John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Ahzaab

Tafsir Ibn Kathir · The Clans · 73 ayat · ayat 31–60 · Quran text →

ازواج مطہرات اامہات المؤمنین کی اطاعت گزاری اور نیک کاری ٭٭

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے عدل و فضل کا بیان فرما رہا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ ” تمہاری اطاعت گزاری اور نیک کاری پر تمہیں دگنا اجر ہے اور تمہارے لیے جنت میں باعزت روزی ہے “۔

کیونکہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منزل میں ہوں گی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی منزل اعلیٰ علیین میں ہے جو تمام لوگوں سے بالا تر ہے۔ اسی کا نام وسیلہ ہے۔ یہ جنت کی سب سے اعلیٰ اور سب سے اونچی منزل ہے جس کی چھت عرش اللہ ہے۔

صفحہ نمبر7012

ارشادات الٰہی کی روشنی میں اسوہ امہات المومنین ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو آداب سکھاتا ہے اور چونکہ تمام عورتیں انہی کے ماتحت ہیں، اس لیے یہ احکام سب مسلمان عورتوں کے لیے ہیں پس فرمایا کہ ” تم میں سے جو پرہیزگاری کریں وہ بہت بڑی فضیلت اور مرتبے والی ہیں۔ مردوں سے جب تمہیں کوئی بات کرنی پڑے تو آواز بنا کر بات نہ کرو کہ جن کے دلوں میں روگ ہے انہیں طمع پیدا ہو۔ بلکہ بات اچھی اور مطابق دستور کرو “۔

پس عورتوں کو غیر مردوں سے نزاکت کے ساتھ خوش آوازی سے باتیں کرنی منع ہیں۔ گھل مل کر وہ صرف اپنے خاوندوں سے ہی کلام کر سکتی ہیں۔ پھر فرمایا ” بغیر کسی ضروری کام کے گھر سے باہر نہ نکلو “۔ مسجد میں نماز کے لیے آنا بھی شرعی ضرورت ہے۔

جیسے کہ حدیث میں ہے اللہ کی لونڈیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو۔ لیکن انہیں چاہیئے کہ سادگی سے جس طرح گھروں میں رہتی ہیں اسی طرح آئیں ۔ [سنن ابوداود:565، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ایک روایت میں ہے کہ ان کے لیے ان کے گھر بہتر ہیں ۔ [سنن ابوداود:567، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند بزار میں ہے کہ عورتوں نے حاضر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جہاد وغیرہ کی کل فضیلتیں مرد ہی لے گئے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے ہم مجاہدین کی فضیلت کو پا سکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو اپنے گھر میں پردے اور عصمت کے ساتھ بیٹھی رہے وہ جہاد کی فضیلت پا لے گی ۔ [مسند بزار:1475:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7013

ترمذی وغیرہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں عورت سر تا پا پردے کی چیز ہے۔ یہ جب گھر سے باہر قدم نکالتی ہے تو شیطان جھانکنے لگتا ہے ۔ [سنن ترمذي:1173، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ سب سے زیادہ اللہ کے قریب اس وقت ہوتی ہے جب یہ اپنے گھر کے اندرونی حجرے میں ہو۔

ابوداؤد وغیرہ میں ہے عورت کی اپنے گھر کی اندرونی کوٹھڑی کی نماز گھر کی نماز سے افضل ہے اور گھر کی نماز صحن کی نماز سے بہتر ہے ۔ [سنن ابوداود:570، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

جاہلیت میں عورتیں بے پردہ پھرا کرتی تھیں اب اسلام بے پردگی کو حرام قرار دیتا ہے۔ ناز سے اٹھلا کر چلنا ممنوع ہے۔ دوپٹہ گلے میں ڈال لیا لیکن اسے لپیٹا نہیں جس سے گردن اور کانوں کے زیور دوسروں کو نظر آئیں، یہ جاہلیت کا بناؤ سنگھار تھا جس سے اس آیت میں روکا گیا ہے۔

صفحہ نمبر7014

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نوح اور ادریس علیہم السلام کی دو نسلیں آباد تھیں۔ ایک تو پہاڑ پر دوسرے نرم زمین پر۔ پہاڑیوں کے مرد خوش شکل تھے عورتیں سیاہ فام تھیں اور زمین والوں کی عورتیں خوبصورت تھیں اور مردوں کے رنگ سانولے تھے۔ ابلیس انسانی صورت اختیار کر کے انہیں بہکانے کے لیے نرم زمین والوں کے پاس آیا اور ایک شخص کا غلام بن کر رہنے لگا۔ پھر اس نے بانسری وضع کی ایک چیز بنائی اور اسے بجانے لگا اس کی آواز پر لوگ لٹو ہو گئے اور پھر بھیڑ لگنے لگی اور ایک دن میلے کا مقرر ہو گیا جس میں ہزار ہا مرد و عورت جمع ہونے لگے۔

اتفاقاً ایک دن ایک پہاڑی آدمی بھی آ گیا اور ان کی عورتوں کو دیکھ کر واپس جا کر اپنے قبیلے والوں میں اس کے حسن کا چرچا کرنے لگا۔ اب وہ لوگ بکثرت آنے لگے اور آہستہ آہستہ ان عورتوں مردوں میں اختلاط بڑھ گیا اور بدکاری اور زناکاری کا عام رواج ہو گیا۔ یہی جاہلیت کا بناؤ ہے جس سے یہ آیت روک رہی ہے۔‏“

ان کاموں سے روکنے کے بعد اب کچھ احکام بیان ہو رہے ہیں کہ ” اللہ کی عبادت میں سب سے بڑی عبادت نماز ہے اس کی پابندی کرو اور بہت اچھی طرح سے اسے ادا کرتی رہو “۔

صفحہ نمبر7015

” اسی طرح مخلوق کے ساتھ بھی نیک سلوک کرو “۔ یعنی زکوٰۃ نکالتی رہو۔ ان خاص احکام کی بجا آوری کا حکم دے کر پھر عام طور پر اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا۔

پھر فرمایا ” اس اہل بیت سے ہر قسم کے میل کچیل کو دور کرنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کا ہو چکا ہے وہ تمہیں بالکل پاک صاف کر دے گا “۔

یہ آیت اس بات پر نص ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ان آیتوں میں اہل بیت میں داخل ہیں۔ اس لیے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں اتری ہے۔ آیت کا شان نزول تو آیت کے حکم میں داخل ہوتا ہی ہے گو بعض کہتے ہیں کہ صرف وہی داخل ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں وہ بھی اور اس کے سوا بھی۔ اور یہ دوسرا قول ہی زیادہ صحیح ہے۔

عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ تو بازاروں میں منادی کرتے پھرتے تھے کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں ہی کے بارے میں خالصتاً نازل ہوئی ہے۔ [ ابن جریر ] ‏۔

صفحہ نمبر7016

ابن ابی حاتم میں عکرمہ رحمہ اللہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ ”جو چاہے مجھ سے مباہلہ کرلے، یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔‏“ اس قول سے اگر یہ مطلب ہے کہ شان نزول یہی ہے اور نہیں، تو یہ تو ٹھیک ہے اور اگر اس سے مراد یہ ہے کہ اہل بیت میں اور کوئی ان کے سوا داخل ہی نہیں تو اس میں نظر ہے اس لیے کہ احادیث سے اہل بیت میں ازواج مطہرات کے سوا اوروں کا داخل ہونا بھی پایا جاتا ہے۔

مسند احمد اور ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے جب نکلتے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر پہنچ کر فرماتے اے اہل بیت نماز کا وقت آ گیا ہے پھر اسی آیت تطہیر کی تلاوت کرتے ۔ [سنن ترمذي:3206، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔

ابن جریر کی ایک اسی حدیث میں سات مہینے کا بیان ہے۔ اس میں ایک راوی ابوداؤد اعمی نفیع بن حارث کذاب ہے۔ یہ روایت ٹھیک نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28491:ضعیف جدا] ‏

صفحہ نمبر7017

مسند میں ہے شداد بن عمار کہتے ہیں میں ایک دن واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اس وقت وہاں کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کا ذکر ہو رہا تھا۔ وہ آپ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہہ رہے تھے میں نے بھی ان کا ساتھ دیا جب وہ لوگ گئے تو مجھ سے سے واثلہ نے فرمایا تونے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہے؟ میں نے کہا ”ہاں میں نے بھی سب کی زبان میں زبان ملائی۔‏“ تو فرمایا ”سن میں نے جو دیکھا ہے تجھے سناتا ہوں۔ میں ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گھر گیا تو معلوم ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں گئے ہوئے ہیں۔ میں ان کے انتظار میں بیٹھا رہا تھوڑی دیر میں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہم بھی ہیں دونوں بچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی تھامے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تو اپنے سامنے بٹھا لیا اور دونوں نواسوں کو اپنے گھٹنوں پر بٹھا لیا اور ایک کپڑے سے ڈھک لیا پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت اور میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں ۔ [مسند احمد:107/4:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7018

دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے یہ دیکھ کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت میں سے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بھی میرے اہل میں سے ہے ۔ واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان میرے لیے بہت ہی بڑی امید کا ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:706/22:صحیح] ‏

اور روایت میں ہے واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جب علی فاطمہ حسن حسین رضی اللہ عنہم اجمعین آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ان پر ڈال کر فرمایا: اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں یا اللہ ان سے ناپاکی کو دور فرما اور انہیں پاک کر دے ۔ میں نے کہا میں بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں تو بھی ۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ میرا مضبوط عمل یہی ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28493:ضعیف] ‏

مسند احمد میں ہے ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے جب فاطمہ رضی اللہ عنہا حریرے کی ایک پتیلی بھری ہوئی لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے میاں کو اور اپنے دونوں بچوں کو بھی بلا لو ۔ چنانچہ وہ بھی آ گئے اور کھانا شروع ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر تھے۔ خیبر کی ایک چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے بچھی ہوئی تھی۔ میں حجرے میں نماز ادا کر رہی تھی جب یہ آیت اتری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر انہیں اڑھا دی اور چادر میں سے ایک ہاتھ نکال کر آسمان کی طرف اٹھا کر یہ دعا کی کہ الٰہی یہ میرے اہل بیت اور حمایتی ہیں تو ان سے ناپاکی دور کر اور انہیں ظاہر کر ۔ میں نے اپنا سر گھر میں سے نکال کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ سب کے ساتھ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً تو بہتری کی طرف ہے، فی الواقع تو خیر کی طرف ہے ۔ [مسند احمد:292/6:صحیح] ‏ اس روایت کے روایوں میں عطا کے استاد کا نام نہیں جو معلم ہو سکے کہ وہ کیسے راوی ہیں باقی راوی ثقہ ہیں۔

صفحہ نمبر7019

دوسری سند سے انہی ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا آیت تطہیر تو میرے گھر میں اتری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں آئے اور فرمایا: کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دینا ۔ تھوڑی دیر میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں۔ اب بھلا میں بیٹی کو باپ سے کیسے روکتی؟ پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے تو نواسے کو نانا سے کون روکے؟ پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے میں نے انہیں بھی نہ روکا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے میں انہیں بھی نہ روک سکی۔ جب یہ سب جمع ہو گئے تو جو چادر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اوڑھے ہوئے تھے اسی میں ان سب کو لے لیا اور کہا الٰہی یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں خوب پاک کر دے ۔ پس یہ آیت اس وقت اتری جبکہ یہ چادر میں جمع ہو چکے تھے میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی؟ لیکن اللہ جانتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خوش نہ ہوئے اور فرمایا: تو خیر کی طرف ہے ۔

مسند کی اور روایت میں ہے کہ میرے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے جب خادم نے آ کر خبر کی کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ایک طرف ہو جاؤ میرے اہل بیت آ گئے ہیں ۔ میں گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئی جب دونوں ننھے بچے اور یہ دونوں صاحب تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں بچوں کو گودی میں لے لیا اور پیار کیا پھر ایک ہاتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گردن میں دوسرا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی گردن میں ڈال کر ان دونوں کو بھی پیار کیا اور ایک سیاہ چادر سب پر ڈال کر فرمایا: یا اللہ تیری طرف نہ کہ آگ کی طرف میں اور میری اہل بیت ۔ میں نے کہا میں بھی؟ فرمایا: ہاں تو بھی ۔ [مسند احمد:296/6:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7020

اور روایت میں ہے کہ میں اس وقت گھر کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی اور میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بھلائی کی طرف ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے ہے ۔ [مسند احمد:304/6:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے میں نے کہا مجھے بھی ان کے ساتھ شامل کر لیجئے تو فرمایا: تو میری اہل ہے ۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیاہ چادر اوڑھے ہوئے ایک دن صبح ہی صبح نکلے اور ان چاروں کو اپنی چادر تلے لے کر یہ آیت پڑھی ۔ [صحیح مسلم:2424] ‏

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک مرتبہ کسی نے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”وہ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب تھے ان کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں جو سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب تھیں۔‏“ پھر چادر کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا ”میں نے قریب جا کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دور رہو تم یقیناً خیر پر ہو ۔ [ابن ابی حاتم] ‏

سیدنا سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اور ان چاروں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28487:ضعیف] ‏ اور سند سے یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہونا مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چاروں کو اپنے کپڑے تلے لے کر فرمایا: یارب یہ میرے اہل ہیں اور میرے اہل بیت ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28501:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7021

صحیح مسلم شریف میں ہے یزید بن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اور حصین بن سیرہ اور عمر بن مسلمہ مل کر زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ حصین کہنے لگے اے زید آپ کو تو بہت سی بھلائیاں مل گئیں۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازیں پڑھیں غرض آپ نے بہت خیر و برکت پا لیا اچھا ہمیں کوئی حدیث تو سناؤ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھتیجے اب میری عمر بڑی ہوگئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ دور ہوگیا۔ بعض باتیں ذہن سے جاتی رہیں۔ اب تم ایسا کرو جو باتیں میں از خود بیان کروں انہیں تم قبول کرلو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو۔ سنو! مکے اور مدینے کے درمیان ایک پانی کی جگہ پر جسے خم کہا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہمیں ایک خطبہ سنایا۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور وعظ و پند کے بعد فرمایا: میں ایک انسان ہوں۔ بہت ممکن ہے کہ میرے پاس میرے رب کا قاصد آئے اور میں اس کی مان لوں میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ پہلی تو کتاب اللہ جس پر ہدایت و نور ہے۔ تم اللہ کی کتابوں کو لو اور اسے مضبوطی سے تھام لو پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ کی بڑی رغبت دلائی اور اس کی طرف ہمیں خوب متوجہ فرمایا۔ پھر فرمایا: اور میری اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں تین مرتبہ یہی کلمہ فرمایا۔ تو حصین نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت نہیں ہیں؟ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت ہیں ہی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت وہ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ کھانا حرام ہے، پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا آل علی، آل عقیل، آل جعفر، آل عباس رضی اللہ عنہم۔ پوچھا کیا ان سب پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ حرام ہے؟ کہا ہاں! ۔ [صحیح مسلم:2408] ‏

دوسری سند سے یہ بھی مروی ہے کہ میں نے پوچھا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی اہل بیت میں داخل ہیں؟ کہا نہیں قسم ہے اللہ کی بیوی کا تو یہ حال ہے کہ وہ اپنے خاوند کے پاس گو عرصہ دراز سے ہو لیکن پھر اگر وہ طلاق دیدے تو اپنے میکے میں اور اپنی قوم میں چلی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت آپ کی اصل اور عصبہ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ حرام ہے ۔ [صحیح مسلم:2048] ‏

صفحہ نمبر7022

اس روایت میں یہی ہے لیکن پہلی روایت ہی اولیٰ ہے اور اسی کو لینا ٹھیک ہے اور اس دوسری میں جو ہے اس سے مراد صرف حدیث میں جن اہل بیت کا ذکر ہے وہ ہے کیونکہ وہاں وہ آل مراد ہے جن پر صدقہ خوری حرام ہے یا یہ کہ مراد صرف بیویاں نہیں ہیں بلکہ وہ مع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آل کے ہیں۔ یہی بات زیادہ راحج ہے اور اس سے اس روایت اور اس سے پہلے کی روایت میں جمع بھی ہو جاتی ہے اور قرآن اور پہلی احادیث میں بھی جمع ہو جاتی ہے لیکن یہ اس صورت میں کہ ان احادیث کی صحت کو تسلیم کر لیا جائے۔ کیونکہ ان کی بعض اسنادوں میں نظر ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔

جس شخص کو نور معرفت حاصل ہو اور قرآن میں تدبر کرنے کی عادت ہو وہ یقیناً بیک نگاہ جان لے گا کہ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بلاشبک و شبہ داخل ہیں اس لیے کہ اوپر سے کلام ہی ان کے ساتھ اور انہی کے بارے میں چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” اللہ کی آیتیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں جن کا درس تمہارے گھروں میں ہو رہا ہے انہیں یاد رکھو اور ان پر عمل کرو “۔

صفحہ نمبر7023

پس اللہ کی آیات اور حکمت سے مراد بقول قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کتاب و سنت ہے۔ پس یہ خاص خصوصیت ہے جو ان کے سوا کسی اور کو نہیں ملی کہ ان کے گھروں میں اللہ کی وحی اور رحمت الٰہی نازل ہوا کرتی ہے اور ان میں بھی یہ شرف ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بطور اولیٰ اور سب سے زیادہ حاصل ہے کیونکہ حدیث شریف میں صاف وارد ہے کہ کسی عورت کے بستر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی نہیں آتی بجز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بسترے کے ۔ [صحیح بخاری:3775] ‏

یہ اس لیے بھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا تھا۔ ان کا بستر بجز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کے لیے نہ تھا۔ پس اس زیادتی درجہ اور بلندی مرتبہ کی وہ صحیح طور پر مستحق تھیں۔ ہاں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ کے اہل بیت ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتے دار بطور اولیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت ہیں۔ جیسے حدیث میں گزر چکا کہ میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں ۔ اس کی مثال میں یہ آیت ٹھیک طور پر پیش ہو سکتی ہے، «لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ» [9-التوبة:108] ‏)‏، کہ یہ اتری تو ہے مسجد قباء کے بارے میں جیسا کہ صاف صاف احادیث میں موجود ہے۔

لیکن صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ اس مسجد سے کون سی مسجد مراد ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ میری ہی مسجد ہے یعنی مسجد نبوی ۔ [صحیح مسلم:1398] ‏

پس جو صفت مسجد قباء میں تھی وہی صفت چونکہ مسجد نبوی میں بھی ہے اس لیے اس مسجد کو بھی اسی نام سے اس آیت کے تحت داخل کر دیا۔

صفحہ نمبر7024

ابن ابی حاتم میں ہے کہ ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نماز پڑھا رہے تھے کہ بنو اسد کا ایک شخص کود کر آیا اور سجدے کی حالت میں آپ رضی اللہ عنہ کے جسم میں خنجر گھونپ دیا جو آپ رضی اللہ عنہ کے نرم گوشت میں لگا جس سے آپ رضی اللہ عنہ کئی مہینے بیمار رہے جب اچھے ہو گئے تو مسجد میں آئے منبر پر بیٹھ کر خطبہ پڑھا جس میں فرمایا ”اے عراقیو! ہمارے بارے میں اللہ کا خوف کیا کرو ہم تمہارے حاکم ہیں، تمہارے مہمان ہیں، ہم اہل بیت ہیں جن کے بارے میں آیت «اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا» [33-الأحزاب:33] ‏، اتری ہے۔‏“

اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے خوب زور دیا اور اس مضمون کو باربار ادا کیا جس سے مسجد والے رونے لگے۔ ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک شامی سے فرمایا تھا ”کیا تونے سورۃ الاحزاب کی آیت تطہیر نہیں پڑھی؟“ اس نے کہا ہاں کیا اس سے مراد تم ہو؟ فرمایا ”ہاں! اللہ تعالیٰ بڑے لطف و کرم والا، بڑے علم اور پوری خبر والا ہے۔ اس نے جان لیا کہ تم اس کے لطف کے اہل ہو، اس لیے اس نے تمہیں یہ نعمتیں عطا فرمائیں اور یہ فضیلتیں تمہیں دیں۔‏“

صفحہ نمبر7025

پس اس آیت کے معنی مطابق تفسیر ابن جریر یہ ہوئے کہ ”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویو! اللہ کی جو نعمت تم پر ہے اسے تم یاد کرو کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں کیا جہاں اللہ کی آیات اور حکمت پڑھی جاتی ہے تمہیں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر اس کا شکر کرنا چاہیئے اور اس کی حمد پڑھنی چاہیئے کہ تم پر اللہ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں آباد کیا “۔

حکمت سے مراد سنت و حدیث ہے۔ اللہ انجام تک سے خبردار ہے۔ اس نے اپنے پورے اور صحیح علم سے جانچ کر تمہیں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بننے کے لیے منتخب کر لیا۔ پس دراصل یہ بھی اللہ کا تم پر احسان ہے جو لطیف و خبیر ہے ہرچیز کے جز و کل سے۔

صفحہ نمبر7026

ارشادات الٰہی کی روشنی میں اسوہ امہات المومنین ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو آداب سکھاتا ہے اور چونکہ تمام عورتیں انہی کے ماتحت ہیں، اس لیے یہ احکام سب مسلمان عورتوں کے لیے ہیں پس فرمایا کہ ” تم میں سے جو پرہیزگاری کریں وہ بہت بڑی فضیلت اور مرتبے والی ہیں۔ مردوں سے جب تمہیں کوئی بات کرنی پڑے تو آواز بنا کر بات نہ کرو کہ جن کے دلوں میں روگ ہے انہیں طمع پیدا ہو۔ بلکہ بات اچھی اور مطابق دستور کرو “۔

پس عورتوں کو غیر مردوں سے نزاکت کے ساتھ خوش آوازی سے باتیں کرنی منع ہیں۔ گھل مل کر وہ صرف اپنے خاوندوں سے ہی کلام کر سکتی ہیں۔ پھر فرمایا ” بغیر کسی ضروری کام کے گھر سے باہر نہ نکلو “۔ مسجد میں نماز کے لیے آنا بھی شرعی ضرورت ہے۔

جیسے کہ حدیث میں ہے اللہ کی لونڈیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو۔ لیکن انہیں چاہیئے کہ سادگی سے جس طرح گھروں میں رہتی ہیں اسی طرح آئیں ۔ [سنن ابوداود:565، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ایک روایت میں ہے کہ ان کے لیے ان کے گھر بہتر ہیں ۔ [سنن ابوداود:567، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند بزار میں ہے کہ عورتوں نے حاضر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جہاد وغیرہ کی کل فضیلتیں مرد ہی لے گئے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے ہم مجاہدین کی فضیلت کو پا سکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو اپنے گھر میں پردے اور عصمت کے ساتھ بیٹھی رہے وہ جہاد کی فضیلت پا لے گی ۔ [مسند بزار:1475:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7013

ترمذی وغیرہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں عورت سر تا پا پردے کی چیز ہے۔ یہ جب گھر سے باہر قدم نکالتی ہے تو شیطان جھانکنے لگتا ہے ۔ [سنن ترمذي:1173، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ سب سے زیادہ اللہ کے قریب اس وقت ہوتی ہے جب یہ اپنے گھر کے اندرونی حجرے میں ہو۔

ابوداؤد وغیرہ میں ہے عورت کی اپنے گھر کی اندرونی کوٹھڑی کی نماز گھر کی نماز سے افضل ہے اور گھر کی نماز صحن کی نماز سے بہتر ہے ۔ [سنن ابوداود:570، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

جاہلیت میں عورتیں بے پردہ پھرا کرتی تھیں اب اسلام بے پردگی کو حرام قرار دیتا ہے۔ ناز سے اٹھلا کر چلنا ممنوع ہے۔ دوپٹہ گلے میں ڈال لیا لیکن اسے لپیٹا نہیں جس سے گردن اور کانوں کے زیور دوسروں کو نظر آئیں، یہ جاہلیت کا بناؤ سنگھار تھا جس سے اس آیت میں روکا گیا ہے۔

صفحہ نمبر7014

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نوح اور ادریس علیہم السلام کی دو نسلیں آباد تھیں۔ ایک تو پہاڑ پر دوسرے نرم زمین پر۔ پہاڑیوں کے مرد خوش شکل تھے عورتیں سیاہ فام تھیں اور زمین والوں کی عورتیں خوبصورت تھیں اور مردوں کے رنگ سانولے تھے۔ ابلیس انسانی صورت اختیار کر کے انہیں بہکانے کے لیے نرم زمین والوں کے پاس آیا اور ایک شخص کا غلام بن کر رہنے لگا۔ پھر اس نے بانسری وضع کی ایک چیز بنائی اور اسے بجانے لگا اس کی آواز پر لوگ لٹو ہو گئے اور پھر بھیڑ لگنے لگی اور ایک دن میلے کا مقرر ہو گیا جس میں ہزار ہا مرد و عورت جمع ہونے لگے۔

اتفاقاً ایک دن ایک پہاڑی آدمی بھی آ گیا اور ان کی عورتوں کو دیکھ کر واپس جا کر اپنے قبیلے والوں میں اس کے حسن کا چرچا کرنے لگا۔ اب وہ لوگ بکثرت آنے لگے اور آہستہ آہستہ ان عورتوں مردوں میں اختلاط بڑھ گیا اور بدکاری اور زناکاری کا عام رواج ہو گیا۔ یہی جاہلیت کا بناؤ ہے جس سے یہ آیت روک رہی ہے۔‏“

ان کاموں سے روکنے کے بعد اب کچھ احکام بیان ہو رہے ہیں کہ ” اللہ کی عبادت میں سب سے بڑی عبادت نماز ہے اس کی پابندی کرو اور بہت اچھی طرح سے اسے ادا کرتی رہو “۔

صفحہ نمبر7015

” اسی طرح مخلوق کے ساتھ بھی نیک سلوک کرو “۔ یعنی زکوٰۃ نکالتی رہو۔ ان خاص احکام کی بجا آوری کا حکم دے کر پھر عام طور پر اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا۔

پھر فرمایا ” اس اہل بیت سے ہر قسم کے میل کچیل کو دور کرنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کا ہو چکا ہے وہ تمہیں بالکل پاک صاف کر دے گا “۔

یہ آیت اس بات پر نص ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ان آیتوں میں اہل بیت میں داخل ہیں۔ اس لیے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں اتری ہے۔ آیت کا شان نزول تو آیت کے حکم میں داخل ہوتا ہی ہے گو بعض کہتے ہیں کہ صرف وہی داخل ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں وہ بھی اور اس کے سوا بھی۔ اور یہ دوسرا قول ہی زیادہ صحیح ہے۔

عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ تو بازاروں میں منادی کرتے پھرتے تھے کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں ہی کے بارے میں خالصتاً نازل ہوئی ہے۔ [ ابن جریر ] ‏۔

صفحہ نمبر7016

ابن ابی حاتم میں عکرمہ رحمہ اللہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ ”جو چاہے مجھ سے مباہلہ کرلے، یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔‏“ اس قول سے اگر یہ مطلب ہے کہ شان نزول یہی ہے اور نہیں، تو یہ تو ٹھیک ہے اور اگر اس سے مراد یہ ہے کہ اہل بیت میں اور کوئی ان کے سوا داخل ہی نہیں تو اس میں نظر ہے اس لیے کہ احادیث سے اہل بیت میں ازواج مطہرات کے سوا اوروں کا داخل ہونا بھی پایا جاتا ہے۔

مسند احمد اور ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے جب نکلتے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر پہنچ کر فرماتے اے اہل بیت نماز کا وقت آ گیا ہے پھر اسی آیت تطہیر کی تلاوت کرتے ۔ [سنن ترمذي:3206، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔

ابن جریر کی ایک اسی حدیث میں سات مہینے کا بیان ہے۔ اس میں ایک راوی ابوداؤد اعمی نفیع بن حارث کذاب ہے۔ یہ روایت ٹھیک نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28491:ضعیف جدا] ‏

صفحہ نمبر7017

مسند میں ہے شداد بن عمار کہتے ہیں میں ایک دن واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اس وقت وہاں کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کا ذکر ہو رہا تھا۔ وہ آپ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہہ رہے تھے میں نے بھی ان کا ساتھ دیا جب وہ لوگ گئے تو مجھ سے سے واثلہ نے فرمایا تونے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہے؟ میں نے کہا ”ہاں میں نے بھی سب کی زبان میں زبان ملائی۔‏“ تو فرمایا ”سن میں نے جو دیکھا ہے تجھے سناتا ہوں۔ میں ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گھر گیا تو معلوم ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں گئے ہوئے ہیں۔ میں ان کے انتظار میں بیٹھا رہا تھوڑی دیر میں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہم بھی ہیں دونوں بچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی تھامے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تو اپنے سامنے بٹھا لیا اور دونوں نواسوں کو اپنے گھٹنوں پر بٹھا لیا اور ایک کپڑے سے ڈھک لیا پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت اور میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں ۔ [مسند احمد:107/4:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7018

دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے یہ دیکھ کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت میں سے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بھی میرے اہل میں سے ہے ۔ واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان میرے لیے بہت ہی بڑی امید کا ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:706/22:صحیح] ‏

اور روایت میں ہے واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جب علی فاطمہ حسن حسین رضی اللہ عنہم اجمعین آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ان پر ڈال کر فرمایا: اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں یا اللہ ان سے ناپاکی کو دور فرما اور انہیں پاک کر دے ۔ میں نے کہا میں بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں تو بھی ۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ میرا مضبوط عمل یہی ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28493:ضعیف] ‏

مسند احمد میں ہے ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے جب فاطمہ رضی اللہ عنہا حریرے کی ایک پتیلی بھری ہوئی لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے میاں کو اور اپنے دونوں بچوں کو بھی بلا لو ۔ چنانچہ وہ بھی آ گئے اور کھانا شروع ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر تھے۔ خیبر کی ایک چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے بچھی ہوئی تھی۔ میں حجرے میں نماز ادا کر رہی تھی جب یہ آیت اتری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر انہیں اڑھا دی اور چادر میں سے ایک ہاتھ نکال کر آسمان کی طرف اٹھا کر یہ دعا کی کہ الٰہی یہ میرے اہل بیت اور حمایتی ہیں تو ان سے ناپاکی دور کر اور انہیں ظاہر کر ۔ میں نے اپنا سر گھر میں سے نکال کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ سب کے ساتھ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً تو بہتری کی طرف ہے، فی الواقع تو خیر کی طرف ہے ۔ [مسند احمد:292/6:صحیح] ‏ اس روایت کے روایوں میں عطا کے استاد کا نام نہیں جو معلم ہو سکے کہ وہ کیسے راوی ہیں باقی راوی ثقہ ہیں۔

صفحہ نمبر7019

دوسری سند سے انہی ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا آیت تطہیر تو میرے گھر میں اتری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں آئے اور فرمایا: کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دینا ۔ تھوڑی دیر میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں۔ اب بھلا میں بیٹی کو باپ سے کیسے روکتی؟ پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے تو نواسے کو نانا سے کون روکے؟ پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے میں نے انہیں بھی نہ روکا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے میں انہیں بھی نہ روک سکی۔ جب یہ سب جمع ہو گئے تو جو چادر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اوڑھے ہوئے تھے اسی میں ان سب کو لے لیا اور کہا الٰہی یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں خوب پاک کر دے ۔ پس یہ آیت اس وقت اتری جبکہ یہ چادر میں جمع ہو چکے تھے میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی؟ لیکن اللہ جانتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خوش نہ ہوئے اور فرمایا: تو خیر کی طرف ہے ۔

مسند کی اور روایت میں ہے کہ میرے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے جب خادم نے آ کر خبر کی کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ایک طرف ہو جاؤ میرے اہل بیت آ گئے ہیں ۔ میں گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئی جب دونوں ننھے بچے اور یہ دونوں صاحب تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں بچوں کو گودی میں لے لیا اور پیار کیا پھر ایک ہاتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گردن میں دوسرا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی گردن میں ڈال کر ان دونوں کو بھی پیار کیا اور ایک سیاہ چادر سب پر ڈال کر فرمایا: یا اللہ تیری طرف نہ کہ آگ کی طرف میں اور میری اہل بیت ۔ میں نے کہا میں بھی؟ فرمایا: ہاں تو بھی ۔ [مسند احمد:296/6:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7020

اور روایت میں ہے کہ میں اس وقت گھر کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی اور میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بھلائی کی طرف ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے ہے ۔ [مسند احمد:304/6:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے میں نے کہا مجھے بھی ان کے ساتھ شامل کر لیجئے تو فرمایا: تو میری اہل ہے ۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیاہ چادر اوڑھے ہوئے ایک دن صبح ہی صبح نکلے اور ان چاروں کو اپنی چادر تلے لے کر یہ آیت پڑھی ۔ [صحیح مسلم:2424] ‏

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک مرتبہ کسی نے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”وہ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب تھے ان کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں جو سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب تھیں۔‏“ پھر چادر کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا ”میں نے قریب جا کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دور رہو تم یقیناً خیر پر ہو ۔ [ابن ابی حاتم] ‏

سیدنا سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اور ان چاروں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28487:ضعیف] ‏ اور سند سے یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہونا مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چاروں کو اپنے کپڑے تلے لے کر فرمایا: یارب یہ میرے اہل ہیں اور میرے اہل بیت ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28501:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7021

صحیح مسلم شریف میں ہے یزید بن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اور حصین بن سیرہ اور عمر بن مسلمہ مل کر زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ حصین کہنے لگے اے زید آپ کو تو بہت سی بھلائیاں مل گئیں۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازیں پڑھیں غرض آپ نے بہت خیر و برکت پا لیا اچھا ہمیں کوئی حدیث تو سناؤ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھتیجے اب میری عمر بڑی ہوگئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ دور ہوگیا۔ بعض باتیں ذہن سے جاتی رہیں۔ اب تم ایسا کرو جو باتیں میں از خود بیان کروں انہیں تم قبول کرلو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو۔ سنو! مکے اور مدینے کے درمیان ایک پانی کی جگہ پر جسے خم کہا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہمیں ایک خطبہ سنایا۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور وعظ و پند کے بعد فرمایا: میں ایک انسان ہوں۔ بہت ممکن ہے کہ میرے پاس میرے رب کا قاصد آئے اور میں اس کی مان لوں میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ پہلی تو کتاب اللہ جس پر ہدایت و نور ہے۔ تم اللہ کی کتابوں کو لو اور اسے مضبوطی سے تھام لو پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ کی بڑی رغبت دلائی اور اس کی طرف ہمیں خوب متوجہ فرمایا۔ پھر فرمایا: اور میری اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں تین مرتبہ یہی کلمہ فرمایا۔ تو حصین نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت نہیں ہیں؟ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت ہیں ہی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت وہ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ کھانا حرام ہے، پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا آل علی، آل عقیل، آل جعفر، آل عباس رضی اللہ عنہم۔ پوچھا کیا ان سب پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ حرام ہے؟ کہا ہاں! ۔ [صحیح مسلم:2408] ‏

دوسری سند سے یہ بھی مروی ہے کہ میں نے پوچھا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی اہل بیت میں داخل ہیں؟ کہا نہیں قسم ہے اللہ کی بیوی کا تو یہ حال ہے کہ وہ اپنے خاوند کے پاس گو عرصہ دراز سے ہو لیکن پھر اگر وہ طلاق دیدے تو اپنے میکے میں اور اپنی قوم میں چلی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت آپ کی اصل اور عصبہ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ حرام ہے ۔ [صحیح مسلم:2048] ‏

صفحہ نمبر7022

اس روایت میں یہی ہے لیکن پہلی روایت ہی اولیٰ ہے اور اسی کو لینا ٹھیک ہے اور اس دوسری میں جو ہے اس سے مراد صرف حدیث میں جن اہل بیت کا ذکر ہے وہ ہے کیونکہ وہاں وہ آل مراد ہے جن پر صدقہ خوری حرام ہے یا یہ کہ مراد صرف بیویاں نہیں ہیں بلکہ وہ مع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آل کے ہیں۔ یہی بات زیادہ راحج ہے اور اس سے اس روایت اور اس سے پہلے کی روایت میں جمع بھی ہو جاتی ہے اور قرآن اور پہلی احادیث میں بھی جمع ہو جاتی ہے لیکن یہ اس صورت میں کہ ان احادیث کی صحت کو تسلیم کر لیا جائے۔ کیونکہ ان کی بعض اسنادوں میں نظر ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔

جس شخص کو نور معرفت حاصل ہو اور قرآن میں تدبر کرنے کی عادت ہو وہ یقیناً بیک نگاہ جان لے گا کہ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بلاشبک و شبہ داخل ہیں اس لیے کہ اوپر سے کلام ہی ان کے ساتھ اور انہی کے بارے میں چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” اللہ کی آیتیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں جن کا درس تمہارے گھروں میں ہو رہا ہے انہیں یاد رکھو اور ان پر عمل کرو “۔

صفحہ نمبر7023

پس اللہ کی آیات اور حکمت سے مراد بقول قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کتاب و سنت ہے۔ پس یہ خاص خصوصیت ہے جو ان کے سوا کسی اور کو نہیں ملی کہ ان کے گھروں میں اللہ کی وحی اور رحمت الٰہی نازل ہوا کرتی ہے اور ان میں بھی یہ شرف ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بطور اولیٰ اور سب سے زیادہ حاصل ہے کیونکہ حدیث شریف میں صاف وارد ہے کہ کسی عورت کے بستر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی نہیں آتی بجز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بسترے کے ۔ [صحیح بخاری:3775] ‏

یہ اس لیے بھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا تھا۔ ان کا بستر بجز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کے لیے نہ تھا۔ پس اس زیادتی درجہ اور بلندی مرتبہ کی وہ صحیح طور پر مستحق تھیں۔ ہاں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ کے اہل بیت ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتے دار بطور اولیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت ہیں۔ جیسے حدیث میں گزر چکا کہ میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں ۔ اس کی مثال میں یہ آیت ٹھیک طور پر پیش ہو سکتی ہے، «لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ» [9-التوبة:108] ‏)‏، کہ یہ اتری تو ہے مسجد قباء کے بارے میں جیسا کہ صاف صاف احادیث میں موجود ہے۔

لیکن صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ اس مسجد سے کون سی مسجد مراد ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ میری ہی مسجد ہے یعنی مسجد نبوی ۔ [صحیح مسلم:1398] ‏

پس جو صفت مسجد قباء میں تھی وہی صفت چونکہ مسجد نبوی میں بھی ہے اس لیے اس مسجد کو بھی اسی نام سے اس آیت کے تحت داخل کر دیا۔

صفحہ نمبر7024

ابن ابی حاتم میں ہے کہ ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نماز پڑھا رہے تھے کہ بنو اسد کا ایک شخص کود کر آیا اور سجدے کی حالت میں آپ رضی اللہ عنہ کے جسم میں خنجر گھونپ دیا جو آپ رضی اللہ عنہ کے نرم گوشت میں لگا جس سے آپ رضی اللہ عنہ کئی مہینے بیمار رہے جب اچھے ہو گئے تو مسجد میں آئے منبر پر بیٹھ کر خطبہ پڑھا جس میں فرمایا ”اے عراقیو! ہمارے بارے میں اللہ کا خوف کیا کرو ہم تمہارے حاکم ہیں، تمہارے مہمان ہیں، ہم اہل بیت ہیں جن کے بارے میں آیت «اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا» [33-الأحزاب:33] ‏، اتری ہے۔‏“

اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے خوب زور دیا اور اس مضمون کو باربار ادا کیا جس سے مسجد والے رونے لگے۔ ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک شامی سے فرمایا تھا ”کیا تونے سورۃ الاحزاب کی آیت تطہیر نہیں پڑھی؟“ اس نے کہا ہاں کیا اس سے مراد تم ہو؟ فرمایا ”ہاں! اللہ تعالیٰ بڑے لطف و کرم والا، بڑے علم اور پوری خبر والا ہے۔ اس نے جان لیا کہ تم اس کے لطف کے اہل ہو، اس لیے اس نے تمہیں یہ نعمتیں عطا فرمائیں اور یہ فضیلتیں تمہیں دیں۔‏“

صفحہ نمبر7025

پس اس آیت کے معنی مطابق تفسیر ابن جریر یہ ہوئے کہ ”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویو! اللہ کی جو نعمت تم پر ہے اسے تم یاد کرو کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں کیا جہاں اللہ کی آیات اور حکمت پڑھی جاتی ہے تمہیں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر اس کا شکر کرنا چاہیئے اور اس کی حمد پڑھنی چاہیئے کہ تم پر اللہ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں آباد کیا “۔

حکمت سے مراد سنت و حدیث ہے۔ اللہ انجام تک سے خبردار ہے۔ اس نے اپنے پورے اور صحیح علم سے جانچ کر تمہیں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بننے کے لیے منتخب کر لیا۔ پس دراصل یہ بھی اللہ کا تم پر احسان ہے جو لطیف و خبیر ہے ہرچیز کے جز و کل سے۔

صفحہ نمبر7026

ارشادات الٰہی کی روشنی میں اسوہ امہات المومنین ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو آداب سکھاتا ہے اور چونکہ تمام عورتیں انہی کے ماتحت ہیں، اس لیے یہ احکام سب مسلمان عورتوں کے لیے ہیں پس فرمایا کہ ” تم میں سے جو پرہیزگاری کریں وہ بہت بڑی فضیلت اور مرتبے والی ہیں۔ مردوں سے جب تمہیں کوئی بات کرنی پڑے تو آواز بنا کر بات نہ کرو کہ جن کے دلوں میں روگ ہے انہیں طمع پیدا ہو۔ بلکہ بات اچھی اور مطابق دستور کرو “۔

پس عورتوں کو غیر مردوں سے نزاکت کے ساتھ خوش آوازی سے باتیں کرنی منع ہیں۔ گھل مل کر وہ صرف اپنے خاوندوں سے ہی کلام کر سکتی ہیں۔ پھر فرمایا ” بغیر کسی ضروری کام کے گھر سے باہر نہ نکلو “۔ مسجد میں نماز کے لیے آنا بھی شرعی ضرورت ہے۔

جیسے کہ حدیث میں ہے اللہ کی لونڈیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو۔ لیکن انہیں چاہیئے کہ سادگی سے جس طرح گھروں میں رہتی ہیں اسی طرح آئیں ۔ [سنن ابوداود:565، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ایک روایت میں ہے کہ ان کے لیے ان کے گھر بہتر ہیں ۔ [سنن ابوداود:567، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند بزار میں ہے کہ عورتوں نے حاضر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جہاد وغیرہ کی کل فضیلتیں مرد ہی لے گئے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے ہم مجاہدین کی فضیلت کو پا سکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو اپنے گھر میں پردے اور عصمت کے ساتھ بیٹھی رہے وہ جہاد کی فضیلت پا لے گی ۔ [مسند بزار:1475:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7013

ترمذی وغیرہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں عورت سر تا پا پردے کی چیز ہے۔ یہ جب گھر سے باہر قدم نکالتی ہے تو شیطان جھانکنے لگتا ہے ۔ [سنن ترمذي:1173، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ سب سے زیادہ اللہ کے قریب اس وقت ہوتی ہے جب یہ اپنے گھر کے اندرونی حجرے میں ہو۔

ابوداؤد وغیرہ میں ہے عورت کی اپنے گھر کی اندرونی کوٹھڑی کی نماز گھر کی نماز سے افضل ہے اور گھر کی نماز صحن کی نماز سے بہتر ہے ۔ [سنن ابوداود:570، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

جاہلیت میں عورتیں بے پردہ پھرا کرتی تھیں اب اسلام بے پردگی کو حرام قرار دیتا ہے۔ ناز سے اٹھلا کر چلنا ممنوع ہے۔ دوپٹہ گلے میں ڈال لیا لیکن اسے لپیٹا نہیں جس سے گردن اور کانوں کے زیور دوسروں کو نظر آئیں، یہ جاہلیت کا بناؤ سنگھار تھا جس سے اس آیت میں روکا گیا ہے۔

صفحہ نمبر7014

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نوح اور ادریس علیہم السلام کی دو نسلیں آباد تھیں۔ ایک تو پہاڑ پر دوسرے نرم زمین پر۔ پہاڑیوں کے مرد خوش شکل تھے عورتیں سیاہ فام تھیں اور زمین والوں کی عورتیں خوبصورت تھیں اور مردوں کے رنگ سانولے تھے۔ ابلیس انسانی صورت اختیار کر کے انہیں بہکانے کے لیے نرم زمین والوں کے پاس آیا اور ایک شخص کا غلام بن کر رہنے لگا۔ پھر اس نے بانسری وضع کی ایک چیز بنائی اور اسے بجانے لگا اس کی آواز پر لوگ لٹو ہو گئے اور پھر بھیڑ لگنے لگی اور ایک دن میلے کا مقرر ہو گیا جس میں ہزار ہا مرد و عورت جمع ہونے لگے۔

اتفاقاً ایک دن ایک پہاڑی آدمی بھی آ گیا اور ان کی عورتوں کو دیکھ کر واپس جا کر اپنے قبیلے والوں میں اس کے حسن کا چرچا کرنے لگا۔ اب وہ لوگ بکثرت آنے لگے اور آہستہ آہستہ ان عورتوں مردوں میں اختلاط بڑھ گیا اور بدکاری اور زناکاری کا عام رواج ہو گیا۔ یہی جاہلیت کا بناؤ ہے جس سے یہ آیت روک رہی ہے۔‏“

ان کاموں سے روکنے کے بعد اب کچھ احکام بیان ہو رہے ہیں کہ ” اللہ کی عبادت میں سب سے بڑی عبادت نماز ہے اس کی پابندی کرو اور بہت اچھی طرح سے اسے ادا کرتی رہو “۔

صفحہ نمبر7015

” اسی طرح مخلوق کے ساتھ بھی نیک سلوک کرو “۔ یعنی زکوٰۃ نکالتی رہو۔ ان خاص احکام کی بجا آوری کا حکم دے کر پھر عام طور پر اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا۔

پھر فرمایا ” اس اہل بیت سے ہر قسم کے میل کچیل کو دور کرنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کا ہو چکا ہے وہ تمہیں بالکل پاک صاف کر دے گا “۔

یہ آیت اس بات پر نص ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ان آیتوں میں اہل بیت میں داخل ہیں۔ اس لیے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں اتری ہے۔ آیت کا شان نزول تو آیت کے حکم میں داخل ہوتا ہی ہے گو بعض کہتے ہیں کہ صرف وہی داخل ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں وہ بھی اور اس کے سوا بھی۔ اور یہ دوسرا قول ہی زیادہ صحیح ہے۔

عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ تو بازاروں میں منادی کرتے پھرتے تھے کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں ہی کے بارے میں خالصتاً نازل ہوئی ہے۔ [ ابن جریر ] ‏۔

صفحہ نمبر7016

ابن ابی حاتم میں عکرمہ رحمہ اللہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ ”جو چاہے مجھ سے مباہلہ کرلے، یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔‏“ اس قول سے اگر یہ مطلب ہے کہ شان نزول یہی ہے اور نہیں، تو یہ تو ٹھیک ہے اور اگر اس سے مراد یہ ہے کہ اہل بیت میں اور کوئی ان کے سوا داخل ہی نہیں تو اس میں نظر ہے اس لیے کہ احادیث سے اہل بیت میں ازواج مطہرات کے سوا اوروں کا داخل ہونا بھی پایا جاتا ہے۔

مسند احمد اور ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے جب نکلتے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر پہنچ کر فرماتے اے اہل بیت نماز کا وقت آ گیا ہے پھر اسی آیت تطہیر کی تلاوت کرتے ۔ [سنن ترمذي:3206، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔

ابن جریر کی ایک اسی حدیث میں سات مہینے کا بیان ہے۔ اس میں ایک راوی ابوداؤد اعمی نفیع بن حارث کذاب ہے۔ یہ روایت ٹھیک نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28491:ضعیف جدا] ‏

صفحہ نمبر7017

مسند میں ہے شداد بن عمار کہتے ہیں میں ایک دن واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اس وقت وہاں کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کا ذکر ہو رہا تھا۔ وہ آپ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہہ رہے تھے میں نے بھی ان کا ساتھ دیا جب وہ لوگ گئے تو مجھ سے سے واثلہ نے فرمایا تونے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہے؟ میں نے کہا ”ہاں میں نے بھی سب کی زبان میں زبان ملائی۔‏“ تو فرمایا ”سن میں نے جو دیکھا ہے تجھے سناتا ہوں۔ میں ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گھر گیا تو معلوم ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں گئے ہوئے ہیں۔ میں ان کے انتظار میں بیٹھا رہا تھوڑی دیر میں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہم بھی ہیں دونوں بچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی تھامے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تو اپنے سامنے بٹھا لیا اور دونوں نواسوں کو اپنے گھٹنوں پر بٹھا لیا اور ایک کپڑے سے ڈھک لیا پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت اور میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں ۔ [مسند احمد:107/4:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7018

دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے یہ دیکھ کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت میں سے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بھی میرے اہل میں سے ہے ۔ واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان میرے لیے بہت ہی بڑی امید کا ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:706/22:صحیح] ‏

اور روایت میں ہے واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جب علی فاطمہ حسن حسین رضی اللہ عنہم اجمعین آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ان پر ڈال کر فرمایا: اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں یا اللہ ان سے ناپاکی کو دور فرما اور انہیں پاک کر دے ۔ میں نے کہا میں بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں تو بھی ۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ میرا مضبوط عمل یہی ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28493:ضعیف] ‏

مسند احمد میں ہے ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے جب فاطمہ رضی اللہ عنہا حریرے کی ایک پتیلی بھری ہوئی لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے میاں کو اور اپنے دونوں بچوں کو بھی بلا لو ۔ چنانچہ وہ بھی آ گئے اور کھانا شروع ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر تھے۔ خیبر کی ایک چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے بچھی ہوئی تھی۔ میں حجرے میں نماز ادا کر رہی تھی جب یہ آیت اتری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر انہیں اڑھا دی اور چادر میں سے ایک ہاتھ نکال کر آسمان کی طرف اٹھا کر یہ دعا کی کہ الٰہی یہ میرے اہل بیت اور حمایتی ہیں تو ان سے ناپاکی دور کر اور انہیں ظاہر کر ۔ میں نے اپنا سر گھر میں سے نکال کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ سب کے ساتھ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً تو بہتری کی طرف ہے، فی الواقع تو خیر کی طرف ہے ۔ [مسند احمد:292/6:صحیح] ‏ اس روایت کے روایوں میں عطا کے استاد کا نام نہیں جو معلم ہو سکے کہ وہ کیسے راوی ہیں باقی راوی ثقہ ہیں۔

صفحہ نمبر7019

دوسری سند سے انہی ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا آیت تطہیر تو میرے گھر میں اتری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں آئے اور فرمایا: کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دینا ۔ تھوڑی دیر میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں۔ اب بھلا میں بیٹی کو باپ سے کیسے روکتی؟ پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے تو نواسے کو نانا سے کون روکے؟ پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے میں نے انہیں بھی نہ روکا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے میں انہیں بھی نہ روک سکی۔ جب یہ سب جمع ہو گئے تو جو چادر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اوڑھے ہوئے تھے اسی میں ان سب کو لے لیا اور کہا الٰہی یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں خوب پاک کر دے ۔ پس یہ آیت اس وقت اتری جبکہ یہ چادر میں جمع ہو چکے تھے میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی؟ لیکن اللہ جانتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خوش نہ ہوئے اور فرمایا: تو خیر کی طرف ہے ۔

مسند کی اور روایت میں ہے کہ میرے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے جب خادم نے آ کر خبر کی کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ایک طرف ہو جاؤ میرے اہل بیت آ گئے ہیں ۔ میں گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئی جب دونوں ننھے بچے اور یہ دونوں صاحب تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں بچوں کو گودی میں لے لیا اور پیار کیا پھر ایک ہاتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گردن میں دوسرا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی گردن میں ڈال کر ان دونوں کو بھی پیار کیا اور ایک سیاہ چادر سب پر ڈال کر فرمایا: یا اللہ تیری طرف نہ کہ آگ کی طرف میں اور میری اہل بیت ۔ میں نے کہا میں بھی؟ فرمایا: ہاں تو بھی ۔ [مسند احمد:296/6:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7020

اور روایت میں ہے کہ میں اس وقت گھر کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی اور میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بھلائی کی طرف ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے ہے ۔ [مسند احمد:304/6:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے میں نے کہا مجھے بھی ان کے ساتھ شامل کر لیجئے تو فرمایا: تو میری اہل ہے ۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیاہ چادر اوڑھے ہوئے ایک دن صبح ہی صبح نکلے اور ان چاروں کو اپنی چادر تلے لے کر یہ آیت پڑھی ۔ [صحیح مسلم:2424] ‏

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک مرتبہ کسی نے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”وہ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب تھے ان کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں جو سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب تھیں۔‏“ پھر چادر کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا ”میں نے قریب جا کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دور رہو تم یقیناً خیر پر ہو ۔ [ابن ابی حاتم] ‏

سیدنا سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اور ان چاروں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28487:ضعیف] ‏ اور سند سے یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہونا مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چاروں کو اپنے کپڑے تلے لے کر فرمایا: یارب یہ میرے اہل ہیں اور میرے اہل بیت ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28501:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7021

صحیح مسلم شریف میں ہے یزید بن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اور حصین بن سیرہ اور عمر بن مسلمہ مل کر زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ حصین کہنے لگے اے زید آپ کو تو بہت سی بھلائیاں مل گئیں۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازیں پڑھیں غرض آپ نے بہت خیر و برکت پا لیا اچھا ہمیں کوئی حدیث تو سناؤ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھتیجے اب میری عمر بڑی ہوگئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ دور ہوگیا۔ بعض باتیں ذہن سے جاتی رہیں۔ اب تم ایسا کرو جو باتیں میں از خود بیان کروں انہیں تم قبول کرلو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو۔ سنو! مکے اور مدینے کے درمیان ایک پانی کی جگہ پر جسے خم کہا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہمیں ایک خطبہ سنایا۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور وعظ و پند کے بعد فرمایا: میں ایک انسان ہوں۔ بہت ممکن ہے کہ میرے پاس میرے رب کا قاصد آئے اور میں اس کی مان لوں میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ پہلی تو کتاب اللہ جس پر ہدایت و نور ہے۔ تم اللہ کی کتابوں کو لو اور اسے مضبوطی سے تھام لو پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ کی بڑی رغبت دلائی اور اس کی طرف ہمیں خوب متوجہ فرمایا۔ پھر فرمایا: اور میری اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں تین مرتبہ یہی کلمہ فرمایا۔ تو حصین نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت نہیں ہیں؟ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت ہیں ہی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت وہ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ کھانا حرام ہے، پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا آل علی، آل عقیل، آل جعفر، آل عباس رضی اللہ عنہم۔ پوچھا کیا ان سب پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ حرام ہے؟ کہا ہاں! ۔ [صحیح مسلم:2408] ‏

دوسری سند سے یہ بھی مروی ہے کہ میں نے پوچھا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی اہل بیت میں داخل ہیں؟ کہا نہیں قسم ہے اللہ کی بیوی کا تو یہ حال ہے کہ وہ اپنے خاوند کے پاس گو عرصہ دراز سے ہو لیکن پھر اگر وہ طلاق دیدے تو اپنے میکے میں اور اپنی قوم میں چلی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت آپ کی اصل اور عصبہ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ حرام ہے ۔ [صحیح مسلم:2048] ‏

صفحہ نمبر7022

اس روایت میں یہی ہے لیکن پہلی روایت ہی اولیٰ ہے اور اسی کو لینا ٹھیک ہے اور اس دوسری میں جو ہے اس سے مراد صرف حدیث میں جن اہل بیت کا ذکر ہے وہ ہے کیونکہ وہاں وہ آل مراد ہے جن پر صدقہ خوری حرام ہے یا یہ کہ مراد صرف بیویاں نہیں ہیں بلکہ وہ مع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آل کے ہیں۔ یہی بات زیادہ راحج ہے اور اس سے اس روایت اور اس سے پہلے کی روایت میں جمع بھی ہو جاتی ہے اور قرآن اور پہلی احادیث میں بھی جمع ہو جاتی ہے لیکن یہ اس صورت میں کہ ان احادیث کی صحت کو تسلیم کر لیا جائے۔ کیونکہ ان کی بعض اسنادوں میں نظر ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔

جس شخص کو نور معرفت حاصل ہو اور قرآن میں تدبر کرنے کی عادت ہو وہ یقیناً بیک نگاہ جان لے گا کہ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بلاشبک و شبہ داخل ہیں اس لیے کہ اوپر سے کلام ہی ان کے ساتھ اور انہی کے بارے میں چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” اللہ کی آیتیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں جن کا درس تمہارے گھروں میں ہو رہا ہے انہیں یاد رکھو اور ان پر عمل کرو “۔

صفحہ نمبر7023

پس اللہ کی آیات اور حکمت سے مراد بقول قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کتاب و سنت ہے۔ پس یہ خاص خصوصیت ہے جو ان کے سوا کسی اور کو نہیں ملی کہ ان کے گھروں میں اللہ کی وحی اور رحمت الٰہی نازل ہوا کرتی ہے اور ان میں بھی یہ شرف ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بطور اولیٰ اور سب سے زیادہ حاصل ہے کیونکہ حدیث شریف میں صاف وارد ہے کہ کسی عورت کے بستر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی نہیں آتی بجز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بسترے کے ۔ [صحیح بخاری:3775] ‏

یہ اس لیے بھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا تھا۔ ان کا بستر بجز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کے لیے نہ تھا۔ پس اس زیادتی درجہ اور بلندی مرتبہ کی وہ صحیح طور پر مستحق تھیں۔ ہاں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ کے اہل بیت ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتے دار بطور اولیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت ہیں۔ جیسے حدیث میں گزر چکا کہ میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں ۔ اس کی مثال میں یہ آیت ٹھیک طور پر پیش ہو سکتی ہے، «لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ» [9-التوبة:108] ‏)‏، کہ یہ اتری تو ہے مسجد قباء کے بارے میں جیسا کہ صاف صاف احادیث میں موجود ہے۔

لیکن صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ اس مسجد سے کون سی مسجد مراد ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ میری ہی مسجد ہے یعنی مسجد نبوی ۔ [صحیح مسلم:1398] ‏

پس جو صفت مسجد قباء میں تھی وہی صفت چونکہ مسجد نبوی میں بھی ہے اس لیے اس مسجد کو بھی اسی نام سے اس آیت کے تحت داخل کر دیا۔

صفحہ نمبر7024

ابن ابی حاتم میں ہے کہ ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نماز پڑھا رہے تھے کہ بنو اسد کا ایک شخص کود کر آیا اور سجدے کی حالت میں آپ رضی اللہ عنہ کے جسم میں خنجر گھونپ دیا جو آپ رضی اللہ عنہ کے نرم گوشت میں لگا جس سے آپ رضی اللہ عنہ کئی مہینے بیمار رہے جب اچھے ہو گئے تو مسجد میں آئے منبر پر بیٹھ کر خطبہ پڑھا جس میں فرمایا ”اے عراقیو! ہمارے بارے میں اللہ کا خوف کیا کرو ہم تمہارے حاکم ہیں، تمہارے مہمان ہیں، ہم اہل بیت ہیں جن کے بارے میں آیت «اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا» [33-الأحزاب:33] ‏، اتری ہے۔‏“

اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے خوب زور دیا اور اس مضمون کو باربار ادا کیا جس سے مسجد والے رونے لگے۔ ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک شامی سے فرمایا تھا ”کیا تونے سورۃ الاحزاب کی آیت تطہیر نہیں پڑھی؟“ اس نے کہا ہاں کیا اس سے مراد تم ہو؟ فرمایا ”ہاں! اللہ تعالیٰ بڑے لطف و کرم والا، بڑے علم اور پوری خبر والا ہے۔ اس نے جان لیا کہ تم اس کے لطف کے اہل ہو، اس لیے اس نے تمہیں یہ نعمتیں عطا فرمائیں اور یہ فضیلتیں تمہیں دیں۔‏“

صفحہ نمبر7025

پس اس آیت کے معنی مطابق تفسیر ابن جریر یہ ہوئے کہ ”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویو! اللہ کی جو نعمت تم پر ہے اسے تم یاد کرو کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں کیا جہاں اللہ کی آیات اور حکمت پڑھی جاتی ہے تمہیں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر اس کا شکر کرنا چاہیئے اور اس کی حمد پڑھنی چاہیئے کہ تم پر اللہ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں آباد کیا “۔

حکمت سے مراد سنت و حدیث ہے۔ اللہ انجام تک سے خبردار ہے۔ اس نے اپنے پورے اور صحیح علم سے جانچ کر تمہیں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بننے کے لیے منتخب کر لیا۔ پس دراصل یہ بھی اللہ کا تم پر احسان ہے جو لطیف و خبیر ہے ہرچیز کے جز و کل سے۔

صفحہ نمبر7026

اسلام اور ایمان میں فرق اور ذکر الٰہی ٭٭

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ مردوں کا ذکر تو قرآن میں آتا رہتا ہے لیکن عورتوں کا تو ذکر ہی نہیں کیا جاتا؟ ایک دن میں اپنے گھر میں بیٹھی اپنے سر کے بال سلجھا رہی تھی جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز منبر پر سنی میں نے بالوں کو تو یونہی لپیٹ لیا اور حجرے میں آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت یہی آیت تلاوت فرما رہے تھے ۔ [سنن نسائی:425:صحیح] ‏۔

اور بہت سی روایتیں آپ رضی اللہ عنہا سے مختصراً مروی ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ چند عورتوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا تھا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28510:اسنادہ ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے کہ عورتوں نے ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» سے یہ کہا تھا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28505:] ‏

اسلام و ایمان کو الگ الگ بیان کرنا دلیل ہے اس بات کی کہ ایمان اسلام کا غیر ہے اور ایمان اسلام سے مخصوص و ممتاز ہے «قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا» [49-الحجرات:14] ‏ الخ، والی آیت اور بخاری و مسلم کی حدیث کہ زانی زنا کے وقت مومن نہیں ہوتا [صحیح مسلم:2475] ‏ پھر اس پر اجماع کہ زنا سے کفر لازم نہیں آتا۔ یہ اس پر دلیل ہے اور ہم شرح بخاری کی ابتداء میں اسے ثابت کر چکے ہیں۔

(‏یہ یاد رہے کہ ان میں فرق اس وقت ہے جب اسلام حقیقی نہ ہو جیسے کہ امام المحدثین امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے صحیح بخاری کتاب الایمان میں بدلائل کثیرہ ثابت کیا ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ»، مترجم ] ‏۔

صفحہ نمبر7029

قنوت سے مراد سکون کے ساتھ کی اطاعت گزاری ہے جیسے «ا اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَاءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَّقَاىِٕمًا يَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ» [39-الزمر:9] ‏، میں ہے اور فرمان ہے «وَلَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ» [30-الروم:26] ‏ یعنی ” آسمان و زمین کی ہر چیزاللہ کی فرماں بردار ہے “ اور فرماتا ہے «يٰمَرْيَمُ اقْنُتِىْ لِرَبِّكِ وَاسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ» [3-آل عمران:43] ‏، اور فرماتا ہے «وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ» [2-البقرة:238] ‏ یعنی ” اللہ کے سامنے با ادب فرماں برداری کی صورت میں کھڑے ہوا کرو “۔

پس اسلام کے اوپر کا مرتبہ ایمان ہے اور ان کے اجتماع سے انسان میں فرماں برداری اور اطاعت گزاری پیدا ہو جاتی ہے۔ باتوں کی سچائی اللہ کو بہت ہی محبوب ہے اور یہ عادت ہر طرح محمود ہے۔ صحابہ کبار رضی اللہ عنہم میں تو وہ بزرگ بھی تھے جنہوں نے جاہلیت کے زمانے میں بھی کوئی جھوٹ نہیں بولا تھا، سچائی ایمان کی نشانی ہے اور جھوٹ نفاق کی علامت ہے۔ سچا نجات پاتا ہے۔ سچ ہی بولا کرو۔ سچائی نیکی کی طرف رہبری کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف۔ جھوٹ سے بچو۔ جھوٹ بدکاری کی طرف رہبری کرتا ہے اور فسق وفجور انسان کو جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ انسان سچ بولتے بولتے اور سچائی کا قصد کرتے کرتے اللہ کے ہاں صدیق لکھ لیا جاتا ہے اور جھوٹ بولتے ہوئے اور جھوٹ کا قصد کرتے ہوئے اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ لیا جاتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6094] ‏ اور بھی اس بارے کی بہت سی حدیثیں ہیں۔

صبر ثابت قدمی کا نتیجہ ہے۔ مصیبتوں پر صبر ہوتا ہے اس علم پر کہ تقدیر کا لکھا ٹلتا نہیں۔ سب سے زیادہ سخت صبر صدمے کے ابتدائی وقت پر ہے اور اسی کا اجر زیادہ ہے۔ پھر تو جوں جوں زمانہ گزرتا ہے خواہ مخواہ ہی صبر آ جاتا ہے۔ خشوع سے مراد تسکین دلجمعی تواضح فروتنی اور عاجزی ہے۔ یہ انسان میں اس وقت آتی ہے جبکہ دل میں اللہ کا خوف اور رب کو ہر وقت حاضر ناظر جانتا ہو اور اس طرح اللہ کی عبادت کرتا ہو جیسے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے اور یہ نہیں تو کم از کم اس درجے پر وہ ضرور ہو کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔

صفحہ نمبر7030

صدقے سے مراد محتاج ضعیفوں کو جن کی کوئی کمائی نہ ہو نہ جن کا کوئی کمانے والا ہو انہیں اپنا فالتو مال دینا اس نیت سے کہ اللہ کی اطاعت ہو اور اس کی مخلوق کا کام بنے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے عرش تلے سایہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ان میں ایک وہ بھی ہے جو صدقہ دیتا ہے لیکن اسطرح پوشیدہ طور پر کہ داہنے ہاتھ کے خرچ کی بائیں ہاتھ کو خبر نہیں لگتی ۔ [صحیح بخاری:660] ‏

اور حدیث میں ہے صدقہ خطاؤں کو اسطرح مٹا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے ۔ [سنن ترمذي:2616، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور بھی اس بارے کی بہت سی حدیثیں ہیں جو اپنی اپنی جگہ موجود ہیں۔

روزے کی بابت حدیث میں ہے کہ یہ بدن کی زکوٰۃ ہے [سنن ابن ماجه:1745، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یعنی اسے پاک صاف کر دیتا ہے اور طبی طور پر بھی ردی اخلاط کو مٹا دیتا ہے۔

سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”رمضان کے روزے رکھ کر جس نے ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیے وہ «وَالصَّاىِٕـمِيْنَ وَالـﮩـىِٕمٰتِ وَالْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَالذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذّٰكِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا» [33-الأحزاب:35] ‏، میں داخل ہو گیا۔‏“

روزہ شہوت کو بھی جھکا دینے والا ہے۔ حدیث میں ہے اے نوجوانو! تم میں سے جسے طاقت ہو وہ تو اپنا نکاح کر لے تاکہ اس سے نگاہیں نیچی رہیں اور پاک دامنی حاصل ہو جائے اور جسے اپنے نکاح کی طاقت نہ ہو وہ روزے رکھے، یہی اس کے لیے گویا خصی ہونا ہے ۔ [صحیح بخاری:1905] ‏

اسی لیے روزوں کے ذکر کے بعد ہی بدکاری سے بچنے کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ” ایسے مسلمان مرد و عورت حرام سے اور گناہ کے کاموں سے بچتے رہتے ہیں۔ اپنی اس خاص قوت کو جائز جگہ صرف کرتے ہیں “۔

جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ» [23-المؤمنون:7-5] ‏ ” یہ لوگ اپنے بدن کو روکے رہتے ہیں۔ مگر اپنی بیویوں سے اور لونڈیوں سے ان پر کوئی ملامت نہیں۔ ہاں اس کے سوا جو اور کچھ طلب کرے وہ حد سے گزر جانے والا ہے “۔

صفحہ نمبر7031

ذکر اللہ کی نسبت ایک حدیث میں ہے کہ جب میاں اپنی بیوی کو رات کے وقت جگا کر دو رکعت نماز دونوں پڑھ لیں تو وہ اللہ کا ذکر کرنے والوں میں لکھ لیے جاتے ہیں ۔ [سنن ابوداود:1309، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے درجے والا بندہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والا ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ کے مجاہد سے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ کافروں پر تلوار چلائے یہاں تک کہ تلوار ٹوٹ جائے اور وہ خون میں رنگ جائے تب بھی اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرنے والا اس سے افضل ہی رہے گا ۔ [مسند احمد:411/2:حسن] ‏

مسند ہی میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکے کے راستے میں جا رہے تھے جمدان پر پہنچ کر فرمایا: یہ جمدان ہے مفرد بن کر چلو ۔ آگے بڑھنے والوں نے پوچھا مفرد سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ ذکر کرنے والے ۔ پھر فرمایا: اے اللہ حج و عمرے میں اپنا سر منڈوانے والوں پر رحم فرما! ۔ لوگوں نے کہا بال کتروانے والوں کے لیے بھی دعا کیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ سر منڈوانے والوں کو بخش ۔ لوگوں نے پھر کتروانے والوں کے لیے درخواست کی تو،، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کتروانے والے بھی ۔ [صحیح مسلم:2676] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اللہ کے عذابوں سے نجات دینے والا کوئی عمل اللہ کے ذکر سے بڑا نہیں ۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں سب سے بہتر سب سے پاک اور سب سے بلند درجے کا عمل نہ بتاؤں جو تمہارے حق میں سونا چاندی اللہ کی راہ میں لٹانے سے بھی بہتر ہو اور اس سے بھی افضل ہو جب تم کل دشمن سے ملو گے اور ان کی گردنیں مارو گے اور وہ تمہاری گردنیں ماریں گے ۔ لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتلائے فرمایا: اللہ عزوجل کا ذکر ۔ [مسند احمد:239/5:ضعیف] ‏

مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کون سا مجاہد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والا ۔ اس نے پھر روزے دار کی نسبت پوچھا یہی جواب ملا پھر نماز، زکوٰۃ، حج صدقہ، سب کی بابت پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کا یہی جواب دیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا ”پھر اللہ کا ذکر کرنے والے تو بہت ہی بڑھ گئے۔‏“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔ [مسند احمد:438/3:ضعیف] ‏

کثرت ذکر اللہ کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔ اسی سورت کی آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِيْرًا» [33-الأحزاب:41] ‏، کی تفسیر میں ہم ان احادیث کو بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔

پھر فرمایا ” یہ نیک صفتیں جن میں ہوں ہم نے ان کے لیے مغفرت تیار کر رکھی ہے اور اجر عظیم “ یعنی جنت۔

صفحہ نمبر7032

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو رد کرنا گناہ عظیم ہے ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا زید بن حارث رضی اللہ عنہ کا پیغام لے کر زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ انہوں نے کہا ”میں اس سے نکاح نہیں کروں گی۔‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کہو اور ان سے نکاح کر لو ۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ ”اچھا پھر کچھ مہلت دیجئیے میں سوچ لوں۔‏“ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ وحی نازل ہوئی اور یہ آیت اتری۔ اسے سن کر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نکاح سے رضامند ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔ تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ ”بس پھر مجھے کوئی انکار نہیں، میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کروں گی۔ میں نے اپنا نفس ان کے نکاح میں دے دیا“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28513:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ وجہ انکار یہ تھی کہ نسب کے اعتبار سے یہ بہ نسبت سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے زیادہ شریف تھیں۔ زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28516:] ‏

عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”یہ آیت عقبہ بن ابومعیط کی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ صلح حدیبیہ کے بعد سب سے پہلے مہاجر عورت یہی تھی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنا نفس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے قبول ہے ۔ پھر زید بن حارث رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کرا دیا۔ غالباً یہ نکاح زینب رضی اللہ عنہا کی علیحدگی کے بعد ہوا ہوگا۔ اس سے ام کلثوم رضی اللہ عنہا ناراض ہوئیں اور ان کے بھائی بھی بگڑ بیٹھے کہ ہمارا اپنا ارادہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کا تھا نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سے نکاح کرنے کا، اس پر یہ آیت اتری بلکہ اس سے بھی زیادہ معاملہ صاف کر دیا گیا اور فرما دیا گیا کہ «اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا» [33-الأحزاب:6] ‏ ” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ اولیٰ ہیں “۔

پس آیت «وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا» [33-الأحزاب:36] ‏ خاص ہے اور اس سے بھی جامع آیت یہ ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28517:ضعیف] ‏

مسند احمد میں ہے کہ ایک انصاری کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی لڑکی کا نکاح جلیبیب رضی اللہ عنہ سے کر دو ۔ انہوں نے جواب دیا کہ اچھی بات ہے۔ میں اس کی ماں سے بھی مشورہ کر لوں۔ جا کر ان سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا یہ نہیں ہوسکتا، ہم نے فلاں فلاں ان سے بڑے بڑے آدمیوں کے پیغام کو رد کر دیا اور اب جلیبیب رضی اللہ عنہ سے نکاح کر دیں۔ انصاری اپنی بیوی کا یہ جواب سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جانا چاہتے ہی تھے کہ لڑکی جو پردے کے پیچھے سے یہ تمام گفتگو سن رہی تھی بول پڑی کہ ”تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کورد کرتے ہو؟ جب حضور اس سے خوش ہیں تو تمہیں انکار نہ کرنا چاہیے۔‏“ اب دونوں نے کہا کہ بچی ٹھیک کہہ رہی ہے۔ بیچ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس نکاح سے انکار کرنا گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام اور خواہش کو رد کرنا ہے، یہ ٹھیک نہیں۔ چنانچہ انصاری سیدھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ”کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے خوش ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں میں تو اس سے رضامند ہوں ۔ کہا ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکاح کر دیجئیے“، چنانچہ نکاح ہو گیا۔ ایک مرتبہ اہل اسلام مدینہ والے دشمنوں کے مقابلے کے لیے نکلے، لڑائی ہوئی جس میں جلبیب رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے انہوں نے بھی بہت سے کافروں کو قتل کیا تھا جن کی لاشیں ان کے آس پاس پڑی ہوئی تھیں۔ انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”میں نے خود دیکھا ان کا گھر بڑا آسودہ حال تھا۔ تمام مدینے میں ان سے زیادہ خرچیلا کوئی نہ تھا“ ۔ [مسند احمد:136/3:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7033

ایک اور روایت میں سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سیدنا جلبیب رضی اللہ عنہ کی طبیعت خوش مذاق تھی اس لیے میں نے اپنے گھر میں کہہ دیا تھا کہ یہ تمہارے پاس نہ آئیں۔ انصاریوں کی عادت تھی کہ وہ کسی عورت کا نکاح نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ یہ معلوم کر لیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بابت کچھ نہیں فرماتے۔‏“ پھر وہ واقعہ بیان فرمایا جو اوپر مذکور ہوا ۔

اس میں یہ بھی ہے کہ جلیبیب رضی اللہ عنہ نے سات کافروں کو اس غزوے میں قتل کیا تھا۔ پھر کافروں نے یک مشت ہو کر آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو تلاش کرتے ہوئے جب ان کی نعش کے پاس آئے تو فرمایا: سات کو مار کر پھر شہید ہوئے ہیں۔ یہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں ۔ دو یا تین مرتبہ یہی فرمایا پھر قبر کھدوا کر اپنے ہاتھوں پر انہیں اٹھا کر قبر میں اتارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک ہی ان کا جنازہ تھا اور کوئی چارپائی وغیرہ نہ تھی۔ یہ بھی مذکور نہیں کہ انہیں غسل دیا گیا ہو۔ اس نیک بخت انصاریہ عورت کے لیے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی عزت رکھ کر اپنے ماں باپ کو سمجھایا تھا کہ ”انکار نہ کرو۔‏“ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی کہ اللہ اس پر اپنی رحمتوں کی بارش برسا اور اسے زندگی کے پورے لطف عطا فرما ۔ تمام انصار میں ان سے زیادہ خرچ کرنے والی عورت نہ تھی۔ [صحیح مسلم:2472] ‏ انہوں نے جب پردے کے پیچھے سے اپنے والدین سے کہا تھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات رد نہ کرو“ اس وقت یہ آیت «وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا» [33-الأحزاب:36] ‏، نازل ہوئی تھی ۔

صفحہ نمبر7034

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے طاؤس رحمہ اللہ نے پوچھا کہ عصر کے بعد دو رکعت پڑھ سکتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے منع فرمایا اور اسی آیت کی تلاوت کی۔

پس یہ آیت گو شان نزول کے اعتبار سے مخصوص ہے لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے ہوتے ہوئے نہ تو کوئی مخالفت کر سکتا ہے نہ اسے ماننے نہ ماننے کا اختیار کسی کو باقی رہتا ہے۔ نہ رائے اور قیاس کرنے کا حق، نہ کسی اور بات کا۔ جیسے فرمایا «فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا» [4-النساء:65] ‏، یعنی ” قسم ہے تیرے رب کی لوگ ایماندار نہ ہوں گے جب تک کہ وہ آپس کے تمام اختلافات میں تجھے حاکم نہ مان لیں۔ پھر تیرے فرمان سے اپنے دل میں کسی قسم کی تنگی نہ رکھیں بلکہ کھلے دل سے تسلیم کر لیا “۔

صحیح حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو گا جب تک کہ اس کی خواہش اس چیز کی تابعدار نہ بن جائے جسے میں لایا ہوں ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:167،] ‏

اسی لیے یہاں بھی اس کی نافرمانی کی برائی بیان فرما دی کہ ” اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرنے والا کھلم کھلا گمراہ ہے “۔

جیسے فرمان ہے «فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖٓ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» [24-النور:63] ‏ یعنی ” جو لوگ ارشاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلاف کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ ایسا نہ ہو ان پر کوئی فتنہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب ہو “۔

صفحہ نمبر7035

عظمت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ہر طرح سمجھایا۔ ان پر اللہ کا انعام تھا کہ اسلام اور متابعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توفیق دی “۔

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ان پر احسان تھا کہ انہیں غلامی سے آزاد کر دیا۔ یہ بڑی شان والے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ہی پیارے تھے یہاں تک کہ انہیں سب مسلمان «حِبُّ الرَّسُوْل» کہتے تھے۔ ان کے صاحبزادے اسامہ کو بھی «الْحِبُّ ابْنُ الْحِبِّ» کہتے تھے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ جس لشکر میں انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھیجتے تھے اس لشکر کا سردار انہی کو بناتے تھے۔ اگر یہ زندہ رہتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ بن جاتے ۔ [مسند احمد:227/6:حسن] ‏

مسند بزار میں ہے اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں مسجد میں تھا میرے پاس سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما آئے اور مجھ سے کہا جاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے اجازت طلب کرو۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانتے ہو وہ کیوں آئے ہیں؟ میں نے کہا نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: فرمایا لیکن میں جانتا ہوں جاؤ بلا لاؤ ، یہ آئے اور کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذرا بتائیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اہل میں سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری بیٹی فاطمہ (‏رضی اللہ عنہا) ۔ انہوں نے کہا ہم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نہیں پوچھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جن پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے بھی ۔ [سنن ترمذي:3819، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اپنی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کی لڑکی زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا اسدیہ سے کرا دیا تھا۔ دس دینار اور سات درہم مہر دیا تھا، ایک ڈوپٹہ ایک چادر ایک کرتا پچاس مد اناج اور دس مد کھجوریں دی تھیں۔

ایک سال یا کچھ اوپر تک تو یہ گھر بسا لیکن پھر ناچاقی شروع ہو گئی۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر شکایت شروع کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سمجھانے لگے کہ گھر نہ توڑو اللہ سے ڈرو ۔ ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے اس جگہ بہت سے غیر صحیح آثار نقل کئے ہیں جن کا نقل کرنا ہم نامناسب جان کر ترک کرتے ہیں کیونکہ ان میں سے ایک بھی ثابت اور صحیح نہیں۔

مسند احمد میں بھی ایک روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہے لیکن اس میں بھی بڑی غرابت ہے اس لیے ہم نے اسے بھی وارد نہیں کیا۔

صفحہ نمبر7036

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ یہ آیت زینب بنت جحش اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے ۔ [صحیح بخاری:4787] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے دی تھی کہ زینب رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں گی۔ یہی بات تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہر نہ فرمایا اور زید رضی اللہ عنہ کو سمجھایا کہ وہ اپنی بیوی کو الگ نہ کریں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ فرماتی ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر اللہ کی وحی کتاب اللہ میں سے ایک آیت بھی چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپالیتے ۔ [صحیح مسلم:177] ‏

صفحہ نمبر7037

«وَطَرْ» کے معنی حاجت کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب سیدہ زید رضی اللہ عنہ ان سے سیر ہوگئے اور باوجود سمجھانے بجھانے کے بھی میل ملاپ قائم نہ رہ سکا بلکہ طلاق ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے زینب رضی اللہ عنہا کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں دے دیا۔ اس لیے ولی کے ایجاب و قبول سے مہر اور گواہوں کی ضرورت نہ رہی۔

مسند احمد میں ہے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہو چکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم جاؤ اور انہیں مجھ سے نکاح کرنے کا پیغام پہنچاؤ ۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ گئے اس وقت آپ رضی اللہ عنہا آٹا گوندھ رہی تھیں۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ پر ان کی عظمت اس قدر چھائی کہ سامنے پڑ کر بات نہ کر سکے منہ پھیر کر بیٹھ گئے اور ذکر کیا۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”ٹھہرو! میں اللہ تعالیٰ سے استخارہ کر لوں۔‏“ یہ تو کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگیں ادھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” میں نے ان کا نکاح تجھ سے کر دیا “۔ چنانچہ اسی وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بے اطلاع چلے آئے،، پھر ولیمے کی دعوت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سب کو گوشت روٹی کھلائی۔ لوگ کھا پی کر چلے گئے مگر چند آدمی وہیں بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر اپنی بیویوں کے حجرے کے پاس گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں السلام علیک کرتے تھے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتی تھیں کہ فرمائیے بیوی صاحبہ سے خوش تو ہیں؟ مجھے یہ یاد نہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خبر دیئے گئے کہ لوگ وہاں سے چلے گئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھر کی طرف تشریف لے گئے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی جانے کا ارادہ کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ گرا دیا اور میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان حجاب ہو گیا اور پردے کی آیتیں اتریں اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو نصیحت کی گئی اور فرما دیا گیا کہ ” نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں بے اجازت نہ جاؤ “ ۔ [صحیح مسلم:1428] ‏

صفحہ نمبر7038

صحیح بخاری شریف میں ہے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اور ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» سے فخراً کہا کرتی تھیں کہ ”تم سب کے نکاح تمہارے ولی وارثوں نے کئے اور میرا نکاح خود اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان پر کرا دیا“ ۔ [صحیح بخاری:7420] ‏

سورۃ النور کی تفسیر میں ہم یہ روایت بیان کر چکے ہیں کہ ”سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا میرا نکاح آسمان سے اترا اور ان کے مقابلے پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”میری برأت کی آیتیں آسمان سے اتریں“ جس کا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اقرار کیا۔

صفحہ نمبر7039

ابن جریر میں ہے ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ کہا ”مجھ میں اللہ تعالیٰ نے تین خصوصیتیں رکھی ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور بیویوں میں نہیں ایک تو یہ کہ میرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دادا ایک ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں دیا۔ تیسرے یہ کہ ہمارے درمیان سفیر جبرائیل علیہ السلام تھے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28526:ضعیف و مرسل] ‏

پھر فرماتا ہے ” ہم نے ان سے نکاح کرنا تیرے لیے جائز کر دیا تاکہ مسلمانوں پر ان کے لے پالک لڑکوں کو بیویوں کے بارے میں جب انہیں طلاق دے دی جائے کوئی حرج نہ رہے “۔ یعنی وہ اگر چاہیں ان سے نکاح کر سکیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے زید کو اپنا متنبی بنا رکھا تھا۔ عام طور پر انہیں زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا جاتا تھا۔ قرآن نے اس نسبت سے بھی ممانعت کر دی اور حکم دیا کہ ” انہیں اپنے حقیقی باپ کی طرف نسبت کرکے پکارا کرو “۔

صفحہ نمبر7040

پھر سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تو اللہ پاک نے انہیں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں دے کر یہ بات بھی ہٹادی۔ جس آیت میں حرام عورتوں کا ذکر کیا ہے وہاں بھی یہی فرمایا کہ ” تمہارے اپنے صلبی لڑکوں کی بیویاں تم پر حرام ہیں “۔ تاکہ لے پالک لڑکوں کی لڑکیاں اس حکم سے خارج رہیں۔ کیونکہ ایسے لڑکے عرب میں بہت تھے۔ یہ امر اللہ کے نزدیک مقرر ہو چکا تھا۔ اس کا ہونا حتمی، یقینی اور ضروری تھا۔ اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو یہ شرف ملنا پہلے ہی سے لکھا جا چکا تھا کہ وہ ازواج مطہرات امہات المؤمنین میں داخل ہوں رضی اللہ عنہا۔

صفحہ نمبر7041

لے پالک کی بیوی سے متعلق حکم ٭٭

فرماتا ہے کہ ” جب اللہ کے نزدیک اپنے لے پالک متبنی کی بیوی سے اس کی طلاق کے بعد نکاح کرنا حلال ہے پھر اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا حرج ہے اگلے نبیوں پر جو جو حکم اللہ نازل فرماتے تھے۔ ان پر عمل کرنے میں ان پر کوئی حرج نہ تھا “۔

اس سے منافقوں کے اس قول کا رد کرنا ہے کہ دیکھو اپنے آزاد کردہ غلام اور لے پالک لڑکے کی بیوی سے نکاح کر لیا۔ اس اللہ کے مقدر کردہ امور ہو کر ہی رہتے ہیں، وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔

صفحہ نمبر7042

امی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭

ان کی تعریف ہو رہی ہے جو اللہ کی مخلوق کو اللہ کے پیغام پہنچاتے ہیں اور امانت اللہ کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے رہتے ہیں اور سوائے اللہ کے کسی کا خوف نہیں کرتے، کسی کی سطوت و شان سے مرعوب ہو کر پیغام اللہ کا پہنچانے میں خوف نہیں کھاتے۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد کافی ہے۔ اس منصب کی ادائیگی میں سب کے پیشوا بلکہ ہر اک امر میں سب کے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

خیال فرمائیے کہ مشرق و مغرب کے ہر ایک بنی آدم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے دین کی تبلیغ کی۔ اور جب تک اللہ کا دین چار دانگ عالم میں پھیل نہ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مشقت کے ساتھ اللہ کے دین کی اشاعت میں مصروف رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم ہی کی طرف آتے رہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کی طرف اللہ کے رسول بن کر آئے تھے۔

قرآن میں فرمان الٰہی ہے کہ «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» [7-الأعراف:158] ‏ ” لوگوں میں اعلان کر دو کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں “ «سَلَامٌ عَلَیْهِ» ۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد منصب تبلیغ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ملا۔ ان میں سب کے سردار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں رضوان اللہ علیہم۔ جو کچھ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا تھا، سب کچھ بعد والوں کو سکھا دیا۔ تمام اقوال و افعال جو احوال دن اور رات کے، سفر و حضر کے، ظاہر و پوشیدہ دنیا کے سامنے رکھ دئیے۔ اللہ ان پر اپنی رضا مندی نازل فرمائے۔

پھر ان کے بعد والے ان کے وارث ہوئے اور اسی طرح پھر بعد والے اپنے سے پہلے والوں کے وارث بنے اور اللہ کا دین ان سے پھیلتا رہا۔ اور قرآن و حدیث لوگوں تک پہنچتے رہے ہدایت والے ان کی اقتداء سے منور ہوتے رہے اور توفیق خیر والے ان کے مسلک پر چلتے رہے۔ اللہ کریم سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی ان میں سے کر دے۔

صفحہ نمبر7043

مسند احمد میں ہے تم میں سے کوئی اپنا آپ ذلیل نہ کرے۔ لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے! فرمایا: خلاف شرع کام دیکھ کر، لوگوں کے خوف کے مارے خاموش ہو رہے۔ قیامت کے دن اس سے بازپرس ہوگی کہ ”تو کیوں خاموش رہا؟“ یہ کہے گا کہ ”لوگوں کے ڈر سے۔‏“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” سب سے زیادہ خوف رکھنے کے قابل تو میری ذات تھی “ ۔ [سنن ابن ماجه:4008، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر اللہ تعالیٰ منع فرماتا ہے کہ ” کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاحبزادہ کہا جائے “۔ لوگ جو زید بن محمد کہتے تھے جس کا بیان اوپر گزر چکا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زید کے والد نہیں “۔

یہی ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی نرینہ اولاد بلوغت کو پہنچی ہی نہیں۔ قاسم، طیب اور طاہر تین بچے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے، ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا سے ایک بچہ ہوا جس کا نام ابراہیم لیکن یہ بھی دودھ پلانے کے زمانے میں ہی انتقال کر گئے۔ آپ کی لڑکیاں خدیجہ سے چار تھیں زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہم اجمعین ان میں سے تین تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی رحلت فرما گئیں صرف فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھ ماہ بعد ہوا۔

پھر فرماتا ہے ” بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں “۔ جیسے فرمایا «اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ» [6-الأنعام:124] ‏ ” اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھتا ہے “۔ یہ آیت نص ہے اس امر پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور جب نبی ہی نہیں تو رسول کہاں؟ کوئی نبی، رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آئے گا۔ رسالت تو نبوت سے بھی خاص چیز ہے۔ ہر رسول نبی ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں۔

متواتر احادیث سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ختم الانبیاء ہونا ثابت ہے۔ بہت سے صحابہ سے یہ حدیثیں روایت کی گئی ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری مثال نبیوں میں ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک بہت اچھا اور پورا مکان بنایا لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی جہاں کچھ نہ رکھا لوگ اسے چاروں طرف سے دیکھتے بھالتے اور اس کی بناوٹ سے خوش ہوتے لیکن کہتے کیا اچھا ہو تاکہ اس اینٹ کی جگہ پُر کر لی جاتی۔ پس میں نبیوں میں اسی اینٹ کی جگہ ہوں ۔ [سنن ترمذي:3613، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ امام ترمذی بھی اس حدیث کو لائے ہیں اور اسے حسن صحیح کہا ہے۔

صفحہ نمبر7044

مسند احمد میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں رسالت اور نبوت ختم ہوگئی، میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ نبی ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم پر یہ بات گراں گزری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن خوش خبریاں دینے والے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا خوشخبریاں دینے والے کیا ہیں۔ فرمایا: مسلمانوں کے خواب جو نبوت کے اجزأ میں سے ایک جز ہیں ۔ [سنن ترمذي:2272، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث بھی ترمذی شریف میں ہے اور امام ترمذی اسے صحیح غریب کہتے ہیں۔

محل کی مثال والی حدیث ابوداؤد طیالسی میں بھی ہے۔ اس کے آخر میں یہ ہے کہ میں اس اینٹ کی جگہ ہوں مجھ سے انبیاء علیہم الصلوۃ السلام ختم کئے گئے ۔ [صحیح بخاری:3534] ‏ اسے بخاری، مسلم اور ترمذی بھی لائے ہیں۔

مسند کی اس حدیث کی ایک سند میں ہے کہ میں آیا اور میں نے اس خالی اینٹ کی جگہ پر کر دی ۔ [صحیح مسلم:2286] ‏

صفحہ نمبر7045

مسند میں ہے میرے بعد نبوت نہیں مگر خوشخبری والے ۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ہیں؟ فرمایا: اچھے خواب یا فرمایا: نیک خواب ۔ [مسند احمد:454/5:صحیح] ‏

عبدالرزاق وغیرہ میں محل کی اینٹ کی مثال والی حدیث میں ہے کہ لوگ اسے دیکھ کر محل والے سے کہتے ہیں کہ تو نے اس اینٹ کی جگہ کیوں چھوڑ دی؟ پس میں وہ اینٹ ہوں ۔ [صحیح بخاری:3535] ‏

صحیح مسلم شریف میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے تمام انبیاء پر چھ فضیلتیں دی گئی ہیں، مجھے جامع کلمات عطا فرمائے گئے ہیں۔ صرف رعب سے میری مدد کی گئی ہے۔ میرے لیے غنیمت کا مال حلال کیا گیا۔ میرے لیے ساری زمین مسجد اور وضو بنائی گئی، میں ساری مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اور میرے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیا گیا ۔ [صحیح مسلم:523] ‏ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔

صحیح مسلم وغیرہ میں محل مثال والی روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ میں آیا اور میں نے اس اینٹ کی جگہ پوری کر دی ۔

مسند میں ہے میں اللہ کے نزدیک نبیوں کا علم کرنے والا تھا اس وقت جبکہ آدم علیہ السلام پوری طور پر پیدا بھی نہیں ہوئے تھے ۔ [مسند احمد:127/4:صحیح] ‏

اور حدیث میں ہے میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی ہوں اللہ تعالیٰ میری وجہ سے کفر کو مٹا دے گا اور میں حاشر ہوں تمام لوگوں کا حشر میرے قدموں تلے ہو گا اور میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ [صحیح بخاری:3532] ‏

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رخصت کر رہے ہیں اور تین مرتبہ فرمایا: میں امی نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ میں فاتح کلمات دیا گیا ہوں جو نہایت جامع اور پورے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ جہنم کے داروغے کتنے ہیں اور عرش کے اٹھانے والے کتنے ہیں۔ میرا اپنی امت سے تعارف کرایا گیا ہے۔ جب تک میں تم میں ہوں میری سنتے رہو اور مانتے چلے جاؤ۔ جب میں رخصت ہو جاؤں تو کتاب اللہ کو مضبوط تھام لو اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھو ۔ [مسند احمد:172/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7046

اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس وسیع رحمت پر اس کا شکر کرنا چاہیئے کہ اس نے اپنے رحم و کرم سے ایسے عظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرف بھیجا اور انہیں ختم المرسلین اور خاتم الانبیاء بنایا اور یکسوئی والا، آسان، سچا اور سہل دین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کمال کو پہنچایا۔

رب العالمین نے اپنی کتاب میں اور رحمتہ للعالمین نے اپنی متواتر احادیث میں یہ خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ پس جو شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، مفتری، دجال، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے۔ گو وہ شعبدے دکھائے اور جادوگری کرے اور بڑے کمالات اور عقل کو حیران کر دینے والی چیزیں پیش کرے اور طرح طرح کی بے رنگ یاں دکھائے لیکن عقلمند جانتے ہیں کہ یہ سب فریب دھوکہ اور مکاری ہے۔

یمن کے مدعی نبوت عنسی اور یمانہ کے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کو دیکھ لو کہ دنیا نے انہیں جیسے یہ تھے سمجھ لیا اور ان کی اصلیت سب پر ظاہر ہو گئ۔ یہی حال ہو گا ہر اس شخص کا جو قیامت تک اس دعوے سے مخلوق کے سامنے آئے گا کہ اس کا جھوٹ اور اس کی گمراہی سب پر کھل جائے گی۔ یہاں تک کہ سب سے آخری دجال مسیح آئے گا۔ اس کی علامتوں سے بھی ہر عالم اور ہر مومن اس کا کذاب ہونا جان لے گا پس یہ بھی اللہ کی ایک نعمت ہے کہ ایسے جھوٹے دعوے داروں کو یہ نصیب ہی نہیں ہوتا کہ وہ نیکی کے احکام دیں اور برائی سے روکیں۔ ہاں جن احکام میں ان کا اپنا کوئی مقصد ہوتا ہے ان پر بہت زورر دیتے ہیں۔ ان کے اقوال، افعال افترا اور فجور والے ہوتے۔ جیسے فرمان باری ہے۔ «هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ» [26-الشعراء:222-221] ‏ الخ، یعنی ” کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطن کن کے پاس آتے ہیں؟ ہر ایک بہتان باز گنہگار کے پاس “۔

سچے نبیوں کا حال اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے وہ نہایت نیکی والے، بہت سچے ہدایت والے، استقامت والے، قول و فعل کے اچھے، نیکیوں کا حکم دینے والے، برائیوں سے روکنے والے ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی اللہ کی طرف سے ان کی تائید ہوتی ہے۔ معجزوں سے اور خارق عادت چیزوں سے ان کی سچائی اور زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔ اور اس قدر ظاہر واضح اور صاف دلیلیں ان کی نبوت پر ہوتی ہیں کہ ہر قلب سلیم ان کے ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے تمام سچے نبیوں پر قیامت تک درود سلام نازل فرماتا رہے۔

صفحہ نمبر7047

امی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭

ان کی تعریف ہو رہی ہے جو اللہ کی مخلوق کو اللہ کے پیغام پہنچاتے ہیں اور امانت اللہ کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے رہتے ہیں اور سوائے اللہ کے کسی کا خوف نہیں کرتے، کسی کی سطوت و شان سے مرعوب ہو کر پیغام اللہ کا پہنچانے میں خوف نہیں کھاتے۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد کافی ہے۔ اس منصب کی ادائیگی میں سب کے پیشوا بلکہ ہر اک امر میں سب کے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

خیال فرمائیے کہ مشرق و مغرب کے ہر ایک بنی آدم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے دین کی تبلیغ کی۔ اور جب تک اللہ کا دین چار دانگ عالم میں پھیل نہ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مشقت کے ساتھ اللہ کے دین کی اشاعت میں مصروف رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم ہی کی طرف آتے رہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کی طرف اللہ کے رسول بن کر آئے تھے۔

قرآن میں فرمان الٰہی ہے کہ «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» [7-الأعراف:158] ‏ ” لوگوں میں اعلان کر دو کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں “ «سَلَامٌ عَلَیْهِ» ۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد منصب تبلیغ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ملا۔ ان میں سب کے سردار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں رضوان اللہ علیہم۔ جو کچھ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا تھا، سب کچھ بعد والوں کو سکھا دیا۔ تمام اقوال و افعال جو احوال دن اور رات کے، سفر و حضر کے، ظاہر و پوشیدہ دنیا کے سامنے رکھ دئیے۔ اللہ ان پر اپنی رضا مندی نازل فرمائے۔

پھر ان کے بعد والے ان کے وارث ہوئے اور اسی طرح پھر بعد والے اپنے سے پہلے والوں کے وارث بنے اور اللہ کا دین ان سے پھیلتا رہا۔ اور قرآن و حدیث لوگوں تک پہنچتے رہے ہدایت والے ان کی اقتداء سے منور ہوتے رہے اور توفیق خیر والے ان کے مسلک پر چلتے رہے۔ اللہ کریم سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی ان میں سے کر دے۔

صفحہ نمبر7043

مسند احمد میں ہے تم میں سے کوئی اپنا آپ ذلیل نہ کرے۔ لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے! فرمایا: خلاف شرع کام دیکھ کر، لوگوں کے خوف کے مارے خاموش ہو رہے۔ قیامت کے دن اس سے بازپرس ہوگی کہ ”تو کیوں خاموش رہا؟“ یہ کہے گا کہ ”لوگوں کے ڈر سے۔‏“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” سب سے زیادہ خوف رکھنے کے قابل تو میری ذات تھی “ ۔ [سنن ابن ماجه:4008، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر اللہ تعالیٰ منع فرماتا ہے کہ ” کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاحبزادہ کہا جائے “۔ لوگ جو زید بن محمد کہتے تھے جس کا بیان اوپر گزر چکا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زید کے والد نہیں “۔

یہی ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی نرینہ اولاد بلوغت کو پہنچی ہی نہیں۔ قاسم، طیب اور طاہر تین بچے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے، ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا سے ایک بچہ ہوا جس کا نام ابراہیم لیکن یہ بھی دودھ پلانے کے زمانے میں ہی انتقال کر گئے۔ آپ کی لڑکیاں خدیجہ سے چار تھیں زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہم اجمعین ان میں سے تین تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی رحلت فرما گئیں صرف فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھ ماہ بعد ہوا۔

پھر فرماتا ہے ” بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں “۔ جیسے فرمایا «اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ» [6-الأنعام:124] ‏ ” اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھتا ہے “۔ یہ آیت نص ہے اس امر پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور جب نبی ہی نہیں تو رسول کہاں؟ کوئی نبی، رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آئے گا۔ رسالت تو نبوت سے بھی خاص چیز ہے۔ ہر رسول نبی ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں۔

متواتر احادیث سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ختم الانبیاء ہونا ثابت ہے۔ بہت سے صحابہ سے یہ حدیثیں روایت کی گئی ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری مثال نبیوں میں ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک بہت اچھا اور پورا مکان بنایا لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی جہاں کچھ نہ رکھا لوگ اسے چاروں طرف سے دیکھتے بھالتے اور اس کی بناوٹ سے خوش ہوتے لیکن کہتے کیا اچھا ہو تاکہ اس اینٹ کی جگہ پُر کر لی جاتی۔ پس میں نبیوں میں اسی اینٹ کی جگہ ہوں ۔ [سنن ترمذي:3613، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ امام ترمذی بھی اس حدیث کو لائے ہیں اور اسے حسن صحیح کہا ہے۔

صفحہ نمبر7044

مسند احمد میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں رسالت اور نبوت ختم ہوگئی، میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ نبی ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم پر یہ بات گراں گزری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن خوش خبریاں دینے والے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا خوشخبریاں دینے والے کیا ہیں۔ فرمایا: مسلمانوں کے خواب جو نبوت کے اجزأ میں سے ایک جز ہیں ۔ [سنن ترمذي:2272، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث بھی ترمذی شریف میں ہے اور امام ترمذی اسے صحیح غریب کہتے ہیں۔

محل کی مثال والی حدیث ابوداؤد طیالسی میں بھی ہے۔ اس کے آخر میں یہ ہے کہ میں اس اینٹ کی جگہ ہوں مجھ سے انبیاء علیہم الصلوۃ السلام ختم کئے گئے ۔ [صحیح بخاری:3534] ‏ اسے بخاری، مسلم اور ترمذی بھی لائے ہیں۔

مسند کی اس حدیث کی ایک سند میں ہے کہ میں آیا اور میں نے اس خالی اینٹ کی جگہ پر کر دی ۔ [صحیح مسلم:2286] ‏

صفحہ نمبر7045

مسند میں ہے میرے بعد نبوت نہیں مگر خوشخبری والے ۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ہیں؟ فرمایا: اچھے خواب یا فرمایا: نیک خواب ۔ [مسند احمد:454/5:صحیح] ‏

عبدالرزاق وغیرہ میں محل کی اینٹ کی مثال والی حدیث میں ہے کہ لوگ اسے دیکھ کر محل والے سے کہتے ہیں کہ تو نے اس اینٹ کی جگہ کیوں چھوڑ دی؟ پس میں وہ اینٹ ہوں ۔ [صحیح بخاری:3535] ‏

صحیح مسلم شریف میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے تمام انبیاء پر چھ فضیلتیں دی گئی ہیں، مجھے جامع کلمات عطا فرمائے گئے ہیں۔ صرف رعب سے میری مدد کی گئی ہے۔ میرے لیے غنیمت کا مال حلال کیا گیا۔ میرے لیے ساری زمین مسجد اور وضو بنائی گئی، میں ساری مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اور میرے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیا گیا ۔ [صحیح مسلم:523] ‏ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔

صحیح مسلم وغیرہ میں محل مثال والی روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ میں آیا اور میں نے اس اینٹ کی جگہ پوری کر دی ۔

مسند میں ہے میں اللہ کے نزدیک نبیوں کا علم کرنے والا تھا اس وقت جبکہ آدم علیہ السلام پوری طور پر پیدا بھی نہیں ہوئے تھے ۔ [مسند احمد:127/4:صحیح] ‏

اور حدیث میں ہے میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی ہوں اللہ تعالیٰ میری وجہ سے کفر کو مٹا دے گا اور میں حاشر ہوں تمام لوگوں کا حشر میرے قدموں تلے ہو گا اور میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ [صحیح بخاری:3532] ‏

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رخصت کر رہے ہیں اور تین مرتبہ فرمایا: میں امی نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ میں فاتح کلمات دیا گیا ہوں جو نہایت جامع اور پورے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ جہنم کے داروغے کتنے ہیں اور عرش کے اٹھانے والے کتنے ہیں۔ میرا اپنی امت سے تعارف کرایا گیا ہے۔ جب تک میں تم میں ہوں میری سنتے رہو اور مانتے چلے جاؤ۔ جب میں رخصت ہو جاؤں تو کتاب اللہ کو مضبوط تھام لو اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھو ۔ [مسند احمد:172/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7046

اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس وسیع رحمت پر اس کا شکر کرنا چاہیئے کہ اس نے اپنے رحم و کرم سے ایسے عظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرف بھیجا اور انہیں ختم المرسلین اور خاتم الانبیاء بنایا اور یکسوئی والا، آسان، سچا اور سہل دین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کمال کو پہنچایا۔

رب العالمین نے اپنی کتاب میں اور رحمتہ للعالمین نے اپنی متواتر احادیث میں یہ خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ پس جو شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، مفتری، دجال، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے۔ گو وہ شعبدے دکھائے اور جادوگری کرے اور بڑے کمالات اور عقل کو حیران کر دینے والی چیزیں پیش کرے اور طرح طرح کی بے رنگ یاں دکھائے لیکن عقلمند جانتے ہیں کہ یہ سب فریب دھوکہ اور مکاری ہے۔

یمن کے مدعی نبوت عنسی اور یمانہ کے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کو دیکھ لو کہ دنیا نے انہیں جیسے یہ تھے سمجھ لیا اور ان کی اصلیت سب پر ظاہر ہو گئ۔ یہی حال ہو گا ہر اس شخص کا جو قیامت تک اس دعوے سے مخلوق کے سامنے آئے گا کہ اس کا جھوٹ اور اس کی گمراہی سب پر کھل جائے گی۔ یہاں تک کہ سب سے آخری دجال مسیح آئے گا۔ اس کی علامتوں سے بھی ہر عالم اور ہر مومن اس کا کذاب ہونا جان لے گا پس یہ بھی اللہ کی ایک نعمت ہے کہ ایسے جھوٹے دعوے داروں کو یہ نصیب ہی نہیں ہوتا کہ وہ نیکی کے احکام دیں اور برائی سے روکیں۔ ہاں جن احکام میں ان کا اپنا کوئی مقصد ہوتا ہے ان پر بہت زورر دیتے ہیں۔ ان کے اقوال، افعال افترا اور فجور والے ہوتے۔ جیسے فرمان باری ہے۔ «هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ» [26-الشعراء:222-221] ‏ الخ، یعنی ” کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطن کن کے پاس آتے ہیں؟ ہر ایک بہتان باز گنہگار کے پاس “۔

سچے نبیوں کا حال اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے وہ نہایت نیکی والے، بہت سچے ہدایت والے، استقامت والے، قول و فعل کے اچھے، نیکیوں کا حکم دینے والے، برائیوں سے روکنے والے ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی اللہ کی طرف سے ان کی تائید ہوتی ہے۔ معجزوں سے اور خارق عادت چیزوں سے ان کی سچائی اور زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔ اور اس قدر ظاہر واضح اور صاف دلیلیں ان کی نبوت پر ہوتی ہیں کہ ہر قلب سلیم ان کے ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے تمام سچے نبیوں پر قیامت تک درود سلام نازل فرماتا رہے۔

صفحہ نمبر7047

بہترین دعا ٭٭

بہت سی نعمتوں کے انعام کرنے والے اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ” ہمیں اس کا بکثرت ذکر کرنا چاہیئے اور اس پر بھی ہمیں نعمتوں اور بڑے اجر و ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے “۔

ایک مرتبہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہارے بہتر عمل اور بہت ہی زیادہ پاکیزہ کام اور سب سے بڑے درجے کی نیکی اور سونے چاندی کو راہ اللہ خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر اور جہاد سے بھی افضل کام نہ بتاؤں؟ لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ہے؟ فرمایا: اللہ عزوجل کا ذکر ۔ [سنن ترمذي:3377،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث پہلے «وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ» [33-الأحزاب:35] ‏ کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا سنی ہے جسے میں کسی وقت ترک نہیں کرتا۔ دعا یہ ہے «اللَّهُمَّ، اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ، وَأَتْبَعُ نَصِيحَتَكَ، وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ، وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ» یعنی اے اللہ تو مجھے اپنا بہت بڑا شکر گزار، فرماں بردار، بکثرت ذکر کرنے والا اور تیرے احکام کی حفاظت کرنے والا بنا دے ۔ [سنن ترمذي:3604،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

دو اعرابی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک نے پوچھا ”سب سے اچھا شخص کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لمبی عمر پائے، اور نیک اعمال کرے ۔ دوسرے نے پوچھا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم احکام اسلام تو بہت سارے ہیں مجھے کوئی چوٹی کا حکم بتا دیجئیے کہ اس میں چمٹ جاؤں۔‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذکر اللہ میں ہر وقت اپنی زبان کو تر رکھ ۔ [سنن ترمذي:3375،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر میں ہر وقت مشغول رہو یہاں تک کہ لوگ تمہیں مجنوں کہنے لگیں [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:517:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو یہاں تک کہ منافق تمہیں ریا کار کہنے لگیں ۔ [طبرانی کبیر:12786:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کریں وہ مجلس قیامت کے دن ان پر حسرت افسوس کا باعث بنے گی ۔ [مسند احمد:224/2:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7049

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہر فرض کام کی کوئی حد ہے، پھر عذر کی حالت میں وہ معاف بھی ہے لیکن ذکر اللہ کی کوئی حد نہیں نہ وہ کسی وقت ٹلتا ہے۔ ہاں کوئی دیوانہ ہو تو اور بات ہے۔ کھڑے بیٹھے لیٹے رات کو دن کو خشکی میں تری میں سفر میں حضر میں غنا میں فقر میں صحت میں بیماری پوشیدگی میں ظاہر میں غرض ہر حال میں ذکر اللہ کرنا چاہیئے۔ صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کرنی چاہیئے۔ تم جب یہ کرو گے تو اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا اور فرشتے تمہارے لیے ہر وقت دعاگو رہیں گے۔‏“

اس بارے میں اور بھی بہت سی احادیث و آثار ہیں۔ اس آیت میں بھی بکثرت ذکر اللہ کرنے کی ہدایت ہو رہی ہے۔ بزرگوں نے ذکر اللہ اور وظائف کی بہت سی مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جیسے امام نسائی، امام معمری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ۔ ان سب میں بہترین کتاب اس موضوع پر امام نووی رحمہ اللہ علیہ کی ہے۔ صبح شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ جیسے فرمایا «فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ» [30-الروم:18-17] ‏، ” اللہ کے لیے پاکی ہے۔ جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو، اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور بعد از زوال اور ظہر کے وقت “۔

صفحہ نمبر7050

پھر اس کی فضیلت بیان کرنے اور اس کی طرف رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے ” وہ خود تم پر رحمت بھیج رہا ہے “۔ یعنی جب وہ تمہاری یاد رکھتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ تم اس کے ذکر سے غفلت کرو؟

جیسے فرمایا «كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ» [2-البقرة:152-151] ‏، ” جس طرح ہم نے تم میں خود تم ہی میں سے رسول بھیجا جو تم پر ہماری کتاب پڑھتا ہے اور وہ سکھاتا ہے جسے تم جانتے ہی نہ تھے۔ پس تم میرا ذکر کرو میں تمہاری یاد کروں گا اور تم میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو “۔

حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اور جو مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے جماعت میں یاد کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے بہتر ہوتی ہے “ ۔ [صحیح بخاری:7405] ‏

صفحہ نمبر7051

«الصَّلَاةُ» جب اللہ کی طرف مضاف ہو تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھلائی اپنے فرشتوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ اور قول میں ہے مراد اس کی رحمت ہے۔ اور دونوں قولوں کا انجام ایک ہی ہے۔ فرشتوں کی «الصَّلَاةُ» ان کی دعا اور استغفار ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ وَقِهِمُ السَّيِّئَاتِ» [40-غافر:7-9] ‏، ” عرش کے اٹھانے والے اور اس کے آس پاس والے اپنے رب کی حمد و تسبیح بیان کرتے ہیں، اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومن بندوں کے لیے استغفار کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے ہرچیز کو رحمت و علم سے گھیر لیا ہے۔ اے اللہ تو انہیں بخش جو توبہ کرتے ہیں اور تیری راہ پر چلتے ہیں۔ انہیں عذاب جہنم سے بھی نجات دے۔ انہیں ان جنتوں میں لے جا جن کا تو ان سے وعدہ کر چکا ہے۔ اور انہیں بھی ان کے ساتھ پہنچا جو ان کے باپ دادوں بیویوں اور اولادوں میں سے نیک ہیں، انہیں برائیوں سے بچا لے۔ وہ اللہ اپنی رحمت کو تم پر نازل فرما کر اپنے فرشتوں کی دعا کو تمہارے حق میں قبول فرما کر تمہیں جہالت وو ضلالت کی اندھیریوں سے نکال کر ھدایت و یقین کے نور کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں مومنوں پر رحیم و کریم ہے “۔

دنیا میں حق کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور روزیاں عطا فرماتا ہے اور آخرت میں گھبراہٹ اور ڈر خوف سے بچا لے گا۔ فرشتے آ کر انہیں بشارت دیں گے کہ تم جہنم سے آزاد ہو اور جنتی ہو۔ کیونکہ ان فرشتوں کے دل مومنوں کی محبت و الفت سے پُر ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے ساتھ راستے سے گزر رہے تھے۔ ایک چھوٹا بچہ راستے میں تھا اس کی ماں نے ایک جماعت کو آتے ہوئے دیکھا تو میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی اور بچے کو گود میں لے کر ایک طرف ہٹ گئی۔ ماں کی اس محبت کو دیکھ کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیال تو فرمائیے کیا یہ اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مطلب کو سمجھ کر فرمانے لگے قسم اللہ کی! اللہ تعالیٰ بھی اپنے دوستوں کو آگ میں نہیں ڈالے گا ۔ [مسند احمد:104/3:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7052

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قیدی عورت کو دیکھا کہ اس نے اپنے بچے کو دیکھتے ہی اٹھا لیا اور اپنے کلیجے سے لگا کر اسے دودھ پلانے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتاؤ تو اگر اس کے اختیار میں ہو تو کیا یہ اپنی خوشی سے اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ہرگز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اللہ کی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے، اللہ کی طرف سے ان کا ثمرہ جس دن یہ اس سے ملیں گے سلام ہوگا ۔ [صحیح بخاری:5999] ‏

جیسے فرمایا «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» [36-یس:58] ‏

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرے گا۔‏“ اس کی تائید بھی آیت «دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [10-یونس:10] ‏، سے ہوتی ہے۔

اللہ نے ان کے لیے اجر کریم یعنی جنت مع اس کی تمام نعمتوں کے تیار کر رکھی ہے۔ جن میں سے ہر نعمت کھانا پینا پہننا اوڑھنا عورتیں لذتیں منظر وغیرہ ایسی ہیں کہ آج تو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتیں، چہ جائیکہ دیکھنے میں یا سننے میں آئیں۔

صفحہ نمبر7053

بہترین دعا ٭٭

بہت سی نعمتوں کے انعام کرنے والے اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ” ہمیں اس کا بکثرت ذکر کرنا چاہیئے اور اس پر بھی ہمیں نعمتوں اور بڑے اجر و ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے “۔

ایک مرتبہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہارے بہتر عمل اور بہت ہی زیادہ پاکیزہ کام اور سب سے بڑے درجے کی نیکی اور سونے چاندی کو راہ اللہ خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر اور جہاد سے بھی افضل کام نہ بتاؤں؟ لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ہے؟ فرمایا: اللہ عزوجل کا ذکر ۔ [سنن ترمذي:3377،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث پہلے «وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ» [33-الأحزاب:35] ‏ کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا سنی ہے جسے میں کسی وقت ترک نہیں کرتا۔ دعا یہ ہے «اللَّهُمَّ، اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ، وَأَتْبَعُ نَصِيحَتَكَ، وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ، وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ» یعنی اے اللہ تو مجھے اپنا بہت بڑا شکر گزار، فرماں بردار، بکثرت ذکر کرنے والا اور تیرے احکام کی حفاظت کرنے والا بنا دے ۔ [سنن ترمذي:3604،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

دو اعرابی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک نے پوچھا ”سب سے اچھا شخص کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لمبی عمر پائے، اور نیک اعمال کرے ۔ دوسرے نے پوچھا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم احکام اسلام تو بہت سارے ہیں مجھے کوئی چوٹی کا حکم بتا دیجئیے کہ اس میں چمٹ جاؤں۔‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذکر اللہ میں ہر وقت اپنی زبان کو تر رکھ ۔ [سنن ترمذي:3375،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر میں ہر وقت مشغول رہو یہاں تک کہ لوگ تمہیں مجنوں کہنے لگیں [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:517:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو یہاں تک کہ منافق تمہیں ریا کار کہنے لگیں ۔ [طبرانی کبیر:12786:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کریں وہ مجلس قیامت کے دن ان پر حسرت افسوس کا باعث بنے گی ۔ [مسند احمد:224/2:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7049

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہر فرض کام کی کوئی حد ہے، پھر عذر کی حالت میں وہ معاف بھی ہے لیکن ذکر اللہ کی کوئی حد نہیں نہ وہ کسی وقت ٹلتا ہے۔ ہاں کوئی دیوانہ ہو تو اور بات ہے۔ کھڑے بیٹھے لیٹے رات کو دن کو خشکی میں تری میں سفر میں حضر میں غنا میں فقر میں صحت میں بیماری پوشیدگی میں ظاہر میں غرض ہر حال میں ذکر اللہ کرنا چاہیئے۔ صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کرنی چاہیئے۔ تم جب یہ کرو گے تو اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا اور فرشتے تمہارے لیے ہر وقت دعاگو رہیں گے۔‏“

اس بارے میں اور بھی بہت سی احادیث و آثار ہیں۔ اس آیت میں بھی بکثرت ذکر اللہ کرنے کی ہدایت ہو رہی ہے۔ بزرگوں نے ذکر اللہ اور وظائف کی بہت سی مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جیسے امام نسائی، امام معمری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ۔ ان سب میں بہترین کتاب اس موضوع پر امام نووی رحمہ اللہ علیہ کی ہے۔ صبح شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ جیسے فرمایا «فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ» [30-الروم:18-17] ‏، ” اللہ کے لیے پاکی ہے۔ جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو، اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور بعد از زوال اور ظہر کے وقت “۔

صفحہ نمبر7050

پھر اس کی فضیلت بیان کرنے اور اس کی طرف رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے ” وہ خود تم پر رحمت بھیج رہا ہے “۔ یعنی جب وہ تمہاری یاد رکھتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ تم اس کے ذکر سے غفلت کرو؟

جیسے فرمایا «كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ» [2-البقرة:152-151] ‏، ” جس طرح ہم نے تم میں خود تم ہی میں سے رسول بھیجا جو تم پر ہماری کتاب پڑھتا ہے اور وہ سکھاتا ہے جسے تم جانتے ہی نہ تھے۔ پس تم میرا ذکر کرو میں تمہاری یاد کروں گا اور تم میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو “۔

حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اور جو مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے جماعت میں یاد کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے بہتر ہوتی ہے “ ۔ [صحیح بخاری:7405] ‏

صفحہ نمبر7051

«الصَّلَاةُ» جب اللہ کی طرف مضاف ہو تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھلائی اپنے فرشتوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ اور قول میں ہے مراد اس کی رحمت ہے۔ اور دونوں قولوں کا انجام ایک ہی ہے۔ فرشتوں کی «الصَّلَاةُ» ان کی دعا اور استغفار ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ وَقِهِمُ السَّيِّئَاتِ» [40-غافر:7-9] ‏، ” عرش کے اٹھانے والے اور اس کے آس پاس والے اپنے رب کی حمد و تسبیح بیان کرتے ہیں، اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومن بندوں کے لیے استغفار کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے ہرچیز کو رحمت و علم سے گھیر لیا ہے۔ اے اللہ تو انہیں بخش جو توبہ کرتے ہیں اور تیری راہ پر چلتے ہیں۔ انہیں عذاب جہنم سے بھی نجات دے۔ انہیں ان جنتوں میں لے جا جن کا تو ان سے وعدہ کر چکا ہے۔ اور انہیں بھی ان کے ساتھ پہنچا جو ان کے باپ دادوں بیویوں اور اولادوں میں سے نیک ہیں، انہیں برائیوں سے بچا لے۔ وہ اللہ اپنی رحمت کو تم پر نازل فرما کر اپنے فرشتوں کی دعا کو تمہارے حق میں قبول فرما کر تمہیں جہالت وو ضلالت کی اندھیریوں سے نکال کر ھدایت و یقین کے نور کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں مومنوں پر رحیم و کریم ہے “۔

دنیا میں حق کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور روزیاں عطا فرماتا ہے اور آخرت میں گھبراہٹ اور ڈر خوف سے بچا لے گا۔ فرشتے آ کر انہیں بشارت دیں گے کہ تم جہنم سے آزاد ہو اور جنتی ہو۔ کیونکہ ان فرشتوں کے دل مومنوں کی محبت و الفت سے پُر ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے ساتھ راستے سے گزر رہے تھے۔ ایک چھوٹا بچہ راستے میں تھا اس کی ماں نے ایک جماعت کو آتے ہوئے دیکھا تو میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی اور بچے کو گود میں لے کر ایک طرف ہٹ گئی۔ ماں کی اس محبت کو دیکھ کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیال تو فرمائیے کیا یہ اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مطلب کو سمجھ کر فرمانے لگے قسم اللہ کی! اللہ تعالیٰ بھی اپنے دوستوں کو آگ میں نہیں ڈالے گا ۔ [مسند احمد:104/3:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7052

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قیدی عورت کو دیکھا کہ اس نے اپنے بچے کو دیکھتے ہی اٹھا لیا اور اپنے کلیجے سے لگا کر اسے دودھ پلانے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتاؤ تو اگر اس کے اختیار میں ہو تو کیا یہ اپنی خوشی سے اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ہرگز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اللہ کی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے، اللہ کی طرف سے ان کا ثمرہ جس دن یہ اس سے ملیں گے سلام ہوگا ۔ [صحیح بخاری:5999] ‏

جیسے فرمایا «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» [36-یس:58] ‏

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرے گا۔‏“ اس کی تائید بھی آیت «دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [10-یونس:10] ‏، سے ہوتی ہے۔

اللہ نے ان کے لیے اجر کریم یعنی جنت مع اس کی تمام نعمتوں کے تیار کر رکھی ہے۔ جن میں سے ہر نعمت کھانا پینا پہننا اوڑھنا عورتیں لذتیں منظر وغیرہ ایسی ہیں کہ آج تو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتیں، چہ جائیکہ دیکھنے میں یا سننے میں آئیں۔

صفحہ نمبر7053

بہترین دعا ٭٭

بہت سی نعمتوں کے انعام کرنے والے اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ” ہمیں اس کا بکثرت ذکر کرنا چاہیئے اور اس پر بھی ہمیں نعمتوں اور بڑے اجر و ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے “۔

ایک مرتبہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہارے بہتر عمل اور بہت ہی زیادہ پاکیزہ کام اور سب سے بڑے درجے کی نیکی اور سونے چاندی کو راہ اللہ خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر اور جہاد سے بھی افضل کام نہ بتاؤں؟ لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ہے؟ فرمایا: اللہ عزوجل کا ذکر ۔ [سنن ترمذي:3377،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث پہلے «وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ» [33-الأحزاب:35] ‏ کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا سنی ہے جسے میں کسی وقت ترک نہیں کرتا۔ دعا یہ ہے «اللَّهُمَّ، اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ، وَأَتْبَعُ نَصِيحَتَكَ، وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ، وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ» یعنی اے اللہ تو مجھے اپنا بہت بڑا شکر گزار، فرماں بردار، بکثرت ذکر کرنے والا اور تیرے احکام کی حفاظت کرنے والا بنا دے ۔ [سنن ترمذي:3604،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

دو اعرابی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک نے پوچھا ”سب سے اچھا شخص کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لمبی عمر پائے، اور نیک اعمال کرے ۔ دوسرے نے پوچھا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم احکام اسلام تو بہت سارے ہیں مجھے کوئی چوٹی کا حکم بتا دیجئیے کہ اس میں چمٹ جاؤں۔‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذکر اللہ میں ہر وقت اپنی زبان کو تر رکھ ۔ [سنن ترمذي:3375،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر میں ہر وقت مشغول رہو یہاں تک کہ لوگ تمہیں مجنوں کہنے لگیں [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:517:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو یہاں تک کہ منافق تمہیں ریا کار کہنے لگیں ۔ [طبرانی کبیر:12786:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کریں وہ مجلس قیامت کے دن ان پر حسرت افسوس کا باعث بنے گی ۔ [مسند احمد:224/2:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7049

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہر فرض کام کی کوئی حد ہے، پھر عذر کی حالت میں وہ معاف بھی ہے لیکن ذکر اللہ کی کوئی حد نہیں نہ وہ کسی وقت ٹلتا ہے۔ ہاں کوئی دیوانہ ہو تو اور بات ہے۔ کھڑے بیٹھے لیٹے رات کو دن کو خشکی میں تری میں سفر میں حضر میں غنا میں فقر میں صحت میں بیماری پوشیدگی میں ظاہر میں غرض ہر حال میں ذکر اللہ کرنا چاہیئے۔ صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کرنی چاہیئے۔ تم جب یہ کرو گے تو اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا اور فرشتے تمہارے لیے ہر وقت دعاگو رہیں گے۔‏“

اس بارے میں اور بھی بہت سی احادیث و آثار ہیں۔ اس آیت میں بھی بکثرت ذکر اللہ کرنے کی ہدایت ہو رہی ہے۔ بزرگوں نے ذکر اللہ اور وظائف کی بہت سی مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جیسے امام نسائی، امام معمری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ۔ ان سب میں بہترین کتاب اس موضوع پر امام نووی رحمہ اللہ علیہ کی ہے۔ صبح شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ جیسے فرمایا «فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ» [30-الروم:18-17] ‏، ” اللہ کے لیے پاکی ہے۔ جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو، اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور بعد از زوال اور ظہر کے وقت “۔

صفحہ نمبر7050

پھر اس کی فضیلت بیان کرنے اور اس کی طرف رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے ” وہ خود تم پر رحمت بھیج رہا ہے “۔ یعنی جب وہ تمہاری یاد رکھتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ تم اس کے ذکر سے غفلت کرو؟

جیسے فرمایا «كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ» [2-البقرة:152-151] ‏، ” جس طرح ہم نے تم میں خود تم ہی میں سے رسول بھیجا جو تم پر ہماری کتاب پڑھتا ہے اور وہ سکھاتا ہے جسے تم جانتے ہی نہ تھے۔ پس تم میرا ذکر کرو میں تمہاری یاد کروں گا اور تم میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو “۔

حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اور جو مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے جماعت میں یاد کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے بہتر ہوتی ہے “ ۔ [صحیح بخاری:7405] ‏

صفحہ نمبر7051

«الصَّلَاةُ» جب اللہ کی طرف مضاف ہو تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھلائی اپنے فرشتوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ اور قول میں ہے مراد اس کی رحمت ہے۔ اور دونوں قولوں کا انجام ایک ہی ہے۔ فرشتوں کی «الصَّلَاةُ» ان کی دعا اور استغفار ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ وَقِهِمُ السَّيِّئَاتِ» [40-غافر:7-9] ‏، ” عرش کے اٹھانے والے اور اس کے آس پاس والے اپنے رب کی حمد و تسبیح بیان کرتے ہیں، اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومن بندوں کے لیے استغفار کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے ہرچیز کو رحمت و علم سے گھیر لیا ہے۔ اے اللہ تو انہیں بخش جو توبہ کرتے ہیں اور تیری راہ پر چلتے ہیں۔ انہیں عذاب جہنم سے بھی نجات دے۔ انہیں ان جنتوں میں لے جا جن کا تو ان سے وعدہ کر چکا ہے۔ اور انہیں بھی ان کے ساتھ پہنچا جو ان کے باپ دادوں بیویوں اور اولادوں میں سے نیک ہیں، انہیں برائیوں سے بچا لے۔ وہ اللہ اپنی رحمت کو تم پر نازل فرما کر اپنے فرشتوں کی دعا کو تمہارے حق میں قبول فرما کر تمہیں جہالت وو ضلالت کی اندھیریوں سے نکال کر ھدایت و یقین کے نور کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں مومنوں پر رحیم و کریم ہے “۔

دنیا میں حق کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور روزیاں عطا فرماتا ہے اور آخرت میں گھبراہٹ اور ڈر خوف سے بچا لے گا۔ فرشتے آ کر انہیں بشارت دیں گے کہ تم جہنم سے آزاد ہو اور جنتی ہو۔ کیونکہ ان فرشتوں کے دل مومنوں کی محبت و الفت سے پُر ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے ساتھ راستے سے گزر رہے تھے۔ ایک چھوٹا بچہ راستے میں تھا اس کی ماں نے ایک جماعت کو آتے ہوئے دیکھا تو میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی اور بچے کو گود میں لے کر ایک طرف ہٹ گئی۔ ماں کی اس محبت کو دیکھ کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیال تو فرمائیے کیا یہ اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مطلب کو سمجھ کر فرمانے لگے قسم اللہ کی! اللہ تعالیٰ بھی اپنے دوستوں کو آگ میں نہیں ڈالے گا ۔ [مسند احمد:104/3:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7052

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قیدی عورت کو دیکھا کہ اس نے اپنے بچے کو دیکھتے ہی اٹھا لیا اور اپنے کلیجے سے لگا کر اسے دودھ پلانے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتاؤ تو اگر اس کے اختیار میں ہو تو کیا یہ اپنی خوشی سے اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ہرگز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اللہ کی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے، اللہ کی طرف سے ان کا ثمرہ جس دن یہ اس سے ملیں گے سلام ہوگا ۔ [صحیح بخاری:5999] ‏

جیسے فرمایا «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» [36-یس:58] ‏

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرے گا۔‏“ اس کی تائید بھی آیت «دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [10-یونس:10] ‏، سے ہوتی ہے۔

اللہ نے ان کے لیے اجر کریم یعنی جنت مع اس کی تمام نعمتوں کے تیار کر رکھی ہے۔ جن میں سے ہر نعمت کھانا پینا پہننا اوڑھنا عورتیں لذتیں منظر وغیرہ ایسی ہیں کہ آج تو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتیں، چہ جائیکہ دیکھنے میں یا سننے میں آئیں۔

صفحہ نمبر7053

بہترین دعا ٭٭

بہت سی نعمتوں کے انعام کرنے والے اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ” ہمیں اس کا بکثرت ذکر کرنا چاہیئے اور اس پر بھی ہمیں نعمتوں اور بڑے اجر و ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے “۔

ایک مرتبہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہارے بہتر عمل اور بہت ہی زیادہ پاکیزہ کام اور سب سے بڑے درجے کی نیکی اور سونے چاندی کو راہ اللہ خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر اور جہاد سے بھی افضل کام نہ بتاؤں؟ لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ہے؟ فرمایا: اللہ عزوجل کا ذکر ۔ [سنن ترمذي:3377،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث پہلے «وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ» [33-الأحزاب:35] ‏ کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا سنی ہے جسے میں کسی وقت ترک نہیں کرتا۔ دعا یہ ہے «اللَّهُمَّ، اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ، وَأَتْبَعُ نَصِيحَتَكَ، وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ، وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ» یعنی اے اللہ تو مجھے اپنا بہت بڑا شکر گزار، فرماں بردار، بکثرت ذکر کرنے والا اور تیرے احکام کی حفاظت کرنے والا بنا دے ۔ [سنن ترمذي:3604،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

دو اعرابی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک نے پوچھا ”سب سے اچھا شخص کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لمبی عمر پائے، اور نیک اعمال کرے ۔ دوسرے نے پوچھا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم احکام اسلام تو بہت سارے ہیں مجھے کوئی چوٹی کا حکم بتا دیجئیے کہ اس میں چمٹ جاؤں۔‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذکر اللہ میں ہر وقت اپنی زبان کو تر رکھ ۔ [سنن ترمذي:3375،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر میں ہر وقت مشغول رہو یہاں تک کہ لوگ تمہیں مجنوں کہنے لگیں [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:517:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو یہاں تک کہ منافق تمہیں ریا کار کہنے لگیں ۔ [طبرانی کبیر:12786:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کریں وہ مجلس قیامت کے دن ان پر حسرت افسوس کا باعث بنے گی ۔ [مسند احمد:224/2:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7049

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہر فرض کام کی کوئی حد ہے، پھر عذر کی حالت میں وہ معاف بھی ہے لیکن ذکر اللہ کی کوئی حد نہیں نہ وہ کسی وقت ٹلتا ہے۔ ہاں کوئی دیوانہ ہو تو اور بات ہے۔ کھڑے بیٹھے لیٹے رات کو دن کو خشکی میں تری میں سفر میں حضر میں غنا میں فقر میں صحت میں بیماری پوشیدگی میں ظاہر میں غرض ہر حال میں ذکر اللہ کرنا چاہیئے۔ صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کرنی چاہیئے۔ تم جب یہ کرو گے تو اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا اور فرشتے تمہارے لیے ہر وقت دعاگو رہیں گے۔‏“

اس بارے میں اور بھی بہت سی احادیث و آثار ہیں۔ اس آیت میں بھی بکثرت ذکر اللہ کرنے کی ہدایت ہو رہی ہے۔ بزرگوں نے ذکر اللہ اور وظائف کی بہت سی مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جیسے امام نسائی، امام معمری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ۔ ان سب میں بہترین کتاب اس موضوع پر امام نووی رحمہ اللہ علیہ کی ہے۔ صبح شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ جیسے فرمایا «فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ» [30-الروم:18-17] ‏، ” اللہ کے لیے پاکی ہے۔ جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو، اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور بعد از زوال اور ظہر کے وقت “۔

صفحہ نمبر7050

پھر اس کی فضیلت بیان کرنے اور اس کی طرف رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے ” وہ خود تم پر رحمت بھیج رہا ہے “۔ یعنی جب وہ تمہاری یاد رکھتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ تم اس کے ذکر سے غفلت کرو؟

جیسے فرمایا «كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ» [2-البقرة:152-151] ‏، ” جس طرح ہم نے تم میں خود تم ہی میں سے رسول بھیجا جو تم پر ہماری کتاب پڑھتا ہے اور وہ سکھاتا ہے جسے تم جانتے ہی نہ تھے۔ پس تم میرا ذکر کرو میں تمہاری یاد کروں گا اور تم میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو “۔

حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اور جو مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے جماعت میں یاد کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے بہتر ہوتی ہے “ ۔ [صحیح بخاری:7405] ‏

صفحہ نمبر7051

«الصَّلَاةُ» جب اللہ کی طرف مضاف ہو تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھلائی اپنے فرشتوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ اور قول میں ہے مراد اس کی رحمت ہے۔ اور دونوں قولوں کا انجام ایک ہی ہے۔ فرشتوں کی «الصَّلَاةُ» ان کی دعا اور استغفار ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ وَقِهِمُ السَّيِّئَاتِ» [40-غافر:7-9] ‏، ” عرش کے اٹھانے والے اور اس کے آس پاس والے اپنے رب کی حمد و تسبیح بیان کرتے ہیں، اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومن بندوں کے لیے استغفار کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے ہرچیز کو رحمت و علم سے گھیر لیا ہے۔ اے اللہ تو انہیں بخش جو توبہ کرتے ہیں اور تیری راہ پر چلتے ہیں۔ انہیں عذاب جہنم سے بھی نجات دے۔ انہیں ان جنتوں میں لے جا جن کا تو ان سے وعدہ کر چکا ہے۔ اور انہیں بھی ان کے ساتھ پہنچا جو ان کے باپ دادوں بیویوں اور اولادوں میں سے نیک ہیں، انہیں برائیوں سے بچا لے۔ وہ اللہ اپنی رحمت کو تم پر نازل فرما کر اپنے فرشتوں کی دعا کو تمہارے حق میں قبول فرما کر تمہیں جہالت وو ضلالت کی اندھیریوں سے نکال کر ھدایت و یقین کے نور کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں مومنوں پر رحیم و کریم ہے “۔

دنیا میں حق کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور روزیاں عطا فرماتا ہے اور آخرت میں گھبراہٹ اور ڈر خوف سے بچا لے گا۔ فرشتے آ کر انہیں بشارت دیں گے کہ تم جہنم سے آزاد ہو اور جنتی ہو۔ کیونکہ ان فرشتوں کے دل مومنوں کی محبت و الفت سے پُر ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے ساتھ راستے سے گزر رہے تھے۔ ایک چھوٹا بچہ راستے میں تھا اس کی ماں نے ایک جماعت کو آتے ہوئے دیکھا تو میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی اور بچے کو گود میں لے کر ایک طرف ہٹ گئی۔ ماں کی اس محبت کو دیکھ کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیال تو فرمائیے کیا یہ اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مطلب کو سمجھ کر فرمانے لگے قسم اللہ کی! اللہ تعالیٰ بھی اپنے دوستوں کو آگ میں نہیں ڈالے گا ۔ [مسند احمد:104/3:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7052

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قیدی عورت کو دیکھا کہ اس نے اپنے بچے کو دیکھتے ہی اٹھا لیا اور اپنے کلیجے سے لگا کر اسے دودھ پلانے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتاؤ تو اگر اس کے اختیار میں ہو تو کیا یہ اپنی خوشی سے اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ہرگز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اللہ کی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے، اللہ کی طرف سے ان کا ثمرہ جس دن یہ اس سے ملیں گے سلام ہوگا ۔ [صحیح بخاری:5999] ‏

جیسے فرمایا «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» [36-یس:58] ‏

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرے گا۔‏“ اس کی تائید بھی آیت «دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [10-یونس:10] ‏، سے ہوتی ہے۔

اللہ نے ان کے لیے اجر کریم یعنی جنت مع اس کی تمام نعمتوں کے تیار کر رکھی ہے۔ جن میں سے ہر نعمت کھانا پینا پہننا اوڑھنا عورتیں لذتیں منظر وغیرہ ایسی ہیں کہ آج تو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتیں، چہ جائیکہ دیکھنے میں یا سننے میں آئیں۔

صفحہ نمبر7053

تورات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات ٭٭

عطابن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں تورات میں کیا ہیں؟ فرمایا جو صفتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآن میں ہیں انہی میں بعض اوصاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تورات میں بھی ہیں۔ تورات میں ہے ” اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور خوشی سنانے والا، ڈرانے والا، امتیوں کو بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے تو بدگو اور فحش کلام نہیں ہے، نہ بازاروں میں شور مچانے والا۔ وہ برائی کے بدلے برائی نہیں کرتا بلکہ در گزر کرتا ہے، اور معاف فرماتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ قبض نہیں کرے گا، جب تک لوگوں کو ٹیڑھا کر دئیے ہوئے دین کو اس کی ذات سے بالکل سیدھا نہ کر دے اور وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے قائل نہ ہو جائیں، جس سے اندھی آنکھیں روشن ہو جائیں، اور بہرے کان سننے والے بن جائیں، اور پردوں والے دلوں کے زنگ چھوٹ جائیں “ ۔ [صحیح بخاری:4838] ‏

صفحہ نمبر7057

ابن ابی حاتم میں ہے ”وہیب بن منبہ فرماتے ہیں بنی اسرائیل کے ایک نبی شعیب علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ ” اپنی قوم بنی اسرائیل میں کھڑے ہو جاؤ، میں تمہاری زبان سے اپنی باتیں کہلواؤں گا۔ میں امیوں میں سے ایک نبی امی کو بھیجنے والا ہوں جو نہ بدخلق ہے نہ بد گو۔ نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والا۔ اس قدر سکون و امن کا حامل ہے کہ اگر چراغ کے پاس سے بھی گزر جائے تو وہ نہ بجھے اور اگر بانسوں پر بھی چلے تو پیر کی چاپ نہ معلوم ہو۔ میں اسے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجوں گا۔ جو حق گو ہو گا اور میں اس کی وجہ سے اندھی آنکھوں کو کھول دوں گا اور بہرے کانوں کو سننے والا کروں گا اور زنگ آلود دلوں کو صاف کردوں گا۔ ہر بھلائی کی طرف اس کی ضمیر ہوگی۔ حکمت اس کی گویائی ہوگی۔ صدق و وفا اس کی عادت ہوگی۔ عفو و در گزر اس کا خلق ہوگا۔ حق اس کی شریعت ہوگی۔ عدل اس کی سیرت ہو گی۔ ہدایت اس کی امام ہوگی اسلام اس کا دین ہوگا۔ احمد اس کا نام ہوگا۔ گمراہوں کو میں اس کی وجہ سے ہدایت دوں گا۔ جاہلوں کو اس کی بدولت علماء بنا دوں گا۔ تنزل والوں کو ترقی پر پہنچا دوں گا۔ انجانوں کو مشہور و معروف کر دوں گا۔ مختلف اور متضاد دلوں کو متفق اور متحد کر دوں گا۔ جداگانہ خواہشوں کو یکسو کر دوں گا۔ دنیا کو اس کی وجہ سے ہلاکت سے بچا لوں گا۔ تمام امتوں سے اس کی امت کو اعلیٰ اور افضل بنا دوں گا۔ وہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے دنیا میں پیدا کئے جائیں گے۔ ہر ایک کو نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ وہ موحد ہوں گے، مومن ہوں گے، اخلاص والے ہوں گے، رسولوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے سب کو سچ ماننے والے ہوں گے۔ وہ اپنی مسجدوں مجلسوں اور بستروں پر چلتے پھرتے بیٹھے اٹھتے میری تسبیح حمد و ثنا بزرگی اور بڑائی بیان کرتے رہیں گے۔ کھڑے اور بیٹھے نمازیں ادا کرتے رہیں گے۔ دشمنان اللہ سے صفیں باندھ کر حملہ کر کے جہاد کریں گے۔ ان میں سے ہزارہا لوگ میری رضا مندی کی جستجو میں اپنا گھربار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوں گے۔ منہ ہاتھ وضو میں دھویا کریں گے۔ تہمد آدھی پنڈلی تک باندھیں گے۔ میری راہ میں قربانیاں دیں گے۔ میری کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ راتوں کو عابد اور دنوں کو مجاہد ہوں گے۔ میں اس نبی کی اہل بیت اور اولاد میں سبقت کرنے والے صدیق شہید اور صالح لوگ پیدا کر دوں گا “۔

صفحہ نمبر7058

” اس کی امت اس کے بعد دنیا کو حق کی ہدایت کرے گی، اور حق کے ساتھ عدل و انصاف کرے گی۔ ان کی امداد کرنے والوں کو میں عزت والا کروں گا۔ اور ان کو بلانے والوں کی مدد کروں گا۔ ان کے مخالفین اور ان کے باغی اور ان کے بدخواہوں پر میں برے دن لاؤں گا۔ میں انہیں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث کر دوں گا۔ جو اپنے رب کی طرف لوگوں کو دعوت دیں گے۔ نیکیوں کی باتیں بتائیں گے، برائیوں سے روکیں گے، نماز ادا کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، وعدے پورے کریں گے، اس خیر کو میں ان کے ہاتھوں پوری کروں گا جو ان سے شروع ہوئی تھی۔ یہ ہے میرا فضل جسے چاہوں دوں۔ اور میں بہت بڑے فضل و کرم کا مالک ہوں “۔

ابن ابی خاتم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیج رہے تھے جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: جاؤ خوشخبریاں سنانا نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا سختی نہ کرنا، دیکھو مجھ پر یہ آیت اتری ہے ۔ [طبرانی کبیر:11841:ضعیف] ‏

طبرانی میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر یہ اترا ہے کہ ” اے نبی ہم نے تجھے تیری امت پر گواہ بنا کر جنت کی خوشخبری دینے والا بنا کر جہنم سے ڈرانے والا بنا کر اور اللہ کے حکم سے اس کی توحید کی شہادت کی طرف لوگوں کو بلانے والا بنا کر اور روشن چراغ قرآن کے ساتھ بنا کر بھیجا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی وحدانیت پر کہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں گواہ ہیں، اور قیامت کے دن آپ لوگوں کے اعمال پر گواہ ہوں گے “ ۔ [مجمع الزوائد:92/7:ضعیف] ‏

جیسے ارشاد ہے «وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاءِ شَهِيْدًا» [4-النساء:41] ‏ یعنی ” ہم تجھے ان پر گواہ بنا کر لائیں گے “۔

اور آیت میں ہے کہ «لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا» [2-البقرة:143] ‏ ” تم لوگوں پر گواہ ہو اور تم پر یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کو بہترین اجر کی بشارت سنانے والے اور کافروں کو بدترین عذاب کاڈر سنانے والے ہیں “۔

اور چونکہ اللہ کا حکم ہے اس کی بجا آوری کے ماتحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کو خالق کی عبادت کی طرف بلانے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اس طرح ظاہر ہے جیسے سورج کی روشنی۔ ہاں کوئی ضدی اڑ جائے تو اور بات ہے۔

” اے نبی! کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو نہ ان کی طرف کان لگاؤ اور ان سے در گزر کرو۔ یہ جو ایذائیں پہنچاتے ہیں انہیں خیال میں بھی نہ لاؤ اور اللہ پر پورا بھروسہ کرو وہ کافی ہے “۔

صفحہ نمبر7059

تورات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات ٭٭

عطابن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں تورات میں کیا ہیں؟ فرمایا جو صفتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآن میں ہیں انہی میں بعض اوصاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تورات میں بھی ہیں۔ تورات میں ہے ” اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور خوشی سنانے والا، ڈرانے والا، امتیوں کو بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے تو بدگو اور فحش کلام نہیں ہے، نہ بازاروں میں شور مچانے والا۔ وہ برائی کے بدلے برائی نہیں کرتا بلکہ در گزر کرتا ہے، اور معاف فرماتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ قبض نہیں کرے گا، جب تک لوگوں کو ٹیڑھا کر دئیے ہوئے دین کو اس کی ذات سے بالکل سیدھا نہ کر دے اور وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے قائل نہ ہو جائیں، جس سے اندھی آنکھیں روشن ہو جائیں، اور بہرے کان سننے والے بن جائیں، اور پردوں والے دلوں کے زنگ چھوٹ جائیں “ ۔ [صحیح بخاری:4838] ‏

صفحہ نمبر7057

ابن ابی حاتم میں ہے ”وہیب بن منبہ فرماتے ہیں بنی اسرائیل کے ایک نبی شعیب علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ ” اپنی قوم بنی اسرائیل میں کھڑے ہو جاؤ، میں تمہاری زبان سے اپنی باتیں کہلواؤں گا۔ میں امیوں میں سے ایک نبی امی کو بھیجنے والا ہوں جو نہ بدخلق ہے نہ بد گو۔ نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والا۔ اس قدر سکون و امن کا حامل ہے کہ اگر چراغ کے پاس سے بھی گزر جائے تو وہ نہ بجھے اور اگر بانسوں پر بھی چلے تو پیر کی چاپ نہ معلوم ہو۔ میں اسے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجوں گا۔ جو حق گو ہو گا اور میں اس کی وجہ سے اندھی آنکھوں کو کھول دوں گا اور بہرے کانوں کو سننے والا کروں گا اور زنگ آلود دلوں کو صاف کردوں گا۔ ہر بھلائی کی طرف اس کی ضمیر ہوگی۔ حکمت اس کی گویائی ہوگی۔ صدق و وفا اس کی عادت ہوگی۔ عفو و در گزر اس کا خلق ہوگا۔ حق اس کی شریعت ہوگی۔ عدل اس کی سیرت ہو گی۔ ہدایت اس کی امام ہوگی اسلام اس کا دین ہوگا۔ احمد اس کا نام ہوگا۔ گمراہوں کو میں اس کی وجہ سے ہدایت دوں گا۔ جاہلوں کو اس کی بدولت علماء بنا دوں گا۔ تنزل والوں کو ترقی پر پہنچا دوں گا۔ انجانوں کو مشہور و معروف کر دوں گا۔ مختلف اور متضاد دلوں کو متفق اور متحد کر دوں گا۔ جداگانہ خواہشوں کو یکسو کر دوں گا۔ دنیا کو اس کی وجہ سے ہلاکت سے بچا لوں گا۔ تمام امتوں سے اس کی امت کو اعلیٰ اور افضل بنا دوں گا۔ وہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے دنیا میں پیدا کئے جائیں گے۔ ہر ایک کو نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ وہ موحد ہوں گے، مومن ہوں گے، اخلاص والے ہوں گے، رسولوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے سب کو سچ ماننے والے ہوں گے۔ وہ اپنی مسجدوں مجلسوں اور بستروں پر چلتے پھرتے بیٹھے اٹھتے میری تسبیح حمد و ثنا بزرگی اور بڑائی بیان کرتے رہیں گے۔ کھڑے اور بیٹھے نمازیں ادا کرتے رہیں گے۔ دشمنان اللہ سے صفیں باندھ کر حملہ کر کے جہاد کریں گے۔ ان میں سے ہزارہا لوگ میری رضا مندی کی جستجو میں اپنا گھربار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوں گے۔ منہ ہاتھ وضو میں دھویا کریں گے۔ تہمد آدھی پنڈلی تک باندھیں گے۔ میری راہ میں قربانیاں دیں گے۔ میری کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ راتوں کو عابد اور دنوں کو مجاہد ہوں گے۔ میں اس نبی کی اہل بیت اور اولاد میں سبقت کرنے والے صدیق شہید اور صالح لوگ پیدا کر دوں گا “۔

صفحہ نمبر7058

” اس کی امت اس کے بعد دنیا کو حق کی ہدایت کرے گی، اور حق کے ساتھ عدل و انصاف کرے گی۔ ان کی امداد کرنے والوں کو میں عزت والا کروں گا۔ اور ان کو بلانے والوں کی مدد کروں گا۔ ان کے مخالفین اور ان کے باغی اور ان کے بدخواہوں پر میں برے دن لاؤں گا۔ میں انہیں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث کر دوں گا۔ جو اپنے رب کی طرف لوگوں کو دعوت دیں گے۔ نیکیوں کی باتیں بتائیں گے، برائیوں سے روکیں گے، نماز ادا کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، وعدے پورے کریں گے، اس خیر کو میں ان کے ہاتھوں پوری کروں گا جو ان سے شروع ہوئی تھی۔ یہ ہے میرا فضل جسے چاہوں دوں۔ اور میں بہت بڑے فضل و کرم کا مالک ہوں “۔

ابن ابی خاتم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیج رہے تھے جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: جاؤ خوشخبریاں سنانا نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا سختی نہ کرنا، دیکھو مجھ پر یہ آیت اتری ہے ۔ [طبرانی کبیر:11841:ضعیف] ‏

طبرانی میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر یہ اترا ہے کہ ” اے نبی ہم نے تجھے تیری امت پر گواہ بنا کر جنت کی خوشخبری دینے والا بنا کر جہنم سے ڈرانے والا بنا کر اور اللہ کے حکم سے اس کی توحید کی شہادت کی طرف لوگوں کو بلانے والا بنا کر اور روشن چراغ قرآن کے ساتھ بنا کر بھیجا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی وحدانیت پر کہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں گواہ ہیں، اور قیامت کے دن آپ لوگوں کے اعمال پر گواہ ہوں گے “ ۔ [مجمع الزوائد:92/7:ضعیف] ‏

جیسے ارشاد ہے «وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاءِ شَهِيْدًا» [4-النساء:41] ‏ یعنی ” ہم تجھے ان پر گواہ بنا کر لائیں گے “۔

اور آیت میں ہے کہ «لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا» [2-البقرة:143] ‏ ” تم لوگوں پر گواہ ہو اور تم پر یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کو بہترین اجر کی بشارت سنانے والے اور کافروں کو بدترین عذاب کاڈر سنانے والے ہیں “۔

اور چونکہ اللہ کا حکم ہے اس کی بجا آوری کے ماتحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کو خالق کی عبادت کی طرف بلانے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اس طرح ظاہر ہے جیسے سورج کی روشنی۔ ہاں کوئی ضدی اڑ جائے تو اور بات ہے۔

” اے نبی! کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو نہ ان کی طرف کان لگاؤ اور ان سے در گزر کرو۔ یہ جو ایذائیں پہنچاتے ہیں انہیں خیال میں بھی نہ لاؤ اور اللہ پر پورا بھروسہ کرو وہ کافی ہے “۔

صفحہ نمبر7059

تورات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات ٭٭

عطابن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں تورات میں کیا ہیں؟ فرمایا جو صفتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآن میں ہیں انہی میں بعض اوصاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تورات میں بھی ہیں۔ تورات میں ہے ” اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور خوشی سنانے والا، ڈرانے والا، امتیوں کو بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے تو بدگو اور فحش کلام نہیں ہے، نہ بازاروں میں شور مچانے والا۔ وہ برائی کے بدلے برائی نہیں کرتا بلکہ در گزر کرتا ہے، اور معاف فرماتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ قبض نہیں کرے گا، جب تک لوگوں کو ٹیڑھا کر دئیے ہوئے دین کو اس کی ذات سے بالکل سیدھا نہ کر دے اور وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے قائل نہ ہو جائیں، جس سے اندھی آنکھیں روشن ہو جائیں، اور بہرے کان سننے والے بن جائیں، اور پردوں والے دلوں کے زنگ چھوٹ جائیں “ ۔ [صحیح بخاری:4838] ‏

صفحہ نمبر7057

ابن ابی حاتم میں ہے ”وہیب بن منبہ فرماتے ہیں بنی اسرائیل کے ایک نبی شعیب علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ ” اپنی قوم بنی اسرائیل میں کھڑے ہو جاؤ، میں تمہاری زبان سے اپنی باتیں کہلواؤں گا۔ میں امیوں میں سے ایک نبی امی کو بھیجنے والا ہوں جو نہ بدخلق ہے نہ بد گو۔ نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والا۔ اس قدر سکون و امن کا حامل ہے کہ اگر چراغ کے پاس سے بھی گزر جائے تو وہ نہ بجھے اور اگر بانسوں پر بھی چلے تو پیر کی چاپ نہ معلوم ہو۔ میں اسے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجوں گا۔ جو حق گو ہو گا اور میں اس کی وجہ سے اندھی آنکھوں کو کھول دوں گا اور بہرے کانوں کو سننے والا کروں گا اور زنگ آلود دلوں کو صاف کردوں گا۔ ہر بھلائی کی طرف اس کی ضمیر ہوگی۔ حکمت اس کی گویائی ہوگی۔ صدق و وفا اس کی عادت ہوگی۔ عفو و در گزر اس کا خلق ہوگا۔ حق اس کی شریعت ہوگی۔ عدل اس کی سیرت ہو گی۔ ہدایت اس کی امام ہوگی اسلام اس کا دین ہوگا۔ احمد اس کا نام ہوگا۔ گمراہوں کو میں اس کی وجہ سے ہدایت دوں گا۔ جاہلوں کو اس کی بدولت علماء بنا دوں گا۔ تنزل والوں کو ترقی پر پہنچا دوں گا۔ انجانوں کو مشہور و معروف کر دوں گا۔ مختلف اور متضاد دلوں کو متفق اور متحد کر دوں گا۔ جداگانہ خواہشوں کو یکسو کر دوں گا۔ دنیا کو اس کی وجہ سے ہلاکت سے بچا لوں گا۔ تمام امتوں سے اس کی امت کو اعلیٰ اور افضل بنا دوں گا۔ وہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے دنیا میں پیدا کئے جائیں گے۔ ہر ایک کو نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ وہ موحد ہوں گے، مومن ہوں گے، اخلاص والے ہوں گے، رسولوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے سب کو سچ ماننے والے ہوں گے۔ وہ اپنی مسجدوں مجلسوں اور بستروں پر چلتے پھرتے بیٹھے اٹھتے میری تسبیح حمد و ثنا بزرگی اور بڑائی بیان کرتے رہیں گے۔ کھڑے اور بیٹھے نمازیں ادا کرتے رہیں گے۔ دشمنان اللہ سے صفیں باندھ کر حملہ کر کے جہاد کریں گے۔ ان میں سے ہزارہا لوگ میری رضا مندی کی جستجو میں اپنا گھربار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوں گے۔ منہ ہاتھ وضو میں دھویا کریں گے۔ تہمد آدھی پنڈلی تک باندھیں گے۔ میری راہ میں قربانیاں دیں گے۔ میری کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ راتوں کو عابد اور دنوں کو مجاہد ہوں گے۔ میں اس نبی کی اہل بیت اور اولاد میں سبقت کرنے والے صدیق شہید اور صالح لوگ پیدا کر دوں گا “۔

صفحہ نمبر7058

” اس کی امت اس کے بعد دنیا کو حق کی ہدایت کرے گی، اور حق کے ساتھ عدل و انصاف کرے گی۔ ان کی امداد کرنے والوں کو میں عزت والا کروں گا۔ اور ان کو بلانے والوں کی مدد کروں گا۔ ان کے مخالفین اور ان کے باغی اور ان کے بدخواہوں پر میں برے دن لاؤں گا۔ میں انہیں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث کر دوں گا۔ جو اپنے رب کی طرف لوگوں کو دعوت دیں گے۔ نیکیوں کی باتیں بتائیں گے، برائیوں سے روکیں گے، نماز ادا کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، وعدے پورے کریں گے، اس خیر کو میں ان کے ہاتھوں پوری کروں گا جو ان سے شروع ہوئی تھی۔ یہ ہے میرا فضل جسے چاہوں دوں۔ اور میں بہت بڑے فضل و کرم کا مالک ہوں “۔

ابن ابی خاتم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیج رہے تھے جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: جاؤ خوشخبریاں سنانا نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا سختی نہ کرنا، دیکھو مجھ پر یہ آیت اتری ہے ۔ [طبرانی کبیر:11841:ضعیف] ‏

طبرانی میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر یہ اترا ہے کہ ” اے نبی ہم نے تجھے تیری امت پر گواہ بنا کر جنت کی خوشخبری دینے والا بنا کر جہنم سے ڈرانے والا بنا کر اور اللہ کے حکم سے اس کی توحید کی شہادت کی طرف لوگوں کو بلانے والا بنا کر اور روشن چراغ قرآن کے ساتھ بنا کر بھیجا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی وحدانیت پر کہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں گواہ ہیں، اور قیامت کے دن آپ لوگوں کے اعمال پر گواہ ہوں گے “ ۔ [مجمع الزوائد:92/7:ضعیف] ‏

جیسے ارشاد ہے «وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاءِ شَهِيْدًا» [4-النساء:41] ‏ یعنی ” ہم تجھے ان پر گواہ بنا کر لائیں گے “۔

اور آیت میں ہے کہ «لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا» [2-البقرة:143] ‏ ” تم لوگوں پر گواہ ہو اور تم پر یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کو بہترین اجر کی بشارت سنانے والے اور کافروں کو بدترین عذاب کاڈر سنانے والے ہیں “۔

اور چونکہ اللہ کا حکم ہے اس کی بجا آوری کے ماتحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کو خالق کی عبادت کی طرف بلانے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اس طرح ظاہر ہے جیسے سورج کی روشنی۔ ہاں کوئی ضدی اڑ جائے تو اور بات ہے۔

” اے نبی! کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو نہ ان کی طرف کان لگاؤ اور ان سے در گزر کرو۔ یہ جو ایذائیں پہنچاتے ہیں انہیں خیال میں بھی نہ لاؤ اور اللہ پر پورا بھروسہ کرو وہ کافی ہے “۔

صفحہ نمبر7059

تورات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات ٭٭

عطابن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں تورات میں کیا ہیں؟ فرمایا جو صفتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآن میں ہیں انہی میں بعض اوصاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تورات میں بھی ہیں۔ تورات میں ہے ” اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور خوشی سنانے والا، ڈرانے والا، امتیوں کو بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے تو بدگو اور فحش کلام نہیں ہے، نہ بازاروں میں شور مچانے والا۔ وہ برائی کے بدلے برائی نہیں کرتا بلکہ در گزر کرتا ہے، اور معاف فرماتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ قبض نہیں کرے گا، جب تک لوگوں کو ٹیڑھا کر دئیے ہوئے دین کو اس کی ذات سے بالکل سیدھا نہ کر دے اور وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے قائل نہ ہو جائیں، جس سے اندھی آنکھیں روشن ہو جائیں، اور بہرے کان سننے والے بن جائیں، اور پردوں والے دلوں کے زنگ چھوٹ جائیں “ ۔ [صحیح بخاری:4838] ‏

صفحہ نمبر7057

ابن ابی حاتم میں ہے ”وہیب بن منبہ فرماتے ہیں بنی اسرائیل کے ایک نبی شعیب علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ ” اپنی قوم بنی اسرائیل میں کھڑے ہو جاؤ، میں تمہاری زبان سے اپنی باتیں کہلواؤں گا۔ میں امیوں میں سے ایک نبی امی کو بھیجنے والا ہوں جو نہ بدخلق ہے نہ بد گو۔ نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والا۔ اس قدر سکون و امن کا حامل ہے کہ اگر چراغ کے پاس سے بھی گزر جائے تو وہ نہ بجھے اور اگر بانسوں پر بھی چلے تو پیر کی چاپ نہ معلوم ہو۔ میں اسے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجوں گا۔ جو حق گو ہو گا اور میں اس کی وجہ سے اندھی آنکھوں کو کھول دوں گا اور بہرے کانوں کو سننے والا کروں گا اور زنگ آلود دلوں کو صاف کردوں گا۔ ہر بھلائی کی طرف اس کی ضمیر ہوگی۔ حکمت اس کی گویائی ہوگی۔ صدق و وفا اس کی عادت ہوگی۔ عفو و در گزر اس کا خلق ہوگا۔ حق اس کی شریعت ہوگی۔ عدل اس کی سیرت ہو گی۔ ہدایت اس کی امام ہوگی اسلام اس کا دین ہوگا۔ احمد اس کا نام ہوگا۔ گمراہوں کو میں اس کی وجہ سے ہدایت دوں گا۔ جاہلوں کو اس کی بدولت علماء بنا دوں گا۔ تنزل والوں کو ترقی پر پہنچا دوں گا۔ انجانوں کو مشہور و معروف کر دوں گا۔ مختلف اور متضاد دلوں کو متفق اور متحد کر دوں گا۔ جداگانہ خواہشوں کو یکسو کر دوں گا۔ دنیا کو اس کی وجہ سے ہلاکت سے بچا لوں گا۔ تمام امتوں سے اس کی امت کو اعلیٰ اور افضل بنا دوں گا۔ وہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے دنیا میں پیدا کئے جائیں گے۔ ہر ایک کو نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ وہ موحد ہوں گے، مومن ہوں گے، اخلاص والے ہوں گے، رسولوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے سب کو سچ ماننے والے ہوں گے۔ وہ اپنی مسجدوں مجلسوں اور بستروں پر چلتے پھرتے بیٹھے اٹھتے میری تسبیح حمد و ثنا بزرگی اور بڑائی بیان کرتے رہیں گے۔ کھڑے اور بیٹھے نمازیں ادا کرتے رہیں گے۔ دشمنان اللہ سے صفیں باندھ کر حملہ کر کے جہاد کریں گے۔ ان میں سے ہزارہا لوگ میری رضا مندی کی جستجو میں اپنا گھربار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوں گے۔ منہ ہاتھ وضو میں دھویا کریں گے۔ تہمد آدھی پنڈلی تک باندھیں گے۔ میری راہ میں قربانیاں دیں گے۔ میری کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ راتوں کو عابد اور دنوں کو مجاہد ہوں گے۔ میں اس نبی کی اہل بیت اور اولاد میں سبقت کرنے والے صدیق شہید اور صالح لوگ پیدا کر دوں گا “۔

صفحہ نمبر7058

” اس کی امت اس کے بعد دنیا کو حق کی ہدایت کرے گی، اور حق کے ساتھ عدل و انصاف کرے گی۔ ان کی امداد کرنے والوں کو میں عزت والا کروں گا۔ اور ان کو بلانے والوں کی مدد کروں گا۔ ان کے مخالفین اور ان کے باغی اور ان کے بدخواہوں پر میں برے دن لاؤں گا۔ میں انہیں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث کر دوں گا۔ جو اپنے رب کی طرف لوگوں کو دعوت دیں گے۔ نیکیوں کی باتیں بتائیں گے، برائیوں سے روکیں گے، نماز ادا کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، وعدے پورے کریں گے، اس خیر کو میں ان کے ہاتھوں پوری کروں گا جو ان سے شروع ہوئی تھی۔ یہ ہے میرا فضل جسے چاہوں دوں۔ اور میں بہت بڑے فضل و کرم کا مالک ہوں “۔

ابن ابی خاتم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیج رہے تھے جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: جاؤ خوشخبریاں سنانا نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا سختی نہ کرنا، دیکھو مجھ پر یہ آیت اتری ہے ۔ [طبرانی کبیر:11841:ضعیف] ‏

طبرانی میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر یہ اترا ہے کہ ” اے نبی ہم نے تجھے تیری امت پر گواہ بنا کر جنت کی خوشخبری دینے والا بنا کر جہنم سے ڈرانے والا بنا کر اور اللہ کے حکم سے اس کی توحید کی شہادت کی طرف لوگوں کو بلانے والا بنا کر اور روشن چراغ قرآن کے ساتھ بنا کر بھیجا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی وحدانیت پر کہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں گواہ ہیں، اور قیامت کے دن آپ لوگوں کے اعمال پر گواہ ہوں گے “ ۔ [مجمع الزوائد:92/7:ضعیف] ‏

جیسے ارشاد ہے «وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاءِ شَهِيْدًا» [4-النساء:41] ‏ یعنی ” ہم تجھے ان پر گواہ بنا کر لائیں گے “۔

اور آیت میں ہے کہ «لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا» [2-البقرة:143] ‏ ” تم لوگوں پر گواہ ہو اور تم پر یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کو بہترین اجر کی بشارت سنانے والے اور کافروں کو بدترین عذاب کاڈر سنانے والے ہیں “۔

اور چونکہ اللہ کا حکم ہے اس کی بجا آوری کے ماتحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کو خالق کی عبادت کی طرف بلانے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اس طرح ظاہر ہے جیسے سورج کی روشنی۔ ہاں کوئی ضدی اڑ جائے تو اور بات ہے۔

” اے نبی! کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو نہ ان کی طرف کان لگاؤ اور ان سے در گزر کرو۔ یہ جو ایذائیں پہنچاتے ہیں انہیں خیال میں بھی نہ لاؤ اور اللہ پر پورا بھروسہ کرو وہ کافی ہے “۔

صفحہ نمبر7059

نکاح کی حقیقت ٭٭

اس آیت میں بہت سے احکام ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف عقد پر بھی نکاح کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس کے ثبوت میں اس سے زیادہ صراحت والی آیت اور نہیں۔ اس میں اختلاف ہے کہ لفظ نکاح حقیقت میں صرف ایجاب وقبول کے لیے ہے؟ یا صرف جماع کے لیے ہے؟ یا ان دونوں کے مجموعے کے لیے؟ قرآن کریم میں اس کا اطلاق عقد و وطی دونوں پر ہی ہوا ہے۔

لیکن اس آیت میں صرف عقد پر ہی اطلاق ہے۔ اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دخول سے پہلے بھی خاوند اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ مومنات کا ذکر یہاں پر بوجہ غلبہ کے ہے ورنہ حکم کتابیہ عورت کا بھی یہی ہے۔ سلف کی ایک بڑی جماعت نے اس آیت سے استدلال کر کے کہا ہے کہ طلاق اسی وقت واقع ہوتی ہے جب اس سے پہلے نکاح ہو گیا ہو اس آیت میں نکاح کے بعد طلاق کو فرمایا ہے۔ پس معلوم ہوا ہے کہ نکاح سے پہلے نہ طلاق صحیح ہے نہ وہ واقع ہوتی ہے۔ امام شافعی اور امام احمد رحمہ اللہ علیہم اور بہت بڑی جماعت سلف و خلف کا یہی مذہب ہے۔ مالک اور ابو حنفیہ رحمہ اللہ علیہم کا خیال ہے کہ نکاح سے پہلے بھی طلاق درست ہو جاتی ہے۔ مثلاً کسی نے کہا کہ اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے۔ تو اب جب بھی اس سے نکاح کرے گا طلاق پڑ جائے گی۔ پھر مالک اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہم میں اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو کہے کہ جس عورت سے میں نکاح کروں اس پر طلاق ہے تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں پس وہ جس سے نکاح کرے گا اس پر طلاق پڑ جائے گی اور امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ نہیں پڑے گی کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ”اگر کسی شخص نے نکاح سے پہلے یہ کہا ہو کہ میں جس عورت سے نکاح کروں اس پر طلاق ہے تو کیا حکم ہے؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا ”اس عورت کو طلاق نہیں ہو گی۔ کیونکہ اللہ عزوجل نے طلاق کو نکاح کے بعد فرمایا ہے۔‏“ پس نکاح سے پہلے کی طلاق کوئی چیز نہیں۔

مسند احمد ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ابن آدم جس کا مالک نہ ہو اس میں طلاق نہیں ۔ [سنن ابوداود:2190،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اور حدیث میں ہے جو طلاق نکاح سے پہلے کی ہو وہ کسی شمار میں نہیں ۔ [سنن ابن ماجه:2048،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏

صفحہ نمبر7063

پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جب تم عورتوں کو نکاح کے بعد ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر کوئی عدت نہیں بلکہ وہ جس سے چاہیں اسی وقت نکاح کر سکتی ہیں “۔ ہاں اگر ایسی حالت میں ان کا خاوند فوت ہو گیا ہو تو یہ حکم نہیں اسے چار ماہ دس دن کی عدت گزارنی پڑے گی۔ علماء کا اس پر اتفاق ہے۔

پس نکاح کے بعد ہی میاں نے بیوی کو اس سے پہلے ہی اگر طلاق دے دی ہے تو اگر مہر مقرر ہو چکا ہے تو اس کا آدھا دینا پڑے گا۔ ورنہ تھوڑا بہت دے دینا کافی ہے۔ اور آیت میں ہے «وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَن يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَأَن تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ وَلَا تَنسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّـهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» [2-البقرة:237] ‏ یعنی ” اگر مہر مقرر ہو چکا ہے اور ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دی تو آدھے مہر کی وہ مستحق ہے “۔

صفحہ نمبر7064

اور آیت میں ارشاد ہے «لَاجُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَالَمْ تَمَسُّوْھُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَھُنَّ فَرِيْضَةً ښ وَّمَتِّعُوْھُنَّ عَلَي الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَعَلَي الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ مَتَاعًا بالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَي الْمُحْسِـنِيْنَ» [2-البقرة:236] ‏، یعنی ” اگر تم اپنی بیویوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو یہ کچھ گناہ کی بات نہیں۔ اگر ان کا مہر مقرر نہ ہوا ہو تو تم انہیں کچھ نہ کچھ دے دو “۔ اپنی اپنی طاقت کے مطابق، امیر و غریب دستور کے مطابق ان سے سلوک کریں اور بھلے لوگوں پر یہ ضروری ہے۔

چنانچہ ایسا ایک واقعہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی گزرا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیمہ بنت شرجیل سے نکاح کیا یہ رخصت ہو کر آ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم گئے ہاتھ بڑھایا تو گویا اس نے اسے پسند نہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابواسید کو حکم دیا کہ ان کا سامان تیار کر دیں اور دو کپڑے ارزقیہ کے انہیں دے دیں ۔ [صحیح بخاری:5256] ‏

پس «سَرَاحًا جَمِيلًا» یعنی اچھائی سے رخصت کر دینا یہی ہے کہ اس صورت میں اگر مہر مقرر ہے تو آدھا دیدے۔ اور اگر مقرر نہیں تو اپنی طاقت کے مطابق اس کے ساتھ کچھ سلوک کر دے۔

صفحہ نمبر7065

حق مہر اور بصورت علیحدگی کے احکامات ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جن بیویوں کو مہر ادا کیا ہے وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حلال ہیں “۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ تھا جس کے پانچ سو درہم ہوتے ہیں۔ ہاں ام المؤمنین حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا کا مہر نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے پاس سے چار سو دینار دیا تھا۔ اور اسی طرح ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا مہر صرف ان کی آزادی تھی۔ خیبر کے قیدیوں میں آپ رضی اللہ عنہا بھی تھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا اور اور اسی آزادی کو مہر قرار دیا اور نکاح کر لیا، اور ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بنت حارث مصطلقیہ نے جتنی رقم پر مکاتبہ کیا تھا وہ پوری رقم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کو ادا کر کے ان سے عقد باندھا تھا۔ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات پر اپنی رضا مندی نازل فرمائے۔

اسی طرح جو لونڈیاں غنیمت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں آئیں وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حلال ہیں۔ صفیہ رضی اللہ عنہا اور جویریہ رضی اللہ عنہا کے مالک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوگئے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا۔ ریحانہ بنت شمعون نصریہ اور ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں آئی تھیں۔ ماریہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرزند بھی ہوا۔ جن کا نام ابراہیم رضی اللہ عنہ تھا۔

چونکہ نکاح کے بارے میں نصرانیوں نے افراط اور یہودیوں نے تفریط سے کام لیا تھا اس لیے اس عدل و انصاف والی سہل اور صاف شریعت نے درمیانہ راہ حق کو ظاہر کر دیا۔ نصرانی تو سات پشتوں تک جس عورت مرد کا نسب نہ ملتا ہو، ان کا نکاح جائز جانتے تھے اور یہودی بہن اور بھائی کی لڑکی سے بھی نکاح کر لیتے تھے۔ پس اسلام نے بھانجی بھتیجی سے نکاح کرنے کو روکا۔ اور چچا کی لڑکی پھوپھی کی لڑکی ماموں کی لڑکی اور خالہ کی لڑکی سے نکاح کو مباح قرار دیا۔ اس آیت کے الفاظ کی خوبی پر نظر ڈالئے کہ عم اور خال چچا اور ماموں کے لفظ کو تو واحد لائے اور عمات اور خلات یعنی پھوپھی اور خالہ کے لفظ کو جمع لائے۔ جس میں مردوں کی ایک قسم کی فضیلت عورتوں پر ثابت ہو رہی ہے۔ جیسے «اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ» [2-البقرة:257] ‏ اور جیسے «وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ» [6-الأنعام:1] ‏ یہاں بھی چونکہ ظلمات اور نور یعنی اندھیرے اور اجالے کا ذکر تھا اور اجالے کو اندھیرے پر فضیلت ہے اس لیے وہ لفظ ظلمات جمع لائے، اور لفظ نور مفرد لائے، اس کی اور بھی بہت سی نظیریں دی جا سکتی ہیں۔

صفحہ نمبر7066

پھر فرمایا ” جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے “۔ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مانگا آیا تو میں نے اپنی معذوری ظاہر کی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلیم کر لیا، اور یہ آیت اتری میں ہجرت کرنے والیوں میں نہ تھی بلکہ فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والیوں میں تھی۔‏“ [سنن ترمذي:3214، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

مفسرین نے بھی یہی کہا ہے کہ مراد ہے کہ جنہوں نے مدینے کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ہو۔ قتادہ رحمہ اللہ سے ایک روایت میں اس سے مراد اسلام لانا بھی مروی ہے۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَاللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ» ہے۔ پھر فرمایا ” اور وہ مومنہ عورت جو اپنا نفس اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کر دے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے نکاح کرنا چاہیں، تو بغیر مہر دیے اسے نکاح میں لا سکتے ہیں “۔ پس یہ حکم دو شرطوں کے ساتھ ہے جیسے آیت «وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِيْٓ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَان اللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يُّغْوِيَكُمْ هُوَ رَبُّكُمْ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [11-ھود:34] ‏ میں۔ یعنی ” نوح علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں اگر میں تمہیں نصیحت کرنا چاہوں اور اگر اللہ تمہیں اس نصیحت سے مفید کرنا نہ چاہے تو میری نصیحت تمہیں کوئی نفع نہیں دے سکتی “۔

صفحہ نمبر7067

اور جیسے موسیٰ علیہ السلام کے اس فرمان میں «يَا قَوْمِ إِنْ كُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُسْلِمِينَ» [10-یونس:84] ‏ یعنی ” اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو، اور اگر تم مسلمان ہو گئے ہو تو تمہیں اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے “۔

پس جیسے ان آیتوں میں دو دو شرائط ہیں اسی طرح اس آیت میں بھی دو شرائط ہیں۔ ایک تو اس کا اپنا نفس ہبہ کرنا دوسرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی اسے اپنے نکاح میں لانے کا ارادہ کرنا۔

مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور کہا کہ میں اپنا نفس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کرتی ہوں۔ پھر وہ دیر تک کھڑی رہیں۔ تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے نکاح کا ارادہ نہ رکھتے ہوں تو میرے نکاح میں دے دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس کچھ ہے؟ جو انہیں مہر میں دیں؟ جواب دیا کہ اس تہمد کی سوا اور کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اگر تم انہیں دے دو گے تو خود بغیر تہمد کے رہ جاؤ گے کچھ اور تلاش کرو ۔ اس نے کہا میں اور کچھ نہیں پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تلاش تو کرو گو لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے ۔ انہوں نے ہر چند دیکھ بھال کی لیکن کچھ نہ پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی کچھ سورتیں بھی تمہیں یاد ہیں؟ اس نے کہا فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس انہی سورتوں پر میں نے انہیں تمہارے نکاح میں دیا ۔ [صحیح بخاری:2310] ‏ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب یہ واقعہ بیان کرنے لگے تو ان کی صاحبزادی بھی سن رہی تھیں۔ کہنے لگیں اس عورت میں بہت ہی کم حیاء تھی۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم سے وہ بہتر تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی رغبت کر رہی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا نفس پیش کر رہی تھیں ۔ [صحیح بخاری:5120] ‏

صفحہ نمبر7068

مسند احمد میں ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اپنی بیٹی کی بہت سی تعریفیں کرکے کہنے لگیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میری مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نکاح کرلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا اور وہ پھر بھی تعریف کرتی رہیں۔ یہاں تک کہ کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہ وہ کبھی وہ بیمار پڑیں نہ سر میں درد ہوا یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں ۔ [مسند احمد:155/3:ضعیف] ‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اپنے نفس کو ہبہ کرنے والی بیوی صاحبہ سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا تھیں ۔ [بیهقی فی السنن الکبری:55/7] ‏

اور روایت میں ہے یہ قبلہ بنو سلیم میں سے تھیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23/22:] ‏ اور روایت میں ہے یہ بڑی نیک بخت عورت تھیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23/22:] ‏ ممکن ہے ام سلیم ہی خولہ ہوں رضی اللہ عنہا۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دوسری کوئی عورت ہوں۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ عورتوں سے نکاح کیا جن میں سے چھ تو قریشی تھیں۔ خدیجہ، عائشہ، حفصہ، ام حبیبہ، سودہ و ام سلمہ رضی اللہ عنہن اجمعین اور تین بنو عامر بن صعصعہ کے قبیلے میں سے تھیں اور دو عورتیں قبیلہ بنوہلال بن عامر میں سے تھیں اور میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا، یہی وہ ہیں جنہوں نے اپنا نفس رسول اللہ کوہبہ کیا تھا اور زینب رضی اللہ عنہا جن کی کنیت ام المساکین تھی۔ اور ایک عورت بنو ابی بکرین کلاب سے۔ یہ وہی ہے جس نے دنیا کو اختیار کیا تھا اور بنو جون میں سے ایک عورت جس نے پناہ طلب کی تھی، اور ایک عورت اسدیہ جن کا نام زینب بنت جحش ہے رضی اللہ عنہا۔ دو کنزیں تھیں۔ صفیہ بنت حی بن اخطب اور جویریہ بنت حارث بن عمرو بن مصطلق خزاعیہ ۔ [ابن ابی شیبة:270/5:مرسل و ضعیف] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اپنے نفس کو ہبہ کرنے والی عورت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا تھیں لیکن اس میں انقطاع ہے۔ اور یہ روایت مرسل ہے۔ یہ مشہور بات ہے کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا جن کی کنیت ام المساکین تھی، یہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا تھیں، فبیلہ انصار میں سے تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہی انتقال کر گئیں۔ رضی اللہ عنہا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ عورتیں جنہوں نے اپنے نفس کا اختیار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا۔

چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں ان عورتوں پر غیرت کیا کرتی تھی جو اپنا نفس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیتی تھیں اور مجھے بڑا تعجب معلوم ہوتا تھا کہ عورتیں اپنا نفس ہبہ کرتی ہیں۔ جب یہ آیت اتری کہ «تُرْجِيْ مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَ تُـــــْٔوِيْٓ اِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ اٰتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَكَان اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَلِــيْمًا» [33-الأحزاب:51] ‏، ” تو ان میں سے جسے چاہے اس سے نہ کر اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے اور جن سے تو نے یکسوئی کر لی ہے انہیں بھی اگر تم لے آؤ تو تم پر کوئی حرج نہیں “۔ تو میں نے کہا بس اب تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر خوب وسعت و کشادگی کردی ۔ [صحیح بخاری:1464] ‏

صفحہ نمبر7069

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کوئی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ تھی جس نے اپنا نفس آپ کو ہبہ کیا ہو ۔

یونس بن بکیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”گو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ مباح تھا کہ جو عورت اپنے تئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے گھر میں رکھ لیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا نہیں۔ کیونکہ یہ امر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی پر رکھا گیا تھا۔ یہ بات کسی اور کے لیے جائز نہیں ہاں مہر ادا کر دے تو بیشک جائز ہے۔‏“

چنانچہ بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں جنہوں نے اپنا نفس سونپ دیا تھا جب ان کے شوہر انتقال کر گئے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ ان کے خاندان کی اور عورتوں کے مثل انہیں مہر دیا جائے۔ جس طرح موت مہر کو مقرر کر دیتی ہے اسی طرح صرف دخول سے بھی مہر واجب ہو جاتا ہے۔ ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس حکم سے مستثنیٰ تھے۔ ایسی عورتوں کو کچھ دینا آپ پر واجب نہ تھا گو اسے شرف بھی حاصل ہو چکا ہو۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر مہر کے اور بغیر ولی کے اور بغیر گواہوں کے نکاح کر لینے کا اختیار تھا جیسا کہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے قصے میں ہے۔

صفحہ نمبر7070

حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کسی عورت کو یہ جائز نہیں کہ اپنے آپ کو بغیر ولی اور بغیر مہر کے کسی کے نکاح میں دیدے۔ ہاں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ تھا۔‏“

” اور مومنوں پر جو ہم نے مقرر کر دیا ہے اسے ہم خوب جانتے ہیں “ یعنی وہ چار سے زیادہ بیویاں ایک ساتھ رکھ نہیں سکتے۔ ہاں ان کے علاوہ لونڈیاں رکھ سکتے ہیں۔ اور ان کی کوئی تعداد مقرر نہیں۔

اسی طرح ولی کی مہر کی گواہوں کی بھی شرط ہے۔ پس امت کا تو یہ حکم ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کی پابندیاں نہیں۔ تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حرج نہ ہو۔ اللہ بڑا غفور ورحیم ہے۔

صفحہ نمبر7071

روایات و احکامات ٭٭

بخاری شریف میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں ان عورتوں پر عار رکھا کرتی تھی جو اپنا نفس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کریں اور کہتی تھیں کہ عورتیں بغیر مہر کے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کرنے میں شرماتی ہیں؟ یہاں تک کہ یہ آیت اتری تو میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشادگی کرتا ہے ۔ [صحیح بخاری:5113] ‏

پس معلوم ہوا کہ آیت سے مراد یہی عورتیں ہیں۔ ان کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ہے کہ جسے چاہیں قبول کریں اور جسے چاہیں قبول نہ فرمائیں۔ پھر اس کے بعد یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار میں ہے کہ جنہیں قبول نہ فرمایا ہو انہیں جب چاہیں نواز دیں۔

عامر شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جنہیں مؤخر کر رکھا تھا ان میں ام شریک رضی اللہ عنہا تھیں۔ ایک مطلب اس جملے کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار تھا کہ اگر چاہیں تقسیم کریں چاہیں نہ کریں جسے چاہیں مقدم کریں جسے چاہیں مؤخر کریں۔ اسی طرح خاص بات چیت میں بھی۔ لیکن یہ یاد رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پوری عمر برابر اپنی ازواج مطہرات میں عدل کے ساتھ برابری کی تقسیم کرتے رہے۔ بعض فقہاء شافعیہ کا قول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تقسیم واجب تھی۔

بخاری شریف میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس آیت کے نازل ہو چکنے کے بعد بھی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اجازت لیا کرتے تھے۔ مجھ سے تو جب دریافت فرماتے میں کہتی اگر میرے بس میں ہو تو میں کسی اور کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز نہ جانے دوں ۔ [صحیح بخاری:4789] ‏

صفحہ نمبر7072

پس صحیح بات جو بہت اچھی ہے اور جس سے ان اقوال میں مطابقت بھی ہو جاتی ہے وہ یہ ہے کہ آیت عام ہے۔ اپنے نفس سونپنے والیوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سب کو شامل ہے۔ ہبہ کرنے والیوں کے بارے میں نکاح کرنے نہ کرنے اور نکاح والیوں میں تقسیم کرنے نہ کرنے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار تھا۔

پھر فرماتا ہے کہ ” یہی حکم بالکل مناسب ہے اور ازواج رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سہولت والا ہے۔ جب وہ جان لیں گی کہ آپ باریوں کے مکلف نہیں ہیں۔ پھر بھی مساوات قائم رکھتے ہیں تو انہیں بہت خوشی ہوگی۔ اور ممنون و مشکور ہوں گی اور آپ کے انصاف و عدل کی داد دیں گی۔ اللہ دلوں کی حالتوں سے واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کسے کس کی طرف زیادہ رغبت ہے “۔

مسند میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طور پر صحیح تقسیم اور پورے عدل کے بعد اللہ سے عرض کیا کرتے تھے کہ الہ العالمین جہاں تک میرے بس میں تھا میں نے انصاف کر دیا۔ اب جو میرے بس میں نہیں اس پر تو مجھے ملامت نہ کرنا ۔ [مسند احمد:144/6:ضعیف] ‏ یعنی دل کے رجوع کرنے کا اختیار مجھے نہیں، اللہ سینوں کی باتوں کا عالم ہے، لیکن حلم و کرم والا ہے۔ چشم پوشی کرتا ہے معاف فرماتا ہے۔

صفحہ نمبر7073

ازواج مطہرات کا عہد و فا ٭٭

پہلی آیتوں میں گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں رہیں اور اگر چاہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدہ ہو جائیں۔ لیکن امہات المؤمنین «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» نے دامن رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑنا پسند نہ فرمایا۔

اس پر انہیں اللہ کی طرف سے ایک دنیاوی بدلہ یہ بھی ملا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت میں حکم ہوا کہ ” اب اس کے سوا کسی اور عورت سے نکاح نہیں کر سکتے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کو چھوڑ کر اس کے بدلے دوسری لاسکتے ہیں گو وہ کتنی ہی خوش شکل کیوں نہ ہو؟ ہاں لونڈیوں اور کنیزوں کی اور بات ہے “۔

اس کے بعد پھر رب العالمین نے یہ تنگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سے اٹھالی اور نکاح کی اجازت دے دی لیکن خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سے کوئی اور نکاح کیا ہی نہیں۔ اس حرج کے اٹھانے میں اور پھر عمل کے نہ ہونے میں بہت بڑی مصلحت یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ احسان اپنی بیویوں پر رہے۔

چنانچہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور عورتیں بھی حلال کر دی تھیں ۔ [سنن ترمذي:3216، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے کہ حلال کرنے والی آیت «تُرْجِيْ مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَ تُـــــْٔوِيْٓ اِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ اٰتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَكَان اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَلِــيْمًا» [33-الأحزاب:51] ‏، ہے جو اس آیت سے پہلے گزر چکی ہے بیان میں وہ پہلے ہے اور اترنے میں وہ پیچھے ہے۔ سورۃ البقرہ میں بھی اس طرح عدت وفات کی پچھلی آیت منسوخ ہے اور پہلی آیت اس کی ناسخ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7074

اس آیت کے ایک اور معنی بھی بہت سے حضرات سے مروی ہیں، وہ کہتے ہیں مطلب اس سے یہ ہے کہ جن عورتوں کا ذکر اس سے پہلے ہے ان کے سوا اور حلال نہیں جن میں یہ صفتیں ہوں وہ ان کے علاوہ بھی حلال ہیں۔

چنانچہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ ”کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو بیویاں تھیں اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں انتقال کرجائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے تھے؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ کیوں؟“ تو سائل نے «لَّا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِن بَعْدُ وَلَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ وَكَانَ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيبًا» [33-الأحزاب:52] ‏ والی آیت پڑھی۔ یہ سن کر ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ عورتوں کی جو قسمیں اس سے پہلے بیان ہوئی ہیں یعنی نکاحتاً بیویاں، لونڈیاں، چچا کی، پھوپیوں کی، ماموں اور خالاؤں کی بیٹیاں ہبہ کرنے والی عورتیں۔ ان کے سوا جو اور قسم کی ہوں جن میں یہ اوصاف نہ ہوں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حلال نہیں ہیں۔‏“ [ ابن جریر ] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”سوائے ان مہاجرات مومنات کے اور عورتوں سے نکاح کرنے کی آپ کو ممانعت کر دی گئی۔ غیر مسلم عورتوں سے نکاح حرام کر دیا گیا۔ قرآن میں ہے «وَمَنْ يَّكْفُرْ بالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ ۡ وَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [5-المائدة:5] ‏، یعنی ” ایمان کے بعد کفر کرنے والے کے اعمال غارت ہیں “۔ پس اللہ تعالیٰ نے آیت «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِيْٓ» [ 33- الأحزاب: 50 ] ‏ الخ، میں عورتوں کی جن قسموں کا ذکر کیا وہ تو حلال ہیں ان کے ماسوا اور حرام ہیں۔‏“ [سنن ترمذي:3215،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7075

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ان کے سوا ہر قسم کی عورتیں خواہ وہ مسلمان ہوں خواہ یہودیہ ہوں خواہ نصرانیہ سب حرام ہیں۔‏“ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ان کے سوا ہر قسم کی عورتیں خواہ وہ مسلمان ہوں خواہ یہودیہ ہوں خواہ نصرانیہ سب حرام ہیں۔‏“ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اعرابیہ اور انجان عورتوں سے نکاح سے روک دیئے گئے۔ لیکن جو عورتیں حلال تھیں ان میں سے اگر چاہیں سینکڑوں کرلیں حلال ہیں۔‏“

الغرض آیت عام ہے ان عورتوں کو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں تھیں اور ان عورتوں کو جن کی اقسام بیان ہوئیں سب کو شامل ہے اور جن لوگوں سے اس کے خلاف مروی ہے ان سے اس کے مطابق بھی مروی ہے۔ لہٰذا کوئی منفی نہیں۔

ہاں اس پر ایک بات باقی رہ جاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تھی پھر ان سے رجوع کر لیا تھا اور سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے فراق کا بھی ارادہ کیا تھا جس پر انہوں نے اپنی باری کا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا تھا۔

اس کا جواب امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ دیا ہے کہ یہ واقعہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ بات یہی ہے لیکن ہم کہتے ہیں اس جواب کی بھی ضرورت نہیں۔ اس لیے کہ آیت میں ان کے سوا دوسریوں سے نکاح کرنے اور انہیں نکال کر اوروں کو لانے کی ممانعت ہے نہ کہ طلاق دینے کی، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا والے واقعہ میں آیت «وَإِنِ امْرَ‌أَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَ‌اضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ‌ وَأُحْضِرَ‌تِ الْأَنفُسُ الشُّحَّ وَإِن تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرً‌ا» [4-النساء:128] ‏، اتری ہے اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا والا واقعہ ابوداؤد وغیرہ میں مروی ہے۔ [سنن ابوداود:2283،قال الشيخ الألباني:صحیح [4-النساء:128] ‏

صفحہ نمبر7076

ابو یعلیٰ میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی صاحبزادی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک دن آئے دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں پوچھا کہ ”شاید تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے دی۔ سنو اگر رجوع ہو گیا اور پھر یہی موقعہ پیش آیا تو قسم اللہ کی میں مرتے دم تک تم سے کلام نہ کروں گا“ ۔ [مسند ابویعلیٰ:172:ضعیف] ‏

آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ کرنے سے اور کسی کو نکال کر اس کے بدلے دوسری کو لانے سے منع کیا ہے۔ مگر لونڈیاں حلال رکھی گئیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جاہلیت میں ایک خبیث رواج یہ بھی تھا کہ لوگ آپس میں بیویوں کا تبادلہ کر لیا کرتے تھے یہ اپنی اسے دے دیتا تھا اور وہ اپنی اسے دے دیتا تھا۔ اسلام نے اس گندے طریقے سے مسلمانوں کو روک دیا۔‏“

صفحہ نمبر7077

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ عیینہ بن حصن فزاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور اپنی جاہلیت کی عادت کے مطابق بغیر اجازت لیے چلے آئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بغیر اجازت کیوں چلے آئے؟ اس نے کہا واہ! میں نے تو آج تک قبیلہ مفر کے خاندان کے کسی شخص سے اجازت مانگی ہی نہیں۔ پھر کہنے لگا یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کون سی عورت بیٹھی ہوئی تھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں ۔ تو کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دیں میں ان کے بدلے اپنی بیوی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتا ہوں جو خوبصورتی میں بے مثل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنا حرام کر دیا ہے ۔ جب وہ چلے گئے تو مائی صاحبہ نے دریافت فرمایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کون تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک احمق سردار تھا۔ تم نے ان کی باتیں سنیں؟ اس پر بھی یہ اپنی قوم کا سردار ہے ۔ [مسند بزار:2251:ضعیف جدا] ‏ اس روایت کا ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بالکل گرے ہوئے درجے کا ہے۔

صفحہ نمبر7078

احکامات پردہ ٭٭

اس آیت میں پردے کا حکم ہے اور شرعی آداب و احکام کا بیان ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق جو آیتیں اتری ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے۔ بخاری مسلم میں آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین باتیں میں نے کہیں جن کے مطابق ہی رب العالمین کے احکام نازل ہوئے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کو قبلہ بنائیں تو بہتر ہو۔ اللہ تعالیٰ کا بھی یہی حکم اترا کہ «وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَ‌اهِيمَ مُصَلًّى» [2-البقرة:125] ‏، میں نے کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تو یہ اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ گھر میں ہر کوئی یعنی چھوٹا بڑا آ جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کو پردے کا حکم دیں تو اچھا ہو۔‏“ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے پردے کا حکم نازل ہوا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات غیرت کی وجہ سے کچھ کہنے سننے لگیں تو میں نے کہا ”کسی غرور میں نہ رہنا اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں چھوڑ دیں تو اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دلوائے گا“، چنانچہ یہی آیت قرآن میں نازل ہوئی ۔ [صحیح بخاری:4483] ‏ صحیح مسلم میں ایک چوتھی موافقت بھی مذکور ہے وہ بدر کے قیدیوں کا فیصلہ ہے۔ [صحیح مسلم:2399] ‏

اور روایت میں ہے سنہ 5 ھجری ماہ ذی قعدہ میں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا ہے۔ جو نکاح خود اللہ تعالیٰ نے کرایا تھا اسی صبح کو پردے کی آیت نازل ہوئی ہے۔ بعض حضرات کہتے ہیں یہ واقعہ سن تین ہجری کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ [2-البقرة:125] ‏

صفحہ نمبر7079

صحیح بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو لوگوں کی دعوت کی وہ کھا پی کر باتوں میں بیٹھے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھنے کی تیاری بھی کی۔ پھر بھی وہ نہ اٹھے یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی کچھ لوگ تو اٹھ کر چل دیئے لیکن پھر بھی تین شخص وہیں بیٹھے رہ گئے اور باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پلٹ کر آئے تو دیکھا کہ وہ ابھی تک باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر لوٹ گئے۔ جب یہ لوگ چلے گئے تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے گھر میں تشریف لے گئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے بھی جانا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے درمیان پردہ کر لیا اور یہ آیت اتری“ ۔ [صحیح بخاری:4791] ‏

اور روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقعہ پر گوشت روٹی کھلائی تھی اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا کہ لوگوں کو بلا لائیں لوگ آتے تھے کھاتے تھے اور واپس جاتے تھے۔ جب ایک بھی ایسا نہ بچا کہ جیسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ بلاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب دستر خوان بڑھا دو ۔ لوگ سب چلے گئے مگر تین شخص باتوں میں لگے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے نکل کر ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ» ۔ انہوں نے جواب دیا ” «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» فرمایئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیوی صاحبہ سے خوش تو ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہیں برکت دے ۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے اور سب جگہ یہی باتیں ہوئیں۔ اب لوٹ کر جو آئے تو دیکھا کہ وہ تینوں صاحب اب تک گئے نہیں۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں شرم و حیاء لحاظ و مروت بے حد تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرما نہ سکے اور پھر سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی طرف چلے۔ اب نہ جانے میں نے خبر دی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود خبردار کر دیا گیا کہ وہ تینوں بھی چلے گئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر آئے اور چوکھٹ میں ایک قدم رکھتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ڈال دیا اور پردے کی آیت نازل ہوئی ۔ [صحیح بخاری:4783] ‏ ایک روایت میں بجائے تین شخصوں کے دو کا ذکر ہے۔ [صحیح بخاری:4794] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی نئے نکاح پر ام سلیم رضی اللہ عنہا نے مالیدہ بنا کر ایک برتن میں رکھ کر سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچاؤ اور کہہ دینا کہ یہ تھوڑا سا تحفہ ہماری طرف سے قبول فرمایئے اور میرا سلام بھی کہہ دینا۔ اس وقت لوگ تھے بھی تنگی میں۔ میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ام المؤمنین کا سلام پہنچایا اور پیغام بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور فرمایا: اچھا اسے رکھ دو ۔ میں نے گھر کے ایک کونے میں رکھ دیا، پھر فرمایا: جاؤ فلاں اور فلاں کو بلا لاؤ بہت سے لوگوں کے نام لیے اور پھر فرمایا: ان کے علاوہ جو مسلمان مل جائے میں نے یہی کیا۔ جو ملا اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کھانے کے لیے بھیجتا رہا واپس لوٹا تو دیکھا کہ گھر اور انگنائی اور بیٹھک سب لوگوں سے بھرے ہوئے ہے تقریباً تین سو آدمی جمع ہو گئے تھے۔ اب مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ وہ پیالہ اٹھا لاؤ ۔ میں لایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس پر رکھ کر دعا کی اور جو اللہ نے چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان سے کہا، پھر فرمایا: چلو دس دس آدمی حلقہ کر کے بیٹھ جاؤ اور ہر ایک بسم اللہ کہہ کر اپنے اپنے آگے سے کھانا شروع کرو ۔ اسی طرح کھانا شروع ہوا اور سب کے سب کھا چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیالہ اٹھالو ۔

صفحہ نمبر7080

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے پیالہ اٹھا کر دیکھا تو میں نہیں کہہ سکتا کہ جس وقت رکھا اس وقت اس میں زیادہ کھانا تھا یا اب؟ چند لوگ آپ کے گھر میں ٹھہر گئے ان میں باتیں ہو رہی تھیں اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا دیوار کی طرف منہ پھیرے بیٹھی ہوئی تھیں ان کا اتنی دیر تک نہ ہٹنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر شاق گزر رہا تھا لیکن شرم و لحاظ کی وجہ سے کچھ فرماتے نہ تھے۔ اگر انہیں اس بات کا علم ہو جاتا تو وہ نکل جاتے لیکن وہ بے فکری سے بیٹھتے ہی رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر اور ازواج مطہرات کے حجروں کے پاس چلے گئے پھر واپس آئے تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو یہ بھی سمجھ گئے بڑے نادم ہوئے اور جلدی سے نکل لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر بڑھے اور پردہ لٹکا دیا۔ میں بھی حجرے میں ہی تھا جب یہ آیت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرتے ہوئے باہر آئے سب سے پہلے اس آیت کو عورتوں نے سنا اور میں تو سب سے اول ان کا سننے والا ہوں ۔ [صحیح مسلم:1428] ‏

پہلے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مانگا لے جانے کی روایت آیت «فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللَّـهِ مَفْعُولًا» [33-الأحزاب:37] ‏، کی تفسیر میں گزر چکی ہے اس کے آخر میں بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ پھر لوگوں کو نصیحت کی گئی اور ہاشم کی اس حدیث میں اس آیت کا بیان بھی ہے۔

صفحہ نمبر7081

ابن جریر میں ہے کہ رات کے وقت ازواج مطہرات قضائے حاجت کے لیے جنگل کو جایا کرتی تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ پسند نہ تھا آپ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ انہیں اس طرح نہ جانے دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر توجہ نہیں فرماتے تھے ایک مرتبہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نکلیں تو چونکہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی منشا یہ تھی کہ کسی طرح ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کا یہ نکلنا بند ہو اس لیے انہیں ان کے قد و قامت کی وجہ سے پہچان کر با آواز بلند کہا کہ ”ہم نے تمہیں اے سودہ (‏رضی اللہ عنہا) پہچان لیا۔‏“ اس کے بعد پردے کی آیتیں اتریں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28619:] ‏ اس روایت میں یونہی ہے لیکن مشہور یہ ہے کہ یہ واقعہ نزول حجاب کے بعد کا ہے۔

چنانچہ مسند احمد میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ حجاب کے حکم کے بعد سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نکلیں اس میں یہ بھی ہے کہ یہ اسی وقت واپس آ گئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شام کا کھانا تناول فرما رہے تھے۔ ایک ہڈی ہاتھ میں تھی آ کر واقعہ بیان کیا اسی وقت وحی نازل ہوئی جب ختم ہوئی اس وقت بھی ہڈی ہاتھ میں ہی تھی اسے چھوڑی ہی نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری ضرورتوں کی بناء پر باہر نکلنے کی اجازت دیتا ہے ۔ [صحیح بخاری:4895] ‏

آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس عادت سے روکتا ہے جو جاہلیت میں اور ابتداء اسلام میں ان میں تھی کہ بغیر اجازت دوسرے کے گھر میں چلے جانا۔ پس اللہ تعالیٰ اس امت کا اکرام کرتے ہوئے اسے یہ ادب سکھاتا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں بھی یہ مضمون ہے کہ خبردار عورتوں کے پاس نہ جاؤ ۔ [صحیح بخاری:5232] ‏

پھر اللہ نے انہیں مستثنیٰ کر لیا جنہیں اجازت دے دی جائے، تو فرمایا، ” مگر یہ کہ تمہیں اجازت دیجائے، کھانے کے لیے ایسے وقت پر نہ جاؤ کہ تم اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو “۔

مجاہد اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ ”کھانے کے پکنے اور اس کے تیار ہونے کے وقت ہی نہ پہنچو۔ جب سمجھا کہ کھانا تیار ہوگا، جا گھسے یہ خصلت اللہ کو پسند نہیں۔ یہ دلیل ہے طفیلی بننے کی حرمت پر۔ امام خطیب بغدادی نے اس کی مذمت میں پوری ایک کتاب لکھی ہے۔

صفحہ نمبر7082

پھر فرمایا ” جب بلائے جاؤ تم پھر جاؤ اور جب کھا چکو تو نکل جاؤ “۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ تم میں سے کسی کو جب اس کا بھائی بلائے تو اسے دعوت قبول کرنی چاہیئے خواہ نکاح کی ہو یا کوئی اور اور ۔ [صحیح مسلم:1429] ‏

حدیث میں ہے اگر مجھے فقط ایک کھر کی دعوت دی جائے تو بھی میں اسے قبول کروں گا ۔ [صحیح بخاری:2568] ‏

دستور دعوت بھی بیان فرمایا کہ ” جب کھا چکو تو اب میزبان کے ہاں چوکڑی مار کر نہ بیٹھ جاؤ۔ بلکہ وہاں سے چلے جاؤ۔ باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو “۔

جیسے ان تین شخصوں نے کیا تھا۔ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوئی لیکن شرمندگی اور لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہ بولے، اسی طرح مطلب یہ بھی ہے کہ ” تمہارا بے اجازت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں چلے جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر شاق گزرتا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوجہ شرم و حیاء کے تم سے کہہ نہیں سکتے “۔ اللہ تعالیٰ تم سے صاف صاف فرما رہا ہے کہ ” اب سے ایسا نہ کرنا۔ وہ حق حکم سے حیاء نہیں کرتا۔ تمہیں جس طرح بے اجازت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس جانا منع ہے اسی طرح ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی حرام ہے۔ اگر تمہیں ان سے کوئی ضروری چیز لینی دینی بھی ہو تو پس پردہ لین دین ہو “۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مالیدہ کھا رہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لیا آپ رضی اللہ عنہ بھی کھانے بیٹھ گئے۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پہلے ہی سے کھانے میں شریک تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے پردے کی تمنا میں تھے کھاتے ہوئے انگلیوں سے انگلیاں لگ گئیں تو بےساختہ فرمانے لگے ”کاش کہ میری مان لی جاتی اور پردہ کرایا جاتا تو کسی کی نگاہ بھی نہ پڑتی“ اس وقت پردے کا حکم اترا ۔ [نسائی فی السنن الکبری:11419:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7083

پھر پردے کی تعریف فرما رہا ہے کہ ” مردوں عورتوں کے دلوں کی پاکیزگی کا یہ ذریعہ ہے “۔ کسی شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نکاح کرنے کا ارادہ کیا ہوگا اس آیت میں یہ حرام قرار دیا گیا۔ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں زندگی میں اور جنت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں اور جملہ مسلمانوں کی وہ مائیں ہیں اس لیے مسلمانوں پر ان سے نکاح کرنا محض حرام ہے۔

یہ حکم ان بیویوں کے لیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے وقت تھیں سب کے نزدیک اجماعاً ہے لیکن جس بیوی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں طلاق دے دی اور اس سے میل ہو چکا ہو تو اس سے کوئی اور نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس میں دو مذہب میں اور جس سے دخول نہ کیا اور طلاق دے دی ہو اس سے دوسرے لوگ نکاح کر سکتے ہیں۔

قیلہ بنت اشعث بن قیس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں آ گئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد اس نے عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابوجہل سے نکاح کر لیا۔

صفحہ نمبر7084

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر یہ گراں گزرا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سمجھایا کہ ”اے خلیفہ رسول یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی نہ تھی نہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا نہ اسے پردہ کا حکم دیا اور اس کی قوم کے ارتداد کے ساتھ ہیں اس کے ارتداد کی وجہ سے اللہ نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بری کر دیا“، یہ سن کر سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کا اطمینان ہو گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28624:مرسل] ‏

پس ان دونوں باتوں کی برائی بیان فرماتا ہے کہ ” رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دینا ان کی بیویوں سے ان کے بعد نکاح کر لینا یہ دونوں گناہ اللہ کے نزدیک بہت بڑے ہیں، «يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ» [40-غافر:19] ‏ تمہاری پوشیدگیاں اور علانیہ باتیں سب اللہ پر ظاہر ہیں، اس پر کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔ آنکھوں کی خیانت کو، سینے میں چھپی ہوئی باتوں اور دل کے ارادوں کو وہ جانتا ہے “۔

صفحہ نمبر7085

احکامات پردہ ٭٭

اس آیت میں پردے کا حکم ہے اور شرعی آداب و احکام کا بیان ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق جو آیتیں اتری ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے۔ بخاری مسلم میں آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین باتیں میں نے کہیں جن کے مطابق ہی رب العالمین کے احکام نازل ہوئے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کو قبلہ بنائیں تو بہتر ہو۔ اللہ تعالیٰ کا بھی یہی حکم اترا کہ «وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَ‌اهِيمَ مُصَلًّى» [2-البقرة:125] ‏، میں نے کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تو یہ اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ گھر میں ہر کوئی یعنی چھوٹا بڑا آ جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کو پردے کا حکم دیں تو اچھا ہو۔‏“ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے پردے کا حکم نازل ہوا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات غیرت کی وجہ سے کچھ کہنے سننے لگیں تو میں نے کہا ”کسی غرور میں نہ رہنا اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں چھوڑ دیں تو اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دلوائے گا“، چنانچہ یہی آیت قرآن میں نازل ہوئی ۔ [صحیح بخاری:4483] ‏ صحیح مسلم میں ایک چوتھی موافقت بھی مذکور ہے وہ بدر کے قیدیوں کا فیصلہ ہے۔ [صحیح مسلم:2399] ‏

اور روایت میں ہے سنہ 5 ھجری ماہ ذی قعدہ میں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا ہے۔ جو نکاح خود اللہ تعالیٰ نے کرایا تھا اسی صبح کو پردے کی آیت نازل ہوئی ہے۔ بعض حضرات کہتے ہیں یہ واقعہ سن تین ہجری کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ [2-البقرة:125] ‏

صفحہ نمبر7079

صحیح بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو لوگوں کی دعوت کی وہ کھا پی کر باتوں میں بیٹھے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھنے کی تیاری بھی کی۔ پھر بھی وہ نہ اٹھے یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی کچھ لوگ تو اٹھ کر چل دیئے لیکن پھر بھی تین شخص وہیں بیٹھے رہ گئے اور باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پلٹ کر آئے تو دیکھا کہ وہ ابھی تک باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر لوٹ گئے۔ جب یہ لوگ چلے گئے تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے گھر میں تشریف لے گئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے بھی جانا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے درمیان پردہ کر لیا اور یہ آیت اتری“ ۔ [صحیح بخاری:4791] ‏

اور روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقعہ پر گوشت روٹی کھلائی تھی اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا کہ لوگوں کو بلا لائیں لوگ آتے تھے کھاتے تھے اور واپس جاتے تھے۔ جب ایک بھی ایسا نہ بچا کہ جیسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ بلاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب دستر خوان بڑھا دو ۔ لوگ سب چلے گئے مگر تین شخص باتوں میں لگے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے نکل کر ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ» ۔ انہوں نے جواب دیا ” «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» فرمایئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیوی صاحبہ سے خوش تو ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہیں برکت دے ۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے اور سب جگہ یہی باتیں ہوئیں۔ اب لوٹ کر جو آئے تو دیکھا کہ وہ تینوں صاحب اب تک گئے نہیں۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں شرم و حیاء لحاظ و مروت بے حد تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرما نہ سکے اور پھر سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی طرف چلے۔ اب نہ جانے میں نے خبر دی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود خبردار کر دیا گیا کہ وہ تینوں بھی چلے گئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر آئے اور چوکھٹ میں ایک قدم رکھتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ڈال دیا اور پردے کی آیت نازل ہوئی ۔ [صحیح بخاری:4783] ‏ ایک روایت میں بجائے تین شخصوں کے دو کا ذکر ہے۔ [صحیح بخاری:4794] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی نئے نکاح پر ام سلیم رضی اللہ عنہا نے مالیدہ بنا کر ایک برتن میں رکھ کر سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچاؤ اور کہہ دینا کہ یہ تھوڑا سا تحفہ ہماری طرف سے قبول فرمایئے اور میرا سلام بھی کہہ دینا۔ اس وقت لوگ تھے بھی تنگی میں۔ میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ام المؤمنین کا سلام پہنچایا اور پیغام بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور فرمایا: اچھا اسے رکھ دو ۔ میں نے گھر کے ایک کونے میں رکھ دیا، پھر فرمایا: جاؤ فلاں اور فلاں کو بلا لاؤ بہت سے لوگوں کے نام لیے اور پھر فرمایا: ان کے علاوہ جو مسلمان مل جائے میں نے یہی کیا۔ جو ملا اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کھانے کے لیے بھیجتا رہا واپس لوٹا تو دیکھا کہ گھر اور انگنائی اور بیٹھک سب لوگوں سے بھرے ہوئے ہے تقریباً تین سو آدمی جمع ہو گئے تھے۔ اب مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ وہ پیالہ اٹھا لاؤ ۔ میں لایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس پر رکھ کر دعا کی اور جو اللہ نے چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان سے کہا، پھر فرمایا: چلو دس دس آدمی حلقہ کر کے بیٹھ جاؤ اور ہر ایک بسم اللہ کہہ کر اپنے اپنے آگے سے کھانا شروع کرو ۔ اسی طرح کھانا شروع ہوا اور سب کے سب کھا چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیالہ اٹھالو ۔

صفحہ نمبر7080

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے پیالہ اٹھا کر دیکھا تو میں نہیں کہہ سکتا کہ جس وقت رکھا اس وقت اس میں زیادہ کھانا تھا یا اب؟ چند لوگ آپ کے گھر میں ٹھہر گئے ان میں باتیں ہو رہی تھیں اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا دیوار کی طرف منہ پھیرے بیٹھی ہوئی تھیں ان کا اتنی دیر تک نہ ہٹنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر شاق گزر رہا تھا لیکن شرم و لحاظ کی وجہ سے کچھ فرماتے نہ تھے۔ اگر انہیں اس بات کا علم ہو جاتا تو وہ نکل جاتے لیکن وہ بے فکری سے بیٹھتے ہی رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر اور ازواج مطہرات کے حجروں کے پاس چلے گئے پھر واپس آئے تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو یہ بھی سمجھ گئے بڑے نادم ہوئے اور جلدی سے نکل لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر بڑھے اور پردہ لٹکا دیا۔ میں بھی حجرے میں ہی تھا جب یہ آیت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرتے ہوئے باہر آئے سب سے پہلے اس آیت کو عورتوں نے سنا اور میں تو سب سے اول ان کا سننے والا ہوں ۔ [صحیح مسلم:1428] ‏

پہلے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مانگا لے جانے کی روایت آیت «فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللَّـهِ مَفْعُولًا» [33-الأحزاب:37] ‏، کی تفسیر میں گزر چکی ہے اس کے آخر میں بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ پھر لوگوں کو نصیحت کی گئی اور ہاشم کی اس حدیث میں اس آیت کا بیان بھی ہے۔

صفحہ نمبر7081

ابن جریر میں ہے کہ رات کے وقت ازواج مطہرات قضائے حاجت کے لیے جنگل کو جایا کرتی تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ پسند نہ تھا آپ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ انہیں اس طرح نہ جانے دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر توجہ نہیں فرماتے تھے ایک مرتبہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نکلیں تو چونکہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی منشا یہ تھی کہ کسی طرح ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کا یہ نکلنا بند ہو اس لیے انہیں ان کے قد و قامت کی وجہ سے پہچان کر با آواز بلند کہا کہ ”ہم نے تمہیں اے سودہ (‏رضی اللہ عنہا) پہچان لیا۔‏“ اس کے بعد پردے کی آیتیں اتریں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28619:] ‏ اس روایت میں یونہی ہے لیکن مشہور یہ ہے کہ یہ واقعہ نزول حجاب کے بعد کا ہے۔

چنانچہ مسند احمد میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ حجاب کے حکم کے بعد سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نکلیں اس میں یہ بھی ہے کہ یہ اسی وقت واپس آ گئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شام کا کھانا تناول فرما رہے تھے۔ ایک ہڈی ہاتھ میں تھی آ کر واقعہ بیان کیا اسی وقت وحی نازل ہوئی جب ختم ہوئی اس وقت بھی ہڈی ہاتھ میں ہی تھی اسے چھوڑی ہی نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری ضرورتوں کی بناء پر باہر نکلنے کی اجازت دیتا ہے ۔ [صحیح بخاری:4895] ‏

آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس عادت سے روکتا ہے جو جاہلیت میں اور ابتداء اسلام میں ان میں تھی کہ بغیر اجازت دوسرے کے گھر میں چلے جانا۔ پس اللہ تعالیٰ اس امت کا اکرام کرتے ہوئے اسے یہ ادب سکھاتا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں بھی یہ مضمون ہے کہ خبردار عورتوں کے پاس نہ جاؤ ۔ [صحیح بخاری:5232] ‏

پھر اللہ نے انہیں مستثنیٰ کر لیا جنہیں اجازت دے دی جائے، تو فرمایا، ” مگر یہ کہ تمہیں اجازت دیجائے، کھانے کے لیے ایسے وقت پر نہ جاؤ کہ تم اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو “۔

مجاہد اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ ”کھانے کے پکنے اور اس کے تیار ہونے کے وقت ہی نہ پہنچو۔ جب سمجھا کہ کھانا تیار ہوگا، جا گھسے یہ خصلت اللہ کو پسند نہیں۔ یہ دلیل ہے طفیلی بننے کی حرمت پر۔ امام خطیب بغدادی نے اس کی مذمت میں پوری ایک کتاب لکھی ہے۔

صفحہ نمبر7082

پھر فرمایا ” جب بلائے جاؤ تم پھر جاؤ اور جب کھا چکو تو نکل جاؤ “۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ تم میں سے کسی کو جب اس کا بھائی بلائے تو اسے دعوت قبول کرنی چاہیئے خواہ نکاح کی ہو یا کوئی اور اور ۔ [صحیح مسلم:1429] ‏

حدیث میں ہے اگر مجھے فقط ایک کھر کی دعوت دی جائے تو بھی میں اسے قبول کروں گا ۔ [صحیح بخاری:2568] ‏

دستور دعوت بھی بیان فرمایا کہ ” جب کھا چکو تو اب میزبان کے ہاں چوکڑی مار کر نہ بیٹھ جاؤ۔ بلکہ وہاں سے چلے جاؤ۔ باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو “۔

جیسے ان تین شخصوں نے کیا تھا۔ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوئی لیکن شرمندگی اور لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہ بولے، اسی طرح مطلب یہ بھی ہے کہ ” تمہارا بے اجازت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں چلے جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر شاق گزرتا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوجہ شرم و حیاء کے تم سے کہہ نہیں سکتے “۔ اللہ تعالیٰ تم سے صاف صاف فرما رہا ہے کہ ” اب سے ایسا نہ کرنا۔ وہ حق حکم سے حیاء نہیں کرتا۔ تمہیں جس طرح بے اجازت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس جانا منع ہے اسی طرح ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی حرام ہے۔ اگر تمہیں ان سے کوئی ضروری چیز لینی دینی بھی ہو تو پس پردہ لین دین ہو “۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مالیدہ کھا رہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لیا آپ رضی اللہ عنہ بھی کھانے بیٹھ گئے۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پہلے ہی سے کھانے میں شریک تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے پردے کی تمنا میں تھے کھاتے ہوئے انگلیوں سے انگلیاں لگ گئیں تو بےساختہ فرمانے لگے ”کاش کہ میری مان لی جاتی اور پردہ کرایا جاتا تو کسی کی نگاہ بھی نہ پڑتی“ اس وقت پردے کا حکم اترا ۔ [نسائی فی السنن الکبری:11419:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7083

پھر پردے کی تعریف فرما رہا ہے کہ ” مردوں عورتوں کے دلوں کی پاکیزگی کا یہ ذریعہ ہے “۔ کسی شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نکاح کرنے کا ارادہ کیا ہوگا اس آیت میں یہ حرام قرار دیا گیا۔ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں زندگی میں اور جنت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں اور جملہ مسلمانوں کی وہ مائیں ہیں اس لیے مسلمانوں پر ان سے نکاح کرنا محض حرام ہے۔

یہ حکم ان بیویوں کے لیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے وقت تھیں سب کے نزدیک اجماعاً ہے لیکن جس بیوی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں طلاق دے دی اور اس سے میل ہو چکا ہو تو اس سے کوئی اور نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس میں دو مذہب میں اور جس سے دخول نہ کیا اور طلاق دے دی ہو اس سے دوسرے لوگ نکاح کر سکتے ہیں۔

قیلہ بنت اشعث بن قیس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں آ گئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد اس نے عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابوجہل سے نکاح کر لیا۔

صفحہ نمبر7084

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر یہ گراں گزرا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سمجھایا کہ ”اے خلیفہ رسول یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی نہ تھی نہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا نہ اسے پردہ کا حکم دیا اور اس کی قوم کے ارتداد کے ساتھ ہیں اس کے ارتداد کی وجہ سے اللہ نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بری کر دیا“، یہ سن کر سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کا اطمینان ہو گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28624:مرسل] ‏

پس ان دونوں باتوں کی برائی بیان فرماتا ہے کہ ” رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دینا ان کی بیویوں سے ان کے بعد نکاح کر لینا یہ دونوں گناہ اللہ کے نزدیک بہت بڑے ہیں، «يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ» [40-غافر:19] ‏ تمہاری پوشیدگیاں اور علانیہ باتیں سب اللہ پر ظاہر ہیں، اس پر کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔ آنکھوں کی خیانت کو، سینے میں چھپی ہوئی باتوں اور دل کے ارادوں کو وہ جانتا ہے “۔

صفحہ نمبر7085

پردہ کی تفصیلات ٭٭

چونکہ اوپر کی آیتوں میں اجنبیوں سے پردے کا حکم ہوا تھا اس لیے جن قریبی رشتہ داروں سے پردہ نہ تھا ان کا بیان اس آیت میں کر دیا۔ سورۃ النور میں بھی اسی طرح فرمایا کہ ” عورتیں اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں، باپوں، سسروں، لڑکوں، خاوند کے لڑکوں، بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں، عورتوں اور ملکیت جن کی ان کے ہاتھوں میں ہو۔ ان کے سامنے یا کام کاج کرنے والے غیر خواہشمند مردوں یا کمسن بچوں کے سامنے “۔ [24-النور:31] ‏ اس کی پوری تفسیر اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے۔

چچا اور ماموں کا ذکر یہاں اس لیے نہیں کیا گیا کہ ممکن ہے وہ اپنے لڑکوں کے سامنے ان کے اوصاف بیان کریں۔ شعبی اور عکرمہ تو ان دونوں کے سامنے عورت کا دوپٹہ اتارنا مکروہ جانتے تھے۔ «نِسَاۤئِهِنَّ» سے مراد مومن عورتیں ہیں۔ ماتحت سے مراد لونڈی غلام ہیں۔ جیسے کہ پہلے ان کا بیان گزر چکا ہے اور حدیث بھی ہم وہیں وارد کر چکے ہیں۔

سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد صرف لونڈیاں ہی ہیں۔‏“ ” اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہو، اللہ ہرچیز پر شاہد ہے، چھپا کھلا سب اسے معلوم ہے، اس موجود اور حاضر کا خوف رکھو اور اس کا لحاظ کرتی رہو “۔

صفحہ نمبر7087

صلوۃ و سلام کی فضیلت ٭٭

صحیح بخاری شریف میں ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ ”اللہ کا اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا اپنے فرشتوں کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ثناء و صفت کا بیان کرنا ہے اور فرشتوں کا درود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا کرنا ہے۔‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی برکت کی دعا۔‏“ اکثر اہل علم کا قول ہے کہ ”اللہ کا درود رحمت ہے فرشتوں کا درود استغفار ہے۔‏“ عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کی صلوٰۃ «سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ , سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي» ہے۔

مقصود اس آیت شریفہ سے یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر و منزلت عزت و مرتبت لوگوں کی نگاہوں میں جچ جائے وہ جان لیں کہ خود اللہ تعالیٰ آپ کا ثناء خواں ہے اور اس کے فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ ملاء اعلیٰ کی یہ خبر دے کر اب زمین والوں کو حکم دیتا ہے کہ ” تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجا کرو تاکہ عالم علوی اور عالم سفلی کے لوگوں کا اس پر اجتماع ہو جائے “۔

موسیٰ علیہ السلام سے بنی اسرائیل نے پوچھا تھا کہ کیا اللہ تم پر صلٰواۃ بھیجتا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ ” ان سے کہدو کہ ہاں اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں اور رسولوں پر رحمت بھیجتا رہتا ہے “۔ اسی کی طرف اس آیت میں بھی اشارہ ہے دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ” یہی رحمت اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر بھی نازل فرماتا ہے “، ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا» [33-الأحزاب:41-43] ‏، یعنی ” اے ایمان والو تم اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرتے رہا کرو اور صبح شام اس کی تسبیح بیان کیا کرو وہ خود تم پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی “۔

اور آیت میں ہے «وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أُولَـٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ» [2-البقرة:155-157] ‏، ” صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے۔ جنہیں جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» [2-البقرة:156] ‏، پڑھتے ہیں۔ ان پر ان کے رب کی طرف سے درود نازل ہوتے ہیں “۔

حدیث شریف میں ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے صفوں کی داہنی طرف والوں پر صلٰواۃ بھیجتے رہتے ہیں ۔ [سنن ابوداود:676، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ دوسری حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک شخص کے لیے یہ دعا مروی ہے کہ «اللَّهُمَّ، صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى» اے اللہ آلِ ابی اوفی پر اپنی رحمت نازل فرما ۔ [صحیح بخاری:1497] ‏

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ”میرے لیئے اور میرے خاوند کے لیے صلٰواۃ بھیجئے“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ، وَعَلَى زَوْجِكَ» ”اللہ تجھ پر اور تیرے خاوند پر درود نازل فرمائے“ ۔ [سنن ابوداود:1533، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

درود شریف کے بیان کی بہت سی حدیثیں ہیں جن میں تھوڑی ہم یہاں وارد کرتے ہیں۔ «وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ» بخاری شریف میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کرنا تو جانتے ہیں، صلٰواۃ کا طریقہ کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: التحیات کے بعد کے دونوں درود بتلائے ۔ [صحیح بخاری:6357] ‏ لیکن دونوں میں «وَعَلَى آَلِ إِبْرَاهِيْمَ» کا لفظ نہیں ہے۔ ایک اور روایت میں ہے «آَلِ إِبْرَاهِيْمَ» کا لفظ نہیں۔ اور روایت میں پہلا درود تو پہلے لفظوں کے ساتھ ہے اور دوسرا کچھ تغیر کے ساتھ۔ عبدالرحمٰن بن ابی لیلی آخر میں «وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ» بھی کہتے تھے۔ [سنن ترمذي:483،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏۔

صفحہ نمبر7088

جس سلام کی یہاں ذکر ہے، وہ التحیات میں «اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُهَا النَّبِيُ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ» ہے۔ یہ التحیات آپ صلی اللہ علیہ وسلم مثل قرآن کی سورت سکھایا کرتے تھے۔ ایک روایت میں «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَ نَبِیِّکَ وَ رَسُوْلِکَ» بھی ہے اور پچھلے درود میں قدرے تغیر ہے ۔ [صحیح بخاری:4798] ‏

ایک روایت میں درود کے الفاظ یہ ہیں «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ۔ [صحیح بخاری:3369] ‏ بعض روایتوں میں «عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ» کے بعد «فِي الْعَالَمِينَ» کا لفظ بھی ہے۔ [صحیح مسلم:906] ‏

ایک روایت میں سوال میں یہ لفظ بھی ہیں کہ درود نماز میں ہم کس طرح پڑھیں۔ [مسند احمد:119/4:صحیح] ‏

امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ ”نماز کے آخری تشہد میں اگر کسی نے درود نہیں پڑھا تو اس کی نماز صحیح نہیں ہوگی۔ درود کا پڑھنا اس جگہ واجب ہے۔‏“

بعض متاخرین نے اس مسئلے میں امام صاحب کا رد کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ صرف انہی کا قول اور اس کے خلاف اجماع ہے حالانکہ یہ غلط ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے یہی کہا ہے مثلاً سیدنا ابن مسعود، سیدنا ابومسعود بدری، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم۔ تابعین میں بھی اس مذہب کے لوگ گزرے ہیں جیسے شعمی، ابو جعفر باقر، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم وغیرہ اور شافعیہ کا سب کا تو یہی مذہب ہے۔ امام احمدرحمہ اللہ کا بھی آخری قول یہی ہے۔ جیسے ابوزرعہ دمشقی رحمہ اللہ کا بیان ہے، اسحٰق بن راہویہ رحمہ اللہ، امام محمد بن ابراہیم فقیہ رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں۔ بلکہ بعض حنبلی آئمہ نے یہی کہا ہے کہ کم از کم «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» کا نماز میں کہنا واجب ہے جیسے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے سوال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی اور ہمارے بعض ساتھیوں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر درود بھیجنا بھی واجب کہا ہے۔

الغرض درود کا نماز میں واجب ہونے کا قول بہت ظاہر ہے اور حدیث میں اس کی دلیل بھی موجود ہے اور سلف و خلف میں امام شافعی رحمہ اللہ کے علاوہ اور آئمہ بھی اس کے قائل رہے ہیں۔ پس یہ کہنا کسی طرح صحیح نہیں کہ امام صاحب ہی کا یہ قول ہے اور یہ خلاف اجماع ہے۔ اس کی تائید اس صحیح حدیث سے بھی ہوتی ہے جو مسند احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابنِ خزیمہ، ابنِ حبان وغیرہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے تھے۔ ایک شخص نے بغیر اللہ کی حمد و ثنأ کیئے اور بغیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم درود پڑھے اپنی نماز میں دعا کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے بہت جلدی کی ، پھر اسے بلا کر فرمایا: یا کسی اور کو فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو پہلے اللہ کی تعریفیں بیان کرے، پھر درود پڑھے، پھر جو چاہے دعا مانگے ۔ [سنن ابوداود:1481،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابنِ ماجہ میں ہے کہ جس کا وضو نہیں، اس کی نماز نہیں۔ جو وضو میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» نہ کہے، اس کا وضو نہیں۔ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھے، اس کی نماز نہیں۔ جو انصار سے محبت نہ رکھے، اس کی نماز نہیں ۔ [سنن ابن ماجه:400،قال الشيخ الألباني:منکر] ‏ اس کی سند میں عبدالمہیمن نامی راوی متروک ہے۔

صفحہ نمبر7089

طبرانی میں یہ روایت ان کے بھائی سے مروی ہے لیکن اس میں بھی نظر ہے اور معروف روایت پہلی ہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

مسند میں ہے کہ ہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کہنا تو جانتے ہیں درود سکھا دیجیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوں کہو «اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا جَعَلْتَهَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ۔ [مسند احمد:353/3:ضعیف] ‏ اس کا ایک راوی ابوداؤد اعمیٰ جس کا نام نفیع بن حارث ہے وہ متروک ہے۔

صفحہ نمبر7090

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے لوگوں کو اس دعا کا سکھانا بھی مروی ہے، «اللَّهُمَّ دَاحِي الْمَدْحُوَّات وَبَارِئ الْمَسْمُوكَات وَجَبَّار الْقُلُوب عَلَى فِطْرَتهَا شَقِيّهَا وَسَعِيدهَا اِجْعَلْ شَرَائِف صَلَوَاتك وَنَوَامِي بَرَكَاتك وَرَأْفَة تَحَنُّنِك عَلَى مُحَمَّد عَبْدك وَرَسُولِك الْفَاتِح لِمَا أُغْلِقَ وَالْخَاتَم لِمَا سَبَقَ وَالْمُعْلِن الْحَقّ بِالْحَقِّ وَالدَّامِغ لِجَيْشَاتِ الْأَبَاطِيل كَمَا حَمَلَ فَاضْطَلَعَ بِأَمْرِك بِطَاعَتِك مُسْتَوْفِزًا فِي مَرْضَاتك غَيْر نَكِل فِي قَدَم وَلَا وَهَن فِي عَزْم وَاعِيًا لِوَحْيِك حَافِظًا لِعَهْدِك مَاضِيًا عَلَى نَفَاذ أَمْرك حَتَّى أَوْرَى قَبَسًا لِقَابِس , آلَاء اللَّه تَصِل بِأَهْلِهِ أَسْبَابه بِهِ هُدِيَتْ الْقُلُوب بَعْد خَوْضَات الْفِتَن وَالْإِثْم وَأَبْهَج مُوَضِّحَات الْأَعْلَام وَنَائِرَات الْأَحْكَام وَمُنِيرَات الْإِسْلَام فَهُوَ أَمِينك الْمَأْمُون وَخَازِن عِلْمك الْمُخْزُونَ وَشَهِيدك يَوْم الدِّين وَبَعِيثُك نِعْمَة وَرَسُولُك بِالْحَقِّ رَحْمَة , اللَّهُمَّ أَفْسِحْ لَهُ فِي عَدْنك وَاجْزِهِ مُضَاعَفَات الْخَيْر مِنْ فَضْلِك مُهَنَّآت غَيْر مُكَدَّرَات مِنْ فَوْز ثَوَابك الْمَحْلُول وَجَزِيل عَطَائِك الْمَلُول اللَّهُمَّ أَعْلِ عَلَى بِنَاء النَّاس بِنَاءَهُ وَأَكْرِمْ مَثْوَاهُ لَدَيْك وَنُزُله وَأَتْمِمْ لَهُ نُوره وَاجْزِهِ مِنْ اِبْتِعَاثك لَهُ مَقْبُول الشَّهَادَة مَرَضِيّ الْمَقَالَة ذَا مَنْطِق عَدْل وَخُطَّة فَصْل . وَحُجَّة وَبُرْهَان عَظِيم» مگر اس کی سند ٹھیک نہیں اس کا راوی ابو الحجاج مزی سلامہ کندی نہ تو معروف ہے نہ اس کی علامات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔ [التاریخ الکبیر للبخاری:195/4:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7091

ابن ماجہ میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو تو بہت اچھا درود پڑھا کرو۔ بہت ممکن ہے کہ تمہارا یہ درود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا جائے۔ لوگوں نے کہا پھر آپ رضی اللہ عنہ ہی ہمیں کوئی ایسا درود سکھائیے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بہتر ہے یہ پڑھو «اللَّهُمَّ اِجْعَلْ صَلَوَاتك وَرَحْمَتك وَبَرَكَتك عَلَى سَيِّد الْمُرْسَلِينَ وَإِمَام الْمُتَّقِينَ وَخَاتَم النَّبِيِّينَ مُحَمَّد عَبْدك وَرَسُولك إِمَام الْخَيْر وَقَائِد الْخَيْر وَرَسُول الرَّحْمَة اللَّهُمَّ اِبْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا يَغْبِطهُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ» اس کے بعد التحیات کے بعد کے دونوں درود (‏درود ابراھیمی) ہیں ۔ [سنن ابن ماجه:906،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ روایت بھی موقف ہے۔

ابن جریر کی ایک روایت میں ہے کہ یونس بن خباب رحمہ اللہ نے اپنے فارس کے ایک خطبے میں اس آیت کی تلاوت کی، پھر لوگوں کے درود کے طریقے کے سوال کو بیان فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب میں «وَارْحَمْ مُحَمَّدًا وَآلَ مُحَمَّد كَمَا رَحِمْت آلَ إِبْرَاهِيم» کو بھی بیان فرمایا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28635:] ‏ اس سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رحم کی دعا بھی ہے۔ جمہور کا یہی مذہب ہے۔

اس کی مزید تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ ایک اعرابی نے اپنی دعا میں کہا تھا ”اے اللہ مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کر۔‏“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: تو نے بہت ہی زیادہ کشادہ چیز تنگ کر دی ۔ [صحیح بخاری:6010] ‏ قاضی عیاض نے جمہور مالکیہ سے اس کا عدم جواز نقل کیا ہے۔ ابو محمد بن ابوزید بھی اس کے جواز کی طرف گئے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جب تک کوئی شخص مجھ پر درد بھیجتا رہتا ہے تب تک فرشتے بھی اس کے لیے دعا رحم کرتے رہتے ہیں۔ اب تمہیں اختیار ہے کہ کمی کرو یا زیادتی کرو ۔ [سنن ابن ماجه:907،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے قریب روز قیامت مجھ سے وہ ہو گا جو سب سے زیادہ مجھ پر درود پڑھا کرتا تھا ۔ [سنن ترمذي:484،قال الشيخ الألباني:حسن لغیره] ‏

صفحہ نمبر7092

فرمان ہے مجھ پر جو ایک مرتبہ درود بھیجے اللہ تعالیٰ اس پر اپنی دس رحمتیں بھیجتا ہے۔ اس پر ایک شخص نے کہا پھر میں اپنی دعا کا آدھا وقت درود میں ہی خرچ کروں گا۔ فرمایا: جیسی تیری مرضی ۔ اس نے کہا پھر میں دو تہائیاں کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہے ۔ اس نے کہا پھر تو میں اپنا سارا وقت اس کے لیے ہی کر دیتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت اللہ تعالیٰ تجھے دین و دنیا کے غم سے نجات دیدے گا اور تیرے گناہ معاف فرما دے گا ۔ [ ترمذی ] ‏

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آدھی رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلتے اور فرماتے ہیں ہلا دینے والی آ رہی ہے اور اس کے پیچھے ہی پیچھے لگنے والی بھی ہے ۔ ابی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ کہا ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں رات کو کچھ نماز پڑھا کرتا ہوں، تو اس کا تہائی حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتا رہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدھا حصہ ۔ انہوں نے کہا کہ آدھا کر لوں؟ فرمایا: دو تہائی کہا اچھا میں پورا وقت اسی میں گزاروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو اللہ تیرے تمام گناہ معاف فرما دے گا [ ترمذی ] ‏

اسی روایت کی ایک اور سند میں ہے دو تہائی رات گزرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو اللہ کی یاد کرو۔ لوگو ذکر الٰہی کرو۔ دیکھو کپکپا دینے والی آ رہی ہے اور اس کے پیچھے ہی پیچھے لگنے والی آ رہی ہے۔ موت اپنے ساتھ کی کل مصیبتوں اور آفتوں کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے ۔ ابی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بکثرت درود پڑھتا ہوں پس کتنا وقت اس میں گزاروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنا تو چاہے ۔ کہا چوتھائی؟ فرمایا: جتنا چاہو اور زیادہ کرو تو اور اچھا ہے ۔ کہا آدھا تو یہی جواب دیا پوچھا دو تہائی تو یہی جواب ملا۔ کہا تو بس میں سارا ہی وقت اس میں گزاروں گا۔ فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ تجھے تیرے تمام ہم و غم سے بچا لے گا اور تیرے گناہ معاف فرما دے گا ۔ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر7093

ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں اپنی تمام تر صلوۃ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی پر کر دوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا اور آخرت کے تمام مقاصد پورے ہو جائیں گے ۔ [مسند احمد:136/5:حسن] ‏

سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ گھر سے نکلے۔ میں ساتھ ہو لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کے ایک باغ میں گئے وہاں جا کر سجدے میں گرگئے اور اتنا لمبا سجدہ کیا، اس قدر دیر لگائی کہ مجھے تو یہ کھٹکا گزرا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پرواز نہ کر گئی ہو۔ قریب جا کر غور سے دیکھنے لگا، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا مجھ سے پوچھا کیا بات ہے؟ تو میں نے اپنی حالت ظاہر کی۔ فرمایا: بات یہ تھی کہ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھ سے فرمایا ”تمہیں بشارت سناتا ہوں کہ جناب باری عزاسمہ فرماتا ہے ” جو تجھ پر درود بھیجے گا میں بھی اس پر درود بھیجوں گا اور جو تجھ پر سلام بھیجے گا میں بھی اس پر سلام بھیجوں گا “ ۔ [مسند احمد:191/1:حسن لغیرہ] ‏

صفحہ نمبر7094

اور روایت میں ہے کہ یہ سجدہ اس امر پر اللہ کے شکریے کا تھا ۔ [مسند احمد:191/5:حسن لغیره] ‏

ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام کے لیے نکلے کوئی نہ تھا جو آپ کے ساتھ جاتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جلدی سے پیچھے پیچھے گئے۔ دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں ہیں، دور ہٹ کر کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھ کر فرمایا: تم نے یہ بہت اچھا کیا کہ مجھے سجدے میں دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے۔ سنو میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا ”آپ کی امت میں سے جو ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے گا۔ اللہ اس پر دس رحمتیں اتارے گا اور اس کے دس درجے بلند کرے گا“ ۔ [طبرانی] ‏

صفحہ نمبر7095

ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس آئے، چہرے سے خوشی ظاہر ہورہی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے سبب دریافت فرمایا کیا تو تو فرمایا: ایک فرشتے نے آکر مجھے یہ بشارت دی کہ میرا امتی جب مجھ پر درود بھیجے گا تو اللہ تعالیٰ کی دس رحمتیں اس پر اتریں گی۔ اسی طرح ایک سلام کے بدلے دس سلام ۔ [سنن نسائی:1284،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اور روایت میں ہے کہ ایک درود کے بدلے دس نیکیاں ملیں گی، دس گناہ معاف ہوں گے، دس درجے بڑھیں گے اور اسی کے مثل اس پر لوٹایا جائے گا ۔ [مسند احمد:29/4:حسن] ‏ جو شخص مجھ پر ایک درود بھیجے گا اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا ۔ [صحیح مسلم:408] ‏

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھ پر درود بھیجا کرو وہ تمہارے لیے زکوٰۃ ہے اور میرے لیے وسیلہ طلب کیا کرو وہ جنت میں ایک اعلیٰ درجہ ہے جو ایک شخص کو ہی ملے گا کیا عجب کہ وہ میں ہی ہوں ۔ [مسند احمد:365/2:ضعیف] ‏

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وسلم پر جو درود بھیجتا ہے اللہ اور اس کے فرشتے اس پر ستر درود بھیجتے ہیں۔ اب جو چاہے کم کرے اور جو چاہے اس میں زیادتی کرے سنو ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ایسے کہ گویا کوئی کسی کو رخصت کر رہا ہو، تین بار فرمایا کہ میں امی نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ مجھے نہایت کھلا بہت جامع اور ختم کر دینے والا کلام دیا گیا ہے۔ مجھے جہنم کے داروغوں کی عرش کے اٹھانے والوں کی گنتی بتادی گئی ہے۔ مجھ پر خاص عنایت کی گئی ہے اور مجھے اور میری امت کو عافیت عطا فرمائی گئی ہے۔ جب تک میں تم میں موجود ہوں سنتے اور مانتے رہو۔ جب مجھے میرا رب لے جائے تو تم کتاب اللہ کو مضبوط تھامے رہنا اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھنا ۔ [مسند احمد:172/2:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اسے چاہیئے کہ مجھ پر درود بھیجے۔ ایک مرتبہ کے درود بھیجنے سے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔ [نسائی فی السنن الکبری:9889:جید] ‏

ایک درود دس رحمتیں دلواتا ہے اور دس گناہ معاف کراتا ہے ۔ [صحیح مسلم:384] ‏

بخیل ہے وہ جس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ پڑھا ۔ [سنن ترمذي:3546،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اور روایت میں ہے ایسا شخص سب سے بڑا بخیل ہے ۔ [فضل الصلواۃ علی النبی:37] ‏

ایک مرسل حدیث میں ہے انسان کو یہ بخل کافی ہے کہ میرا نام سن کر درود نہ پڑھے ۔ فرماتے ہیں وہ شخص برباد ہوا جس کے پاس میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا۔ وہ برباد ہوا جس کی زندگی میں رمضان آیا اور نکل جانے تک اس کے گناہ معاف نہ ہوئے۔ وہ بھی برباد ہوا جس نے اپنے ماں باپ کے بڑھاپے کے زمانے کو پا لیا پھر بھی انہوں نے اسے جنت میں نہ پہنچایا ۔ [سنن ترمذي:3535،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7096

یہ حدیثیں دلیل ہیں اس امر پر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا واجب ہے۔ علماء کی ایک جماعت کا بھی یہی قول ہے۔ جیسے طحاوی حلیمی رحمہ اللہ علیہم وغیرہ۔

ابن ماجہ میں ہے جو مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا اس نے جنت کی راہ سے خطا کی ۔ [سنن ابن ماجه:908،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏ یہ حدیث مرسل ہے۔ لیکن پہلی احادیث سے اس کی پوری تقویت ہو جاتی ہے۔

بعض لوگ کہتے ہیں مجلس میں ایک دفعہ تو واجب ہے پھر مستحب ہے۔ چنانچہ ترمذی کی ایک حدیث میں ہے جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اللہ کے ذکر اور درود کے بغیر اٹھ کھڑے ہوں وہ مجلس قیامت کے دن ان پر وبال ہو جائے گی۔ اگر اللہ چاہے تو انہیں عذاب کرے چاہے معاف کر دے ۔ [سنن ترمذي:3380،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اور روایت میں ذکر اللہ کا ذکر نہیں، اس میں یہ بھی ہے کہ گو وہ جنت میں جائیں لیکن محرومی ثواب کے باعث انہیں سخت افسوس رہے گا ۔ [فضل الصلواۃ علی النبی:55] ‏

بعض کا قول ہے کہ عمر بھر میں ایک مرتبہ آپ پر درود واجب ہے پھر مستحب ہے تاکہ آیت کی تعمیل ہو جائے۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے وجوب کو بیان فرما کر اسی قول کی تائید کی ہے۔ لیکن طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آیت سے تو استحاب ہی ثابت ہوتا ہے اور اس پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ان کا مطلب بھی یہی ہو کہ ایک مرتبہ واجب پھر مستحب جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی گواہی۔ لیکن میں کہتا ہوں بہت سے ایسے اوقات ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کا ہمیں حکم ملا ہے لیکن بعض وقت واجب ہے اور بعض جگہ واجب نہیں۔ چنانچہ

[ 1 ] ‏ اذان سن کر۔ دیکھئیے مسند کی حدیث میں ہے جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہہ رہا ہو تم بھی کہو پھر مجھ پر درود بھیجو ایک کے بدلے دس درود اللہ تم پر بھیجے گا پھر میرے لیے وسیلہ مانگو جو جنت کی ایک منزل ہے اور ایک ہی بندہ اس کا مستحق ہے مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں سنو جو میرے لیے وسیلہ کی دعا کرتا ہے اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو جاتی ہے ۔ [صحیح مسلم:384] ‏

پہلے درود کے زکوٰۃ ہونے کی حدیث میں بھی اس کا بیان گزر چکا ہے۔ فرمان ہے کہ جو شخص درود بھیجے اور کہے «اَللّٰهُمَّ أَنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» اس کے لیے میری شفاعت قیامت کے دن واجب ہو جائے گی ۔ [مسند احمد:108/4:ضعیف] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ دعا منقول ہے «اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ شَفَاعَةَ مُحَمَّدٍ الْکُبْرٰی وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ الْعُلْيَا وَآتِه سُؤْلَه فِي الْأخِرَةِ وَالْأَوْلٰی کَمَا آتَيْتَ إِبْرَاهيْمَ وَمُوْسٰی عليهما السّلام» ۔

صفحہ نمبر7097

[2] ‏ مسجد میں جانے اور مسجد سے نکلنے کے وقت۔ چنانچہ مسند میں ہے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں جاتے تو درود و سلام پڑھ کر «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» پڑھتے اور جب مسجد سے نکلتے تو درود و سلام کے بعد «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ» پڑھتے ۔ [سنن ترمذي:314، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے ”جب مسجدوں میں جاؤ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا کرو۔‏“

صفحہ نمبر7098

[3] ‏ نماز کے آخری قعدہ میں التحیات کا دورد۔ اس کی بحث پہلی گزر چکی۔ ہاں اول تشہد میں اسے کسی نے واجب نہیں کہا۔ البتہ مستحب ہونے کا ایک قول شافعی کا ہے۔ گو دوسرا قول اس کے خلاف بھی انہی سے مروی ہے۔

صفحہ نمبر7099

[4] ‏ جنازے کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا۔ چنانچہ سنت طریقہ یہ ہے کہ پہلی تکبیر میں سورۃ فاتحہ پڑھے۔ دوسری میں درود پڑھ۔ تیسری میں میت کے لیے دعا کرے چوتھی میں «اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تَفْتِنَا بَعْدَهُ» پڑھے۔

ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ مسنون نماز جنازہ یوں ہے کہ امام تکبیر کہہ کر آہستہ سلام پھیر دے ۔ [بیهقی فی السنن الکبری:39/4] ‏

صفحہ نمبر7100

[5] ‏ عید کی نماز میں۔ سیدنا ابن مسعود، ابوموسیٰ اور حذیفہ رضی اللہ عنہم کے پاس آ کر ولید بن عقبہ کہتا ہے عید کا دن ہے بتلاؤ تکبیروں کی کیا کفیت ہے؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تکبیر تحریمہ کہہ کر اللہ کی حمد کر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج، دعا مانگ پھر تکبیر کہہ کر یہی کر۔ پھر تکبیر کہہ کر یہی کر۔ پھر تکبیر کہہ کر یہی کر۔ پھر تکبیر کہہ کر یہی کر پھر قرأت کر پھر تکبیر کہہ کر رکوع کر پھر کھڑا ہو کر پڑھ اور اپنے رب کی حمد بیان کر اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر صلواۃ پڑھ اور دعا کر اور تکبیر کہہ اور اسی طرح کر پھر رکوع میں جا۔ حذیفہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہم نے بھی اس کی تصدیق کی۔ [اسماعیل القاضی:88] ‏

صفحہ نمبر7101

[6] ‏ دعا کے خاتمے پر۔ ترمذی میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ دعا آسمان و زمین میں معلق رہتی ہے یہاں تک کہ تو درود پڑھے تب چڑھتی ہے ۔ [سنن ترمذي:486،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ایک روایت مرفوع بھی اسی طرح کی آئی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ دعا کے اول میں، درمیان میں اور آخر میں درود پڑھ لیا کرو ۔

ایک غریب اور ضعیف حدیث میں ہے کہ مجھے سوار کے پیالے کی طرح نہ کر لو کہ جب وہ اپنی تمام ضروری چیزیں لے لیتا ہے تو پانی کا کٹورہ بھی بھر لیتا ہے اگر وضو کی ضرورت پڑی تو وضو کر لیا، پیاس لگی تو پانی پی لیا ورنہ پانی بہاد دیا۔ دعا کی ابتداء میں دعا کے درمیان میں اور دعا کے آخر میں مجھ پر درود پڑھا کرو ۔ [ذكره ابن الاثير في جامع الاصول:155/4:] ‏ خصوصاً دعائے قنوت میں درود کی زیادہ تاکید ہے۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کلمات سکھائے جنہیں میں وتروں میں پڑھا کرتا ہوں۔ «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّمَا قْضَيْتَ، إِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» ۔ [سنن ابوداود:1425،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

نسائی کی روایت میں آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ «وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ» ۔ [سنن نسائی:1747،قال الشيخ الألباني:ضعیف و منقطع] ‏

صفحہ نمبر7102

[7] ‏ جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات میں۔ مسند احمد میں ہے سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے، اسی میں قبض کئے گئے، اسی میں نفخہ ہے، اسی میں بیہوشی ہے۔ پس تم اس دن مجھ پر بکثرت درود پڑھا کرو۔ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو زمین میں دفنا دیئے گئے ہوں گے پھر ہمارے درود آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسے پیش کئے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے نبیوں کے جسموں کا کھانا زمین پر حرام کر دیا ۔ ابوداؤد نسائی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ [سنن ابوداود:1047،قال الشيخ الألباني:] ‏

ابن ماجہ میں ہے جمعہ کے دن بکثرت درود پڑھو اس دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ جب کوئی مجھ پر درود پڑھتا ہے اس کا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے جب تک کہ وہ فارغ ہو ۔ پوچھا گیا موت کے بعد بھی؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر نبیوں کے جسموں کا گلانا سڑانا حرام کر دیا ہے نبی اللہ زندہ ہیں روزی دیئے جاتے ہیں ۔ [سنن ابن ماجه:1637،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث غریب ہے اور اس میں انتقطاع ہے۔ عبادہ بن نسی نے ابوالدرداء کو پایا نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

بیہقی میں بھی حدیث ہے کہ جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات مجھ پر بکثرت درود بھیجو لیکن وہ بھی ضعیف ہے۔ ایک روایت میں ہے اس کا جسم زمین نہیں کھاتی جس سے روح القدس نے کلام کیا ہو ۔ لیکن یہ حدیث مرسل ہے۔ ایک مرسل حدیث میں بھی جمعہ کے دن اور رات میں درود کی کثرت کا حکم ہے۔

صفحہ نمبر7103

[8] ‏ اسی طرح خطیب پر بھی دونوں خطبوں میں درود و واجب ہے اس کے بغیر صحیح نہ ہوں گے، اس لیے کہ یہ عبادت ہے اور اس میں ذکر اللہ واجب ہے پس ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی واجب ہوگا۔ جیسے اذان و نماز شافعی رحمہ اللہ اور احمد رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے۔

صفحہ نمبر7104

[9] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کی زیارت کے وقت ابوداؤد میں ہے جو مسلمان مجھ پر سلام پڑھتا ہے۔ اللہ میری روح کو لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دوں ۔ [سنن ابوداود:2041،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ابوداؤد میں ہے اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ میری قبر پر عرس میلہ نہ لگاؤ۔ ہاں مجھ پر درود پڑھو گو تم کہیں بھی ہو لیکن تمہارا درود مجھ تک پہنچایا جاتا ہے ۔ [سنن ابوداود:2042،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

قاضی اسماعیل بن اسحاق اپنی کتاب فضل الصلوۃ میں ایک روایت لائے ہیں کہ ایک شخص ہر صبح روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آتا تھا اور درود سلام پڑھتا تھا۔ ایک دن اس سے سیدنا علی بن حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے کہا تم روز ایسا کیوں کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کرنا مجھے بہت مرغوب ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سنو میں تمہیں ایک حدیث سناؤں میں نے اپنے باپ سے انہوں نے میرے دادا سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری قبر کو عید نہ بناؤ۔ نہ اپنے گھروں کو قبریں بناؤ جہاں کہیں تم ہو وہیں سے مجھ پر درود و سلام بھیجو وہ مجھے پہنچ جاتے ہیں ۔ [مسند ابویعلیٰ:469:ال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس کی اسناد میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام مذکور نہیں اور سند سے یہ روایت مرسل مروی ہے۔

سیدنا حسن بن حسن بن علی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس کچھ لوگوں کو دیکھ کر انہیں یہ حدیث سنائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر میلہ لگانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا ہے ۔ ممکن ہے ان کی کسی بے ادبی کی وجہ سے یہ حدیث آپ کو سنانے کی ضرورت پڑی ہو مثلاً وہ بلند آواز سے بول رہے ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ رحمہ اللہ نے ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ پر پے در پے آتے ہوئے دیکھ کر فرمایا کہ تو اور جو شخص اندلس میں ہے جہاں کہیں تم ہو وہیں سے سلام بھیجو تمہارے سلام مجھے پہنچا دیئے جاتے ہیں ۔ [طبرانی اوسط:367:صحیح بالشواهد] ‏

طبرانی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ یہ خاص راز ہے اگر تم مجھ سے نہ پوچھتے تو میں بھی نہ بتاتا۔ سنو میرے ساتھ دو فرشتے مقرر ہیں جب میرا ذکر کسی مسلمان کے سامنے کیا جاتا ہے اور وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے تو وہ فرشتے کہتے ہیں اللہ تجھے بخشے۔ اور خود اللہ اور اس کے فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ۔ [طبرانی:2753:موضوع] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کی سند بہت ہی ضعیف ہے۔

مسند احمد میں ہے اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں جو زمین میں چلتے پھرتے رہتے ہیں میری امت کے سلام مجھ تک پہنچاتے رہتے ہیں ۔ [سنن نسائی:1283،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ نسائی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ جو میری قبر کے پاس سے مجھ پر سلام پڑھتا ہے اسے میں سنتا ہوں اور جو دور سے سلام بھیجتا ہے اسے میں پہنچایا جاتا ہوں ۔ [العقیلی فی الضعفاء:136/4:ضعیف] ‏ یہ حدیث سنداً صحیح نہیں محمد بن مروان سدی صغیر متروک ہے۔

صفحہ نمبر7105

[10] ‏ ہمارے ساتھیوں کا قول ہے کہ احرام والا جب لبیک پکارے تو اسے بھی درود پڑھنا چاہیئے۔ دارقطنی وغیرہ میں قاسم بن محمد بن ابوکر صدیق رحمہ اللہ کا فرمان مروی ہے کہ ”لوگوں کو اس بات کا حکم کیا جاتا تھا۔‏“

صحیح سند سے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا قول مروی ہے کہ جب تم مکہ پہنچو تو سات مرتبہ طواف کرو، مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز ادا کرو۔ پھر صفا پر چڑھو اتنا کہ وہاں سے بیت اللہ نظر آئے وہاں کھڑے رہ کر سات تکبیریں کہو ان کے درمیان اللہ کی حمد و ثناء بیان کرو اور درود پڑھو۔ اور اپنے لیے دعا کرو پھر مروہ پر بھی اسی طرح کرو ۔

صفحہ نمبر7106

[11] ‏ ہمارے ساتھیوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ذبح کے وقت بھی اللہ کے نام کے ساتھ درود پڑھنا چاہیئے۔ آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-سورةالشرح:4] ‏ سے انہوں نے تائید چاہی ہے کیونکہ اس کی تفسیر میں ہے کہ جہاں اللہ کا ذکر کیا جائے وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی لیا جائے گا۔ جمہور اس کے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں یہاں صرف ذکر اللہ کافی ہے۔ جیسے کھانے کے وقت اور جماع کے وقت وغیرہ وغیرہ کہ ان اوقات میں درود کا پڑھنا سنت سے ثابت نہیں ہوا۔

ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے تمام انبیاء اور رسولوں علیہم السلام پر بھی صلوٰۃ و سلام بھیجو وہ بھی میری طرح اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں ، [اسماعیل القاضی:435:ضعیف] ‏ لیکن اس کی سند میں دو ضعیف راوی ہیں عمر بن ہارون اور ان کے استاد۔

کان کی سنسناہٹ کے وقت بھی درود پڑھنا ایک حدیث میں ہے، اگر اس کی اسناد صحیح ثابت ہو جائے تو۔ صحیح ابن خزیمہ میں ہے جب تم میں سے کسی کے کان میں سرسراہٹ ہو تو مجھے ذکر کر کے درود پڑھے اور کہے کہ جس نے مجھے بھلائی سے یاد کیا اسے اللہ بھی یاد کرے ۔ [طبرانی کبیر:120/2:ضعیف] ‏ اس کی سند غریب ہے اور اس کے ثبوت میں نظر ہے۔

صفحہ نمبر7107

مسئلہ ٭٭

مسئلہ: اہل کتاب اس بات کو مستحب جانتے ہیں کہ کاتب جب کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھے صلی اللہ علیہ وسلم لکھے۔ ایک حدیث میں ہے جو شخص کسی کتاب میں مجھ پر درود لکھے اس کے درود کا ثواب اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک وہ کتاب رہے ۔ [ابو القاسم الاصبهاني في الترغيب والترهيب:205/1:ضعیف و باطل] ‏ لیکن کئی وجہ سے یہ حدیث صحیح نہیں بلکہ امام ذہبی کے استاد تو اسے موضوع کہتے ہیں۔ یہ حدیث بہت سے طریق سے مروی ہے لیکن ایک سند بھی صحیح نہیں۔

امام خطیب بغدادی رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب آداب الرادی والسامع میں لکھتے ہیں میں نے امام احمد کی دستی لکھی ہوئی کتاب میں بہت جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دیکھا جہاں درود لکھا ہوا نہ تھا آپ رحمہ اللہ زبانی درود پڑھ لیا کرتے تھے۔

صفحہ نمبر7108

فصل ٭٭

نبیوں کے سوا غیر نبیوں پر صلوٰۃ بھیجنا اگر تبعاً ہو تو بیشک جائز ہے۔ جیسے حدیث میں ہے «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ» ۔ ہاں صرف غیر نبیوں پر صلوٰۃ بھیجنے میں اختلاف ہے۔

بعض تو اسے جائز بتاتے ہیں اور دلیل میں آیت «هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِ‌جَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ‌ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَ‌حِيمًا» [33-الأحزاب:43] ‏، اور «أُولَـٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّ‌بِّهِمْ وَرَ‌حْمَةٌ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ» [2-البقرة:157] ‏ اور «وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ» [9-التوبة:103] ‏ پیش کرتے ہیں اور یہ حدیث بھی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی قوم کا صدقہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ» ۔ [صحیح مسلم:1798] ‏

چنانچہ عبداللہ بن ابی اوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا صدقے کا مال لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ، صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى» ۔ [صحیح مسلم:1078] ‏۔

صفحہ نمبر7109

ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک عورت نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر اور میرے خاوند پر صلواۃ بھیجئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ عَلی زَوْجِكِ» ۔ [سنن ابوداود:1533،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ لیکن جمہور علماء اس کے خلاف ہیں اور کہتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کے سوا اوروں پر خاصتہ صلوٰۃ بھیجنا ممنوع ہے۔

اس لیے کہ اس لفظ کا استعمال انبیاء علیہم الصلٰوۃ السلام کیلئے اس قدر بکثرت ہو گیا ہے کہ سنتے ہی ذہن میں یہی خیال آتا ہے کہ یہ نام کسی نبی علیہ السلام کا ہے تو احتیاط اسی میں ہے کہ غیر نبی کیلئے یہ الفاظ نہ کہے جائیں۔ مثلاً ابوبکر صل اللہ علیہ یا علی صلی اللہ علیہ نہ کہا جائے گو معنی اس میں کوئی قباحت نہیں جیسے محمد عزوجل نہیں کہا جاتا۔ حالانکہ ذی عزت اور ذی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں اس لیے کہ یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کی ذات کیلئے مشہور ہو چکے ہیں اور کتاب و سنت میں صلوٰۃ کا جو استعمال غیر انبیاء کیلئے ہوا ہے وہ بطور دعا کے ہے۔ اسی وجہ سے آل ابی اوفی کو اس کے بعد کسی نے ان الفاظ سے یاد نہیں کیا نہ جابر رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی رضی اللہ عنہا کو۔ یہی مسلک ہمیں بھی اچھا لگتا ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7110

بعض ایک اور وجہ بھی بیان کرتے ہیں یعنی یہ کہ غیر انبیاء کیلئے یہ الفاظ صلوٰۃ استعمال کرنا بددینوں کا شیوہ ہو گیا ہے۔ وہ اپنے بزرگوں کے حق میں یہی الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ پس ان کی اقتداء ہمیں نہ کرنی چاہیئے۔

اس میں بھی اختلاف ہے کہ یہ مخالفت کس درجے کی ہے حرمت کے طور پر یا کراہیت کے طور پر یا خلاف اولیٰ۔ صحیح یہ ہے کہ یہ مکروہ تنزیہی ہے۔ اس لیے کہ بدعتیوں کا طریقہ ہے جس پر ہمیں کاربند ہونا ٹھیک نہیں اور مکروہ وہی ہوتا ہے جس میں نہی مقصود ہو۔ زیادہ تر اعتبار اس میں اسی پر ہے کہ صلوٰۃ کا لفظ سلف میں نبیوں پر ہی بولا جاتا رہا جیسے کہ عزوجل کا لفظ اللہ تعالیٰ ہی کیلئے بولا جاتا رہا۔ اب رہا سلام سو اس کے بارے میں شیخ ابو محمد جوینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بھی صلوٰۃ کے معنی میں ہے پس غائب پر اس کا استعمال نہ کیا جائے اور جو نبی نہ ہو اس کیلئے خاصتہً اسے بھی نہ بولا جائے۔ پس علی علیہ السلام نہ کہا جائے۔ زندوں اور مردوں کا یہی حکم ہے۔ ہاں جو سامنے موجود ہو اس سے خطاب کر کے «سَلَامٌ عَلَیْكَ یَا سَلَامٌ عَلَیْکُمْ یَا السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا عَلَیْکُمْ» کہنا جائز ہے اور اس پر اجماع ہے۔

یہاں پر یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ عموماً مصنفین کے قلم سے علی علیہ السلام نکلتا ہے یا علی کرم اللہ وجہہ نکلتا ہے گو معنی اس میں کوئی حرج نہ ہو لیکن اس سے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی جناب میں ایک طرح کی سوء ادبی پائی جاتی ہے۔ ہمیں سب صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ حسن عقیدت رکھنی چاہیئے۔ یہ الفاظ تعظیم و تکریم کے ہیں اس لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ مستحق ان کے سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔

صفحہ نمبر7111

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور پر صلوٰۃ نہ بھیجنی چاہیئے۔ ہاں مسلمان مردوں عورتوں کیلئے دعا مغفرت کرنی چاہیئے۔‏“

عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے ایک خط میں لکھا تھا کہ ”بعض لوگ آخرت کے اعمال سے دنیا کے جمع کرنے کی فکر میں ہیں اور بعض مولوی واعظ اپنے خلیفوں اور امیروں کیلئے صلوٰۃ کے ہی الفاظ بولتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے تھے۔ جب تیرے پاس میرا یہ خط پہنچے تو انہیں کہہ دینا کہ صلوٰۃ صرف نبیوں کیلئے ہیں اور عام مسلمانوں کیلئے اس کے سوا جو چاہیں دعا کریں۔‏“

کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں ہر صبح ستر ہزار فرشتے اتر کر قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیتے ہیں اور اپنے پر سمیٹ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے دعا رحمت کرتے رہتے ہیں اور ستر ہزار رات کو آتے ہیں یہاں تک کہ قیامت کے دن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک شق ہو گی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ [ فرع ] ‏

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”حضور پر صلوٰۃ و سلام ایک ساتھ بھیجنے چاہئیں صرف صلی اللہ علیہ وسلم یا صرف علیہ السلام نہ کہے۔‏“ اس آیت میں بھی دونوں ہی کا حکم ہے پس اولیٰ یہ ہے کہ یوں کہا جائے «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْلِیْماً» ۔

صفحہ نمبر7112

ملعون و معذب لوگ ٭٭

جو لوگ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کر کے اس کے روکے ہوئے کاموں سے نہ رک کر اس کی نافرمانیوں پر جم کر اسے ناراض کر رہے ہیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے طرح طرح کے بہتان باندھتے ہیں وہ ملعون اور معذب ہیں۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد تصویریں بنانے والے ہیں۔

بخاری و مسلم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ زمانے کو گالیاں دیتا ہے اور زمانہ میں ہوں میں ہی دن رات کا تغیر و تبدل کر رہا ہوں “ ۔ [صحیح بخاری:4826] ‏

مطلب یہ ہے کہ جاہلیت والے کہا کرتے تھے ہائے زمانے کی ہلاکت اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور یوں کیا۔ پس اللہ کے افعال کو زمانے کی طرف منسوب کر کے پھر زمانے کو برا کہتے تھے گویا افعال کے فاعل یعنی خود اللہ کو برا کہتے تھے۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا تو اس پر بھی بعض لوگوں نے باتیں بنانا شروع کی تھیں۔ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ آیت اس بارے میں اتری۔ آیت عام ہے کسی طرح بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دے وہ اس آیت کے ماتحت ملعون اور معذب ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دینی گویا اللہ کو ایذاء دینی ہے۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت عین اطاعت الٰہی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اللہ کو یاد دلاتا ہوں دیکھو اللہ کو بیچ میں رکھ کر تم سے کہتا ہوں کہ میرے اصحاب رضی اللہ عنہم کو میرے بعد نشانہ نہ بنا لینا میری محبت کی وجہ سے ان سے بھی محبت رکھنا ان سے بغض و بیر رکھنے والا مجھ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ انہیں جس نے ایذاء دی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی یقین مانو کہ اللہ اس کی بھوسی اڑا دے گا ۔ [سنن ترمذي:3862،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے۔

جو لوگ ایمانداروں کی طرف ان برائیوں کو منسوب کرتے ہیں۔ جن سے وہ بری ہیں وہ بڑے بہتان باز اور زبردست گناہ گار ہیں۔ اس وعید میں سب سے پہلے تو کفار داخل ہیں۔

صفحہ نمبر7113

پھر رافضی شیعہ جو صحابہ رضی اللہ عنہم پر عیب گیری کرتے ہیں اور اللہ نے جن کی تعریفیں کی ہیں یہ انہیں برا کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ ” وہ انصار و مہاجرین سے خوش ہے “۔

قرآن کریم میں جگہ جگہ ان کی مدح و ستائش موجود ہے۔ لیکن یہ بے خبر کند ذہن انہیں برا کہتے ہیں ان کی مذمت کرتے ہیں اور ان میں وہ باتیں بتاتے ہیں جن سے وہ بالکل الگ ہیں۔ حق یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کے دل اوندھے ہو گئے ہیں اس لیے ان کی زبانیں بھی الٹی چلتی ہیں۔ قابل مدح لوگوں کی مذمت کرتے ہیں اور مذمت والوں کی تعریفیں کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ غیبت کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تیرا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا جسے اگر وہ سنے تو اسے برا معلوم ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ اگر وہ بات اس میں ہو تب؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبھی تو غیبت ہے ورنہ بہتان ہے ۔ [سنن ابوداود:4874،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے سوال کیا کہ سب سے بڑی سود خوری کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ جانے اور اللہ کا رسول۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا سود اللہ کے نزدیک کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا» کی تلاوت فرمائی ۔ [شعب الإيمان:393/4] ‏

صفحہ نمبر7114

ملعون و معذب لوگ ٭٭

جو لوگ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کر کے اس کے روکے ہوئے کاموں سے نہ رک کر اس کی نافرمانیوں پر جم کر اسے ناراض کر رہے ہیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے طرح طرح کے بہتان باندھتے ہیں وہ ملعون اور معذب ہیں۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد تصویریں بنانے والے ہیں۔

بخاری و مسلم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ زمانے کو گالیاں دیتا ہے اور زمانہ میں ہوں میں ہی دن رات کا تغیر و تبدل کر رہا ہوں “ ۔ [صحیح بخاری:4826] ‏

مطلب یہ ہے کہ جاہلیت والے کہا کرتے تھے ہائے زمانے کی ہلاکت اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور یوں کیا۔ پس اللہ کے افعال کو زمانے کی طرف منسوب کر کے پھر زمانے کو برا کہتے تھے گویا افعال کے فاعل یعنی خود اللہ کو برا کہتے تھے۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا تو اس پر بھی بعض لوگوں نے باتیں بنانا شروع کی تھیں۔ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ آیت اس بارے میں اتری۔ آیت عام ہے کسی طرح بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دے وہ اس آیت کے ماتحت ملعون اور معذب ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دینی گویا اللہ کو ایذاء دینی ہے۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت عین اطاعت الٰہی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اللہ کو یاد دلاتا ہوں دیکھو اللہ کو بیچ میں رکھ کر تم سے کہتا ہوں کہ میرے اصحاب رضی اللہ عنہم کو میرے بعد نشانہ نہ بنا لینا میری محبت کی وجہ سے ان سے بھی محبت رکھنا ان سے بغض و بیر رکھنے والا مجھ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ انہیں جس نے ایذاء دی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی یقین مانو کہ اللہ اس کی بھوسی اڑا دے گا ۔ [سنن ترمذي:3862،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے۔

جو لوگ ایمانداروں کی طرف ان برائیوں کو منسوب کرتے ہیں۔ جن سے وہ بری ہیں وہ بڑے بہتان باز اور زبردست گناہ گار ہیں۔ اس وعید میں سب سے پہلے تو کفار داخل ہیں۔

صفحہ نمبر7113

پھر رافضی شیعہ جو صحابہ رضی اللہ عنہم پر عیب گیری کرتے ہیں اور اللہ نے جن کی تعریفیں کی ہیں یہ انہیں برا کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ ” وہ انصار و مہاجرین سے خوش ہے “۔

قرآن کریم میں جگہ جگہ ان کی مدح و ستائش موجود ہے۔ لیکن یہ بے خبر کند ذہن انہیں برا کہتے ہیں ان کی مذمت کرتے ہیں اور ان میں وہ باتیں بتاتے ہیں جن سے وہ بالکل الگ ہیں۔ حق یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کے دل اوندھے ہو گئے ہیں اس لیے ان کی زبانیں بھی الٹی چلتی ہیں۔ قابل مدح لوگوں کی مذمت کرتے ہیں اور مذمت والوں کی تعریفیں کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ غیبت کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تیرا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا جسے اگر وہ سنے تو اسے برا معلوم ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ اگر وہ بات اس میں ہو تب؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبھی تو غیبت ہے ورنہ بہتان ہے ۔ [سنن ابوداود:4874،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے سوال کیا کہ سب سے بڑی سود خوری کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ جانے اور اللہ کا رسول۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا سود اللہ کے نزدیک کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا» کی تلاوت فرمائی ۔ [شعب الإيمان:393/4] ‏

صفحہ نمبر7114

تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل کون؟ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کو فرماتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومن عورتوں سے فرما دیں بالخصوص اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں سے کیونکہ وہ تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل ہیں کہ وہ اپنی چادریں قدریں لٹکا لیا کریں تاکہ جاہلیت کی عورتوں سے ممتاز ہو جائیں اسی طرح لونڈیوں سے بھی آزاد عورتوں کی پہچان ہو جائے “۔ «جلباب» اس چادر کو کہتے ہیں جو عورتیں اپنی دوپٹیاکے اوپر ڈالتی ہیں۔

صفحہ نمبر7116

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ ” جب وہ اپنے کسی کام کاج کیلئے باہر نکلیں تو جو چادر وہ اوڑھتی ہیں اسے سر پر سے جھکا کر منہ ڈھک لیا کریں، صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں “۔‏“

امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کے سوال پر عبیدہ سلمانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا چہرہ اور سر ڈھانک کر اور بائیں آنکھ کھلی رکھ کر بتا دیا کہ ”یہ مطلب اس آیت کا ہے۔‏“

عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”اپنی چادر سے اپنا گلا تک ڈھانپ لے۔‏“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس آیت کے اترنے کے بعد انصار کی عورتیں جب نکلتی تھیں تو اس طرح لکی چھپی چلتی تھیں گویا ان کے سروں پر پرند ہیں سیاہ چادریں اپنے اوپر ڈال لیا کرتی تھیں۔‏“

زہری رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ کیا لونڈیاں بھی چادر اوڑھیں؟ خواہ خاوندوں والیاں ہوں یا بے خاوند کی ہوں؟ فرمایا ”دوپٹیا تو ضرور اوڑھیں اگر وہ خاوندوں والیاں ہوں اور چادر نہ اوڑھیں تاکہ ان میں اور آزاد عورتوں میں فرق رہے۔‏“

صفحہ نمبر7117

حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ”ذمی کافروں کی عورتوں کی زینت کا دیکھنا صرف خوف زنا کی وجہ سے ممنوع ہے نہ کہ ان کی حرمت و عزت کی وجہ سے کیونکہ آیت میں مومنوں کی عورتوں کا ذکر ہے۔‏“ چادر کا لٹکانا چونکہ علامت ہےآزاد پاک دامن عورتوں کی اس لیے یہ چادر کے لٹکانے سے پہچان لی جائیں گی کہ یہ نہ واہی عورتیں ہیں نہ لونڈیاں ہیں۔

سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”فاسق لوگ اندھیری راتوں میں راستے سے گزرنے والی عورتوں پر آوازے کستے تھے اس لیے یہ نشان ہو گیا کہ گھر گرہست عورتوں اور لونڈیوں باندیوں وغیرہ میں تمیز ہو جائے اور ان پاک دامن عورتوں پر کوئی لب نہ ہل اس کے۔‏“

پھر فرمایا کہ ”جاہلیت کے زمانے میں جو بے پردگی کی رسم تھی جب تم اللہ کے اس حکم کے عامل بن جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمام اگلی خطاؤں سے درگزر فرمالے گا اور تم پر مہر و کرم کرے گا۔‏“

صفحہ نمبر7118

پھر فرماتا ہے کہ ” اگر منافق لوگ اور بدکار اور جھوٹی افواہیں دشمنوں کی چڑھائی وغیرہ کی اڑانے والے اب بھی باز نہ آئے اور حق کے طرفدار نہ ہوئے تو، ہم اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھے ان پر غالب اور مسلط کر دیں گے۔ پھر تو وہ مدینے میں ٹھہر ہی نہیں سکیں گے۔ بہت جلد تباہ کر دیے جائیں گے اور جو کچھ دن ان کے مدینے کی اقامت سے گزریں گے وہ بھی لعنت و پھٹکار میں ذلت اور مار میں گزریں گے۔ ہر طرف سے دھتکارے جائیں گے، راندہ درگاہ ہو جائیں گے، جہاں جائیں گے گرفتار کئے جائیں گے اور بری طرح قتل کئے جائیں گے۔ ایسے کفار و منافقین پر جبکہ وہ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں مسلمانوں کو غلبہ دینا ہماری قدیمی سنت ہے جس میں نہ کبھی تغیر و تبدل ہوا نہ اب ہو “۔

صفحہ نمبر7119

تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل کون؟ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کو فرماتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومن عورتوں سے فرما دیں بالخصوص اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں سے کیونکہ وہ تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل ہیں کہ وہ اپنی چادریں قدریں لٹکا لیا کریں تاکہ جاہلیت کی عورتوں سے ممتاز ہو جائیں اسی طرح لونڈیوں سے بھی آزاد عورتوں کی پہچان ہو جائے “۔ «جلباب» اس چادر کو کہتے ہیں جو عورتیں اپنی دوپٹیاکے اوپر ڈالتی ہیں۔

صفحہ نمبر7116

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ ” جب وہ اپنے کسی کام کاج کیلئے باہر نکلیں تو جو چادر وہ اوڑھتی ہیں اسے سر پر سے جھکا کر منہ ڈھک لیا کریں، صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں “۔‏“

امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کے سوال پر عبیدہ سلمانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا چہرہ اور سر ڈھانک کر اور بائیں آنکھ کھلی رکھ کر بتا دیا کہ ”یہ مطلب اس آیت کا ہے۔‏“

عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”اپنی چادر سے اپنا گلا تک ڈھانپ لے۔‏“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس آیت کے اترنے کے بعد انصار کی عورتیں جب نکلتی تھیں تو اس طرح لکی چھپی چلتی تھیں گویا ان کے سروں پر پرند ہیں سیاہ چادریں اپنے اوپر ڈال لیا کرتی تھیں۔‏“

زہری رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ کیا لونڈیاں بھی چادر اوڑھیں؟ خواہ خاوندوں والیاں ہوں یا بے خاوند کی ہوں؟ فرمایا ”دوپٹیا تو ضرور اوڑھیں اگر وہ خاوندوں والیاں ہوں اور چادر نہ اوڑھیں تاکہ ان میں اور آزاد عورتوں میں فرق رہے۔‏“

صفحہ نمبر7117

حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ”ذمی کافروں کی عورتوں کی زینت کا دیکھنا صرف خوف زنا کی وجہ سے ممنوع ہے نہ کہ ان کی حرمت و عزت کی وجہ سے کیونکہ آیت میں مومنوں کی عورتوں کا ذکر ہے۔‏“ چادر کا لٹکانا چونکہ علامت ہےآزاد پاک دامن عورتوں کی اس لیے یہ چادر کے لٹکانے سے پہچان لی جائیں گی کہ یہ نہ واہی عورتیں ہیں نہ لونڈیاں ہیں۔

سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”فاسق لوگ اندھیری راتوں میں راستے سے گزرنے والی عورتوں پر آوازے کستے تھے اس لیے یہ نشان ہو گیا کہ گھر گرہست عورتوں اور لونڈیوں باندیوں وغیرہ میں تمیز ہو جائے اور ان پاک دامن عورتوں پر کوئی لب نہ ہل اس کے۔‏“

پھر فرمایا کہ ”جاہلیت کے زمانے میں جو بے پردگی کی رسم تھی جب تم اللہ کے اس حکم کے عامل بن جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمام اگلی خطاؤں سے درگزر فرمالے گا اور تم پر مہر و کرم کرے گا۔‏“

صفحہ نمبر7118

پھر فرماتا ہے کہ ” اگر منافق لوگ اور بدکار اور جھوٹی افواہیں دشمنوں کی چڑھائی وغیرہ کی اڑانے والے اب بھی باز نہ آئے اور حق کے طرفدار نہ ہوئے تو، ہم اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھے ان پر غالب اور مسلط کر دیں گے۔ پھر تو وہ مدینے میں ٹھہر ہی نہیں سکیں گے۔ بہت جلد تباہ کر دیے جائیں گے اور جو کچھ دن ان کے مدینے کی اقامت سے گزریں گے وہ بھی لعنت و پھٹکار میں ذلت اور مار میں گزریں گے۔ ہر طرف سے دھتکارے جائیں گے، راندہ درگاہ ہو جائیں گے، جہاں جائیں گے گرفتار کئے جائیں گے اور بری طرح قتل کئے جائیں گے۔ ایسے کفار و منافقین پر جبکہ وہ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں مسلمانوں کو غلبہ دینا ہماری قدیمی سنت ہے جس میں نہ کبھی تغیر و تبدل ہوا نہ اب ہو “۔

صفحہ نمبر7119

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com