں ذلت کا طوق پہنانے آیا ہے۔ تو بڑا منحوس شخص ہے میرے سامنے سے ہٹ جا اور مجھے اپنی مکاری کا شکار نہ بنا لیکن حی پھر بھی نہ ٹلا اور اسے سمجھاتا بجھاتا رہا۔

آخر میں کہا سن اگر بالفرض قریش اور غطفان بھاگ بھی جائیں تو میں مع اپنی جماعت کے تیری گڑھی میں آ جاؤں گا اور جو کچھ تیرا اور تیری قوم کا حال ہو گا۔ وہی میرا اور میری قوم کا حال ہو گا۔ بالآخر کعب پر حی کا جادو چل گیا اور بنو قریظہ نے صلح توڑ دی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو سخت صدمہ ہوا اور بہت ہی بھاری پڑا۔

پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے غلاموں کی مدد کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مع اصحاب رضی اللہ عنہم کے مظفر و منصور مدینے شریف کو واپس آئے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ہتھیار کھول دئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہتھیار اتاکر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گرد و غبار سے پاک صاف ہونے کے لیے غسل کرنے کو بیٹھے ہی تھے جو جبرائیل علیہ السلام ظاہر ہوئے آپ کے سر پر ریشمی عمامہ تھا خچر پر سوار تھے جس پر ریشمی گدی تھی فرمانے لگے کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمر کھول لی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔

صفحہ نمبر6997

حضرت جبرائیل نے فرمایا ”لیکن فرشتوں نے اب تک اپنے ہتھیار الگ نہیں کئے۔ میں کافروں کے تعاقب سے ابھی ابھی آ رہا ہوں سنئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ بنو قریظہ کی طرف چلئے اور ان کی پوری گوشمالی کیجئے۔ مجھے بھی اللہ کا حکم مل چکا ہے کہ میں انہیں تھرادوں۔‏“

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے تیار ہو کر صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو حکم دیا اور فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک عصر کی نماز بنو قریظہ میں ہی پڑھے ۔ ظہر کے بعد یہ حکم ملا تھا بنو قریظہ کا قلعہ یہاں سے کئی میل پر تھا۔ نماز کا وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کو راستہ میں آ گیا۔ تو بعض نے تو نماز ادا کر لی اور کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم تیز چلیں۔ اور بعض نے کہا ہم تو وہاں پہنچے بغیر نماز نہیں پڑھیں گے۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں سے کسی کو ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پر ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے ہاتھ لشکر کا جھنڈادیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ رضی اللہ عنہام اجمعین کے پیچھے پیچھے بنو قریظہ کی طرف چلے اور جا کر ان کے قلعہ کو گھیر لیا۔ یہ محاصرہ پچیس روز تک رہا۔

جب یہودیوں کے ناک میں دم آ گیا اور تنگ حال ہو گئے تو انہوں نے اپنا حاکم سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بنایا جو قبیلہ اوس کے سردار تھے۔ بنو قریظہ میں اور قبیلہ اوس میں زمانہ جاہلیت میں اتفاق و یگانگت تھی ایک دوسرے کے حلیف تھے اس لیے ان یہودیوں کو یہ خیال رہا کہ سعد رضی اللہ عنہ ہمارا لحاظ اور پاس کریں گے جیسے کہ عبداللہ بن ابی سلول نے بنو قینقاع کو چھڑوایا تھا۔

صفحہ نمبر6998

ادھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی یہ حالت تھی کہ جنگ خندق میں انہیں اکحل کی رگ میں ایک تیر لگا تھا جس سے خون جاری تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زخم پر داغ لگوایا تھا اور مسجد کے خیمے میں ہی انہیں رکھا تھا کہ پاس ہی پاس عیادت اور بیمار پر سی کر لیا کریں۔

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جو دعائیں کیں ان میں ایک دعا یہ تھی کہ ”اے پروردگار اگر اب بھی کوئی ایسی لڑائی باقی ہے جس میں کفار قریش تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھ آئیں تو تو مجھے زندہ رکھ کہ میں اس میں شرکت کر سکوں اور اگر تو نے کوئی ایک لڑائی بھی ایسی باقی نہیں رکھی تو خیر میرا زخم خون بہاتا رہے لیکن اے میرے رب جب تک میں بنو قریظہ قبیلے کی سرکشی کی سزا سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی نہ کر لوں تو میری موت کو مؤخر فرمانا۔‏“

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ جیسے مستجاب الدعوات کی دعا کی قبولیت کی شان دیکھئیے کہ آپ رضی اللہ عنہ دعا کرتے ہیں ادھر یہودان بنو قریظہ آپ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر اظہار رضا مندی کرکے قلعے کو مسلمانوں کے سپرد کرتے ہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدمی بھیج کر آپ رضی اللہ عنہ کو مدینہ سے بلواتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ آ کر ان کے بارے میں اپنا فیصلہ سنا دیں۔ یہ گدھے پر سوار کرالئے گیے اور سارا قبیلہ ان سے لپٹ گیا کہ دیکھئیے خیال رکھئے گا بنو قریظہ آپ رضی اللہ عنہ کے آدمی ہیں انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ پر بھروسہ کیا ہے وہ آپ رضی اللہ عنہ کے حلیف ہیں آپ کے قوم کے دکھ کے ساتھی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ ان پر رحم فرمائیے گا ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئیے گا۔ دیکھئیے اس وقت ان کا کوئی نہیں وہ آپ رضی اللہ عنہ کے بس میں ہیں وغیرہ لیکن سعد رضی اللہ عنہا محض خاموش تھے کوئی جواب نہیں دیتے تھے۔ ان لوگوں نے مجبور کیا کہ جواب دیں پیچھا ہی نہ چھوڑا۔

آخر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”وقت آگیا ہے کہ سعد (‏رضی اللہ عنہ) اس بات کا ثبوت دے کہ اسے اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں۔‏“ یہ سنتے ہی ان لوگوں کے تو دل ڈوب گئے اور سمجھ لیا کہ بنو قریظہ کی خیر نہیں۔

صفحہ نمبر6999

جب سعد رضی اللہ عنہا کی سواری اس خیمے کے قریب پہنچ گئی جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو اپنے سردار کے استقبال کے لیے اٹھو ، چنانچہ مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ کو عزت واکرام وقعت واحترام سے سواری سے اتارا یہ اس لیے تھا کہ اس وقت آپ رضی اللہ عنہ حاکم کی حیثیت میں تھے ان کے فیصلے پورے ناطق و نافذ سمجھے جائیں۔

آپ رضی اللہ عنہ کے بیٹھتے ہی حضور نے فرمایا کہ یہ لوگ آپ کے فیصلے پر رضامند ہو کر قلعے سے نکل آئیں ہیں اب آپ رضی اللہ عنہ ان کے بارے میں جو چاہیں حکم دیجئیے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا جو میں ان پر حکم کروں وہ پورا ہو گا؟ حضور نے فرمایا: ہاں کیوں نہیں؟ کہا اور اس خیمے والوں پر بھی اس کی تعمیل ضروری ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً پوچھا اور اس طرف والوں پر بھی؟ اور اشارہ اس طرف کیا جس طرف خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور عزت و عظمت کی وجہ سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ہاں اس طرف والوں پر بھی ۔

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اب میرا فیصلہ سنئے ”میں کہتا ہوں بنو قریظہ میں جتنے لوگ لڑنے والے ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کی اولاد کو قید کر لیا جائے ان کے مال قبضے میں لائے جائیں۔‏“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سعد (‏رضی اللہ عنہ)‏ تم نے ان کے بارے میں وہی حکم کیا جو اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان کے اوپر کیا ہے ۔

ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچے مالک اللہ تعالیٰ کا جو حکم تھا وہی سنایا ہے ۔

صفحہ نمبر7000

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے خندقیں کھائی کھدوا کر انہیں بندھا ہوا بلوا کر ان کی گردنیں ماری گئیں۔ یہ گنتی میں سات آٹھ سو تھے ان کی عورتیں نابالغ بچے اور مال لے لیے گئے ۔ [صحیح بخاری:4117] ‏ ہم نے یہ کل واقعات اپنی کتاب السیر میں تفصیل سے لکھ دئیے ہیں۔ «والْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

صفحہ نمبر7001

پس فرماتا ہے کہ ” جن اہل کتاب یعنی یہودیوں نے کافروں کے لشکروں کی ہمت افزائی کی تھی اور ان کا ساتھ دیا تھا ان سے بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے قلعے خالی کرا دئیے “۔

اس قوم قریظہ کے بڑے سردار جن سے ان کی نسل جاری ہوئی تھی اگلے زمانے میں آ کر حجاز میں اسی طمع میں بسے تھے کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ہماری کتابوں میں ہے وہ چونکہ یہیں ہونے والے ہیں تو ہم سب پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی سعادت سے مسعود ہونگے۔ لیکن ان ناحلقوں نے جب اللہ کی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے ان کی تکذیب کی جس کی وجہ سے اللہ کی لعنت ان پر نازل ہوئی۔

«صَیَاصِی» سے مراد قلعے ہیں اسی معنی کے لحاظ سے سینگوں کو بھی «صَیَاصِی» کہتے ہیں اس لیے کہ جانور کے سارے جسم کے اوپر اور سب سے بلند یہی ہوتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ نے رعب ڈال دیا انہوں نے ہی مشرکین کو بھڑکا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھائی کرائی تھی۔ عالم جاہل برابر نہیں ہوتے۔ یہی تھے جنہوں نے مسلمانوں کو جڑوں سے اکھیڑ دینا چاہا تھا لیکن معاملہ برعکس ہو گیا پانسہ پلٹ گیا قوت کمزوری سے اور مراد نامرادی سے بدل گئی۔ نقشہ بگڑ گیا حمایتی بھاگ کھڑے ہوئے۔ یہ بے دست و پا رہ گئے۔ عزت کی خواہش نے ذلت دکھائی مسلمانوں کے برباد کرنے اور پیس ڈالنے کی خواہش نے اپنے تئیں پسوا دیا۔ اور ابھی آخرت کی محرومی باقی ہے۔ کچھ قتل کر دئیے گئے باقی قیدی کر دیئے گئے۔

عطیہ فرظی کا بیان ہے کہ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو میرے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ تردد ہوا۔ فرمایا: اسے الگ لے جاؤ دیکھو اگر اس کے ناف کے نیچے بال ہوں تو قتل کر دو ورنہ قیدیوں میں بٹھادو ۔ دیکھا تو میں بچہ ہی تھا زندہ چھوڑ دیا گیا۔ [سنن ابوداود:4404، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ان کی زمین گھر ان کے مال کے مالک مسلمان بن گئے بلکہ اس زمین کے بھی جو اب تک پڑی تھی اور جہاں مسلمان کے نشان قدم بھی نہ پڑے تھے یعنی خیبر کی زمین یا مکہ شریف کی زمین۔ یا فارس یا روم کی زمین اور ممکن ہے کہ یہ کل خطے مراد ہوں اللہ بڑی قدرتوں والا ہے۔

صفحہ نمبر7002

مسند احمد میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ خندق والے دن میں لشکر کا کچھ حال معلوم کرنے نکلی۔ مجھے اپنے پیچھے سے کسی کے بہت تیز آنے کی آہٹ اور اس کے ہتھیاروں کی جھنکار سنائی دی میں راستے سے ہٹ کر ایک جگہ بیٹھ گئی دیکھا کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ لشکر کی طرف جا رہے ہیں اور ان کے ساتھ ان کے بھائی حارث بن اوس رضی اللہ عنہ تھے جن کے ہاتھ میں ان کی ڈھال تھی۔ سعد رضی اللہ عنہ لوہے کی زرہ پہنے ہوئے تھے لیکن بڑے لانبے چوڑے تھے زرہ پورے بدن پر نہیں آئی تھی ہاتھ کھلے تھے اشعار رجز پڑھتے ہوئے جھومتے جھامتے چلے جا رہے تھے میں یہاں سے اور آگے بڑھی اور ایک باغیچے میں چلی گئی۔ وہاں کچھ مسلمان موجود تھے جن میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے اور ایک اور صاحب جو خود اوڑھے ہوئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھ لیا پس پھر کیا تھا؟ بڑے ہی بگڑے اور مجھ سے فرمانے لگے ”یہ دلیری؟ تم نہیں جانتیں لڑائی ہو رہی ہے؟ اللہ جانے کیا نتیجہ ہو؟ تم کیسے یہاں چلی آئیں وغیرہ وغیرہ۔‏“ جو صاحب مغفر سے اپنا منہ چھپائے ہوئے تھے انہوں نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی یہ باتیں سن کر اپنے سر سے لوہے کا ٹوپ اتارا دیکھا اب میں پہچان گئی کہ وہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو خاموش کیا کہ کیا ملامت شروع کر رکھی ہے نتیجے کا کیا ڈر ہے؟ کیوں تمہیں اتنی گھبراہٹ ہے؟ کوئی بھاگ کے جائے گا کہاں؟ سب کچھ اللہ کے ہاتھ ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ کو ایک قریشی نے تاک کر تیر لگایا اور کہا لے میں ابن عرقہ ہوں۔ سعد رضی اللہ عنہ کی رگ اکحل پر وہ تیر پڑا اور پیوست ہوگیا۔ خون کے فوارے چھوٹ گئے اسی وقت آپ رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ ”اے اللہ مجھے موت نہ دینا جب تک بنو قریظہ کی تباہی اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں۔‏“ اللہ کی شان سے اسی وقت خون تھم گیا۔ مشرکین کو ہواؤں نے بھگادیا اور اللہ نے مومنوں کی کفایت کر دی ابوسفیان اور اس کے ساتھی تو بھاگ کر تہامہ میں چلے گئے عیینہ بن بدر اس کے ساتھی نجد میں چلے گئے۔ بنو قریظہ اپنے قلعہ میں جا کر پنا گزین ہو گئے۔ میدان خالی دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں واپس تشریف لے آئے۔

صفحہ نمبر7003

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں ہی چمڑے کا ایک خیمہ نصب کیا گیا، اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے آپ کا چہرہ گرد آلود تھا، فرمانے لگے ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار کھول دئیے؟ حالانکہ فرشتے اب تک ہتھیار بند ہیں۔ اٹھئے بنو قریظہ سے بھی فیصلہ کر لیجئے ان پر چڑھائی کیجئے۔‏“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً ہتھیار لگا لیے اور صحابہ میں بھی کوچ کی منادی کرا دی۔ بنو تمیم کے مکانات مسجد نبوی سے متصل ہی تھے راہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیوں بھئی؟ کسی کو جاتے ہوئے دیکھا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ابھی ابھی دحیہ کلبی رضی اللہ عنہا گئے ہیں۔ حالانکہ تھے تو وہ جبرائیل علیہ السلام لیکن آپ کی ڈاڑھی چہرہ وغیرہ بالکل دحیہ کلبی سے ملتا جلتا تھا۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جا کر بنو قریظہ کے قلعہ کا محاصرہ کیا پچیس روز تک یہ محاصرہ جاری رہا۔ جب وہ گھبرائے اور تنگ آ گئے تو ان سے کہا گیا کہ قلعہ ہمیں سونپ دو اور تم اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر دو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے بارے میں جو چاہیں گے فیصلہ فرما دیں گے۔ انہوں نے ابولبابہ بن عبدالمنذر سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا اس صورت میں تو اپنی جان سے ہاتھ دھولینا ہے۔ انہوں نے یہ معلوم کر کے اسے تو نامنظور کر دیا اور کہنے لگے ہم قلعہ خالی کر دیتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فوج کو قبضہ دیتے ہیں ہمارے بارے کا فیصلہ ہم سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی منظور فرما لیا۔ سعد رضی اللہ عنہ کو بلایا آپ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے گدھے پر سوار تھے جس پر کھجور کے درخت کی چھال کی گدی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ اس پر بمشکل سوار کرادیئے گئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی قوم آپ کو گھیرے ہوئے تھی اور سمجھارہی تھی کہ دیکھو بنو قریظہ ہمارے حلیف ہیں ہمارے دوست ہیں ہماری موت زیست کے شریک ہیں اور ان کے تعلقات جو ہم سے ہیں وہ آپ رضی اللہ عنہ پر پوشیدہ نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ خاموشی سے سب کی باتیں سنتے جاتے تھے جب ان کے محلہ میں پہنچے تو ان کی طرف نظر ڈالی اور کہا ”وقت آگیا کہ میں اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی مطلقاً پرواہ نہ کروں۔‏“

صفحہ نمبر7004

جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کے پاس ان کی سواری پہنچی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے سید کی طرف اٹھو اور انہیں اتارو ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہمارا سید تو اللہ ہی ہے۔‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتارو ۔ لوگوں نے مل جل کر انہیں سواری سے اتارا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سعد (‏رضی اللہ عنہ) ان کے بارے میں جو حکم کرنا چاہو کر دو ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ان کے بڑے قتل کر دئیے جائیں اور ان کے چھوٹے غلام بنائیے جائیں ان کا مال تقسیم کر لیا جائے۔‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سعد (‏رضی اللہ عنہ) تم نے اس حکم میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری موافقت کی ۔ پھر سعد رضی اللہ عنہ نے دعا مانگی کہ ”اے اللہ اگر تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قریش کی کوئی اور چڑھائی ابھی باقی ہو تو مجھے اس کی شمولیت کے لیے زندہ رکھ ورنہ اپنی طرف بلالے۔‏“ اسی وقت زخم سے خون بہنے لگا حالانکہ وہ پورا بھر چکا تھا یونہی سا باقی تھا چنانچہ انہیں پھر اسی خیمے میں پہنچا دیا گیا اور آپ وہیں شہد ہو گئے رضی اللہ عنہ۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر عمر رضی اللہ عنہم وغیرہ بھی آئے سب رو رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آواز عمر رضی اللہ عنہ کی آواز میں پہچان بھی ہو رہی تھی میں اس وقت اپنے حجرے میں تھی۔ فی الواقع اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی تھے جیسے اللہ نے فرمایا آیت «مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ» [48-الفتح:29] ‏ ” آپس میں ایک دوسرے کی پوری محبت اور ایک دوسرے سے الفت رکھنے والے تھے “۔ علقمہ رضی اللہ نے پوچھا ام المؤمنین یہ تو فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح رویا کرتے تھے؟ فرمایا ”آپ کی آنکھیں کسی پر آنسو نہیں بہاتی تھیں ہاں غم ورنج کے موقعہ پر آپ داڑھی مبارک اپنی مٹھی میں لے لیتے تھے“ ۔ [صحیح بخاری:4122] ‏

صفحہ نمبر7005

امہات المومنین سے پرسش! دین یا دنیا؟ ٭٭

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” اپنی بیویوں کو دو باتوں میں سے ایک کی قبولیت کا اختیار دیں۔ اگر تم دنیا پر اور اس کی رونق پر مائل ہوئی ہو تو آؤ میں تمہیں اپنے نکاح سے الگ کر دیتا ہوں اور اگر تم تنگی ترشی پر یہاں صبر کر کے اللہ کی خوشی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی چاہتی ہو اور آخرت کی رونق پسند ہے تو صبر و سہار سے میرے ساتھ زندگی گزارو۔ اللہ تمہیں وہاں کی نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا “۔

اللہ آپ کی تمام بیویوں سے جو ہماری مائیں ہیں خوش رہے۔ سب نے اللہ کو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور دار آخرت کو ہی پسند فرمایا جس پر رب راضی ہو اور پھر آخرت کے ساتھ ہی دنیا کی مسرتیں بھی عطا فرمائیں۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور مجھ سے فرمانے لگے کہ میں ایک بات کا تم سے ذکر کرنے والا ہوں تم جواب میں جلدی نہ کرنا اپنے ماں باپ سے مشورہ کر کے جواب دینا ۔ یہ تو آپ جانتے ہی تھے کہ ناممکن ہے کہ میرے والدین مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی کرنے کا مشورہ دیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سنائی۔ میں نے فوراً جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں ماں باپ سے مشورہ کرنے کی کون سی بات ہے۔ مجھے اللہ پسند ہے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند ہیں اور آخرت کا گھر پسند ہے ۔ [صحیح بخاری:4785] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور تمام بیویوں نے بھی وہی کیا جو میں نے کیا تھا ۔ [صحیح بخاری:4786] ‏

اور روایت میں ہے کہ تین دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ دیکھو بغیر اپنے ماں باپ سے مشورہ کئے کوئی فیصلہ نہ کر لینا ، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا جواب سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور ہنس دیئے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28464:] ‏

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری ازواج مطہرات کے حجروں میں تشریف لے گئے ان سے پہلے ہی فرما دیتے تھے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تو یہ جواب دیا ہے وہ کہتی تھیں یہی جواب ہمارا بھی ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28465:] ‏

فرماتی ہیں کہ اس اختیار کے بعد جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کیا تو اختیار طلاق میں شمار نہیں ہوا ۔ [صحیح بخاری:5262] ‏

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونا چاہا لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف فرما تھے اجازت ملی نہیں۔ اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی آگئے اجازت چاہی لیکن انہیں بھی اجازت نہ ملی تھوڑی دیر میں دونوں کو یاد فرمایا گیا۔ گئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا دیکھو میں اللہ کے پیغمبر کو ہنسا دیتا ہوں۔

صفحہ نمبر7007

پھر کہنے لگے ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے میری بیوی نے آج مجھ سے روپیہ پیسہ مانگا میرے پاس تھا نہیں جب زیادہ ضد کرنے لگیں تو میں نے اٹھ کر گردن ناپی۔‏“ یہ سنتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمانے لگے یہاں بھی یہی قصہ ہے دیکھو یہ سب بیٹھی ہوئی مجھ سے مال طلب کر رہی ہیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف لپکے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف اور فرمانے لگے ”افسوس تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ مانگتی ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں۔‏“ وہ تو کہئے خیر گزری جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک لیا ورنہ عجب نہیں دونوں بزرگ اپنی اپنی صاحبزادیوں کو مارتے۔ اب تو سب بیویاں کہنے لگیں کہ اچھا قصور ہوا اب سے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز اس طرح تنگ نہ کریں گی۔ اب یہ آیتیں اتریں اور دنیا اور آخرت کی پسندیدگی میں اختیار دیا گیا۔ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے آخرت کو پسند کیا جیسے کہ تفصیل وار بیان گزر چکا۔ ساتھ ہی درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی سے یہ نہ فرمائیے گا کہ ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کیا۔‏“

صفحہ نمبر7008

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اللہ نے مجھے چھپانے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ میں سکھانے والا آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں مجھ سے تو جو دریافت کرے گی میں صاف صاف بتا دوں گا ۔ [صحیح مسلم:1478] ‏

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ طلاق کا اختیار نہیں دیا گیا تھا بلکہ دنیا یا آخرت کی ترجیح کا اختیار دیا تھا [مسند احمد:78/1:ضعیف] ‏

لیکن اس کی سند میں بھی انقطاع ہے اور یہ آیت کے ظاہری لفظوں کے بھی خلاف ہے کیونکہ پہلی آیت کے آخر میں صاف موجود ہے کہ ” آؤ میں تمہارے حقوق ادا کر دوں اور تمہیں رہائی دے دوں “۔ اس میں علماء کرام کا گو اختلاف ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم طلاق دے دیں تو پھر کسی کو ان سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ لیکن صحیح قول یہ ہے کہ جائز ہے تاکہ اس طلاق سے وہ نتیجہ ملے یعنی دنیا طلبی اور دنیا کی زینت و رونق وہ انہیں حاصل ہو سکے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

جب یہ آیت اتری اور جب اس کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہن کو سنایا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں۔ پانچ تو قریش سے تعلق رکھتی تھیں عائشہ، حفصہ، سودہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہن اور صفیہ بنت جی قبیلہ نضر سے تھیں، میمونہ بنت حارث ہلالیہ تھیں، زینب بنت حجش اسدیہ تھیں اور جویریہ بنت حارث جو مصطلقیہ تھیں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ اَجْمَعِیْنَ» ۔

صفحہ نمبر7009

امہات المومنین سے پرسش! دین یا دنیا؟ ٭٭

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” اپنی بیویوں کو دو باتوں میں سے ایک کی قبولیت کا اختیار دیں۔ اگر تم دنیا پر اور اس کی رونق پر مائل ہوئی ہو تو آؤ میں تمہیں اپنے نکاح سے الگ کر دیتا ہوں اور اگر تم تنگی ترشی پر یہاں صبر کر کے اللہ کی خوشی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی چاہتی ہو اور آخرت کی رونق پسند ہے تو صبر و سہار سے میرے ساتھ زندگی گزارو۔ اللہ تمہیں وہاں کی نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا “۔

اللہ آپ کی تمام بیویوں سے جو ہماری مائیں ہیں خوش رہے۔ سب نے اللہ کو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور دار آخرت کو ہی پسند فرمایا جس پر رب راضی ہو اور پھر آخرت کے ساتھ ہی دنیا کی مسرتیں بھی عطا فرمائیں۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور مجھ سے فرمانے لگے کہ میں ایک بات کا تم سے ذکر کرنے والا ہوں تم جواب میں جلدی نہ کرنا اپنے ماں باپ سے مشورہ کر کے جواب دینا ۔ یہ تو آپ جانتے ہی تھے کہ ناممکن ہے کہ میرے والدین مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی کرنے کا مشورہ دیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سنائی۔ میں نے فوراً جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں ماں باپ سے مشورہ کرنے کی کون سی بات ہے۔ مجھے اللہ پسند ہے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند ہیں اور آخرت کا گھر پسند ہے ۔ [صحیح بخاری:4785] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور تمام بیویوں نے بھی وہی کیا جو میں نے کیا تھا ۔ [صحیح بخاری:4786] ‏

اور روایت میں ہے کہ تین دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ دیکھو بغیر اپنے ماں باپ سے مشورہ کئے کوئی فیصلہ نہ کر لینا ، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا جواب سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور ہنس دیئے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28464:] ‏

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری ازواج مطہرات کے حجروں میں تشریف لے گئے ان سے پہلے ہی فرما دیتے تھے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تو یہ جواب دیا ہے وہ کہتی تھیں یہی جواب ہمارا بھی ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28465:] ‏

فرماتی ہیں کہ اس اختیار کے بعد جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کیا تو اختیار طلاق میں شمار نہیں ہوا ۔ [صحیح بخاری:5262] ‏

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونا چاہا لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف فرما تھے اجازت ملی نہیں۔ اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی آگئے اجازت چاہی لیکن انہیں بھی اجازت نہ ملی تھوڑی دیر میں دونوں کو یاد فرمایا گیا۔ گئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا دیکھو میں اللہ کے پیغمبر کو ہنسا دیتا ہوں۔

صفحہ نمبر7007

پھر کہنے لگے ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے میری بیوی نے آج مجھ سے روپیہ پیسہ مانگا میرے پاس تھا نہیں جب زیادہ ضد کرنے لگیں تو میں نے اٹھ کر گردن ناپی۔‏“ یہ سنتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمانے لگے یہاں بھی یہی قصہ ہے دیکھو یہ سب بیٹھی ہوئی مجھ سے مال طلب کر رہی ہیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف لپکے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف اور فرمانے لگے ”افسوس تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ مانگتی ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں۔‏“ وہ تو کہئے خیر گزری جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک لیا ورنہ عجب نہیں دونوں بزرگ اپنی اپنی صاحبزادیوں کو مارتے۔ اب تو سب بیویاں کہنے لگیں کہ اچھا قصور ہوا اب سے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز اس طرح تنگ نہ کریں گی۔ اب یہ آیتیں اتریں اور دنیا اور آخرت کی پسندیدگی میں اختیار دیا گیا۔ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے آخرت کو پسند کیا جیسے کہ تفصیل وار بیان گزر چکا۔ ساتھ ہی درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی سے یہ نہ فرمائیے گا کہ ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کیا۔‏“

صفحہ نمبر7008

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اللہ نے مجھے چھپانے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ میں سکھانے والا آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں مجھ سے تو جو دریافت کرے گی میں صاف صاف بتا دوں گا ۔ [صحیح مسلم:1478] ‏

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ طلاق کا اختیار نہیں دیا گیا تھا بلکہ دنیا یا آخرت کی ترجیح کا اختیار دیا تھا [مسند احمد:78/1:ضعیف] ‏

لیکن اس کی سند میں بھی انقطاع ہے اور یہ آیت کے ظاہری لفظوں کے بھی خلاف ہے کیونکہ پہلی آیت کے آخر میں صاف موجود ہے کہ ” آؤ میں تمہارے حقوق ادا کر دوں اور تمہیں رہائی دے دوں “۔ اس میں علماء کرام کا گو اختلاف ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم طلاق دے دیں تو پھر کسی کو ان سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ لیکن صحیح قول یہ ہے کہ جائز ہے تاکہ اس طلاق سے وہ نتیجہ ملے یعنی دنیا طلبی اور دنیا کی زینت و رونق وہ انہیں حاصل ہو سکے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

جب یہ آیت اتری اور جب اس کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہن کو سنایا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں۔ پانچ تو قریش سے تعلق رکھتی تھیں عائشہ، حفصہ، سودہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہن اور صفیہ بنت جی قبیلہ نضر سے تھیں، میمونہ بنت حارث ہلالیہ تھیں، زینب بنت حجش اسدیہ تھیں اور جویریہ بنت حارث جو مصطلقیہ تھیں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ اَجْمَعِیْنَ» ۔

صفحہ نمبر7009

امہات المومنین سب سے معزز قرار دے دی گئیں ٭٭

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے یعنی مومنوں کی ماؤں نے جب اللہ کو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آخرت کے پہلے گھر کو پسند کر لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں وہ ہمیشہ کے لیے مقرر ہو چکیں، تو اب جناب باری عز اسمہ اس آیت میں انہیں وعظ فرما رہا ہے اور بتلا دیا ہے کہ ” تمہارا معاملہ عام عورتوں جیسا نہیں ہے۔ اگر بالفرض تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری سے سرتابی اور بدخلقی سرزد ہوئی تو تمہیں دنیا اور آخرت میں عتاب ہوگا چونکہ تمہارے بڑے رتبے ہیں تمہیں گناہوں سے بالکل دور رہنا چاہیئے۔ ورنہ رتبے کے مطابق مشکل بھی بڑھ جائے گی “۔

اللہ پر سب باتیں سہل اور آسان ہیں، یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ فرمان بطور شرط کے ہے اور شرط کا ہونا ضروری نہیں ہوتا جیسے فرمان ہے آیت «لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [39-الزمر:65] ‏، ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر تم شرک کرو گے تو تمہارے اعمال اکارت ہو جائیں گے “۔

نبیوں کا ذکر کرکے فرمایا آیت «وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [6-الأنعام:88] ‏ ” اگر یہ شرک کریں تو ان کی نیکیاں بیکار ہو جائیں “۔

اور آیت میں ہے «قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ» [43-الزخرف:81] ‏ ” اگر رحمان کے اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے عابد ہوں “۔

اور آیت میں ارشاد ہو رہا ہے «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» [39-الزمر:4] ‏، یعنی ” اگر اللہ کو اولاد منظور ہوتی تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا پسند فرما لیتا وہ پاک ہے وہ یکتا اور ایک ہے وہ غالب اور سب پر حکمران ہے “۔

پس ان پانچوں آیتوں میں شرط کے ساتھ بیان ہے لیکن ایسا ہوا نہیں۔ نہ نبیوں سے شرک ہونا ممکن نہ سردار رسولاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ممکن۔ نہ اللہ کی اولاد۔

اسی طرح امہات المؤمنین کی نسبت بھی جو فرمایا کہ ” اگر تم میں سے کوئی کھلی لغو حرکت کرے تو اسے دگنی سزا ہو گی “ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ واقعی ان میں سے کسی نے کوئی ایسی نافرمانی اور بدخلقی کی ہو۔ نعوذ باللہ

صفحہ نمبر7011

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com