John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Saad

Tafsir Ibn Kathir · The letter Saad · 88 ayat · ayat 31–60 · Quran text →

سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ٭٭

اللہ تعالیٰ نے جو ایک بڑی نعمت داؤد علیہ السلام کو عطا فرمائی تھی اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ ان کی نبوت کا وارث ان کے لڑکے سلیمان علیہ السلام کو بنا دیا۔ اسی لیے صرف سلیمان کا ذکر کیا ورنہ ان کے اور بچے بھی تھے۔ ایک سو عورتیں آپ کی لونڈیوں کے علاوہ تھیں۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۭ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ» [ 27- النمل: 16 ] ‏ یعنی داود کے وارث سلیمان ہوئے یعنی نبوت آپ کے بعد انہیں ملی۔ یہ بھی بڑے اچھے بندے تھے یعنی خوب عبادت گذار تھے اور اللہ کی طرف جھکنے والے تھے۔

مکحول رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جناب داؤد نبی علیہ السلام نے ایک مرتبہ آپ سے چند سوالات کئے اور ان کے معقول جوابات پا کر فرمایا کہ آپ نبی اللہ ہیں۔ پوچھا کہ سب سے اچھی چیز کیا ہے؟ جواب دیا کہ اللہ کی طرف سکینت اور ایمان پوچھا کہ سب سے زیادہ میٹھی چیز کیا ہے؟ جواب ملا اللہ کی رحمت پوچھا سب سے زیادہ ٹھنڈک والی چیز کیا ہے؟ جواب دیا اللہ کا لوگوں سے درگذر کرنا اور لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے کو معاف کر دینا [ ابن ابی حاتم ] ‏

سلیمان علیہ السلام کے سامنے ان کی بادشاہت کے زمانے میں ان کے گھوڑے پیش کئے گئے۔ یہ بہت تیز رفتار تھے جو تین ٹانگوں پر کھڑے رہتے تھے اور ایک پیر یونہی سا زمین پر ٹکتا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ پردار گھوڑے تھے تعداد میں بیس تھے۔ ابراہیم تمیمی نے گھوڑوں کی تعداد بیس ہزار بتلائی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر7701

ابوداؤد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک یا خیبر کے سفر سے واپس آئے تھے گھر میں تشریف فرما تھے جب تیز ہوا کے جھونکے سے گھر کے کونے کا پردہ ہٹ گیا وہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کھیلنے کی گڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر بھی پڑ گئی۔ دریافت کیا یہ کیا ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا میری گڑیاں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ بیچ میں ایک گھوڑا سا بنا ہوا ہے جس کے دو پر بھی کپڑے کے لگے ہوئے ہیں۔ پوچھا یہ کیا ہے؟ کہا گھوڑا ہے فرمایا اور یہ اس کے اوپر دونوں طرف کپڑے کے کیا بنے ہوئے ہیں؟ کہا یہ دونوں اس کے پر ہیں۔ فرمایا اچھا گھوڑا اور اس کے پر بھی؟ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں سنا کہ سلیمان کے پردار گھوڑے تھے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ کے آخری دانت دکھائی دینے لگے۔ [سنن ابوداود:4932،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سلیمان علیہ السلام ان کے دیکھنے بھالنے میں اس قدر مشغول ہو گئے کہ عصر کی نماز کا خیال ہی نہ رہا بالکل بھول گئے۔ جیسے کہ حضور علیہ السلام جنگ خندق والے دن لڑائی کی مشغولیت کی وجہ سے عصر کی نماز نہ پڑھ سکے تھے اور مغرب کے بعد ادا کی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ سورج ڈوبنے کے بد عمر رضی اللہ عنہ کفار قریش کو برا کہتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو عصر کی نماز بھی نہ پڑھ سکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی اب تک ادا نہیں کر سکا۔ چنانچہ ہم بطحان میں گئے وہاں وضو کیا اور سورج کے غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز ادا کی اور پھر مغرب پڑھی۔ [صحیح بخاری:596] ‏

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دین سلیمان میں جنگی صالح کی وجہ سے تاخیر نماز جائز ہو اور یہ جنگی گھوڑے تھے جنہیں اسی مقصد سے رکھا تھا۔ چنانچہ بعض علماء نے یہ کہا بھی ہے کہ صلوۃ خوف کے جاری ہونے سے پہلے یہی حال تھا۔ بعض کہتے ہیں جب تلواریں تنی ہوئی ہوں لشکر بھڑ گئے ہوں اور نماز کے لیے رکوع و سجود کا امکان ہی نہ ہو تب یہ حکم ہے جیسے صحابہ رضی اللہ عنہم نے تیستر کی فتح کے بعد موقعہ پر کیا تھا لیکن ہمارا پہلا قول ہی ٹھیک ہے اس لیے کہ اس کے بعد ہی سلیمان کا ان گھوڑوں کو دوبارہ طلب کرنا وغیرہ بیان ہوا ہے۔ انہیں واپس منگوا کر ان کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا میرے رب کی عبادت سے مجھے اس چیز نے غافل کر دیا میں ایسی چیز ہی نہیں رکھنے کا۔ چنانچہ ان کی کوچیں کاٹ دی گئیں اور ان کی گردنیں ماری گئیں۔ لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ نے گھوڑوں کے پیشانی کے بالوں وغیرہ پر ہاتھ پھیرا۔

صفحہ نمبر7702

امام ابن جریررحمہ اللہ بھی اسی قول کو اختیار کرتے ہیں کہ بلا وجہ جانوروں کو ایذاء پہنچانی ممنوع ہے ان جانوروں کا کوئی قصور نہ تھا جو انہیں کٹوا دیتے لیکن میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے یہ بات ان کی شرع میں جائز ہو خصوصاً ایسے وقت جبکہ وہ یاد اللہ میں حارج ہوئے اور وقت نماز نکل گیا تو دراصل یہ غصہ بھی اللہ کے لیے تھا۔

چنانچہ اسی وجہ سے ان گھوڑوں سے بھی تیز اور ہلکی چیز اللہ نے اپنے نبی کو عطا فرمائی یعنی ہوا ان کے تابع کر دی۔ حضرت ابوقتادہ رحمہ اللہ اور ابو دھما رحمہ اللہ اکثر حج کیا کرتے تھے ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ایک گاؤں میں ہماری ایک بدوی سے ملاقات ہوئی اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے بہت کچھ دینی تعلیم دی اس میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈر کر تو جس چیز کو چھوڑے گا اللہ تجھے اس سے بہتر عطا فرمائیگا۔ [مسند احمد:78/5:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7703

سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ٭٭

اللہ تعالیٰ نے جو ایک بڑی نعمت داؤد علیہ السلام کو عطا فرمائی تھی اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ ان کی نبوت کا وارث ان کے لڑکے سلیمان علیہ السلام کو بنا دیا۔ اسی لیے صرف سلیمان کا ذکر کیا ورنہ ان کے اور بچے بھی تھے۔ ایک سو عورتیں آپ کی لونڈیوں کے علاوہ تھیں۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۭ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ» [ 27- النمل: 16 ] ‏ یعنی داود کے وارث سلیمان ہوئے یعنی نبوت آپ کے بعد انہیں ملی۔ یہ بھی بڑے اچھے بندے تھے یعنی خوب عبادت گذار تھے اور اللہ کی طرف جھکنے والے تھے۔

مکحول رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جناب داؤد نبی علیہ السلام نے ایک مرتبہ آپ سے چند سوالات کئے اور ان کے معقول جوابات پا کر فرمایا کہ آپ نبی اللہ ہیں۔ پوچھا کہ سب سے اچھی چیز کیا ہے؟ جواب دیا کہ اللہ کی طرف سکینت اور ایمان پوچھا کہ سب سے زیادہ میٹھی چیز کیا ہے؟ جواب ملا اللہ کی رحمت پوچھا سب سے زیادہ ٹھنڈک والی چیز کیا ہے؟ جواب دیا اللہ کا لوگوں سے درگذر کرنا اور لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے کو معاف کر دینا [ ابن ابی حاتم ] ‏

سلیمان علیہ السلام کے سامنے ان کی بادشاہت کے زمانے میں ان کے گھوڑے پیش کئے گئے۔ یہ بہت تیز رفتار تھے جو تین ٹانگوں پر کھڑے رہتے تھے اور ایک پیر یونہی سا زمین پر ٹکتا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ پردار گھوڑے تھے تعداد میں بیس تھے۔ ابراہیم تمیمی نے گھوڑوں کی تعداد بیس ہزار بتلائی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر7701

ابوداؤد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک یا خیبر کے سفر سے واپس آئے تھے گھر میں تشریف فرما تھے جب تیز ہوا کے جھونکے سے گھر کے کونے کا پردہ ہٹ گیا وہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کھیلنے کی گڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر بھی پڑ گئی۔ دریافت کیا یہ کیا ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا میری گڑیاں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ بیچ میں ایک گھوڑا سا بنا ہوا ہے جس کے دو پر بھی کپڑے کے لگے ہوئے ہیں۔ پوچھا یہ کیا ہے؟ کہا گھوڑا ہے فرمایا اور یہ اس کے اوپر دونوں طرف کپڑے کے کیا بنے ہوئے ہیں؟ کہا یہ دونوں اس کے پر ہیں۔ فرمایا اچھا گھوڑا اور اس کے پر بھی؟ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں سنا کہ سلیمان کے پردار گھوڑے تھے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ کے آخری دانت دکھائی دینے لگے۔ [سنن ابوداود:4932،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سلیمان علیہ السلام ان کے دیکھنے بھالنے میں اس قدر مشغول ہو گئے کہ عصر کی نماز کا خیال ہی نہ رہا بالکل بھول گئے۔ جیسے کہ حضور علیہ السلام جنگ خندق والے دن لڑائی کی مشغولیت کی وجہ سے عصر کی نماز نہ پڑھ سکے تھے اور مغرب کے بعد ادا کی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ سورج ڈوبنے کے بد عمر رضی اللہ عنہ کفار قریش کو برا کہتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو عصر کی نماز بھی نہ پڑھ سکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی اب تک ادا نہیں کر سکا۔ چنانچہ ہم بطحان میں گئے وہاں وضو کیا اور سورج کے غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز ادا کی اور پھر مغرب پڑھی۔ [صحیح بخاری:596] ‏

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دین سلیمان میں جنگی صالح کی وجہ سے تاخیر نماز جائز ہو اور یہ جنگی گھوڑے تھے جنہیں اسی مقصد سے رکھا تھا۔ چنانچہ بعض علماء نے یہ کہا بھی ہے کہ صلوۃ خوف کے جاری ہونے سے پہلے یہی حال تھا۔ بعض کہتے ہیں جب تلواریں تنی ہوئی ہوں لشکر بھڑ گئے ہوں اور نماز کے لیے رکوع و سجود کا امکان ہی نہ ہو تب یہ حکم ہے جیسے صحابہ رضی اللہ عنہم نے تیستر کی فتح کے بعد موقعہ پر کیا تھا لیکن ہمارا پہلا قول ہی ٹھیک ہے اس لیے کہ اس کے بعد ہی سلیمان کا ان گھوڑوں کو دوبارہ طلب کرنا وغیرہ بیان ہوا ہے۔ انہیں واپس منگوا کر ان کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا میرے رب کی عبادت سے مجھے اس چیز نے غافل کر دیا میں ایسی چیز ہی نہیں رکھنے کا۔ چنانچہ ان کی کوچیں کاٹ دی گئیں اور ان کی گردنیں ماری گئیں۔ لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ نے گھوڑوں کے پیشانی کے بالوں وغیرہ پر ہاتھ پھیرا۔

صفحہ نمبر7702

امام ابن جریررحمہ اللہ بھی اسی قول کو اختیار کرتے ہیں کہ بلا وجہ جانوروں کو ایذاء پہنچانی ممنوع ہے ان جانوروں کا کوئی قصور نہ تھا جو انہیں کٹوا دیتے لیکن میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے یہ بات ان کی شرع میں جائز ہو خصوصاً ایسے وقت جبکہ وہ یاد اللہ میں حارج ہوئے اور وقت نماز نکل گیا تو دراصل یہ غصہ بھی اللہ کے لیے تھا۔

چنانچہ اسی وجہ سے ان گھوڑوں سے بھی تیز اور ہلکی چیز اللہ نے اپنے نبی کو عطا فرمائی یعنی ہوا ان کے تابع کر دی۔ حضرت ابوقتادہ رحمہ اللہ اور ابو دھما رحمہ اللہ اکثر حج کیا کرتے تھے ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ایک گاؤں میں ہماری ایک بدوی سے ملاقات ہوئی اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے بہت کچھ دینی تعلیم دی اس میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈر کر تو جس چیز کو چھوڑے گا اللہ تجھے اس سے بہتر عطا فرمائیگا۔ [مسند احمد:78/5:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7703

سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ٭٭

اللہ تعالیٰ نے جو ایک بڑی نعمت داؤد علیہ السلام کو عطا فرمائی تھی اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ ان کی نبوت کا وارث ان کے لڑکے سلیمان علیہ السلام کو بنا دیا۔ اسی لیے صرف سلیمان کا ذکر کیا ورنہ ان کے اور بچے بھی تھے۔ ایک سو عورتیں آپ کی لونڈیوں کے علاوہ تھیں۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۭ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ» [ 27- النمل: 16 ] ‏ یعنی داود کے وارث سلیمان ہوئے یعنی نبوت آپ کے بعد انہیں ملی۔ یہ بھی بڑے اچھے بندے تھے یعنی خوب عبادت گذار تھے اور اللہ کی طرف جھکنے والے تھے۔

مکحول رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جناب داؤد نبی علیہ السلام نے ایک مرتبہ آپ سے چند سوالات کئے اور ان کے معقول جوابات پا کر فرمایا کہ آپ نبی اللہ ہیں۔ پوچھا کہ سب سے اچھی چیز کیا ہے؟ جواب دیا کہ اللہ کی طرف سکینت اور ایمان پوچھا کہ سب سے زیادہ میٹھی چیز کیا ہے؟ جواب ملا اللہ کی رحمت پوچھا سب سے زیادہ ٹھنڈک والی چیز کیا ہے؟ جواب دیا اللہ کا لوگوں سے درگذر کرنا اور لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے کو معاف کر دینا [ ابن ابی حاتم ] ‏

سلیمان علیہ السلام کے سامنے ان کی بادشاہت کے زمانے میں ان کے گھوڑے پیش کئے گئے۔ یہ بہت تیز رفتار تھے جو تین ٹانگوں پر کھڑے رہتے تھے اور ایک پیر یونہی سا زمین پر ٹکتا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ پردار گھوڑے تھے تعداد میں بیس تھے۔ ابراہیم تمیمی نے گھوڑوں کی تعداد بیس ہزار بتلائی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر7701

ابوداؤد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک یا خیبر کے سفر سے واپس آئے تھے گھر میں تشریف فرما تھے جب تیز ہوا کے جھونکے سے گھر کے کونے کا پردہ ہٹ گیا وہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کھیلنے کی گڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر بھی پڑ گئی۔ دریافت کیا یہ کیا ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا میری گڑیاں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ بیچ میں ایک گھوڑا سا بنا ہوا ہے جس کے دو پر بھی کپڑے کے لگے ہوئے ہیں۔ پوچھا یہ کیا ہے؟ کہا گھوڑا ہے فرمایا اور یہ اس کے اوپر دونوں طرف کپڑے کے کیا بنے ہوئے ہیں؟ کہا یہ دونوں اس کے پر ہیں۔ فرمایا اچھا گھوڑا اور اس کے پر بھی؟ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں سنا کہ سلیمان کے پردار گھوڑے تھے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ کے آخری دانت دکھائی دینے لگے۔ [سنن ابوداود:4932،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سلیمان علیہ السلام ان کے دیکھنے بھالنے میں اس قدر مشغول ہو گئے کہ عصر کی نماز کا خیال ہی نہ رہا بالکل بھول گئے۔ جیسے کہ حضور علیہ السلام جنگ خندق والے دن لڑائی کی مشغولیت کی وجہ سے عصر کی نماز نہ پڑھ سکے تھے اور مغرب کے بعد ادا کی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ سورج ڈوبنے کے بد عمر رضی اللہ عنہ کفار قریش کو برا کہتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو عصر کی نماز بھی نہ پڑھ سکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی اب تک ادا نہیں کر سکا۔ چنانچہ ہم بطحان میں گئے وہاں وضو کیا اور سورج کے غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز ادا کی اور پھر مغرب پڑھی۔ [صحیح بخاری:596] ‏

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دین سلیمان میں جنگی صالح کی وجہ سے تاخیر نماز جائز ہو اور یہ جنگی گھوڑے تھے جنہیں اسی مقصد سے رکھا تھا۔ چنانچہ بعض علماء نے یہ کہا بھی ہے کہ صلوۃ خوف کے جاری ہونے سے پہلے یہی حال تھا۔ بعض کہتے ہیں جب تلواریں تنی ہوئی ہوں لشکر بھڑ گئے ہوں اور نماز کے لیے رکوع و سجود کا امکان ہی نہ ہو تب یہ حکم ہے جیسے صحابہ رضی اللہ عنہم نے تیستر کی فتح کے بعد موقعہ پر کیا تھا لیکن ہمارا پہلا قول ہی ٹھیک ہے اس لیے کہ اس کے بعد ہی سلیمان کا ان گھوڑوں کو دوبارہ طلب کرنا وغیرہ بیان ہوا ہے۔ انہیں واپس منگوا کر ان کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا میرے رب کی عبادت سے مجھے اس چیز نے غافل کر دیا میں ایسی چیز ہی نہیں رکھنے کا۔ چنانچہ ان کی کوچیں کاٹ دی گئیں اور ان کی گردنیں ماری گئیں۔ لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ نے گھوڑوں کے پیشانی کے بالوں وغیرہ پر ہاتھ پھیرا۔

صفحہ نمبر7702

امام ابن جریررحمہ اللہ بھی اسی قول کو اختیار کرتے ہیں کہ بلا وجہ جانوروں کو ایذاء پہنچانی ممنوع ہے ان جانوروں کا کوئی قصور نہ تھا جو انہیں کٹوا دیتے لیکن میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے یہ بات ان کی شرع میں جائز ہو خصوصاً ایسے وقت جبکہ وہ یاد اللہ میں حارج ہوئے اور وقت نماز نکل گیا تو دراصل یہ غصہ بھی اللہ کے لیے تھا۔

چنانچہ اسی وجہ سے ان گھوڑوں سے بھی تیز اور ہلکی چیز اللہ نے اپنے نبی کو عطا فرمائی یعنی ہوا ان کے تابع کر دی۔ حضرت ابوقتادہ رحمہ اللہ اور ابو دھما رحمہ اللہ اکثر حج کیا کرتے تھے ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ایک گاؤں میں ہماری ایک بدوی سے ملاقات ہوئی اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے بہت کچھ دینی تعلیم دی اس میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈر کر تو جس چیز کو چھوڑے گا اللہ تجھے اس سے بہتر عطا فرمائیگا۔ [مسند احمد:78/5:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7703

سلیمان علیہ السلام کا تفصیلی تذکرہ ٭٭

ہم نے سلیمان علیہ السلام کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہر چند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتا سکتا ہے آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آ جاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کر دیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چنانچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بے بس ہو گیا سلیمان علیہ السلام کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کر دیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی۔

سلیمان علیہ السلام جب بیت الخلاء میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ علیہ السلام اس وقت فرضی غسل کے لیے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر سلیمان علیہ السلام کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کر لیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فاروق رضی اللہ عنہ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہیئے مجھے تو یہ شخص سلیمان علیہ السلام معلوم نہیں ہوتا۔ چنانچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہو جائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان علیہ السلام پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہو گئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔

صفحہ نمبر7707

حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔

چنانچہ ان کی جماعت آپ علیہ السلام کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑ گیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آ گئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بیٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کر دی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ سلیمان علیہ السلام یونہی اپنے دن گزارتے تھے۔

صفحہ نمبر7708

ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مانگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے۔ انہوں نے آپ علیہ السلام کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ علیہ السلام زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آ گیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چنانچہ وہ مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ علیہ السلام نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کر لیا اور لوگوں نے آپ علیہ السلام کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چنانچہ اسے قید کر لیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔

صفحہ نمبر7709

آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کر دی گئیں۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ سلیمان علیہ السلام نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔“یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں“

اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہو گیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کر دیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چنانچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کر دیا۔ سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ علیہ السلام نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہو گئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہو گئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت سلیمان علیہ السلام کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جا سکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لیے گئے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر7710

شیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ علیہ السلام پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان علیہ السلام میں سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابواسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب «اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [ 89- الفجر: 7 ] ‏ کے قصے سے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فراغت حاصل کی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا ابواسحاق آپ سلیمان علیہ السلام کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بنے ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب سلیمان علیہ السلام کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ سلیمان علیہ السلام جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آ جاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہو جاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔

صفحہ نمبر7711

حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لیے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لیے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ علیہ السلام کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی سلیمان علیہ الصلوۃ و السلام کی دعا یاد آ گئی۔ راوی حدیث روح رحمہ اللہ فرماتے ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ [صحیح بخاری:461] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اعوذ باللہ منک» پھر آپ نے تین بار فرمایا «‏العنک بلعنتہ اللہ» پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لیے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ [صحیح مسلم:542-40] ‏

حضرت عطابن یزید لیثی رحمہ اللہ نماز پڑھ رہے تھے جو ابوعبیدہ نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہو گئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے۔ [سنن ابوداود:699،قال الشيخ الألباني:حسن ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7712

مسند کی اور حدیث میں ہے ربیعہ بن یزید عبداللہ ویلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام وھط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہو گیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔

صفحہ نمبر7713

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کر لے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقیناً اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑ گیا وہ تو ہدایت والا ہو گیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لیے ہو [ 1 ] ‏ مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو [ 2 ] ‏ مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہو جائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لیے اللہ نے دی ہو۔ [سنن ترمذي:1862،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

طبرانی میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے داؤد علیہ السلام کو اپنے لیے ایک گھر بنانے کا حکم دیا داؤد علیہ السلام نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ علیہ السلام نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہو گئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گر گیا آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں؟ فرمایا اس لیے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ علیہ السلام کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چنانچہ آپ علیہ السلام کے انتقال کے بعد سلیمان علیہ السلام نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کر چکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہو جائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مجھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ [طبرانی کبیر:4477:ضعیف جدا] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے «سبحان اَلَّلہِ رَبِّـيَ العليِّ الأعلى الوهَّابِ» [مسند احمد:54/4:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7714

اور روایت میں ہے کہ داؤد علیہ السلام کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ علیہ السلام نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا،اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کر دیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنا دیا۔ اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کر دیا۔

صفحہ نمبر7715

ابن عساکر میں ہے کہ داؤد علیہ السلام نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو جاؤں گا جیسے کہ تیرے ساتھ تھا۔ پھر بیان ہو رہا ہے کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کی محبت میں آ کر ان خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کر دیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کر دیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔

جنات کو بھی سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہٰ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔

صفحہ نمبر7716

یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بے حساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہو گا۔

صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے جبرائیل علیہ السلام سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لیے سلیمان علیہ السلام کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔

صفحہ نمبر7717

سلیمان علیہ السلام کا تفصیلی تذکرہ ٭٭

ہم نے سلیمان علیہ السلام کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہر چند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتا سکتا ہے آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آ جاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کر دیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چنانچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بے بس ہو گیا سلیمان علیہ السلام کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کر دیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی۔

سلیمان علیہ السلام جب بیت الخلاء میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ علیہ السلام اس وقت فرضی غسل کے لیے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر سلیمان علیہ السلام کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کر لیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فاروق رضی اللہ عنہ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہیئے مجھے تو یہ شخص سلیمان علیہ السلام معلوم نہیں ہوتا۔ چنانچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہو جائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان علیہ السلام پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہو گئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔

صفحہ نمبر7707

حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔

چنانچہ ان کی جماعت آپ علیہ السلام کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑ گیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آ گئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بیٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کر دی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ سلیمان علیہ السلام یونہی اپنے دن گزارتے تھے۔

صفحہ نمبر7708

ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مانگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے۔ انہوں نے آپ علیہ السلام کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ علیہ السلام زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آ گیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چنانچہ وہ مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ علیہ السلام نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کر لیا اور لوگوں نے آپ علیہ السلام کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چنانچہ اسے قید کر لیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔

صفحہ نمبر7709

آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کر دی گئیں۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ سلیمان علیہ السلام نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔“یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں“

اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہو گیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کر دیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چنانچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کر دیا۔ سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ علیہ السلام نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہو گئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہو گئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت سلیمان علیہ السلام کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جا سکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لیے گئے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر7710

شیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ علیہ السلام پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان علیہ السلام میں سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابواسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب «اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [ 89- الفجر: 7 ] ‏ کے قصے سے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فراغت حاصل کی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا ابواسحاق آپ سلیمان علیہ السلام کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بنے ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب سلیمان علیہ السلام کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ سلیمان علیہ السلام جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آ جاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہو جاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔

صفحہ نمبر7711

حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لیے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لیے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ علیہ السلام کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی سلیمان علیہ الصلوۃ و السلام کی دعا یاد آ گئی۔ راوی حدیث روح رحمہ اللہ فرماتے ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ [صحیح بخاری:461] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اعوذ باللہ منک» پھر آپ نے تین بار فرمایا «‏العنک بلعنتہ اللہ» پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لیے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ [صحیح مسلم:542-40] ‏

حضرت عطابن یزید لیثی رحمہ اللہ نماز پڑھ رہے تھے جو ابوعبیدہ نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہو گئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے۔ [سنن ابوداود:699،قال الشيخ الألباني:حسن ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7712

مسند کی اور حدیث میں ہے ربیعہ بن یزید عبداللہ ویلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام وھط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہو گیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔

صفحہ نمبر7713

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کر لے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقیناً اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑ گیا وہ تو ہدایت والا ہو گیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لیے ہو [ 1 ] ‏ مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو [ 2 ] ‏ مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہو جائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لیے اللہ نے دی ہو۔ [سنن ترمذي:1862،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

طبرانی میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے داؤد علیہ السلام کو اپنے لیے ایک گھر بنانے کا حکم دیا داؤد علیہ السلام نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ علیہ السلام نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہو گئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گر گیا آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں؟ فرمایا اس لیے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ علیہ السلام کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چنانچہ آپ علیہ السلام کے انتقال کے بعد سلیمان علیہ السلام نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کر چکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہو جائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مجھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ [طبرانی کبیر:4477:ضعیف جدا] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے «سبحان اَلَّلہِ رَبِّـيَ العليِّ الأعلى الوهَّابِ» [مسند احمد:54/4:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7714

اور روایت میں ہے کہ داؤد علیہ السلام کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ علیہ السلام نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا،اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کر دیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنا دیا۔ اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کر دیا۔

صفحہ نمبر7715

ابن عساکر میں ہے کہ داؤد علیہ السلام نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو جاؤں گا جیسے کہ تیرے ساتھ تھا۔ پھر بیان ہو رہا ہے کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کی محبت میں آ کر ان خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کر دیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کر دیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔

جنات کو بھی سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہٰ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔

صفحہ نمبر7716

یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بے حساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہو گا۔

صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے جبرائیل علیہ السلام سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لیے سلیمان علیہ السلام کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔

صفحہ نمبر7717

سلیمان علیہ السلام کا تفصیلی تذکرہ ٭٭

ہم نے سلیمان علیہ السلام کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہر چند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتا سکتا ہے آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آ جاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کر دیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چنانچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بے بس ہو گیا سلیمان علیہ السلام کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کر دیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی۔

سلیمان علیہ السلام جب بیت الخلاء میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ علیہ السلام اس وقت فرضی غسل کے لیے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر سلیمان علیہ السلام کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کر لیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فاروق رضی اللہ عنہ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہیئے مجھے تو یہ شخص سلیمان علیہ السلام معلوم نہیں ہوتا۔ چنانچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہو جائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان علیہ السلام پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہو گئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔

صفحہ نمبر7707

حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔

چنانچہ ان کی جماعت آپ علیہ السلام کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑ گیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آ گئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بیٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کر دی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ سلیمان علیہ السلام یونہی اپنے دن گزارتے تھے۔

صفحہ نمبر7708

ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مانگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے۔ انہوں نے آپ علیہ السلام کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ علیہ السلام زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آ گیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چنانچہ وہ مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ علیہ السلام نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کر لیا اور لوگوں نے آپ علیہ السلام کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چنانچہ اسے قید کر لیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔

صفحہ نمبر7709

آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کر دی گئیں۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ سلیمان علیہ السلام نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔“یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں“

اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہو گیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کر دیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چنانچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کر دیا۔ سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ علیہ السلام نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہو گئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہو گئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت سلیمان علیہ السلام کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جا سکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لیے گئے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر7710

شیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ علیہ السلام پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان علیہ السلام میں سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابواسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب «اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [ 89- الفجر: 7 ] ‏ کے قصے سے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فراغت حاصل کی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا ابواسحاق آپ سلیمان علیہ السلام کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بنے ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب سلیمان علیہ السلام کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ سلیمان علیہ السلام جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آ جاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہو جاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔

صفحہ نمبر7711

حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لیے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لیے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ علیہ السلام کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی سلیمان علیہ الصلوۃ و السلام کی دعا یاد آ گئی۔ راوی حدیث روح رحمہ اللہ فرماتے ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ [صحیح بخاری:461] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اعوذ باللہ منک» پھر آپ نے تین بار فرمایا «‏العنک بلعنتہ اللہ» پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لیے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ [صحیح مسلم:542-40] ‏

حضرت عطابن یزید لیثی رحمہ اللہ نماز پڑھ رہے تھے جو ابوعبیدہ نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہو گئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے۔ [سنن ابوداود:699،قال الشيخ الألباني:حسن ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7712

مسند کی اور حدیث میں ہے ربیعہ بن یزید عبداللہ ویلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام وھط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہو گیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔

صفحہ نمبر7713

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کر لے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقیناً اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑ گیا وہ تو ہدایت والا ہو گیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لیے ہو [ 1 ] ‏ مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو [ 2 ] ‏ مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہو جائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لیے اللہ نے دی ہو۔ [سنن ترمذي:1862،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

طبرانی میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے داؤد علیہ السلام کو اپنے لیے ایک گھر بنانے کا حکم دیا داؤد علیہ السلام نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ علیہ السلام نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہو گئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گر گیا آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں؟ فرمایا اس لیے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ علیہ السلام کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چنانچہ آپ علیہ السلام کے انتقال کے بعد سلیمان علیہ السلام نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کر چکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہو جائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مجھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ [طبرانی کبیر:4477:ضعیف جدا] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے «سبحان اَلَّلہِ رَبِّـيَ العليِّ الأعلى الوهَّابِ» [مسند احمد:54/4:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7714

اور روایت میں ہے کہ داؤد علیہ السلام کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ علیہ السلام نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا،اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کر دیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنا دیا۔ اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کر دیا۔

صفحہ نمبر7715

ابن عساکر میں ہے کہ داؤد علیہ السلام نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو جاؤں گا جیسے کہ تیرے ساتھ تھا۔ پھر بیان ہو رہا ہے کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کی محبت میں آ کر ان خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کر دیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کر دیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔

جنات کو بھی سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہٰ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔

صفحہ نمبر7716

یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بے حساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہو گا۔

صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے جبرائیل علیہ السلام سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لیے سلیمان علیہ السلام کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔

صفحہ نمبر7717

سلیمان علیہ السلام کا تفصیلی تذکرہ ٭٭

ہم نے سلیمان علیہ السلام کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہر چند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتا سکتا ہے آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آ جاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کر دیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چنانچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بے بس ہو گیا سلیمان علیہ السلام کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کر دیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی۔

سلیمان علیہ السلام جب بیت الخلاء میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ علیہ السلام اس وقت فرضی غسل کے لیے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر سلیمان علیہ السلام کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کر لیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فاروق رضی اللہ عنہ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہیئے مجھے تو یہ شخص سلیمان علیہ السلام معلوم نہیں ہوتا۔ چنانچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہو جائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان علیہ السلام پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہو گئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔

صفحہ نمبر7707

حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔

چنانچہ ان کی جماعت آپ علیہ السلام کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑ گیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آ گئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بیٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کر دی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ سلیمان علیہ السلام یونہی اپنے دن گزارتے تھے۔

صفحہ نمبر7708

ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مانگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے۔ انہوں نے آپ علیہ السلام کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ علیہ السلام زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آ گیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چنانچہ وہ مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ علیہ السلام نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کر لیا اور لوگوں نے آپ علیہ السلام کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چنانچہ اسے قید کر لیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔

صفحہ نمبر7709

آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کر دی گئیں۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ سلیمان علیہ السلام نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔“یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں“

اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہو گیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کر دیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چنانچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کر دیا۔ سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ علیہ السلام نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہو گئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہو گئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت سلیمان علیہ السلام کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جا سکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لیے گئے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر7710

شیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ علیہ السلام پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان علیہ السلام میں سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابواسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب «اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [ 89- الفجر: 7 ] ‏ کے قصے سے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فراغت حاصل کی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا ابواسحاق آپ سلیمان علیہ السلام کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بنے ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب سلیمان علیہ السلام کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ سلیمان علیہ السلام جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آ جاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہو جاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔

صفحہ نمبر7711

حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لیے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لیے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ علیہ السلام کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی سلیمان علیہ الصلوۃ و السلام کی دعا یاد آ گئی۔ راوی حدیث روح رحمہ اللہ فرماتے ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ [صحیح بخاری:461] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اعوذ باللہ منک» پھر آپ نے تین بار فرمایا «‏العنک بلعنتہ اللہ» پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لیے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ [صحیح مسلم:542-40] ‏

حضرت عطابن یزید لیثی رحمہ اللہ نماز پڑھ رہے تھے جو ابوعبیدہ نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہو گئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے۔ [سنن ابوداود:699،قال الشيخ الألباني:حسن ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7712

مسند کی اور حدیث میں ہے ربیعہ بن یزید عبداللہ ویلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام وھط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہو گیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔

صفحہ نمبر7713

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کر لے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقیناً اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑ گیا وہ تو ہدایت والا ہو گیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لیے ہو [ 1 ] ‏ مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو [ 2 ] ‏ مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہو جائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لیے اللہ نے دی ہو۔ [سنن ترمذي:1862،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

طبرانی میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے داؤد علیہ السلام کو اپنے لیے ایک گھر بنانے کا حکم دیا داؤد علیہ السلام نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ علیہ السلام نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہو گئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گر گیا آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں؟ فرمایا اس لیے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ علیہ السلام کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چنانچہ آپ علیہ السلام کے انتقال کے بعد سلیمان علیہ السلام نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کر چکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہو جائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مجھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ [طبرانی کبیر:4477:ضعیف جدا] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے «سبحان اَلَّلہِ رَبِّـيَ العليِّ الأعلى الوهَّابِ» [مسند احمد:54/4:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7714

اور روایت میں ہے کہ داؤد علیہ السلام کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ علیہ السلام نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا،اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کر دیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنا دیا۔ اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کر دیا۔

صفحہ نمبر7715

ابن عساکر میں ہے کہ داؤد علیہ السلام نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو جاؤں گا جیسے کہ تیرے ساتھ تھا۔ پھر بیان ہو رہا ہے کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کی محبت میں آ کر ان خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کر دیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کر دیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔

جنات کو بھی سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہٰ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔

صفحہ نمبر7716

یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بے حساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہو گا۔

صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے جبرائیل علیہ السلام سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لیے سلیمان علیہ السلام کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔

صفحہ نمبر7717

سلیمان علیہ السلام کا تفصیلی تذکرہ ٭٭

ہم نے سلیمان علیہ السلام کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہر چند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتا سکتا ہے آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آ جاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کر دیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چنانچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بے بس ہو گیا سلیمان علیہ السلام کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کر دیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی۔

سلیمان علیہ السلام جب بیت الخلاء میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ علیہ السلام اس وقت فرضی غسل کے لیے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر سلیمان علیہ السلام کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کر لیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فاروق رضی اللہ عنہ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہیئے مجھے تو یہ شخص سلیمان علیہ السلام معلوم نہیں ہوتا۔ چنانچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہو جائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان علیہ السلام پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہو گئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔

صفحہ نمبر7707

حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔

چنانچہ ان کی جماعت آپ علیہ السلام کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑ گیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آ گئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بیٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کر دی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ سلیمان علیہ السلام یونہی اپنے دن گزارتے تھے۔

صفحہ نمبر7708

ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مانگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے۔ انہوں نے آپ علیہ السلام کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ علیہ السلام زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آ گیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چنانچہ وہ مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ علیہ السلام نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کر لیا اور لوگوں نے آپ علیہ السلام کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چنانچہ اسے قید کر لیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔

صفحہ نمبر7709

آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کر دی گئیں۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ سلیمان علیہ السلام نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔“یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں“

اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہو گیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کر دیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چنانچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کر دیا۔ سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ علیہ السلام نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہو گئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہو گئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت سلیمان علیہ السلام کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جا سکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لیے گئے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر7710

شیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ علیہ السلام پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان علیہ السلام میں سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابواسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب «اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [ 89- الفجر: 7 ] ‏ کے قصے سے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فراغت حاصل کی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا ابواسحاق آپ سلیمان علیہ السلام کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بنے ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب سلیمان علیہ السلام کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ سلیمان علیہ السلام جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آ جاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہو جاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔

صفحہ نمبر7711

حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لیے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لیے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ علیہ السلام کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی سلیمان علیہ الصلوۃ و السلام کی دعا یاد آ گئی۔ راوی حدیث روح رحمہ اللہ فرماتے ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ [صحیح بخاری:461] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اعوذ باللہ منک» پھر آپ نے تین بار فرمایا «‏العنک بلعنتہ اللہ» پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لیے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ [صحیح مسلم:542-40] ‏

حضرت عطابن یزید لیثی رحمہ اللہ نماز پڑھ رہے تھے جو ابوعبیدہ نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہو گئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے۔ [سنن ابوداود:699،قال الشيخ الألباني:حسن ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7712

مسند کی اور حدیث میں ہے ربیعہ بن یزید عبداللہ ویلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام وھط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہو گیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔

صفحہ نمبر7713

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کر لے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقیناً اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑ گیا وہ تو ہدایت والا ہو گیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لیے ہو [ 1 ] ‏ مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو [ 2 ] ‏ مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہو جائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لیے اللہ نے دی ہو۔ [سنن ترمذي:1862،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

طبرانی میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے داؤد علیہ السلام کو اپنے لیے ایک گھر بنانے کا حکم دیا داؤد علیہ السلام نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ علیہ السلام نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہو گئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گر گیا آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں؟ فرمایا اس لیے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ علیہ السلام کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چنانچہ آپ علیہ السلام کے انتقال کے بعد سلیمان علیہ السلام نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کر چکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہو جائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مجھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ [طبرانی کبیر:4477:ضعیف جدا] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے «سبحان اَلَّلہِ رَبِّـيَ العليِّ الأعلى الوهَّابِ» [مسند احمد:54/4:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7714

اور روایت میں ہے کہ داؤد علیہ السلام کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ علیہ السلام نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا،اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کر دیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنا دیا۔ اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کر دیا۔

صفحہ نمبر7715

ابن عساکر میں ہے کہ داؤد علیہ السلام نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو جاؤں گا جیسے کہ تیرے ساتھ تھا۔ پھر بیان ہو رہا ہے کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کی محبت میں آ کر ان خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کر دیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کر دیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔

جنات کو بھی سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہٰ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔

صفحہ نمبر7716

یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بے حساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہو گا۔

صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے جبرائیل علیہ السلام سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لیے سلیمان علیہ السلام کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔

صفحہ نمبر7717

سلیمان علیہ السلام کا تفصیلی تذکرہ ٭٭

ہم نے سلیمان علیہ السلام کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہر چند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتا سکتا ہے آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آ جاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کر دیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چنانچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بے بس ہو گیا سلیمان علیہ السلام کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کر دیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی۔

سلیمان علیہ السلام جب بیت الخلاء میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ علیہ السلام اس وقت فرضی غسل کے لیے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر سلیمان علیہ السلام کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کر لیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فاروق رضی اللہ عنہ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہیئے مجھے تو یہ شخص سلیمان علیہ السلام معلوم نہیں ہوتا۔ چنانچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہو جائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان علیہ السلام پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہو گئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔

صفحہ نمبر7707

حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔

چنانچہ ان کی جماعت آپ علیہ السلام کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑ گیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آ گئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بیٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کر دی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ سلیمان علیہ السلام یونہی اپنے دن گزارتے تھے۔

صفحہ نمبر7708

ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مانگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے۔ انہوں نے آپ علیہ السلام کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ علیہ السلام زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آ گیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چنانچہ وہ مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ علیہ السلام نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کر لیا اور لوگوں نے آپ علیہ السلام کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چنانچہ اسے قید کر لیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔

صفحہ نمبر7709

آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کر دی گئیں۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ سلیمان علیہ السلام نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔“یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں“

اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہو گیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کر دیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چنانچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کر دیا۔ سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ علیہ السلام نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہو گئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہو گئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت سلیمان علیہ السلام کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جا سکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لیے گئے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر7710

شیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ علیہ السلام پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان علیہ السلام میں سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابواسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب «اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [ 89- الفجر: 7 ] ‏ کے قصے سے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فراغت حاصل کی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا ابواسحاق آپ سلیمان علیہ السلام کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بنے ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب سلیمان علیہ السلام کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ سلیمان علیہ السلام جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آ جاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہو جاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔

صفحہ نمبر7711

حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لیے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لیے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ علیہ السلام کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی سلیمان علیہ الصلوۃ و السلام کی دعا یاد آ گئی۔ راوی حدیث روح رحمہ اللہ فرماتے ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ [صحیح بخاری:461] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اعوذ باللہ منک» پھر آپ نے تین بار فرمایا «‏العنک بلعنتہ اللہ» پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لیے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ [صحیح مسلم:542-40] ‏

حضرت عطابن یزید لیثی رحمہ اللہ نماز پڑھ رہے تھے جو ابوعبیدہ نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہو گئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے۔ [سنن ابوداود:699،قال الشيخ الألباني:حسن ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7712

مسند کی اور حدیث میں ہے ربیعہ بن یزید عبداللہ ویلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام وھط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہو گیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔

صفحہ نمبر7713

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کر لے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقیناً اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑ گیا وہ تو ہدایت والا ہو گیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لیے ہو [ 1 ] ‏ مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو [ 2 ] ‏ مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہو جائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لیے اللہ نے دی ہو۔ [سنن ترمذي:1862،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

طبرانی میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے داؤد علیہ السلام کو اپنے لیے ایک گھر بنانے کا حکم دیا داؤد علیہ السلام نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ علیہ السلام نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہو گئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گر گیا آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں؟ فرمایا اس لیے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ علیہ السلام کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چنانچہ آپ علیہ السلام کے انتقال کے بعد سلیمان علیہ السلام نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کر چکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہو جائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مجھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ [طبرانی کبیر:4477:ضعیف جدا] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے «سبحان اَلَّلہِ رَبِّـيَ العليِّ الأعلى الوهَّابِ» [مسند احمد:54/4:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7714

اور روایت میں ہے کہ داؤد علیہ السلام کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ علیہ السلام نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا،اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کر دیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنا دیا۔ اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کر دیا۔

صفحہ نمبر7715

ابن عساکر میں ہے کہ داؤد علیہ السلام نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو جاؤں گا جیسے کہ تیرے ساتھ تھا۔ پھر بیان ہو رہا ہے کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کی محبت میں آ کر ان خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کر دیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کر دیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔

جنات کو بھی سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہٰ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔

صفحہ نمبر7716

یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بے حساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہو گا۔

صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے جبرائیل علیہ السلام سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لیے سلیمان علیہ السلام کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔

صفحہ نمبر7717

سلیمان علیہ السلام کا تفصیلی تذکرہ ٭٭

ہم نے سلیمان علیہ السلام کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہر چند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتا سکتا ہے آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آ جاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کر دیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چنانچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بے بس ہو گیا سلیمان علیہ السلام کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کر دیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی۔

سلیمان علیہ السلام جب بیت الخلاء میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ علیہ السلام اس وقت فرضی غسل کے لیے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر سلیمان علیہ السلام کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کر لیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فاروق رضی اللہ عنہ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہیئے مجھے تو یہ شخص سلیمان علیہ السلام معلوم نہیں ہوتا۔ چنانچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہو جائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان علیہ السلام پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہو گئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔

صفحہ نمبر7707

حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔

چنانچہ ان کی جماعت آپ علیہ السلام کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑ گیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آ گئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بیٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کر دی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ سلیمان علیہ السلام یونہی اپنے دن گزارتے تھے۔

صفحہ نمبر7708

ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مانگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے۔ انہوں نے آپ علیہ السلام کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ علیہ السلام زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آ گیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چنانچہ وہ مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ علیہ السلام نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کر لیا اور لوگوں نے آپ علیہ السلام کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چنانچہ اسے قید کر لیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔

صفحہ نمبر7709

آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کر دی گئیں۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ سلیمان علیہ السلام نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔“یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں“

اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہو گیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کر دیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چنانچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کر دیا۔ سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ علیہ السلام نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہو گئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہو گئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت سلیمان علیہ السلام کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جا سکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لیے گئے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر7710

شیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ علیہ السلام پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان علیہ السلام میں سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابواسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب «اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [ 89- الفجر: 7 ] ‏ کے قصے سے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فراغت حاصل کی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا ابواسحاق آپ سلیمان علیہ السلام کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بنے ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب سلیمان علیہ السلام کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ سلیمان علیہ السلام جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آ جاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہو جاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔

صفحہ نمبر7711

حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لیے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لیے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ علیہ السلام کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی سلیمان علیہ الصلوۃ و السلام کی دعا یاد آ گئی۔ راوی حدیث روح رحمہ اللہ فرماتے ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ [صحیح بخاری:461] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اعوذ باللہ منک» پھر آپ نے تین بار فرمایا «‏العنک بلعنتہ اللہ» پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لیے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ [صحیح مسلم:542-40] ‏

حضرت عطابن یزید لیثی رحمہ اللہ نماز پڑھ رہے تھے جو ابوعبیدہ نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہو گئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے۔ [سنن ابوداود:699،قال الشيخ الألباني:حسن ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7712

مسند کی اور حدیث میں ہے ربیعہ بن یزید عبداللہ ویلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام وھط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہو گیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔

صفحہ نمبر7713

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کر لے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقیناً اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑ گیا وہ تو ہدایت والا ہو گیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لیے ہو [ 1 ] ‏ مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو [ 2 ] ‏ مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہو جائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لیے اللہ نے دی ہو۔ [سنن ترمذي:1862،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

طبرانی میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے داؤد علیہ السلام کو اپنے لیے ایک گھر بنانے کا حکم دیا داؤد علیہ السلام نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ علیہ السلام نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہو گئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گر گیا آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں؟ فرمایا اس لیے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ علیہ السلام کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چنانچہ آپ علیہ السلام کے انتقال کے بعد سلیمان علیہ السلام نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کر چکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہو جائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مجھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ [طبرانی کبیر:4477:ضعیف جدا] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے «سبحان اَلَّلہِ رَبِّـيَ العليِّ الأعلى الوهَّابِ» [مسند احمد:54/4:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7714

اور روایت میں ہے کہ داؤد علیہ السلام کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ علیہ السلام نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا،اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کر دیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنا دیا۔ اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کر دیا۔

صفحہ نمبر7715

ابن عساکر میں ہے کہ داؤد علیہ السلام نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو جاؤں گا جیسے کہ تیرے ساتھ تھا۔ پھر بیان ہو رہا ہے کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کی محبت میں آ کر ان خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کر دیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کر دیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔

جنات کو بھی سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہٰ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔

صفحہ نمبر7716

یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بے حساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہو گا۔

صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے جبرائیل علیہ السلام سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لیے سلیمان علیہ السلام کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔

صفحہ نمبر7717

ایوب علیہ السلام اور ان کا صبر ٭٭

ایوب علیہ السلام کا ذکر ہو رہا ہے اور ان کے صبر اور امتحان میں پاس ہونے کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ مال برباد ہو گیا اولادیں مر گئیں جسم مریض ہو گیا یہاں تک کہ سوئی کے ناکے کے برابر سارے جسم میں ایسی جگہ نہ تھی جہاں بیماری نہ ہو صرف دل سلامت رہ گیا اور پھر فقیری اور مفلسی کا یہ حال تھا کہ ایک وقت کا کھانا پاس نہ تھا کوئی نہ تھا جو خبر گیر ہوتا سوائے ایک بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا کے جن کے دل میں خوف اللہ تھا اور اپنے خاوند اللہ کے رسول علیہ السلام کی محبت تھی۔ لوگوں کا کام کاج کر کے اپنا اور اپنے میاں کا پیٹ پالتی تھیں آٹھ سال تک یہی حال رہا حالانکہ اس سے پہلے ان سے بڑھ کر مالدار کوئی نہ تھا۔ اولاد بھی بکثرت تھی اور دنیا کی ہر راحت موجود تھی۔ اب ہرچیز چھین لی گئی تھی اور شہر کا کوڑا کرکٹ جہاں ڈالا جاتا تھا وہاں آپ کو لا بٹھایا تھا۔ اسی حال میں ایک دو دن نہیں سال دو سال نہیں آٹھ سال کامل گذارے اپنے اور غیر سب نے منہ پھیر لیا تھا۔ خیریت پوچھنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ صرف آپ کی یہی ایک بیوی صاحبہ تھیں جو ہر وقت دن اور رات آپ کی خدمت میں کمربستہ تھیں۔ ہاں پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدوری کے وقت آپ کے پاس سے چلی جاتی تھیں۔

یہاں تک کہ دن پھرے اور اچھا وقت آ گیا تو رب العالمین الہ المرسلین کی طرف تضرع و زاری کی اور کپکپاتے ہوئے کلیجے سے دل سے دعا کی کہ اے میرے پالنہار اللہ مجھے دکھ نے تڑپا دیا ہے اور تو ارحم الراحمین ہے یہاں جو دعا ہے اس میں جسمانی تکلیف اور مال و اولاد کے دکھ درد کا ذکر کیا۔ اسی وقت رحیم و کریم اللہ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور حکم ہوا کہ زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ پاؤں کے لگتے ہی وہاں ایک چشمہ ابلنے لگا حکم ہوا کہ اس پانی سے غسل کر لو۔ غسل کرتے ہی بدن کی تمام بیماری اس طرح جاتی رہی گویا تھی ہی نہیں۔ پھر حکم ہوا کہ اور جگہ ایڑی لگاؤ وہاں پاؤں مارتے ہی دوسرا چشمہ جاری ہو گیا حکم ہوا کہ اس کا پانی پی لو اس پانی کے پیتے ہی اندرونی بیماریاں بھی جاتی رہیں اور ظاہر و باطن کی عافیت اور کامل تندرستی حاصل ہو گئی۔

صفحہ نمبر7724

ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اٹھارہ سال تک اللہ کے یہ پیغمبر دکھ درد میں مبتلا رہے اپنے اور غیر سب نے چھوڑ دیا ہاں آپ علیہ السلام کے مخلص دوست صبح شام خیریت خبر کے لیے آ جایا کرتے تھے ایک مرتبہ ایک نے دوسرے سے کہا میرا خیال یہ ہے کہ ایوب علیہ السلام نے اللہ کی کوئی بڑی نافرمانی کی ہے کہ اٹھارہ سال سے اس بلا میں پڑا ہوا ہے اور اللہ اس پر رحم کرے اس دوسرے شخص نے شام کو ایوب علیہ السلام سے اس کی یہ بات ذکر کر دی۔ آپ علیہ السلام کو سخت رنج ہوا اور فرمایا میں نہیں جانتا کہ وہ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ اللہ خوب جانتا ہے میری یہ حالت تھی کہ جب دو شخصوں کو آپس میں جھگڑتے دیکھا اور دونوں اللہ کو بیچ میں لاتے تو مجھ سے یہ نہ دیکھا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے عزیز نام کی اس طرح یاد کی جائے کیونکہ دو میں سے ایک تو ضرور مجرم ہو گا اور دونوں اللہ کا نام لے رہے ہیں تو میں اپنے پاس سے دے دلا کر ان کے جھگڑے کو ختم کر دیتا کہ نام اللہ کی بےادبی نہ ہو۔

آپ سے اس وقت چلا بھرا بلکہ اٹھا بیٹھا بھی نہیں جاتا تھا پاخانے کے بعد آپ کی بیوی صاحبہ آپ کو اٹھا کر لاتی تھیں۔ ایک مرتبہ وہ نہیں تھیں آپ کو بہت تکلیف ہوئی اور دعا کی اور اللہ کی طرف سے وحی ہوئی کہ زمین پر لات مار دو۔ بہت دیر کے بعد جب آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ آئیں تو دیکھا کہ مریض تو ہے نہیں کوئی اور شخص تندرست نورانی چہرے والا بیٹھا ہوا ہے پہچان نہ سکیں اور دریافت کرنے لگیں کہ اے اللہ کے نیک بندے یہاں اللہ کے ایک نبی جو درد دکھ میں مبتلا تھے انہیں دیکھا ہے؟ واللہ کہ جب وہ تندرست تھے تو قریب قریب تم جیسے ہی تھے، تب آپ علیہ السلام نے فرمایا وہ میں ہی ہوں۔ راوی کہتا ہے آپ کی دو کوٹھیاں تھیں ایک گیہوں کیلئے اور ایک جو کے لیے۔ اللہ تعالیٰ نے دو ابر بھیجے ایک میں سونا برسا اور ایک کوٹھی اناج کی اس سے بھر گئی دوسرے میں سے بھی سونا برسا اور دوسری کوٹھی اس سے بھر گئی۔ [ ابن جریر ] ‏۔

صفحہ نمبر7725

صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایوب علیہ السلام ننگے ہو کر نہا رہے تھے جو آسمان سے سونے کی ٹٹڈیاں برسنے لگیں آپ علیہ السلام نے جلدی جلدی انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنی شروع کیں تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے ایوب علیہ السلام کیا میں نے تمہیں غنی اور بےپرواہ نہیں کر رکھا؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا ہاں الٰہی بیشک تو نے مجھے بہت کچھ دے رکھا ہے میں سب سے غنی اور بے نیاز ہوں لیکن تیری رحمت سے بے نیاز نہیں ہوں۔ [صحیح بخاری:3391] ‏

بلکہ اس کا تو پورا محتاج ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس صابر پیغمبر علیہ السلام کو نیک بدلہ اور بہتر جزائیں عطا فرمائیں۔ اولاد بھی دی اور اسی کے مثل اور بھی دی بلکہ حضرت حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہما سے منقول ہے کہ مردہ اولاد اللہ نے زندہ کر دی اور اتنی ہی اور نئی دی۔ یہ تھا اللہ کا رحم جو ان کے صبر و استقلال رجوع الی اللہ تواضع اور انکساری کے بدلے اللہ نے انہیں دیا اور عقلمندوں کے لیے نصیحت و عبرت ہے وہ جان لیتے ہیں کہ صبر کا انجام کشادگی ہے اور رحمت و راحت ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ ایوب علیہ السلام اپنی بیوی کے کسی کام کی وجہ سے ان پر ناراض ہو گئے تھے بعض کہتے ہیں وہ اپنے بالوں کی ایک لٹ بیچ کر ان کے لیے کھانا لائی تھیں اس پر آپ ناراض ہوئے تھے اور قسم کھائی تھی کہ شفاء کے بعد سو کوڑے ماریں گے دوسروں نے وجہ ناراضگی اور بیان کی ہے۔ جبکہ آپ تندرست اور صحیح سالم ہو گئے تو ارادہ کیا کہ اپنی قسم کو پورا کریں لیکن ایسی نیک صفت عورت اس سزا کے لائق نہ تھیں جو ایوب علیہ السلام نے طے کر رکھی تھی جس عورت نے اس وقت خدمت کی جبکہ کوئی ساتھ نہ تھا اسی لیے رب العالمین ارحم الراحمین نے ان پر رحم کیا اور اپنے نبی علیہ السلام کو حکم دیا کہ قسم پوری کرنے کے لیے کھجور کا ایک خوشہ لے لو جس میں ایک سو سیخیں ہوں اور ایک انہیں مار دو اس صورت میں قسم کا خلاف نہ ہو گا اور ایک ایسی صابرہ شاکرہ نیک بیوی پر سزا بھی نہ ہو گی۔ یہی دستور الٰہی ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو جو اس سے ڈرتے رہتے ہیں برائیوں اور بدیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایوب علیہ السلام کی ثناء و صفت بیان فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بڑا صابر و ضابط پایا وہ بڑا نیک اور اچھا بندہ ثابت ہوا۔ اس کے دل میں ہماری سچی محبت تھی وہ ہماری ہی طرف جھکتا رہا اور ہمیں سے لو لگائے رہا، اسی لیے فرمان اللہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا رہتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی صورت نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی پہنچاتا ہے جو اس کے خیال میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر توکل رکھنے والوں کو اللہ کافی ہے۔ اللہ اپنے کام میں پورا اترتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ [64-الطلاق:3-2] ‏ سمجھدار علماء کرام نے اس آیت سے بہت سے ایمانی مسائل اخذ کئے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7726

ایوب علیہ السلام اور ان کا صبر ٭٭

ایوب علیہ السلام کا ذکر ہو رہا ہے اور ان کے صبر اور امتحان میں پاس ہونے کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ مال برباد ہو گیا اولادیں مر گئیں جسم مریض ہو گیا یہاں تک کہ سوئی کے ناکے کے برابر سارے جسم میں ایسی جگہ نہ تھی جہاں بیماری نہ ہو صرف دل سلامت رہ گیا اور پھر فقیری اور مفلسی کا یہ حال تھا کہ ایک وقت کا کھانا پاس نہ تھا کوئی نہ تھا جو خبر گیر ہوتا سوائے ایک بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا کے جن کے دل میں خوف اللہ تھا اور اپنے خاوند اللہ کے رسول علیہ السلام کی محبت تھی۔ لوگوں کا کام کاج کر کے اپنا اور اپنے میاں کا پیٹ پالتی تھیں آٹھ سال تک یہی حال رہا حالانکہ اس سے پہلے ان سے بڑھ کر مالدار کوئی نہ تھا۔ اولاد بھی بکثرت تھی اور دنیا کی ہر راحت موجود تھی۔ اب ہرچیز چھین لی گئی تھی اور شہر کا کوڑا کرکٹ جہاں ڈالا جاتا تھا وہاں آپ کو لا بٹھایا تھا۔ اسی حال میں ایک دو دن نہیں سال دو سال نہیں آٹھ سال کامل گذارے اپنے اور غیر سب نے منہ پھیر لیا تھا۔ خیریت پوچھنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ صرف آپ کی یہی ایک بیوی صاحبہ تھیں جو ہر وقت دن اور رات آپ کی خدمت میں کمربستہ تھیں۔ ہاں پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدوری کے وقت آپ کے پاس سے چلی جاتی تھیں۔

یہاں تک کہ دن پھرے اور اچھا وقت آ گیا تو رب العالمین الہ المرسلین کی طرف تضرع و زاری کی اور کپکپاتے ہوئے کلیجے سے دل سے دعا کی کہ اے میرے پالنہار اللہ مجھے دکھ نے تڑپا دیا ہے اور تو ارحم الراحمین ہے یہاں جو دعا ہے اس میں جسمانی تکلیف اور مال و اولاد کے دکھ درد کا ذکر کیا۔ اسی وقت رحیم و کریم اللہ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور حکم ہوا کہ زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ پاؤں کے لگتے ہی وہاں ایک چشمہ ابلنے لگا حکم ہوا کہ اس پانی سے غسل کر لو۔ غسل کرتے ہی بدن کی تمام بیماری اس طرح جاتی رہی گویا تھی ہی نہیں۔ پھر حکم ہوا کہ اور جگہ ایڑی لگاؤ وہاں پاؤں مارتے ہی دوسرا چشمہ جاری ہو گیا حکم ہوا کہ اس کا پانی پی لو اس پانی کے پیتے ہی اندرونی بیماریاں بھی جاتی رہیں اور ظاہر و باطن کی عافیت اور کامل تندرستی حاصل ہو گئی۔

صفحہ نمبر7724

ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اٹھارہ سال تک اللہ کے یہ پیغمبر دکھ درد میں مبتلا رہے اپنے اور غیر سب نے چھوڑ دیا ہاں آپ علیہ السلام کے مخلص دوست صبح شام خیریت خبر کے لیے آ جایا کرتے تھے ایک مرتبہ ایک نے دوسرے سے کہا میرا خیال یہ ہے کہ ایوب علیہ السلام نے اللہ کی کوئی بڑی نافرمانی کی ہے کہ اٹھارہ سال سے اس بلا میں پڑا ہوا ہے اور اللہ اس پر رحم کرے اس دوسرے شخص نے شام کو ایوب علیہ السلام سے اس کی یہ بات ذکر کر دی۔ آپ علیہ السلام کو سخت رنج ہوا اور فرمایا میں نہیں جانتا کہ وہ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ اللہ خوب جانتا ہے میری یہ حالت تھی کہ جب دو شخصوں کو آپس میں جھگڑتے دیکھا اور دونوں اللہ کو بیچ میں لاتے تو مجھ سے یہ نہ دیکھا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے عزیز نام کی اس طرح یاد کی جائے کیونکہ دو میں سے ایک تو ضرور مجرم ہو گا اور دونوں اللہ کا نام لے رہے ہیں تو میں اپنے پاس سے دے دلا کر ان کے جھگڑے کو ختم کر دیتا کہ نام اللہ کی بےادبی نہ ہو۔

آپ سے اس وقت چلا بھرا بلکہ اٹھا بیٹھا بھی نہیں جاتا تھا پاخانے کے بعد آپ کی بیوی صاحبہ آپ کو اٹھا کر لاتی تھیں۔ ایک مرتبہ وہ نہیں تھیں آپ کو بہت تکلیف ہوئی اور دعا کی اور اللہ کی طرف سے وحی ہوئی کہ زمین پر لات مار دو۔ بہت دیر کے بعد جب آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ آئیں تو دیکھا کہ مریض تو ہے نہیں کوئی اور شخص تندرست نورانی چہرے والا بیٹھا ہوا ہے پہچان نہ سکیں اور دریافت کرنے لگیں کہ اے اللہ کے نیک بندے یہاں اللہ کے ایک نبی جو درد دکھ میں مبتلا تھے انہیں دیکھا ہے؟ واللہ کہ جب وہ تندرست تھے تو قریب قریب تم جیسے ہی تھے، تب آپ علیہ السلام نے فرمایا وہ میں ہی ہوں۔ راوی کہتا ہے آپ کی دو کوٹھیاں تھیں ایک گیہوں کیلئے اور ایک جو کے لیے۔ اللہ تعالیٰ نے دو ابر بھیجے ایک میں سونا برسا اور ایک کوٹھی اناج کی اس سے بھر گئی دوسرے میں سے بھی سونا برسا اور دوسری کوٹھی اس سے بھر گئی۔ [ ابن جریر ] ‏۔

صفحہ نمبر7725

صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایوب علیہ السلام ننگے ہو کر نہا رہے تھے جو آسمان سے سونے کی ٹٹڈیاں برسنے لگیں آپ علیہ السلام نے جلدی جلدی انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنی شروع کیں تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے ایوب علیہ السلام کیا میں نے تمہیں غنی اور بےپرواہ نہیں کر رکھا؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا ہاں الٰہی بیشک تو نے مجھے بہت کچھ دے رکھا ہے میں سب سے غنی اور بے نیاز ہوں لیکن تیری رحمت سے بے نیاز نہیں ہوں۔ [صحیح بخاری:3391] ‏

بلکہ اس کا تو پورا محتاج ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس صابر پیغمبر علیہ السلام کو نیک بدلہ اور بہتر جزائیں عطا فرمائیں۔ اولاد بھی دی اور اسی کے مثل اور بھی دی بلکہ حضرت حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہما سے منقول ہے کہ مردہ اولاد اللہ نے زندہ کر دی اور اتنی ہی اور نئی دی۔ یہ تھا اللہ کا رحم جو ان کے صبر و استقلال رجوع الی اللہ تواضع اور انکساری کے بدلے اللہ نے انہیں دیا اور عقلمندوں کے لیے نصیحت و عبرت ہے وہ جان لیتے ہیں کہ صبر کا انجام کشادگی ہے اور رحمت و راحت ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ ایوب علیہ السلام اپنی بیوی کے کسی کام کی وجہ سے ان پر ناراض ہو گئے تھے بعض کہتے ہیں وہ اپنے بالوں کی ایک لٹ بیچ کر ان کے لیے کھانا لائی تھیں اس پر آپ ناراض ہوئے تھے اور قسم کھائی تھی کہ شفاء کے بعد سو کوڑے ماریں گے دوسروں نے وجہ ناراضگی اور بیان کی ہے۔ جبکہ آپ تندرست اور صحیح سالم ہو گئے تو ارادہ کیا کہ اپنی قسم کو پورا کریں لیکن ایسی نیک صفت عورت اس سزا کے لائق نہ تھیں جو ایوب علیہ السلام نے طے کر رکھی تھی جس عورت نے اس وقت خدمت کی جبکہ کوئی ساتھ نہ تھا اسی لیے رب العالمین ارحم الراحمین نے ان پر رحم کیا اور اپنے نبی علیہ السلام کو حکم دیا کہ قسم پوری کرنے کے لیے کھجور کا ایک خوشہ لے لو جس میں ایک سو سیخیں ہوں اور ایک انہیں مار دو اس صورت میں قسم کا خلاف نہ ہو گا اور ایک ایسی صابرہ شاکرہ نیک بیوی پر سزا بھی نہ ہو گی۔ یہی دستور الٰہی ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو جو اس سے ڈرتے رہتے ہیں برائیوں اور بدیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایوب علیہ السلام کی ثناء و صفت بیان فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بڑا صابر و ضابط پایا وہ بڑا نیک اور اچھا بندہ ثابت ہوا۔ اس کے دل میں ہماری سچی محبت تھی وہ ہماری ہی طرف جھکتا رہا اور ہمیں سے لو لگائے رہا، اسی لیے فرمان اللہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا رہتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی صورت نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی پہنچاتا ہے جو اس کے خیال میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر توکل رکھنے والوں کو اللہ کافی ہے۔ اللہ اپنے کام میں پورا اترتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ [64-الطلاق:3-2] ‏ سمجھدار علماء کرام نے اس آیت سے بہت سے ایمانی مسائل اخذ کئے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7726

ایوب علیہ السلام اور ان کا صبر ٭٭

ایوب علیہ السلام کا ذکر ہو رہا ہے اور ان کے صبر اور امتحان میں پاس ہونے کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ مال برباد ہو گیا اولادیں مر گئیں جسم مریض ہو گیا یہاں تک کہ سوئی کے ناکے کے برابر سارے جسم میں ایسی جگہ نہ تھی جہاں بیماری نہ ہو صرف دل سلامت رہ گیا اور پھر فقیری اور مفلسی کا یہ حال تھا کہ ایک وقت کا کھانا پاس نہ تھا کوئی نہ تھا جو خبر گیر ہوتا سوائے ایک بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا کے جن کے دل میں خوف اللہ تھا اور اپنے خاوند اللہ کے رسول علیہ السلام کی محبت تھی۔ لوگوں کا کام کاج کر کے اپنا اور اپنے میاں کا پیٹ پالتی تھیں آٹھ سال تک یہی حال رہا حالانکہ اس سے پہلے ان سے بڑھ کر مالدار کوئی نہ تھا۔ اولاد بھی بکثرت تھی اور دنیا کی ہر راحت موجود تھی۔ اب ہرچیز چھین لی گئی تھی اور شہر کا کوڑا کرکٹ جہاں ڈالا جاتا تھا وہاں آپ کو لا بٹھایا تھا۔ اسی حال میں ایک دو دن نہیں سال دو سال نہیں آٹھ سال کامل گذارے اپنے اور غیر سب نے منہ پھیر لیا تھا۔ خیریت پوچھنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ صرف آپ کی یہی ایک بیوی صاحبہ تھیں جو ہر وقت دن اور رات آپ کی خدمت میں کمربستہ تھیں۔ ہاں پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدوری کے وقت آپ کے پاس سے چلی جاتی تھیں۔

یہاں تک کہ دن پھرے اور اچھا وقت آ گیا تو رب العالمین الہ المرسلین کی طرف تضرع و زاری کی اور کپکپاتے ہوئے کلیجے سے دل سے دعا کی کہ اے میرے پالنہار اللہ مجھے دکھ نے تڑپا دیا ہے اور تو ارحم الراحمین ہے یہاں جو دعا ہے اس میں جسمانی تکلیف اور مال و اولاد کے دکھ درد کا ذکر کیا۔ اسی وقت رحیم و کریم اللہ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور حکم ہوا کہ زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ پاؤں کے لگتے ہی وہاں ایک چشمہ ابلنے لگا حکم ہوا کہ اس پانی سے غسل کر لو۔ غسل کرتے ہی بدن کی تمام بیماری اس طرح جاتی رہی گویا تھی ہی نہیں۔ پھر حکم ہوا کہ اور جگہ ایڑی لگاؤ وہاں پاؤں مارتے ہی دوسرا چشمہ جاری ہو گیا حکم ہوا کہ اس کا پانی پی لو اس پانی کے پیتے ہی اندرونی بیماریاں بھی جاتی رہیں اور ظاہر و باطن کی عافیت اور کامل تندرستی حاصل ہو گئی۔

صفحہ نمبر7724

ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اٹھارہ سال تک اللہ کے یہ پیغمبر دکھ درد میں مبتلا رہے اپنے اور غیر سب نے چھوڑ دیا ہاں آپ علیہ السلام کے مخلص دوست صبح شام خیریت خبر کے لیے آ جایا کرتے تھے ایک مرتبہ ایک نے دوسرے سے کہا میرا خیال یہ ہے کہ ایوب علیہ السلام نے اللہ کی کوئی بڑی نافرمانی کی ہے کہ اٹھارہ سال سے اس بلا میں پڑا ہوا ہے اور اللہ اس پر رحم کرے اس دوسرے شخص نے شام کو ایوب علیہ السلام سے اس کی یہ بات ذکر کر دی۔ آپ علیہ السلام کو سخت رنج ہوا اور فرمایا میں نہیں جانتا کہ وہ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ اللہ خوب جانتا ہے میری یہ حالت تھی کہ جب دو شخصوں کو آپس میں جھگڑتے دیکھا اور دونوں اللہ کو بیچ میں لاتے تو مجھ سے یہ نہ دیکھا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے عزیز نام کی اس طرح یاد کی جائے کیونکہ دو میں سے ایک تو ضرور مجرم ہو گا اور دونوں اللہ کا نام لے رہے ہیں تو میں اپنے پاس سے دے دلا کر ان کے جھگڑے کو ختم کر دیتا کہ نام اللہ کی بےادبی نہ ہو۔

آپ سے اس وقت چلا بھرا بلکہ اٹھا بیٹھا بھی نہیں جاتا تھا پاخانے کے بعد آپ کی بیوی صاحبہ آپ کو اٹھا کر لاتی تھیں۔ ایک مرتبہ وہ نہیں تھیں آپ کو بہت تکلیف ہوئی اور دعا کی اور اللہ کی طرف سے وحی ہوئی کہ زمین پر لات مار دو۔ بہت دیر کے بعد جب آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ آئیں تو دیکھا کہ مریض تو ہے نہیں کوئی اور شخص تندرست نورانی چہرے والا بیٹھا ہوا ہے پہچان نہ سکیں اور دریافت کرنے لگیں کہ اے اللہ کے نیک بندے یہاں اللہ کے ایک نبی جو درد دکھ میں مبتلا تھے انہیں دیکھا ہے؟ واللہ کہ جب وہ تندرست تھے تو قریب قریب تم جیسے ہی تھے، تب آپ علیہ السلام نے فرمایا وہ میں ہی ہوں۔ راوی کہتا ہے آپ کی دو کوٹھیاں تھیں ایک گیہوں کیلئے اور ایک جو کے لیے۔ اللہ تعالیٰ نے دو ابر بھیجے ایک میں سونا برسا اور ایک کوٹھی اناج کی اس سے بھر گئی دوسرے میں سے بھی سونا برسا اور دوسری کوٹھی اس سے بھر گئی۔ [ ابن جریر ] ‏۔

صفحہ نمبر7725

صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایوب علیہ السلام ننگے ہو کر نہا رہے تھے جو آسمان سے سونے کی ٹٹڈیاں برسنے لگیں آپ علیہ السلام نے جلدی جلدی انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنی شروع کیں تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے ایوب علیہ السلام کیا میں نے تمہیں غنی اور بےپرواہ نہیں کر رکھا؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا ہاں الٰہی بیشک تو نے مجھے بہت کچھ دے رکھا ہے میں سب سے غنی اور بے نیاز ہوں لیکن تیری رحمت سے بے نیاز نہیں ہوں۔ [صحیح بخاری:3391] ‏

بلکہ اس کا تو پورا محتاج ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس صابر پیغمبر علیہ السلام کو نیک بدلہ اور بہتر جزائیں عطا فرمائیں۔ اولاد بھی دی اور اسی کے مثل اور بھی دی بلکہ حضرت حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہما سے منقول ہے کہ مردہ اولاد اللہ نے زندہ کر دی اور اتنی ہی اور نئی دی۔ یہ تھا اللہ کا رحم جو ان کے صبر و استقلال رجوع الی اللہ تواضع اور انکساری کے بدلے اللہ نے انہیں دیا اور عقلمندوں کے لیے نصیحت و عبرت ہے وہ جان لیتے ہیں کہ صبر کا انجام کشادگی ہے اور رحمت و راحت ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ ایوب علیہ السلام اپنی بیوی کے کسی کام کی وجہ سے ان پر ناراض ہو گئے تھے بعض کہتے ہیں وہ اپنے بالوں کی ایک لٹ بیچ کر ان کے لیے کھانا لائی تھیں اس پر آپ ناراض ہوئے تھے اور قسم کھائی تھی کہ شفاء کے بعد سو کوڑے ماریں گے دوسروں نے وجہ ناراضگی اور بیان کی ہے۔ جبکہ آپ تندرست اور صحیح سالم ہو گئے تو ارادہ کیا کہ اپنی قسم کو پورا کریں لیکن ایسی نیک صفت عورت اس سزا کے لائق نہ تھیں جو ایوب علیہ السلام نے طے کر رکھی تھی جس عورت نے اس وقت خدمت کی جبکہ کوئی ساتھ نہ تھا اسی لیے رب العالمین ارحم الراحمین نے ان پر رحم کیا اور اپنے نبی علیہ السلام کو حکم دیا کہ قسم پوری کرنے کے لیے کھجور کا ایک خوشہ لے لو جس میں ایک سو سیخیں ہوں اور ایک انہیں مار دو اس صورت میں قسم کا خلاف نہ ہو گا اور ایک ایسی صابرہ شاکرہ نیک بیوی پر سزا بھی نہ ہو گی۔ یہی دستور الٰہی ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو جو اس سے ڈرتے رہتے ہیں برائیوں اور بدیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایوب علیہ السلام کی ثناء و صفت بیان فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بڑا صابر و ضابط پایا وہ بڑا نیک اور اچھا بندہ ثابت ہوا۔ اس کے دل میں ہماری سچی محبت تھی وہ ہماری ہی طرف جھکتا رہا اور ہمیں سے لو لگائے رہا، اسی لیے فرمان اللہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا رہتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی صورت نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی پہنچاتا ہے جو اس کے خیال میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر توکل رکھنے والوں کو اللہ کافی ہے۔ اللہ اپنے کام میں پورا اترتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ [64-الطلاق:3-2] ‏ سمجھدار علماء کرام نے اس آیت سے بہت سے ایمانی مسائل اخذ کئے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7726

ایوب علیہ السلام اور ان کا صبر ٭٭

ایوب علیہ السلام کا ذکر ہو رہا ہے اور ان کے صبر اور امتحان میں پاس ہونے کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ مال برباد ہو گیا اولادیں مر گئیں جسم مریض ہو گیا یہاں تک کہ سوئی کے ناکے کے برابر سارے جسم میں ایسی جگہ نہ تھی جہاں بیماری نہ ہو صرف دل سلامت رہ گیا اور پھر فقیری اور مفلسی کا یہ حال تھا کہ ایک وقت کا کھانا پاس نہ تھا کوئی نہ تھا جو خبر گیر ہوتا سوائے ایک بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا کے جن کے دل میں خوف اللہ تھا اور اپنے خاوند اللہ کے رسول علیہ السلام کی محبت تھی۔ لوگوں کا کام کاج کر کے اپنا اور اپنے میاں کا پیٹ پالتی تھیں آٹھ سال تک یہی حال رہا حالانکہ اس سے پہلے ان سے بڑھ کر مالدار کوئی نہ تھا۔ اولاد بھی بکثرت تھی اور دنیا کی ہر راحت موجود تھی۔ اب ہرچیز چھین لی گئی تھی اور شہر کا کوڑا کرکٹ جہاں ڈالا جاتا تھا وہاں آپ کو لا بٹھایا تھا۔ اسی حال میں ایک دو دن نہیں سال دو سال نہیں آٹھ سال کامل گذارے اپنے اور غیر سب نے منہ پھیر لیا تھا۔ خیریت پوچھنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ صرف آپ کی یہی ایک بیوی صاحبہ تھیں جو ہر وقت دن اور رات آپ کی خدمت میں کمربستہ تھیں۔ ہاں پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدوری کے وقت آپ کے پاس سے چلی جاتی تھیں۔

یہاں تک کہ دن پھرے اور اچھا وقت آ گیا تو رب العالمین الہ المرسلین کی طرف تضرع و زاری کی اور کپکپاتے ہوئے کلیجے سے دل سے دعا کی کہ اے میرے پالنہار اللہ مجھے دکھ نے تڑپا دیا ہے اور تو ارحم الراحمین ہے یہاں جو دعا ہے اس میں جسمانی تکلیف اور مال و اولاد کے دکھ درد کا ذکر کیا۔ اسی وقت رحیم و کریم اللہ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور حکم ہوا کہ زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ پاؤں کے لگتے ہی وہاں ایک چشمہ ابلنے لگا حکم ہوا کہ اس پانی سے غسل کر لو۔ غسل کرتے ہی بدن کی تمام بیماری اس طرح جاتی رہی گویا تھی ہی نہیں۔ پھر حکم ہوا کہ اور جگہ ایڑی لگاؤ وہاں پاؤں مارتے ہی دوسرا چشمہ جاری ہو گیا حکم ہوا کہ اس کا پانی پی لو اس پانی کے پیتے ہی اندرونی بیماریاں بھی جاتی رہیں اور ظاہر و باطن کی عافیت اور کامل تندرستی حاصل ہو گئی۔

صفحہ نمبر7724

ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اٹھارہ سال تک اللہ کے یہ پیغمبر دکھ درد میں مبتلا رہے اپنے اور غیر سب نے چھوڑ دیا ہاں آپ علیہ السلام کے مخلص دوست صبح شام خیریت خبر کے لیے آ جایا کرتے تھے ایک مرتبہ ایک نے دوسرے سے کہا میرا خیال یہ ہے کہ ایوب علیہ السلام نے اللہ کی کوئی بڑی نافرمانی کی ہے کہ اٹھارہ سال سے اس بلا میں پڑا ہوا ہے اور اللہ اس پر رحم کرے اس دوسرے شخص نے شام کو ایوب علیہ السلام سے اس کی یہ بات ذکر کر دی۔ آپ علیہ السلام کو سخت رنج ہوا اور فرمایا میں نہیں جانتا کہ وہ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ اللہ خوب جانتا ہے میری یہ حالت تھی کہ جب دو شخصوں کو آپس میں جھگڑتے دیکھا اور دونوں اللہ کو بیچ میں لاتے تو مجھ سے یہ نہ دیکھا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے عزیز نام کی اس طرح یاد کی جائے کیونکہ دو میں سے ایک تو ضرور مجرم ہو گا اور دونوں اللہ کا نام لے رہے ہیں تو میں اپنے پاس سے دے دلا کر ان کے جھگڑے کو ختم کر دیتا کہ نام اللہ کی بےادبی نہ ہو۔

آپ سے اس وقت چلا بھرا بلکہ اٹھا بیٹھا بھی نہیں جاتا تھا پاخانے کے بعد آپ کی بیوی صاحبہ آپ کو اٹھا کر لاتی تھیں۔ ایک مرتبہ وہ نہیں تھیں آپ کو بہت تکلیف ہوئی اور دعا کی اور اللہ کی طرف سے وحی ہوئی کہ زمین پر لات مار دو۔ بہت دیر کے بعد جب آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ آئیں تو دیکھا کہ مریض تو ہے نہیں کوئی اور شخص تندرست نورانی چہرے والا بیٹھا ہوا ہے پہچان نہ سکیں اور دریافت کرنے لگیں کہ اے اللہ کے نیک بندے یہاں اللہ کے ایک نبی جو درد دکھ میں مبتلا تھے انہیں دیکھا ہے؟ واللہ کہ جب وہ تندرست تھے تو قریب قریب تم جیسے ہی تھے، تب آپ علیہ السلام نے فرمایا وہ میں ہی ہوں۔ راوی کہتا ہے آپ کی دو کوٹھیاں تھیں ایک گیہوں کیلئے اور ایک جو کے لیے۔ اللہ تعالیٰ نے دو ابر بھیجے ایک میں سونا برسا اور ایک کوٹھی اناج کی اس سے بھر گئی دوسرے میں سے بھی سونا برسا اور دوسری کوٹھی اس سے بھر گئی۔ [ ابن جریر ] ‏۔

صفحہ نمبر7725

صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایوب علیہ السلام ننگے ہو کر نہا رہے تھے جو آسمان سے سونے کی ٹٹڈیاں برسنے لگیں آپ علیہ السلام نے جلدی جلدی انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنی شروع کیں تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے ایوب علیہ السلام کیا میں نے تمہیں غنی اور بےپرواہ نہیں کر رکھا؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا ہاں الٰہی بیشک تو نے مجھے بہت کچھ دے رکھا ہے میں سب سے غنی اور بے نیاز ہوں لیکن تیری رحمت سے بے نیاز نہیں ہوں۔ [صحیح بخاری:3391] ‏

بلکہ اس کا تو پورا محتاج ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس صابر پیغمبر علیہ السلام کو نیک بدلہ اور بہتر جزائیں عطا فرمائیں۔ اولاد بھی دی اور اسی کے مثل اور بھی دی بلکہ حضرت حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہما سے منقول ہے کہ مردہ اولاد اللہ نے زندہ کر دی اور اتنی ہی اور نئی دی۔ یہ تھا اللہ کا رحم جو ان کے صبر و استقلال رجوع الی اللہ تواضع اور انکساری کے بدلے اللہ نے انہیں دیا اور عقلمندوں کے لیے نصیحت و عبرت ہے وہ جان لیتے ہیں کہ صبر کا انجام کشادگی ہے اور رحمت و راحت ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ ایوب علیہ السلام اپنی بیوی کے کسی کام کی وجہ سے ان پر ناراض ہو گئے تھے بعض کہتے ہیں وہ اپنے بالوں کی ایک لٹ بیچ کر ان کے لیے کھانا لائی تھیں اس پر آپ ناراض ہوئے تھے اور قسم کھائی تھی کہ شفاء کے بعد سو کوڑے ماریں گے دوسروں نے وجہ ناراضگی اور بیان کی ہے۔ جبکہ آپ تندرست اور صحیح سالم ہو گئے تو ارادہ کیا کہ اپنی قسم کو پورا کریں لیکن ایسی نیک صفت عورت اس سزا کے لائق نہ تھیں جو ایوب علیہ السلام نے طے کر رکھی تھی جس عورت نے اس وقت خدمت کی جبکہ کوئی ساتھ نہ تھا اسی لیے رب العالمین ارحم الراحمین نے ان پر رحم کیا اور اپنے نبی علیہ السلام کو حکم دیا کہ قسم پوری کرنے کے لیے کھجور کا ایک خوشہ لے لو جس میں ایک سو سیخیں ہوں اور ایک انہیں مار دو اس صورت میں قسم کا خلاف نہ ہو گا اور ایک ایسی صابرہ شاکرہ نیک بیوی پر سزا بھی نہ ہو گی۔ یہی دستور الٰہی ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو جو اس سے ڈرتے رہتے ہیں برائیوں اور بدیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایوب علیہ السلام کی ثناء و صفت بیان فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بڑا صابر و ضابط پایا وہ بڑا نیک اور اچھا بندہ ثابت ہوا۔ اس کے دل میں ہماری سچی محبت تھی وہ ہماری ہی طرف جھکتا رہا اور ہمیں سے لو لگائے رہا، اسی لیے فرمان اللہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا رہتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی صورت نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی پہنچاتا ہے جو اس کے خیال میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر توکل رکھنے والوں کو اللہ کافی ہے۔ اللہ اپنے کام میں پورا اترتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ [64-الطلاق:3-2] ‏ سمجھدار علماء کرام نے اس آیت سے بہت سے ایمانی مسائل اخذ کئے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7726

ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین کا ذکر ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے عابد بندوں اور رسولوں کی فضیلتوں کو بیان فرما رہا ہے اور ان کے نام گنوا رہا ہے ابراہیم اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین اور فرماتا ہے کہ ان کے اعمال بہت بہتر تھے اور صحیح علم بھی ان میں تھا۔ ساتھ ہی عبادت الٰہی میں قوی تھے اور قدرت کی طرف سے انہیں بصیرت عطا فرمائی گئی تھی۔ دین میں سمجھدار تھے اطاعت اللہ میں قوی تھے حق کے دیکھنے والے تھے۔ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی اہمیت نہ تھی صرف آخرت کا ہی ہر وقت خیال بندھا رہتا تھا۔ ہر عمل آخرت کے لیے ہی ہوتا تھا۔ دنیا کی محبت سے وہ الگ تھے، آخرت کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے۔ وہ اعمال کرتے تھے جو جنت دلوائیں، لوگوں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب دیتے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن بہترین بدلے اور افضل مقامات عطا فرمائے گا۔

یہ بزرگان دین اللہ کے چیدہ مخلص اور خاص الخاص بندے ہیں۔ اسماعیل اور ذوالکفل صلوات و سلامہ علیہم اجمعین بھی پسندیدہ اور خاص بندوں میں تھے۔ ان کے بیانات سورۃ انبیاء میں گذر چکے ہیں اس لیے ہم نے یہاں بیان نہیں کئے۔ ان فضائل کے بیان میں ان کے لیے نصیحت ہے جو پند و نصیحت حاصل کرنے کے لیے عادی ہیں اور یہ مطلب بھی ہے کہ یہ قرآن عظیم ذکر یعنی نصیحت ہے۔

صفحہ نمبر7730

ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین کا ذکر ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے عابد بندوں اور رسولوں کی فضیلتوں کو بیان فرما رہا ہے اور ان کے نام گنوا رہا ہے ابراہیم اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین اور فرماتا ہے کہ ان کے اعمال بہت بہتر تھے اور صحیح علم بھی ان میں تھا۔ ساتھ ہی عبادت الٰہی میں قوی تھے اور قدرت کی طرف سے انہیں بصیرت عطا فرمائی گئی تھی۔ دین میں سمجھدار تھے اطاعت اللہ میں قوی تھے حق کے دیکھنے والے تھے۔ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی اہمیت نہ تھی صرف آخرت کا ہی ہر وقت خیال بندھا رہتا تھا۔ ہر عمل آخرت کے لیے ہی ہوتا تھا۔ دنیا کی محبت سے وہ الگ تھے، آخرت کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے۔ وہ اعمال کرتے تھے جو جنت دلوائیں، لوگوں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب دیتے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن بہترین بدلے اور افضل مقامات عطا فرمائے گا۔

یہ بزرگان دین اللہ کے چیدہ مخلص اور خاص الخاص بندے ہیں۔ اسماعیل اور ذوالکفل صلوات و سلامہ علیہم اجمعین بھی پسندیدہ اور خاص بندوں میں تھے۔ ان کے بیانات سورۃ انبیاء میں گذر چکے ہیں اس لیے ہم نے یہاں بیان نہیں کئے۔ ان فضائل کے بیان میں ان کے لیے نصیحت ہے جو پند و نصیحت حاصل کرنے کے لیے عادی ہیں اور یہ مطلب بھی ہے کہ یہ قرآن عظیم ذکر یعنی نصیحت ہے۔

صفحہ نمبر7730

ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین کا ذکر ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے عابد بندوں اور رسولوں کی فضیلتوں کو بیان فرما رہا ہے اور ان کے نام گنوا رہا ہے ابراہیم اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین اور فرماتا ہے کہ ان کے اعمال بہت بہتر تھے اور صحیح علم بھی ان میں تھا۔ ساتھ ہی عبادت الٰہی میں قوی تھے اور قدرت کی طرف سے انہیں بصیرت عطا فرمائی گئی تھی۔ دین میں سمجھدار تھے اطاعت اللہ میں قوی تھے حق کے دیکھنے والے تھے۔ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی اہمیت نہ تھی صرف آخرت کا ہی ہر وقت خیال بندھا رہتا تھا۔ ہر عمل آخرت کے لیے ہی ہوتا تھا۔ دنیا کی محبت سے وہ الگ تھے، آخرت کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے۔ وہ اعمال کرتے تھے جو جنت دلوائیں، لوگوں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب دیتے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن بہترین بدلے اور افضل مقامات عطا فرمائے گا۔

یہ بزرگان دین اللہ کے چیدہ مخلص اور خاص الخاص بندے ہیں۔ اسماعیل اور ذوالکفل صلوات و سلامہ علیہم اجمعین بھی پسندیدہ اور خاص بندوں میں تھے۔ ان کے بیانات سورۃ انبیاء میں گذر چکے ہیں اس لیے ہم نے یہاں بیان نہیں کئے۔ ان فضائل کے بیان میں ان کے لیے نصیحت ہے جو پند و نصیحت حاصل کرنے کے لیے عادی ہیں اور یہ مطلب بھی ہے کہ یہ قرآن عظیم ذکر یعنی نصیحت ہے۔

صفحہ نمبر7730

ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین کا ذکر ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے عابد بندوں اور رسولوں کی فضیلتوں کو بیان فرما رہا ہے اور ان کے نام گنوا رہا ہے ابراہیم اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین اور فرماتا ہے کہ ان کے اعمال بہت بہتر تھے اور صحیح علم بھی ان میں تھا۔ ساتھ ہی عبادت الٰہی میں قوی تھے اور قدرت کی طرف سے انہیں بصیرت عطا فرمائی گئی تھی۔ دین میں سمجھدار تھے اطاعت اللہ میں قوی تھے حق کے دیکھنے والے تھے۔ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی اہمیت نہ تھی صرف آخرت کا ہی ہر وقت خیال بندھا رہتا تھا۔ ہر عمل آخرت کے لیے ہی ہوتا تھا۔ دنیا کی محبت سے وہ الگ تھے، آخرت کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے۔ وہ اعمال کرتے تھے جو جنت دلوائیں، لوگوں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب دیتے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن بہترین بدلے اور افضل مقامات عطا فرمائے گا۔

یہ بزرگان دین اللہ کے چیدہ مخلص اور خاص الخاص بندے ہیں۔ اسماعیل اور ذوالکفل صلوات و سلامہ علیہم اجمعین بھی پسندیدہ اور خاص بندوں میں تھے۔ ان کے بیانات سورۃ انبیاء میں گذر چکے ہیں اس لیے ہم نے یہاں بیان نہیں کئے۔ ان فضائل کے بیان میں ان کے لیے نصیحت ہے جو پند و نصیحت حاصل کرنے کے لیے عادی ہیں اور یہ مطلب بھی ہے کہ یہ قرآن عظیم ذکر یعنی نصیحت ہے۔

صفحہ نمبر7730

صالحین کے لئے اجر ٭٭

نیکوکار تقویٰ والوں کے لیے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لیے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے۔(‏ [المیزان:4602] ‏)‏

صفحہ نمبر7734

اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بے فکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کر دیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی۔ جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث و مالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔

یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہو گا۔ جیسے فرمایا «مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ» [ 16- النحل: 96 ] ‏ تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے «اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ» [ 13- الرعد: 35 ] ‏ اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

صفحہ نمبر7735

صالحین کے لئے اجر ٭٭

نیکوکار تقویٰ والوں کے لیے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لیے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے۔(‏ [المیزان:4602] ‏)‏

صفحہ نمبر7734

اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بے فکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کر دیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی۔ جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث و مالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔

یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہو گا۔ جیسے فرمایا «مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ» [ 16- النحل: 96 ] ‏ تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے «اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ» [ 13- الرعد: 35 ] ‏ اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

صفحہ نمبر7735

صالحین کے لئے اجر ٭٭

نیکوکار تقویٰ والوں کے لیے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لیے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے۔(‏ [المیزان:4602] ‏)‏

صفحہ نمبر7734

اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بے فکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کر دیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی۔ جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث و مالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔

یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہو گا۔ جیسے فرمایا «مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ» [ 16- النحل: 96 ] ‏ تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے «اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ» [ 13- الرعد: 35 ] ‏ اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

صفحہ نمبر7735

صالحین کے لئے اجر ٭٭

نیکوکار تقویٰ والوں کے لیے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لیے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے۔(‏ [المیزان:4602] ‏)‏

صفحہ نمبر7734

اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بے فکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کر دیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی۔ جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث و مالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔

یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہو گا۔ جیسے فرمایا «مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ» [ 16- النحل: 96 ] ‏ تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے «اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ» [ 13- الرعد: 35 ] ‏ اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

صفحہ نمبر7735

صالحین کے لئے اجر ٭٭

نیکوکار تقویٰ والوں کے لیے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لیے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے۔(‏ [المیزان:4602] ‏)‏

صفحہ نمبر7734

اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بے فکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کر دیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی۔ جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث و مالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔

یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہو گا۔ جیسے فرمایا «مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ» [ 16- النحل: 96 ] ‏ تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے «اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ» [ 13- الرعد: 35 ] ‏ اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

صفحہ نمبر7735

صالحین کے لئے اجر ٭٭

نیکوکار تقویٰ والوں کے لیے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لیے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے۔(‏ [المیزان:4602] ‏)‏

صفحہ نمبر7734

اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بے فکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کر دیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی۔ جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث و مالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔

یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہو گا۔ جیسے فرمایا «مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ» [ 16- النحل: 96 ] ‏ تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے «اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ» [ 13- الرعد: 35 ] ‏ اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

صفحہ نمبر7735

اہل نار کے احوال ٭٭

اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔

صفحہ نمبر7741

اہل نار کے احوال ٭٭

اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔

صفحہ نمبر7741

دوزخیوں کا جھگڑا ٭٭

حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبودار ہو جائیں۔ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏

صفحہ نمبر7743

غرض سردی کا عذاب الگ ہو گا گرمی کا الگ ہو گا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔

اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے «كُلَّمَادَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا» ‏ [ 7- الاعراف: 38 ] ‏ ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لیے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لیے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔

پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لیے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے «قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» [ 7- الاعراف: 38 ] ‏ یعنی پچھلے پہلوں کے لیے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لیے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لیے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لیے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے؟ مجاہد فرماتے ہیں کہ ابوجہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق اڑاتے تھے؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔

اسی کا بیان آیات قرآنیہ «وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ» [ 7- الاعراف: 44 ] ‏ سے «وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ» ‏ [ 7- الاعراف: 49 ] ‏ ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔

صفحہ نمبر7744

دوزخیوں کا جھگڑا ٭٭

حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبودار ہو جائیں۔ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏

صفحہ نمبر7743

غرض سردی کا عذاب الگ ہو گا گرمی کا الگ ہو گا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔

اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے «كُلَّمَادَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا» ‏ [ 7- الاعراف: 38 ] ‏ ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لیے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لیے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔

پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لیے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے «قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» [ 7- الاعراف: 38 ] ‏ یعنی پچھلے پہلوں کے لیے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لیے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لیے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لیے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے؟ مجاہد فرماتے ہیں کہ ابوجہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق اڑاتے تھے؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔

اسی کا بیان آیات قرآنیہ «وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ» [ 7- الاعراف: 44 ] ‏ سے «وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ» ‏ [ 7- الاعراف: 49 ] ‏ ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔

صفحہ نمبر7744

دوزخیوں کا جھگڑا ٭٭

حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبودار ہو جائیں۔ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏

صفحہ نمبر7743

غرض سردی کا عذاب الگ ہو گا گرمی کا الگ ہو گا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔

اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے «كُلَّمَادَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا» ‏ [ 7- الاعراف: 38 ] ‏ ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لیے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لیے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔

پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لیے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے «قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» [ 7- الاعراف: 38 ] ‏ یعنی پچھلے پہلوں کے لیے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لیے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لیے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لیے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے؟ مجاہد فرماتے ہیں کہ ابوجہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق اڑاتے تھے؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔

اسی کا بیان آیات قرآنیہ «وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ» [ 7- الاعراف: 44 ] ‏ سے «وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ» ‏ [ 7- الاعراف: 49 ] ‏ ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔

صفحہ نمبر7744

دوزخیوں کا جھگڑا ٭٭

حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبودار ہو جائیں۔ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏

صفحہ نمبر7743

غرض سردی کا عذاب الگ ہو گا گرمی کا الگ ہو گا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔

اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے «كُلَّمَادَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا» ‏ [ 7- الاعراف: 38 ] ‏ ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لیے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لیے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔

پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لیے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے «قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» [ 7- الاعراف: 38 ] ‏ یعنی پچھلے پہلوں کے لیے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لیے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لیے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لیے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے؟ مجاہد فرماتے ہیں کہ ابوجہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق اڑاتے تھے؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔

اسی کا بیان آیات قرآنیہ «وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ» [ 7- الاعراف: 44 ] ‏ سے «وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ» ‏ [ 7- الاعراف: 49 ] ‏ ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔

صفحہ نمبر7744

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com