John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Az-Zumar

Tafsir Ibn Kathir · The Groups · 75 ayat · ayat 31–60 · Quran text →

فیصلے روز قیامت کو ہوں گے ٭٭

چونکہ مثالوں سے باتیں ٹھیک طور پر سمجھ میں آ جاتی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں بھی بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ سوچ سمجھ لیں۔ چنانچہ ارشاد ہے «ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ» [30-الروم:28] ‏ ” اللہ نے تمہارے لیے وہ مثالیں بیان فرمائی ہیں جنہیں تم خود اپنے آپ میں بہت اچھی طرح جانتے بوجھتے ہو “۔

ایک اور آیت میں ہ ے «وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ» [29-العنكبوت:43] ‏ ” ان مثالوں کو ہم لوگوں کے سامنے بیان کر رہے ہیں علماء ہی انہیں بخوبی سمجھ سکتے ہیں “۔

” یہ قرآن فصیح عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کجی اور کوئی کمی نہیں واضح دلیلیں اور روشن حجتیں ہیں۔ یہ اس لیے کہ اسے پڑھ کر سن کر لوگ اپنا بچاؤ کر لیں۔ اس کے عذاب کی آیتوں کو سامنے رکھ کر برائیاں چھوڑیں اور اس کے ثواب کی آیتوں کی طرف نظریں رکھ کر نیک اعمال میں محنت کریں “۔

اس کے بعد جناب باری عزاسمہ موحد اور مشرک کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ” ایک تو وہ غلام جس کے مالک بہت سارے ہوں اور وہ بھی آپس میں ایک دوسرے کے مخالف ہوں اور دوسرا وہ غلام جو خالص صرف ایک ہی شخص کی ملکیت کا ہو اس کے سوا اس پر دوسرے کسی کا کوئی اختیار نہ ہو۔ کیا یہ دونوں تمہارے نزدیک یکساں ہیں؟ ہرگز نہیں “۔ اسی طرح موحد جو صرف ایک «اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی ہی عبادت کرتا ہے۔ اور مشرک جس نے اپنے معبود بہت سے بنا رکھے ہیں۔ ان دونوں میں بھی کوئی نسبت نہیں۔ کہاں یہ مخلص موحد؟ کہاں یہ در بہ در بھٹکنے والا مشرک؟ اس ظاہر باہر روشن اور صاف مثال کے بیان پر بھی رب العالمین کی حمد و ثنا کرنی چاہیئے کہ اس نے اپنے بندوں کو اس طرح سمجھا دیا کہ معاملہ بالکل صاف ہو جائے۔ شرک کی بدی اور توحید کی خوبی ہر ایک کے ذہن میں آ جائے۔ اب رب کے ساتھ وہی شرک کریں گے جو محض بےعلم ہوں جن میں سمجھ بوجھ بالکل ہی نہ ہو۔

اس کے بعد کی آیت کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد پڑھ کر پھر دوسری آیت «وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّـهُ الشَّاكِرِينَ» [3-آل عمران:144] ‏ کی آخر آیت تک تلاوت کر کے لوگوں کو بتایا تھا۔ مطلب آیت شریفہ کا یہ ہے کہ ” سب اس دنیا سے جانے والے ہیں اور آخرت میں اپنے رب کے پاس جمع ہونے والے ہیں۔ وہاں اللہ تعالیٰ مشرکوں اور موحدوں میں صاف فیصلہ کر دے گا اور حق ظاہر ہو جائے گا۔ اس سے اچھے فیصلے والا اور اس سے زیادہ علم والا کون ہے؟ ایمان اخلاص اور توحید و سنت والے نجات پائیں گے۔ شرک و کفر انکار و تکذیب والے سخت سزائیں اٹھائیں گے “۔

اسی طرح جن دو شخصوں میں جو جھگڑا اور اختلاف دنیا میں تھا روز قیامت وہ اللہ عادل کے سامنے پیش ہو کر فیصلہ ہو گا۔ اس آیت کے نازل ہونے پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ قیامت کے دن پھر سے جھگڑے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یقیناً تو عبداللہ نے کہا پھر تو سخت مشکل ہے ۔ [ابن ابی حاتم] ‏

صفحہ نمبر7812

مسند احمد کی اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ آیت «ثُمَّ لَتُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ» [102-التکاثر:8] ‏ یعنی ” پھر اس دن تم سے اللہ کی نعمتوں کا سوال کیا جائے گا “، کے نازل ہونے پر آپ رضی اللہ عنہ ہی نے سوال کیا کہ ”وہ کون سی نعمتیں ہیں جن کی بابت ہم سے حساب لیا جائے گا؟ ہم تو کھجوریں کھا کر اور پانی پی کر گزارہ کر رہے ہیں۔‏“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب نہیں ہیں تو عنقریب بہت سی نعمتیں ہو جائیں گی ۔ [سنن ترمذي:3236،قال الشيخ الألباني:حسن الاسناد] ‏۔ یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن بتاتے ہیں۔

مسند کی اسی حدیث میں یہ بھی ہے کہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے آیت «اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ» [39-الزمر:30] ‏ کے نازل ہونے پر پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جو جھگڑے ہمارے دنیا میں تھے وہ دوبارہ وہاں قیامت میں دوہرائے جائیں گے؟ ساتھ ہی گناہوں کی بھی پرستش ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں وہ ضرور دوہرائے جائیں گے۔ اور ہر شخص کو اس کا حق پورا پورا دلوایا جائے گا ۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا پھر تو سخت مشکل کام ہے ۔ [سنن ترمذي:3236،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے پہلے پڑوسیوں کے آپس میں جھگڑے پیش ہوں گے [مسند احمد:151/4:حسن] ‏۔ اور حدیث میں ہے اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سب جھگڑوں کا فیصلہ قیامت کے دن ہو گا۔ یہاں تک کہ دوبکریاں جو لڑی ہوں گی اور ایک نے دوسری کو سینگ مارے ہوں گے ان کا بدلہ بھی دلوایا جائے گا ۔ [مسند احمد:29/3:حسن لغیره] ‏

صفحہ نمبر7813

مسند ہی کی ایک اور حدیث میں ہے کہ دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کیا خبر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے اور وہ قیامت کے دن ان میں بھی انصاف کرے گا ۔ [مسند احمد:162/5:حسن] ‏

مسند بزار میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ظالم اور خائن بادشاہ سے اس کی رعیت قیامت کے دن جھگڑا کرے گی اور اس پر وہ غالب آ جائے گی اور اللہ کا فرمان صادر ہو گا کہ جاؤ اسے جہنم کا ایک رکن بنا دو ۔ [مسند بزار:1644:ضعیف] ‏ اس حدیث کے ایک راوی اغلب بن تمیم کا حافظہ جیسا چاہیئے ایسا نہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہر سچا جھوٹے سے، ہر مظلوم ظالم سے، ہر ہدایت والا گمراہی والے سے، ہر کمزور زورآور سے اس روز جھگڑے گا۔‏“

ابن مندہ رحمتہ اللہ اپنی کتاب الروح میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت لائے کہ ”لوگ قیامت کے دن جھگڑیں گے یہاں تک کہ روح اور جسم کے درمیان بھی جھگڑا ہوگا۔ روح تو جسم کو الزام دے گی کہ تونے یہ سب برائیاں کیں اور جسم روح سے کہے گا ساری چاہت اور شرارت تیری ہی تھی۔ ایک فرشتہ ان میں فیصلہ کرے گا کہے گا سنو! ایک آنکھوں والا انسان ہے لیکن اپاہج بالکل لولا لنگڑا چلنے پھرنے سے معذور۔ دوسرا آدمی اندھا ہے لیکن اسکے پیر سلامت ہیں چلتا پھرتا ہے دونوں ایک باغ میں ہیں۔ لنگڑا اندھے سے کہتا ہے بھائی یہ باغ تو میووں اور پھلوں سے لدا ہوا ہے۔ لیکن میرے تو پاؤں نہیں جو میں جاکر یہ پھل توڑ لوں۔ اندھا کہتا ہے آ میرے پاؤں ہیں میں تجھے اپنی پیٹھ پر چڑھا لیتا ہوں اور لے چلتا ہوں۔ چنانچہ یہ دونوں اس طرح پہنچے اور جی کھول کر پھل توڑے، بتاؤ ان دونوں میں مجرم کون ہے؟ جسم و روح دونوں جواب دیتے ہیں کہ جرم دونوں کا ہے۔ فرشتہ کہتا ہے بس اب تو تم نے اپنا فیصلہ آپ کردیا۔ یعنی جسم گویا سواری ہے اور روح اس پر سوار ہے۔‏“

صفحہ نمبر7814

ابن ابی حاتم میں ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس آیت کے نازل ہونے پر ہم تعجب میں تھے کہ ہم میں اور اہل کتاب میں تو جھگڑا ہے ہی نہیں پھر آخر روز قیامت میں کس سے جھگڑے ہوں گے؟ اس کے بعد جب آپس کے فتنے شروع ہو گئے تو ہم نے سمجھ لیا کہ یہی آپس کے جھگڑے ہیں جو اللہ کے ہاں پیش ہوں گے۔‏“

ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اہل قبلہ غیر اہل قبلہ سے جھگڑیں گے اور ابن زید رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ مراد اہل اسلام اور اہل کفر کا جھگڑا ہے۔ لیکن ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ فی الواقع یہ آیت عام ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7815

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم اور فضل و رحم سے تفسیر محمدی کا تیسواں [ ۲۳ ] ‏ پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور ہماری تقصیر کی معافی کا سبب اس تفسیر کو بنا دے۔

ہمیں اپنے پاک کلام کی تلاوت کا ذوق، اس کے معنی کے سمجھنے کا شوق عطا فرمائے، علم و عمل کی توفیق دے، عذاب سے نجات دے، جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین!

صفحہ نمبر7816

مشرکین کی سزا اور موحدین کی جزا ٭٭

مشرکین نے اللہ پر بہت جھوٹ بولا تھا اور طرح طرح کے الزام لگائے تھے، کبھی اس کے ساتھ دوسرے معبود بتاتے تھے، کبھی فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں شمار کرنے لگتے تھے، کبھی مخلوق میں سے کسی کو اس کا بیٹا کہہ دیا کرتے تھے، جن تمام باتوں سے اس کی بلند و بالا ذات پاک اور برتر تھی۔

ساتھ ہی ان میں دوسری بدخصلت یہ بھی تھی کہ جو حق انبیاء علیہم السلام کی زبانی اللہ تعالیٰ نازل فرماتا یہ اسے بھی جھٹلاتے، پس فرمایا کہ ” یہ سب سے بڑھ کر ظالم ہیں “۔ پھر جو سزا انہیں ہونی ہے اس سے انہیں آگاہ کر دیا کہ ” ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہی ہے،جو مرتے دم تک انکار و تکذیب پر ہی رہیں “۔

صفحہ نمبر7821

ان کی بدخصلت اور سزا کا ذکر کر کے پھر مومنوں کی نیک خو اور ان کی جزا کا ذکر فرماتا ہے کہ ” جو سچائی کو لایا اور اسے سچا مانا یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور جبرائیل علیہ السلام اور ہر وہ شخص جو کلمہ توحید کا اقراری ہو۔ اور تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی ماننے والی ان کی مسلمان امت “۔

یہ قیامت کے دن یہی کہیں گے کہ جو تم نے ہمیں دیا اور جو فرمایا ہم اسی پر عمل کرتے رہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت میں داخل ہیں۔ آپ بھی سچائی کے لانے والے، اگلے رسولوں کی تصدیق کرنے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل ہوا تھا اسے ماننے والے تھے اور ساتھ ہی یہی وصف تمام ایمان داروں کا تھا کہ وہ اللہ پر فرشتوں پر کتابوں پر اور رسولوں پر ایمان رکھنے والے تھے۔

صفحہ نمبر7822

ربیع بن انس کی قرأت میں «وَالَّذِيْنَ جَاءُ وْابالصِّدْقِ» ہے۔ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم فرماتے ہیں سچائی کو لانے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اسے سچ ماننے والے مسلمان ہیں یہی متقی پرہیزگار اور پارسا ہیں۔ جو اللہ سے ڈرتے رہے اور شرک کفر سے بچتے رہے۔ ان کے لیے جنت میں جو وہ چاہیں سب کچھ ہے۔ جب طلب کریں گے پائیں گے۔ یہی بدلہ ہے ان پاک باز لوگوں کا، رب ان کی برائیاں تو معاف فرما دیتا ہے اور نیکیاں قبول کر لیتا ہے۔

جیسے دوسری آیت میں «‏أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ» [46-الأحقاف:16] ‏، ” یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کی نیکیاں ہم قبول کر لیتے ہیں اور برائیوں سے درگزر فرما لیتے ہیں۔ یہ جنتوں میں رہیں گے۔ انہیں بالکل سچا اور صحیح صحیح وعدہ دیا جاتا ہے “۔

صفحہ نمبر7823

مشرکین کی سزا اور موحدین کی جزا ٭٭

مشرکین نے اللہ پر بہت جھوٹ بولا تھا اور طرح طرح کے الزام لگائے تھے، کبھی اس کے ساتھ دوسرے معبود بتاتے تھے، کبھی فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں شمار کرنے لگتے تھے، کبھی مخلوق میں سے کسی کو اس کا بیٹا کہہ دیا کرتے تھے، جن تمام باتوں سے اس کی بلند و بالا ذات پاک اور برتر تھی۔

ساتھ ہی ان میں دوسری بدخصلت یہ بھی تھی کہ جو حق انبیاء علیہم السلام کی زبانی اللہ تعالیٰ نازل فرماتا یہ اسے بھی جھٹلاتے، پس فرمایا کہ ” یہ سب سے بڑھ کر ظالم ہیں “۔ پھر جو سزا انہیں ہونی ہے اس سے انہیں آگاہ کر دیا کہ ” ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہی ہے،جو مرتے دم تک انکار و تکذیب پر ہی رہیں “۔

صفحہ نمبر7821

ان کی بدخصلت اور سزا کا ذکر کر کے پھر مومنوں کی نیک خو اور ان کی جزا کا ذکر فرماتا ہے کہ ” جو سچائی کو لایا اور اسے سچا مانا یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور جبرائیل علیہ السلام اور ہر وہ شخص جو کلمہ توحید کا اقراری ہو۔ اور تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی ماننے والی ان کی مسلمان امت “۔

یہ قیامت کے دن یہی کہیں گے کہ جو تم نے ہمیں دیا اور جو فرمایا ہم اسی پر عمل کرتے رہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت میں داخل ہیں۔ آپ بھی سچائی کے لانے والے، اگلے رسولوں کی تصدیق کرنے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل ہوا تھا اسے ماننے والے تھے اور ساتھ ہی یہی وصف تمام ایمان داروں کا تھا کہ وہ اللہ پر فرشتوں پر کتابوں پر اور رسولوں پر ایمان رکھنے والے تھے۔

صفحہ نمبر7822

ربیع بن انس کی قرأت میں «وَالَّذِيْنَ جَاءُ وْابالصِّدْقِ» ہے۔ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم فرماتے ہیں سچائی کو لانے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اسے سچ ماننے والے مسلمان ہیں یہی متقی پرہیزگار اور پارسا ہیں۔ جو اللہ سے ڈرتے رہے اور شرک کفر سے بچتے رہے۔ ان کے لیے جنت میں جو وہ چاہیں سب کچھ ہے۔ جب طلب کریں گے پائیں گے۔ یہی بدلہ ہے ان پاک باز لوگوں کا، رب ان کی برائیاں تو معاف فرما دیتا ہے اور نیکیاں قبول کر لیتا ہے۔

جیسے دوسری آیت میں «‏أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ» [46-الأحقاف:16] ‏، ” یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کی نیکیاں ہم قبول کر لیتے ہیں اور برائیوں سے درگزر فرما لیتے ہیں۔ یہ جنتوں میں رہیں گے۔ انہیں بالکل سچا اور صحیح صحیح وعدہ دیا جاتا ہے “۔

صفحہ نمبر7823

مشرکین کی سزا اور موحدین کی جزا ٭٭

مشرکین نے اللہ پر بہت جھوٹ بولا تھا اور طرح طرح کے الزام لگائے تھے، کبھی اس کے ساتھ دوسرے معبود بتاتے تھے، کبھی فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں شمار کرنے لگتے تھے، کبھی مخلوق میں سے کسی کو اس کا بیٹا کہہ دیا کرتے تھے، جن تمام باتوں سے اس کی بلند و بالا ذات پاک اور برتر تھی۔

ساتھ ہی ان میں دوسری بدخصلت یہ بھی تھی کہ جو حق انبیاء علیہم السلام کی زبانی اللہ تعالیٰ نازل فرماتا یہ اسے بھی جھٹلاتے، پس فرمایا کہ ” یہ سب سے بڑھ کر ظالم ہیں “۔ پھر جو سزا انہیں ہونی ہے اس سے انہیں آگاہ کر دیا کہ ” ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہی ہے،جو مرتے دم تک انکار و تکذیب پر ہی رہیں “۔

صفحہ نمبر7821

ان کی بدخصلت اور سزا کا ذکر کر کے پھر مومنوں کی نیک خو اور ان کی جزا کا ذکر فرماتا ہے کہ ” جو سچائی کو لایا اور اسے سچا مانا یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور جبرائیل علیہ السلام اور ہر وہ شخص جو کلمہ توحید کا اقراری ہو۔ اور تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی ماننے والی ان کی مسلمان امت “۔

یہ قیامت کے دن یہی کہیں گے کہ جو تم نے ہمیں دیا اور جو فرمایا ہم اسی پر عمل کرتے رہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت میں داخل ہیں۔ آپ بھی سچائی کے لانے والے، اگلے رسولوں کی تصدیق کرنے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل ہوا تھا اسے ماننے والے تھے اور ساتھ ہی یہی وصف تمام ایمان داروں کا تھا کہ وہ اللہ پر فرشتوں پر کتابوں پر اور رسولوں پر ایمان رکھنے والے تھے۔

صفحہ نمبر7822

ربیع بن انس کی قرأت میں «وَالَّذِيْنَ جَاءُ وْابالصِّدْقِ» ہے۔ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم فرماتے ہیں سچائی کو لانے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اسے سچ ماننے والے مسلمان ہیں یہی متقی پرہیزگار اور پارسا ہیں۔ جو اللہ سے ڈرتے رہے اور شرک کفر سے بچتے رہے۔ ان کے لیے جنت میں جو وہ چاہیں سب کچھ ہے۔ جب طلب کریں گے پائیں گے۔ یہی بدلہ ہے ان پاک باز لوگوں کا، رب ان کی برائیاں تو معاف فرما دیتا ہے اور نیکیاں قبول کر لیتا ہے۔

جیسے دوسری آیت میں «‏أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ» [46-الأحقاف:16] ‏، ” یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کی نیکیاں ہم قبول کر لیتے ہیں اور برائیوں سے درگزر فرما لیتے ہیں۔ یہ جنتوں میں رہیں گے۔ انہیں بالکل سچا اور صحیح صحیح وعدہ دیا جاتا ہے “۔

صفحہ نمبر7823

مشرکین کی سزا اور موحدین کی جزا ٭٭

مشرکین نے اللہ پر بہت جھوٹ بولا تھا اور طرح طرح کے الزام لگائے تھے، کبھی اس کے ساتھ دوسرے معبود بتاتے تھے، کبھی فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں شمار کرنے لگتے تھے، کبھی مخلوق میں سے کسی کو اس کا بیٹا کہہ دیا کرتے تھے، جن تمام باتوں سے اس کی بلند و بالا ذات پاک اور برتر تھی۔

ساتھ ہی ان میں دوسری بدخصلت یہ بھی تھی کہ جو حق انبیاء علیہم السلام کی زبانی اللہ تعالیٰ نازل فرماتا یہ اسے بھی جھٹلاتے، پس فرمایا کہ ” یہ سب سے بڑھ کر ظالم ہیں “۔ پھر جو سزا انہیں ہونی ہے اس سے انہیں آگاہ کر دیا کہ ” ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہی ہے،جو مرتے دم تک انکار و تکذیب پر ہی رہیں “۔

صفحہ نمبر7821

ان کی بدخصلت اور سزا کا ذکر کر کے پھر مومنوں کی نیک خو اور ان کی جزا کا ذکر فرماتا ہے کہ ” جو سچائی کو لایا اور اسے سچا مانا یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور جبرائیل علیہ السلام اور ہر وہ شخص جو کلمہ توحید کا اقراری ہو۔ اور تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی ماننے والی ان کی مسلمان امت “۔

یہ قیامت کے دن یہی کہیں گے کہ جو تم نے ہمیں دیا اور جو فرمایا ہم اسی پر عمل کرتے رہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت میں داخل ہیں۔ آپ بھی سچائی کے لانے والے، اگلے رسولوں کی تصدیق کرنے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل ہوا تھا اسے ماننے والے تھے اور ساتھ ہی یہی وصف تمام ایمان داروں کا تھا کہ وہ اللہ پر فرشتوں پر کتابوں پر اور رسولوں پر ایمان رکھنے والے تھے۔

صفحہ نمبر7822

ربیع بن انس کی قرأت میں «وَالَّذِيْنَ جَاءُ وْابالصِّدْقِ» ہے۔ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم فرماتے ہیں سچائی کو لانے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اسے سچ ماننے والے مسلمان ہیں یہی متقی پرہیزگار اور پارسا ہیں۔ جو اللہ سے ڈرتے رہے اور شرک کفر سے بچتے رہے۔ ان کے لیے جنت میں جو وہ چاہیں سب کچھ ہے۔ جب طلب کریں گے پائیں گے۔ یہی بدلہ ہے ان پاک باز لوگوں کا، رب ان کی برائیاں تو معاف فرما دیتا ہے اور نیکیاں قبول کر لیتا ہے۔

جیسے دوسری آیت میں «‏أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ» [46-الأحقاف:16] ‏، ” یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کی نیکیاں ہم قبول کر لیتے ہیں اور برائیوں سے درگزر فرما لیتے ہیں۔ یہ جنتوں میں رہیں گے۔ انہیں بالکل سچا اور صحیح صحیح وعدہ دیا جاتا ہے “۔

صفحہ نمبر7823

بھروسہ کے لائق صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے ٭٭

ایک قرأت میں «اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عِبَادَهُ» ہے، یعنی ” اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کو کافی ہے “۔ اسی پر ہر شخص کو بھروسہ رکھنا چاہیئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس نے نجات پالی جو اسلام کی ہدایت دیا گیا اور بقدر ضرورت روزی دیا گیا اور قناعت بھی نصیب ہوئی ۔ [سنن ترمذي:2349،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ لوگ تجھے اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں۔ یہ ان کی جہالت و ضلالت ہے، اور اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، جس طرح اللہ کے راہ دکھائے ہوئے شخص کو کوئی بہکا نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ والا ہے اس پر بھروسہ کرنے والے کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا اور اس کی طرف جھک جانے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ اس سے بڑھ کر عزت والا کوئی نہیں “۔

صفحہ نمبر7827

اسی طرح اس سے بڑھ کر انتقام پر قادر بھی کوئی نہیں۔ جو اس کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں۔ اس کے رسولوں سے لڑتے بھڑتے ہیں یقیناً وہ انہیں سخت سزائیں دے گا۔

مشرکین کی مزید جہالت بیان ہو رہی ہے کہ باوجود اللہ تعالیٰ کو خالق کل ماننے کے پھر بھی ایسے معبودان باطلہ کی پرستش کرتے ہیں جو کسی نفع نقصان کے مالک نہیں جنہیں کسی امر کا کوئی اختیار نہیں۔ حدیث شریف میں ہے اللہ کو یاد کر وہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کو یاد رکھ تو اسے ہر وقت اپنے پاس پائے گا۔ آسانی کے وقت رب کی نعمتوں کا شکر گذار رہ سختی کے وقت وہ تیرے کام آئے گا۔ جب کچھ مانگ تو اللہ ہی سے مانگ اور جب مدد طلب کر تو اسی سے مدد طلب کر یقین رکھ کر اگر تمام دنیا مل کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے اور اللہ کا ارادہ نہ ہو تو وہ سب تجھے ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور سب جمع ہو کر تجھے کوئی نفع پہنچانا چاہیں جو اللہ نے مقدر میں نہ لکھا ہو تو ہرگز نہیں پہنچا سکتا۔ صحیفے خشک ہو چکے قلمیں اٹھالی گئیں۔ یقین اور شکر کے ساتھ نیکیوں میں مشغول رہا کر تکلیفوں میں صبر کرنے پر بڑی نیکیاں ملتی ہیں۔ مدد صبر کے ساتھ ہے۔ غم و رنج کے ساتھ ہی خوشی اور فراخی ہے۔ ہر سختی اپنے اندر آسانی کو لیے ہوئے ہے ۔ [مسند احمد:307/1:صحیح] ‏

” تو کہدے کہ مجھے اللہ بس ہے۔ بھروسہ کرن والے اسی کی پاک ذات پر بھروسہ کرتے ہیں “۔

جیسے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو جواب دیا تھا «إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» [11-هود:54-56] ‏ ” جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ اے ہود ہمارے خیال سے تو تمہیں ہمارے کسی معبود نے کسی خرابی میں مبتلا کر دیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں تمہارے تمام معبودان باطل سے بیزار ہوں۔ تم سب مل کر میرے ساتھ جو داؤ گھات تم سے ہو سکتے ہیں سب کر لو اور مجھے مطلق مہلت نہ دو۔ سنو میرا توکل میرے رب پر ہے جو دراصل تم سب کا بھی رب ہے۔ روئے زمین پر جتنے چلنے پھرنے والے ہیں سب کی چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ میرا رب صراط مستقیم پر ہے “۔

رسول اللہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص سب سے زیادہ قوی ہونا چاہے وہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور جو سب سے زیادہ غنی بننا چاہے وہ اس چیز پر جو اللہ کے ہاتھ میں ہے زیادہ اعتماد رکھے بہ نسبت اس چیز کے جو خود اس کے ہاتھ میں ہے اور جو سب سے زیادہ بزرگ ہونا چاہے وہ اللہ عزوجل سے ڈرتا رہے ۔ [مسند عبد بن حمید:675:ضعیف] ‏

پھر مشرکین کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” اچھا تم اپنے طریقے پر عمل کرتے چلے جاؤ۔ میں اپنے طریقے پر عامل ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ دنیا میں ذلیل و خوار کون ہوتا ہے؟ اور آخرت کے دائمی عذاب میں گرفتار کون ہوتا ہے؟“ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔

صفحہ نمبر7828

بھروسہ کے لائق صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے ٭٭

ایک قرأت میں «اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عِبَادَهُ» ہے، یعنی ” اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کو کافی ہے “۔ اسی پر ہر شخص کو بھروسہ رکھنا چاہیئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس نے نجات پالی جو اسلام کی ہدایت دیا گیا اور بقدر ضرورت روزی دیا گیا اور قناعت بھی نصیب ہوئی ۔ [سنن ترمذي:2349،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ لوگ تجھے اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں۔ یہ ان کی جہالت و ضلالت ہے، اور اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، جس طرح اللہ کے راہ دکھائے ہوئے شخص کو کوئی بہکا نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ والا ہے اس پر بھروسہ کرنے والے کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا اور اس کی طرف جھک جانے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ اس سے بڑھ کر عزت والا کوئی نہیں “۔

صفحہ نمبر7827

اسی طرح اس سے بڑھ کر انتقام پر قادر بھی کوئی نہیں۔ جو اس کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں۔ اس کے رسولوں سے لڑتے بھڑتے ہیں یقیناً وہ انہیں سخت سزائیں دے گا۔

مشرکین کی مزید جہالت بیان ہو رہی ہے کہ باوجود اللہ تعالیٰ کو خالق کل ماننے کے پھر بھی ایسے معبودان باطلہ کی پرستش کرتے ہیں جو کسی نفع نقصان کے مالک نہیں جنہیں کسی امر کا کوئی اختیار نہیں۔ حدیث شریف میں ہے اللہ کو یاد کر وہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کو یاد رکھ تو اسے ہر وقت اپنے پاس پائے گا۔ آسانی کے وقت رب کی نعمتوں کا شکر گذار رہ سختی کے وقت وہ تیرے کام آئے گا۔ جب کچھ مانگ تو اللہ ہی سے مانگ اور جب مدد طلب کر تو اسی سے مدد طلب کر یقین رکھ کر اگر تمام دنیا مل کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے اور اللہ کا ارادہ نہ ہو تو وہ سب تجھے ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور سب جمع ہو کر تجھے کوئی نفع پہنچانا چاہیں جو اللہ نے مقدر میں نہ لکھا ہو تو ہرگز نہیں پہنچا سکتا۔ صحیفے خشک ہو چکے قلمیں اٹھالی گئیں۔ یقین اور شکر کے ساتھ نیکیوں میں مشغول رہا کر تکلیفوں میں صبر کرنے پر بڑی نیکیاں ملتی ہیں۔ مدد صبر کے ساتھ ہے۔ غم و رنج کے ساتھ ہی خوشی اور فراخی ہے۔ ہر سختی اپنے اندر آسانی کو لیے ہوئے ہے ۔ [مسند احمد:307/1:صحیح] ‏

” تو کہدے کہ مجھے اللہ بس ہے۔ بھروسہ کرن والے اسی کی پاک ذات پر بھروسہ کرتے ہیں “۔

جیسے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو جواب دیا تھا «إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» [11-هود:54-56] ‏ ” جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ اے ہود ہمارے خیال سے تو تمہیں ہمارے کسی معبود نے کسی خرابی میں مبتلا کر دیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں تمہارے تمام معبودان باطل سے بیزار ہوں۔ تم سب مل کر میرے ساتھ جو داؤ گھات تم سے ہو سکتے ہیں سب کر لو اور مجھے مطلق مہلت نہ دو۔ سنو میرا توکل میرے رب پر ہے جو دراصل تم سب کا بھی رب ہے۔ روئے زمین پر جتنے چلنے پھرنے والے ہیں سب کی چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ میرا رب صراط مستقیم پر ہے “۔

رسول اللہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص سب سے زیادہ قوی ہونا چاہے وہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور جو سب سے زیادہ غنی بننا چاہے وہ اس چیز پر جو اللہ کے ہاتھ میں ہے زیادہ اعتماد رکھے بہ نسبت اس چیز کے جو خود اس کے ہاتھ میں ہے اور جو سب سے زیادہ بزرگ ہونا چاہے وہ اللہ عزوجل سے ڈرتا رہے ۔ [مسند عبد بن حمید:675:ضعیف] ‏

پھر مشرکین کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” اچھا تم اپنے طریقے پر عمل کرتے چلے جاؤ۔ میں اپنے طریقے پر عامل ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ دنیا میں ذلیل و خوار کون ہوتا ہے؟ اور آخرت کے دائمی عذاب میں گرفتار کون ہوتا ہے؟“ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔

صفحہ نمبر7828

بھروسہ کے لائق صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے ٭٭

ایک قرأت میں «اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عِبَادَهُ» ہے، یعنی ” اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کو کافی ہے “۔ اسی پر ہر شخص کو بھروسہ رکھنا چاہیئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس نے نجات پالی جو اسلام کی ہدایت دیا گیا اور بقدر ضرورت روزی دیا گیا اور قناعت بھی نصیب ہوئی ۔ [سنن ترمذي:2349،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ لوگ تجھے اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں۔ یہ ان کی جہالت و ضلالت ہے، اور اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، جس طرح اللہ کے راہ دکھائے ہوئے شخص کو کوئی بہکا نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ والا ہے اس پر بھروسہ کرنے والے کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا اور اس کی طرف جھک جانے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ اس سے بڑھ کر عزت والا کوئی نہیں “۔

صفحہ نمبر7827

اسی طرح اس سے بڑھ کر انتقام پر قادر بھی کوئی نہیں۔ جو اس کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں۔ اس کے رسولوں سے لڑتے بھڑتے ہیں یقیناً وہ انہیں سخت سزائیں دے گا۔

مشرکین کی مزید جہالت بیان ہو رہی ہے کہ باوجود اللہ تعالیٰ کو خالق کل ماننے کے پھر بھی ایسے معبودان باطلہ کی پرستش کرتے ہیں جو کسی نفع نقصان کے مالک نہیں جنہیں کسی امر کا کوئی اختیار نہیں۔ حدیث شریف میں ہے اللہ کو یاد کر وہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کو یاد رکھ تو اسے ہر وقت اپنے پاس پائے گا۔ آسانی کے وقت رب کی نعمتوں کا شکر گذار رہ سختی کے وقت وہ تیرے کام آئے گا۔ جب کچھ مانگ تو اللہ ہی سے مانگ اور جب مدد طلب کر تو اسی سے مدد طلب کر یقین رکھ کر اگر تمام دنیا مل کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے اور اللہ کا ارادہ نہ ہو تو وہ سب تجھے ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور سب جمع ہو کر تجھے کوئی نفع پہنچانا چاہیں جو اللہ نے مقدر میں نہ لکھا ہو تو ہرگز نہیں پہنچا سکتا۔ صحیفے خشک ہو چکے قلمیں اٹھالی گئیں۔ یقین اور شکر کے ساتھ نیکیوں میں مشغول رہا کر تکلیفوں میں صبر کرنے پر بڑی نیکیاں ملتی ہیں۔ مدد صبر کے ساتھ ہے۔ غم و رنج کے ساتھ ہی خوشی اور فراخی ہے۔ ہر سختی اپنے اندر آسانی کو لیے ہوئے ہے ۔ [مسند احمد:307/1:صحیح] ‏

” تو کہدے کہ مجھے اللہ بس ہے۔ بھروسہ کرن والے اسی کی پاک ذات پر بھروسہ کرتے ہیں “۔

جیسے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو جواب دیا تھا «إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» [11-هود:54-56] ‏ ” جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ اے ہود ہمارے خیال سے تو تمہیں ہمارے کسی معبود نے کسی خرابی میں مبتلا کر دیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں تمہارے تمام معبودان باطل سے بیزار ہوں۔ تم سب مل کر میرے ساتھ جو داؤ گھات تم سے ہو سکتے ہیں سب کر لو اور مجھے مطلق مہلت نہ دو۔ سنو میرا توکل میرے رب پر ہے جو دراصل تم سب کا بھی رب ہے۔ روئے زمین پر جتنے چلنے پھرنے والے ہیں سب کی چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ میرا رب صراط مستقیم پر ہے “۔

رسول اللہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص سب سے زیادہ قوی ہونا چاہے وہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور جو سب سے زیادہ غنی بننا چاہے وہ اس چیز پر جو اللہ کے ہاتھ میں ہے زیادہ اعتماد رکھے بہ نسبت اس چیز کے جو خود اس کے ہاتھ میں ہے اور جو سب سے زیادہ بزرگ ہونا چاہے وہ اللہ عزوجل سے ڈرتا رہے ۔ [مسند عبد بن حمید:675:ضعیف] ‏

پھر مشرکین کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” اچھا تم اپنے طریقے پر عمل کرتے چلے جاؤ۔ میں اپنے طریقے پر عامل ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ دنیا میں ذلیل و خوار کون ہوتا ہے؟ اور آخرت کے دائمی عذاب میں گرفتار کون ہوتا ہے؟“ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔

صفحہ نمبر7828

بھروسہ کے لائق صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے ٭٭

ایک قرأت میں «اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عِبَادَهُ» ہے، یعنی ” اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کو کافی ہے “۔ اسی پر ہر شخص کو بھروسہ رکھنا چاہیئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس نے نجات پالی جو اسلام کی ہدایت دیا گیا اور بقدر ضرورت روزی دیا گیا اور قناعت بھی نصیب ہوئی ۔ [سنن ترمذي:2349،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ لوگ تجھے اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں۔ یہ ان کی جہالت و ضلالت ہے، اور اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، جس طرح اللہ کے راہ دکھائے ہوئے شخص کو کوئی بہکا نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ والا ہے اس پر بھروسہ کرنے والے کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا اور اس کی طرف جھک جانے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ اس سے بڑھ کر عزت والا کوئی نہیں “۔

صفحہ نمبر7827

اسی طرح اس سے بڑھ کر انتقام پر قادر بھی کوئی نہیں۔ جو اس کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں۔ اس کے رسولوں سے لڑتے بھڑتے ہیں یقیناً وہ انہیں سخت سزائیں دے گا۔

مشرکین کی مزید جہالت بیان ہو رہی ہے کہ باوجود اللہ تعالیٰ کو خالق کل ماننے کے پھر بھی ایسے معبودان باطلہ کی پرستش کرتے ہیں جو کسی نفع نقصان کے مالک نہیں جنہیں کسی امر کا کوئی اختیار نہیں۔ حدیث شریف میں ہے اللہ کو یاد کر وہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کو یاد رکھ تو اسے ہر وقت اپنے پاس پائے گا۔ آسانی کے وقت رب کی نعمتوں کا شکر گذار رہ سختی کے وقت وہ تیرے کام آئے گا۔ جب کچھ مانگ تو اللہ ہی سے مانگ اور جب مدد طلب کر تو اسی سے مدد طلب کر یقین رکھ کر اگر تمام دنیا مل کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے اور اللہ کا ارادہ نہ ہو تو وہ سب تجھے ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور سب جمع ہو کر تجھے کوئی نفع پہنچانا چاہیں جو اللہ نے مقدر میں نہ لکھا ہو تو ہرگز نہیں پہنچا سکتا۔ صحیفے خشک ہو چکے قلمیں اٹھالی گئیں۔ یقین اور شکر کے ساتھ نیکیوں میں مشغول رہا کر تکلیفوں میں صبر کرنے پر بڑی نیکیاں ملتی ہیں۔ مدد صبر کے ساتھ ہے۔ غم و رنج کے ساتھ ہی خوشی اور فراخی ہے۔ ہر سختی اپنے اندر آسانی کو لیے ہوئے ہے ۔ [مسند احمد:307/1:صحیح] ‏

” تو کہدے کہ مجھے اللہ بس ہے۔ بھروسہ کرن والے اسی کی پاک ذات پر بھروسہ کرتے ہیں “۔

جیسے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو جواب دیا تھا «إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» [11-هود:54-56] ‏ ” جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ اے ہود ہمارے خیال سے تو تمہیں ہمارے کسی معبود نے کسی خرابی میں مبتلا کر دیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں تمہارے تمام معبودان باطل سے بیزار ہوں۔ تم سب مل کر میرے ساتھ جو داؤ گھات تم سے ہو سکتے ہیں سب کر لو اور مجھے مطلق مہلت نہ دو۔ سنو میرا توکل میرے رب پر ہے جو دراصل تم سب کا بھی رب ہے۔ روئے زمین پر جتنے چلنے پھرنے والے ہیں سب کی چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ میرا رب صراط مستقیم پر ہے “۔

رسول اللہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص سب سے زیادہ قوی ہونا چاہے وہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور جو سب سے زیادہ غنی بننا چاہے وہ اس چیز پر جو اللہ کے ہاتھ میں ہے زیادہ اعتماد رکھے بہ نسبت اس چیز کے جو خود اس کے ہاتھ میں ہے اور جو سب سے زیادہ بزرگ ہونا چاہے وہ اللہ عزوجل سے ڈرتا رہے ۔ [مسند عبد بن حمید:675:ضعیف] ‏

پھر مشرکین کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” اچھا تم اپنے طریقے پر عمل کرتے چلے جاؤ۔ میں اپنے طریقے پر عامل ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ دنیا میں ذلیل و خوار کون ہوتا ہے؟ اور آخرت کے دائمی عذاب میں گرفتار کون ہوتا ہے؟“ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔

صفحہ نمبر7828

بھروسہ کے لائق صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے ٭٭

ایک قرأت میں «اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عِبَادَهُ» ہے، یعنی ” اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کو کافی ہے “۔ اسی پر ہر شخص کو بھروسہ رکھنا چاہیئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس نے نجات پالی جو اسلام کی ہدایت دیا گیا اور بقدر ضرورت روزی دیا گیا اور قناعت بھی نصیب ہوئی ۔ [سنن ترمذي:2349،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ لوگ تجھے اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں۔ یہ ان کی جہالت و ضلالت ہے، اور اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، جس طرح اللہ کے راہ دکھائے ہوئے شخص کو کوئی بہکا نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ والا ہے اس پر بھروسہ کرنے والے کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا اور اس کی طرف جھک جانے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ اس سے بڑھ کر عزت والا کوئی نہیں “۔

صفحہ نمبر7827

اسی طرح اس سے بڑھ کر انتقام پر قادر بھی کوئی نہیں۔ جو اس کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں۔ اس کے رسولوں سے لڑتے بھڑتے ہیں یقیناً وہ انہیں سخت سزائیں دے گا۔

مشرکین کی مزید جہالت بیان ہو رہی ہے کہ باوجود اللہ تعالیٰ کو خالق کل ماننے کے پھر بھی ایسے معبودان باطلہ کی پرستش کرتے ہیں جو کسی نفع نقصان کے مالک نہیں جنہیں کسی امر کا کوئی اختیار نہیں۔ حدیث شریف میں ہے اللہ کو یاد کر وہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کو یاد رکھ تو اسے ہر وقت اپنے پاس پائے گا۔ آسانی کے وقت رب کی نعمتوں کا شکر گذار رہ سختی کے وقت وہ تیرے کام آئے گا۔ جب کچھ مانگ تو اللہ ہی سے مانگ اور جب مدد طلب کر تو اسی سے مدد طلب کر یقین رکھ کر اگر تمام دنیا مل کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے اور اللہ کا ارادہ نہ ہو تو وہ سب تجھے ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور سب جمع ہو کر تجھے کوئی نفع پہنچانا چاہیں جو اللہ نے مقدر میں نہ لکھا ہو تو ہرگز نہیں پہنچا سکتا۔ صحیفے خشک ہو چکے قلمیں اٹھالی گئیں۔ یقین اور شکر کے ساتھ نیکیوں میں مشغول رہا کر تکلیفوں میں صبر کرنے پر بڑی نیکیاں ملتی ہیں۔ مدد صبر کے ساتھ ہے۔ غم و رنج کے ساتھ ہی خوشی اور فراخی ہے۔ ہر سختی اپنے اندر آسانی کو لیے ہوئے ہے ۔ [مسند احمد:307/1:صحیح] ‏

” تو کہدے کہ مجھے اللہ بس ہے۔ بھروسہ کرن والے اسی کی پاک ذات پر بھروسہ کرتے ہیں “۔

جیسے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو جواب دیا تھا «إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» [11-هود:54-56] ‏ ” جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ اے ہود ہمارے خیال سے تو تمہیں ہمارے کسی معبود نے کسی خرابی میں مبتلا کر دیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں تمہارے تمام معبودان باطل سے بیزار ہوں۔ تم سب مل کر میرے ساتھ جو داؤ گھات تم سے ہو سکتے ہیں سب کر لو اور مجھے مطلق مہلت نہ دو۔ سنو میرا توکل میرے رب پر ہے جو دراصل تم سب کا بھی رب ہے۔ روئے زمین پر جتنے چلنے پھرنے والے ہیں سب کی چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ میرا رب صراط مستقیم پر ہے “۔

رسول اللہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص سب سے زیادہ قوی ہونا چاہے وہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور جو سب سے زیادہ غنی بننا چاہے وہ اس چیز پر جو اللہ کے ہاتھ میں ہے زیادہ اعتماد رکھے بہ نسبت اس چیز کے جو خود اس کے ہاتھ میں ہے اور جو سب سے زیادہ بزرگ ہونا چاہے وہ اللہ عزوجل سے ڈرتا رہے ۔ [مسند عبد بن حمید:675:ضعیف] ‏

پھر مشرکین کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” اچھا تم اپنے طریقے پر عمل کرتے چلے جاؤ۔ میں اپنے طریقے پر عامل ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ دنیا میں ذلیل و خوار کون ہوتا ہے؟ اور آخرت کے دائمی عذاب میں گرفتار کون ہوتا ہے؟“ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔

صفحہ نمبر7828

نیند اور موت کے وقت ارواح کا قبض کرنا ٭٭

اللہ تعالیٰ رب العزت اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ ” ہم نے تجھ پر اس قرآن کو سچائی اور راستی کے ساتھ تمام جن و انس کی ہدایت کے لیے نازل فرمایا ہے “۔ اس کے فرمان کو مان کر راہ راست حاصل کرنے والے اپنا ہی نفع کریں گے اور اس کے ہوتے ہوئے بھی دوسری غلط راہوں پر چلنے والے اپنا ہی بگاڑیں گے تو اس امر کا ذمے دار نہیں کہ خواہ مخواہ ہر شخص اسے مان ہی لے۔ «فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] ‏ ” تیرے ذمے صرف اس کا پہنچا دینا ہے۔ حساب لینے والے ہم ہیں “، ” ہم ہر موجود میں جو چاہیں تصرف کرتے رہتے ہیں، وفات کبریٰ جس میں ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے انسان کی روح قبض کر لیتے ہیں اور وفات صغریٰ جو نیند کے وقت ہوتی ہے ہمارے ہی قبضے میں ہے “۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَ‌حْتُم بِالنَّهَارِ‌ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَىٰ أَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْ‌جِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ وَهُوَ الْقَاهِرُ‌ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْ‌سِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُ‌سُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّ‌طُونَ» ‏ [6-الأنعام:60-61] ‏، یعنی ” وہ اللہ جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو جانتا ہے پھر تمہیں دن میں اٹھا بٹھاتا ہے تاکہ مقرر کیا ہوا وقت پورا کر دیا جائے پھر تم سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال کی خبر دے گا۔ وہی اپنے سب بندوں پر غالب ہے وہی تم پر نگہبان فرشتے بھیجتا ہے۔ تاوقتیکہ تم میں سے کسی کی موت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ تقصیر اور کمی نہیں کرتے “۔

پس ان دونوں آیتوں میں بھی یہی ذکر ہوا ہے پہلے چھوٹی موت کو پھر بڑی موت کو بیان فرمایا۔ یہاں پہلے بڑی وفات کو پھر چھوٹی وفات کو ذکر کیا۔ اس سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ملاء اعلیٰ میں یہ روحیں جمع ہوتی ہیں جیسے کہ صحیح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی بستر پر سونے کو جائے تو اپنے تہ بند کے اندرونی حصے سے اسے جھاڑ لے، نہ جانے اس پر کیا کچھ ہو پھر یہ دعا پڑھے «بِاسْمِكَ رَبِّـي وَضَعْـتُ جَنْـبي، وَبِكَ أَرْفَعُـه، فَإِن أَمْسَـكْتَ نَفْسـي فارْحَـمْها، وَإِنْ أَرْسَلْتَـها فاحْفَظْـها بِمـا تَحْفَـظُ بِه عِبـادَكَ الصّـالِحـين» یعنی اے میرے پالنے والے رب تیرے ہی پاک نام کی برکت سے میں لیٹتا ہوں اور تیری ہی رحمت میں جاگوں گا۔ اگر تو میری روح کو روک لے تو اس پر رحم فرما اور اگر تو اسے بھیج دے تو اس کی ایسی ہی حفاظت کرنا جیسی تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔ [صحیح بخاری:6320] ‏

صفحہ نمبر7833

بعض سلف کا قول ہے کہ ”مردوں کی روحیں جب وہ مریں اور زندوں کی روحیں جب وہ سوئیں قبض کر لی جاتی ہیں اور ان میں آپس میں تعارف ہوتا ہے۔ جب تک اللہ چاہے پھر مردوں کی روحیں تو روک لی جاتی ہیں اور دوسری روحیں مقررہ وقت تک کے لیے چھوڑ دی جاتی ہیں۔ یعنی مرنے کے وقت تک۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مردوں کی روحیں اللہ تعالیٰ روک لیتا ہے اور زندوں کی روحیں واپس بھیج دیتا ہے اور اس میں کبھی غلطی نہیں ہوتی غور و فکر کے جو عادی ہیں وہ اسی ایک بات میں قدرت الٰہی کے بہت سے دلائل پا لیتے ہیں۔‏“

صفحہ نمبر7834

نیند اور موت کے وقت ارواح کا قبض کرنا ٭٭

اللہ تعالیٰ رب العزت اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ ” ہم نے تجھ پر اس قرآن کو سچائی اور راستی کے ساتھ تمام جن و انس کی ہدایت کے لیے نازل فرمایا ہے “۔ اس کے فرمان کو مان کر راہ راست حاصل کرنے والے اپنا ہی نفع کریں گے اور اس کے ہوتے ہوئے بھی دوسری غلط راہوں پر چلنے والے اپنا ہی بگاڑیں گے تو اس امر کا ذمے دار نہیں کہ خواہ مخواہ ہر شخص اسے مان ہی لے۔ «فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] ‏ ” تیرے ذمے صرف اس کا پہنچا دینا ہے۔ حساب لینے والے ہم ہیں “، ” ہم ہر موجود میں جو چاہیں تصرف کرتے رہتے ہیں، وفات کبریٰ جس میں ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے انسان کی روح قبض کر لیتے ہیں اور وفات صغریٰ جو نیند کے وقت ہوتی ہے ہمارے ہی قبضے میں ہے “۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَ‌حْتُم بِالنَّهَارِ‌ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَىٰ أَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْ‌جِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ وَهُوَ الْقَاهِرُ‌ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْ‌سِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُ‌سُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّ‌طُونَ» ‏ [6-الأنعام:60-61] ‏، یعنی ” وہ اللہ جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو جانتا ہے پھر تمہیں دن میں اٹھا بٹھاتا ہے تاکہ مقرر کیا ہوا وقت پورا کر دیا جائے پھر تم سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال کی خبر دے گا۔ وہی اپنے سب بندوں پر غالب ہے وہی تم پر نگہبان فرشتے بھیجتا ہے۔ تاوقتیکہ تم میں سے کسی کی موت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ تقصیر اور کمی نہیں کرتے “۔

پس ان دونوں آیتوں میں بھی یہی ذکر ہوا ہے پہلے چھوٹی موت کو پھر بڑی موت کو بیان فرمایا۔ یہاں پہلے بڑی وفات کو پھر چھوٹی وفات کو ذکر کیا۔ اس سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ملاء اعلیٰ میں یہ روحیں جمع ہوتی ہیں جیسے کہ صحیح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی بستر پر سونے کو جائے تو اپنے تہ بند کے اندرونی حصے سے اسے جھاڑ لے، نہ جانے اس پر کیا کچھ ہو پھر یہ دعا پڑھے «بِاسْمِكَ رَبِّـي وَضَعْـتُ جَنْـبي، وَبِكَ أَرْفَعُـه، فَإِن أَمْسَـكْتَ نَفْسـي فارْحَـمْها، وَإِنْ أَرْسَلْتَـها فاحْفَظْـها بِمـا تَحْفَـظُ بِه عِبـادَكَ الصّـالِحـين» یعنی اے میرے پالنے والے رب تیرے ہی پاک نام کی برکت سے میں لیٹتا ہوں اور تیری ہی رحمت میں جاگوں گا۔ اگر تو میری روح کو روک لے تو اس پر رحم فرما اور اگر تو اسے بھیج دے تو اس کی ایسی ہی حفاظت کرنا جیسی تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔ [صحیح بخاری:6320] ‏

صفحہ نمبر7833

بعض سلف کا قول ہے کہ ”مردوں کی روحیں جب وہ مریں اور زندوں کی روحیں جب وہ سوئیں قبض کر لی جاتی ہیں اور ان میں آپس میں تعارف ہوتا ہے۔ جب تک اللہ چاہے پھر مردوں کی روحیں تو روک لی جاتی ہیں اور دوسری روحیں مقررہ وقت تک کے لیے چھوڑ دی جاتی ہیں۔ یعنی مرنے کے وقت تک۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مردوں کی روحیں اللہ تعالیٰ روک لیتا ہے اور زندوں کی روحیں واپس بھیج دیتا ہے اور اس میں کبھی غلطی نہیں ہوتی غور و فکر کے جو عادی ہیں وہ اسی ایک بات میں قدرت الٰہی کے بہت سے دلائل پا لیتے ہیں۔‏“

صفحہ نمبر7834

مشرکین کی مذمت ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کی مذمت بیان فرماتا ہے کہ ” وہ بتوں اور معبودان باطلہ کو اپنا سفارشی اور شفیع سمجھتے ہیں، اس کی نہ کوئی دلیل ہے نہ حجت اور دراصل انہیں نہ کچھ اختیار ہے نہ عقل و شعور۔ نہ ان کی آنکھیں نہ ان کے کان، وہ تو پتھر اور جمادات ہیں جو حیوانوں میں درجہا بدتر ہیں “۔

اس لیے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ” ان سے کہہ دو، کوئی نہیں جو اللہ کے سامنے لب ہلا سکے آواز اٹھا سکے جب تک کہ اس کی مرضی نہ پالے اور اجازت حاصل نہ کر لے، ساری شفاعتوں کا مالک وہی ہے، زمین و آسمان کا بادشاہ تنہا وہی ہے۔ قیامت کے دن تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے،۔ اس وقت وہ عدل کے ساتھ تم سب میں سچے فیصلے کرے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا “۔

ان کافروں کی یہ حالت ہے کہ توحید کا کلمہ سننا انہیں ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر سن کر ان کے دل تنگ ہو جاتے ہیں۔ اس کا سننا بھی انہیں پسند نہیں۔ ان کا جی اس میں نہیں لگتا۔ کفر و تکبر انہیں روک دیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ يَسْتَكْبِرُونَ» [37-الصافات:35] ‏ یعنی ” ان سے جب کہا جاتا تھا کہ اللہ ایک کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں تو یہ تکبر کرتے تھے اور ماننے سے جی چراتے تھے “۔

چونکہ ان کے دل حق کے منکر ہیں اس لیے باطل کو بہت جلد قبول کر لیتے ہیں۔ جہاں بتوں کا اور دوسرے اللہ کا ذکر آیا، ان کی باچھیں کھل گئیں۔

صفحہ نمبر7836

مشرکین کی مذمت ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کی مذمت بیان فرماتا ہے کہ ” وہ بتوں اور معبودان باطلہ کو اپنا سفارشی اور شفیع سمجھتے ہیں، اس کی نہ کوئی دلیل ہے نہ حجت اور دراصل انہیں نہ کچھ اختیار ہے نہ عقل و شعور۔ نہ ان کی آنکھیں نہ ان کے کان، وہ تو پتھر اور جمادات ہیں جو حیوانوں میں درجہا بدتر ہیں “۔

اس لیے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ” ان سے کہہ دو، کوئی نہیں جو اللہ کے سامنے لب ہلا سکے آواز اٹھا سکے جب تک کہ اس کی مرضی نہ پالے اور اجازت حاصل نہ کر لے، ساری شفاعتوں کا مالک وہی ہے، زمین و آسمان کا بادشاہ تنہا وہی ہے۔ قیامت کے دن تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے،۔ اس وقت وہ عدل کے ساتھ تم سب میں سچے فیصلے کرے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا “۔

ان کافروں کی یہ حالت ہے کہ توحید کا کلمہ سننا انہیں ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر سن کر ان کے دل تنگ ہو جاتے ہیں۔ اس کا سننا بھی انہیں پسند نہیں۔ ان کا جی اس میں نہیں لگتا۔ کفر و تکبر انہیں روک دیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ يَسْتَكْبِرُونَ» [37-الصافات:35] ‏ یعنی ” ان سے جب کہا جاتا تھا کہ اللہ ایک کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں تو یہ تکبر کرتے تھے اور ماننے سے جی چراتے تھے “۔

چونکہ ان کے دل حق کے منکر ہیں اس لیے باطل کو بہت جلد قبول کر لیتے ہیں۔ جہاں بتوں کا اور دوسرے اللہ کا ذکر آیا، ان کی باچھیں کھل گئیں۔

صفحہ نمبر7836

مشرکین کی مذمت ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کی مذمت بیان فرماتا ہے کہ ” وہ بتوں اور معبودان باطلہ کو اپنا سفارشی اور شفیع سمجھتے ہیں، اس کی نہ کوئی دلیل ہے نہ حجت اور دراصل انہیں نہ کچھ اختیار ہے نہ عقل و شعور۔ نہ ان کی آنکھیں نہ ان کے کان، وہ تو پتھر اور جمادات ہیں جو حیوانوں میں درجہا بدتر ہیں “۔

اس لیے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ” ان سے کہہ دو، کوئی نہیں جو اللہ کے سامنے لب ہلا سکے آواز اٹھا سکے جب تک کہ اس کی مرضی نہ پالے اور اجازت حاصل نہ کر لے، ساری شفاعتوں کا مالک وہی ہے، زمین و آسمان کا بادشاہ تنہا وہی ہے۔ قیامت کے دن تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے،۔ اس وقت وہ عدل کے ساتھ تم سب میں سچے فیصلے کرے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا “۔

ان کافروں کی یہ حالت ہے کہ توحید کا کلمہ سننا انہیں ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر سن کر ان کے دل تنگ ہو جاتے ہیں۔ اس کا سننا بھی انہیں پسند نہیں۔ ان کا جی اس میں نہیں لگتا۔ کفر و تکبر انہیں روک دیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ يَسْتَكْبِرُونَ» [37-الصافات:35] ‏ یعنی ” ان سے جب کہا جاتا تھا کہ اللہ ایک کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں تو یہ تکبر کرتے تھے اور ماننے سے جی چراتے تھے “۔

چونکہ ان کے دل حق کے منکر ہیں اس لیے باطل کو بہت جلد قبول کر لیتے ہیں۔ جہاں بتوں کا اور دوسرے اللہ کا ذکر آیا، ان کی باچھیں کھل گئیں۔

صفحہ نمبر7836

صبح و شام کے بعض و ظائف ٭٭

مشرکین کو جو نفرت توحید سے ہے اور جو محبت شرک سے ہے اسے بیان فرما کر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» فرماتا ہے کہ ” تو صرف اللہ تعالیٰ واحد کو ہی پکار جو آسمان و زمین کا خالق ہے اور اس وقت اس نے انہیں پیدا کیا ہے جبکہ نہ یہ کچھ تھے نہ ان کا کوئی نمونہ تھا۔ وہ ظاہر و باطن چھپے کھلے کا عالم ہے۔ یہ لوگ جو جو اختلافات اپنے آپس میں کرتے تھے سب کا فیصلہ اس دن ہو گا جب یہ قبروں سے نکلیں اور میدان قیامت میں آئیں گے “۔

صفحہ نمبر7839

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمتہ اللہ علیہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس دعا سے «اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» “ یعنی اللہ اے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب اے آسمان و زمین کو بے نمونے کے پیدا کرنے والے اسے حاضر و غائب کئے جانے والے تو ہی اپنے بندوں کے اختلاف کا فیصلہ کرنے والا ہے جس جس چیز میں اختلاف کیا گیا ہے تو مجھے ان سب میں اپنے فضل سے حق راہ دکھا تو جسے چاہے سیدھی راہ کی رہنمائی کرتا ہے ۔ [صحیح مسلم:770] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو بندہ اس دعا کو پڑھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے فرشتوں سے فرمائے گا کہ میرے اس بندے نے مجھ سے عہد لیا ہے اس عہد کو پورا کرو۔ چنانچہ اسے جنت میں پہنچا دیا جائے گا۔ وہ دعا یہ ہے، «‏اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنْ الشَّرِّ وَتُبَاعِدْنِي مِنْ الْخَيْرِ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ، فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» ‏ یعنی اے اللہ اے آسمان و زمین کو بے نمونے کے پیدا کرنے والے اے غائب و حاضر کے جاننے والے میں اس دنیا میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میری گواہی ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور میری یہ بھی شہادت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ تو اگر مجھے میری ہی طرف سونپ دے گا تو میں برائی سے قریب اور بھلائی سے دور پڑ جاؤں گا۔ اللہ مجھے صرف تیری رحمت ہی کا سہارا اور بھروسہ ہے پس تو بھی مجھ سے عہد کر جسے تو قیامت کے دن پورا کرے یقیناً تو عہد شکن نہیں ۔ اس حدیث کے راوی سہیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن عبدالرحمٰن سے جب کہا کہ عون اس طرح یہ حدیث بیان کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا سبحان اللہ ہماری تو پردہ نشین بچیوں کو بھی یہ حدیث یاد ہے۔ [مسند احمد:412/1:ضعیف و منقطع] ‏

صفحہ نمبر7840

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ایک کاغذ نکالا اور فرمایا کہ یہ دعا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَىْءٍ وَمَلِيكَهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي إِثْمًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسلِمٍ» یعنی اے اللہ اے آسمان و زمین کو بے نمونہ پیدا کرنے والے چھپی کھلی کے جاننے والے تو ہرچیز کا رب ہے اور ہرچیز کا معبود ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں اور فرشتے بھی یہی گواہی دیتے ہیں۔ میں شیطان سے اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں تجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں کہ میں اپنی جان پر کوئی گناہ کروں یا کسی اور مسلمان کی طرف کسی گناہ کو لے جاؤں۔ ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اس دعا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو سکھایا تھا اسے سونے کے وقت پڑھا کرتے تھے ۔ [مسند احمد:171/2:صحیح لغیره] ‏

اور روایت میں ہے کہ ابو راشد حبرائی رحمہ اللہ نے کوئی حدیث سننے کی خواہش سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک کتاب نکال کر ان کے سامنے رکھ دی اور فرمایا یہ ہے جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی ہے میں نے دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں صبح و شام کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پڑھو، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَىْءٍ وَمَلِيكَہہ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوء‬ أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسلِمٍ» ؎ [سنن ترمذي:3529،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے اس دعا کے پڑھنے کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح شام اور سوتے وقت حکم دیا ہے ۔ [سنن ترمذي:3592،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

دوسری آیت میں ظالموں سے مراد مشرکین ہیں۔ فرماتا ہے کہ ” اگر ان کے پاس روئے زمین کے خزانے اتنے ہی اور ہوں تو بھی یہ قیامت کے بدترین عذاب کے بدلے انہیں اپنے فدیئے میں اور اپنی جان کے بدلے میں دینے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ لیکن اس دن کوئی فدیہ اور بدلہ قبول نہ کیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں “۔

جیسے کہ اور آیت میں بیان فرما دیا ہے، ” آج اللہ کے وہ عذاب ان کے سامنے آئیں گے کہ کبھی انہیں ان کا خیال بھی نہ گذرا تھا جو جو حرام کاریاں بدکاریاں گناہ اور برائیاں انہوں نے دنیا میں کی تھیں اب سب کی سب اپنے آگے موجود پائیں گے دنیا میں جس سزا کا ذکر سن کر مذاق کرتے تھے آج وہ انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی “۔

صفحہ نمبر7841

صبح و شام کے بعض و ظائف ٭٭

مشرکین کو جو نفرت توحید سے ہے اور جو محبت شرک سے ہے اسے بیان فرما کر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» فرماتا ہے کہ ” تو صرف اللہ تعالیٰ واحد کو ہی پکار جو آسمان و زمین کا خالق ہے اور اس وقت اس نے انہیں پیدا کیا ہے جبکہ نہ یہ کچھ تھے نہ ان کا کوئی نمونہ تھا۔ وہ ظاہر و باطن چھپے کھلے کا عالم ہے۔ یہ لوگ جو جو اختلافات اپنے آپس میں کرتے تھے سب کا فیصلہ اس دن ہو گا جب یہ قبروں سے نکلیں اور میدان قیامت میں آئیں گے “۔

صفحہ نمبر7839

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمتہ اللہ علیہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس دعا سے «اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» “ یعنی اللہ اے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب اے آسمان و زمین کو بے نمونے کے پیدا کرنے والے اسے حاضر و غائب کئے جانے والے تو ہی اپنے بندوں کے اختلاف کا فیصلہ کرنے والا ہے جس جس چیز میں اختلاف کیا گیا ہے تو مجھے ان سب میں اپنے فضل سے حق راہ دکھا تو جسے چاہے سیدھی راہ کی رہنمائی کرتا ہے ۔ [صحیح مسلم:770] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو بندہ اس دعا کو پڑھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے فرشتوں سے فرمائے گا کہ میرے اس بندے نے مجھ سے عہد لیا ہے اس عہد کو پورا کرو۔ چنانچہ اسے جنت میں پہنچا دیا جائے گا۔ وہ دعا یہ ہے، «‏اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنْ الشَّرِّ وَتُبَاعِدْنِي مِنْ الْخَيْرِ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ، فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» ‏ یعنی اے اللہ اے آسمان و زمین کو بے نمونے کے پیدا کرنے والے اے غائب و حاضر کے جاننے والے میں اس دنیا میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میری گواہی ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور میری یہ بھی شہادت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ تو اگر مجھے میری ہی طرف سونپ دے گا تو میں برائی سے قریب اور بھلائی سے دور پڑ جاؤں گا۔ اللہ مجھے صرف تیری رحمت ہی کا سہارا اور بھروسہ ہے پس تو بھی مجھ سے عہد کر جسے تو قیامت کے دن پورا کرے یقیناً تو عہد شکن نہیں ۔ اس حدیث کے راوی سہیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن عبدالرحمٰن سے جب کہا کہ عون اس طرح یہ حدیث بیان کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا سبحان اللہ ہماری تو پردہ نشین بچیوں کو بھی یہ حدیث یاد ہے۔ [مسند احمد:412/1:ضعیف و منقطع] ‏

صفحہ نمبر7840

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ایک کاغذ نکالا اور فرمایا کہ یہ دعا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَىْءٍ وَمَلِيكَهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي إِثْمًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسلِمٍ» یعنی اے اللہ اے آسمان و زمین کو بے نمونہ پیدا کرنے والے چھپی کھلی کے جاننے والے تو ہرچیز کا رب ہے اور ہرچیز کا معبود ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں اور فرشتے بھی یہی گواہی دیتے ہیں۔ میں شیطان سے اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں تجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں کہ میں اپنی جان پر کوئی گناہ کروں یا کسی اور مسلمان کی طرف کسی گناہ کو لے جاؤں۔ ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اس دعا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو سکھایا تھا اسے سونے کے وقت پڑھا کرتے تھے ۔ [مسند احمد:171/2:صحیح لغیره] ‏

اور روایت میں ہے کہ ابو راشد حبرائی رحمہ اللہ نے کوئی حدیث سننے کی خواہش سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک کتاب نکال کر ان کے سامنے رکھ دی اور فرمایا یہ ہے جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی ہے میں نے دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں صبح و شام کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پڑھو، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَىْءٍ وَمَلِيكَہہ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوء‬ أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسلِمٍ» ؎ [سنن ترمذي:3529،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے اس دعا کے پڑھنے کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح شام اور سوتے وقت حکم دیا ہے ۔ [سنن ترمذي:3592،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

دوسری آیت میں ظالموں سے مراد مشرکین ہیں۔ فرماتا ہے کہ ” اگر ان کے پاس روئے زمین کے خزانے اتنے ہی اور ہوں تو بھی یہ قیامت کے بدترین عذاب کے بدلے انہیں اپنے فدیئے میں اور اپنی جان کے بدلے میں دینے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ لیکن اس دن کوئی فدیہ اور بدلہ قبول نہ کیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں “۔

جیسے کہ اور آیت میں بیان فرما دیا ہے، ” آج اللہ کے وہ عذاب ان کے سامنے آئیں گے کہ کبھی انہیں ان کا خیال بھی نہ گذرا تھا جو جو حرام کاریاں بدکاریاں گناہ اور برائیاں انہوں نے دنیا میں کی تھیں اب سب کی سب اپنے آگے موجود پائیں گے دنیا میں جس سزا کا ذکر سن کر مذاق کرتے تھے آج وہ انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی “۔

صفحہ نمبر7841

صبح و شام کے بعض و ظائف ٭٭

مشرکین کو جو نفرت توحید سے ہے اور جو محبت شرک سے ہے اسے بیان فرما کر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» فرماتا ہے کہ ” تو صرف اللہ تعالیٰ واحد کو ہی پکار جو آسمان و زمین کا خالق ہے اور اس وقت اس نے انہیں پیدا کیا ہے جبکہ نہ یہ کچھ تھے نہ ان کا کوئی نمونہ تھا۔ وہ ظاہر و باطن چھپے کھلے کا عالم ہے۔ یہ لوگ جو جو اختلافات اپنے آپس میں کرتے تھے سب کا فیصلہ اس دن ہو گا جب یہ قبروں سے نکلیں اور میدان قیامت میں آئیں گے “۔

صفحہ نمبر7839

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمتہ اللہ علیہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس دعا سے «اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» “ یعنی اللہ اے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب اے آسمان و زمین کو بے نمونے کے پیدا کرنے والے اسے حاضر و غائب کئے جانے والے تو ہی اپنے بندوں کے اختلاف کا فیصلہ کرنے والا ہے جس جس چیز میں اختلاف کیا گیا ہے تو مجھے ان سب میں اپنے فضل سے حق راہ دکھا تو جسے چاہے سیدھی راہ کی رہنمائی کرتا ہے ۔ [صحیح مسلم:770] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو بندہ اس دعا کو پڑھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے فرشتوں سے فرمائے گا کہ میرے اس بندے نے مجھ سے عہد لیا ہے اس عہد کو پورا کرو۔ چنانچہ اسے جنت میں پہنچا دیا جائے گا۔ وہ دعا یہ ہے، «‏اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنْ الشَّرِّ وَتُبَاعِدْنِي مِنْ الْخَيْرِ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ، فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» ‏ یعنی اے اللہ اے آسمان و زمین کو بے نمونے کے پیدا کرنے والے اے غائب و حاضر کے جاننے والے میں اس دنیا میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میری گواہی ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور میری یہ بھی شہادت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ تو اگر مجھے میری ہی طرف سونپ دے گا تو میں برائی سے قریب اور بھلائی سے دور پڑ جاؤں گا۔ اللہ مجھے صرف تیری رحمت ہی کا سہارا اور بھروسہ ہے پس تو بھی مجھ سے عہد کر جسے تو قیامت کے دن پورا کرے یقیناً تو عہد شکن نہیں ۔ اس حدیث کے راوی سہیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن عبدالرحمٰن سے جب کہا کہ عون اس طرح یہ حدیث بیان کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا سبحان اللہ ہماری تو پردہ نشین بچیوں کو بھی یہ حدیث یاد ہے۔ [مسند احمد:412/1:ضعیف و منقطع] ‏

صفحہ نمبر7840

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ایک کاغذ نکالا اور فرمایا کہ یہ دعا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَىْءٍ وَمَلِيكَهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي إِثْمًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسلِمٍ» یعنی اے اللہ اے آسمان و زمین کو بے نمونہ پیدا کرنے والے چھپی کھلی کے جاننے والے تو ہرچیز کا رب ہے اور ہرچیز کا معبود ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں اور فرشتے بھی یہی گواہی دیتے ہیں۔ میں شیطان سے اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں تجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں کہ میں اپنی جان پر کوئی گناہ کروں یا کسی اور مسلمان کی طرف کسی گناہ کو لے جاؤں۔ ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اس دعا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو سکھایا تھا اسے سونے کے وقت پڑھا کرتے تھے ۔ [مسند احمد:171/2:صحیح لغیره] ‏

اور روایت میں ہے کہ ابو راشد حبرائی رحمہ اللہ نے کوئی حدیث سننے کی خواہش سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک کتاب نکال کر ان کے سامنے رکھ دی اور فرمایا یہ ہے جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی ہے میں نے دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں صبح و شام کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پڑھو، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَىْءٍ وَمَلِيكَہہ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوء‬ أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسلِمٍ» ؎ [سنن ترمذي:3529،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے اس دعا کے پڑھنے کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح شام اور سوتے وقت حکم دیا ہے ۔ [سنن ترمذي:3592،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

دوسری آیت میں ظالموں سے مراد مشرکین ہیں۔ فرماتا ہے کہ ” اگر ان کے پاس روئے زمین کے خزانے اتنے ہی اور ہوں تو بھی یہ قیامت کے بدترین عذاب کے بدلے انہیں اپنے فدیئے میں اور اپنی جان کے بدلے میں دینے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ لیکن اس دن کوئی فدیہ اور بدلہ قبول نہ کیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں “۔

جیسے کہ اور آیت میں بیان فرما دیا ہے، ” آج اللہ کے وہ عذاب ان کے سامنے آئیں گے کہ کبھی انہیں ان کا خیال بھی نہ گذرا تھا جو جو حرام کاریاں بدکاریاں گناہ اور برائیاں انہوں نے دنیا میں کی تھیں اب سب کی سب اپنے آگے موجود پائیں گے دنیا میں جس سزا کا ذکر سن کر مذاق کرتے تھے آج وہ انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی “۔

صفحہ نمبر7841

انسان کا ناشکرا پن ٭٭

اللہ تعالیٰ انسان کی حالت کو بیان فرماتا ہے کہ ” مشکل کے وقت تو وہ آہ و زاری شروع کر دیتا ہے، اللہ کی طرف پوری طرح راجع اور راغب ہو جاتا ہے، لیکن جہاں مشکل ہو گئی جہاں راحت و نعمت حاصل ہوئی یہ سرکش و متکبر بنا “۔ اور اکڑتا ہوا کہنے لگا کہ یہ تو اللہ کے ذمے میرا حق تھا۔ میں اللہ کے نزدیک اس کا مستحق تھا ہی۔ میری اپنی عقلمندی اور خوش تدبیری کی وجہ سے اس نعمت کو میں نے حاصل کیا ہے۔

صفحہ نمبر7844

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” بات یوں نہیں بلکہ دراصل یہ ہماری طرف کی آزمائش ہے گو ہمیں ازل سے علم حاصل ہے لیکن تاہم ہم اسے ظہور میں لانا چاہتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس نعمت کا یہ شکر ادا کرتا ہے یا ناشکری؟ لیکن یہ لوگ بےعلم ہیں۔ دعوے کرتے ہیں منہ سے بات نکال دیتے ہیں لیکن اصلیت سے بے خبر ہیں، یہی دعویٰ اور یہی قول ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی کیا اور کہا، لیکن ان کا قول صحیح ثابت نہ ہوا اور ان نعمتوں نے، کسی اور چیز نے اور ان کے اعمال نے انہیں کوئی نفع نہ دیا، جس طرح ان پر وبال ٹوٹ پڑا اسی طرح ان پر بھی ایک دن ان کی بداعمالیوں کا وبال آ پڑے گا اور یہ اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے۔ نہ تھکا اور ہرا سکتے ہیں “۔

جیسے کہ قارون سے اس کی قوم نے کہا تھا «إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ وَآتَيْنَاهُ مِنَ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا تَفْرَحْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّـهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّـهُ إِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي أَوَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ قَدْ أَهْلَكَ مِن قَبْلِهِ مِنَ الْقُرُونِ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَأَكْثَرُ جَمْعًا وَلَا يُسْأَلُ عَن ذُنُوبِهِمُ الْمُجْرِمُونَ» [28-القص:76-78] ‏ ” کہ اس قدر اکڑ نہیں اللہ تعالیٰ خود پسندوں کو محبوب نہیں رکھتا۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو خرچ کر کے آخرت کی تیاری کر اور وہاں کا سامان مہیا کر۔ اس دنیا میں بھی فائدہ اٹھاتا رہ اور جیسے اللہ نے تیرے ساتھ سلوک کیا ہے، تو بھی لوگوں کے ساتھ احسان کرتا رہ۔ زمین میں فساد کرنے والا مت بن اللہ تعالیٰ مفسدوں سے محبت نہیں کرتا “۔

اس پر قارون نے جواب دیا کہ ان تمام نعمتوں اور جاہ و دولت کو میں نے اپنی دانائی اور علم و ہنر سے حاصل کیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” کیا اسے یہ معلوم نہیں کہ اس سے پہلے اس سے زیادہ قوت اور اس سے زیادہ جمع جتھا والوں کو میں نے ہلاک و برباد کر دیا ہے، مجرم اپنے گناہوں کے بارے میں پوچھے نہ جائیں گے “۔

صفحہ نمبر7845

الغرض مال و اولاد پر پھول کر اللہ کو بھول جانا یہ شیوہ کفر ہے۔ کفار کا قول تھا کہ ہم مال و اولاد میں زیادہ ہیں ہمیں عذاب نہیں ہو گا، ” کیا انہیں اب تک یہ معلوم نہیں کہ رزق کا مالک اللہ تعالیٰ ہے جس کیلئے چاہے کشادگی کرے اور جس پر چاہے تنگی کرے۔ اس میں ایمان والوں کیلئے طرح طرح کی عبرتیں اور دلیلیں ہیں “۔

صفحہ نمبر7846

انسان کا ناشکرا پن ٭٭

اللہ تعالیٰ انسان کی حالت کو بیان فرماتا ہے کہ ” مشکل کے وقت تو وہ آہ و زاری شروع کر دیتا ہے، اللہ کی طرف پوری طرح راجع اور راغب ہو جاتا ہے، لیکن جہاں مشکل ہو گئی جہاں راحت و نعمت حاصل ہوئی یہ سرکش و متکبر بنا “۔ اور اکڑتا ہوا کہنے لگا کہ یہ تو اللہ کے ذمے میرا حق تھا۔ میں اللہ کے نزدیک اس کا مستحق تھا ہی۔ میری اپنی عقلمندی اور خوش تدبیری کی وجہ سے اس نعمت کو میں نے حاصل کیا ہے۔

صفحہ نمبر7844

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” بات یوں نہیں بلکہ دراصل یہ ہماری طرف کی آزمائش ہے گو ہمیں ازل سے علم حاصل ہے لیکن تاہم ہم اسے ظہور میں لانا چاہتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس نعمت کا یہ شکر ادا کرتا ہے یا ناشکری؟ لیکن یہ لوگ بےعلم ہیں۔ دعوے کرتے ہیں منہ سے بات نکال دیتے ہیں لیکن اصلیت سے بے خبر ہیں، یہی دعویٰ اور یہی قول ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی کیا اور کہا، لیکن ان کا قول صحیح ثابت نہ ہوا اور ان نعمتوں نے، کسی اور چیز نے اور ان کے اعمال نے انہیں کوئی نفع نہ دیا، جس طرح ان پر وبال ٹوٹ پڑا اسی طرح ان پر بھی ایک دن ان کی بداعمالیوں کا وبال آ پڑے گا اور یہ اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے۔ نہ تھکا اور ہرا سکتے ہیں “۔

جیسے کہ قارون سے اس کی قوم نے کہا تھا «إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ وَآتَيْنَاهُ مِنَ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا تَفْرَحْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّـهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّـهُ إِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي أَوَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ قَدْ أَهْلَكَ مِن قَبْلِهِ مِنَ الْقُرُونِ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَأَكْثَرُ جَمْعًا وَلَا يُسْأَلُ عَن ذُنُوبِهِمُ الْمُجْرِمُونَ» [28-القص:76-78] ‏ ” کہ اس قدر اکڑ نہیں اللہ تعالیٰ خود پسندوں کو محبوب نہیں رکھتا۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو خرچ کر کے آخرت کی تیاری کر اور وہاں کا سامان مہیا کر۔ اس دنیا میں بھی فائدہ اٹھاتا رہ اور جیسے اللہ نے تیرے ساتھ سلوک کیا ہے، تو بھی لوگوں کے ساتھ احسان کرتا رہ۔ زمین میں فساد کرنے والا مت بن اللہ تعالیٰ مفسدوں سے محبت نہیں کرتا “۔

اس پر قارون نے جواب دیا کہ ان تمام نعمتوں اور جاہ و دولت کو میں نے اپنی دانائی اور علم و ہنر سے حاصل کیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” کیا اسے یہ معلوم نہیں کہ اس سے پہلے اس سے زیادہ قوت اور اس سے زیادہ جمع جتھا والوں کو میں نے ہلاک و برباد کر دیا ہے، مجرم اپنے گناہوں کے بارے میں پوچھے نہ جائیں گے “۔

صفحہ نمبر7845

الغرض مال و اولاد پر پھول کر اللہ کو بھول جانا یہ شیوہ کفر ہے۔ کفار کا قول تھا کہ ہم مال و اولاد میں زیادہ ہیں ہمیں عذاب نہیں ہو گا، ” کیا انہیں اب تک یہ معلوم نہیں کہ رزق کا مالک اللہ تعالیٰ ہے جس کیلئے چاہے کشادگی کرے اور جس پر چاہے تنگی کرے۔ اس میں ایمان والوں کیلئے طرح طرح کی عبرتیں اور دلیلیں ہیں “۔

صفحہ نمبر7846

انسان کا ناشکرا پن ٭٭

اللہ تعالیٰ انسان کی حالت کو بیان فرماتا ہے کہ ” مشکل کے وقت تو وہ آہ و زاری شروع کر دیتا ہے، اللہ کی طرف پوری طرح راجع اور راغب ہو جاتا ہے، لیکن جہاں مشکل ہو گئی جہاں راحت و نعمت حاصل ہوئی یہ سرکش و متکبر بنا “۔ اور اکڑتا ہوا کہنے لگا کہ یہ تو اللہ کے ذمے میرا حق تھا۔ میں اللہ کے نزدیک اس کا مستحق تھا ہی۔ میری اپنی عقلمندی اور خوش تدبیری کی وجہ سے اس نعمت کو میں نے حاصل کیا ہے۔

صفحہ نمبر7844

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” بات یوں نہیں بلکہ دراصل یہ ہماری طرف کی آزمائش ہے گو ہمیں ازل سے علم حاصل ہے لیکن تاہم ہم اسے ظہور میں لانا چاہتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس نعمت کا یہ شکر ادا کرتا ہے یا ناشکری؟ لیکن یہ لوگ بےعلم ہیں۔ دعوے کرتے ہیں منہ سے بات نکال دیتے ہیں لیکن اصلیت سے بے خبر ہیں، یہی دعویٰ اور یہی قول ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی کیا اور کہا، لیکن ان کا قول صحیح ثابت نہ ہوا اور ان نعمتوں نے، کسی اور چیز نے اور ان کے اعمال نے انہیں کوئی نفع نہ دیا، جس طرح ان پر وبال ٹوٹ پڑا اسی طرح ان پر بھی ایک دن ان کی بداعمالیوں کا وبال آ پڑے گا اور یہ اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے۔ نہ تھکا اور ہرا سکتے ہیں “۔

جیسے کہ قارون سے اس کی قوم نے کہا تھا «إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ وَآتَيْنَاهُ مِنَ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا تَفْرَحْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّـهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّـهُ إِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي أَوَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ قَدْ أَهْلَكَ مِن قَبْلِهِ مِنَ الْقُرُونِ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَأَكْثَرُ جَمْعًا وَلَا يُسْأَلُ عَن ذُنُوبِهِمُ الْمُجْرِمُونَ» [28-القص:76-78] ‏ ” کہ اس قدر اکڑ نہیں اللہ تعالیٰ خود پسندوں کو محبوب نہیں رکھتا۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو خرچ کر کے آخرت کی تیاری کر اور وہاں کا سامان مہیا کر۔ اس دنیا میں بھی فائدہ اٹھاتا رہ اور جیسے اللہ نے تیرے ساتھ سلوک کیا ہے، تو بھی لوگوں کے ساتھ احسان کرتا رہ۔ زمین میں فساد کرنے والا مت بن اللہ تعالیٰ مفسدوں سے محبت نہیں کرتا “۔

اس پر قارون نے جواب دیا کہ ان تمام نعمتوں اور جاہ و دولت کو میں نے اپنی دانائی اور علم و ہنر سے حاصل کیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” کیا اسے یہ معلوم نہیں کہ اس سے پہلے اس سے زیادہ قوت اور اس سے زیادہ جمع جتھا والوں کو میں نے ہلاک و برباد کر دیا ہے، مجرم اپنے گناہوں کے بارے میں پوچھے نہ جائیں گے “۔

صفحہ نمبر7845

الغرض مال و اولاد پر پھول کر اللہ کو بھول جانا یہ شیوہ کفر ہے۔ کفار کا قول تھا کہ ہم مال و اولاد میں زیادہ ہیں ہمیں عذاب نہیں ہو گا، ” کیا انہیں اب تک یہ معلوم نہیں کہ رزق کا مالک اللہ تعالیٰ ہے جس کیلئے چاہے کشادگی کرے اور جس پر چاہے تنگی کرے۔ اس میں ایمان والوں کیلئے طرح طرح کی عبرتیں اور دلیلیں ہیں “۔

صفحہ نمبر7846

انسان کا ناشکرا پن ٭٭

اللہ تعالیٰ انسان کی حالت کو بیان فرماتا ہے کہ ” مشکل کے وقت تو وہ آہ و زاری شروع کر دیتا ہے، اللہ کی طرف پوری طرح راجع اور راغب ہو جاتا ہے، لیکن جہاں مشکل ہو گئی جہاں راحت و نعمت حاصل ہوئی یہ سرکش و متکبر بنا “۔ اور اکڑتا ہوا کہنے لگا کہ یہ تو اللہ کے ذمے میرا حق تھا۔ میں اللہ کے نزدیک اس کا مستحق تھا ہی۔ میری اپنی عقلمندی اور خوش تدبیری کی وجہ سے اس نعمت کو میں نے حاصل کیا ہے۔

صفحہ نمبر7844

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” بات یوں نہیں بلکہ دراصل یہ ہماری طرف کی آزمائش ہے گو ہمیں ازل سے علم حاصل ہے لیکن تاہم ہم اسے ظہور میں لانا چاہتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس نعمت کا یہ شکر ادا کرتا ہے یا ناشکری؟ لیکن یہ لوگ بےعلم ہیں۔ دعوے کرتے ہیں منہ سے بات نکال دیتے ہیں لیکن اصلیت سے بے خبر ہیں، یہی دعویٰ اور یہی قول ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی کیا اور کہا، لیکن ان کا قول صحیح ثابت نہ ہوا اور ان نعمتوں نے، کسی اور چیز نے اور ان کے اعمال نے انہیں کوئی نفع نہ دیا، جس طرح ان پر وبال ٹوٹ پڑا اسی طرح ان پر بھی ایک دن ان کی بداعمالیوں کا وبال آ پڑے گا اور یہ اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے۔ نہ تھکا اور ہرا سکتے ہیں “۔

جیسے کہ قارون سے اس کی قوم نے کہا تھا «إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ وَآتَيْنَاهُ مِنَ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا تَفْرَحْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّـهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّـهُ إِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي أَوَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ قَدْ أَهْلَكَ مِن قَبْلِهِ مِنَ الْقُرُونِ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَأَكْثَرُ جَمْعًا وَلَا يُسْأَلُ عَن ذُنُوبِهِمُ الْمُجْرِمُونَ» [28-القص:76-78] ‏ ” کہ اس قدر اکڑ نہیں اللہ تعالیٰ خود پسندوں کو محبوب نہیں رکھتا۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو خرچ کر کے آخرت کی تیاری کر اور وہاں کا سامان مہیا کر۔ اس دنیا میں بھی فائدہ اٹھاتا رہ اور جیسے اللہ نے تیرے ساتھ سلوک کیا ہے، تو بھی لوگوں کے ساتھ احسان کرتا رہ۔ زمین میں فساد کرنے والا مت بن اللہ تعالیٰ مفسدوں سے محبت نہیں کرتا “۔

اس پر قارون نے جواب دیا کہ ان تمام نعمتوں اور جاہ و دولت کو میں نے اپنی دانائی اور علم و ہنر سے حاصل کیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” کیا اسے یہ معلوم نہیں کہ اس سے پہلے اس سے زیادہ قوت اور اس سے زیادہ جمع جتھا والوں کو میں نے ہلاک و برباد کر دیا ہے، مجرم اپنے گناہوں کے بارے میں پوچھے نہ جائیں گے “۔

صفحہ نمبر7845

الغرض مال و اولاد پر پھول کر اللہ کو بھول جانا یہ شیوہ کفر ہے۔ کفار کا قول تھا کہ ہم مال و اولاد میں زیادہ ہیں ہمیں عذاب نہیں ہو گا، ” کیا انہیں اب تک یہ معلوم نہیں کہ رزق کا مالک اللہ تعالیٰ ہے جس کیلئے چاہے کشادگی کرے اور جس پر چاہے تنگی کرے۔ اس میں ایمان والوں کیلئے طرح طرح کی عبرتیں اور دلیلیں ہیں “۔

صفحہ نمبر7846

توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭

اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لیے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بڑے بڑے گناہ جو ہم سے ہو چکے ہیں ان کا کفارہ کیا ہو گا؟ اس پر آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» [25-الفرقان:68] ‏، یہ اور آیت نازل ہوئی ۔ [صحیح بخاری:4810] ‏

صفحہ نمبر7850

مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں مجھے ساری دنیا اور اس کی ہرچیز کے ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس آیت کے نازل ہونے سے ہوئی ہے ۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ جس نے شرک کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد فرمایا: خبردار رہو جس نے شرک بھی کیا ہو تین مرتبہ یہی فرمایا ۔ [مسند احمد:275/5:ضعیف] ‏

مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک بوڑھا بڑا شخص لکڑی ٹکاتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے چھوٹے موٹے گناہ بہت سارے ہیں کیا مجھے بھی بخشا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ کی توحید کی گواہی نہیں دیتا؟ اس نے کہا ہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی بھی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے چھوٹے موٹے گناہ معاف ہیں ۔ [مسند احمد:385/4:صحیح بالشواهد] ‏

ابوداؤد ترمذی وغیرہ میں ہے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اس آیت کی تلاوت اسی طرح فرما رہے تھے «‏اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» [11-ھود:46] ‏ اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏ [39-الزمر:53] ‏۔ [مسند احمد:454/6:ضعیف] ‏ پس ان تمام احادیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ توبہ سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کو رحمت رب سے مایوس نہ ہونا چاہیئے۔ گو گناہ کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی کثرت سے ہوں۔ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہوا رہتا ہے اور وہ بہت ہی وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» ‏ [9-التوبة:104] ‏ ” کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے “۔ اور فرمایا «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ‌ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا» [4-النساء:110] ‏، ” جو برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر اللہ سے استغفار کرے وہ اللہ کو بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا پائے گا “۔

صفحہ نمبر7851

منافقوں کی سزا جو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہو گی اسے بیان فرما کر بھی فرمایا «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْ‌كِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ‌ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرً‌ا إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّـهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرً‌ا عَظِيمًا» [4-النساء:145-146] ‏ یعنی ” ان سے وہ مستثنیٰ ہیں جو توبہ کریں اور اصلاح کر لیں “۔

مشرکین نصاریٰ کے اس شرک کا کہ وہ اللہ کو تین میں کا تیسرا مانتے ہیں ذکر کر کے ان کی سزاؤں کے بیان سے پہلے فرما دیا «وَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» [5-المائدة:73] ‏ کہ ” اگر یہ اپنے قول سے باز نہ آئے تو “۔ پھر اللہ تعالیٰ عظمت و کبریائی جلال و شان والے نے فرمایا «أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّـهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [5-المائدة:74] ‏ ” یہ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے اور کیوں اس سے استغفار نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی غفور و رحیم ہے “۔

ان لوگوں کا جنہوں نے خندقیں کھود کر مسلمانوں کو آگ میں ڈالا تھا ذکر کرتے ہوئے بھی فرمایا ہے کہ ” جو مسلمان مرد عورتوں کو تکلیف پہنچا کر پھر بھی توبہ نہ کریں ان کیلئے عذاب جہنم اور عذاب نار ہے “۔

صفحہ نمبر7852

امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ کے کرم و جود کو دیکھو کہ اپنے دوستوں کے قاتلوں کو بھی توبہ اور مغفرت کی طرف بلا رہا ہے۔‏“ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہے جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک عابد سے پوچھا کہ کیا اس کیلئے بھی توبہ ہے؟ اس نے انکار کیا اس نے اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر ایک عالم سے پوچھا اس نے جواب دیا کہ تجھ میں اور توبہ میں کوئی روک نہیں اور حکم دیا کہ موحدوں کی بستی میں چلا جا چنانچہ یہ اس گاؤں کی طرف چلا لیکن راستے میں ہی موت آ گئی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں آپس میں اختلاف ہوا۔ اللہ عزوجل نے زمین کے ناپنے کا حکم دیا تو ایک بالشت بھر نیک لوگوں کی بستی جس طرف وہ ہجرت کر کے جا رہا تھا قریب نکلی اور یہ انہی کے ساتھ ملا دیا گیا اور رحمت کے فرشتے اس کی روح کو لے گئے۔ یہ بھی مذکور ہے کہ وہ موت کے وقت سینے کے بل اس طرف گھسیٹتا ہوا چلا تھا۔ اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ نیک لوگوں کی بستی کے قریب ہو جانے کا اور برے لوگوں کی بستی کے دور ہو جانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا ۔ [صحیح بخاری:3470] ‏ یہ ہے اس حدیث کا خلاصہ، پوری حدیث اپنی جگہ بیان ہو چکی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”اللہ عزوجل نے تمام بندوں کو اپنی مغفرت کی طرف بلایا ہے انہیں بھی جو مسیح علیہ السلام کو اللہ کہتے تھے، انہیں بھی جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے، انہیں بھی جو عزیز علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کو فقیر کہتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کے ہاتھوں کو بند بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ تعالیٰ کو تین میں کا تیسرا کہتے تھے، اللہ تعالیٰ ان سب سے فرماتا ہے کہ ” یہ کیوں اللہ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں اس سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں چاہتے؟ اللہ تو بڑی بخشش والا اور بہت ہی رحم و کرم والا ہے “۔ پھر توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ نے اسے دی جس کا قول ان سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔ جس نے دعویٰ کیا تھا کہ میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں۔ جو کہتا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ تمہارا کوئی معبود میرے سوا ہو۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس کے بعد بھی جو شخص اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے، وہ اللہ عزوجل کی کتاب کا منکر ہے۔ لیکن اسے سمجھ لو کہ جب تک اللہ کسی بندے پر اپنی مہربانی سے رجوع نہ فرمائے اسے توبہ نصیب نہیں ہوتی۔‏“

صفحہ نمبر7853

طبرانی میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ کتاب اللہ قرآن کریم میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت «اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» الخ [2-البقرہ:255] ‏ آیت الکرسی ہے اور خیر و شر کی سب سے زیادہ جامع آیت «إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ‌ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْ‌بَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ‌ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُ‌ونَ» [16-النحل:90] ‏ہے اور سارے قرآن میں سب سے زیادہ خوشی کی آیت سورۃ الزمر کی «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [39-الزمر:53] ‏ ہے اور سب سے زیادہ ڈھارس دینے والی آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» [65-الطلاق:3-2] ‏ ہے، یعنی ” اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کی مخلصی خود اللہ کر دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں کا اسے خیال و گمان بھی نہ ہو “۔ مسروق رحمہ اللہ نے یہ سن کر فرمایا کہ بیشک آپ رضی اللہ عنہ سچے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جا رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک واعظ کو دیکھا جو لوگوں کو نصیحتیں کر رہا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ ”تو کیوں لوگوں کو مایوس کر رہا ہے؟ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔‏“ [تفسیر ابن ابی حاتم] ‏

صفحہ نمبر7854

(‏ان احادیث کا بیان جن میں ناامیدی اور مایوسی کی ممانعت ہے)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم خطائیں کرتے کرتے زمین و آسمان پر کر دو پھر اللہ سے استغفار کرو تو یقیناً وہ تمہیں بخش دے گا۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کی جان ہے اگر تم خطائیں کرو ہی نہیں تو اللہ عزوجل تمہیں فنا کر کے ان لوگوں کو لائے گا جو خطا کر کے استغفار کریں اور پھر اللہ انہیں بخشے ۔ [مسند احمد:238/3:صحیح لغیره] ‏

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اپنے انتقال کے وقت فرماتے ہیں ایک حدیث میں نے تم سے آج تک بیان نہیں کی تھی اب بیان کر دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ ہی نہ کرتے تو اللہ عزوجل ایسی قوم کو پیدا کرتا جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا ۔ [صحیح مسلم:2748] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں گناہ کا کفارہ ندامت اور شرمساری ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لاتا جو گناہ کریں پھر وہ انہیں بخشے ۔ [مسند احمد:279/1:اسنادہ ضعیف] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو کامل یقین رکھنے والا اور گناہوں سے توبہ کرنے والا ہو ۔ [مسند احمد:80/1:ضعیف] ‏

عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابلیس ملعون نے کہا اے میرے رب! تو نے مجھے آدم علیہ السلام کی وجہ سے جنت سے نکالا ہے اور میں اس پر اس کے بغیر کہ تو مجھے اس پر غلبہ دے غالب نہیں آسکتا۔‏“ جناب باری نے فرمایا ” جا تو ان پر مسلط ہے “۔ اس نے کہا ”اللہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عطا فرما۔‏“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جا بنی آدم میں جتنی اولاد پیدا ہو گی اتنی ہی تیرے ہاں بھی ہو گی “۔ اس نے پھر التجا کی باری تعالیٰ کچھ اور بھی مجھے زیادتی دے۔ پروردگار عالم نے فرمایا ” بنی آدم کے سینے میں تیرے لیے مسکن بنا دوں گا اور تم ان کے جسم میں خون کی جگہ پھرو گے “، اس نے پھر کہا کہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عنایت فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جا تو ان پر اپنے سوار اور پیادے دوڑا، اور ان کے مال و اولاد میں اپنا ساجھا کر اور انہیں امنگیں دلا “۔ گو حقیقتاً تیرا امنگیں دلانا اور وعدے کرنا سراسر دھوکے کی ٹٹی ہیں۔‏“

اس وقت آدم علیہ السلام نے دعا کی کہ ”اے میرے پروردگار تو نے اسے مجھ پر مسلط کر دیا اب میں اس سے تیرے بچائے بغیر بچ نہیں سکتا۔‏“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” سنو تمہارے ہاں جو اولاد ہو گی اس کے ساتھ میں ایک محافظ مقرر کردوں گا جو شیطانی پنجے سے محفوظ رکھے “۔ آدم علیہ السلام نے اور زیادتی طلب کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ایک نیکی کو دس گنا کر کے دوں گا بلکہ دس سے بھی زیادہ اور برائی اسی کے برابر رہے گی یا معاف کر دوں گا “۔ آپ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی یہی دعا جاری رکھی۔ رب العزت نے فرمایا ” توبہ کا دروازہ تمہارے لیے اس وقت تک کھلا ہے جب تک روح جسم میں ہے “، آدم نے دعا کی اللہ مجھے اور زیادتی بھی عطا فرما۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی کہ ” میرے گنہگار بندوں سے کہہ دو وہ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں “۔ [ابن ابی حاتم] ‏

صفحہ نمبر7855

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ جو لوگ بوجہ اپنی کمزوری کے کفار کی تکلیفیں برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے اپنے دین میں فتنے میں پڑ گئے ہم اس کی نسبت آپس میں کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی نیکی اور توبہ قبول نہ فرمائے گا ان لوگوں نے اللہ کو پہچان کر پھر کفر کو لے لیا اور کافروں کی سختی کو برداشت نہ کیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ہمارے اس قول کی تردید کر دی اور «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَ‌فُوا» سے «وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُ‌ونَ» (‏سورۂ الزمر آیات 53 تا 55) تک آیتیں نازل ہوئیں ۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے ہاتھ سے ان آیتوں کو لکھا اور ہشام بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا

ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اس وقت ذی طویٰ میں تھا میں انہیں پڑھ رہا تھا اور باربار پڑھتا جاتا تھا اور خوب غور و خوض کر رہا تھا لیکن اصلی مطلب تک ذہن رسائی نہیں کرتا تھا۔ آخر میں نے دعا کی کہ پروردگار ان آیتوں کا صحیح مطلب اور ان کو میری طرف بھیجے جانے کا صحیح مقصد مجھ پر واضح کر دے۔ چنانچہ میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالا گیا کہ ان آیتوں سے مراد ہم ہی ہیں یہ ہمارے بارے میں ہیں اور ہمیں جو خیال تھا کہ اب ہماری توبہ قبول نہیں ہو سکتی اسی بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اسی وقت میں واپس مڑا اپنا اونٹ لیا اس پر سواری کی اور سیدھا مدینے میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا ۔ [سیرۃ ابن اسحاق] ‏

بندوں کی مایوسی کو توڑ کر انہیں بخشش کی امید دلا کر پھر حکم دیا اور رغبت دلائی کہ ” وہ توبہ اور نیک عمل کی طرف سبقت اور جلدی کریں ایسا نہ ہو کہ اللہ کے عذاب آ پڑیں “۔

جس وقت کہ کسی کی مدد کچھ کام نہیں آتی اور انہیں چاہیئے کہ عظمت والے قرآن کریم کی تابعداری اور ماتحتی میں مشغول ہو جائیں اس سے پہلے کہ اچانک عذاب آئیں اور یہ بے خبری میں ہی ہوں، اس وقت قیامت کے دن بے توبہ مرنے والے اور اللہ کی عبادت میں کمی لانے والے بڑی حسرت اور بہت افسوس کریں گے اور آرزو کریں گے کہ کاش کہ ہم خلوص کے ساتھ احکام اللہ بجا لاتے۔ افسوس! کہ ہم تو بےیقین رہے۔ اللہ کی باتوں کی تصدیق ہی نہ کی بلکہ ہنسی مذاق ہی سمجھتے رہے اور کہیں گے کہ اگر ہم بھی ہدایت پالیتے تو یقیناً رب کی نافرمانیوں سے دنیا میں اور اللہ کے عذاب سے آخرت میں بچ جاتے اور عذاب کو دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر اب دوبارہ دنیا کی طرف جانا ہو جائے تو دل کھول کر نیکیاں کرلیں۔

صفحہ نمبر7856

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بندے کیا عمل کریں گے اور کیا کچھ وہ کہیں گے، ان کے عمل اور ان کے قول سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دیدی اور فی الواقع اس سے زیادہ باخبر کون ہوسکتا ہے؟ نہ اس سے زیادہ سچی خبر کوئی دے سکتا ہے۔‏“

بدکاروں کے یہ تینوں قول بیان فرمائے اور دوسری جگہ یہ خبر دیدی کہ ” اگر یہ واپس دنیا میں بھیجے جائیں تو بھی ہدایت کو اختیار نہ کریں گے، بلکہ جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کرنے لگیں گے اور یہاں جو کہتے ہیں سب جھوٹ نکلے گا “۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے ہر جہنمی کو اس کی جنت کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کاش کہ اللہ مجھے ہدایت دیتا۔ یہ اس لیے کہ اسے حسرت و افسوس ہو۔ اور اسی طرح ہر جنتی کو اس کی جہنم کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دیتا تو وہ جنت میں نہ آسکتا۔ یہ اس لیے کہ وہ شکر اور احسان کے ماننے میں اور بڑھ جائے ۔ [مسند احمد:512/2:صحیح] ‏

جب گنہگار لوگ دنیا کی طرف لوٹنے کی آرزو کریں گے اور اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہ کرنے کی حسرت کریں گے اور اللہ کے رسولوں کو نہ ماننے پر کڑھنے لگیں گے تو اللہ سبحان و تعالیٰ فرمائے گا کہ ” اب ندامت لاحاصل ہے پچھتاوا بےسود ہے دنیا میں ہی میں تو اپنی آیتیں اتار چکا تھا۔ اپنی دلیلیں قائم کر چکا تھا، لیکن تو انہیں جھٹلاتا رہا اور ان کی تابعداری سے تکبر کرتا رہا، ان کا منکر رہا۔ کفر اختیار کیا، اب کچھ نہیں ہوسکتا “۔

صفحہ نمبر7857

توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭

اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لیے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بڑے بڑے گناہ جو ہم سے ہو چکے ہیں ان کا کفارہ کیا ہو گا؟ اس پر آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» [25-الفرقان:68] ‏، یہ اور آیت نازل ہوئی ۔ [صحیح بخاری:4810] ‏

صفحہ نمبر7850

مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں مجھے ساری دنیا اور اس کی ہرچیز کے ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس آیت کے نازل ہونے سے ہوئی ہے ۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ جس نے شرک کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد فرمایا: خبردار رہو جس نے شرک بھی کیا ہو تین مرتبہ یہی فرمایا ۔ [مسند احمد:275/5:ضعیف] ‏

مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک بوڑھا بڑا شخص لکڑی ٹکاتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے چھوٹے موٹے گناہ بہت سارے ہیں کیا مجھے بھی بخشا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ کی توحید کی گواہی نہیں دیتا؟ اس نے کہا ہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی بھی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے چھوٹے موٹے گناہ معاف ہیں ۔ [مسند احمد:385/4:صحیح بالشواهد] ‏

ابوداؤد ترمذی وغیرہ میں ہے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اس آیت کی تلاوت اسی طرح فرما رہے تھے «‏اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» [11-ھود:46] ‏ اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏ [39-الزمر:53] ‏۔ [مسند احمد:454/6:ضعیف] ‏ پس ان تمام احادیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ توبہ سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کو رحمت رب سے مایوس نہ ہونا چاہیئے۔ گو گناہ کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی کثرت سے ہوں۔ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہوا رہتا ہے اور وہ بہت ہی وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» ‏ [9-التوبة:104] ‏ ” کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے “۔ اور فرمایا «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ‌ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا» [4-النساء:110] ‏، ” جو برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر اللہ سے استغفار کرے وہ اللہ کو بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا پائے گا “۔

صفحہ نمبر7851

منافقوں کی سزا جو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہو گی اسے بیان فرما کر بھی فرمایا «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْ‌كِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ‌ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرً‌ا إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّـهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرً‌ا عَظِيمًا» [4-النساء:145-146] ‏ یعنی ” ان سے وہ مستثنیٰ ہیں جو توبہ کریں اور اصلاح کر لیں “۔

مشرکین نصاریٰ کے اس شرک کا کہ وہ اللہ کو تین میں کا تیسرا مانتے ہیں ذکر کر کے ان کی سزاؤں کے بیان سے پہلے فرما دیا «وَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» [5-المائدة:73] ‏ کہ ” اگر یہ اپنے قول سے باز نہ آئے تو “۔ پھر اللہ تعالیٰ عظمت و کبریائی جلال و شان والے نے فرمایا «أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّـهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [5-المائدة:74] ‏ ” یہ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے اور کیوں اس سے استغفار نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی غفور و رحیم ہے “۔

ان لوگوں کا جنہوں نے خندقیں کھود کر مسلمانوں کو آگ میں ڈالا تھا ذکر کرتے ہوئے بھی فرمایا ہے کہ ” جو مسلمان مرد عورتوں کو تکلیف پہنچا کر پھر بھی توبہ نہ کریں ان کیلئے عذاب جہنم اور عذاب نار ہے “۔

صفحہ نمبر7852

امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ کے کرم و جود کو دیکھو کہ اپنے دوستوں کے قاتلوں کو بھی توبہ اور مغفرت کی طرف بلا رہا ہے۔‏“ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہے جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک عابد سے پوچھا کہ کیا اس کیلئے بھی توبہ ہے؟ اس نے انکار کیا اس نے اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر ایک عالم سے پوچھا اس نے جواب دیا کہ تجھ میں اور توبہ میں کوئی روک نہیں اور حکم دیا کہ موحدوں کی بستی میں چلا جا چنانچہ یہ اس گاؤں کی طرف چلا لیکن راستے میں ہی موت آ گئی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں آپس میں اختلاف ہوا۔ اللہ عزوجل نے زمین کے ناپنے کا حکم دیا تو ایک بالشت بھر نیک لوگوں کی بستی جس طرف وہ ہجرت کر کے جا رہا تھا قریب نکلی اور یہ انہی کے ساتھ ملا دیا گیا اور رحمت کے فرشتے اس کی روح کو لے گئے۔ یہ بھی مذکور ہے کہ وہ موت کے وقت سینے کے بل اس طرف گھسیٹتا ہوا چلا تھا۔ اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ نیک لوگوں کی بستی کے قریب ہو جانے کا اور برے لوگوں کی بستی کے دور ہو جانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا ۔ [صحیح بخاری:3470] ‏ یہ ہے اس حدیث کا خلاصہ، پوری حدیث اپنی جگہ بیان ہو چکی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”اللہ عزوجل نے تمام بندوں کو اپنی مغفرت کی طرف بلایا ہے انہیں بھی جو مسیح علیہ السلام کو اللہ کہتے تھے، انہیں بھی جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے، انہیں بھی جو عزیز علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کو فقیر کہتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کے ہاتھوں کو بند بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ تعالیٰ کو تین میں کا تیسرا کہتے تھے، اللہ تعالیٰ ان سب سے فرماتا ہے کہ ” یہ کیوں اللہ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں اس سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں چاہتے؟ اللہ تو بڑی بخشش والا اور بہت ہی رحم و کرم والا ہے “۔ پھر توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ نے اسے دی جس کا قول ان سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔ جس نے دعویٰ کیا تھا کہ میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں۔ جو کہتا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ تمہارا کوئی معبود میرے سوا ہو۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس کے بعد بھی جو شخص اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے، وہ اللہ عزوجل کی کتاب کا منکر ہے۔ لیکن اسے سمجھ لو کہ جب تک اللہ کسی بندے پر اپنی مہربانی سے رجوع نہ فرمائے اسے توبہ نصیب نہیں ہوتی۔‏“

صفحہ نمبر7853

طبرانی میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ کتاب اللہ قرآن کریم میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت «اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» الخ [2-البقرہ:255] ‏ آیت الکرسی ہے اور خیر و شر کی سب سے زیادہ جامع آیت «إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ‌ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْ‌بَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ‌ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُ‌ونَ» [16-النحل:90] ‏ہے اور سارے قرآن میں سب سے زیادہ خوشی کی آیت سورۃ الزمر کی «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [39-الزمر:53] ‏ ہے اور سب سے زیادہ ڈھارس دینے والی آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» [65-الطلاق:3-2] ‏ ہے، یعنی ” اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کی مخلصی خود اللہ کر دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں کا اسے خیال و گمان بھی نہ ہو “۔ مسروق رحمہ اللہ نے یہ سن کر فرمایا کہ بیشک آپ رضی اللہ عنہ سچے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جا رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک واعظ کو دیکھا جو لوگوں کو نصیحتیں کر رہا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ ”تو کیوں لوگوں کو مایوس کر رہا ہے؟ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔‏“ [تفسیر ابن ابی حاتم] ‏

صفحہ نمبر7854

(‏ان احادیث کا بیان جن میں ناامیدی اور مایوسی کی ممانعت ہے)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم خطائیں کرتے کرتے زمین و آسمان پر کر دو پھر اللہ سے استغفار کرو تو یقیناً وہ تمہیں بخش دے گا۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کی جان ہے اگر تم خطائیں کرو ہی نہیں تو اللہ عزوجل تمہیں فنا کر کے ان لوگوں کو لائے گا جو خطا کر کے استغفار کریں اور پھر اللہ انہیں بخشے ۔ [مسند احمد:238/3:صحیح لغیره] ‏

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اپنے انتقال کے وقت فرماتے ہیں ایک حدیث میں نے تم سے آج تک بیان نہیں کی تھی اب بیان کر دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ ہی نہ کرتے تو اللہ عزوجل ایسی قوم کو پیدا کرتا جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا ۔ [صحیح مسلم:2748] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں گناہ کا کفارہ ندامت اور شرمساری ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لاتا جو گناہ کریں پھر وہ انہیں بخشے ۔ [مسند احمد:279/1:اسنادہ ضعیف] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو کامل یقین رکھنے والا اور گناہوں سے توبہ کرنے والا ہو ۔ [مسند احمد:80/1:ضعیف] ‏

عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابلیس ملعون نے کہا اے میرے رب! تو نے مجھے آدم علیہ السلام کی وجہ سے جنت سے نکالا ہے اور میں اس پر اس کے بغیر کہ تو مجھے اس پر غلبہ دے غالب نہیں آسکتا۔‏“ جناب باری نے فرمایا ” جا تو ان پر مسلط ہے “۔ اس نے کہا ”اللہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عطا فرما۔‏“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جا بنی آدم میں جتنی اولاد پیدا ہو گی اتنی ہی تیرے ہاں بھی ہو گی “۔ اس نے پھر التجا کی باری تعالیٰ کچھ اور بھی مجھے زیادتی دے۔ پروردگار عالم نے فرمایا ” بنی آدم کے سینے میں تیرے لیے مسکن بنا دوں گا اور تم ان کے جسم میں خون کی جگہ پھرو گے “، اس نے پھر کہا کہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عنایت فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جا تو ان پر اپنے سوار اور پیادے دوڑا، اور ان کے مال و اولاد میں اپنا ساجھا کر اور انہیں امنگیں دلا “۔ گو حقیقتاً تیرا امنگیں دلانا اور وعدے کرنا سراسر دھوکے کی ٹٹی ہیں۔‏“

اس وقت آدم علیہ السلام نے دعا کی کہ ”اے میرے پروردگار تو نے اسے مجھ پر مسلط کر دیا اب میں اس سے تیرے بچائے بغیر بچ نہیں سکتا۔‏“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” سنو تمہارے ہاں جو اولاد ہو گی اس کے ساتھ میں ایک محافظ مقرر کردوں گا جو شیطانی پنجے سے محفوظ رکھے “۔ آدم علیہ السلام نے اور زیادتی طلب کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ایک نیکی کو دس گنا کر کے دوں گا بلکہ دس سے بھی زیادہ اور برائی اسی کے برابر رہے گی یا معاف کر دوں گا “۔ آپ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی یہی دعا جاری رکھی۔ رب العزت نے فرمایا ” توبہ کا دروازہ تمہارے لیے اس وقت تک کھلا ہے جب تک روح جسم میں ہے “، آدم نے دعا کی اللہ مجھے اور زیادتی بھی عطا فرما۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی کہ ” میرے گنہگار بندوں سے کہہ دو وہ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں “۔ [ابن ابی حاتم] ‏

صفحہ نمبر7855

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ جو لوگ بوجہ اپنی کمزوری کے کفار کی تکلیفیں برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے اپنے دین میں فتنے میں پڑ گئے ہم اس کی نسبت آپس میں کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی نیکی اور توبہ قبول نہ فرمائے گا ان لوگوں نے اللہ کو پہچان کر پھر کفر کو لے لیا اور کافروں کی سختی کو برداشت نہ کیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ہمارے اس قول کی تردید کر دی اور «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَ‌فُوا» سے «وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُ‌ونَ» (‏سورۂ الزمر آیات 53 تا 55) تک آیتیں نازل ہوئیں ۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے ہاتھ سے ان آیتوں کو لکھا اور ہشام بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا

ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اس وقت ذی طویٰ میں تھا میں انہیں پڑھ رہا تھا اور باربار پڑھتا جاتا تھا اور خوب غور و خوض کر رہا تھا لیکن اصلی مطلب تک ذہن رسائی نہیں کرتا تھا۔ آخر میں نے دعا کی کہ پروردگار ان آیتوں کا صحیح مطلب اور ان کو میری طرف بھیجے جانے کا صحیح مقصد مجھ پر واضح کر دے۔ چنانچہ میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالا گیا کہ ان آیتوں سے مراد ہم ہی ہیں یہ ہمارے بارے میں ہیں اور ہمیں جو خیال تھا کہ اب ہماری توبہ قبول نہیں ہو سکتی اسی بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اسی وقت میں واپس مڑا اپنا اونٹ لیا اس پر سواری کی اور سیدھا مدینے میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا ۔ [سیرۃ ابن اسحاق] ‏

بندوں کی مایوسی کو توڑ کر انہیں بخشش کی امید دلا کر پھر حکم دیا اور رغبت دلائی کہ ” وہ توبہ اور نیک عمل کی طرف سبقت اور جلدی کریں ایسا نہ ہو کہ اللہ کے عذاب آ پڑیں “۔

جس وقت کہ کسی کی مدد کچھ کام نہیں آتی اور انہیں چاہیئے کہ عظمت والے قرآن کریم کی تابعداری اور ماتحتی میں مشغول ہو جائیں اس سے پہلے کہ اچانک عذاب آئیں اور یہ بے خبری میں ہی ہوں، اس وقت قیامت کے دن بے توبہ مرنے والے اور اللہ کی عبادت میں کمی لانے والے بڑی حسرت اور بہت افسوس کریں گے اور آرزو کریں گے کہ کاش کہ ہم خلوص کے ساتھ احکام اللہ بجا لاتے۔ افسوس! کہ ہم تو بےیقین رہے۔ اللہ کی باتوں کی تصدیق ہی نہ کی بلکہ ہنسی مذاق ہی سمجھتے رہے اور کہیں گے کہ اگر ہم بھی ہدایت پالیتے تو یقیناً رب کی نافرمانیوں سے دنیا میں اور اللہ کے عذاب سے آخرت میں بچ جاتے اور عذاب کو دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر اب دوبارہ دنیا کی طرف جانا ہو جائے تو دل کھول کر نیکیاں کرلیں۔

صفحہ نمبر7856

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بندے کیا عمل کریں گے اور کیا کچھ وہ کہیں گے، ان کے عمل اور ان کے قول سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دیدی اور فی الواقع اس سے زیادہ باخبر کون ہوسکتا ہے؟ نہ اس سے زیادہ سچی خبر کوئی دے سکتا ہے۔‏“

بدکاروں کے یہ تینوں قول بیان فرمائے اور دوسری جگہ یہ خبر دیدی کہ ” اگر یہ واپس دنیا میں بھیجے جائیں تو بھی ہدایت کو اختیار نہ کریں گے، بلکہ جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کرنے لگیں گے اور یہاں جو کہتے ہیں سب جھوٹ نکلے گا “۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے ہر جہنمی کو اس کی جنت کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کاش کہ اللہ مجھے ہدایت دیتا۔ یہ اس لیے کہ اسے حسرت و افسوس ہو۔ اور اسی طرح ہر جنتی کو اس کی جہنم کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دیتا تو وہ جنت میں نہ آسکتا۔ یہ اس لیے کہ وہ شکر اور احسان کے ماننے میں اور بڑھ جائے ۔ [مسند احمد:512/2:صحیح] ‏

جب گنہگار لوگ دنیا کی طرف لوٹنے کی آرزو کریں گے اور اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہ کرنے کی حسرت کریں گے اور اللہ کے رسولوں کو نہ ماننے پر کڑھنے لگیں گے تو اللہ سبحان و تعالیٰ فرمائے گا کہ ” اب ندامت لاحاصل ہے پچھتاوا بےسود ہے دنیا میں ہی میں تو اپنی آیتیں اتار چکا تھا۔ اپنی دلیلیں قائم کر چکا تھا، لیکن تو انہیں جھٹلاتا رہا اور ان کی تابعداری سے تکبر کرتا رہا، ان کا منکر رہا۔ کفر اختیار کیا، اب کچھ نہیں ہوسکتا “۔

صفحہ نمبر7857

توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭

اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لیے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بڑے بڑے گناہ جو ہم سے ہو چکے ہیں ان کا کفارہ کیا ہو گا؟ اس پر آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» [25-الفرقان:68] ‏، یہ اور آیت نازل ہوئی ۔ [صحیح بخاری:4810] ‏

صفحہ نمبر7850

مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں مجھے ساری دنیا اور اس کی ہرچیز کے ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس آیت کے نازل ہونے سے ہوئی ہے ۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ جس نے شرک کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد فرمایا: خبردار رہو جس نے شرک بھی کیا ہو تین مرتبہ یہی فرمایا ۔ [مسند احمد:275/5:ضعیف] ‏

مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک بوڑھا بڑا شخص لکڑی ٹکاتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے چھوٹے موٹے گناہ بہت سارے ہیں کیا مجھے بھی بخشا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ کی توحید کی گواہی نہیں دیتا؟ اس نے کہا ہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی بھی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے چھوٹے موٹے گناہ معاف ہیں ۔ [مسند احمد:385/4:صحیح بالشواهد] ‏

ابوداؤد ترمذی وغیرہ میں ہے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اس آیت کی تلاوت اسی طرح فرما رہے تھے «‏اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» [11-ھود:46] ‏ اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏ [39-الزمر:53] ‏۔ [مسند احمد:454/6:ضعیف] ‏ پس ان تمام احادیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ توبہ سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کو رحمت رب سے مایوس نہ ہونا چاہیئے۔ گو گناہ کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی کثرت سے ہوں۔ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہوا رہتا ہے اور وہ بہت ہی وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» ‏ [9-التوبة:104] ‏ ” کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے “۔ اور فرمایا «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ‌ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا» [4-النساء:110] ‏، ” جو برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر اللہ سے استغفار کرے وہ اللہ کو بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا پائے گا “۔

صفحہ نمبر7851

منافقوں کی سزا جو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہو گی اسے بیان فرما کر بھی فرمایا «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْ‌كِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ‌ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرً‌ا إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّـهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرً‌ا عَظِيمًا» [4-النساء:145-146] ‏ یعنی ” ان سے وہ مستثنیٰ ہیں جو توبہ کریں اور اصلاح کر لیں “۔

مشرکین نصاریٰ کے اس شرک کا کہ وہ اللہ کو تین میں کا تیسرا مانتے ہیں ذکر کر کے ان کی سزاؤں کے بیان سے پہلے فرما دیا «وَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» [5-المائدة:73] ‏ کہ ” اگر یہ اپنے قول سے باز نہ آئے تو “۔ پھر اللہ تعالیٰ عظمت و کبریائی جلال و شان والے نے فرمایا «أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّـهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [5-المائدة:74] ‏ ” یہ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے اور کیوں اس سے استغفار نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی غفور و رحیم ہے “۔

ان لوگوں کا جنہوں نے خندقیں کھود کر مسلمانوں کو آگ میں ڈالا تھا ذکر کرتے ہوئے بھی فرمایا ہے کہ ” جو مسلمان مرد عورتوں کو تکلیف پہنچا کر پھر بھی توبہ نہ کریں ان کیلئے عذاب جہنم اور عذاب نار ہے “۔

صفحہ نمبر7852

امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ کے کرم و جود کو دیکھو کہ اپنے دوستوں کے قاتلوں کو بھی توبہ اور مغفرت کی طرف بلا رہا ہے۔‏“ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہے جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک عابد سے پوچھا کہ کیا اس کیلئے بھی توبہ ہے؟ اس نے انکار کیا اس نے اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر ایک عالم سے پوچھا اس نے جواب دیا کہ تجھ میں اور توبہ میں کوئی روک نہیں اور حکم دیا کہ موحدوں کی بستی میں چلا جا چنانچہ یہ اس گاؤں کی طرف چلا لیکن راستے میں ہی موت آ گئی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں آپس میں اختلاف ہوا۔ اللہ عزوجل نے زمین کے ناپنے کا حکم دیا تو ایک بالشت بھر نیک لوگوں کی بستی جس طرف وہ ہجرت کر کے جا رہا تھا قریب نکلی اور یہ انہی کے ساتھ ملا دیا گیا اور رحمت کے فرشتے اس کی روح کو لے گئے۔ یہ بھی مذکور ہے کہ وہ موت کے وقت سینے کے بل اس طرف گھسیٹتا ہوا چلا تھا۔ اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ نیک لوگوں کی بستی کے قریب ہو جانے کا اور برے لوگوں کی بستی کے دور ہو جانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا ۔ [صحیح بخاری:3470] ‏ یہ ہے اس حدیث کا خلاصہ، پوری حدیث اپنی جگہ بیان ہو چکی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”اللہ عزوجل نے تمام بندوں کو اپنی مغفرت کی طرف بلایا ہے انہیں بھی جو مسیح علیہ السلام کو اللہ کہتے تھے، انہیں بھی جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے، انہیں بھی جو عزیز علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کو فقیر کہتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کے ہاتھوں کو بند بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ تعالیٰ کو تین میں کا تیسرا کہتے تھے، اللہ تعالیٰ ان سب سے فرماتا ہے کہ ” یہ کیوں اللہ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں اس سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں چاہتے؟ اللہ تو بڑی بخشش والا اور بہت ہی رحم و کرم والا ہے “۔ پھر توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ نے اسے دی جس کا قول ان سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔ جس نے دعویٰ کیا تھا کہ میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں۔ جو کہتا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ تمہارا کوئی معبود میرے سوا ہو۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس کے بعد بھی جو شخص اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے، وہ اللہ عزوجل کی کتاب کا منکر ہے۔ لیکن اسے سمجھ لو کہ جب تک اللہ کسی بندے پر اپنی مہربانی سے رجوع نہ فرمائے اسے توبہ نصیب نہیں ہوتی۔‏“

صفحہ نمبر7853

طبرانی میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ کتاب اللہ قرآن کریم میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت «اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» الخ [2-البقرہ:255] ‏ آیت الکرسی ہے اور خیر و شر کی سب سے زیادہ جامع آیت «إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ‌ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْ‌بَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ‌ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُ‌ونَ» [16-النحل:90] ‏ہے اور سارے قرآن میں سب سے زیادہ خوشی کی آیت سورۃ الزمر کی «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [39-الزمر:53] ‏ ہے اور سب سے زیادہ ڈھارس دینے والی آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» [65-الطلاق:3-2] ‏ ہے، یعنی ” اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کی مخلصی خود اللہ کر دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں کا اسے خیال و گمان بھی نہ ہو “۔ مسروق رحمہ اللہ نے یہ سن کر فرمایا کہ بیشک آپ رضی اللہ عنہ سچے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جا رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک واعظ کو دیکھا جو لوگوں کو نصیحتیں کر رہا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ ”تو کیوں لوگوں کو مایوس کر رہا ہے؟ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔‏“ [تفسیر ابن ابی حاتم] ‏

صفحہ نمبر7854

(‏ان احادیث کا بیان جن میں ناامیدی اور مایوسی کی ممانعت ہے)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم خطائیں کرتے کرتے زمین و آسمان پر کر دو پھر اللہ سے استغفار کرو تو یقیناً وہ تمہیں بخش دے گا۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کی جان ہے اگر تم خطائیں کرو ہی نہیں تو اللہ عزوجل تمہیں فنا کر کے ان لوگوں کو لائے گا جو خطا کر کے استغفار کریں اور پھر اللہ انہیں بخشے ۔ [مسند احمد:238/3:صحیح لغیره] ‏

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اپنے انتقال کے وقت فرماتے ہیں ایک حدیث میں نے تم سے آج تک بیان نہیں کی تھی اب بیان کر دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ ہی نہ کرتے تو اللہ عزوجل ایسی قوم کو پیدا کرتا جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا ۔ [صحیح مسلم:2748] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں گناہ کا کفارہ ندامت اور شرمساری ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لاتا جو گناہ کریں پھر وہ انہیں بخشے ۔ [مسند احمد:279/1:اسنادہ ضعیف] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو کامل یقین رکھنے والا اور گناہوں سے توبہ کرنے والا ہو ۔ [مسند احمد:80/1:ضعیف] ‏

عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابلیس ملعون نے کہا اے میرے رب! تو نے مجھے آدم علیہ السلام کی وجہ سے جنت سے نکالا ہے اور میں اس پر اس کے بغیر کہ تو مجھے اس پر غلبہ دے غالب نہیں آسکتا۔‏“ جناب باری نے فرمایا ” جا تو ان پر مسلط ہے “۔ اس نے کہا ”اللہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عطا فرما۔‏“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جا بنی آدم میں جتنی اولاد پیدا ہو گی اتنی ہی تیرے ہاں بھی ہو گی “۔ اس نے پھر التجا کی باری تعالیٰ کچھ اور بھی مجھے زیادتی دے۔ پروردگار عالم نے فرمایا ” بنی آدم کے سینے میں تیرے لیے مسکن بنا دوں گا اور تم ان کے جسم میں خون کی جگہ پھرو گے “، اس نے پھر کہا کہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عنایت فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جا تو ان پر اپنے سوار اور پیادے دوڑا، اور ان کے مال و اولاد میں اپنا ساجھا کر اور انہیں امنگیں دلا “۔ گو حقیقتاً تیرا امنگیں دلانا اور وعدے کرنا سراسر دھوکے کی ٹٹی ہیں۔‏“

اس وقت آدم علیہ السلام نے دعا کی کہ ”اے میرے پروردگار تو نے اسے مجھ پر مسلط کر دیا اب میں اس سے تیرے بچائے بغیر بچ نہیں سکتا۔‏“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” سنو تمہارے ہاں جو اولاد ہو گی اس کے ساتھ میں ایک محافظ مقرر کردوں گا جو شیطانی پنجے سے محفوظ رکھے “۔ آدم علیہ السلام نے اور زیادتی طلب کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ایک نیکی کو دس گنا کر کے دوں گا بلکہ دس سے بھی زیادہ اور برائی اسی کے برابر رہے گی یا معاف کر دوں گا “۔ آپ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی یہی دعا جاری رکھی۔ رب العزت نے فرمایا ” توبہ کا دروازہ تمہارے لیے اس وقت تک کھلا ہے جب تک روح جسم میں ہے “، آدم نے دعا کی اللہ مجھے اور زیادتی بھی عطا فرما۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی کہ ” میرے گنہگار بندوں سے کہہ دو وہ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں “۔ [ابن ابی حاتم] ‏

صفحہ نمبر7855

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ جو لوگ بوجہ اپنی کمزوری کے کفار کی تکلیفیں برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے اپنے دین میں فتنے میں پڑ گئے ہم اس کی نسبت آپس میں کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی نیکی اور توبہ قبول نہ فرمائے گا ان لوگوں نے اللہ کو پہچان کر پھر کفر کو لے لیا اور کافروں کی سختی کو برداشت نہ کیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ہمارے اس قول کی تردید کر دی اور «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَ‌فُوا» سے «وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُ‌ونَ» (‏سورۂ الزمر آیات 53 تا 55) تک آیتیں نازل ہوئیں ۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے ہاتھ سے ان آیتوں کو لکھا اور ہشام بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا

ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اس وقت ذی طویٰ میں تھا میں انہیں پڑھ رہا تھا اور باربار پڑھتا جاتا تھا اور خوب غور و خوض کر رہا تھا لیکن اصلی مطلب تک ذہن رسائی نہیں کرتا تھا۔ آخر میں نے دعا کی کہ پروردگار ان آیتوں کا صحیح مطلب اور ان کو میری طرف بھیجے جانے کا صحیح مقصد مجھ پر واضح کر دے۔ چنانچہ میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالا گیا کہ ان آیتوں سے مراد ہم ہی ہیں یہ ہمارے بارے میں ہیں اور ہمیں جو خیال تھا کہ اب ہماری توبہ قبول نہیں ہو سکتی اسی بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اسی وقت میں واپس مڑا اپنا اونٹ لیا اس پر سواری کی اور سیدھا مدینے میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا ۔ [سیرۃ ابن اسحاق] ‏

بندوں کی مایوسی کو توڑ کر انہیں بخشش کی امید دلا کر پھر حکم دیا اور رغبت دلائی کہ ” وہ توبہ اور نیک عمل کی طرف سبقت اور جلدی کریں ایسا نہ ہو کہ اللہ کے عذاب آ پڑیں “۔

جس وقت کہ کسی کی مدد کچھ کام نہیں آتی اور انہیں چاہیئے کہ عظمت والے قرآن کریم کی تابعداری اور ماتحتی میں مشغول ہو جائیں اس سے پہلے کہ اچانک عذاب آئیں اور یہ بے خبری میں ہی ہوں، اس وقت قیامت کے دن بے توبہ مرنے والے اور اللہ کی عبادت میں کمی لانے والے بڑی حسرت اور بہت افسوس کریں گے اور آرزو کریں گے کہ کاش کہ ہم خلوص کے ساتھ احکام اللہ بجا لاتے۔ افسوس! کہ ہم تو بےیقین رہے۔ اللہ کی باتوں کی تصدیق ہی نہ کی بلکہ ہنسی مذاق ہی سمجھتے رہے اور کہیں گے کہ اگر ہم بھی ہدایت پالیتے تو یقیناً رب کی نافرمانیوں سے دنیا میں اور اللہ کے عذاب سے آخرت میں بچ جاتے اور عذاب کو دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر اب دوبارہ دنیا کی طرف جانا ہو جائے تو دل کھول کر نیکیاں کرلیں۔

صفحہ نمبر7856

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بندے کیا عمل کریں گے اور کیا کچھ وہ کہیں گے، ان کے عمل اور ان کے قول سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دیدی اور فی الواقع اس سے زیادہ باخبر کون ہوسکتا ہے؟ نہ اس سے زیادہ سچی خبر کوئی دے سکتا ہے۔‏“

بدکاروں کے یہ تینوں قول بیان فرمائے اور دوسری جگہ یہ خبر دیدی کہ ” اگر یہ واپس دنیا میں بھیجے جائیں تو بھی ہدایت کو اختیار نہ کریں گے، بلکہ جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کرنے لگیں گے اور یہاں جو کہتے ہیں سب جھوٹ نکلے گا “۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے ہر جہنمی کو اس کی جنت کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کاش کہ اللہ مجھے ہدایت دیتا۔ یہ اس لیے کہ اسے حسرت و افسوس ہو۔ اور اسی طرح ہر جنتی کو اس کی جہنم کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دیتا تو وہ جنت میں نہ آسکتا۔ یہ اس لیے کہ وہ شکر اور احسان کے ماننے میں اور بڑھ جائے ۔ [مسند احمد:512/2:صحیح] ‏

جب گنہگار لوگ دنیا کی طرف لوٹنے کی آرزو کریں گے اور اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہ کرنے کی حسرت کریں گے اور اللہ کے رسولوں کو نہ ماننے پر کڑھنے لگیں گے تو اللہ سبحان و تعالیٰ فرمائے گا کہ ” اب ندامت لاحاصل ہے پچھتاوا بےسود ہے دنیا میں ہی میں تو اپنی آیتیں اتار چکا تھا۔ اپنی دلیلیں قائم کر چکا تھا، لیکن تو انہیں جھٹلاتا رہا اور ان کی تابعداری سے تکبر کرتا رہا، ان کا منکر رہا۔ کفر اختیار کیا، اب کچھ نہیں ہوسکتا “۔

صفحہ نمبر7857

توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭

اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لیے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بڑے بڑے گناہ جو ہم سے ہو چکے ہیں ان کا کفارہ کیا ہو گا؟ اس پر آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» [25-الفرقان:68] ‏، یہ اور آیت نازل ہوئی ۔ [صحیح بخاری:4810] ‏

صفحہ نمبر7850

مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں مجھے ساری دنیا اور اس کی ہرچیز کے ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس آیت کے نازل ہونے سے ہوئی ہے ۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ جس نے شرک کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد فرمایا: خبردار رہو جس نے شرک بھی کیا ہو تین مرتبہ یہی فرمایا ۔ [مسند احمد:275/5:ضعیف] ‏

مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک بوڑھا بڑا شخص لکڑی ٹکاتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے چھوٹے موٹے گناہ بہت سارے ہیں کیا مجھے بھی بخشا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ کی توحید کی گواہی نہیں دیتا؟ اس نے کہا ہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی بھی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے چھوٹے موٹے گناہ معاف ہیں ۔ [مسند احمد:385/4:صحیح بالشواهد] ‏

ابوداؤد ترمذی وغیرہ میں ہے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اس آیت کی تلاوت اسی طرح فرما رہے تھے «‏اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» [11-ھود:46] ‏ اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏ [39-الزمر:53] ‏۔ [مسند احمد:454/6:ضعیف] ‏ پس ان تمام احادیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ توبہ سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کو رحمت رب سے مایوس نہ ہونا چاہیئے۔ گو گناہ کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی کثرت سے ہوں۔ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہوا رہتا ہے اور وہ بہت ہی وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» ‏ [9-التوبة:104] ‏ ” کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے “۔ اور فرمایا «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ‌ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا» [4-النساء:110] ‏، ” جو برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر اللہ سے استغفار کرے وہ اللہ کو بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا پائے گا “۔

صفحہ نمبر7851

منافقوں کی سزا جو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہو گی اسے بیان فرما کر بھی فرمایا «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْ‌كِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ‌ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرً‌ا إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّـهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرً‌ا عَظِيمًا» [4-النساء:145-146] ‏ یعنی ” ان سے وہ مستثنیٰ ہیں جو توبہ کریں اور اصلاح کر لیں “۔

مشرکین نصاریٰ کے اس شرک کا کہ وہ اللہ کو تین میں کا تیسرا مانتے ہیں ذکر کر کے ان کی سزاؤں کے بیان سے پہلے فرما دیا «وَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» [5-المائدة:73] ‏ کہ ” اگر یہ اپنے قول سے باز نہ آئے تو “۔ پھر اللہ تعالیٰ عظمت و کبریائی جلال و شان والے نے فرمایا «أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّـهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [5-المائدة:74] ‏ ” یہ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے اور کیوں اس سے استغفار نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی غفور و رحیم ہے “۔

ان لوگوں کا جنہوں نے خندقیں کھود کر مسلمانوں کو آگ میں ڈالا تھا ذکر کرتے ہوئے بھی فرمایا ہے کہ ” جو مسلمان مرد عورتوں کو تکلیف پہنچا کر پھر بھی توبہ نہ کریں ان کیلئے عذاب جہنم اور عذاب نار ہے “۔

صفحہ نمبر7852

امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ کے کرم و جود کو دیکھو کہ اپنے دوستوں کے قاتلوں کو بھی توبہ اور مغفرت کی طرف بلا رہا ہے۔‏“ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہے جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک عابد سے پوچھا کہ کیا اس کیلئے بھی توبہ ہے؟ اس نے انکار کیا اس نے اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر ایک عالم سے پوچھا اس نے جواب دیا کہ تجھ میں اور توبہ میں کوئی روک نہیں اور حکم دیا کہ موحدوں کی بستی میں چلا جا چنانچہ یہ اس گاؤں کی طرف چلا لیکن راستے میں ہی موت آ گئی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں آپس میں اختلاف ہوا۔ اللہ عزوجل نے زمین کے ناپنے کا حکم دیا تو ایک بالشت بھر نیک لوگوں کی بستی جس طرف وہ ہجرت کر کے جا رہا تھا قریب نکلی اور یہ انہی کے ساتھ ملا دیا گیا اور رحمت کے فرشتے اس کی روح کو لے گئے۔ یہ بھی مذکور ہے کہ وہ موت کے وقت سینے کے بل اس طرف گھسیٹتا ہوا چلا تھا۔ اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ نیک لوگوں کی بستی کے قریب ہو جانے کا اور برے لوگوں کی بستی کے دور ہو جانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا ۔ [صحیح بخاری:3470] ‏ یہ ہے اس حدیث کا خلاصہ، پوری حدیث اپنی جگہ بیان ہو چکی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”اللہ عزوجل نے تمام بندوں کو اپنی مغفرت کی طرف بلایا ہے انہیں بھی جو مسیح علیہ السلام کو اللہ کہتے تھے، انہیں بھی جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے، انہیں بھی جو عزیز علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کو فقیر کہتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کے ہاتھوں کو بند بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ تعالیٰ کو تین میں کا تیسرا کہتے تھے، اللہ تعالیٰ ان سب سے فرماتا ہے کہ ” یہ کیوں اللہ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں اس سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں چاہتے؟ اللہ تو بڑی بخشش والا اور بہت ہی رحم و کرم والا ہے “۔ پھر توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ نے اسے دی جس کا قول ان سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔ جس نے دعویٰ کیا تھا کہ میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں۔ جو کہتا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ تمہارا کوئی معبود میرے سوا ہو۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس کے بعد بھی جو شخص اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے، وہ اللہ عزوجل کی کتاب کا منکر ہے۔ لیکن اسے سمجھ لو کہ جب تک اللہ کسی بندے پر اپنی مہربانی سے رجوع نہ فرمائے اسے توبہ نصیب نہیں ہوتی۔‏“

صفحہ نمبر7853

طبرانی میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ کتاب اللہ قرآن کریم میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت «اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» الخ [2-البقرہ:255] ‏ آیت الکرسی ہے اور خیر و شر کی سب سے زیادہ جامع آیت «إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ‌ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْ‌بَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ‌ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُ‌ونَ» [16-النحل:90] ‏ہے اور سارے قرآن میں سب سے زیادہ خوشی کی آیت سورۃ الزمر کی «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [39-الزمر:53] ‏ ہے اور سب سے زیادہ ڈھارس دینے والی آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» [65-الطلاق:3-2] ‏ ہے، یعنی ” اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کی مخلصی خود اللہ کر دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں کا اسے خیال و گمان بھی نہ ہو “۔ مسروق رحمہ اللہ نے یہ سن کر فرمایا کہ بیشک آپ رضی اللہ عنہ سچے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جا رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک واعظ کو دیکھا جو لوگوں کو نصیحتیں کر رہا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ ”تو کیوں لوگوں کو مایوس کر رہا ہے؟ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔‏“ [تفسیر ابن ابی حاتم] ‏

صفحہ نمبر7854

(‏ان احادیث کا بیان جن میں ناامیدی اور مایوسی کی ممانعت ہے)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم خطائیں کرتے کرتے زمین و آسمان پر کر دو پھر اللہ سے استغفار کرو تو یقیناً وہ تمہیں بخش دے گا۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کی جان ہے اگر تم خطائیں کرو ہی نہیں تو اللہ عزوجل تمہیں فنا کر کے ان لوگوں کو لائے گا جو خطا کر کے استغفار کریں اور پھر اللہ انہیں بخشے ۔ [مسند احمد:238/3:صحیح لغیره] ‏

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اپنے انتقال کے وقت فرماتے ہیں ایک حدیث میں نے تم سے آج تک بیان نہیں کی تھی اب بیان کر دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ ہی نہ کرتے تو اللہ عزوجل ایسی قوم کو پیدا کرتا جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا ۔ [صحیح مسلم:2748] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں گناہ کا کفارہ ندامت اور شرمساری ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لاتا جو گناہ کریں پھر وہ انہیں بخشے ۔ [مسند احمد:279/1:اسنادہ ضعیف] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو کامل یقین رکھنے والا اور گناہوں سے توبہ کرنے والا ہو ۔ [مسند احمد:80/1:ضعیف] ‏

عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابلیس ملعون نے کہا اے میرے رب! تو نے مجھے آدم علیہ السلام کی وجہ سے جنت سے نکالا ہے اور میں اس پر اس کے بغیر کہ تو مجھے اس پر غلبہ دے غالب نہیں آسکتا۔‏“ جناب باری نے فرمایا ” جا تو ان پر مسلط ہے “۔ اس نے کہا ”اللہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عطا فرما۔‏“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جا بنی آدم میں جتنی اولاد پیدا ہو گی اتنی ہی تیرے ہاں بھی ہو گی “۔ اس نے پھر التجا کی باری تعالیٰ کچھ اور بھی مجھے زیادتی دے۔ پروردگار عالم نے فرمایا ” بنی آدم کے سینے میں تیرے لیے مسکن بنا دوں گا اور تم ان کے جسم میں خون کی جگہ پھرو گے “، اس نے پھر کہا کہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عنایت فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جا تو ان پر اپنے سوار اور پیادے دوڑا، اور ان کے مال و اولاد میں اپنا ساجھا کر اور انہیں امنگیں دلا “۔ گو حقیقتاً تیرا امنگیں دلانا اور وعدے کرنا سراسر دھوکے کی ٹٹی ہیں۔‏“

اس وقت آدم علیہ السلام نے دعا کی کہ ”اے میرے پروردگار تو نے اسے مجھ پر مسلط کر دیا اب میں اس سے تیرے بچائے بغیر بچ نہیں سکتا۔‏“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” سنو تمہارے ہاں جو اولاد ہو گی اس کے ساتھ میں ایک محافظ مقرر کردوں گا جو شیطانی پنجے سے محفوظ رکھے “۔ آدم علیہ السلام نے اور زیادتی طلب کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ایک نیکی کو دس گنا کر کے دوں گا بلکہ دس سے بھی زیادہ اور برائی اسی کے برابر رہے گی یا معاف کر دوں گا “۔ آپ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی یہی دعا جاری رکھی۔ رب العزت نے فرمایا ” توبہ کا دروازہ تمہارے لیے اس وقت تک کھلا ہے جب تک روح جسم میں ہے “، آدم نے دعا کی اللہ مجھے اور زیادتی بھی عطا فرما۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی کہ ” میرے گنہگار بندوں سے کہہ دو وہ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں “۔ [ابن ابی حاتم] ‏

صفحہ نمبر7855

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ جو لوگ بوجہ اپنی کمزوری کے کفار کی تکلیفیں برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے اپنے دین میں فتنے میں پڑ گئے ہم اس کی نسبت آپس میں کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی نیکی اور توبہ قبول نہ فرمائے گا ان لوگوں نے اللہ کو پہچان کر پھر کفر کو لے لیا اور کافروں کی سختی کو برداشت نہ کیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ہمارے اس قول کی تردید کر دی اور «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَ‌فُوا» سے «وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُ‌ونَ» (‏سورۂ الزمر آیات 53 تا 55) تک آیتیں نازل ہوئیں ۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے ہاتھ سے ان آیتوں کو لکھا اور ہشام بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا

ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اس وقت ذی طویٰ میں تھا میں انہیں پڑھ رہا تھا اور باربار پڑھتا جاتا تھا اور خوب غور و خوض کر رہا تھا لیکن اصلی مطلب تک ذہن رسائی نہیں کرتا تھا۔ آخر میں نے دعا کی کہ پروردگار ان آیتوں کا صحیح مطلب اور ان کو میری طرف بھیجے جانے کا صحیح مقصد مجھ پر واضح کر دے۔ چنانچہ میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالا گیا کہ ان آیتوں سے مراد ہم ہی ہیں یہ ہمارے بارے میں ہیں اور ہمیں جو خیال تھا کہ اب ہماری توبہ قبول نہیں ہو سکتی اسی بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اسی وقت میں واپس مڑا اپنا اونٹ لیا اس پر سواری کی اور سیدھا مدینے میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا ۔ [سیرۃ ابن اسحاق] ‏

بندوں کی مایوسی کو توڑ کر انہیں بخشش کی امید دلا کر پھر حکم دیا اور رغبت دلائی کہ ” وہ توبہ اور نیک عمل کی طرف سبقت اور جلدی کریں ایسا نہ ہو کہ اللہ کے عذاب آ پڑیں “۔

جس وقت کہ کسی کی مدد کچھ کام نہیں آتی اور انہیں چاہیئے کہ عظمت والے قرآن کریم کی تابعداری اور ماتحتی میں مشغول ہو جائیں اس سے پہلے کہ اچانک عذاب آئیں اور یہ بے خبری میں ہی ہوں، اس وقت قیامت کے دن بے توبہ مرنے والے اور اللہ کی عبادت میں کمی لانے والے بڑی حسرت اور بہت افسوس کریں گے اور آرزو کریں گے کہ کاش کہ ہم خلوص کے ساتھ احکام اللہ بجا لاتے۔ افسوس! کہ ہم تو بےیقین رہے۔ اللہ کی باتوں کی تصدیق ہی نہ کی بلکہ ہنسی مذاق ہی سمجھتے رہے اور کہیں گے کہ اگر ہم بھی ہدایت پالیتے تو یقیناً رب کی نافرمانیوں سے دنیا میں اور اللہ کے عذاب سے آخرت میں بچ جاتے اور عذاب کو دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر اب دوبارہ دنیا کی طرف جانا ہو جائے تو دل کھول کر نیکیاں کرلیں۔

صفحہ نمبر7856

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بندے کیا عمل کریں گے اور کیا کچھ وہ کہیں گے، ان کے عمل اور ان کے قول سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دیدی اور فی الواقع اس سے زیادہ باخبر کون ہوسکتا ہے؟ نہ اس سے زیادہ سچی خبر کوئی دے سکتا ہے۔‏“

بدکاروں کے یہ تینوں قول بیان فرمائے اور دوسری جگہ یہ خبر دیدی کہ ” اگر یہ واپس دنیا میں بھیجے جائیں تو بھی ہدایت کو اختیار نہ کریں گے، بلکہ جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کرنے لگیں گے اور یہاں جو کہتے ہیں سب جھوٹ نکلے گا “۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے ہر جہنمی کو اس کی جنت کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کاش کہ اللہ مجھے ہدایت دیتا۔ یہ اس لیے کہ اسے حسرت و افسوس ہو۔ اور اسی طرح ہر جنتی کو اس کی جہنم کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دیتا تو وہ جنت میں نہ آسکتا۔ یہ اس لیے کہ وہ شکر اور احسان کے ماننے میں اور بڑھ جائے ۔ [مسند احمد:512/2:صحیح] ‏

جب گنہگار لوگ دنیا کی طرف لوٹنے کی آرزو کریں گے اور اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہ کرنے کی حسرت کریں گے اور اللہ کے رسولوں کو نہ ماننے پر کڑھنے لگیں گے تو اللہ سبحان و تعالیٰ فرمائے گا کہ ” اب ندامت لاحاصل ہے پچھتاوا بےسود ہے دنیا میں ہی میں تو اپنی آیتیں اتار چکا تھا۔ اپنی دلیلیں قائم کر چکا تھا، لیکن تو انہیں جھٹلاتا رہا اور ان کی تابعداری سے تکبر کرتا رہا، ان کا منکر رہا۔ کفر اختیار کیا، اب کچھ نہیں ہوسکتا “۔

صفحہ نمبر7857

توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭

اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لیے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بڑے بڑے گناہ جو ہم سے ہو چکے ہیں ان کا کفارہ کیا ہو گا؟ اس پر آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» [25-الفرقان:68] ‏، یہ اور آیت نازل ہوئی ۔ [صحیح بخاری:4810] ‏

صفحہ نمبر7850

مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں مجھے ساری دنیا اور اس کی ہرچیز کے ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس آیت کے نازل ہونے سے ہوئی ہے ۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ جس نے شرک کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد فرمایا: خبردار رہو جس نے شرک بھی کیا ہو تین مرتبہ یہی فرمایا ۔ [مسند احمد:275/5:ضعیف] ‏

مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک بوڑھا بڑا شخص لکڑی ٹکاتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے چھوٹے موٹے گناہ بہت سارے ہیں کیا مجھے بھی بخشا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ کی توحید کی گواہی نہیں دیتا؟ اس نے کہا ہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی بھی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے چھوٹے موٹے گناہ معاف ہیں ۔ [مسند احمد:385/4:صحیح بالشواهد] ‏

ابوداؤد ترمذی وغیرہ میں ہے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اس آیت کی تلاوت اسی طرح فرما رہے تھے «‏اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» [11-ھود:46] ‏ اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏ [39-الزمر:53] ‏۔ [مسند احمد:454/6:ضعیف] ‏ پس ان تمام احادیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ توبہ سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کو رحمت رب سے مایوس نہ ہونا چاہیئے۔ گو گناہ کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی کثرت سے ہوں۔ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہوا رہتا ہے اور وہ بہت ہی وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» ‏ [9-التوبة:104] ‏ ” کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے “۔ اور فرمایا «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ‌ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا» [4-النساء:110] ‏، ” جو برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر اللہ سے استغفار کرے وہ اللہ کو بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا پائے گا “۔

صفحہ نمبر7851

منافقوں کی سزا جو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہو گی اسے بیان فرما کر بھی فرمایا «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْ‌كِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ‌ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرً‌ا إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّـهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرً‌ا عَظِيمًا» [4-النساء:145-146] ‏ یعنی ” ان سے وہ مستثنیٰ ہیں جو توبہ کریں اور اصلاح کر لیں “۔

مشرکین نصاریٰ کے اس شرک کا کہ وہ اللہ کو تین میں کا تیسرا مانتے ہیں ذکر کر کے ان کی سزاؤں کے بیان سے پہلے فرما دیا «وَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» [5-المائدة:73] ‏ کہ ” اگر یہ اپنے قول سے باز نہ آئے تو “۔ پھر اللہ تعالیٰ عظمت و کبریائی جلال و شان والے نے فرمایا «أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّـهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [5-المائدة:74] ‏ ” یہ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے اور کیوں اس سے استغفار نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی غفور و رحیم ہے “۔

ان لوگوں کا جنہوں نے خندقیں کھود کر مسلمانوں کو آگ میں ڈالا تھا ذکر کرتے ہوئے بھی فرمایا ہے کہ ” جو مسلمان مرد عورتوں کو تکلیف پہنچا کر پھر بھی توبہ نہ کریں ان کیلئے عذاب جہنم اور عذاب نار ہے “۔

صفحہ نمبر7852

امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ کے کرم و جود کو دیکھو کہ اپنے دوستوں کے قاتلوں کو بھی توبہ اور مغفرت کی طرف بلا رہا ہے۔‏“ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہے جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک عابد سے پوچھا کہ کیا اس کیلئے بھی توبہ ہے؟ اس نے انکار کیا اس نے اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر ایک عالم سے پوچھا اس نے جواب دیا کہ تجھ میں اور توبہ میں کوئی روک نہیں اور حکم دیا کہ موحدوں کی بستی میں چلا جا چنانچہ یہ اس گاؤں کی طرف چلا لیکن راستے میں ہی موت آ گئی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں آپس میں اختلاف ہوا۔ اللہ عزوجل نے زمین کے ناپنے کا حکم دیا تو ایک بالشت بھر نیک لوگوں کی بستی جس طرف وہ ہجرت کر کے جا رہا تھا قریب نکلی اور یہ انہی کے ساتھ ملا دیا گیا اور رحمت کے فرشتے اس کی روح کو لے گئے۔ یہ بھی مذکور ہے کہ وہ موت کے وقت سینے کے بل اس طرف گھسیٹتا ہوا چلا تھا۔ اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ نیک لوگوں کی بستی کے قریب ہو جانے کا اور برے لوگوں کی بستی کے دور ہو جانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا ۔ [صحیح بخاری:3470] ‏ یہ ہے اس حدیث کا خلاصہ، پوری حدیث اپنی جگہ بیان ہو چکی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”اللہ عزوجل نے تمام بندوں کو اپنی مغفرت کی طرف بلایا ہے انہیں بھی جو مسیح علیہ السلام کو اللہ کہتے تھے، انہیں بھی جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے، انہیں بھی جو عزیز علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کو فقیر کہتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کے ہاتھوں کو بند بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ تعالیٰ کو تین میں کا تیسرا کہتے تھے، اللہ تعالیٰ ان سب سے فرماتا ہے کہ ” یہ کیوں اللہ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں اس سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں چاہتے؟ اللہ تو بڑی بخشش والا اور بہت ہی رحم و کرم والا ہے “۔ پھر توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ نے اسے دی جس کا قول ان سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔ جس نے دعویٰ کیا تھا کہ میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں۔ جو کہتا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ تمہارا کوئی معبود میرے سوا ہو۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس کے بعد بھی جو شخص اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے، وہ اللہ عزوجل کی کتاب کا منکر ہے۔ لیکن اسے سمجھ لو کہ جب تک اللہ کسی بندے پر اپنی مہربانی سے رجوع نہ فرمائے اسے توبہ نصیب نہیں ہوتی۔‏“

صفحہ نمبر7853

طبرانی میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ کتاب اللہ قرآن کریم میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت «اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» الخ [2-البقرہ:255] ‏ آیت الکرسی ہے اور خیر و شر کی سب سے زیادہ جامع آیت «إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ‌ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْ‌بَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ‌ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُ‌ونَ» [16-النحل:90] ‏ہے اور سارے قرآن میں سب سے زیادہ خوشی کی آیت سورۃ الزمر کی «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [39-الزمر:53] ‏ ہے اور سب سے زیادہ ڈھارس دینے والی آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» [65-الطلاق:3-2] ‏ ہے، یعنی ” اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کی مخلصی خود اللہ کر دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں کا اسے خیال و گمان بھی نہ ہو “۔ مسروق رحمہ اللہ نے یہ سن کر فرمایا کہ بیشک آپ رضی اللہ عنہ سچے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جا رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک واعظ کو دیکھا جو لوگوں کو نصیحتیں کر رہا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ ”تو کیوں لوگوں کو مایوس کر رہا ہے؟ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔‏“ [تفسیر ابن ابی حاتم] ‏

صفحہ نمبر7854

(‏ان احادیث کا بیان جن میں ناامیدی اور مایوسی کی ممانعت ہے)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم خطائیں کرتے کرتے زمین و آسمان پر کر دو پھر اللہ سے استغفار کرو تو یقیناً وہ تمہیں بخش دے گا۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کی جان ہے اگر تم خطائیں کرو ہی نہیں تو اللہ عزوجل تمہیں فنا کر کے ان لوگوں کو لائے گا جو خطا کر کے استغفار کریں اور پھر اللہ انہیں بخشے ۔ [مسند احمد:238/3:صحیح لغیره] ‏

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اپنے انتقال کے وقت فرماتے ہیں ایک حدیث میں نے تم سے آج تک بیان نہیں کی تھی اب بیان کر دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ ہی نہ کرتے تو اللہ عزوجل ایسی قوم کو پیدا کرتا جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا ۔ [صحیح مسلم:2748] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں گناہ کا کفارہ ندامت اور شرمساری ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لاتا جو گناہ کریں پھر وہ انہیں بخشے ۔ [مسند احمد:279/1:اسنادہ ضعیف] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو کامل یقین رکھنے والا اور گناہوں سے توبہ کرنے والا ہو ۔ [مسند احمد:80/1:ضعیف] ‏

عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابلیس ملعون نے کہا اے میرے رب! تو نے مجھے آدم علیہ السلام کی وجہ سے جنت سے نکالا ہے اور میں اس پر اس کے بغیر کہ تو مجھے اس پر غلبہ دے غالب نہیں آسکتا۔‏“ جناب باری نے فرمایا ” جا تو ان پر مسلط ہے “۔ اس نے کہا ”اللہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عطا فرما۔‏“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جا بنی آدم میں جتنی اولاد پیدا ہو گی اتنی ہی تیرے ہاں بھی ہو گی “۔ اس نے پھر التجا کی باری تعالیٰ کچھ اور بھی مجھے زیادتی دے۔ پروردگار عالم نے فرمایا ” بنی آدم کے سینے میں تیرے لیے مسکن بنا دوں گا اور تم ان کے جسم میں خون کی جگہ پھرو گے “، اس نے پھر کہا کہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عنایت فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جا تو ان پر اپنے سوار اور پیادے دوڑا، اور ان کے مال و اولاد میں اپنا ساجھا کر اور انہیں امنگیں دلا “۔ گو حقیقتاً تیرا امنگیں دلانا اور وعدے کرنا سراسر دھوکے کی ٹٹی ہیں۔‏“

اس وقت آدم علیہ السلام نے دعا کی کہ ”اے میرے پروردگار تو نے اسے مجھ پر مسلط کر دیا اب میں اس سے تیرے بچائے بغیر بچ نہیں سکتا۔‏“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” سنو تمہارے ہاں جو اولاد ہو گی اس کے ساتھ میں ایک محافظ مقرر کردوں گا جو شیطانی پنجے سے محفوظ رکھے “۔ آدم علیہ السلام نے اور زیادتی طلب کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ایک نیکی کو دس گنا کر کے دوں گا بلکہ دس سے بھی زیادہ اور برائی اسی کے برابر رہے گی یا معاف کر دوں گا “۔ آپ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی یہی دعا جاری رکھی۔ رب العزت نے فرمایا ” توبہ کا دروازہ تمہارے لیے اس وقت تک کھلا ہے جب تک روح جسم میں ہے “، آدم نے دعا کی اللہ مجھے اور زیادتی بھی عطا فرما۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی کہ ” میرے گنہگار بندوں سے کہہ دو وہ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں “۔ [ابن ابی حاتم] ‏

صفحہ نمبر7855

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ جو لوگ بوجہ اپنی کمزوری کے کفار کی تکلیفیں برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے اپنے دین میں فتنے میں پڑ گئے ہم اس کی نسبت آپس میں کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی نیکی اور توبہ قبول نہ فرمائے گا ان لوگوں نے اللہ کو پہچان کر پھر کفر کو لے لیا اور کافروں کی سختی کو برداشت نہ کیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ہمارے اس قول کی تردید کر دی اور «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَ‌فُوا» سے «وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُ‌ونَ» (‏سورۂ الزمر آیات 53 تا 55) تک آیتیں نازل ہوئیں ۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے ہاتھ سے ان آیتوں کو لکھا اور ہشام بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا

ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اس وقت ذی طویٰ میں تھا میں انہیں پڑھ رہا تھا اور باربار پڑھتا جاتا تھا اور خوب غور و خوض کر رہا تھا لیکن اصلی مطلب تک ذہن رسائی نہیں کرتا تھا۔ آخر میں نے دعا کی کہ پروردگار ان آیتوں کا صحیح مطلب اور ان کو میری طرف بھیجے جانے کا صحیح مقصد مجھ پر واضح کر دے۔ چنانچہ میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالا گیا کہ ان آیتوں سے مراد ہم ہی ہیں یہ ہمارے بارے میں ہیں اور ہمیں جو خیال تھا کہ اب ہماری توبہ قبول نہیں ہو سکتی اسی بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اسی وقت میں واپس مڑا اپنا اونٹ لیا اس پر سواری کی اور سیدھا مدینے میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا ۔ [سیرۃ ابن اسحاق] ‏

بندوں کی مایوسی کو توڑ کر انہیں بخشش کی امید دلا کر پھر حکم دیا اور رغبت دلائی کہ ” وہ توبہ اور نیک عمل کی طرف سبقت اور جلدی کریں ایسا نہ ہو کہ اللہ کے عذاب آ پڑیں “۔

جس وقت کہ کسی کی مدد کچھ کام نہیں آتی اور انہیں چاہیئے کہ عظمت والے قرآن کریم کی تابعداری اور ماتحتی میں مشغول ہو جائیں اس سے پہلے کہ اچانک عذاب آئیں اور یہ بے خبری میں ہی ہوں، اس وقت قیامت کے دن بے توبہ مرنے والے اور اللہ کی عبادت میں کمی لانے والے بڑی حسرت اور بہت افسوس کریں گے اور آرزو کریں گے کہ کاش کہ ہم خلوص کے ساتھ احکام اللہ بجا لاتے۔ افسوس! کہ ہم تو بےیقین رہے۔ اللہ کی باتوں کی تصدیق ہی نہ کی بلکہ ہنسی مذاق ہی سمجھتے رہے اور کہیں گے کہ اگر ہم بھی ہدایت پالیتے تو یقیناً رب کی نافرمانیوں سے دنیا میں اور اللہ کے عذاب سے آخرت میں بچ جاتے اور عذاب کو دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر اب دوبارہ دنیا کی طرف جانا ہو جائے تو دل کھول کر نیکیاں کرلیں۔

صفحہ نمبر7856

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بندے کیا عمل کریں گے اور کیا کچھ وہ کہیں گے، ان کے عمل اور ان کے قول سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دیدی اور فی الواقع اس سے زیادہ باخبر کون ہوسکتا ہے؟ نہ اس سے زیادہ سچی خبر کوئی دے سکتا ہے۔‏“

بدکاروں کے یہ تینوں قول بیان فرمائے اور دوسری جگہ یہ خبر دیدی کہ ” اگر یہ واپس دنیا میں بھیجے جائیں تو بھی ہدایت کو اختیار نہ کریں گے، بلکہ جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کرنے لگیں گے اور یہاں جو کہتے ہیں سب جھوٹ نکلے گا “۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے ہر جہنمی کو اس کی جنت کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کاش کہ اللہ مجھے ہدایت دیتا۔ یہ اس لیے کہ اسے حسرت و افسوس ہو۔ اور اسی طرح ہر جنتی کو اس کی جہنم کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دیتا تو وہ جنت میں نہ آسکتا۔ یہ اس لیے کہ وہ شکر اور احسان کے ماننے میں اور بڑھ جائے ۔ [مسند احمد:512/2:صحیح] ‏

جب گنہگار لوگ دنیا کی طرف لوٹنے کی آرزو کریں گے اور اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہ کرنے کی حسرت کریں گے اور اللہ کے رسولوں کو نہ ماننے پر کڑھنے لگیں گے تو اللہ سبحان و تعالیٰ فرمائے گا کہ ” اب ندامت لاحاصل ہے پچھتاوا بےسود ہے دنیا میں ہی میں تو اپنی آیتیں اتار چکا تھا۔ اپنی دلیلیں قائم کر چکا تھا، لیکن تو انہیں جھٹلاتا رہا اور ان کی تابعداری سے تکبر کرتا رہا، ان کا منکر رہا۔ کفر اختیار کیا، اب کچھ نہیں ہوسکتا “۔

صفحہ نمبر7857

توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭

اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لیے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بڑے بڑے گناہ جو ہم سے ہو چکے ہیں ان کا کفارہ کیا ہو گا؟ اس پر آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» [25-الفرقان:68] ‏، یہ اور آیت نازل ہوئی ۔ [صحیح بخاری:4810] ‏

صفحہ نمبر7850

مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں مجھے ساری دنیا اور اس کی ہرچیز کے ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس آیت کے نازل ہونے سے ہوئی ہے ۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ جس نے شرک کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد فرمایا: خبردار رہو جس نے شرک بھی کیا ہو تین مرتبہ یہی فرمایا ۔ [مسند احمد:275/5:ضعیف] ‏

مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک بوڑھا بڑا شخص لکڑی ٹکاتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے چھوٹے موٹے گناہ بہت سارے ہیں کیا مجھے بھی بخشا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ کی توحید کی گواہی نہیں دیتا؟ اس نے کہا ہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی بھی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے چھوٹے موٹے گناہ معاف ہیں ۔ [مسند احمد:385/4:صحیح بالشواهد] ‏

ابوداؤد ترمذی وغیرہ میں ہے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اس آیت کی تلاوت اسی طرح فرما رہے تھے «‏اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» [11-ھود:46] ‏ اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏ [39-الزمر:53] ‏۔ [مسند احمد:454/6:ضعیف] ‏ پس ان تمام احادیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ توبہ سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کو رحمت رب سے مایوس نہ ہونا چاہیئے۔ گو گناہ کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی کثرت سے ہوں۔ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہوا رہتا ہے اور وہ بہت ہی وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» ‏ [9-التوبة:104] ‏ ” کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے “۔ اور فرمایا «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ‌ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا» [4-النساء:110] ‏، ” جو برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر اللہ سے استغفار کرے وہ اللہ کو بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا پائے گا “۔

صفحہ نمبر7851

منافقوں کی سزا جو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہو گی اسے بیان فرما کر بھی فرمایا «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْ‌كِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ‌ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرً‌ا إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّـهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرً‌ا عَظِيمًا» [4-النساء:145-146] ‏ یعنی ” ان سے وہ مستثنیٰ ہیں جو توبہ کریں اور اصلاح کر لیں “۔

مشرکین نصاریٰ کے اس شرک کا کہ وہ اللہ کو تین میں کا تیسرا مانتے ہیں ذکر کر کے ان کی سزاؤں کے بیان سے پہلے فرما دیا «وَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» [5-المائدة:73] ‏ کہ ” اگر یہ اپنے قول سے باز نہ آئے تو “۔ پھر اللہ تعالیٰ عظمت و کبریائی جلال و شان والے نے فرمایا «أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّـهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [5-المائدة:74] ‏ ” یہ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے اور کیوں اس سے استغفار نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی غفور و رحیم ہے “۔

ان لوگوں کا جنہوں نے خندقیں کھود کر مسلمانوں کو آگ میں ڈالا تھا ذکر کرتے ہوئے بھی فرمایا ہے کہ ” جو مسلمان مرد عورتوں کو تکلیف پہنچا کر پھر بھی توبہ نہ کریں ان کیلئے عذاب جہنم اور عذاب نار ہے “۔

صفحہ نمبر7852

امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ کے کرم و جود کو دیکھو کہ اپنے دوستوں کے قاتلوں کو بھی توبہ اور مغفرت کی طرف بلا رہا ہے۔‏“ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہے جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک عابد سے پوچھا کہ کیا اس کیلئے بھی توبہ ہے؟ اس نے انکار کیا اس نے اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر ایک عالم سے پوچھا اس نے جواب دیا کہ تجھ میں اور توبہ میں کوئی روک نہیں اور حکم دیا کہ موحدوں کی بستی میں چلا جا چنانچہ یہ اس گاؤں کی طرف چلا لیکن راستے میں ہی موت آ گئی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں آپس میں اختلاف ہوا۔ اللہ عزوجل نے زمین کے ناپنے کا حکم دیا تو ایک بالشت بھر نیک لوگوں کی بستی جس طرف وہ ہجرت کر کے جا رہا تھا قریب نکلی اور یہ انہی کے ساتھ ملا دیا گیا اور رحمت کے فرشتے اس کی روح کو لے گئے۔ یہ بھی مذکور ہے کہ وہ موت کے وقت سینے کے بل اس طرف گھسیٹتا ہوا چلا تھا۔ اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ نیک لوگوں کی بستی کے قریب ہو جانے کا اور برے لوگوں کی بستی کے دور ہو جانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا ۔ [صحیح بخاری:3470] ‏ یہ ہے اس حدیث کا خلاصہ، پوری حدیث اپنی جگہ بیان ہو چکی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”اللہ عزوجل نے تمام بندوں کو اپنی مغفرت کی طرف بلایا ہے انہیں بھی جو مسیح علیہ السلام کو اللہ کہتے تھے، انہیں بھی جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے، انہیں بھی جو عزیز علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کو فقیر کہتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کے ہاتھوں کو بند بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ تعالیٰ کو تین میں کا تیسرا کہتے تھے، اللہ تعالیٰ ان سب سے فرماتا ہے کہ ” یہ کیوں اللہ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں اس سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں چاہتے؟ اللہ تو بڑی بخشش والا اور بہت ہی رحم و کرم والا ہے “۔ پھر توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ نے اسے دی جس کا قول ان سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔ جس نے دعویٰ کیا تھا کہ میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں۔ جو کہتا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ تمہارا کوئی معبود میرے سوا ہو۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس کے بعد بھی جو شخص اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے، وہ اللہ عزوجل کی کتاب کا منکر ہے۔ لیکن اسے سمجھ لو کہ جب تک اللہ کسی بندے پر اپنی مہربانی سے رجوع نہ فرمائے اسے توبہ نصیب نہیں ہوتی۔‏“

صفحہ نمبر7853

طبرانی میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ کتاب اللہ قرآن کریم میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت «اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» الخ [2-البقرہ:255] ‏ آیت الکرسی ہے اور خیر و شر کی سب سے زیادہ جامع آیت «إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ‌ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْ‌بَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ‌ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُ‌ونَ» [16-النحل:90] ‏ہے اور سارے قرآن میں سب سے زیادہ خوشی کی آیت سورۃ الزمر کی «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [39-الزمر:53] ‏ ہے اور سب سے زیادہ ڈھارس دینے والی آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» [65-الطلاق:3-2] ‏ ہے، یعنی ” اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کی مخلصی خود اللہ کر دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں کا اسے خیال و گمان بھی نہ ہو “۔ مسروق رحمہ اللہ نے یہ سن کر فرمایا کہ بیشک آپ رضی اللہ عنہ سچے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جا رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک واعظ کو دیکھا جو لوگوں کو نصیحتیں کر رہا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ ”تو کیوں لوگوں کو مایوس کر رہا ہے؟ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔‏“ [تفسیر ابن ابی حاتم] ‏

صفحہ نمبر7854

(‏ان احادیث کا بیان جن میں ناامیدی اور مایوسی کی ممانعت ہے)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم خطائیں کرتے کرتے زمین و آسمان پر کر دو پھر اللہ سے استغفار کرو تو یقیناً وہ تمہیں بخش دے گا۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کی جان ہے اگر تم خطائیں کرو ہی نہیں تو اللہ عزوجل تمہیں فنا کر کے ان لوگوں کو لائے گا جو خطا کر کے استغفار کریں اور پھر اللہ انہیں بخشے ۔ [مسند احمد:238/3:صحیح لغیره] ‏

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اپنے انتقال کے وقت فرماتے ہیں ایک حدیث میں نے تم سے آج تک بیان نہیں کی تھی اب بیان کر دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ ہی نہ کرتے تو اللہ عزوجل ایسی قوم کو پیدا کرتا جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا ۔ [صحیح مسلم:2748] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں گناہ کا کفارہ ندامت اور شرمساری ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لاتا جو گناہ کریں پھر وہ انہیں بخشے ۔ [مسند احمد:279/1:اسنادہ ضعیف] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو کامل یقین رکھنے والا اور گناہوں سے توبہ کرنے والا ہو ۔ [مسند احمد:80/1:ضعیف] ‏

عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابلیس ملعون نے کہا اے میرے رب! تو نے مجھے آدم علیہ السلام کی وجہ سے جنت سے نکالا ہے اور میں اس پر اس کے بغیر کہ تو مجھے اس پر غلبہ دے غالب نہیں آسکتا۔‏“ جناب باری نے فرمایا ” جا تو ان پر مسلط ہے “۔ اس نے کہا ”اللہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عطا فرما۔‏“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جا بنی آدم میں جتنی اولاد پیدا ہو گی اتنی ہی تیرے ہاں بھی ہو گی “۔ اس نے پھر التجا کی باری تعالیٰ کچھ اور بھی مجھے زیادتی دے۔ پروردگار عالم نے فرمایا ” بنی آدم کے سینے میں تیرے لیے مسکن بنا دوں گا اور تم ان کے جسم میں خون کی جگہ پھرو گے “، اس نے پھر کہا کہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عنایت فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جا تو ان پر اپنے سوار اور پیادے دوڑا، اور ان کے مال و اولاد میں اپنا ساجھا کر اور انہیں امنگیں دلا “۔ گو حقیقتاً تیرا امنگیں دلانا اور وعدے کرنا سراسر دھوکے کی ٹٹی ہیں۔‏“

اس وقت آدم علیہ السلام نے دعا کی کہ ”اے میرے پروردگار تو نے اسے مجھ پر مسلط کر دیا اب میں اس سے تیرے بچائے بغیر بچ نہیں سکتا۔‏“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” سنو تمہارے ہاں جو اولاد ہو گی اس کے ساتھ میں ایک محافظ مقرر کردوں گا جو شیطانی پنجے سے محفوظ رکھے “۔ آدم علیہ السلام نے اور زیادتی طلب کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ایک نیکی کو دس گنا کر کے دوں گا بلکہ دس سے بھی زیادہ اور برائی اسی کے برابر رہے گی یا معاف کر دوں گا “۔ آپ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی یہی دعا جاری رکھی۔ رب العزت نے فرمایا ” توبہ کا دروازہ تمہارے لیے اس وقت تک کھلا ہے جب تک روح جسم میں ہے “، آدم نے دعا کی اللہ مجھے اور زیادتی بھی عطا فرما۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی کہ ” میرے گنہگار بندوں سے کہہ دو وہ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں “۔ [ابن ابی حاتم] ‏

صفحہ نمبر7855

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ جو لوگ بوجہ اپنی کمزوری کے کفار کی تکلیفیں برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے اپنے دین میں فتنے میں پڑ گئے ہم اس کی نسبت آپس میں کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی نیکی اور توبہ قبول نہ فرمائے گا ان لوگوں نے اللہ کو پہچان کر پھر کفر کو لے لیا اور کافروں کی سختی کو برداشت نہ کیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ہمارے اس قول کی تردید کر دی اور «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَ‌فُوا» سے «وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُ‌ونَ» (‏سورۂ الزمر آیات 53 تا 55) تک آیتیں نازل ہوئیں ۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے ہاتھ سے ان آیتوں کو لکھا اور ہشام بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا

ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اس وقت ذی طویٰ میں تھا میں انہیں پڑھ رہا تھا اور باربار پڑھتا جاتا تھا اور خوب غور و خوض کر رہا تھا لیکن اصلی مطلب تک ذہن رسائی نہیں کرتا تھا۔ آخر میں نے دعا کی کہ پروردگار ان آیتوں کا صحیح مطلب اور ان کو میری طرف بھیجے جانے کا صحیح مقصد مجھ پر واضح کر دے۔ چنانچہ میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالا گیا کہ ان آیتوں سے مراد ہم ہی ہیں یہ ہمارے بارے میں ہیں اور ہمیں جو خیال تھا کہ اب ہماری توبہ قبول نہیں ہو سکتی اسی بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اسی وقت میں واپس مڑا اپنا اونٹ لیا اس پر سواری کی اور سیدھا مدینے میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا ۔ [سیرۃ ابن اسحاق] ‏

بندوں کی مایوسی کو توڑ کر انہیں بخشش کی امید دلا کر پھر حکم دیا اور رغبت دلائی کہ ” وہ توبہ اور نیک عمل کی طرف سبقت اور جلدی کریں ایسا نہ ہو کہ اللہ کے عذاب آ پڑیں “۔

جس وقت کہ کسی کی مدد کچھ کام نہیں آتی اور انہیں چاہیئے کہ عظمت والے قرآن کریم کی تابعداری اور ماتحتی میں مشغول ہو جائیں اس سے پہلے کہ اچانک عذاب آئیں اور یہ بے خبری میں ہی ہوں، اس وقت قیامت کے دن بے توبہ مرنے والے اور اللہ کی عبادت میں کمی لانے والے بڑی حسرت اور بہت افسوس کریں گے اور آرزو کریں گے کہ کاش کہ ہم خلوص کے ساتھ احکام اللہ بجا لاتے۔ افسوس! کہ ہم تو بےیقین رہے۔ اللہ کی باتوں کی تصدیق ہی نہ کی بلکہ ہنسی مذاق ہی سمجھتے رہے اور کہیں گے کہ اگر ہم بھی ہدایت پالیتے تو یقیناً رب کی نافرمانیوں سے دنیا میں اور اللہ کے عذاب سے آخرت میں بچ جاتے اور عذاب کو دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر اب دوبارہ دنیا کی طرف جانا ہو جائے تو دل کھول کر نیکیاں کرلیں۔

صفحہ نمبر7856

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بندے کیا عمل کریں گے اور کیا کچھ وہ کہیں گے، ان کے عمل اور ان کے قول سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دیدی اور فی الواقع اس سے زیادہ باخبر کون ہوسکتا ہے؟ نہ اس سے زیادہ سچی خبر کوئی دے سکتا ہے۔‏“

بدکاروں کے یہ تینوں قول بیان فرمائے اور دوسری جگہ یہ خبر دیدی کہ ” اگر یہ واپس دنیا میں بھیجے جائیں تو بھی ہدایت کو اختیار نہ کریں گے، بلکہ جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کرنے لگیں گے اور یہاں جو کہتے ہیں سب جھوٹ نکلے گا “۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے ہر جہنمی کو اس کی جنت کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کاش کہ اللہ مجھے ہدایت دیتا۔ یہ اس لیے کہ اسے حسرت و افسوس ہو۔ اور اسی طرح ہر جنتی کو اس کی جہنم کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دیتا تو وہ جنت میں نہ آسکتا۔ یہ اس لیے کہ وہ شکر اور احسان کے ماننے میں اور بڑھ جائے ۔ [مسند احمد:512/2:صحیح] ‏

جب گنہگار لوگ دنیا کی طرف لوٹنے کی آرزو کریں گے اور اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہ کرنے کی حسرت کریں گے اور اللہ کے رسولوں کو نہ ماننے پر کڑھنے لگیں گے تو اللہ سبحان و تعالیٰ فرمائے گا کہ ” اب ندامت لاحاصل ہے پچھتاوا بےسود ہے دنیا میں ہی میں تو اپنی آیتیں اتار چکا تھا۔ اپنی دلیلیں قائم کر چکا تھا، لیکن تو انہیں جھٹلاتا رہا اور ان کی تابعداری سے تکبر کرتا رہا، ان کا منکر رہا۔ کفر اختیار کیا، اب کچھ نہیں ہوسکتا “۔

صفحہ نمبر7857

توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭

اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لیے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بڑے بڑے گناہ جو ہم سے ہو چکے ہیں ان کا کفارہ کیا ہو گا؟ اس پر آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» [25-الفرقان:68] ‏، یہ اور آیت نازل ہوئی ۔ [صحیح بخاری:4810] ‏

صفحہ نمبر7850

مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں مجھے ساری دنیا اور اس کی ہرچیز کے ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس آیت کے نازل ہونے سے ہوئی ہے ۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ جس نے شرک کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد فرمایا: خبردار رہو جس نے شرک بھی کیا ہو تین مرتبہ یہی فرمایا ۔ [مسند احمد:275/5:ضعیف] ‏

مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک بوڑھا بڑا شخص لکڑی ٹکاتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے چھوٹے موٹے گناہ بہت سارے ہیں کیا مجھے بھی بخشا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ کی توحید کی گواہی نہیں دیتا؟ اس نے کہا ہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی بھی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے چھوٹے موٹے گناہ معاف ہیں ۔ [مسند احمد:385/4:صحیح بالشواهد] ‏

ابوداؤد ترمذی وغیرہ میں ہے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اس آیت کی تلاوت اسی طرح فرما رہے تھے «‏اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» [11-ھود:46] ‏ اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏ [39-الزمر:53] ‏۔ [مسند احمد:454/6:ضعیف] ‏ پس ان تمام احادیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ توبہ سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کو رحمت رب سے مایوس نہ ہونا چاہیئے۔ گو گناہ کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی کثرت سے ہوں۔ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہوا رہتا ہے اور وہ بہت ہی وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» ‏ [9-التوبة:104] ‏ ” کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے “۔ اور فرمایا «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ‌ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا» [4-النساء:110] ‏، ” جو برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر اللہ سے استغفار کرے وہ اللہ کو بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا پائے گا “۔

صفحہ نمبر7851

منافقوں کی سزا جو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہو گی اسے بیان فرما کر بھی فرمایا «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْ‌كِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ‌ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرً‌ا إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّـهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرً‌ا عَظِيمًا» [4-النساء:145-146] ‏ یعنی ” ان سے وہ مستثنیٰ ہیں جو توبہ کریں اور اصلاح کر لیں “۔

مشرکین نصاریٰ کے اس شرک کا کہ وہ اللہ کو تین میں کا تیسرا مانتے ہیں ذکر کر کے ان کی سزاؤں کے بیان سے پہلے فرما دیا «وَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» [5-المائدة:73] ‏ کہ ” اگر یہ اپنے قول سے باز نہ آئے تو “۔ پھر اللہ تعالیٰ عظمت و کبریائی جلال و شان والے نے فرمایا «أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّـهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [5-المائدة:74] ‏ ” یہ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے اور کیوں اس سے استغفار نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی غفور و رحیم ہے “۔

ان لوگوں کا جنہوں نے خندقیں کھود کر مسلمانوں کو آگ میں ڈالا تھا ذکر کرتے ہوئے بھی فرمایا ہے کہ ” جو مسلمان مرد عورتوں کو تکلیف پہنچا کر پھر بھی توبہ نہ کریں ان کیلئے عذاب جہنم اور عذاب نار ہے “۔

صفحہ نمبر7852

امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ کے کرم و جود کو دیکھو کہ اپنے دوستوں کے قاتلوں کو بھی توبہ اور مغفرت کی طرف بلا رہا ہے۔‏“ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہے جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک عابد سے پوچھا کہ کیا اس کیلئے بھی توبہ ہے؟ اس نے انکار کیا اس نے اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر ایک عالم سے پوچھا اس نے جواب دیا کہ تجھ میں اور توبہ میں کوئی روک نہیں اور حکم دیا کہ موحدوں کی بستی میں چلا جا چنانچہ یہ اس گاؤں کی طرف چلا لیکن راستے میں ہی موت آ گئی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں آپس میں اختلاف ہوا۔ اللہ عزوجل نے زمین کے ناپنے کا حکم دیا تو ایک بالشت بھر نیک لوگوں کی بستی جس طرف وہ ہجرت کر کے جا رہا تھا قریب نکلی اور یہ انہی کے ساتھ ملا دیا گیا اور رحمت کے فرشتے اس کی روح کو لے گئے۔ یہ بھی مذکور ہے کہ وہ موت کے وقت سینے کے بل اس طرف گھسیٹتا ہوا چلا تھا۔ اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ نیک لوگوں کی بستی کے قریب ہو جانے کا اور برے لوگوں کی بستی کے دور ہو جانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا ۔ [صحیح بخاری:3470] ‏ یہ ہے اس حدیث کا خلاصہ، پوری حدیث اپنی جگہ بیان ہو چکی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”اللہ عزوجل نے تمام بندوں کو اپنی مغفرت کی طرف بلایا ہے انہیں بھی جو مسیح علیہ السلام کو اللہ کہتے تھے، انہیں بھی جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے، انہیں بھی جو عزیز علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کو فقیر کہتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کے ہاتھوں کو بند بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ تعالیٰ کو تین میں کا تیسرا کہتے تھے، اللہ تعالیٰ ان سب سے فرماتا ہے کہ ” یہ کیوں اللہ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں اس سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں چاہتے؟ اللہ تو بڑی بخشش والا اور بہت ہی رحم و کرم والا ہے “۔ پھر توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ نے اسے دی جس کا قول ان سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔ جس نے دعویٰ کیا تھا کہ میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں۔ جو کہتا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ تمہارا کوئی معبود میرے سوا ہو۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس کے بعد بھی جو شخص اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے، وہ اللہ عزوجل کی کتاب کا منکر ہے۔ لیکن اسے سمجھ لو کہ جب تک اللہ کسی بندے پر اپنی مہربانی سے رجوع نہ فرمائے اسے توبہ نصیب نہیں ہوتی۔‏“

صفحہ نمبر7853

طبرانی میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ کتاب اللہ قرآن کریم میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت «اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» الخ [2-البقرہ:255] ‏ آیت الکرسی ہے اور خیر و شر کی سب سے زیادہ جامع آیت «إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ‌ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْ‌بَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ‌ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُ‌ونَ» [16-النحل:90] ‏ہے اور سارے قرآن میں سب سے زیادہ خوشی کی آیت سورۃ الزمر کی «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [39-الزمر:53] ‏ ہے اور سب سے زیادہ ڈھارس دینے والی آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» [65-الطلاق:3-2] ‏ ہے، یعنی ” اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کی مخلصی خود اللہ کر دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں کا اسے خیال و گمان بھی نہ ہو “۔ مسروق رحمہ اللہ نے یہ سن کر فرمایا کہ بیشک آپ رضی اللہ عنہ سچے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جا رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک واعظ کو دیکھا جو لوگوں کو نصیحتیں کر رہا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ ”تو کیوں لوگوں کو مایوس کر رہا ہے؟ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔‏“ [تفسیر ابن ابی حاتم] ‏

صفحہ نمبر7854

(‏ان احادیث کا بیان جن میں ناامیدی اور مایوسی کی ممانعت ہے)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم خطائیں کرتے کرتے زمین و آسمان پر کر دو پھر اللہ سے استغفار کرو تو یقیناً وہ تمہیں بخش دے گا۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کی جان ہے اگر تم خطائیں کرو ہی نہیں تو اللہ عزوجل تمہیں فنا کر کے ان لوگوں کو لائے گا جو خطا کر کے استغفار کریں اور پھر اللہ انہیں بخشے ۔ [مسند احمد:238/3:صحیح لغیره] ‏

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اپنے انتقال کے وقت فرماتے ہیں ایک حدیث میں نے تم سے آج تک بیان نہیں کی تھی اب بیان کر دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ ہی نہ کرتے تو اللہ عزوجل ایسی قوم کو پیدا کرتا جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا ۔ [صحیح مسلم:2748] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں گناہ کا کفارہ ندامت اور شرمساری ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لاتا جو گناہ کریں پھر وہ انہیں بخشے ۔ [مسند احمد:279/1:اسنادہ ضعیف] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو کامل یقین رکھنے والا اور گناہوں سے توبہ کرنے والا ہو ۔ [مسند احمد:80/1:ضعیف] ‏

عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابلیس ملعون نے کہا اے میرے رب! تو نے مجھے آدم علیہ السلام کی وجہ سے جنت سے نکالا ہے اور میں اس پر اس کے بغیر کہ تو مجھے اس پر غلبہ دے غالب نہیں آسکتا۔‏“ جناب باری نے فرمایا ” جا تو ان پر مسلط ہے “۔ اس نے کہا ”اللہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عطا فرما۔‏“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جا بنی آدم میں جتنی اولاد پیدا ہو گی اتنی ہی تیرے ہاں بھی ہو گی “۔ اس نے پھر التجا کی باری تعالیٰ کچھ اور بھی مجھے زیادتی دے۔ پروردگار عالم نے فرمایا ” بنی آدم کے سینے میں تیرے لیے مسکن بنا دوں گا اور تم ان کے جسم میں خون کی جگہ پھرو گے “، اس نے پھر کہا کہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عنایت فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جا تو ان پر اپنے سوار اور پیادے دوڑا، اور ان کے مال و اولاد میں اپنا ساجھا کر اور انہیں امنگیں دلا “۔ گو حقیقتاً تیرا امنگیں دلانا اور وعدے کرنا سراسر دھوکے کی ٹٹی ہیں۔‏“

اس وقت آدم علیہ السلام نے دعا کی کہ ”اے میرے پروردگار تو نے اسے مجھ پر مسلط کر دیا اب میں اس سے تیرے بچائے بغیر بچ نہیں سکتا۔‏“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” سنو تمہارے ہاں جو اولاد ہو گی اس کے ساتھ میں ایک محافظ مقرر کردوں گا جو شیطانی پنجے سے محفوظ رکھے “۔ آدم علیہ السلام نے اور زیادتی طلب کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ایک نیکی کو دس گنا کر کے دوں گا بلکہ دس سے بھی زیادہ اور برائی اسی کے برابر رہے گی یا معاف کر دوں گا “۔ آپ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی یہی دعا جاری رکھی۔ رب العزت نے فرمایا ” توبہ کا دروازہ تمہارے لیے اس وقت تک کھلا ہے جب تک روح جسم میں ہے “، آدم نے دعا کی اللہ مجھے اور زیادتی بھی عطا فرما۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی کہ ” میرے گنہگار بندوں سے کہہ دو وہ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں “۔ [ابن ابی حاتم] ‏

صفحہ نمبر7855

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ جو لوگ بوجہ اپنی کمزوری کے کفار کی تکلیفیں برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے اپنے دین میں فتنے میں پڑ گئے ہم اس کی نسبت آپس میں کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی نیکی اور توبہ قبول نہ فرمائے گا ان لوگوں نے اللہ کو پہچان کر پھر کفر کو لے لیا اور کافروں کی سختی کو برداشت نہ کیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ہمارے اس قول کی تردید کر دی اور «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَ‌فُوا» سے «وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُ‌ونَ» (‏سورۂ الزمر آیات 53 تا 55) تک آیتیں نازل ہوئیں ۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے ہاتھ سے ان آیتوں کو لکھا اور ہشام بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا

ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اس وقت ذی طویٰ میں تھا میں انہیں پڑھ رہا تھا اور باربار پڑھتا جاتا تھا اور خوب غور و خوض کر رہا تھا لیکن اصلی مطلب تک ذہن رسائی نہیں کرتا تھا۔ آخر میں نے دعا کی کہ پروردگار ان آیتوں کا صحیح مطلب اور ان کو میری طرف بھیجے جانے کا صحیح مقصد مجھ پر واضح کر دے۔ چنانچہ میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالا گیا کہ ان آیتوں سے مراد ہم ہی ہیں یہ ہمارے بارے میں ہیں اور ہمیں جو خیال تھا کہ اب ہماری توبہ قبول نہیں ہو سکتی اسی بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اسی وقت میں واپس مڑا اپنا اونٹ لیا اس پر سواری کی اور سیدھا مدینے میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا ۔ [سیرۃ ابن اسحاق] ‏

بندوں کی مایوسی کو توڑ کر انہیں بخشش کی امید دلا کر پھر حکم دیا اور رغبت دلائی کہ ” وہ توبہ اور نیک عمل کی طرف سبقت اور جلدی کریں ایسا نہ ہو کہ اللہ کے عذاب آ پڑیں “۔

جس وقت کہ کسی کی مدد کچھ کام نہیں آتی اور انہیں چاہیئے کہ عظمت والے قرآن کریم کی تابعداری اور ماتحتی میں مشغول ہو جائیں اس سے پہلے کہ اچانک عذاب آئیں اور یہ بے خبری میں ہی ہوں، اس وقت قیامت کے دن بے توبہ مرنے والے اور اللہ کی عبادت میں کمی لانے والے بڑی حسرت اور بہت افسوس کریں گے اور آرزو کریں گے کہ کاش کہ ہم خلوص کے ساتھ احکام اللہ بجا لاتے۔ افسوس! کہ ہم تو بےیقین رہے۔ اللہ کی باتوں کی تصدیق ہی نہ کی بلکہ ہنسی مذاق ہی سمجھتے رہے اور کہیں گے کہ اگر ہم بھی ہدایت پالیتے تو یقیناً رب کی نافرمانیوں سے دنیا میں اور اللہ کے عذاب سے آخرت میں بچ جاتے اور عذاب کو دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر اب دوبارہ دنیا کی طرف جانا ہو جائے تو دل کھول کر نیکیاں کرلیں۔

صفحہ نمبر7856

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بندے کیا عمل کریں گے اور کیا کچھ وہ کہیں گے، ان کے عمل اور ان کے قول سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دیدی اور فی الواقع اس سے زیادہ باخبر کون ہوسکتا ہے؟ نہ اس سے زیادہ سچی خبر کوئی دے سکتا ہے۔‏“

بدکاروں کے یہ تینوں قول بیان فرمائے اور دوسری جگہ یہ خبر دیدی کہ ” اگر یہ واپس دنیا میں بھیجے جائیں تو بھی ہدایت کو اختیار نہ کریں گے، بلکہ جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کرنے لگیں گے اور یہاں جو کہتے ہیں سب جھوٹ نکلے گا “۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے ہر جہنمی کو اس کی جنت کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کاش کہ اللہ مجھے ہدایت دیتا۔ یہ اس لیے کہ اسے حسرت و افسوس ہو۔ اور اسی طرح ہر جنتی کو اس کی جہنم کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دیتا تو وہ جنت میں نہ آسکتا۔ یہ اس لیے کہ وہ شکر اور احسان کے ماننے میں اور بڑھ جائے ۔ [مسند احمد:512/2:صحیح] ‏

جب گنہگار لوگ دنیا کی طرف لوٹنے کی آرزو کریں گے اور اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہ کرنے کی حسرت کریں گے اور اللہ کے رسولوں کو نہ ماننے پر کڑھنے لگیں گے تو اللہ سبحان و تعالیٰ فرمائے گا کہ ” اب ندامت لاحاصل ہے پچھتاوا بےسود ہے دنیا میں ہی میں تو اپنی آیتیں اتار چکا تھا۔ اپنی دلیلیں قائم کر چکا تھا، لیکن تو انہیں جھٹلاتا رہا اور ان کی تابعداری سے تکبر کرتا رہا، ان کا منکر رہا۔ کفر اختیار کیا، اب کچھ نہیں ہوسکتا “۔

صفحہ نمبر7857

مشرکین کے چہرے سیاہ ہو جائیں گے ٭٭

قیامت کے دن دو طرح کے لوگ ہوں گے۔ کالے منہ والے اور نورانی چہرے والے۔ تفرقہ اور اختلاف والوں کے چہرے تو سیاہ پڑ جائیں گے اور اہل سنت والجماعت کی خوبصورت شکلیں نورانی ہو جائیں گی۔ اللہ کے شریک ٹھہرانے والوں اس کی اولاد مقرر کرنے والوں کو دیکھے گا کہ ان کے جھوٹ اور بہتان کی وجہ سے منہ کالے ہوں گے۔ اور حق کو قبول نہ کرنے اور تکبر و خودنمائی کرنے کے وبال میں یہ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ جہاں بڑی ذلت کے ساتھ سخت تر اور بدترین سزائیں بھگتیں گے۔

ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ تکبر کرنے والوں کا حشر قیامت کے دن چیونٹیوں کی صورت میں ہو گا ہر چھوٹی سے چھوٹی مخلوق بھی انہیں روندتی جائے گی یہاں تک کہ جہنم کے جیل خانے میں بند کر دیئے جائیں گے جس کا نام بولس ہے۔ جس کی آگ بہت تیز اور نہایت ہی مصیبت والی ہے۔ دوزخیوں کو لہو اور پیپ اور گندگی پلائی جائے گی ۔ [سنن ترمذي:2492،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ہاں اللہ کا ڈر رکھنے والے اپنی کامیابی اور سعادت مندی کی وجہ سے اس عذاب سے اور اس ذلت اور مار پیٹ سے بالکل بچے ہوئے ہوں گے اور کوئی برائی ان کے پاس بھی نہ پھٹکے گی۔ گھبراہٹ اور غم جو قیامت کے دن عام ہو گا وہ ان سے الگ ہو گا۔ ہر غم سے بے غم اور ہر ڈر سے بے ڈر اور ہر سزا اور ہر دکھ سے بے پرواہ ہوں گے۔ کسی قسم کی ڈانٹ جھڑکی انہیں نہ دی جائے گی امن و امان کے ساتھ راحت و چین کے ساتھ اللہ کی تمام نعمتیں حاصل کئے ہوئے ہوں گے۔

صفحہ نمبر7864

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com